سفید محل - اردو کہانی قسط نمبر 6

 

سفید محل - اردو کہانی قسط نمبر 6

چادر ایک تھی اور اس کو حاصل کرنے والے ہاتھ بہت تھے۔ نتیجے میں چادر جھیر جھیر ہوگئی اور لوگوں کے ہاتھ چند دھجیوں کے سوا کچھ نہ آیا لیکن وہ اسی میں خوش تھے۔ دوسری منزل کا دروازہ بند ہو گیا۔ سردار کاچاک درشن دے کر جا چکا تھا۔ بستی والوں نے اپنے گھروں کا رخ کیا۔ جنہیں تبرک مل گیا تھا وہ خوش تھے اور جنہیں نہیں ملا وہ کل کی امید میں ہاتھ ملتے ہوئے جارہے تھے۔
"قامران“ کامران ابھی زیادہ آگے نہ گیا تھا کہ کسی نے اسے پیچھے سے پکارا۔
قامران رک گیا۔ اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو تذبذب میں مبتلا ہو گیا۔ اسے آواز دینے والی ایک لڑکی تھی اور یہ شاکا کی بہن ہرگز نہ تھی۔
"میں ثمرنہ ہوں۔" اس لڑکی نے کامران کے نزدیک پہنچ کر دھیرے سے کہا
"اچھا ہوا تم خود ہی مل گئیں۔ میں تو تمہارے لیے پیغام بھیجنے والا تھا۔"
"مجھے تمہارا پیغام بغیر بھیجے ہی مل گیا۔" ثمرنہ نے ادھر ادھر دیکھا اور انتہائی رازداری سے بولی۔
”میں رات کوشاکا سے ملی تھی۔"

"اچھا ثمرنہ یوں کرو کہ رات کو شاما کے گھر آ جاؤ پھر تفصیل سے باتیں ہوں گی۔ یہاں یہ باتیں مناسب نہیں۔‘‘ کامران نے کہا۔
"ٹھیک ہے میں آجاؤں گی تم نے یہ تماشہ دیکھا۔“
"ہاں تماشا دیکھ کر اندازہ ہوا کہ سردار کے عقیدت مند یہاں کافی ہیں۔ ویسے سردار کی شخصیت بھی کافی پرکشش ہے۔"
"تم نے اسے ابھی بولتے ہوئے نہیں دیکھا۔ جب وہ تقریر کرتا ہے تو سماں باندھ دیتا ہے لوگوں پر سحر کر دیتا ہے۔" ثمرنہ بولی۔
”مجھے اندازہ ہے میں ابھی اس سے مل چکا ہوں۔ خاص کر اس کی آنکھیں بڑی سحر انداز ہیں۔" کامران نے کہا۔
اچھا میں چلتی ھوں زیاده دیر تمہارے ساتھ رہنا مناسب نہیں میں پھر رات کو آؤں گی" ثمر نہ یہ کہہ کر چھلاوے کی طرح غائب ہو گئی۔
قامران گھر پہنچا تو شاما کو اپنا منتظر پایا۔ وہ قامران کو دیکھتے ہی بے قراری سے اس کی طف لپکا اور اشارے سے ملاقات کا حال پوچھا۔ کامران نے ملاقات کی تمام روداد اس کے گوش گزار کر دی۔ ساری باتیں سن کر شاما نے اشارے سے اسے سمجھایا کہ تمہیں ہیرے سردار کے حوالے نہیں کرنے چاہئیے تھے ۔ اگر دیئے تھے تو قیمت بھی ساتھ ہی وصول کر لیتے۔ کامران شاما کا مطلب سمجھ کر مسکرایا اور بولا۔ "کوئی بات نہیں، قیمت رات کو مل جاۓ گی"
شام ہوتے ہی کامران نے سردار کاچاک کے گھر کا رخ کیا۔ جب وہ دروازے پر پہنچا اس نے دروازہ بند پایا۔ وہاں صبح کی طرح کوئی غلام نہ تھا ۔ دروازہ کھٹکھٹانے پر ایک غلام نے کھولا اور اسے اجنبی نظروں سے دیکھنے لگا۔
"میں سردار کا مہمان ہوں۔" کامران نے بتایا ۔

یہ سن کر غلام اندر چلا گیا اور دروازہ بند ہوگیا۔ تھوڑی دیر میں دروازہ پھر کھلا اور ایک آدمی دروازے پر نمودار ہوا اور اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
"میں کامران ہوں ہیروں کا سوداگر سردار کاچاک نے مجھے رات کو کھانے پر بلایا میں حاضر ہو گیا ہوں۔“
"سردار کاچاک مرا قبے میں چلا گیا ہے۔ تین دن سے پہلے اس سے ملاقات ممکن نہیں رہ گیا سوال رات کے کھانے کا تو تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ سردار نے آج تک رات کو کھانا نہیں کھایا" یہ کہ کر وہ معتبر آدمی واپس مڑا اور کھٹاک سے دروازہ بند کر لیا۔ کامران پر سکتہ طاری ہو گیا۔
اسے لگا جیسے اس کا ذہن ماوف ہو گیا ہو۔ چند لمحے تو اس کی سمجھ میں ہی نہ آیا کہ یہ ہوا کیا کھانے پر بلا کر کھلانے سے انکار کر دینا جہاں مہمان کے لیے باعث شرم تھا وہاں میزبان کی ستم ظریفی کا بھی اظہار ہوتا تھا۔ اب کامران کو خود پر غصہ آنے لگا تھا۔ اس نے سردار کاچاک کی دعوت ہی کیوں قبول کی۔ بھروسہ ہی کیوں کیا۔ شاید سردار کی نیت بدل گئی ہے۔ وہ ہیرے قیمت دیئے بنا ہی ہڑپ کر لینا چاہتا ہے
شاما نے سردار کاچاک پر ٹھیک شبہ ظاہر کیا تھا جسے اس نے مسکرا کر ٹال دیا تھا۔ اگر اس وقت ہیرے جانے کا اتنا غم نہ تھا دکھ تھا تو اس توہین کا جو بلا جواز اس کے ساتھ روا رکھی گئی کامران نے انگارہ بھری آنکھوں سے سردار کاچاک کے گھر کے بند دروازے کو دیکھا اور وہاں سے چل دیا۔ جب وہ گھر پہنچا تو شاما اسے دروازے پر مل گیا۔
"کیا ہوا؟" اس نے اشارے سے کامران سے پوچھا ۔ وہ اس کی اتنی جلد واپسی پر حیران ہوا قامران نے اندر چلنے کا اشارہ کیا ۔
"آپ کا سردار بھی خوب ہے۔" کامران نے زبردستی مسکراتے ہوئے کہا۔
”دعوت دے کر وہ مراقبے میں چلاگیا۔ “
"کیا مراقبہ" شاکا کی بہن نے کہا
"مجھے کیا معلوم کہ تمہارے سردار کی کیا کیا عادتیں ہیں"
"کیا اس نے ہیروں کی قیمت ادا کر دی؟'' شاما نے اشارے سے پوچھا۔
"آپ قیمت کی بات کرتے ہیں اس ذلیل نے تو کھانا کھلانے سے بھی انکار کر دیا۔
"وہ ظالم تو تھا ہی اب بد عہد اور بد نیت بھی ہوگیا ہے۔"
شاکا کی بہن غصے سے بولی۔
"کوئی بات نہیں.... چند روز کی بات ہے۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔" کامران نے سنجیدگی سے کہا "آج رات ثمرنہ یہاں آئے گی تو اس سے ساری بات طے کر لی جائے گی۔"

رات کو وعدے کے مطابق ثمرنا بھی آ پہنچی ساتھ میں اس کا چھوٹا بھائی تھا۔ ثمرنہ کے آتے ہی اندر والے کمرے میں سب لوگ اکٹھا ہو گئے اور باتیں شروع ہو گئیں۔
"ہاں اب بتاؤ کہ تمہاری ملاقات شاکا سے کیسے ہوئی؟ کیا وہ خود بستی میں آ پہنچا تھا؟“ ثمرنہ سے پوچھا۔
"اس سے میری ملاقات پہلے سے طے تھی۔ وقت اور جگہ کا تعین ہو چکا تھا۔ اس اثناء میں تم سے اس کی ملاقات ہوگئی اور تم نے ہماری مدد کرنے کا عہد کر لیا۔ میں شاکا سے ملی تو اس نے تم سے ملنے کا حکم دیا اور ساتھ یہ بھی کہا کہ کامران کے ہر حکم کی تعمیل کرنا۔ گویا ایک طرح سے ہم آپ کی نگرانی میں آگئے ہیں۔" ثمرنہ نے اپنے خوبصورت بالوں کو پیچھے جھٹکتے ہوئے کہا۔
”اب بولیں کیا کرنا ہے اور کیسے کرنا ہے؟“
"آج پورا دن میں نے بستی میں گھوم پھر کر گزارا۔ بہت سے لوگوں سے باتیں کیں۔ ان سے باتیں کر کے یہ تاثر جو میں نے سردار سے مل کر اور درشن کا حال دیکھ کر قائم کیا تھا زائل ھوگیا میرا خیال تھا کہ سردار کاچاک سے چقمان قبیلے کے لوگ اندھی عقیدت رکھتے ہیں اور اس کے خلاف شاید ایک لفظ بھی سننا پسند نہ کریں لیکن جب میں نے یہاں کے لوگوں خاص کر نوجوانوں کو جو سن بلوغت کو پہنچنے والے ہیں کریدا تو ان کے اندر نفرت کی چنگاریاں بھڑکتے دیکھیں۔ میرا خیال ہے کہ ہمیں سب سے پہلے ان نوجوانوں میں کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہیں آسانی سے اپنا ہمنوا بنایا جا سکتا ہے اور ہمیں انقلاب لانے کے لیے بہرحال ایسے نوجوانوں کی ضرورت ہے تمہارا کیا خیال ہے ثمرنہ؟"

"آپ کی رائے سو فیصد میں ہے۔ میں آپ سے مکمل اتفاق کرتی ہوں ساتھ ہی یہ بتانا چاہتی ہوں کہ یہاں کے نوجوان ہی نہیں بلکہ ہر ایک عام آدمی بھی سردار کاچاک کے کالے قوانین سے بیزار ہے لیکن مسئلہ بلی کے گلے میں گھنٹی باندھنے کا ہے۔ جیسے ہی گھنٹی باندھنے والے سامنے آجائیں گے ہر آدمی ان کا خوشی خوشی ساتھ دینے کو تیار ہو جائے گا۔"
شاما نے بھی ان باتوں کی پرزور تائید کی۔
"پھر کام کہاں سے شروع کیا جائے؟" ثمرنہ نے ہدایت مانگی۔
"ہم نوجوانوں سے شروع کریں گے۔ اس وقت موقع بھی اچھا ہے۔ سردار کاچاک مراقبے میں ہے۔ اس کی غفلت سے فوراً ہی فائده اٹھا لیا جائے۔"
کامران نے تجویز پیش کی۔
"ٹھیک ہے ہم یہ کام روشنی کی پہلی کرن پھوٹتے ہی شروع کر دیں گے۔"
"تین دن تک یہ مہم جاری رہے گی....چوتھے دن اسی وقت یہاں ملاقات ھوگی" کامران بولا
"ٹھیک ہے۔“ ثمرنہ یہ کہہ کر کھڑی ہوگئی۔ چقمان قبیلے کے لوگوں کے بارے میں کامران کا تجزیہ بڑی حد تک صحیح تھا۔ جب قامران اور ثمرنہ نے اپنے اپنے طور پر "زبان بچاؤ“ مہم کا آغاز کیا تو وہاں کے نوجوانوں نے فورا لبیک کہا اندر ہی اندر دہکتے لاوے کو باہر نکلنے کا راستہ دکھائی دیا تو وہ فوراً پھوٹ بہا۔ سردار کاچاک کی عقیدت کم ہونے لگی نفرت بڑھے لگی اور نوبت یہاں تک پہنچی کے لوگ برملا سردار کاچاک سے اپنی نفرت کا اظہار کرنے لگے۔ کالے قوانین ختم کرنے کا مطالبہ ہونے لگا۔ زبان کاٹنے اور قبیلے کی کنواری داشتہ بنانے کے عمل کو انتہائی نفرت انگیز اور ظالمانہ سمجھا جانے لگا

پہلے دن جب درشن کا وقت ہوا تو قامران اس بھیٹر میں موجود تھا۔ وہ دیکھنا چاہتا تھا کہ سردار مراقبے میں ہے درشن دینے آتا ہے کہ نہیں ۔ اس مجمع میں ثمرنہ بھی موجودتھی ۔ دونوں نے ایک دوسرے سے نگاه چرا لی تھیں اجنبی بن گئے تھے ۔ مقررہ وقت پر دوسری منزل کا دروازہ کھلا ۔ چند لمحوں بعد جو آدمی دروازے سے داخل ہوا وہ کوئی اور تھا۔ اپنے چہرے مہرے اور لباس سے وہ سردار کا کوئی خاص آدمی دکھائی دیتا تھا
"چقمان قبیلے کے لوگو؟“ وہ بندۂ خاص مخاطب تھا۔ ’’ تمہارا سردار تمہاری بھلائی کی خاطر مراقبے میں ہے۔ وہ تین دن کے بعد اپنا جلوہ دکھائے گا۔ جب تک تم لوگ کولابہ کو دیکھو کولابه سردار کو اپنی جان سے پیارا ہے۔"
چند لمحے توقف کے بعد اس بندۀ خاص نے ”کولا به“ کہہ کر زور سے آواز دی۔ آواز سنتے ہی وہ گدھا نما کتا اپنی گز بھر لمبی زبان باہر نکا لے مجمع کے سامنے آ گیا۔ آج وه چارکے بجائے دو پاؤں پر کھڑا ہو گیا اور اس وقت تک کھڑا رہا جب تک اس بنده خاص نے اسے اشارہ نہ کیا
کامران نے سوچا کہ سردار بھی خوب ہے۔ خود نہ آیا اپنے کتے کو ہی بھیج دیا۔ گویا اسے اور سردار کاچاک کو دیکھنا ایک ہی بات ہے۔ ایسے کامران کے نزدیک سردار کی حثیت کتے سے زیادہ نہ تھی
دوسرے دن پھر سردار کی جگہ کتے کے درشن کرائے گئے۔ ثمرنہ اور کامران کی مہم زور پکڑتی جا رہی تھی۔ انہوں نے اس کتے کے درشن کو بھی سردار کے خلاف استعمال کیا۔ تیسرے دن آنے والوں کی تعداد میں نمایاں دیکھی گئی۔ چوتھے دن جب سردار کا چاک نے خود درشن کے لیے آنا تھا تو وہاں برائے نام لوگ تھے اور یہ بات سردار کاچاک کے لیے غصے کا سبب بن سکتی تھی لہذا سردار کاچاک کے درشن دینے سے پہلے بنده خاص کے حکم سے چھ گاڑیاں برق رفتاری سے سردار کاچاک کے گھر کے احاطے سے نکلی اور بستی جانے والے راستے پر گم ھو گئیں سردار کاچاک کے ہرکاروں نے زبردستی لوگوں کو گھروں سے نکال کر کتا گاڑیوں میں ڈال دیا۔ اگر کسی نے مزاحمت کی تو مار پیٹ سے بھی دریغ نہیں کیا گیا۔ لوگوں سے بھری گاڑیاں کاچاک کے گھر کے سامنے آنے لگیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے مجمع میں اضافہ ہوتا گیا۔ سردار کاچاک کے گھر کے سامنے والا میدان لوگوں سے بھر گیا
دوسری منزل کا دروازہ کھلا اور حسب دستور کولابه داخل ہوا اور اپنی گز بھر لمبی زبان لٹکا کے خاموشی سے بیٹھ گیا۔ چند لمحے ہی گزرے تھے کہ سردار کا چاک پوری شان سے دروازے پر جلوہ نما ہوا۔ لوگوں نے دیکھتے ہی نعرے لگائے لیکن ان نعروں میں پہلے والا جوش نہ تھا۔ سردار کاچاک کو اس مرتبه مجمع کو خاموش کرنے کے لیے ہاتھ نہیں اٹھانے پڑے وہ خود بخود خاموش ہوگیا۔ کچھ دیر خاموش کھڑے رہنے کے بعد سردار کاچاک نے اپنے جسم سے چادر اتری اور بڑے انداز سے ہوا میں اچھالی۔ چادر اڑتی ہوئی لوگوں کی طرف بڑھی۔ وہ جوش و خروش جو کامران نے پہلے دن دیکھا تھا کہ چادر کے ہوا میں لہراتے ہی لوگوں میں بے قراری بڑھ گئی تھی اور اس کے نیچے آتے ہی وہ بھوکے بھیڑیوں کی طرح اس پر نوٹ پڑے لوگوں میں موجود نہ تھا۔ چادر لوگوں پر گری تو کوئی خاص ہلچل نہ مچی۔ اس چادر کے مشکل سے تین چار ٹکڑے ہوئے۔ سردار کاچاک کے پھینکے ہوئے تبرک کو لوگوں نے بڑے صبر سے دیکھا اور قامران اندر ہی اندر مسکرا دیا۔ کاچاک چو درشن دے کر جا چکا تھا یہ اندازہ نہ کر سکا کہ اس کے قبیلے میں مقبولیت اب نچلی سطح پر جا چکی ہے۔ ہدایت کے مطابق ثمرنہ چوتھے دن کی رات شاما کے گھر آ پہنچی۔ اس کے ساتھ اس کا چھوٹا بھائی بھی تھا۔ فورا ہی سب لوگ اندرونی کمرے میں جمع ہو گئے۔ شاما نے دروازہ اندر سے بند کر دیا۔
"ثمرنہ کیا خبریں ہیں؟‘‘ کامران نے گفتگو کا آغاز کیا۔

"آپ کے حکم کے مطابق ہم نے نوجوانوں میں زبان بچاؤ اور عصمت بچاؤ مہم کا آغاز بڑے دھماکے سے کیا۔ ہماری تحریک جنگل کی آگ بن کر بستی کے نوجوان میں پھیلتی چلی گئی ہمارے پاس ساٹھ نوجوان ایسے موجود ہیں جو ہمارے لیے جان کی بازی لگانے کے لیے تیار ہیں؟ ساٹھ جانثاروں میں دو لڑکیاں بھی شامل ہیں ۔
"لڑکیوں کو چھوڑ کر کیا یہ سارے نوجوان زبانوں والے ہیں؟‘‘ کامران نے پوچھا۔
"سارے نہیں..........آدھے زبانوں والے آدھے زبان کٹے" ثمرنہ نے وضاحت کی
ساٹھ جانثاروں کے علاوہ تقریبا ڈیڑھ سو رضاکار ایسے ہیں جنہوں نے اس تحریک کی بھر پور حمایت کی ہے"
اب وقت آ گیا ہے کہ تمہاری شادی کا اعلان کر دیا جائے" قامران نے ثمرنہ کو گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔ شادی کا ذکر سن کر اس خوبصورت بالوں والی لڑکی کے چہرے پر کشرمساری پھیل گئی۔
"ثمرنہ کی شادی کیسے ہوسکتی ہے۔ شاکا تور مفرور ہے۔" شاکا کی بہن بولی۔
"ثمرہ کی شادی شاکا سے نہیں ہوگی۔" کامران نے مسکراتے ہوئے کہا۔
”ہائے کیوں؟" شاکا کی بہن پریشان ہوگئی
"اس لیے کہ ہم نہیں چاہتے کہ اس کی زبان کٹ جائے۔‘‘ کامران نے جواب دیا۔
کیا آپ نے اس سلسلے میں شاکا سے بات کر لی ہے؟"
"ہاں میں نے تمام سلسلوں میں شاکا سے بات کر لی تھی۔ منصوبے کے مطابق ثمرنہ کی اس نوجوان سے کی جائے گی جس کی ابھی چار پانچ روز پہلے زبان کاٹی گئی ہے۔" کامران نے اسے دیکھتے ہوئے کہا ۔
”ثمرنہ وہ نوجوان ہمارے جانثاروں میں شامل ہے یا رضا کاروں میں؟"
"جانثاروں میں وہ بہت جوشیلا نوجوان ہے۔"
"تم پریشان نہ ہو۔" قامران شاکا کی بہن سے مخاطب تھا۔
"یہ شادی صرف اعلان کی حد تک ہے اور یہ بات اس نوجوان کو سمجھا دی جائے گی۔“
"نہیں میں پریشان نہیں تھی۔ شاکا کی بہن نے کہا۔
”آپ جو کریں گے ٹھیک کریں گے۔"
"ثمرنہ ابھی ابھی میرے ذہن میں ایک خیال آیا ہے۔" کامران نے چٹکی بجاتے ہوئے کہا
"یہ بتاؤ کہ شادی کی تاریخ سے کتنے دن پہلے سردار کاچاک کی خدمت میں حاضر ہونا پڑتا؟"
"تین دن پہلے“
"میں سوچ رہا ہوں کہ تمہاری شادی کے ساتھ کسی ایک اور لڑکی کی شادی کا بھی اعلان کر دیا جائے بس شادی کی تاریخ ایک ہو“
"آپ یہ چاہتے ہیں میرے ساتھ ایک اور لڑ کی سردار کی خدمت میں حاضر ہو؟“
"ہاں یہی چاہتا ہوں۔" "لیکن کبھی ایسا ہوا نہیں۔" ثمرنہ نے اپنے بالوں کو جھٹکتے ہوۓ کہا۔۔”پتہ نہیں سردار بیک وقت دو لڑکیوں کو قبول کرے یانہیں۔“ "دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔ فی الحال تم اپنے جیسی ایک لڑکی شادی کے لیے اور تیار کرو۔ میں تمہیں اکیلا سردار کاچاک کے حوالے کرنے سے ڈرتا ہوں۔“
"سردار کاچاک میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ میں مر جاؤں گی پر اپنے جسم پر آنچ نہیں آنے دوں گی"
"میں جانتا ہوں لیکن مجھے تمہاری جان عزیز ہے۔ اسی لیے میں چاہتا ہوں کہ ایک لڑکی کے بجائے دو دلہنیں اس خبیث کی خدمت میں پیش کی جائیں۔ اس طرح خطرہ کم سے کم ہو جائے گا۔"
"میں ثمرنہ کے ساتھ جانے کے لیے تیار ہوں۔“ شاکا کی بہن نے پیشکش کی۔
کامران نے جواب دینے کے بجائے شاما کی طرف دیکھا۔ شاما نے اشارے سے اس خیال کی تائید کی۔ اب قامران نے شاکا کی ماں کو سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
"بیٹا تم جو مناسب سمجھو مجھے کوئی اعتراض نہیں۔“ شاکا کی ماں نے بڑا حوصلہ افزا جواب دیا
ٹھیک ہے ثمرنہ اس کے لیے کوئی دعویدار تلاش کرو ۔ کامران نے فیصلہ دیا ۔
"اس کے لیے میں حاضر ہوں۔“ ثمرن کا بھائی بولا۔
"نہیں تم نہیں...ہم تمہاری زبان نہیں کٹوا سکتےکیا ہمارے جانثاروں میں کوئی نوجوان نہیں جس کی زبان کٹ گئی ہو لیکن شادی ابھی باقی ہو"
"ہاں ایسے کئی نوجوان موجود ہیں۔" ثمرنہ نے بتایا۔
"بس ٹھیک ہے تم آج ہی ایسے نوجوان سے بات کر لو اور اسے یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کرا دو کہ یہ شادی صرف دکھادا ہوگی۔" یہ کہہ کر کامران اٹھ گیا ۔
دوسرے ہی دن ثمرنہ نے لڑکوں کے راضی ہونے کی اطلاع دیدی۔ کامران نے ایک ہی تاریخ مقررکردی۔
چقمان قبیلے کی رسم کے مطابق دونوں لڑکیوں کے باپ سردار کاچاک کو اپنی بیٹیوں کی شادی کی تاریخ سے آگاہ کرنے پہنچے۔

خیال تھا کہ سردار کا چاک دو لڑکیوں کی شادی ایک ہی تاریخ میں شاید منظور نہ کرے خیال خام ثابت ہوا۔ چپڑی اور دو دو کا ذکر سن کر اس کی باچھیں کھل گئیں ۔ اس نے فورا ہی دو لڑکیوں کو قبول کر لیا اور انہیں بتایا کہ شادی سے تین دن پہلے گاڑی ان کی لڑکیوں کو لینے پہنچ جائے گی۔ وہ انہیں تیار رکھیں" یہ سن کر لڑکیوں کے باپ بڑی فرمانبرداری سے اٹھ کر آگئے۔
ان لڑکیوں کو سردار کاچاک کی تحویل میں جانے پہلے کامران نے شاکا سے ملاقات کی اور اسے تمام صورتحال سے آگاہ کیا اور بولا ۔ اب کچھ کر گزرنے کا وقت آ پہنچا ہے۔ کل کی رات ہمارے لیے بہت اہم ہے۔ تمہاری بہن اور تمہاری منگیتر دونوں اس ریچھ کے قبضے میں ہوں گی۔ صرف انہیں بچانا نہیں ہے بلکہ سردار کاچاک کا قلع قمع بھی کرنا ہے۔“
"مجھے صرف اتنا بتاؤ کہ مجھے کیا کرنا ہے؟‘‘ شاکا بولا ۔
"آؤ میرے قریب آؤ قامران نے چاروں طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
”میں تمہیں بتاتا ہوں کہ تمہیں کیا کرنا ہے۔“
پھر وہ بڑی دیر منصوبے کے ایک ایک پہلو پر غور کرتے رہے تھے۔ جب وہ مطمئن ہو گئے تو کامران نے اس سے رخصت چاہی۔ شاکا نے چلتے وقت اپنی ثمرنہ کے لیے ایک پیغام دیا تھا جسے کامران نے اپنے دل پر لیا تاکه حرف بہ حرف اسے سنا سکے۔
دوسرے دن صبح ہی صبح شاما کے گھر کتا گاڑی آ پہنچی۔ اس گاڑی کو باقاعدہ سجایا گیا تھا. گاڑی سے چاکور اترا اس نے شاما کو آواز دے کر لڑکی با ہر بھجینے کو کہا۔
چقمان قبیلے کے رسم و رواج کے مطابق شاکا کی بہن کو لباس عروسی پہنا دیا گیا تھا۔ آواز سن کر شاکا کی ماں نے اپنی بچی کو کلیجے سے لگایا اور آنکھوں میں آنسو بھر لائی۔
پریشان ہونے کی بالکل ضرورت نہیں یہ سب ناٹک ہے۔ کامران نے تسلی دی
”اپنی بیٹی کو خوشی خوشی کر دیں الوداع"
شاما نے اپنی بیٹی کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھا اور اسے باہر چلنے کو کہا۔ چاکور شاکا کی بہن کو باہر آتا دیکھ کر گاڑی سے کودا اور شاکا کی بہن کو ساتھ عزت کے اپنی گاڑی میں بٹھایا۔ پھر خود چل کر بیٹھا۔ ہنٹر ہوا میں لہرایا۔ ہنٹر کی آواز سنتے ہی کتوں نے رفتار پکڑ لی ۔ گاڑی جانے کے بعد کامران نے کھڑکی آہستہ سے بند کر دی اور ایک گہرا سانس لیا اور آگے کی کارروائی کے بارے میں سوچنے لگا۔ گاڑی اڑتی ہوئی ثمرنہ کے گھر پہنچی ۔ ابھی چاکور نے آواز دے کر ثمرنہ کو باہر بھیجنے کو کہا ہی تھا کہ ثمرنہ اپنے باپ کے ساتھ دروازے پر نمودار ہوئی۔ اس کے پیچھے اس کا چھوٹا بھائی تھا۔ ثمرنہ نظریں جھکائے دل میں انتقام کی آگ بھڑکائے شاکا کی بہن کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گئی۔ گاڑی چل پڑی۔
سردار کا چاک گھر کے دروازے پر گاڑی کا منتظر تھا۔ ساتھ ہی اس کے کولابہ تھا جو اپنی گز بھر زبان نکالے رال ٹپکا رہا تھا۔ گاڑی رکتے ہی سردار کاچاک آگے بڑھا ۔ اس نے دونوں لڑکیوں کو ہاتھ کا سہارا دے کر اتارا اور پھر اندر لے چلا۔
”چا کور" سردار کاچاک نے چلتے ہوئے آواز دی۔
"حکم کر سردار" چاکور بھاگ کر سردار کے سامنے آ گیا۔ ان دونوں کنواریوں میں شاکا کی بہن کون ہے؟‘‘ سردار کاچاک نے پوچھا ۔ تیرے بائیں طرف والی سردار چاکور نے شاکا کی بہن کی طرف اشارہ کیا۔ سردار کاچاک نے اسے اپنے سے الگ کرتے ہوئے کہا۔ اس سے پوچھو کہ اس کا بھائی کہاں ہے؟
"اے لڑکی سردار کو جواب دو۔“
"مجھے نہیں معلوم‘‘ شاکا کی بہن نے جواب دیا۔
"فی الحال اس لڑکی کو تہہ خانے میں ڈال دو اور شاما کو کہلوا دو کہ اپنی لڑکی کی شادی کرنی ہو تو شاکا کو ہمارے سامنے حاضر کر دو ورنہ یہ کنواری زندگی بھر ہماری تحویل میں رہے گی۔"
شاکا کی بہن نے یہ حکم سن کر ثمرنہ کی طرف دیکھا۔ ثمرنہ نے آنکھوں آنکھوں ہی میں اسے تسلی دی
سردار کاچاک نے شاکا کی بہن کو چاکور کے حوالے کر دیا اور ثمرنہ کو اپنے ساتھ لیئے گھر کی طرف چلا گیا۔ چاکور نے شاکا کی بہن کو اپنے ہاتھ سے تہہ خانے میں بند کیا اور پھر گاڑی لے کر روانہ ہوا شاما کسی کام سے باہر نکلا تھا کہ اس نے اپنے دروازے پر کتوں والی گاڑی رکتے دیکھی۔ وہ سوچ میں پڑ گیا۔
پاکور نے گاڑی سے اترنے کے بجائے شاما کو اشارے سے اپنے قریب بلایا اور بولا ۔ سردار کاچاک کا پیغام لایا ہوں۔

شاما نے اشاروں سے اسے پیغام سنانے کو کہا۔ سردار کاچاک شاکا کی حاضری تین دن کے اندر اندر چاہتا ہے ورنہ تمہاری بیٹی کی شادی نہ ہو سکے گی ۔ چا کور نے اتنا کہہ کر ہنٹر اٹھایا۔
"ٹھہرو" ابھی وہ ہنٹر جھٹک نہ پایا تھا کہ اندر سے آواز آئی۔
چاکور نے مڑ کر دیکھا تو دروازے پر کامران کو کھڑا پایا۔
"اوہ نوجوان سوداگر" چاکور نے اسے حیرت سے دیکھا ۔ " تم ابھی تک یہی ہو"
"میں اتنی جلدی کیسے جا سکتا ہوں جبکہ سردار کاچاک نے ہیروں کی قیمت ابھی تک ادا نہیں کی۔" کامران نے نرم لہجہ اختیار کیا۔
”میں کل شام اس بستی کو چھوڑ جانا چاہتا ہوں۔ کیا یہ ممکن ہے کہ آج شام مجھے ہیروں کی قیمت مل جائے؟" "اس کے لیے تمہیں سردار سے ملنا پڑے گا۔" چاکور نے ترچھی نظروں سے دیکھا۔
"آج شام اس سے ملاقات ہوسکتی ہے؟‘‘ کامران نے پوچھا ۔ "سردار آج کل بہت مصروف ہے۔" چاکور نے سنجیدگی سے کہا ۔ "بہرحال تم شام کو آنا میں کوشش کروں گا کہ تمہاری ملاقات ہو جائے۔"
جاکور کے جانے کے بعد کامران نے شاما کو خاصی تسلی تشفی دی اور وہ بڑی تیزی سے آگے کی صورتحال کا جائزہ لینے لگا۔ اس نے طے کیا کہ وہ شام کو سردار کا چاک سے ضرور ملے گا۔
شام کو جب وہ سردار کاچاک کے گھر پہنچا تو دروازے پر حسب معمول ایک غلام کو کھڑا پایا۔ کامران نے اس غلام کا بغور جائزہ لیتے ہوئے اس سے پوچھا۔
”چاکور کہاں ہے؟“
چاکور کا نام سن کر وہ غلام فور اندر چلا گیا۔ تھوڑی دیر میں واپس آیا تو اسکے ساتھ چاکور بھی تھا
"تم آ پہنچے" چاکور نے کامران کو دیکھتے ہوئے کہا۔
"کیا ملاقات ہوسکتی ہے؟" کامران نے براہ راست سوال کیا۔
"ٹھہرو میں سردار سے بات کرتا ہوں۔“ یہ کہہ کر وہ اندر چلا گیا۔ خاصی دیر کے بعد جب وہ واپس آیا تو اس کے چہرے پر عجی طرح کی مسکراہٹ تھی۔ "سردار نے تمہیں ملاقات کا وقت دے دیا آؤ میرے ساتھ۔"
کامران کی چھٹی حس نے اسے آنے والے خطرے سے آگاہ کیا۔ اس نے اندر جاتے ہوئے اپنی کمر ٹٹولی۔ تب اسے معلوم ہوا کہ وہ چلتے وقت اپنی کمر سے خنجر باندھنا بھول گیا ہے۔ خیر! اس نے سائری دیوتا کا نام لے کر اندر قدم رکھا ۔ کمرے میں سردار کا چاک پہلے ہی سے موجود تھا۔ وہ بڑی سی چوکی پر اکڑا ہوا بیٹھا تھا اس کا ایک ہاتھ اس گدھے نما کتے کی پٹی پر تھا جو چوکی کے برابر ہی کھڑا اپنی گز بھر لمبی زبان کو اندر باہر کر رہا تھا۔
"سردار میں تیرے حکم کے مطابق اس رات کو۔۔۔۔"
"ہمیں معلوم ہے کہ تم اس رات کو آۓ تھے۔ ہمیں یاد نہیں رہا تھا کہ ہم اس وقت مراقبے میں چلے جائیں گے۔" لیکن سردار مجھے یہاں کسی نے بتایا تھا کہ تو رات کو کھانا کھاتا ہی نہیں۔" کامران نے اسے شرم دلانی چاہی۔
"تمہیں ٹھیک بتایا گیا۔ ہم نے واقعی آج تک رات کا کھانا نہیں کھایا لیکن اس کا مطلب ہرگز نہیں کہ ہم کسی اور کو کھانا نہیں کھلا سکتے۔" سردار کاچاک نے تمسخرانہ انداز اختیار کیا۔ "آخر ہم اپنے کتوں کو بھی تو رات کا کھانا کھلاتے ہیں۔"
یہ سن کر کامران کا جی چاہا کہ آگے بڑھ کر سردار کا گلا دبوچ لے اور اس وقت تک دپوچے کے وہ تڑپ تڑپ کر جان دے دے۔ اس نے بڑی مشکل سے خود پر قابو پایا۔
"سردار اس وقت میں ہیروں کی قیمت وصول کرنے آیا ہوں۔" کوشش کے باوجود وہ اپنے لہجے پر قابو نہیں پا سکا۔
"لڑکے ہم چقمان قبیلے کے حاکم ہیں اور حاکم تیز لہجے میں بات سننا پسند نہیں کرتے۔ البتہ کرنا ضرور پسند کرتے ہیں۔ رہی تمہاری ہیروں کی قیمت تو جو چیز سردار کاچاک کو پسند آتی ہے وہ پسند آ جاتی ہے۔ کسی چیز کی قیمت ادا کرنا سردار کاچاک کی شان کے خلاف ہے۔" سردار کاچاک نے کتے کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔ ”لیکن اگر تم چاہو تو تمہیں قیمت ادا کی جاسکتی ہے۔ "
"سردار تیری بڑی مہربانی ہوگی۔" کامران نے جھک کر کہا ۔
"اچھا۔" یہ کہہ کر سردار کاچاک نے اپنے کتے کی طرف دیکھا۔

"کولابہ کیا خیال ہے پورب کا یہ سوداگر تمہارے حاکم سے قیمت وصول کرنا چاہتا ہے۔ ذرا اسے تھوڑے سے آداب سکھادو" اشاره پاتے ہی وہ گدھے نما کتا جو اب تک گدھے سے بھی سیدھا دکھائی دیتا تھا ایک دم خون آشام بن گیا۔ وہ اپنی ٹانگوں پر پیچھے کی طرف جھکا اور ایک دم اچھل کر کامران پر حملہ آور ہوا۔ قامران اگر تیزی سے بیٹھ نہ جاتا تو وہ سیدھا تیر کی طرح اس کے گلے میں لگتا۔ اس نے اب تک نرخره دبوچ کر چبا ڈالا ھوتا
کامران کو اس وقت اپنی بھول کا شدت سے احساس ہوا۔ اگر اس وقت اس کے پاس خنجر ھوتا تو اس کتے سے نمٹنے میں چند منٹ لگتے لیکن نہتا اس سے مقابلہ کرنا بے حد خطرناک تھا۔ اب کولابہ سے نجات کا ایک ہی راستہ تھا....فرار۔
کامران تیزی سے دروازے کی طرف بھاگا۔ کولابہ نے بھی تیزی دکھائی۔ کامران نے دروازے کے نزدیک ہو کر اپنے سر سے رومال کھولا اور اس کی طرف اچھال دیا ۔ کتے نے زمین پر گرتے رومال کو اوپر ہی پکڑ لیا اور اسے بھنبوڑ ڈالا
عافیت کے ان لمحوں میں کامران نے فائدہ اٹھایا۔ وہ چھلانگ لگا کر دروازے سے باہر گیا اور پلٹ کر فوراً ہی باہر سے کواڑ بند کر دیئے اور تیزی سے جست لگاتا ہوا سردار کاچاک کے مکان سے غائب ہو گیا۔
سردار کاچاک اس دن بہت خوش تھا۔ ایک تو صبح ہی ایک کے بجائے دو دو کنواریاں اس کی خدمت میں حاضر ہوئی تھیں۔ دوسرے بیش قیمت ہیرے بغیر کچھ دیئے ہاتھ آگئے تھے۔ آج کے دن سردار کا چاک جتنا بھی خوش ہوتا کم تھا کیونکہ اس کی زندگی کی گھڑیاں کم سے کم ہوتی جارہی تھیں اور وہ اس سے بے خبر تھا۔
آج کی رات سردار کا چاک پر بھی بھاری تھی۔ اس لیے وہ بجھے چراغ کی طرح تیزی سے بھڑک رہا تھا۔
ہنس رہا تھا قہقہے لگا رہا تھا۔
رات دھیرے دھیرے گہری ہوتی جا رہی تھی۔ چقمان قبیلے کے کچھ لوگ سونے کی تیاری میں مصروف تھے اور کچھ لوگ اپنے سر سے کفن باندھ رہے تھے۔ بستی پر ایک مہیب سناٹا طاری تھا۔ اب قامران اور شاکا اس درخت پر پہنچ چکے تھے جس کی شاخیں سردار کاچاک کے گھر کی کھڑکی سے ملی ہوئی تھیں۔ ان موٹی موٹی شاخوں کے زریعہ سردار کاچاک کے گھر میں اترا جاسکتا تھا منصوبے کے مطابق اس کھڑکی کو اب تک کھل جانا چاہیے تھا۔ کھڑکی کھولنے کا کام ثمرنہ نے کرنا تھا اور یہ کوئی مشکل کام نہ تھا۔ تازہ ہوا کے بہانے اس کھڑی کو کھولا جاسکتا تھا۔ اچانک فضا میں گیدڑ بولنے کی آواز بلند ہوئی اور پھر وقفے وقفے سے بلند ہوتی رہی۔ اس وقت تک جب تک ثمرنہ نے کھڑکی نہ کھول دی۔ کھڑکی کھول کر ثمرنہ نے درخت کی شاخوں میں چھپے شاکا اور کامران کو دیکھنے کی کوشش لیکن اندھیرے میں کچھ نظر نہ آیا۔ البتہ قامران اور شاکا نے اسے بغور دیکھا کیونکہ اندر روشنی تھی ثمرنہ ابھی تک بالکل ٹھیک ٹھاک تھی ورنہ وہ خطرے کا فوراً اشارہ کرتی۔ ثمرنہ کھڑکی کھول کر واپس پلٹ گئی۔
کامران اور شاکا نے اطمینان کا سانس لیا۔ کھلی کھڑکی سے انہیں صرف دیوار نظر آرہی تھی جس پر ایک مشعل روشن تھی۔ دوسری منزل کی یہ کھڑکی راہداری میں کھلتی تھی۔
ابھی کامران نے گیدڑ کی آواز نکالنے کے لیے منہ پر ہاتھ رکھے ہی تھے کہ کھڑکی میں سردا کاچاک کا چہرہ نظر آیا۔ کامران اور شاکا دونوں ہوشیار ہو کر بیٹھ گئے۔ سردار کا چاک جونہی ادھر ادھر دیکھ کر کھڑکی بند کرنے لگا۔ اتنے میں پیچھے سے کسی نے اسے آواز دی۔ وہ کھڑکی بند کرتے کرتے رک گیا اور مڑ کر دیکھنے لگا۔ اندر سے کچھ کہا گیا تب وہ گردن ہلاتا ہوا کھڑکی کھلی چھوڑ کر چلا گیا۔ کامران اور شاکا نے ایک گہرا سانس لیا۔
تھوڑی دیر انتظار کرنے کے بعد کامران نے اپنے منہ پر دونوں ہاتھ رکھ کر گیدڑ کی زوردار آواز نکالی چند لمحوں بعد کسی نے دور سے اس کا جواب دیا۔
اب وقفے وقفے سے گیدڑ کی آواز آرہی تھی اور کامران آوازوں کو شمار کرتا جا رہا تھا۔ گنتی ساٹھ پر پہنچتے ہی آوازیں آنی بند ہو گئیں۔ "شاکا...کاروائی شروع کر دو ہر جانثار اپنے ٹھکانے پر موجود ہے۔" کامران نے سے کہا ۔
شاکا کی طرف سے کوئی جواب نہ آیا لیکن پتوں کی کھڑکھڑاہٹ سے کامران نے اندازہ لگایا. شاکا نے اس کی ہدایت پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے۔
پھر کامران نے شاکا کو کھڑکی میں اترتے دیکھا لیکن اس وقت کچھ ہوا۔ شاکا بجاۓ اندر جانے کے بڑی تیزی سے درخت پر واپس آیا اور کامران کے نزدیک پہنچ کر ہانپنے لگا۔

"کیا ہوا؟‘‘ کامران نے سرگوشی کی۔
وہاں ہر طرف سانپ ہی سانپ ہیں۔" شاکا نے اپنی سانس درست کرتے ہوئے کہا۔
"سانپ، سانپ کہاں سے آئے؟" قامران حیرت زدہ تھا۔
"کہیں تمہاری نظروں نے دھوکا تو نہیں کھایا؟"
"نہیں قامران............وہاں فرش پر سانپوں کا جال بنا ہوا ہے۔ کہیں پاؤں رکھے کی بھی جگہ نہیں خود جا کر دیکھ لو۔“
کامران قدم سنبھالتا ہوا کھڑکی کی طرف بڑھا اور جیسے ہی وہ کھڑکی کے نزدیک پہنچا تو شاکا کے بیان کی تصدیق ہوگئی۔ کھڑکی کے نیچے فرش پر ہر جگہ سانپ ہی سانپ تھے۔ جیتے جاگتے اور انتہائی زہریلے۔ کامران ان سانپوں کو اپنے تیروں سے ختم تو کر سکتا تھا لیکن سانپ تیروں کی تعداد سے کہیں زیادہ تھے۔ وہ سوچ میں پڑ گیا کیا کرے تب بی وہی مانوس سی خوشبو اس کے ارد گرد پھیل گئی۔ کنوارے بدن کی خوشبو چاندکا کے آنے کی اطلاع۔
"کامران یہ سانپ نہیں رسیاں ہیں رسیاں۔" چاندکا نے اس کے کان میں سرگوشی کی۔
اور پھر کامران ان رسیوں کے درمیان بے خطر کود پڑا۔ شاکا اسے کھڑکی میں کودتے دیکھ کر حیران رہ گیا۔ ابھی وہ حیران ہی ہورہا تھا کہ ایک دلدوز چیخ کی آواز سنائی دی۔
یہ چیخ قامران کی نہ تھی کسی لڑکی کی تھی اور وہ ثمرنہ کے سوا کوئی اور نہیں ہوسکتی تھی۔
شاکا جلد جلد کودتا پھاندتا کھڑکی کے نزدیک پہنچا۔ کامران کو سانپوں کے درمیان کھڑا دیکھ کر اس کے دل کی دھڑکن تیز ہوگئی۔
”جلدی آؤ" کامران نے اسے کھڑکی سے اترنے کا اشارہ کیا
"سانپ" شاکا کی سمجھ میں نہ آیا کہ وہ کیا کہے۔
"سانپ ہمیں کچھ نہیں کہیں گے۔ تم جلدی آؤ میرا خیال ہے کہ ثمرنہ خطرے میں ہے۔" قامران یہ کہہ کر سانپوں سے بچتا بچاتا اندر کمرے کی طرف بھاگا۔
کمرے کا دروازہ کھلا ہوا تھا۔ کامران نے دروازے میں قدم رکھتے ہی جو منظر دیکھا دہشت ناک تھا۔ وہ گدھے نما کتا کولابہ ثمرنہ سے لپٹا ہوا تھا اور کمرے میں سردار کاچاک کا کوئی پتہ نہ تھا۔ کامران نے اپنی کمان سنبھالی ادھر شاکا نے اپنی توفو میں تیر ڈالا۔
پھر چند لمحوں میں اتنے تیر چلے کہ کولابه کا جسم چھلنی ہو گیا۔ وہ پیٹھ کے بل زمین پر گرتے ہی جہنم رسید ہوا۔
"شاکا کی بہن کہاں ہے؟‘‘ قامران نے ثمرنہ پر چادر ڈالتے ہوئے پوچھا۔ اس کا لباس کتے نے تارتار کر دیا تھا۔
"نیچے تہہ خانے میں۔“ ثمرنہ پر اب تک خوف طاری تھا۔ وہ بمشکل بولی۔ کامران بجائے نیچے جانے کے کھڑکی کی طرف بھاگا۔ اب وہاں فرش پر سانپ موجود نہیں تھے بلکہ رسیاں پڑی تھیں۔ قامران نے کھڑکی سے منہ نکال کر اپنے دونوں ہاتھ منہ پر رکھے اور تین دفعہ گیدڑ کی آواز نکالی۔
اس سگنل کے نشر ہوتے ہی فضا میں ایک بھونچال سا آگیا ۔ جانثاروں نے نعرہ مستانہ لگا کر ایک ساتھ ہلہ بول دیا۔ کامران کھڑکی سے واپس پلٹا۔ کمرے میں ثمرنہ کو بیٹھنے کا کہہ کر وہ زینے کی طرف بھاگا۔ شاکا اس کے پیچھے پیچھے تھا۔
"سردار کاچاک کدھر گیا؟“ قامران سیڑھیاں اترتا ہوا بولا۔
"کہیں تہہ خانے میں نہ ہو۔“ شاکا نے اظہار خیال کیا۔
"تو جلدی آؤ کہیں وہ تمہاری بہن کو نقصان نہ پہنچا دے۔" کامران تیزی سے نیچے جاتا ہوا بولا
نیچے سے کتوں کے بھوکنے جانثاروں کے نعروں کی آوازیں آرہی تھیں۔ پھر کامران نے کچھ ساتھیوں کو اوپر کی طرف آتے دیکھا۔
"نیچے واپس چلو اوپر سب ٹھیک ہے۔" قامران نے ان نوجوانوں کو حکم دیا۔
وہ واپس پلٹ پڑے۔ تھوڑی دیر کی تلاش کے بعد انہیں تہہ خانے کا راستہ مل گیا۔ وہ نیچے پہنچے تو تہہ خانےکا دروازہ کھلا پایا۔ تہہ خانہ اندر سے خالی تھا۔ وہاں کوئی نہ تھا نہ شاکا کی بہن نہ سردار کاچاک۔
خالی تہہ خانے کو دیکھ کر دونوں نے ایک دوسرے کو خالی خالی نظروں سے دیکھا۔
"یہ تمہاری بہن کہاں چلی گئی؟"
"مجھے اپنی بہن سے زیادہ سردار کی فکر ہے۔ وہ مردار کہیں نکل نہ جائے۔“ شاکا نے کہا اس وقت دو خونخوار کتے تہہ خانے میں داخل ہوئے اور بھونکتے ہوئے ان دونوں کی بڑھے۔ کامران نے اپنے تیروں سے ان کا سواگت کیا۔ شاکا ابھی اپنی توفو میں تیر ڈال رہا تھا وہ کتے کامران کے تیروں کی تاب نہ لا کر فرش راہ ہو گئے۔
قامران دوڑتا ہوا تہہ خانے سے نکل گیا۔ شاکا اس کے نقش قدم پر چل دیا۔ قامران جب وہ کمرہ تلاش کر کے جہاں اس کی سردار سے ملاقات ہوئی تھی اندر داخل ہوا تو اسے شاکا کی بہن نظر آ گئی۔

وہ سردار کا چاک کی چوکی پر اطمینان سے بیٹھی تھی۔
"سردار کاچاک کہاں ہے؟‘‘ کامران نے اس سے پوچھا۔
"مجھے نہیں معلوم‘‘ شاکا کی بہن گویا ہوئی۔
”مجھے تھوڑی دیر پہلے ہی قید خانے سے نکالا گیا تمہیں کس نے نکالا؟"
"چاکور نے"
“یہ چاکور کا بچہ بھی کہیں نہیں دکھائی دیا۔ یہاں تو برطرف کتے ہی کتے ہیں۔ انسان ایک بھں دکھائی نہیں دے رہا۔"
کامران اور شاکا نے مکان کا ایک ایک چپہ چھان مارا لیکن سردار کا کہیں پتہ نہ چلا۔ مکان پر جانثاروں کا قبضہ ہو چکا تھا۔ ہر طرف کتوں کی لاشیں بکھری پڑی تھیں۔ ایک دو جانثار بھی جاں بحق ہو گئے تھے۔ کتوں نے ان کے نرخرے چبا ڈالے تھے۔
تھک ہار کر وہ دوبارہ اوپر پہنچے اور ثمرنہ سے پوچھا "سردار کاچاک کو تم نے کب دیکھا تھا؟“
"کیا وہ نکل گیا؟" ثمرنه افسردہ ہو گئی۔
"نہیں وہ نکل نہیں سکتا۔ لیکن حیرت ہے کہ وہ اتنی جلدی کہاں غائب ہو گیا۔ ہم نے گھر کا ایک ایک کونہ چھان مارا ہے۔ اسے کسی جانثار نے بھی باہر نکلتے نہیں دیکھا۔‘‘ کامران نے بیٹھتے ہوئے کہا
"ابھی تو یہیں تھا جب میں نے تمہارا اشارہ سنا تو گرمی کا بہانہ کرکے کھڑکی کھولنے کی اجازت چاہی جو اس نے فوراً ہی دے دی ۔ میں کھڑکی کھول کر واپس آئی تو وہ اس کے بعد باہر نکلا اور پھر واپس نہ آیا۔ واپس آیا تو اس کا کتا کولابہ۔ اندر داخل ہوتے ہیں مجھ سے لپٹ گیا۔ ڈر کے مارے میری چیخ نکل گئی۔ اس کے بعد میں تم دونوں اندر آ گئے۔"
"آؤ....ایک بار اس اوپر کے حصے کو اور اچھی طرح دیکھ لیں۔"
اس ساری تلاش کا بھی نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات نکلا۔ کامران اور شاکا دونوں سر پکڑے بیٹھ گئے ۔ ان کی ساری محنت اکارت جاتی دکھائی دے رہی تھی۔ کامران نے ایسے ہی کولابہ کی لاش پر نظریں گاڑ دیں۔ وہ لحیم شحیم خونخوار کتا اب ٹانگیں آسمان کی طرف اٹھائے بے جان پڑا تھا۔ کامران نے اس کے جسم پر لگے تیروں کو گنا۔ کل نو تیر تھے ۔ تین تیر شاکا نے چلائے تھے جبکہ چوتھا تیر کامران کی کمان کا نتیجہ تھے۔ کامران نے اٹھ کر کولابہ کی لاش کو الٹا پلٹا۔ پھر ایک خیال خود بخود اس اس کے دماغ میں جاگا ۔ کامران نے ایک ایک کر کے اس کتے کے جسم سے تیر نکالنے شروع کیے۔ ثمرنہ اور شاکا اس کو بڑی دلچسپی سے دیکھ رہے تھے۔ جب آخری دو تیر اس کے جسم میں رہ گئے تو کامران نے ایک لات مار کر لاش کو الٹا دیا اور واپس پلٹنے لگا۔ کسی نے اس کے کان میں سرگوشی کی۔ اور کہا
"کامران ان دونوں تیروں کو بھی نکال دو"
یہ آواز چاندکا کے سوا کسی کی نہ تھی اس آواز کے ساتھ ہی کنوارے بدن کی خوشبو نے اسے اپنی لپیٹ میں لیا تھا۔ کامران یہ سن کر پھر کولابه کی لاش کی طرف چل پڑا اور اس کے بھیجے میں لگے دونوں تیروں کو جھٹکے سے باہر نکال دیا سر سے تیر نکلتے ہی کولابہ جلدی سے اٹھا اور کمرے میں سردی کی لہر دوڑ گئی ۔ پھر ایک اور عجیب بات ہوئی۔ کتے کی لاش انسانی جسم میں تبدیل ہونے لگی۔ دیکھتے ہی دیکھتے سینہ، ٹانگیں، دھڑ اور بازو انسانی شکل اختیار کر گئے لیکن گردن اور سر میں کوئی تبدیلی نہ ہوئی۔ اب ان کے سامنے ایک ایسا انسانی جسم پڑا تھا جس کا سر کتے اور جسم آدمیوں جیسا تھا یہ وہ تھا جس کی شاکا اور کامران کو تلاش تھی۔
چقمان قبیلے کا حکمران سردار کاچاک اب اپنی اصلی شکل میں ان کے سامنے موجود تھا شاکا کی بہن اور ثمرنہ اس عجیب الخلقت آدمی نما کتے کو دیکھ کر خوفزدہ ہو گئیں۔ پھر کامران نے حکم دیا کہ مکان میں جتنی بھی کتوں کی لاشیں موجود ہیں ان کے جسموں سے تیر نکال لیئے جائیں۔ سردار کاچاک کے مکان میں بے شمار کتوں کی لاشیں بکھری پڑی تھیں۔ جب ان کتوں کے جسموں کو تیروں سے آزاد کیا گیا تو وہ اپنی اصلی شکل میں نمودار ہو گئے۔ کتے نما انسان یا انسان نما کتے۔
پھر پورے قبیلے میں یہ خبر دلچسپی سے سنی گئی کہ سردار کاچاک کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ہے اور اس کی جگہ ایک نیا سردار آ گیا ہے۔ وہ سردار کون ہے اس کی تصدیق نہ ہو سکی... لوگوں سے کہا گیا تھا کہ وہ دن کے وقت سردار کاچاک کے گھر کے سامنے اکٹھا ہو جائیں وہیں ان پر صورتحال واضح کر دی جائے گی۔
درشن کے مقررہ وقت سے بہت پہلے قبیلے کے لوگ مکان کے سامنے اکھٹا ہونے شروع گئے ۔ وقت ہوتے ہوتے بستی میں ایک بھی آدمی نہ رہا۔
وہ بوڑھے جو چلنے پھرنے سے معذور تھے گھٹنے ٹیکتے ہوئے نئے سردار کی شکل دیکھنے آ گئے تھے۔ جوں جوں وقت گزر رہا تمام لوگوں میں بے قراری بڑھتی جا رہی تھی۔ ان کے صبر کا پیمانہ چھلکنے کوتھا کہ اوپری منزل کا دروازہ کھلا۔
کامران بڑی شان و شوکت سے دروازے میں داخل ہوا لوگوں میں ہلچل مچ گئی۔
" یہ تو ہیروں کا سوداگر ہے" لوگ اسے دیکھ کر تذبذب میں پڑ گئے۔
” یہ یہاں کہاں؟“

"کیا یہ ہمارا نیا سردار ہے؟‘‘ قیاس آرائیاں جاری تھیں۔ کامران نے اچانک دونوں ہاتھ فضا میں بلند کیئے اور لوگوں کو خاموش رہنے کا اشاره کیا
اس کا اشارہ ملتے ہی لوگ خاموش ہو گئے۔ لوگ خاموش ہو گئے تو کامران کو کچھ بولنا چاہیئے تھا۔ سمجھ میں نہ آیا کہ وہ کہاں سے شروع کرے۔ وہ انہیں کیا کہے اور کیسے اس نے کبھی تقریر نہیں کی تھی اور یہ کام تیر چلانے سے زیادہ مشکل لگا
"چقمان قبیلے کے لوگو تمہیں مبارک ہو۔" بہرحال کچھ نہ کچھ تو کہنا تھا اس نے شروع کیا
"کیا مبارک ہو؟" خواتین نے نعرہ لگایا
"آج کے بعد سے اس قبیلے کے کسی نوجوان کی زبان نہیں کاٹی جائے گی اور لوگوں نے آگے سنا ہی نہیں خوشی سے نعرے لگانے شروع کردیئے۔"
"اور۔۔۔ اور سنو۔۔۔۔ سنو۔" کامران نے ہاتھ کے اشارے سے لوگوں کو خاموش رہنے کا کہا
"اور قبیلے کی کسی کنواری کی عزت آج کے بعد پامال نہ ہوگی"
"سردار کاچاک کا کیا ہوا وہ کہاں گیا؟" اس سے پوچھا گیا۔
"سردار کاچاک کہیں نہیں گیا وہ یہیں ہے۔ ابھی تم لوگوں کے سانے اسے پیش کیا جائے گا اے کیلے کے لوگو ! کیا تم جانتے ہو کہ تم پر اب تک کون حکومت کرتا تھا؟"سوال اٹھایا گیا۔
"سردارکاچاک" جواب دیا گیا۔ چقمان قبیلے کے لوگ واقعی سیدھے تھے۔
"چقمان قبیلے کے لوگو! سردار کاچاک انسان نہ تھا کتا تھا جو ہر وقت دوسروں پر بھونکتا تھا لیکن دوسروں کو اس کے سامنے بولنے کی اجازت نہیں تھی۔ اس نے پوری قوم کو گونگا کر دیا تھا"
"وہ مردار کہاں ہے؟ اسے بلاؤ ہمیں دکھاؤ" نعرے بازی شروع ہوگئی۔
"اسے لاؤ" کامران نے دروازے کی طرف منہ کر کے زور سے کہا۔
تب چار جانثار سردار کاچاک کی لاش لے کر دروازے میں نمودار ہوئے۔ انہوں نے اسے سہارا دے کر کھڑا کر دیا۔ سردار کاچاک کی لاش دیکھ کر شور مچ گیا "لعنت ہے لعنت ہے۔"
"ہاں اس پر جتنی بھی لعنت بھیجی جائے کم ہے۔ ایسے لوگ انسانیت کے نام پر دھبہ ہوتے ہیں انکا مر جانا ہی بہتر ہے۔“ پھر کامران نے ایک جانثار کو مخاطب کر کے کہا۔ ”وہ صندوق لاؤ" چند لمحوں میں لکڑی کا ایک صندوق قامران کے سامنے حاضر کر دیا گیا۔
" چقمان قبیلے کے لوگو ! کیا تم جانتے ہو کہ اس صندوق میں کیا ہے؟" "نہیں نہیں۔" بہت سی گردنیں اور زبانیں ہلیں ۔
"اس صندوق میں اس ظالم کا ظلم اور تمہاری امانتیں محفوظ ہیں جو میں تمہیں لوٹارہا ہوں ۔“
قامران نے وہ صندوق الٹ دیا۔ صندوق سے سوکھی زبانیں گرنے لیں۔
ُپوری قوم اپنی زبانوں کو دیکھ کر خوشی سے جھوم گئی
"ثمرنہ شاکا اور اس کی بہن کو بلاؤ"
کامران نے ایک جانثار سے کہا۔
"وہ آۓ تو کامران نے شاکا کو اپنے دائیں اور ثمرنہ اور شاکا کی بہن کو اپنے بائیں طرف بلایا اور بولا۔
”چقمان قبیلے کے لوگو! یہ ثمرنہ اور یہ شاکا کی بہن ہے۔ ان دونوں نے اپنی عزتیں خطرے میں ڈالیں اور یہ شاکا ہے۔ تمہارے قبیلے کا قابل فخر نوجوان جس نے تن تنہا سردار کاچاک جیسے آدمی سے ٹکر لی اور آخر اسے موت کے گھاٹ اتار کر ہی دم لیا۔ آج کے بعد سے ہی تمہاری عزتوں اور جانوں کا محافظ ہوگا۔ یہ سردار کاچاک کی طرح جلوہ نہیں دکھائے گا بلکہ جلوے والے کام کرے گا....کیا تم اسے اپنا سردار بنانا قبول کرو گے؟" عوام سے رائے مانگی گئی۔
پوری قوم نے بیک زبان شاکا کو سردار بنانے کی منظوری دے دی۔
"چقمان قبیلے کے لوگو ! میرے دوستو.............جہاں تم لوگوں نے مجھے اپنا سردار مقرر کیا خدمت گزار ہونے کا موقع عطا کیا ہے وہاں اس نوجوان ہیروں کے سوداگر کو مت بھولو۔ اگر یہ ہمارے ساتھ نہ ہوتا تو نہیں معلوم کب تک ہم سردار کاچاک کے چنگل میں پھنسے اپنی زبانیں کٹواتے رہتے۔ یہ ہمارا نجات دہندہ ہے ہمارا محسن ہے۔ میرا خیال ہے کہ دیوتاؤں نے اسے ہمارے واسطے بھیجا تھا....اے لوگو ! اسے سلام کرو"

جواب میں ہر طرف سے نعرے لگنے لگے۔
”ہمارا نجات دهنده زنده باد سوداگر زنده باد“
کامران نے ہاتھ کے اشارے سے سب کا شکریہ ادا کیا۔ دوسرے دن رسم دستار بندی کے بعد کامران نے شاکا سے اجازت چاہی۔شاکا یہ سن کر بگڑا تھا۔
"نہیں یہ کیسے ہوسکتا ہے۔ چقمان قبیلے کے لوگ اپنے نجات دہندہ کو ہرگز اتنی جلد نہ جانے دیں گے"
"میں مسافر ہوں کب تک یہاں رہوں گا؟"
"کامران تم صحرا صحرا پھرنا چھوڑ کیوں نہیں دیتے۔ ہماری بستی میں مستقل قیام کرو جس لڑکی سے کہو گے تمہاری شادی کر دی جائے گی۔"
"شادی کی تمنا نہیں اپنی شادی تو ہو چکی اب تو صحرا ہیں اور میں ہوں ہر قیمت پر سفر جاری رکھنا ہے... ایک لمبا سفر اس کے لیے جو دس ہزار سال سے میری تلاش میں ہے اب ہمیشہ کے لیے میری ہونے والی ہے مجھے جانا ہی ہوگا۔" کامران نے کھڑے ھوتے ہوئے کہا ۔
”میں اس سے محبت کرتا ہوں اس کے لیے فنا ہو جانا چاہتا ہوں۔" "کامران میں نے تو تمہیں ایک جنگجو اور سوداگر کی حیثیت سے جانا تھا۔ تم تو سخت عاشق مزاج نکلے۔ پتہ نہیں کس کا ذکر کر رہے ہو جانے کون تمہارا دس ہزار سال سے منتظر ہے" شاکا نے کامران کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔ "خیر اگر تم مستقل قیام کے لیے یہاں نہیں رک سکتے تو کچھ دن تو ہمارے ساتھ رہو کم از کم میری شادی تک“
"ممکن نہیں...مجھے آج ہی اس بستی سے نکلنا ہے۔ یہ اس کا حکم ہے۔“
قامران نے کہا ۔
پھر اپنی کمر سے ہیروں کی تھیلی کھولی ۔ یہ وہی تھیلی تھی جس پر سردار کاچاک نے قبضہ کیا جو بعد میں اس کے گھر سے ملی تھی۔ کامران نے اس مخملی تھیلی کو شاکا کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا ۔ ”میری طرف سے تحفہ دیکھو شاکا کا انکار نہ کرن"
"کامران تم بھی عجیب ہو ہمیں صرف دینا چاہتے ہو تم نے میری قوم کو آزادی دلا دی وہی ایک نعمت ہے۔ اب ہم تم سے کچھ نہ لیں گے۔"
"میں یہ ہیرے تمہیں نہیں دے رہا۔ ثمرنہ کے لیے ہیں۔ اب بحث نہ کر قبول کر لو" تھیلی اس کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے بولا۔
چند گھنٹوں بعد جب کامران شاکا سے رخصت ہو کر ابلا کی پیٹھ پر سوار ہوا اور بستی کے آخری سرے پر پہنچا تو اپنے پیچھے پورے چقمان قبیلے کو پایا۔ چقمان قبیلے کے سیدھے عوام جو اب تک قوت گویائی سے محروم تھے اپنی آنکھوں میں آنسو لیئے اپنے نجات دہندہ کو جاتا دیکھ رہے تھے۔ کامران نے اپنی گھوڑی کو موڑ کر ہاتھ اٹھا کر سب کو الوداع کہا اور پھر ابلا کو زور سے ایڑ لگائی وہ اچانک اپنے دو پاؤں پر کھڑی ہوگئی اور پھر جو پاؤں زمین پر پڑے تو ایسا لگا وہ ہوا میں اڑنے لگ گئی ۔ چقمان قبیلے کے لوگوں نے ابلا کے پیچھے بہت کچھ باندھ دیا تھا ۔ اتنا کہ وہ بغیر پریشان ہوئے کئی دن تک سفر جاری رکھ سکتا تھا۔ کامران ان کی محبت سمیٹے اڑا چلا جا رہا تھا۔ یہ بڑا ہرا بھرا علاقہ تھا۔ کامران فطری مناظر سے لطف اندوز ہو رہا تھا
شام ہوتے ہوتے یہ ہریالی شادانی غائب ہونے لگی۔ اب وہ ایسے علاقے میں داخل ہوا ، جہاں ہر طرف خشکی پھیلی ہوئی تھی۔ یہ ایک پتھریلا علاقہ تھا۔ کہیں کہیں درخت ضرور تھے لیکن وہ سوکھے اور جلے ہوئے۔ رات اس نے ان پتھروں میں گزاری۔
ابلا کی پیٹھ سے بندھی چمڑے کی تھیلی کھولی۔ اس میں سے تھوڑا سا پانی لے کر منہ پر چھپا کے مارے دوباره ابلا کی پیٹھ سے باندھ کر اس کی گردن تھپتھپائی اور اس کے منہ سے لگام نکال لی تاکہ وہ ادھر ادھر گھوم پھر کر تھوڑا منہ مارے ۔ اگر چہ وہاں منہ مارنے کو کچھ نہ تھا۔ کامران نے پھر کچھ خشک میوے نکال کر چبائے دو چار گھونٹ پانی پیا اور ایک بڑے سے پتھر پر بیٹھ گیا
ابلا پتھروں میں سے سر ابھارے پودوں کو چن چن کر کھا رہی تھی اور کامران اس کو بغور دیکھ رہا تھا۔ وہ اسے پودوں میں منہ مارتی ہوئی بڑی اچھی لگ رہی تھی۔
ایک دم ابلا کھاتے کھاتے پیچھے ہٹی اور اپنے دونوں پاؤں پر کھڑی ہو کر زور سے ہنہنائی۔ کامران کا ہاتھ فورا کمان پر گیا اس نے ایک لمحے میں تیر چڑھا لیا ۔ ابلا ایک بار پھر تیزی سے پیچھے ہٹی اور اپنے دونوں پاؤں پر کھڑی ہو گئی۔ اب قامران کو شبہ نہ رہا کہ ان کے آس پاس کوئی ایسی چز موجود ہے جسے دیکھ کر وہ ڈر رہی ہے
کامران تیزی سے ابلا کی طرف بھاگا۔ نزدیک پہنچا تو اسے وہ خطرناک شئے دکھائی دے گئی۔ کامران فورا ایک بڑے سے پتھر پر چڑھ گیا تاکه نشانہ لینے میں آسانی رہے ۔

ایک تیر چھوڑا ایک تیرنے ہی اس کا کام تمام کر دیا۔ وہ ایک خطرناک پہاڑی بچھو تھا بڑا اور زہریلا۔ اگر وہ ابلا کو ڈنگ مارنے میں کامیاب ہو جاتا تو وہ زمین پر ہی دم توڑ رہی ہوتی اور کامران اس ویرانے میں تنها ہوتا کامران نے آگے بڑھ کر اس کی گردن تھپتھپائی ۔ اس کا منہ چوما اور اس کی لگام چڑهادی۔
"چلو بیٹا یہاں سے نکل چلو۔“ تامران نے اس کی پیٹھ پر بیٹھ کر کہا ۔ ابلا زور سے ہنہنائی ۔ کہ اس نے کامران کے فیصلے پر اتفاق کیا ۔ چند لمحوں بعد ابلا دوڑنے لگی۔ راستہ ہموار ہونے کی وجہ سے اس کی رفتار زیادہ نہ تھی پھر بھی وہ ایک عام گھوڑے کے مقابلے میں تیز دوڑ رہی تھی۔ سہ پہر ہوتے ہوتے پھر سے ہرا بھرا علاقہ شروع ہو گیا۔ اب نہ صرف ابلا بھوکی تھی تھکی بھی تھی۔ خود قامران کو بھی بھوک لگ رہی تھی لہذا کامران نے ابلا کو آزاد کر دیا ابلا آزاد ہوتے ہی ہری ہری گھاس پر اس طرح ٹوٹ پڑی جیسے گھاس کیا زمین بھی چٹ کر جائے گی۔ کامران بھی کچھ کھا پی کر آرام کرنے لیٹ گیا کیونکہ تھکا ہوا تو اس لیے لیٹتے ہی نیند آ گئی ۔ جانے کتنی دیر سویا ہو گا کہ اچانک اس نے محسوس کیا جیسے کسی نے اس کے پاؤں کو ہلا دیا ہو ۔ وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا ۔ اس نے چاروں طرف نظریں گھمائیں اسے کوئی نہ دکھائی دیا۔ ابلا کا بھی کہیں پتہ نہ تھا۔
"یہ گھوڑی کہاں گئی؟ شاید چلتی ہوئی دور نکل گئی ہے ۔ وہ اسکی تلاش میں کھڑا ہوا تھوڑی دیر کی تلاش کے بعد وہ اسے نظر آ گئی ۔ وہ بڑے انہماک سے گھاس کھا رہی تھی کامران نے اس کی طرف سے مطمئن ہو کر ایک زور دار انگڑائی لی ہاتھ نیچے کیے ۔ اسے اپنے سامنے خرگوش کا ایک بے حد خوبصورت بچہ نظر آیا ۔ وہ آہستہ آہستہ اس کی طرف بڑھا کہ اسے زندہ پکڑ سکے ۔ جیسے ہی وہ نزد یک پہنچا پکڑنے کو ہاتھ بڑھایا خرگوش کے بچے نے چھلانگ لگائی اور سامنے درختوں کے جھنڈ میں غائب ہو گیا
کامران دھیرے دھیرے اس جھنڈ کی طرف بڑھا جدھر وہ بچہ جا کر چھپ گیا تھا۔ قامران کی تیز نظروں نے آخر اسے ڈھونڈ ہی لیا ۔ وہ ایک چھوٹے سے پتھر کے پیچھے چھپا بیٹھا تھا۔ اس کی آنکھیں دور ہی سے چمک رہی تھیں۔ کامران نے جیسے ہی اس کے نزدیک پہنچ کر اس پر ہاتھ مارا وہ پھر سے چھلاوه بن کے ہاتھ نہ آیا۔ اب وہ بڑی گھاس کے درمیان اچھلانگیں مارتا ہوا جا رہا تھا اور کامران اس کے پیچھے پیچھے جب بھی ہاتھ مارتا پکڑنے کو وہ بھاگ جاتا
کامران نے طے کر لیا تھا کہ وہ اس کو زندہ پکڑ کر رہے گا اور شاید بچے نے بھی طے کر لیا تھا کہ وہ پکڑ میں نہیں آئے گا
اچانک وہ ایک درخت کے پیچھے چلا گیا
کامران نے اندازے سے ہاتھ مارا تو وہاں کچھ نہیں تھا اس نے آگے آکر دیکھا تو حیران رہ گیا خرگوش کا بچہ سرے سے غائب ہو گیا تھا
جب کہ کامران نے اسے نظروں کے حصار میں رکھا تھا
تھک ہار کر واپس آیا اور ابلا کو تلاش کرنے لگا
ابلا کو دیکھا تو وہ زور سے ہنہنانے لگی کامران نے فورا تیر چڑھایا اور ہمیشہ کی طرح تیر نشانے پر لگا اور خرگوش کا بچہ تیر سمیت دور جا پڑا
جب تک کامران وہاں پہنچا وہ دم توڑ چکا تھا
"شریر بچہ" کامران نے اسکی لاش ہاتھوں میں اٹھا کر دیکھا
ابھی وہ تیر نکال بھی نہ پایا کہ اچانک زور سے بجلی کڑکنے کی آواز آئی اسکی آنکھوں کے سامنے تارے ناچ گئے
چند لمحوں میں وہ اپنے ہوش گنوا بیٹھا
جب اسے ہوش آیا تو اس نے خود کو زنجیروں میں جکڑا ہوا پایا اسکے چاروں طرف گھپ اندھیرا تھا_"

تمام اردو کہانیاں پڑھنے کے لیے کلک کریں 

سفید محل - پارٹ 7

Urdu stories online, Urdu stories for kids, Short Urdu stories, Urdu Kahaniyan, Famous Urdu stories, Urdu stories with moral, Best Urdu stories collection, Urdu stories for students, Urdu love stories, Urdu horror stories, Urdu stories for reading, Urdu stories in Urdu text, Funny Urdu stories, Urdu stories for beginners, Urdu detective stories, Urdu motivational stories, Urdu stories for adults, Urdu moral stories, Urdu stories for children, Urdu true stories, Urdu suspense stories, Urdu emotional stories, Urdu adventure stories,

hindi moral stories in urdu,سبق آموز کہانیاں, jin-ki-dushmni,good moral stories in urdu,Moral Stories,Urdu Stories,urdu kahani,اردو کہانی,قسط وار کہانیاں,
Reactions