| قسط وار کہانیاں |
سفید محل - اردو کہانی قسط نمبر 5
کامران کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کون سا راستہ اختیار کرے؟...........فرار کے سارے راہ مسدود ہو چکے تھے اور شاطو کے سوار اس کے سر پر سوار تھے۔ کامران نے سوچا کہ بھاگنے سے بہتر ہے کہ وہ رک جائے اور ان کے سوال کرنے سے پہلے ہی ان پر سوالوں کی بوچھاڑ کر دے کہ وہ پیچھا کیوں کر رہے ہیں؟ یہ سوچتے ہی اس نے زور سے ابلا کی لگام کھینچی۔ اتنے زور سے کہ وہ بیچاری اپنے دو پاؤں پر کھڑے ہونے پر مجبور ہو گئی۔ پیچھے آنے والے سواروں کے لیے یہ عمل قطعی غیر متوقع تھا۔ وہ اپنے گھوڑوں کو بڑی مشکل سے روکنے میں کامیاب ہو سکے۔ زور سے اور اچانک لگام کھیچنے کی وجہ سے ایک سوار تو الٹ ہی گیا۔ کامران نے ان سواروں کو غور سے دیکھا جو گنتی میں چار تھے۔ یہ سواروں کا وہی دستہ تھا جو صحرائے سرخ کے حوالے کر کے آیا تھا اور انہی سواروں نے اسے گرفتار کرکے زنداں کے اندر کوٹھڑی میں ڈلوایا تھا۔ ان سواروں کے اس کے ساتھ رکنے سے اب کسی شک و شبہ کی گنجائش نہ رہی تھی قامران کے ہی تعاقب میں تھے۔ ان سواروں نے اسے چاروں طرف سے گھیر لیا تھا اور اپنی کمانیں سیدھی کر لی تھیں۔
"یہ سب کیا ہے؟” کامران نے سوال داغا۔
”کیا تم لوگ ملکه شارو کا کوئی پیغام لے کر آئےہو“
"بھول جاؤ ملکه شارو کو....ہم تمہاری موت کا پیغام بن کر آئے ہیں۔"
"اب وہ عہد ستم ختم ہوا ظلم کا دور تمام ہوا۔ جب تم لوگ موت کے ہرکارے بنے پھرتے تھے موت کا پیغام دینے والی خود موت کے منہ میں جا چکی ہے۔"
"اور تم اس کی موت کے ذمے دار ہو؟“ الزام لگایا گیا۔
"میں نہیں اس کے ظلم کہو اس کی بدکاریاں اور بد عہدیاں کہو“ "اونٹ کے بچے۔ ملکہ شاطو جیسی حکمران صدیوں میں پیدا ہوتی ہے" سرخ رومال والا دھاڑا ۔
"تم نے ٹھیک کہا لوگ شیطان کے بارے میں بھی یہی کہتے ہیں۔"
"بکواس مت کرو...وہ سائری دیوتا کی اوتار تھی۔" اس مرتبہ کر چنا بولا۔
"اس بات پر تو سائری دیوتا بھی شرمندہ ہو گیا ہوگا کہ یہ دنیا والے اس کے ساتھ کیسے کیسے نام جوڑتے ہیں ہاں ملکہ شارو کا نام لیا ہوتا تو میں یقین بھی کر گزرتا۔"
اس سرمے دانی کا ہمارے سامنے نام نہ لو... ملکہ شاطو کی خادمہ کا ہم ایسا حشر کریں گے وہ زندگی بھر یاد رکھے گی۔"
"چار عدد سوار اس کا کیا بگاڑ سکتے ہیں جبکہ غربان کی عوام اس کے ساتھ ہیں۔"
"ہمیں چار نہ سمجھو۔ ہم چار سو ہیں اور اپنے خون کا ایک ایک قطرہ نچھاور کرنے کے لیئے تیار ہیں"
تم لوگ بڑبولے ہو....در اصل تم ہی لوگ اس کی موت کے زمے دار ہو۔ اگر سزائے موت کا اعلان ہوتے ہی تم لوگ اپنی وفاداریاں ظاہر کر دینے اور پوری سچائی اور خلوص سے بچانے کی کوشش کرتے تو آج اسے پھانسی لگانے والا کوئی نہ ہوتا۔ وہ آخری وقت تک اپنے جانثار ڈھونڈتی رہی اور اس کے جانثار یعنی تم جیسے سوار بلوں میں گھس گئے۔ اب وہ جہنم رسید ہوئی تو اچانک ملکه شاطو کا دورہ پڑ گیا۔ ساری وفاداریاں تمہاری پیشانیوں پر رقم ہوگئیں۔ خودغرض لوگو کچھ کرو‘‘ قامران نے ان کی غیرت جگانے کی کوشش کی۔
"کرچنا" سرخ رومال والا زور سے چیخا۔
اس نے غیر متوقع طور پر پیچھے سے اس پر رسی کا پھندا گرایا ۔ وہ باوجود کوشش کے نیچے زمین پر آ رہا۔ ابلا اس کے گرتے ہی دو پاؤں پر کھڑے ہو کر زور سے ہنہنائی۔
"کر چنا اس سرمے دانی کے ڈھول کے ہاتھ پاؤں باندھ دو۔ اس نے ہماری غیرت کو للکارہ ہے۔ ہم اسے بتائیں گے کہ وفاداریاں کیا ہوتی ہیں۔ اگر اس پھٹے ڈھول کو ملکہ شاطو سے دگنی سزا دے کر نہ مارا تو ہمارا نام بدلنے کا اسے حق ہوگا۔" سرخ رومال والے نے غصے سے لال ہو کر کہا۔"
"مجھے اپنی جان کی ذرا بھی پروا نہیں جس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں باندها تھا وہ نہیں رہی تو میں جی کر کیا کروں گا۔ تم اپنا شوق پورا کر سکتے ہو لیکن اتنا یاد رکھو ظلم پر ظلم ہوتا ہے۔ اپنا رنگ دکھائے بنا نہیں رہتا۔“
"تم نے ہماری ملکہ کو مارا ہے تم کیا کم ظالم ہو؟"
"ظالم کو مارنا، ظلم نہیں۔ نیکی ہے۔"
"پھر ایک نیکی ہماری طرف سے بھی" سرخ رومال والے نے مسکرا کر کہا۔
"شاید تم نہ جانتے ہو کہ تمہاری ملکہ ایک بدنیت عورت تھی۔ میں نے اس کی نفسانی خواہش پوری کرنے سے صاف انکار کر دیا تھا جس کے نتیجے میں میری بیوی کو زندہ جلوا دیا گیا اور خود میرے لیئے صحرائے سرخ کی سزا مقرر ہوئی...اب تم ہی بتاؤ کہ ظلم کسی کی طرف سے ہوا؟“ قامران نے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔
"پاکباز کے بچے۔ ہم تمہیں بتائیں گے کہ ظلم کیا ہوتا ہے۔ سرخ رومال والے نے نظروں سے اسے گھورتے ہوئے کہا......
کرچنا نے پہلے اپنے دو ساتھیوں کی مدد سے اس کے ہاتھ پاؤں رسیوں سے جکڑ دیئے۔ اس وقت وہ اسے رسیوں سے باندھ رہے تھے تو سرخ رومال والا اس کے سر پر تیر کمان لیے کھڑا رہا۔ قامران کی ذرا سی بھی مزاحمت اسے نقصان پہنچا سکتی تھی لہذا اس نے پوری سعادت مندی سے ہاتھ بندھوائے۔ پھر کرچنا اپنے دونوں ساتھیوں کو لے کر ایک طرف چلا گیا۔ وہاں صرف سرخ رومال والاره گیا
"میری بیوی کو کس نے زندہ جلایا تھا؟"
"ہمارے علاوہ کون ایسے کام کرتا ہے؟“ سرخ رومال والے نے فخریہ کہا ۔
"تم اس کا قصور جانتے تھے؟ وہ ملکہ شاطو کو حکم تھا اس کے علاوہ ہمیں کچھ جاننے کی ضرورت نہیں تھی۔" جواب ملا ۔
"تم لوگوں کو ملکہ شاطو مہروں کی طرح استعمال کرتی تھی اور تم اس سے ناواقف تھے۔"
"ملکه شاطو کی ہم پر بہت عنایات تھیں۔ ہم اسے نہیں بھول سکتے۔" سرخ رومال والا بولا ۔
"کاش یہ عنایات اس نے صرف غنڈوں پر نہ کی ہوتیں تو آج اس کا انجام اس سے مختلف ہوتا" کامران نے بلاخوف صاف گوئی کا مظاہرہ کیا ۔
"آج سے پہلے اگر تم نے یہ بات کی ہوتی تو تہمیں قید کر دیا جاتا لیکن آج نہیں بولنے کی پوری اجازت ہے کیونکہ تمہارا جو انجام ہونے والا ہے بہت اذیت ناک ہے۔“
"مجھے مارکر کیا تم سمجھتے ہو کہ پورے غربان کے عوام کا گلا گھونٹ دو گے؟" عوام ہمارے ساتھ ہیں ، ہمیں ان کا گلا گھونٹنے کی ضرورت نہیں ۔ تمہارے بعد شارو کی باری آئے گی پھر ہم ملکه شاطو کی بیٹی کو ملکہ بنائیں گے۔“ انکشاف ہوا ۔
"ملکہ شاطو کی کوئی بیٹی بھی تھی؟‘ قامران حیران تھا ۔
"تھی نہیں، ہے۔ جب وہ ملکہ بنے گی تو پھر سے ہمارا راج ہوگا۔"
"خواب تو برا نہیں۔" قامران نے چوٹ کی۔ سرخ رومال والے نے اس پر توجہ نہ دی ۔ آج تو برداشت کی انتہا ہوگئی تھی ۔ پر کامران نے چپ سادھ لی ۔ سرخ رومال والا بھی مزید بات کرنے کے موڈ میں نہ تھا۔ اس نے قامران سے توجہ ہٹا لی اور اپنے ساتھیوں کو مختلف ہدایات دینے لگا۔ قامران کے سامنے سوکھی لکڑیوں اور جھاڑیوں کا ڈھیر جمع ہو رہا تھا اور یہ کام کرچنا اپنے دو ساتھیوں کی مدد سے کر رہا تھا کامران کو لکڑیوں کا ڈھیر بڑھتا اور پھیلتا دیکھ کر یہ اندازہ کرنے میں دیر نہ لگی کہ وہ لوگ اس ساتھ کیا کرنے والے ہیں۔ وہ اس وقت شاطو کے ظالم سواروں کے رحم و کرم پر تھا اور وہ اس کے لئیے چتا تیار کر رہے تھے جس پر رکھ کر اسے بھون دینا چاہتے تھے۔ بالکل کسی بکرے کی طرح۔
"اتنی لکڑیاں کافی ہیں؟" کر چنا نے سرخ رومال والے سے دریافت کیا۔
"ہاں لکڑیاں تو کافی ہیں لیکن اسے باندھنے کے لیے گدا تو لاؤ“
آدھے گھنٹے بعد کر چنا درخت کا ایک ہلکا سا گدا اور چار مضبوط لکڑیاں لے کر نمودار ہوا نے دولکڑیوں کی قینچی کی شکل بنا کر کھڑا کیا اور جوڑ پر رسی باندھ دی۔ اسی طرح دوسری دو لکڑیوں کی قینچی بنائی۔ پھر اس نے دوسری قینچی نما لکڑی کو لکڑیوں کے ڈھیر کے ایک طرف اور دوسری کو دوسری طرف لگا کراس پرلکڑی کا گدا رکھ دیا۔ پھر اسے ہلا جلا کر دیھکنے لگا گدا لکڑیوں پر مضبوطی سے ٹک گیا تھا۔ اب قامران کو اٹھایا گیا اور اس لکڑی کے گدے سے باندھ دیا گیا۔ کامران کے نیچے لکڑیاں تھیں اور وہ ان لکڑیوں کے ڈھیر سے تقریباً ایک گز اوپر لٹکا ہوا تھا۔ سرخ رومال والے نے چاروں طرف گھوم کر اچھی طرح چتا کا جائزہ لیا۔ سارے انتظام مکمل پا کر اس نے کر چنا کو اشارہ کیا۔ "آگ لگا دو"
کرچنا نے آگ پیدا کرنے والے دو پتھروں کو آپس میں تیزی سے رگڑا۔ چنگاریاں سوکھے بچوں پر گرنے لگیں۔ آگ اچانک ہی بھڑک گئی۔ اتنے میں کر چنا کا ایک ساتھی بھاگتا ہوا کرچنا کے پاس آیا اور اس کے کان میں دھیرے سے بولا ”عورت“
"عورت۔۔!“ کر چنا نے ہاتھ سے فوراً ہی پتھر پھینک دیئے۔
"عورت سچ مچ کی خوبصورت اور اکیلی"
کر چنا کے ساتھی کی حالت قابل دید تھی۔
"کہاں ہے؟‘‘ کر چنا کھڑا ہوگیا۔
"وہ جنگل میں" اس نے ایک طرف اشارہ کیا۔ کرچنا نے یہ خوبصورت اطلاع فورا سرخ رومال والے کو پہنچائی۔ عورت کا نام سن کر اسکی رال ٹپکنے لگی۔ ایک تو عورت اوپر سے خوبصورت اور وہ بھی اکیلی۔ یہ تو چپڑی اور دو دو والی بات ہے چاروں سواروں نے فوراً جنگل کا رخ کیا۔ چتا میں آگ تو لگ چکی تھی۔ ویسے کامران گدے سے بندھا ہوا تھا اس کے فرار ہونے کا کوئی خطرہ نہ تھا۔ اس عورت کے غائب ہو جانے کا خطرہ ضرور تھا۔ وہ چاروں سوار بڑی تیزی سے بھوکے بھیڑیوں کی طرح جنگل میں بھاگے جا رہے تھے کافی آگے جا کر آخر انہیں وہ عورت نظر آ گئی۔ وہ زرق برق لباس پہنے چھم چھم کرتی چلی جا رہی تھی۔ اسے علم نہ تھا کہ کچھ بھیٹریئے اس کے تعاقب میں ہیں۔ وہ چاروں عورت کو بھرے جنگل میں تنہا دیکھ کر دیوانے ہو گئے۔ انہیں اپنے عہدوں کا خیال نہ رہا۔ کون آقا اور کون خادم ہے۔ ان چاروں نے ایک نعرہ مستانہ مارا اور اچھلتے کودتے عورت کی طرف بڑھے۔ عورت پر ان کی چیخ و پکار کا ذرا بھی اثر نہ ہوا۔ وہ بھی بے نیازی نے چھم چھم کرتی چل رہی تھی۔ البتہ اس کی رفتار میں ضرور تیزی آگئی تھی۔ پر وہ دیکھتے ہی دیکھتے ان چاروں کی نظروں سے اوجھل ہو گئی۔ کسی نے کہا ادھر گئی کوئی بولا نہیں ادھر نہیں ادھر گئی ہے۔ بس جتنی زبانیں اتنے اشارے۔ آخر ہر سوار نے اپنی اپنی مرضی کی راہ اختیار کی۔
ادھر کامران کی چتا میں آگ بھڑکتی جا رہی تھی اور بلند ہو کر اس کے لبادے کو لگنے ہی والی تھی کی کہ فضا میں کنوارے بدن کی خوشبو پھیل گئی۔ کامران نے اس خوشبو کو محسوس کرتے ہی چاروں طرف تڑپ کر دیکھا اور زور سے بولا۔ "چاندکا یہ تم ہو؟“
"ہاں یہ میں ہوں۔" مخصوس سوال کا مخصوص جواب۔
"کہاں ہو مجھے آگ سے بچالو۔ جلدی کرو؟" "میرے ہوتے ہوئے آگ تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔" آواز آئی
"لو دیکھو" کامران نے دیکھا تو اس نے ایسا محسوس کیا کہ جیسے کسی نے بھڑکتی آگ پر ڈھیروں پانی بہا دیا ہو اب میں تمہاری رسیاں کھول رہی ہوں۔ تم فوراً اپنی تیر کمان سنبھال کر درخت پر مورچہ لگاؤ چاروں کتے واپس آئیں تو ان کا کام تمام کر دینا۔ چاندکا نے بغیر ظاہر ہوئے ہدایت دی۔ "لیکن وہ اونٹ کے بچے آخر چلے کہاں گئے؟‘‘ کامران نے پوچھا ۔
"وہ کسی چھم چھم کرتی عورت کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہیں۔ جلد ہی واپس آ جائیں گے۔"
رسیوں کی قید کے آزاد ہوتے ہی کامران نے پھر رگڑ کر چنگاری پیدا کی اور چتا میں پھر..آگ لگا دی۔ آگ تیزی سے پھیلنے اور پڑھنے لگی۔ پھر اس نے اپنا ترکش اور تیر کمان سنبھالی۔ وہ چاروں عجلت میں اپنی تیر کمانیں وہیں چھوڑ گئے تھے۔ کامران نے انہیں آگ کی نذر کر دیا اور خود ایک گھنے اور اونچے درخت پر چڑھ کر بیٹھ گیا۔ سب سے پہلے سرخ رومال والا واپس آیا۔ اس نے آتے ہی چتا پر نظر ڈالی۔ آگ آسمان سے باتیں کر رہی تھی۔ آگ کے شعلوں میں درخت کا گدا بھی چُھپ گیا تھا۔ یہ دیکھ کر کہ کامران آگ کی نظر ہو چکا ہے اطمینان کا سانس لیا۔ پھر اس نے اپنی تیر کمان کو خالی نظروں سے دیکھا۔ اس وقت کامران نے کمان کھینچ کر تیر چھوڑا جو سرخ رومال والے کی گردن کے آر پار ہوگیا...وہ تیورا کر زمین پر گرا۔ کامران نے ایک تیر اور چلایا جو اس کے سینے میں دل کو چھلنی کر گیا۔ سرخ رومال والے نے آخر تڑپ تڑپ کر جان دے دی۔ سرخ رومال والے کے بعد کر چنا عورت کی تلاش میں ناکام ہو کر جھنجھلاتا ہوا واپس پلٹا۔ سب سے پہلے کہ اس کی نظر سرخ رومال والے کی طرح آگ کے اٹھتے طوفان پر گئی۔ ابھی وہ اطمینان کا سانس بھی نہ لے پایا تھا کہ اے سرخ رومال والا خون میں لتھڑا ہوا نظر آیا۔ وہ دوڑ کر اس کے نزدیک آیا
کرچنا نے اس کے سینے سے تیر نکال کر تیر کا جائزہ لیا۔ اور ابھی وہ دشمن کے تیر کو پہچان بھی نہ پایا تھا کہ اس کی موت نے اسے آگھیرا۔ دو سنسناتے تیروں نے اس کا کام تمام کر دیا
آخر میں وہ دونوں میدان حشر میں اترے اور کر چنا کو تڑپتا دیکھ کر ایک سوار نے فرار کا راستہ اختیار کیا جبکہ دوسرا بھونچکا سا کھڑا رہ گیا۔ کامران نے پہلے اس سوار کو نشانے پر رکھا جو بھاگ کر اپنی جان بچانے کی کوشش میں تھا کامران کے تین تیروں نے راہ فرار کے تمام راستے مسدود کر دیئے۔ اب چوتھے کی باری تھی۔ آخر وہ بھی سائری دیوتا کو پیارا ہوا۔ کامران چاروں کو ختم کرکے تیزی سے درخت سے اترا۔ اس نے سب سے پہلے رومال والے کی لاش کو اٹھایا اور آگ کے طوفان میں ڈال دیا۔ اس نے یہی عمل باقی تین لاشوں کے ساتھ بھی دوہرایا۔ آخر کامران کو نذر آتش کرنے والے خود ہی اپنی آگ میں جل گئے۔ کامران نے شاطو کے سواروں کے گھوڑوں کو آزاد کیا اور اپنی گھوڑی ابلا پر اچھل کر چڑھ گیا۔ اب یہاں ایک منٹ رکنا بھی خطرے سے خالی نہ تھا۔
اب قامران کے چاروں طرف ریت ہی ریت تھی اور وہ ایسا محسوس کر رہا تھا جیسے ابلا ریت پر چل رہی ہو تیر رہی ہو۔ کامران نے ابلا پر اپنی گرفت اور مضبوط کر لی۔ چند لمحوں بعد جب ابلا کے پاؤں ریت پر تیرنے لگے تو اسے سامنے کافی فاصلے پر سفید رنگ کی عمارت نظر آئی۔ جوں جوں وہ آگے بڑھتا گیا وہ عمارت واضح ہوتی گئی۔ اب اس میں کوئی شبہ نہ تھا کہ وہ سفید محل پھر سے اس کے سامنے آ گیا تھا۔ سفیدمحل........ایک پر فسوں عمارت۔
سفید محل کے دروازے پر پہنچ کر ابھی وہ سوچ ہی رہا تھا کہ دروازہ کیسے کھلوائے دروازے میں خود بخود حرکت ہوئی۔ وہ تیز چڑچڑاہٹ کے ساتھ کھلتا جا رہا تھا۔ کامران سائری دیوتا کا نام لے کر مع ابلا کے سفید محل میں داخل ہوا۔ اس کے اندر آتے ہی دروازہ خود بخود بند ہوا۔ اسے دروازہ کھولنے والا نہ بند کرنے والا نظر آیا۔ سفید محل حسب معمول ویران پڑا تھا۔ وہ ابلا سے اتر پڑا۔ اس نے گھوڑی کو ایک ستون سے باندھا اور ایک طرف چل دیا۔
"ٹھہرو" پیچھے سے آواز آئی۔
کامران کے چلتے قدم رک گئے۔ اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو اسے ایک بغیر ناک کان والا آدمی دکھائی دیا۔ اس کی کمر پر ایک چمڑے کی مشک لدی ہوئی تھی۔ وہ اس کے قریب آ کر رک گیا کامران اس بدہیت مخلوق کو ایک نظر بھی نہ دیکھ سکا۔ اس نے اپنی نظریں دوسری طرف پھیر لیں اور اپنا سانس روک لیا کیونکہ اس مخلوق کے جسم کے اٹھتی بد بو ناقابل برداشت تھی۔
"بھائی تم نے بھی انسانی خون پیا ہے؟“ اس سقے نے ایک عجیب سوال کیا اور ابھی قامران اس کا کوئی جواب دینے ہی والا تھا کہ وہ پہلے بول اٹھا۔ ”ہاں تم نے کہاں پیا ہوگا انسانی خون بھائی پیا کرو
دنیا میں اس سے سستی چیز اور کوئی نہیں۔ پھر مزیدار کتنا ہوتا ہے انسانی خون۔ منہ کو لگ جائے تو چھوڑنے کو جی ہی نہیں چاہتا۔ تم پیو گے میں پلاؤں گی میری مشک پوری بھری ہے۔ تازہ تازہ انسانی خون سے۔" یہ کہہ کر اس نے مشک کا منہ کھول دیا۔
"لو" مشک کا پورا منہ کھلا تھا اور ایک موٹی رهار خون کی سرخ اور گاڑھے خون کی فرش پر گر رہی تھی فرش رنگین اور کثیف ہوتا جا رہا تھا۔ کامران کو اتنا سارا خون دیکھ کر چکر سے آنے لگے۔ وہ سر پکڑ کر زمین پر بیٹھ گیا۔ پھر ایک عجیب بات ہوئی مشک سے گرتی ہوئی دھار منجمد ہوگی اور وہ سقہ پتھرا گیا ۔ اس نے ہمت کر کے اسے چھوا تو وہ سقہ زمین پر آرہا اور اس کی لاش ریزہ ریزہ ہو کر بکھر گئی کسی ممی کی طرح۔ اچانک ہوا کا ایک تیز بگولا آیا اور سقے کی لاش کے تمام ذروں کو اپنے ساتھ لے کر غائب اب فرش پر کچھ نہ تھا... نہ خون نہ مشک نہ سقے کی لاش۔ کامران بڑی دیر تک ہوا کے اس بگولے کو دیکھتا رہا جس نے بڑی صفائی سے فرش سے ایک ایک ذرہ اٹھا لیا تھا اور آسمان کی طرف اڑتا ہوا غائب ہوگیا تھا۔ اچانک کسی نے اس کے کندھے پر نرمی سے ہاتھ رکھا تو وہ بری طرح چونک پڑا۔
"کون؟"
پر جواب نہ آیا کنوارے بدن کی خوشبو آئی۔ یہ سوال کا ایک جواب تھی۔
"چاندکا تم؟"
"ہاں میں ہوں کیا تم ڈر گئے تھے؟‘‘ اس محل میں ہر طرف خوف ہی خوف ہے۔ کامران نے کہا "ویسے یہ کیا تماشہ تھا؟"
"تماشہ کچھ نہیں اس بد تمیز نے خوامخواہ تم سے بے تکلف ہونے کی کوشش کی تھی اس لیے اسے سزا دے دی گئی۔‘‘ چاندکا نے بڑی بے نیازی سے کہا۔
"اب اس بدتمیز کے بارے میں کیا خیال ہے؟‘‘ کامران نے اپنی طرف اشارہ کر کے کہا
"یہ بد تمیز ہمارے دل پر رقم ہوگیا ہے اسے ہم کیا سزا دیں گے۔" چاندکا نے ظاہر ہوتے ہوئے کہا۔ وہ اس سیاہ لبادے میں تھی۔"
"سچ" کامران نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
"بالکل تم میرا صدیوں کا انتخاب ہو"
"صدیوں کا انتخاب............اس کا کیا مطلب ہے؟
"آج میں تمہیں بہت سی باتیں بتاؤں گی پھر کوئی سوال باقی نہ رہے گا۔
"جلدی بتاؤ جلدی بتاؤ کامران نے بے قراری سے کہا۔
"ایسی بھی کیا بے تابی آؤ تصویر والے کمرے میں چلو۔" چاند کا بولی ۔
"کدھر ہے۔وہ کمرہ؟"
"آنکھیں بند کرو“
کامران نے فورا آنکھیں بند کر لیں۔ تب ہی اس نے محسوں کیا جیسے کسی نے اسے پکڑ دیا ہو۔ جب اس نے آنکھیں کھولیں تو خود کو تصویر والے کمرے میں پایا لیکن چاندکا کا کہیں پتہ نہیں تھا البتہ کمرے میں چاند کا کی تصویر موجود تھی۔ سیاہ لبادے میں چھپی اونٹنی پر بیٹھی ہوئی چاندکا اور پس منظر میں ریت ہی ریت. کامران نے اس تصویر پر اپنی نظریں جما دیں۔ تصور فوراً حرکت میں آگئی ۔ کامران نے دیکھا کہ چاندکا اپنی اونٹنی کو بیٹھنے کا اشارہ کر رہی ہے۔ اونٹنی کے بیٹھتے ہی چاندکا نے چھلانگ لگا دی اور ریت پر آ گری۔ اونٹنی پیٹھ خالی ہوتے ہی فوراً بھاگ گئی اور بھاگتی ہوئ چلی گئی، پھر نظروں سے اوجھل ہوگئی۔ چاند کا سیدھی کھڑی ہوئی اس نے ایک جھٹکے سے اپنے چہرے سے نقاب اتارا پهر کامران کو گرا کر دیکھا۔ سر سے نقاب اترتے ہی اس کی سیاہ زلفیں شانوں پر بکھر گئیں۔ چاندکا نے ادا بے نیازی سے سر کو جھٹکا دے کر زلفوں کو پیچھے پھینکا۔ کامران چاند کا کو دیکھتا ہی رہ گیا۔ وہ نیلابو کو دیوتا کی حسین ترین لڑکی تصور کرتا تھا وہ چاندکا کے پیروں کی دھول بھی نہ تھی۔ یہ چاندکا کا مکھڑا دیکھ کر احساس ہوا ۔ پھر چاندکا نے بقیہ سیاہ لبادہ بھی اتار پھینکا ۔ وہ اندر زرق برق لباس پہنے تھی۔ اس اس کے جسم کے چاند سورج پورے عروج پر تھے ۔ وہ چہک رہی تھی مہک رہی دہک رہی تھی۔
چاندکا نے مسکرا کر کامران کو دیکھا اور پھر اپنا دایاں ہاتھ فضا میں بلند کیا۔ ہاتھ فضا میں کھڑا ہوتے ہی تصویر کا فریم ٹکڑے ٹکڑے ہو کر زمین پر آرہا کامران جھجک کر پیچھے ہٹا پلک جھپکتے ہی کھیل ختم ہو گیا۔ اب دیوار پر کوئی تصور نہ تھی فریم ٹوٹتے ہی چاندکا بھی غائب ہوگئی تھی لیکن وہ غائب کہاں ہوگئی؟ کامران نے خود اسے تصویر سے نکلتے ہی دیکھا تھا۔ کامران نے پلٹ کر دیکھا تو سارے اسرار مل گئے۔ چاندکا اس کے پیچھے شرمائی شرمائی کھڑی تھی۔
"چاندکا یہ اتنا سارا حسن تم نے کہاں سے جمع کرلیا تم نے تو یرکان قبیلے کی لڑکیوں کو بھی مات دے دی۔ یرکان قبیلے کو تو اپنی لڑکیوں پر بڑا ناز ہے۔ تم نے تو ان لڑکیوں کے حسن کو مٹی کر دیا۔
"کامران تم نے کبھی آئینہ دیکھا ہے؟"
"کیوں؟"
”میں نے اگر تمہارے علاقے کی لڑکیوں کا حسن گہنا دیا ہے تو تم بھی تو کچھ کم نہیں تمہارے اپنے قبیلے اور غربان بلکہ پوری دنیا میں تم جیسا حسین مرد میں نے آج تک نہیں دیکھا"
"کیوں غلط فہمی میں مبتلا کرتی ہو؟“
” ملکہ شاطو تو تمہاری ایک نظر التفات کے لیے تخت و تاج ہارنے کے لیے تیارتھی۔“
"وہ تو ہوس کی پتلی تھی"
" ایک الگ مسئلہ ہے تمہارے پرکشش ہونے میں بہرحال کوئی کلام نہیں۔"
"چاندکا جب تم نے اپنے چہرے سے بہت سے اسرار کے پردے ہٹا دیے ہیں تو اب یہ بھی بتا دو کہ تم کون ہو؟“
"سنو گے؟"
"ہاں بہت شوق سے۔“
"میں جو کچھ سناؤں گی، اس پر یقین بھی کر لو گے؟"
"ہاں کیوں نہیں“
"میں جو کچھ کہوں گی اس پر عمل بھی کرو گے؟"
”چاندکا میں تمہارے لیے پاتال میں بھی جانے کے لیے تیار ہوں“
"پھر سنو میں صدیوں سے بھٹکتی ہوئی ایک روح ہوں۔“
"روح۔۔!" قامران نے اس کے دلکش چہرے پر نگاہیں گاڑ دیں۔ "ہاں.......ایک ایسی روح جو دس ہزار سال سے تم جیسے مرد کی تلاش میں تھی۔ کامران تم میرا صدیوں کا انتخاب ہو اب سمجھ میں آیا کہ میں نے تمہیں صدیوں کا انتخاب کیوں کہا تھا؟"
"نہیں اب تک نہیں۔"
"ٹھہرو میں شروع سے بتاتی ہوں۔ اس وقت سے جب میری شادی ہوئی۔ شادی کے دن میری عمر مشکل سے سولہ سال ہوگی۔ میری نسبت اس زمانے کے ایک بہت بڑے تاجر سے ٹھہری وہ ریشم کے کپڑے کی تجارت کرتا تھا اور اس کے کاروبار کی شہرت دور دور تک پھیلی ہوئی تھی۔ میرے چرچے بھی کم نہ تھے۔ میرے حسن کی چمک سے ایک دنیا روشن تھی۔ میری کئی سہیلیاں مجھ پر دل سے فدا تھیں پھر مردوں کا کیا ہوگا۔ تم خودسوچ لو"
"سوچ کیا لوں میں جو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں۔ تمہارا حسن يقيناً مثالی ہے" کامران نے کہا ۔
ہمارے علاقے کے رسم و رواج کے مطابق لڑکی کی قیمت لگائی جاتی تھی اور جس کی جتنی قیمت لگتی..خود کو اتنا خوش قسمت سمجھتی۔
ماں باپ ذات برادری والے الگ فخر محسوس کرتے۔ اس تاجر نے میری قیمت پانچ ہیروں کے ہار مقرر کی۔ اس وقت وہ قیمت بہت بڑی تھی کیونکہ اس زمانے میں ایک لڑکی چار پانچ ریشم کے تھانوں میں بہ آسانی مل جاتی تھی اور خود پر فخر کرتی جب وہ تاجر میرے گھر تھال میں جگمگاتے ہیروں کے ہار سجائے داخل ہوا تو میں جھوم جھوم اٹھی۔ میری سہیلیوں نے چوم لیا ۔ میرے ماں باپ نے مجھے اپنے کلیجے سے لگا لیا۔ مجھے اس تاجر پر ٹوٹ کر پیار آیا اور بس نہ چلتا کہ ابھی اس وقت اس کے ساتھ چلی جاتی جس نے میری اتنی قیمت لگا کر میری قدر افزائی کی رسم کے مطابق میں ایک سال سے پہلے اس کے ساتھ نہیں جاسکتی تھی۔ پھر ایک سال بعد میری دھوم دھام سے شادی ہوئی۔ وہ رات آئی جس کے لڑکیاں جانے کیا کیا سہانے خواب دیکھتی ہیں
میں نے بھی بہت سے سہانے خواب دیکھے تھے۔ اس کے لیے جانے کیا کیا سوچا تھا لیکن وہ رات میرے لیے منحوس ثابت ہوئی۔ اس رات نے میری زندگی اندھیر کر دی سارے سہانے خواب کرچی کرچی ہو کر بکھر گئے۔ زندگی میں آنسوؤں کے سوا کچھ نہ رہا۔ بس یوں سمجھ لو کہ شادی کی پہلی رات تمہارا دل بھی زخمی ہوا اور میرا بھی۔ جس طرح تمہاری نیلابو تمہارے لیے ناکارہ ثابت ہوئی اسی طرح میرا شوہر میرے لیے بغیر پانی کا دریا ثابت ہوا۔ تمہاری بیوی اس سلسلے میں قصور وار نہ تھی سائری دیوتا نے اسے ایسا بنایا تھا۔ میرا شوہر بھی بے قصور تھا فطرت نے اس کے ساتھ بھی مزاق کیا تھا۔ اس رات بہت شرمندہ تھا کئی بار میں نے اسکی آنکھوں میں آنسو بھی دیکھے تم مرد لوگ اس معاملے میں ویسے ہی بےحد حساس ہوتے ہو۔ اس کمزوری نے اس کی ہڈیاں پگھلانا شروع کردیں۔ میں نے ہر طرح سمجھایا تسلیاں دیں کہ میرا لیے تمہارا جسم کوئی مسئلہ نہیں۔ مسئلہ ہے تمہاری محبت اس میں کمی پاؤں گی تو رنجیدہ ہوں گی لیکن اس نے میری تسیلوں کو قابل توجہ نہ سمجھا۔ وقت گزرتا رہا۔ خاندان لوگ دوست احباب بچہ نہ ہونے پر اس پر انگلیاں اٹھانے لگے تھے۔ پھر اس نے ایک دن ایک حرکت کی ۔ اس زمانے میں تہذیب کے خلاف گھریلو کام کاج کے لیے میرا ہم عمر ایک لڑکا لائے اور مجھے اشاروں اشاروں میں سمجھایا کہ میں اس لڑکے کے ساتھ اپنا دامن الجھا دوں ۔ میں نے اس گندے خیال کو بری طرح جھٹک دیا اور اس ملازم لڑکے کو دوسرے دن ہی چلتا کیا۔ میں نے شوہر کو پھر سمجھایا کہ وہ میری فکر کرنا چھوڑ دے۔ مین پوری زندگی یونہی اس کی محبت کے سہارے گزار دوں گی۔ بظاہر اس نے میرے اس فعل کو اچھی نظروں سے دیکھا لیکن اندر ہی اندر وہ گھلتا گيا ایک دن اس نے تنگ آ کر خودکشی کر لی...........میں نے اپنا عہد شباب اس کے ساتھ گزارا زندگی کے چودہ سال میں نے اپنے شوہر کے ساتھ کاٹے اور اس عہد میں کئی ایسے مواقع پیدا ہوئے کہ میں اپنے شوہر کی عزت خاک میں ملا سکتی تھی جبکہ خود میرا شوہر اپنی نامود کو مٹی میں ملانے پر تلا ہوا تھا مگر میں نے ایسا نہ ہونے دیا۔ میں نے چودہ سال پوری پاکیزگی سے گزارے اور اپنے شوہر کی خدمت میں رہی اس کی قدر میں کبھی کمی نہ آنے دی‘‘
"چاندکا" کامران کو گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے وہ خاموش ہو گئی تھی
"تمهاری کہانی مجھ سے کس قدر ملتی ہے بس فرق صرف مرد اور عورت کا ہے۔" قامران خاموش ہوتے ہی بولا۔
دراصل اس مشابہت نے ہی ہم دونوں کو اس قدر نزدیک کیا ہے میں دس ہزار سال سے ایک ایسے مرد کی تلاش میں تھی جس کی شادی کسی ناکارہ عورت سے ہو اور اس نے پوری پاکیزگی سے پوری زندگی گزار دی ہو۔ اس صدیوں پر محیط عرصے میں سینکڑوں مردوں کا بڑے نزدیک سے مطالعہ کیا۔ میں نے پاکیزہ مرد کی تلاش میں دنیا کا کونہ کونہ چھان مارا اور اب میں مایوس ہونے لگی تھی اپنی شکست تسلیم کرنے والی تھی کہ اچانک تم مل گئے۔ تم ہر آزمائش میں پورے اترے۔ تم جو میری صدیوں سے پیاسی روح کا قرار ثابت ہوئے۔ نیلابو سے نباہ کر کے مردوں کی لاج رکھ لی۔"
"اس سلسلے میں مجھے کسی کا شکر گزار ہونا چاہیے۔ تمہارا یا سائری دیوتا کا؟“ قامران نے کہا
"سائری دیوتا کا جس نے تمہارے جیسا مرد بنایا۔" چاند کا بولی ۔
"میں پھر شکر گزار ہوں سائری دیوتا کا جس نے مجھے بنایا اور چاندکا جیسی لڑکی سے ملوایا۔“ قامران نے اوپر دیکھتے ہوئے کہا۔
"کامران ایک بات بتاؤ اور پوری سچائی سے“
"ہاں پوچھو ۔
"کیا تمہارے دل میں مجھے حاصل کرنے کی خواہش نہیں پیدا ہوئی؟"
"یہ کیوں پوچھ رہی ہو؟‘‘ کامران نے اسے ترچھی نظروں سے دیکھا۔
"اس لیے کہ پھر....." چاندکا کچھ کہتے کہتے رک گئی اور گھبرا کر بولی۔
"کیوں نہ پوچھوں۔ تمہیں برا لگا؟"
"میرا مطلب یہ تھا کہ یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے۔ کامران نے بڑے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا۔
”جس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں باندھا گیا تھا وہ تو دنیا میں رہی نہیں ۔ اب کیا تم بھی مجھے تنہا چھوڑ کر جانا چاہتی ہو؟
“لیکن ہمارا ملاپ اتنا آسان نہیں۔" اب چاندکا اصل موضوع پر آئی۔ کتنا مشکل ہے خدایا بتاؤ" قامران نے پوچھا۔
"میں روح ہوں اور تم جسم۔۔۔روحیں بھی بھلا کبھی جسموں سے ملی ہیں۔"
"پھر ہم تم کیسے ملیں گے؟"
"ملیں گے اور ضرور ملیں گے۔ تمہیں میرے کہنے پرعمل کرنا ہوگا۔"
چاندکا تم مجھے اپنا غلام سجھو“
میں تمہیں اپنا غلام نہیں آ قا بنانا چاہتی ہوں۔ تمہارے مضبوط بازوں میں رہنا چاہتی ہوں لیکن اس خواہش کے پورا ہونے تک تمہیں کڑی آزمائش سے گزرنا پڑے گا۔ "
"چاندکا تمہارے لیے میں ہر آزمائش سے گزر جاؤں گا“
"سچ؟" چاند کا خوش ہوتے ہوئے بولی
"سو فیصد" کامران نے بڑے منظم انداز میں کہا۔
"پھر لمبے سفر کے لیے تیار ہو جاؤ “
”میں تیار ہوں۔۔۔تم ہدایت دو“
چاندکا نے کامران کو بہت سی باتیں سمجھائیں۔ کہاں کہاں جانا ہوگا؟ کن کن بستیوں سے گزرنا پڑے گا۔ کیسے کیسے واقعات سے دوچار ہونا ہوگا؟ اسی طرح کی اور بہت سی دوسری باتیں
قامران اس کی ہدایت کے مطابق ابلا پر بیٹھ کر محل سے باہر نکلا اور سفید محل پر الودائی نظر ڈال کر گھوڑی کو ایڑ لگائی۔ ابلا دیکھتے ہی دیکھتے ہوا سے باتیں کرنے لگی۔ چند لمحوں بعد کامران نے محسوس کیا کہ گھوڑی دور نہیں اڑ رہی ہے۔ اس کے پیر ریت پرنہیں پڑ رہے تھے۔ ویسے اس کے ارد گردریت چھائی ہوئی تھی۔
کچھ دیر کے بعد جب دھند چھٹی اور ابلا کے پاؤں زمین پر پڑے تو وہ سامنے کا منظر کر پریشان ہو گیا۔ پریشان ہونے والی بات ہی تھی۔ وہ منظر تھا ہی ایسا کہ اچھے بھلے آدمی کے ہوش اڑ سکتے کامران نے ابلا کی لگام کھینچی تو اس نے خود کو ایک ہرے بھرے سرسبز و شاداب علاقے میں پایا اس کے اردگرد پھولوں اور پھلوں سے لدے درخت تھے۔ خوبصورت رنگ برنگے پرندے بیٹھے تھے اور پرندوں کی آوازیں سن کر درخت جھوم رہے تھے۔ کامران نے اگر وہ وحشت ناک منظر فوراً نہ دیکھ لیا ہوتا تو وہ اس ماحول اس موسم سے ضرور محفوظ ہوتا۔ فطری مناظر کا حسن ایسے بہت متاثر کرتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ شادی سے پہلے وہ اور نیلابو اکثر میٹھے پانی کے چشمے میں بڑے پتھروں پر بیٹھا رہا کرتے تھے اور گھنٹوں باتیں کرتے تھے
اس درخت کے نیچے چار پانچ آدمیوں نے اسے پکڑ رکھا تھا۔ اس کا سر ایک لوہے کے شکنجے میں جکڑا ہوا تھا۔ ایک آدمی کے ہاتھ میں تیز دھار چمکتا خنجر تھا۔
"نہیں نہیں مجھے بے زبان نہ کرو۔ میری زبان نہ کاٹو۔"وہ چیخ رہا تھا۔
"تو زبان رکھ کر کیا کرے گا؟" خنجر والے آدمی نے پوچھا۔
"میں بولنا چاہتا ہوں میں بولتے رہنا چاہتا ہوں۔" اس نے جواب دیا۔
"کیا تو نہیں جانتا کہ بولنے میں بڑی طاقت صرف ہوتی ہے اور چقمان قبیلے کا کاچاک نہیں چاہتا کہ اس کے قبیلے کا ایک بھی آدمی کمزور ہو پھر تجھے یہ بھی معلوم ہونا چاہیے زبان کٹوائے بغیر تو شادی نہیں کر سکتا۔" اس آدمی نے خنجر لہرایا۔
"مجھے اپنی زبان پیاری ہے۔ مجھے شادی سے کوئی دلچسپی نہیں۔ میری زبان نہ کاٹو مجھ پہ رحم کرو۔" اس نے خنجر والے آدمی کے آگے ہاتھ جوڑ تے ہوئے کہا۔
"میں مجبور ہوں مجھے ہر صورت میں سردار کاچاک کے حکم کی پیروی کرنی ہے" خنجر والے نے فیصلہ کن انداز میں کہا۔
"چقمان قبیلے کے لوگ تو خوشی خوشی اپنی زبان کٹوا لیتے ہیں۔ میری سمجھ میں نہیں آتا تجھے احتجاج کی کیا سوجھی۔ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ زبان کٹوانے سے انکار کی سزا کیا ہے؟"
"جانتا ہوں موت"
"کیا تو موت قبول کرے گا زبان نہ کٹوائے گا“
"ہاں میں موت قبول کر لوں گا لیکن زبان نہیں کٹنے دوں گا۔"
"بے وقوف تو مر جائے گا تو کیا بولے گا؟" خنجر والے نے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔
"پاگل مت بن اپنی زبان آرام سے کٹوا لے اور خوشیاں بٹور"
خنجر والے آدمی نے اس کا جواب سنے بغیر اپنے ساتھیوں کو اشارہ کیا۔ ساتھیوں نے اس کا منہ کھول کر کوئی چیز ڈال دی اب وہ اپنا منہ بند نہیں کر سکتا تھا۔ پھر خنجر والے نے بڑے آرام سے اس کی زبان پکڑ کر باہر کی طرف کھینچی اور ایک لمحے میں اس کی پیاری زبان حلق سے جدا ہو کر خنجر والے آدمی کے ہاتھ میں آ رہی۔
اس کے منہ سے خون کا فوارہ جاری ہو گیا۔ اور یہ تھا وہ منظر جسے دیکھ کر کامران پریشان ہو گیا تھا۔ ان آدمیوں کو کامران کی موجودگی کا احساس نہ ہوا ۔ وہ اپنے کام میں اتنے منہمک تھے کہ انہیں کسی غیر آدمی کی آمد کا پتہ ہی نہ چلا۔ پھر خنجر والے آدمی نے خنجر ایک کپڑے سے صاف کرکے لکڑی کے چھوٹے سے بکس میں سے ایک مرہم قسم کی چیز نکال کر زخم پر لگائی۔ مرہم لگتے ہی منہ سے نکلتا ہوا خون کا فوارہ بند ہوگیا۔
"شکنجہ کھولو" ۔ اس نے ایک مصنوعی گونگے کو حکم دیا اور پھر اس کی کٹی زبان کو احتیاط سے کپڑے میں لپیٹ کر لکڑی کے بکس میں ڈال دیا۔ شکنجہ کھول کر دو آدمیوں نے اسے سہارا دے کر اٹھایا اور بستی کی طرف لے چلے۔
"زندگی بڑی خوبصورت چیز ہے اس کی قدر کرنا سیکھو" خنجر والے نے اس سے کہا۔
”جاؤ، اور عیش کرو۔" اس تازه زبان کٹے نے جواب میں کچھ کہا لیکن سوائے اڑ اڑ کے کچھ سنائی نہ دیا۔ چہرے کے تاثرات بتاتے تھے کہ اس نے خنجر والے آدمی کو ایک سخت قسم کی گالی دی ہے مگر گالیاں اب بے اثر تھیں۔
"جاؤ اسے لے جاؤ" خنجر والے نے حکم دیا۔ و چاروں اس تازہ گونگے کو لے کر ایک طرف چل دیئے۔ خنجر والے آدمی نے بھی اپنا سامان سمیٹا اور قریب ہی کھڑی ایک چھوٹی سی گاڑی میں جا بیٹھا گاڑی میں چھ کتے بندھے ہوئے تھے جو اپنی شکل سے انتہائی خونخوار اور جسامت میں گدھے سے بڑے لگتے تھے خنجر والے کے ہنٹر اٹھاتے ہی کتوں میں حرکت پیدا ہوگئی۔ ہنٹر جھٹکتے ہی وہ کتے کی گولی کی طرح چل پڑے۔ کامران اس کا گاڑی کی رفتار پر حیرت زدہ رہ گیا۔ وہ آنا فانا درختوں کے جھنڈ سے باہر آیا اور اس نے ابلا کو اس کتا گاڑی کے تعاقب میں لگا دیا۔ اس کا خیال تھا کہ چند لمحوں میں اس کی گھوڑی کتا گاڑی کو جا لے گی لیکن یہ خیال خام خیالی ثابت ہوا اس نے ابلا کو اور تیز چلنے کا اشارہ کیا۔ اشاره پاتے ہی سرکش گھوڑی ہوا سے باتیں کرنے لگی اس سے پہلے کہ وہ کتا گاڑی کو پکڑتا ایک تیر سنسناتا ہوا اس کے کان کے پاس سے گزر گیا۔ کامران نے ابلا کی زور سے لگام کھنچی لگام کھینچتے ہی ابلا وہیں کی وہیں جام ہوگئی۔ پھر اسے ترکش سے تیر نکالنے اور کمان پر چڑھانے میں چند لمحے لگے۔ اس نے تیر کی سمت کر کے گھوڑی دوڑا دی۔ اب وہ اس گھنے درخت کے نیچے تھا جہاں سے اس کے اندازے کے مطابق اس پر تیر چلایا گیا تھا۔
کامران کا نشانہ بے خطا اور اندازے بڑے صحیح ہوا کرتے تھے۔ تیر چلانے والا درخت پر موجود تھا اور کامران نے اس کی جھلک دیکھتے ہی اسے نشانے پر لیا تھا۔" "خیریت اسی میں ہے کہ خاموشی سے اتر آؤ‘‘ کامران نے للکار کر کہا۔
”دوسری صورت میں تمہاری لاش نیچے آئے گی میرا نشانہ تم سے کہیں بہتر ہے۔“
” میں نیچے آرہا ہوں....تیر مت چلانا" اوپر سے آواز آئی اور چند ہی لمحوں میں نوجوان کامران کے سامنے تھا۔ اس کے ہاتھ میں بانس کا ایک گز بھر لمبا ٹکڑا تھا اور کچھ تیر اس میں دبائے ہوئے تھے۔ کمان اس کے پاس تھی۔
"كمان کہیں اور چھوڑ آۓ؟" کامران نے اس نوجوان سے پوچھا۔ "میرے پاس کوئی کمان نہیں۔“
"پھر تم نے مجھ پر تیر کیسے چلایا؟‘‘
"اس سے" اس نے بانس کے مضبوط اور کھوکھلے ٹکڑے کی طرف اشارہ کیا۔
"میں تم سے بعد میں پوچھوں گا کہ تم نے مجھ پر حملہ کیوں کیا؟" فی الحال مجھے یہ بتاؤ اس بانس کے ٹکڑے سے تیر کس طرح چلائے؟" کامران نے پوچھا۔
اس نوجوان نے ایک تیر اس کھوکھلے بانس کے ٹکڑے میں ڈالا اور درخت پر بیٹھے ایک پرندے کا نشانہ لے کر بانس کے ٹکڑے میں زور سے پھونک ماری۔ پھونک مارتے ہی تیر بانس سے اس تیزی سے نکلا کہ کامران دیکھکتا ہی رہ گیا تیر سیدها پرندے کو لگا اور وہ مع تیر پھڑپھڑاتا نیچے آرہا۔
"بھئی یہ تو کمال کی چیز ہے۔ اسے کیا کہتے ہیں؟"
"توفو" نوجوان نے بتایا ۔
نوجوان تمہارا اپنا نام کیا ہے؟‘‘ کامران نے دریافت کیا ۔
"شاکا... اور تمہارا نام؟‘‘
”شاکا...میرا نام کامران ہے۔"
"کامران تم کس علاقے کے رہنے والے ہو؟"
"میں پورب سے آیا ہوں کیا تم نے مجھے اجنبی سمجھ کر مار ڈالنا چاہا تھا ؟"
"نہیں میرا مارنے کا کوئی ارادہ نہ تھا میں تمہیں صرف متوجہ کرنا چاہتا تھا مجھے مدد کی ضرورت ہے۔ امید ہے انکار نہیں کرو گے میرا ساتھ دو گے" شاکا نے کہا۔
کامران نے تیر کمان سے نکال کر ترکش میں رکھا اور گھوڑی سے چھلانگ لگا دی۔
"ایک اجنبی تمہاری کیا مدد کر سکتا ہے؟‘‘ کامران نے مسکراتے ہوئے اس کی طرف ہاتھ پڑھایا۔
ایک اجنبی ہی میری مدد کر سکتا ہے شاکا نے پہلے اس کا ہاتھ اپنے سر پر رکھا پھر اسے چوم کر چھوڑ دیا اور اپنا ہاتھ آگے بڑھایا۔ جواب میں کامران نے بھی پہلے اس کا ہاتھ اپنے سر پر رکھا اور پھر چوم کر چھوڑ دیا اور بولا۔
"میں تمہاری کیا مدد کر سکتا ہوں؟ تم چاکور کے پیچھے کہاں جارہے تھے؟"
چاکور کون۔۔۔کہیں یہ اس گاڑی والے کا نام تو نہیں جس نے ایک لڑکے کی بڑی بے دردی سے زبان کاٹی تھی؟“
"ہاں میں اسی کتے کا ذکر کر رہا ہوں۔"
میں اس سے اس مسئلے پر بات کرنا چاہتا تھا۔ اس ظلم کی وجہ معلوم کرنا چاہتا تھا لیکن تم نے تیر چلاکر اسے میرے ہاتھ سے نکال دیا۔" کامران نے ہاتھ ملتے ہوئے کہا۔
"وہ کہیں نہیں جاسکتا وہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔ اسے کسی بھی وقت بہت آسانی سے ہلاک کیا جا سکتا ہے لیکن صرف اسے ہلاک کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ دوسرے دن کسی اور کو اس کام پر رکھ دیا جاۓ گا۔ “ شاکا نے کہا ۔
پر مسئلہ کسے ہلاک کرنے سے حل ہوگا؟‘‘ کامران نے پوچھا۔
"چقمان قبیلے کے سردار کو۔“
"کیا تمہارتعلق چقمان قبیلے سے ہے؟"
"ہاں"۔ شاکا نے بنایا۔ "قبیلے کا سردار تو باپ جیسا ہوتا ہے۔ تم اسے کیوں ہلاک کرنا چاہتے ہو؟"
"ہمارے قبیلے میں لڑکے کے بالغ ہوتے ہی سردار کے حکم سے زبان کاٹ دی جاتی ہے بقول سردار کاچاک اس طرح عمر میں اضافہ ہوتا ہے ۔ پھر بغیر زبان کٹوائے اس کی شادی بھی نہیں ہوتی"
"کاچاک نے اپنی زبان بھی کٹوا دی ہے؟"
"نہیں نہ صرف اس کی زبان کٹی ہوئی نہیں بلکہ اس کے کچھ پسندیدہ لوگ بھی ایسے ہیں جن میں ایک چاکور بھی ہے۔"
گویا یه زبان بندی کی لعنت صرف عوام تک محدود ہے؟"
"ہاں یہی سمجھو" "حیرت ہے عوام کتنی آسانی سے اپنی زبانیں کٹوا لیتے ہیں۔"
"چقمان قبیلے کے لوگ انتہائی سیدھے ہیں۔ وہ سردار کا چاک سے اندھی عقیدت رکھتے ویسے بھی زبان نہ کٹانے کی سزا موت ہے۔ لوگ موت کے مقابلے میں زبان کٹوانے کو ہی ترجیح دیتے ہیں
”یہ تو انتہائی ظلم ہے۔" کامران نے ہمدردی ظاہر کی۔
"کیا یہ ظلم عورتوں کے ساتھ بھی ہوتا ہے"
"نہیں عورتیں اس کالے قانون سے بچی ہوئی ہیں۔"
"تمہارے خیال کے مطابق سردار کاچاک ہر بالغ آدمی کی زبان کیوں کٹوا دیتا ہے"
"تاکہ وہ بول نہ سکے" "لیکن وہ ہر بالغ آدمی کو خاموش کیوں رکھنا چاہتا ہے؟‘ کامران نے بات کی تہ تک پہنچنے کی کوشش کی۔
کیا اس نے اپنے بیٹوں کے ساتھ بھی یہی سلوک روا رکھا ہے؟
"اس کا کوئی بیٹا نہیں....اس نے آج تک شادی نہیں کی۔"
"آخر کیوں؟"
"اسے شادی کی ضرورت ہی کیا ہے۔"
کیوں کیا وہ بہت بوڑھا ہے؟‘‘
"نہیں۔ وہ تو ہٹا کٹا ہے۔ اس کی عمر بھی زیادہ نہیں۔" شاکا نے بتایا۔ "شادی سے پہلے قبیلے کی ہر لڑکی کو اس کے پاس رہنا پڑتا ہے۔"
اگر کوئی لڑکی اس کے ساتھ رہنا نہ چاہے تو؟“
"ممکن نہیں ہر لڑکی کو اس کے ساتھ مجبوراً رہنا پڑتا ہے۔"
انکار کی صورت میں یہ کہ اس کی شادی نہیں ہوتی بلکہ اسے اندھا بھی کر دیا جاتا ہے۔" شاکا نے بڑے دکھ سے کہا۔
"کیا آج تک کوئی ایسی لڑکی بھی پیدا نہ ہوئی جس نے سردار کاچاک کے ساتھ رہںنے سے انکار کردیا ہو؟“
"کبھی نہیں۔"
"کوئی لڑکا ایسا پیدا ہوا جس نے زبان کٹوانے سے انکار کر دیا ہو؟“
"ہاں۔ وہ لڑکا تمہارے سامنے موجود ہے۔"
"انکار کے بعد تم زندہ کیسے ہو؟ زبان کٹنے کا دن مقرر ہوتے ہی میں اپنے علاقے سے فرار ہو گیا تھا اور آج تک ہوں۔ میری گرفتاری کے لیے سردار کاچاک نے دو خوبصورت لڑکیوں کا انعام مقرر کیا ہے۔ شاکا نے مسکراتے ہوئے کہا۔
” تم چاہو تو مجھے گرفتار کروا کے دولڑکیاں حاصل کر سکتے ہو۔"
مجھے لڑکیوں سے کوئی دلچسپی نہیں۔
"پھر میں یقین کرلوں کہ تم ظلم کے خاتمے میں میرا بھر پور ساتھ دو گے؟"
"يقينا" مختصر مگر مستحکم جواب۔
پھر چومو میری پیشانی که عہد کی پختگی میں کوئی شبہ نہ رہے۔" "ضرور" کامران نے بڑھ کر شاکا کی پیشانی چومی۔
جوابا شاکا نے بھی وہی کارروائی کی
"اب میں تمہیں بستی کا پتہ بتاتا ہوں اور سارا منصوبہ سمجھاتا ہوں۔
"تم وقت ضائع کیے بنا بستی میں پہنچو بستی میں پہنچ کر میرے باپ سے ملو ۔ پھر تم اس کے مہمان ہوگے۔ وہ تمہیں ایک تاجر کی حیثیت سے قبیلے والوں سے ملوائے گا تاکہ کسی کو شبہ نہ رہے۔"
تاجر تو میں ہوں اس میں شک کی کوئی بات نہیں۔"
"تم تاجر ہو، لیکن تمہارے پاس تیرکمان کے سوا کچھ نہیں۔ کیا اس بستی میں تم اپنے تیر فروخت کرنے آئے ہو؟‘‘۔شاکا نے ہنستے ہوئے کہا۔
"میرے پاس دنیا کے بیش قیمت ہیرے ہیں۔“ "کہاں ہیں؟“
"زین کے نیچے“
"بس پھر مسئلہ ہی آسان ہو گیا۔ اب تو تم سردار کاچاک سے بھی آسانی سے مل سکو گے۔ اسے ہیروں سے بڑی دلچسپی ہے۔" شاکا نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا۔
”میرا باپ تمہیں ثمرنہ سے دوا دے گا۔ ثمرنہ میری منگیتر ہے۔ وہ بڑی سمجھدار ہے۔ اس کے ایماء پر میں نے فرار اختیار کی۔ وہ ہمارے منصوبے کی اہم کڑی ہے۔ "
پھر شاکا نے سردار کاچاک سے نجات حاصل کرنے کا منصوبہ کامران کے سامنے رکھا۔ پھر اس نے اپنی طرف سے کچھ ترامیم پیش کی جو ٹھوڑی ر بحث کے بعد منظور کر لی گئی کامران شاکا کو ایک محفوظ مقام پر پہنچا کر بستی کی طرف روانہ ہوگیا۔ کامران کو بستی میں پہنچنے میں تو کچھ دیر گئی مگر شاکا کے گھر پہنچنے میں ذرا بھی دیر نہ لگی۔ بستی میں داخل ہوتے ہی اس نے ایک بچے سے شاکا کے گھر کا پتہ دریافت کیا۔ اس نے فورا ہی شاکا کے گھر کے سامنے اسے جا کھڑا کیا اور بھاگ کر کسی کو گھر سے بلا بھی لایا۔ گھر سے نکلنے والا ایک ادھیڑ عمر شخص تھا۔ چہرے سے پریشاں حال اور اداس سا۔
"کیا آپ شاما ہیں؟‘‘ قامران نے پوچھا ۔
ادھیڑ عمرشخص نے اقرار میں گردن ہلائی۔ بولنا اس کے بس کا نہ تھا۔
کامران گھوڑی سے کود پڑا ۔ اس نے پہلے شاما کا ہاتھ اپنے سر پر رکھا پھر اس کے ہاتھ کو چوما۔ شاما نے بھی جواباً ایسا ہی کیا۔
"میں آپ کے لیے ایک انتہائی اہم پیغام لایا ہوں۔" کامران نے ادھر ادھر دیکھ کر بہت آہستگی سے کہا۔ "شاکا کا پیغام۔“
شاما نے شاکا کا نام سنا تو اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اندر گھر میں لے گیا اسے ایک چٹائی پر بیٹھنے کا اشارہ کر کے اندر چلا گیا۔ تھوڑی دیر میں واپس آیا تو اس کے ساتھ ایک ادھیڑ عمر کی عورت اور ایک کم عمر لڑکی بھی تھی۔ لڑکی کی شکل شاکا سے ملتی جلتی تھی۔ کامران کو یہ اندازہ کرنے میں دیر نہ لگی کہ وہ لڑکی شاکا کی بہن اور ادھیڑ عمر عورت اس کی ماں ہے۔
"میرا بیٹا کیسا ہے؟ ادھیڑ عمر عورت بے قراری سے بولی۔
"بالکل ٹھیک ہے۔" کامران نے اطمینان دلایا ۔
"وہ کہاں ہے؟‘‘ ممتا اب بھی بے قرار تھی۔
"وہ جہاں بھی ہے بالکل محفوظ ہے۔ میں احتیاطاً اس کا پتہ نہیں بتاؤں گا کہ اسی میں بھلائی ہے۔" کامران نے بڑے ٹھہرے ہوئے انداز میں کہا۔
”ویسے وہ بستی سے بہت دور ہے"
"شاکا نے فرار ہو کر بہت برا کیا۔ سردار کاچاک اسے زندہ نہ چھوڑے گا۔“
شاکا کی ماں پریشان تھی ۔ "اس سے کہو گھر واپس آجائے سردار اس کی خطا معاف کر دے گا۔“
"آپ چاہتی ہیں کہ وہ بھی اپنی زبان کٹوا لے؟“ کامران نے پوچھا ۔
"ارے یہ کونسی نئی بات ہے۔ اس قبیلے کی ریت ہی یہی ہے۔ اتنے میں شاما نے مداخلت کی اور ہاتھ کے اشارے سے کامران کو سمجھانے کی کوشش جسے کامران نہ سمجھ سکا لیکن شاکا کی ماں نے سمجھ لیا۔ وہ جھنجلا کر بولی۔
"تم سٹھیا گئے ہو۔"
"یہ کیا کہنا چاہتے ہیں؟‘‘ کامران شاکا کی بہن سے مخاطب تھا۔
”بابا کہہ رہے ہیں کہ شاکر کو ہرگز واپس نہ بھیجنا۔ اس نے جو کچھ کیا ہے اچھا کیا ہے" شاکا کی بہن نے بتایا۔
شاما نے پھر اشارے سے کوئی بات کی کامران نے اندازے سے سمجھ لیا۔ اس نے پوچھا تھا کہ تم کون ہو اور کہاں سے آئے ہو؟
"میں ہیروں کا سودا گر ہوں اور پورب سے آیا ہوں۔ اسی بستی کے باہر میں نے نوجوان کی زبان کٹتے دیکھی آگے جا کر آپ کے بیٹے سے ملاقات ہوگئی۔ اس سے اس بستی کے کالے قوانین کا پتہ چلا۔ پھر ہم دونوں نے مل کر ایک منصوبہ بنایا اور فی الحال میں اس منصوبے پر عمل درآمد کرنے کے لیے آ گیا ہوں۔"
کامران نے بتایا۔
”اب آپ پر لازم ہے کہ آپ میرا ساتھ دیں اور میرے کہے پر عمل کرتے جائیں۔"
شاما نے اپنا سینہ ٹھوک کے اشارے سے اپنی حمایت کا اعلان کیا اور پوچھا کہ” بولو کیا کرنا ھو گا" کامران نے جواب دیا۔
”فی الحال تو میرے بارے میں ہی مشہور کر دیں کہ پورب سے ہیروں کا سودا گر آیا ہے اور آپ کے یہاں ٹھہرا ہوا ہے۔ یہ خبر جتنی جلد سردار کاچاک تک پہنچ جائے اتنا اچھا ہوگا
"ٹھیک ہے یہ کام میں ابھی کر دیتا ہوں“ شا نے چٹکی بجا کر اشارہ کیا
اور اپنی بیٹی اور بیوی سے کامران کا خیال رکھنے کا کہہ کر باہر نکل گیا۔
شاما کے جانے کے بعد ماں بیٹی نے اس کے لیے کچھ کھانے پینے کا بندوبست کیا اور آرام کرنے کے لیے اس کا بستر بچھا دیا۔ کامران نے اس دن گھر سے نکلنا مناسب نہ سمجھا وہ پورا دن گھر میں لیٹا آرام کرتا رہا۔ دوسرے دن صبح ہی سردار کاچاک کا ہرکاره آ دھمکا۔ اس نے شاما کو آواز دے کر باہر بلایا
"سنا ہے تمہارے گھر کوئی ہیروں کا سوداگر ٹھہرا ہوا ہے؟" شاما نے اثبات میں گردن ہلائی۔ اسے کہو سردار کاچاک اس سے ملنا چاہتا ہے۔ شاما نے اندر جا کر کامران کو ساری صورتحال سے آگاہ کیا۔ کامران فوراً ہی اٹھ کھڑا ہوگیا۔
ترکش اپنی پشت پر ڈالا اور کمان اٹھا کر کندھے پر رکھی۔ پھر کچھ سوچ کر ترکش اور کمان اتارا اور ہیروں کی مخملی تھیلی لے کر باہر آ گیا۔ کامران نے باہر آ کر دیکھا کہ جوشخص اسے لینے آیا ہے وہ چاکور ہے اور کتوں والی گاڑی بھی ساتھ ہے چاکور نے قامران کو دیکھ کر گاڑی سے چھلانگ لگائی اور اس کے نزدیک آکر پوچھا۔
”تم ہو هیروں کے سوداگر" کامران نے گردن اثبات میں ہلائی ۔ منہ سے کچھ نہ بولا۔ چاکور نے اس کا ہاتھ پکڑ کر پہلے اپنے سر پر رکھا پھر چوم کر چھوڑ دیا۔ کامران کو بھی جوابا یہ کرنا پڑا ورنہ چاکور کو دیکھ کر اس کا دل نفرت سے بھر گیا تھا۔ وہ فورا اس کا گلا دبا دینا چاہتا تھا۔
"آؤ میرے ساتھ سردار کاچاک تمہارا منتظر ہے۔"
چاکور نے اسے گاڑی میں بیٹھنے کا کہا اس چھوٹی سی گاڑی میں وہ دونوں بمشکل سمائے ۔ چاکور نے ہنٹر اٹھایا اور زور سے مارا کتے حرکت میں آ گئے۔ سردار کاچاک کی رہائش گاہ پر پہنچ کر کتا گاڑی رک گئی....یہ ایک لکڑی کا دو منزلہ مکان تھا خاصی اونچائی پر بنایا گیا تھا۔ اتنی اونچائی پر کہ سردار کاچاک به آسانی یہاں سے پوری بستی کو دیکھ سکتا تھا۔ یہ مکان بستی کے بیچوں بیچ تھا۔
چاکور اور کامران کو دیکھ کر دروازے پر کھڑا غلام فورا پیچھے ہٹ گیا۔ چاکور نے قامران کو اندر بٹھا دیا اور بولا۔ ”انتظار کرو‘‘
چند لمحوں بعد پچھلے دروازے سے ایک خونخوار کتا اندر داخل ہوا۔ کامران ذرا سنبھل کر بیٹھ گیا لیکن وہ گدھے جیسا کتا کامران کی طرف نہ آیا بلکہ کمرے میں موجود لکڑی کی چوکی کے نزدیک پاؤں پھیلا کر بیٹھ گیا اور ایک گز بڑی زبان اندر باہر کرنے لگا۔
"سردار کاچاک آنے والا ہے۔ اس کے احترام میں فورا کھڑے ہو جانا اور اس بات کا خیال رکھنا کہ اسے ہاتھ چومنے سے کوئی دلچسپی نہیں اور جب تک وہ خود نہ بیٹھ جائے بیٹھنے کی حماقت نہ کرنا، چاکور نے دھیرے دھیرے اسے سمجھایا۔
سردار کاچاک بڑے شاہانہ انداز سے چلتا ہوا کمرے میں داخل ہوا۔ ہدایت کے مطابق کامران فورا کھڑا ہوگیا اور اس وقت تک کھڑا رہا جب تک سردار نے خود اسے بیٹھنے کو نہ کہا۔
"مال دکھاؤ‘‘ سردار کاچاک نے کہا۔
کامران نے کمر کے گرد بندھی تھیلی کھولی اور سردار کاچاک کے نزدیک دو زانو ہو کر بیٹھ گیا۔ پھر بجائے ایک ایک ہیرا دکھانے کے پوری تھیلی اس کے سامنے الٹ دی۔
"نوجوان تم کب سے یہ کاروبار کر رہے ہو؟“ ہیروں کی چمک نے سردار کی آنکھیں خیرہ کر دیں۔
"مجھے یہ کاروبار کرتے ہوئے زیادہ دن نہیں ہوئے۔ ویسے یہ پیشہ پشتوں سے گھرانے میں چلا آ رها ہے۔"
"تب ہی اتنے نایاب ھیرے تم نے اکٹھا کر رکھے ہیں۔ نوجوان پہلے اپنا نام بتاؤ پھر ہیروں کی قیمت۔“ اس نے جگمگاتے بیروں کو بڑی حریص نگاہوں سے دیکھا۔
"سردار میرا نام کامران ہے۔ رہی ان پتھروں کی قیمت تو میں سوداگر ضرور ہوں مگر قدردان کے سامنے ان پتھروں کی قیمت بتانا اس کی توہین کرنے کے مترادف سمجھتا ہوں۔“
قامران نے پینتره استعمال کیا۔
"بہت خوب...........مال بھی اچھا رکھتے ہو اور زبان بھی خوب چلا لیتے ہو...نوجوان ہم تم سے مل کر خوش ہوئے ہیں۔" سردار کاچاک نے اپنی ران پر ہاتھ مارتے ہوۓ کہا۔"
"ہیرے ہم خرید لیں گے۔ تمہیں مزید صحراؤں کی خاک نہیں چھاننی پڑے گی اور آج سے میرے مہمان ہو۔ جب تک اس بستی میں ہو ہمارے ساتھ رہو۔“ قامران کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ سردار کاچاک ہیرے دیکھ کر اس قدر خوش هوگا کہ اسے اپنا مہمان ہی بنالے گا سردار کا مہمان بننے میں تو کوئی حرج نہ تھا لیکن یہاں وہ بندھ جاتا۔ وہ آزادی سے بستی میں گھومنا پھرنا چاہتا تھا تا کہ آنے والے وقت کے لیے رائے دے سکے۔ سردار کاچاک کا سحر توڑ سکے...یہاں رہ کر خفیہ سرگرمیاں جاری رکھنا مکن نہ تھا۔
"سردارار تیری عزت افزائی کا شکریہ ابھی میں شاما کے گھر ٹھہرا ہوں اور کچھ دن وہاں رہنا چاہتا ہوں۔“
"کیوں اس کی لڑکی پسند آ گئی ہے کیا؟" سردار کاچاک نے بے تکلفی سے کہا ۔
"نہیں ایسا تو نہیں۔" کامران نے مسکراتے ہوئے کہا۔
"ویسے بھی سردار تیری بستی میں لڑکی کو پسند کرنا اتنا آسان بھی تو نہیں"
"کیا تم اس بستی کے رسم و رواج سے واقف ہو گئے ہو؟”
"ہاں....اس لیے کہہ رہا ہوں۔“
ہم تمہارے ساتھ ایک رعایت برتنے کے لیے تیار ہیں۔"
”وہ کیا؟"
تمہیں اگر شاماں کی بیٹی واقعی پسند آ گئی ہے تو ہم تمہاری شادی اس سے کروا دیں گے تمہاری چرب زبانی بھی باقی رہے گی لیکن اس لڑکی کو شادی سے پہلے ہمارے ساتھ رہنا ہوگا اس میں تبدیلی ممکن نہیں۔" سردار کاچاک نے اسے بتایا۔
"سردار تیری نوازشوں کا شکریہ۔“ کامران نے ہیرے سمیٹتے ہوئے کہا۔ "میں سوداگر ہوں لیکن دلوں کے سودے کرنا میرا کام نہیں۔ میں شاما کی لڑکی کو بہن کی طرح سمجھتا ہوں۔"
"برخوردار ابھی تم کچے سوداگر ہو۔“ سردار کاچاک نے مسکراتے ہوئے کہا۔
سارے پتھر ہمارے حوالے کر دو...آج رات کا کھانا ہمارے ساتھ کھاؤ۔ اس وقت ہم ان ہیروں کی قیمت ادا کر دیں گے۔" ٹھیک ہے۔؟“
"بالکل ٹھیک" کامران نے مخملی تھیلی سردار کے حوالے کرتے ہوئے کہا۔
”اب جانے کی اجازت ہے؟"
"چاکور...نوجوان سوداگر کو شاما کے گھر چھوڑ آؤ" سردار کھڑا ہوتا ہوا بولا۔
"نہیں سردار شکریہ میں گاڑی کے بجائے پیدل جاؤں گا۔ تیری بستی کی سیر کرنا چاہتا"
"شوق سے...چاکور کامران کو دروازے تک چھوڑ دو۔"
"جو حکم سردار" چاکور نے کامران کو دروازے کی طرف چلنے کا اشارہ کیا۔ قامران دروازے پر آیا تو اس نے دیکھا کہ مکان کے سامنے بستی کے بہت سے لوگ جمع ہیں قامران نے چاکور سے پوچھا۔ "یہ لوگ کیوں جمع ہیں؟“
"سردار کاچاک کی صورت دیکھنے....درشن کا وقت ہو چکا ہے۔"
سردار کا چاک کے درشن کے لیے شاید پوری بستی امڈ آئی تھی۔ اس بھیٹر میں عورتیں اور پچے بھی شامل تھے کامران بھی اس بھیڑ میں تماشہ دیکھنے شامل ہوگیا۔ چند لمحوں بعد سردار کا چاک پوری شان سے دروازے سے برآمد ہوا۔ سردار کو دیکھتے ہی لوگوں نے نعرے بازی شروع کر دی۔ تب سردار کاچاک نے دونوں ہاتھ اٹھا کر اپنی بستی کے لوگوں کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔ فورا ہی فضا میں خاموشی چھا گئی۔ پھر سردار نے اپنے گرد لپٹی ہوئی چادر کو اتارا اور عوام کی طرف اچھال دیا۔ ریشمی چادر فضا میں لہراتی ہوئی مجمع پر آ گری۔ لوگ چادر پر بھوکے بھیڑیے کی طرح ٹوٹ پڑے۔ کسی کو کسی کا ہوش نہ رہا۔ عورتیں پستی ہیں یا بچے کچلتے ہیں کسی کو فکر نہ تھی۔ فکر تھی تو صرف یہ کہ کسی طرح یہ چادر ہاتھ آ جائے۔
تمام اردو کہانیاں پڑھنے کے لیے کلک کریں
سفید محل - پارٹ 6
Urdu stories online, Urdu stories for kids, Short Urdu stories, Urdu Kahaniyan, Famous Urdu stories, Urdu stories with moral, Best Urdu stories collection, Urdu stories for students, Urdu love stories, Urdu horror stories, Urdu stories for reading, Urdu stories in Urdu text, Funny Urdu stories, Urdu stories for beginners, Urdu detective stories, Urdu motivational stories, Urdu stories for adults, Urdu moral stories, Urdu stories for children, Urdu true stories, Urdu suspense stories, Urdu emotional stories, Urdu adventure stories,
hindi moral stories in urdu,سبق آموز کہانیاں, jin-ki-dushmni,good moral stories in urdu,Moral Stories,Urdu Stories,urdu kahani,اردو کہانی,قسط وار کہانیاں,