| قسط وار کہانیاں |
سفید محل - اردو کہانی قسط نمبر 7
اس کے چاروں طرف اندھیرا پھیلا ہوا تھا۔ بالکل گھپ اندھیرا۔ کچھ دیر تو اس کی سمجھ میں نہ آیا کہ وہ کہاں پڑا ہے۔ آہستہ آہستہ اسے سب یاد آتا گیا۔ بجلی کی کڑک اور آنکھوں کے آگے تارے ناچنا اور پھر ہوش گنوا بیٹھنا۔ وہ جنگل میں نہ تھا اور آزاد بھی نہ تھا ۔ یہ کوئی کال کوٹھڑی تھی جس میں اسے پابه زنجیر کر کے ڈال دیا گیا۔ کوئی ایک گھنٹے کے بعد کوٹھری کا دروازہ کھلا۔ تیز روشنی کے ساتھ اچانک سردی کی لہر دوڑ گئی۔
"اٹھو" دو آدمیوں نے اسے سہارا دے کر اٹھایا۔
"میں کہاں ہوں؟“
"ہمارے ساتھ چلو تھوڑی دیر میں یہ بھی پتہ چل جائے گا۔"
ایک نے کہا۔
"تم لوگ مجھے کہاں لے جانا چاہتے ہو؟‘‘ کامران نے پوچھا۔
"تمہاری پیشی ہوگی۔‘‘ بتایا گیا۔
"کس کے سامنے اور کیوں؟" سوال کیا گیا ۔
"زیاده ٹر ٹر مت کرو‘‘ ایک آدمی نے اسے آگے دھکا دیتے ہوئے کہا۔ ”تم تو بڑے بڑے بہادر آدمی ہو اب اس قدر خوفزدہ کیوں ہو گئے؟"
"میری سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تم لوگ چاہتے کیا ہو؟‘‘ قامران نے پوچھا۔
"فی الحال صرف اتنا کہ اپنی زبان پر تالہ لگاؤ اور ہمارے ساتھ خاموشی سے چلو اور جب تک تم سے بولنے کو نہ کہا جائے اس وقت تک نہ بولنا ورنہ نتیجے کے تم خود ذمہ دار ہو گے۔" ایک نے تنبیہہ کی تھی۔
وہ دونوں آدمی اسے کوٹھڑی سے نکال کر مختلف راہداریاں پار کراتے ہوئے ایک بڑے دروازے کے پاس لے آئے اور دروازے کے نز دیک ھو کر ان میں سے ایک آدمی نے بلند آواز میں کچھ کہا جسے کامران نہ سمجھ سکا۔ وہ کچھ عجیب وغریب الفاظ تھے۔ چند لمحوں بعد دروازہ خودبخود کھل گیا۔ وہ دونوں کامران کو لیئے اندر داخل ہوئے۔ سیڑھیاں اترتے ہی کامران کو ایک بہت بڑا میدان دکھائی دیا جو رات ہونے کی وجہ سے جگمگا رہا تھا۔ یہ روشنی کہاں سے آرہی تھی اور کسی چیز کی تھی یہ کامران کی سمجھ میں نہ آیا۔ کامران کو میدان کے ایک کونے میں لا کر بٹھا دیا گیا۔ پھر بہت سے خاکروب اک بڑے دروازے سے اندر داخل ہوئے اور میدان کی صفائی کر کے چلے گئے ۔ خاکروبوں کے جانے کے بعد بہت سے سقے پانی کی مشکیں لادے میدان میں اترے۔ تھوڑی دیر میں میدان پانی سے بھر گیا۔ سقوں کے جانے کے بعد میدان میں فرش دھویا جانے لگا۔ کچھ لوگ ایک بڑا ساتخت لے آئے۔ اس تخت پر ایک خوبصورت سا قالین اور گاؤ تکیئے لگا دیئے گئے اب لوگ آنے شروع ہوئے۔ دیکھتے ہی دیکھتے پورا میدان لوگوں سے بھر گیا۔ لوگ بڑے صبر و تحمل اور سلیقے سے بیٹھے تھے۔ چند لمحوں بعد ایک دراز قد بزرگ دروازے سے داخل ہوئے۔
سفید براق لباس، سرخ سفید چہرہ، لمبی سفید ریشم جیسی داڑھی، بارعب اور پروقار ان بزرگ کو دیکھتے ہی سب لوگ احتراماً کھڑے ہو گئے۔ پھر انہوں نے تخت پر بیٹھ کر لوگوں کو بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ ان بزرگ کے بڑھتے ہی ایک شخص نے دہائی دینی شروع کی۔ کامران کیونکہ کافی پیچھے تھا اس لیے وہ کچھ نہ سن سکا۔
تب ان بزرگ نے کوئی اشارہ کیا۔ اشارہ پاتے ہی کامران کو ان بزرگ کے سامنے کر دیا گیا۔ راستے میں ان دونوں آدمیوں نے بتا دیا تھا کہ اسے شاہ جنات کے سامنے پیش کیا جائے گا لہذا کوئی ایسی ویسی حرکت نہ کرے۔ کامران نے شاہ جات کے سامنے پہنچ کر اسے بغور دیکھنا چاہا لیکن نہ دیکھ سکا کیونکہ شاہ جنات کا چہرہ اب غصے سے سرخ ہو چکا تھا۔ شاہ جنات کے ہاتھ کے ایک اشارے سے اس کے جسم پر بنی ساری زنجیریں آر ہیں اور وہ کڑک کر بولے۔ ” آدم زاد تیری یہ جرات‘‘
کامران نے حیرت سے شاه جنات کو دیکھا اسے ابھی تک اپنا جرم معلوم نہ تھا۔
"دیکھتے کیا ہو شاہ جنات نے اسے ڈانٹا۔ " کیا تم جانتے نہیں کہ تم نے کیا کیا ہے؟"
"نہیں۔" کامران کو واقعي کچھ معلوم نہ تھا۔
"اچھا۔“ شاه جنات نے کسی کو اشارہ کیا ۔ "اسے لاؤ“
چند لمحوں بعد ایک آدمی اسے اپنے ہاتھوں پر اٹھاۓ آیا۔ وہ ایک سفید چادر سے ڈھکا ہوا تھا اسے شاہ جنات کے قدموں میں رکھ دیا گیا
"چادر ہٹاؤ" شاه جنات نے حکم دیا
"اسے دیکھو۔“ شاه جنات نے اس کی طرف اشارہ کیا۔
کامران نے جب اسے دیکھا تو سناٹے میں آ گیا۔ اس کے سامنے ایک بچے کی لاش پڑی تھی اس کے جسم میں ایک تیر پوست تھا اور یہ تیر کامران کی کمان سے نکلا ہوا تھا۔ کامران نے اپنا تیر تو پہچان لیا لیکن اس نے یہ تیر اس بچے پر کب چلایا اور کیوں چلایا اے یاد نہ تھا۔
"اب کیا کہتے ہو؟‘‘ شاہ جنات نے سوال کیا۔
"تیرضرور میرا ہے اس سے مجھے انکار نہیں لیکن یہ میری کمان سے نہیں نکلا.....میں اتنا ظالم نہیں۔" کامران نے صفائی پیش کی
"تم اس بچے کے قاتل ہو۔“ شاه جنات نے ایک ایک لفظ پر زور دے کر کہا۔
"شری بچہ....حدود سے نکل کر کھیل رہا تھا........یاد کرو وہ خرگوش کا بچہ یاد آیا اس بچے نے اس وقت خرگوش کی شکل اختیار کی ہوئی تھی۔ تم نے کچھ دیر اس کا پیچھا کیا اسے زندہ پکڑنا چاہا لیکن جب یہ تمہارے قابو میں نہ آیا تو تم نے غصے میں اس پر تیر چلا دیا اسے ہلاک کر دیا....اب کہو کیا اب بھی اپنے جرم کی صحت سے انکار ہے؟"
"نہیں میں اقرار کر لیتا ہوں کہ اس خرگوش کے بچے پر میں نے ہی تیر چلایا تھا لیکن خرگوش جان کر اگر مجھے علم ہو جاتا کہ یہ وہ نہیں جو دکھائی دے رہا ہے تو میں ہرگز تیر نہ چلاتا" کامران نے بڑے مودبانہ انداز میں کہا۔ ”سب کچھ نادانستگی میں ہوا ہے اب آپ جو سزا دیں۔ میں آپ کا ہرحکم مانوں گا۔“
"تم پہلے انسان ہو جس نے اتنی آسانی سے اپنے جرم کا اقرار کر لیا ورنہ یہ آدم ذاد بڑے ضدی اور ہٹ دھرم واقع ہوئے ہیں۔‘‘ شاه جنات کا غصہ کم ہوا۔ "اس میں کچھ قصور مقتول کا ہے ایک تو وہ اپنی حدود میں نہ تھا۔ دوسرے اپنے قالب میں نہ تھا۔ اگر وہ اپنی اصلی شکل اور اپنے علاقے میں رہتا تو کاہے اپنی جان سے ہاتھ دھوتا اور آدم زار تمہارا قصور یہ ہے کہ تم نے اس پر تیر چلاتے ہوئے اپنی عقل استعمال نہ کی۔ ایک چھوٹا سا جانور بھلا کس طرح گھوڑی کی پیٹھ پر سوار ہو سکتا تھا....اس قصور کی سزا تمہیں بھگتنی ہوگی"
میں تیار ہوں....سزا مقرر کریں“
"سزا اس بچے کا باپ مقرر کرے گا۔“ شاه جنات نے ایک شخص کی طرف اشارہ کیا "آؤ سامنے"
"شاه جنات آج کل میں ایک مشکل میں گرفتار ہوں۔ اگر یہ آدم زاد اس مشکل سے نجات دلا دے تو میں اس کا قصور معاف کرنے کو تیار ہوں۔" اس شخص نے کہا۔
"مشکل بتا، شاه جنات نے حکم دیا۔
"مجھے ایک آدم زاد نے اپنے عمل سے اپنا غلام بنا لیا ہے۔ وہ مجھ سے ناجائز کام کراتا ہے۔ میں اس آدم زاد سے چھٹکارا چاہتا ہوں۔ اگر یہ آدم زاد میری آزادی پھر سے بحال کرا دے تو نہ صرف اس کا قصور معاف کر دوں گا بلکہ زندگی بھر اس کا ممنون رہوں گا۔" وہ شخص شاه جنات سے مخاطب تھا
"بولو آدم زاد کیا کہتے ہو؟‘‘ شاه جنات نے پوچھا۔
"میں تیار ہوں۔ مجھے اس آدم زاد کا نام اور پتہ بتایا جائے۔ میں کوشش کروں گا کہ اسے ظالم کے چنگل سے نکال دوں۔“ قامران بولا۔
"شاباش ہمیں تم سے یہی امید تھی۔" شاہ جنات نے خوش ہوتے ہوئے کہا۔
”جس طرح زہر کو زہر مارتا ہے ویسے ہی ایک آدم زاد کا تریاق آدم زاد ہی ہوسکتا ہے۔ جاؤ... حامنا اس آدم زاد کو اپنے ساتھ لے جاؤ اور اسے سارے حالات سے آگاہ کرو۔ ہمیں قوی امید ہے کہ جلد خود کو آزاد پاؤ گے۔“ حامنا نے کامران کا ہاتھ پکڑا اور بولا ”آؤ میرے ساتھ"
وہ دونوں بڑے دروازے کی طرف چل دیئے۔ سیڑھیاں چڑھتے ہوئے جب قامران نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو حیران رہ گیا۔ اب وہاں کوئی نہ تھا۔ نہ شاہ جنات، نہ تخت، نہ لوگ جانے منٹوں میں کہاں اور کیسے غائب ہو گئے۔
"پہلے تو یہ سارے لوگ اس دروازے سے آئے تھے اب اچانک یہ کس طرح غائب ہو گئے جبکہ اس دروازے کے علاوہ جانے کا کوئی اور راستہ نہیں۔" کامران نے اپنی معلومات میں اضافہ چاہا
”یہی تو فرق ہے ہم میں تم میں۔“ حامنا نے کہنا شروع کیا۔ ” تم لوگ خاکی مٹی سے بنائے گئے ہو۔ ہم آتش ہیں آگ سے ہمارا خمیر اٹھا ہے۔ ہمیں ہمارے بنانے والے نے مکان کی قید سے آزاد رکھا ہے۔ ہم جب چاہیں جہاں چاہیں پلک جھپکتے جا سکتے ہیں جو چاہیں شکل اختیار کر سکتے ہیں لیکن آدم زاد کو بنانے والے نے زمان و مکان کی قید میں رکھا ہے اور ایک ہی شکل عطا کی ہے۔ ان پابندیوں کے باوجود وہ ہم سے زیادہ طاقتور ہے۔“
"وہ کیسے؟" قامران نے پوچھا۔
"وہ جو شعور اور عقل رکھتا ہے ہم اس سے کورے ہیں۔ وہ اپنی عقل کے ذریعے ہر نا قابل چیز کو قابل تسخیر بنا لیتا ہے جب کہ ہم جیسی آتشی مخلوق بھی بعض اوقات اس کے آگے بے بس ہو جاتی ہے جیس میں ہو گیا"
" حامنا اس وقت تم جس شکل میں ہو کیا یہ تمہارا اصلی روپ ہے؟ "
"نہیں" حامنا نے بتایا۔
"اور ابھی اس میدان میں جتنے لوگوں کو تم نے دیکھا وہ ابھی اصلی شکل میں تھے اور نہ ہی شاه جنات"
"پھر تمهاری اصل شکل وصورت کیا ہے؟ کیا تم مجھے دکھانا پسند کرو گے؟"
"نہیں۔ ہم اپنی اصلی صورت میں اپنی مخلوق کے سامنے ہی آسکتے ہیں۔ کسی غیر مخلوق کو اصلی شکل دکھانے کی اجازت نہیں ہے۔"
"کیوں؟" قامران نے پوچھا۔
"اس سے زیادہ میں نہیں جانتا کہ یہ شاه جنات کا حکم ہے۔"
"حامنا، کیا تم مجھے اپنی پستی کی طرف لے جا سکتے ہو میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ تم لوگ کیسے رہتے ہو۔“
"نہیں ممکن نہیں" ۔ کسی آدم زاد کا ہماری بستی میں گزر بہت مشکل ہے۔
"پھر اس وقت ہم کہاں جا رہے ہیں؟"
"میں تمہیں اپنی بستی سے دور ایک غار میں لے جاتا ہوں وہاں آرام سے بیٹھ کر باتیں کریں گے۔ اب چلنے کے لیے تیار ہو جاؤ۔ میں تمہارا ہاتھ پکڑ لیتا ہوں۔ تم ذرا اپنی ٹانگوں پر مضبوطی سے کھڑے ہو جاؤ۔" حامنا نے اسے سمجھایا۔
وہ دونوں چلتے چلتے رک گئے۔ حامنا نے منہ ہی منہ میں کچھ پڑھا اور مضبوطی سے قامران کا ہاتھ تھام لیا۔ کامران نے ایسا محسوس کیا جیسے اس کی کلائی کو لوہے کے شکنجے میں جکڑ دیا گیا ہو۔
حامنا کے کلائی پڑتے ہی وہ دونوں ہوا میں بلند ہونے لگے۔ یہ اڑان چند منٹوں سے زیارہ کی نہ ھی۔ جب وہ زمین پر دوبارہ واپس آئے تو قامران نے خود کو ایک غار کے دہانے پر پایا۔
"آؤ اندر" حامنا نے اسے اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا۔
قامران کا اندھیرے میں چلنا بہت مشکل تھا۔ وہ دھیرے دھیرے آگے بڑھا جبکہ حامنا تیزی سے آگے بڑھ گیا۔ شاید تاریکی اس کی راہ میں حائل نہ تھی۔
"حامنا۔" کامران ایک پتھر سے ٹکرایا تو چیخا۔
"آؤ نا" حامنا نے پیچھے پلٹ کر کہا۔
"آؤں کیسے راستہ سجھائی نہیں دے رہا۔" کامران نے بے بسی ظاہر کی۔
"اوہ...یہ تو مجھے خیال ہی نہیں رہا کہ میرے ساتھ ایک آدم زاد بھی ہے جسے صرف دن کی روشنی میں دکھائی دیتا ہے۔" حامنا پلٹ کر واپس آیا۔
اور پھر اس نے کامران کا ہاتھ پکڑا اور بولا "بس چلے آؤ“
غار میں باہر کے مقابلے میں اور بھی اندھیرا تھا اتنا گھور اندھیرا کہ آنکھیں کھولنا مشکل تھا کامران آنکھیں بند کیئے حامنا کے سہارے آگے بڑھ رہا تھا۔ آگے جا کر اس کی بند آنکھوں نے روشنی کا پتہ دیا۔ اس نے آنکھیں کھولیں تو غار کو روشن پایا۔ کامران نے چاروں طرف نظریں دوڑا کر روشنی کا زریعہ معلوم کرنا چاہا کہ روشنی کدھر سے آرہی اور کسی چیز کی ہے لیکن ناکام رہا۔
حامنا کامران کو کھڑے رہنے کا اشارہ کر کے غار میں بنے ایک سوراخ میں چلا گیا۔ کچھ دیر کے بعد نکلا تو اس کے ہاتھ میں لپٹا ہوا قالین اور گاؤ تکیہ موجود تھا۔ اس نے قالین بچھا کر اوپر تکیئے لگا دیئے اور کامران سے کہا ۔ "آؤ بیٹھو“
کامران آرام سے آلتی پالتی مار کر قالین پر بیٹھ گیا تو حامنا نے پوچھا۔ "بولو کیا کھاؤ گے"
”تم لوگ جو کھاتے ہو وہی۔‘‘ قامران نے کہا۔
"ہمارا کھانا انسانوں سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ تم نہیں کھا سکو گے“
"پھر مجھے انسانوں والا ہی کھانا کھلا دو۔“
"ابھی لو" یہ کہہ کر حامنا نے اپنے دونوں ہاتھ آگے پھیلائے اور بیٹھے بیٹھے غائب ہوکر کچھ دیر کے بعد وہ واپس آیا تو اپنے ساتھ انواع و اقسام کے کھانے لایا اور اس کے سامنے رکھتے ہوئے بولا۔ ”لوکھاؤ"
سارے کھانے ایک دم گرم اور بے حد مزیدار تھے۔ کامران کا دو دن سے خشک میوں اور اسی طرح کی الا بلا چیزوں پر گزارا تھا۔ اب کھانا سامنے آیا تو اس کی بھوک ایک دم چک اٹھی۔ وہ سائری دیوتا کام لے کر کھانوں پر ٹوٹ پڑا۔ حامنا اسے بڑی دلچسپی سے کھانا کھاتے ہوئے دیکھتا رہا۔ کھانے سے فارغ ہو کر قامران نے اپنے پیٹ پر ہاتھ پھیرا اور بولا "ہاں حامنا اب سناؤ"
"بس کیا سناؤں اے آدم زاد“
"میرا نام قامران ہے۔" تامران نے اسے ٹوک دیا۔
"کامران بس یوں سمجھ لو کہ میری جان بڑی مشکل میں ہے اور نہیں معلوم کہ اس ظالم سے میرا چھٹکارا کب ہو؟“
تم کس کے قبضے میں ہو؟“
"لائی چامہ کے"
"یہ کسی جگہ کا نام ہے یا کسی شخص کا؟"
"لائی چامہ اس ظالم کا نام ہے جس نے مجھے قید کر رکھا ہے۔"
"لیکن تم مجھے کسی کی قید میں دکھائی نہیں دیتے۔ کیا قیدی ایسے ہی ہوتے ہیں تم بڑے آرام سے میرے سامنے بیٹھے ہو۔“ قامران بولا
"ہاں یہ نام نہاد آزادی بیڑیوں والی قید سے کہیں بہتر دکھائی دیتی ہے لیکن ایسا نہیں لائی چامہ مجھے کسی بھی وقت بلاسکتا ہے۔ اس کا اشارہ ملتے ہی مجھے اس کی خدمت میں حاضر ہونا پڑتا ہے"
تمہیں کس طرح معلوم ہوتا ہے کہ وہ بلا رہا ہے؟"
"جب اس کا بلاوا آتا ہے تو میری گردن میں سوئیاں سی چبھنے لگتی ہیں اور اس وقت تک چبھتی ہیں جب تک اس کے سامنے حاضر نہ ہو جاؤں اور یہ اتنی تیز ہوتی ہیں کہ مجھے اپنی جان جاتی ہوئی دکھائی دینے لگتی ہے۔"
"تم اس کی قید میں کب سے ہو؟“
بہت عرصے سے۔۔۔۔میرا خیال ہے چار پانچ سال تو ہو گئے ہوں گے“
"تم سے کس قسم کے کام لیتا ہے۔ تم کچھ ناجائز کاموں کا ذکر رہے تھے؟“
"شروع میں تو وہ مجھ سے اشیاء کی فراہمی کا کام لیتا رہا۔ بعد میں اس نے مجھے ایک ایسے کام پر لگا دیا جو نہ صرف ذلت آمیز ہے بلکہ افسوسناک بھی اور میرا خیال ہے کیونکہ میں لوگوں کے دل دکھاتا ہوں اس لیے کائنات کے مالک نے میرا اکلوتا بچہ مجھ سے چھین لیا۔ پر میں کیا کروں بے بس اور مجبور ہوں۔" حامنا یہ کہہ کر رو پڑا
"وہ کام تو بتاؤ" قامران نے اس کے آنسوؤں کو نظرانداز کرتے ہوئے کہا۔
"وہ مجھ سے لڑکیاں منگواتا ہے۔“ حامنا نے اپنے آنسو پونچھے۔
"لڑکیاں؟“ قامران کچھ سمجھا، کچھ نہ سمجھا۔ لائی چامہ کو ہر رات ایک نئی لڑکی درکار ہوتی ہے اور ان لڑکیوں کی فراہمی کا کام میرے ذمے ہے۔" حامنا کی آنکھوں میں پھر آنسو تیرنے لگے۔ "اب تم ہی کہو یہ کام ذلت آمیز اور دل دکھانے والا ہے کہ نہیں؟"
"اس میں کیا شبہ ہے۔‘‘ کامران نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا۔ ”حامنا تم فکر نہ کرو سائری دیوتا نے چاہا تمہیں اس ظلم سے نجات مل جائے گی۔ میں تمہارے ساتھ ہوں اور اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھوں گا جب تک تمہیں آزادی نہیں مل جاتی"
"قامران میں سات پشتوں تک تمہارا احسان مند رہوں گا جب تک جیوں گا" حامنا ممنونیت سے بولا
"لائی چامہ رہتا کہاں ہے؟‘‘ کامران نے سوال کیا ۔
"لائی چامہ یہاں سے مغرب کی طرف روپ چا نامی بستی میں رہتا ہے۔"
"تم مجھے بستی تک پہنچا سکتے ہو؟“
"کیوں نہیں.......بہت آسانی سے۔“
"اچھا اگر میں گھوڑی پر سوار ہو کر جاؤں تو کتنے دن میں وہاں پہنچوں گا؟"
"تقریبا چار دن“
"اور تم مجھے کتنی دیر میں پہنچا دو گے؟“
صرف چند لمحوں میں
”ٹھیک ہے پھر میں وقت کیوں ضائع کروں؟ تم مجھے وہاں تک پہنچا دو لیکن میری گھوڑی کے ساتھ"
"میں تیار ہوں۔“
"مجھے وہاں پہنچانے سے پہلے ایک کام کرو...مجھے کچھ ہیرے لادو میں ہیروں کے سوداگر کی حیثیت سے روپ چا میں داخل ہونا چاہتا ہوں۔“
"ٹھیک ہے تم آرام کرو میں ہیرے لے کر آتا ہوں۔" یہ کہہ کر حامنا نے اپنے دونوں ہاتھ آگے پھیلائے اور غائب ہوگیا۔ کامران حامنا کے جانے کے بعد قالین پر آرام سے لیٹ گیا۔ تھکا ہوا تو تھا ہی اوپر سے کھانا ضرورت سے زیادہ کھا لیا تھا۔ لیٹتے ہی نیند کی آغوش میں چلا گیا۔ جانے وہ کتنی دیر سویا۔
حامنا آیا تو اس نے کامران کے کندھے کو ہلا کر اٹھایا۔ کامران ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا۔
" لے آۓ؟" قامران نے اپنی آنکھیں ملتے ہوئے پوچھا۔
”ہاں پہلے یہ دیکھو" حامنا نے اپنی بغل سے ایک خوبصورت سا لباس نکال کر اس کی آنکھوں کے سامنے لہرایا۔
”تم نے بہت اچھا کیا لباس بھی لے آئے۔ میرا لباس کافی میلا ہو گیا تھا۔ لاؤ ہیرے کہاں ہیں؟‘‘ قامران نے لباس اس کے ہاتھ سے لے لیا۔ حامنا نے کمر سے بندھی ایک تھیلی نکال کر کامران کے سامنے کی۔ "یہ کو اس دنیا کے بیش قیمت ہیرے۔" کامران نے اس تھیلی کو الٹ پلٹ کر دیکھا اسے یہ تھیلی کچھ مانوس سی لگی۔ پھر کچھ سوچتے ہوئے اس نے تھیلی کھولی ۔ جگمگ جگمگ کرتے پتھروں کو دیکھ کر اس کا شبہ یقین میں بدلنے لگا۔
"حامنا یہ ہیرے دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اپنا ہی تیر اپنے آپ کو آ لگا‘‘ قامران نے مسکراتے ہوۓ کہا۔
"کیا مطلب میں سمجھا نہیں۔" حامنا پریشان سا ہو گیا۔
"یہ ہیرے کہاں سے لائے ہو؟“ بستی کا نام تو مجھے معلوم نہیں البتہ میں تمہیں وہاں پہنچا سکتا ہوں۔“
”ہیرے تم نے لکڑی کے بڑے سے مکان سے اٹھاۓ ہیں۔؟“
”ہاں....غالبا وہ اس بستی کے سردار کا گھر تھا۔ اس سے بڑا مکان وہاں کوئی نہ تھا۔"
سائری دیوتا کی قسم تم نے مروا دیا۔۔۔حامنا میں نے تم سے ہیرے لانے کو کہا تھا یا چرانے کو؟"
"کامران کیا تم نہیں جانتے کہ میرے پاس ہیرے کی کوئی کان نہیں۔ ظاہر ہے ہیرے چرا کر لا سکتا ہوں۔" حامنا نے صاف صاف جواب دیا۔
"یہ ہیرے تم چقمان قبیلے سے اٹھا لائے ہو۔ میں نے وہاں کے سردار کو تحفے میں دیئے اسی لیے میں نے اس تھیلی کو دیکھ کر کہا تھا کہ اپنا تیرا اپنے ہی آلگا ہے۔“
"یہ تو بہت برا ہوا لاؤ میں انہیں ابھی واپس رکھ آتا ہوں۔“ رہنے دو تم کہیں اور سے چوری کر لاؤ گے یہ ہیرے کم ازکم اپنے تو ہیں۔ کام ، کے بعد واپس وہیں رکھوا دیں گے کیوں ٹھیک ہے؟"
"ٹھیک ہے۔" حامنا بھی شرمندہ سا ہو گیا۔ حامنا نے کامران کو روپ چا چھوڑنے سے پہلے کچھ نا مانوس سے الفاظ یاد کروائے جن کے سنتے ہی حامنا پھر اس کی خدمت میں حاضر ہوسکتا تھا۔ کامران نے وہ الفاظ پوری توجہ سے ذہن نشین کر لیے۔ صبح ہونے سے کچھ دیر پہلے حامنا نے کامران کو مع ابلا روپ چا پہنچا دیا۔
روپ چا کے چاروں طرف اونچی اونچی فصیلیں تھیں۔ کامران اس بلند دروازے کے سامنے گیا جو بستی میں داخل ہونے کا واحد راستہ دکھائی دیتا تھا۔ دروازہ ابھی بند تھا۔ کامران نے کچھ دیر ٹھہر کر سپیدۂ سحر نمودار ہونے کا انتظار کیا۔ تھوڑی سی دیر میں ہر سو اجالا پھیلنے لگا۔ پھر سورج بھی نکل آیا کامران کا خیال تھا کہ صبح ہوتے ہی دروازه خود بخود کھل جائے گا لیکن یہ خیال خام ثابت ہوا وه ابلا سے اتر کر دروازے کے نزدیک پہنچا اور اس میں لگی بھاری زنجیر کو زور سے ہلایا۔
" کون ہے؟‘‘ دروازے کے اندر سے آواز آئی۔
"ایک مسافر‘‘ کامران نے جواب دیا۔
"اچھا ٹھہرو۔" اس سے کہا گیا اور پھر دروازہ کھولے جانے کی آوازیں آنے لگیں۔ کھٹاک کی کئی آوازوں کے بعد دروازہ کھل گیا۔
"یہاں کیا لینے آئے ہو؟“ کامران کے سامنے چھوٹی آنکھوں اور پستہ قد کا محافظ کھڑا تھا۔ ہاتھ میں تیز دھار کا نیز ه تھا۔
"میں پورب سے آیا ہوں...سوداگر ہوں ہیرے بیچتا ہوں۔" کامران نے بتایا۔
"ہیروں کے سوداگر ہو؟“ اس محافظ نے اپنی چھوٹی چھوٹی آنکھیں بڑی کرنے کی کوشش کی۔ "اندر آؤ"
"جانتے ہو یہ کس کی بستی ہے؟" وہ محافظ دروازہ بند کر کے بولا۔
"نہیں۔" کامران نے گردن ہلا کر انکار کیا۔
”لاشاہ کی بستی ہے وہ یہاں کا راجا ہے لیکن نام کا راجہ“
"نام کا کیوں کام کا کیوں نہیں؟"
"راج تو لائی چامہ کا چلتا ہے مقدس لائی چامہ کا اور وہ ہے بھی راج کے قابل۔“
لیکن اصل راجا اتنا بے بس کیوں ہے؟‘‘ کامران نے وضاحت چاہی
"نہیں بے بس تو نہیں ہے راجہ کو مقدس لائی چامہ سے خود اتنی عقیدت ہے کہ اس کے مشورے کے بغیر کوئی کام نہیں کرتا اور تم جب مقدس لائی چامہ کو دیکھو گے تو تمہارا جی اس کے سامنے سے ہٹنے کو نہ چاہے گا۔۔۔۔۔وہ روشنی ہی روشنی ہے ٹھنڈی روشنی" محافظ نے لائی چامہ کی شان میں قصیدہ کہتے کہتے اپنی آنکھیں بند کر لیں جیسے وہ اس کے تصور میں آ گیا ہو۔
"تم نے مقدس لائی چامہ کی اتنی تعریف کی ہے کہ میرا جی اسے دیکھنے کے لیے بے تاب ہو گیا ہے ۔میں اس سے کیسے مل سکتا ہوں؟‘‘ کامران نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا
"تمہیں مقدس لائی چامه سے صرف شوشو ملواسکتی ہے۔" محافظ نے بتایا۔
"شوشو کون"
اس بستی کی سب سے دلچسپ عورت اور اس بستی کی واحد سرائے کی مالکہ۔“
"پھر میں وہاں ٹھہر بھی سکتا ہوں۔“
"ہاں کیوں نہیں...وہ تمہارا خاص خیال رکھے گی۔ اسے تم جیسے جوانوں سے نمٹنا آتا ہے۔ اس کے سامنے جا کر میرا نام لینا کہنا کہ تائی شیک نے تمہیں بھیجا ہے۔ وہ نہ صرف تمہیں لائی چامہ سے ملوا دے گی بلکہ تمہارے آرام کا بھی ہر طرح سے خیال رکھے گی۔“ محافظ نے مسکراتے ہوئے کہا۔ ”اور اسے یہ بتانا ہرگز نہ بھولنا کہ تم ہیروں کے سوداگر ہو"
"ٹھیک ہے میں چلتا ہوں۔" یہ کہہ کر کامران نے جست لگائی اور ابلا کی پیٹھ پر۔
’’جاؤ.......مقدں لائی چامہ تمہاری حفاظت کرے۔" محافظ نے دعا دی۔
کامران نے ابلل کو ہلکی سی ایڑ لگائی۔ ابلا آہستہ روی سے چلنے لگی۔ کامران ادھر ادھر دیکھتا بھالتا آگے بڑھنے لگا۔ اسے راستے میں جتنے مرد اور عورتیں نظر آئیں ان میں خوبصورتی نام کو نہ تھی۔ وہی چھوٹے چھوٹے قد، بڑے بڑے سر، چھوٹی چھوٹی آنکھیں، موٹے موٹے ہونٹ، رنگت سفید پر زردی مائل۔ عام چہرے، جسمانی صحت بھی کوئی خاص ن تھی ایسے ہی ڈھیلے ڈھالے۔
کامران نے آبادی میں پہنچ کر شوشو کی سرائے کا پتہ معلوم کیا جو اسے فوراً بتا دیا گیا۔ کامران نے سرائے کے دروازے پر ابھی اپنی گھوڑی کو کھڑا ہی کیا تھا کہ سرائے کا دروازہ کھل گیا اور جو عورت اس دروازے سے برآمد ہوئی وہ ان عورتوں سے بہت مختلف تھی جنہیں اب تک کامران نے بستی میں دیکھا تھا۔ قد تو اس کا بھی چھوٹا ہی تھا لیکن سر اور جسم اس کا بڑا متناسب تھا۔ آنکھیں قدرے بڑی، غلافی ہونٹ بھرے بھرے، دہانہ چھوٹا اور نازک۔ وہ اسے دیکھ کر مسکرائی اور مستانہ چال چلتی اس کی طرف بڑھی...وہ واقعی دلچسپ عورت تھی اور اسے شوشو ہی ہونا چاہیے تھا۔
"شوشو ہو تم؟‘‘ قامران نے اسے اپنی طرف بڑھتے دیکھ کر تصدیق چاہی
"میں تو خیر شوشو ہوں پر تم کون ہو؟‘‘ شوشو نے ایک ادا سے کہا۔
"ہیروں کا سوداگرا‘‘ کامران نے اپنا تعارف کروایا"
"ہیروں کا سوداگر"
شوشو کی آنکھیں قدرے بڑی ہو گئیں۔
"ہاں میں ہیروں کا سوداگر ہوں میرے پاس بیش قیمت ہیرے ہیں میں پورب سے آیا ہوں کیا تمہاری سرائے میں جگہ مل سکتی ہے؟"
"سرائے تو بہت چھوٹی ہے ہم تمہیں اپنے دل میں جگہ دینے کو تیار ہیں"
"کیا آپکا دل اس سرائے سے بڑا ہے؟" قامران نے خوشدلی سے کہا
"سرائے تو کچھ نہیں ہمارے دل میں پوری کائنات سما سکتی ہے"
"تمہارے بارے میں تائی شیک نے ٹھیک کہا تھا کہ تم اس بستی کی سب سے دلچسپ عورت ہو"
"اور کیا کہا تھا اس تائی شیک کے بچے نے؟"
اس نے کہا تم مجھے لائی چامہ سے آسانی سے ملوا سکتی ہو"
کیا تم لائی چامہ اے ملنا چاہتے ہو؟"
"ہاں"
"مگر کیوں"
"اس بستی میں آ کر اگر لائی چامہ کی زیارت نہ کی پھر کیا کیا" کامران نے عقیدت مندی سے کہا۔
"اچھا میں کوشش کروں گی"
پھر اس نے دروازے کے قریب جا کر آواز دی "لوچا"
تھوڑی دیر بعد ایک بد صورت سا آدمی دروازے سے باہر آیا اور شوشو کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو گیا
"جاؤ یہ گھوڑی لے جاؤ اور اسکی دیکھ بھال کرو" شوشو نے کہا
اس بدصورت آدمی نے ابلا کی لگام تھام لی اور آگے بڑھ گیا
"آؤ نوجوان تمہاری دیکھ بھال میں کروں گی لمبے سفر سے آئے ہو پہلے نہا دو لو پھر کھانے پینے کی بات چلے گی" مسکراتے ہوئے کہہ کر شوشو آگے بڑھتی گئی
"بہت خوب" قامران پیچھے پیچھے چلنے لگا
غسل کر کے جب قامران باہر آیا تو صبح کا ناشتہ تیار تھا
"آؤ۔۔۔۔نوجوان سوداگر۔۔۔۔ناشتہ ایک دم تازہ ہے"
"میرا نام قامران ہے" وہ ایک چوکی پر بیٹھتے ہوئے بولا
"قامران؟ ۔۔یہ کیا نام ہوا بھلا۔۔۔۔؟" شوشو اپنے چھوٹی سی ناک چڑھاتے ہوئے کہا
"کیوں.......؟ کیا برائی ہے؟" تامران لقمے منہ میں رکھتے ہوئے بولا۔
"کچھ عجیب سا ہے؟‘‘ شوشو نے منہ بنا کر کہا۔
"شوشو سے تو اچھا ہے"
"میرا اصل شونار ہے۔ لوگوں نے خوامخواہ میرا نام بگاڑ رکھا ہے۔"
"اچھا یہ بتاؤ مقدس لائی چامہ سے کب ملوا رہی ہو؟"
"تم اس سے تنہائی میں ملنا چاہتے ہو یا سب کے سامنے............ویسے وہ مردوں سے ملتے ہوئے کتراتا ہے۔“
"اور عورتوں سے؟“
"عورتوں سے کسی بھی وقت مل لیتا ہے کوئی پابندی نہیں۔"
"بہت خوب۔“ قامران کے لہجے میں طنز تھا
"اس بستی کے مردوں کو اس بات پر اعتراض نہیں...."
"اس میں اعتراض کی کیا بات ہے بھلا یہاں کے مرد خود اپنی عورتوں کو اسکی خدمت میں بھیج دیتے ہیں اور وہ عورت یہاں خوش قسمت گردانی جاتی ہے جو مقدس لائی چامہ کی مقدس خاک لے کر واپس آئے“
"مقدس خاک............اس کا کیا فائدہ؟" قامران نے پوچھا۔
"بس یوں سمجھ لو کہ مقدس خاک سو دکھوں کا ایک علاج ہے۔ جس کے پاس مقدس خاک ہو وہ مالا مال ہو جاتا ہے۔"
"مجھے بھی وہ مقدس خاک مل سکتی ہے۔۔؟ میں اس مقدس خاک کے بدلے تمام ہیرے اسے دینے کے لیے تیار ہوں۔“ قامران نے بڑے جوش سے کہا۔
"مقدس لائی چامہ کو ہیرے جواہرات کی ضرورت نہیں ہے وہ بے لوث ہے۔ کہیں اس سے مل کر ایسی احمقانہ پیش کش نہ کر دینا۔“ شوشو نے تنبیہ کی۔
"پھر مجھے مقدس خاک کیسے ملے گی؟"
"مقدس خاک مانگنے سے نہیں ملتی وہ جسے چاہتا ہے دے دیتا ہے۔ دینی ہوتی ہے تو پہلے دن مل جاتی ہے ورنہ برسوں نہیں ملتی۔“
"خیر ہم بھی قسمت آزما کر دیکھیں گے۔" کامران نے اٹھتے ہوئے کہا ۔
"ضرور.............میں تمہیں کل ہی لے چلوں گی۔“
ناشتے کے بعد قاصران بستی میں گھومنے کے لیے نکل گیا۔ وہ دوپہر تک بستی میں گھومتا رہا وہ جدھر بھی نکل جاتا لوگ اسے دیکھنے کے لیے کھڑے ہو جاتے۔ اس بستی کی عورتوں کے لیے وہ بطور خاص توجہ کا مرکز بنا۔ ایسا خوبصورت قد آور نوجوان بستی کی عورتوں نے بھلا کہاں دیکھا تھا؟
دوپہر کے بعد اس نے سرائے میں آرام کیا اور شوشو سے باتیں کیں اسے ہیرے دکھائے رات ہوتے ہی شوشو نے اس کے لیے ایک آرام دہ بستر لگا دیا اور کمرے میں چراغ جلا کر چلی گئی ۔ دن میں آرام کر لینے کی بوجہ سے رات کو بڑی دیر سے آنکھ لگی ۔ وہ کروٹیں بدلتا رہا۔ پھر جانے کب اسے نیند نے آ گھیرا ۔ سوتے ہوئے اچانک اس نے ایسا محسوس کیا جیسے کسی نے اس کے بازو میں کاٹ لیا ہو وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا ۔ اس نے پریشان ہو کر اپنے بازو کی طرف دیکھا تو دیکھتا رہ گیا۔ ایک نیزے کی نوک اس کے بازو میں گھسی ہوئی تھی اور اس کے چاروں طرف چھ سات آدمی کھڑے تھے ۔ ہر ایک کے ہاتھ میں تیز دھار کا نیزه تھا اور ہر نیزے کی کی نوک اسکی طرف اٹھی ہوئی تھی۔ تبھی دروازے سے شوشو داخل ہوئی ادا سے مستانہ چال چلتی ہوئی وہ کامران کے پاس آ کر بولی۔
"کامران اگر زندگی چاہتے ہو تو تمام ہیرے میرے حوالے کر دو۔“
اب یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوگئی تھی کہ شوشو واقعی روپ چا کی سب سے دلچسپ عورت ہے اس ڈرامے باز عورت نے زبردست ڈرامہ کر دیا تھا۔ کامران اس وقت خود کو بے بس محسوس کر رہا تھا"
"شوشو مجھے تم سے ہرگز ایسی امید نہ تھی تم پتھروں کی خاطر میری جان کے درپے ہو جاؤ گی ہیرے پسند آ گئے تھے تو مجھسے ایک بار انگ کر دیکھتی اگر میں انکار کرتا پھر چھیننے کی کوشش کرتی ایک بار مجھ سے فرمائش کی ہوتی۔" قامران کچھ سوچنے کی مہلت چاہتا تھا۔ اسی لیے اسے باتوں میں الجھانے کی کوشش کی۔"
"ماگتے وہ ہیں جسے چھیننا نہ آتا ہو۔" شوشو اکڑتے ہوئے بولی۔
"اچھا پھر ایک بات بڑے غور سے سن لو اور اپنے چیلوں کو بھی ذہن نشین کروا دو۔" قامران نے شوشو کو گھورتے ہوئے کہا۔
” قامران نے اس طرح کبھی کچھ نہیں دیا اسے اپنے مال کی حفاظت کرنا آتی ہے وہ خود چھیننے والوں میں سے ہے"
"نوجوان سوداگر کیوں اپنی جان کے پیچھے پڑا ہے۔ میں نہیں چاہتی تیرا خون میری وجہ سے بہے بہتر ہے کہ تو سیدھے ہاتھ سے ہیرے میرے حوالے کر دے۔“ شوشو نے قامران کی آنکھوں میں آنکھیں میں ڈال کر کہا۔
"شوشو میری جان کی فکر مت کر ہیرے میرے سرہانے بستر کے نیچے ہیں آ کے لےلے“ قامران نے ہنس کر اسے آنکھ ماری۔
"تیری یہ جرات" وہ بھڑک اٹھی۔
کامران نے اتنی دیر میں طے کر لیا تھا کہ کیا کرنا ہے۔
اس نے دل ہی دل میں حامنا کو بلانے والے الفاظ دہرائے ۔ ابھی الفاظ کی بازگشت اس کے دل ہی میں تھی کہ حامنا حاضر ہوگیا۔
چند لمحوں میں اس نے یہاں کی صورتحال کا اندازہ لگا لیا اور کامران سے مطمئن رہنے کا اشارہ کیا۔
حامنا اس وقت شوشو کے بالکل پیچھے کھڑا تھا اور اسے اس وقت کامران کے سوا کوئی اور نہیں دیکھ سکتا تھا۔ کامران نے اطمینان کی ایک گہری سانس لی ۔
"بے وقوف سوراگر بغیر جان سے ہاتھ دھوئے نہیں مانے گا چلو اس کے سرہانے ۔ ہیروں کی تھیلی نکال لو" شوشو نے اپنے ایک گرگے کو آگے بڑھنے کا اشارہ کیا۔ "اگر یہ مزاحمت کرے ساتوں نیزے ایک ساتھ اس کے جسم میں اتار دو"
"روپ چا کے بدصورت لوگو میں آخری بار تمہیں کہہ رہا ہوں اگر ہیروں کو ہاتھ لگایا تو نتیجے کے تم خود ذمہ دار ہو گے۔" کامران نے سخت لہجے میں کہا ۔ "آگے بڑھو"؛شوشو نے حکم دیا۔
ان ساتوں گرگوں میں سے ایک گرگا جو ان میں سب سے زیادہ مضبوط تھا آگے بڑھا اس کے آگے بڑھتے ہی حامنا اس کے پیچھے چلا۔ کامران سرہانے سے نکل آیا اور حامنا کی کارروائی دلچسپی سے دیکھنے لگا۔
کامران کو پیچھے ہٹتے دیکھ کر وہ گرگا مسکرا دیا جیسے کہہ رہا ہو بس ویسے ہی رعب جمارہے تھے ۔ جیسے ہی وہ گرگا تھیلی نکالنے کے لیے جھکا تو کامران چیخا۔
"حامنا....اس اونٹ کے بچے کو اٹھا کر باہر پھینک دو“ حامنا نے زور سے اس کی گردن پکڑی۔ اس غیر متوقع آفت پر وہ زور سے چلایا۔
"چھوڑو“ شوشو اور اس کے گرگوں نے اس گرگے کو چھت کی طرف اٹھتا ہوا دیکھا۔ جیسے کسی نے اس کی گردن پکڑ کر ٹانگ لیا ہو۔ پھر وہ اسی طرح ٹنگے ٹنگے دروازے سے نکل گیا اور پھر اندر والوں کو ایک زور دار دھماکے اور چیخ کی آواز سنائی دی۔ جسے اس گرگے کو بلندی سے کسی نے اٹھا کر دے مارا ہو شوشو اور اس کے گر گے قامران کا شعبدہ دیکھ کر سکتے میں آگئے۔ حامنا دوبارہ کمرے میں داخل ہوا اور اس نے اشارے سے پوچھا۔
"اب کیا کروں؟"
"انہیں نہتا کر دو" کامران نے بلند آواز میں کہا۔ صرف چند لمحوں میں ان گرگوں کے نیزے سے زمین پر تھے۔ حامنا نے بڑے اطمینان سے ایک ایک نیزہ اکٹھا کیا۔ پھر وہ یہ دیکھ کر مزید خوفزدہ ہو گئے کہ تمام نیزے خودبخود ایک جگہ اکٹھا ہوئے اور فضا میں تیرتے ہوئے باہر نکل گئے۔
"اب بولو شوشو۔“ قامران نے ایک مرتبہ پھر اسے آنکھ ماری۔
"مجھے معاف کر دو قامران" شوشو اس کے پاؤں پر گر پڑی۔
گرگوں نے شوشو کو اس طرح قدموں میں گرتے دیکھا تو وہ خود بھی سجدے میں گر گئے حامنا یہ منظر دیکھ کر مسکرایا.........قامران بھی جوابا مسکرایا اور اسے جانے کا اشارہ کیا۔
حامنا اس کا اشارہ پاتے ہی زمین پر بیٹھ گیا۔ اس نے اپنے دونوں ہاتھ آگے پھیلائے اور غائب ہو گیا۔
کامران نے قدموں میں گری شوشو کو اٹھایا اور اس کا چہرہ اپنی طرف کرتے ہوئے کہا "تمہیں ہیرے چاہیئے، ٹھہرو میں دیتا ہوں"
کامران نے اپنے سرہانے سے وہ مخملی تھیلی نکال کر اسکے آگے ڈال دی ”یہ لو اب خوش و جاؤ "
"مجھے مزید شرمندہ نہ کرو مجھ سے بھول ہوگئی مجھے معاف کر دو"
"اب تو کسی مسافر کو لوٹنے کی کوشش نہیں کروگی؟‘‘ کامران نے عہد لیا ۔
"نہیں کبھی نہیں۔ میں صدق دل سے توبہ کرتی ہوں"
"پھر اٹھو اور ان ذلیل صورتوں کو میرے سامنے سے ہٹاؤ“
"چلو بھاگو" شوشو نے اپنے گرگوں کو حکم دیا۔
ایک گرگے نے عقیدت سے اس کے قدم چومنے کی کوشش کی جس پر کامران بھڑک اٹھا۔ "خبردار اگر کسی نے میرے پیروں کو ہاتھ لگانے کی کوشش کی؟“
سارے گرگے سہم کر ایک دوسرے پر گرتے پڑتے کمرے سے نکل گئے۔
ان گرگوں کے جانے جے بعد شوشو نے ایک مرتبہ پھر کامران کے قدموں میں گرنے کی کوشش کی لیکن کامران نے اسے روک لیا ۔ "تم نے اگر صدق دل سے اپنے گناہ سے توبہ کر لی ہے تو میں نے بھی تمہیں صدق دل سے معاف کر دیا ہے۔ اب تم میری گھوڑی تیار کروا دو میں تمہاری سراۓ چھوڑنا چاہتا ہوں۔ میں یہاں ایک پل نہیں رہنا چاہتا۔" کامران نے فیصلہ کن انداز میں کہا۔
"اس کا مطلب ہے کہ تم نے ابھی تک مجھے معاف نہیں کیا۔ اور ٹھیک بھی ہے میں نے غلطی ہی ایسی کی تھی۔ معافی تو دور کی بات ہے تم مجھ پر جتنا غصہ کرو کم ہے‘‘ شوشو نے عقیدت سے قامران کا ہاتھ تھام لیا۔ "میں تم سے ایک گزارش کروں گی کہ اب گزارش ہی کرسکتی ہوں ۔ تم جب تک بستی میں ہو میری سرائے نہ چھوڑو مجھے کچھ خدمت کا موقع دو۔"
"اچھا ٹھیک ہے میں رک جاتا ہوں۔" کامران نے پلٹ کر ہیروں سے بھری تھیلی اسکی طرف بڑھائی۔ یہ ہیرے اپنے پاس رکھ لو۔"
"نہیں میں نہیں لوں گی۔" وہ پیچھے ہٹتی ہوئی بولی۔
"یہ تھیلی میں تمہیں بخش نہیں رہا بلکہ امانتاً رکھوا رہا ہوں۔ مجھے ضرورت پڑے گی تو تم سے لے لوں گا" قامران نے مسکراتے ہوئے کہا۔ ”میرا خیال ہے کہ اب تم مجھ سے بہتر ان کی حفاظت کر سکو گی۔"
"ایک لٹیرے پر اتنا اعتماد“ شوشو نے اسے بڑی احسان مندی سے دیکھا۔"
"ہاں لٹیرا جب محافظ بنتا ہے تو حق ادا کر دیتا ہے۔" کامران نے اس کے ہاتھوں پر تھیلی رکھ دی اور بولا ۔ ”یہ لو اور جاؤ...........میں اب ذرا تھوڑا سا آرام کرلوں۔“
"کل پھر مقدس لائی چامہ سے ملنے کا ارادہ ہے؟‘‘ شوشو نے جاتے جاتے پوچھا۔
"ہاں بلکل" قامران نے بستر پر لیٹے ہوۓ کہا ”ذرا دروازہ بند کر جانا"
دروازہ بند ہوتے ہی کامران نے اطمینان سے ٹانگیں پھیلا دیں۔ اس کی آنکھیں نیند سے
بوجھل ہو رہی تھیں وہ لیٹتے ہی سو گیا۔ صبح ہوتے ہی شوشش نے کامران کے کمرے کے کئی چکر لگائے مگر اسے ہر بار سوتا دیکھ کر اسے جگانے کی کوشش نہیں کی۔ پھر خود ہی کامران کی آنکھ کھل گئی۔
ایک کھڑکی میں دھوپ آ رہی تھی ۔ اس نے بڑی تیزی سے بستر چھوڑ دیا۔ کھڑے ہو کر اس نے ایک زور دار انگزائی لی تبھی شوشو دروازے میں دکھائی دی۔
وہ نئے ریشمی لباس میں بڑی بھلی لگ رہی تھی۔ شاید یہ تیاری اس نے لائی چامہ سے ملاقات کے سلسلے میں کی تھی۔
"اٹھ گئے“ شوشو اندر آتے ہوئے بولی۔
"ہوں" ۔ کامران نے مسکراتے ہوئے گردن اثبات میں ہلائی۔
"نہاؤ گے۔"
”ہاں"
"پھر جلدی سے نہا لو ناشتہ تیار ہے۔"
"بس میں یوں نہا کر آیا" کامران نے چٹکی بجائی۔ " تم جب تک کھانے پینے کا انتظام کرو ۔ میرا مطلب ہے ناشتہ لے آؤ“
"نہاتے نہاتے اسے اچانک محسوس ہوا جیسے کوئی اسے دیکھ رہا ہے۔
کامران نے دروازہ پر نگاہ کی۔ دروازہ مکمل بند تھا۔ وہاں کسی کی موجودگی کا گمان نہ تھا کامران نے پھر چاروں طرف نظریں دوڑائیں لیکن اسے کوئی ایسی جگہ دکھائی نہ دی جس سے اسے دیکھا جا سکے پھر اس نے اس خیال کو اپنا ہم سمجھ کر دل سے جھٹک دیا اور جانے لگا پھر چھوٹے سے آئینے کے سامنے آ کھڑا ہوا جو غسل خانے کی دیوار پر لگا ہوا تھا۔ کامران نے اپنے ہاتھوں سے بالوں کو ٹھیک کیا اور باہر نکلنے لگا۔
باہر نکلتے نکلتے اسے کچھ خیال آیا۔ وہ واپس آئینے کی طرف آیا اور ہاتھ بڑھا کر دیوار سے اتار لیا۔ آئینہ اتارتے ہی اسے ایک سوراخ دکھائی دیا جو دیوار کے آر پار تھا۔ آئینہ بھی خاصا پرانہ تھا۔ اس کی جگہ جگہ سے قلعی اکھڑی ہوئی تھی۔ کامران نے خاص طور سے محسوس کیا کہ آئینے کی قلعی سوراخ کے سامنے سے بھی اکھڑی ہوئی ہے۔ اس سے غسل خانے میں بڑی آسانی سے جھانکا جاسکتا تھا۔
کامران کی چھٹی حس نے اسے ٹھیک ہی آگاہ کیا تھا۔ یہ خیال کہ کوئی اسے دیکھ رہا ہے وہم نہ تھا ۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ یہاں سے کسی نے جھانکا تھا۔ اس وقت وہاں کوئی اور نہیں تھا
کیا وہ شوشو تھی؟ تامران آئینہ دیوار پر جوں کا توں لگا کر سوچتا ہوا اپنے کمرے کی طرف بڑھا۔
اتنے میں اسے شوشو دکھائی دی جو اسی کی طرف آرہی تھی۔ کامران نے اس کا چہرہ بغور دیکھا لیکن وہاں اسے سوقیانہ پن کے آثار دکھائی نہ دیئے۔ اس کے پر ایک طرح کی معصومانہ سنجیدگی طاری تھی۔ کامران نے غسل خانے والے سوراخ کا ذکر نہ کیا ۔ اس نے خاموشی سے ناشتہ کیا اور پھر وہ دونوں مقدس لائی چامہ سے ملنے کے لیے سرائے کے لیئے نکل آئے
راستے میں شوشو نے کچھ ہدایتیں دیں۔ ان ہدایوں میں سر فہرست جو بات تھی وہ یہ کہ مقدس لائی چامہ کے سامنے کوئی بات کرنا بدترین جرم ہے اور اس کی سزا بھی بہت سخت ہے۔ وہ اپنے عمل سے اپنے سامنے بولنے والے آدمی کو گونگا بہرہ کر دیتا ہے۔ کامران نے یہ بات اپنی گره میں باندھ لی
لائی چامہ کی رہائش گاه غار نما تھی۔ سرخ پتھروں کی اس چھوٹی سی عمارت کا ایک ہی دروازہ تھا اور وہ بھی بہت چھوٹا کہ روپ چا کے لوگوں کو سر جھکا کر اس کے مٹھ میں داخل ہونا پڑتا تھا اور قامران کو اپنی کمر تک جھکانی پڑی۔
کامران نے جب سر اٹھایا تو حیران رہ گیا۔ اس کے سامنے ایک بہت بڑا ہال تھا جس میں، مرد اور عورتیں بیٹھی تھیں اور بالکل خاموش۔۔۔۔۔۔خاموشی بھی ایسی کہ سوئی گرنے کی آواز تک سنائی دے
اس ہال کے ایک کونے میں ایک چھوٹا سا دروازہ اور تھا جو بند تھا اور اس پر ایک نیزه بردار موجود تھا۔ شوشو نے آگے بڑھ کر اس محافظ سے آہستہ سے بات کی جسے کامران نہ سن سکا۔ اس نے شوشو کی بات سن کر اقرار میں گردن ہلائی اور دروازے پر ایک مخصوص انداز میں دستک دی۔ لمحوں دروازہ کھل گیا
وہ دونوں اندر داخل ہوئے۔ یہ ایک چھوٹا سا کمرہ تھا۔ بالکل خالی لیکن خوشبوؤں میں ڈوبا کامران نے خوشبو محسوس کر کے دو چار لمبے لمبے سانس لیے۔ اندر موجود نیزه بردار محافظ نے ایک نظر دونوں پر ڈالی اور اندرونی دروازے پر ایک مخصوص انداز میں دستک دی۔ اس طرح وہ دونوں آگے بڑھتے رہے ۔ مخصوس دستکوں کے جواب میں دروازے کھلتے رہے یہاں تک کہ انہوں نے سات دروازے اسی طرح عبور کیے۔ اب ان کے سامنے آٹھواں دروازہ تھا ۔ یہ دروازہ دوسرے دروازوں کے مقابلے میں بہت بڑا تھا اور اس دروازے پر بھاری لکڑی کے کواڑ چڑھے ہوئے تھے۔
ایک خاصی بات اور تھی....یہاں کوئی نیزه بردار محافظ نہ تھا۔ نیزه بردار محافظوں کی بجائے دو لڑکیاں موجود تھیں۔ ان کے ہاتھ میں لکڑی کے دو چھوٹے چھوٹے ڈنڈے تھے۔
ان دونوں کو دیکھ کر ان میں سے ایک لڑکی مسکرائی۔ شاید وہ شوشو سے واقف تھی۔
پھر اس نے کچھ کہے بغیر کواڑ میں بنے ایک بڑے سے سوراخ میں ڈنڈا ڈالا اور اسے چابی کی طرح گھمایا۔ اور دروازوں کو دھکا دے کر دیکھا۔ دروازہ کھل چکا تھا۔
ایک لڑکی دروازہ کھول کر اندر چلی گئی جبکہ دوسری دروازے پر ڈنڈا گھماتی ہوئی ادھر رہی۔
اس نے ان دونوں سے کوئی بات نہ کی۔ چند لمحوں بعد وہ لڑکی اندر سے واپس آئی اور اس نے اندر جانے کا اشارہ کیا۔ پھر ان کے ساتھ ہی اندر داخل ہوئی جبکہ دوسری دروازے پر ہی رہ گئی۔
سات سیڑھیاں چڑھ کر وہ اوپر پہنچے تو کامران اس عالیشان کمرے کی خوبصورتی دیکھتا رہ گیا
یہ کمرہ بے حد قیمتی سفید پتھروں سے بنایا گیا تھا۔ اس کمرے کے درمیان میں ایک چبوترہ تھا جس کے دونوں طرف سیڑھیاں بنی ہوئی تھیں۔ غالباً یہ جگہ مقدس لائی چامہ کے بیٹھنے کی جگہ تھی کمرے میں اس وقت لائی چامہ موجود نہ تھا۔ البتہ کئی لڑکیاں وہاں ادھر ادھر گھوم رہی تھیں
ایک لڑکی نے ان دونوں کو ایک جگہ بیٹھنے کا اشارہ کیا اور دروازے کی طرف گئی تھوڑی دیر میں سامنے کا دروازہ کھلا۔ چند لڑکیاں برآمد ہوئیں۔ وہ راستے میں پھول گراتی ہوئی آرہی تھیں۔ یہاں تک کہ یہ پھول اس چبوترے کی سیڑھیوں تک پہنچ گئے۔
یہ لڑکیاں پھول لیئے چبوترے کے ایک ایک کونے پر کھڑی ہو گئیں۔
اب وہ شخص داخل ہوا جو مقدس کہلاتا تھا لائی چامہ جس کا نام تھا۔ کچھ اس طرح کہ اس کے بازوں میں دونوجوان لڑکیاں دبی ہوئی تھیں اور وہ ان کے کندھوں پر ہاتھ رکھے بڑی شان سے چبوترے کی طرف بڑھ رہا تھا۔ کامران اور شوشو اسے دیکھتے ہی کھڑے ہو گئے اور اپنے سر جھکا لیے اور اس وقت جھکائے رہے جب تک انہیں اندازہ نہ ہو گیا کہ لائی چامه اب بیٹھ چکا ہوگا شوشو کے سر اٹھاتے ہی کامران نے بھی اپنی گردن سیدھی کر لی۔
پھر رسم کے مطابق شوشو بوسے کے لیے سیڑھیاں چڑھتی لائی چامہ کے نزدیک پہنچ گئی۔ اس نے لائی چارہ کا ہاتھ پکڑ کر تین بار چوما اور پھر اپنی آنکھوں سے لگایا۔ مقدس لائی چامہ اس عمل کے دوران پتھر بنا بیٹھا رہا۔ شوشو ہاتھ چوم کر واپس آئی اور کامران کے نزدیک بیٹھنے لگی۔ لائی جامہ پستہ قد اور چھوٹی آنکھوں والا ایک بدصورت آدمی تھا۔
تائی شیک نے اسے رشنی ہی روشنی کہا تھا جبکہ قامران کر وہ اندھیرا ہی اندھیرا لگا۔
اس کی آنکھوں سے ہوس رال بن کر ٹپک رہی تھی۔ لائی چامہ بڑی دلچسپی سے کامران کو دیکھ رہا تھا جبکہ کامران نے اسے چند لمحے دیکھ کر اپنی آنکھیں جھکا لی تھی۔
"خوبصورت نوجوان۔۔۔۔کیا پیو گے؟" اچانک مقدس لائی چامہ کی باریک سی آواز سنائی دی
شوشو نے آواز سنتے ہی خوشی بھرے لہجے میں کامران کو کہنی ماری۔
”قامران....فورا جواب دو۔“
"نہیں شوشو" قامران نے آہستہ سے کہا۔
”میں گونگا بہرہ نہیں ہونا چاہتا۔“
"تم بڑے خوش قسمت ہو کامران کہ مقدس لائی چامہ نے تم سے بات کی ہے۔ اس موقع کو ضائع مت جانے دو۔ بات کرو بولو" شوشو نے سمجھایا ۔
"مقدس لائی چامہ حقیر سے بندے کی عزت افزائی کا بے حد شکریہ" کامران نے عقیدت اور نزاکت کے انداز میں کہا۔ "تیرے ہاتھوں تو اگر زہر بھی مل جائے تواپنی خوش قسمتی پر عمر بھر ناز کروں گا"
مقدی لائی چامہ کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی۔ اس نے اپنا ایک ہاتھ آگے پھیلایا اور کچھ کہا۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس کے ہاتھ پر ایک چاندی کا کٹور نمودار ہو گیا۔ اس کے پاس کھڑی لڑکی نے اس کی ہتھیلی سے وہ کٹورا اٹھایا اور کامران کی طرف بڑھی۔
اس کٹورے میں سرخ رنگ کا خوشبودار مشروب موجود تھا۔ کامران نے ایک گھونٹ پیا تو اس کی لذت نے اس پر سرشاری طاری کر دی۔ کامران ایک ہی سانس میں سارا شربت پی گیا
"خوبصورت نوجوان کہاں سے آئے ہو؟“ لائی چامہ پوچھ رہا تھا۔
"پورب سے" کامران نے اپنے ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے کہا۔
"اس بستی میں آنے کا مقصد؟‘‘ سوال ہوا۔
"تیری زیارت"
"اس کے علاوه؟"
"کچھ نایاب ہیرے ہیں میرے پاس جوہریوں کو ڈھونڈتا پھرتا ہوں۔“
"گویا ہیروں کے سوداگر ہو...........ہیرے لائے ہو اپنے ساتھ؟
"نہیں۔ مقدس لاکی جامہ تیرے نزدیک ہیروں کی قیمت گویا کوئلوں جیسی ہوگی، اس لیے ساتھ نہیں لایا"
"خوبصورت نوجوان سوداگر تم خاصے سمجھدار ہو" مقدس لائی چامہ نے مسکرا کر کہا۔ ” کیا تم راجہ سے سے ملے ہو؟“
"نہیں ویسے ملنے کا ارادہ ہے۔"
"لاشا سے مل لو ۔ اس سے میرا نام لینا وہ سارے ہیرے خریدے گا۔“
"میں تیراممنون ہوں لائی چامہ"
"ٹھیک ہے جاؤ۔“
"مقدس لائی چامہ.... اب تو نے قوت گویائی بخش دی ہے تو عرض کرنا چاہتا ہوں۔“
"ہاں بولو"
"مجھے مقدس خاک چاہیے"
"نوجوان پھر کسی دن آنا تمہاری یہ خواہش پوری کر دی جائے گی۔" مقدس لائی جامہ یہ کہہ کر کھڑاہوگیا اور جواب سنے بغیر ہی ان دونوں نوجوان لڑکیوں کو بازوؤں میں لیے سیڑھیاں اترتا چلا گیا
شوشو لائی چامہ کے جاتے ہی قامران سے لپٹ گئی
"ارے.....ارے.....خیر تو ہے"
مقدس لائی جامہ نے یہاں آنے والے لوگوں میں سے اور وہ بھی کسی مرد سے خطاب کیا ہے۔ تم بہت خوش بخت ہو قامران.......اب میں تمہیں لپٹوں بھی نہیں۔" شوشو نے پرجوش لہجے میں کہا۔ "اب مجھے تمہاری سوداگری پر شبہ ہونے لگا ہے۔ تم وہ نہیں ہو جو دکھائی دیتے ہو"
"تمہیں کیا دکھائی دیتا ہوں؟"
"آؤ باہر چلو پھر بتاؤں گی“
پھر وہ دونوں باہر نکلے تو ہر محافظ نے جھک کر اسے احترام دیا۔
جب وہ ہال میں داخل ہوئے تو وہاں بیٹھے ہوئے تمام مرد عورت کھڑے ہو گئے شاید لائی چامہ کے قامران سے بات کرنے کی خبر یہاں تک بھی پہنچ چکی تھی۔
ہال میں موجود ہرشخص اس سے بات کرنا چاہتا تھا۔ کچھ عورتوں نے اس کے ہاتھ بھی چومنے کی کوشش کی۔ شوشو اسے بڑی مشکل سے اسے بھیڑ سے نکالنے میں کامیاب ہوسکی۔
دوپہر کے کھانے کے بعد وہ بستر پر لیٹا وہ لائی چامہ کی ہوس بھری آنکھیں اس کے سامنے آگئیں۔
جب سے لائی چامہ نے اس سے خطاب کیا تھا وہ مسلسل سوچے جارہا تھا کہ آخر یہ غیر فطری عمل کیوں وجود میں آیا؟ لائی چامہ اس پر مہربان ہوا تو آخر کیوں؟ جبکہ وہ مردوں سے ہمیشہ سوتیلانہ سلوک کرتا آیا ہے۔ ابھی اس مسئلے پر غور و فکر جاری تھا کہ دروازے پر کسی نے دستک دی۔ اس وقت کون اسے ملنے آ گیا۔
شوشو تو ابھی اسے کھانا وانا کھلا کر گئی ہے۔
ویسے بھی اسے اندر آنے کے لیے دستک کی ضرورت نہیں۔ دروازہ اندر سے بند تھا۔ پھر کون اس سے ملنے آگیا ؟
وہ تذبذب کے عالم میں اٹھا اور دروازے تک پہنچا۔ دروازہ کھولا تو وہ مبہوت سا کھڑا رہ گیا۔
دروازے پر ایک دوشیزہ کھڑی تھی اور یہ دوشیزه اس بستی کی دکھائی نہ دیتی تھی۔ وہ اسے دیکھ کر بڑی دل ربائی سے مسکرائی اور بے تکلفی سے کمرے کے اندر آ گئی اور آرام سے بستر پر بیٹھ گئی۔
"کون ہوتم ؟" کامران کو اس کی بے تکلفی ایک آنکھ نہ بھائی۔
"ہاں جی۔۔۔اب ہمیں کیوں پہچانیں گے۔" جواب میں ادا دکھائی گئی۔
"اس کا مطلب ہے کہ تم مجھ سے مل چکی ہو؟"
"بلاشبہ۔“
"لیکن مجھے بالکل یاد نہیں کہ میری تم سے کہیں ملاقات ہوئی ہے اور یہ بات بھی جان لو کہ میری یادداشت بہت اچھی ہے۔ میں ایک بار کسی آدمی سے مل لوں تو پھر اسے ہر روپ میں پہچان لیتا ہوں۔" کامران نے اعتبار سے کہا۔
"ارے خوبصورت سوداگر تمہاری بھول ہے۔"
"خوبصورت سوداگر" قامران کو فورا لائی چامہ یاد آگیا۔ "لڑکی کیا تمہیں مقدس لائی چامہ نے بھیجا ہے؟‘‘
"یہی سمجھ لو“
"مقدس لائی چامہ کا کوئی پیغام لائی ہو؟“
"پیغام تو کوئی نہیں البتہ لائی چامہ نے مجھے تفتیش کے لیے بھیجا ہے۔"
کامران نے یہ بات بطور خاص محسوس کی کہ پرشباب حسینہ نے لائی چامہ کے نام کے ساتھ مقدس نہیں لگایا۔
"لائی چامه یا مقدس لائی چامہ‘‘ اس نے پوچھا۔
"مقدس تمہارے لیے ہو گا۔ مجھے تو اس میں تقدیس نام کی کوئی چیز نہیں دکھائی دی۔"
اس نے بھویں چڑھاتے ہوئے کہا۔
"تم اس کی توہین کر رہی ہو۔" کامران نے مقدس لائى چامہ کی حمایت کی۔
"میں اس کی توہین کر سکتی ہوں۔" اس نے لاپروائی سے کہا۔
”تم یہاں کس قسم کی تفتیش کرنے آئی ہو؟"
"یہ کہ تم کہاں کے رہنے والے ہو؟"
"میں مقدس لائی چامہ کو بتا چکا ہوں کہ میں پورب سے آیا ہوں۔“
"پورب کسی بستی کا نام تو نہیں۔“
"میں غربان سے آیا ہوں۔“
"اور قبیلے کا نام؟"
"یرکان“
"نادان سوداگر مجھے تو تم نے اپنے علاقے اور قبیلے کا نام بتا دیا ہے مگر اس بستی کے باقی لوگوں کو اپنا پتہ نہ بتاتے پھرنا خاص طور سے لائی چامہ کو"
"مجھے پہلے یہ بتاؤ کہ آخر تم چیز کیا ہو؟"
"اچھا چلو بتا دیتی ہوں۔ ایک لمحے کے لیے دروازے کی طرف تو دیکھو" کامران نے گردن موڑ کر دروازے کی طرف دیکھا۔ وہ بند تھا۔ "وہاں تو۔۔۔۔۔" کامران اس ہوشربا دوشیزہ سے مخاطب ہوتے ہوتے رک گیا کیونکہ بستر پر دوشیزه موجود نہیں اس کی جگہ کوئی اور بیٹھا ہوا تھا۔
”ارے.......حامنا یہ تم تھے۔ آخر اس شرارت کی وجہ؟‘‘ قامران نے پوچھا۔
” لائی چامہ" حامنا نے جواب دیا۔
"تمہارے جاتے ہی لائی چامہ نے مجھے طلب کرکے یہ ہدایت دے دی کہ میں تم سے خوبصورت لڑکی کے روپ میں ملوں اور تم سے تمہارا پتہ معلوم کروں۔۔۔...." کچھ کہتے کہتے حامنا رک گیا۔
اسے میرے پتے سے آخر کیا دلچسپی ہوگی؟"
"تمہاری خوبصورتی۔“
"حامنا ذرا صاف صاف بات کرو“
"تمہاری خوبصورتی دیکھ کر اس کی رال ٹپک پڑی ہے۔ وہ تمہارا علاقہ معلوم کر کے وہاں سے لڑکیاں اٹھوانا چاہتا ہےکیونکہ اسے لگتا کہ تمہارے علاقے کی لڑکیاں تم سے زیادہ نہیں تو تم جیسی خوبصورت تو ہونگی ہی"
"اب سمجھ میں آ گئی ساری بات ؟"
"اس خبیث کی یه جرات میں اس کا خون پی جاؤں گا۔"
" کچھ ایسا ہی ارادہ میرا بھی ہے۔ حامنا نے مسکراتے ہوئے کہا۔
"پھر اب کیا کریں؟‘‘ کامران نے دروازہ اندر سے بند کرتے ہوۓ کہا۔
حامنا نے اسے یاددہانی کروائی۔ "یہ تم مجھ سے پوچھتے ہو کامران کیا تم بھول گئے تم مجھے نجات دلانے آئے ہو؟"
"حامنا آج رات بھی تم کوئی لڑکی لے کر اس کے پاس جاؤ گے؟
"یہ تو روز کا معمول ہے۔“
"کیا ممکن ہے کہ رات کو مجھے بھی اپنے ساتھ لے چلو؟"
"میں تمہیں وہاں پہنچا تو سکتا ہوں لیکن کسی بھی وقت خطرات میں گھر سکتے ہو آخرت تم وہاں کیوں جانا چاہتے ہو؟“
"میں وہاں رہ کر اس ماحول کو دیکھنا چاہتا ہوں۔ شاید کوئی راہ نجات ہاتھ آ جائے“
"ٹھیک ہے۔ آج آدھی رات کو تیار رہنا۔ میں تمہیں آ کر لے جاؤں گا....جو ہوا دیکھا جائے گا۔“ یہ کہہ کر حامنا زمین پر بیٹھ گیا اور اپنے ہاتھ آگے پھیلاتے ہوئے بولا ۔ "اچھا میں جا رہا ہوں"
کامران حامنا کے جاتے ہی بستر پر لیٹ گیا اور سونے کی کوشش کرنے لگا تا کہ رات کو تازه دم رہ سکے۔ تھوڑی سی کوشش سے آخر اسے نیند آ گئی۔
تمام اردو کہانیاں پڑھنے کے لیے کلک کریں
سفید محل - پارٹ 8
Urdu stories online, Urdu stories for kids, Short Urdu stories, Urdu Kahaniyan, Famous Urdu stories, Urdu stories with moral, Best Urdu stories collection, Urdu stories for students, Urdu love stories, Urdu horror stories, Urdu stories for reading, Urdu stories in Urdu text, Funny Urdu stories, Urdu stories for beginners, Urdu detective stories, Urdu motivational stories, Urdu stories for adults, Urdu moral stories, Urdu stories for children, Urdu true stories, Urdu suspense stories, Urdu emotional stories, Urdu adventure stories,
hindi moral stories in urdu,سبق آموز کہانیاں, jin-ki-dushmni,good moral stories in urdu,Moral Stories,Urdu Stories,urdu kahani,اردو کہانی,قسط وار کہانیاں,