موت کا جزیرہ - تیسرا حصہ

urdu font stories online 3

نزدیک ترین جزیرے میں انہیں لوگوں کے چند گروہ پکنک مناتے نظر آئے۔ وہ جان گئے کہ کم از کم محمود فاروق اور فرزانہ کو اس جزیرے پر نہیں لایا گیا۔ بوڑھا بھی ان کے ساتھ تھا۔ اس نے کہا۔

”کوئی بات نہیں۔ یہاں اور بھی بہت سے جزیرے ہیں۔ آئیے ہم ان پر بھی ایک نظر ڈال لیں۔“
جزیروں کی تلاش میں انہیں ایک گھنٹہ لگ گیا، لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا۔ آخر انسپکٹر جمشید بولے۔
”بڑے میاں! کیا تم کسی ایسے جزیرے سے واقف نہیں جو یہاں سے بہت فاصلے پر ہو اور غیرآباد بھی ہو۔“
یہ سن کر بوڑھا سوچ میں ڈوب گیا۔ پھر بولا۔
”جی ہاں! ایک جزیرہ ایسا ہے تو سہی، لیکن وہ بہت دُور ہے۔
”کیا وہاں تک لوگ سیر کرنے جاتے ہیں۔“
”جی نہیں۔“ اس نے کہا۔
”تو پھر وہیں چلو۔“ انسپکٹر جمشید بولے۔
”اچھا صاحب۔“

ایک بار پھر وہ موٹربوٹ میں روانہ ہوئے۔ انسپکٹر جمشید کی پریشانی میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ وہ سوچ رہے تھے کہ اگر اس غیرآباد جزیرے پر بھی بچے نہ ملے، تو وہ کیا کریں گے، کہاں جائیں گے۔ اکرام بھی خاموش تھا۔ بھاگ دوڑنے یوں بھی انہیں بُری طرح تھکا دیا تھا۔ آخر آدھ گھنٹے تک تیز رفتاری سے سفر کرنے کے بعد وہ جزیرہ انہیں دکھائی دینے لگا۔ انسپکٹر جمشید نے دُور سے دیکھا، ایک بڑی سی موٹربوٹ اس کے کنارے کھڑی تھی۔

”کیا یہ وہی موٹربوٹ ہے جو تم نے اس غیرآباد ساحل پر کئی بار کھڑی دیکھی ہے؟“ انسپکٹر جمشید نے پُرجوش لہجے میں کہا۔

”جی ہاں! وہی لگتی ہے۔“

”ٹھیک ہے، ہم اس جزیرے پر اتریں گے۔“ وہ بولے۔

بوڑھے نے موٹربوٹ کنارے کے ساتھ لگاتے ہوئے روک لی۔

”کیا میں بھی آپ کے ساتھ آﺅں؟“ اس نے پوچھا۔

”نہیں بڑے میاں، ہماری وجہ سے تم پر کوئی مصیبت کیوں آئے، تم یہیں ٹھہر کر ہمارا انتظار کرو۔ اگر ہم دو گھنٹے تک واپس نہ آئیں تو تم پولیس کو اطلاع دے دینا اور یہ اپنا کرایہ بھی رکھ لو۔“ یہ کہہ کر انسپکٹر جمشید نے جیب سے سو سو روپے کے دو نوٹ نکال کر اس کی طرف بڑھائے۔

”ابھی رہنے دیں، ابھی تو آپ کو واپس بھی چلنا ہے۔ بعد میں لے لیں گے۔ آپ فکر نہ کریں، میں یہاں پورے دو گھنٹے تک انتظار کروں گا۔ اگر آپ کی واپسی نہ ہوئی تو پولیس کو خبر کر دوں گا۔“

”تمہارا بہت بہت شکریہ بڑے میاں، تم بہت اچھے آدمی ہو۔“

انہوں نے بیٹھی ہوئی آواز میں کہا اور موٹربوٹ سے جزیرے پر اُتر گئے۔ اکرام ان کے پیچھے تھا۔

وہ جزیرے کے درمیانی حصے کی طرف بڑھتے چلے گئے۔ پھر انسپکٹر جمشید دبی آواز میں بولے:

”اکرام! وہ بچوں کو اسی جزیرے پر لائے ہیں۔ اگرچہ زمین ریتلی ہے، لیکن کہیں کہیں ان کے قدموں کے نشان موجود ہیں۔ محمود اور فرزانہ کے پیروں میں چپل موجود ہیں جب کہ فاروق ننگے پاﺅں ہے۔ اس نے تو اپنے چپل ہمیں راستہ دکھانے کے لیے ساحل کی ریت پر ہی چھوڑ دیے تھے۔“

”آپ ٹھیک کہتے ہیں۔ پیروں کے نشانات کہیں کہیں مجھے بھی دکھائی دیے ہیں۔“

”اور یہ بھی بتا دوں۔ انہیں یہاں تک صرف دو آدمی لے کر آئے ہیں۔“

ان میں سے ایک یقینا جیرال ہے، دوسرا کوئی اور ہو گا۔“ انہوں نے آگے بڑھتے اور زمین کو غور سے دیکھتے ہوئے کہا۔

”اب ہم کیا کریں۔ کیا اپنے پستول نکال لیں؟“ اکرام نے پوچھا۔

”اس کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے پورا انتظام کر رکھا ہو گا۔ تم جیرال کو کیا سمجھتے ہو۔ وہ بہترین منصوبے بنانے کا بہت بڑا ماہر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑی بڑی حکومتیں اس سے کام لیتی ہیں اور….“

انسپکٹر جمشید کچھ کہتے کہتے رک گئے۔ وہ عجیب سے انداز میں مسکرائے تھے۔

”اور کیا؟“ اکرام نے پوچھا۔

”اور یہ کہ میرا خیال ہے، ہم جال میں پھنس گئے ہیں۔“

انہوں نے بدستور مسکراتے ہوئے کہا۔

”جی کیا مطلب؟“ اکرام بُری طرح چونکا۔

”ہاں اکرام! دشمن کی چال میری سمجھ میں چند لمحے پہلے آئی ہے۔ انہوں نے بچوں کو جیرال کے ذریعے اغوا کرنے کا پروگرام صرف اس لیے بنایا ہے کہ میں ان کو تلاش کرتا ہوا ان تک پہنچ جاﺅں گا۔ جیرال کے نام کے ساتھ ہی سمندر ذہن میں آتا ہے کیوں کہ عام طور پر یہ سمندروں میں سفر کرتا ہے۔ انہوں نے سوچا تھا کہ میں سمندر کی طرف بھاگا آﺅں گا اور پھر کوئی موٹربوٹ والا مجھے اس جزیرے تک پہنچا دے گا۔“

”اوہ۔“ اکرام کی آنکھیں خوف سے پھیل گئیں۔

”یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ساری سکیم جیرال کی ہو اور اس سے کام لینے والے صرف تماشائی کی حیثیت سے موجود ہوں۔“

”کیا یہ جزیرہ ہماری حکومت میں شامل نہیں۔“ اکرام نے پوچھا۔

”ضرور شامل ہے، لیکن غیرآباد ہے۔ ہم یہاں مدد کے لیے کسی کو کیسے بلا سکتے ہیں؟“ انہوں نے بتایا۔

”تو کیا ہم پھنس چکے ہیں۔“

”شاید۔ یہ تو آگے چل کر ہی معلوم ہو گا۔“

پھر وہ جزیرے کے بیچوں بیچ پہنچ گئے۔ یہاں کچھ درختوں کے نیچے ایک کرسی کے گرد پانچ کرسیاں پڑی تھیں، لیکن ان کے پاس کوئی نہ تھا۔ انہوں نے چاروں طرف نظریں دوڑائیں۔ پھر منہ پر ہاتھ رکھ کر بلند آواز میں چلائے۔

”محمود! تم کہاں ہو؟“

انہیں اپنی آواز کی گونج سنائی دی، مگر بچوں کی طرف سے کوئی جواب نہ ملا۔ دوبارہ انہوں نے اپنے حلق سے پھر آواز نکالی، لیکن کسی طرف سے کوئی جواب نہ آیا۔

”ہو سکتا ہے، وہ یہاں نہ لائے گئے ہوں۔“ اکرام نے مایوس ہو کر کہا۔

”نہیں میرا دل کہہ رہا ہے کہ وہ یہیں کہیں موجود ہیں۔ دشمنوں نے انہیں حلق سے آواز نہ نکالنے کی ہدایت کر رکھی ہو گی۔“ انہوں نے کہا۔ پھر اچانک وہ چونک اُٹھے۔ ایک آواز ان سے مخاطب تھی۔

”خوش آمدید انسپکٹر، ہمیں تمہارا ہی انتظار تھا۔“

٭….٭….٭

بیگم جمشید کے اوسان بحال ہوئے تو وہ اٹھ کر آہستہ آہستہ چلتی ہوئی بیگم شیرازی کے گھر پہنچیں۔ انہیں سارے واقعات تفصیل سے بتائے تو وہ دھک سے رہ گئیں۔ پھر بیگم جمشید نے خان عبدالرحمن اور پروفیسر داﺅد کو فون کیے۔

تھوڑی دیر بعد ان کے گھر میں بیگم شیرازی کے علاوہ پروفیسر داﺅد شائستہ سمیت اور خان رحمان اپنے تینوں بچوں حامد، سرور، ناز اور بیگم شہناز کے ساتھ موجود تھے۔

”میں ڈی آئی جی صاحب کو فون پر حالات بتا آیا ہوں۔ انہوں نے تالش کا سلسلہ شروع کروا دیا ہو گا۔“ خان رحمان نے انہیں بتایا۔

”اور میں نے تمام بڑے بڑے افسروں کو اطلاع دی ہے۔ امید ہے کہ بڑے پیمانے پر انہیں تلاش کیا جا رہا ہو گا۔“ پروفیسر بولے۔

”آپ کا بہت بہت شکریہ۔“ بیگم جمشید بجھی بجھی مسکراہٹ چہرے پر لاتے ہوئے بولیں۔

”بھابھی فکر نہ کریں۔ کوئی ان تک پہنچے نہ پہنچے، جمشید ضرور پہنچے گا۔ اور انشا اللہ وہ انہیں لے کر آتا ہی ہو گا۔“ خان رحمان نے کہا۔

”بالکل، مجرم تو اس کے سائے سے بھی بھاگتے ہیں۔ نہ جانے انہیں یہ جرا¿ت کس طرح ہوئی۔“ پروفیسر بولے۔

”مجھے وہ آدمی بہت خطرناک دکھائی دے رہا تھا۔“ بیگم جمشید نے بتایا۔

”کوئی بات نہیں اللہ سے دعا کریں۔“

پھر وہ سب ان کا دھیان بٹانے کے لیے اِدھر اُدھر کی باتیں کرنے لگے۔

وقت بہت آہستہ آہستہ گزر رہا تھا اور جوں جوں گزر رہا تھا، ان کی پریشانی میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ اچانک دروازے کی گھنٹی بجی۔

”یا اللہ خیر۔“ خان رحمان کے منہ سے نکلا۔ ساتھ ہی وہ دروازہ کھولنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔ دروازے پر انہیں ایک سب انسپکٹر نظر آیا۔

”مجھے خان صاحب نے بھیجا ہے۔“ اس نے بتایا۔

”ڈی آئی جی صاحب نے؟“ انہوں نے پوچھا۔

”جی ہاں! سارے شہر میں بچوں کی تلاش شروع ہو چکی ہے۔ تمام جرائم پیشہ لوگوں کو چیک کیا جا رہا ہے۔ مجرموں کے اڈوں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں، لیکن ابھی تک کچھ پتا نہیں چل سکا۔ تلاش بدستور جاری ہے۔“

”انسپکٹر جمشید اور اکرام بھی کہیں نہیں ملے؟“

”جی نہیں۔“

”تب پھر وہ ضرور اغوا کرنے والوں کے پیچھے لگے ہوں گے۔“ خان عبدالرحمن نے خیال ظاہر کیا۔

”ہو سکتا ہے۔“ اس نے کہا۔ پھر وہ اجازت لے کر چلا گیا۔ خان عبدالرحمن نے اندر آکر ساری بات بتائی اور ایک بار پھر وہ سوچ میں ڈوب گئے۔

انسپکٹر جمشید درختوں کے جھنڈ میں سے آتی ہوئی اس آواز کو سن کر نہ چونکے نہ گھبرائے بلکہ دبے لفظوں میں اکرام سے بولے۔

”میرا خیال ہے، یہ جیرال ہے۔ اسے دیکھنے کے لیے تیار ہو جاﺅ۔“

جیرال جھنڈ میں سے نکل کر ان کے سامنے آگیا اور قدم اٹھاتا ہوا ان کے بالکل نزدیک پہنچ گیا۔ ایک بین الاقوامی مجرم کو وہ پہلی مرتبہ دیکھ رہے تھے اور وہ بھی اس قدر نزدیک سے۔ چند لمحوں تک انسپکٹر جمشید اور جیرال ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھتے رہے۔ دونوں طرف سے کسی نے بھی پلک تک نہ جھپکی۔ آخر جیرال ہی بولا:

”ہیلو انسپکٹر، مجھے تم سے ملنے کی بہت آرزو تھی۔“

”تو کیا۔ تم نے یہ سب مجھ سے ملاقات کرنے کی خاطر کیا ہے؟“ انسپکٹر جمشید مسکرائے۔

”یہ تو نہیں کہا جا سکتا۔ ایک حکومت نے میری خدمات حاصل کیں اور میں تیار ہو گیا۔ منصوبہ تمہارے متعلق تھا، اس لیے میں بہت خوش ہوا کہ چلو اسی بہانے تم سے ¾ملاقات بھی ہو جائے گی۔“

”بہت خوب، تمہیں زندہ جیرال کہا جاتا ہے اور آج میں بھی کہتا ہوں کہ تمہیں یہ نام غلط نہیں دیا گیا۔“ انسپکٹر جمشید نے اس کی دلیری کی تعریف کی۔

”شکریہ انسپکٹر، میں تمہارے بارے میں بہت کچھ جانتا ہوں، اس لیے ایک عرصے سے میری یہ خواہش بھی تھی کہ کبھی ہم دونوں میں مقابلہ ہو۔ قدرت نے آج ایک ہی وقت میں میری دو خواہشیں پوری کر دیں۔ تم سے ملاقات بھی ہو گئی اور آج مقابلہ بھی ہو گا۔“

”ضرور، لیکن میرے بچوں کا کیا قصور ہے؟“ انسپکٹر جمشید نے مسکرا کر کہا۔

”انہیں چارے کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ میں جانتا تھا تم کسی نہ کسی طرح انہیں تلاش کرتے ہوئے یہاں تک پہنچ جاﺅ گے۔“

”تو منصوبہ تمہارا ہی بنایا ہوا تھا؟“

”ہاں۔“ اس کے منہ سے نکلا۔

”بچے ہیں کہاں؟“ انہوں نے پوچھا۔

”فکر نہ کرو۔ وہ خیریت سے ہیں۔ سچ بات تو یہ ہے انسپکٹر جمشید، کہ تمہارے بچوں سے مل کر بھی بہت خوش ہوا ہوں۔ انہوں نے میری ہدایات پر بھی پوری طرح عمل کیا ہے۔ بس ایک بار فاروق نے چھینک مار کر رومال گرانے کی کوشش کی تھی۔ لیکن میرے مقابلے میں اس کی یہ چال ناکام ہو گئی۔“

”یہاں تم غلطی پر ہو۔“ انسپکٹر جمشید مسکرائے۔

”کیا مطلب؟“

”ان تینوں نے ہی مجھے یہ اشارہ دینے کی کوشش کی تھی کہ ہمیں اس طرف لے جایا جا رہا ہے اور تم یہ سن کر ضرور حیران ہو گے کہ وہ سو فی صد کامیاب ہو گئے تھے۔“

”یہ غلط ہے۔ میں نے پوری طرح خیال رکھا تھا، کیوں کہ میں اپنا نام تمہارے مکان کی دیوار پر لکھ آیا تھا۔ اس کے بعد اگر تمہیں محمود وغیرہ کی طرف سے چھوڑی ہوئی کوئی نشانی نظر آجاتی تو تم فوراً سمجھ جاتے کہ جال بچھایا گیا ہے، اس صورت میں تم پوری طاقت ساتھ لے کر آتے۔“

”تم غلط فہمی میں مبتلا ہو۔ دراصل فاروق نے رومال گرانے کے متعلق تو سوچا ہی نہیں تھا۔ وہ ہمیشہ رومال پر پاﺅڈر چھڑک کر رکھتا ہے۔ اس نے رومال جھٹک کر پاﺅڈر کے ذرات سڑک پر گرائے تھے۔ پھر محمود نے ٹھوکر کھائی تھی، فرزانہ نے اسے سنبھالا تھا اور اس طرح انہوں نے اپنے قدموں کے نشانات سے سمت کا اشارہ مجھے دیا تھا۔

”اوہ۔“ جیرال کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔

”پھر غیرآباد ساحل پر فاروق نے اپنی چپل بھی تو چھوڑی تھی۔“

اس کے بارے میں تو مجھے معلوم ہو گیا تھا، لیکن میں نے کوئی توجہ نہیں دی کیوں کہ میں جانتا تھا، تم آباد ساحل کی طرف سے جزیروں کی تلاش میں نکلو گے۔“

”خیر یہ تو ہوا۔ اب تم بتاﺅ بچے کہاں ہیں؟“

اکرام یہ سوچ سوچ کر حیران ہو رہا تھا کہ آخر انسپکٹر جمشید جیرال سے دوستانہ فضا میں کیوں گفتگو کر رہے ہیں۔ آگے بڑھ کر اسے گرفتار کیوں نہیں کر لیتے۔ اس وقت جیرال کی نظر اکرام پر پڑ گئی۔

”انسپکٹر، یہ شاید تمہارا اسسٹنٹ ہے۔“

”ہاں! یہ اکرام ہے۔“

”میں بتاﺅں۔ یہ سوچ رہا ہے کہ تم مجھے گرفتار کیوں نہیں کر لیتے۔“ اس نے مسکرا کر کہا اور اکرام حیرت زدہ رہ گیا۔

”میں بھی یہ بات جانتا ہوں۔“ انسپکٹر جمشید نے جواب دیا۔

”تم نے اب تک بتایا نہیں کہ بچے کہاں ہیں؟“

”مسٹر جارج، بچوں کو لے آئیں۔ انسپکٹر صاحب کو انہیں دیکھے بغیر چین نہیں آئے گا۔“

درختوں کے جھنڈ میں سے نہ صرف بچے اور مسٹر جارج نکل کر باہر آگئے بلکہ ماسٹر اور اس کے دونوں ساتھی بھی ان کی طرف بڑھنے لگے۔ انسپکٹر جمشید کی نظر جونہی ماسٹر پر پڑی۔ وہ بڑے زور سے چونکے۔ ان کے منہ سے نکلا۔

”تم….“

”ہاں میں۔“ اس نے پراسرار انداز میں کہا۔

”اکرام، ہمارے دشمن ملک کے سب سے بڑا سراغ رساں سے ملو۔ یہ اپنے ملک میں ماسٹر کے نام سے مشہور ہیں۔“

”اوہ۔“ اکرام کے منہ سے نکلا۔ اس نے ماسٹر کے بہت چرچے سنے تھے۔

”مجھے حیرت ہے، تم نے بندوق جیرال کے کندھے پر رکھ کر کیوں چلائی۔ کیا تم خود یہ کام نہیں کر سکتے تھے؟“

”جیرال آج کل مستقل طور پر ہمارے ملک کے لیے کام کر رہا ہے۔ ہم دونوں دوست بن چکے ہیں۔ میں نے اس کے سامنے یہ مسئلہ رکھا تھا کہ انسپکٹر جمشید کی وجہ سے ہمارے بہت سے جاسوس پکڑے جا چکے ہیں۔ کوئی ایسا منصوبہ بناﺅ کہ تم ہمارے قبضے میں آجاﺅ۔ سو اس نے صرف تین منٹ میں منصوبہ بنا ڈالا۔

”بہت خوب، تو یہ بات ہے۔ اچھا، اب تم لوگوں کا کیا پروگرام ہے؟“ انسپکٹر جمشید نے ایسے لہجے میں پوچھا جیسے وہ سب یہاں پکنک منانے آئے ہوں۔

”یہ تمہیں جیرال بتائے گا، کیوں کہ منصوبہ اس نے بنایا ہے۔ میں تو صرف بطورِ نگران آیا ہوں۔“

”چلو جیرال تم بتاﺅ؟“

”پہلے اپنے بچوں کی خیریت تو دریافت کر لو۔ دیکھ لو ہم نے انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچایا۔“

”تم جیسے بڑے مجرم ایسی گری ہوئی حرکت کر بھی نہیں سکتے۔ میں جانتا ہوں۔ تم پروگرام بتاﺅ؟“

”پروگرام یہ ہے کہ ہم نہیں چاہتے، تم یہاں سے واپس جاﺅ۔ البتہ تمہارے بچے اور تمہارا اسسٹنٹ جا سکتے ہیں۔“

”تفصیل سے بتاﺅ۔“ انسپکٹر جمشید نے بے خوف ہو کر کہا۔

”تم پوری طرح گھر چکے ہو۔ اپنے چاروں طرف کے درختوں پر نظر ڈال لو۔ تمہیں چار درختوں پر ایک ایک آدمی بیٹھا نظر آئے گا۔ ان کے ہاتھوں میں مشین گنیں ہیں جو آن کی آن میں تمہیں بھون سکتی ہیں، لیکن ہم نے آج تک بزدلوں جیسے کام نہیں کیے۔ اس لیے تمہیں پورا پورا موقع دیا جائے گا۔“

یہ کہہ کر وہ خاموش ہو گیا۔ اس کی باتیں محمود، فاروق اور فرزانہ کے جسموں میں سنسنی دوڑائے جا رہی تھیں۔

”تم نے بات پھر درمیان میں چھوڑ دی۔“ انسپکٹر جمشید چاروں طرف ایک نظر ڈال کر بولے۔

”تمہیں مجھ سے مقابلہ کرنا ہو گا۔ اگر تم نے مجھے شکست دے دی تو تمہیں یہاں سے زندہ جانے دیا جائے گا، ورنہ یہ لوگ تمہاری لاش کو لے جا سکتے ہیں۔ ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔“

”بہت خوب، لیکن میری بھی ایک شرط ہے۔“ انسپکٹر جمشید مسکرائے۔

”ہاں ہاں! ضرور۔“ جیرال نے کہا۔

”میرے اسسٹنٹ اور بچوں کو میرے سامنے یہاں سے جانے دیا جائے۔“

”لیکن یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ یہ لوگ جا کر مدد لے آئیں گے۔“ جیرال نے انکار میں سرہلاتے ہوئے کہا۔

”ہرگز نہیں، یہ یہاں آج شام سے پہلے واپس نہیں آئیں گے۔ میں انہیں سختی سے اس کی ہدایت کر دیتا ہوں۔“

”لیکن تم انہیں پہلے ہی کیوں رخصت کر دینا چاہتے ہو؟“

”تاکہ کم از کم یہ تو محفوظ رہیں۔“

”بے فکر رہو، انہیں خراش تک نہیں آئے گی۔“ جیرال نے وعدہ کیا۔

”لیکن میرا اطمینان اس صورت میں ہو سکتا ہے کہ جب یہ لوگ یہاں سے چلے جائیں۔“ انہوں نے کہا۔

”اچھی بات ہے میں انہیں جانے کی اجازت دیتا ہوں۔ میں جانتا ہوں یہ تمہاری ہدایت پر عمل کریں گے۔ تم وعدے کے پکے ہو۔“

”ٹھیک ہے، اکرام! تم بچوں کو لے کر چلے جاﺅ اور دیکھو شام سے پہلے واپس نہ آنا۔“

اکرام اور بچوں نے اپنی جگہ سے حرکت تک نہ کی۔

”ہم نہیں جائیں گے ابا جان۔“

”میں بھی نہیں جاﺅں گا۔“ اکرام نے مضبوط لہجے میں کہا۔

”انسپکٹر جمشید نے انہیں بہت سمجھایا، لیکن وہ نہ مانے۔ اگر وہ انہیں حکم دیتے تو شاید انہیں جانا ہی پڑتا، لیکن انہوں نے حکم نہیں دیا۔ آخر فیصلہ ہوا کہ وہ لڑائی کے انجام تک یہیں ٹھہریں گے۔“

”اب مقابلہ شروع ہو جانا چاہیے۔“ جیرال بولا۔

”ٹھیک ہے۔“ انہوں نے کہا۔

”آپ سب لوگ دور ہٹ جائیں بلکہ درختوں کی اوٹ لے لیں۔“ جیرال نے باقی لوگوں سے کہا۔

ان کے ہٹنے کے بعد جیرال اور انسپکٹر جمشید ایک دوسرے کے مقابل آگئے۔ باقی سب لوگوں کے دل دھک دھک کر رہے تھے۔ خاص طور پر محمود، فاروق، فرزانہ اور اکرام کا تو بہت ہی بُرا حال تھا۔ انہیں پرانے زمانے کی وہ لڑائیاں یاد آگئیں جب فوجوں کے جنگ شروع کرنے سے پہلے ایک اور ایک کا مقابلہ ہوتا تھا۔

وہ سب پلکیں جھپکائے بغیر میدان میں کھڑے دو جنگجو انسانوں کو دیکھ رہے تھے۔ دُور بہت دُور خیالوں میں انہیں ڈھول بجتا محسوس ہوا۔



”کس چیز سے مقابلہ کرنا پسند کرو گے انسپکٹر؟“ جیرال نے کہا۔

”تم ایک بہادر دشمن ہو، میں تمہاری قدر کرتا ہوں اور تم پر چھوڑتا ہوں جس ہتھیار سے بھی مقابلہ کرنا پسند کرو۔“

”تو پھر پستول ہی ٹھیک رہیں گے۔“ جیرال نے کہا۔

”مجھے منظور ہے۔“ انسپکٹر جمشید بولے۔

جیرال نے اپنی دونوں جیبوں میں ہاتھ ڈالے اور دو پستول نکالے۔ پھر ایک انسپکٹر جمشید کی طرف اچھالتے ہوئے بولا۔

”سنبھالو انسپکٹر، یہ تمہارا ہی ہے۔ گولیاں چیک کر لو۔ پھر نہ کہنا میں نے تمہیں دھوکا دیا۔“ جیرال نے کہا اور اپنے پستول کی گولیاں چیک کرنے لگا۔ انسپکٹر جمشید نے بھی گولیاں دیکھیں اور بولے:

”ٹھیک ہے۔“

پھر وہ ایک دوسرے کی طرف بڑھے۔ انہوں نے ایک دوسرے سے ہاتھ ملائے اور کمر سے کمر ملا کر مخالف سمتوں میں قدم اٹھانے لگے۔ لڑائی کے اس طریقے کو ڈوئل کہا جاتا ہے۔ پرانے زمانے میں جب دو آدمی جھگڑ پڑتے تھے تو اس طرح فیصلہ کرتے تھے کہ کسے زندہ رہنا ہے اور کسے مرنا ہے۔ کمر سے کمر ملا کر دونوں دس قدم مخالف سمتوں میں بڑھتے اور پھر تیزی سے گھومتے ہوئے اپنے مدمقابل پر فائر جھونک دیتے۔ وہ ایک ایک قدم گن رہے تھے۔ ایک ایک قدم پر دوسروں کے دل دھڑک رہے تھے۔ موت اور زندگی کا فیصلہ ہونے والا تھا۔ صرف چند سیکنڈ میں پھر جونہی دس قدم پورے ہوئے، دونوں ایک ساتھ بجلی کی تیزی سے مڑے اور ایک دوسرے پر فائر کھول دیے۔

تماشائیوں نے دیکھا، دونوں اپنی پھرتی کی وجہ سے بچ گئے تھے اور بالکل ٹھیک ٹھاک کھڑے تھے۔ انہوں نے حیران ہو کر ایک دوسرے کو دیکھا۔ شاید انہیں اپنے اپنے نشانے پر یقین تھا۔

”یہ کیا ہوا انسپکٹر؟“ جیرال نے کہا۔

”ایک ہتھیار بے کار ثابت ہو گیا تو کیا ہوا، کوئی اور ہتھیار سنبھال لو۔“ انسپکٹر جمشید بولے۔

”بہت خوب! یہ ہوئی نا بات۔ خنجروں کے متعلق کیا خیال ہے؟“

”اگر مل سکیں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں۔“ انسپکٹر جمشید بولے۔

”ہم ہر طرح تیار ہو کر آئے ہیں۔“ جیرال ہنسا، پھر درختوں کی طرف منہ کر کے بولا۔

”مسٹر جارج، ہمیں خنجر دے دیں۔“

جارج اوٹ سے باہر نکل آیا۔ اس کے ہاتھ میں دو خنجر تھے جو دھوپ کی وجہ سے چمک رہے تھے۔ خنجروں کو دیکھ کر ان کے دلوں کی دھڑکن اور بھی تیز ہو گئی۔ جارج نے دونوں خنجر جیرال کو دے دیے۔ جیرال خنجر لے کر آگے بڑھا اور بولا:

”لو انسپکٹر، ان میں سے ایک پسند کر لو۔“

انسپکٹر جمشید نے ایک خنجر اس سے لے لیا۔ دونوں ایک دوسرے سے دو فٹ کے فاصلے پر کھڑے ہو گئے۔ پہلا وار جیرال نے کیا۔ اس کا ہاتھ ایک دم سر سے اونچا اٹھا تھا۔ پھر انسپکٹر جمشید کے چہرے کی طرف بڑھا۔ انہوں نے پھرتی سے اپنے دائیں ہاتھ پر وار روکا اور خمیدہ ہوکر الگ ہو گئے۔

”میں ایک وار کر چکا۔ اب تمہاری باری ہے۔“ اس نے کہا۔

”پہلے تم ہی وار کر لو۔“انسپکٹر جمشید نے اسے دعوت دی۔

”نہیں، یہ اصول کے خلاف ہے۔“

”اچھا تو وار سنبھالو۔“ انہوں نے ترچھا ہاتھ مارا۔ نشانہ جیرال کے پیٹ کا لیا تھا۔ جیرال اچھل کر پیچھے ہٹ گیا۔ ساتھ ہی اس نے ان کے شانے پر وار کیا۔ وہ تیزی سے مڑے اور بائیں ہاتھ سے اس کا خنجر والا ہاتھ کلائی پر سے پکڑ لیا۔ پھر خود اس کے سینے پر وار کیا۔ جیرال نے بھی ان کی کلائی تھام لی۔ اب دونوں خنجروں والے ہاتھوں پر زور صرف کرنے لگے۔ دونوں کی کوشش یہی تھی کہ ان کا خنجر دشمن کی شہ رگ میں اتر جائے لیکن خنجر تھے کہ گردنوں تک پہنچ ہی نہیں رہے تھے۔ کئی سیکنڈ تک زور آزمائی ہوتی رہی۔ آخر جیرال بولا۔
”میرا خیال ہے، ہم اس طرح کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔“
”پھر کیا کیا جائے؟“
”کیوں نہ دست بدست لڑائی لڑ کر فیصلہ کر لیں۔“
”مجھے کوئی اعتراض نہیں۔“

دونوں نے خنجر دور پھینک دیے اور ایک دوسرے پر ٹوٹ پڑے۔ اب وہ اپنے مکّوں اور لاتوں کو استعمال کر رہے تھے۔ انسپکٹر جمشید نے ایک زبردست مکا تان کر اس کی ناک پر مارا۔ وہ نیچے جھک گیا اور مکا اس کے سر پر لگا۔ ساتھ ہی اُس نے انسپکٹر جمشید کی کمر پر ایک زبردست ہاتھ جما دیا۔ وہ بھی تیزی سے مڑے اور اس کے پیٹ میں ٹکر ماری۔ جیرال لڑکھڑا گیا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ اس کے قدم لڑکھڑائے تھے لیکن دیکھنے والوں نے دیکھا کہ فوراً ہی وہ سنبھل گیا۔ اب پھر دونوں چٹانوں کی طرح ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہے تھے۔

”ویسے میرے دوست، کیا یہ مقابلہ انصاف سے خالی نہیں۔“ اچانک انسپکٹر جمشید بولے۔

”کیا مطلب؟“ جیرال چونکا۔

”مطلب یہ کہ میرے اور میرے ساتھیوں کے سروں پر سٹین گنیں چمک رہی ہیں، جب کہ تم اس لحاظ سے آزاد ہو۔“

”میں نے بھی اس پر اعتراض کیا تھا، مگر میرا دوست ماسٹر نہیں مانا۔ اس نے کہا تھا کہ اس طرح تم مقابلے پر مجبور ہو جاﺅ گے۔“
”خیر کوئی بات نہیں آﺅ۔ ہو جائیں دو دو ہاتھ۔“ انسپکٹر جمشید نے بےپروائی سے کہا۔

وہ پھر ایک دوسرے پر جھپٹ پڑے۔ اس مرتبہ دونوں ایک دوسرے پر تابڑتوڑ حملے کر رہے تھے۔ لڑائی لمبی ہوتی جا رہی تھی اور دیکھنے والوں کی بے چینی میں اضافہ ہی ہوتا جا رہا تھا۔ انہیں یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے یہ لڑائی کبھی ختم نہیں ہو گی، یہ یونہی جاری رہے گی اور وہ کھڑے کھڑے ختم ہو جائیں گے۔ اچانک جیرال کا ایک مکا انسپکٹر جمشید کے سر پر لگا۔ ان کا سر بری طرح چکرایا، وہ لڑکھڑائے۔ جیرال نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا اور ان پر چھلانگ لگا دی۔ دوسرے ہی لمحے انسپکٹر جمشید اس کے نیچے دبے پڑے تھے۔ فوراً ہی جیرال نے دونوں ہاتھ ان کے گلے پر جمادیے۔ محمود، فاروق ، فرزانہ اور اکرام کو اپنے سانس سینوں میں اٹکتے محسوس ہوئے ان کے حلق خشک ہو گئے۔

”انسپکٹر جمشید، آخر تم پھنس ہی گئے، تمہاری موت میرے ہی ہاتھوں لکھی تھی، پھر بھی مجھے اقرار ہے کہ تم بہادر شخص ہو۔ تم نے ان حالات میں بھی جس دلیری سے مقابلہ کیا، اس کی داد دینی پڑتی ہے۔“

انسپکٹر جمشید کے منہ سے کوئی لفظ نہ نکل سکا۔ انہیں اپنا دم گھٹتا محسوس ہو رہا تھا۔ پیشانی کی رگیں تن گئی تھیں۔ وہ کچھ اس طرح اچانک گرے تھے کہ سنبھل نہیں سکے تھے۔ ورنہ جیرال انہیں اتنی آسانی سے نہیں دبوچ سکتا تھا۔

”مجھے حیرت ہے انسپکٹر، آخر تم اپنے ہاتھ پیر کیوں استعمال نہیں کر رہے ہو۔ آرام سے لیٹے ہوئے اپنا گلا کیوں گھٹوا رہے ہو؟“ جیرال نے ہنس کر کہا۔

اس کے ان الفاظ کے ساتھ ہی انسپکٹر جمشید عجیب سے انداز میں مسکرائے اور بولے:

”میں تمہیں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ تم اس طرح گلا گھونٹ کر میرا کچھ نہیں بگاڑ سکو گے۔“

”کیا مطلب؟“ جیرال نے حیرت زدہ لہجے میں پوچھا۔
”مطلب یہ کہ میں بہت دیر تک اپنا سانس روک سکتا ہوں۔ تم کچھ دیر اور زور لگا لو۔ جب دیکھوں گا کہ تم ناکام ہو چکے ہو اور تمہارا بس نہیں چل رہا ہے تو پھر اپنے ہاتھ اور پیر استعمال کروں گا۔“

یہ سن کر جیرال ہکا بکا رہ گیا۔ شاید یہ اس کی زندگی کا سب سے زیادہ حیران کن لمحہ تھا۔ ابھی وہ حیران ہی تھا کہ اچانک اس کی گردن پر انسپکٹر جمشید کے ہاتھ کی ہڈی اس زور سے لگی کہ وہ دوسری طرف الٹ گیا۔ ان کی گردن سے اس کے ہاتھ خود بہ خود الگ ہو گئے تھے۔

فوراً ہی انسپکٹر جمشید اٹھ کھڑے ہوئے مگر جیرال نے بھی اٹھنے میں دیر نہیں لگائی تھی اور ایک بار پھر وہ ایک دوسرے کے سامنے کھڑے تھے۔

”جیرال، تم لڑائی کو طول کیوں دے رہے ہو؟ اسے جلدی سے ختم کیوں نہیں کر دیتے۔“ ماسٹر نے بُرا سا منہ بنا کر کہا۔

”تمہارا کیا خیال ہے ماسٹر، کیا میں انسپکٹر جمشید سے کھیل کھیل رہا ہوں؟ یہ کوئی معمولی آدمی نہیں ہیں۔ اگر میں بین الاقوامی جاسوس ہوں تو ان کی شہرت بھی نہ جانے کتنے ملکوں میں ہے۔ ان سے مقابلہ کرنا کوئی خالہ جی کا گھر نہیں۔ لوہے کے چنے چبانا ہے۔ میری جگہ اس وقت کوئی اور ہوتا تو کب کا شکست کھا چکا ہوتا۔“

”کیا تم انسپکٹر جمشید کے مقابلے میں ہمت ہار بیٹھے ہو؟“ ماسٹر نے پوچھا۔ اس کی آواز میں ناگواری کی جھلک تھی۔
”نہیں خیر! یہ بات تو نہیں۔ میں ان سے مقابلہ کروں گا اور انہیں شکست دوں گا۔ یہ مجھے شکست نہیں دے سکتے۔“ البتہ میں اتنا جان چکا ہوں کہ گلا گھونٹ کر میں ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔

”اچھا خدا کے لیے اب اس مصیبت کو ختم کر دو، انسپکٹر جمشید کا جلد از جلد صفایا کرو۔ ہمیں ابھی واپس بھی جانا ہے۔“ ماسٹر نے کہا۔

”بہت بہتر۔ ابھی لو۔“ اس نے کہا اور انسپکٹر جمشید سے بولا:

”تم نے سن لیا انسپکٹر جمشید میرے ساتھی کس قدر بے چین ہیں۔ انہوں نے مجھے اس منصوبے کو تکمیل تک پہنچانے کے پچیس لاکھ روپے دیے ہیں۔ یہ بھی اپنی جگہ سچے ہیں۔ پچیس لاکھ انہوں نے کھیل دیکھنے کے تو دیے نہیں۔ اس لیے آﺅ ہم سنجیدگی سے فیصلہ کر لیں۔“

”تو کیا تم ابھی تک غیرسنجیدگی سے لڑتے رہے ہو؟“ انسپکٹر جمشید نے مذاق اڑانے والے لہجے میں کہا۔
”اور نہیں تو کیا میں تم سے لڑ رہا تھا۔ لڑائی تو دراصل اب شروع ہو گی۔“ جیرال نے ہنس کر کہا۔

”بہت خوب، اگر یہ بات ہے تو آﺅ۔ میں تمہاری اصل لڑائی بھی دیکھ لوں۔“

انہوں نے ایک دوسرے پر چھلانگ لگائی۔ اس مرتبہ ان کے جسم بجلی کی طرح حرکت کر رہے تھے۔ دیکھنے والے دم بہ خود ہو کر یہ خوف ناک دنگل دیکھ رہے تھے۔ انسپکٹر جمشید نے پوری قوت سے ایک مکا جیرال کی ناک پر مارا۔ جیرال نیچے جھک گیا اور جواب میں انسپکٹر کے پیٹ میں مکا مارا، لیکن دونوں کے وار خالی گئے۔ انسپکٹر جمشید نے اپنی جگہ سے چھلانگ لگائی اور جیرال کے سر کے بالوں کو مٹھی میں پکڑ کر ایک زور دار جھٹکا مارنا چاہا، لیکن یہ کیا۔ اس کے بال تو ان کے ہاتھ میں آگئے تھے۔ جیرال تو بالکل گنجا تھا۔ اس نے سر پر مصنوعی بالوں کی وِگ لگا رکھی تھی۔

”دھت تیرے کی۔“ انسپکٹر جمشید نے کہا اور وِگ کو زمین پر پٹخ دیا۔ ساتھ ہی جیرال کا ایک ہاتھ ان کے کندھے سے ٹکرایا۔ انہیں یوں محسوس ہوا، جیسے ان کا کندھا جسم سے الگ ہو گیا ہو۔ وہ جھلا گئے اور سر کی ایک ٹکر جیرال کی ٹھوڑی پر دے ماری۔ جیرال کئی قدم پیچھے ہٹ گیا۔ اس نے دونوں ہاتھوں سے ٹھوڑی پکڑ لی۔ چند لمحوں تک دونوں کھڑے ایک دوسرے کو گھورتے رہے۔ پھر ایک دم ایک دوسرے کی طرف دوڑے اور دونوں کے جسم اس زور سے ٹکرائے کہ جزیرہ گونج اٹھا۔ اس کے ساتھ ہی دونوں دوسری طرف اُلٹ گئے۔ لیٹے لیٹے دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا جیسے سوچ رہے ہوں، اب کیا کریں۔ کس رُخ سے حملہ کریں۔ آخر انسپکٹر جمشید تیزی سے اٹھ کھڑے ہوئے اور جیرال کو دبوچنے کے لیے آگے جھپٹے۔ جیرال نے لڑھکنیاں کھا کر خود کو ان سے بچایا اور پھر وہ بھی اٹھ کھڑا ہوا۔

لڑائی طول پکڑ گئی تھی۔ کسی طرح فیصلہ نہیں ہو پا رہا تھا۔ دیکھنے والے انہیں پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے او رسوچ رہے تھے، نہ جانے اس لڑائی کا کیا انجام ہو گا۔ انہوں نے اپنی زندگی میں شاید اس قدر خوف ناک لڑائی نہیں دیکھی تھی۔

وہ پھر ایک دوسرے پر جھپٹ جھپٹ کر حملہ کرنے لگے۔ ابھی تک دونوں میں سے کسی کے چہرے پر غصے کے آثار دکھائی نہیں دیے تھے۔ دونوں مزاج کو ٹھنڈا رکھتے ہوئے لڑ رہے تھے۔ دیکھنے والوں کی بے چینی کا اب عالم ہی اور تھا۔ وہ پلکیں تک نہیں جھپکا رہے تھے۔ انہیں یوں لگ رہا تھا۔ جیسے یہ لڑائی کبھی ختم نہیں ہو گی، وہ اس لڑائی کو دیکھتے دیکھتے بوڑھے ہو جائیں گے۔ کھڑے کھڑے ختم ہو جائیں گے اور لڑائی پھر بھی جاری رہے گی۔ اچانک نہ جانے کیا ہوا اور کیسے ہوا۔ انہوں نے صرف اتنا دیکھا کہ انسپکٹر جمشید بلاکی پھرتی سے نیچے جھکے تھے اور پھر ان سب کو جیرال ان کے دونوں ہاتھوں پر نظر آیا۔ ان کے دونوں ہاتھ سر سے اوپر اٹھے ہوئے تھے اور وہ تیزی سے گھوم رہے تھے۔ پھر انہوں نے جیرال کو چھوڑ دیا۔ وہ چکر کھاتا ہوا ایک درخت سے جا ٹکرایا۔ جیرال کی چیخ بہت بھیانک تھی۔ جزیرے کی پرسکون فضا میں ہلچل سی مچ گئی۔

انہوں نے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر انسپکٹر جمشید کو دیکھا۔ وہ اب بھی ایک چٹان کی مانند کھڑے تھے اور جیرال کو دیکھے جا رہے تھے۔ شاید اس خیال سے کہ ابھی پھر اٹھے گا اور ایک بار پھر ان کے مقابل آکھڑا ہو گا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اس نے اپنی جگہ سے حرکت تک نہ کی۔ آخر انسپکٹر جمشید بولے:

”لو ماسٹر! سنبھالو اپنے جیرال کو۔ ہم چلتے ہیں۔“

”بہت خوب!“ انسپکٹر جمشید تم نے کمال کر دیا۔“ ماسٹر کے منہ سے نکلا۔

اچانک وہ سب چونک اٹھے۔ جیرال کے جسم میں حرکت پیدا ہوئی تھی۔ وہ اٹھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ آخر وہ بڑی مشکل سے اٹھ کر بیٹھنے میں کامیاب ہو گیا۔ اس نے گھسٹ کر اس درخت سے ٹیک لگا لی جس سے ٹکرایا تھا۔ اس کے چہرے پر اس عالم میں بھی ایک مسکراہٹ تھی، لیکن یہ مسکراہٹ شکست خوردہ سی تھی۔ اس نے تھکی تھکی سی آواز میں کہا۔

”تمہیں مبارک ہو انسپکٹر، تم جیت گئے اور میں ہار گیا۔ یہ میری زندگی کی پہلی شکست ہے۔ میں نے آج سے پہلے کبھی کسی سے شکست نہیں کھائی تھی، لیکن مجھے اس کا کوئی افسوس نہیں ہے کیوں کہ دو بہادر جب لڑتے ہیں تو ان میں سے ایک ہارا ہی کرتا ہے۔ ویسے میں تمہارے اس کمال کی داد دیتا ہوں۔ تم نے مجھے بالکل ایک کھلونے کے مانند اٹھا لیا تھا۔ شاید میری ریڑھ کی ہڈی پر ضرب آئی ہے۔“

”مجھے افسوس ہے جیرال۔“ انسپکٹر جمشید کے منہ سے نکلا۔

”اس میں افسوس کی کیا بات ہے۔ تمہیں تو خوش ہونا چاہیے۔“

”بہادر دشمن جب شکست کھاتا ہے تو جیتنے والے کو خوشی کے ساتھ ساتھ افسوس بھی ہوا کرتا ہے۔“

”اب تم آزاد ہو انسپکٹر۔ تمہارے بچے بھی آزاد ہیں۔ تم لوگ جا سکتے ہو۔ ہمارا یہ منصوبہ ناکام رہا۔ میرے پچیس لاکھ بھی گئے۔“

”اچھا دوست! اگر زندگی رہی تو کبھی نہ کبھی کسی نہ کسی مقام پر تم سے پھر ملاقات ہو گی۔“ انہوں نے کہا اور اکرام، محمود، فاروق اور فرزانہ کی طرف مڑے۔

”آﺅ بھئی چلیں۔ اچھا ماسٹر خداحافظ۔“

”ٹھہرو انسپکٹر جمشید۔“ ماسٹر کے منہ سے نکلا۔ اس کے لہجے میں نہ جانے کیا تھا کہ انسپکٹر جمشید چونک اٹھے۔

جونہی وہ ماسٹر کی طرف مڑے، دھک سے رہ گئے۔ اس کے ہاتھ میں ایک سیاہ رنگ کا پستول چمک رہا تھا۔
”تم اتنی آسانی سے نہیں جا سکتے۔“ اس نے سانپ کی طرح پھنکارتے ہوئے کہا۔
”کیا مطلب؟“ انسپکٹر جمشید کے منہ سے نکلا۔

”مطلب یہ کہ ہم سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ تم جیرال کو شکست دے دو گے۔ ہم نے تو یہی سوچا تھا کہ تم اس کے ہاتھوں مارے جاﺅ گے۔ یہی ہمارا مقصد بھی تھا۔ اب جب کہ جیرال شکست کھا چکا ہے۔ ہم تمہیں کیسے جانے دیں۔ اس منصوبے پر ہم نے نہ جانے کتنا روپیہ خرچ کیا ہے۔ آبدوز کرائے پر لی۔ یہاں تک آنے پر اخراجات کیے۔ معلومات حاصل کیں۔ کار کرائے پر لی۔ ان حالات میں بھلا ہم تمہیں کیسے جانے دے سکتے ہیں۔ ہمیں تو تمہاری لاش کی ضرورت ہے۔ ماسٹر کہتا چلا گیا۔

”ماسٹر، یہ تم کیا کہہ رہے ہو؟“ جیرال نے حیرت زدہ لہجے میں کہا۔
”یہ اصول کے خلاف ہے۔“
”تم خاموش رہو جیرال۔ تمہاری ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ چکی ہے، اب تم بے کار ہو چکے ہو۔“ ماسٹر نے بُرا سا منہ بنا کر کہا۔

”کچھ بھی ہو۔ میں یہ بے قاعدگی برداشت نہیں کر سکتا۔ انسپکٹر جمشید نے مجھ پر فتح پائی ہے، اسے جانے دیا جائے۔“ اس نے گرج کر کہا۔

”یہ نہیں ہو سکتا۔“ ماسٹر نے بھی چلا کر کہا۔
”جارج اس کی جیب میں سے پستول نکال لو۔“
جارج نے آگے بڑھ کر جیرال کی جیب سے پستول نکال لیا۔ ماسٹر نے یہ دیکھ کر کہا۔

”بس ، اب منہ سے ایک لفظ بھی نہ نکالنا، ورنہ گولیوں کی بوچھاڑ کر دی جائے گی۔“

”تم پچھتاﺅ گے ماسٹر، جمشید اگر میرے ہاتھ نہیں آیا تو تم بھی اس پر قابو نہیں پا سکو گے۔“

”یہ ہمارا اور انسپکٹر کا معاملہ ہے، تم چپ رہو۔ جارج اگر اب یہ بولنے کی کوشش کرے تو اس کے سر پر پستول کا دستہ دے مارنا۔“ ماسٹر نے جارج کو حکم دیا۔
”بہت اچھا جناب۔“ اس نے کہا اور جا کر جیرال کے سر پر کھڑا ہو گیا۔
جیرال نے انہیں گھور کر دیکھا اور پھر نفرت سے منہ دوسری طرف کر لیا۔
”ہاں تو انسپکٹر جمشید، اب تم اپنے ہاتھ اوپر اٹھا دو۔ اور تم بھی۔“ اس نے اکرام اور بچوں سے کہا۔ ان کے ہاتھ اوپر اٹھ گئے۔


Reactions