سفید محل - اردو کہانی قسط نمبر 10

 

سفید محل - اردو کہانی قسط نمبر 10

ابھی وہ اسی ادھیڑ بن میں تھا کہ اپنا سفر کہاں سے شروع کرے کہ اچانک کمرے میں وہ خوشبو پھیل گئی
کنوار ے بدن کی اٹھتی ہوئی خوشبو۔۔۔۔۔وہ ہوشربا خوشبو۔۔۔۔۔۔چاندکا خلاف طوقع آ پہنچی تھی
"کہاں کی تیاری ہے؟" وہ ظہور پز یر ہوتے ہی بولی تھی
قامران اچانک اٹھ کر بیٹھ گیا اور مسکراتے ہوئے بولا "یہ چاند اچانک کد ھر سے آ گیا؟"
"کیوں میرا آنا ناگوار گزرا؟"
”ارے غضب۔۔۔۔۔۔ایسا تو میں خواب میں بھی نہیں سوچ سکتا تمہاری آمد تو مجھے ہزار خوشیاں دے جاتی ہے میں تو اس اچانک آمد پر ذرا چونک اٹھا تھا“ قامران خوشدلی سے بولا
"اس میں چونکنے کی کیا بات ہے میں تو ہمیشہ اچانک ہی آئی اور بوقت ضرورت آئی تم گواہ ہو میں جھوٹ تو نہیں کہہ رہی؟"
"اس وقت بھلا مجھے تمہاری کیا ضرورت تھی؟" قامران نے امتحان لینا چاہا
"سردار ونشا سے سردار ماروف کا سر لانے کا وعدہ کر لیا اور مہاراج کو علم تک نہیں کہ سرخ چہرے والے کہاں ملیں گے"
"بس میں نے مان لیا تمہیں تم ضرورت کے وقت آئی ہو۔۔۔۔اب جلدی سے بتاؤ مجھے وہ درندے کہاں ملیں گے؟"
"میرا ہاتھ دیکھو" چاندکا اپنا دایاں ہاتھ قامران کے سامنے کرتے ہوئے بولی
"ہاں بہت خوبصورت ہے" قامران اسکا ہاتھ دیکھتے ہوئے بولا
چاندکا نے کچھ نہ کہا بس مسکرا کر رہ گئی
تبھی ہاتھ روشن ہوا اور قامران کو چاندکا کے ہاتھ میں بستی کا بیرونی منظر دکھائی دیا
"یہاں سے تمہارے سگر کا آغاز ہوگا، اب تم ان راستوں کو غور سے دیکھتے جاؤ اور پہچانتے جاؤ تاکہ تمہیں منزل تک پہنچنے میں کوئی دقت نہ ہو"
پھر چاندکا کے ہاتھ میں مختلف راستے دکھائی دیتے گئے قامران ان راستوں کو ذہن نشین کرتا گیا یہاں تک کہ اسے کچھ خیمے دکھائی دینے لگے خیموں کے سامنے جگہ جگہ مشعلیں روشن تھی
"یہی ہے تمہاری منزل" چانکا نے توجہ دلائی
"اچھا۔۔۔کیا یہ خانہ بدوش لوگ ہیں؟"
"ہاں جو دوسروں کے گھر اجاڑتے پھریں دیوتا انہیں کبھی گھر نہیں دیتا۔۔۔۔۔اچھا اب میں چلتی ہوں تم صبح ہی صبح مہم پر روانہ ہو جانا" وہ سنجیدگی سے گویا ہوئی
اس سے پہلے کہ کامران کوئی جواب دیتا چاندکا اپنے جلوے سمیٹتی فضا میں تحلیل ہوگئی اور قامران "سنو تو" کہتا رہ گیا
چاندکا کے جانے کے بعد قامران نے گہرے سانس لیئے اس کے سر سے ایک بوجھ اتر گیا تھا اب ان درندوں کو پا لینا قدرے آسان ہو گیا تھا قامران کمرے میں بسی کنوارے بدن کی خوشبو دھیرے دھیرے سانسوں میں اتارتا نیند کی آغوش میں چلا گیا
قامران کو اٹھانے کا کام اب سردار ونشا کے سپرد تھا وہ اسے اٹھانے آ پہنچا تھا "قامران اٹھو صبح ہو گئی ہے"
سردار ونشا کی آواز سنتے ہی قامران جست لگا کر کھڑا ہوگیا تھا جیسے وہ ساری رات سویا ہو
وہ باہر نکلا ابلا کے پاس گیا اسکی پیٹھ تھپتھپائی اس کے منہ میں لگام دی اور اس پہ سوار ہو گیا کندھے پر سامان لادا سردار ونشا کو الوداع کہا اور ایڑ لگا دی ابلا دیکھتے ہی دیکھتے ہوا ہو گئی
قامران بستی کے باہر پہنچا اور مقررہ جگہ پر نوجوان اسکے منتظر تھے ہر ایک کے ہاتھ میں توفو تھی اور دل میں انتقام کی آگ لیئے وہ سب چلنے کے انتظار میں تھے
قامران نے فرداً فرداً تمام نوجوانوں سے ہاتھ ملایا وہ تعداد میں پچاس تھے اور ہر شخص کے پاس کھانے پینے کا سامان وافر مقدار میں موجود تھا قامران نے پوری طرح مطمئین ہو کر نقارۂ کوچ بجا دیا
"چلو" کی آواز کے ساتھ ہی ہر نوجون حرکت میں آ گیا
سورج اگرچہ برآمد نہ ہوا تھا پر اجالا ہر سو پھیل چکا تھا
کامران نے اپنی گھوڑی کی رفتار خاصی سست رکھی تاکہ نوجوان پیچھے نہ رہ جائیں مگر یہ رفتار ان نوجوانوں کے کیئے بہت معمولی تھی کامران نے کئی نوجوانوں کو ابلا سے آگے نکلتے دیکھا
قامران نے ابلا کی رفتار میں مزید اضافہ کیا اور نوجوانوں نے بھی رفتار بڑھا دی دو تین میل بعد ابلا اور نوجوانوں کی رفتار میں جیسے معاہدہ ہوگیا اب وہ ساتھ ساتھ ہی بھاگ رہے تھے اور یہ رفتار خاصی تیز تھی
چار پانچ گھنٹے کی مسافت کے بعد کامران نے ایک جگہ پڑاؤ ڈالا اور تھوڑی دیر رک کر آرام کرنے کے بعد نوجوان پھر سے چلنے کو تیار ہوگئے
قامران نے انکا یہ جوش دیکھ کر مزید کہیں قیام نہ کنے کا سوچا پچاس جوانوں کا یہ قافلہ بڑے عزم کے ساتھ آگے بڑھتا رہا
چوتھے پڑاؤ پر اندھیرا کافی گہرا ہو گیا تھا کامران نے چاہا کہ اب رات آرام کر کے صبح ہی سفر جاری رکھیں لیکن نوجون اس بات پر راضی نہ ہوئے وہ جلد از جلد دشمن کو پا لینا چاہتے تھے
نوجوانوں کا موقف تھا کہ چاندنی رات ہے اس لیئے سفر جاری رکھنا چنداں مشکل نہ ہوگا ہاں تیز بھاگنا مشکل ہوگا پر وہ سست ہی سہی بھاگ سکیں گے تو سفر جاری رہے سو کر تو وقت ہی ضائع ہو گا
قامران نے نوجوانوں کی دلیلوں کے آگے ہتھیار ڈال دیئے اور سفر جاری رکھا قامران نے سوچا اگر اسی رفتار سے سفر جاری رہا تو وہ صبح ہونے سے بھی پہلے درہ پر جا پہنچیں گے اور ہوا بھی یہی قامران کا اندازہ سو فیصد درت ثابت ہوا تھا
اب نوجوانوں کے سامنے فلک بوس کالے کالے دیو پہاڑوں کے روپ میں کھڑے تھے آگے جانے کا راستہ بلکل نہ تھا
اب نوجوانوں نے قامران کو گھیر لیا
"اب آگے کیسے جائیں گے؟" نوجوانوں نے پوچھا
"ہم ضرور آگے جائیں گے بس یوں سمجھ لو کہ یہی تمہاری منزل ہے تمہارا دشمن پہاڑوں کے اس طرف موجود ہے" قامران نے انہیں تسلی دی
"کیا واقعی لیکن تم یہ بات کیسے جانتے ہو؟" نوجوانوں کو اصل میں کامران کی بات کا یقین نہیں آ رہا تھا
"اس بات کو بھول جاؤ کہ ٹھکانہ کیسے جان لیا بس جو میں کہتا ہو وہ کرتے جاؤ" قامران نے انہیں یقین دلاتے ہوئے کہا
"حکم کرو کیا کرنا ہے؟" جوانوں نے سعادت مندی اختیار کر لی
"فی الحال انتظار" یہ کہتے ہوئے قامران ابلا سے اترا اور پانچ نوجوانوں کو ساتھ لیا باقیوں کو آرام کا حکم دے کر ایک طرف چلا گیا
اگر وہ چاندکا کے ہاتھ پر دیکھے گئے راستے کے مطابق صحیح جگہ آ گیا تھا تو وہ درہ یہی کہیں ضرور مل جانا چاہیئے تھا قامران سوچتے ہوئے آگے بڑھتا رہا تاکہ درہ ڈھونڈ کر جلد از جلد حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا جا سکے
آخر تھوڑی دیر تلاس بسیار کے بعد انہیں وہ درہ مل ہی گیا جسے دیکھ کر کامران خوشی سے جھوم اٹھا
وہ ایک بہت تنگ درہ تھا جس میں بمشکل ایک وقت میں ایک گھوڑا داخل ہو سکتا تھا کامران نے کمان سنبھالی اور درے میں داخل ہو کر آگے بڑھتا گیا بڑی آسانے سے دور جا پہنچا
صبح ہونے میں ابھی دیر تھی چاند ڈوب چکا تھا ملگجے میں قامران کو بہت سارے خیمے دکھائی دیئے
درہ بلکل صاف تھا یہاں کسی قسم کا کوئی پہرہ نہ تھا سرخ چہرے والوں کو بھلا یہاں کسی سے کیا خطرہ ہو سکتا تھا ان کا مقابلہ کون کر سکتا تھا ان کے تعاقب میں کون آ سکتا تھا اسی لیئے اپنے خیموں میں سوتے پڑے تھے اور موت اس درے میں انکا راستہ تلاش کرتی پھر رہی تھی
قامران بڑی تیزی سے واپس پلٹا اور نوجوانوں کو خاموشی سے یہاں سے چلنے کا حکم دیا
نوجوانوں تک پہنچنے کے بعد اس نے تمام نوجوانوں کو پانچ پانچ کی ٹولیوں میں تقسیم کر کے اور احکامات جاری کر کے انہیں اپنے مورچے سنبھالنے کا کہا
نوجوان اچھلتے کودتے پہاڑوں پر چڑھتے گئے اور تھوڑی دیر میں گیدڑوں کی آواز آنے لگی جو اس بات کا اشارہ تھی کہ سب نے اپنے مورچے سنبھال لیئے ہیں
قامران نے کچھ نوجوانوں کو درہ کے دائیں بائیں محفظ کے طور پر کھڑا کیا اور خود چند جوانوں کے ساتھ درے کے منہ پر بیٹھ گیا
دشمن کے فرار کا کوئی راستہ نہ تھا ایک طرف گہری اور وسیع جھیل تھی باقی ہر طرف پہاڑ ہی پہاڑ جس پر قامران کے شاہینوں نے بسیرا کیا ہوا تھا جھیل عبور کرنا یا پہاڑوں پر چڑھ کر فرار ہونا آسان کام نہ تھا اور وہ خود شیر بن کر درے کے منہ پر بیٹھا تھا درے کی مکمل ناکہ بندی ہوگئی تھی
کچھ دیر میں سپیدۂ سحر نودار ہونے لگا
قامران نے ترکش سے تیر نکالا اور اس پر کپڑا باندھ لیا اور ایک نوجوان کے سامنے کرتے ہوئے کہا "اس کپڑے میں آگ لگاؤ"
نوجوان نے چمڑے کے تھیلے میں سے آگ لگانے والے پتھر نکالے اور انہیں رگڑ کر کپڑے کو آگ لگا دی جب شعلے بھڑکنا شروع ہوئے تو کامران نے درمیان والے خیمے کا نشانہ لے کر تیر چھوڑ دیا یہ خیمہ دوسرے خیموں کے مقابلے میں بڑا اور رنگ برنگا تھا تیر کمان سے نکلا اور اس خیمے کے بلکل درمیان چھت میں پیوست ہو گیا قامران نے تین آگ والے مزید تیر چھوڑے
ہوا کی تیزی نے اپنا رنگ دکھایا دیکھتے ہی دیکھتے خیموں میں آگ بھڑک اٹھی پہاڑوں میں چھپے نوجوان کامران کی اس کارروائی کو بڑی دلچسپی سے دیکھ رہے تھے
خیموں میں پڑے لوگ خواب غفلت میں خراٹے لیتے مزے کی نیند سو رہے تھے انہیں یہ پتا نہ تھا کہ ظلم کی رات اب ختم ہو چکی ہے اب ان کا یوم حساب آن پہنچا ہے آگ کی تپش نے انکی آنکھیں کھول دیں وہ ہڑبڑا کر خیموں سے باہر نکلنے لگے
کامران نے دشمن کو خیموں سے نکلتا دیکھ کر اپنے منہ سے شیر کی آواز نکالی جو پہاڑوں سے ٹکراتی دور تک پھیل گئی
اکاون تیروں کی ایک خیر مقدمی باڑ دشمن تک پہنچی تو بہتیروں کو گھائل کر گئی ابھی انہیں یہ سمجھ نہ آئی کہ خیموں میں آگ کیسے لگی کہ تیروں کی بوچھاڑ پڑنے پر دشمن بری طرح بوکھلا اٹھا
اس پہلے حملے نے زیادہ خاطر خواہ اثر نہ دکھایا تیز ہوا نے تیروں کے رخ موڑ دیئے تھے اور تیر ٹھیک نشانے پر نہ لگ سکے
یہ جان کر کہ ہوا کام خراب کر رہی ہے قامران نے اگلے حملے کا اشارہ نہ دیا جبکہ نوجوان تیر چلانے کو تیار بیٹھے تھے
دشمن کے خیموں میں عجیب افراتفری پھیلی ہوئی تھی آگ اور تیروں نے انکی عقلیں صلب کر دی تھیں وہ بوکھلائے ہوئے درہ کی طرف بڑھ رہے تھے
قامران نے جب دیکھا کہ دشمن اب تیروں کی زد میں آ سکتے تو اسنے پھر شیر کی آواز نکالی
اکیاون تیروں نے درہ کی طرف بڑھتے دشمن کے دس بارہ آدمیوں کے جسم چھلنی کر دیئے اور وہ زمین پر گر کر تڑپنے لگے
اچانک کامران نے ہاتھوں میں تلوار لیئے کئی گھڑ سواروں کو خیموں سے نکل کر درے کی طرف آتے دیکھا پھر اس نے شیر کی آواز نکالنے کے بجائے اپنے آس پاس بیٹھے آدمیوں کو کہا "چلاؤ تیر"
نوجوانوں نے حکم ملتے ہے ان گھڑسواروں پر تیروں کی بارش کر دی
ایک بھی گھڑ سوار درے تک صحیح سلامت نہ پہنچ سکا تھا
قامران نے صرف چار خیموں میں آگ لگائے تھی مگر اب کئی خیمے آگ کی زد میں تھے اور ان خیموں سے اب عورتیں نکل رہی تھی
عورتوں کو نکلتے دیکھ کر نوجوانوں نے حکم کا انتظار کیئے بغیر عورتوں پر تیر برسانا شروع کر دیئے کئی عورتیں زمین پر گر کر تڑپنے لگیں
یہ دیکھ کر کامران اٹھا اور منہ کے قریب ہاتھ لے جا کر زر سے آواز لگائی "خبردار جو عورتوں پر حملہ کیا"
نوجوانوں نے یہ حکم بڑی ناگواری سے سنا
وہ تلملا کر رہ گئے انکا جی چاہا کہ بغاوت کر دیں اور میدان میں کود پڑیں ان عورتوں کے ساتھ وہ کچھ کر گزریں جو عموماً جنگوں میں دشمن کی عورتوں کے ساتھ ہوا کرتا ہے لیکن کامران کے ہوتے وہ کچھ ایسا نہیں کر سکتے تھے اس وقت قامران ان کا سپہ سالار تھا اور سپہ سالار کی ہر بات ماننا انکا فرض تھا پر وہ یہ سمجھنے سے قاصر تھے کہ قامران نے انہیں عورتوں پر حملہ کرنے سے کیوں روکا جبکہ وہ خود انتقام کی صورت ان درندوں کی تلاش میں نکلا تھا
قامران نوجوانوں کی دلی کیفیات سے آگاہ تھا وہ جانتا تھا نوجوانوں کا ردعمل سمجھ سکتا تھا۔ ظاملوں سے انتقام کیسے لیا جاتا ہے اسے یہ بھی معلوم تھا مگر وہ کمینہ نہیں بننا چاہتا تھا
اسنے سوچا انتقام لینے کی بھی کوئی حد ہوتی ہے اور اگر نہیں ہوتی تو ہونی چاہیئے
نوجوانوں کے تیروں نے ان عورتوں کو بوکھلا دیا تھا وہ اپنی جان بچانے کے لیئے جھیل میں کودنے لگیں
قامران جو دشمن پر نظر رکھے ہوئے تھا اس نے آگ کے پیچھے سے کئی گھڑ سواروں کو چمکتی تکواریں لہراتے بڑی تیزی سے درے کی طرف آتے دیکھا
یہ فوری فیصلے کا وقت تھا کامران نے تین بار شیر کی اواز نکالی جسکا مطلب مسلسل تیر برسانے کا تھا جب تک رہکا نہ جائے
حکم ملتے ہی تیروں کی بارش شروع ہوگئی اور وہ گھڑسوار تلواریں لہراتے دھڑادھڑ زمین بوس ہونے لگے
اس وقت قامران کا ہاتھ بڑی چابکدستی سے چل رہا تھا۔ ترکش سے تیر نکلتا، کمان پر چڑھتا، ہوا میں کسی کی موت کا پیغام بن کر اڑتا اور اسی لمحے دشمن کا ایک آدمی موت کا شکار بن کر گھوڑے سے پھسلتا زمین پر آ رہتا
قامران کا خیال تھا کہ دشمن کا ایک بھی آدمی فرار نہ ہو سکے جبکہ دشمن کا خیال تھا کہ سارے نہیں تو چند آدمی ہی فرار ہونے میں کامیاب ہو جائیں
اور اس اچانک یلغار سے انکا نکل جانا ممکن بھی تھا کیونکہ گھوڑوں کی رفتار تیز تھی اور آخر کار دو گھڑ سوار درے میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے
اس سے پہلے کہ وہ درے سے باہر نکلتے کامران کی کمان سے نکلا تیر ان سے حساب لینے آ پہنچا تھا تیر لگتے ہی انکے گھوڑے بدحواس ہوئے اور گھڑسواروں ک سر پتھروں سے ٹکرا گئے فرار کے سارے راستے مسدود ہو گئے تھے ہاں ابدی فرار مل گئی تھی
اس بڑے حملے کے بعد میدان پر اب قامران کا قبضہ تھا سرخ چہرے والے درندوں کی بڑی تعداد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا اور جو بچ گئے تھے وہ اس کائق نہ تھے کچھ کر سکیں ہاں دیدۂ عبرت ضرور بن گئے
قامران نے ہاتھوں کو منہ کے قریب لے جا کر آواز لگائی "ساتھیو۔۔۔! اب نیچے اترو"
کافی دیر یہ حکم پہاڑوں میں گونجتا رہا حکم سنتے ہی نوجوان نیچے اترنا شروع ہوئے ان پر نشہ تاری تھا فتح کا نشہ۔
دشمن کے جن لوگوں کو پروانۂ موت نہ ملا تھا وہ اپنے لوگوں کو اس حال میں دیکھ کر بے حاک ہو گئے تھے اور ان میں مزاحمت کی قوت باقی نہ رہی تھی
قامران کے ساتھیوں نے بچے کھچے لوگوں کو اور عورتوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح ہانک کر ایک جگہ اکٹھا کیا عورتیں تیروں کی بارش رکتے دیکھ کر جھیل سے نکل آئی تھیں
"ارے۔۔۔۔وہ چقندر کا بچہ کہاں ہے؟" کامران جس کا سر لانے کا وعدہ سردار ونشا سے کر آیا تھا اسکا دور دور تک کوئی پتہ نا تھا
"کون قامران؟" ایک نوجوان نے پوچھا
"وہ سردار ماروف مجھے اب تک کہیں نظر نہیں آیا مرنے والوں کے چہرے دیکھو ذرا" قامران نے حکم دیا
مرنے والوں میں سردار کا چہرہ نہ تھا جب قیدیوں سے پوچھا گیا تو انہوں نے لا علمی کا اظہار کیا تھا فرار ہونے کا ایک ہی راستہ تھا درے کی طرف ممکن نہ تھا اور سردار کو درے کی طرف آتے نہ دیکھا گیا تھا دوسرا راستہ جھیل تھی جسے پار کرنا ممکن نہیں تھا اور کوئی پار کر بھی لے تو اسکا نظروں میں نہ آنا ممکن نہ تھا کامران سوچ میں پڑ گیا کہ اسے زمین نگل گئی یا آسمان کھا گیا آخر گیا کہا وہ درندوں کا آقا؟؟؟؟
قامران بے بس ہوا تو چاندکا مدد کو آ پہنچی، جیسے ہی وہ مخصوص خوشبو اسکے نتھنوں میں گھسی کامران کے چہرے پر تبسم پھیل گیا
"قامران سامنے جھیل دیکھ رہے ہو؟" چاندکا کی آواز دل کے کہیں قریب سنائی دی
کامران نے اثبات میں سر ہلایا زبان سے کچھ نا بولا
"سردار ماروف۔۔۔۔اس جھیل میں موجود ہے وہ زیادہ دیر پانی میں نہیں رہ سکتا تم جھیل کنارے جا کر اسکا انتظار کرو"
کامران نے ٹھیک ہے کہ انداز میں گردن ہلائی اور اسکے ساتھ خوشبو ہوا میں تحلیل ہو گئی
"مل گیا، مل گیا" چاندکا کے جانے کے بعد قامران نے خوشی سے نعرہ لگایا
"کدھر، کہاں؟" نوجوان اس کا نعرۂ مستانہ سن کر اس کے قریب آگئے
"جھیل میں"
اسکے یہ کہتے ہی نوجوان جھیل کی طرف حیرت سے دیکھنے لگے جہاں سردار ماروف تو کیا کوئی چڑیا کا بچہ تک نہ دکھائی دیا
"جھیل میں تو کچھ نہیں"
"ہے، جھیل میں ہی ہے۔ جھیل کے سوا وہ کہیں اور نہیں جا سکتا ہے ذرا صبر کرو اور تماشہ دیکھو" قامران نے جھیل کنارے دھرنا دیتے ہوئے کہا
پھر اسنے تیر کمان پر چڑھایا اور بولا "میں اس چقندر کے بچے کا انتظار کرتا ہوں بیٹھ کر تم لوگ تب تک دشمن کے ایک ایک آدمی کا سر کاٹ لو"
"سر انکا بھی جو زندہ ہیں یا زخمی ہیں یا مرنے والوں کا؟" وضاحت چاہی
"تمام درندوں سب کا چاہے وہ زندہ ہیں زخمی ہیں یا مر گئے ہاں ایک بات غور سے سن لو عورتوں کی طرف انگلی بھی نہیں اٹھانی ہے" قامران نے تنبیہہ کی
حکم سنتے ہی سب لاشوں کی طرف دوڑ پڑے پھر انکی تلواروں سے ہی ان سب کے سر کاٹے جانے لگے
پھر زخمیوں کی باری آئی پہلے تیر چلا کر انکی روح کو جدا کیا گیا پھر انکی گردنوں پر تلواریں پھیر دی گئیں
اسکے بعد قیدیوں کی باری آئے سب کو قطار میں کھڑا کیا گیا اور ان پر تیروں کو آزمایا گیا
کامران اس کارروائی کو بڑے سکون سے جھیل کنارے بیٹھا دیکھ رہا تھا
عورتیں اپنے مردوں کا یہ عبرت ناک انجام دیکھ کر تھر تھر کانپ رہی تھی انہیں لگتا تھا کہ مردوں کے بعد انکی باری آنے والی ہوگی اور انکا یہی انجام ہونے والا ہے
وہ سمٹ کر ایک دوسرے کے نزدیک آ گئیں اور گھٹنوں میں سر دیئے ٹسوے بہانے لگی نوجوانوں نے قامران کے حکم کے مطابق ان عورتوں پر انگلی اٹھانا تو دور کجا کہ نظر بھر کر نہ دیکھا
نوجوانوں نے تمام سر کاٹ کر اکٹھا کر لیئے لاشیں جہاں تھی وہی رہنے دیں۔
اور لاشوں سے اسلحہ مع تلواروں کے کھینچ لیا۔ اپنے تیر واپس نکال لیئے اور انکے گھوڑوں پر قبضہ کر لیا۔ یہ سب کام کر کے نوجوان اب کامران کی طرف بڑھ رہے تھے
"قامران۔۔۔۔تمہارے حکم کے مطابق ہم نے تمام لوگوں کے سر کاٹ لیئے ہیں۔ اسلحہ، گھوڑے اور انکی عورتوں کو قبضے میں لے لیا ہے اب بولو آگے کیا حکم ہے؟"ایک نوجوان کامران سے مخاطب تھا
قامران نے تمام کارروائی کی روداد کو بہت دلچسپی سے سنا اور کہا "بہت بہتر۔۔۔۔اب بس آخری کارروائی باقی ہے"
"کیا ہم بھی تمہارے ساتھ اس مچھلی کا شکار کھیلنے اس جھیل کنارے بیٹھ جائیں"
"ضرور، ضرور" قامران نے بخوشی اجازت دی
تمام پچاس نوجوان جھیل کنارے یہاں سے وہاں تک پھیل گئے اور توفو میں تیر ڈالے سطح پر نظریں گاڑ دیں جہاں تھوڑی ہلچل دکھائی دیتی سب ایک دوسرے کو دیکھنے لگتے
"وہ۔۔وہ۔۔وہ دیکھو" چاہے وہ کچھوا ہی ہوتا
کچھ کچھوؤں پر نوجوانوں نے تیر چلا بھی دیئے جو ہلاکت خیز ثابت ہوئے
چاندکا کی اطلاع کے مطابق اگر سردار جھیل میں تھا تو اسے اب تک سطح پر آ جانا چاہیئے تھا وہ اتنی دیر سانس روکے نہیں رہ سکتا تھا یہ سوچتے ہی کامران نے کچھ نوجوانوں کو جھیل میں اتارنے کا کا فیصلہ کر لیا
ابھی وہ نوجوانوں کو اشارہ دینے والا تھا کہ اچانک اس نے سطح پر دور ایک کالی کھوپڑی تیرتی ہوئی دیکھی اسی لمحے کا تو وہ اتنی دیر سے منتظر تھا اس نے ایک لمحہ ضائع کیئے بنا اس کالی کھوپڑی پر تیر چلا دیئے اس کے ساتھ کئی نوجوانوں نے بھی ہاتھ دکھایا ان کے تیر ٹھیک ٹھیک نشانے پر لگے
جھیل کی سطح پر سرخی پھیلتی چلی گئی
کامران نے کچھ نوجوانوں کو جھیل میں کودنے کا اشارہ کیا۔ اشارہ ملتے ہی کئی نوجوان جھیل میں کود گئے اور تیرتے ہوئے سردار ماروف کی لاش کو جا لیا اور اسے گھسیٹ کر کنارے تک لے آئے
قامران یہ دیکھ کر خوش ہوا کہ تیر اسکے سر اور کھوپڑی میں لگے تھے باقی تیر بھی اسکے جسم پر لگے ہوئے تھے۔ تمام نوجوان قامران کے گرد اکٹھا ہوگئے
"تلوار لاؤ" قمران نے حکم دیا
"یہ لو" فوراً تکوار سامنے کر دی گئی
قامران نے تلوار لے کر ایک وار میں ہی سردار کا سر تن سے جدا کر دیا
پھر کامران سرخ چہرے والوں کی ڈری سہمی عورتوں کے قریب گیا اور بولا "تمہارے ظالم مرد اپنے انجام کو پہنچ چکے ہیں جو معصوم دلوں کو دکھاتے ہیں انکے ساتھ ایسا ہی سلوک کیا جاتا ہے۔ اب تم لوگ بتاؤ تم کیا چاہتی ہو؟ ایک صورت تو یہ ہے کہ تمہیں آزاد یہاں چھوڑ دیا جائے اور چند دنوں میں بھوک سے مر جاؤ۔۔۔دوسری صورت میں ہمارے ساتھ بستی چلو اور عزت احترام کی زندگی گزارو اب جو پسند ہو مجھے بتا دو"
چند لمحے وہ عورتیں سوالیہ نظروں سے ایک دوسرے کو دیکھتی رہیں پھر ان میں سے کچھ بولیں "ہمیں اپنے ساتھ لے چلو"
"یہ فیصلہ تم سب کا ہے؟" قامران نے انکو غر سے دیکھتے کہا
"ہاں" وہ سب ایک ساتھ بولیں
یہاں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرنے سے بہتر تھا کہ بستی میں جا کر آباد ہو جائیں
"دوستو اب واپسی کی تیاریاں کرو۔۔۔۔اسلحہ باندھ لو، گھوڑوں پر سوار ہو جاؤ، ایک ایک عورت اپنے ساتھ بٹھا لو اور ہاں دشمن کا سر لینا نہ بھولنا"
یہ کہتے ہی سردار ماروف کا سر بالوں سے پکڑا اور اچھل کر ابلا پر سوار ہوا سر کو ہوا میں لہرا کر چیخا "چلو"
پورا درہ گھوڑے کی ٹاپوں سے گونج اٹھا
ابھی وہ زیادہ دور نہ گئے تھے کہ قامران نے خود کو کنوارے بدن کی خوشبو میں لپٹا محسوس کیا تھا۔ وہ جو صدیوں سے اسے چاہتی تھی اس کے نزدیک آ پہنچی تھی
"چاندکا؟" قامران نے متلاشی نظروں سے ادھر ادھر دیکھا
"قامران تم کہاں جا رہے ہو؟" چاندکا کی آواز سنائی دی
"سردار ونشا کی بستی میں"
"اگر میں کہوں کہ تم وہاں نہیں جاؤ گے تو؟"
"نہیں جاؤں گا" قامران بڑی فرمانبرداری سے بولا
"ٹھیک ہے پھر تم ان لوگوں سے رخصت لے لو۔۔۔پھر میں تمہیں بتاتی ہوں آگے کیا کرنا ہے"
"ٹھیک ہے" یہ کہہ کر قامران نے ابلا کی لگام کھینچ دی اور رک گیا
قامران کو رکتے دیکھ کر نوجوان بھی رک گئے
"کیا ہوا؟" نوجوانوں نے پوچھا
"اب میں تم سے رخصت چاہوں گا"
"یہ کیسے ہو سکتا ہے" نوجوان پریشان ہو گئے تھے
"کیوں نہیں ہو سکتا....." قامران نے مستحکم آواز میں کہا "سردار ونشا سے میرا سلام کہنا۔ میں نے اس سے سردار ماروف کا سر لانے کا وعدہ کیا تھا میں نے اپنا وعدہ نبھا دیا۔ یہ لو سر اسے سردار ونشا کو دے دینا اور کہنا قامران ایک مسافر تھا اور مسافر کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہوتا میرا بھی کوئی ٹھکانہ نہیں ہے۔ یہ سر میں خود سردار ونشا کو پیش کرتا لیکن مجھے حکم ہوا ہے اب بستی کا رخ نہ کروں، میں مجبور ہوں سردار سے کہنا میں نے سر ہی نہیں اور بھی بہت سی چیزیں ساتھ کر دیں ہیں اسلحہ، گھوڑے اور انکی عورتیں بھی۔۔۔۔اور ہاں ان سے کہنا کہ عورتوں سے برا سلوک نہ کرے یہ بے قصور ہیں جو قصور وار تھے انکی ہڈی پسلی ایک کر دی ہے۔ اچھا دوستو اب میں جاتا ہوں سائری دیوتا تمہیں اپنے حفظ و امان میں رکھے" یہ کہی کر قامران نے اپنا رخ موڑا انکا جواب سنے بغیر ابلا کو ایڑ لگائی اور دھول اڑاتا نظروں سے اوجھل ہو گیا
وہ نوجوان عقیدت سے قامران کو دیکھتے رہے۔۔۔قامران جو پردۂ غیب سے ان پر فرشتہ بن کر نازل ہوا تھا پھر پردۂ غیب میں جا چھپا تھا
دور تک ریت ہی ریت پھیلی ہوئی تھی
قامران تیزی سے بڑھا جا رہا تھا کہ چاندکا کی آواز آئی "اب ایسی بھی کیا جلدی ہے؟"
قامران نے یہ سنتے ہی ابلا کو روک لیا اور چاروں طرف دیکھنے لگا پھر پوچھا "ہاں کدھر ہو؟"
"ادھر" چانکا اپنی تمام حشر سامانیوں کے ساتھ موجود تھی کامران اسے غور سے دیکھنے لگا
"کیوں گھور رہے ہو؟" چاندکا نے مسکرا کر کہا۔
"نہیں گھور تو نہیں ہاں دیکھ ضرور رہا ہوں۔" کامران نے جواب دیا ۔ "گھورنے اور دیکھنے میں کیا فرق ہے؟"
"ہاں، فرق ہے" قامران نے کہا۔
"وہ کیسے؟" چاندکا نے پوچھا۔
"جب کوئی مرد کسی عورت کو گھورتا ہے تو اس کی آنکھوں میں ہوس کی چمک کود کر آتی جبکہ صرف دیکھنے میں ایسا نہیں ہوتا۔" کامران نے فلسفہ بگھارا۔
"چلو تم کہتے ہو تو مان لیتی ہوں۔“
"اچھا یہ تو بتاؤ کہ تم نے مجھے سردار ونشا کی بستی میں جانے سے کیوں روک دیا؟"
"وہاں جا کر اب تم کیا کرتے؟“ چاندکا نے سوال کیا۔
"میں سردار ونشا سے سردار ماروف کا سر لے کر آنے کا وعدہ کر کے آیا تھا...........وہ سر میں پیش کرتا تو کچھ اور بات ہوتی"
"بہت محبت ہوگئی ہے سردار ونشا سے۔" چاندکا نے اسے اسی نظروں سے دیکھا۔
"دیوتا کا شکر ہے کہ سردار ونشا ایک مرد ہے ورنہ مجھ غریب پر اب تک سیدھا سیدها الزام لگ گیا ہوتا۔"
"ایسا سمجھا ہے مجھے۔" چاندکا نے اسے تیکھی نظروں سے دیکھا۔
"دنیا کی ہر عورت اس معاملے میں بڑی حساس ہوتی ہے۔"
"چلو چلو....زیادہ فلسفہ نہ چھانٹو" چاندکا نے بات ختم کرنا چاہی۔ "پھر آپ حکم کریں۔" کامران نے آئندہ کا منصوبہ پوچھا۔
"سفر کرنا ہوگا۔" چاندکا نے بتایا۔
"میں تمہاری خوشی میں خوش ہوں۔“ قامران کو بھلا کب انکار تھا۔
"يهاں سے جنوب کی جانب تقریبا دو دن کی مسافت پر ایک بستی ہے شکران نامی بستی سے کچھ دور دیوتا کا گھر بنا ہوا ہے۔ اس دوا کے گھر میں ایک شیطانی ٹولہ پچاریوں کے بھیس میں موجود ہے جس نے آس پاس کے تمام علاقے میں تباہیاں پھیلائی ہوئی ہیں۔ ان پجاریوں کچھ لوگوں کو جادو بھی آتا ہے تمہیں وہاں جانا ہوگا اور دیوتا کے گھر کو ان خبیثوں سے بچانا ہوگا"
"دیوتا کا گھر تو میں پاک کر دوں گا لیکن چاندکا مجھے یہ بتاؤ کہ میں ان جادوگروں سے کیسے نمٹوں گا مجھے جادو تو نہیں آتا"
"دیوتا پر بھروسہ رکھو۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔کبھی کبھی پہاڑ سے ہاتھی کے لیے ایک چیونٹی کافی ہوتی ہے۔" چاندکا نے مسکراتے ہوئے کہا۔
"اچھا تو اس مرتبہ تم مجھے چیونٹی بنا کر بھیج رہی ہو....ٹھیک ہے تمہارے لیے یہ بھی قبول ہے"
ھر کچھ دیر ادھر ادھر کی باتوں کے بعد کامران نے وقت ضائع کیے بغیر شکران جانے کا قصد کیا چاندکا بھی یہی چاہتی تھی کہ وقت ضائع نہ ہو۔ اس نے پلک جھپکتے میں بہت سی کھانے پینے کی اشیا کا بندوبست کر دیا اور اسے گھوڑی پر بٹها دیا خود فضا میں تحلیل ہوگئی۔ کامران جنوب کی جانب برق رفتاری سے بڑھا جا رہا تھا۔ دو دن کا یہ سفر خلاف توقع بغیر کسی حادثے یا واقعہ کے کٹ گیا۔ جب تیسرے دن سورج نمودار ہوا تو کامران نے خود کو مطلوبہ علاقے میں پایا۔ سورج کی روشنی میں شکران کی آبادی کے آثار نمایاں تھے۔ کامران نے آبادی کی طرف رخ کرنے کے بجائے دیوتا کے گھر کی طرف ابلا کو موڑ دیا۔ پھر اس پہاڑی کے دامن میں پہنچا جس کی چوٹی پر دیوتا کا گھر بنا ہوا تھا اور اس نے سر اوپر اٹھایا تو سیڑھیوں کا ایک لامتناہی سلسلہ پایا۔ قامران ابلا کی پیٹھ سے کود پڑا۔ اس نے ترکش اور کمان اپنے کندھے پر درست کی اور دیوتا کا نام لے کر اوپر چڑھنے لگا۔ اب دھوپ اچھی خاصی تیز ہو چکی تھی لیکن دیوتا کے گھر میں رونق نظر نہیں آتی تھی۔ نہ کوئی آ رہا تھا نہ کوئی نیچے جا رہا تھا اور نہ ہی اب تک کوئی پجاری دکھائی دیا تھا۔ قامران سوچنے لگا ! کیسا گھر ہے جو اس قدر سنسان ہے اور وہ بھی صبح کے وقت۔ تقریبا تین ہزار سیڑھیاں چڑھ لینے کے بعد کامران کو دیوتا کے گھر کا دروازہ نظر آیا جو بند تھا بند دروازہ دیکھ کر کامران کو اور بھی مایوسی ہوئی۔ اگر دروازہ اندر سے بند ہوا تو وہ اندر کیسے جائے گا
ایک لکڑی کا بڑا سا دروازہ تھا۔ اس دروازے میں جگہ جگہ چھریاں گڑی ہوئی تھیں۔ قامران کی سمجھ میں یہ بات نہ آئی کہ دیوتا کے گھر کو آخر کس چیز سے خطرہ ہے جو دروازے میں چھریاں اس کی گاڑ کر حفاظت کا انتظام کیا گیا ہے۔ کامران نے اپنا ہاتھ تیز چھریوں کی زد سے بچاتے ہوئے دروازے کو دھکیلا لیکن وہ اندر اس بند تھا اس لیے کھل نہ سکا۔
کامران ابھی مایوس ہونے کی کوشش کر رہا تھا کہ اس کی نظر دروازے میں لگی ایک کھڑکی پر گئی وہ اتنی بڑی تھی کہ اس میں ایک آدمی آسانی سے گزر سکتا تھا۔ کامران نے اس کھڑکی پر ہاتھ رکھا تو کھڑکی کا پٹ اندر ہو گیا۔ اس نے دھکا دے کر کھڑ کی پوری کھول دی۔ کھڑکی کھلتے ہی کوئی چیز اچھل کر کھڑکی پر آئی۔ کامران ایک دم چونک گیا۔ وہ ایک بے حد موٹا تازہ چوہا تھا جو کسی بلی سے کم نہ تھا۔ کھڑکی پر آتے ہی چوہے نے کامران کو کالی کالی آنکھوں سے گھورا پھر باہر نکل گیا
اب وہ چوہا سیڑھیوں سے اترا بڑی تیزی سے نیچے جا رہا تھا۔ اس کی رفتار بے انتہا تیز تھی کامران نے ایک جھٹکے سے کندھے سے کمان اتاری اور بڑی پھرتی سے تیر چڑھایا لیکن وہ چوہا دیکھتے ہی دیکھتے میرمیوں سے غائب ہو گیا ۔ قامران حیرت زدہ سا کافی دیر تک سیڑھیوں کو دیکھتا رہا۔ پھر وہ دروازے کی طرف پلٹا۔ کھڑکی جو اس نے اپنے ہاتھ سے کھولی تھی بند ہو چکی تھی۔ کامران نے آگے بڑھ کر پھرکھڑلی کو کھولا۔ کھڑکی کھلتے ہی پھر ایک چوہا اچھل کر آیا۔ اس نے حسب معمول کامران پر ایک نظر ڈالی اور چھلانگ لگا کر سیڑھیوں کی طرف چلا گیا
کامران کمان سنبھالے جیسے ہی سیڑھیوں کی طرف آیا اس نے ایک لمحے کو اسے جاتا دیکھا۔ پھر وہ نظروں ہی نظروں میں سیڑھیوں سے غائب ہو گیا۔
کامران نے پھر دروازے کا رخ کیا۔ کھڑکی پھر سے خودبخود بند ہو چکی تھی کامران نے ٹانگ مار کر کھڑکی کھولی اور تیزی سے پیچھے ہٹ کر کھڑکی کا نشانہ لیا لیکن اس کھڑکی میں چوہا نمودار نہ ہوا۔
چند لمحے انتظار کر کے قامران نے کھڑکی میں قدم رکھا۔ برآمده پار کرنے کے بعد سامنے ایک بہت بڑا صحن آ گیا۔ اس صحن کے بیچ ایک خوبصورت سا تالاب تھا جس میں کنول تیر رہے تھے۔ تالاب کے چاروں طرف در ہی در تھے۔ پورا صحن خالی پڑا تھا۔ وہاں ایک انسان نہ تھا۔ کامران چاروں طرف کا جائزہ لیتا تالاب پار کر کے سیڑھیاں چڑھنے لگا۔ یہ سیڑھیاں دروں کی تھیں جو کافی اونچائی پر بنے ہوئے تھے۔ ہر درے کے سامنے ایک دروازہ تھا اور ہر دروازہ بند کامران ان دروازوں کے سامنے سے گزرنے لگا۔ کچھ دور جا کر اس نے سوچا دروازہ کھول کر ذرا اندر جھانکا جائے۔ آخر ہمت کر کے اس نے ایک دروازے کو آہستہ دھکا لگایا دروازہ اندر سے بند نہ تھا۔ تھوڑا سا کھل گیا۔ کامران نے کھلے دروازے سے اونٹ کی طرح گردن اندر ڈال دی۔
یہ کمرہ اندر سے کافی روشن کشادہ اور ہوادار تھا۔ اس کمرے میں کوئی شخص سو رہا تھا۔ اس کے جسم پر ایک لنگوٹی کے سوا کچھ نہ تھا۔ سر کے بال بے انتہا لمبے تھے اس کا چہرہ چونکہ دروازے کی طرف نہ تھا اس لیے کامران اس کا چہرہ نہ دیکھ سکا۔ کامران نے اپنی گردن باہر نکال کر دروازہ پھر ویسے ہی بند کر دیا۔ دو تین دروازے چھوڑ کر اس نے پھر ایک کمرے میں جھانکا۔ اس کمرے میں بھی اسے ایک لنگوٹی والا سوتا ہوا ملا۔ خبیث چہرہ تھا۔ قامران نے فوراً دروازہ بند کر دیا۔
قاران آگے بڑھا تو اسے اپنے بائیں جانب ایک چھوٹی سی گلی دکھائی دی وہاطمینان سے اس گلی میں داخل ہوگیا۔ گلی میں داخل ہوا تو اسے احساس ہوا کہ یہ عجیب طرز پر بنی ہوئی ہے۔ وہ تھوڑی دور آگے چلتا گلی گھوم جاتی۔ خاصی دیر چکر لگانے کے باوجود گلی کا اگلا سرا اس کے ہاتھ نہ آیا تو وہ جھنجلا کر بہت تیزی سے واپس ہوا تاکہ جلد از جلد اس چکر سے نجات ملے لیکن اس چکر سے نجات کا امکان دور تک نہیں دکھائی دے رہا تھا اور اس کی چھٹی حس اسے بتا رہی تھی کہ بیٹے کامران اس پر پیچ گلی میں تم بری طرح پھنس چکے ہو۔
اس خیال نے اس کے ہوش گنوا دیئے۔ وہ آگے کی طرف تیزی سے دوڑنے لگا۔ دوڑتے وقت بجائے راستہ ملنے کے اس نے محسویں کیا جیسے راستہ تنگ ہوتا جا رہا ہے۔ آخر آگے جا کر دونوں دیواریں اس طرح مل گئیں کہ تیر کا نشان بن گیا۔ کامران گھبرا کر واپس پلٹا۔ تھوڑی دیر کے بعد راستہ پھر تنگ ہونے لگا اور دیواریں آپس میں ملتی دکھائی دیں۔ وہ دھڑکتے دل سے پھر واپس پلٹا۔ کشادہ گلی نے کچھ دیر تو راستہ دیا۔ آخر جلد ہی پھر راستہ تنگ ہونے لگا
کامران بے بسی سے ان چکر باز دیواروں کو دیکھنے لگا۔ کیا وہ زندگی بھر کے لیے ان میں دفن ہوکر رہ جائے گا.....؟
یہ ایک اہم سوال تھا اور فوری جواب کا طالب لیکن یہاں جواب دینے والا کوئی نہ تھا
اس کے چاروں طرف دیواریں تھیں خاموش اور گونگی دیواریں جن کے بیچ وه مدفون ہو جاتا
دیواروں کی اس بھول بھلیوں سے نجات کا صرف ایک ہی راستہ تھا۔ چاندکا جو آڑے وقت اس کی مدد کو آ پہنچتی تھی اس وقت وہی اسے دیواروں کے اس پنجرے سے نجات دلا سکتی تھی
پر چاندکا جانے اس وقت کہاں ہوگی؟
ایک تو مصیبت یہ تھی کہ وہ ضرورت کے وقت اسے خود طلب نہیں کر سکتا تھا۔ اسے اپنی مدد کے لیے نہیں بلا سکتا تھا۔ وہ اپنی مرضی سے آتى مرضی سے جاتی قامران اس معاملے میں بے اختیار تھا۔
"چاند....کا" کامران نے زور سے آواز دی۔ اس کی آواز بند دیواروں میں اس قدر گونجی کہ کامران نے فوراً اپنے دونوں ہاتھ کانوں پر رکھ لیے ورنہ کانوں کے پردے پھٹنے میں دیر نہ لگتی تھی۔ کامران نے اس آواز کے دھماکے کے بعد دوباره چاندکا کو آواز دینا مناسب نہ سمجھا اس قید خانے میں کسی کو آواز دینا ایسا ہی تھا جیسے کسی نپٹ بہرے کو راگ سنانا۔
قامران پر جھنجلاہٹ طاری ہوگئی۔ اس نے دیواروں کو زور سے پیٹ ڈالا۔ ساتھ ہی ادھر ادھر لاتیں مار دیں ۔ اس مار پیٹ کا عجیب نتیجہ نکلا۔ کامران نے تو اپنا غصہ ان دیواروں پر نکالا تھا...سوچا نہ تھا کہ دیواریں اتنی شرم دار ہیں کہ پٹتے ہی اسے راستہ دے دیں گی۔
کامران پلٹتی دیواروں کو بڑے غور سے دیکھ رہا تھا۔ ہلکی سی گڑگڑاہٹ کے ساتھ دیواریں پیچھے ہٹتی جارہی تھیں اور دیوار میں خلا پیدا ہوتا جا رہا تھا۔ اس خلاء سے ملگجی سی روشنی نکل کر ایک چہرے پر پڑ رہی تھی۔ کامران حیرت سے اس صورت کو تک رہا تھا جو خلا سے نمودار ہوئی تھی وہ ایک انتہائی خوبصورت لڑکی تھی۔ ہاتھ میں موم بتی لیے اسے حیرت سے دیکھنے لگی موم بتی کی روشنی میں کامران نے اس کے جسم پر نظر ڈالی تو اچانک اسے تپش کا سا احساس ہوا اس لڑکی کے جسم پر برائے نام لباس تھا۔
"کون ہو تم ؟“ اس لڑکی نے اپنی بڑی بڑی آنکھوں سے گھورا۔
"یہی سوال میں تم سے کر سکتا ہوں۔" کامران نے بڑے اطمینان سے جواب دیا
کامران کا جواب سن کر لڑکی کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی ۔ "اچھا.....جلدی سے اندر آجاؤ۔ پھر ہم دونوں ایک دوسرے سے سوال کر لیں گے" یہ کہہ کر وہ لڑکی مڑگئی
کامران فورا اس کے پیچھے ہو لیا۔ وہ جیسے ہی خلا میں داخل ہوا تو اس کے داخل ہوتے ہی دیواریں خود بخود ایک دوسرے سے مل گئیں۔ پیچھے کوئی راستہ نہ رہا۔
ہاں ! اس کے سامنے ایک طویل راہداری تھی جس کے بائیں جانب دور تک دروازے نظر آرہے تھے۔ ہر دروازے پر ایک مشعل روشن تھی موم بتی والی لڑکی پہلے ہی دروانے پر رک گئی۔
جب قامران اس کے نزدیک پہنچ گیا تو وہ "آؤ" کہہ کر اندر داخل ہوگئی۔
اندر داخل ہوتے ہی اس نیم عریاں لڑکی نے اپنے جسم پر ایک چادر ڈال لی اور اسے اپنے گرد لپیٹتے ہوئے ایک چوکی کی طرف اشارہ کر کے بولی۔ "بیٹھو"
قامران بڑی سعادت مندی سے چوکی پر براجمان ہوگیا۔
"میرا نام گالٹا ہے۔" لڑکی نے سوالوں کے بجائے جوابوں سے سلسلہ شروع کیا۔
"گالٹا؟" قامران نے حیرت سے دہرایا۔ "یہ تو کچھ عجیب سا نام ہے۔ تمہارا نام تو سنہری سونے کی لڑکی جیسا ہونا چاہیئے۔"
"اسے اتفاق ہی سمجھو کہ گالٹا کا مطلب سنہری لڑکی ہی ہے۔“ گالٹا نے مسکراتے ہوئے کہا۔ "ویسے تم کیوں چاہتے ہو کہ میرا نام سنہری لڑکی سا ہو۔؟"
"تمہاری چمک دمک دیکھ کر" کامران نے اسے تعریفی نظروں سے دیکھا۔
"اجنبی، کیا تم اپنا نام نہیں بتاؤ گے؟‘‘ گالٹا نے موضوع سخن تبدیل کر دیا۔
"قامران نام ہے میرا۔“ وہ بولا
"کہاں سے آئے ہو؟“
"غربان سے“
"میں نے اس بستی کا نام پہلے کبھی نہیں سنا۔"
"ہانلں نہیں سنا ہوگا...غربان یہاں سے بہت دور ہے‘‘
"یہاں کیوں آئے ہو؟"
"سیاح ہوں بستی بستی گھومنا میرا کام ہے۔"
"دیواروں کی بھول بھلیوں میں کسی طرح پھنس گئے؟"
"مجھ سے بہتر تم جانتی ہوگی تم نے مجھے ان چکر باز دیواروں سے نجات دلائی ہے۔ میں تو سیدھی گلی جان کر اندر داخل ہو گیا تھا۔ اندر پہنچا تو ہوش گنوا بیٹھا۔"
"میں اگر تم تک نہ پہنچتی تو دنیا کا کوئی آدمی تمہیں ان خونی دیواروں سے نجات نہیں دلوا سکتا تھا۔ تم ان میں زندہ دفن ہو کر رہ جاتے اور میں بھی اتقاقاً تمہاری مدد کو پہنچ گئی جبکہ یہ وقت نہ تو کسی داسی کے آنے کا تھا اور نہ کسی پجاری کے۔"
"پھر تم مجھ تک کس طرح پہنچ گئیں؟"
"لیٹے لیٹے اچانک مجھے بے چینی ہونے لگی۔ دل بار باران دیواروں کی طرف کھنچنے لگا۔ کہ کوئی ہے ان دیواروں کے پیچھے جسے میری مدد کی ضرورت ہے۔ دیواریں ہٹا کر دیکھا تو واقعی تم کو اپنا منتظر پایا" گالٹا اپنے شانوں پر چادر درست کرتے ہوئے بولی۔
تب قامران کو تو چاندکا یاد آ گئی۔ یہ کارنامه اسی کا تھا۔ وہ براہ راست مدد کو نہ پہنچی گالٹا کو بے قرار کر کے اسے آزاد کروا دیا۔
دیوتا کے گھر کے اسرار اب آہستہ آہستہ اس پر عیاں ہوتے جا رہے تھے۔ گالٹا يقينا اسراروں کی اہم کڑی تھی۔ وہ دیوتا کے گھر میں رہتی تھی اور یہاں کی تمام پرپیچ گلیوں سے واقف تھی وہ یہاں کے بھید آسانی سے کھول سکتی تھی۔ بشرطیکہ اس کا دل کامران کے لیے موم ہو جائے۔
"کامران جانے کیا بات ہے کہ میرا دل خودبخور تمہاری طرف کھنچنے لگا ہے۔ یوں لگا.....جیسے تم سے برسوں پرانی ملاقات ہے۔ تم سے ہر اچھی بری بات کرنے کو جی چاہتا ہے۔ کیا تم میری باتیں سنو گے؟ کیا میں تمہیں اپنے دل کا حال سناؤں؟
گالٹا نے کامران کے دل کی بات کہہ دی۔ وہ خوشی سے جھوم اٹھا۔
"ہاں سناؤ۔ ضرور سناؤ۔ میں تمہاری ساری باتیں بڑے غور سے سنوں گا لیکن پہلے یہ بتاؤ کہ ابھی ابھی تم نے کسی داسی اور پجاری کے آنے کا ذکر کیا تھا۔ اس سے تمہاری کیا مراد تھی"
"تم جس راستے سے آئے ہو یہ بے حد چکر دار راستہ ہے۔ اس کا ایک سرا باہر تالاب طرف ہے جدھر سے آئے تھے۔ دوسرا سرا اس کمرے کی پشت تک جاتا ہے جہاں دیوتا کی بہت مورتیاں رکھی ہیں اور تیسرا سرا ایک زمین دوز راستے سے جا ملتا ہے۔ جہاں پانچ بڑے پجاریوں کی رہائش گاہ ہے۔ سورج غروب ہونے کے بعد دیوتا کی داسی کو اسی راستے سے اندر لایا جاتا ہے اور رات کو پجاری بھی اسی راستے سے آتے جاتے ہیں۔"
"جب کوئی دیواروں کے پیچھے ہوتا ہے تو تمہیں اس کی موجودگی کا احساس کس طرح ہوتا ہے۔؟" کامران نے پوچھا۔
سامنے طاق میں رکھی ہوئی گھنٹی کو دیکھ رہے ہو۔ آنے والا جب ایک مقرره تعداد میں ہتھوڑے سے دیوار پر ضربیں لگاتا ہے تو اس کی دھمک سے گھنٹی خودبخود بج اٹھتی ہے تبھی داسیاں اٹھ کر دیواریں کھول دیتی ہیں۔"
"میں نے بھی تو دیواروں کو پیٹا تھا کچھ لاتیں بھی جمائی تھیں۔ کیا اس مار پیٹ کی آواز تم تک پہنچی؟" تامران نے ہنستے ہوئے کہا۔
"نہیں‘‘ کالا نے کہا "گھنٹی صرف اسی صورت میں بجتی ہے جب مخصوص تعداد میں مخصوص جگہ پر تھوڑا برسایا جائے۔“
"کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ دیوتا کے گھر میں تم کس قسم کی خدمات انجام دیتی ہو؟"
"تم اگر نہ بھی پوچھتے تو بھی میں سب کچھ بتا دیتی۔ اب مجھے اس کام سے متلی ہونے لگی ہے۔ میں بہت برې لڑکی ہوں۔ اتنی بری کہ شاید ہی دیوتا مجھے معاف کرے۔“ گالٹا نے اپنی آنکھیں بند کر کے گہری سانس لی۔ "اس دیوتا کے گھر میں کیا کچھ ہوتا ہے سنو گے تو حیران ہو جاؤ کے پچاری تو دیوتا کے پیامبر ہوتے ہیں۔ جو لوگوں کے لیے امن اور شانتی کا دروازہ کھولتے ہی اچھی باتیں بتا کر انہیں برائیوں سے روکتے ہیں۔ انہیں گناہوں سے بچاتے ہیں لیکن یہاں کے پجاری شانتی کے دشمن ہیں۔ وہ خود اتنے غلیظ اور گندے ہیں کہ دوسروں کو پاک و صاف رہنے کی کیا ترغیب دیں گے۔ان درنده صفت پجاریوں سے دیوتا کے گھر کے چاروں طرف پھیلی ہوئی بستیوں کی کسی بھی لڑکی کی عزت محفوظ نہیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ بستی کے لوگ خوشی خوشی اپنی معصوم لڑکیوں کو ان پجاریوں کی بھینٹ چڑھا جاتے ہیں اور پلٹ کر بھی نہیں دیکھتے کہ ان کی لڑکی پر کیا بیتی۔"
"ایسا کیسے ہوسکتا ہے؟‘‘ کامران کے گلے سے گالٹا کی بات نہ اتری۔ اس نے وضاحت چاہی
"اس دنیا میں سب ہو جاتا ہے۔ یہ سنہری لڑکی جو تمہارے سامنے بیٹھی ہے۔ اپنی مرضی سے داسی بننے نہیں آئی تھی۔ خود سے ان درندوں کی بھینٹ چڑھنے نہیں آئی تھی۔ میرے ماں باپ خوشی خوشی مورتی والے کمرے میں تنہا چھوڑ گئے تھے۔ بعد میں جب ان پجاریوں نے میرے ماں باپ کو خبر دی ہوگی کہ تمہاری بیٹی کو دیوتا نے داسی بنانا قبول کرلیا ہے تو وہ خوشی سے پھولے نہ سمائے ہوں گے۔ کاش...! وہ جانتے کہ دیوتا کے گھر میں دیوتا کا کہیں دور تک نام و نشان بھی نہیں۔ یہاں پجاریوں کی مرضی کے بغیر پتا بھی نہیں ہلتا"
"اوہ........... یہاں تو صورتحال خاصی سنگین دکھائی دیتی ہے۔" کامران بولا ۔" تم ابھی اپنے بری لڑکی ہونے ذکر کر رہی تھیں؟"
"ہاں....اس وقت میں بہت بری ہوں۔ انتہائی گندی اور گنہار لیکن اس وقت جب مجھے داسی کے طور پر بھینٹ چڑھایا گیا تھا۔ میں جھرنے کی طرح پاکیزہ اور معصوم تھی۔‘‘ گالٹا دور خلاؤں میں دیکھنے لگی جیسے اسے اپنا گھر یاد آ گیا ہو۔ "ایک صبح میں اٹھی میرے باپ نے کہا کہ اس نے خواب میں دیوتا کو دیکھا ہے جو مجھے اپنی داسی بنانا چاہتا ہے۔ میرا باپ بلکہ پورا گھرانہ ہی کہنا چاہئے اس دن بہت خوش تھا اور میرے دل پر دکھ کے بادل چھائے تھے۔ دیوتا کی داسی بنا کوئی نئی بات نہیں۔ میری بستی کی کئی لڑکیاں دیوتا کی داسی بن کر ہمیشہ آنکھوں سے اوجھل ہو گئی تھیں۔ مجھے دکھ تھا تو صرف یہ کہ میں اپنے سنگینا سے ہمیشہ کے لیے ہو جاؤں گی۔ میں تو اپنے محبوب کی داسی بننا چاہتی تھی اس کے چرنوں میں زندگی گزارنا چاہتی تھی۔ یہ لوگ مجھے کسی دیوتا کی داسی بنا دینا چاہتے تھے۔ اس دن میری آنکھیں دن بھر نیر برساتی رہیں میرا کلیجہ ہی ہوگیا۔ میں آخری بار اپنے سنگینا سے ملی۔ وہ بہت ہی خوش تھا۔ ہائے ! عقیدت کے مارے۔ وہ اگر مجھے ذرا بھی اشارہ کر دیتا تو میں دیوتا کی قسم کھا کر کہتی ہوں کہ دیوتا کی داسی کے بجائے اس کی داسی ہوتی اور آج میں جو کچھ ہوں وہ ہرگز نہ ہوئی۔ میں سنگیتا کی بانہوں میں خوشی سے زندگی گزار رہی ہوتی پر یہ مرد بھی عجیب ہوتے ہیں جسے پیار کرتے ہیں اسے ہی آزمائش میں ڈال دیتے ہیں سنگینا نے صاف صاف مجھے دیوتا کی داسی بنے سے روک دیا ہوتا..........اے کاش؟“ گالٹا کی گھگھی بندھ گئی اور وہ سک سک کر رو پڑی۔
کامران اپنی جگہ سے اٹھا۔ اس نے پہلے تو اس کے جسم به چادر درست کی اور پھر اس کی پیٹھ تھپتھپاتے ہوئے بولا "گالٹا۔۔۔دکھی نہ ہو"
"شاید تم ٹھیک ہی کہتے ہو۔ اب دکھی ہونے سے کیا فائدہ۔ وہ بھی سالوں بعد میں تو صبر سے سب کچھ جھیتلی رہی ہوں لیکن تمہیں دیکھ کر ایک دم زخم ہرے ہوگئے ہیں۔ جانے کیوں پھوٹ پھوٹ کر رونے کو جی چاہتا ہے۔ تمہاری موجودگی میں ایسی کیا بات ہے؟ تم اپنے اپنے سے کیوں گئے ہو؟“ گالٹا نے اسے ڈبڈبائی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
"میں بنیادی طور پر ایک مخلص آدمی ہوں۔ ہمیشہ سچ بولتا ہوں اور گناہوں کی آلودگیوں سے پاک ہوں۔ شاید اسی لیے تمہیں دیکھنے میں اپنا اپنا سا لگتا ہوں اور لوگ میرے ساتھ ترجیحی سلوک روا رکھتے ہیں۔" کامران نے بھی صفائی سے اپنی شخصیت کی پرتیں کھولیں اور پھر بولا۔ ”گالٹا تم مجھے بهی اچھی لڑکی دکھائی دیتی ہو۔ تم نے اگرچہ اپنے برے ہونے کا ذکر کیا ہے مجھے نہیں معلوم کہ وہ برائیاں کس قسم کی ہیں۔ اس کے باوجود میں سمجھتا ہوں کہ تم میں ابھی شرافت اور نیکی باقی ہے۔ تمہاری روح بیدار ہے۔ داسی بننے کے بعد تم پر کیا گزری؟ ذرا تفصیل سے مجھے بتاؤ گی؟"
"سنگیتا کی بے حسی نے مجھے مایوس کردیا۔ زندگی سے میرا اعتماد اٹھ گیا۔ میں نے جب سوچا تیرا محبوب تیرے ماں باپ اور بہن بھائی سب تجھے داسی بنا دینے پر تلے ہوئے ہیں اس اعزاز پر خوش ہیں تو انکی اور دیوتا کی ناراضگی کیوں مول لیتی ہے۔ تو بھی خوشی سے داسی بنے پر رضامند ہو جا اور میں پوری خوشدلی سے دیوتا کی داسی بننے کے لیے راضی ہوگئی۔ رسم کے مطابق میرے جسم کو خوشبوؤں میں نہلایا گیا۔ میرے بالوں اور ہاتھوں میں گجرے پہنائے گئے اور یوں میں سج بن کر دیوتا کی داسی بننے چلی۔ میرے ساتھ میرے ماں باپ بہن اور وہ بزدل سنگینا بھی تھا۔ میں یوں بن کر گھر سے نکلی تو میرے دل سے ہوک اٹھی۔ کاش ! اس وقت میرا رخ دیوتا کے گھر کی بجائے سنگینا کے گھر کی طرف ہوتا۔ اس خیال کو میں نے دل ہی دل میں کچل دیا اور نفرت سے سنگینا کی طرف دیکھا۔ وہ بدھو اپنی گالٹا کو نہ سمجھ سکا تھا اس وقت میری نظروں کا مطلب کیا سمجھتا۔"
"کسی سمجھدار عورت کو کوئی نا سمجھ کر ٹھکرا جائے تو اس عورت کی زندگی بڑے عذاب میں گزرتی ہے۔ ویسے میں خود بھی عورتوں کے معاملے میں خاصا بدھو واقع ہوا ہوں۔‘‘ کامران نے شرارتی لہجے میں کہا۔
"کیا تم شادی شدہ ہو؟‘‘ گالٹا نے پوچھا۔ "ہاں...........میں شادی شدہ تھا۔“
"تھا۔۔۔۔؟" گالٹا نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔
"میری بیوی مر گئی ہے" کامران نے جواب دیا۔
"کیسے؟"
"میری کہانی بہت طویل ہے....اور جب بھی وقت ملا تو میں ضرور سناؤں گا۔۔۔۔فلحال اپنی کہانی جاری رکھو۔ اچھا پھر تم داسی بننے گھر سے چلیں“
"ہاں میں گھرسے چلی اور لاتعداد سیڑھیاں طے کرتی ہوئی دیوتا کے گھر آپہنچی۔ اس وقت سورج لال انگارہ ہو کر پہاڑوں کی اوٹ میں جارہا تھا۔ پنچھی میرے سروں پر سے گزر کر اپنے گھونسلوں کی طرف اڑ رہے تھے۔ دیوتا کے گھر کے دروازے میں قدم رکھتے ہی کئی پجاری میرے قریب آئے انہوں نے منہ ہی منہ میں کچھ اشلوک پڑھے اور میرے منہ پر بدبودار پھونکیں مار کر میرے ماں باپ کو داسی بنے کی مبارکباد دینے لگے۔ پھر میں تالاب پار کر کے برآمدے میں پہنچی اور وہاں سے مجھے دیوتا کے کمرے میں پہنچایا گیا۔ اس کمرے کے دروازے پر سب کو روک دیا گیا کیونکہ دیوتا کو فالتو لوگوں کی موجودگی ہرگز برداشت نہ تھی۔ میں اکیلی کمرے میں داخل ہوئی۔ سارے پجاری بھی میرے گھر والوں کے ساتھ باہر ہی رہ گئے۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی میں نے اپنے پیچھے دروازہ بند ہونے کی آواز سنی۔ اب اس کمرے میں دریوتا کی مورتی اور میرے سوا کوئی نہ تھا۔ کمرے میں دھندلا ہو منظر تھا اور تازہ پھولوں کی خوشبو ہر سمت سے آتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔ میں نے دیوتا کے بڑے مجسمے کو جو دیوار میں نصب تھا بڑے غور سے دیکھا۔ میں سچ کہتی ہوں مجھے دیوتا کا مجسمہ ہے جان مورتی سے زیادہ نہ لگا لیکن اس باغی خیال کو میں نے فوراً ہی جھٹک دیا اور پورے احترام سے دیوتا کے سامنے بیٹھ گئی۔ پھر میں نے اپنی پیشانی اس کے پتھریلے قدموں میں رکھ دی اور آہستہ آہستہ آنکھیں بند کر لیں۔ میرا خیال تھا کہ دیوتا خود مجھ سے ہمکلام ہوگا لیکن کچھ دیر گزر جانے کے بعد بھی کے پتھریلے ہونٹوں میں حرکت نہ ہوئی تو پھر مجھ سے رہا نہ گیا ۔ میں اپنی پیشانی اس کے قدموں میں رکھے بولی۔ "اے دیوتا۔۔۔۔! اے نیکی اور بدی کے آقا۔۔۔۔! تیری خواہش تھی کہ میں تیرے قدموں میں جا نثار ہو جاؤں۔ میں اس خواہش کے احترام میں تیرے قدموں میں آ بیٹھی ہوں۔ مجھے اپنی داسی بنا دے اور ابدی زندگی بخش دے تا کہ میں بھی خوش نصیبوں میں سے ہو جاؤں۔" اس کے علاوہ بھی میں نے کچھ کہا ہوگا لیکن اب ساری باتیں اچھی طرح یاد نہیں۔ ہاں۔۔۔! یہ یاد ہے کہ باتیں کرتے کرتے میں نے کمرے میں دھواں پھیلا ہوا محسوس کیا۔ یہ ایک خوشگوار دھواں تھا۔ میرا جی چاہا کہ میں لمبی لمبی سانسیں لے کر اپنے پیٹ میں سارا دھواں اتار لوں۔ میں نے ابھی تک اپنی پیشانی دیوتا کے قدموں سے نہیں اٹھائی تھی۔ مجھ پر ایک نشہ سا طاری ہوتا جا رہا تھا۔ تب اچانک میں نے دیوتا کے قدموں میں جبنش محسوس کی۔ میں نے جلدی سے سر اٹھایا تو ایک عجیب منظر سامنے تھا۔ دیوتا کا مجسمہ دو حصوں میں تقسیم ہو چکا تھا اور اس خلا سے ہیبت ناک پجاری نکل کر میری طرف بڑھ رہے تھے۔ یہ کھیل ختم ہونے میں چند لمحے لگے۔ اس نشہ آور دھوئیں نے اپنا کام کر دکھایا اور میں نے خود کو ان پجاریوں کی بانہوں میں محسوس کیا ۔ پھر مجھے ہوش نہ رہا۔" گالٹا چند لمحے سانس لینے کے لیے رکی۔
"حیرت ہے۔ ان بدمعاش پجاریوں نے سیدھے سادھے لوگوں کو دھوکا دینے کے لیے کھیل بنایا ہوا ہے۔" کامران نے کہا۔ ’’گالٹا یہ ٹھیک ہے کہ دیوتا کی مورتی دو حصوں میں تقسیم ہوئی مورتی سے پجاری برآمد ہوئے اور وہ تمہیں خاموشی سے اٹھا کر لے گئے اور مورتی پھر اپنی جگہ آ گئی لیکن باہر دروازے پر تمہارے ماں باپ بہن بھائی اور وہ سنگینا بھی موجود تھا ۔ کیا انہوں نے تمہارے بارے میں نہیں پوچھا"
"مجھے نہیں معلوم........اس لیے کہ اس دن سے آج تک میں نے ان لوگوں کی شکل نہیں دیکھی ہے انہوں نے میرے بارے میں جاننے کی ضرور کوشش کی ہوگی اور باہر کھڑے پجاریوں نے میرے غائب ہونے کے بعد دیوتا کا کمرہ انہیں دکھا کر انہیں مبارکباد دی ہوگی کہ تمہاری بیٹی کو دیوتا نے اپنا لیا اسے داسی بننا قبول کر لیا۔ اب وہ ہمیشہ کے لیئے آسمانوں پر چلی گئی۔ میرے ماں باپ بہن بھائی یہ سن کر خوشی سے پھولے نہ سمائے ہوں گے کہ دیوتا نے ان کی بیٹی کو شرن میں لے کر ان کا رتبه بڑها دیا ۔ اب وہ بھی خوش نصیبوں میں سے ہو گئے۔ کاش۔۔۔! ان میں سے کسی نے بھی عقل سے کام لیا ہوتا لیکن مذہب کے معاملے میں عقل کہاں کام کرتی ہے اور اگر کرے بھی تو لوگ اس فراست کو ن دیوانگی میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ ہائے عقیدت کے مارے لوگ"
"اچھا پھر جب تمہیں ہوش آیا تو تم نے خود کو کہاں پایا؟"
"میری جب آنکھ کھلی تو میں نے خود کو ایک انتہائی نرم و ملائم بستر پر پایا۔ پھر میں نے چہرے پر بدبودار سانسیں محوس کیں۔ ایک لحیم شحیم قسم کا بد صورت پجاری میرے اوپر جھکا ہوا تھا۔ میں نے ایک دم اٹھنے کی کوشش کی تو پجاری نے فوراً ہی کچھ پڑھ کر میرے اوپر پھونک ماری۔ پھونک مارتے ہی میرے جسم میں اکڑن پیدا ہو گئی۔ وہ پتھر کا بن گیا۔ میں باوجود کوشش کے اپنے جسم کو حرکت نہ دے سکی۔ میری اس بے بسی پر اس خبیث نے زور دار قہقہ لگایا اور بولا۔ ”میں دیوتا کا اوتار ہوں اگر تم نے اوتار کی مرضی کے خلاف کوئی کام کیا یا اس کا کہا نہ مانا تو دیوتا تم سے ناراض ہو جاۓ گا"
"پھر کیا ہوگا؟“ میں نے تمسخرانہ انداز میں پوچھا۔
"تمہیں بھسم کردیا جائے گا" پجاری اپنے دانتوں کی نمائش کرتا ہوا بولا۔
اور اگر میں نے اس کے اوتار یعنی تمہاری بات مان لی تو؟“ میں نے پوچھا۔
"تو تم زندگی بھر یہاں عیش کروگی۔ جو چاہو گی وہ پاؤ گی۔ "
"میرا کام کیا ہوگا؟" "صرف میری خدمت" اس خبیث نے مسکرانے کی کوشش کی اس کی آنکھوں میں ہوس ٹپک رہی تھی۔ "اور اگر تم نے خوشی سے میری خدمت کرنا قبول نہ کیا تو اس گھر میں رہنے والے تمام پجاریوں کی تمہیں خدمت کرنی پڑے گی اور یہ کرنے کے لیے تم مجبور ہوگی۔ نمونہ تم نے ابھی دیکھ ہی لیا ہے۔ میری ایک پھونک تمہیں پتھر کا بناسکتی ہے۔"
دیوتا کے گھر کے تمام پجاریوں کا ذکر سن کر میری روح فنا ہوگئی۔ ان سارے بھالوؤں کی خدمت کرنے سے کہیں بہتر تھا کہ میں اسی کی ہو کر رہ جاؤں۔
جو اپنے رکھ رکھاؤ سے مہا پجاری لگتا تھا اور ویسے بھی میں ان کی قید میں تھی۔ ان کا ہر حکم ماننے کے لیے مجبور تھی"
"پھر تم اس مها پچاری کی دای بن گئیں ان کے تصرف میں آ گئیں۔ اس کی ہو کر رہ گئیں۔؟" قامران نے پوچھا۔
"ہاں....قسمت کے لکھے کو کون مٹا سکتا ہے۔ میرے جیون میں یہ دکھ لکھے تھے سو سہہ رہی ہوں۔"
"گالٹا....! کچھ دیر پہلے تم نے مجھے ان بھول بھلیوں کے بارے میں بتایا تھا کہ یہ راستے کہاں نکلتے ہیں۔ تم اس بیرونی راستے سے بھی واقف ہو جس سے میں اندر آیا ہوں۔ پھر تم نے یہاں سے نکلنے کی کوشش نہیں کی؟" سوال ہوا ۔
"ہاں....! ایک بار یہ حماقت کر چکی ہوں۔“
"حماقت؟‘‘ کامران نے اسے الجھی ہوئی نظروں سے دیکھا۔
"میں ایک مرتبہ بڑے اہتمام سے یہاں سے نکلی یہ سوچ کر کہ کچھ دیر بعد آزاد فضا میں سانس لوں گی لیکن ہوا یہ کہ میں باہر نکلنے کی بجائے پانچ پجاریوں کی رہائش گاہ میں پہنچ گئی۔ یہاں سے نکلنے کا کیونکہ یہ پہلا موقع تھا اس لیے پانچوں پجاریوں نے مجھے تنبیہ کر کے چھوڑ دیا اور میں اپنی بات پر کئی دن تک پچھتاتی رہی۔ قصہ مختصر یہ ہے کہ میں یہ بات تو جانتی تھی کہ یہ راستے کہاں جاتے ہیں لیکن میں ان کے محل وقوع سے واقف نہیں ہوں اور میرا خیال ہے کہ سوائے پجاریوں کے تمام راستوں سے کوئی واقف نہیں اور ہو بھی نہیں سکتا۔ یہ راستے اس قدر چکر دار ہیں کہ راستے میں کئی دیواروں کو کھولنا بند کرنا پڑتا ہے کہ باہر کام تو بڑی بات ہے اندر آنا بھی مشکل ہے۔ ویسے اس کا تجربہ تمہیں خود بھی ہو چکا ہے۔ تم جس آسانی سے اندر گئے کیا اتنی آسانی سے باہر آسکے؟
"نہیں............اور اچھا ہی ہوا کہ مجھے واپسی کا راستہ نہ ملا۔“
"کیوں...؟ اچھا کیوں ہوا....؟‘‘ گالٹا نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
"پھر تم سے ملاقات کس طرح ہوتی....؟
"مجھ سے ملاقات اتنی اہم نہ تھی اب یہ سوچو کہ تم باہر کس طرح نکلو گے۔ کیا تم اس حقیقت سے واقف ہو کہ اب زندگی بھر اس قید خانے سے نہ نکل سکو گے۔۔۔۔؟
"نہیں بلکہ اس کے برخلاف میں اس حقیقت سے واقف ہوں کہ میں بہت آسانی سے نکل جاؤں گا اور اگر تم یہاں سے جانا چاہو گی تو تمہیں بھی اپنے ساتھ لیتا جاؤں گا۔" کامران اعتماد سے کہا ۔
"کچھ پراسرار قوتوں کے مالک ہو کیا؟‘‘ گالٹا نے اسے گہری نظروں سے دیکھا۔
"نہیں..........ہاں اعتماد اور یقین کی قوت سے ضرور مالا مال ہوں۔"
"یہ کون سی قوتیں ہیں ان کا نام تو میں پہلی بار سن رہی ہوں۔"
"ان قوتوں کے آگے دنیا کی تمام تر قوتیں ہیچ ہیں"
"کہیں یہ خود فریبی تو نہیں۔"
"میں بڑا عملی آدمی ہوں۔ خواب و خیال کی دنیا سے کوسوں دور قامران نے اسے گہری، نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا ۔ "ایک بات تو بتاؤ جب میں دیوتا کے گھر میں داخل ہوا تو مجھے ایک بھی پجاری چلتا پھرتا نظر نہیں آیا البتہ کچھ لنگوٹی والے اپنے کمروں میں سوتے ضرور ملے۔ کیا دیوتا کے گھر سرج دیر سے نکلتا ہے؟"
"قامران۔۔۔! یہاں کی راتیں جاگتی ہیں اور دن سوتے ہیں۔" گالٹا نے ایک ٹھنڈی آہ بھر کر کہا "دراصل یہاں پوجا کا وقت سورج ڈوبنے سے شروع ہوتا ہے۔ شام کے وقت دیوتا کے گھر کی رونق دیکھنے والی ہوتی ہے۔ دیوتا کے گھر کے چاروں طرف پھیلی ہوئی بستیوں کے رنگ برنگے مرد یہاں رکتے ہیں۔ اس دیوتا کے درشن کے لئے جس کے وجود کو یہ پجاری جب چاہتے ہیں دو حصوں میں تقسیم کر دیتے ہیں۔ پتھر کے اس بےجان ٹکڑے کو یہ معصوم لوگ جانے کیا سمجھتے ہیں۔ ان لوگوں کا کیا یہاں آنے سے پہلے میں خود بھی اس دیوتا کو اپنی تمام پریشانیوں کا حل سمجھتی تھی۔ اے کاش میں بستی کے معصوم لوگوں کو اس دیوتا کی بے بسی اور ان خبیث پجاریوں کے کرتوت بتا سکوں۔ ہاں۔۔۔! تو میں تمہیں بتا رہی تھی کہ جب پوجا کا وقت ختم ہو جاتا ہے تو دیوتا کے گھر کے ان حصوں میں زندگی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ یہاں سے وہاں تک کمرے ہیں کمروں جن میں داسیاں قید ہیں تو پجاری آتے ہیں اور کسی بھی داسی کا ہاتھ پکڑ لے جاتے ہیں۔"
"اور تم؟"
"میں صرف بڑے پجاری کے لیے مخصوص ہوں۔ جب اس کا جی چاہتا ہے اپنے چیلوں کے ہاتھ مجھے بلوا لیتا ہے۔" گالٹا نے بڑے سپاٹ لہجے میں کہا۔ "اس کے علاوہ ایک اور کام مجھے کرنا ہوتا ہے جو انتہائی مکروہ ہے۔"
"وہ کیا؟"
"وہ یہ کہ جب یہ شیطان پجاری کسی نئی لڑکی کو داسی بنا کر اپنے جال میں پھنسا لیتے ہیں تو آنے والے وحشت ناک وقت کے لیے اس داسی کو ذہنی طور پر تیار کر کے اس کی تربیت اور مرد کو لبھانے کا طریقہ سکھانا میری ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ یہ کام مجھے دل پر پتھر رکھ کر کرنا پڑتا ہے۔ کیا کروں مجبوری ہے۔"
"اچھا اب تم یوں کرو کہ باہر جا کر تمام داسیوں کے دروازے باہر سے بند کر آؤ کافی وقت گزر گیا ہے۔ ابھی وہ سوتی ہوں گی ممکن ہے کوئی جاگ جائے تو باہر نہ آ سکے۔ " قامران نے کہا۔
"تم کیا کرنا چاہتے ہو...؟"
"فلحال تم میرے کہنے پر عمل کرو اور مجھے ایک لمبی سی رسی لا کر دو"
"تمہارے ذہن میں کیا ہے کچھ بتاؤ تو سہی۔؟“
"میں یہاں سے نکلنے کا راستہ تلاش کرنا چاہتا ہوں۔“
"رسی کا کیا کرو گے....؟"
"تمہارے پاس رسی ہے.....؟" کامران نے فیصلہ کن انداز میں پوچھا۔
"ہاں مل جائے گی....؟"
"بس پھر جلدی جاؤ اور داسیوں کے دروازے بند کر آؤ“
"دروازے بند کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ کوئی بھی داسی دوپہر سے پہلے نہیں اٹھے گی۔"
"اور اگر کوئی اٹھ کر باہر آ گئی تو....؟“
"تو آجانے دو میں اس سے نمٹ لوں گی۔ قید کی زندگی کسے پسند ہوگی بھلا۔ اسے پھسلا کر اپنا ہمنوا بنایا جا سکتا ہے کہ ہم یہاں سے فرار ہونے کا راستہ تلاش کر رہے ہیں۔"
"ٹھیک ہے۔" کامران کی سمجھ میں بات آ گئی۔ "اچھا پھر مجھے رسی دو“
گالٹا بغیر کچھ جواب دیئے چادر درست کرتی ہوئی اٹھی اور ابھی اس نے بغلی کمرے کا دروازہ کھولا ہی تھا کہ طاق پر رکھی ہوئی گھنٹی اچانک سے بج اٹھی۔ گھنٹی کے بجنے کا مطلب تھا کہ دیواروں کے پیچھے کوئی ہے اور اندر آنا چاہتا ہے۔ گھنٹی کی آواز سن کر گالٹا کے چہرے پر زردی پھیل گئی۔ وہ لرزتے قدموں سے کامران کے قریب آئی اور بڑی مشکل سے بولی "اس وقت کون آگیا“
کامران کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہ تھا۔ اس نے پورے اطمینان سے گالٹا کی طرف دیکھا اور پراعتماد لہجے میں بولا۔ "گھبراؤ مت ورنہ سارا کھیل بگڑ جائے گا"
"میری سمجھ میں یہ بات نہیں آرہی کہ اس وقت کون یہاں آ گیا۔۔؟ اس وقت یہاں کوئی نہیں آسکتا کیونکہ سب جانتے ہیں کہ یہ وقت باسیوں کے سونے کا ہے" گالٹا نے خود پر قابو پاتے ہوئے کہا
"اچھا جاؤ دیکھو تو دیواروں کے پیچھے کون ہے۔؟" کامران نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا ”میں اندرونی کمرے میں چھپ جاتا ہوں جو بھی ہو اسے خوبصورتی سے ٹرخا دینا۔ اگر وہ باہر سے نہ ٹرخے تو بلاجھجک اندر لے آنا لیکن اس بات کا خیال رکھنا کہ وہ اندرونی کمرے میں داخل نہ ہو سکے"
"اچھا ٹھیک ہے۔۔۔تم کمرے میں جاؤ"
کامران خاموشی سے کمرے کے اندر چلا گیا۔
گالٹا نے دروازہ بند کیا اور بولی ’’ قامران۔۔۔۔! باہر سے کنڈی لگا دوں۔۔۔۔؟"
"ہاں، لگا دو" اندر سے آواز آئی۔
گالٹا نے تیزی سے کامران کے کمرے کی کنڈې چڑھائ، اپنے سنہرے جسم سے چادر اتار لی ایک بڑی سی موم بتی اٹھائی اور دو چار گہرے سانس لے کر خفیہ دروازے کی طرف بڑھی۔ دیواریں ہٹیں تو گالٹا نے موم بتی کی روشنی میں ایک خبیث صورت کو اپنے جسم کی طرف بھوکی نظروں , سے دیکھتا پایا۔ یہ شومگا تھا۔ بڑے پجاری کا خاص چیلا۔
" شومگا کیا بات ہے؟" گالٹا نے اسے اندر آنے کا راستہ نہ دیا اور اپنے ہونٹوں پر تبسم بکھیر کر بولی " کیا بڑے پجاری کا کوئی پیغام لے کر آئے ہو؟"
"پیغام تو میں اپنا لے کر آیا ہوں وہ توندو پڑا سوتا ہے۔“
" شاید تم اس کی غفلت سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہو؟“
"وہ اگر جانتا بھی ہوا تو میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتا میں اس سے زیادہ طاقتور ہوں۔ اس سے زیادہ علم جانتا ہوں۔ آج سے بڑا پجاری میں ہوں۔ اس کی تمام داسیاں آج سے میری ہیں۔ تم بھی ہو............چلو اندر"
"شاید تم نشے میں ہو اورنہیں جانتے کہ تمہاری اس حرکت کا کیا نتیجہ نکلے گا....بڑا پیاری بھون کر رکھ دے گا تمہیں۔"
"وہ توند تو خیر مجھے کیا بھونے گا البته تم اپنے حسن کی آگ جلا کر مجھے ضرور خاکستر کر سکتی ہو" شومگا نے جھوم کر اپنا ہاتھ لہرایا اور پھونک مار کر موم بتی گل کر دی۔
گالٹا تیزی سے پیچھے ہٹی۔ شومگا بھی یہی چاہتا تھا۔ اس نے اندر آ کر پہلے دیواریںبند کیں پھر گالٹا کا ہاتھ پکڑ کر کھینچتا ہوا کمرے کی طرف بڑھا۔ کمرے کے دروازے پر آکر شومگا نے گالٹا کو زور سے دھکا دیا۔ وہ فرش پر اوندھے منہ گرتے گرتے بچی۔ اس اثناء میں شومگا دروازہ بند کر کے کنڈی چڑھا چکا تھا اور بازو پھیلاۓ خباثت سے ہنستا ہوا آگے بڑھ رہا تھا۔ گالٹا نے چادر سے اپنا عریاں جسم ڈھک لیا اور غصے سے بولی۔ " شومگا۔۔۔! ہوش میں آؤ"
"ہوش اب کہاں.....! ہوش تو تم نے اڑادیے۔“
"کیوں اپنی موت کو دعوت دیتے ہو۔ بڑے پجاری کو یہ سب معلوم ہو گیا تو تمہاری بوٹی بوٹی کر دے گا۔"
شومگا نے جھپٹ کر گالٹا کا ہاتھ تھام لیا اور اسے زور سے دباتے ہوئے بولا۔ ” موت کو نہیں آج تو میں نے زندگی کو دعوت دی ہے۔ تمہیں اگر اس توندو کا اتنا ہی خیال ہے تو خوب چیخو چلاؤ کہ وہ تمہاری مدد کو آپہنچے"
پھر شومگا نے گالٹا کا ہاتھ پکڑ کر زور سے اپنی طرف کھینچا۔ اس جھٹکے کی تاب نہ لا سکی اس کے سینے سے آلگی۔ پھر اس ریچھ نے ہوس کے پنجے اس کے ریشمی بدن میں گاڑنے چاہے کہ اچانک دروازے کی کنڈی خود بخود ٹوٹ کر دور جاگری اور دھاڑ سے دروازہ کھلا۔
شومگا نے چونک کر دیکھا تو دیکھتا رہ گیا۔ دروازے پر دیوتا کے گھر کا سب سے بڑا پجاری موجود تھا۔ گالٹا شومگا سے اپنا ہاتھ چھڑا کر بڑے پچاری کی طرف بھاگی اور اس سے کچھ کہنا چاہا بڑے پجاری نے ہاتھ کے اشارے سے اسے بولنے سے روک دیا اور خود بولا۔ ”میں سب جانتا ہوں"
پھر بڑا پجاری خونخوار نظروں سے شومگا کو دیکھتا ہوا آگے بڑھا۔ بڑے پجاری کو دیکھ کے شومگا کی سٹی گم ہو گئی تھی۔
دوخجل سا سر جھکائے کھڑا تھا۔ ہڑے پجاری نے اس کے نزدیک جا کر اپنے پاؤں سے کھڑاؤں اتاری اور تاڑ تاڑ اس کے سر پر برسانے لگا۔
"اب تو کبھی ایسی حرکت کرے گا؟" بڑے پجاری نے ہاتھ روک کر پوچھا۔
"نہیں گرو جی، کبھی نہیں۔" شومگا سر جھکائے بولا۔
"جا پھر نکل یہاں سے۔ اس مرتبہ اتنی سزا کافی ہے۔ آئندہ تجھے زندہ نہیں چھوڑوں گا ۔"
شومگا اپنے دل میں نفرت کی چنگاری چھپاۓ فورا ہی گالٹا کے کمرے سے نکل گیا۔
شومگا کے جانے کے بعد بڑے پجاری نے اسے مسکرا کر دیکھا اور بولا۔ ”اچھا میں چلتا ہوں تم آرام کرو"
بڑے پجاری کے جانے کے بعد گالٹا نے جلدی سے خفیہ دروازہ بند کیا اور کمرے میں موجود اندرونی دروازہ کھولا۔ کامران مسکراتا ہوا دروازے سے برآمد ہوا۔ گالٹا اپنا دل تھام کر چوکی پر بیٹھی ایک بڑی مصیبت اس کے سرسے ٹل چکی تھی۔
کامران اس کمرے میں آیا تو اس کے نتھنوں نے ایک مانوس سی خوشبو محسوس کی۔۔۔۔کنوارے بدن کی خوشبو۔۔۔۔قامران نے گہری سانس لے کر چاروں طرف دیکھا۔ چاندکا کا دور دور تک پتا نہ تھا
"یہ خوشبو کیسی ہے؟‘‘ گالٹا اچانک گہرے گہرے سانس لے کر بولی۔
"تم بھی محسوس کر رہی ہو اس خوشبوکو؟"
"ہاں یہ تو بڑی مسحور کن خوشبو ہے لیکن بڑا پجاری تو کبھی خوشبو استعمال نہیں کرتا...یہ آج کیا ہوا؟‘‘ گالٹا نے تعجب سے گردن ہلائی۔
تب تامران کو یہ اندازہ کرنے میں دیر نہ لگی کہ آنے والا اصل میں بڑا پجاری نہ تھا بلکہ پجاری کے روپ میں چاندکا تھی جو اپنا کام کر کے بڑے آرام سے واپس چلی گئی تھی۔
''واہ بڑے پجاری جی خوب ہاتھ دکھایا۔" کامران نے ٹوٹی کنڈی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا "کاش۔۔۔۔تم مجھے بھی اپنے ساتھ لے جاتے"
"دیوتا کا شکر ادا کرو کہ بڑے پجاری کو تمہاری بھنک نہ ملی" گالٹا نے مسکراتے ہوئے کہا۔ "اس کی آمد پر میری تو جان ہی نکل گئی تھی۔"
"اور میری جان اب نکلی ہے اس کے جانے پر"
" اتنا ہی افسوس ہے اس کے جانے کا تو آؤ میرے ساتھ میں تمہیں اس سے ابھی ملوا دیتی ہوں"
"تم پتہ نہیں مجھے کس سے ملوا دوگی۔ میں جس سے ملنا چاہتا ہوں وہ تو اپنی خوشبو چھوڑ کر جا چکا"
"پتہ نہیں تم کیسی بہکی بہکی باتیں کر رہے ہو"
"ہاں، اس کی خوشبو واقعی مجھے بہکا دیتی ہے۔"
"کس کی؟"
"اس کی جو مجھے صدیوں سے تلاش کرتی پھر رہی ہے۔"
"میری سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تم کہ تم کیسی باتیں کر رہے ہو؟“
"تمہاری سمجھ میں آ بھی نہیں سکتا‘‘ کامران نے اسے غور سے دیکھتے ہوۓ کہا۔ " تم ان کو چھوڑو اور مجھے رسی لا کر دو تاکہ فرار کا راستہ تلاش کیا جا سکے۔"
"مجھے ڈر لگتا ہے کہیں بڑا پچاری پھر نہ آجائے"
"نہیں...وہ اب نہیں آئے گا۔ وہ یہاں سے مطمئن ہو کر گیا ہے۔"
"تم رسی سے راستے کس طرح تلاش کرو گے؟"
"تم مجھے رسی تو لا کر دو پھر خود بخود تمہاری سمجھ میں آ جائے گا۔"
"رسی؟‘‘ گالٹا یہ کہہ کر کچھ سوچنے لگی۔ جیسے رسی کی جگہ یاد کر رہی ہو۔ ”ہاں ذرا اس چوکی کے نیچے دیکھنا"
کامران نے گالٹا کی بات سنتے ہی فورا چوکی سے جھانکا تو خوشی سے اس کی باچھیں کھل گئیں۔ اسے جس قسم کی رسی چاہیے تھی وہ چوکی کے نیچے موجود تھی۔ اس نے چوکی کے نیچے سے رسی نکالی اور تیزی سے اسے کھولنے لگا۔
گالٹا اسے بڑی توجہ سے دیکھ رہی تھی۔
"بس کام بن گیا یہ تو خاصی بڑی رسی ہے لیکن تم نے اسے کس مقصد کے لیے یہاں رکھا تھا؟"
"یہ تو شروع ہی سے اس کمرے میں موجود ہے۔ مجھے نہیں معلوم اسے کس نے کمرے میں رکھا اور کیوں رکھا۔"
"جس نے بھی رکھا سائری دیوتا اس کا بھلا کرے۔‘‘ کامران نے رسی کا ایک سرا کمر سے ہ باندھتے ہوئے کہا۔ "اب دوسرا سرا تم اپنے ہاتھ میں تھام لو اور خفیہ دروازہ کھول دو۔ میں جا کر راستہ تلاش کرتا ہوں۔ اس رسی کا فائدہ یہ ہوگا کہ میں راستے نہیں بھولوں کا اگر بھولوں گا تو رسی کے سہارے تم تک پہنچ جاؤں گا...کہو کیسا خیال ہے؟"
’’لاجواب" گالٹا نے مسکراتے ہوئے کہا۔
"اچھا مجھے اب کوئی ایسی چیز چاہیے جس سے میں دیواروں پر پہچان کے لیے نشان لگا سکوں"
"ایسی تو میرے پاس کوئی چیز نہیں۔"
"تم کاجل استعمال کرتی ہو؟“
"ہاں کرتی ہوں۔"
"بس پھر تھوڑا سا کاجل مجھے دے دو"
"ٹھیک ہے۔“ گالٹا اٹھتے ہوئے بولی۔ پھر اس نے مٹی کی ایک بے حد خوبصورت سرمہ دانی اس کے سامنے لا کر رکھ دی۔ ’’لو‘‘
کامران نے ایک انگلی سے تھوڑا سا کاجل نکال کر اپنی ہتھیلی میں لگا لیا اور بولا۔ " اب میں تیار ہوں۔“
"تمہیں اگر باہر نکلنے کا راستہ مل گیا تو تم باہر کے باہر چلے جاؤ گے یا واپس آؤ گے؟"
"واپس آؤں گا۔ ابھی تم سے بہت سی باتیں کرنی ہیں۔"
"ٹھیک ہے میں تمہارا انتظار کروں گی۔"
پھرگالٹا خفیہ دروازے کی طرف بڑھی۔ اس نے خفیہ دروازہ کھولا اور بے قراری سے بولی "قامران............ذرا جلدی واپس آنا‘‘
"اچھا۔“ کہہ کر کامران نے خفیہ دروازے سے باہر قدم رکھا اور تنگ راستے پر بڑھنے لگا۔ آگے جا کر راستہ کشادہ ہوگیا۔ تھوڑا آگے ہونے پر ایک دیوار سامنے آئی لیکن دیوار کے بائیں اور دائیں جانب راستہ موجود تھا۔ کامران نے بائیں جانب والا راستہ اختیار کیا راستہ آگے جا کر مسدور ہو گیا تھا۔ قامران پھر واپس پلٹا اور اس مرتبہ اس نے دائیں جانب والا راستہ اختیار کیا۔ یہ راستہ ٹھیک تھا۔ اسے راہ ملتی گئی۔
یہ راستہ گولائی میں تھا۔ قامران گول گول گھومتا جا رہا تھا کہ اچانک یہ راستہ پھر دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ کامران نے پھر بائیں طرف چلنا پسند کیا۔ یہ ایک بڑا راستہ تھا۔ اس راستے کوعبور کرنے کے بعد پھر دیوار نظر آئی۔ نزدیک پہنچا تو دائیں جانب راستہ موجود تھا اور یہ راستہ اسے مخالف سمت میں لے جا رہا تھا جیسے وہ واپس جا رہا ہو۔ کچھ دیر چلنے کے بعد پھر چکر دار راسته آیا۔ اس طرح کامران گولائیوں میں گھومتا لمبے راستوں پر چلتا۔ کبھی آگے جاتا، کبھی واپس پلٹتا باہر کا راستہ تلاش کرنے میں مصروف تھا۔ آخر ایک موڑ کاٹ کر جب وہ باہر نکلا تو اسے باہر کا راستہ دکھائی دیا۔ در، تالاب اور تالاب میں پڑے بہت سے کنول۔ کامران خوشی سے جھوم اٹھا۔ باہر کا راستہ پا لیا تھا۔ وہ فوری واپس پلٹ پڑا۔ اب وہ ہر موڑ پر اپنے ہاتھ میں لیئے کاجل سے دیواروں پر نشان لگاتا جا رہا تھا۔ رسی اس نے کمر سے کھول لی تھی۔ نشان لگانے کے ساتھ ساتھ وہ اسے لپیٹتا جا رہا تھا۔ جلد ہی وہ خفیہ دروازے پر پہنچ گیا۔ گالٹا اس کے انتظار میں رسی کا سرا پکڑے کھڑی تھی۔

تمام اردو کہانیاں پڑھنے کے لیے کلک کریں 

سفید محل - پارٹ 11

Urdu stories online, Urdu stories for kids, Short Urdu stories, Urdu Kahaniyan, Famous Urdu stories, Urdu stories with moral, Best Urdu stories collection, Urdu stories for students, Urdu love stories, Urdu horror stories, Urdu stories for reading, Urdu stories in Urdu text, Funny Urdu stories, Urdu stories for beginners, Urdu detective stories, Urdu motivational stories, Urdu stories for adults, Urdu moral stories, Urdu stories for children, Urdu true stories, Urdu suspense stories, Urdu emotional stories, Urdu adventure stories,

hindi moral stories in urdu,سبق آموز کہانیاں, jin-ki-dushmni,good moral stories in urdu,Moral Stories,Urdu Stories,urdu kahani,اردو کہانی,قسط وار کہانیاں,
Reactions