موت کا جزیرہ - پہلا حصہ


بیگم جمشید، انسپکٹر جمشید اور بچوں کو ناشتا کرا چکی تھیں۔ اب وہ دفتر اور اسکول جانے کی تیاری کر رہے تھے۔ جب کہ بیگم جمشید برتن دھونے میں مصروف تھیں۔ بچوں سے پہلے انسپکٹر جمشید تیار ہو گئے۔

”اچھا بھئی! میں چلا۔ جاتے وقت اپنی امی کو بتا دینا تاکہ وہ دروازہ بند کر لیں۔“ انہوں نے کہا۔
”جی اچھا۔“ محمود بولا۔
ان کے جانے کے پندرہ منٹ بعد وہ بھی تیار ہو گئے۔
”امی کو بتا دو فرزانہ ہم جا رہے ہیں۔ آکر دروازہ بند کر لیں۔“
”اچھا۔“ فرزانہ نے کہا اور دوڑتی ہوئی باورچی خانے کی طرف گئی۔
”امی جان! ہم جا رہے ہیں، دروازہ بند کر لیں۔“
”اچھا بیٹی! تم لوگ جاﺅ۔ میں ابھی بند کر لیتی ہوں۔“ بیگم جمشید بولیں۔

اور وہ تینوں بھی چلے گئے۔ صرف ایک منٹ بعد وہ اٹھیں اور دروازے کی طرف بڑھیں۔ دروازے کی چٹخنی لگا کر وہ واپس مڑیں تو فرش پر کیچڑ میں بھرے ایک جوتے کا نشان نظر آیا۔ وہ دھک سے رہ گئیں۔ بھلا کیچڑ بھرے جوتے کے نشان کا ان کے صحن میں کیا کام۔ چند قدم آگے بڑھیں تو میز پر انہیں ایک پستول رکھا نظر آیا۔ ان کے اٹھتے قدم رک گئے۔ دل دھک دھک کرنے لگا۔ آنکھوں میں خوف سمٹ آیا۔ پھر جونہی انہوں نے نظریں اوپر اٹھائیں ان کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ وہاں پر کوئی موجود تھا۔

وہ بہت لمبا چوڑا اور خوف ناک شکل صورت کا آدمی تھا۔ اس کی آنکھیں اگرچہ چھوٹی تھیں مگر ان میں بَلا کی چمک تھی، ہونٹ بھدے، سیاہ اور موٹے تھے۔ سر کے بال گہرے سیاہ اور بہت گھنے تھے۔ ہاتھوں کی پشت اور بازوﺅں پر بھی بال ہی بال تھے۔ غرض پہلی نظر میں تو وہ خوف ناک لگتا ہی تھا۔ اسے دیکھ کر بدن میں سنسنی سی پیدا ہونا لازمی بات تھی۔ خوف کی ایک لہر بیگم جمشید نے اپنے جسم کے روئیں روئیں میں دوڑتی محسوس کی۔ ان کے منہ سے کوئی لفظ نہ نکل سکا۔ پھر ان کے کانوں سے اس کی کرخت آواز ٹکرائی۔ بالکل ایسی جیسی پھٹے ہوئے بانس میں سے نکلتی ہے۔

”میں جانتا ہوں، گھر میں تمہارے سوا کوئی اور نہیں ہے۔“ یہ کہتے ہوئے وہ مسکرایا بھی تھا۔ اس کی مسکراہٹ کس قدر خوف ناک تھی۔ وہ کانپ کر رہ گئیں۔

حلق خشک ہونے لگا۔ بدن میں تھرتھراہٹ دوڑنے لگی۔ آخر بڑی مشکل سے انہوں نے اپنے لب کھولے:
”تم…. تم کیا چاہتے ہو؟“
”سب سے پہلے ناشتا۔“ وہ ہنسا۔
”اگر تم بھوکے ہو تو تمہیں کھانا ضرور ملے گا۔ اس گھر سے کوئی بھوکا خالی نہیں جاتا۔“

”میں بھوکا ضرور ہوں، لیکن بھیک نہیں مانگتا۔ اس وقت چوں کہ اس گھر پر میری حکومت ہے، اس لیے جو حکم بھی دوں، تمہیں بجا لانا ہو گا۔ میں انکار سننے کا عادی نہیں ہوں۔ جاﺅ، پہلے میرے لیے ناشتا لے کر آﺅ۔“ اس نے گرج دار آواز میں کہا۔

”اس گھر میں غیرقانونی طور پر داخل ہونے والا محفوظ نہیں رہ سکتا، تم نے اپنی شامت کو آواز دی ہے۔“

اس کے الفاظ سُن کر بیگم جمشید کو غصہ آگیا۔ ان کا خوف اُڑن چھو ہو گیا۔ وہ ایک دم دلیر ہو گئیں اور خون خوار نظروں سے اُسے گھورنے لگیں، لیکن اس تبدیلی سے بھی اس خوف ناک آدمی نے کوئی اثر نہیں لیا۔

”میں جانتا ہوں، یہ انسپکٹر جمشید کا گھر ہے، یہاں اس کے تین بچے محمود، فاروق اور فرزانہ بھی رہتے ہیں۔ ان کی بیوی بھی رہتی ہے، لیکن میں یہ بھی جانتا ہوں کہ انسپکٹر جمشید دفتر اور بچے اسکول جا چکے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ بچے دو بجے سے پہلے اور انسپکٹر جمشید پانچ بجے سے پہلے واپس نہیں آئیں گے۔ گھر کا دروازہ بند ہے اور اس گھر کا کوئی دوسرا راستہ بھی نہیں ہے۔ نہ ہی گھر میں ٹیلی فون ہے۔ پھر تم کس بنا پر اس قدر اکڑ کر بات کر رہی ہو؟ یاد رکھو، میں بہت بُرا آدمی ہوں۔“ اُس نے منہ بنا کر کہا۔

”وہ تو تم شکل سے نظر آہی رہے ہو۔“ بیگم جمشید جل کر بولیں۔
”چلو اچھا ہے، تمہیں اندازہ ہو گیا ہے۔ اب جلدی سے ناشتا لے آﺅ۔“
وہ پھر مسکرایا۔
”ناشتا ختم ہو چکا ہے۔“ انہوں نے منہ بنا کر کہا۔
”تو اور تیار کر لاﺅ۔“ اس نے ایسے انداز میں کہا جیسے اپنے گھر میں بیٹھا ہو۔
”پہلے یہ بتاﺅ، تم کون ہو اور یہاں کیا لینے آئے؟“
”ناشتے سے پہلے ایک لفظ نہیں بتاﺅں گا۔“ اس نے کندھے اُچکائے۔

”اچھی بات ہے، میں تمہارے لیے ناشتا لاتی ہوں۔“ تنگ آکر انہوں نے کہا اور باورچی خانے میں چلی آئیں۔ ان کا ذہن تیزی سے کام کر رہا تھا۔ وہ سوچ رہی تھیں۔ یوں وہ اس کے مقابلے میں ہار ماننے کے لیے تیار نہیں تھیں۔ وہ ان کے ساتھ باورچی خانے میں نہیں آیا تھا، بدستور صحن میں بیٹھارہا تھا۔ باورچی خانے سے نکل کر اس کی نظروں سے بچ کر کسی دوسرے کمرے تک جانا ناممکن تھا، وہ ضرور دیکھ لیتا۔“ ورنہ وہ سیدھی اپنے کمرے میں جاتیں اور انسپکٹر جمشید کا پستول اٹھا لاتیں۔ فائر کرنا تو انہیں آتا ہی تھا، لیکن اس صورت میں کہ وہ صحن میں بیٹھا تھا کسی اور کمرے میں جانا ناممکن تھا۔ وہ ہوشیار بیٹھا تھا اور برابر باورچی خانے کی طرف دیکھ رہا تھا۔

انہوں نے باورچی خانے کا جائزہ لیا، جہاں لوہے کے چمچ تھے جنہیں وہ ہتھیار کے طور پر استعمال کر سکتی تھیں لیکن ایک پستول کے مقابلے میں وہ کیا کام دیتے۔ آخر انہوں نے فیصلہ کر لیا کہ وہ عقل سے کام لے کر اس کا مقابلہ کریں گی۔

انہوں نے ناشتا تیار کر لیااور ٹرے میں رکھ کر وہ باہر نکلیں۔ نہ جانے کیوں اب انہیں خوف محسوس نہیں ہو رہا تھا اور وہ دل ہی دل میں مسکرا رہی تھیں۔ ٹرے میز پر رکھتے ہوئے انہوں نے زندہ دلی سے کہا:
”ناشتا تیار ہے، کسی اور چیز کی ضرورت ہو تو بتا دو۔“

”بہت خوب، اب آئی ہو تم سیدھے راستے پر۔ میرا خیال ہے تم نے پہلے ہی کافی کچھ تیار کر دیا ہے، بہرحال اگر ان چیزوں سے میرا پیٹ نہ بھرا تو ضرور بتا دوں گا۔“

”ضرور بتا دینا۔“ انہوں نے مسکرا کر کہا۔ خوف ناک آدمی نے انہیں چند لمحوں کے لیے حیران ہو کر دیکھا اور پھر ناشتے پر اس طرح ٹوٹ پڑا، جیسے کئی دنوں سے ہو، لیکن پہلے ہی لقمے پر اسے ابکائی آگئی۔ ڈبل روٹی کے توسوں میں نمک اور مرچ کوٹ کوٹ کر بھر دیا گیا تھا اور وہ بہت بد ذائقہ تھے۔ اس کی آنکھوں اور ناک سے بھی پانی بہنے لگا۔

”یہ ناشتا ہے؟“ وہ حلق پھاڑ کر چلایا۔
”تو کیا نہیں؟“ بیگم جمشید نے حیرت کا اظہار کیا۔
”ان ڈبل روٹی کے ٹکڑوں میں سوائے نمک اور مرچ کے اور کچھ بھی نہیں ہے۔“
”اوہ۔ شاید مجھ سے غلطی ہو گئی۔“ انہوں نے چونک کر کہا۔
”تم یہ انڈوں کا آملیٹ کھا لو۔ اگر یہ اچھا لگا تو اور بنا دوں گی۔“
”یہ بھی دیکھ لیتا ہوں، لیکن تم میرے غصے کو آواز دے رہی ہو۔“ اس نے غرا کر کہا۔

”نہیں تو، میں نے تو کسی کو بھی آواز نہیں دی۔ جب سے تم آئے ہو، تم سے ہی باتیں کر رہی ہوں۔“ انہوں نے معصومانہ لہجے میں کہا اور انہیں فاروق کا خیال آگیا۔ اس قسم کے جواب وہی دیا کرتا تھا۔ انہوں نے سوچا، وہ تو مزے سے اسکول میں بیٹھے پڑھ رہے ہوں گے اور میں یہاں ایک نئی مصیبت میں پھنس گئی ہوں۔ ایک ایسی مصیبت میں کہ کچھ پلّے نہیں پڑ رہا ہے، کیا کروں، کیا نہ کروں۔ دوسری طرف اجنبی نے آملیٹ چمچ میں لے کر منہ میں ڈالا اور پھر منہ نیچے کر کے آخ تھو آخ تھو کرنے لگا۔ منہ صاف کرنے کے بعد اس نے نگاہیں اوپر اٹھائیں اور گرج کر بولا:
”تو یہ آملیٹ ہے؟“

”اور یہ کسٹرڈ بھی ہے۔“ بیگم جمشید مسکرائیں۔ وہ انڈوں میں بہت ساری پھٹکری ملا لائی تھیں جس کی وجہ سے آملیٹ کڑوا زہر ہو گیا تھا۔
”میں سمجھ گیا، اس میں بھی کچھ ملا ہو گا۔ کیا تم مہمانوں کو ایسا ہی ناشتا دیا کرتی ہو؟“ اس نے جھنجھلا کر کہا۔

”جو مہمان تمہاری طرح میرے گھر میں داخل ہوں، انہیں اس سے بہتر ناشتا نہیں دے سکتی۔“ بیگم جمشید نے بھی بُرا سا منہ بنا کر کہا۔
”لیکن تمہیں یہ نہیں معلوم کہ جو مجھے اس قسم کا ناشتا دے، میں اس کے ساتھ کیا سلوک کرتا ہوں۔“ اس نے بھی مسکرا کر کہا۔ اب اس نے اپنے غصے پر قابو پا لیا تھا۔
”معلوم ہو ہی جائے گا۔ اب آگئے ہو تو خود کو ظاہر کیے بغیر تو جاﺅ گے نہیں۔ ویسے تمہارا نام کیا ہے؟“

یہ سوال انہوں نے اس لیے کیا تھا کہ انہیں بھی تھوڑی بہت جاسوسی کرنی چاہیے۔ کیوں کہ محمود، فاروق اور فرزانہ تو گھر میں تھے نہیں کہ سارا معاملہ ان پر ڈال کر آپ باورچی خانے میں چلی جاتیں۔
”کیوں، تم نے میرا نام کیوں پوچھا؟“ اس نے چونک کر کہا۔
”بس یونہی۔ گھر میں آئے مہمان کا نام پوچھنا کوئی اخلاق سے گری ہوئی بات تو نہیں ہے۔“ انہوں نے تنک کر کہا۔
”بداخلاقی کی ابتدا بھی تو تمہاری طرف سے شروع ہوئی ہے۔“
”اچھا جاﺅ۔ دوسرا ناشتا تیار کر کے لاﺅ، لیکن اس مرتبہ ناشتا خوش ذائقہ ہونا چاہیے۔ ورنہ مجھ سے بُرا کوئی نہ ہو گا۔“
”پہلے ہی کب ہے؟“ بیگم جمشید نے تلملا کر کہا۔
”تم ناشتا تیار کر نے کے لیے جاتی ہو یا نہیں؟“ اس نے پھر کہا۔
”تم نے ابھی تک بتایا نہیں کہ یہاں کس لیے آئے ہو، کیا چاہتے ہو اور تمہارا نام کیا ہے؟“
”میں کوئی تمہارا ملازم تو ہوں نہیں کہ تمہاری ہر بات کا جواب دینے پر مجبور ہوں۔ جاﺅ، ناشتا لاﺅ۔“

”افسوس! تمہیں اسی ناشتے سے پیٹ بھرنا ہو گا۔“ بیگم جمشید بولیں۔
”کیا مطلب؟“
”باورچی خانے میں اب کچھ نہیں بچا۔“
”تم جھوٹ کہتی ہو۔“ اس نے غرا کر کہا۔
”چل کر دیکھ لو۔“ یہ کہتے وقت وہ مسکرائیں۔
”چلو۔“ وہ اٹھ کھڑا ہوا۔

دونوں آگے پیچھے چلتے باورچی خانے میں آئے اور پھر وہ خوف ناک آدمی چونک اُٹھا۔ انڈے فرش پر گرا کر توڑ دیے گئے تھے۔ ڈبل روٹی پانی میں بھگو دی گئی تھی۔ مربے اور چٹنی کے خالی جار بھی منہ چڑا رہے تھے۔ آٹے کے ڈرم کا ڈھکنا الگ پڑا تھا۔ اجنبی نے اس میں جھانک کر دیکھا۔ آٹے میں بھی کچھ ڈال دیا گیا تھا۔ چینی کے ڈبے میں نمک اور مرچ بھی شامل کیے جا چکے تھے۔ غرض ایک چیز بھی ایسی نہیں تھی جس سے وہ ناشتا یا ناشتے کی قسم کی کوئی چیز تیار کی جا سکتی۔

٭….٭….٭

”یہ تم نے کیا کیا؟“ خوف ناک آدمی حلق پھاڑ کر بولا۔ وہ انہیں کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔

”ناشتے کا سارا سامان برباد کر دیا۔ اب مجھے سو دو سو روپے خرچ کرنے پڑیں گے۔“ بیگم جمشید نے افسوس بھرے لہجے میں کہا۔ نہ جانے کیا بات تھی۔ اب انہیں اس سے ڈر نہیں لگ رہا تھا۔ حالاں کہ وہ پہلے سے زیادہ غصے میں تھا۔
”اب میں کیا کھاﺅں گا، میں بہت بھوکا ہوں۔“ وہ گلا پھاڑ کر بولا۔
”تمہیں اپنے گھر سے ناشتا کر کے آنا چاہیے تھا۔ کسی کے گھر بن بلائے جائیں تو کھا پی کر جانا چاہیے۔“
”خاموش، تمہاری آواز مجھے زہر لگ رہی ہے۔“ وہ چلا اُٹھا۔
”میرا بھی یہی حال ہے۔ کانوں میں درد ہونے لگا ہے۔ تمہاری بھدّی آواز سُن سُن کر۔“ بیگم جمشید نے بھی ترکی بہ ترکی جواب دیا۔
”میں تمہارا گلا گھونٹ دوں گا۔ خون پی جاﺅں گا۔“ اس کی آنکھیں سرخ ہو گئیں۔
”کیا آدم خور ہو؟“ بیگم جمشید نے گھبراہٹ کا مظاہرہ کیا۔

”اچھا، تم یوں نہیں مانو گی۔“ یہ کہہ کر وہ آگے بڑھا اور بیگم جمشید کے بال مٹھی میں پکڑ کر ایک جھٹکا مارا۔ ان کے منہ سے تکلیف کی وجہ سے چیخ نکل گئی۔
”بولو، میرے لیے ناشتا تیار کرو گی یا نہیں؟“

”اگر تم کہو تو میں باورچی خانے میں موجود چیزوں سے ناشتا بنا دوں۔ انہوں نے اب ڈرے بغیر کہا۔“ ویسے اگر تم اندر آنے کے بعد شرافت کا ثبوت دیتے تو میں کبھی کا تمہیں ناشتا کرا چکی ہوتی، لیکن تم نے تو اتنا تک نہیں بتایا کہ کون ہو، کہاں سے آئے ہو، کیوں آئے ہو، چاہتے کیا ہو؟ مزے کی بات یہ کہ میرے گھر کا فرش برباد کر دیا۔ کیا تم دیکھ کر نہیں چلتے؟“

”کیا مطلب؟“اس نے پھاڑ کھانے والے لہجے میں کہا۔
”تمہارا ایک جوتا کیچڑ میں بھرا ہوا ہے۔ اس سے میرے گھر کا فرش گندا ہو گیا ہے۔ بھلا میں ایسے آدمی کو ناشتا دے سکتی ہوں؟“ بیگم جمشید کا منہ بن گیا۔
”اگر ناشتا نہیں دو گی تو پچھتاﺅ گی۔“ اس نے سرد آواز میں کہا۔
”اچھا، پچھتا لوں گی۔“ بیگم جمشید نے مایوسانہ لہجے میں کہا اور چیخ اٹھیں۔ اُس نے ان کے بالوں کو ایک اور جھٹکا دیا۔ ان کے منہ سے پھر چیخ نکلی۔
”میں کرتا ہوں تمہارا بندوبست۔ اس کمرے میں چلو جس میں تم سوتے ہو۔“

”کیوں، وہاں کیا کام ہے۔ کیا چارپائیاں چرا کر لے جانا چاہتے ہو؟“ انہوں نے پوچھا۔
”بے وقوف عورت، میں چور نہیں ہوں۔“
”تو پھر کیا ہو؟“ وہ ایک دم بولیں۔
”جانے سے پہلے تمہیں ضرور بتا کر جاﺅں گا۔“
”کب جا رہے ہو تم؟“ انہوں نے پوچھا۔
”فکر نہ کرو۔ دو چار دن یہاں نہیں ٹھہروں گا۔“
”مجھے تو تم کوئی مفرور مجرم معلوم ہوتے ہو۔ سچ کہو۔ تم جیل سے فرار ہو کر آئے ہو نا۔“

”جیل؟ میں نے آج تک جیل کا منہ نہیں دیکھا۔ نہ جانے جیل کیسی ہوتی ہے۔“ اس نے پُرغرور لہجے میں کہا۔

”اگر کچھ دیر ٹھہرے رہے تو شاید ہم تمہیں دکھا دیں، جیل کیسی ہوتی ہے۔“

”میں کہہ چکا ہوں کہ اس گھر اور گھر کے رہنے والوں کے بارے میں سب کچھ جانتا ہوں۔ اسی لیے تو تمہارے دروازہ بند کرنے سے پہلے میں گھر کے اندر موجود تھا۔“

”وہ تو میں سمجھ چکی ہوں، محمود فاروق اور فرزانہ کے جاتے ہی تم اندر آگئے ہو گے۔ جب میں باورچی خانے سے نکلی تو تم میز کے نیچے دب گئے ہو گے تاکہ میں دروازہ بند کر دوں۔“

”ہوں، یہی بات ہے، لیکن تمہیں اس سے کوئی فائدہ تو پہنچنے سے رہا۔ میں نے تم سے کہا تھا کہ چارپائیوں والے کمرے میں چلو۔“

”چلو۔“ بیگم جمشید نے بے بسی کے عالم میں کہا۔

وہ انہیں لے کر سونے والے کمرے میں آئیں۔ ان کے بال ابھی اس کی مٹھی میں تھے۔ بال اسی طرح پکڑے پکڑے اس نے اپنی جیب سے چاقو نکالا اور ایک چارپائی کی رسی کاٹ کر اسے چارپائی سے الگ کیا۔

”کیا مجھے باندھنے کا ارادہ ہے؟“ انہوں نے پوچھا۔
”ہاں، تمہیں باندھ کر اطمینان سے اپنا کام کروں گا۔“
”یعنی ناشتا تیار کرو گے؟“ بیگم جمشید نے حیران ہو کر پوچھا۔
”اگر کچھ ملا تو ناشتا بھی تیار کروں گا، ورنہ باہر سے کچھ لے آﺅں میں بھوکا ننگا نہیں ہوں۔“

”تو شکل سے ہی نظر آتے ہو۔“

یہ کہتے ہوئے انہوں نے اچانک اپنے بالوں کو جھٹکا۔ خوف ناک آدمی بے دھیان تھا۔ بال اس کے ہاتھ سے پھسل گئے۔ جھٹکے کے ساتھ ہی بیگم جمشید سرہانے والی میز تک پہنچ گئیں۔ دوسرے ہی لمحے وہ ایک دراز کھینچ کر اس میں سے پستول نکال چکی تھیں۔

”تم جانتے ہو کہ یہ گھر کس کا ہے، اس لیے یہ بھی جانتے ہو گے کہ اس گھر کا ہر فرد پستول چلانا خوب جانتا ہے۔ اس لیے اپنی جگہ سے حرکت نہ کرنا۔ پہلا کام یہ کرو کہ چارپائی کی رسی دوبارہ کس دو تاکہ تمہارے جیل جانے کے بعد مجھے تکلیف نہ ہو۔“ وہ مسکراتے ہوئے کہہ رہی تھیں۔

٭….٭….٭

”آج نہ جانے کیا بات ہے، اسکول میں دل نہیں لگ رہا۔“ فاروق نے ایک خالی پیریڈ میں کہا۔
”میرا بھی حال کچھ ایسا ہی ہے۔“ محمود بولا۔
”خدا جانے، ہو سکتا ہے کوئی بات بھی نہ ہو اور ہمیں یونہی محسوس ہو رہا ہو، جیسے کوئی بات ہے۔“

”یہ بھی تو ہو سکتا ہے کوئی بات ہی ہو اور ہمارے محسوسات ٹھیک ہوں۔“
”تو پھر، کیا گھر چلیں؟“ محمود نے پوچھا۔
”میرا تو یہی جی چاہتا ہے۔“ فاروق بولا۔
”تو پھر لکھو درخواست۔“

اور ان دونوں نے چھٹی کی درخواست لکھ ماری۔ درخواست مانیٹر کے حوالے کی اور اسکول سے باہر نکل آئے۔ وہ کبھی مشکل سے ہی اسکول سے چھٹی کرتے تھے۔ یوں بھی تمام بچوں میں پڑھائی میں آگے تھے۔ اس لیے مانیٹر جانتا تھا، کلاس کے انچارج کوئی اعتراض نہیں کریں گے۔
”کیا خیال ہے، فرزانہ کو بھی ساتھ لے لیں۔“ محمود نے پوچھا۔
”وہ اسکول سے گھر جانا پسند نہیں کرے گی۔“ فاروق نے انکار میں سرہلایا۔
”ہو سکتا ہے، اس کا دل بھی نہ لگ رہا ہو۔“ محمود مسکرایا۔

”آج ہم پر ”ہو سکتا ہے“ کا دورہ تو نہیں پڑ گیا۔“ فاروق نے بھی ہنس کر کہا، لیکن اس کی ہنسی میں وہ جانینہیں تھی۔

”ایسا ہی لگتا ہے۔ میرا خیال ہے، ہم فرزانہ سے پوچھ لیتے ہیں۔ اگر اس نے ساتھ چلنا پسند کیا تو اسے بھی ساتھ لے لیں گے، ورنہ ہم دونوں ہی چلیں گے۔“

”ٹھیک ہے، لیکن شام کو جب ابا جان چھٹی کرنے کی وجہ پوچھیں گے تو کیا جواب دیں گے؟“

”جو بات ہے، وہی بتائیں گے۔ صاف صاف کہہ دیں گے کہ اسکول میں دل نہیں لگ رہا تھا۔ دھیان اِدھر اُدھر جا رہا تھا۔“

”تو پھر چلو، پہلے فرزانہ سے پوچھیں۔“

فرزانہ کا اسکول زیادہ فاصلے پر نہیں تھا۔ وہ جلد ہی وہاں پہنچ گئے۔ لڑکیوں کے اسکول میں لڑکوں کا داخلہ بند تھا، اس لیے انہوں نے چوکیدار کے ذریعے فرزانہ کو دروازے پر بلوایا۔ فرزانہ دروازے پر آئی تو دونوں اسے دیکھ کر بہت حیران ہوئے۔ اس کے بال بکھرے ہوئے تھے۔ آنکھوں میں بے چینی تھی۔ بس یوں لگتا تھا۔ جیسے اب روئی کہ اب روئی۔

”خیر تو ہے فرزانہ، کیا سہیلی سے لڑائی ہو گئی ہے؟“ فاروق نے گھبرا کر کہا۔

”نہیں تو۔“ اس کے منہ سے نکلا۔
”پھر کیا بات ہے، تم بہت پریشان دکھائی دے رہی ہو؟“
”ہاں! نہ جانے کیا بات ہے۔ میرا دل بیٹھا جا رہا ہے۔“
”یا اللہ رحم۔“ محمود بولا۔
”تم کیسے آئے؟“
”ہمارے بھی دل بیٹھے جا رہے تھے۔“ فاروق نے مسکرا کر کہا۔
”اوہ۔ تو ہم تینوں کی ایک ہی حالت ہے۔“ فرزانہ نے چونک کر کہا۔

”ہاں! ہم تو اسکول سے چھٹی لے آئے ہیں اور گھر جا رہے ہیں۔ تمہارا کیا خیال ہے، پڑھنا پسند کرو گی یا ہمارے ساتھ چلنا؟“ محمود نے پوچھا۔
”میں بھی تمہارے ساتھ چلوں گی۔ اسکول تو آج مجھے کاٹ کھانے کو دوڑ رہا ہے۔“
”تو پھر جلدی سے چھٹی لے آﺅ۔ نہ جانے آج کیا بات ہے۔“
”میں ابھی آئی۔“

چند منٹ بعد تینوں گھر کی طرف تیز تیز قدم اٹھا رہے تھے۔ پھر جونہی وہ گھر کے دروازے پر پہنچے، ان کے کانوں سے ایک گھٹی چیخ کی آواز ٹکرائی۔ وہ دھک سے رہ گئے۔ یہ چیخ ان کی ماں کے حلق سے نکلی تھی۔

٭….٭….٭


”بہت خوب، تم تو بہت دلیر عورت ہو۔ میں سمجھا تھا، بزدل ہو گی۔“ خوف ناک آدمی نے حیران ہو کر کہا۔ اس کی نظریں بیگم جمشید کے ہاتھ میں پکڑے پستول پر جمی ہوئی تھیں۔
”تم نے میرے حکم کی تعمیل نہیں کی۔ میں نے کہا ہے، چارپائی کی رسی دوبارہ کس دو۔“

”اچھا، ابھی کستا ہوں۔“

اس نے کہا اور رسی ہاتھ میں پکڑ کر چارپائی پر جھک گیا، لیکن پھر نہ جانے اچانک اس نے کیا کیا کہ رسی سیدھی بیگم جمشید کے دائیں ہاتھ کی طرف آئی اور پستول کے گرد لپٹتی چلی گئی۔ ساتھ ہی رسی کو جھٹکا دیا گیا اور پستول بیگم جمشید کے ہاتھ سے نکلتا ہوا خوف ناک آدمی کے ہاتھ میں آگیا۔ بیگم جمشید بھونچکی رہ گئیں۔ ان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ یہ شخص اس قدر تیزطرار اور پکا نشانے باز بھی ہو سکتا ہے۔ ورنہ ہوشیار ہو جاتیں۔

”میں یہاں یونہی نہیں چلا آیا، کچھ سوچ سمجھ کر ہی مجھے بھیجا گیا ہے۔“
”بھیجا گیا ہے۔ کیا مطلب؟“ ان کے منہ سے نکلا۔
”مطلب بتانے کا میں قائل نہیں۔ تم بتاﺅ، اب کیا کہتی ہو؟“
”کچھ بھی ہو، تمہیں ناشتا نہیں ملے گا۔“

”ٹھیک ہے۔ دیوار کی طرف منہ کر کے اپنے ہاتھ کمر پر لے آﺅ۔ میں تمہیں باندھ کر بازارسے کچھ کھانے کے لیے لے آﺅں گا۔“ اس نے کہا۔

”آخر تم چاہتے کیا ہو، کیا تمہارا یہیں رہنے کا ارادہ ہے؟“
”کم از کم اس وقت تک جب تک تمہارے تینوں بچے گھر نہیں آجاتے۔“
”کیا مطلب، تم ان سے کیا چاہتے ہو؟“ بیگم جمشید نے بوکھلا کر پوچھا۔

”اصل کام تو انہی سے ہے۔“ وہ خوف ناک انداز میں مسکرایا اور وہ کانپ اٹھیں۔ انہوں نے دل ہی دل میں دُعا کی کہ یا خدا، آج محمود، فاروق اور فرزانہ لیٹ ہو جائیں، بہت دیر سے گھر آئیں۔

”کیا کام ہے ان سے؟“ انہوں نے ہمت ہارنا کب سیکھا تھا۔
”یہ میں انہی کو بتاﺅں گا۔“

یہ کہہ کر وہ آگے بڑھا اور چارپائی کی رسی سے بیگم جمشید کے ہاتھ باندھنے لگا۔ اس نے ہاتھ باندھنے پر ہی بس نہیں کی، ہاتھوں کے بعد پیر باندھے، پھر ان کے منہ میں ایک رومال ٹھونسا اور اوپر ایک اور رومال باندھ دیا۔ اب بیگم جمشید کمرے کے فرش پر بندھی پڑی تھیں۔ اس طرح کہ منہ سے ہلکی سی آواز بھی نہیں نکال سکتی تھیں۔ اس کام سے فارغ ہو کر وہ کمرے سے باہر نکلا اور دروازہ بند کر کے باہر سے چٹخنی لگا دی۔ مطمئن انداز میں مسکرایا اور باہر کی طرف قدم اٹھانے لگا۔ اچانک اسے یاد آیا، میں نے اپنا پستول تو میز پر ہی چھوڑ دیا تھا۔ میز سے پستول اٹھا کر اس نے دوسری جیب میں رکھا کیوں کہ ایک جیب میں تو پہلے ہی انسپکٹر جمشید والا پستول موجود تھا۔ ایک بار پھر وہ دروازے کی طرف بڑھ رہا تھا کہ ٹھٹک کر رُک گیا۔ اس کی آنکھوں میں حیرت سمٹ آئی، کیوں کہ عین اسی وقت دروازے کی گھنٹی بجی تھی جب کہ اسے معلوم تھا کہ دو بجے سے پہلے کسی کے آنے کا امکان نہیں ہے۔ چند لمحے تک وہ کھڑا سوچتا رہا۔ پھر دبے پاﺅں دروازے کی طرف بڑھنے لگا۔

٭….٭….٭

”یا اللہ رحم۔“ محمود نے خوف زدہ لہجے میں کہا۔
”اندر تو کوئی گڑبڑ ہے۔“ فاروق بولا۔
”کہیں امی ریڈیو پر کوئی ڈراما تو نہیں سُن رہی ہیں۔“ فرزانہ نے سوچتے ہوئے کہا۔“ اور یہ گھٹی گھٹی چیخ اس ڈرامے میں شامل ہو۔“

”لیکن آواز امی جان کی تھی۔“ محمود نے اعتراض کیا۔
”ہاں! اس میں کوئی شک نہیں کہ چیخ امی جان کی تھی۔“ فاروق نے کہا۔
”پھر اب کیا کریں، دروازہ تو اندر سے بند ہے۔“
”ہم گھنٹی بجانے کے سوا کر بھی کیا سکتے ہیں؟“

”کیوں نہ پہلے پائیں باغ والی کھڑکی کا جائزہ لے لیں۔ اگر وہ کھلی ہوئی ملی تو ہم گھنٹی بجائے بغیر بھی اندر داخل ہو سکیں گے۔“ فرزانہ نے تجویز پیش کی۔

”لیکن ہم صبح کھڑکی اندر سے بند کر کے اسکول گئے تھے۔“ فاروق بولا۔
”اس وقت گھر کے حالات بدلے ہوئے ہیں، اندر نہ جانے کون ہے۔ ہو سکتا ہے، بدلے ہوئے حالات کے تحت کھڑکی کھلی ہوئی ہو۔“ محمود نے خیال پیش کیا۔
”تو پھر آﺅ، وقت کیوں ضائع کرتے ہو۔“ فاروق گھبرا کر بولا۔

اور وہ تیزی سے کھڑکی کی طرف بڑھے۔ اُسے دھکیلا، تو پتا چلا کہ وہ تو اندر سے بند تھی۔
”اب ہمیں گھنٹی ہی بجانا ہو گی۔“ محمود بولا۔
”میرے ذہن میں ایک ترکیب آئی ہے۔“ فرزانہ بولی۔
”جلدی بتاﺅ۔“

”تم دونوں گھنٹی بجا کر اندر جاﺅ، میں ابا جان کو فون کر کے اندر آنے کی کوشش کروں گی۔ اس طرح انہیں بھی اطلاع مل جائے گی۔“
”بہت اچھے۔ یہ بالکل ٹھیک رہے گا۔“ محمود نے خوش ہو کر کہا۔
تینوں پائیں باغ سے باہر نکلے۔ محمود اور فاروق دروازے پر رُک گئے اور فرزانہ آگے بڑھتی چلی گئی۔

محمود نے گھنٹی کے بٹن پر انگلی رکھی اور دباﺅ ڈال دیا۔ اندر گھنٹی زور سے بجی اور بجتی چلی گئی۔ پھر دونوں انتظار کرنے لگے۔ یہ لمحے ان کے لیے بہت مشکل سے گزر رہے تھے۔ وہ چاہتے تھے، دروازہ فوراً کھل جائے، پھر چاہے انہیں آگ میں کودنا پڑے۔ وہ اپنی امی کو بچانے کے لیے کود جائیں گے۔ ابھی تک انہیں قدموں کی آہٹ بھی سنائی نہیں دی تھی۔

”کوئی دروازہ کھولنے کے لیے نہیں آیا۔ اب ہم کیا کریں؟ “ محمود نے پریشان ہو کر کہا۔
”اندر کوئی لمبا چکر چل رہا ہے۔ یا اللہ، یہ ہمارے جاتے ہی کیا شروع ہو گیا؟“ فاروق بولا۔

”کیوں نہ ہم دروازہ توڑنے کی کوشش کریں۔ اس طرح محلے کے لوگ بھی تو ہماری مدد کے لیے آجائیں گے۔“ محمود نے مشورہ دیا۔
”جب تک یہ نہ معلوم ہو جائے کہ اندر کیا چکر ہے اور کیا حالات ہیں، اس وقت تک ہم کسی سے مدد نہیں مانگ سکتے۔ ہو سکتا ہے، مدد الٹی نقصان دہ ثابت ہو۔“ فاروق نے کہا۔

”ہوں، یہ بھی ٹھیک ہے۔ اوہ خاموش میرا خیال ہے، کوئی دروازے کی طرف دبے پاﺅں آرہا ہے۔“ محمود نے چونک کر دبی آواز میں کہا۔
”یہی بات ہے، لیکن ہم کوئی حرکت نہیں کریں گے۔ دروازے پر آرام سے کھڑے رہیں گے۔ ہمارا پہلا مقصد اندر جا کر حالات کا جائزہ لینا ہو گا تاکہ معلوم ہو سکے امی کس حال میں ہیں؟“

”ٹھیک کہتے ہو۔“ محمود نے فکرمند ہو کر کہا۔

اسی وقت چٹخنی گرنے کی آواز آئی۔ دونوں نے چہروں پر مسکراہٹ طاری کر لی۔ جونہی دروازہ کھلا دونوں ایک ساتھ بولے۔

”السلام علیکم امی جان!“ وہ جان بوجھ کر رُک گئے۔ جانتے تھے کہ دروازہ کھولنے والی ان کی والدہ نہیں ہو سکتیں۔
پھر ان کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ ان کے سامنے ایک خوف ناک آدمی کھڑا تھا جو انہیں بری طرح گھور رہا تھا۔

”کون ہو تم؟“ اس نے پوچھا۔

”ارے، یہ ہمارا گھر ہے۔ تم کون ہوتے ہو پوچھنے والے؟“ فاروق نے بُرا سا منہ بنا کر کہا۔
”اوہ، تو یہ تم ہو، مگر تم اسکول سے اتنی جلدی کیوں آگئے؟“ اس نے حیران ہو کر کہا۔
”ہماری مرضی، تم کون ہوتے ہو پوچھنے والے۔“
”ٹھیک ہے، اندر آجاﺅ۔“

”لیکن تم کون ہو اور ہمارے گھر میں کیا کر رہے ہو؟“
”میں تمہارے سوالات کے جوابات دینے کا پابند نہیں، چلو اندر۔“
یہ کہتے ہوئے، اس نے جیب سے پستول نکال لیا۔ انہوں نے دیکھا، پستول ان کے والد کا تھا۔

”اب تو اندر چلنا ہی پڑے گا، کیوں محمود۔“ فاروق نے شریر لہجے میں کہا۔
”ہاں! مجبوری ہے۔“ محمود نے کندھے اچکائے۔

دونوں اس کے آگے چلتے ہوئے صحن کی طرف بڑھے۔ خوف ناک آدمی دروازہ اندر سے بند کرنا نہیں بھولا تھا۔ کھانے کی میز کے پاس فرش پر انہیں تھوکا ہوا کچھ کھانا نظر آیا۔ وہ حیران رہ گئے۔ خوف ناک آدمی انہیں بھی سونے والے کمرے میں لے آیا۔

انہوں نے دیکھا، ان کی والدہ رسیوں سے جکڑی فرش پر پڑی ہیں۔ ان کے منہ پر بھی رومال بندھا تھا۔ وہ دنگ رہ گئے۔ ساتھ ہی ان کا رواں رواں سُلگ اٹھا، خون جوش مارنے لگا اور آنکھوں میں شعلے بھڑک اٹھے۔

”بدتمیز، پاگل، ہم تمہیں اس حرکت کا مزہ چکھائیں گے۔“ محمود نے پاگلوں کی طرح گلا پھاڑ کر کہا۔

”لیکن یہ نہ بھولنا کہ میرے ہاتھ میں تمہارے باپ کا پستول ہے اور میرا نشانہ تمہارے والد سے بھی زیادہ پختہ ہے۔“ اس نے بدستور مسکراتے ہوئے کہا۔

”کچھ بھی ہو، ہم تمہیں تگنی کا ناچ نچا کر رہیں گے۔“
”تم دونوں بے وقوف ہو، مجھے یہاں کچھ سوچ سمجھ کر ہی بھیجا گیا ہے۔“ اس نے کہا۔

”تم کون ہو اور یہاں کس لیے آئے ہو؟“ فاروق نے خود پر قابو پاتے ہوئے کہا۔

”یہ سوال تمہاری والدہ نے بھی کیا تھا۔“ اس نے جواب دیا۔
”تمہاری بہتری اسی میں ہے کہ پہلی فرصت میں ہماری والدہ کو کھول دو ورنہ تمہارا انجام اتنا بھیانک ہو گا کہ زندگی بھر پچھتاﺅ گے۔“
عین اسی وقت گھنٹی ایک بار پھر بجی۔ وہ چونک اٹھے۔ محمود اور فاروق نے سوچا، یہ ضرور فرزانہ ہو گی، جو فون کر آئی ہو گی۔

Reactions