موت کا جزیرہ - آخری حصہ

urdu font stories online 4

ماسٹر، اگر میں زندہ رہا اور تندرست ہو گیا، تو تم سے اس بدعہدی کا انتقام ضرور لوں گا۔“ جیرال بولے بغیر نہ رہ سکا۔

جارج نے جب یہ دیکھا کہ وہ بولے بغیر نہیں رہ سکتا تو پستول کا دستہ اس کے سر پر دے مارا۔ انہوں نے دیکھا جیرال بے ہوش ہو گیا اور زمین پر گر گیا تھا۔
”تم نے بہت اچھا کیا جارج، یہ یوں خاموش رہنے والا نہیں تھا۔ ماسٹر نے کہا، پھر اپنے دونوں ساتھیوں سے بولا۔
”اب ان لوگوں کے متعلق کیا خیال ہے؟“
”ہم ساحل سے بہت دور ہیں۔ فائر کی آوازیں شاید ہی ساحل تک جا سکیں گی۔ اس لیے انہیں ختم کرنا ہی مناسب رہے گا۔“ ایک غیرملکی نے مشورہ دیا۔

”ہارڈی ٹھیک کہتا ہے۔“ تیسرا بولا۔
”جارج! تم کیا کہتے ہو؟“ اس نے جارج سے پوچھا۔

”اب یہ لوگ ہمارے ہتھے چڑھ ہی گئے ہیں تو پھر انہیں چھوڑا کیوں جائے۔ زندہ لے جانے کی صورت میں اور بھی خطرات ہیں۔ اس لیے ختم کرنا ہی مناسب رہے گا۔“ جارج بولا۔

”میرا ووٹ بھی تمہاری طرف ہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم چاروں کی ایک ہی رائے ہے اور وہ یہ کہ دشمنوں کو زندہ نہ چھوڑا جائے۔ ویسے بھی ان کی وجہ سے ہمارے ملک کے بہت سے جاسوس گرفتار ہوئے ہیں اور ہمیں زبردست نقصان پہنچایا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جیرال کا کیا کیا جائے؟“ ماسٹر نے یہ کہہ کر اپنے تینوں ساتھیوں کو دیکھا۔

”گریگری سے پوچھو، یہ زیادہ صحیح مشورہ دے گا۔“ جارج نے چوتھے آدمی کی طرف اشارہ کر کے کہا۔

”میرا تو خیال ہے، جیرال کو ہم زندہ چھوڑ جائیں اور جاتے ہوئے ایک سٹین گن بھی اس کے ہاتھوں میں چھوڑ جائیں تاکہ جب انسپکٹر جمشید اور اس کے ساتھیوں کو تلاش کرتے ہوئے پولیس یا محکمہ سراغرسانی کے لوگ یہاں پہنچیں تو یہی خیال کیا جائے کہ جیرال نے ان سب کو مار ڈالا۔“

”بہت خوب، بہت اچھی ترکیب ہے۔ جواب نہیں۔“ ماسٹر نے خوشی کا اظہار کیا۔
”ٹھیک ہے۔ اب ہمیں دیر نہیں کرنی چاہیے۔“
ماسٹر! مجھے افسوس ہے، تم اپنے اس پلان پر عمل نہیں کر سکو گے۔“ اچانک انہیں انسپکٹر جمشید کی آواز سنائی دی۔

وہ چونک اٹھے۔ انہوں نے دیکھا، ان کی غفلت سے فائدہ اٹھا کر انسپکٹر جمشید نے اپنا پستول جیب سے نکال لیا تھا۔ شاید درختوں پر موجود سٹین گنوں والے بھی ان کی طرف سے بے فکر تھے۔ ان کا خیال ہو گا کہ چار سٹین گنوں اور ایک پستول کی موجودگی میں انسپکٹر جمشید پستول نکالنے کی جرا¿ت نہیں کریں گے۔ لیکن وہ تو میدان کے بیچوں بیچ پستول تانے کھڑے تھے اور ان کے پستول کا رخ ماسٹر کی طرف تھا۔

”یہ کیا بات ہوئی؟“ ماسٹر نے مذاق اڑانے والے لہجے میں کہا۔
”بھلا تم ایک پستول سے کیا کر سکو گے۔“

”تم مجھے نہیں جانتے ماسٹر، لیکن جیرال مجھ سے اچھی طرح واقف تھا۔ اس نے بہادری کا ثبوت دیا اور میں نے بھی اس سے کوئی دھوکا یا چالاکی کرنے کی کوشش نہیں کی، اب تم نے دھوکا دیا ہے تو میں نے بھی دھوکے سے یہ پستول نکال لیا ہے۔ باقی رہی یہ بات کہ میں ایک پستول سے کیا کر سکتا ہوں، اس کا نمونہ میں تمہیں دکھاتا ہوں۔

ان الفاظ کے ساتھ ہی وہ ایک پیر پر تیزی سے گھوم گئے۔ ساتھ ہی ان کے پستول سے چار گولیاں نکلیں۔ چکر پورا کرتے ہی پانچویں گولی ماسٹر کے ہاتھ پر لگی۔ اس کے ہاتھ سے پستول چھوٹ کر دور جا گرا۔ فوراً ہی فضا چیخوں سے لرز اٹھی۔ درختوں پر سے سٹین گنوں والے دھم دھم کر کے گرنے لگے۔ وہ چاروں اس دنیا سے رخصت ہو چکے تھے اور یہ سب کچھ صرف چند سیکنڈوں کے اندر اندر ہو گیا۔

ماسٹر اور اس کے ساتھیوں کے ہوش اڑ گئے۔ انہوں نے ایسا منظر شاید اپنی ساری زندگی میں نہیں دیکھا تھا۔ ماسٹر کے ہاتھ سے خون ٹپ ٹپ گرنے لگا، لیکن کسی نے اپنی جگہ سے جنبش نہ کی۔ بتوں کے مانند کھڑے کے کھڑے رہ گئے۔

”اکرام!“ ان کی سٹین گنیں اور پستول سمیٹ کر ایک طرف ڈھیر کر دو اور انہیں باندھ لو۔“

”بہت بہتر جناب۔“ اکرام نے خوش ہو کر کہا۔ اس کے چہرے پر زندگی دوڑ گئی تھی۔
اس نے جلدی جلدی سٹین گنیں اور اکٹھے کیے اور انسپکٹر جمشید کے نزدیک ایک درخت کے نیچے رکھے پھر جیب سے ریشم کی ڈوری نکال کر انہیں باندھنے لگا۔
”اگر کسی نے حرکت کرنے کی کوشش کی تو گولی اس کے سر کے پار ہو گی۔“

انسپکٹر جمشید نے انہیں دھمکی دی۔ لیکن شاید ان میں سے کسی میں حرکت کرنے کی ہمت ہی نہیں رہی تھی۔ صرف چند منٹ میں اکرام نے انہیں باندھ ڈالا۔ اس نے نہ صرف ان کے ہاتھ پشت کی طرف باندھے تھے بلکہ ان کے پیر بھی باندھ دیے تھے۔ انسپکٹر جمشید نے پستول جیب میں رکھ لیا۔

”اب تم جا کر موٹربوٹ والے بوڑھے آدمی کو بلا لاﺅ تاکہ ہم اس کی مدد سے یہ سارا سامان موٹربوٹ پر لاد سکیں۔ “ انہوں نے ماسٹر، اس کے ساتھیوں اور اسلحے کی طرف اشارہ کر کے کہا۔
”بہت بہتر جناب۔“ اکرام نے کہا اور ساحل کی طرف چلنے کے لیے قدم اٹھائے ہی تھے کہ آواز آئی:
”میں آگیا ہوں۔ اور کافی دیر سے یہ سارا کھیل دیکھ رہا ہوں۔“
انہوں نے مڑ کر دیکھا، بوڑھا ایک درخت کے پیچھے سے نکل کر ان کی طرف آرہا تھا۔ یہ دیکھ کر وہ حیران ہوئے بغیر نہ رہ سکے کہ اس کے ہاتھ میں بھی ایک پستول تھا۔
٭….٭….٭
وہ اس کے ہاتھ میں پکڑے پستول کا مطلب نہ سمجھ سکے۔ نہ صرف انسپکٹر جمشید اور ان کے ساتھی بلکہ ماسٹر اور اس کے ساتھی بھی بوڑھے کو حیرت بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ اتنی دیر میں وہ نزدیک آچکا تھا۔ اس نے کہا:

”میں پہلے ہی جانتا تھا، نالائق گدھو۔ کہ تم اسے گرفتار نہیں کر سکو گے۔“

”کیا مطلب؟ کون ہو تم؟“ ماسٹر نے پھنکار کر کہا۔

”الّو کے پٹھے، میں ہوں تمہارا باپ۔“ ان الفاظ کے ساتھ ہی بوڑھے نے اپنی ڈاڑھی اتار پھینکی۔ اب ان کے سامنے ایک نوجوان آدمی کھڑا تھا۔ جس کی نیلی آنکھیں انہیں گھور رہی تھیں۔ اس پر نظر پڑتے ہی ماسٹر اور اس کے ساتھی تھر تھر کانپنے لگے۔ انسپکٹر جمشید کی آنکھوں میں بھی حیرت تھی۔

”آ۔ آپ۔ آپ۔“ماسٹر ہکلایا۔

”ہاں! گدھے یہ میں ہوں۔ اس منصوبے کی منظوری دیتے وقت بھی میں نے تم سے کہا تھا، تم کامیاب نہیں ہو سکے گے، مگر تم نہ مانے۔ تم نے کہا۔ جیرال کا بنایا ہوا منصوبہ ناکام نہیں ہو سکتا۔ اب دیکھ لو، وہ پڑا ہے جیرال اور تم اپنے چار ساتھی بھی گنوا بیٹھے۔ میں نہ آجاتا، تو تمہارا حشر بھی بُرا ہوتا۔“

وہ سب غیرملکی تھے مگر انہیں صاف اُردو بولتے دیکھ کر انہیں حیرت ہو رہی تھی۔ اچانک انسپکٹر جمشید چونک اٹھے۔ فرزانہ جس درخت کے پاس کھڑی تھی، اسی پر چڑھ رہی تھی۔ اس طرح کہ وہ درخت کے دوسری طرف ہو گئی تھی۔ انہوں نے ایک دم نظریں اِدھر سے ہٹا لیں کہ کہیں نئے آنے والے کی نظر نہ پڑ جائے۔

”میرے آقا، ہمیں معاف کر دیں۔“ ماسٹر نے روتی صورت بناتے ہوئے کہا۔

”یہ تو بعد میں دیکھا جائے گا۔ پہلے تمہیں کھول تو دوں، لیکن نہیں یہ کام تو میں انسپکٹر جمشید سے بھی لے سکتا ہوں۔ انسپکٹر مجھ سے ملو۔ میں ہوں اپنے ملک کے محکمہ سراغرسانی کا سربراہ۔ مجھے ڈاکٹر فاران کہتے ہیں۔ اب مہربانی فرما کر میرے ساتھیوں کو کھول دو۔“

”لیکن تمہیں موٹربوٹ کہاں سے مل گئی؟“ انسپکٹر جمشید نے حیران ہو کر پوچھا۔

”میں نے پورے دن کے لیے کرائے پر لے رکھی ہے۔ ضمانت کے طور پر غیرملکی نوٹوں کا ایک سوٹ کیس رکھوایا ہے۔ فکر نہ کرو، ایسے کام ہم کرتے رہتے ہیں۔ جیرال نے بھی تو کار حاصل کر لی تھی۔ وہ بھی کرائے کی تھی۔“

”بہت خوب، تو ان کے ساتھ تم بھی آئے تھے۔“

”ہاں! میں جانتا تھا، تم ان پر چھا جاﺅ گے۔ میں تمہارے کام کرنے کے طریقوں سے واقف ہوں۔ چلو، اب میرے ساتھیوں کو کھول دو۔“

مجبور ہو کر انسپکٹر جمشید اور اکرام نے اس کے ساتھیوں کو کھول دیا۔ اچانک ڈاکٹر فاران چونکا:

”ارے! وہ لڑکی کہاں گئی؟“

سب نے چونک کر اِدھر اُدھر دیکھا، لیکن فرزانہ انہیں کہیں بھی دکھائی نہ دی۔ صرف انسپکٹر جمشید، محمود اور فاروق کو معلوم تھا کہ وہ کہاں ہے۔

”کون سی لڑکی؟“ انسپکٹر جمشید بولے۔

”تمہاری بیٹی، ابھی ابھی تو یہیں تھی۔ اوہ، ماسٹر جزیرے کا چپہ چپہ چھان مارو۔ وہ جہاں بھی نظر آئے اسے پکڑ لاﺅ، کہیں کوئی گڑبڑنہ کر بیٹھے۔ دیکھو، ان لوگوں کو میں اپنے ملک میں زندہ لے جانا چاہتا ہوں۔“
”جی۔ جی بہت اچھا۔“ ماسٹر نے کہا اور اپنے تینوں ساتھیوں کے ساتھ دوڑتا چلا گیا۔
”کیا وہ لڑکی تیرنا جانتی ہے؟“ ڈاکٹر فاران نے پوچھا۔
”ہاں! بہترین تیراک ہے۔“
”تب تو شاید وہ سمندر میں کود بھی گئی ہو۔ افسوس میں اپنے آدمیوں پر برسنے کے شوق میں مار کھا گیا۔“

”تم اپنے آدمیوں کو فضول ہی گدھا اور الّو کا پٹھا کہہ رہے تھے۔“ انسپکٹر جمشید نے طنزیہ لہجے میں کہا۔

”ابا جان! کیا ہم بھی فرزانہ کو ڈھونڈیں جا کر۔“ فاروق نے اچانک سوال کیا۔
”بیٹا! ڈاکٹر صاحب سے اجازت لے لو۔ مجھے تو کوئی اعتراض نہیں۔ اس وقت تو حالات کی باگ ڈور ان کے ہاتھ میں ہے۔“
”خبردار! تم اپنی جگہ سے حرکت بھی نہیں کرو گے۔“ ڈاکٹر غرایا۔
”لیکن فرزانہ کو تو آپ نے منع نہیں کیا۔“ محمود نے کہا۔
”مجھے پتا ہی نہ چلا کہ وہ کب کھسک گئی۔ ویسے تم نے اسے کھسکتے دیکھا ہو گا۔“ ڈاکٹر فاران نے کہا۔
”ہاں! دیکھا ہے۔ دیکھا کیوں نہیں۔“ فاروق مسکرایا۔
”جلدی بتاﺅ! وہ کس طرف گئی ہے؟“
”افسوس! میں نہیں بتا سکتا۔“ فاروق بولا۔
”کیوں! بتا کیوں نہیں سکتے؟“
”اس کے لیے مجھے ابا جان سے اجازت لینا ہو گی۔ آپ اجازت دلوا دیں۔“

”یہ کیا بکواس ہے۔“ اس نے جھلا کر کہا۔

”اگر یہ بکواس ہے تو نہ سنیں۔ اپنے کان بند کر لیں۔ کیا خیال ہے محمود۔ تم میری بکواس سننا پسند کرو گے۔“

”بکواس کیوں ہوتی۔ تمہاری باتیں تو بہت ہی پیاری ہوتی ہیں۔ ارے، وہ رہی فرزانہ۔“
جملہ کہتے کہتے وہ اچانک چلا اٹھا۔ ہاتھ سے ایک طرف اشارہ بھی کیا تھا۔ ڈاکٹر فاران چونک کر اس طرف مڑا۔ یہی موقع تھا کام کرنے کا۔ انسپکٹر جمشید نے اس پر چھلانگ لگا دی۔ دونوں دھڑام سے زمین پر آرہے۔ ڈاکٹر کے ہاتھ سے پستول چھوٹ گیا۔ گرتے گرتے ڈاکٹر فاران اکرام سے ٹکرایا، اکرام کا سر ایک درخت سے لگا اور وہ ہائے کر کے بیٹھ گیا۔ اسے چکر آگیا تھا۔

”محمود، پستول اٹھا لو۔“انسپکٹر جمشید چلائے۔ اسی وقت ڈاکٹر فاران زمین سے اٹھ کر پستول کی طرف لپکا۔ محمود نے بھی اپنی جگہ سے دوڑ لگائی، مگر ڈاکٹر فاران اس سے پہلے پستول تک پہنچ چکا تھا۔ وہ تیزی سے اسے اٹھانے کے لیے جھکا، مگر دوسرے ہی لمحے محمود کی ٹھوکر پستول پر پڑی۔ وہ گھسٹتا ہوا فاروق کی طرف گیا۔ اس نے جھک کر اٹھانا چاہا، لیکن ڈاکٹر فاران کی لات اس کی کمر پر لگی اور وہ اوندھے منہ گرا۔ اتنے میں انسپکٹر جمشید سنبھل چکے تھے، وہ ڈاکٹر فاران کے راستے میں آگئے۔ چاروں بُری طرح ہانپ رہے تھے۔ اچانک فاران نے جھکائی دی اور ایک طرف بھاگ نکلا۔ وہ بوکھلا اٹھے۔ اس کا رخ اس درخت کی طرف تھا جس کے نیچے اکرام نے اسلحہ رکھا تھا۔ ڈاکٹر فاران کے راستے میں اکرام سر پکڑے ابھی تک بیٹھا تھا۔

”اکرام ہوشیار۔“ انسپکٹر جمشید چلائے۔

اکرام نے چونک کر اوپر دیکھا۔ ڈاکٹر فاران طوفان کی طرح دوڑتا ہوا اس کے پاس سے گزرا۔ اکرام نے فوراً ٹانگ اڑا دی۔ وہ منہ کے بل زمین پر گرا۔ اکرام نے آﺅ دیکھا نہ تاﺅ، اس کی کمر پر سوار ہو گیا، لیکن یہی اس کی غلطی تھی۔ دوسرے ہی لمحے وہ کئی فٹ اونچا اچھل گیا اور ایک بار پھر ایک درخت سے ٹکرایا۔ اس مرتبہ وہ مکمل طور پر بے ہوش ہو چکا تھا۔ ڈاکٹر فاران پھر اٹھا اور درخت کی طرف لپکا۔ اتنی دیر میں انسپکٹر جمشید پستول اٹھا چکے تھے۔ مجبور ہو کر انہوں نے فائر ڈاکٹر فاران کی ٹانگوں میں جھونک مارا۔ اس کے حلق سے ایک ہولناک چیخ نکلی اور اسلحے سے چند گز دور وہ زمین پرتڑپنے لگا۔ اس عالم میں بھی اس نے اسلحہ اٹھا لینا چاہا، مگر وہ ابھی چند گز کے فاصلے پر تھا۔ اس کی ٹانگ سے خون بہ رہا تھا اور اس کے لیے گھسٹنا بہت مشکل ہو گیا تھا۔ فائر کی آواز پورے جزیرے میں گونجی تھی۔ فوراً ہی انہوں نے دوڑتے قدموں کی آواز سنی۔ ڈاکٹر فاران کے ساتھی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے واپس آرہے تھے۔

ماسٹر اور اس کے ساتھی دوڑتے ہوئے وہاں آئے اور پھر ڈاکٹر فاران کو تڑپتے دیکھ کر بھونچکے رہ گئے۔ ڈاکٹر فاران ابھی تک اسلحے کو پکڑنے کے لیے تگ و دو کر رہا تھا۔

”یہ کیا ہوا؟“ ماسٹر کے منہ سے نکلا۔
”کیوں کیا تمہاری نظر کمزور ہے۔ دیکھ نہیں رہے، تمہارا آقا پڑا تڑپ رہا ہے۔“ فاروق نے کہا۔
”اوہ، کیا تم نے انہیں گولی مار دی؟“ اس نے بوکھلا کر کہا۔
”صرف ٹانگوں پر۔ میرا خیال ہے، اس کی دائیں پنڈلی اڑ گئی ہے۔“
”اوہ۔“ ان کے منہ سے نکلا۔
”اب کیا ہو گا؟“ ہارڈی نے پوچھا۔

”وہی ہو گا جو تم ہمارے ساتھ کرنا چاہتے تھے۔ پہلے تم ہمیں اپنے ملک کی سیر کرانا چاہتے تھے، اب ہم تمہیں سیر کرانا چاہتے ہیں، اب ہم تمہیں اپنے ملک میں گھمائیں گے اور نئی نئی چیزیں کھلائیں گے۔ فکر نہ کرو۔ ہمارے ملک میں قابل دید مقامات بہت ہیں۔“ فاروق کہہ رہا تھا۔

”آخر یہ سب ہوا کیسے؟“ ماسٹر اب تک حیرت زدہ تھا۔“ پستول تو آقا کے ہاتھ میں تھا۔

”بس کیا بتائیں، کبھی کبھی میری عقل خراب ہو جاتی ہے۔ الٹا سیدھا بول پڑتا ہوں۔ اچانک کہہ بیٹھا، ارے وہ رہی فرزانہ۔ بس یہ حضرت بھی ایک ہی الّو نکلے۔ فوراً پلٹ کر دیکھ لیا۔ اب ہم اتنے بے وقوف بھی نہیں تھے کہ یہ پلٹ کر دیکھتے اور ہم کھڑے ان کا منہ دیکھتے رہتے۔ بس چھلانگ لگا دی ان پر۔ انہوں نے چالاکی دکھانے کی کوشش کی اور گرا ہوا پستول اٹھانا چاہا، ہم نے پستول کو فٹ بال کی گیند سمجھ لیا۔ جب وہ ان کے ہاتھ نہ لگا، تو یہ حضرت اس درخت کی طرف بڑھے۔ وہ دیکھ رہے ہیں نا آپ جہاں اب اکرام صاحب بیٹھے ہیں۔ ”سٹین گنوں پر۔“ اس طرح جیسے یہ گوریلے ہوں۔ ہاں تو آپ کے آقا اس طرف بڑھے۔ اب اگر یہ وہاں سے سٹین گن اٹھا لیتے تو شاید ان کی جگہ ہم پڑے تڑپ رہے ہوتے، اس لیے مجبوراً ایک عدد گولی چلانا پڑی جس کے لیے ہم معافی چاہتے ہیں۔“ فاروق نے اچھی بھلی تقریر جھاڑ دی

”اُف خدا، اب کیا ہو گا؟“
”ڈرتے کیوں ہو بھائی، وہی ہو گا جو منظورِ خدا ہو گا۔“
”حیرت تو یہ ہے کہ تمہاری بہن کہاں چلی گئی۔“
”وہ اگر غائب نہ ہوتی یہ سب کچھ کیسے ہوتا۔ اس کے غائب ہونے میں بھی بڑی برکت ہے۔ جب بھی غائب ہوتی ہے، کوئی نہ کوئی کارنامہ ضرور انجام پا جاتا ہے۔ یوں وہ بہت بڑی جادوگرنی بھی ہے۔ اگر تم آنکھیں بند کر لو تو ابھی حاضر ہو جائے گی۔“ فاروق مذاق اڑانے والے لہجے میں بولے جا رہا تھا۔

”میرا خیال ہے فاروق، تم وقت ضائع کر رہے ہو۔ اب ہمیں ان لوگوں کو بالکل مہلت نہیں دینی چاہیے۔“ انسپکٹر جمشید بولے۔

”جی بہت بہتر۔ فرمائیے، اب ہم کیا کریں؟“

اکرام اور تم دونوں مل کر ان کے ہاتھ پشت کی طرف باندھ دو۔ پیر نہ باندھنا۔ تاکہ یہ اپنے پیروں پر چل کر موٹربوٹ تک جا سکیں۔“

”لیکن ابا جان! اب موٹربوٹ کون چلائے گا۔ بڑے میاں تو آقا میں تبدیل ہو چکے ہیں۔“ فاروق نے سوال کیا اور سب ہنس پڑے۔
”وقتی طور پر میں بڑے میاں بن جاﺅں گا۔“ انسپکٹر جمشید مسکرائے۔
”ارے، تو کیا آپ کو موٹربوٹ چلانا آتا ہے؟“ محمود نے حیران ہو کر کہا۔
”بہت اچھی طرح۔ ابھی تم اپنی آنکھوں سے دیکھ ہی لو گے۔“

”پھر تو مزہ آگیا۔“

انہوں نے ماسٹر اور اس کے ساتھیوں کے ہاتھ پشت کی طرف باندھ دیے۔ ڈاکٹر فاران کو بھی نہیں بخشا گیا۔ اگرچہ وہ زخمی ہو چکا تھا، لیکن اس کے ہاتھ بھی باندھ دیے گئے۔ انسپکٹر جمشید کی ہدایت پر اکرام نے اس کی ٹانگ پر دو تین رومال لپیٹ دیے۔

”پہلے ان سب کو لے کر موٹربوٹ میں لٹا دو اور ان کے پیر بھی باندھ دو۔ اس کے بعد ہم ان لاشوں کو اٹھا لیں گے۔ “ انسپکٹر جمشید بولے۔

ماسٹر اور اس کے ساتھیوں کو موٹربوٹ پر لایا گیا۔ پھر انہیں لٹا کر ان کے پیر جکڑ دیے گئے۔ محمود نے اسی پر ہی بس نہیں کیا، ان سب کے گرد بھی رسی لپیٹ دی۔

”بنڈل تیار ہے۔“ اس نے ہاتھ جھاڑتے ہوئے کہا۔
وہ واپس جزیرے کے درمیان پہنچے۔ محمود نے اوپر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
”فرزانہ! اب تم بھی نیچے آجاﺅ۔ بس ہم یہاں سے رخصت ہو رہے ہیں۔“
فرزانہ کی طرف سے کوئی جواب نہ ملا، تو انہوں نے چونک کر اس درخت کی طرف غور سے دیکھا اور پھر وہ دھک سے رہ گئے۔ وہاں فرزانہ نہیں تھی۔

”فرزانہ! تم کہاں ہو؟“ انسپکٹر جمشید پوری قوت سے چلائے۔ پھر ان کی نظر اس درخت پر پڑی جس کے پاس جیرال پہلے بے ہوش پڑا تھا۔ یہ دیکھ کران کی سٹی گم ہو گئی کہ جیرال اب وہاں نہیں تھا۔

”اوہ۔ وہ فرزانہ کو لے گیا۔“ انسپکٹر جمشید کے منہ سے نکلا پھر وہ ساحل کی اس سمت میں دوڑ پڑے جس طرف دشمنوں کی موٹر بوٹ کھڑی نظر آئی تھی۔

وہ سب بے تحاشا بھاگ رہے تھے۔ ان کے دل دھک دھک کر رہے تھے۔ وہ سوچ رہے تھے کہ اگر جیرال فرزانہ کو لے جانے میں کامیاب ہو گیا، تو اس وقت تک کے کیے کرائے پر پانی پھر جائے گا۔ وہ بیگم جمشید کو کیا منہ دکھائیں گے۔ کس منہ سے انہیں بتائیں گے کہ وہ فرزانہ کو ساتھ نہیں لا سکے۔

دوڑتے دوڑتے ان کے سانس پھول گئے، لیکن ان کی رفتار میں کوئی کمی نہ آئی۔ آخر وہ ساحل پر پہنچ گئے۔ اچانک وہ سب پرسکون ہو گئے۔ فرزانہ ساحل پر کھڑی تھی اور ساحل پر جو موٹربوٹ کھڑی تھی، اب تیزی سے سمندر میں چلی جا رہی تھی، لیکن ابھی موٹربوٹ زیادہ دور نہیں گئی تھی۔ اسے جیرال چلا رہا تھا۔

جیرال، رک جاﺅ! ورنہ میں تمہیں گولی مار دوں گا۔“ انسپکٹر جمشید پوری قوت سے چلائے۔

جیرال نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔ انسپکٹر جمشید پستول تانے کھڑے تھے اور وہ ان کے نشانے کی زد میں تھا۔ ایک لمحے کے لیے وہ سوچ میں پڑ گیا، پھر مسکرا کر بولا:

”انسپکٹر جمشید، تم بھی بہادر ہو اور میں بھی۔ میرا اور تمہارا مقابلہ کسی اور میدان میں بہت جلد ہو گا۔ ویسے اگر تم بزدلوں کی طرح مجھ پر وار کرنا ہی چاہتے ہو تو میں بھی رکوں گا نہیں، تم گولی چلانا چاہتے ہو، ضرور چلاﺅ۔ بہادری کی روایات کو توڑنا چاہتے ہو، بڑی خوشی سے توڑو۔ میں رکنے والا نہیں۔“

انسپکٹر جمشید کی انگلی کا دباﺅ پستول کے ٹریگر پر دبتا چلا گیا، لیکن پھر اچانک انہوں نے انگلی ہٹا لی۔ ان کا پستول والا ہاتھ نیچے جھکتا چلا گیا۔
”میں جانتا تھا انسپکٹر جمشید، تم بہادر ہو۔ تم گولی نہیں چلا سکتے۔“

”لیکن یہ بھی سن لو! تمہاری ذات سے اس وقت میرے ملک اور قوم کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ یہی وجہ ہے میں تمہیں چھوڑ رہا ہوں۔ اگر ملک کی آن پر حرف بھی آیا ہوتا تو تم بچ کر نہیں جا سکتے تھے۔ آئندہ بھی اگر تم یہاں آئے اور میرے وطن کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو میں تم پر فائر کرتے وقت یہ ہرگز نہیں سوچوں گا کہ میرا اقدام بہادری کی تعریف میں آتا ہے یا نہیں۔“ انسپکٹر جمشید کہتے چلے گئے۔

”شکریہ دوست، میں ایک بار پھر آﺅں گا۔ اس وقت میرے سامنے کیا مقصد ہو گا۔ یہ میں اس وقت خود بھی نہیں جانتا۔ ہاں، اتنا ضرور کہوں گا، آج کے بعد میں ماسٹر کے ملک سے کوئی سروکار نہیں رکھوں گا۔ ان کا کوئی کام نہیں کروں گا۔ انہوں نے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔ اچھا خداحافظ۔“

اس نے مسکراتے ہوئے ہاتھ ہلایا۔ ان میں سے کسی کا ہاتھ اسے الوداع کہنے کے لیے نہ اٹھ سکا۔ کچھ بھی ہو، وہ ایک دشمن تھا۔ دشمن ملک کے اشارے پر ان کے مقابلے میں آسکتا تھا۔ وہ کس طرح ہاتھ ہلا کر اسے رخصت کر سکتے تھے۔ موٹربوٹ لمحہ بہ لمحہ ان سے دور ہوتی جا رہی تھی۔ وہ جیرال کا ہاتھ ابھی تک ہلتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔ اسی وقت اکرام نے کہا:

”کیا ہم اس کا تعاقب نہیں کر سکتے؟“
”نہیں، میں اسے گرفتار نہیں کرنا چاہتا۔“ انسپکٹر جمشید بولے۔

”یوں بھی اس کے پاس جو موٹربوٹ ہے وہ آبدوز بھی ہے۔“ فرزانہ نے کہا۔

”یہ تمہیں کس نے بتایا؟“ انسپکٹر جمشید نے پوچھا۔
”جیرال نے۔ جب وہ ہمیں اغوا کر کے لا رہا تھا۔“
”ارے ہاں!“ فرزانہ تم بتاﺅ۔ تمہارے ساتھ کیا ماجرا پیش آیا۔
ہم تو یہ سمجھے تھے کہ جیرال تمہیں اغوا کر کے لے جا رہا ہے۔ اسی لیے تو ہم سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اس طرف بھاگے تھے۔“ محمود بولا۔

”مجھے افسوس ہے ابا جان۔“
”کیا مطلب، تمہیں کس بات پر افسوس ہے؟“ انسپکٹر جمشید نے چونک کر کہا۔

”جب آپ لوگ ماسٹر اور اس کے ساتھیوں کو ساتھ لے کر جا رہے تھے تو میں آپ کو دیکھ رہی تھی۔ آپ نظروں سے اوجھل ہوئے تو میں مڑی اور اس وقت میں نے دیکھا، جیرال اٹھ کر بھاگا جا رہا تھا میں نے فوراً درخت پر سے چھلانگ لگا دی اور اس کے پیچھے بھاگ کھڑی ہوئی۔ اس نے مڑ کر دیکھا اور پھر اور بھی تیز دوڑنے لگا۔ بھاگتے بھاگتے ہم ساحل پر پہنچ گئے۔ جب میں یہاں پہنچی تو وہ موٹربوٹ پر بیٹھ چکا تھا اور اسے سٹارٹ کر چکا تھا۔ میرے پاس کوئی ہتھیار نہ تھا۔ اس نے میری طرف مسکرا کر دیکھا اور ابا جان آپ جانتے ہیں، اس نے کیا کہا تھا؟“

فرزانہ کہتے رُک گئی۔ اس وقت اس کے چہرے پر عجیب سے تاثرات تھے۔
”کیا کہا تھا؟“ انسپکٹر جمشید نے پرسکون آواز میں کہا۔

”اس نے کہا تھا، میں تم لوگوں سے مل کر بہت خوش ہوا ہوں، جب تمہارے والد نے مجھے اٹھا کر پھینک مارا تھا تو میں سمجھا تھا کہ میری ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ گئی ہے، لیکن بعد میں جب مجھے ہوش آیا تو میں نے محسوس کیا، ریڑھ کی ہڈی محفوظ ہے۔ اپنے والد سے میرا سلام کہنا۔ زندگی رہی تو تم سے پھر ملاقات ہو گی اور اس مرتبہ میں بھی کسی کو ہاتھوں پر اٹھا کر پھینک مارنے کا گُر سیکھ کر آﺅں گا۔“

یہ کہہ کر فرزانہ خاموش ہو گئی۔ محمود نے اس کی طرف گھورتے ہوئے کہا۔
”لیکن تمہیں افسوس کس بات پر ہے؟“
”اس پر کہ میں جیرال کو پکڑ نہ سکی۔“

”شکر کرو۔ تم اس سے بھڑ نہیں گئیں۔ بھلا وہ تمہارے قابو میں آنے والا تھا۔“ فاروق نے مسکرا کر کہا۔

”شاید تم ٹھیک کہتے ہو۔“ فرزانہ نے بھی مسکرا کر کہا۔

سمندر میں موٹربوٹ اب ایک دھبے کے مانند دکھائی دے رہی تھی۔ انہوں نے سوچا، جیرال اب تک ان کی طرف دیکھ دیکھ کر ہاتھ ہلا رہا ہو گا اور آخر وہ دھبا بھی ان کی نظروں سے اوجھل ہو گیا۔

”آﺅ چلیں۔“

انسپکٹر جمشید نے کہا اور وہ سب چونک کر مڑے۔ لاشیں اُٹھانے، اسلحہ اور دوسرا سامان موٹربوٹ تک پہنچانے میں انہیں ایک گھنٹہ لگ گیا۔ جب وہ گھر کے لیے روانہ ہوئے تو دوپہر کے دو بج رہے تھے۔ ہنگامہ خیز یہ دن ڈھل رہا تھا اور وہ واپسی کی تیاری کر رہے تھے۔ جب سب لوگ موٹربوٹ میں بیٹھ گئے تو انسپکٹر جمشید ڈرائیونگ سیٹ پر جا بیٹھے۔

اس وقت انہوں نے دیکھا، انسپکٹر جمشید بڑی چابک دستی سے موٹربوٹ چلا رہے تھے۔
”امی جان گھر میں بہت پریشان ہوں گی۔“ فرزانہ بولی۔
”وہاں صرف تمہاری امی جان ہی نہیں اور بھی نہ جانے کتنے لوگ پریشان ہوں گے۔“

”جی! اور کون لوگ؟“ فاروق نے حیران ہو کر کہا۔
”تمہاری امی نے ہوش و حواس میں آنے کے بعد سب سے پہلے بیگم شیرازی کو حالات سنائے ہوں گے، پھر خان عبدالرحمن او رپروفیسر داﺅد کو فون کیا ہو گا۔ پولیس کو اطلاع دی گئی ہو گی۔ محکمہ سراغرسانی کے آفیسروں کو خبردار کیا گیا ہو گا۔ سارے شہر میں ہمیں تلاش کیا جا رہا ہو گا۔“ یہ بتاتے ہوئے انسپکٹر جمشید مسکراتے رہے۔
”اس کا مطلب ہے، ہمارے گھر میں تو اچھا خاصا میلا لگا ہو گا۔“

فرزانہ نے کہا۔
”لیکن یہ میلا بہت غمگین ہو گا۔“ فاروق بولا۔
”کوئی بات نہیں، جب ہم وہاں پہنچیں گے تو خوشی کا سیلاب آجائے گا میلے میں۔“ محمود نے ہنس کر کہا۔
”دیکھنا بھائی، کہیں ڈوب نہ جانا سیلاب میں۔“ فاروق بول اٹھا۔

اڑھائی بج چکے تھے۔ ابھی تک بچوں یا انسپکٹر جمشید کی کوئی خبر نہیں ملی تھی۔ وہ سب کے سب گھر کے صحن میں اداس اور چپ چاپ بیٹھے تھے، جیسے کبھی اس گھر میں کوئی قہقہہ گونجا ہی نہیں تھا۔ ہنسی مذاق کی کوئی بات کی ہی نہیں تھی۔ بیگم جمشید کی آنکھوں سے کبھی ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگتے، کبھی صرف پلکوں میں ہی اٹک کر رہ جاتے۔ شہناز بیگم اور بیگم شیرازی انہیں بار بار تسلی دے رہی تھیں۔ خان عبدالرحمن اور پروفیسر داﺅد بھی دلاسا دے رہے تھے۔

پولیس کا سب انسپکٹر تین مرتبہ آچکا تھا۔ ہر مرتبہ اس نے یہ خبر سنائی تھی کہ پورے شہر میں شدومد سے تلاش کی جا رہی ہے، لیکن ابھی ان کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ وہ ابھی ابھی تیسری بار اطلاع دے کر گیا تھا کہ ایک بار پھر گھنٹی بجی۔

خان عبدالرحمن نے دروازہ کھولا۔ آنے والے ڈی آئی جی صاحب تھے۔
”آپ نے کیوں تکلیف کی؟“ خان عبدالرحمن بولے۔
”میں بہت فکرمند ہوں۔ صبح سے میں نے کچھ کھایا نہ پیا۔ نہ جانے بیگم جمشید کا کیا حال ہو گا، بس ان کے خیال سے آگیا۔“

خان صاحب کہہ رہے تھے۔ ان کی آواز سن کر پروفیسر داﺅد بھی آگئے۔ انہوں نے خان صاحب سے ہاتھ ملایا۔ اچانک خان صاحب کی نظر دیوار کی طرف اٹھ گئی، ایک لمحے کو انہوں نے دیوار پر لکھے ہوئے نام کو بے خیالی میں پڑھااور پھر زور سے اچھل پڑے۔

”کیا ہوا، خیریت تو ہے جناب۔“
”یہ۔ یہ۔ یہ نام۔ دیکھ رہے ہیں، دیوار پر لکھا ہوا؟“
”ہاں، کیوں کیا بات ہے، اس نام میں؟“ خان عبدالرحمن بولے۔
”یہ جیرال ہی لکھا ہے نا۔“
”جی ہاں۔“

”اُف میرے خدا، تو کیا یہاں جیرال آیا تھا۔“ ان کے منہ پر ہوائیاں اڑنے لگیں۔
”یہ جیرال کون ہے؟“پروفیسر داﺅد نے حیران ہو کر کہا۔

”ایک بین الاقوامی مجرم، جو بڑی بڑی حکمتوں کے لیے معاوضے پر کام کرتا ہے۔ اگر وہ بچوں کو اغوا کر کے لے گیا ہے تو پھر تینوں بچے شہر میں ہرگز نہیں ہو سکتے، جب کہ ہم اس وقت تک انہیں شہر میں تلاش کراتے رہے ہیں اور اگر انسپکٹر جمشید کی نظر اس نام پر پڑ چکی ہے تو پھر وہ بھی شہر میں موجود نہیں ہو سکتے۔ کیوں کہ وہ جانتے ہیں، جیرال ہمیشہ سمندروں کے ذریعے سفر کرتا ہے۔“

”اوہ۔“ ان کے منہ سے نکلا۔

”افسوس، اگر صبح میں یہاں آگیا ہوتا، تو ہم سمندر میں جال ڈلوا دیتے، مگر جیرال تو اب نہ جانے کہاں کا کہاں پہنچ چکا ہو گا۔“
”اس سے تو پھر یہ معلوم ہوتا ہے کہ جمشید بھی اس کے پیچھے ہے۔“
”ہاں! خدا کرے کہ ایسا ہی ہو۔“ خان صاحب بولے۔
”آمین۔“ یہ نئی بات بیگم جمشید کو نہ بتائیے گا۔ وہ اور فکرمند ہوں گی۔“
”آئیے، اندر چلتے ہیں۔“
وہ اندر آئے ہی تھے کہ ایک بار پھر گھنٹی بجی۔

٭….٭….٭

ساحل پر پہنچ کر انہوں نے لاشیں اور قیدی پولیس کے حوالے کیے اور خود گھر کا رُخ کیا۔ انہوں نے سوچا تھا کہ وہ باقی کام تو بعد میں بھی کر لیں گے۔ پہلے تو گھر پہنچ کر وہاں موجود پریشان لوگوں کو تسلی دینا چاہیے۔ ویسے انسپکٹر جمشید نے پولیس والوں کو ہدایت کر دی تھی کہ لاشوں اور قیدیوں کو فوراً محکمہ سراغرسانی کی عمارت میں پہنچا دیا جائے۔

گھر کے دروازے پر پہنچ کر انہوں نے گھنٹی بجائی۔ دروازہ فوراً ہی کھلا ۔ وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ دروازہ کھولنے والے خان عبدالرحمن، پروفیسر داﺅد اور ڈی آئی جی صاحب تھے۔

”ارے۔“ تینوں کے منہ سے انہیں دیکھتے ہی نکلا۔
”ہم خواب دیکھ رہے ہیں یا یہ واقعی تم ہو۔“ خان صاحب بولے۔
”خدا کا شکر ہے کہ ہم ہی ہیں۔ ویسے یہ بھی ہو سکتا تھا کہ ہم واپس نہ آتے۔“ انسپکٹر جمشید مسکرائے۔

”تم نہیں جانتے کہ ہم نے یہ وقت کس طرح گزارا ہے۔ بس ایک ایک منٹ ہم پر بھاری گزرا ہے۔“ پروفیسر داﺅد بولے۔
”اچھا، انہیں اندر تو آنے دو۔ پھر سارے حالات سنیں گے اطمینان سے بیٹھ کر۔“ خان عبدالرحمن مسکرائے۔

جونہی وہ اندر آئے، سب اچھل کر کھڑے ہو گئے۔ ان کی آنکھوں میں حیرت اور خوشی کے دریا اُمڈ پڑے۔

”ارے، یہاں تو واقعی میلا لگا ہوا ہے۔“ فاروق نے ہنس کر کہا۔
”لیکن میلے کی رونق تو اب آئی ہے۔“ ڈی آئی جی صاحب بولے۔
”یا اللہ، تیرا شکر ہے۔“ بیگم شیرازی بولیں۔

بیگم جمشید کے منہ سے تو خوشی کی وجہ سے کوئی لفظ نکل ہی نہ سکا۔ بس وہ اٹھیں اور بے اختیار محمود، فاروق اور فرزانہ سے لپٹ گئیں۔ پھر تجویز ٹھہری، اطمینان سے بیٹھ کر حالات سننے کی۔ صحن میں جگہ کم تھی۔ اس لیے سب لوگ ڈرائنگ روم میں آگئے۔

ابھی وہ اطمینان سے بیٹھنے بھی نہیں پائے تھے کہ دروازے کی گھنٹی ایک بار پھر بجی۔

”خدا خیر کرے۔ اب کون آگیا۔“ خان عبدالرحمن بولے اور دروازے کی طرف جانے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔
”بھئی ذرا احتیاط سے۔ کہیں کوئی نئی مصیبت نہ مول لے آنا۔“ پروفیسر داﺅد بولے۔
”ہاں! یہ بھی ٹھیک ہے، ویسے مفت ملے تو لیتا آﺅں گا۔“ خان عبدالرحمن نے مسکرا کر کہا۔
”وہ دروازے پر پہنچ کر رک گئے اور چٹخنی گرانے سے پہلے بولے:
”ہاں بھئی! کون ہے دروازے پر؟“
”جی، اخباری رپورٹر۔“ باہر سے آواز آئی۔

”تو آپ اخباری نمائندے ہیں، لیکن آپ کے پاس کیا ثبوت ہے کہ آپ اخباری نمائندے ہیں۔“

”ثبوت کے طور پر ہمارے پاس اپنے کارڈ موجود ہیں۔“
”دیکھو بھائی، یہ گھر ابھی ابھی ایک بڑے حادثے سے بال بال بچا ہے، اس لیے اگر تم میرے دروازہ کھولنے سے پہلے کوئی ثبوت پیش کر سکتے ہو تو ٹھیک ہے؟ ورنہ میں دروازہ نہیں کھولوں گا۔“
”لیکن یہ کیسے ممکن ہے؟“ باہر سے حیرت زدہ لہجے میں کہا گیا۔
”ممکن ہے یا نہیں ہے۔ یہ میں نہیں جانتا۔ ارے ہاں، تم یوں کیوں نہیں کرتے کہ اپنے کارڈ دروازے کے نیچے سے اندر کھسکا دو۔“

”ہاں واقعی۔“

اور پھر کارڈ اندر آگئے۔ دوسری طرف خان عبدالرحمن کو واپس پہنچنے میں دیر ہوئی تو سب پریشان ہو گئے۔ آخر انسپکٹر جمشید ہی دروازے پر آئے۔
”کیا بات ہے عبدالرحمن؟“ انہوں نے حیران ہو کر پوچھا۔
”کارڈ دیکھ رہا ہوں۔“
”کیا مطلب؟ کس کے کارڈ دیکھ رہے ہو؟“
”جو اندر آنا چاہتے ہیں۔ میں نے ان سے کہا تھا کہ اپنے اپنے کارڈ دروازے کے نیچے سے اندر کھسکا دیں۔
اور انسپکٹر جمشید ہنس پڑے۔ انہوں نے دروازہ کھول دیا۔ انسپکٹر جمشید نے ان سے معافی چاہی کہ دروازہ کھلنے میں دیر ہوئی۔

”کوئی بات نہیں جناب! ہم کچھ کچھ حالات جان چکے ہیں، اس لیے یہ احتیاط بے معنی نہیں ہے۔“
”شکریہ! آئیے آپ بھی اندر ہی آجائیے۔“ انہوں نے کہا۔
اور وہ سب ڈرائنگ روم میں آگئے۔
”اب سنائیے سارے حالات۔“ بیگم شیرازی بولیں۔
”شروع تو بیگم صاحبہ کریں گی۔ کیوں کہ کہانی ان سے شروع ہوئی تھی۔“
انسپکٹر جمشید مسکرائے۔

بیگم جمشید نے کہانی سنانا شروع کی۔ جب انہوں نے جیرال کو ناشتا دینے کے بارے میں تفصیل سے بتایا تو ڈرائنگ روم قہقہوں سے گونج اٹھا۔ اس کے بعد کا حصہ محمود، فاروق اور فرزانہ نے سنایا، کیوں کہ پھر وہ آگئے تھے۔ کہانی کا آخری حصہ سب سے زیادہ دلچسپ تھا اور یہ تھا انسپکٹر جمشید کا جیرال سے مقابلہ کرنا۔ سنتے وقت ان کے سانس رک رک گئے۔ پھر جب انہوں نے بتایا کہ کس طرح جیرال کی شکست کے بعد ماسٹر نے پستول نکال لیا، تو سب لوگ دنگ رہ گئے۔ آخر میں موٹر بوٹ والے بوڑھے کے بارے میں جان کر تو ان کی حیرت کا کوئی ٹھکانا نہ رہا۔

”اور یہ سب میری وجہ سے ہوا۔“ بیگم جمشید ان کے خاموش ہونے پر بولیں۔
”کیوں۔“ کئی آوازیں ابھریں۔
”اگر میں ایک منٹ کی سستی نہ کرتی اور اسی وقت دروازہ بند کر لیتی تو جیرال اندر آہی نہ سکتا۔“

”نہیں، یہ بات نہیں ہے۔ وہ کسی نہ کسی طرح اندر ضرور آتا۔
”لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جیرال نے ہمیں اس وقت کیوں نہ پکڑ لیا، جب ہم اسکول جانے کے لیے گھر سے نکلے تھے۔“ فرزانہ نے کہا۔

”اپنے پیچھے کوئی کہانی بھی تو چھوڑ کر جانا تھا نا۔ دیوار پر جیرال لکھ کر تو گیا ہی تھا وہ۔ بیگم کو بھی پریشان کر ڈالا تاکہ یہ بعد میں مجھے بتائیں تو میں اس کے پیچھے دوڑا جاﺅں۔ یہ وہ جانتا تھا کہ مجھے اس بارے میں سب کچھ معلوم ہے۔ یہ بھی کہ وہ ہمیشہ سمندر کے ذریعے سفر کرتا ہے۔“ انسپکٹر جمشید بولے۔

”کیا آپ کو جیرال کے فرار ہونے کا افسوس ہے؟“ ایک اخباری نمائندے نے سوال کیا۔

”جی نہیں! وہ ایک بہادر دشمن ہے، میں اس کی عزت کرتا ہوں۔“ انہوں نے کہا۔
اور اس طرح یہ مجلس برخاست ہوئی۔ دوسرے دن کے اخبارات ان کی کہانی سے بھرے پڑے تھے۔ (ختم شد)

Reactions