سفید محل - اردو کہانی قسط نمبر 11

 

سفید محل - اردو کہانی قسط نمبر 11

اسے آتا دیکھ کر وہ بے تابی سے بولی۔ "کیا ہوا؟“
"اندر چلو بتاتا ہوں۔“
گالٹا نے جلدی سے خفیہ دروازو بند کیا اور وہ دونوں کمرے میں آگئے۔
"گالٹا خوش ہو جاؤ کہ میں نے باہر نکلنے کا راستہ تلاش کرلیا ہے۔"
",سچ۔۔!" وہ پھول کی طرح کھل گئی
"دن کے اجالے کی طرح سچ‘‘
"ہائے۔۔۔! مجھے پھر اپنے ساتھ لے چلو“
"ابھی نہیں۔" کامران دو ٹوک بولا۔
"کیوں؟‘‘ گالٹا اداس ہوگئی۔
"میں تمہیں یہاں سے لے جا کر پجاریوں کو چوکنا نہیں کرنا چاہتا تم نے یہاں اتنے سال گزارے ہیں چند روز اور انتظار کر لو نہ صرف تمہیں آزادی مل جائے گی بلکہ یہاں قید ہر داسی آزاد ہو جائے گی............ کیوں کیا خیال ہے؟‘‘ کامران نے پوچھا۔
"جیسے تمہاری مرضی، میں تمہاری خواہش کے مطابق چند روز اور انتظار کر لوں گی میں نے تم پر اندھا اعتماد کیا ہے۔ میں تمہیں فرشتہ سمجھتی ہوں جو ہم مظلوموں کی مدد کے لیے آیا ہے"
"اس میں کوئی نہیں کہ میں اس دیوتا کے گھر کو اس شیطانی ٹولے سے پاک کرنے آیا ہوں پر میرا ناتا آسمان سے نہیں زمین سے ہے۔ اس غلط فہمی کو دور کرلو"
"جی تو نہیں چاہتا۔ پر بہرحال تمہیں میں ایک عام آدی تسلیم کر لیتی ہوں۔ اچھا یہ بتاؤ واپس کب پلٹو گے“
"بہت جلد۔۔۔تم ذرا اپنی ہستی کا نام بتاؤ؟"
"میری بستی کا نام سارزا ہے"
"سارزا...........یہ بستی کس طرف ہے؟“
"تم دیوتا کے گھر کی سیڑھیاں اتر کر جیسے ہی نیچے پہنچو تو بائیں جانب چل پڑنا تم جلد ہی سارزا پہنچ جاؤ گے“
"اور یہ شکران کدھر ہے؟"
"سیڑھیوں کے دائیں جانب جاؤ گے تو شکران میں داخل ہو جاؤ گے“
"اچھا اب میں یہاں سے نکل جانا چاہتا ہوں۔ تم ذرا دروازہ کھولو۔“
"اچھا۔۔۔۔۔آؤ۔“ گالٹا ٹھنڈی سانس لے کر اٹھی
گالٹا نے خفیہ دروازہ کھولا اور ایک جانب اداس سی کھڑی ہوگئی۔
"اداس ہونے کی ضرورت نہیں سمجھ لو کہ تمہارے برے دن ختم ہوئے۔ میں بہت جلد تمہیں لینے آؤں گا۔“
"میں تمہارا شدت سے انتظار کروں گی کامران"
کامران گالٹا سے رخصت ہوکر تیز تیز اس چکردار راستے کی طرف بڑھا۔ اب یہ راستہ کامران کے لیے آئینہ کی طرح شفاف تھا۔ وہ اپنے لگائے ہوئے نشانوں کے سہارے بے دھڑک راستہ عبور کرتا جا رہا تھا۔ آخر وہ پھر سے دروں والے برآمدے میں جا پہنچا ۔ دیوتا کا گھر پہلے کی طرح سنسان پڑا تھا۔
برآمدے کی سیڑھیاں اتر کر اس نے تالاب والے صحن کو عبور کیا اور بڑے دروازے کی کھڑکی سے نکل کر دیوتا کے گھر کی سیڑھیاں اترنے لگا۔ سیڑھیاں اتر کر جب وہ پہاڑی کے دامن میں پہنچا تو خلاف توقع ابلا اسے ایک درخت کے نیچے کھڑی نظر آئی۔ اگرچہ کامران نے ابلا کو نہیں باندھا تھا لیکن وہ درخت کے نیچے اس طرح کھڑی تھی جیسے اسے کسی نے باندھ دیا ہو. نزدیک پہنچا تو ابلا اسے دیکھ کر ہنہنائی جیسے اس نے اتنی دیر سے آنے کی شکایت کی ہو۔ کامران نے پیار سے اس کی گردن تھپتھپائی اور اس پر سوار ہو کر سارزا کی طرف چل دیا۔
وہ ابھی زیادہ دور نہیں گیا تھا کہ اسے سامنے سے دو خچر سوار آتے ہوئے نظر آئے دونوں سوار یکساں لباس پہنے ہوئے تھے لیکن ان میں ایک مرد تھا اور ایک عورت۔ یہ بات قامران کو اس وقت معلوم ہوئی جب وہ دونوں سوار خاصے نزدیک آگئے۔ کامران نے اشارے سے انہیں روکا۔ دونوں سواروں نے اپنے خچر روک لیے اور حیرت سے کامران کو دیکھنے لگے۔ وہ دونوں کم عمر تھے اور اپنی شکل صورت سے بھائی بہن دکھائی دیتے تھے۔
"میں سارزا جانا چاہتا ہوں۔" کامران نے دونوں کو بغور دیکھتے ہوئے کہا۔
"وہ سامنے سارزا ہے۔" لڑکے نے ہاتھ کے اشارے سے دور آبادی کی طرف اشاره کیا
"تم وہاں کس سے ملنے جارہے ہو ؟“ اس مرتبہ لڑکی بولی۔
کامران نے اس پرکشش لڑکی کوغور سے دیکھا۔ اس کے سر پر ایک سفید رومال بندھا ہوا تھا ایسا ہی رومال لڑکے کے سر پر بھی تھا۔ اس لڑکی کو دیکھ کر کامران کو جانے کیوں گالٹا یاد آ گئی۔ لڑکی کے نقش گالٹا سے بڑے ملتے جلتے تھے۔
"میں مالٹا کے باپ سے ملنا چاہتا ہوں۔‘‘ کامران نے ایک اور ہوائی تیر چھوڑا اور اسے دیکھنے لگا۔
گالٹا کا نام سن کر وہ دونوں چونک اٹھے۔ انہوں نے ایک دوسرے کو تحیر آمیز نظروں سے دیکھا
"تم گالٹا کو کیسے جانتے ہو؟“ لڑکی نے پوچھا۔
"یه سوال مجھ سے صرف گالٹا کا باپ کر سکتا ہے۔"
"میں گالٹا کا بھائی ہوں اور یہ میری چھوٹی بہن۔" اس مرتبہ لڑکے نے مداخلت کی۔
"میرا شک ٹھیک ہی نکلا.......مجھے تم دونوں گالٹا کے بہن بھائی ہی لگے تھے۔" کامران نے مسکراتے ہوئے کہا۔ "تم دونوں کہاں جارہے ہو؟"
"ہم دونوں لکڑیاں کاٹنے جارہے تھے لیکن اب نہیں جائیں گے۔ آؤ ہمارے ساتھ چلو" یہ کہہ کر دونوں نے اپنے خچر آبادی کی طرف موڑ لیے جبکہ کامران کا رخ پہلے ہی سے آبادی کی طرف تھا۔ ان دونوں نے کامران کو درمیان میں لے لیا۔ لڑکی بائیں جانب تو لڑکا دائیں جانب۔ وہ سست روی سے آبادی کی طرف چل دیئے۔
"اے مسافر تم اپنے لباس اور چہرے مہرے سے کسی دور دراز علاقے کے معلوم ہوتے اس سے پہلے ہم نے تمہیں کبھی دیکھا بھی نہیں تم ہمیں یہ بتانا پسند کرو گے کہ ہماری بہن سے کس طرح واقف ہو اور ہمارے باپ سے کیوں ملنا چاہتے ہو؟“ لڑکی نے بڑی شائستگی سے سوال کیا
"تم سب کے لیے میرے پاس ایک اہم اطلاع ہے....اور ہاں میرا نام کامران ہے۔ تم بتاؤ میں تمہیں کیا کہوں؟" قامران نے لڑکے کی طرف دیکھا۔
"میرا نام سنگرام ہے۔" لڑکے نے بتایا۔
"اور میرا نام رگولی۔‘‘ لڑکی نے اپنا نام بتایا۔
”ذرا بتاؤ تو وہ اہم اطلاع کیا ہے؟"
"میں ابھی ابھی تمہاری بہن سے مل کر آرہا ہوں؟“ قامران نے انکشاف کیا۔
"گالٹا سے" رگولی نے تصدیق چاہی۔
"ہاں گالٹا سے...وہ بہت مشکل میں ہے"
"شاید تم نہیں جانتے کہ وہ دیوتا کی داسی بن چکی ہے اور جو دیوتا کی داسیاں بن جاتی ہیں زمین پر نہیں رہتیں دیوتا کے آسمانوں میں رہتی ہیں۔اور تم کہتے ہو کہ تم اس سے مل کر آرہے ہو ۔ یہ کیسا مذاق ہے؟"
"یه مذاق نہیں بھیانک حقیقت ہے۔ بستی میں چلو پھر بتاؤں گا کہ تمہاری بہن اور ساری داسیوں پر دیوتا کے گھر میں کیا بیت ری ہے۔"
تھوڑی سی دیر میں وہ بستی میں داخل ہو گئے۔ بستی کے لوگوں نے رگولی اور سنگرام کے ساتھ ایک بدیسی کو حیرت سے دیکھا
رگولی اور سنگرام نے اپنے گھر کے احاطے میں داخل ہو کر اپنے باپ کو زور زور سے آوازیں دیں۔ اتنی زور سے کہ وہ ان آوازوں سے پریشان ہو کر بھاگا چلا آیا۔
"کیا ہوا۔۔۔؟ تم لوگ چیخ کیوں رہے ہو۔۔۔؟" اس نے اپنے بچوں کے ساتھ کسی اجنبی کو دیکھا تو بولا۔ ” ارے ! یہ کون ہے۔۔۔؟"
"بابا۔۔۔۔ان کا نام کامران ہے۔ یہ تم سے ملنے آئے ہیں۔ کہتے ہیں کہ ان کے پاس تمہارے لیے ایک اہم اطلاع ہے ان کے پاس گالٹا کے متعلق ایک بڑی عجیب وغریب اطلاع ہے۔۔۔۔یہ گالٹا سے مل کر آرہے ہیں۔" رگولی نے جلدی جلدی اس کا تعارف کروایا۔
"سورج مغرب کے بجائے مشرق سے نکل سکتا ہے لیکن یہ نہیں ہوسکتا کہ کوئی انسان دیوتا کی داسی کی جھلک دیکھ لے تمہیں ضرور کوئی غلط فہمی ہوئی ہے نوجوان‘‘
"نوجوان کو اتفاق سے کوئی غلط فہمی نہیں ہوئی البتہ آپ لوگ سچ سننے پر آماده نظر نہیں آتے۔ کامران نے سنجیدگی سے کہا۔ ”آپ نہیں جانتے کہ آپ کی بیٹی اس وقت بڑے پجاری کے قبضے میں ہے۔ وہ دیوتا کے بجائے اس خبیث کی داسی بنی ہوئی ہے اور دیوتا کے گھر میں موجود ہے۔"
" رگولی...نوجوان کو گھر میں لے چلو...اندر چل کر اس کی بات سنتے ہیں۔ یہ تو دل دہلانے والی باتیں کررہا ہے۔"
گھر پہنچ کر جب کامران نے پوری تفصیل سے گالٹا سے ملاقات کا ذکر کیا اور دیوتا کے گھر کے خفیہ راستوں پجاریوں کے کرتوت دیوتا کی مورتی کے دو حصوں میں تقسیم ہونے کی بات کی تو گھر کے تمام لوگ انگشت بدنداں رہ گئے۔
گالٹا کے بھائی اچانک طیش میں آ گئے جبکہ رگولی اور دیگر بہنیں رونے لگی۔ ماں باپ نے بڑے ضبط سے کام لیا۔
گالٹا کا باپ بڑی بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا تھا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کامران کی باتوں پر یقین کرے یا نہ کرے۔
دیوتا کے گھر کے بارے میں بہت بڑا انکشاف تھا۔ اس اطلاع پر یقین کرتے۔ جسم لرزنے لگتا تھا۔
کامران سوچنے لگا کہ اس نے غلطی کی۔ چلتے وقت گالٹا سے اس کی کوئی نشانی مانگ لیتا بہتر ہوتا۔ ان لوگوں کو فورا ہی اس کی بات پر یقین آ جاتا۔
پھر اچانک ہی اس کو سنگینا کا خیال آیا۔ وہ بولا۔ "یہاں سے سنگینا کا گھر کتنی دور ہے؟"
"اوہ......تم سنگینا کو بھی جانتے ہو اب تمہاری بات پر یقین کرنے کو جی چاہتا ہے۔سنگینا کا نام صرف وہی شخص جان سکتا ہے جو گالٹا سے ملا ہو۔" ان کے باپ کو بات کا یقین آ گیا۔ کامران نے اطمینان کا سانس لیا۔
"سنگینا کو چپ لگ گئی ہے۔ جب سے گالٹا دیوتا کی داسی بنی وہ بالکل خاموش خاموش سا رہتا ہے۔ اس کی حالت عجیب ہو گئی ہے۔" رگولی نے بتایا
"اور ہاں بابا.......آج اس کی بہن کو بھی داسی بنایا جانے والا ہے۔" سنگرام نے اپنے باپ سے تصدیق چاہی۔
"ہاں بیٹے، یہ تو مجھے یاد ہی نہیں رہا۔"
”اوہ۔۔۔۔یہ تو بہت بری خبر ہے۔ ان کالے پجاریوں نے اس کی منگیتر کو تو اس سے چھین لیا اب اس کی بہن پر بھی قبضہ کر لینا چاہتے ہیں میں ایسا نہیں ہونے دوں گا۔‘‘ کامران نے حتمی انداز میں کہا۔ "مجھے ذرا سنگینا کے پاس لے چلو“
"تم اکیلے وہاں نہیں جاؤ گے ہم سب چلیں گے" گالٹا کا باپ کھڑا ہوتا ہوا بولا۔
گالٹا کا گھرانہ جب ایک مسافر کے ساتھ سنگینا کے گھر پہنچا تو وہاں خوشیاں منائی جا رہی البتہ سنگینا اداس سا گھر کے باہر دروازے پر بیٹھا تھا۔
"یہ سنگینا ہے۔“ رگولی نے ہاتھ کے اشارے سے بتایا۔
کامران نے اس کے نزدیک جا کر شانے پر ہاتھ رکھا تو وہ بری طرح چونک پڑا۔ وہ جانے کہاں کھویا ہوا تھا۔
اس نے واقعی اپنی عجیب حالت بنا رکھی تھی۔ میلے کچیلے کپڑے الجھے ہوئے بال خلاف معمول چہرہ نڈھال نڈھال سا جسم۔
کامران نے چند لمحے اسے ہمدردی سے دیکھا۔ وہ اس سے بات کرنے کے لیے مناسب لفظ تلاش کر رہا تھا۔
"میں تمہاری گالٹا کا پیغام لایا ہوں۔‘‘ کامران نے جھک کر اس کے کان میں کہا۔
محبوب کا ذکر عاشق کے زخمی دل میں آگ لگا گیا۔ وہ تڑپ کر اٹھا اور کامران سے لپٹ گیا۔ چہرے پر خوشی رقصاں تھی اور جسم شاخ گل کی طرح لرز رہا تھا۔
"میری گالٹا ٹھیک تو ہے؟" سگینا بڑی مشکل سے بولا۔
کئی سالوں بعد لوگوں نے اسے بولتے سنا تو سب اس کے گرد اکٹھا ہو گئے۔ کامران نے بھیڑ جمع ہوتے دیکھ کر سنگینا کا ہاتھ پکڑا اور اسے ایک تنہا گوشے میں لے آیا۔
"تم نہیں جانتے کہ گالٹا کو تم سے کس قدر محبت ہے۔ اگر تم ذرا سا بھی اشارہ کر دیتے تو وہ دیوتا کی داسی ہرگز نہ بنتی" کامران نے اسے بتایا ۔
"کاش۔۔۔! مجھے معلوم ہوتا کہ وہ میرے اشارے کی منتظر ہے۔ پھر اسے دنیا کا کوئی آدمی داسی نہ بنا سکتا۔ میں دیوتا سے بھی ٹکرا جاتا" سنگینا نے اپنی مٹھیاں بھینچتے ہوۓ کہا۔
"تم دونوں نرے بدھو ہی نکلے۔ ایک دوسرے کے اشارے کے منتظر رہے۔ اور صورتحال سنگین ہو گئی۔ کاش۔۔۔۔! ایسا نہ ہوا ہوتا کاش۔۔۔! تم دونوں ایک دوسرے کے خیالات کا کچھ اندازہ لگا لیتے"
"دنیا والے کہتے ہیں کہ دیوتا اپنی داسیوں کو آسمان پر اٹھا لیتا ہے۔ پھر تم گالٹا سے کس طرح ملے ہو۔۔۔۔؟‘‘ سنگینا نے پوچھا۔
"یہ ذکر اگرچہ تمہارے لیے تکلیف دہ ہوگا لیکن ذرا ہمت سے کام لینا، میں تمہیں سارا قصہ تفصیل سے بتاۓ دیتا ہوں کہ بتائے بنا چارہ بھی نہیں۔" کامران نے اسے ذہنی طور پر صدمه برداشت کرنے کے لیے تیار کیا۔
پھر کامران نے دیوتا کے گھر میں جو کچھ دیکھا اور سنا تھا۔ اس کا حرف بہ حرف سگینا کے گوش گزار کر دیا
اچانک سنگینا کے چہرے کا تاثر بدل گیا۔ چہرے پر زردی کی جگہ سرخی نے لے لی۔ آنکھوں سے چنگاریاں نکلنے لگیں۔ وہ طیش میں آ کر بولا ”میں ان پجاریوں کا خون پی جاؤں گا۔ “
"یہ پجاری واقعی اس قابل ہیں کہ ان کا خون پی لیا جائے۔ ان کے کلیجے چھلنی کر دیئے جائیں۔ انہیں سسکا سسکا کر مارا جائے۔" کامران نے سنگینا کا ساتھ دیتے ہوئے کہا۔ ” فکر نہ کرو وہ دن زیادہ دور نہیں۔“
"آج یہ شیطانی ٹولہ میری بہن کو داسی بنانے کی فکر میں ہے" سنگین فکر مند انداز میں بولا۔ "ان سے کس طرح نمٹا جائے۔۔۔؟ کیا داسی بننے سے انکار کر دیا جائے۔۔۔۔؟"
"نہیں انکار کرنا ٹھیک نہیں۔ اس سے تمہاری بہن کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔"
"پھر کیا کرنا چاہیئے؟"
"کوئی بہانہ...........ایسا کہ بات سات آٹھ دنوں کے لیے ٹل جائے‘‘ کامران نے کہا۔
"ایسا بہانہ کیا ہوسکتا ہے۔۔۔؟" سنگینا سوچ میں پڑ گیا۔
ابھی دو دونوں اس مسئلے پر غور ہی کر رہے تھے کہ گالٹا کے باپ نے آواز دے کر انہیں بلایا "ارے وہاں اکیلے کھڑے تم دونوں کیا کر رہے ہو........... ادهر آؤ"
"آؤ سنگینا اس مسئلے کو سب کے سامنے رکھتے ہیں۔ یقینا کوئی نہ کوئی حل نکل آۓ گا۔“ قامران نے سنگینا کا ہاتھ پکڑ لیا۔
"ٹھیک ہے چلو"
سنگینا کے گھر والوں کے سامنے ایک بار پھر کامران کو گالٹا سے ملاقات کا قصہ دہرانا پڑا۔ پھر یہاں سے وہاں تک خاموشی چھا گئی۔ فضا سوگوار ہوگئی۔
"اب مسئلہ یہ ہے کہ اس لڑکی کو بچانا ہے اس طرح کہ کھیل نہ بگڑے۔" قامران نے فوراً کہا
اس موضوع کے چھڑتے ہی آراء آنی شروع ہو گئیں۔ ہرشخص نے اپنی بساط کے مطابق مشورے سے نوازا۔
آخر سب لوگ ایک بات پر متفق ہو گئے۔ طے ہوا کہ پروگرام کے مطابق شام کو سب دیوتا کے گھر جائیں گے لیکن سنگینا کی بہن جس کا نام گونا تھا، ساتھ نہیں جائے گی۔
یران دیوتا کے گھر کو جب کامران نے شام کے وقت دیکھا تو حیرت زدہ رہ گیا۔صبح کے وتق یہاں ایک بھی آدمی نظر نہیں آرہا تھا۔ اور اس وقت اتنا رش تھا کہ تل دھرنے کے لیے جگہ بنائی جا رہی تھی۔
ہر طرف رنگ برنگے لوگ پھیلے ہوئے تھے۔ پورا صحن اور دروں والے برآمدے میں ہر طرف مرد اور عورتوں کا راج تھا۔
سورج ڈھلتے ہی دیوتا کے گھر سے تمام لوگوں کو نکال دیا گیا اور لنگوٹی والے پجاریوں نے
اعلان کیا کہ داسی بنے والی لڑکی کو دروازے پر لایا جائے۔ جب گونا کی ماں آگے آئی اور ان پجاریوں کی خدمت میں دست بستہ عرض کی۔ "دیوتا کے مقدس چیلو، میں اپنی بیٹی گونا کو دیوتا کی داسی بننے کے لیئے نہیں لاسکی۔"
"کیوں؟“ ایک خبیث صورت پجاری دھاڑا۔
اس کی دهاڑ سن کرسنگینا کی ماں سہم گئی اور دھیرے سے بولی۔ ”میری بیٹی بیمار ہے۔"
"بیمار ہے۔۔۔؟" اس خبیث عورت نے رک کر پوچھا۔ ”کیا ہوا اسے۔۔۔؟"
گونا کی ماں اور آگے بڑھی اور اس نے ڈرتے ڈرتے پجاری کے کان میں بیماری کی وضاحت کی۔ اس کی وضاحت سن کر اس بے ڈول پجاری نے نفرت سے ناک سکوڑی اور بولا "اچھا کیا جو اس گندی لڑکی کو گھر ہی چھوڑ آئیں ورنہ اس بیمار کو دیکھ کر دیوتا ناراض ہو جاتا اور قہر تمهاری بستی پر ٹوٹ پڑتا۔ اب اس لڑکی کے صحت یاب ہونے کا انتظار کرو۔ آٹھویں دن اسے یہاں لے آنا“
"ٹھیک ہے۔“
کامران خوشی سے جھوم اٹھا کیونکہ وہ خود بھی اتنی ہی مہلت چاہتا تھا لیکن ابھی اس کی اس کے ہونٹوں کی تھی کہ اس نے ایک غضب ناک آواز سنی۔
گونا کے ہاتھ سے نکل جانے کا پجاریوں کو بہت دکھ ہوا لیکن لڑکی پیش نہ کرنے کا جواز ٹھوس تھا۔ پجاری بیمار لڑکی کو واقعی بڑے پجاری کی خدمت میں پیش نہیں کیا جاسکتا تھا۔
تب ہی ان پجاریوں نے آپس میں کوئی کھسر پھسر کی اور اس کھسرپھسر کے دوران ان کی نظریں رگولی پر جمی ہوئی تھیں۔
تبھی وہ غضبناک آواز سنائی دی جو نہ صرف قامران کے ہونٹوں کی مسکراہٹ لے گئی بلکہ سب پر لرزہ طاری ہو گیا۔
وہ خبیث پجاری رگولی کی طرف اشارہ کر کے بولا۔ ” ابھی ابھی آکاش وانی ہوئی۔ اس لڑکی کو دووتا کی خدمت میں پیش کر دو۔ اے خوش قسمت لڑکی خوش ہو جا کہ تمہیں دیوتا نے قبول کیا ہے۔ اس کی داسی بنوگی ۔ آؤ آگے بڑھو"
رگولی یہ سن کر بجاۓ آگے بڑھنے کے کانپ کر رہ گئی۔ اس کے چہرے پر زردی پھیل گئی۔
گالٹا کا باپ اس کی ماں اس کا بھائی سنگینا کے گھر والے اس نئے حکم سے پریشان ہوگئے۔ یہ حکم خلاف توقع تھا۔ وہ اس پر بات بھی نہ کر سکے تھے۔ اس موضوع کے بارے کسی نے سوچا نہ تھا۔ پھر رگولی کی ماں آگے بڑھی اور اپنے چہرے پر مصنوی خوشی طاری کرلی "مجھے یہ جان کر بہت خوشی ہوئی کہ دیوتا میری رگولی کو داسی بنانا چاہتا ہے۔ دیوتا میرے گھر والوں پر مہربان ہے۔ اس سے پہلے میں اپنی بیٹی گالٹا کو دیوتا کی شرن میں دے چکی ہوں۔ دیوتا کی اس مہربانی نے میرا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔ میں اپنی دوسری بیٹی کو دیوتا کی خدمت میں ضرور پیش کرنا چاہتی لیکن ایک مسئلہ ہے"
"کیا مسئلہ ہے۔۔۔؟“ اس پجاری نے قہر آلود نظروں سے دیکھا۔
قامران حیران تھا کہ گونا کی ماں کیا عذر پیش کرنے والی ہے۔ ظاہر ہے کہ اسے آناًفاناً تو رد نہیں کیا جا سکتا تھا۔
"میں رگولی کو اس اجاڑ حالت میں پیش کرکے دیوتا کی ناراضگی مول نہیں لے سکتی۔ بہتر ہوگا اس لڑکی کو نہلانے دھلانے اور سجا کر پیش کرنے کا موقع دیا جائے۔“
کامران نے اطمینان کا سانس لیا۔ یہ ایک معقول عذر تھا۔
بساط الٹتے رکھ کر وه پجاری چند لمحے کے لیے آپس میں کھسر پھسر کرتے رہے۔
پھر وہ قبیح صورت پجاری گونا کی ماں سے مخاب ہوا۔ "ٹھیک ہے میں دیوتا سے اس کی اجازت لے لیتا ہوں۔“ یہ کہہ کر اس نے آنکھیں بند کر لیں اور ہونٹو ہی ہونٹوں میں کچھ بڑبڑانے لگا۔ تھوڑی دیر بعد اس نے آنکھیں کھولیں، رگولی پر حریصانہ نظر ڈالی اور مسکراتے ہوئے بولا "اے لڑکی خوش ہو جا تمہیں دیوتا اسی حالت میں قبول کرنے کے لیے راضی ہو گیا ہے۔"
یہ بات اگر آج سے پہلے کہی گئی ہوتی تو سب لوگ واقعی خوش ہو جاتے اور ان کی گردنیں جھک جاتی لیکن کامران کے انکشاف کے بعد خوشی کسی صورت میں نہیں منائی جا سکتی تھی۔ سب کےچہرے لٹک گئے۔ سنگینا اور گالٹا کے بائی سنگرام کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا۔ ان کی مٹھیاں بھینچ گئیں اور قامران کو یہ لگا کہ چند ہی لمحوں میں وہ جست لگا کر اس خبیٹ پجاری کی گردن دبوچنے کو ہیں۔ کامران تیزی سے ان کے نزدیک پہنچا اور دونوں کے ہاتھ پکڑ کر صبر کرنے کی تلقین کی۔ پھر وہ گالٹا کی ماں کی طرف بڑھا اور اس کے کان کی طرف جھک کر آہستہ سے بولا۔ ”رگولی کو جانے دو۔"
گالٹا کی ماں نے تعجب سے کامران کی طرف دیکھا اسے اپنی سماعت پر یقین نہ آیا۔ اس نے آہستہ سے گردن ہلائی آنکھ کے اشارے سے رگولی کو جانے کا اشارہ کیا۔ اب کسی شک وشبہ کی گنجائش نہ تھی۔
گالٹا کی ماں نے رگولی کا ہاتھ پکڑا اور دروازے کی طرف بڑھی۔ رگولی کو اپنے چنگل میں پھنستا دیکھ کر پجاریوں کی باچھیں کھل گئیں۔ انہوں نے رگولی کو دروازے تک پہنچنے کا راستہ دے دیا۔
دروازے کے نزدیک پہنچ کر اسکی ماں نے اس کی پیٹھ پر ہاتھ رکھا اور دھیرے سے بولی۔ ”دیوتا تمہیں ان خبیث پجاریوں سے بچائے"
رگولی کے اندر جاتے ہی پجاریوں نے باہر سے دروازہ بند کرلیا اور دروازے پر بیٹھ کر گیان دھیان میں مصروف ہو گئے۔
کامران پجاریوں کے اس ناٹک کو بڑی دلچسپی سے دیکھ رہا تھا۔
اسے معلوم تھا کہ رگولی جب کمرے میں ہوگی تو اس نے تازہ پھولوں کی مہک محسوس کی ہوگی۔ اس نے حیرت سے دیوار میں نصب دیوتا کی مورتی کو دیکھا ہوگا کیونکہ اس مورتی کی وقعت اس کی نظروں ميں پتھر سے زیادہ نہ تھی۔ پھر آہسته آہسته وہ خوشگوار دھواں پھیلتا دیکھا ہوگا، اور اس نے کوشش کی ہوگی کہ کم سے کم سانس لے تاکہ یہاں ہونے والے ناٹک کو به چشم خود دیکھ سکے۔
پتہ نہیں وہ دیوتا کی مورتی کو دو حصوں میں تقسیم ہوتے اور وہاں سے خبيث صورت پجاریوں کو نکلتے دیکھ پائی ہوگی کہ نہیں۔
ایسا صرف اس صورت میں ہوسکتا تھا کہ نشہ آور دھواں اپنا اثر نہ چھوڑے اور ایسا ممکن نہ تھا۔ کچھ دیر کے بعد ایک پجاری گیان دھیان سے اٹھا اور اس نے تھوڑا سا دروازو کھول کر اندر دیکھا۔ اس کے چہرے پر خوشی دیکھ کر کامران نے اندازہ لگا لیا کہ رگولی کو دیوتا کی مورتی نگل چکی تو اس پیاری نے فوراً ہی پورا دروازہ کھول دیا۔ باہر کھڑے لوگوں نے کمرے میں سے کیف آور خوشبو نکلتے محسوس کی۔ پھر سارے پجاریوں نے باری باری کمرے میں جھانکا اور خوشی سے نعرہ لگایا۔ اس کے بعد ایک پجاری نے گالٹا کی ماں کا ہاتھ تھاما اور اسے کمرے کے اندر لے گیا۔
کچھ دیر بعد جب وہ باہر واپس آئی تو دیوتا کے درشن کے لیے سب کو اندر بلا لیا گیا۔ مبارک سلامت کے شور میں سب اندر داخل ہوئے اور انہوں نے خالی کمرے کو دیکھ کر بڑی مشکل سے ضبط کیا۔ گالٹا کی ماں جو پہلے ہی اپنی ایک بیٹی گنوا چکی تھی دوسری بیٹی کو خود اپنے ہاتھوں دفن ہوتے دیکھ کر برداشت نہ کر سکی اور چکرا کر فرش پر گر پڑی۔ کامران نے بڑھ کر گالٹا کی ماں کو سہارا دے کر اٹھایا۔ وہ بے ہوش نہ ہوئی البته صدمے نے اسے چکرا دیا تھا۔
"کیا ہوا اسے۔۔۔؟‘‘ ایک پجاری نے پوچھا۔
"خوشی برداشت نہیں ہوگی شاید کامران نے بڑے معصومانہ انداز میں کہا۔"
"تم کون ہو نوجوان....؟“ اس خبیث صورت پجاری نے تامران کو گہری نظروں سے ہوئے پوچھا۔ ”اس علاقے کے نہیں دکھائی دیتے۔۔۔"
"دیوتا کے مقدس پجاری تم نے ٹھیک سمجھا میں مسافر ہوں اور ان لوگوں کا مہمان ہوں یہاں دیوتا کے درشن کے لیے آیا تھا۔" قامران نے پجاری کو مطمئن کرنے کی کوشش کی۔
"اچھا اچھا" یہ کہہ کر سارے پجاری کمرے سے نکل گئے۔ اور اس کمرے کو پھر سے عوام کے لیے کھول دیا گیا۔ لوگ جوش وخروش سے دیوتا کے درشن کے لیے داخل ہونے لگے۔ کامران گالٹا اور سنگینا کے گھرانے کے ساتھ ساتھ دیوتا کے گھر سے نکل آیا۔
سیڑھیاں اترتے ہوئے سنگینا کامران کے نزدیک آیا اور قدرے تعجب سے بولا ”تم نے رگولی کو ان کتوں کے حوالے کیوں ہو جانے دیا۔۔۔؟
"تم اسے روک سکتے تھے؟‘‘ کامران نے بڑے ٹھنڈے لہجے میں پوچھا۔
"ہاں میں اسے روک سکتا تھا۔" سنگینا بڑے جوش سے بولا
"کیسے...؟ ذرا مجھے بھی بتاؤ‘‘
"میں ان پجاریوں میں سے کسی کا خون کر دیتا۔"
"تم کسی ایک پچاری کا خون کرتے............جواب میں وہ تمہاری بستی کو پھونک کر رکھ دیتے ان میں سے کئی پجاری سحر جانتے ہیں۔" پھر کامران نے سنگینا کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے سمجھاتے ہوئے کہا۔ "رگولی کو جاتے دیکھ کر جو خیال تمہارے دل میں آیا تھا وہی میں نے بھی سوچا تھا اور میں ایک کی جگی کئی پجاری موت کے گھاٹ اتار سکتا تھا لیکن موت کے گھاٹ اتارنا مسئلہ کا حل نہ تھا۔ اس لیے صبر سے کام لیا اور رگولی کو اندر جانے دیا کہ اس کی بہن گالٹا اندر موجود ہے۔ وہ رگولی کو بچانے کی کوشش کرے گی ہمارا مقابلہ اس وقت بے حد خطرناک لوگوں سے ہے۔ اس لیے احتیاط لازم ہے اور پھونک پھونک کر قدم اٹھانے کی ضرورت ہے اگر ہم نے صبر سے کام نہ لیا تو ہم بے موت مارے جائیں گے اور دیوتا کے گھر میں یہ شیطانی ٹولہ ہمیشہ مسلط رہے گا۔“
اتنا سننے کے بعد سنگینا نے خاموشی اختیار کرلی۔ بلاوجہ بولنے کا فائدہ بھی کیا تھا۔ گہرا اندھیرا چھا جانے کے بعد وہ لوگ اپنی بستی میں پہنچے۔ وہ رات کامران نے گالٹا کے گھر بسر کی ۔ بسرکیا کی بس کروٹیں بدلتا رہا۔
سورج کی پہلی کرن کے ساتھ ہی وہ ان کے گھر سے نکل آیا اور ابلا کی پیٹھ تھپتھپا کر اس پر سوار ہوگیا
"قامران کہاں جارہے ہو......؟" گھوڑی پرسوار ہوتے دیکھ کر سنگرام نے پوچھا۔
"شکران تک"
"کیوں وہاں کیا ہے....؟"
"اس بستی کے لوگوں سے ملنا چاہتا ہوں۔“
"کچھ کھا پی کر چلے جاتے۔“
"آ کر کچھ کھا پی لوں گا۔" کامران نے یہ کہہ کر ابلا کو موڑا اور ایڑ لگا کر ہوا ہوگیا۔
دیوتا کے گھر کے اطراف میں پھیلی ہوئی بستیوں میں شکران سب سے الگ تھلگ تھی۔
یہاں تک پہنچنے کا راستہ بھی خاصا دشوار گزار تھا۔ کامران کبھی ابلا پر سوار ہوتا کبھی پیدل چلتا آخر بستی ہنچ گیا
بستی کے کنویں پر چند البیلی نار پانی بھرنے میں مصروف تھیں۔ ایک سجیلے سوار کو بستی میں دیکھ کر وہ ایک دوسرے کو ہنیاں مارنے لگیں۔ ایک دوسرے کو چھیڑنے لگیں۔
"دیکھ وہ تیرے سپنوں کا شہزادہ آ گیا" ایک بولی۔
"اری۔۔۔۔یہ اس کا نہیں، یہ تو میرا ہے" دوسری بولی
"بھی تو نے اپنی شکل آئینے میں دیکھی ہے۔۔۔۔؟" تیسری نے مذاق کیا۔ "اگر نہیں دیکھی تو کنوئیں میں جھانک کر دیکھ لے"
"تجھ سے اچھی ہوں۔۔۔۔ نہیں تو اس سے پوچھ لے" دوسری نے تڑک کر جواب دیا۔
"چل ٹھیک ہے۔۔۔۔ہم دونوں میں کون اچھا ہے۔۔۔۔اسی سے فیصلہ کرا لیتے ہیں....“ تیسری ماننے والی نہ تھی
"ٹھیک ہے۔۔۔۔بلاؤ اسے۔“ دوسری نے کہا۔
"ابھی بلاتی ہوں۔" یہ کہہ کر تیسری نے اسے آواز دینے کے لیے منہ کھولا تو ایک لڑکی نے اسکے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔
"پاگل ہوئی ہے کہیں ایسی باتیں مردوں سے پوچھی جاتی ہیں اور وہ بھی پردیسیوں سے............ذرا سوچو وہ کیا خیال کرے گا کہ اس بستی کی لڑکیاں کیسی ہیں۔" اس نے سمجھایا۔
"پھر یہ ہر وقت حسن پری کیوں بنتی ہے۔۔۔؟‘‘ تیسری نے غصے سے کہا۔
"حسن پری بنتی نہیں میں ہوں ہی حسن پری۔" دوسری نے اسے کھا جانے والی نظر وں سے دیکھا۔
"تب ہی بستی کا کوئی نوجوان تجھ پر تھوکتا بھی نہیں" اس سے پہلے کہ بات طول پکڑتی وہ دونوں کے درمیان میں آگئی جس نے شوشہ چھوڑ کر دونوں میں جنگ کرا دی تھی۔ وہ دونوں کی گردن پکڑتے ہوئے بولی "کم بختو....! چپ ہو جاؤ وہ نزدیک آ رہا ہے"
تب وہ اپنا بھرم قائم رکھنے کے لیے ایک دوسرے کی پکی سہیلیاں بن گئینلں اور انہما ک سے پانی بھرنے لگیں۔
قامران گھوڑی سے اتر کر کنویں کی طرف بڑھا اور پورچھا کیا تم میں سے کوئی مجھے پانی دے گا۔۔۔۔؟“
"ہاں کیوں نہیں تم جسے کہو گے وہ پانی دے گا۔ پیاسے کو پانی پلانے سے کون انکار کرسکتا ہے؟‘‘ دوسری لڑکی حسن پرې نے مسکراتے ہوئے کہا۔
"کنویں پر اس وقت پانچ لڑکیاں تھیں۔ کامران نے باری باری سب کے چہرے دیکھے جن میں دو لڑکیاں بہت خوبصورت تھیں اور دو قبول صورت اور ایک واجبی سی۔ کامران نے قره فال واجی سی لڑکی کے نام نکالا اور واجمی لڑکی حسن پری کے سوا کوئی نہ تھی۔
"چلوتم ہی پلا دو" قامران نے خوش دلی سے کہا۔
حسن پری نے یہ سن کر تیسری کی طرف بڑے فخر سے دیکھا جیسے کہہ رہی ہو آخر پردیسی نے میرے ہی ہاتھ سے پانی پینا پسند کیا۔ اب میرے حسن پری ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔
تیسری نے کامران کا فیصلہ سن کر عجیب سی نظروں سے اسے دیکھا تم بھی احمق ہی نکلے آخر مرد ذات جوٹھہرے۔
تیسری کا شمار ان دو لڑکیوں میں سے تھا جو بلاشبہ خوبصورت تھیں۔
حسن پری نے اپنا بھرا ہوا مٹکا اٹھایا۔ تھوڑا سا جھکی تاکہ مسافر کے پھیلے ہاتھوں پر پانی ٹھیک ٹھیک پڑ سکے۔
پانی پینے کے بعد کامران نے کمر سیدھی کی اور ہاتھ سے اپنا منہ صاف کیا۔ اب کنویں پر چار لڑکیاں رہ گئی تھیں۔ کامران نے دیکھا کہ دو خوبصورت لڑکیوں میں ایک غائب ہے
"لڑکیو میں اس بستی میں اجنبی ہوں۔ میں تمہارے کسی بزرگ سے ملنا چاہتا ہوں۔"قامران نے اپنا مدعا بیان کیا ۔
"تم میرے بزرگوں سے کیوں نہیں مل لیتے...؟" حسن پری سے رہا نہ گیا۔
اس پر تینوں لڑکیوں نے زور دار قہقہه لگایا۔
حسن پری بے چاری بری طرح جھینپ کر ره گئی
ابھی قاران کوئی جواب نہیں دے پایا تھا کہ اس کی نظر ایک لنگوٹی پوش پر پڑی۔
یہ لنگوٹی پوش دیوتا کے گھر کے پجاری کے سوا کوئی اور نہ تھا۔ اس پجاری کے ہاتھ میں ایک بڑی سی ڈگڈگی تھی۔
پجاری کو دیکھ کر کامران کو رگولی یاد آ گئی۔ جانے اس بیچاری پر رات کیا بیتی ہو گی؟
دیوتا کے گھر کا یہ پوش پجاری ڈگڈگی بجاتا ان کے پاس سے گزر گیا۔
"یہ پجاری یہاں کیوں آیا ہے؟‘‘ کامران نے پوچھا۔
"یہ دیوتا کے گھر سے کوئی اہم خبر لے کر آیا ہے۔۔۔۔بستی میں جا کر اعلان کرے گا۔ آؤ چلو اسکی بات سنتے ہیں۔" یہ کہ کڑکیاں جلدی جلدی اپنے مٹکے اٹھا کر بستی کی طرف چل دیں۔ قامران بھی ان کے پیچھے ہو لیا
ڈگڈگی کی آواز کامران کے کانوں میں بدستور آرہی تھی اور اس آواز میں جانے کیا جادو تھا لوگ اپنے گھروں سے نکل نکل کر پجاری کے پیچھے جارہے تھے۔ آخر چوک میں جا کر وہ پجاری رک گیا پھر اونچے چبوترے پر چڑھ کر گھوم گھوم کر ڈگڈگی بجانے لگا۔ یہاں تک کہ تمام لوگ اکٹھا ہوگئے
"شکران کے لوگو“ اس پجاری نے چلا کر کہنا شروع کیا۔ ”میں تمہارے لیے ایک اہم خبر لایا ہوں۔ میری بات غور سے سنو۔ اس اعلان پر کان دھرو۔“
تھوڑی دیر اس نے زور زور سے ڈگڈگی بجائی پھر بولا "ایک افسوسناک خبر یہ ہے کہ دیوتا کے گھر کے بڑے پجاری کا دہانت ہوگیا ہے۔" یہ کہہ کر پجاری نے پھر زور زور سے ڈگڈگی بجائی۔
کامران بڑے پجاری کی موت کا اعلان سن کر چونک اٹھا۔ اس کا دھیان فوراً ہی شومگا کی طرف منتقل ہوگیا۔ یہ کارروائی ضرور اسی کی ہوگی۔
"پجاری کی موت کے بعد اس کی جگہ کے لیے آج بعد دوپہر چناؤ ہوگا۔ اس چناؤ میں بپجاری کے پانچ چیلے حصہ لیں گے۔ جو بھی چیلا چمتکار دکھا کر بازی جیت لے اسے بڑا پجاری مان لیا جائے گا۔ لہذانل بستی کے تمام لوگوں کو مطلع کیا جاتا ہے کہ وہ بعد دوپہر دیوتا کے گھر آکر مقالے کو ضرور دیکھیں۔۔۔۔اعلان ختم ہوا۔" یہ کہہ کر پوش پجاری چبوترے سے کودا اور ڈگڈی بغل میں دبا کر جدھر سے آیا تھا چلا گیا
صورتحال اچانک تبدیل ہوگئی تھی۔ وقت بہت کم تھا۔ لہذا کامران نے بستی میں ٹھہرنا مناسب نہ سمجھا۔ وہ یہاں لوگوں کے سامنے پجاریوں کے کالے کرتوت بیان کرنے آیا تھا تا کہ یہاں رائے عامہ کو ان پجاریوں کے خلاف استعمال کیا جاسکے۔ پجاری کی موت کی خبر اور چیلوں اکے مقا بلے نے کامران کو اپنے پروگرام میں تبدیلی کرنے پر مجبور کر دیا۔ اس نے ابلا کی پیٹھ پر
سوار ہوکر زور سے ایڑ لگائی۔ ابلا کے اٹھے پاؤں ابھی زمین پر نہیں پڑے تھے کہ اسے روکنے کا اشارہ ہوا دراصل کامران کو کسی نے پیچھے سے آواز دی تھی۔ کامران نے مڑ کر دیکھا تو حسن پری کو اپنی طرف بڑھتا پایا۔
پھر وہ اس کے نزدیک آکر بولی "کیا تم واپس جا رہے ہو میرے بزرگوں سے نہیں ملو گے"
"فی الحال میں نے اپنا ارادہ ملتوی کر دیا ہے۔" کامران نے جواب دیا۔
کامران کا جواب سن کر حسن پری اداس ہو ہوگئی۔ وہ اداس ہوگئی جیسے کامران نے اس کے بزرگوں سے اس کا رشته ما نگنے کا ارادہ ملتوی کر دیا ہو۔
"ممکن ہے میں کل یا پرسوں واپس آؤں۔‘‘ کامران نے اسے اداس دیکھ کر کہا۔
"ضرور آ نا میں تمہارا انتظار کروں گی۔" حسن پری نے شدت جزبات سے مغلوب ہو کر کہا ۔
"اچھا ضرور آؤں گا۔“ یہ کہ کر کامران نے ابلا کو چلنے کا اشارہ کیا۔
اشارہ ملتے ہی ابلا ہوا ہوگئی۔ کامران یہ بھی نہ جان سکا کہ حسن پری بڑی دیر تک اسے جاتا دیکھتی رہی۔ یہاں تک کہ اس کے سپنوں کا شہزادہ نظروں سے اوجھل ہوگیا۔
سارزا پہنچ کر کامران نے ادھر ادھر سن گن لینے کی کوشش کی کہ دیوتا کے گھر ہونے والے اعلان کا بستی والوں پر کیا اثر ہوا لیکن اسے اس اعلان کا کہیں ذکر ہوتا نظرنا آیا
لوگ حسب معمول اپنے کاموں میں مشغول تھے۔ گالٹا کے گھر کے احاطے میں داخل ہوا تو اسے گالٹا کا باپ خچروں کو دانہ کھلاتا ہوا مل گیا۔ کامران نے ابا کے منہ سے لگام نکال کر اسے بھی دانے پر چھوڑ دیا۔ اور گا لٹا کے باپ سے مخاطب ہوتا ہوا بولا۔ ”دیوتا کے گھر سے جاری ہونے والا اعلان سنا تم نے۔۔۔؟“
"کیا اعلان....؟“ گالٹا کے باپ نے پوچھا۔
"کیا وہ ڈگڈگی والا پجاری ابھی تک یہاں نہیں پہنچا...؟"
"نہیں تو...."
"پھر میرے پاس تم سب کے لیے بڑی دلچسپ خبر ہے۔"
"وہ کیا....؟“
"بڑا پجاری کل رات مر گیا۔“
"بڑا پجاری مر گیا لیکن یہ کیسے ہوگیا....؟"
"یہ بات مجھے بھی نہیں معلوم ہو سکی ویسے میرا اندازہ ہے کہ وہ شومگا کے انتقام کا حصہ بن گیا۔" کامران نے اپنا خیال ظاہر کیا۔
"آج بعد دوپہر دیوتا کے گھر میں چیلوں کے درمیان مقابلہ ہونے والا ہے۔ جو جیتے گا اسے بڑا پجاری مان لیا جائے گا۔“
اتنے میں سنگرام اور سنگینا بھی آ پہنچے اور وہ سب مل کر دیوتا کے گھر جانے کا پروگرام بنانے لگے۔
دوپہر ہوتے ہوتے دیوتا کا گھر لوگوں سے کھچا کھچ بھرگیا۔ لوگوں کو صحن میں بیٹھنے سے منع کر دیا گیا تھا۔ سارے تماشائی صحن کے چاروطرف بنے دروں کی سیڑھیوں پر بیٹھے تھے۔ سورج نے جب مغرب کی طرف پڑھنا شروع کیا تو مورتی والا دروازہ اچانک کھلا اور اس سے جھلملاتے لباسوں میں بڑے پجاری کے پانچ چیلے برآمد ہوئے۔ ان چیلوں میں سب سے آگے شومگا تھا
ہر چیلا دیوتا کے گھر کے صحن میں پڑی ہوئی مخصوص چوکیوں پر براجمان ہوگیا اور ان کے پیچھے لنگوٹی پوش پجاری کھڑے ہو گئے۔ اپنی اپنی چوکیوں پر براجمان ہونے کے بعد شومگا ہی آگے آیا اور اس نے کھڑے ہو کر چاروں طرف نظر دوڑائیں۔ اس کے بعد بولا۔ پجاری کے سورگباش ہو جانے کے بعد اس کی چوکی خالی ہوگئی ہے اور اس خالی چوکی کے لیئے میں خود کو سب سے اہل سمجتا ہوں۔ لیکن میں نہیں چاہتا کہ بڑے پجاری کے دوسرے چیلوں کے ذہن میں یہ بات پیدا ہو کہ میں نے زبردستی بڑے پجاری کی چوکی پر قبضہ جمالیا ہے۔ اس لیے سوچا ہے کہ ہم پانچوں میں اس چوکی کے لیے مقابلہ ہو گا ہر چیلا اپنی مخفی قوتوں کا اظہار کرے، چمتکار دکھائے اور دوسرے کو مفلوج کردے...اس طرح جو سب کے ہاتھ باندھ دے گا چوکی اسکی ہو جائے گی اور دیوتا کے گھر میں رہنے والا ہر پجاری اس کی اطاعت کرے گا۔" شومیگا اتنا کہہ کر چوکی پر بیٹھ گیا۔
چند لمحے وہ آلتی پالتی مارے آنکھیں بند کیے بیٹھا رہا۔ چند لمحے بعد وہ پھر اٹھا اور بولا۔ "سب سے پہلے میں اس مقابلے کے لیے خود کو پیش کرتا ہوں۔ تم میں سے جو چیلا بھی مجھ سے مقابلہ کرنا چاہے وہ چوکی پر کھڑا ہو جائے۔" یہ سن کر چاروں چیلے اپنی اپنی چوکیوں پر کھڑے ہو گئے۔ چاروں چیلوں کو شومگا کے مقابل آتے دیکھ کر لوگوں نے زور دار نعرے لگائے۔تالیاں بجا کر اپنی خوشی کا اظہار کیا۔
تب شومگا نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر لوگوں کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور پھر ان چیلوں سے مخاطب ہو کر بولا ”تم چاروں آپس میں طے کر لو کہ تم میں سے سے سب سے پہلے کون میرے مقابلے پر آنا چاہتا"
پھر چاروں سر جوڑ کر بیٹھے اور انہوں نے ایک پتھر کا ٹکڑا اچھال اچھال کر آخر یہ طے کرلیا کہ پہلے شومگا کا مقابلہ کون کرے گا؟
جب مد مقابل کا فیصلہ ہوگیا تو وہ پہلا بڑی شان سے چلتا ہوا چوکی پر آ بیٹھا جبکہ وہ تینوں زمین پر بیٹھ گئے۔ شومگا اور دوسرے چیلے نے آسن جما لیے اور ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر منتر پڑھنے لگے۔
شومگا نے ہاتھ کے اشارے سے پہلا وار کیا۔ لوگوں نے شومگا کے مد مقابل چیلے کو اچانک ہوا میں معلق ہوتے دیکھا پھر وہ چیلا سر کے بل چوکی پر گرا۔ اتنے زور سے کہ اس کا سر پھٹ گیا اور خون کا فواره جاری ہو گیا ۔ مجمع پر سناٹا طاری ہوگیا۔
پھر وہ چیلا اٹھا۔ اس نے بیٹھ کر اپنے سر پر ہاتھ رکھا تو بہتا خون فوراً ہی بند ہو گیا جو خون اس کے سر سے نکل کر چوکی پر گرا تھا خودبخود صاف ہو گیا۔ اب اس چلے کے وار کا موقع تھا۔ اس نے آسمان کی طرف دیکھ کر کچھ پڑھا۔ چند ہی لمحوں بعد اس کے سر پر ایک ہنڈیا نمودار ہوئی یہ ایک مٹی کی ہنڈیا تھی جو تیزی سے گھوم رہی تھی۔ اس چیلے نے کچھ پڑھا اور چیخ کر بولا۔ "جا...دشمن کو جلا"
چیلے کا حکم سنتے ہی وہ ہنڈیا اڑتی ہوئی شومگا کی طرف بڑھی اور اس کے سر پر چکراتی شومگا ہنڈیا کو کو نظروں میں رکھے ہوئے تیزی سے کچھ پڑھ رہا تھا۔ وہ ہنڈیا جیسے ہی اس کے سر پر گرتی شومگا چیخ کر کہتا "تھم"
اور وہ ہنڈیا اس کے سر پر گرتے گرتے تھم جاتی پھر اوپر اٹھ کر اس کے سر پر چکرا کر چند محوں بعد وہ شرمگاہ پر حملہ آور ہوتی لیکن شومگا اسے پھر اپنے سر پر گرنے سے بچا لیتا
کافی دیر یہ تماشا ہوتا رہا۔
پھر جانے شومگا نے اچانک کیا منتر پڑھا کہ وہ ہنڈیا چکراتی ہوئی واپس چیلے کی طرف اٹھی اس سے پہلے کہ وہ ہنڈیا کو چلنے سے روک لیتا وہ اس کے سر پر گر کر ٹوٹ گئی۔
ہنڈیا میں سے کالا کالا سیال مادہ نکلا اور اس چیلے کے سر اور کندھوں سے ہوتا ہوا اسکے جسم پر پھیل گیا۔
اب فضا میں اس چیلے کی چیخیں بلند ہو رہی تھیں اور جہاں جہاں سیال مادہ گرتا اس کی کھال پلٹتی جارہی تھی۔ چند لمحوں میں اس چیلے کا جسم جھلس کر رہ گیا اور وہ زخموں کی تاب نہ لا کر دیوتا کو پیارا ہوگیا۔
اس کے مرتے ہی شومگا نے چوکی پر کھڑے ہوکر زور دار نعرہ لگایا اور لوگوں طرف گھوم کر اس مجمع کو ایک انگلی دکھائی جس کا مطلب تھا کہ اس نے اپنے ایک دشمن کو ہرا دیا ہے
اس چیلے کے مرنے کے بعد تینوں بقیہ چیلے اپنی جگہ سے اٹھے اور مرنے والے کی لاش اٹھا کر تالاب میں پھینک دی۔
پھر انہوں نے آپس میں پتھر کے ٹکڑے کے ذریعے شومگا کا مقابلہ کرنے انتخاب کیا۔
اب جو چیلا مقابلے میں آنے کے لیے اٹھا وہ یک چشم تھا۔ وہ چوکی کی طرف بڑھا اور چھلانگ مارکر چوکی پر بیٹھ گیا۔ بقیہ دو چیلے پھر ایک کونے میں بیٹھے اس کانے چیلے کو دیکھ کر لوگوں نے زور زور سے تالیاں بجائیں۔ پھر اس یک چشم چیلے نے ایک مزیدار حرکت کی وہ آلتی پالتی مار کر بیٹھنے کے بجائے کھڑا ہوگیا اور تیزی سے اپنی ٹانگیں چلانے لگا۔
شومگا نے مسکرا کر اس کی چلتی ٹانگوں کو دیکھا اور پھر ایک ہاتھ فضا میں بلند کیا۔
اچانک شومگا کے ہاتھ سے ایک ریشمی ڈوری نکلی اور اس چیلے کی چلتی ٹانگوں میں جا پھنسی۔
اب وہ اپنی ٹانگوں کو حرکت دینے سے قاصر تھا۔
لوگوں نے اس کی بے بسی دیکھ کر زور زور سے نعرے لگائے۔
خود کو مذاق کا نشانہ بنتے دیکھ کر یک چشم چیلے کو جوش آ گیا۔ اس نے چوکی پر لیٹ کر ڈوری کو ہاتھ لگایا تو ڈوری پانی بن کر بہے گئی۔ اب وہ سر کے بل کھڑا ہو کر اپنی ٹانگیں چلانے لگا۔ شومگا اس کی چلتی ٹانگوں کو بڑے غور سے دیکھنے لگا
اچانک وہ چیلا فضا میں بلند ہوا اور تھوڑا اوپر جا کر تیزی سے گرا اور بڑے آرام سے پیروں کے بل کھڑا ہوگیا۔
پھر وہ تیزی سے حرکت میں آ گیا۔ وہ پوری چوکی پر کسی ماہر رقاص کی طرح پھرکیاں لے رہا تھا۔
پھر وہ ساکت ہوگیا جیسے پتھر کا بن گیا ہو۔
چند لمحوں بعد اس کی ایک آنکھ کے بعد یکے بعد دیگرے دو شعلے نکلے اور شومگا کی طرف بڑھے
اب یہ شعلے شومگا کے سر پر آ رہے تھے اور شومگا تیزی سے کچھ پڑھ رہا تھا۔ منتر پڑھ کر اوپر پھونک ماری تو اس کے منہ سے پانی کا فواره نکلا اور دونوں شعلوں کو بجھا گیا۔
شعلے بجھتے ہی لوگوں میں ہلچل مچ گئی۔ لوگوں نے خوشی سے تالیاں بجائیں.......... ابھی شور جاری ہی تھا کہ اس چیلے نے شومگا پر ایک اور وار کیا۔ اچانک اس کی چوکی سے ایک زہریلا کالا ناگ نکلا اور اس کے سامنے پھن پھیلا کر کھڑا ہوا
شومگا نے ہاتھ فضا میں بلند کیا تو اس کے ہاتھ میں ایک بین آ گیا۔ اس نے اس بین کو اس پھنکارتے سانپ کے سامنے ڈال دیا۔ بین کو دیکھتے ہی دیکھتے سانپ نے پھنکارنا بند کر دیا اور بڑی سعادت مندی سے اس کے منہ میں داخل ہونے لگا۔ جب وہ پورا بین کے منہ میں داخل ہوگیا تو شومگا نے بین کو اٹھایا اور پوری طاقت سے چیلے کی طرف پھینک دیا۔
بین چوکی پر گر کر زور دار دھماکے سے پھٹی اور اس میں سے بے شمار کالے پیلے سانپ برآمد ہونے لگے جو یک چشم چیلے کے جسم سے لپٹ گئے۔ اس نے بچاؤ کی کوشش کی لیکن بچاؤ کی تمام صورتیں اب ختم ہو چکی تھیں
سانپوں نے اسے چند ساعتوں میں اس دنیا سے کوچ کرنے پر مجبور کردیا۔ اس کے بعد شومگا نے پھر کوئی منتر پڑھا۔
سارے سانپ ٹوٹی بین کے پیٹ میں سمٹنے لگے۔ آخر سارے سانپ اس بین میں سما گئے۔ شومگا کی جیت ثابت ہو چکی تھی
شومگا کے اشارے پر وہ بین اڑتی ہوئی اس کے پاس واپس آ گئی۔ شومگا نے اس بین کو ہاتھ میں اٹھایا اور فضا میں بلند کیا تو وہ غائب ہوگئی۔

تمام اردو کہانیاں پڑھنے کے لیے کلک کریں 

سفید محل - پارٹ 12

Urdu stories online, Urdu stories for kids, Short Urdu stories, Urdu Kahaniyan, Famous Urdu stories, Urdu stories with moral, Best Urdu stories collection, Urdu stories for students, Urdu love stories, Urdu horror stories, Urdu stories for reading, Urdu stories in Urdu text, Funny Urdu stories, Urdu stories for beginners, Urdu detective stories, Urdu motivational stories, Urdu stories for adults, Urdu moral stories, Urdu stories for children, Urdu true stories, Urdu suspense stories, Urdu emotional stories, Urdu adventure stories,

hindi moral stories in urdu,سبق آموز کہانیاں, jin-ki-dushmni,good moral stories in urdu,Moral Stories,Urdu Stories,urdu kahani,اردو کہانی,قسط وار کہانیاں,
Reactions