اور یہ تمہاری بہن ہو گی۔ کیوں ٹھیک ہے نا۔“ خوف ناک آدمی نے مسکرا کر کہا۔
”ہو سکتا ہے۔“ فاروق بولا۔
”تم دونوں میرے ساتھ دروازے تک چلو گے، سمجھے۔“
”جی بہت بہتر۔“ محمود نے سعادت مندی کا مظاہرہ کیا۔
”سنو، اگر دروازے پر تمہاری بہن موجود ہوئی تو چپ چاپ اس کے لیے دروازہ کھول کر پیچھے ہٹ آنا۔“
”اچھا۔“ دونوں کے منہ سے نکلا۔ ان کے ذہن تیزی سے گردش کر رہے تھے۔
وہ انہیں ساتھ لے کر دروازے پر آیا اور محمود کو دروازہ کھولنے کا اشارہ کیا۔ خود دیوار سے لگ کر کھڑا ہو گیا۔ محمود نے دروازہ کھول دیا۔ فرزانہ کی آواز سنائی دی۔
”کیا اندر سب خیریت ہے، میں نے پھر یونہی فون کیا۔“
محمود اور فاروق دھک سے رہ گئے، انہیں یہ امید نہیں تھی کہ فرزانہ یہ جملہ بول دے گی۔ دوسری طرف خوف ناک آدمی بھی بڑے زور سے چونکا۔ پھر اس نے غرا کر کہا۔
”اب اندر جانے کی ضرورت نہیں، یہیں ٹھہرو۔“
اُن کے اٹھتے قدم رُک گئے۔ فرزانہ بھی بوکھلا گئی۔ پھر خوف ناک آدمی کو دیکھ کر تو اس کی سٹی ہی گم ہو گئی۔ اسے احساس ہو گیا کہ اس نے کتنی بڑی غلطی کی ہے۔ دوسری طرف خوف ناک آدمی جیب سے چاک نکال کر دیوار پر کچھ لکھنے لگا تھا، لیکن ایسے میں بھی اس کی نظر ان تینوں پر جمی تھی۔ وہ اسے حیرت سے دیوار پر لکھتے دیکھ رہے تھے۔ انہوں نے دیکھا، اس نے دیوار پر صرف ایک نام لکھا تھا۔
”جیرال۔“
اچانک وہ بڑی زور سے اچھلے اور پھر سکتے کی حالت میں کھڑے رہ گئے۔
”تو۔ کیا۔ تم جیرال ہو؟“ محمود ہکلایا۔
”ہاں! معلوم ہوتا ہے تم میرے نام سے واقف ہو۔“
”بہت اچھی طرح۔ ہم نے اخبارات میں تو پڑھا ہی ہے۔ ہمارے والد نے بھی تمہارے بارے میں بہت کچھ بتایا ہے۔“ فاروق نے جواب دیا۔
”پھر تو مجھ سے اچھی طرح واقف ہوگے۔ چلو یہ اور بھی اچھا ہے۔ اچھا، اب سنو۔ اپنے منہ دروازے کی طرف کر لو۔“ اس نے حکم دیا۔ تینوں مُڑ گئے۔
”اب پھر میری طرف پلٹو۔“ اس نے کہا، وہ پلٹے تو انہیں پستول نظر نہیں آیا۔
”پستول اب میرے کوٹ کی جیب میں ہے اس کی نالی کا رُخ تمہاری طرف ہے۔ میں ایک ہی فائر میں تم تینوں کو ڈھیر کر سکتا ہوں۔ یہ بات شاید تمہیں معلوم ہی ہو گی۔“
”ہاں! ہم جانتے ہیں۔“
”ہوں ٹھیک ہے۔ تمہیں اتنا کرنا ہے کہ میرے آگے آگے چلتے رہنا، جونہی تم نے کوئی حرکت کی اور میں نے تمہیں گولی ماری، لیکن جب تک تم کوئی حرکت نہیں کرو گے، میں گولی نہیں چلاﺅں گا۔ اب چلو، کہیں تمہارے والد سے بھی یہیں مقابلہ نہ کرنا پڑ جائے۔ ویسے ان سے مقابلہ تو ہو گا ہی۔ وہ تمہارے پیچھے ضرور آئیں گے۔“ اس نے ہنس کر کہا۔
”تم ہمیں کہاں لے جانا چاہتے ہو؟“ محمود نے پوچھا۔
”یہ میں تمہیں ابھی نہیں بتا سکتا۔“ جیرال نے کہا۔
”بس اب چلو۔“
وہ دروازے سے باہر نکل کر سڑک کی طرف چلنے لگے۔ جیرال اور اس کے کارناموں سے وہ اچھی طرح واقف تھے۔ ان کے والد نے اس کے بارے میں انہیں بہت کچھ بتایا اور یہ بھی ہدایت کی تھی کہ اگر کبھی جیرال سے سامنا ہو جائے تو اس کی ہدایت پر عمل کرنا اور بالکل چوں چرا نہ کرنا۔ وہ جانتے تھے، جیرال ایک ایسا جاسوس ہے جس سے بڑے بڑے ملک معاوضہ دے کر کام لیتے ہیں۔ دوسرے ملکوں کے راز معلوم کرتے ہیں، فائلیں وغیرہ اس کے ذریعے غائب کراتے ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ تینوں حیران تھے اور سوچ رہے تھے، آخر جیرال ہمیں کہاں لے جا رہا ہے۔ ایک اتنے بڑے جاسوس کو ہمارے گھر آنے کی کیا ضرورت پڑ گئی۔ پھر انہیں جیرال کا وہ جملہ یاد آیا، اس نے کہا تھا، مجھے یہاں کچھ سوچ سمجھ کر ہی بھیجا گیا ہے۔
یہ سب باتیں سوچ کر ان کی پریشانی میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا، پھر وہ آگے آگے چلتے ہوئے سڑک تک آگئے۔ سڑک کنارے ایک نیلے رنگ کی کار کھڑی تھی۔ پیچھے سے جیرال کی آواز آئی:
”تمہیں اس کار میں بیٹھنا ہے۔ کوئی غلط حرکت نہ کر بیٹھنا۔ اگر میرے ہاتھ سے مارے گئے تو مجھے بہت افسوس ہوگا جس طرح تم مجھ سے اچھی طرح واقف ہو، اسی طرح میں بھی تمہیں بہ خوبی جانتا ہوں۔“
”بہت خوب۔“ فاروق نے کہا۔
تینوں اپنے ذہنوں کو تیزی سے گھما رہے تھے۔ وہ سوچ رہے تھے نہ جانے یہ ہمیں کہاں لے جانا چاہتا ہے اور یہ کہ ان کے والد انہیں کس طرح تلاش کریں گے۔ کر بھی سکیں گے یا نہیں۔ اگر وہ تلاش نہ کر سکے تو کیا ہو گا؟ انہوں نے کچھ نہ کچھ کر ڈالنے کا فیصلہ کر لیا۔ وہ جانتے تھے، تینوں مل کر بھی جیرال کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے کیوں کہ اس کا مقابلہ تو دس آدمی مل کر بھی نہیں کر سکتے تھے، ان کی تو حیثیت ہی کیا تھی، لیکن وہ دوسری قسم کی کوشش تو کر سکتے تھے۔ دل ہی دل میں یہ فیصلہ کرتے ہوئے وہ کار کی طرف قدم اٹھانے لگے۔ اچانک فاروق کو ایک زوردار چھینک آئی۔ اس نے منہ ہی منہ میں کہا۔
”شاید میں نزلے کا شکار ہونے والا ہوں۔“ پھر جیب سے اپنا رومال نکال کر ناک صاف کرنے لگا۔
”تم رومال سڑک پر نہیں گراﺅ گے، میں تمہاری ان کرتبوں سے واقف ہوں۔“ پیچھے سے جیرال کی مسکراتی آواز ان کے کانوں سے ٹکرائی اور فاروق نے مایوس ہو کر رومال جیب میں رکھ لیا۔ عین اسی وقت محمود نے ٹھوکر کھائی۔
”ارے ارے، سنبھل کر۔“ فرزانہ نے گھبرا کر کہا اور اسے تھامنے کی کوشش میں آگے بڑھی۔
”کیا تم لوگ کوئی چال چلنے کی فکر میں ہو؟“ جیرال نے چونک کر کہا۔
”نہیں، ایسی کوئی بات نہیں۔ چھینک کا آنا کوئی عجیب بات نہیں، نہ ہی محمود کے پاﺅں کو ٹھوکر لگنا۔“
اتنی دیر میں وہ کار تک پہنچ چکے تھے۔
”اچھا خیر، اس میں بیٹھ جاﺅ۔ تمہاری جیبوں میں کوئی ہتھیار تو نہیں۔“
”جی نہیں۔“ فاروق بولا۔
”کیا تم بتا سکتے ہو کہ میں نے تمہاری تلاشی کیوں نہیں لی جب کہ میں یہ بات بھی جانتا ہوں کہ تم تینوں پروفیسر داﺅد کے بنائے ہوئے کھلونے نما ہتھیار اپنی جیبوں میں رکھتے ہو۔“
”اس لیے کہ ہم اسکول سے آئے تھے۔ ہتھیار ہم کسی مہم پر جاتے وقت ساتھ لیتے ہیں۔“ فرزانہ بولی۔
”بہت خوب، تم واقعی بہت عقل مند ہو۔ میں نے بھی یہی سوچ کر تمہاری تلاشی نہیں لی تھی۔“ جیرال نے مسکرا کر کہا۔
پھر اس نے دونوں طرف کے دروازے بند کرتے ہوئے انہیں لاک کر دیا۔
” میں ایک ہاتھ سے کار چلانے میں ماہر خیال کیا جاتا ہوں اور صرف ایک ہاتھ سے تم تینوں سے نمٹ سکتا ہوں۔ اس لیے ایک بار پھر بتاتا چلوں، کوئی حرکت نہ کر بیٹھنا، پھر میں کوئی لحاظ نہیں کروں گا۔“
”اچھی بات ہے، ہم کوئی غلط حرکت نہیں کریں گے۔“ فاروق نے سنجیدہ لہجے میں کہا۔
”میں نے تمہاری بہت تعریفیں سنی ہیں۔ یہ بھی سُن رکھا ہے کہ حالات خواہ کچھ بھی ہوں، تم چہکتے رہتے ہو۔“
”ہم پرندے نہیں، انسان ہیں۔“ فاروق مسکرایا۔
”بہت خوب۔“ اس نے کار سٹارٹ کرتے ہوئے کہا۔
”میں تم تینوں کی نوک جھونک اپنے کانوں سے سُن کر لطف اندوز ہونا چاہتا ہوں، لیکن میرا خیال ہے کہ تم پر میرا رعب اس حد تک طاری ہو چکا ہے کہ شاید ہی تم کار میں کوئی بات کر سکو۔“
”نہیں خیر، ایسی تو کوئی بات نہیں۔“ محمود بولا۔
”ویسے فرزانہ، کیا تم نے اپنے والد کو خطرے کی اطلاع دے دی تھی؟“ جیرال نے اس طرح پوچھا جیسے وہ مدتوں ان کے ساتھ رہا ہو۔“
”ہاں! میں فون کر کے ہی اپنے دروازے پر آئی تھی۔“
”انہوں نے کیا کہا تھا؟“
”انہوں نے کہا تھا وہ فوراً پہنچ رہے ہیں، فکر نہ کرنا۔“
”ویسے میں تمہیں ایک خاص بات بتانا چاہتا ہوں۔“ جیرال عجیب سے انداز میں مسکرایا۔
”وہ کیا؟“ انہوں نے ایک ساتھ پوچھا۔
”وہ یہ کہ میں ذاتی طور پر انسپکٹر جمشید کی بہت عزت کرتا ہوں۔ اس لحاظ سے تم تینوں کو بھی پسند کرتا ہوں۔“
”بہت بہت شکریہ جناب! آپ پہلے مجرم ہیں جن کی زبان سے ہم اس قسم کے الفاظ سن رہے ہیں۔“ محمود نے خوش ہو کر کہا۔
”میں اور قسم کا مجرم ہوں۔“ وہ مسکرایا۔
”ویسے آپ نے اب تک یہ نہیں بتایا، ہمیں کہاں لے جا رہے ہیں؟“ فاروق نے سوال کیا۔
”ابھی نہیں، کچھ دیر بعد بتاﺅں گا۔“ اس نے کہا۔
”اب تو ہم کار میں بیٹھ بھی چکے ہیں۔ اب ہم کسی کو خبردار تو کر نہیں سکیں گے۔“ محمود نے سامنے دیکھتے ہوئے کہا۔
سامنے سے آنے والی کاروں میں اچانک اُسے اپنے ایک دوست کے والد بیٹھے نظر آئے تھے۔ اس نے سوچا کاش! دوست کے والد انہیں کار میں بیٹھا دیکھ لیں۔
”دشمن کو کبھی کم زور نہیں سمجھنا چاہیے۔ یہ میرا بہت پرانا اصول ہے۔“ اس نے کہا۔
”اچھا نہ بتائیں لیکن ایک بات میں بھی آپ کو بتا دینا چاہتا ہوں۔“ فاروق نے پُراسرار لہجے میں کہا۔
”وہ کیا؟“
”ہمارے والد ہمارے پیچھے آئیں گے ضرور۔“
”کیا تم کوئی سراغ چھوڑ آئے ہو۔ میں نے پوری طرح دھیان دیا تھا کہ تم ایسا نہ کرو۔ اسی لیے جب تم چھینکے تھے اور محمود لڑکھڑایا تو میں ہوشیار ہو گیا تھا، لیکن مجھے سڑک کنارے ایسی کوئی چیز نظر نہیں آئی جس سے تمہارے والد یہ اندازہ لگا سکیں کہ تم اس جگہ سے کار میں بیٹھ کر روانہ ہوئے ہو۔“
”کچھ بھی ہو، وہ آئیں گے ضرور۔“ اس نے پختہ یقین سے کہا۔ جیرال نے اس کے الفاظ پر پچھلا منظر دکھانے والے آئینے میں اس کی طرف گھور کر دیکھا اور بولا۔
”کوئی بات نہیں، ایک عرصے سے میری خواہش بھی تھی، کہ ان سے میرا مقابلہ ہو۔“
”کار پوری رفتار سے دوڑ رہی تھی۔ آبادی اب بہت پیچھے رہ گئی تھی اور سڑک کے دونوں طرف درختوں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔
٭….٭….٭
انسپکٹر جمشید ریسیور ہاتھ سے رکھتے ہی اچھل کر کھڑے ہو گئے اور اکرام سے بولے:
”اکرام، میرے ساتھ چلو۔“
یہ کہہ کر وہ دفتر سے باہر نکل آئے اور اپنی موٹرسائیکل کی طرف لپکے۔ اکرام بدحواسی کے عالم میں دوڑتا ہوا ان کے پیچھے بیٹھ گیا۔ دوسرے ہی لمحے موٹرسائیکل پوری رفتار سے اڑی جا رہی تھی۔
”خیریت تو ہے جناب؟“
”نہیں۔ فرزانہ نے خبر سنائی ہے کہ گھر کے اندر کوئی گڑبڑ ہے۔ محمود اور فاروق اندر جا چکے ہیں۔ وہ فون کرنے بیگم شیرازی کے ہاں چلی آئی ہے۔ اب وہ بھی گھر میں جا چکی ہو گی۔“
”کیسی گڑبڑ، کیا اس نے بتایا نہیں؟“
”نہیں کچھ بتانے کا وقت ہی کہاں ہو گا۔“
”بچے آج اسکول نہیں گئے؟“ اکرام نے حیران ہو کر پوچھا۔
”جب میں گھر سے چلا تھا تو اسکول جانے کے لیے تیار ہو رہے تھے۔ اب خدا جانے وہ اسکول گئے تھے یا نہیں۔“ انہوں نے سوچ میں ڈوبتے ہوئے کہا۔
”خدا خیر ہی کرے۔“ اکرام کے منہ سے نکلا۔
آندھی اور طوفان کی طرح موٹرسائیکل چلاتے وہ گھر کے دروازے تک پہنچ گئے۔ ساتھ ہی ان پر حیرت کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔
”ارے! یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ دروازہ تو کھلا پڑا ہے۔“ انہوں نے موٹرسائیکل سے اترتے ہوئے کہا۔
”اس کا مطلب ہے، اندر کوئی گڑبڑ نہیں ہے۔“ اکرام بولا۔
”غلط سمجھے، اندر زبردست گڑبڑ ہوئی ہے۔“ انہوں نے گھبرا کر کہا اور پھر دوڑتے ہوئے اندر گھس گئے۔ اکرام ان کے پیچھے دوڑا۔ صحن میں انہیں کچھ بھی نظر نہ آیا۔ سارا مکان بھائیں بھائیں کر رہا تھا۔ وہ باورچی خانے کی طرف لپکے۔ یہ بھی خالی تھا، البتہ اندر بے ترتیبی کا عالم تھا۔ لمحہ بہ لمحہ ان کی حیرت اور خوف بڑھتا ہی جا رہا تھا۔ آخر وہ سونے والے کمرے میں داخل ہوئے اور پھر دھک سے رہ گئے۔ اُن کی بیگم رسیوں سے بندھی فرش پر بے ہوش پڑی تھیں۔ ان کے ہاتھ پیر پھول گئے۔ جلدی جلدی انہوں نے ان کی رسیاں کھولیں۔ انہیں اٹھا کر چارپائی پر ڈالا۔ منہ میں سے رومال نکالا۔ اتنے میں اکرام ایک گلاس میں پانی لے آیا۔ انہوں نے بیگم کے منہ پر پانی کے چھینٹے دیے، تب کہیں جا کر ان کی آنکھوں کے پپوٹے حرکت میں آئے۔ انہوں نے نیم بے ہوشی کے عالم میں آنکھیں جھپک جھپک کر انہیں دیکھا، پھر چونک اٹھیں اور چلائیں۔“
”وہ۔ وہ۔ میرے بچوں کو لے گیا۔“
”کیا کہا؟ کون بچوں کو لے گیا؟“ انسپکٹر جمشید نے بوکھلا کر پوچھا۔
”میں نہیں جانتی، وہ کون تھا۔ ہاں وہ بہت خوف ناک شکل صورت کا آدمی تھا، لمبا تڑنگا۔“
”گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ تفصیل سے بتاﺅ۔ وہ میرے ہاتھ سے بچ کر نہیں جا سکے گا۔“
اور بیگم جمشید نے تفصیل سے انہیں ساری بات بتا دی۔ چند لمحے تک وہ کھڑے سوچتے رہے، پھر بولے:
”لیکن اس سے یہ کب ثابت ہوتا ہے کہ وہ ان تینوں کو لے گیا ہے۔“
”محمود اور فاروق اندر آچکے تھے۔ اس وقت میں ہوش میں تھی، پھر گھنٹی ایک بار پھر بجی تھی۔ اس نے کہا تھا، یہ ضرور تمہاری بہن ہو گی۔ اس پر محمود نے یا فاروق نے کہا تھا کہ ہو سکتا ہے۔ اس سے میں نے اندازہ لگا لیا کہ فرزانہ ہی ہو گی۔ پھر وہ تینوں دروازے پر چلے گئے اور واپس نہیں آئے۔“
”ہوں۔ خیر، تم آرام کرو۔ اگر اٹھ سکو تو بیگم شیرازی کے ہاں جا کر ڈاکٹر کو بلا لو۔ ایک ایک سیکنڈ قیمتی ہے۔ نہ جانے وہ کون تھا اور تینوں کو کہاں لے گیا ہے۔ آﺅ اکرام ہم چلیں۔“ انہوں نے صحن کی طرف مُڑتے ہوئے کہا۔
”جلدی جائیے، میری فکر نہ کریں۔“ بیگم جمشید بولیں۔
وہ گھر سے باہر نکلنے کے لیے دروازے تک آئے اور پھر ٹھٹک کر رُک گئے۔ انسپکٹر جمشید کی نظریں دیوار پر چاک سے لکھے ایک نام پر جم کر رہ گئیں۔
٭….٭….٭
ان کا سفر دو گھنٹے تک جاری رہا۔ پھر کار ایک طرف مُڑتی نظر آئی۔ انہوں نے دیکھا، وہ ساحل سمندر پر پہنچ چکے تھے۔ دُور دُور تک انہیں کوئی انسان نظر نہیں آیا۔ البتہ ایک طرف سمندر میں ایک موٹربوٹ کھڑی ہلکورے لے رہی تھی۔ یہ ایک غیرآباد ساحل تھا۔
”نیچے اُتر آﺅ۔“ جیرال نے سرد آواز میں کہا۔ اس سے پہلے وہ اس کی آواز میں جو دوستانہ گرمی محسوس کرتے رہے تھے، ایک دم غائب ہو گئی تھی۔ انہوں نے چونک کر اس کی طرف دیکھا، اب اس کے چہرے پر وحشت اور درندگی کا راج تھا۔
”گھڑی میں تولہ، گھڑی میں ماشہ، یہ تم یکا یک بدل کیوں گئے؟“ فاروق نے بُرا سا منہ بنا کر کہا۔
”تم سے نرم گرم گفتگو اس لیے کرتا رہا کہ کہیں تم کار میں کوئی حرکت نہ کر بیٹھو۔ جب کہ تمہیں بخیروعافیت یہاں تک پہنچانے کا معاہدہ ہوا تھا۔“ اس نے کہا۔
”یہ معاہدہ کس کے ساتھ ہوا؟“ محمود نے پوچھا۔
”یہ ایسے راز ہیں جو بچوں کو بتائے نہیں جاتے۔“ اس نے طنزیہ انداز میں مسکرا کر کہا۔
”چلو خیر۔ ہمارے والد کو بتا دینا۔“ فاروق مسکرایا۔
”اُن کے تو فرشتے بھی یہاں تک نہیں پہنچ سکتے۔“ اس نے بُرا سا منہ بنا کر کہا۔
”کچھ دیر پہلے تو تم کہہ رہے تھے کہ اُن سے مقابلہ کرنے کے خواہش مند ہو۔“ فرزانہ نے جل بھن کر کہا۔
”بالکل ہوں، لیکن مجھے ایک فیصد بھی امید نہیں کہ وہ یہاں پہنچ سکیں گے۔“
”دیکھا جائے گا۔“
وہ کار سے اُتر ے اور اب موٹربوٹ کی طرف بڑھ رہے تھے۔ جیرال نے اب پھر پستول ہاتھ میں پکڑ لیا تھا۔ اچانک پانی کی ایک تیز لہر آئی اور ان کی پنڈلیوں کو چھوتی ہوئی گزر گئی۔
”ارے میری چپل نکل گئی۔“ فاروق چلایا۔
”پروا نہ کرو۔ موٹربوٹ میں ننگے پاﺅں بیٹھنے پر کوئی اعتراض نہیں کرے گا۔“ جیرال ہنسا۔
”لیکن میرے والد کو تو دوسری چپل خریدنی پڑے گی۔“
”بھول جاﺅ انہیں۔“
”کیا کہا؟ اپنے والد کو بھول جاﺅ۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ کیا کوئی اس طرح بھی اپنے ماں باپ کو بھولا کرتا ہے۔ یا تمہاری طرف ایسا ہی ہوتا ہے۔“
فاروق نے جل بھن کر کہا۔
”اچھا بھائی نہ بھولو۔ ذرا تیز تیز چلو۔“ اس نے دوستانہ لہجے میں کہا۔
”تم میری سمجھ میں نہیں آئے۔ کبھی دوست نظر آتے ہو، کبھی دشمن۔“ محمود بولا۔
”میں تو بڑے بڑوں کی سمجھ میں نہیں آیا، تم کیا سمجھو گے؟“
پانی کی لہر جب واپس گئی تو انہوں نے دیکھا، فاروق کے صرف ایک پیر میں چپل تھی۔
”اسے بھی اتار پھینکو۔ یوں اچھے نہیںلگ رہے۔“ فرزانہ نے بُرا سا منہ بنا کر کہا۔
”اچھا، یہ لو۔“ فاروق نے کہا اور دوسری چپل بھی اچھال دی۔ وہ ریت میں گری۔
چاروں آگے بڑھتے چلے گئے۔ یہاں تک کہ موٹربوٹ تک پہنچ گئے۔ اب انہوں نے دیکھا، یہ ایک بہت بڑی اور جدید قسم کی موٹربوٹ تھی۔ اس میں باقاعدہ کمرے بنے تھے۔
جیرال نے کہا:
”کیا آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھ رہے ہو۔ یہ صرف موٹربوٹ ہی نہیں۔ ضرورت پڑنے پر آبدوز میں بھی تبدیل کی جا سکتی ہے اور گھنٹوں پانی کے نیچے سفر کر سکتی ہے۔“
”اوہ۔“ ان کے منہ سے نکلا۔
”ہیلو جارج۔ ہم آگئے ہیں۔“ جیرال نے چلا کر کہا۔
فوراً ہی موٹربوٹ میں ایک کھڑکی سی نمودار ہوئی اور پھر غائب ہو گئی۔ اس کے بعد موٹر بوٹ چل پڑی ہے۔ نامعلوم منزل کی طرف۔
”ہماری آواز اس کمرے سے باہر نہیں جا سکے گی کیوں یہ موٹربوٹ آبدوز بھی ہے۔ اس لیے تم بے خطربات چیت کر سکتے ہو۔“ محمود نے انہیں بتایا۔
”خطر کیا اور بے خطر کیا۔ یہاں بات چیت کرنے کے لیے رکھا ہی کیا ہے۔“ فرزانہ نے کہا۔
”کیا تم مایوس ہو گئی ہو؟“ محمود نے کہا۔
”نہیں، مایوسی گناہ ہے۔“ فرزانہ بولی۔
”تو پھر خدا کی ذات پر یقین رکھو۔ ابا جان ضرور آئیں گے۔“ فاروق بولا۔
”آخر تمہیں اس قدر یقین کیوں ہے؟“ فرزانہ نے پوچھا۔
”اس لیے کہ ابا جان جیرال سے اچھی طرح واقف ہیں۔ وہ اس کے کام کرنے کے طریقوں سے بھی واقف ہیں۔ پھر بھلا وہ کیوں نہ آئیں گے؟“
”لیکن اب تو ہم سمندر میں ہیں اور پھر یہ شہر کا وہ ساحل بھی تو نہیں، جہاں سے موٹربوٹیں اور آبدوزیں چلتی ہیں۔“ فرزانہ بولی۔
تو پھر کیوں نہ ہم خود ہاتھ پیر مارنے کی کوشش کریں۔ اس وقت تو ہم تنہا ہیں۔“ محمود نے کہا۔
”لیکن ہم اس بند کمرے میں دشمنوں کے خلاف کیا کر سکتے ہیں۔ پہلے ایک جیرال ہی کیا کم تھا کہ یہ جارج بھی شامل ہو گیا۔“ فاروق کے لہجے میں ناامیدی تھی۔
”ہمت نہ ہارو۔ حوصلہ رکھو اور دماغ پر زور دو۔“ محمود نے انہیں دلاسا دیا۔
”کیوں نہ ہم یہ دروازہ کھولنے کی کوشش کریں۔“ اچانک فرزانہ نے کہا اور دونوں چونک اُٹھے۔
”بالکل ٹھیک۔ “ محمود بولا۔
تینوں ایک ساتھ دروازے کی طرف بڑھے۔
٭….٭….٭
”اُف خدا، تو یہاں جیرال آیا تھا۔“ ان کے منہ سے نکلا۔
”دیوار پر نام لکھ کر جانے کا تو یہی مطلب ہو سکتا ہے۔“ اکرام نے بوکھلا کر کہا۔
”تو وہ تینوں بچوں کو اغوا کر کے لے گیا ہے، لیکن کیوں؟ اس نے ایسا کیوں کیا۔“ انسپکٹر جمشید نے پیشانی پکڑ کر کہا۔
”جیرال ہمیشہ بڑے بڑے ملکوں کے لیے معاوضے پر کام کرتا ہے۔ ہو سکتا ہے، کسی نے اسے ایسا کرنے پر مجبور کیا ہو۔“
”آﺅ اکرام! جلدی کرو۔ کہیں وہ دُور نہ نکل جائے۔“ انسپکٹر جمشید بوکھلا کر بولے۔
دونوں تیزی سے باہر نکلے اور موٹرسائیکل پر بیٹھ کر سڑک کنارے پر آئے، یہاں آکر انہوں نے موٹرسائیکل روک لی۔
”ہمیں پہلے یہ دیکھنا ہے کہ وہ کوئی نشانی تو نہیں چھوڑ گئے۔“ وہ بولے۔
”جیرال نے انہیں اس کا کب موقع دیا ہو گا۔“ اکرام نے کہا۔
”ہاں! وہ بہت چالاک ہے، مگر بچے بھی کچھ کم نہیں ہیں۔ انہوں نے اپنی سی کوشش ضرور کی ہو گی۔“
یہ کہہ کر انسپکٹر جمشید فٹ پاتھ کے ساتھ ساتھ غور سے جائزہ لینے لگے۔ اکرام محسوس کر رہا تھا کہ وہ وقت ضائع کر رہے ہیں۔ دفعتاً انسپکٹر جمشید چونکے۔
”دیکھو اکرام، اگرچہ لوگ سڑک پر آجا رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود وہ آثار چھوڑ گئے ہیں۔“ انہوں نے فٹ پاتھ کے ساتھ سڑک پر اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
”لیکن یہاں تو کچھ بھی نہیں ہے۔“
”اوہ! تم میں غور سے دیکھنے کی عادت نہ جانے کب پیدا ہو گی۔“ پاﺅڈر کے ان ذروں کو غور سے دیکھو۔ کیوں کیا نظر آئے؟“
”لیکن پاﺅڈر۔ بھلا اس سے کیا بات ثابت ہوتی ہے۔“ اکرام نے حیران ہو کر پوچھا۔
”تم نہیں جانتے۔“ انسپکٹر جمشید پہلی مرتبہ مسکرائے۔ فاروق کی ایک عادت ہے۔ اپنے رومال میں تھوڑا سا پاﺅڈر ضرور چھڑک کر رکھتا ہے۔ اس نے ضرور کسی بہانے سے رومال جیب سے نکالا ہو گا اور رومال یہاں جھٹک دیا ہو گا۔ اس سے کم از کم یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ یہاں سے وہ کسی کار یا جیپ میں سوار ہو کر لے جائے گئے ہیں۔“
”لیکن اس سے یہ معلوم نہیں ہو سکتا کہ کار کس طرف گئی ہے۔“ اکرام نے کہا۔
”فاروق اپنے حصے کا کام کر چکا تھا۔ محمود اور فرزانہ اس کی چال سمجھ گئے تھے۔ اگلا قدم ان دونوں نے اٹھایا۔“ انسپکٹر جمشید سڑک کو بہ غور دیکھتے ہوئے بولے۔
”کیا مطلب؟“ اکرام بڑے زور سے چونکا۔
”مطلب یہ کہ اس کے بعد محمود نے چلتے چلتے اچانک ٹھوکر کھائی ا ور فرزانہ اسے سنبھالنے کے لیے آگے بڑھی اور اب میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ وہ لوگ اس طرف گئے ہیں۔“ انہوں نے ایک سمت میں کرتے ہوئے کہا۔
”لیکن یہ کس بات سے ثابت ہو رہا ہے۔“ اکرام نے حیران ہو کر کہا۔
”لڑکھڑانے کے نشانات جو پاﺅڈر کے ذرّات کی وجہ سے صاف دکھائی دے رہے ہیں۔ آﺅ اب دیر نہ کرو، میں انہیں اچھی طرح جانتا ہوں۔“
یہ کہہ کر وہ موٹرسائیکل پر سوار ہو گئے۔ اکرام پھر ان کے پیچھے بیٹھ گیا۔ ایک بار پھر موٹرسائیکل طوفانی رفتار سے جا رہی تھی۔ اس کا رُخ اب جس سڑک کی طرف تھا، وہ آگے جا کر دو طرف مُڑ جاتی تھی، لیکن انسپکٹر جمشید رُکے بغیر ایک سڑک پر مُڑ گئے۔ ٹھیک پندرہ منٹ بعد وہ ساحل سمندر پر پہنچ چکے تھے۔
ساحل پر بہت سی موٹربوٹیں اور آبدوزیں کھڑی تھیں۔ لوگ انہیں کرائے پر لے کر سیر کرتے تھے۔ دونوں اترے اور ایک موٹربوٹ کی طرف بڑھے اس کا مالک لپک کر ان کی طرف آیا۔ یہ ایک بوڑھا آدمی تھا۔
”موٹربوٹ چاہیے جناب؟“ اس نے کہا۔
”ہاں! چاہیے تو، لیکن پہلے یہ بتاﺅ، ابھی ابھی چند منٹ پہلے ایک کار میں تین بچے اور خوفناک سی صورت والا آدمی یہاں آئے تھے۔ وہ موٹربوٹ میں بیٹھ کر کس طرف گئے ہیں؟“
”ایک خوف ناک آدمی اور تین بچے….“ اس نے پیشانی پر انگلی رکھ کر کہا۔
”ہاں! بچوں میں ایک لڑکی اور دو لڑکے تھے۔“
”جی نہیں! میں بہت دیر سے یہاں موجود ہوں۔ ایسی کوئی کار یہاں نہیں آئی۔“ اس نے انکار میں سرہلاتے ہوئے کہا۔
”اچھا، تمہارے خیال میں کوئی اور ایسا ساحل ہے، جہاں سے موٹربوٹیں چلتی ہوں۔“
”صرف یہیں سے چلتی ہیں۔“ اس نے جواب دیا۔
”اگر کوئی جرائم پیشہ آدمی کسی کو سمندر کے راستے اغوا کرنا چاہے تو وہ کہاں سے لے کر جائے گا۔ بڑے میاں اس سوال کا جواب خوب سوچ کر دو۔ میں تمہاری موٹربوٹ کرائے پر بھی لوں گا اور کرایہ بھی منہ مانگا دوں گا۔“
”اس کی ضرورت نہیں، دوسروں کی مدد کرنا میری عادت ہے۔ اگر آپ بوٹ کرائے پر لیں گے تو میں وہی کرایہ لوں گا جو بنے گا۔ نہ لیں گے تب بھی وہ باتیںآپ کو ضرور بتاﺅں گا جو مجھے معلوم ہیں۔ یہاں سے چند میل دُور ایک چھوٹاسا غیرآباد ساحل ہے۔ دو ایک بار میں نے وہاں ایک بڑی سی نئی قسم کی موٹربوٹ کھڑی دیکھی ہے۔“
”اوہ۔“ انسپکٹر جمشید پر جوش انداز میں بولے:
”تو پھر بڑے میاں، اس طرف لے چلو، لیکن ٹھہرو پہلے میں موٹرسائیکل ایک طرف کھڑی کر دوں۔“
موٹرسائیکل سٹینڈ پر رکھ کر وہ موٹربوٹ میں سوار ہو گئے۔
”اب جس قدر تیز چل سکتے ہو چلو۔“ انسپکٹر جمشید بولے۔
”اس ساحل کی طرف؟“ اس نے پوچھا۔
”ہاں ۔“
بوڑھے نے موٹربوٹ گھمائی اور پوری رفتار پر چھوڑ دی۔ وہ کافی ماہر معلوم ہوتا تھا۔ پانی کے شور سے کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔ اس لیے انہیں اونچی آواز میں بات کرنا پڑ رہی تھی۔
”چکر کیا ہے؟“ بوڑھے نے کچھ دیر بعد پوچھا۔
کچھ غیر ملکی تین بچوں کو اغوا کر لے گئے ہیں۔“
”اوہ! یہ تو بہت بھیانک جرم ہے۔“ اس نے کانپ کر کہا۔
”ہاں۔ اور تم اس معاملے میں ہماری مدد کر رہے ہو۔ یہ بہت بڑی نیکی اور ملک اور قوم کی خدمت ہے۔“ انسپکٹر جمشید نے اس کی تعریف کی۔
”شکریہ جناب، یہ تو میرا فرض ہے۔“
تقریباً پانچ منٹ بعد وہ اس ساحل پر پہنچ گئے لیکن یہاں دُور دُور تک کوئی نہ تھا۔
”کنارے پر روک لو۔ ہم ذرا اُتر کر جائز ہ لیں گے۔“
”اچھا!“
انسپکٹر جمشید اور اکرام موٹربوٹ سے کود کر اُترے اور ریت پر چلتے ہوئے خشکی کی طرف بڑھنے لگے۔ کچھ دُور چل کر انہیں ایک نیلی کار نظر آئی۔ وہ تیزی سے اس کی طرف بڑھے۔
”وہ اسی کار پر لائے گئے ہیں۔“ انسپکٹر جمشید نے پُرجوش انداز میں کہا۔
”کار میں سے مخصوص خوشبو آرہی ہے۔ یہ محمود استعمال کرتا ہے۔“ وہ مسکرائے۔ پھر واپس مڑ کر ریت پر نظریں دوڑانے لگے۔ اچانک وہ چلائے۔
”ارے، وہ چپل اٹھانا۔
چپل انہیں بوڑھے کے قریب نظر آیا تھا جو ان سے کچھ فاصلے پر کھڑا تھا۔ اس نے چپل اٹھا لیا اور ان کی طرف بڑھا۔ چپل کو نزدیک سے دیکھتے ہی انسپکٹر جمشید کانپتی ہوئی آواز میں بولے:
”یہ چپل فاروق کا ہے۔“
”کیا آپ کو یقین ہے۔“ اکرام کے منہ سے نکلا۔
”بالکل مجھے سو فیصد یقین ہے۔“ انہوں نے کہا اور بوڑھے کی طرف مُڑے۔
”کیا یہاں آس پاس کوئی جزیرہ موجود ہے؟“
”جزیرہ۔ جزیرے تو کئی ہیں۔“
”تو پھر چلو۔ وہ لوگ ضرور بچوں کو کسی جزیرے پر لے گئے ہیں۔“
”آئیے میں آپ کو نزدیک ترین جزیرے پر لے چلوں۔“ بوڑھا بولا۔
وہ ایک بار پھر موٹربوٹ میں بیٹھ کر روانہ ہو گئے۔
٭….٭….٭
دروازہ کھولنے کی انہوں نے لاکھ کوشش کی، لیکن کامیابی نہ ہوئی۔ ان کے پاس چابیوں کا گچھا تو تھا نہیں کہ اس کو آزماتے، نہ ہی کوئی کیل وغیرہ تھی۔ آخر وہ تھک ہار کر بیٹھ گئے۔
”جو ہو گا دیکھا جائے گا۔“ محمود نے ہانپتے ہوئے کہا۔
”اور کیا۔ دروازہ کھول کر بھی ہم کیا کر لیں گے؟ کیا سمندر میں تیر کر کنارے تک پہنچیں گے۔“ فاروق نے جھلا کر کہا۔
”چلو ٹھیک ہے۔ آرام کرو۔“
تینوں کرسیوں پر بیٹھ گئے۔ جلد ہی ان کے کمرے کا دروازہ کھلا اور جیرال کی شکل دکھائی دی۔
”باہر آجاﺅ۔ اندر بیٹھے بیٹھے اُکتا گئے ہو گے۔“
”بہت خیال ہے تمہیں ہمارا؟“ فاروق نے جل کر کہا۔
”اگر خیال نہ ہوتا، تو صحیح سلامت یہاں تک نہ آسکتے۔“
”اب کیا ارادہ ہے؟“ محمود نے پوچھا۔
”یہاں ایک بہت پُرفضا جزیرہ ہے، ذرا تمہیں اس کی سیر کرائیں گے، پھر آگے چلیں گے۔“ جیرال نے وحشیوں کی طرح ہنس کر کہا۔
”اچھی بات ہے۔“ انہوں نے کہا اور باہر نکل آئے۔ یہاں جارج تنہا کھڑا تھا۔
”چلو! نیچے اترو۔“ اس نے غرا کر کہا۔
جزیرہ واقعی پرفضا تھا۔ درخت بہت لمبے لمبے، گھنے اور سرسبز تھے۔ کئی درختوں پر انہوں نے پھل لدے دیکھے۔ ان میں بعض پھل ایسے بھی تھے جو انہوں نے آج تک نہیں دیکھے تھے۔
”اس جزیرے پر اس وقت ہماری حکومت ہے۔“ جیرال نے ہنس کر کہا۔
”اچھا۔ پھر کیا ارادہ ہے؟“
”وقت آگیا ہے کہ تمہیں سب کچھ بتا دیا جائے۔ بس چند منٹ ٹھہرو۔“
جزیرے کی زمین ریتلی تھی۔ کہیں کہیں گھاس بھی اُگی ہوئی تھی۔ جزیرے کے بیچوں بیچ پہنچ کر وہ ٹھٹک کر رُک گئے۔ یہاں تین غیرملکی آرام کرسیوں پر بیٹھے سگار پی رہے تھے۔ ان کے سامنے میز پر گلاس اور مشروب کی بوتل رکھی تھی۔ وہ بھی انہیں دیکھ کر سیدھے ہو گئے۔
”بہت خوب جیرال۔ تو تم انہیں لے ہی آئے۔“ ان میں سے ایک نے خوش ہو کر کہا۔
”انہیں لانا بھی کوئی مشکل کام تھا ماسٹر۔“ جیرال نے مسکرا کر جواب دیا۔
”مزہ تو تب ہے، جب ان کا باپ بھی ان کے پیچھے بھاگا چلا آئے۔“ اسی آدمی نے کہا جسے جیرال نے ماسٹر کہہ کر مخاطب کیا تھا۔
”وہ بھی آئے گا ماسٹر۔ وہ بہت چالاک ہے، لیکن ہمارے جال سے بچ نہیں سکتا۔ اپنے تین بچوں کے لیے اسے آنا ہی پڑے گا اور اگر نہیں آئے گا تب بھی جیت ہماری ہی ہو گی۔ کیا بچوں کا گم ہو جانا اُسے زندہ درگور نہیں کر دے گا۔ پھر کس کام کا رہ جائے گا۔ ان بچوں کو بھی خوب چکر دے کر یہاں تک لایا ہوں۔ میں نے انہیں احساس دلا دیا تھا کہ یہ ایک دوست کے ساتھ سفر کر رہے ہیں۔“
”بہت خوب جیرال! تمہارا جواب نہیں۔ بڑی بڑی حکومتیں تم سے یونہی تو کام نہیں لیتیں، لیکن سوال یہ ہے کہ آخر انسپکٹر جمشید کس طرح یہاں پہنچے گا۔ ظاہر ہے کہ تم نے انہیں راستے میں کوئی آثار چھوڑنے نہیں دیے ہوں گے۔“
”میں نے دہری چال چلی ہے۔ ایک طرف تو انہیں کوئی نشانی کسی جگہ پر گرانے کی اجازت نہیں دی، دوسری طرف میں ان کے گھر کی دیوار پر چاک سے جیرال لکھ آیا ہوں۔“
محمود، فاروق اور فرزانہ یہ گفتگو سن سن کر حیران ہو رہے تھے۔ اب ان کی سمجھ میں یہ بات آگئی تھی کہ دراصل ان لوگوں نے ان کے والد پر قابو پانے کا ایک خوف ناک منصوبہ بنایا تھا۔ اس منصوبے کو بنانے والا جیرال تھا۔ سب کچھ اس کی ہدایت کے مطابق ہو رہا تھا۔ اگرچہ اغوا کرانے والے اور تھے۔ نہ جانے ماسٹر اور اس کے ساتھی کس ملک سے تعلق رکھتے تھے اور انہیں انسپکٹر جمشید سے کیا دشمنی تھی؟ انہوں نے چاروں طرف دیکھا، ان پانچ دشمنوں کے سوا انہیں دُور دُور کوئی نظر نہ آیا۔ یہ جزیرہ غیرآباد تھا۔ یوں بھی شہر سے بہت دُور تھا۔ کوئی سیروتفریح کرنے والا گروپ بھی اِدھر مشکل سے ہی آتا ہو گا۔
اس سے پہلے وہ یہ دعا کرتے رہے تھے کہ ان کے والد انہیں تلاش کرنے میں کامیاب ہو جائیں، لیکن اب وہ یہ دُعا کر رہے تھے، یا اللہ ہمارے والد ہم تک نہ پہنچیں۔
”ہو سکتا ہے۔“ فاروق بولا۔
”تم دونوں میرے ساتھ دروازے تک چلو گے، سمجھے۔“
”جی بہت بہتر۔“ محمود نے سعادت مندی کا مظاہرہ کیا۔
”سنو، اگر دروازے پر تمہاری بہن موجود ہوئی تو چپ چاپ اس کے لیے دروازہ کھول کر پیچھے ہٹ آنا۔“
”اچھا۔“ دونوں کے منہ سے نکلا۔ ان کے ذہن تیزی سے گردش کر رہے تھے۔
وہ انہیں ساتھ لے کر دروازے پر آیا اور محمود کو دروازہ کھولنے کا اشارہ کیا۔ خود دیوار سے لگ کر کھڑا ہو گیا۔ محمود نے دروازہ کھول دیا۔ فرزانہ کی آواز سنائی دی۔
”کیا اندر سب خیریت ہے، میں نے پھر یونہی فون کیا۔“
محمود اور فاروق دھک سے رہ گئے، انہیں یہ امید نہیں تھی کہ فرزانہ یہ جملہ بول دے گی۔ دوسری طرف خوف ناک آدمی بھی بڑے زور سے چونکا۔ پھر اس نے غرا کر کہا۔
”اب اندر جانے کی ضرورت نہیں، یہیں ٹھہرو۔“
اُن کے اٹھتے قدم رُک گئے۔ فرزانہ بھی بوکھلا گئی۔ پھر خوف ناک آدمی کو دیکھ کر تو اس کی سٹی ہی گم ہو گئی۔ اسے احساس ہو گیا کہ اس نے کتنی بڑی غلطی کی ہے۔ دوسری طرف خوف ناک آدمی جیب سے چاک نکال کر دیوار پر کچھ لکھنے لگا تھا، لیکن ایسے میں بھی اس کی نظر ان تینوں پر جمی تھی۔ وہ اسے حیرت سے دیوار پر لکھتے دیکھ رہے تھے۔ انہوں نے دیکھا، اس نے دیوار پر صرف ایک نام لکھا تھا۔
”جیرال۔“
اچانک وہ بڑی زور سے اچھلے اور پھر سکتے کی حالت میں کھڑے رہ گئے۔
”تو۔ کیا۔ تم جیرال ہو؟“ محمود ہکلایا۔
”ہاں! معلوم ہوتا ہے تم میرے نام سے واقف ہو۔“
”بہت اچھی طرح۔ ہم نے اخبارات میں تو پڑھا ہی ہے۔ ہمارے والد نے بھی تمہارے بارے میں بہت کچھ بتایا ہے۔“ فاروق نے جواب دیا۔
”پھر تو مجھ سے اچھی طرح واقف ہوگے۔ چلو یہ اور بھی اچھا ہے۔ اچھا، اب سنو۔ اپنے منہ دروازے کی طرف کر لو۔“ اس نے حکم دیا۔ تینوں مُڑ گئے۔
”اب پھر میری طرف پلٹو۔“ اس نے کہا، وہ پلٹے تو انہیں پستول نظر نہیں آیا۔
”پستول اب میرے کوٹ کی جیب میں ہے اس کی نالی کا رُخ تمہاری طرف ہے۔ میں ایک ہی فائر میں تم تینوں کو ڈھیر کر سکتا ہوں۔ یہ بات شاید تمہیں معلوم ہی ہو گی۔“
”ہاں! ہم جانتے ہیں۔“
”ہوں ٹھیک ہے۔ تمہیں اتنا کرنا ہے کہ میرے آگے آگے چلتے رہنا، جونہی تم نے کوئی حرکت کی اور میں نے تمہیں گولی ماری، لیکن جب تک تم کوئی حرکت نہیں کرو گے، میں گولی نہیں چلاﺅں گا۔ اب چلو، کہیں تمہارے والد سے بھی یہیں مقابلہ نہ کرنا پڑ جائے۔ ویسے ان سے مقابلہ تو ہو گا ہی۔ وہ تمہارے پیچھے ضرور آئیں گے۔“ اس نے ہنس کر کہا۔
”تم ہمیں کہاں لے جانا چاہتے ہو؟“ محمود نے پوچھا۔
”یہ میں تمہیں ابھی نہیں بتا سکتا۔“ جیرال نے کہا۔
”بس اب چلو۔“
وہ دروازے سے باہر نکل کر سڑک کی طرف چلنے لگے۔ جیرال اور اس کے کارناموں سے وہ اچھی طرح واقف تھے۔ ان کے والد نے اس کے بارے میں انہیں بہت کچھ بتایا اور یہ بھی ہدایت کی تھی کہ اگر کبھی جیرال سے سامنا ہو جائے تو اس کی ہدایت پر عمل کرنا اور بالکل چوں چرا نہ کرنا۔ وہ جانتے تھے، جیرال ایک ایسا جاسوس ہے جس سے بڑے بڑے ملک معاوضہ دے کر کام لیتے ہیں۔ دوسرے ملکوں کے راز معلوم کرتے ہیں، فائلیں وغیرہ اس کے ذریعے غائب کراتے ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ تینوں حیران تھے اور سوچ رہے تھے، آخر جیرال ہمیں کہاں لے جا رہا ہے۔ ایک اتنے بڑے جاسوس کو ہمارے گھر آنے کی کیا ضرورت پڑ گئی۔ پھر انہیں جیرال کا وہ جملہ یاد آیا، اس نے کہا تھا، مجھے یہاں کچھ سوچ سمجھ کر ہی بھیجا گیا ہے۔
یہ سب باتیں سوچ کر ان کی پریشانی میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا، پھر وہ آگے آگے چلتے ہوئے سڑک تک آگئے۔ سڑک کنارے ایک نیلے رنگ کی کار کھڑی تھی۔ پیچھے سے جیرال کی آواز آئی:
”تمہیں اس کار میں بیٹھنا ہے۔ کوئی غلط حرکت نہ کر بیٹھنا۔ اگر میرے ہاتھ سے مارے گئے تو مجھے بہت افسوس ہوگا جس طرح تم مجھ سے اچھی طرح واقف ہو، اسی طرح میں بھی تمہیں بہ خوبی جانتا ہوں۔“
”بہت خوب۔“ فاروق نے کہا۔
تینوں اپنے ذہنوں کو تیزی سے گھما رہے تھے۔ وہ سوچ رہے تھے نہ جانے یہ ہمیں کہاں لے جانا چاہتا ہے اور یہ کہ ان کے والد انہیں کس طرح تلاش کریں گے۔ کر بھی سکیں گے یا نہیں۔ اگر وہ تلاش نہ کر سکے تو کیا ہو گا؟ انہوں نے کچھ نہ کچھ کر ڈالنے کا فیصلہ کر لیا۔ وہ جانتے تھے، تینوں مل کر بھی جیرال کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے کیوں کہ اس کا مقابلہ تو دس آدمی مل کر بھی نہیں کر سکتے تھے، ان کی تو حیثیت ہی کیا تھی، لیکن وہ دوسری قسم کی کوشش تو کر سکتے تھے۔ دل ہی دل میں یہ فیصلہ کرتے ہوئے وہ کار کی طرف قدم اٹھانے لگے۔ اچانک فاروق کو ایک زوردار چھینک آئی۔ اس نے منہ ہی منہ میں کہا۔
”شاید میں نزلے کا شکار ہونے والا ہوں۔“ پھر جیب سے اپنا رومال نکال کر ناک صاف کرنے لگا۔
”تم رومال سڑک پر نہیں گراﺅ گے، میں تمہاری ان کرتبوں سے واقف ہوں۔“ پیچھے سے جیرال کی مسکراتی آواز ان کے کانوں سے ٹکرائی اور فاروق نے مایوس ہو کر رومال جیب میں رکھ لیا۔ عین اسی وقت محمود نے ٹھوکر کھائی۔
”ارے ارے، سنبھل کر۔“ فرزانہ نے گھبرا کر کہا اور اسے تھامنے کی کوشش میں آگے بڑھی۔
”کیا تم لوگ کوئی چال چلنے کی فکر میں ہو؟“ جیرال نے چونک کر کہا۔
”نہیں، ایسی کوئی بات نہیں۔ چھینک کا آنا کوئی عجیب بات نہیں، نہ ہی محمود کے پاﺅں کو ٹھوکر لگنا۔“
اتنی دیر میں وہ کار تک پہنچ چکے تھے۔
”اچھا خیر، اس میں بیٹھ جاﺅ۔ تمہاری جیبوں میں کوئی ہتھیار تو نہیں۔“
”جی نہیں۔“ فاروق بولا۔
”کیا تم بتا سکتے ہو کہ میں نے تمہاری تلاشی کیوں نہیں لی جب کہ میں یہ بات بھی جانتا ہوں کہ تم تینوں پروفیسر داﺅد کے بنائے ہوئے کھلونے نما ہتھیار اپنی جیبوں میں رکھتے ہو۔“
”اس لیے کہ ہم اسکول سے آئے تھے۔ ہتھیار ہم کسی مہم پر جاتے وقت ساتھ لیتے ہیں۔“ فرزانہ بولی۔
”بہت خوب، تم واقعی بہت عقل مند ہو۔ میں نے بھی یہی سوچ کر تمہاری تلاشی نہیں لی تھی۔“ جیرال نے مسکرا کر کہا۔
پھر اس نے دونوں طرف کے دروازے بند کرتے ہوئے انہیں لاک کر دیا۔
” میں ایک ہاتھ سے کار چلانے میں ماہر خیال کیا جاتا ہوں اور صرف ایک ہاتھ سے تم تینوں سے نمٹ سکتا ہوں۔ اس لیے ایک بار پھر بتاتا چلوں، کوئی حرکت نہ کر بیٹھنا، پھر میں کوئی لحاظ نہیں کروں گا۔“
”اچھی بات ہے، ہم کوئی غلط حرکت نہیں کریں گے۔“ فاروق نے سنجیدہ لہجے میں کہا۔
”میں نے تمہاری بہت تعریفیں سنی ہیں۔ یہ بھی سُن رکھا ہے کہ حالات خواہ کچھ بھی ہوں، تم چہکتے رہتے ہو۔“
”ہم پرندے نہیں، انسان ہیں۔“ فاروق مسکرایا۔
”بہت خوب۔“ اس نے کار سٹارٹ کرتے ہوئے کہا۔
”میں تم تینوں کی نوک جھونک اپنے کانوں سے سُن کر لطف اندوز ہونا چاہتا ہوں، لیکن میرا خیال ہے کہ تم پر میرا رعب اس حد تک طاری ہو چکا ہے کہ شاید ہی تم کار میں کوئی بات کر سکو۔“
”نہیں خیر، ایسی تو کوئی بات نہیں۔“ محمود بولا۔
”ویسے فرزانہ، کیا تم نے اپنے والد کو خطرے کی اطلاع دے دی تھی؟“ جیرال نے اس طرح پوچھا جیسے وہ مدتوں ان کے ساتھ رہا ہو۔“
”ہاں! میں فون کر کے ہی اپنے دروازے پر آئی تھی۔“
”انہوں نے کیا کہا تھا؟“
”انہوں نے کہا تھا وہ فوراً پہنچ رہے ہیں، فکر نہ کرنا۔“
”ویسے میں تمہیں ایک خاص بات بتانا چاہتا ہوں۔“ جیرال عجیب سے انداز میں مسکرایا۔
”وہ کیا؟“ انہوں نے ایک ساتھ پوچھا۔
”وہ یہ کہ میں ذاتی طور پر انسپکٹر جمشید کی بہت عزت کرتا ہوں۔ اس لحاظ سے تم تینوں کو بھی پسند کرتا ہوں۔“
”بہت بہت شکریہ جناب! آپ پہلے مجرم ہیں جن کی زبان سے ہم اس قسم کے الفاظ سن رہے ہیں۔“ محمود نے خوش ہو کر کہا۔
”میں اور قسم کا مجرم ہوں۔“ وہ مسکرایا۔
”ویسے آپ نے اب تک یہ نہیں بتایا، ہمیں کہاں لے جا رہے ہیں؟“ فاروق نے سوال کیا۔
”ابھی نہیں، کچھ دیر بعد بتاﺅں گا۔“ اس نے کہا۔
”اب تو ہم کار میں بیٹھ بھی چکے ہیں۔ اب ہم کسی کو خبردار تو کر نہیں سکیں گے۔“ محمود نے سامنے دیکھتے ہوئے کہا۔
سامنے سے آنے والی کاروں میں اچانک اُسے اپنے ایک دوست کے والد بیٹھے نظر آئے تھے۔ اس نے سوچا کاش! دوست کے والد انہیں کار میں بیٹھا دیکھ لیں۔
”دشمن کو کبھی کم زور نہیں سمجھنا چاہیے۔ یہ میرا بہت پرانا اصول ہے۔“ اس نے کہا۔
”اچھا نہ بتائیں لیکن ایک بات میں بھی آپ کو بتا دینا چاہتا ہوں۔“ فاروق نے پُراسرار لہجے میں کہا۔
”وہ کیا؟“
”ہمارے والد ہمارے پیچھے آئیں گے ضرور۔“
”کیا تم کوئی سراغ چھوڑ آئے ہو۔ میں نے پوری طرح دھیان دیا تھا کہ تم ایسا نہ کرو۔ اسی لیے جب تم چھینکے تھے اور محمود لڑکھڑایا تو میں ہوشیار ہو گیا تھا، لیکن مجھے سڑک کنارے ایسی کوئی چیز نظر نہیں آئی جس سے تمہارے والد یہ اندازہ لگا سکیں کہ تم اس جگہ سے کار میں بیٹھ کر روانہ ہوئے ہو۔“
”کچھ بھی ہو، وہ آئیں گے ضرور۔“ اس نے پختہ یقین سے کہا۔ جیرال نے اس کے الفاظ پر پچھلا منظر دکھانے والے آئینے میں اس کی طرف گھور کر دیکھا اور بولا۔
”کوئی بات نہیں، ایک عرصے سے میری خواہش بھی تھی، کہ ان سے میرا مقابلہ ہو۔“
”کار پوری رفتار سے دوڑ رہی تھی۔ آبادی اب بہت پیچھے رہ گئی تھی اور سڑک کے دونوں طرف درختوں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔
٭….٭….٭
انسپکٹر جمشید ریسیور ہاتھ سے رکھتے ہی اچھل کر کھڑے ہو گئے اور اکرام سے بولے:
”اکرام، میرے ساتھ چلو۔“
یہ کہہ کر وہ دفتر سے باہر نکل آئے اور اپنی موٹرسائیکل کی طرف لپکے۔ اکرام بدحواسی کے عالم میں دوڑتا ہوا ان کے پیچھے بیٹھ گیا۔ دوسرے ہی لمحے موٹرسائیکل پوری رفتار سے اڑی جا رہی تھی۔
”خیریت تو ہے جناب؟“
”نہیں۔ فرزانہ نے خبر سنائی ہے کہ گھر کے اندر کوئی گڑبڑ ہے۔ محمود اور فاروق اندر جا چکے ہیں۔ وہ فون کرنے بیگم شیرازی کے ہاں چلی آئی ہے۔ اب وہ بھی گھر میں جا چکی ہو گی۔“
”کیسی گڑبڑ، کیا اس نے بتایا نہیں؟“
”نہیں کچھ بتانے کا وقت ہی کہاں ہو گا۔“
”بچے آج اسکول نہیں گئے؟“ اکرام نے حیران ہو کر پوچھا۔
”جب میں گھر سے چلا تھا تو اسکول جانے کے لیے تیار ہو رہے تھے۔ اب خدا جانے وہ اسکول گئے تھے یا نہیں۔“ انہوں نے سوچ میں ڈوبتے ہوئے کہا۔
”خدا خیر ہی کرے۔“ اکرام کے منہ سے نکلا۔
آندھی اور طوفان کی طرح موٹرسائیکل چلاتے وہ گھر کے دروازے تک پہنچ گئے۔ ساتھ ہی ان پر حیرت کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔
”ارے! یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ دروازہ تو کھلا پڑا ہے۔“ انہوں نے موٹرسائیکل سے اترتے ہوئے کہا۔
”اس کا مطلب ہے، اندر کوئی گڑبڑ نہیں ہے۔“ اکرام بولا۔
”غلط سمجھے، اندر زبردست گڑبڑ ہوئی ہے۔“ انہوں نے گھبرا کر کہا اور پھر دوڑتے ہوئے اندر گھس گئے۔ اکرام ان کے پیچھے دوڑا۔ صحن میں انہیں کچھ بھی نظر نہ آیا۔ سارا مکان بھائیں بھائیں کر رہا تھا۔ وہ باورچی خانے کی طرف لپکے۔ یہ بھی خالی تھا، البتہ اندر بے ترتیبی کا عالم تھا۔ لمحہ بہ لمحہ ان کی حیرت اور خوف بڑھتا ہی جا رہا تھا۔ آخر وہ سونے والے کمرے میں داخل ہوئے اور پھر دھک سے رہ گئے۔ اُن کی بیگم رسیوں سے بندھی فرش پر بے ہوش پڑی تھیں۔ ان کے ہاتھ پیر پھول گئے۔ جلدی جلدی انہوں نے ان کی رسیاں کھولیں۔ انہیں اٹھا کر چارپائی پر ڈالا۔ منہ میں سے رومال نکالا۔ اتنے میں اکرام ایک گلاس میں پانی لے آیا۔ انہوں نے بیگم کے منہ پر پانی کے چھینٹے دیے، تب کہیں جا کر ان کی آنکھوں کے پپوٹے حرکت میں آئے۔ انہوں نے نیم بے ہوشی کے عالم میں آنکھیں جھپک جھپک کر انہیں دیکھا، پھر چونک اٹھیں اور چلائیں۔“
”وہ۔ وہ۔ میرے بچوں کو لے گیا۔“
”کیا کہا؟ کون بچوں کو لے گیا؟“ انسپکٹر جمشید نے بوکھلا کر پوچھا۔
”میں نہیں جانتی، وہ کون تھا۔ ہاں وہ بہت خوف ناک شکل صورت کا آدمی تھا، لمبا تڑنگا۔“
”گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ تفصیل سے بتاﺅ۔ وہ میرے ہاتھ سے بچ کر نہیں جا سکے گا۔“
اور بیگم جمشید نے تفصیل سے انہیں ساری بات بتا دی۔ چند لمحے تک وہ کھڑے سوچتے رہے، پھر بولے:
”لیکن اس سے یہ کب ثابت ہوتا ہے کہ وہ ان تینوں کو لے گیا ہے۔“
”محمود اور فاروق اندر آچکے تھے۔ اس وقت میں ہوش میں تھی، پھر گھنٹی ایک بار پھر بجی تھی۔ اس نے کہا تھا، یہ ضرور تمہاری بہن ہو گی۔ اس پر محمود نے یا فاروق نے کہا تھا کہ ہو سکتا ہے۔ اس سے میں نے اندازہ لگا لیا کہ فرزانہ ہی ہو گی۔ پھر وہ تینوں دروازے پر چلے گئے اور واپس نہیں آئے۔“
”ہوں۔ خیر، تم آرام کرو۔ اگر اٹھ سکو تو بیگم شیرازی کے ہاں جا کر ڈاکٹر کو بلا لو۔ ایک ایک سیکنڈ قیمتی ہے۔ نہ جانے وہ کون تھا اور تینوں کو کہاں لے گیا ہے۔ آﺅ اکرام ہم چلیں۔“ انہوں نے صحن کی طرف مُڑتے ہوئے کہا۔
”جلدی جائیے، میری فکر نہ کریں۔“ بیگم جمشید بولیں۔
وہ گھر سے باہر نکلنے کے لیے دروازے تک آئے اور پھر ٹھٹک کر رُک گئے۔ انسپکٹر جمشید کی نظریں دیوار پر چاک سے لکھے ایک نام پر جم کر رہ گئیں۔
٭….٭….٭
ان کا سفر دو گھنٹے تک جاری رہا۔ پھر کار ایک طرف مُڑتی نظر آئی۔ انہوں نے دیکھا، وہ ساحل سمندر پر پہنچ چکے تھے۔ دُور دُور تک انہیں کوئی انسان نظر نہیں آیا۔ البتہ ایک طرف سمندر میں ایک موٹربوٹ کھڑی ہلکورے لے رہی تھی۔ یہ ایک غیرآباد ساحل تھا۔
”نیچے اُتر آﺅ۔“ جیرال نے سرد آواز میں کہا۔ اس سے پہلے وہ اس کی آواز میں جو دوستانہ گرمی محسوس کرتے رہے تھے، ایک دم غائب ہو گئی تھی۔ انہوں نے چونک کر اس کی طرف دیکھا، اب اس کے چہرے پر وحشت اور درندگی کا راج تھا۔
”گھڑی میں تولہ، گھڑی میں ماشہ، یہ تم یکا یک بدل کیوں گئے؟“ فاروق نے بُرا سا منہ بنا کر کہا۔
”تم سے نرم گرم گفتگو اس لیے کرتا رہا کہ کہیں تم کار میں کوئی حرکت نہ کر بیٹھو۔ جب کہ تمہیں بخیروعافیت یہاں تک پہنچانے کا معاہدہ ہوا تھا۔“ اس نے کہا۔
”یہ معاہدہ کس کے ساتھ ہوا؟“ محمود نے پوچھا۔
”یہ ایسے راز ہیں جو بچوں کو بتائے نہیں جاتے۔“ اس نے طنزیہ انداز میں مسکرا کر کہا۔
”چلو خیر۔ ہمارے والد کو بتا دینا۔“ فاروق مسکرایا۔
”اُن کے تو فرشتے بھی یہاں تک نہیں پہنچ سکتے۔“ اس نے بُرا سا منہ بنا کر کہا۔
”کچھ دیر پہلے تو تم کہہ رہے تھے کہ اُن سے مقابلہ کرنے کے خواہش مند ہو۔“ فرزانہ نے جل بھن کر کہا۔
”بالکل ہوں، لیکن مجھے ایک فیصد بھی امید نہیں کہ وہ یہاں پہنچ سکیں گے۔“
”دیکھا جائے گا۔“
وہ کار سے اُتر ے اور اب موٹربوٹ کی طرف بڑھ رہے تھے۔ جیرال نے اب پھر پستول ہاتھ میں پکڑ لیا تھا۔ اچانک پانی کی ایک تیز لہر آئی اور ان کی پنڈلیوں کو چھوتی ہوئی گزر گئی۔
”ارے میری چپل نکل گئی۔“ فاروق چلایا۔
”پروا نہ کرو۔ موٹربوٹ میں ننگے پاﺅں بیٹھنے پر کوئی اعتراض نہیں کرے گا۔“ جیرال ہنسا۔
”لیکن میرے والد کو تو دوسری چپل خریدنی پڑے گی۔“
”بھول جاﺅ انہیں۔“
”کیا کہا؟ اپنے والد کو بھول جاﺅ۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ کیا کوئی اس طرح بھی اپنے ماں باپ کو بھولا کرتا ہے۔ یا تمہاری طرف ایسا ہی ہوتا ہے۔“
فاروق نے جل بھن کر کہا۔
”اچھا بھائی نہ بھولو۔ ذرا تیز تیز چلو۔“ اس نے دوستانہ لہجے میں کہا۔
”تم میری سمجھ میں نہیں آئے۔ کبھی دوست نظر آتے ہو، کبھی دشمن۔“ محمود بولا۔
”میں تو بڑے بڑوں کی سمجھ میں نہیں آیا، تم کیا سمجھو گے؟“
پانی کی لہر جب واپس گئی تو انہوں نے دیکھا، فاروق کے صرف ایک پیر میں چپل تھی۔
”اسے بھی اتار پھینکو۔ یوں اچھے نہیںلگ رہے۔“ فرزانہ نے بُرا سا منہ بنا کر کہا۔
”اچھا، یہ لو۔“ فاروق نے کہا اور دوسری چپل بھی اچھال دی۔ وہ ریت میں گری۔
چاروں آگے بڑھتے چلے گئے۔ یہاں تک کہ موٹربوٹ تک پہنچ گئے۔ اب انہوں نے دیکھا، یہ ایک بہت بڑی اور جدید قسم کی موٹربوٹ تھی۔ اس میں باقاعدہ کمرے بنے تھے۔
جیرال نے کہا:
”کیا آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھ رہے ہو۔ یہ صرف موٹربوٹ ہی نہیں۔ ضرورت پڑنے پر آبدوز میں بھی تبدیل کی جا سکتی ہے اور گھنٹوں پانی کے نیچے سفر کر سکتی ہے۔“
”اوہ۔“ ان کے منہ سے نکلا۔
”ہیلو جارج۔ ہم آگئے ہیں۔“ جیرال نے چلا کر کہا۔
فوراً ہی موٹربوٹ میں ایک کھڑکی سی نمودار ہوئی اور پھر غائب ہو گئی۔ اس کے بعد موٹر بوٹ چل پڑی ہے۔ نامعلوم منزل کی طرف۔
”ہماری آواز اس کمرے سے باہر نہیں جا سکے گی کیوں یہ موٹربوٹ آبدوز بھی ہے۔ اس لیے تم بے خطربات چیت کر سکتے ہو۔“ محمود نے انہیں بتایا۔
”خطر کیا اور بے خطر کیا۔ یہاں بات چیت کرنے کے لیے رکھا ہی کیا ہے۔“ فرزانہ نے کہا۔
”کیا تم مایوس ہو گئی ہو؟“ محمود نے کہا۔
”نہیں، مایوسی گناہ ہے۔“ فرزانہ بولی۔
”تو پھر خدا کی ذات پر یقین رکھو۔ ابا جان ضرور آئیں گے۔“ فاروق بولا۔
”آخر تمہیں اس قدر یقین کیوں ہے؟“ فرزانہ نے پوچھا۔
”اس لیے کہ ابا جان جیرال سے اچھی طرح واقف ہیں۔ وہ اس کے کام کرنے کے طریقوں سے بھی واقف ہیں۔ پھر بھلا وہ کیوں نہ آئیں گے؟“
”لیکن اب تو ہم سمندر میں ہیں اور پھر یہ شہر کا وہ ساحل بھی تو نہیں، جہاں سے موٹربوٹیں اور آبدوزیں چلتی ہیں۔“ فرزانہ بولی۔
تو پھر کیوں نہ ہم خود ہاتھ پیر مارنے کی کوشش کریں۔ اس وقت تو ہم تنہا ہیں۔“ محمود نے کہا۔
”لیکن ہم اس بند کمرے میں دشمنوں کے خلاف کیا کر سکتے ہیں۔ پہلے ایک جیرال ہی کیا کم تھا کہ یہ جارج بھی شامل ہو گیا۔“ فاروق کے لہجے میں ناامیدی تھی۔
”ہمت نہ ہارو۔ حوصلہ رکھو اور دماغ پر زور دو۔“ محمود نے انہیں دلاسا دیا۔
”کیوں نہ ہم یہ دروازہ کھولنے کی کوشش کریں۔“ اچانک فرزانہ نے کہا اور دونوں چونک اُٹھے۔
”بالکل ٹھیک۔ “ محمود بولا۔
تینوں ایک ساتھ دروازے کی طرف بڑھے۔
٭….٭….٭
”اُف خدا، تو یہاں جیرال آیا تھا۔“ ان کے منہ سے نکلا۔
”دیوار پر نام لکھ کر جانے کا تو یہی مطلب ہو سکتا ہے۔“ اکرام نے بوکھلا کر کہا۔
”تو وہ تینوں بچوں کو اغوا کر کے لے گیا ہے، لیکن کیوں؟ اس نے ایسا کیوں کیا۔“ انسپکٹر جمشید نے پیشانی پکڑ کر کہا۔
”جیرال ہمیشہ بڑے بڑے ملکوں کے لیے معاوضے پر کام کرتا ہے۔ ہو سکتا ہے، کسی نے اسے ایسا کرنے پر مجبور کیا ہو۔“
”آﺅ اکرام! جلدی کرو۔ کہیں وہ دُور نہ نکل جائے۔“ انسپکٹر جمشید بوکھلا کر بولے۔
دونوں تیزی سے باہر نکلے اور موٹرسائیکل پر بیٹھ کر سڑک کنارے پر آئے، یہاں آکر انہوں نے موٹرسائیکل روک لی۔
”ہمیں پہلے یہ دیکھنا ہے کہ وہ کوئی نشانی تو نہیں چھوڑ گئے۔“ وہ بولے۔
”جیرال نے انہیں اس کا کب موقع دیا ہو گا۔“ اکرام نے کہا۔
”ہاں! وہ بہت چالاک ہے، مگر بچے بھی کچھ کم نہیں ہیں۔ انہوں نے اپنی سی کوشش ضرور کی ہو گی۔“
یہ کہہ کر انسپکٹر جمشید فٹ پاتھ کے ساتھ ساتھ غور سے جائزہ لینے لگے۔ اکرام محسوس کر رہا تھا کہ وہ وقت ضائع کر رہے ہیں۔ دفعتاً انسپکٹر جمشید چونکے۔
”دیکھو اکرام، اگرچہ لوگ سڑک پر آجا رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود وہ آثار چھوڑ گئے ہیں۔“ انہوں نے فٹ پاتھ کے ساتھ سڑک پر اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
”لیکن یہاں تو کچھ بھی نہیں ہے۔“
”اوہ! تم میں غور سے دیکھنے کی عادت نہ جانے کب پیدا ہو گی۔“ پاﺅڈر کے ان ذروں کو غور سے دیکھو۔ کیوں کیا نظر آئے؟“
”لیکن پاﺅڈر۔ بھلا اس سے کیا بات ثابت ہوتی ہے۔“ اکرام نے حیران ہو کر پوچھا۔
”تم نہیں جانتے۔“ انسپکٹر جمشید پہلی مرتبہ مسکرائے۔ فاروق کی ایک عادت ہے۔ اپنے رومال میں تھوڑا سا پاﺅڈر ضرور چھڑک کر رکھتا ہے۔ اس نے ضرور کسی بہانے سے رومال جیب سے نکالا ہو گا اور رومال یہاں جھٹک دیا ہو گا۔ اس سے کم از کم یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ یہاں سے وہ کسی کار یا جیپ میں سوار ہو کر لے جائے گئے ہیں۔“
”لیکن اس سے یہ معلوم نہیں ہو سکتا کہ کار کس طرف گئی ہے۔“ اکرام نے کہا۔
”فاروق اپنے حصے کا کام کر چکا تھا۔ محمود اور فرزانہ اس کی چال سمجھ گئے تھے۔ اگلا قدم ان دونوں نے اٹھایا۔“ انسپکٹر جمشید سڑک کو بہ غور دیکھتے ہوئے بولے۔
”کیا مطلب؟“ اکرام بڑے زور سے چونکا۔
”مطلب یہ کہ اس کے بعد محمود نے چلتے چلتے اچانک ٹھوکر کھائی ا ور فرزانہ اسے سنبھالنے کے لیے آگے بڑھی اور اب میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ وہ لوگ اس طرف گئے ہیں۔“ انہوں نے ایک سمت میں کرتے ہوئے کہا۔
”لیکن یہ کس بات سے ثابت ہو رہا ہے۔“ اکرام نے حیران ہو کر کہا۔
”لڑکھڑانے کے نشانات جو پاﺅڈر کے ذرّات کی وجہ سے صاف دکھائی دے رہے ہیں۔ آﺅ اب دیر نہ کرو، میں انہیں اچھی طرح جانتا ہوں۔“
یہ کہہ کر وہ موٹرسائیکل پر سوار ہو گئے۔ اکرام پھر ان کے پیچھے بیٹھ گیا۔ ایک بار پھر موٹرسائیکل طوفانی رفتار سے جا رہی تھی۔ اس کا رُخ اب جس سڑک کی طرف تھا، وہ آگے جا کر دو طرف مُڑ جاتی تھی، لیکن انسپکٹر جمشید رُکے بغیر ایک سڑک پر مُڑ گئے۔ ٹھیک پندرہ منٹ بعد وہ ساحل سمندر پر پہنچ چکے تھے۔
ساحل پر بہت سی موٹربوٹیں اور آبدوزیں کھڑی تھیں۔ لوگ انہیں کرائے پر لے کر سیر کرتے تھے۔ دونوں اترے اور ایک موٹربوٹ کی طرف بڑھے اس کا مالک لپک کر ان کی طرف آیا۔ یہ ایک بوڑھا آدمی تھا۔
”موٹربوٹ چاہیے جناب؟“ اس نے کہا۔
”ہاں! چاہیے تو، لیکن پہلے یہ بتاﺅ، ابھی ابھی چند منٹ پہلے ایک کار میں تین بچے اور خوفناک سی صورت والا آدمی یہاں آئے تھے۔ وہ موٹربوٹ میں بیٹھ کر کس طرف گئے ہیں؟“
”ایک خوف ناک آدمی اور تین بچے….“ اس نے پیشانی پر انگلی رکھ کر کہا۔
”ہاں! بچوں میں ایک لڑکی اور دو لڑکے تھے۔“
”جی نہیں! میں بہت دیر سے یہاں موجود ہوں۔ ایسی کوئی کار یہاں نہیں آئی۔“ اس نے انکار میں سرہلاتے ہوئے کہا۔
”اچھا، تمہارے خیال میں کوئی اور ایسا ساحل ہے، جہاں سے موٹربوٹیں چلتی ہوں۔“
”صرف یہیں سے چلتی ہیں۔“ اس نے جواب دیا۔
”اگر کوئی جرائم پیشہ آدمی کسی کو سمندر کے راستے اغوا کرنا چاہے تو وہ کہاں سے لے کر جائے گا۔ بڑے میاں اس سوال کا جواب خوب سوچ کر دو۔ میں تمہاری موٹربوٹ کرائے پر بھی لوں گا اور کرایہ بھی منہ مانگا دوں گا۔“
”اس کی ضرورت نہیں، دوسروں کی مدد کرنا میری عادت ہے۔ اگر آپ بوٹ کرائے پر لیں گے تو میں وہی کرایہ لوں گا جو بنے گا۔ نہ لیں گے تب بھی وہ باتیںآپ کو ضرور بتاﺅں گا جو مجھے معلوم ہیں۔ یہاں سے چند میل دُور ایک چھوٹاسا غیرآباد ساحل ہے۔ دو ایک بار میں نے وہاں ایک بڑی سی نئی قسم کی موٹربوٹ کھڑی دیکھی ہے۔“
”اوہ۔“ انسپکٹر جمشید پر جوش انداز میں بولے:
”تو پھر بڑے میاں، اس طرف لے چلو، لیکن ٹھہرو پہلے میں موٹرسائیکل ایک طرف کھڑی کر دوں۔“
موٹرسائیکل سٹینڈ پر رکھ کر وہ موٹربوٹ میں سوار ہو گئے۔
”اب جس قدر تیز چل سکتے ہو چلو۔“ انسپکٹر جمشید بولے۔
”اس ساحل کی طرف؟“ اس نے پوچھا۔
”ہاں ۔“
بوڑھے نے موٹربوٹ گھمائی اور پوری رفتار پر چھوڑ دی۔ وہ کافی ماہر معلوم ہوتا تھا۔ پانی کے شور سے کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔ اس لیے انہیں اونچی آواز میں بات کرنا پڑ رہی تھی۔
”چکر کیا ہے؟“ بوڑھے نے کچھ دیر بعد پوچھا۔
کچھ غیر ملکی تین بچوں کو اغوا کر لے گئے ہیں۔“
”اوہ! یہ تو بہت بھیانک جرم ہے۔“ اس نے کانپ کر کہا۔
”ہاں۔ اور تم اس معاملے میں ہماری مدد کر رہے ہو۔ یہ بہت بڑی نیکی اور ملک اور قوم کی خدمت ہے۔“ انسپکٹر جمشید نے اس کی تعریف کی۔
”شکریہ جناب، یہ تو میرا فرض ہے۔“
تقریباً پانچ منٹ بعد وہ اس ساحل پر پہنچ گئے لیکن یہاں دُور دُور تک کوئی نہ تھا۔
”کنارے پر روک لو۔ ہم ذرا اُتر کر جائز ہ لیں گے۔“
”اچھا!“
انسپکٹر جمشید اور اکرام موٹربوٹ سے کود کر اُترے اور ریت پر چلتے ہوئے خشکی کی طرف بڑھنے لگے۔ کچھ دُور چل کر انہیں ایک نیلی کار نظر آئی۔ وہ تیزی سے اس کی طرف بڑھے۔
”وہ اسی کار پر لائے گئے ہیں۔“ انسپکٹر جمشید نے پُرجوش انداز میں کہا۔
”کار میں سے مخصوص خوشبو آرہی ہے۔ یہ محمود استعمال کرتا ہے۔“ وہ مسکرائے۔ پھر واپس مڑ کر ریت پر نظریں دوڑانے لگے۔ اچانک وہ چلائے۔
”ارے، وہ چپل اٹھانا۔
چپل انہیں بوڑھے کے قریب نظر آیا تھا جو ان سے کچھ فاصلے پر کھڑا تھا۔ اس نے چپل اٹھا لیا اور ان کی طرف بڑھا۔ چپل کو نزدیک سے دیکھتے ہی انسپکٹر جمشید کانپتی ہوئی آواز میں بولے:
”یہ چپل فاروق کا ہے۔“
”کیا آپ کو یقین ہے۔“ اکرام کے منہ سے نکلا۔
”بالکل مجھے سو فیصد یقین ہے۔“ انہوں نے کہا اور بوڑھے کی طرف مُڑے۔
”کیا یہاں آس پاس کوئی جزیرہ موجود ہے؟“
”جزیرہ۔ جزیرے تو کئی ہیں۔“
”تو پھر چلو۔ وہ لوگ ضرور بچوں کو کسی جزیرے پر لے گئے ہیں۔“
”آئیے میں آپ کو نزدیک ترین جزیرے پر لے چلوں۔“ بوڑھا بولا۔
وہ ایک بار پھر موٹربوٹ میں بیٹھ کر روانہ ہو گئے۔
٭….٭….٭
دروازہ کھولنے کی انہوں نے لاکھ کوشش کی، لیکن کامیابی نہ ہوئی۔ ان کے پاس چابیوں کا گچھا تو تھا نہیں کہ اس کو آزماتے، نہ ہی کوئی کیل وغیرہ تھی۔ آخر وہ تھک ہار کر بیٹھ گئے۔
”جو ہو گا دیکھا جائے گا۔“ محمود نے ہانپتے ہوئے کہا۔
”اور کیا۔ دروازہ کھول کر بھی ہم کیا کر لیں گے؟ کیا سمندر میں تیر کر کنارے تک پہنچیں گے۔“ فاروق نے جھلا کر کہا۔
”چلو ٹھیک ہے۔ آرام کرو۔“
تینوں کرسیوں پر بیٹھ گئے۔ جلد ہی ان کے کمرے کا دروازہ کھلا اور جیرال کی شکل دکھائی دی۔
”باہر آجاﺅ۔ اندر بیٹھے بیٹھے اُکتا گئے ہو گے۔“
”بہت خیال ہے تمہیں ہمارا؟“ فاروق نے جل کر کہا۔
”اگر خیال نہ ہوتا، تو صحیح سلامت یہاں تک نہ آسکتے۔“
”اب کیا ارادہ ہے؟“ محمود نے پوچھا۔
”یہاں ایک بہت پُرفضا جزیرہ ہے، ذرا تمہیں اس کی سیر کرائیں گے، پھر آگے چلیں گے۔“ جیرال نے وحشیوں کی طرح ہنس کر کہا۔
”اچھی بات ہے۔“ انہوں نے کہا اور باہر نکل آئے۔ یہاں جارج تنہا کھڑا تھا۔
”چلو! نیچے اترو۔“ اس نے غرا کر کہا۔
جزیرہ واقعی پرفضا تھا۔ درخت بہت لمبے لمبے، گھنے اور سرسبز تھے۔ کئی درختوں پر انہوں نے پھل لدے دیکھے۔ ان میں بعض پھل ایسے بھی تھے جو انہوں نے آج تک نہیں دیکھے تھے۔
”اس جزیرے پر اس وقت ہماری حکومت ہے۔“ جیرال نے ہنس کر کہا۔
”اچھا۔ پھر کیا ارادہ ہے؟“
”وقت آگیا ہے کہ تمہیں سب کچھ بتا دیا جائے۔ بس چند منٹ ٹھہرو۔“
جزیرے کی زمین ریتلی تھی۔ کہیں کہیں گھاس بھی اُگی ہوئی تھی۔ جزیرے کے بیچوں بیچ پہنچ کر وہ ٹھٹک کر رُک گئے۔ یہاں تین غیرملکی آرام کرسیوں پر بیٹھے سگار پی رہے تھے۔ ان کے سامنے میز پر گلاس اور مشروب کی بوتل رکھی تھی۔ وہ بھی انہیں دیکھ کر سیدھے ہو گئے۔
”بہت خوب جیرال۔ تو تم انہیں لے ہی آئے۔“ ان میں سے ایک نے خوش ہو کر کہا۔
”انہیں لانا بھی کوئی مشکل کام تھا ماسٹر۔“ جیرال نے مسکرا کر جواب دیا۔
”مزہ تو تب ہے، جب ان کا باپ بھی ان کے پیچھے بھاگا چلا آئے۔“ اسی آدمی نے کہا جسے جیرال نے ماسٹر کہہ کر مخاطب کیا تھا۔
”وہ بھی آئے گا ماسٹر۔ وہ بہت چالاک ہے، لیکن ہمارے جال سے بچ نہیں سکتا۔ اپنے تین بچوں کے لیے اسے آنا ہی پڑے گا اور اگر نہیں آئے گا تب بھی جیت ہماری ہی ہو گی۔ کیا بچوں کا گم ہو جانا اُسے زندہ درگور نہیں کر دے گا۔ پھر کس کام کا رہ جائے گا۔ ان بچوں کو بھی خوب چکر دے کر یہاں تک لایا ہوں۔ میں نے انہیں احساس دلا دیا تھا کہ یہ ایک دوست کے ساتھ سفر کر رہے ہیں۔“
”بہت خوب جیرال! تمہارا جواب نہیں۔ بڑی بڑی حکومتیں تم سے یونہی تو کام نہیں لیتیں، لیکن سوال یہ ہے کہ آخر انسپکٹر جمشید کس طرح یہاں پہنچے گا۔ ظاہر ہے کہ تم نے انہیں راستے میں کوئی آثار چھوڑنے نہیں دیے ہوں گے۔“
”میں نے دہری چال چلی ہے۔ ایک طرف تو انہیں کوئی نشانی کسی جگہ پر گرانے کی اجازت نہیں دی، دوسری طرف میں ان کے گھر کی دیوار پر چاک سے جیرال لکھ آیا ہوں۔“
محمود، فاروق اور فرزانہ یہ گفتگو سن سن کر حیران ہو رہے تھے۔ اب ان کی سمجھ میں یہ بات آگئی تھی کہ دراصل ان لوگوں نے ان کے والد پر قابو پانے کا ایک خوف ناک منصوبہ بنایا تھا۔ اس منصوبے کو بنانے والا جیرال تھا۔ سب کچھ اس کی ہدایت کے مطابق ہو رہا تھا۔ اگرچہ اغوا کرانے والے اور تھے۔ نہ جانے ماسٹر اور اس کے ساتھی کس ملک سے تعلق رکھتے تھے اور انہیں انسپکٹر جمشید سے کیا دشمنی تھی؟ انہوں نے چاروں طرف دیکھا، ان پانچ دشمنوں کے سوا انہیں دُور دُور کوئی نظر نہ آیا۔ یہ جزیرہ غیرآباد تھا۔ یوں بھی شہر سے بہت دُور تھا۔ کوئی سیروتفریح کرنے والا گروپ بھی اِدھر مشکل سے ہی آتا ہو گا۔
اس سے پہلے وہ یہ دعا کرتے رہے تھے کہ ان کے والد انہیں تلاش کرنے میں کامیاب ہو جائیں، لیکن اب وہ یہ دُعا کر رہے تھے، یا اللہ ہمارے والد ہم تک نہ پہنچیں۔
