سفید محل - اردو کہانی قسط نمبر 12

 

سفید محل - اردو کہانی قسط نمبر 12

کونے میں بیٹھے ہوئے بقیہ دو چیلے اٹھے۔ انہوں نے یک چشم چیلے کی لاش کو اٹھا کر تالاب میں پھینکا اور پتھر کے ٹکڑے کے ذریعے انتخاب کرنے لگے۔ اس بار ایک ایسے چیلے کا نام نکلا جو لنگڑا تھا۔ وہ لنگڑا چیلا اپنی چوکی پر آبیٹھا جبکہ دوسرا چیلا ایک کونے میں زمین پر بیٹھ گیا۔ چیلے نے منتر پڑھ کر شومگا کی طرف ہاتھ اس طرح چلایا جیسے اس نے اسے پتھر مارا ہو وه نادیدہ پتھر شومگا کے سر میں لگا اور خون سرسے ابلتا ہوا اس کی پیشانی اور چہرے پر بہنے لگا مجمع پر سکوت چھا گیا۔ لوگوں نے اپنی سانسیں روک لیں۔ کامران نے سوچا کہ اب یہ صحیح معنی میں شومگا کا مدمقابل آیا ہے۔ یہ پہلا چیلا ہے جس نے شومگا کو تھوڑا بہت نقصان پہنچانے کی کوشش کی تھی اور اس کوشش میں کامیاب بھی ہوا تھا
شومگا نے اپنے چہرے پر بہتے ہوئے خون کو اپنی انگلی سے تین بار چاٹا اور ایک بار انگلی پر خون لگایا اور خون آلود انگلی پر کچھ پڑھ کر پھونکا۔
پھر اس نے اپنی انگلی لنگڑے چیلے کی طرف تان لی اور اس پر زور سے پھونک ماری۔
لنگڑے چیلے پر جانے کیا اثر ہوا کہ وہ اچانک چوکی پر سر کے بل گرا اور سینہ پکڑ کر تڑپنے لگا۔ بیٹھے بیٹھے وہ چوکی سے گرا اور گرتے ہی ٹھنڈا ہوگیا۔
کامران نے اس کے سینے پر نظر ڈالی تو اس کا لباس خون آلود دکھائی دیا۔
شومگا نے اس کے دل پر وار کیا تھا۔ اس کی لمبی انگلی کسی تیر کی طرح اس کے دل میں پیوست ہوگئی تھی
لنگڑے چیلے کو آخری سفر پر جاتے دیکھ کر زمین پر بیٹھا وہ آخری چیلا اٹھا۔ دوسرے پجاریوں کی مدد سے اس کا مرده وجود اٹھایا اور اسے تالاب میں پھینک دیا۔
شومگا نے اپنے تین دشمنوں کو بڑی آسانی سے موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ اس مقابلے میں صرف ایک چیلا رہ گیا تھا۔ اسے ہرانے کے بعد اسے بڑا پجاری بننے سے کوئی روک نہیں سکتا تھا
شومگا نے چوتھے چیلے کو جس کے ہاتھ میں چھ انگلیاں تھیں چیخ کر کہا "چل رے چھنگو۔۔۔۔۔میدان میں آ"
"آتا ہوں آتا ہوں۔" یہ کہہ کر وہ چھ انگلیوں والا چیلا چوکی کی طرف بڑھا۔ چوکی پر بیٹھ کر اس نے آسن بنایا اور ایک ہاتھ پھیلا کر منتر پڑھا۔ چند لمحوں میں اس کے ہاتھ پر ایک خنجر ظاہر ہو گیا۔ چھنگے نے اسکی تیزی آزمائی اور پھر ایک حملے سے اپنے بائیں ہاتھ کی چھٹی انگلی کاٹ لی اور اسے سر پر گھما گھما کر کچھ پڑھنے لگا
یہ یقینا کوئی خطرک منتر تھا کیونکہ انگلی کے کٹتے ہی شومگا بے چین ہوگیا تھا اور دیدے پھاڑے اپنے مدمقابل کو دیکھ رہا تھا۔
چھنگے نے اپنی کٹی ہوئی انگلی اپنی مٹھی میں دبا لی اور منہ سے جانے کیا انث شنت پڑھنے لگا
شومگا کی چوکی لرزنے لگی۔ ایسا معلوم ہورہا تھا جیسے کئی آدمیوں نے شومگا کی چوکی اپنے ہاتھوں میں اٹھا رکھی ہو اور اسے زور زور سے دھکے دے رہے ہوں۔
شومگا لرزتی چوکی پر خود کو بھی مشکل سے سنبھالے ہوئے تھا۔ آخر اس نے اس منتر کا توڑ کیا تب جا کر اس کی چوکی زمین پر رکی اور شومگا کے حواس بحال ہوئے۔
شومگا نے اپنا ہاتھ دکھایا۔ اس نے اپنے لبادے سے موٹے موٹے چوہے نکال کر پھینکے۔ یہ چوہے جو تعداد میں دس بارہ ہو چکے تھے چھینگے پر حملہ آور ہوئے۔ وہ جلدی جلدی چھینگے کے جسم تک پہنچ گئے اور اپنے تیز دانتوں سے اس کے جسم کی بوٹیاں اڑانے لگے۔
چھنگے نے ایک چوہے کو پکڑ کر اپنی کٹی ہوئی انگلی اس کے منہ میں دی تو فورا ہی چوہے کا پیٹ پھٹ گیا
جلدی جلدی ان چوہوں کو اپنی کٹی ہوئی اگلی کھلانی شروع کی۔ تھوڑی دیر میں چوہوں کا صفایا ہوگیا۔
چھنگے نے پھر اپنی کٹی ہوئی انگلی اپنی مٹھی میں دبائی اور منہ سے جانے کیا پڑھا کہ شومگا کے کپڑوں میں اچانک آگ لگ گئی۔
شومگا نے جلدی جلدی اس آگ کا توڑ کیا۔
اچانک بارش ہونے لگی۔ یہ بارش صرف شومگا کے اوپر ہی ہورہی تھی اور اتنی تیز تھی کہ جلتے کپڑے دیکھتے ہی دیکھتے بجھتے چلے گئے۔ بارش بند ہوئی تو شومگا کے کپڑے پہلے کی طرح ہو گئے۔ یقین نہ ہوتا تھا کہ یہ کپڑے جلے ہیں اور بھیگے ہیں۔
شومگا کے ایک اشارے پر چھینگے کے سر پر ایک کووڑا نمودار ہوا اور پھر اس کے جسم پر برسنے لگے۔ کوڑا جسم کے جس حصہ پر بھی پڑتا وہ کپڑے کے ساتھ کھال بھی لے آتا۔ چھینگا بلبلا اٹھا۔ اب وہ اس کوشش میں تھا کہ کسی طرح کوڑا اس کی گرفت میں آجائے۔ آخر کوڑے کو پکڑ ہی لیا۔ کوڑا ہاتھ میں آتے ہی جلی ہوئی رسی کی طرح ہوگیا۔ بے جان لیکن چھینگے نے اس جلے ہوئے کوڑے کو اپنے دونوں ہاتھوں سے مسل کر پھینک دیا۔ کوڑے کے جلتے ہی اس چیلے کا جسم اور کپڑے اپنی اصلی حالت میں آ گئے۔ پھر اس نے اپنے دائیں ہاتھ کو اوپر اٹھایا تھوڑی دیر میں اسکے ہاتھ میں تیز دھار خنجر ظاہر ہو گیا۔ چھینگے نے اس خنجر سے اپنے کان کی ایک لو کاٹی خون آلود لوکو اچھی طرح خنجر پر ملا ۔ پھر اس نے اس خنجر پر کوئی منتر پڑھ کر پھونکا اور اسے شومگاکی طرف پھینکا
شومگا نے اس خنجر کو اپنے ہاتھ پر روک لیا۔ پورا خنجر اس کی ہتھیلی کے آر پار ہوگیا۔ اس کی ہتھیلی سے خون ابل پڑا۔ نے چنوں بعدی برای تقلی سے نکال لیا ۔ پھر اس نے خنجر پر منہ ہی منہ میں .کچھ پڑھا اور واپس چھینگے کی طرف اچھال دیا۔
خنجر اپنی طرف واپس آتے دیکھ کر اس نے بھی اسے اپنے ہاتھ پر اسے روکنے کی کوشش کی ایک خنجر ہوتا تو شاید اس کے ہاتھ پر رک بھی جاتا............وہاں تو ایک خنجر کے بجائے دس بارہ خنجر بن گئے تھے۔ بارہ میں سے کس کس کو روکتا۔ ان دس بارہ خنجروں نے اس کے جسم کو چھلنی کردیا۔
گردن په لگنے والے ایک خنجر نے اس کی شہ رگ کاٹ دی۔ باقی لگنے والے خنجروں کا ذکر ہی کیا۔ چوتھا چیلا بھی زندگی کا عذاب جھیل کر ہر دکھ سے آزاد ہوگیا۔
اس کے مرتے ہی شومگا نے خوشی سے نعرہ لگایا اور چلا کر کہا ۔ "اور کوئی ہے جو مقابلہ کرے اور بڑا پچاری بننا چاہے؟"
یہ سن کر صحن میں موجود تمام پجاری اس کے آگے سجدے میں گر گئے۔ شومگا سے مقابلہ کس بل بوتے پر کرتے۔
تب قامران کے دل میں یہ خواہش شدت سے ابھری............. کاش۔۔۔! وہ شومگا کے مقابلے پر آ سکتا۔ کاش۔۔۔! اس نے سحر سیکھا ہوتا پھر اسے مار کر دیوتا کے گھر کو شیطانی ٹولے سے پاک کرنا آسان ہوتا۔
کامران کی اس شدید خواہش کو چاندکا بھلا کس طرح نظر انداز کرسکتی تھی۔ وہ خوشبوؤں کے ساتھ اس کے دل میں اتر آئی اور آہستہ سے بولی۔ "قامران۔۔۔! مقابلہ کرو گے؟"
”ہاں ! جی تو چاہتا ہے" قامران نے دل ہی دل میں کہا۔
"پھر اٹھو اور تماشا دیکھو، میں تمہارے ساتھ ہوں۔" چاندکا بولی۔
کامران کے لیے چاندکا کی اتنی ہی یقین دہانی کافی تھی۔
وہ اچھل کر اپنی جگہ سے کھڑا ہوا اور چیخ کر بولا۔ ”میں آؤں میدان میں؟"
شومگا نے اسے بڑے انداز سے گردن ترچھی کر کے دیکھا اور ہنس کر بولا. "تمہیں زندگی عزیز نہیں کیا۔۔۔؟"
"بہت‘‘ کامران نے بڑا مختصر مگر جامع جواب دیا۔
"پھر ہاتھی کے پاؤں کے نیچے کیوں آنا چاہتے ہو؟" شومگا نے اسے حقارت سے دیکھتے ہوئے کہا۔
"میں دیوتا کے گھر کو ظالموں سے نجات دلانا چاہتا ہوں۔"
"بکواس مت کرو" شومگا کو اچانک جلال آگیا۔ " تم اس بستی میں اگر اجنبی نہ ہوتے تمہیں جلا کر رکھ دیتا"
"تم میرے اجنبی با پردیسی یا مہمان ہونے کا بالکل خیال نہ کرو..... میں تمہاری طرف آرہا ہوں۔ مجھے پہ اپنا سحر پھونکو اور پھر تماشا دیکھو۔“ قامران تیزی سے سیڑھیاں اتر جر شومگا کی طرف بڑھا۔
"قامران بے وقوف نہ بنو ہے موت مارے جاؤ گے" سنگینا نے اسکا ہاتھ پکڑا۔ "یہ ظالم جادوگر تمہیں چٹکیوں میں مسل دے گا"
"ارے۔۔۔! کچھ نہیں ہوگا۔۔۔تم ذرا دیکھو" کہہ کر کامران نے ہاتھ جھٹکا اور لوگوں کے سروں سے پھلانگتا صحن میں جا پہنچا اور اس چوکی کی طرف بڑھا جواس پجاری اور چار چیلوں کی جان لے چکی تھی۔
کامران نے چوکی پر بیٹھ کر آسن جمايا تو بستی کے لوگوں نے اجنبی کو شومگا کے مقابلے میں دیکھ کر فلک شگاف نعرے لگائے۔
کامران نے ہاتھ اٹھا کر نعروں کا جواب دیا۔ پھر وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ اس کے پھیلے ہاتھوں سے کبوتر نکل نکل کر فضا میں اڑتے جارہے ہیں۔ وہ بڑے غور سے اپنے ہاتھوں کو دیکھ رہا تھا۔ قامران کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کبوتر کہاں سے نکل رہے ہیں۔ تھوڑی دیر میں بے شمار کبوتر اس کے ہاتھوں سے نکل کر لوگوں کے سروں پر اڑنے لگے۔
مجمع نے ان اڑتے کبوتروں کو دیکھ کر زبردست تالیاں بجائیں۔
جب قامران کے ہاتھوں نے کبوتر چھوڑنے بند کردیئے تو شومگا نے اپنے لباس سے ہاتھ نکالے اور باز نکال کر اڑانے شروع کردیئے۔
بازوں نے کبوتروں کو دیکھ کر ان پر جھپٹنا شروع کیا لیکن جیسے ہی کوئی باز کسی کبوتر کو دبوچنے کی کوشش کرتا اس کوشش میں اسے جان سے ہاتھ دھونے پڑتے۔
شومگا کے چھوڑے ہوئے باز پھڑپھڑا کر صحن میں گر رہے تھے۔ وہ زمین پر گرتے ہی دھواں بن کر غائب ہو جاتے
شومگا بڑی حیرت سے اپنے گرتے بازوں کو دیکھ رہا تھا۔ تھوڑی دیر میں سارے بازوں کا صفایا ہوگیا۔ لیکن کبوتر بدستور فضا میں قلابازیاں کھاتے اڑتے رہے۔
کامران اپنے ہاتھوں سے نکلے ہوۓ کبوتروں کو بڑی دلچسپی سے دیکھ رہا تھا۔
"قامران۔۔۔۔! اپنے ہاتھ اوپر اٹھاؤ" چاندکا کی آواز سنائی دی۔
کامران نے پہلے کی طرح ہاتھ اوپر اٹھا لیے۔ اس کے ہاتھ اوپر اٹھاتے ہی کبوتر واپس آنے لگے ہاتھ پر بیٹھتے ہی غائب ہونے لگے
کچھ دیر بعد آسمان کبوتروں سے خالی ہوگیا۔ لوگوں نے ایک بار پھر زبردست تالیاں بجائیں۔
شومگا کو یہ دیکھ کر تاؤ آ گیا۔ اس نے کچھ پڑھ کر ہاتھ پھیلایا اور ہاتھ چھریوں سے بھر گیا۔ اب اس نے ایک چھری اٹھائی اور کامران کی طرف پھینکی جو سنسناتی ہوئی اس کی طرف بڑھی۔ کامران ایک لمحے کو گھبرا گیا۔ پھر وہ یہ دیکھ کر مطمئن ہوگیا کہ چھری اس کے سینے کے قریب آکر اس طرح زمین پر گری جیسے اس کے سامنے لوہے کی چادر ہو
شومگا پوری قوت سے چھریاں اس کی طرف پھینک رہا تھا اور کامران پورے اطمینان سے بیٹھا تھا۔ چھریاں اس کے قریب آ کر زمین پر گرتی جاری تھی۔ آخر شومگا چھریاں پھینک کر تنگ آ گیا اور کامران کا بال بھی بیکا نہ ہوا۔
شومگا نے آگ لگانے والا منتر پڑھا۔ کامران کے جسم میں ایک دم آگ بھڑک اٹھی، لیکن چند ساعتوں کے لیے۔ اس کے کپڑوں میں آگ لگی اور خود بخود بجھ گئی۔
شومگا کو اب پسینے چھوٹنے لگے تھے۔ اس کے مد مقابل پر کوئی وار کارگر نہیں ہورہا تھا۔
" ہاں۔۔۔! قامران پھر۔۔" چاندکا کہہ رہی تھی۔
"پھر کیا؟‘‘ کامران نے پوچھا۔
"شعبدے بازی کچھ دیر اور چلے یاشعبدے باز کو فنا کردوں؟“
”ہاں کردو فنا.....کھیل بہت ہوا۔" کامران جلد از جلد شومگا کو مردہ حالت میں دیکھنا چاہتا تھا
"لو پھر دیکھو تماشا"
کامران نے تماشا دیکھنے کے لیے شومگا پر نظریں جما دیں۔ کامران کے دیکھتے ہی دیکھتے شو مگا دھاڑ سے چوکی پر گرا۔ اس نے اٹھنے کی کوشش کی بہت ہاتھ پاؤں مارے مگر اٹھ نہ سکا۔ پھر کامران نے اس کی ٹانگیں چوڑی ہوتی دیکھیں اس کے ہاتھ پھیل گئے۔ اب وہ چوکی پر اس طرح پڑا تھا جیسے اس کے ہاتھ پاؤں کو رسیوں سے باند کر الگ الگ کھینچ لیا ہو۔
کامران کو اچانک سفید محل کا وہ منظر یاد آ گیا جس میں ایک عورت کو چار گھوڑوں سے باندھ کر اس کے ٹکڑے اڑا دیئے گئے تھے۔
کیا چاند کا شومگا کے ساتھ بھی یہی کرنے والی تھی؟ کامران نے سوچا۔
کامران ابھی سمجھ نہ پایا تھا کہ شومگا کے ساتھ کیا ہونے والا ہے.............اس نے اچانک شومگا کو ہوا میں اڑتے دیکھا۔
لیکن صرف چند محوں کو......اس کے بعد اس کا جسم چار حصوں میں تقسیم ہوگیا۔
بڑے پجاری کے خواب دیکھنے والا ہوس کا دیوتا اب اپنی چوکی پر نہ تھا۔ فرش پر اسکے ٹکڑے بکھرے ہوئے تھے اور زمین اس خبیث کے خون سے اپنی پیاس بجھا رہی تھی۔
اس منظر نے دیوتا کے گھر میں موجود تمام پجاریوں میں دہشت پھیلا دی۔ سارے پجاری آناً فاناً قامران کے سامنے اکٹھا ہوگئے اور سجدے میں گر پڑے۔ تب تامران چوکی سے اٹھا اور بڑے فخر سے کھڑا ہوگیا۔ اب وہ دیوتا کے گھر کا بڑا پجاری تھا۔
نئے بڑے پجاری کو دیکھ کر لوگوں نے خوشی سے نعرے بازی کی۔ کامران نے ہاتھ اٹھا کر اور ہوا میں لہرا لہرا کر سب کو مبارکباد کا جواب دیا۔ پھر اس نے ہاتھ کے اشارے سے خاموش رہنے کی تلقین کی۔ چند لمحوں بعد ہر سو سکوت چھا گیا۔
" معصوم اور بھولے بھالے لوگر......!" کامران نے کہنا شروع کیا۔ ”آج تم جتنی خوشی منا سکتے ہو مناؤ...آج کا دن تمہارے لیے یوم نجات ہے............نجات کس سے...؟ان ظالموں سے جو دیوتا کے گھر پر قابض تھے اور تمہاری بہن بیٹیوں سے کھیلتے تھے“
یہ سن کر قریب ہی بیٹھے ہوئے کچھ نوجوان اٹھ کھڑے ہوئے۔ انہیں یہ غلط لگی وہ چیخ کر بولے "اس بات کا کیا مطلب ہے؟"
"میری بات صبر سے سنو پھر تمہاری سب سمجھ میں آجائے گا۔۔۔۔اے لوگو۔۔۔! جنہیں تم دیوتا کے اوتار سمجھتے رہے ہو دیوتا کے اوتار نہیں شیطان کے چیلے تھے...........اور تم لوگ جو اپنی بہن بیٹیوں کو داسی بنانے کے لیے ان کے حوالے کر دیتے تھے تو یہ پجاری تمہاری بہن بیٹیوں کو دیوتا کی داسی بنانے کے بجائے اپنی داسی بنا لیتے تھے۔ تم سمجھتے ہوگے کہ تمہاری بیٹیاں داسی بننے کے بعد آسمانوں پر چلی جاتی ہوں گی لیکن ایسانہیں ہے۔ تمہاری بہن بیٹیاں اسی کے گھر میں موجود ہیں اور بہت تلخ زندگی بسر کررہی ہیں۔" کامران اتنا کہہ کر چند لمحوں کے لیے چپ ہوا چاروں طرف سے یہ آوازیں آنی شروع ہوئیں ۔
"جھوٹ ہے۔“
”ایسا نہیں ہوسکتا۔“
”تم دیوتا سروپ کے پجاریوں پر الزام لگا رہے ہو“
”ٹھہرو“ کامران نے چڑ کر کہا۔ ” تم جن پجاریوں کو دیوتا کی صورت سمجھتے ہو اگر میں ان کے کرتوت بتاؤں تو تم ان کی صورتوں پر تھوکنا بھی پسند نہیں کرو گے۔“
پھر کامران نے دھیرے دھیرے دیوتا کے گھر کے تمام راز فاش کر دیئے۔ داسیوں پر کیا بیت رہی تھی دیوتا کی مورتی کس طرح کھلتی اور وہاں سے پجاری لڑکیوں کو کہاں لے جاتے اور اس کا کیا حال کرتے، تہہ خانے چکر دار دیواریں، زمین دوز رہائش گاه...عیاشیاں، ہوس اور گناہ کے کھیل۔
یہ سن کر جمع پر سناٹا چھا گیا۔ لیکن یہ بات ایسی تھی کہ جانتے ہوئے بھی اس پر یقین کرنے کو جی نہیں چاہتا تھا۔ کچھ لوگ اب بھی ہے یقینی کی کیفیت میں تھے۔ خاص طور سے وہ گھرانے جن کی بیٹیاں دیوتا کی داسیاں بنائی جا چکی تھیں۔
"اپنے اپنے دل مضبوا کرلو۔"
یہ کہہ کر کامران نے چوکی سے چھلانگ لگائی اور لوگوں کے درمیان سے گزرتا سیڑھیاں پھلانگتا دروں والے برآمدے میں پہنچ گیا۔ پھر لوگوں نے اسے ایک چھوٹی سی گلی میں اندر جاتے دیکھا
اپنے لگائے ہوئے نشانوں کی مدد سے بڑی تیزی سے ان چکر دار دیواروں میں گھومتا جا رہا تھا آخر منزل مقصود پر پہنچ گیا۔ تب اسے خیال آیا کہ وہ خفیہ دروازہ مخصوص جگہ مخصوص ضربوں سے ہی کھلوا سکتا
"ٹھہرو میں گالٹا کو دروازہ کھولنے پر مجبور کرتی ہوں۔“ چاندکا کی آواز آئی۔
تھوڑی دیر بعد خودبخور خفیہ دروازے کی دیواریں کھسکنے لگیں۔
گالٹا کامران کو دروازے پر دیکھ کر ایک دم کھل اٹھی "مجھے پوری امید تھی کہ دروازے پرتم ہو گے تم آتے ہو تو میرا دل خودبخور دروازے کی طرف کھنچنے لگتا ہے۔" پھر وہ ایک دم اداس اور گھبرائے ہوئے لہجے میں بولی۔ "لیکن اس وقت تم یہاں کیوں آئے؟ اس وقت تو سارے لوگ جاگ جاتے ہیں کوئی بھی یہاں آ سکتا ہے.............جاؤ واپس چلے جاؤ صبح آنا میں تمہارا انتظار کرونگی"
”نہیں میں واپس جانے کے لیے نہیں آیا۔ میں یہاں سے تمہیں لینے آیا ہوں....اور تم ہی نہیں بلکہ اس قید خانے میں مقید تمام داسیوں کو۔۔۔" کامران نے مسکراتے ہوئے کہا۔
تم نشے میں تو نہیں ہو؟‘‘ گالٹا پریشان ہوکر بولی۔ ”یہاں سے فوراً جاؤ......اگر بڑے پجاری کومعلوم ہوگیا تو تمہیں زندہ نہیں چھوڑے گا"
"ارے چھوڑو...........اب یہاں کوئی نہیں آئے گا............نہ بڑا پجاری نے چھوٹے پجاری۔ پجاری رات کو مرگیا اور وہ پجاری جو اس کی موت کے بعد اس کی چوکی کے دعویدار ہیں ان کی لاش تالاب اور صحن میں پڑی ہیں۔‘‘ کامران نے گالٹا کو بتایا۔ "اور ہاں تمہاری بستی کے لوگ اور وہ سنگینا تمہارا منتظر ہے“
"اس بزدل کا نام میرے سامنے نہ لو۔“ گالٹا کو غصہ آ گیا۔
"اصل میں تم دونوں ہی بے وقوف ہو............دونوں ایک دوسرے سے محبت کرتے ہو اس کے باوجود انا کی دیوار اپنے درمیان حائل کر لیتے ہو۔ حالانکہ محبت فنا کا نام ہے ایک کو دوسرے میں جذب کر لینے یا دوسرے میں جذب ہو جانے کا نام ہے۔ محبت میں اپنی "میں" کو ختم کرنا پڑتا ہے اور ’ہم‘ ہوکر جینا پڑتا ہے۔" کامران نے محبت کے اسرار کھولتے ہوئے کہا ”تم نہیں جانتیں کہ سنگینا آج بھی تم سے اتنی ہی محبت کرتا ہے جتنی کل کرتا تھا............اب وقت ضائع نہ کرو جلدی سے تمام داسیوں کو بلا لاؤ۔۔۔۔بستی کے لوگ ان کے منتظر ہیں‘‘
"میری سمجھ میں نہیں آرہا میں یه خوشی کیسے برداشت کروں۔ اچھا میں جاتی اور سب کو بلا کر لاتی ہوں۔" گالٹا کی واقعی عجیب حالت تھی۔ وہ لرزتے قدموں سے اندر چلی گئی
جب قامران مورتی کوتقسیم کر کے دیوتا کے کمرے سے باہر نکلا تو لوگ اسے دیکھ کر حیرت زدہ رہ گئے۔ وہ برآمدے سے اندر گیا تھا۔ دیوتا کے کمرے سے کس طرح باہر نکلا۔
پھر حیرت اس وقت اور بڑھی جب اس کمرے سے لڑکیاں برآمد ہونی شروع ہو گئیں
وہ مظلوم لڑکیاں تھیں جنہیں دیوتا کے نام پر ہوس کا نشانہ بنایا گیا تھا اور جن کے مقدر میں عذاب لکھ دیئے گئے تھے۔ کمرے سے سب سے پہلے گالٹا برآمد ہوئی۔ اس کے بعد دوسری لڑکیاں برآمد ہوئیں۔ لڑکیاں سینکڑوں کی تعداد میں تھیں۔ ان لڑکیوں کو دیکھ کر ایک کہرام سا گیا۔
مائیں اپنی بیٹیوں کو دیکھ کر آنسو ضبط نہ کرسکیں۔ نوجوان اپنی بہنوں کو دیکھ کر بے قابو ہوئے غصے اور نفرت کی آگ اچانک بھڑک تھی۔
بستی کے نوجوان چھلانگیں لگا لگا صحن میں کھڑے پجاریوں پر ٹوٹ پڑے۔ کچھ لڑکوں نے تالاب میں چھلانگ لگا دی اور مرے ہوئے پجاریوں کی لاشیں باہر نکالنے لگے۔ چند نوجوانوں نے شومگا کی لاش کے ٹکڑے اکٹھے کرنا شروع کردیئے۔
زندہ پجاریوں کو لٹا لٹا کر مارا جارہا تھا۔
بعض نوجوان بڑے بڑے پتھر اٹھا لائے تھے۔ پجاریوں کے سر ان پتھروں سے کچلے جارہے تھے۔ مرے ہوئے پجاریوں کو پیٹا جارہا تھا۔
شومگا کی منقسم لاش کو اور تقسیم کیاجارہا تھا۔ اس کی بوٹی بوٹی کی جارہی تھی۔
اور کامران خاموشی سے ہاتھ باندھے نفرت اور غصے کے طوفان کو دیکھ رہا تھا۔ ان کے ساتھ جو کچھ کیا جارہا تھا وہ بہت کم تھا۔ ان کے ساتھ اس سے زیادہ ہونا چاہئے تھا۔
پھر اچانک ہی چاروں طرف سے شور اٹھا "بڑے پجاری کی لاش کہاں ہے؟" کامران جب گالٹا اور داسیوں کو اندر سے نکالنے گیا تھا تو وہ چاندکا کی مدد سے سارے خفیہ خانے کھول آیا تھا لیکن اسے بڑے پجاری کی لاش نہیں ملی تھی۔
قامران کی سمجھ میں نہ آیا کہ بڑے پجاری کی لاش اس کے چیلوں نے کہاں غائب کردی؟ لوگوں کو بڑے پجاری کی ضرورت تھی ۔ اصل آدمی تو وہی تھا....وہ ظالم مر گیا تو کیا ہوا اس کی لاش گھسیٹ کر انتقام کی آگ تو ٹھنڈی کی جاسکتی تھی۔ پر وہ تھا کہاں؟
تب قامران نے اوپر نظر کی تو ایک عجیب منظر دیکھا۔ فضا میں کوئی چیز تیرتی ہوئی نیچے آرہی تھی اور یہ ایک انسانی لاش تھی۔
جب وہ لاش زمین پر اتری تو بہت سے نوجوان اس پر ٹوٹ پڑے۔
ہر طرف شور ہوگیا۔ ”آ گیا............ آ گیا۔“
کامران تو اس لاش کو نہ پہچان سکا۔ لیکن بستی کے نوجوانوں نے دیوتا کے گھر کے اس بڑے پیجاری کو پہچن لیا کیا اور آناً فاناً بڑے بڑے پتھروں سے اس کا سر اور جسم کچل کر رکھ دیا۔
یہ لاش تھی کہاں؟ کامران نے سوچا۔
"یہ لاش شومگا نے کھڈے میں پھینکوا دی تھی۔" اچانک جواب آیا اور کنوارے بدن کی ۔ خوشبو ساتھ آئی۔ "میں اسے وہاں سے اٹھا کر لائی ہوں۔“
"میں جانتا تھا یہ کارنامہ تمہارے سوا کسی کا نہیں ہوسکتا۔" قامران نے کہا "اچھا یہ بتاؤ بڑا پجاری اچانک کس طرح مر گیا؟"
"اسے شومگا نے مارا تھا۔ میں جب بڑے پجاری کے روپ میں گالٹا کے کمرے میں آئی تھی اور میں نے اسے خاصا سخت سست کہا تھا تو اس نے اسی وقت فیصلہ کرلیا تھا کہ وہ بڑے پجاری کو ٹھکانے لگائے بنا نہیں رہے گا۔ شومگا بڑے پجاری کا خاص چیلا تھا ۔ اس کی تمام خوبیوں اور خامیوں سے واقف تھا۔ اس لیے اس کے لیے اسے موت کے گھاٹ اتارنا ذرا بھی مشکل نہ تھا۔ انتقام کی آگ نے اس مسئلے کو اور آسان کر دیا۔“
"چاندکا... دیواروں کے پیچھے کوئی اور پجاری تو نہیں؟" کامران نے پوچھا۔
"نہیں جتنے تھے وہ صحن میں موجود تھے اور اب وہ بھی نہ رہے۔ کل جن کو طاقت پر گھمنڈ تھا اب وہ اپنے گھمنڈ سمیت زمین پر گھسیٹے جارہے ہیں۔ یہ انسان بھی کیسا ہے فانی ہونے کے باوجود دوسروں کو فنا کرنے میں لگا رہتا ہے۔" چاندکا بڑے تاسف سے بول رہی تھی۔
اچانک کسی نے اس کا ہاتھ تھام کر کہا۔ ”قامران۔۔۔۔! یہاں کب تک کھڑے رہو گے۔۔؟"
کامران نے چونک کر ہاتھ تھامنے والی کو دیکھا وہ گالٹا تھی۔ قامران اچانک ہوش میں آگیا تھا گالٹا اور سنگینا کا گھرانہ اس کا منتظر تھا۔ جبکہ بستیوں کے دوسرے لوگ جا چکے تھے۔ کامران تیزی سے ان کی طرف بڑھا۔ جب قامران ان کے نزدیک پہنچا تو وہ سب سجدے میں گر گئے جبکہ گالٹا نے اس کے پاؤں چھوئے۔
کامران فوراً ہی پیچھے ہٹ گیا۔ اس نے گالٹا کو ہاتھ پکڑ کر کھڑا کیا اور سب سے مخاطب ہو
"ارے تم لوگ سجدے میں کیوں گر گئے۔ فوراً کھڑے ہو جاؤ"
کامران کا حکم سنتے ہی سب کے سب اس کے سامنے مودبانہ کھڑے ہوگئے ۔ کامران نے ان آنکھوں میں عقیدت و احترام کی روشنی دیکھی۔ وہ گڑ بڑا گیا۔ جانے یہ لوگ اسے کیا سمجھ رہے تھے
"جب ظلم زیادہ بڑھ جاتا ہے اور بدی پھیلانے والے بدمست ہو جاتے ہیں تو دیوتا کو خود سے اترنا پڑتا ہے۔ ہم کتنے خوش قسمت ہیں کہ اپنی آنکھوں سے دیوتا کے درشن کررہے ہیں" گالٹا کا باپ کہہ رہا تھا۔
"ارے مارے گئے۔" کامران ایک دم چونک اٹھا اور گا لٹا کے باپ کے دونوں ہاتھ پکڑ کر کہا "مجھے تم دیوتا بنانے کی کوشش مت کرو....میں ایک عام سا آدمی ہوں تم میں سے ہوں میں تو دیوتا کے پاؤں کی دھول بھی نہیں“
"پھر وہ چمتکار؟‘‘ گالٹا کے باپ نے پوچھا ”جو کام تم نے کیا ہے وہ کوئی ہم جیسا آدمی نہیں کر سکتا چمتکار تو صرف دیوتا دکھا سکتا ہے یا دیوتا کا اوتار“
"تم لوگوں نے جو کچھ دیکھا اسے فریب نظر سجھو....مجھ سے جو کچھ سرزد ہوا اس میں کسی کی مدد شامل تھی اور اس کی مدد سے چینٹی ہاتھی کا مقابلہ کرگئی۔" کامران نے ہنستے ہوئے کہا۔ ”دیوتا کے اوتاروں کا حال تم نے دیکھ ہی لیا۔ اب مجھے تو اوتار نہ بناؤ“
"تم نے ہماری بیٹیاں واپس دلا دیں۔ تم ہمارے لیے دیوتا سے بھی مہان ہو۔“ اس مرتبہ گالٹا کی ماں بولی۔ ’’آؤ اب گھر چلیں"
شام کو دونوں گھرانوں نے قامران کے اعزاز میں زبردست ضیافت کا انتظام کیا۔ طرح طرح کے مشروبات ہزاروں
قسم کے کھانے اس پر پرخلوص اصرارا سب کچھ کھلانے کی خواہش۔
آج پوری بستی میں جشن کا سا سماں تھا۔ ہر گھر میں چراغاں جس گھر میں کوئی لڑکی واپس آئی اس گھر میں روشنی ہی روشنی تھی۔ خوشی ہی خوشی تھی۔
رات کو گالٹا کا باپ بستی کا چکر لگا کر آیا تو اس نے بتایا۔
"بستی والے کل رات تمہارے لیئے ایک جشن کی تیاری کررہے ہیں۔"
"ارے نہیں جشن کی کوئی ضرورت نہیں، میں کل رات یہاں نہیں ہوں گا۔ صبح ہوتے ہی یہاں سے چلا جاؤں گا۔" کامران نے سنجیدگی سے کہا۔
"کہاں جاؤ گے؟" گالٹا نے پوچھا۔ کہیں بھی، کسی بھی سمت، جدھر منہ اٹھا نکل جاؤں گا۔" کامران نے کہا۔
"پرسوں چلے جانا۔“ گالٹا کی ماں نے اصرار کیا۔ "
"اب ایسی بھی کیا جلدی چلے جانا آرام سے" رگولی بولی۔
"نہیں مجھے جانا ہی ہوگا...اب یہاں رہنے کا کوئی جواز نہیں۔‘‘ کامران نے فیصلہ کن انداز میں کہا
گالٹا کے ماں باپ، سنگینا کے گھر والے سب مل کر اس پر رکنے کے لیئے دباؤ ڈالتے رہے لیکن قامران نے جو فیصلہ کیا اس پر اتل رہا
"اچھا اگر تم صبح ہی جانا چاہتے ہو تو جانے سے پہلے میری ایک بات غور سے سن لو" گالٹا کے باپ نے اسے سمجھانے کے انداز میں کہا
"کہو۔۔۔۔کیا کہنا چاہتے ہو؟"
"تم چاہے مشرق کی طرف جانا۔۔۔چاہے شمال کو یا جنوب میں جانا۔۔۔۔۔مگر۔۔۔۔۔۔مغرب کا رخ کبھی نہ کرنا"
"وہ کیوں۔۔۔؟" قامران کی پیشانی پر شکنیں پڑ گئیں۔
"وہ ٹھگوں کا علاقہ ہے۔" گالٹا کے باپ نے بتایا۔ "اکا دکا چلتے راہ گیر کا تو کوئی مسئلہ نہیں وہ قافلے کے قافلے لوٹ لیتے ہیں اور اتنی خوبصورتی سے کہ لٹنے والے کو اپنے لٹنے کا بہت دیر بعد احساس ہوتا ہے۔"
"اچھا یہ اطلاع تو میرے لیے بہت دلچسپ ہے۔" کامران خوش ہوتے ہوئے بولا ”ذرا تفصیل سے ان ٹھگوں کے بارے میں بتاؤ ایسا وہ کیا طریقہ استعمال کرتے ہیں کہ آدمی خوشی خوشی لٹ جاتا ہے۔؟“
"ابھی تھوڑے دنوں کی بات ہے شمال سے ایک تاجروں کا قافلہ آیا تھا اور گرناؤ جانا چاہتا تھا۔ گرناؤ تاجروں کا ایک بہت بڑا مرکز ہے۔ راستے میں انہیں ایک راجہ ملا جو اپنے ساتھیوں کے ساتھ شکار پر نکلا ہوا تھا۔ تاجروں نے راجہ اور راجہ نے تاجروں کو دیکھا تو دونوں خوش ہو گئے۔ تاجرں نے سوچا چلو ان کا بوجھ راستے میں ہی ہلکا ہو جائے گا۔ راجہ نے سوچا تاجروں کا قافلہ جانے کہاں سے آیا ہے اس کے پاس جانے کیا کیا ہوگا۔ چلو دیکھ لیتے ہیں۔ شام ہو گئی وہ کہیں پڑاؤ ڈالنے کی فکر میں تھا۔ تاجر بھی یہیں رات بسر کرنا چاہتے تھے۔ راجہ نے انہیں ساتھ رات بسر کرنے کی دعوت دے ڈالی جو تاجروں نے خوشی خوشی قبول کر لی۔ راجہ کا حکم ملتے ہی خیمے نصب کیئے جانے لگے۔ ایک جگہ کھانے پینے کا بندوبست ہونے لگا۔ دیکھتے ہی دیکھتے جنگل میں منگل کا سما دکھائی دینے لگا۔
رات کے کھانے کے بعد جب راجہ نے محفل جمائی تو تاجروں نے بہترین موقع جان کر راجہ کو اپنا اپنا مال دکھانا شروع کیا۔ جب سارے تاجر اپنا اپنا مال دکھا چکے تو راجہ کے حکم کے منتظر رہے۔ آخر راجہ نے لب کھولے ”کسی تاجر کو مایوس نہیں کیا جائے گا اور اب کوئی تاجر گرناؤ کا تھکا دینے والا سفر نہیں کرے گا۔ ہم کسی کے پاس کچھ نہیں رہنے دیں گے۔ ہر چیز ضرور لیں گے۔ دور دیسوں کے تاجر اب اپنا اپنا مال باندھ لو اور رقص و موسیقی سے دل بہلاؤ“
راجہ کے اس عحکم نے انہیں سرشار کر دیا۔ ایسا قدردان تو قسمت والوں کو ہی ملا کرتا ہے
سب خوشی اپنا مال باندھنے لگے۔ مال باندھ کر وہ آرام سے بیٹھ گئے۔
تب راجہ نے تالی بجائی۔ ایک لمحے میں ایک بجلی سی کوندی اک شعلہ سا دکھائی دیا اور ہر کسی نے اپنا دل تھام لیا
خیمے میں ایک حسین رقاصہ موجود تھی۔ پھر اس رقاصہ نے ساقی کا کام بھی شروع کردیا۔ اس نازنیں کے ہاتھوں کون پینا پسند نہ کرتا۔ وہ تو خیر شراب تھی اگر زہر بھی ہوتا تو لوگ خوشی خوشی پی جاتے۔
جام پر جام لنڈھائے جانے لگے۔ اعضا کی شاعری چلتی رہی خمار انگڑائیاں بن بن کر ٹوٹتا رہا رات کی زلفیں کھلتی رہیں۔ یہاں تک کہ اس کے بدن پر اجالا پھیل گیا۔
سپیدۂ سحر نمودار ہوا تو حقیقت کے پردے سے بھیانک چہرہ برآمد ہوا۔ اب وہاں نہ راجہ تھا، نہ شعلہ بدن رقاصہ، نہ ان کا مال و اسباب۔ تاجروں کے جسموں سے ان کے کپڑے تک ٹھگ لیئے گئے تھے۔ ٹھگوں کا سردار راجہ کے روپ میں اپنا ہاتھ دکھا کر جا چکا تھا۔" گالٹا کا باپ کہہ رہا تھا "تاجروں کا یہ لٹا پٹا قافلہ اپنے جسموں پر پتے لپیٹے ہم تک پہنچا۔ تب ہمیں یہ ایک نیا واقعہ سننے کو ملا۔ اس سے پہلے ان ٹھگوں کے بیشمار واقعات اور طریقہ ہائے واردات کے بارے میں ہم جانتے تھے
"اب میں نے طے کرلیا ہے کہ میں کسی اور سمت نہیں جاؤں گا سوائے مغرب کے۔“ قامران نے کسی ضدی شہزادے کی طرح کہا۔
"خواہ مخواہ لٹ جاؤ گے۔" گالٹا کے باپ نے تنبیہہ کی۔
"اپنے پاس ہے ہی کیا لٹنے کو۔“ قامران نے شانے اچکا کر کہا۔
"تمہاری خوبصورت گھوڑی۔“ گالٹا کے باپ نے اشارہ کیا۔
"ہاں واقعی.....یہ میرے لیے قیمتی ہے.....اس سے میں کسی قیمت پر ہاتھ دھونے کے لیئے تیار نہیں۔‘‘ قامران ایک لمحے کو فکر مند ہوگیا۔
"بہتر ہوگا کہ تم ادھر کا رخ نہ کرو“
”یہ بھی ممکن نہیں............جو ہوگا دیکھا جائے گا۔ اگر ان لوگوں نے میری گھوڑی اڑانے کی کوشش کی تو میں ان کی پوری بستی اڑا دوں گا۔“ کامران نے بڑے جوش سے کہا۔
کچھ دیر ادھر ادھر کی باتوں کے بعد آخر کامران کو اس کے بستر تک پہنچا دیا گیا۔ رات کافی ہو چکی تھی قامران بستر پر لیٹا تو پھر اسے دنیا کی خبر نہ رہی۔
صبح سویرے گالٹا نے اسے جگایا۔ اس نے آنکھ کھول کر آسمان کی طرف دیکھا۔ آسمان پر تارے جھلملاتے تھے۔ آفتاب کے رخ سے ابھی پردہ نہ ہٹا تھا۔ وہ فوراً اٹھ کر بیٹھ گیا۔ پھر نہا کر فارغ ہوا تو اتنے میں سنگینا بھی آ گیا۔ اس وقت کمرے میں گالٹا، سنگینا اور کامران کے سوا کوئی نہ تھا
"ہاں بھئی گالٹا کیا حال چال ہیں؟" قامران نے سنگینا کو شرارت سے دیکھنے کے بعد اپنی نظریں گالٹا پر جما دی۔
"میں ٹھیک ہوں۔" گالٹا نے مسکراتے ہوئے کہا۔
"اور سنگینا تم؟"
"میں بھی ٹھیک ہوں۔“ سنگینا نے ہنستے ہوئے جواب دیا۔
"آئندہ بھی تم دونوں ٹھیک ہی رہنا اور جتنی جلدی ہو سکے شادی کر لینا۔‘‘ کامران نے ہدایت کی۔
"میں تو آج ہی شادی کرنے کو تیار ہوں۔“ سنگینا نے جواب دیا۔
”پھر اعتراض کس کو ہے...؟ کیا گالٹا تمہیں؟“ قامران گالٹا سے مخاطب تھا۔
"ہاں.............میں سمجھتی ہوں کہ میں اب سنگینا کے قابل نہیں رہی۔ اب میں شادی نہیں کرنا چاہتی۔“ گالٹا نے سر جھکا کر کہا۔
"پاگل مت بنو تم پر جو گزری اسے بھول جاؤ" قامران نے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔” تمہارے ساتھ جو کچھ ہوا اس میں تمہارے ارادے کو دخل نہ تھا۔ تم داسی بنے سے پہلے جس طرح جھرنے جیسی تھیں اسی طرح آج بھی ہو۔۔۔۔تمہاری روح پاک اور شفاف ہے۔ پھر سنگینا جیسے چاہنے والے لڑکے بار بار زندگی میں نہیں آیا کرتے۔ ان سنہری لمحوں کو ضائع نہ کرو اس کی ہو جاؤ یہ تمہیں ہر حال میں قبول کرنے کو تیار ہے............لاؤ اپنا ہاتھ لاؤ“
گالٹا نے فورا اپنا ہاتھ کامران کی طرف بڑھایا۔ کامران نے گالٹا کا ہاتھ تھام کر سنگینا کو آگے آنے کو کہا۔ سنگینا آگے بڑھا تو کامران نے کہا۔
”میں اگرچه بزرگ تو نہیں، پھر بھی بزرگوں والا کام انجام دے رہا ہوں۔ گالٹا کا نازک سا ہاتھ تمہارے مضبوط ہاتھوں میں زندگی بھر کے لیے دینا چاہتا ہوں۔ کیا تم قبول کرتے ہو۔“
سنگینا نے ایک لمحہ ضائع کیے بنا فگالٹا کا ہاتھ تھام لیا اور پرجوش ہو کر بولا- "قبول کرتا ہوں صدق دلی اور پورے خلوص سے"
"مبارک ہو...!‘‘ کامران نے چہک کر کہا۔
اچانک گالٹا کے چہرے پر روشنی پھوٹی ہر سو رنگ بکھر گئے۔ وہ سنگینا سے ہاتھ چھڑا کر شرماتی ہوئی اندر بھاگی۔ کامران اور سنگینا بے اختیار ہنس پڑے۔
"سنگینا اس لڑکی کا ضرورت سے زیادہ خیال رکھنا۔ یہ آگ کے دریا سے گزر کر آئی ہے۔" کامران نے سنگینا کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا۔
"میں گالٹا سے بے پناہ محبت کرتا ہوں کامران۔“ سنگیتا نے جواب دیا
اس جواب کے بعد مزید کچھ کہنے نے کی ضرورت نہ تھی۔
کچھ دیر بعد گالٹا کا باپ اس کی ماں اور اس کا بھائی سنگرام اندر سے نکل آئے۔ ایک مرتبہ پھر اسے روکنے اور جشن میں شریک ہونے کے لئے اصرار کیا۔ لیکن قامران جو دھن کا پکا تھا ان کے بہکاوے میں نہ آیا۔
مجبورا دکھی دل سے انہوں نے کامران کو رخصت کیا۔ سارزا کے لوگوں کو جب قاصران کی روانگی کا علم ہوا تو وہ بادلوں کی طرح گالٹا کے گھر امنڈ آئے
کامران نے جلدی جلدی اپنی گھوڑی کھولی اور زیادہ بھیڑ جمع ہونے سے پہلے ہی وہاں سے روانہ ہوا
گالٹا، سنگینا، رگولی اور سنگرام بہت دور تک کامران کے ساتھ ساتھ آئے۔ آخر ایک مقام پر قامران نے انہیں واپس لوٹا دیا اور خود ٹھگوں کے علاقے کی طرف روانہ ہوگیا۔ سورج کے اوپر اٹھتے اٹھتے کامران دیوتا کے گھر سے بہت دور نکل آیا۔ اس کی پیٹھ پیچھے دیوتا کا گھر تھا اور وہ ابلا پر سوار مغرب کی جانب اڑا چلا جارہا تھا۔
تین چار گھنٹے کی مسافت کے بعد کامران کو پیاس محسوس ہونے لگی۔ کامران کسی چشمے کی تلاش میں ادھر ادھر اپنی گھوڑی کو دوڑا رہا تھا کہ ایک چھوٹا سا جنگل عبور کر کے وہ ایک ہری بھری بستی میں آ نکلا
ابھی ہستی کے باہر ہی تھا کہ اسے چند بچے کھیلتے ہوئے دکھائی دیے۔ کامران نے، غور سے دیکھا تو وہ سب کے سب نابینا معلوم ہوئے۔ کامران آگے بڑھا۔ اسے دو جوان مرد بستی کی طرف جاتے ہوئے نظر آئے۔ مگر یہ دونوں بھی اندھے تھے۔ کامران اور آگے بڑھا۔ اب اسے چند نوجوان لڑکیاں اپنی طرف آتی دکھائی دیں۔ کامران نے سب سے پہلے ان کی آنکھوں کی طرف توجہ کی۔
کیا مشکل ہے۔ کامران نے سوچا۔ وہ ساری لڑکیاں بھی اپنی آنکھوں سے محروم تھیں۔
بستی میں داخل ہونے کے بعد کامران نے جدھر بھی دیکھا۔ ہر طرف اسے اندھے ہی اندھے دکھائی دیئے اب قامران سے نہ رہا گیا۔ اس نے بستی کے ایک معمر آدمی کو روکا اور اس سے بولا۔ ’’اس بستی میں مجھے ہر طرف اندھے ہی اندھے دکھائی دے رہے ہیں.......... یہ کیا معاملہ ہے؟"
”تم کون ہو اور کہاں سے آئے ہو بھائی؟" وہ ادھیڑ عمر کا مضبوط آدمی اس کے نزدیک آیا اور ٹٹول کر کامران کی کلائی تھام لی۔
"میں۔۔۔۔۔۔۔" قامران ابھی کچھ جواب نہ دینے پایا تھا کہ اس نابینا نے اچانک شور مچادیا۔
"لوگو.......آؤ.......آؤ....میں نے ایک موذی کو پکڑ لیا۔“
اس کی آواز سنتے ہی چاروں طرف سے ہٹے کٹے نوجوان دوڑ پڑے ۔ "میں موذی نہیں..........قامران ہوں کامران‘‘ کامران نے سمجھانے کی کوشش کی۔ لیکن بوڑھے نے سمجھنے کی کوشش نہ کی۔ آناً فاناً وہ چند نابینا نو جوانوں کے درمیان پھنس گیا۔
وہ اندھے نوجوان اس سے شہد کی مکھیوں کی طرح چمٹ گئے تھے۔ کسی نے اس کے کپڑے تھام لیئے تھے۔ کسی نے ہاتھ، کسی نے ٹانگیں۔ اور کوئی اس کی گردن میں جھول رہا تھا تو کوئی گود میں اٹھا کو اسکا وزن تول رہا تھا اور قامران حیران پریشان ان اندھوں کو دیکھ رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ یہ لوگ آخر کس غلط فہمی میں مبتلا ہیں؟
”اسے خمنا کے پاس لے چلو وہی ایم موذی کو پہچانے گا“ اس ادھیڑ عمر آدمی نے کہا ۔ جس نے کامران کی کلائی اسی مضبوطی سے تھام رکھی تھی۔
”نہیں..........اسے وہاں لے جانے کی ضرورت نہیں............خمنا کو یہاں بلا لاؤ اسے وہاں لے گئے تو ڈر ہے کہ یہ کی بھاگ نہ جائے۔” ایک نوجوان نے کہا۔ جس نے اس کی گردن پکڑی ہوئی تھی۔ "
"ہاں........یہ ٹھیک ہے۔ تم لوگ اسے پکڑ کر رکھو میں خمنا کو بلا کر لاتا ہوں۔“ یہ کہہ کر ایک نوجوان بستی کے اندر چلا گیا۔
"دوستو پریشان مت ہو میں کہیں نہیں بھاگوں گا۔ مجھے اس بری طرح نہ دپوچو آرام سے زمین پر بیٹھ جاؤ میں بھی بیٹھ جاتا ہوں۔ تم لوگوں کو ضرور کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔“
”چپ چاپ خاموشی سے کھڑے رہو۔“ اس ادھیڑ عمر آدمی نے ڈپٹ کر کہا ”ہماری خوش فہی یا غلط فہمی کا فیصلہ خمنا ہی کرسکتا ہے۔“
”يه خمنا کیا بلا ہے؟“ قامران بھلا کہاں چپ رہنے والا تھا۔
”اس بستی کا واحد بینا آدمی جو خوش قسمتی سے بینا رہ گیا تاکہ تم جیسے موذیوں کو پہچان سکے“
”اس بستی میں صرف ایک بینا آدمی ہے باقی سب اندھے ہیں؟“ قامران حیران ہو ”ایسا کیسے ہوگیا؟“
”زیادہ بنومت...خمنا ذرا تمہیں پہچان لے پھر ہم تم سے پوچھیں گے کہ تم نے اور تمہارے ساتھیوں نے پوری بستی کو اندھا کیوں کر دیا؟" ادھیڑ عمر آدمی نے دانت بھینچ کر کہا۔
اتنے میں کامران کو سامنے سے ایک نوجوان تیزی سے بھاگتا ہوا دکھائی دیا..........وہ اندھا نہ تھا۔ یہ یقینا خمنا ہے۔ قامران نے سوچا۔
"لو وہ تمہارا خمنا آگیا۔" کامران نے اطلاع دی۔
”خمنا..........ارے خمنا..........جلدی آؤ“ کئی نوجوان چیخ اٹھے۔
"آ گیا آ گیا‘‘ خمنا نزدیک آتے ہوئے بولا۔
اس نے بغور کامران کا جائزہ لیا اور اپنا فیصلہ دیتے ہوئے بولا۔ "نہیں یہ ان میں سے نہیں ہے"
یہ سن کر تمام نوجوانوں نے اسے چھوڑ دیا۔
"خمنا اچھی طرح دیکھ لو“ ادھیڑ عمر آدمی نے ابھی اس کی کلائی نہ چھوڑی تھی۔
"چھوڑ دو اسے یہ وہ نہیں۔۔۔۔یہ کوئی مسافر معلوم ہوتا ہے“ خمنا پولا۔
تب اس ادھیڑ عمر مضبوط سے اندھے آدمی نے اس کی کلائی چھوڑ دی۔
کامران نے ٹھنڈا اور گہرا سانس لیا۔
"اجنبی معاف کرنا" خمنا کامران سے مخاطب تھا۔
"ظلم نے انہیں بے حد شکی بنا دیا ہے یہ لوگ اس طرح ہر آنے جانے والے کو پکڑ لیتے ہیں اور پھر مجھ سے تصدیق کرواتے ہیں۔ لیکن آج تک وہ لوگ نہیں پکڑے گئے۔ وہ بھلا اس بستی میں کیوں لوٹ کر آنے لگے۔ یہ بات ہم اچھی طرح جانتے ہیں۔"
"یہ کیا قصہ ہے۔ تم لوگوں پر کیا ظلم ہوا؟ پوری بستی اندھی کس طرح ہوئی اور تم بینا کیسے رہ گئے؟ کہ مجھے سناؤ ذرا مجھے بھی بتاؤ“
"آؤ میرے ساتھ“ خمنا نے کامران کا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنے گھر کی طرف لے گیا راستے میں کامران نے اپنا تعارف کروایا۔ گھر آ کر خمنا نے دروازے کے باہر ہی سے آواز لگائی ”اے خرسہ۔“ آواز سن کر فورا ہی ایک نوجوان لڑکی دروازے پر برآمد ہوئی۔ کامران نے اسے دیکھا تو دیکھتا رہ گیا۔ ایک بہت حسین اور نرم و نازک سی لڑکی اس کے سامنے تھی۔ اس کی کی بڑی بڑی بے روشن آنکھیں دیکھ کر کامران کا دل بھر آیا۔
"یه میری بہن ہے کامران" خمنا نے بتایا۔ پھر اپنی بہن سے مخاطب ہو کر بولا۔ "خرسه، کھانے پینے کا بندوبست کرو میرے ساتھ ایک مہمان ہے۔"
"اچھا...آؤ اندر آؤ....ہم کتنے خوش نصیب ہیں کہ کسی مہمان نے ہمارے گھر قدم رکھا“ خرسہ اندر جاتے ہوئے بولی۔
کھانے پینے کے ذکر پر کامران کو خیال آیا کہ اسے شدت سے پیاس لگی ہے۔ وہ اس پکڑ دھکڑ کے چکر میں اپنی پیاس بھلا بیٹھا تھا۔
”خمنا مجھے شدید پیاس لگی ہے۔ دراصل میں پانی کی تلاش میں ہی تمہاری بستی میں داخل ہوا تھا۔“ کامران نے مسکراتے ہوئے کہا۔ "ہو سکے تو دو گھونٹ ٹھنڈا پانی پلا دو"
"ابھی لو‘‘ خمنا یہ کہہ کر اندر چلا گیا۔
تھوڑی دیر میں واپس آیا تو اس کے ہاتھ میں لذت سے بھر پور مشروب تھا۔ کامران نے مشروب لے کر ایک سانس میں پیا اور پھر اپنے ہونٹوں کو صاف کرتا ہوا نیم دراز ہوگیا۔
"قامران ہم لوگ سورج کو اپنا دیوتا مانتے ہیں۔“ خمنا نے کہنا شروع کیا۔ "اور اس بستی میں مہمان کی عزت کی جاتی ہے۔ مہمان کو دراصل ہم لوگ دیوتا کی طرح اہم سمجھتے ہیں"
"اب اس کا اندازہ مجھے تمہارے گھر پہنچتے ہی ہوگیا۔ تمہاری بہن نے مہمان کا ذکر سن کر اپنی خوش نصیبی کا ذکر کیا۔‘‘ کامران نے کہا ۔ ”میں تم لوگوں کی خوش اخلاقی سے خاصا متاثر ہوا ہوں۔"
"یہ مہمان نوازی ہماری گھٹی میں شامل ہے اور اسی مہمان نوازی نے ہمیں شدید نقصان پہنچایا ہے" خمنا نے اداس ہو کر کہا۔
"وہ کس طرح؟“ کامران نے پوچھا۔
”یہ زیادہ پرانی بات نہیں ہے۔ کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے۔ ایک شام ہماری بستی میں سات بندے آئے۔ وہ اپنے چہرے مہرے سے پروہت دکھائی دیتے تھے۔ گیروے رنگ کے لباس گلے میں مالائیں جسموں پر بھبھوت ملے۔ مہمانوں کو دیکھتے ہی بستی کے ہرشخص کی خواہش تھی کے یہاں ٹھہر جائیں۔ لیکن ان لوگوں نے کسی کے یہاں ٹھہرنے کے بجائے بستی کے باہر اپنے خیمے لگائے تاکہ گیان دھیان میں کوئی دقت نہ ہو۔ ان پروہتوں نے کھانے پینے کو بھی منع کر دیا۔ لیکن ہمارے لیے یہ بڑی شرم کی بات تھی کہ بستی میں آنے والے مہمان خود پکائیں کھائیں۔ رہائش کی شرط مان لی تھی۔ لیکن کھانے سے انکار پر کسی نے کان نہ دھرا۔ آخر ان پروہتوں نے اس کھانا لینا منظور کرلیا۔ اسی شام جب بستی کے لوگ کھانا لے کر پہنچے تو انہیں گیان و دھیان میں مصروف پایا۔ آخر ایک پروہت نے آنکھ کھول کر دیکھا وہ اٹھا اس نے بستی والوں سے تمام کھانے کی چیزیں سمیٹ لیں اور بستی والوں سے کہا کہ کل صبح بستی کے تمام لوگ یہاں اکٹھا ہو جائیں۔ پروہت پاٹھ دیں گے۔ دوسری صبح بستی کے تمام لوگ ان کے خیموں کے سامنے اکٹھا ہوگئے اتنے میں وہ ساتوں پروہت اپنے اپنے خیموں سے برآمد ہوئے۔ ان میں ایک وہ جو اپنی شکل و صورت سے معمر دکھائی دیتا تھا وہ ایک نوجوان پروہت کے کندھے پر سوار ہوکر بستی والوں کی طرف آیا پیچھے پیچھے اور دوسرے پروہت۔ ہمارے نزدیک جا کر اس نے ایک لمبا چوڑا پاٹھ دیا اور پاٹھ کے دوران میں یہ خوشخبری سنائی کہ وہ آج سے تیسرے دن سورج دیوتا کے درشن کرائے گا۔ یہ ایک بڑی بات تھی۔ بستی والوں میں ایک دم خوشی کی لہر دوڑ گئی اور ان پروہتوں کی قدرومنزلت اور بھی بڑھ گئی۔
جس دن پروہتوں نے سورج دیوتا کے درشن کروانے کو کہا تھا اس دن بستی میں بڑا ہی جوش و خروش تھا۔ بالکل جشن کا سا سماں تھا۔ میری بد قسمتی دیکھو، اس وقت تو میں اسے اپنی بدقسمتی ہی سمجھا تھا کہ خاص درشن والے دن میری آنکھوں میں شدید تکلیف ہوئی۔ اتنا شدید درد ہوا کہ میں آ کر اندھیری کوٹھڑی میں جا کر پڑ گیا۔ کیونکہ سورج کی روشنی بالکل چھری کی طرح آنکھوں میں لگنے لگ تھی وقت مقررہ پر پوری بستی خالی ہوگئی۔ بچے بوڑھے اور جوان ایک بھی بستی میں نہ رہا۔ سوائے میرے۔۔۔میں اندھیری کوٹھڑی میں پڑا اپنی قسمت کو کوس رہا تھا کہ میں نے اپنے گھر میں کچھ آوازیں سنیں۔وہ آدمیوں کی آواز تھی پھر ان لوگوں نے میری کوٹھڑی کا دروازہ کھولا۔ میں نے روشنی کی وجہ سے اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیا۔ آنے والے نے مجھ سے پوچھا کہ میں یہاں کوٹھڑی میں کیوں پڑا ہوں۔ میں نے اپنے درد کا ذکر کیا تو وہ بولے کہ "تم اپنی آنکھوں پر پٹی باندہ لو اور میدان میں چلو۔ تم اپنی آنکھیں سورج کی روشنی میں کھولنے کے قابل نہیں ہو تو کوئی بات نہیں۔ ہم تمہیں بند آنکھوں سے درشن کروائیں گے۔ تم اپنے من کی آنکھوں سے دیوتا کو دیکھ سکو گے۔" تب مجھے معلوم ہوا کہ کوٹھڑی میں آنے والے پروہت تھے۔ میں نے فورا ہی اپنی آنکھوں پر ایک کالا کپڑا باندھ لیا اور ان پروهتوں ساتھ میدان کی طرف چل دیا۔ وہاں جاکے میں ایک کونے میں بیٹھ گیا۔ میدان میں خاموشی چھائی تھی۔ بس بڑے پروہت کی آواز میرے کانوں میں پڑ رہی تھی۔ وہ کہہ رہا تھا کہ "اے لوگو۔۔۔۔! آہستہ آہستہ سورج کالا پڑتا جارہا ہے۔ اپنی نظریں اس پر جمائے رکھو جب پورا سورج کالا ہو جاۓ گا تو دیوتا اپنے درشن دے گا۔ اے لوگو ! اپنی آنکھیں پھاڑے کالے ہوتے ہوئے سورج کو دیکھتے رہو" میں نے کئی بار سوچا کہ میں اپنی آنکھوں سے پٹی ہٹا کر سورج کو دیکھوں دیوتا کے درشن کروں۔ ان پٹی ڈھیلی کرتا تو روشنی میری آنکھوں پر سوئی کی طرح لگتی۔ میں شدت درد سے بے حال ہو جاتا میں کالے کپڑے سے اپنی آنکھیں ڈھک لیتا۔
اچانک پروہت کی آواز آنی بند ہوگئی۔ بہت دیر تک میں گھنٹوں میں سردیے بیٹھا رہا کہ اچانک میرے دل میں یہ خواہش شدت سے جاگی کہ میں کپڑا ہٹا کر سورج کو دیکھوں۔ میں نے جی کڑا کرکے آنکھوں سے کپڑا ہٹایا اور سورج کو دیکھا۔ اس وقت سورج نہ تھا۔ ہر طرف اندھیرا پھیلا ہوا تھا۔ میں نے سورج کو دیکھا تو میں نے اپنی آنکھوں کا درد ٹھیک پایا۔ سورج کیا، اب وہاں کوئی پروہت نہیں تھا۔ ان کے خیمے بھی وہاں سے غائب تھے اور بستی کے لوگ ٹکٹکی باندھے سورج کی طرف دیکھ رہے تھے۔ میں نے کئی لوگوں کو جھنجھوڑ ڈالا تب مجھے احساس ہوا کہ وہ اپنی بینائی کھو بیٹھے ہیں۔ میں وہاں سے اٹھ کر تیزی سے بستی کی طرف آیا تو میں نے کی عجیب حالت دیکھی۔ بستی سے تمام مویشی غائب تھے اور گھروں سے تمام قیمتی ساز و سامان اور اناج غائب تھا۔ ان دیوتا کے درشن کرانے والوں نے بستی کو بھی بے دردی سے لوٹا تھا اور جاتے جاتے سورج گرہن دکھا کر اندھا کر گئے تھے اور یوں بستی والے اپنی مہمان نوازی کے ہاتھوں اپنا اسباب اور آنکھیں گنوا بیٹھے۔ خمنا نے قصہ ختم کرتے ہوئے کہا۔
"کیا تم نے ان پروہتوں کو تلاش کرنے کی کوشش نہیں کی؟‘‘ کامران نے سوال کیا۔
"میں نے کئی دن تک آس پاس کے علاقے میں انہیں تلاش کیا لیکن کوئی کھوج نہ لگا" خمنا نے جواب دیا۔
"یہ حرکت يقيناً ان نگوں کی معلوم ہوتی ہے جو اس علاقے میں دور تک پھیلے ہوئے ہیں۔“ قامران نے تاسف سے کہا۔ ”اگر ان ٹھگوں کو مال و اسباب ہی چاہئے تھا تو ویسے ہی لوٹ لے جاتے، انسانیت سوز حرکت کرنے کی کیا ضرورت تھی۔"
”ہاں واقعی...وہ لوگ اگر بستی والوں کو اندھا کیئے بغیر مال و اسباب کے علاوہ تن کے ٹکڑے بھی مانگتے تو وہ خوشی سے سب کچھ دے دیتے....اس سنگین واردات کی کیا ضرورت تھی بھلا۔" خمنا نے کہا "اچھا قامران تم کچھ دیر آرام کرو پھر دونوں مل کر کھانا کھائیں گے۔"
خمنا کے جانے کے بعد قامران افسردہ سا بستر پر لیٹ گیا۔ ایک طرف سے ٹھگوں کی اس بات پر غصہ تھا تو دوسری طرف بستی والوں کی بینائی کھو جانے کا الم۔۔۔۔وہ عجیب تذبذب کا شکار تھا۔ اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے۔
تب اس کی نگاہوں میں اچانک بجلی سی کوند گئی۔
چاندکا زرق برق لباس پہنے دروازے میں کھڑی تھی۔ کامران تڑپ کر اٹھ بیٹھا، چاندکا کے ہونٹوں پر تبسم پھیل گیا۔ اس کے کنوارے بدن کی خوشبو نے فضا کو معطر کر دیا۔ وہ چھم چھم کرتی قامران کی طرف بڑھی۔
"دروازہ تو بند کر دو۔“ کامران نے بے تابی سے کہا۔
”اوہ اچھا....یہ تو مجھے یاد ہی نہ رہا۔‘‘ دروازہ بند کر کے پڑھی ہوئی بولی۔ ”ہاں بولو کیوں پریشان ہو؟“
”پریشان...! نہیں اب تو نہیں....پہلے ضرور تھا۔“ قامران نے ہنستے ہوئے کہا۔
"پہلے کیوں تھے؟‘‘ چاندکا نے پوچھا۔
"چاندکا....کیا کوئی ایسی صورت نہیں کہ بستی والوں کی آنکھوں میں پھر سے روشنی بھر دی جائے.....؟" کامران نے اپنی پریشانی بیان کردی۔
"ہاں ہے اور بہت آسان“ چاندکا نے جواب دیا۔
"کیا بتاؤ جلدی؟" قامران بے قرار ہوگیا۔
”میں تمہیں سرخ پانی دے دیتی ہوں۔ سب کی آنکھوں میں ایک ایک قطرہ ڈال دو لمحوں میں روشنی لوٹ آئے گی۔ ہاں.....! سرخ پانی کے ڈالتے ہی پہلے شدید تکلیف ہوگی پھر آنکھوں میں ٹھنڈک پڑ جائے گی۔“ چاندکا نے بتایا۔
”کہاں ہے وہ سرخ پانی؟“
”میرے ہاتھ میں سمجھو....میرے ایک اشارے پر سرخ پانی کی بوتل میرے ہاتھ میں ظاہر ہوجائے گی کہو تو دکھاؤں؟“
”نہیں نہیں دکھانے کی ضرورت نہیں۔ میں اسے کہاں چھپاؤں گا اور اگر میں پکڑا گیا تو کیا بتاؤں گا کہ یہ بوتل کہاں سے آ ئي؟‘‘ قامران نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
”پانیی کی اس بوتل کو تمہاری گھوڑی کی پیٹھ بندھے سامان میں چھپا دوں؟" چاندکا نے پوچھا ”وہاں سے نکال لینا۔“
”ہاں یہ ٹھیک ہے۔"
”اگر یہی بات ہے تو تم اب بے فکری سے آرام کرو۔ کھانا وانا کھا کر سرخ پانی کی بوتل گھوڑی کی پیٹھ سے کھول لینا پھر پہلا تجربہ خمنا کی بہن پر کرنا...پھر کچھ دیر میں بستی کے نابینا خمنا کے گھر پرامنڈ آئیں گے۔ انہیں روشنی دینا اور دعائیں لینا۔“
دعائیں تو تمہیں ملنی چاہیئں۔"
”تمہیں ملیں یا مجھے......ایک ہی بات ہے۔ اصل میں ہم دونوں ایک ہیں۔ چاندکا نے کہا شگفتگی سے کہا۔ "یا میں نے غلط کہا؟"
”ہاں، بلكل غلط کہا۔۔۔۔ ابھی میں ہاتھ پکڑنے کے لیے آگے بڑھوں گا تو یہ مژدہ سنانے والے فورا تنبیہوں پر اتر آئیں گے.....قامران۔۔۔۔! مجھے ہاتھ نہ لگا ورنہ یوں توں ہو جائے گا...اب تم ہی کہو کہ اصل میں ہم کیا ہیں؟.... ایک یا دو یا اس سے بھی زیاده؟“ قامران نے ہنس کر کہا۔
پھر کچھ دیر ادھر ادھر کی باتوں کے بعد چاندکا نے رخصت لی اور کامران نے اپنے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر اسے رخصت کیا۔ چاندکا کے جانے کے بعد کامران بڑی بے فکری سے سو گیا اور لچند محوں بعد اس کی آنکھوں میں نیند اترنے لگی۔
جانے کتنی دیر سویا ہوگا کہ خمنا کی آواز سے اس کی آنکھ کھل گئی۔ وہ کہہ رہا تھا ”قامران....! اب اٹھ جاؤ...کھانا کھا لو پھر سو جانا۔“
کامران فورا اٹھ کر بیٹھ گیا۔ تھوڑی دیر بعد کھانا اس کے سامنے آ گیا۔ قامران نے سیر ہوکر کھایا۔ کھانے سے فارغ ہونے کے بعد جب خمنا کی بہن خرسہ ٹول ٹول کر برتن سمیٹنے لگی اس نے فوراً اس کی مدد کی اور خمنا سے مخاطب ہو کر بولا۔ ”حمنا میرے پاس ایک آنکھوں کی دوا ہے۔ اگر اجازت ہو تو تمہاری بہن کی آنکھوں میں ڈال کر دیکھوں.....شاید روشنی لوٹ آۓ“
"یہ تو بہت اچھا ہوگا۔“ خمنا کے بجائے خرسہ بولی۔"
"کامران تم فورا اس دوا کو ڈال کر دیکھو، میں راضی ہوں"
”اچھا تم ٹھہرو...! میں دوا لے کر آتا ہوں۔‘‘ کامران یہ کہہ کر باہر نکلا۔ کامران کو دور ہی سے پانی کی بوتل ابلا کی پیٹھ پر بندھی دکھائی دے گئی۔ وہ دوڑ کر گھوڑی تک پہنچا اور جلدی جلدی اس بوتل کو چمڑے کی پٹی سے کھولنے لگا۔ وہ واپس آیا تو خرسہ اس کا انتظار کررہی تھی۔
کامران کے قدموں کی آہٹ سن کر وہ بے چینی سے بولی ”مل گئی دوا؟"
”ہاں، کیوں نہیں“ کامران نے بوتل کو دیکھتے ہوئے کہا ”اچھا اب تم ذرا لیٹ جاؤ“
خرسه فوراً ہی لیٹ گئی۔ کامران نے اس کی خوبصورت مگر بے نور آنکھوں میں بڑی احتیاط سے ایک قطره پانی ٹپکایا۔ دوا آنکھ میں پڑتے ہیں وہ تکلیف کی شدت سے دوہری ہوگئی۔
”تکلیف چندلمحوں کی ہے اسے برداشت کر جاؤ۔ پھر سکھ ہی سکھ ہے۔“ کامران نے تسلی کہا۔ آہستہ آہستہ خرسہ کی بندھی ہوئی مٹھیاں کھلنے لگیں چہرے کا تناؤ کم ہوتا گیا اور اس کا جسم اصل حالت پر آ گیا۔ کامران کو قدرے سکون ہوا۔ خمنا کے چہرے پر بھی اطمینان پھیلنے لگا۔
کچھ دیر انتظار کرنے کے بعد کامران نے خرسہ کہا "خرسہ آنکھیں کھولو۔“
اس نے ڈرتے ڈرتے آنکھیں کھولیں۔ اچانک اس نے محسوس کیا کہ اس کی دنیا میں اجالا۔ اس کی آنکھوں کے سامنے اس کا پیارا بھائی خمنا کھڑا تھا۔
وہ تڑپ کر اٹھی اور اپنے بھائی سے لپٹ گئی ”خمنا میں دیکھ سکتی ہوں۔“
خرسہ نے کامران کے ہاتھ پکڑ لیے اور تشکر کے طور پر انہیں چومتی ہوئی بولی... ” معزز مہمان میں تمهارا یه احسان زندگی بھر نہیں بھولوں گی۔“ وہ بھاگتی ہوئی دروازے سے نکل گئی۔
تھوڑی دیر بعد وہی ہوا جس کا ذکر چاندکا نے کیا تھا۔
خرسہ نے پوری بستی میں اپنی بینائی کا ڈھنڈورا پیٹ دیا تھا۔ لوگ بادلوں کی طرح خمنا کے گھر امنڈ پڑے۔
قامران نے ان سب کو ایک قطار بنانے کو کہا۔ لوگ قامران کا حکم سنتے ہی فوراً ایک دوسرے کے پیچھے کھڑے ہوتے چلے گئے۔ اسی طرح یہ قطار دور تک چلی گئی۔
کامران نے بہت احتیاط سے ان کی آنکھوں میں ایک ایک قطرہ ٹپکانا شروع کیا۔ تھوڑی ہی دیر میں قامران پر دعاؤں کی بارش ہونے لگی۔ جو بھی اٹھتا وہ پہلے اس کے عقیدت سے ہاتھ چومتا اور اور پھر اپنے گھر کی طرف روانہ ہو جاتا۔
بینائی لوٹتے ہی جو خوشی لوگوں کے چہروں پر دکھائی دی اسے دیکھ کر کامران کے دل میں شادیانے بجنے لگتے۔ خوشی کا یہ لمحہ اسے صدیوں پر محیط دکھائی دیتا۔
"قامران تم عظیم ہو“ خمنا کہہ رہا تھا۔ "ایسے لوگ اس دنیا میں بہت کم ہیں جو دوسروں کو خوش دیکھ کر خوش ہوتے ہیں۔ یہاں تو لوگ دل دکھانے کے لیے پیدا ہوتے ہیں۔"

تمام اردو کہانیاں پڑھنے کے لیے کلک کریں 

سفید محل - پارٹ 13

Urdu stories online, Urdu stories for kids, Short Urdu stories, Urdu Kahaniyan, Famous Urdu stories, Urdu stories with moral, Best Urdu stories collection, Urdu stories for students, Urdu love stories, Urdu horror stories, Urdu stories for reading, Urdu stories in Urdu text, Funny Urdu stories, Urdu stories for beginners, Urdu detective stories, Urdu motivational stories, Urdu stories for adults, Urdu moral stories, Urdu stories for children, Urdu true stories, Urdu suspense stories, Urdu emotional stories, Urdu adventure stories,

hindi moral stories in urdu,سبق آموز کہانیاں, jin-ki-dushmni,good moral stories in urdu,Moral Stories,Urdu Stories,urdu kahani,اردو کہانی,قسط وار کہانیاں,
Reactions