| قسط وار کہانیاں |
سفید محل - اردو کہانی قسط نمبر 8
وہ مغرب تک بے خبر سوتا رہا۔ کسی نے دروازے پر دستک دی تو اس کی آنکھ کھلی۔ اس نے اٹھ کر دروازہ کھولا۔ دروازے پو شوشو کھڑی مسکرا رہی تھی۔
"خیریت ہے؟" شوشو اندر آ تے ہوئے بولی۔ "آج تو گھوڑے بیچ کر سو گئے تھے"
”ارے اپنے گھوڑے کہاں ہاں ہیرے ضرور ہیں اور وہ تم جانتی ہو کہ ابھی پاس نہیں۔" کامران نے اپنی آنکھیں ملتے ہوئے کہا۔
"راجہ لاشا سے مل لو............وہ یقینا تمہارے سارے ہیرے خریدے گا“
"آج اس کے پاس جانے کا خیال تھا مگر دن تو سونے میں ہی گزر گیا۔ اب کل ہی اس کے پاس جاؤں گا تم بھی ساتھ چلوگی؟"
"لے چلو گے تو ضرور چلوں گی۔“ شوشو نے اپنائیت سے کہا ۔ ”اچھا اب منہ ہاتھ دھو لو تاکہ کھانا کھایا جا سکے۔"
کھانا کھانے کے بعد کامران اکیلا باہر ٹہلنے کے لیے نکل گیا۔ چاندنی رات تھی۔ وہ روپ چا کی دھندلی گلیوں میں بہت دیر تک بھٹکتا رہا۔ رات گہری ہونے لگی تو وہ سراۓ میں آ گیا۔ کمرے میں پہنچا تو اسے اپنا کمرہ درست نظر آیا۔ چراغ روشن تھا اور بستر کو شکنوں سے پاک کر دیا گیا تھا۔
کامران نے دروازہ اندر سے بند کرلیا اور چراغ کو پھونک مارکر بجھا دیا۔ کمرے میں تاریکی چھا گئی وہ بستر پر لیٹ کر حامنا کا انتظار کرنے لگا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کے دل کی دھڑکنیں تیز ہوتی جا رہی تھیں۔ کامران کسی نے اس کے کان میں سرگوشی کی۔ "حامنا؟‘‘ قامران فورا اٹھ کر بیٹھ گیا۔
"ہاں یہ میں ہوں۔ اب چلنے کے لیے تیار ہو جاؤ۔ میں نے تمہارے لیے ایک بہت اچھی جگه تلاش کر لی ہے۔ تم وہاں سے سب دیکھ سکو گے لیکن تمہیں کوئی نہ دیکھ سکے گا۔ آؤ جلدی کرو قامران" حامنا نے قامران کا ہاتھ تھام لیا۔
وہ واقعی بے حد محفوظ جگہ تھی۔ حامنا نے اسے لائی چامہ کی رہائش گاہ کی چھت پر جا بٹھایا تھا۔ یہاں کسی آدم زاد کا گزر نہ تھا مگر وه اس روشندان سے کمرے کا منظر بہ آسانی دیکھ سکتا تھا۔ کامران نے زمین پر لیٹ کر روشندان میں اپنا سر ڈال دیا۔ سب سے پہلے اس کی نظر مقدس لائی چامہ پر پڑی۔
وہ ہوس پرست شیطان سامنے تھا۔
وہ جھومتا جھامتا اس نازک سی لڑکی کی طرف بڑھ رہا تھا جو بستر پر لیٹی ہوئی اسے خوف بھری آنکھوں سے دیکھ رہی تھی۔
شیطان لائی چامہ اچانک اس پر بھوکے بھیڑیے کی طرح ٹوٹ پڑا
دہشت اور خوف سے اس نازک لڑکی کی چیخیں بلند ہو رہی تھیں لیکن اس وحشی پر اس کا کوئی اثر نہ تھا۔ وہ معصوم لڑکی جتنا چیختی اتنا ہی اس خبیث کا چہرہ کھل اٹھتا۔
لڑکی کی بے بسی دیکھ کر کامران کے اعصاب میں تناؤ پیدا ہوگیا۔ اس کی مٹھیاں بھیچنے لگیں۔ اس کا جی چاہا کہ وہ روشن دان سے چھلانگ لگا کر شیطان لائی چامہ کے ٹکڑے ٹکڑے کر دے اور اس کی لاش گدھوں کی خوراک بنا دے۔ کامران نے اپنا غصہ ٹھنڈا کرنے کے لیے روشن دان سے سر نکال لیا۔ ابھی کچھ کر گزرنے کا وقت نہیں آیا تھا۔ پھر اس غصے کا فائدہ کیا تھا۔ ابھی ٹھنڈے دل سے بہت کچھ سوچنا تھا اور پرسکون اعصاب سے بڑا مشکل کام لینا تھا۔ یہ سوچ کر اس کا غصہ کم ہوا تو اس نے اپنی آنکھیں پھر روشن دان سے لگا دیں ۔ اب وہ شرمناک کھیل ختم ہو چکا تھا ۔ وہ معصوم اور نازک سی لڑکی بستر پر پڑی تھی۔ اس کی حالت دیکھ کر کامران کا دل بھر آیا اور اس نے طے کر لیا کہ چاہے جان چلی جائے پر اس لائی چامہ منحوس کے بچے کونہیں چھوڑنا اسے موت کے گھاٹ اتار کر ہی دم لینا ہے۔ کامران مصمم ارادہ کر کے اٹھنے لگا تو اس نے دیکھا کہ لائی چامہ کمرے کے ایک کونے میں رکھے ہوئے مٹکے کی طرف بڑھ رہا تھا۔ کامران چندلمحوں کے لیے اور رک گیا۔ اب لائی چامه غسل کرنے میں مصروف تھا ۔ تھوڑی دیر میں اس نے غسل سے فراغت حاصل کر کے ایک ریشمی چادر اپنے گرد لپیٹ لی اور دروازے کی طرف بڑھا ۔ دروازہ کھولتے ہی حامنا اندر آیا۔ آتے ہی اس نے بڑا سا مٹکا اٹھا کر اپنے کندھے پر رکھ لیا اور باہر نکل گیا۔ چندلمحوں بعد وہ پھراندر آیا ۔ اس کے کندھے پر اب کچھ نہ تھا شاید وہ مٹکا باہر پھینک آیا تھا۔ اب اس نے نڈھال لڑکی کو اپنے ہاتھوں پر اٹھایا اور تیزی سے کمرے سے نکل گیا۔ کامران نے حامنا کے کمرے سے نکلتے ہی اپنا سر روشندان سے نکال لیا اور سیدھا کھڑا ہوگیا۔ لیٹے لیٹے اس کے پٹھے اکڑ گئے تھے۔ ابھی وہ سوچ ہی رہا تھا کہ کیا کرے؟ اتنے میں حامنا اس کے سامنے آ گیا اور آہستہ سے بولا- "جلدی کرو یہاں سے نکل چلیں۔"
تھوڑی دیر بعد وہ سرائے میں موجود تھا۔
”ہاں کامران دیکھ لیں تم نے لائی چامہ کی حرکتیں؟“ حامنا بولا ۔
”ہاں بہت اچھی طرح۔" کامران کے لہجے میں دکھ تھا۔
” ارے تم تو ایک ہی رات کا تماشہ دیکھ کر اداس ہو گئے۔ میں تو ہزار راتوں سے یہ دیکھ رہا ہوں سوچو کہ مجھ پر کیا گزرتی ہوگی۔" حامنا نے مسکرانے کی کوشش کی۔
"حامنا فکر مت کرو۔ میں نے نجات کا راستہ تلاش کرلیا ہے۔
"ذرا مجھے بھی بتادو" حامنا اس کے نزدیک کھسک آیا۔
دو تیروں میں اس کا کام تمام کر دوں گا کل رات پھر مجھے اپنے ساتھ لے چلنا
"میں لے تو چلوں گا لیکن یہ بتاؤ کہ تیر کہاں سے چلاؤ گے؟" "روشندان سے۔"
"قامران تیر چلانے کا کوئی فائدہ نہ ہوگا" حامنا پر مایوسی طاری ہوگئی۔
"کیوں؟"
"لائی چامہ حصار کھینچ دیتا ہے۔ تمہارا تیر روشندان کے اندر بھی نہ جا سکے گا۔ اگر اسے ختم کرنا اتنا ہی آسان ہوتا تو میں کب کا اس سے چھٹکارا پا چکا ہوتا"
"اچھا یہ بتاؤ کیا وہ روز غسل کرتا ہے؟
"ہاں...روز" حامنا نے بتایا۔ "اگر وہ بغیر غسل کے حصار سے باہر آ جائے تو وہ رات اس کی آخری رات ثابت ہو گی"
"غسل کرنے کے لیے پانی تم ہی لا کر دیتے ہو؟‘‘ کامران نے سوال کیا
"ہاں یہ کام بھی مجھ غریب کو کرنا پڑتا ہے۔“
"بس بن گیا کام- قامران نے خوش ہوتے ہوئے کہا۔ " کل کی رات لائی چامہ پر بھاری ہوگی"
"کیسے آخر مجھے بھی تو بتا دو“
"اب تم کل میرے پاس آنا پھر میں ساری تفصیل تمہیں بتا دوں گا کہ کیا کرنا ہے اور کیسے تمہارا زیادہ دیر یہاں ٹھہرنا ٹھیک نہیں،"
"ٹھیک تمہاری مرضی میں اب چلتا ہوں۔ کل رات پھر تیار رہنا۔" حامنا یہ کہہ چلا گیا
کامران بستر پر لیٹا کروٹیں بدلتا رہا۔ نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی بار بار اس کے تصور میں وہ بے بس لڑکی آجاتی تھی۔ اس کی کی چیخیں اس کے دل کے آر پار ہو رہی تھیں۔ کمرے میں تاریکی تھی وہ گھبرا کر اٹھ بیٹھا اور اندھیرے میں اندازے سے کھڑکی کی طرف بڑھا۔ کھڑکی کھولتے ہی چاندنی کمرے میں اتر آئی۔ وہ چاند کو دیکھنے لگا ۔ پرشباب روشنی ہر طرف پھیلی ہوئی تھی۔ چاند کو دیکھتے دیکھتے چاند ا اس کے کے تصور میں آ گئی۔
چاندکا۔۔۔۔جس نے انجانے سفر پر اسے ڈال دیا تھا اور خود جانے کہاں گم ہو گئی تھی۔
چاندکا۔۔۔۔۔۔جس کی دوشیزگی کی خوشبو اچھے بھلے آدمی کے ہوش اڑا دیتی تھی۔
چاندکا۔۔۔۔۔وہ حسین چاندکا جواب صرف ایک روح تھی اپنی مرضی سے آتی اور اپنی مرضی سے جانے والی
آج قامران کو چاندکا شدت سے یاد آئی تھی لیکن اس کے پاس اس بلانے کا کوئی ذریعہ نہ تھا
وہ اسے اپنی مرضی سے نہ دیکھ سکتا تھا نہ چھو سکتا تھا نہ باتیں کر سکتا تھا۔ اس کی محبوبہ تھی وہ اور وہ ہر طرح سے بے بس۔
”چاندکا....تم کہاں ہو؟" کامران نے ٹھنڈی آہ بھری۔
"تمہارے پاس"۔ اچانک اس کے دل کے قریب سے ایک مترنم آواز آئی اور مدہوش کر دینے والے کنوارے بدن کی خوشبو اس کے اطراف میں پھیل گئی۔
کامران کھل اٹھا۔
"چاندکا تم آ گئیں"
"تم پکارو اور میں نہ آؤں یہ کیسے ممکن ہے؟"
"سائری دیوتا کی قسم تم نے تو مجھے تڑپا دیا۔ مجھے انجانی راہوں پر ڈال کرایسے غائب کہ میں صورت دیکھنے کو ترس گیا۔
"ابھی سے گھبرا گئے............ابھی تو تمہارا سفر شروع ہوا ہے۔“
”سفر سے کون ظالم گھبرایا ہے۔ میں تمہیں حاصل کرنے کے لیے صدیوں کا سفر کر سکتا ہوں۔‘‘ قامران نے بڑے یقین سے کہا
" کیئے جاؤ سفر“
"ایسے پھیکے سفر کا کیا فائدہ؟"
"کیا مطلب سفر کیسے نگین بنے"
"تم میرے ساتھ رہو۔“
"ابھی اس کا وقت نہیں آیا۔ میں اس معاملے میں بالکل مجبور ہوں۔ شاید تم جانتے تمہارے ساتھ رہنے کی خواہش مجھ میں تم سے کہیں زیادہ ہے۔ میں نے صدیوں بعد تمہیں پایا ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ زندگی کا ایک بھی لمحہ ضائع کیئے بنا تمہاری بانہوں میں آ جاؤں لیکن دیوتاؤں کو ابھی ہمارا ساتھ منظور نہیں، ہمیں انتظار کرنا ہوگا صبر کرنا ہوگا۔" چاندکا نے پیار سے اسے سمجھایا۔
"تم بڑی ظالم ہو چاندکا تمہیں میرا ذرا بھی خیال نہیں۔"
”میں تمہیں کیسے سمجھاؤں۔" چاندکا نے بے بسی سے کہا۔ "سمجھانے کی کیا بات ہے۔ میں خود اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں۔“
"کیا دیکھ رہے ہو؟“
"یہ بتاؤ کہ تمہیں آئے ہوئے کتنی دیر ہوگئی ہے لیکن صورت ابھی تک سات پردوں میں چھپی ہوئی ہے۔ اب بتاؤ تمہیں میرا کتنا خیال ہے؟"
"ہاں واقعی بہت ظلم ہوا یہ تو۔۔۔۔میں ابھی تمہاری خواہش پوری کر دیتی ہوں۔"
"ابھی ٹھہرو‘‘ قامران نے کہا ۔ ” میں ذرا کھڑکی بند کر دوں اور چراغ جلا لوں۔“
"تم صرف کھڑکی بند کر دو چراغ خودبخود جل جائے گا۔"
قامران کھڑکی بند کر کے واپس پلٹا تو چراغ واقعی جل چکا تھا۔ اتنی روشنی چراغ جلنے کی نہ ہوتی جتنی روشنی چاندکا کے ظہور پذیر ہونے سے ہو گئی تھی۔
"واه" کامران نے چراغ حسن کی تعریف کی۔ "تیرے حسن کا چراغ دیکھ کر چاند بھی شرما جاتا ہے۔"
"ہوگئی شاعری شروع "
"کیا کروں حسن اور شاعری تو لازم وملزوم ہیں....کہو تو ساری رات تمہارے حسن کے گن گاتا رہوں۔"
"نه بابا بخشو"
"کیوں حسن کی تعریف پسند نہیں؟"
"مرد کی ایک نظر تحسین شاعری کے ہزار دیوانوں پر بھاری ہوتی ہے۔ پھر کیا ضرورت ہے کہ انکا اظهار لفظوں میں کیا جائے" چاندکا کے گلاب جیسے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔"
لیکن ملکہ شاطو تو ایک رات میرے پاس صرف اشعار سننے کی غرض سے آئی تھی کیا وہ عورت نہ تھی؟"
"وہ ضرورت سے زیادہ عورت تھی۔" چاندکا نے اپنی پلکیں جھپکاتے ہوئے کہا۔ ” اور وہ اس رات شعر سننے ہرگز نہ آئی تھی۔ تم بدھو تھے اس کی بات سمجھے ہی نہیں۔ تب ہی اس نے تمہیں ایک کھلی دعوت دے ڈالی۔"
وہ بھی خوب عورت تھی؟‘‘ کامران نے شانے اچکائے۔
"خوب عورت تھی تو اس کی دعوت قبول کر لی ہوتی اسے پھانسی کیوں چڑھا دیا؟" چاندکا خود عورت تھی دوسری عورت کا ذکر برداشت کیسے کرتی۔
"بس آگیا غصہ؟"
"وہ تو آنا تھا۔" چاندکا نے پوری صاف گوئی سے کہا۔
"میں اسے تمہاری محبت کی دلیل سمجھتا ہوں۔“
"کیا مجھے آزمایا جا رہا تھا۔“
میں تمہیں کیا آزماؤں گا روشنی ہر حال میں روشنی ہی رہتی ہے۔"
"پھر تعریف؟" چاند کا اٹھلائی
"لیکن سچی"
"چلو مان لیتی ہوں۔“
"پھر ایک بات اور مان لو“
"اچھا میں چلتی ہوں تم بدمعاشی پر اتر آئے۔ چاندکا اٹھ گئی۔
"ارے......ارے............بیٹھتو"
"نہیں اب جانا ہی ہوگا۔ کافی وقت ہو گیا ہے۔"
"پھر میں ہاتھ پکڑ کر بٹھا لوں گا۔“
"میں تمہیں اس سے پہلے بھی یہ بات بتا چکی ہوں ایک مرتبہ پھر دہرائے دیتی ہوں۔ گره باندھ لو مجھے کبھی چھونے کی غلطی نہ کر بیٹھنا نہیں تو سارا بنا بنایا کام بگڑ جائے گا۔“
"ٹھیک ہے۔ دے لودھمکیاں۔ کبھی میرا بھی وقت آئے گا"
"ہاں ضرور آئے گا اور جب تمہارا وقت آئے گا تو سب کچھ تمہارا ہوگا۔ میں تمہاری ہو جاؤں گی۔"
"اچھا یہ بتاد اس خبیث لائی چامہ سے کیسے نپٹوں؟"
"تم نے جو منصوبہ بنایا ہے وہ لاجواب ہے دیوتاؤں نے چاہا تو جیت تمهاری ہوگی۔" چاندکا نے اس کی حوصلہ افزائی کی۔
"لیکن تمہیں کیا پتا کہ میں نے کیا منصوبہ بنایا ہے؟" قامران نے حیرانی سے کہا۔ "منصوبہ تو ابھی میرے ذہن میں ہے میں نے حامنا کو بھی نہیں بتایا.....پھر تم نے کیسے جان لیا؟"
"میں تمہارا دل اور دماغ ہوں۔“ چاندکا نے بڑے پیار سے کہا۔
"اسے میں شاعری سمجھوں؟"
"شاعری مجھے نہیں آتی میں ٹھوس اور حقیقی باتوں پر یقین رکھتی ہوں۔“ چاند کا نے گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔
"تمہارا حال اور مستقبل بھی میرے سامنے اسی طرح روشن ہے جیسے تمہارا ماضی تھا بس تم مجھے اپنے دل کی دھڑکن سمجھو"
"اچھا میرے دل کی دھڑکن پھر لائی چامہ کو ٹھکانے لگانے کا نسخہ ٹھیک ہے؟" کامران نے پوچھا۔
"ہوں۔تم نے مجھے باتوں میں لگا دیا ہے پھر ملیں گے۔" کہتے ہی چاندکا جل بجھی۔
چاند کا کے جاتے ہی کمرے میں تاریکی پھیل گئی ۔
قامران آرام سے پاؤں پھیلا کر لیٹ گیا- چاندکا کے دیدار نے اس کے بے چین دل کو قرار بخش دیا تھا۔ چند کروٹوں نے اسے نیند کے جھولے پر ڈال دیا۔ وہ خراٹے بھرنے لگا۔
صبح کامران کافی دیر سے اٹھا۔ دن چڑھ چکا تھا۔ شوشو کئی مرتبہ دروازہ پیٹ کر جا چکی تھی دروازے کی ہر دستک پر "اچھا" کہہ دیتا تھا لیکن آنکھیں مل کر پھر سو جاتا۔ آخر خاصی دیر کے بعد نیند کا جال ٹوٹا۔ وہ جست لگا کر بستر سے اٹھا اور کھڑکی کھول کر ایک بھر پور انگڑائی لی۔ پھر دروازہ کھول کر باہر نکل آیا اور دبے قدموں اس نے شوشو کے کمرے جھانکا...پر اس کا کمرہ خالی تھا۔ شاید وہ کسی کام سے باہر گئی ہوگی، کامران نے سوچا۔ وہ نہانے کے لیے غسل خانے کی طرف بڑھا تو اسے چند قدم کے فاصلے سے کچھ گرنے کی آواز آئی ۔ اندر کون گھسا ہوا ہے؟..........کامران اس سوراخ کی طرف بڑھا جہاں سے سامنے کا منظر صاف دکھائی دیا تھا۔ اس نے سوراخ سے آنکھ لگائی تو اندر ایک ہیجان خیز منظر دکھائی دیا کامران نے فورا سوراخ سے اپنی آنکھ ہٹالی۔ اندر شوشو محو غسل تھی۔ کامران واپس اپنے کمرے میں آیا اور بستر پر لیٹ گیا۔ تھوڑی دیر بعد شوشو کمرے میں داخل ہوئی اور اسے جاگتا پا کر مسکرائی۔ " شکر ہے اٹھ گئے۔"
" تم کہاں چلی گئی تھیں میں ابھی تمہارا کمرہ جھانک کر آ رہا ہوں۔" تامران نے غسل خانے والی بات کو گول کر دیا جان بوجھ کر۔
"میں نہا رہی تھی اور یہ تم دروازہ بند کر کے کیوں سونے لگے ہو اور تمہیں اٹھانے میں دقت آتی ہے۔ دروازہ پیٹتے جاؤ اٹھتے ہی نہیں۔" شوشو ایک ادا سے اپنی زلفیں جھٹکتے ہوئے بولی
"مجھے بلیوں سے بہت ڈر لگتا ہے۔"
"یہ بلیاں کہاں سے کود پڑیں؟"
"دروازہ کھلا رہ جائے تو آنے کا خطرہ رہتا ہے۔“
"ایک آدھ بار کوئی بلی اندر آ چکی ہے کیا؟"
"ہاں آ تو چکی ہے۔ اسی لیے تو اب دروازہ بند کر کے سوتا ہوں۔"
"قامران میں اس سے پہلے بھی معافی مانگ چکی ہوں ۔ اب دوبارہ مانگ لیتی ہوں۔ مجھے اتنا شرمندہ نہ کرو" شوشو روہانسی ہوگئی ۔
"ارے توبہ شوشو میرا ہرگز وہ مطلب نہ تھا جو تم سمجھی ہو۔ میں تو سچ مچ کی بلی کا ذکر کر رہا.. مقصد صرف تفریح تھا۔" قامران نے بات صاف کرنے کی کوشش کی۔
" اچھا....جاؤ نهالو...........اور ہاں یہ بتاؤ کہ راجہ سے ملنے چلو گے آج؟"
"مقدس لائی چامہ سے ملنے کے بعد اب کسی سے ملنے کی خواہش نہیں رہی۔“
"ہیرے فروخت نہیں کرنے؟" شوشو نے یاد دلایا۔
"ہیروں کا کیا ہے بک جائیں گے، یہاں نہیں تو کہیں اور بستیوں کی کیا کمی ہے"
"کیا تم یہاں سے جانا چاہتے ہو؟"
"ہاں ارادہ تو ہے۔ ممکن ہے آج کی رات اس کے بارے فیصلہ ہو جائے۔"
"اس بستی میں تمہارا دل نہیں لگا؟"
"بستیاں دل لگانے کے لیے تو نہیں ان بستیوں کو عارضی سراۓ جانو کہ ہم سب نے جانا ہے کوئی آگے کوئی پیچھے "
"تم سے تو بات کرنی بھی آسان نہیں اچھا جاؤ نہا کر میں ناشتے کا انتظام کرتی ہوں" منہ بناتی ہوئی کمرے سے نکل گئی۔
"قامران نے پورا دن شوشو کے ساتھ گزارا۔ بستی میں ادھر ادھر گھوم کے لوگوں سے ملے دونوں نے گھڑ سواری کی۔ راستے میں جو ملا شکار کیا اور پھر سورج غروب ہونے کے بعد سرائے آگئے ۔ رات کے کھانے کے بعد کامران نے نیند کا بہانہ کیا اور اپنے کمرے کا دروازہ بند کرکے لیٹ گیا۔
اسے حامنا کا انتظار تھا۔ اس کا خیال تھا کہ حامنا لڑکی کو لائی چامہ کے حوالے کر کے پھر اسے لے جائے گا لیکن ایسا نہ ہوا۔ وہ خلاف توقع آدھی رات سے بہت پہلے قامران کی خدمت میں حاضر ہوا کامران نے اسے پورا منصوبہ سمجھایا۔ منصوبہ سن کر حامنا کی باچھیں کھل گئیں۔ منصوبہ ایسا تھا کہ اس میں لائی چامہ کے بچنے کی کوئی امید نہ تھی۔ چند ہی گھنٹوں بعد وہ حامنا کے چنگل میں تھا اور حامنا نے طے کر لیا تھا کہ اسے کہاں اور کیسے مارنا ہے۔ حامنا نے قامران کو اس روشندان کے نزد یک چھوڑا اور خود زندگی کا آخری ظلم کرنے اس کی نظروں سے اوجھل ہوگیا کامران نے روشندان میں سرڈال کر دیکھا ۔ کمرے میں کوئی نہ تھا ۔ کامران نے اپنی کمان اٹھا لی اور ترکش میں رکھے اپنے تیروں کو شمار کرنے لگا۔ تھوڑی دیر اس نے پھر روشندان میں سے جھانکا ۔ اب لائی چامہ کمرے میں تھا اس وقت وہ ایک چوکی پر آلتی پالتی مارے آنکھیں بند کیے گیان دھیان میں مصروف تھا۔ تامران نے دروازے پر دستک کی آواز سنی۔
لائی چامہ دستک کی آواز سن کر کھڑا ہو گیا اور بڑی بے قراری سے دروازے کی طرف بڑھا۔ دروازہ کھلتے حامنا آیا حامنا کے ہاتھوں پر ایک لڑکی لیٹی ہوئی تھی جسے دیکھتے ہی لائی چا مہ نے اسے ہاتھوں میں لے کر اپنے کندھوں پر ڈال دیا ۔ لڑکی کی آنکھیں بند تھیں ۔ غالباً بے ہوش تھی ۔ لائی چامه نے دروازہ بند کیا بستر کی طرف پلٹا۔ اس نے لڑکی کو بڑی احتیاط سے بستر پر ڈال دیا۔ وہ ایک بے حد حسین لڑکی تھی اس کے چہرے کی معصومیت اس کی پاکیزگی کا پتہ دیتی تھی۔ کامران کا جی چاہا کہ لباس دوشیزگی تار تار ہونے سے پہلے ہی اسے بچا لے لیکن ایسا ممکن نہ تھا ۔ منصوبے میں ایک قربانی شامل تھی۔ اسے نہیں بچایا جا سکتا تھا۔ اس نے یہ سوچ کر اپنے دل کو تسلی دی کہ یہ ظلم کی آخری رات ہے۔ آج کے بعد کسی لڑکی پر ظلم نہ ہو سکے گا۔ آج کے بعد کسی لڑکی کی عزت خطرے میں نہیں پڑے گی۔
دروازے پر ایک مرتبہ پھر دستک ہوئی
دروازے پر حامنا ہی تھا اس نے پانی سے بھرا مٹکا لائی چامہ کے حوالے کیا اور دروازہ باہر سے بند کر لیا۔ لائی چامہ نے جلدی سے مٹکا لے کر ایک کونے میں رکھا اور لڑکی کی طرف بڑھا۔
اب اسکی موت یقینی ہوگئی تھی۔ پھر کامران نے روشندان سے سر نکال لیا۔ اب وہاں جو کچھ ہونے والا تھا ۔اس کی برداشت سے باہر تھا۔ تھوڑی دیر کے بعد کامران نے لڑکی کی چیخ کی آواز سنی شاید وہ ہوش میں آگئی تھی اور خود کو ایک شیطان کے قبضے میں دیکھ کر اپنے اعصاب پر قابو نہ رکھ سکی تھی۔ تبھی کامران نے اپنے کندھے پر کسی کے ہاتھ کا وزن محسوس کیا۔ مڑ کر دیکھا تو اپنے برابر حامنا کو بیٹھا پایا۔ اس نے بڑی گرمجوشی سے قامران سے ہاتھ ملایا۔ اس کا مطلب تھا کہ وہ اپنا ہنر دکھا آیا ہے۔ حامنا کے سپرد جو کام لگایا گیا تھا وہ صرف مٹکے میں سوراخ کرنے کی حد تک تھا سوراخ جسے لائی چامه محسوس بھی نہ کر سکے اور مٹکا اس انسانیت سوز کھیل سے پہلے خالی بھی ہو جائے حامنا اپنا کام بڑی خوش اسلوبی سے کر آیا تھا اور لائی چامہ جس کے اعصاب پر وہ لڑکی سوار تھی وہ مٹکے سے نکلتے ہوئے پانی پر توجہ بھی نہ دے سکا تھا۔
تقریبا ڈیڑھ گھنٹے کے بعد حامنا نے اشارہ کر کے کامران کو بتایا کہ شیطانی کھیل ختم ہو چکا قامران نے روشندان میں سر ڈال کر دیکھا تو لائی چامہ اس مٹکے کی طرف بڑھتا ہوا دکھائی دیا۔ لکڑی کی چوکی پر بیٹھ کر جب اس نے پانی نکالنے کے لیے مٹکے میں ہاتھ ڈالا تو اسے مٹکا خالی دکھائی دیا۔ اس نے جلدی سے مٹکے میں جھانک کر دیکھا وہاں ایک بوند پانی کی نہ تھی
لائی چامہ کے چہرے پر زردی پھیلنے لگی۔ ایک لمحے کو وہ کانپ کر رہ گیا۔
وه دروازے کی طرف بڑھا کامران نے اپنا ہاتھ پیچھے کر کے دیکھل حامنا اس کے پاس سے جا چکا تھا اس نے اپنا ہاتھ آگے کر لیا اورنظریں دروازے پر ٹکا دیں۔ دروازہ کھلا تو حامنا سامنے ہی کھڑا تھا۔ لائی چامہ نے پہلے اس سے کچھ کہا۔
غالباً اسے شرم دلائی ہوگی کہ وہ ٹوٹا ہوا مٹکا کیوں لے کر آیا۔ حامنا نے مودبانہ انداز میں کچھ جواب دیا غالباً معافی مانگی ہوگی۔ لائی چامہ نے کواڑ کی آڑ میں ہوکر مٹکا دروازے سے باہر پھینک دیا اور مٹکا لانے کو کہا ۔ پھر اس نے دروازہ اندر سے بند کر لیا ۔
لائی چامہ کے ذہن میں دور تک یہ بات نہ تھی کہ اس کے گرد جال پھیلا دیا گیا ہے اور وہ چند لمحوں میں قید ہونے والا ہے۔ وہ مسکراتا ہوا لڑکی کی طرف بڑھا۔ لڑکی اسے دیکھ کر چیخ مار کر اٹھ بیٹھی اور اس کے قدموں میں گر گئی۔
تبھی دروازے پر دستک ہوئی۔ لڑکی کو بستر پر دھکا دے کر دروازے کی طرف بڑھا دروازہ کھلنے پر دستک دینے والا دور تک نہ دکھائی دیا۔ البتہ پانی سے بھرا مٹکا دروازے سے کچھ فاصلے پر ضرور رکھا تھا۔ لائی چامہ نے حامنا کو زور سے کئی آوازیں دیں لیکن حامنا کا دور دور تک نشان نہ تھا۔ اسے حامنا پرغصہ تو بہت تھا لیکن وہ اسے مار نہ سکتا تھا اس وقت تک جب ن تک وہ غسل کرکے پاک نہ ہو جائے۔ وہ بغیر کچھ سوچ سمجھے غصے سے لال پیلا ہوتا مٹکے کی طرف بڑھا تا کہ اسے اٹھا کر لاۓ اور پاک صاف ہو کر حامنا کو اس کی بدتمیزی کا مزا چکھا سکے۔
ابھی اس نے دروازے سے چند قدم آگے رکھے کہ اچانک حامنا اس پر قیامت بن کر ٹوٹ پڑا۔ ایک تو لائی چامه ناپاک تھا اور اپنے قائم کیے ہوئے حصار سے باہر ۔ اب اس کا کوئی عمل کارگر نہ ہو سکتا تھا۔ اس کی حیثیت حمنا کے سامنے مچھر سے زیادہ نہ تھی۔
حامنا نے اسے گردن سے پکڑ کر زمین سے ایک گز اوپر اٹھالیا ۔ لائی چامہ بے بسی سے ہوا میں معلق تھا اور اس کے حلق سے بھینچی بھینچی چیخیں برآمد ہورہی تھیں۔
حامنا چشم زدن میں اسے اڑاتا ہوا چھت پر کامران کے پاس لے آیا اور بولا۔ "میں ذرا اس موذی کو ٹھکانے لگا آؤں۔ تم ٹھہرو“
"تم اسے کہاں لے جا رہے ہو؟‘‘ کامران نے پوچھا۔
"میں اسے اتنی بلندی سے پھینکنا چاہتا ہوں کہ گرتے ہوئے اس کا دم راستے میں نکل جائے۔" حامنا نے لائی چامہ کو ہوا میں لہراتے ہوئے کہا۔
"ٹھیک ہے یہ تمہارا مجرم ہے ۔ اسے جو سزا دو لیکن ایک بات میری بھی سن لو" کامران نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا ۔
"جلدی بولو" حامنا اسے لے جانے کے لیے بے قرار تھا۔
"میں دو تیر چلانا چاہتا ہوں"۔ کامران نے تیر کمان سیدھی کرتے ہوئے کہا۔
"لو چلاؤ تم بھی اپنی حسرت پوری کر لو“ حامنا نے ہاتھ اٹھا کر کے لائی چام کو زمین سے کافی اونچا اٹھا لیا۔ " لو دکھاؤ اپنا نشانہ"
کامران نے کھٹاکھٹ دو تیر چلائے جو سیدھا اس کی آنکھوں میں لگے
لائی چامہ کرب سے تڑپ اٹھا ۔
"واہ کامران..تم نے اس ہوس ناک کی آنکھوں کا نشانہ لے کر میرا کلیجہ ٹھنڈا کر دیا میں اسے کوہ مراد سے نیچے گرا کر آتا ہوں۔" یہ کہہ کر حامنا لائی چامہ کو لے اڑا۔
تھوڑی دیر کے بعد جب حامنا واپس آیا تو اس کے چہرے پر خوشی جھلک رہی تھی اس نے قامران زندہ باد کا نعرہ لگایا۔
"نعرے بازی بعد میں ہوتی رہے گی اب اس لڑکی کو بھی اس کے علا قے میں چھوڑ آؤ..."
"ارے میں بھول ہی گیا تھا۔" پھر وہ فوراً ہی لڑکی کو لے اڑا۔
لڑکی کو اس کے ٹھکانے پر دپہنچا آنے کے بعد حامنا نے قامران سے کہا۔" تمہیں تمہارے ٹھکانے پر پہنچا دوں۔"
چند لمحوں بعد ہی وہ دونوں سرائے کے کمرے میں تھے۔
تھوڑی دیر باتوں کے بعد حامنا نے کامران سے اجازت چاہی اس کا شکریہ ادا کیا اور کہا "اچھا کامران میں اب چلوں گا تمہارا کیا ارادہ ہے؟"
"ٹھیک ہے حامنا تم جاؤ میں بھی صبح ہوتے ہی اس بستی سے رخصت ہو جاؤں گا"
حامنا نے آگے بڑھ کر اس سے ہاتھ ملایا ۔ کامران اس کے آگ جیسے ہاتھ زیادہ دیر نہ تھام سکا۔ ہاتھ ملانے کے بعد حامنا زمین پر بیٹھ گیا۔ اس نے آگے کی طرف ہاتھ کیئے غائب ہوگیا۔
کامران کا اب اس بستی میں کام ختم ہو چکا تھا۔
صبح ہوتے ہی کامران نے اپنی رخصتی کا اعلان کر دیا اور شوشو سے پوچھا ۔ "ہاں بھئی اپنا حساب کتاب بتاؤ"
"حساب کتاب میں بتاؤں گی پہلے تمہاری امانت تو دے دوں۔“
"کیسی امانت؟"
"ہیروں کے سوداگر وہ ہیروں کی تھیلی بھول گئے؟‘‘ شوشو نے یاد دلایا ۔
"ارے مارے گئے۔" کامران نے اپنا سر پیٹ لیا۔ حامنا جاچکا تھا.... قامران ان ہیروں کو واپس بھجوانا چاہتا تھا۔ یہ ہیرے حامنا نے چقمان قبیلے سے چرائے تھے۔ اب کیا کیا جائے یہ ہیرے شاکا تک کیسے پہنچائے جائیں۔ کامران کی سمجھ میں نہیں آیا
"یہ لو" شوشو نے اس کے ہاتھ میں ملی تھیلی رکھتے ہوئے کہا ۔ "گن لو"
"کامران نے ہیروں کی تھیلی اس کے ہاتھ سے لے لی۔ پھر اچانک اسے وہ الفاظ یاد آگئے جو حامنہ نے اسے بلانے کے لیے زہن نشین کروائے تھے۔ اس نے دل ہی دل میں وہ الفاظ دہرائے۔
دہراتے ہی اسے ایک زور دار چکر آیا وہ جھوم کر زمین پر آیا۔ شوشو گھبرا کر اس کی طرف بڑھی۔ کامران کامران تمہیں کیا ہوا؟ کامران نے کوئی جواب نہ دیا۔ اس کی آنکھیں بند تھیں اور وہ بے سدھ زمین پر پڑا ہوا تھا۔
شو شو اسے بے ہوشی کے عالم میں دیکھ کر فورا پانی لینے بھاگی۔ جب وہ ایک چھوٹے سے کٹورے میں پانی لے کر آئی تو کامران اٹھ کر بیٹھ چکا تھا۔
"اچانک کھڑے کھڑے تمہیں کیا ہو گیا تھا؟“ شوشو نے اس کی طرف پانی پہنچایا ۔
"کچھ نہیں۔" کامران اپنے کپڑے جھاڑتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔ اس نے چند گھونٹ پانی پیا اور مسکراتا ہوا بولا۔ "غلطی در اصل مجھ ہی سے ہو گئی تھی۔ میں نے پنجرے سے اڑے ایک طوطے کو پکڑنا چاہا تھا۔“
"تم نے اسے آزاد ہی کیوں کیا؟“ شوشو بغیر اصل بات کی تہہ تک پہنچے بولی۔"
"میں اسے آزاد کروانے کا پابند تھا۔“
"آزاد کروانے کے پابند تھے تو اسے دوبارہ قید کرنے کی فکر میں کیوں پڑ گئے؟
"نہیں قید نہیں بس ذرا سا ایک کام تھا۔ خیر ان باتوں پر اب خاک ڈالو اور ذرا قریب آؤ‘‘ قامران نے اسے گھورتے ہوۓ کہا۔
شوشو جانے کیا سمجھی ... وہ بڑی بے تابی سے قامران کی طرف بڑھی اور اس کے اتنے قریب کھڑی ہو گئی کہ فاصلہ نہ رہا۔ کامران تیزی سے پیچھے ہٹ گیا۔ اب اتنے قریب بھی نہیں۔ اس نے زبان سے کچھ نہ کہا ۔ اس نے اس کے دونوں ہاتھ پکڑ کر اپنے سامنے پھیلائے اور ہیروں والی تھیلی اس کے ہاتھ پر رکھتا ہوا ۔ بولا۔ ”یہ اب تمہارے ہیں۔"
"نہیں....یہ میں نہیں لوں گی۔ مجھے شرمنده نہ کرو" شوشو نے اپنے ہاتھ تیزی سے پیچھے کیئے
"چھوٹی سی گڑیا۔" کامران نے پھر اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ "مجھے ضد زیادہ پسند نہیں، میں جو کہتا موشی سے مان لو“
شوشو نے تھوڑی سی حیل و حجت کے بعد وہ ہیروں سے بھری تھیلی قبول کر لی اور ہنستی ہوئی بولی "ہمیں بھی میری بات مانی ہوگی"
”بولو"
"ذرا اپنا سر جھکاؤ“
"لو" قامران نے اپنا سر جھکایا تو وہ اس سے لپٹ گئی۔ قامران نے جھکا ہوا سرا اوپر اٹھالیا پستہ قد شوشو اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکی۔
"تم کیا کرنے لگی تھی؟" کامران نے پوچھا ۔ شوشو نے جھینپ کر دوسری طرف منہ پھیر لیا وہ کیسے بتاتی کہ وہ کیا کرنے لگی تھی کامران نے اس کی طرف اپنے ہاتھ بڑھائے اور بولا۔ "میں تمہیں اپنے ہاتھ چومنے کی اجازت تو دے ہی سکتا ہوں۔" شوشو نے فوری کامران کا سیدھا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام لیا اور اس کے پشت پر اپنے ہونٹ رکھ دیئے۔ کامران نے دوسرے لمحے آہستگی سے اپنا ہاتھ ہاتھوں سے آزاد کرالیا۔ اس الودائی بوے کے بعد کامران بڑی خاموشی سے سرائے سے نکلا تو اس کی چہیتی گھوڑی باہر کسی ہوئی کھڑی تھی۔ کامران نے پیار سے اس کی گردن تھپتھپائی۔ ہنہنا کر اس کے پیار کا جواب دیا۔
"تمہاری گھوڑی بڑی پیاری اور سیدھی ہے۔“ شوشو نے ابلا کو تعریفی نظروں سے دیکھتے ہوۓ کہا۔
"ہاں پیاری تو یہ ہمیشہ سے ہے لیکن سیدھی ابھی ہوئی ہے۔"
"کیا مطلب؟"
"کچھ عرصہ پہلے یہ بڑی سرکش اور منہ زور ہوا کرتی تھی۔ بس یہ اتفاق سے ہی میرے ہاتھ آگئی ورنہ اس نے اچھے اچھے سواروں کو اپنے ٹاپوں تلے کچل مارا ہے۔"
"ہائے یہ اتنی خونخوار ہوا کرتی تھی.......پر اب تو بڑی مسکین سی لگتی ہے۔ تم نے اس پر ایسا کیا جادو کر دیا؟"
"میں نے اس پر فتح حاصل کی ہے اس پر سوار ہو کر اس کے غرور کو توڑا ہے۔"
"کامران.......کیا تم جانتے ہو کہ گھوڑی اور عورت کے مزاج میں بھی یکسانیت ہوتی ہے۔" شوشو نے فلسفہ بگھارا ۔
"وہ کس طرح؟" قامران حیرت میں پڑ گیا۔
"وہ بھی فتح ہونا چاہتی ہے۔ اس کے تصور میں ہمیشہ ایک ایسا مرد ہوتا ہے جو اس کی منہ زوری کو توڑ سکے اور جب ایسا مرد اسے مل جاتا ہے تو وہ اسی کی پناہ میں چلی جاتی ہے" شوشو نے بڑے کھوئے ہوئے انداز میں کہا۔
قامران نے جان بوجھ کر اس نازک موضوع کو طول دینے کی کوشش نہ کی۔ صرف مسکرا کر رہ گیا۔
شوشو یکلخت اداس ہوگئی۔ جواب نہ پا کر یا کامران کے وقت رخصتی کی بنا پر
کامران نے چھلانگ لگائی اور ابلا کی پیٹھ پر سوار ہو گیا۔ اس نے ابلا کو ایڑ لگائی اور ہوا ہو گیا اس نے پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔
شوشو کے لبوں میں یکایک لرزش ہوئی۔ اس کا گلا رندھ گیا اور دو چمکدار موتی اس کی آنکھوں سے نکل کر رخساروں پر لڑھکنے لگے۔ شوشو اپنی ڈبڈباتی آنکھوں سے کامران کو اس وقت تک دیکھتي رہی جب تک وہ نظروں سے اوجھل نہ ہو گیا۔
قامران نے بستی کی چار دیواری سے نکلتے ہی ابلا کوتیر بنا دیا۔ کوئی ایک گھنٹے کی مسافت کے بعد وہ ایک ایسی جگہ گیا جہاں راستہ دوستوں میں تقسیم تھا۔ اس نے زور سے ابلا کی لگام دکھینچی اور سوچنے لگا کہ کون سی راہ اختیار کرے۔ ایک راستہ مغرب کی طرف جاتا تھا اور دوسرا شمال کی طرف۔
پہلے کامران نے مغرب کے آسمان کو بغور دیکھا شمالی آسمان کا جائزہ لیا۔ شمالی آسمان پرندوں سے بالکل خالی تھا جبکہ مغرب کے آسمان پر کچھ چیلیں اڑتی دکھائی دے رہی تھیں۔ اس نے سائری دیوتا کا نام لے کر اپنی گھوڑی کو مغربی راستے پر ڈال دیا.........دوپہر ہوتے ہوتے وہ ایک گھنے جنگل یں پہنچ گیا ۔ اب اسے شدت کی بھوک لگنے لگی۔ اگرچہ اس کے پاس کھانے پینے کی اشیاء وافر مقدار میں موجود تھیں مگر وہ سب خشک حالت میں تھیں۔ کامران نے کافی عرصے سے پرندوں کا تازه گوشت نہیں کھایا تھا اس نے ترکش سے تیر نکال کر کمان پر چڑھا لیا کہ جنگل میں پرندے بے پناہ تھے
چار پانچ پرندوں کو شکار کرکے اس نے انہیں آگ پر بھون لیا اور مزے لے لے کر کھانے لگا
پھر ابلا کو آزاد کر کے وہ کچھ دیر آرام کرنے کے لیئے لیٹ گیا اور آنکھیں بند کر لیں۔ ابھی اس پر غنودگی طاری ہونے ہی والی تھی کہ اس کے کانوں نے ایک عجیب سی آواز سنی اسے محسوس ہوا جیسے کوئی پاس ہی بیٹھا ہڈیاں چبانے میں مصروف ہے۔ کٹرکٹر کی آوازوں نے اسکی نیند کو کوسوں دور بھگا دیا۔ اس نے بغیر ہاتھ پاؤں ہلائے بغیر حرکت کے اپنی آنکھوں کی مدو سے اطراف کا جائزہ لیا ۔ ہڈیاں چبا نے کی آواز سامنے والی گھنی جھاڑیوں سے آرہی تھی۔ وہ اور اتنی گھنی تھی اور اندھیرے میں تھیں کہ باوجود کوشش کے اسے کچھ نہ دکھائی دیا۔ یہ جنگل گھنا ضرور تھا اب تک کسی درندے کے آثار نظر نہ آئے تھے۔ اس کا خیال تھا کہ یہ جنگل درندوں سے پاک ہے اب ہڈیاں چبائے جانے کی آواز نے اس کے خیال کو باطل کر دیا تھا۔ ان جھاڑیوں میں کوئی درندہ اپنا شکار کھانے میں مصروف تھا۔ قامران بہت احتیاط سے اٹھا اور بڑی تیزی سے بے آواز اس اونچے درخت پر چڑھ گیا
محفوظ مقام پر پہنچ کر کامران نے جھاڑیوں کو دیکھا۔ اب وہ اسے صاف نظر آرہا تھا وہ ایک بڑے پتھر پر بیٹھا گوشت کھانے میں مصروف تھا۔ قامران اس عفریت کو دیکھ کر کانپ اٹھا وہ کوئی شیر چیتا نہ تھا اور نہ ہی اسی قسم کا کوئی اور درنده ۔ کامران اسے دیکھ کر تیر چلانا بھی بھول گیا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا چیز دیکھ رہا ہے
اتنے میں وہ بلا پتھر سے اٹھی اس عفریت کے جسم پر بال ہی بال تھے۔ سرخ آنکھیں انسانوں کی طرح چار ہاتھ پاؤں اور قد عام انسانوں سے دگنا لحیم شحیم اور خوفناک نوکیلے دانت منہ سے جھانکتے ہوئے۔
کامران ابھی اچھی طرح اس عفریت کا جائزہ بھی نہ لینے پایا تھا کہ وہ چھلانگیں لگاتی نظروں سے اوجھل ہو گئی۔ اس نے ایک گہرا اور ٹھنڈا سانس لیا۔ کچھ دیر وہ درخت پر بیٹھا رہا لیکن جب اسے بلا کے واپس لوٹنے کی توقع نہ رہی تو وہ جلدی جلدی درخت سے اترا اور ابلا کو تلاش کرنے لگا۔
اسے ڈر تھا کہ کہیں اس کی گھوڑی کو اس بلا نے نقصان نہ پہنچا دیا ہو۔ اگر ایسا ہوا تو وہ کہیں کا نہ رہے گا۔ آخر ایک دن وہ خود بھی اس عفریت کا شکار بن جائے گا۔
وہ محتاط مگر پھرتیلے انداز میں ابلا کو ڈھونڈتا ہوا کافی آگے نکل گیا۔ آخر ایک جگہ اسے ابلا گھاس پر منہ مارتی ہوئی دکھائی دے گئی۔ کامران نے فورا سائری دیوتا کا شکر ادا کیا اور اس کے پاس پہنچا۔ ابلا نے اپنے مالک کو اس طرح بے قراری سے اپنی طرف آتا دیکھ کر گھاس سے منہ اٹھا لیا اور حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔ وہ جست مار کر اس پر سوار ہو گیا۔ وہ اشاره پاتے ہی دوڑنے لگی۔
جنگل ختم ہوتے ہی کامران نے ابلا کی رفتار کم کر دی۔ وہ عفریت کو بہت پیچھے چھوڑ آئے اب جلد بازی سے بھگانے کی ضرورت نہیں تھی۔ ابلا سست روی سے راستہ ماپتی ہوئی بڑھنے لگی
کامران زیادہ دور آگے نہ گیا تھا کہ اسے راستے میں ایک عورت بیٹھی ہوئی دکھائی دی وہ اپنے سینے پر تھپڑ مار کر بین کر رہی تھی۔ کامران نے اس کے قریب پہنچ کر گھوڑی روکی اور اتر کر اس ادھیڑ عمر عورت کی طرف بڑھا۔ اس عورت نے کامران پر کوئی توجہ نہ دی یا نہیں۔ وہ بدستور اپنے سینے پر ہاتھ مار مار کر روتی رہی۔
"ارے کیا ہوا؟‘‘ قامران نے اس کے سر پر پہنچ کر کہا۔
آواز سن کر اس روتی ہوئی عورت نے اپنا سر اٹھا کر کامران کو دیکھا۔
قاصران کو وہ روتی ادھیڑ عورت نظر آئی تھی لیکن ایسا نہ تھا۔ وہ ایک جوان اور تیکھے نقوش والی عورت تھی۔ اس کی آنکھوں سے چھم چھم گرتے آنسوؤں نے اسے اور حسین بنا دیا تھا۔ اس عورت نے ڈبڈبائی آنکھوں سے قاعمران کو دیکھا تو دیکھتی رہی گئی۔
اس نے آنکھیں پونچھ ڈالیں اور چند لمحوں کے لیے رونا بھول گئی۔ اس نے اپنی زندگی میں اتنا مضبوط اور خوبصورت مرد نہیں دیکھا تھا۔
"کیوں روتی ہو؟" قامران نے اس کی محویت توڑني چاہی ۔
" میرا بچہ" اس کے زخم پھر سے ہرے ہو گئے۔ وہ بین کرنے گی ۔
"کیا ہوا تمہارے بچے کو؟“
"اسے بلا اٹھا کر لے گئی"
قامران کی نگاہوں میں فورا وہ جھاڑیوں کا منظر گھوم گیا۔ وہ گوشت کھاتا ہوا عفریت؟ اس کے جسم میں سردی کی لہر دوڑ گئی۔ کیا وہ وہاں بیٹھا اس عورت کا بچہ چبا رہا تھا؟ کامران نے سوچا اور نتیجے پر پہنچنے کے لیے ابھی مزید سوالات کی ضرورت تھی۔
"کیسی بلا۔۔۔۔کیا اس علاقے میں کوئی بھیٹریا وغیرہ آیا ہوا ہے؟"
"نہیں بھیڑیا نہیں۔"
"کوئی شیر یا چیتا یا۔۔۔۔۔"
"نہیں یہ بھی نہیں۔"
"پھر وہ کیسی بلا ہے؟‘‘
"اسے آج تک کسی نے نہیں دیکھا...وہ کالے جنگل میں رہتی ہے اور ہر روز آدھی رات کو آتی ہے اور بستی میں سے ایک بچہ اٹھا لے جاتی ہے۔" اس جوان عورت نے اپنے آنسو پونچھتے ہوئے کہا
ابھی کامران کوئی بات کرنے والا ہی تھا کہ اسے سامنے سے چار پانچ آدمی آتے دکھائی دیئے ان دو آدمیوں نے اس عورت کے پاس ایک گھڑسوار کو کھڑے دیکھا تو بھاگتے ہوئے اس کیطرف آئے۔ پھر ایک مرد نے قریب آتے ہی اس عورت کو ڈانٹا۔ ’’ کالبائی۔۔۔! تو پھر یہاں آ گئی؟"
"میں یہاں سے نہیں جاؤں گی نہیں جاؤں گی مجھے میرا بچہ چاہیے۔" اس عورت نے پھر رونا شروع کر دیا۔
"تم کون ہونوجوان؟‘‘ اس مرد نے کامران سے سوال کیا۔
"ایک مسافر ادھر سے گزر رہا تھا یہاں کالبائی کو روتا دیکھ کر اتر پڑا۔ یہ شاید تمہاری بیوی ہے؟" کامران نے اس سے پوچھا۔
"ہاں یہ میری بیوی ہے اسے میں کئی بار یہاں سے اٹھا کر لے جا چکا ہوں مگر یہ ہر بار یہاں آ کر بیٹھ جاتی ہے۔ شاید اس آس میں کہ کالے چنگل سے وہ بلا نکلے گی اور اس کا بچہ اسے آ کر واپس لوٹا جائے گی۔ کم عقل عورت" اس مرد نے اسے ہاتھ پکڑ کر اسے اٹھا لیا اور وہ کھڑی ہو گئی۔
"تمہاری بات ٹھیک ہے تم مرد ہو اس حقیقت کو تسلیم کر چکے ہو کہ تمہارا بچه واپس نہیں آئے گا۔ اسے بلا لے جا چکی ہے لیکن یہ عورت ہے اس بچے کی ماں ہے۔ ان کی ممتا کو قرار نہیں۔ جھوٹی آس پر یہاں آ بیٹھتی ہے۔ میری مانو اس کے ساتھ نرمی کا سلوک کرو " قامران نے کالبائی کے شوہر کو سمجھانے کی کوشش کی۔
"او جوان کیا تم کالے جنگل کی طرف سے آرہے ہو؟" اس نے پوچھا
"ہاں‘‘ قامران نے جواب دیا۔
"ہم نے سنا ہے کہ وہ بلا وہیں رہتی ہے۔“
"ہاں تم لوگوں نے ٹھیک سنا ہے۔ میں اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ کر آرہا ہوں۔
"ہیں۔۔۔کیا کہا۔۔۔۔تم نے اس بلا کو دیکھا ہے۔؟“
وہ سارے لوگ بلا کا ذکر سنتے ہی خوف سے ایک دوسرے کے قریب آ گئے اور حیرت سے کامران کو دیکھنے لگے۔
"لیکن تم اس کے ہاتھوں سے بچ کر کیسے آ گئے؟ ان میں سے ایک مرد نے سوال کیا۔
"اس نے مجھے کچھ نہیں کہا۔۔۔۔شاید اس نے مجھے دیکھا ہی نہیں...وہ بلا اپنے کام مصروف تھی کچھ دیر بعد وہ چھلانگیں لگاتی ہوئی میری نظروں سے غائب ہو گئی۔" کامران نے بلا کے گوشت کھانے کا ذکر جان بوجھ کر نہ کیا کہ کالبائی کو مزید دکھ پہنچا۔
" ترپان" ایک مردنے کا بائی کے شوہر کو مخاطب کیا۔ "اسے ونشا کے پاس لے چلو"
"کیوں نوجوان....تم ہمارے ساتھ چلو گے؟" ترپان نے پوچھا۔
کالبائی اسے امید بھری نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ وہ ڈر رہی تھی کہ کہیں یہ نوجوان بستی جانے سے انکار نہ کر دے۔
"تم لوگ مجھے کہاں لے جانا چاہتے ہو؟"
"اپنی بستی میں سردار ونشاے ملوانے۔" ترپان نے جواب دیا۔
"کیوں؟‘‘ کامران نے حقیقت جاننی چاہی۔
"تم پہلے شخص ہو جس نے اپنی آنکھ سے اس بلا کو دیکھا ہے۔ اب تک اس بلا کے بارے میں افسانے ہی مشہور ہیں۔ تم ہمارے ساتھ چل کر ہمارے سردار کو اس بلا کی حقیقت بتادو تاکہ اسے ختم کرنے کے بارے میں سوچا جا سکے۔
”ٹھیک ہے چلو؟" قامران کی مہم جو طبیعت بول اٹھی۔ وہ ابلا کی طرف بڑھا اور اچھل کر اس پر سوار ہو گیا۔ تر پان نے اپنی بیوی کالبائی کو اپنے کندھے پر بٹھا لیا۔ ایک مرد نے ابلا کی لگام پکڑ لی اور پیدل چلنے کے لیے تیار ہو گئے۔ کامران نے جب محسوس کیا کہ وہ اسے بھی اپنے ساتھ پیدل چلانا چاہتے ہیں ان سے کہا ۔ "مجھے تم لوگ اپنی بستی کا پتہ بتاؤ میں وہاں جاتا ہوں تم لوگ آتے رہنا۔"
"نہیں سب ساتھ چلتے ہیں۔ تم آرام سے گھوڑی پر بیٹھے رہو" ترپان نے کہا۔
پھر ان لوگوں نے دوڑنا شروع کردیا۔ ترپان اپنی بیوی کو کندھے پر بٹھا کر اس طرح چل رہا تھا جیسے کسی بچے کو بٹھا رکھا ہو۔ ان لوگوں کے دوڑنے کی رفتار خاصی تیز تھی۔ کامران نے اپنی گھوڑی کی لگام چھڑا لی تھی۔ اب وہ گھوڑی کے ساتھ ساتھ بھاگ رہے تھے اور کامران ان لوگوں کی رفتار دیکھ کر حیران ہو رہا تھا۔
بستی میں داخل ہوتے ہی ترپان نے اپنی بیوی کالبائ کو کندھے سے اتارا اور آ کرگھوڑی کی لگام تھام لی اور پھر سے بھاگنے لگا۔ بستی میں ایک سجیلے گھڑسوار کو دیکھ کر بستی کے اور لوگ بھی اس چھوٹے سے جلوس میں شامل ہوتے گئے ۔ سردار ونشا کے گھر تک پہنچتے پہنچتے بستی کی تمام آبادی امنڈ آئی
سردا ونشا نے اسے اور اپنی پوری قوم کواپنے گھر کی طرف آتے ہوئے دیکھا تو باہر نکل آیا اور چلا کر بولا۔ "کیا تماشہ ہے؟"
اس سے پہلے کہ کوئی اور جواب دیا ۔ کامران نے مسکراتے ہوئے بڑی نرمی سے کہا
"سردار ونشا۔۔۔میں تماشہ نہیں قامران ہوں قامران...........ایک مسافر“
"سردار...........یہ مسافر جس نے ابھی ابھی اپنا نام قامران بتایا ہے بڑے کام کا ہے‘‘ ترپان سردار ونشا سے مخاطب تھا۔
"اسے تم کہاں ہے پکڑ کر لائے ہو؟" سردار ونشا کا غصہ ابھی برقرار تھا۔
"سردار یہ کالے جنگل سے آرہا ہے۔"
"یہ" سردار نے منہ کھول کر کامران کی طرف اشارہ کیا۔
"کہتا ہے کہ اس نے اس بلا کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔" ایک اور انکشاف۔
"کیوں نو جوان...........کیا نام بتایا تم نے...ہاں قامران۔" سردار ونشا کا پاره اچانک نیچے اترا
"ہاں....یہ سچ ہے۔" کامران نے پورے اعتماد سے کہا۔
"تو پھر تم باہر کیوں کھڑے ہر اندر آجاؤ۔“ سردار ونشا نے اس کا ہاتھ تھام لیا اور اسے اندر کے کے چلا۔
اندر جا کر سردار ونشا نے اسے بڑے احترام سے ایک جگہ بٹھایا اور بلا کا احوال پوچھنے لگا
کامران نے جو کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا من و عن سردار ونشا کی خدمت میں عرض کر دیا۔ سردار یہ سن کر فکر میں ڈوب گیا۔ پریشانی اس کے ماتھے پر لکیریں بن کر ابھر آتی۔ سمجھ میں نہیں آتا کیا کیا جائے....وہ خبیث بلا اس بستی کے بے شمار بچوں کو کھا چکی ان بچوں میں میرا بھی ایک بچہ شامل ہے۔ سردار ونشا نے ہاتھ ملتے ہوئے کہا۔
"اس کا مطلب ہے کہ اس کی دلچسپی صرف بچوں تک محدود ہے۔ بڑوں کو اس نے کبھی نقصان نہیں پہنچایا۔" کامران نے سوچتے ہوۓ کہا۔
"نہیں آج تک نہیں۔“ سردار ونشا کی بجاۓ ترپان بولا۔
"ٹھیک ہے پھر زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں سمجھ لو کہ اس بستی کو اس عفریت سے نجات مل گئی۔“
"اس ظالم بلا پر قابو پانا اتنا آسان نہیں............... وہ بہت چالاک ہے۔ وہ بڑی ہوشیاری سے بستی میں داخل ہوتی ہے اور بڑی خاموشی سے بچے کو اٹھا کر چلتی بنتی ہے۔ تبھی یہ حال ہے کہ باوجود کوشش کے آج تک کوئی نہیں دیکھ سکا۔" سردار ونشا نے گہری سانس لیتے ہوئے کہا۔
"میں نے اس بلا کو اپنی آنکھ سے دیکھ لیا ہے۔ اب میں ہی اس کی موت کا سبب بنوں گا سردار تم بالکل فکر نہ کرو اب میں بستی میں اس وقت تک رہوں گا جب تک اس بلا کا قلع قمع نہیں کر دیتا" کامران نے مٹھیاں بھینچ کر بڑے یقین سے کہا۔
"ہم زندگی بھر تمہارے احسان مند رہیں گے۔“ سردار ونشا نے بڑی عاجزی سے کہا۔ ”اور....تم جب تک یہاں ہو میرے مہمان رہو گے۔“
شام ہونے کوتھی.....کامران نے سوچا کہ دن ڈھلنے سے پہلے ہی بستی کا جائزہ لے لیا جائے۔ تاکہ مورچہ بندی کرنے میں آسانی رہے۔ وہ سردار ونشا سے اجازت لے کر بستی کی سیر کے لیے کھڑا ہوا کوئی آدھے گھنٹے میں اس نے ابلا پر سوار ہو کر پوری بستی کا جائزہ لے لیا۔ بلا کے داخلے کا امکان اسی راستے سے تھا جدھر سے قامران بستی میں داخل ہوا تھا۔ کامران نے بستی سے چار پانچ اور مضبوط نوجوانوں سے اس درخت پر جو بستی کے کنارے پر تھا موجود تھا پر مورچہ بنانے کو کہا۔ مورچہ تیار ہو گیا تو کامران نے ان نوجوانوں سے اپنے گھروں سے ہتھیار لانے کو کہا۔ ہتھیار کا نام سن کر ان نوجوانوں نے مایوسی سے سے گردن ہلائی۔
اس نے جب زیادہ زور دیا تو وہ اپنے گھروں سے چھوٹے چھوٹے ڈنڈے اٹھا لائے۔ کامران ان ڈنڈوں کو دیکھ کر ہنس پڑا ۔
"یارو__! آن ڈنڈوں سے بلا کو مارو گے“
"بس ہمارے پاس یہی کچھ ہے۔“
"جاؤ...سردار ونشا کے ہاں سے کچھ لے آؤ۔ اس کے پاس ضرور کوئی ہتھیار ہوگا۔"
"کامران یہ امن پسندوں کی بستی ہے۔ یہاں کسی کے ہاں کوئی ہتھیار نہیں نکلے گا ہمیں آج تک کسی پر بھی ہتھیار اٹھانے کی ضرورت نہیں پڑی۔"
"کسی پر ہتھیار اٹھانا یقینا بری بات ہے لیکن اپنے بچاؤ کے لیے ہتھیار رکھنا ہرگز برائی نہیں۔‘‘ کامران نے سمجھانے کی کوشش کی۔
"ہمارے سردار نے اس بستی کو ہتھیاروں سے خالی ہی رکھا ہے۔ ہتھیار گھر میں ہوتو استعمال کرنے کو جی چاہ ہی سکتا ہے۔"
"عجيب فلسفہ ہے۔"
"تم مسافروں کے لیے یہ بات عجیب ضرور ہے لیکن ہمارے لیے باعث سکون ہے دوسری بستیوں کی طرح ہتھیاروں کی دوڑ لگا کر راتوں کی نیندیں حرام نہیں کرنا چاہتے۔"
"اور اس بلا نے جو تم لوگوں کی نیندیں حرام کر رکھی ہے اس سے نمٹنے کے لیے تمہارے پاس کچھ ہے۔ آج تم لوگوں کے پاس ہتھیار ہوتے تو کسی کام آتے۔"
"وہ بلا آسمانی ہے۔ بستی والوں کی تو پیدا کردہ نہیں اس سے نمٹنے کے لیے تم آ پہنچے اسے اپنی امن پسندی کا انعام سمجھتے ہیں۔"
"اچھا میرے امن پسند بھائیو___! میری بات غور سے سنو۔ ہم لوگوں نے آج پوری رات جاگ کر اس درخت پر گزارنی ہے اور اس بلا کا انتظار کرنا ہے۔"
"ٹھیک ہے۔ ہم سب تیار ہیں۔“
رات گہری ہوتے ہی کامران نے ان پانچوں نوجوانوں کے ساتھ اس گھنے درخت پر آرام کیا۔ چاندنی رات تھی۔ روشنی اتنی تیز تھی کہ اس بلا کو بآسانی دور ہی سے دیکھا جا سکتا تھا۔ رات جوں جوں سیاہ ہوتی جا رہی تھی اس بستی کے نوجوانوں میں خوف کی لہر بڑھتی جا رہی تھی۔ قامران بڑی حد تک پرسکون تھا۔ شاید اسی لیے کہ وہ ایک بار اس عفریت کو دیکھ چکا تھا اور نہتا بھی نہ تھا۔
بستی کے نوجوان بار بار کامران سے اس بلا کے بارے میں استفسار کرتے تھے کہ وہ کیسی ہے کامران نے اس عفریت کی شکل و صورت کے بارے میں انہیں کچھ نہ بتایا کہ خوامخواہ ان کے دل میں ہیبت بیٹھ جائے اور کہیں وہ اسے اکیلا ہی چھوڑ کر نہ بھاگ جائیں....ان نہتے نوجوانوں سے عملی مدد کی توقع نہ تھی اور نہ اس نے اس غرض سے انہیں اپنے ساتھ بٹھایا تھا۔ اس کا مقصد اتنا تھا کہ ان نوجوانوں کی وجہ سے رات آسانی سے کٹ جائے گی۔ پھر کامران نے ان نوجوانوں کو باتوں میں لگا لیا۔ پہلے اس نے انہیں اپنی آب بیتی سنا ڈالی اور جوانوں سے اس بستی کے رسم و رواج پوچھتا رہا۔ اس کی آنکھیں دور تک اس عفریت کو تلاشتی ہیں اور کان ان نوجوانوں کی باتیں سنتے رہے۔
رات آدھی سے زیادہ گزر چکی تھی۔ بستی میں چاروں طرف سکون پھیلا ہوا تھا۔ عفریت کا نام و نشان نہ تھا۔ باتیں ختم ہوئیں تو عشق و محبت کی داستانیں چھڑ گئیں ۔ حسن و شباب کے نغمے گاتے وقت گزرتا رہا۔
تب تامران کو اچانک بستی کے کسی کونے سے چیخ و پکار کی آواز سنائی دی۔ بستی کے نوجوان چیخیں سن کر سہم گئے۔ چند لمحوں بعد ہی چیخ و پکار رونے کی آواز میں تبدیل ہوگئی۔ کامران کو محسوس ہوا جیسے کئی عورتیں مل کر بین کر رہی ہوں۔ اس کی سمجھ میں نہ آیا کہ یہ عورتیں اچانک کیوں رونے لگیں؟
"کیا ہوا؟‘‘ کامران نے نوجوانوں سے پوچھا۔
"شاید بلا اپنا کام کر گئی۔" کسی ایک نوجوان نے کپکپاتے ہوئے کہا۔
"ارے نہیں۔" کامران نے اپنی تیر کمان سنبھالی اور درخت سے تیزی سے نیچے اترا
"آؤ__میرے ساتھ" کامران کی صدا پر کسی نے لبیک نہ کہا کوئی نوجوان اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہ ہوا۔
"ارے جلدی اترو....ڈرتے کیوں ہو۔۔۔؟ میرے ہوتے ہوئے بلا تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔“ نیچے پہنچ کر انہیں تسلی دی۔
خدا خدا کرکے وہ نوجوان درخت سے اترے۔ جب قامران ان نوجوانوں کے ساتھ جائے وقوعہ پر پہنچا تو یہ جان کر حیران رہ گیا کہ وہ عفریت ایک گھر سے بچے اٹھا کر لے جا چکا تھا۔ صدمے سے عورت کا برا حال تھا۔ شادی کے سات سال بعد تو اس کے ہاں بچہ پیدا ہوا تھا۔ ابھی وہ تین ماہ کا تھا کہ آج رات وہ بلا کے ہتھے چڑھ گیا۔ کامران نے بڑی پھرتی سے پورا گھر اور آس پاس کا علاقہ چھان مارا لیکن اس عفریت کا دور تک سراغ نہ لگا۔
کامران نے اس عفریت کو کالے جنگل میں دیکھا تھا، بستی والے بھی یہی کہتے تھے کہ وہ بلا وہاں رہتی ہے۔ کالے جنگل سے جو راستہ بستی کی طرف آتا تھا اس راستے پر اس نے مورچه بنایا اور پوری توجہ سے وہ اس راستے کی نگرانی کر رہا تھا۔ وہ بلا بھی کوئی چھوٹی موٹی چیز نہ تھی۔ دور ہی سے دکھائی دے جانے والی۔ پھر بھی اس بلا نے سارا منصوبہ خاک میں ملا دیا-
نگرانی کے باوجود وہ اپنا کام کر گئی تھی۔ گویا ان سب کی آنکھوں میں دھول جھونک گئی تھی ۔
کامران۔۔.۔۔سردار ونشا کے گھر واپس پہنچا۔
سردار ونشا تک اس تازه واردات کی اطلاع پہنچ چکی تھی۔ وہ قامران ہی کا منتظر تھا۔
قامران نے اسے دیکھ کر مایوسی سے گردن ہلائی اور بنا کوئی بات کیئے کمرے میں جا کر لیٹ گیا۔
اگر چہ کمرے میں اجالا تھا لیکن کامران کے دل میں یہاں سے وہاں تک اندھیرا تھا۔
عفریت کے اس طرح خاموشی سے نکل جانے کا اسے بڑا دکھ تھا....وہ کروٹیں بدل بدل کر اس بلا سے نجات پانے کے راستے تلاش کر رہا تھا کہ اچانک کمرے کا دروازہ کھلا۔ آنے والے نے دروازہ پلٹ کر بند کر دیا اور دھیرے دھیرے کامران کی طرف بڑھا...کامران اسے دیکھ کر پریشان ہو گیا۔
کیونکہ آنے والا در اصل آنے والا نہیں "آنے والی" تھی اور یہی بات کامران کے لیئے پریشانی کا باعث تھی۔
تمام اردو کہانیاں پڑھنے کے لیے کلک کریں
سفید محل - پارٹ 9
Urdu stories online, Urdu stories for kids, Short Urdu stories, Urdu Kahaniyan, Famous Urdu stories, Urdu stories with moral, Best Urdu stories collection, Urdu stories for students, Urdu love stories, Urdu horror stories, Urdu stories for reading, Urdu stories in Urdu text, Funny Urdu stories, Urdu stories for beginners, Urdu detective stories, Urdu motivational stories, Urdu stories for adults, Urdu moral stories, Urdu stories for children, Urdu true stories, Urdu suspense stories, Urdu emotional stories, Urdu adventure stories,
hindi moral stories in urdu,سبق آموز کہانیاں, jin-ki-dushmni,good moral stories in urdu,Moral Stories,Urdu Stories,urdu kahani,اردو کہانی,قسط وار کہانیاں,