جوگی (انور صدیقی) - قسط نمبر10

Urdu Novel PDF Download

Urdu Novels PDF - Urdu Novels Online

قسط وار کہانیاں
جوگی - قسط نمبر10
رائیٹر :انور صدیقی

مندر سے اسٹیشن تک ہمارے درمیان کوئی بات نہیں ہوئی۔ اسٹیشن میں داخل ہونے کے بعد ہی مجھے اس بات کا خیال آیا تھا کہ سیتارام اب بنارس کو بھی خیر باد کہنے کی
ٹھان چکا ہے۔اب کہاں کا ارادہ ہے گرو! میں نے تنگ آکر خاموشی کا قفل توڑ دیا۔
الہ آباد۔" اس نے مختصر جواب دیا۔
پنڈت رام کشن کی تلاش میں؟“ میں نے دبی زبان میں سوال کیا۔ ”ہاں۔" سیتا رام نے مجھے تیز نظروں سے گھورا۔ ”ہمالیہ سے واپسی پر دونوں پجاریوں نے یہی کہا تھا کہ وہ اونچی ہواؤں میں اڑ رہا ہے۔ میرے خلاف منہ پھاڑ کر باتیں کر رہا ہے۔ بنارس میں مندر کے پجاری نے بھی مشورہ دیا تھا کہ میں اس کا دھیان من سے نکال دوں۔" اس نے یکلخت بڑے خطرناک لہجے میں کہا۔ ” میں نے طے کر لیا ہے کہ پہلے اس کا کریا کرم کر کے نرکھ میں پہنچا دوں پھر کوئی دوسرا قدم اٹھاؤں گا۔" دوسرا قدم کیا ہو گا؟" میں نے چھتے ہوئے لہجے میں سوال کیا۔

" مجھے تمہارے ذریعے اس انمول چیز کو حاصل کرنا ہو گا جو کیول تمہارے کوئی اور حاصل نہیں کر سکتا۔ " سیتا رام کے ہونٹوں پر شیطانی مسکراہٹ کھیلنے لگی، سرسراتے لیجے میں بولا۔ متھرا میں مہاویر نے تمہیں یہی بات کسی تھی تا؟"ہاں میں ایک لمحہ کو چونکا پھر مسکرا کر بولا۔ اس نے ایک مشورہ اور بھی دیا تھا؟ اس نے کہا تھا کہ میں پنڈت رام کشن سے پنجہ لڑانے کی بھول نہ کروں۔" " تجھے اس کی چنتا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔" سیتا رام نے کسی زہریلے ناگ کی مانند پھنکارتے ہوئے جواب دیا۔ ”میں اس کا سر کچلنے کی شکتی رکھتا ہوں۔" گرو دیو! میں نے اسے ٹولنے کی خاطر کہا۔ ”کیا تم اب بھی مجھے اس انمول چیز
کے بارے میں نہیں بتاؤ گے جس نے تمہیں پریشان کر رکھا ہے؟" رتن کمار !" سیتارام بل کھا کر بولا۔ "میں دیکھ رہا ہوں کہ تو نے اب اپنے قد سے بڑی بڑی باتیں کرنی سیکھ لی ہیں۔" تمہاری کرپا ہے۔" میں نے جواب دیا۔ ”تم میرے راستے میں نہ آتے تو شاید میری منزل کوئی اور ہوتی۔" کیول میری بات کیوں کر رہا ہے؟" وہ زہر میں بجھی آواز میں بولا۔ ”تیرے پرکھوں نے تیرے بارے میں جو کچھ کہا تھا وہ کیوں بھول رہا ہے؟" ستارام!" میں اپنے بزرگوں کا حوالہ سن کر آپے سے باہر ہونے لگا۔ ، کیا تم مجھے بتا سکتے ہو کہ میرے ماں باپ کی موت میں کس کا ہاتھ شامل
تھا؟وہ ڈاکو تھے ، دھن لوٹنے آئے تھے' جو ہاتھ لگا اسے لے کر چمپت (نائب) ہو گئے۔ تیرے گلے میں پوتر کنٹھی (تسبیح) نہ ہوتی تو تو بھی اپنے پریوار کے ساتھ مارا جاتا۔ “ سیتارام نے وہی بات کہی جو پہلے کہہ چکا تھا۔ میں اگر مارا جاتا تو پھر وہ قیمتی شے کون حاصل کر سکتا تھا جس کے لئے تم نے مجھے چنا ہے ؟ میں نے کسی خیال کے تحت سنجیدگی سے سوال کیا۔ "مہاویر نے یہ بھی کہا تھا کہ اس دھرتی پر کیوں میرے سوا اس انمول رتن کو کوئی اور حاصل نہیں کر سکتا۔ " ”میں نے بھی تجھے یہی سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ بھوش کا لکھا اوش پورا ہوتا ہے۔ اس کے مکروہ ہونٹوں پر شیطانی مسکراہٹ کھیلنے لگی۔
"کیا تم مجھے بھی نہیں بتاؤ گے کہ وہ کیا چیز ہے؟“ میں نے پوچھا۔دھیرج بالک! دھیرج ۔“ سیتا رام نے پھر مجھے ٹالنے کی کوشش کی۔ ”اتنی جلدی کیا ہے، جب تو جانتا ہے کہ تیرے سوا اس خزانے کو کوئی دوسرا منش حاصل نہیں کر سکتا تو پھر سے کا انتظار کرلے، جب وہ تیرے ہاتھ لگے گی تو جی بھر کر دیکھ لینا۔" اور اس کے بعد کیا ہو گا؟" میں نے سنجیدگی سے اس کی آنکھوں میں جھانکا۔ تو اپنی من مانی کرنے کے لئے آزاد ہو گا۔ " جوگی نے گول مول جواب دیا۔ تو چاہے تو اپنا راستہ الگ بھی کر سکتا ہے۔"
اور وہ چیز؟"
تو جوگی سیتارام سے سمجھوتہ کر چکا ہے اس لئے اس چیز پر میرا ادھیکار ہو گا۔" سیتا رام نے سنجیدگی سے جواب دیا۔
”اور اگر اُس وقت میں تمہاری بات ماننے سے انکار کر دوں تو ؟ رتن کمار !" جوگی سیتا رام کا چہرہ تمتمانے لگا مٹھیاں بھینچ کر کرخت لہجے میں بولا۔ اس بات کو اپنے من سے کھرچ کر نکال دے مورکھ کہ تو جوگی سیتارام سے کبھی جل بازی (دغابازی) کر سکے گا، جس دن تیرے من میں کوئی کھوٹ آیا وہ تیرے جیون کا سب سے منحوس دن ثابت ہو گا۔" سیتارام کی بات سن کر میرے تیور خطرناک ہو گئے، میری انگلیوں میں کھجلی شروع ہو گئی، میں نے سوچا کیوں نہ سیتارام کو اپنے راستے سے ہمیشہ کے لئے ہٹا دوں اس نے اگر میری زندگی برباد کر دی تھی تو پھر مجھے بھی اسے مارنے کا حق حاصل تھا۔ میں نے ابھی دل میں یہ سوچا ہی تھا کہ درگا کی آواز میرے کانوں میں گونجی۔ سنبھلو رتن کمار! تم بہک رہے ہو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہیں پچھتانا پڑے۔“ درگا نے تنبیہہ کی۔ میں چاہوں تو تمہاری ساری شکتی واپس لے کر تمہیں سیتارام کے چرنوں میں ڈال سکتی ہوں۔" نہیں درگا نہیں۔" میں نے تیزی سے کہا۔ ”میں بھٹک گیا تھا۔"دوبارہ ایسی بھول کبھی نہ کرنا ورنہ ہاتھ ملتے رہ جاؤ گے۔ اس بار میں تمہیں چھوڑ رہی ہوں پرنتو دوسری بار اگر تمہارے من میں ہمارے سیوک کی طرف سے کوئی ایسا دھیان بھی آیا تو وشنو کا سراپ تمہیں ایسا کشٹ دے گا کہ سارا جیون بھوگتے رہو گے۔"
اب ایسا کبھی نہیں ہو گا ! میں تیری بات یاد رکھوں گا۔"
میرے اندر ٹوٹ پھوٹ شروع ہو گئی، میں کسی محل کی بھول بھلیوں میں قید کر دیا گیا تھا جہاں سے بظاہر نکاسی کا کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا تھا۔ درگا نے مجھے وشنو مہاراج کے جاپ کے لئے اکسایا تھا، اس وقت میرے ذہن میں یہی خیال آیا تھا کہ وہ مجھ پر مربان ہو گئی ہے لیکن شاید وہ میری خوش فہمی تھی۔ یہ درست ہے کہ اس جاپ کو کرنے کے بعد میں ناقابل یقین، حیرت انگیز اور پراسرار قوتوں کا مالک بن گیا تھا لیکن یہ تمام شیطانی قوتیں بھی مجھے جوگی سیتا رام سے نجات نہیں دلا سکتی تھیں، مجھے ہر قیمت پر اس کی باتوں پر عمل کرنا لازم تھا۔ میرے ذہن میں آندھیاں چلنے لگیں، گھٹن کا احساس شدت اختیار کرنے لگا جوگی سیتارام کے ہتک آمیز جملے میرے ذہن میں صدائے بازگشت بن کر چکرا رہے تھے۔ اس نے بڑی حقارت سے میری توہین کی تھی، میری بے بسی کا مذاق اڑایا تھا، دھمکی دی تھی کہ میں اس کے سامنے سر اٹھانے کی غلطی نہ کروں۔ میں خون کے گھونٹ پی رہا تھا۔ وشنو مہاراج کے جاپ نے مجھے اس کے مقابلے میں زیادہ طاقتور بنا دیا تھا لیکن میں اس کے طاقت کا استعمال نہیں کر سکتا تھا ورنہ دیوی کا عتاب مجھے از میناک حالات سے چار کر دیتا۔ درگا نے یہی کہا تھا۔
.کہاں کھو گیا بالک!" سیتارام نے میری خاموشی کو محسوس کرتے ہوئے قدرے نرم میں لہجہ اختیار کیا۔ کیا ابھی تک گرو کو نیچا دکھانے کا کوئی راستہ تلاش کر رہا ہے؟" سیتارام!" میں نے خود پر قابو پاتے ہوئے کہا۔ " تم نے ابھی کہا تھا کہ اگر تم اس چیز کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے تو میں اپنا راستہ الگ کر سکتا ہوں۔" ”ہاں۔“ اس نے منہ بنا کر کہا۔ ”میرے من کی مراد پوری ہو جائے پھر جدھر
مرضی ہو نکل جانا۔"
میں اندر ہی اندر تلملا کر رہ گیا۔ میں نے درگا کے مہربان ہونے کی جو بات سوچی تھی وہ محض میری خوش فہمی تھی، میں سیدھے راستے کا مسافر تھا۔ سیتا رام نے اپنی عیاری اور چالاکی سے میری زندگی میں گناہوں کا زہر گھول دیا تھا میں اس وقت تک اس سے پیچھا نہیں چھڑا سکتا تھا جب تک وہ کامیاب نہ ہو جاتا، اس کے بعد بھی کوئی بات یقین سے نہیں کی جا سکتی تھی۔ مجھے اپنا ماضی یاد آیا اپنے والدین یاد آئے دادا جان کا تصور ذہن میں کلبلایا، ان کی تسبیح کی کرامت نے ڈاکوؤں کو بھی اندھا کر دیا تھا، میں ان کی گولیوں کی زد پر تھا لیکن مجھے نشانہ نہیں بنا سکتے تھے۔ دادا جان کے بارے میں میرے والدین کو یقین تھا کہ وہ مستقبل میں جھانکنے کی صلاحیت رکھتے تھے، انہوں نے شاید میرے والدین کی موت کا رو منظر بھی بہت پہلے دیکھ لیا ہو گا جو آج تک میری روح کو بار بار چھلنی کر رہا تھا۔ انہوں نے ہی مجھے ڈاکوؤں سے محفوظ کر دیا تھا یہ بھی کہا تھا کہ میری عمر طویل ہو گی۔
مجھے ہنسی آگئی، دادا جان نے سب کچھ دیکھ لیا تھا لیکن شاید یہی نہیں دیکھ پائے تھے تو
کہ میں آذر سے رتن کمار بن جاؤں گا۔ مسجد میں جا کر خدا کے حضور سجدہ ریز ہونے کے بجائے مندر میں جاکر پتھر کی مورتیوں کے قدموں کی دھول مٹی میں قلابازیاں کھاتا پھروں گا
سوچ بچار میں ڈبکی لگانا چھوڑ دے مورکھ!" جوگی سیتارام نے مجھے خاموش دیکھ کر دے کہا۔ ”جو ہونا ہے وہ ہو کر رہے گا، بھوش کے لکھے کو دھرتی کی کوئی شکتی نہیں مٹا سکتی۔" میں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ کچھ دیر بعد الہ آباد جانے والی ٹرین آگئی ، سیتارام میرا ہاتھ تھام کر دوسرے درجے کے ایک ڈبے میں بے دھڑک داخل ہو گیا۔ وہاں چار مسافر پہلے سے موجود تھے، سب دھوتی کرتے میں تھے اس لئے ہمیں دیکھ کر رام رام کرنے لگے، میں سیتارام کے ساتھ ایک سیٹ پر بیٹھ گیا۔ گاڑی دوبارہ چلی تو سیتا رام کی زبان بھی چل پڑی۔
ایک بات پوچھوں بالک! " کیا تمہیں ابھی تک مجھ پر وشواس نہیں آیا؟" میں نے جلے کٹے لہجے میں جواب
بات وشواس کی نہیں، مہمان جوگی کے حساب کتاب کی ہے۔" وہ خلا میں گھورتے ہوئے بڑی سنجیدگی سے بولا۔ اس سے پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا کہ میں تیرے من میں جھانکنے کی کوشش کروں اور میری نظریں تیرے شریر سے ٹکرا کر واپس لوٹ آئیں۔" ہو سکتا ہے کالی کا جاپ کرنے کے بعد .. نہیں۔“ اس نے میری بات کاٹ دی۔ تو مجھے بھٹکانے کی باتیں مت کر، کالی کے جاپ سے اس کا کوئی سمبندھ نہیں ہے۔"اور کیا بات ہو سکتی ہے؟" میں نے اسے الجھتا دیکھ کر حیرت کا اظہار کیا۔ کہیں نہ کہیں درمیان سے ایک کڑی کم ہو گئی ہے، میں اس کو کھوج رہا ہوں۔" رہ بدستور سنجیدہ تھا۔تمہارے من میں بار بار یہی خیال کیوں ابھر رہا ہے؟" میں نے اسے کریدنے کی خاطر دریافت کیا۔
اس لئے بالک کہ میں ٹھیک سمے پر اس گپھا میں واپس لوٹا تھا جہاں تجھے چھوڑ گیا تھا پرنتو تیرا منڈل خالی تھا۔“ اس نے بڑے یقین سے کہا۔ تو وہاں موجود نہیں تھا۔" ہو سکتا ہے تمہاری نظریں مجھے دیکھ نہ سکی ہوں۔"
بات آیا کہ دو دن کی ہوتی تو میں تیری یہ بات بھی مان لیتا لیکن وہ کچھ کہتے کہتے خاموش ہو گیا پھر تھوڑے توقف کے بعد سرسراتے لہجے میں بولا۔ ”میرا من گواہی دیتا ہے کہ تو کوئی بات مجھ سے چھپا رہا ہے۔" کیا تمہاری مہمان شکتی بھی اس بات کا کھوج نہیں لگا سکتی ؟" میں اس کی بے بسی پر دل ہی دل میں مسکرانے لگا۔ در گانے مجھے وشنو مہاراج کے جاپ کے بارے میں یہ بات کی تھی کہ اس کا علم سیتا رام کو نہ ہونے پائے، شاید وہی سیتارام کی سوچوں کو بھٹکا دیتی ہوں
سیتا رام نے ہارنا نہیں سیکھا۔" وہ بڑے اعتماد سے بولا۔ ابھی میرے پاس سے نہیں ہے لیکن جب بھی میں ادیتی کا جاپ پورا کرنے میں کامیاب ہو گیا میری شکتی ایرم یار ہو جائے گی، پھر کوئی شکتی میرے راستوں میں اندھیرے نہیں کھول سکے گی
تو بھی ننگا ہو جائے گا۔" ہو سکتا ہے تم سے دنوں کے حساب میں کوئی بھول چوک ہو گا ہو گئی ورنہ میں اس منڈل میں تھا جہاں تم چھوڑ کر گئے تھے۔" میں نے بڑی معصومیت سے اسے دھوکا دینے کی کوشش کی۔ جواب میں سیتارام نے مجھے گہری نظروں سے گھورا پھر آنکھیں بند کرے ٹھوڑی پر ٹکا دی شاید کسی جنتر منتر میں غرق ہو گیا تھا، میں نے بھی نشست کی پشت سے ٹیک لگا کر آنکھیں موند لیں۔ میرے ذہن میں بدستور درگا کے جملے گونج رہے تھے۔ سیتارام بھی اپنی دھن کا پکا تھا' اس نے کہا تھا کہ ادیتی کا جاپ کرنے کے بعد اس کے راستے کی تمام رکاوٹیں، تمام اندھیرے دور ہو جائیں گے۔
میں اپنے خیال میں گم تھا جب گلاب کی مسحور کن خوشبو کا ایک معطر جھونکا میری قوت شامہ سے ٹکرایا، ایسی خوشبو بزرگوں کے مزاروں اور بڑی بڑی درگاہوں میں عام طور پر بکھری رہتی ہے۔ میری آنکھ کھل گئی، مجھے اپنے برابر ہی کسی کی موجودگی کا احساس ہوا؟ میں نے نظریں گھما کر دیکھا تو ایک سفید ریش بوڑھا سر تا پا سفید لباس میں ملبوس میری برابر والی نشست پر بیٹھا تسبیح پڑھ رہا تھا۔ وہ خوشبو اسی کے جسم سے پھوٹ رہی تھی، مجھے اسے دیکھ کر تعجب ہوا گاڑی بنارس سے روانہ ہونے کے باہر ابھی تک کسی اور اسٹیشن پر نہیں رکی تھی، مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میں نے ڈبے میں داخل ہونے کے بعد چار مسافروں کو دیکھا تھا دو ہم تھے۔ پھر وہ ساتواں شخص چلتی گاڑی میں کہاں سے آگیا؟ میں نے باقی مسافروں پر نظر ڈالی وہ اپنی نشستوں پر موجود تھے، میں نے دوبارہ سفید ریش بوڑھے پر نظر ڈالی جو بڑے انہماک سے تسبیح کے دانوں پر کسی وظیفے کا ورد کرنے میں مشغول تھا۔ میرا ذہن اس کی شخصیت میں الجھ رہا تھا جب اس نے گردن گھما کر میری طرف توجہ کی اس کی آنکھوں سے نور کی کرنیں پھوٹ رہی تھیں۔ اس کی شخصیت میں کوئی ایسی مقناطیسی قوت بھی موجود تھی جو میرا دل اس کی طرف کھنچنے لگا۔ کہاں جانے کا ارادہ ہے؟" اس نے گفتگو کی ابتدا کی، اس کا لہجہ بے حد نرم اور پر وقار تھا۔
الہ آباد جا رہا ہوں۔"
تنہا ہے؟"
نہیں۔" میں نے جوگی سیتارام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جواب دیا۔ ” یہ بھی
میرے ساتھ ہے۔"
کالے اور گورے کا کیا ساتھ ؟" اس نے زیر لب مسکرا کر مدھم آواز میں کیا زمین اور آسمان کہیں ایک دوسرے سے گلے نہیں ملتے ، یہ سب اس کی کاریگری ہے۔" کس کی؟" میں روانی میں پوچھ بیٹھا۔ ”وہی جسے تو بھلا بیٹھا ہے۔ بوڑھے کی کشادہ پیشانی شکن آلود ہونے لگی، میں چونکا میرے دل کی دھڑکنیں ڈانواں ڈول ہونے لگیں اچانک مجھے احساس ہوا کہ وہ بوڑھا کوئی
عام انسان نہیں ہے، کوئی پہنچا ہوا بزرگ ہے۔
تم . تم کون ہو؟" میں نے ڈرتے ڈرتے دریافت کیا۔
آنکھیں ہوتے ہوئے بھی اندھوں کی طرح بھٹکتا پھر رہا ہے۔" بزرگ نے مجھے گھور کر دیکھا۔ ”مولوی فراست علی کا پوتا اور رتن کمار کے بھیس میں؟ کسی نے پہچان لیا تو کیا جواب دے سکے گا؟»
میرے دل کی دھڑکنیں تیز سے تیز تر ہونے لگیں، بزرگ کی زبان سے دادا جان کا نام سن کر مجھے یقین آگیا کہ وہ خدا کا برگزیدہ بندہ میرا احوال جان چکا ہے۔ شاید قدرت نے اسے میری رہنمائی کے لئے بھیجا تھا، اس لئے وہ کسی اور کو نظر نہیں آرہا تھا، سب اپنی اپنی مصروفیت میں الجھے تھے، کسی نے بھی ہماری طرف توجہ نہیں دی سیتا رام بھی بے خبرہی تھا۔
میں حالات سے مجبور ہو گیا تھا۔" میں نے پوری صداقت سے جواب دیا۔ موت سے ڈر کر گناہوں سے دامن آلودہ کر لیا۔" اس نے نفرت سے جواب دیا۔ انگلیوں کے اشارے سے شعبدے بازی کرتا پھر رہا ہے، پتھر کی مورتیوں کے قدموں میں سر جھکا کر بلندی حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، غلاظتوں میں اچھل کود کر کے قلب کا سکون تلاش کرنے کی حماقت کر رہا ہے؟" آپ میری رہنمائی کر دیں۔" میں نے التجا کی۔ ”میں بھٹک گیا ہوں، آپ کوئی راستہ دکھا دیں۔"
انسان ہو کر پھر انسان کے آگے جھولی پھیلا رہا ہے، ابھی تک آنکھ کی پٹی نہیں کلی۔ " اس نے مجھے گھور کر کہا۔ " اب بھی سنبھل جانادان وقت ہاتھ سے نکل گیا تو پھر
بھی واپسی کے سارے دروازے ایک ایک کر کے بند ہو جائیں گے۔" آپ دادا جان کے واقف کار ہیں تو میرا بھی کچھ حق بنتا ہے آپ پر۔ " میں نے بڑی انکساری سے کام لیا۔ "میرا ہاتھ تھام کر سیدھے راستے پر لگا دیں۔" مولوی فراست علی کا مداح نہ ہوتا تو تیرے پہلو میں ایک پل کے لئے بھی بیٹھنا گوارا نہ کرتا۔" بزرگ نے تسبیح کے دانوں پر انگلیاں پھراتے ہوئے کہا۔ ”خدا کے اسی نیک بندے نے مجھے تیرے پاس بھیجا ہے، وہ مجبور نہ ہوتے تو خود تیری گوش مالی کو آتےانسان کی ایک چھوٹی سی غلطی بھی اس کی گرفت کا سبب بن جاتی ہے۔
تمہارے دادا بھی اپنی غلطی معاف کرانے کی خاطر اس کے حضور میں گڑ گڑا رہے ہیں لیکن
تو تو گلے گلے تک ڈوب چکا ہے۔" شیطانی قوتوں نے میرے اوپر لوہے کے جال ڈال رکھے ہیں۔؟" میں نے اپنی - مجبوری کا اظہار کیا۔ انہوں نے میرے اوپر بندشیں عائد کر دی ہیں، مجھے دھوکے سےشکار کیا گیا ہے ورنہ میں .. "شیطان . . دھوکا۔" بزرگ نے قہقہہ لگا کر دریافت کیا۔ ”کسے بہلانے کی
کوشش کر رہا ہے مردود! مجھے یا اپنے آپ کو ؟" میں اپنی غلطی تسلیم کرتا ہوں۔" میں نے اعتراف کیا۔ "شیطانی قوتوں نے مجھےگمراہ کر دیا ہے لیکن آپ...پتھر کی مورتیوں کے سامنے بیٹھ کر دو چار چلے اور کھینچ لے، ہفت اقلیم کی دولت حاصل کر لے، فرعون بن جا اپنی جنت آپ بنا لے، ابھی بڑی عمر باقی ہے، بڑا وقت ہے ۔ تیرے پاس دل کھول کر چھرے اڑا لے بد نصیب۔"
ایسا مت کہیں قبلہ ! میں نے اس کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کی، وہ ہوا کے جھونکے کی طرح میری دسترس سے دور ہو گیا۔ میں نے اپنی بات جاری رکھی۔ " میں اپنے کئے پر تھا
پشیمان ہوں لیکن ...ں
پھر وہی لیکن بزرگ نے جلالی انداز میں کہا۔ اس کی رسی چھوڑ کر ہر مورتیوں کی دُم سے لٹک گیا اور اب اگر مگر کر کے خود کو فریب دے رہا ہے۔ ملعون' بد کردار، رانده درگاه
مجھے آپ کی بددعاؤں کی نہیں، دعاؤں کی ضرورت ہے۔" میں گڑ گڑانے لگا میں دوبارہ اٹھ کر اس کی جانب لپکا وہ ہوا کے جھونکے کی طرح پل بھر میں نظروں سے اوجھل ہے ہو گیا۔ چاروں مسافر مجھے حیرت سے گھورنے لگے۔ جوگی سیتارام نے بھی اس طرح ہڑ بڑا کر آنکھیں کھول دیں جیسے کچی نیند میں کوئی ڈراؤنا خواب دیکھ کر جاگ اٹھا ہوا۔ وہ بڑی کہ گہری نظروں سے مجھے گھور رہا تھا، اس کی پیشانی پر ابھرنے والی آڑی ترچھی سلوٹیں اس بات کی غمازی کر رہی تھیں کہ وہ ذہنی طور پر بری طرح الجھ گیا ہے۔ میں دوبارہ اپنی سیٹ پر بیٹھا تو اس نے سرسراتے لہجے میں پوچھا۔ کیا بات ہے بالک! تیرے چہرے پر یہ پسینے کے قطرے کیوں چمک رہے ہیں ؟ کس
سوچ بچار میں اپنا سے برباد کر رہا ہے ؟ کون سی چنتا تجھے بیا کل کر رہی ہے؟ میرا کہا مان لے جو کچھ تیرے من میں ہے ایک بار کھل کر اگل دے۔ کیوں اپنے آپ کو کشٹ دے رہا
«سیتارام! میں نے کچھ سوچ کر کہا۔ "کیا جو کچھ میں کہوں گا تم مان لو گے؟"
بالک ! تو گرد کو آزما کر تو دیکھے۔" . میرے قریب یہاں کوئی بیٹھا تھا۔" میں نے سنجیدگی سے کہا میں دیکھنا چاہتا تھا کہ کیا وہ بزرگ کی آمد سے باخبر ہے یا نہیں۔ گرو کو چکر دینے کی کوشش کر رہا ہے؟" وہ زہر خند سے بولا۔ ”دن کے اجالے میں آنکھوں میں دھول جھونک رہا ہے؟" مجھے یقین تھا کہ تم میرے کہے پر وشواس نہیں کرو گے۔" میں نے بدستور سنجیدگی ہے سے جواب دیا۔ ”میں نہیں جانتا کہ وہ کون تھا لیکن جو کچھ وہ کہہ رہا تھا اس کا تمہاری ذات سے بہت گہرا تعلق ہے۔ ۔
کیا کہہ رہا تھا؟“ اس نے مسکراتے ہوئے دریافت کیا اسے میری بات پر اعتماد نہیں
اس نے کہا تھا کہ میں بھی تمہیں سمجھاؤں کہ پنڈت رام کشن سے ٹکرانا تمہیں مہنگا پڑے گا۔"
مول کر رہا ہے مجھ سے ؟“ اس نے بڑے تکبر سے کہا۔ "جوگی سیتا رام سے۔" رام کشن کو خبر مل گئی ہے کہ ہم الہ آباد پہنچ رہے ہیں۔" میں نے اس کی بات یکسر نظر انداز کرتے ہوئے بدستور سنجیدگی سے کہا۔ ”اس نے بھی تیاری شروع کر دی ہے۔ ہاتھ پر ہاتھ رکھے خاموش نہیں بیٹھا ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ الہ آباد پہنچنے سے پہلے ہی اس کا کوئی چیلا ہمارا راستہ کھوٹا کرنے کی کوشش کرے .. وہ جو میرے پاس آ ہ کر بیٹھا تھا یہی کہہ رہا تھا۔" "اور تو نے اسے جانے ریا۔" جوگی سیتا رام نے پہلی بار مجھے تیز نظروں سے گھورا۔ ے کیا تو اس کے مقابلے میں خود کو کمزور سمجھ رہا تھا؟"
"نہیں۔" میں نے پہلو بدل کر کہا۔ "اس کی بات مکمل ہونے کے بعد میں نےکو شش کی تھی پرنتو وہ دیکھتے ہی دیکھتے چھو منتر ہو گیا۔"
تو سچ کہہ رہا ہے ؟" جوگی سیتا رام نے مجھے سنجیدگی سے مخاطب کیا۔ میرا وشواس نہیں آتا تو ڈبے میں بیٹھے بندو سے پوچھ لو۔" میں نے بڑی خوبصورتی سے بات بنائی۔ ”میں اسی کو پکڑنے کو جھپٹا تھا جب تمہاری آنکھ کھل گئی، مسافروں کو بھی میری حرکت پر تعجب ہوا تھا۔" ولیکن ہم نے کسی اور منش کو نہیں دیکھا۔" ایک مسافر نے دبی زبان میں کہا۔ ہاں میں نے تمہیں اٹھ کر کسی پر جھپٹتے ضرور دیکھا تھا۔"
وہ وہ رام کشن کے کسی منتر کا ہیر رہا ہو گا اسی لئے تیرے سوا کسی اور کو نظر نہیں آیا۔ سیتا رام نے دبی زبان میں مجھ سے کہا، پھر بڑے خونخوار لہجے میں بولا۔ اب شاید موت ہی اس کے سر پر منڈلا رہی ہے۔" دشمن کو خود سے کمزور سمجھنا بھی دانشمندی کے منافی ہے۔" میں نے آہستہ سے جواب دیا لیکن شاید سیتا رام نے میری بات پر غور نہیں کیا، اس کے ہونٹ کسی منتر کا جاپ شروع کر چکے تھے پھر اس نے دوبارہ آنکھیں بند کرلیں، شاید وہ اپنی مہان شکتی کے زور سے رام کشن کی مصروفیات معلوم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہو گیا تھا۔ میرا ذہن دوبارہ بزرگ کی شخصیت میں الجھ گیا۔ بزرگ کی آمد میرے لئے یقیناً نیک شگون تھا۔ میرے سر سے میرے تمام عزیز اقارب کا سایہ اٹھ چکا تھا لیکن دادا جان کی روح شاید ابھی تک سر پرستی کر رہی تھی۔ ایسا نہ ہوتا تو بزرگ نے مولوی فراست علی کے نام کا حوالہ کبھی نہ دیا ہوتا۔ میرے وجود کے گھپ اندھیروں میں امید کی ایک شمع ٹمٹمانے لگی۔ میں نے رام کشن کا جو شگوفہ چھوڑا تھا اس سے اس بات کا بھی یقین ہو گیا تھا کہ بزرگ کو میرے سوا کسی اور نے نہیں دیکھا البتہ جوگی سیتا رام نے بالآخریچ سمجھ کر جو جنتر منتر پڑھنا شروع کیا تھا وہ ضرور میری قلعی کھول سکتا تھا۔ میں ابھی اپنے خیالوں میں گم تھا کہ پھر اسی بزرگ کی آواز میرے کانوں میں گونجی۔
عاقبت اندیش، عقل کے اندھے ! تو کیسا مسلمان ہے جو خدا کے بجائے ایک کافر سے خوفزدہ ہو رہا ہے؟ بد کردار اگر تھوڑی سی بھی حیا باقی رہ گئی ہو تو جا کر کہیں چلو بھر پانی میں ڈوب مر"
ایسا مت کہو میرے عزیز! مجھے تمہاری مدد تمہاری رہنمائی کی ضرورت ہے۔

میں نے صدق دل سے کہا۔ ”انسان روز ازل سے شیطان کے گھٹیا ہتھکنڈوں کا شکار ہو تا چلا آ رہا ہے میں کوئی فرشتہ نہیں ہوں۔ جن حالات میں گھر کر میرے قدم ڈگمگائے تھے انہوں نے میری عقل خبط کر دی تھی، میں جن حالات سے دوچار تھا وہ کسی جانور کے ساتھ پیش آتے تو وہ بھی کرب کی شدت سے بلبلا اٹھتا۔ میں نے زندگی بچانے کی خاطر جوگی سیتارام کے ساتھ سمجھوتہ کر لیا۔"
میں تیرے حالات سے ناواقف نہیں ہوں لیکن وہ تیرے لئے آزمائش کی گھڑی تھی قسمت تیرا امتحان لے رہی تھی لیکن تو اندھیروں اور اجالوں کی تمیز نہ کر سکا۔ " " اب میرے لئے کیا حکم ہے؟" میں نے عاجز آکر پوچھا۔ "کیا آپ میری مدد نہیں فرمائیں گے؟"
مجھے نہیں . اس خالق کائنات کو یاد کر جس کے ہاتھوں میں تیری جان ہے.
شاید وہ غفور الرحیم تیری فریاد سن لے۔" پھر میں نے بزرگ کو کئی آواز میں دیں لیکن دوسری طرف سے کوئی جواب نہیں ملا۔ میں نے کنکھیوں سے جوگی سیتا رام کی طرف دیکھا جو بدستور اپنے جنتر منتر میں محو تھا اس کے چہرے پر گری سنجیدگی مسلط تھی وہ شیطانی قوتوں کا مالک تھا۔ اس نے کہا تھا کہ اس نے زندگی میں ہارنا نہیں سیکھا وہ اپنے بیروں کے زور سے حقیقت جان لیتا تو مجھے کبھی، معاف نہ کرتا۔ در گانے میرے اوپر جو بندش عائد کر دی تھی اس نے میرے ہاتھ باندھ دیے تھے ورنہ میں ایک بار کھل کر سیتا رام سے دو دو ہاتھ کرنے کے بارے میں
سوچ رہا تھا۔وقت تیزی سے گزرتا رہا گاڑی کئی اسٹیشنوں پر رکی پھر چلی لیکن سیتارام کی کیفیت میں کوئی فرق نہیں آیا۔ شاید ابھی تک آنکھ بند کئے وہ رام کشن کی تلاش میں جگہ جگہ بھٹک رہا تھا۔ مجھے الجھن ہونے لگی، میں نے اس کے استغراق کو توڑنے کی خاطر زبان کھولنی چاہی لیکن پھر اپنا ارادہ ترک کر دیا۔ میرے ذہن میں مختلف وسوسے کروٹیں بدل رہے تھے ، جب گاڑی کسی چھوٹے اسٹیشن پر ایک منٹ کو رکی، دو ہٹے کٹے پجاری ہمارے ابے میں داخل ہوئے انہوں نے ہماری طرف کوئی خاص توجہ نہیں دی تھی یوں ہی ایک نظر سے تمام مسافروں کا جائزہ لینے کے بعد خاموشی سے ایک گوشے میں جا کر بیٹھ گئے ان کے جسموں پر گیروے رنگ کا لباس تھا، سر پر بھی اسی رنگ کا کپڑا لپیٹ رکھا تھا
سینوں پر چندن مل رکھا تھا، گلے میں کئی چھوٹی بڑی مالا جھول رہی تھیں، دونوں کے ہاتھوں میں پیتل کی لٹیا موجود تھی اور کوئی سامان نہیں تھا۔
گاڑی دوبارہ چل پڑی، سیتا رام کی حالت میں کوئی فرق نہیں آیا۔ میرے اندر اتحل ہے پتھل جاری تھی جب اچانک سیتا رام نے چونک کر آنکھیں کھول دیں، اس کی آنکھیں دہکتے انگاروں کی طرح شعلہ اگل رہی تھیں۔ اس نے آنکھیں کھولنے کے بعد دونوں پجاریوں کی طرف مشکوک انداز میں گھورنا شروع کر دیا۔ اس کی پلکیں نہیں جھپک رہی تھیں ، وہ ٹکٹکی باندھے ان دونوں کو مستقل دیکھے جا رہا تھا جو اپنی باتوں میں مصروف تھے میرا دل دھڑنے لگا میرے ذہن میں بار بار ایک خیال ابھر رہا تھا کہ کچھ نہ کچھ ہونے والا ہے۔ دوسرے مسافروں کی توجہ بھی آہستہ آہستہ سیتا رام کی جانب مبذول ہونے لگی تھی جس کے تیور بتدریج خطرناک ہو رہے تھے۔
کیا بات ہے گرو! میں نے دبی زبان میں اسے مخاطب کیا۔ "کیا سوچ رہے ہو ؟" اس نے میری بات کا جواب نہیں دیا اس کا انداز بتا رہا تھا جیسے اس نے سرے سے میری بات سنی ہی نہ ہو پھر ایک لمحے بعد اس کی کرخت آواز نے سب ہی کو چونکا دیا وہ
دراز قد پجاری سے مخاطب ہوا تھا۔ تیرا نام رکھو بیر ہے نا؟" ہاں مہاراج!" دراز قد پجاری نے چونک کر سیتارام کو دیکھا پھر ہاتھ باندھ کر بولا۔ تم نے کیسے جان لیا؟ میں نے تو تمہیں آج پہلی تمہیں بار دیکھا ہے۔“ اور تو" سیتارام کی نظریں پستہ قد پجاری کے چہرے پر جم گئیں۔ "رام
اوتار ہے؟"
" تم نے ٹھیک پہچانا مہاراج!" رام اوتار نے بھی حیرت کا اظہار کیا۔ " پر تم کون
سیتا رام نے حقارت کا اظہار کیا۔ ”میں جوگی سیتا رام ہوں جس کے .لئے تم دونوں کو بھیجا گیا ہے۔" ”ہم سمجھے نہیں مہاراج!" رگھو پیر نے حیرت سے کہا۔ ”ہم دونوں تو یاترا کے
ہردوار جا رہے ہیں۔"
سیتارام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کر رہا ہے دشت " جوگی سیتا رام سانپ
کی طرح بل کھا کر بولا۔ میں نے تم دونوں کے من کا بھید جان لیا ہے، تم دونوں کو پنڈت رام کشن نے میرے مقابلے پر بھیج کر بڑی بھول کی ھے
پنڈت رام کشن" دونوں نے چونک کر کہا۔ "ہم اس نام کے کسی پنڈت سے جانکاری نہیں رکھتے ، تم کو ہمیں پہچانے میں کوئی بھول ہو رہی ہے۔" کیا تو راج پور کا باسی نہیں ہے؟ سیتارام نے پورے وثوق سے کہا اس کا مخاطب
رگھو ویر تھا۔
ہوں مہاراج!" رگھو ویر نے انکار نہیں کیا۔ " راج پور ہی میری جنم بھومی ہے۔" گنیش کا جاپ بھی کر چکا ہے۔ کیوں میں غلط تو نہیں کہہ رہا؟؟ ہاں مہاراج! تم سچ کہہ رہے ہو لیکن میں نے ابھی تک" پہچان جائے گا مورکھ!" سیتا رام نے سرسراتے انداز میں اس کی بات کاٹ کر جواب دیا۔ "پنڈت رام کشن شاید پاگل ہو گیا ہے جو اس نے تم دونوں کو بلی (قربانی) کا بکرا ا بنا کر آگے کر دیا، خود کسی کونے کھدرے میں چھپا بیٹھا تماشہ دیکھ رہا ہو گا۔" دونوں پجاریوں نے ایک بار پھر رام کشن کا نام سن کر تعجب اور اپنی لاعلمی کا اظہار کے چہرے کے تاثرات بتا رہے تھے کہ وہ غلط بیانی سے کام نہیں لے رہے۔ڈبے میں بیٹھے دوسرے مسافر بھی اپنی اپنی جگہ کسمسانے لگے۔ ”اگلے اسٹیشن پر اپنی منحوس شکلیں لے کہ اتر جانا اسی میں تمہاری مکتی ہے۔" سیتا رام نے گرج کر کہا۔ " جاتے جاتے میرے چرن چھو کر شما کی بھکشا مانگنا بھی یاد رکھنا سن رہے ہو کنجرو! جوگی سیتا رام تمہیں کیا حکم دے رہا ہے؟؟
" رکھو ویر سینہ تان کر بولا۔ تم ہمارا اپمان کر رہے ہو جوگی مہاراج! ہم وہ نہیں جو تم سمجھ رہے ہو۔" رام کشن نے بھی مجھے سمجھنے میں بھول کی ہے۔ " سیتا رام اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔ میں اب تک اسے ڈھیل دیتا رہا تو اس کا کوئی کارن بھی تھا، پرنتو اب سمے آگیا ہے کہ
وال کا بھاؤ بتا سکوں۔"
ہماری سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا رام اوتار نے بھی برا سامنہ بنا کر کچھ کہنا چاہا
سیتا رام آپے سے باہر ہو گیا۔
چپ ہو جا مورکھ! زبان کو تالو سے لگا کر رکھ نہیں تو ایسا سراپ دوں گا کہ سارا
جیون کانٹوں پر لوٹتا رہے گا۔“
وہ دونوں ایک ساتھ ہی اٹھ کھڑے ہوئے، ان کے چہروں پر بھی جوان خون کی
سرخی پھیلنے لگی۔
بس جو گی مہاراج! بس " رگھو ویر نے ہاتھ اٹھا کر سرد آواز میں کہا۔ "تم اگر بلوان ہو تو ہم نے بھی کانچ کے کینچے نہیں کھیلے ہیں۔" پنجہ لڑائے گا جوگی سیتارام سے ؟ سیتا رام نے خوفناک انداز اختیار کیا۔ ؟" بات بڑھانے کی کوشش تم نے کی ہے۔ " رام او تار بل کھانے لگا۔ "اپنی بھول ماننے کے بجائے تم گندگی کی طرح اہتے ہی چلے جا رہے ہو۔" پھر اس نے سینے پر ہاتھ مار کر بڑے جوشیلے انداز میں کہا۔ "ہم نے بھی ہاتھوں میں چوڑیاں نہیں پہن رکھی
ہیں۔
تو بھی چہکنے لگا مورکھ
زبان کو لگام دو مہاشے ۔ " رگھوویر آنکھیں نکال کر بولا۔ ”بہت ہو چکا۔“ جواب میں جوگی سیتا رام نے کوئی منتر پڑھ کر پھونک ماری تو رام اوتار درمیان میں آ گیا لیکن اس پر جو گزری اسے دیکھ کر سب ہی کی آنکھیں حیرت سے کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ وہ چیخ مار کر نیچے گرا تھا پھر اس کے منہ سے خون بھل بھل ابلنے لگا۔ رگھو ویر نے اپنے ساتھی کا انجام دیکھا تو وہ انتقام لینے کی خاطر کچھ پڑھنے لگا لیکن سیتا رام نے اپنا سیدھا پاؤں فرش پر مارا تو وہ بھی توازن برقرار نہ رکھ سکا۔ میرے ذہن میں کھلبلیی شروع ہو گئی مجھے یقین تھا کہ وہ دونوں بے قصور تھے ، سیتارام نے یقیناً انہیں پہچاننے میں غلطی کی
تھی۔ رام ادتار فرش پر پڑا پچھاڑیں کھا رہا تھا، رگھو ویر نے گر کر دوبارہ اٹھنے کی کوشش کی تو سیتارام نے اپنا سیدھا ہاتھ فضا میں بلند کیا، میرے اعصاب چٹخنے لگے، میں نے پل بھر میں ایک فیصلہ کر لیا۔ میری بائیں ہاتھ کی تیسری انگلی حرکت میں آگئی، میں نے وشنو کا نام لے کر دل میں سوچا کہ اگر رگھو ویر اور رام اوتار بے قصور ہیں تو جوگی سیتارام ان کو کی نقصان نہ پہنچا سکے۔ پھر وہی ہوا جو میں نے سوچا تھا۔ گاڑی نے ایک زور کا جھٹکالیا تو سیتا رام اپنا تو اس رام اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکا لڑکھڑا کر ایک نشست پر گرا پھر دوبارہ اٹھا تو اس کے
علاوہ دوسرے مسافروں کی آنکھیں بھی پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ رگھو ویر اور رام اوتار کا وجود کہیں دور دور تک موجود نہیں تھا۔
رتن کمار !" جوگی سیتا رام حلق کے بل چلایا۔ انہیں روکنے کی کوشش کر بچ کرنہ جانے پائیں۔"
یہ کیسے ہو گیا کرو! میں نے حیرت کا اظہار کیا۔ ہ دشٹ، پاپی، حرام کا جنا پنڈت رام کشن انہیں بچالے گیا۔ سیتارام کے منہ سے گالیاں ابلنے لگیں۔ ”جو کچھ ہوا اس کے منتر کے بیروں کا کمال ہے۔“ اب کیا ہو گا؟" میں نے پوچھا۔ وہی ہو گا جو جوگی سیتارام چاہے گا۔" اس نے زہر خند سے جواب دیا۔ ”اب رام کشن کے دن گنے چنے رہ گئے ہیں، اس نے میری مہان شکتی کا اندازہ لگا لیا ہو گا، میں دیکھتا ہوں کہ اب وہ کیا چال چلنے کی کوشش کر رہا ہے۔" جوگی سیتا رام نے اپنی نشست پر بیٹھ کر دوبارہ آنکھیں بند کر لیں اس کے ہونٹ تیزی سے حرکت کرنے لگے۔ وہ پھر رام کشن کی تلاش میں گم ہو گیا۔ میں بڑی سنجیدگی سے غور کر رہا تھا کہ میری ایک فرضی بات کو حقیقت کا رنگ دینے میں کس کا ہاتھ شامل تھا؟ کیا بزرگ نے میرا بھرم قائم رکھنے کی خاطر رام اوتار اور رگھو ویر کو وقتی طور پر ہمارے
ساتھ کر دیا تھا یا در گا کو پھر میری کسی ادا پر پیار آ گیا تھا۔
☆============

سیتارام کا استغراق طویل ہونے لگا تو مجھے الجھن ہونے لگی۔ رگھو پیر اور رام اوتار کس طرح آئے اور کس طرح غائب ہو گئے، یہ ایک الگ کہانی تھی لیکن میں درگا کی وجہ سے سیتا رام سے خائف تھا اس نے مجھے وشنو مہاراج کے جاپ کا مشورہ دے کر مہمان شکتیوں کا مالک بنا دیا تھا، اس کی مرضی شامل نہ ہوتی تو میں میں شاید اتنی آسانی سے اس جاپ کو مکمل نہ کر سکتا۔ سیتارام نے بھی یہی کہا تھا کہ وشنو مہاراج کا جاپ کرنا عام پنڈت پجاریوں کے بس کی بات نہیں ہے۔ اس میں جان جانے کا خطرہ بھی لاحق ہوتا ہے لیکن میں نے درگا کے اشارے پر بڑی آسانی سے کامیابی حاصل کر کوری یہ تھی کہ میں ان قوتوں کو جوگی سیتارام کے خلاف زیادہ شدت سے استمال
کرسکتا تھا۔
موت سر پر منڈلا رہی ہو، خطرات بڑھ رہے ہوں، انسان کے ہاتھ میں اپنے دفاع کے لئے مہلک ہتھیار موجود ہو لیکن وہ اسے استعمال نہ کر سکے، اس سے زیادہ بدنصیبی اور کیا ہو سکتی تھی؟ میں بھی اس وقت کچھ ایسی ہی سچویشن سے دوچار تھا۔ میرے دل میں یہ خیال سر ابھار رہا تھا کہ بزرگ نے دادا جان کی ایما پر میری فرضی کہانی کو نبھانے کی خاطر میری مدد کی ہو گی۔ درگا بھی غافل نہیں رہی ہو گئی، ہو سکتا ہے وہ نیک بزرگ کے مقابلے پر آنے سے کترا گئی ہو لیکن اس نے کہا تھا کہ سیتا رام اس کا پرانا سیوک ہے، وہ سیتارام کو نه صرف حالات کی اصل نوعیت سے آگاہ کر سکتی تھی بلکہ بزرگ کے مقابلے پر اُس کی
مدد بھی کر سکتی تھی، میں درمیان میں پس کر رہ جاتا۔
میرے ذہن میں خیالوں کا ہجوم ٹھاٹھیں مار رہا تھا میں مختلف نتائج پر غور کر رہا تھا جب اچانک بزرگ کا کہا ہوا ایک جملہ میرے ذہن میں صدائے بازگشت بن کر گونجنے لگا۔ اس نے ایک موقع پر کہا تھا نا عاقبت اندیش، عقل کے اندھے! تو کیسا مسلمان ہے جو خدا کے مقابلے میں ایک کافر سے خوفزدہ ہو رہا ہے؟ بد کردار! اگر تھوڑی سی بھی حیا باقی رہ گئی ہو تو جا کر کہیں چلو بھر پانی میں ڈوب مر۔ مجھے اپنی غلطی کا احساس ہوا میں نے زندگی بچانے کی خاطر سیتارام سے سمجھوتہ کر کے یقیناً بزدلی کا ثبوت دیا تھا۔ آزمائش کی وہ گھڑیاں سخت اور اذیتناک ضرور تھیں بے قصور ہونے کے باوجود میرے اوپر مظالم توڑے جا رہے تھے، میری کھال ادھیڑی جا رہی تھی، موت کے منہ میں دھکیلنے کی خاطر ہولناک منصوبے بنائے جا رہے تھے، وقت کی ستم ظریفی نے مجھے بزدل بنا دیا تھا۔ اگر میں نے اس وقت ایمانداری اور اپنے اصولوں کا دامن نہ چھوڑا ہوتا اپنے مذہب اور دین و ایمان پر ثابت قدم رہتا تو اس امتحان میں ضرور کامیاب ہو جاتا جس کا حوالہ خدا کے برگزیدہ بندے نے دیا تھا لیکن میں نے سختیوں سے
گھبرا کر موت سے بچنے کی خاطر زندگی کا سودا کر لیا جو اب مجھے مہنگا پڑ رہا تھا۔ میں نے نظریں تھما کر سیتارام کی طرف دیکھا وہ ابھی تک آنکھ بند کئے، ٹھوڑی سینے سے لگائے کسی دوسری دنیا کی سیر کر رہا تھا، اس کے ہونٹ بدستور تیز تیز حرکت کر ے تھے۔ میں نے دل کڑا کر کے ایک فیصلہ کرلیا، آئندہ میں سیتارام کے مقابلے میں .نہیںں ٹیکوں گا۔ در گانے صرف یہی بندش لگائی تھی کہ میں سیتا رام کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا خیال کبھی دل میں نہ لاؤں لیکن ایسی کوئی شرط عائد نہیں کی تھی کہ میں اس کےسامنے اپنی طاقت کا مظاہرہ نہ کر سکوں۔ میں ابھی مستقبل کے بارے میں ایک ٹھوس لائحہ عمل طے کر رہا تھا جب سیتا رام نے آنکھیں کھول دیں، اس کی آنکھیں شعلہ اگل رہی تھیں، وہ کسی زخمی سانپ کی طرح بار بار بل کھانے لگا اس کی ظاہری کیفیت بتا رہی تھی کہ وہ کوئی آخری نتیجہ اخذ کرنے کے مراحل سے گزر رہا ہے، اس نے اپنے منتر کے زور سے کچھ کڑیاں ایسی ضرور تلاش کرلی تھیں جو ترتیب پا جائیں تو شاید وہ صورت حال کی
نہ تک پہنچ جاتا۔ میں نے اسے راہ سے بھٹکانے کی کوشش کی۔ گرو! میرا خیال ہے کہ تم فی الحال پنڈت رام کشن کے دھیان کو ذہن سے نکال دو
سیتارام نے میری بات سن کر تیز نظروں سے میری سمت گھورا ہونٹ چہاتے ہوئے
تو مجھے دشمن کی طرف سے آنکھ موند لینے کا مشورہ دے رہا ہے؟"
بات سمجھنے کی کوشش کرو گرو! میں نے بڑی خوبصورتی سے بات بنائی۔ ”جب تم کو وشواس ہے کہ رام کشن تمہارا مقابلہ نہیں کر سکتا تو کیوں بیا کل ہو رہے ہو؟ اس کے دو آدمی تم سے ڈر کر بھاگ گئے ، کیا یہ تمہاری شکتی کا کمال نہیں تھا؟“
"تو کیا بتانے کی کوشش کر رہا ہے؟" رام کشن دھرتی پر جہاں بھی ہوا ہم اسے ڈھونڈ نکالیں گے۔" میں نے پرجوش لہجہے میں کہا میں ہوں نا تمہارے ساتھ ، پھر چنتا کس بات کی ہے؟"
سیتا رام نے کوئی جواب نہیں دیا، میری نظروں سے میرے دل کی گہرائیوں میں اترنے کی کوشش کرنے لگا مجھے یقین تھا کہ وہ وشنو مہاراج کے جاپ کے بارے میں نہیں
جان سکے گا چنانچہ میں نے اطمینان سے کہا۔
..
ہم دو ہیں . ایک اور ایک گیارہ سمجھ لو رام کشن کب تک ادھر اُدھر منہ چھپاتا پھرے گا۔ جب بھی ہمارے ہاتھ لگ گیا ہم اس کے ساتھ اگلا پچھلا سارا حساب چکتا کر دیں گئے ، پرنتو ایک بات ابھی تک میری سمجھ میں نہیں آئی۔"
وہ کیا؟" اس نے مجھے سپاٹ نظروں سے گھورا۔
رام کشن کا کھانا پہلے بند کرنا ہے یا اس چیز کی تلاش کرنی ہے جس کے لیے اتنے پاپڑ بیلے ہیں ؟"

کیا جانے کی کوشش کر رہا ہے؟ سیتارام نے چونک کر مجھے وضاحت طلب نظروں سے دیکھا مجھے خوشی ہوئی، میرا اندھیرے میں چھوڑا ہوا تیر شاید ٹھیک نشانے پر لگا تھا میں نے لوہا گرم دیکھ کر ایک اور ضرب لگائی۔
اب تو قبول کر لو کرو کہ تم کو جس انمول رتن کی تلاش ہے وہ بھی رام کشن کے
قبضے میں ہے۔"
بالک!" اس نے زہر خند سے جواب دیا۔ گرو کو ٹولنے کی خاطر کبڈی کھیل رہا ہے چتر بننے کی کوشش کر رہا ہے۔" پھر کوئی اور بات کرو۔" میں نے پینترا بدل کر بے رخی کا مظاہرہ کیا۔ "تم کو اگر ابھی تک مجھ پر وشواس نہیں آسکا تو میں کیا کر سکتا ہوں۔" جوگی سیتارام نے فوراً ہی کوئی جواب نہیں دیا کچھ دیر مجھے ٹکٹکی باندھے گھورتا رہا
پھر بولا۔
تو نے بھی ابھی تک سچے من سے مجھے گرو نہیں مانا۔" میں سمجھا نہیں؟" میں نے مصنوعی حیرت کا اظہار کیا۔ کیا تمہارے من میں میری طرف سے ابھی تک کوئی میل باقی ہے۔" نہیں بالک! نہیں۔ " اس نے سنجیدگی سے کہا۔ "جس دن میرے دل میں میل آ گیا اس دن تجھے دھرتی پر کہیں قدم جمانے کی جگہ نہیں ملے گی، پر اندھیرے کے جو بادل بار بار میری نظروں کے سامنے منڈلانے لگتے ہیں اس کا کوئی نہ کوئی کارن تو ضرور ہو گا۔" اندھیرے کے بادل؟" میں نے انجان بننے کی کوشش کی۔ کیا رام کشن تمہارا
راستہ کھوٹا کرنے کی.. کی" زیادہ چنٹ بننے کی کوشش مت کر۔" وہ کسمسانے لگا۔ میں اس کی نہیں تیری بات کر رہا ہوں، جب تک گتھی نہیں سمجھے گی میں چین سے نہیں بیٹھوں گا۔" سمجھ گیا۔" میں نے دل ہی دل میں مسکراتے ہوئے کہا۔ "تم شاید ابھی تک دنوں کے حساب کتاب میں الجھے ہوئے ہو ؟" ”ہاں۔" وہ مجھے گھورنے لگا۔ "جوگی سیتارام کا حساب کبھی غلط نہیں ہو سکتا، تیرا منڈل سے غائب ہوتا۔ وہ میری نظروں کا دھوکا نہیں ہو سکتا، کوئی نہ کوئی ہے جو تو مجھ سے چھپانے کی کوشش کر رہا ہے۔"

یہ تم کہہ رہے ہو گرو! میں نے سنجیدگی سے اس کا مذاق اڑایا۔ "تم .. من کے بھید بھی جھانک کر دیکھنے کی شکتی رکھتے ہو ، جس نے مجھے اپنی مہان شکتی کے زور سے سیدھے راستے سے بھٹکا دیا، مجھے دھرم تبدیل کرنے پر مجبور کر دیا پاپ کے دلدل میں
پھنسا دیا۔"
بس کر مورکھ! چپ ہو جا۔ اس نے بل کھا کر قدرے درشت لہجے میں جواب دیا۔ میں تجھے کندن بنانے کی کوشش کر رہا ہوں اور تو شکایتوں کی پوتھی (کتاب) کھول کر بیٹھ گیا۔ بھوش کے لکھے کو مٹانے کی کوشش مت کر، نہیں تو اور کسی جنجال میں پھنس جائے گا۔ سن رہا ہے میری بات؟ اگر سچے من سے مجھے گرو مانا ہے تو پھر گرو کی آگیا کا پالن کرنا بھی سیکھ لے، جو بیت گئی سو بیت گئی۔ جو کل آنے والی ہے اس پر نظر جمائے رکھ
...
دیوی دیوتاؤں کی اچھا (مرضی) ہے اسی میں تیری مکتی بھی ہے۔" میں تمہاری آگیا کا پالن کروں اور تم مجھ پر شبہہ کرتے رہو ۔ واہ گرو واہ" میں نے شکایتی انداز اختیار کیا۔ "کالی کا جاپ کرنے کے لئے میرے من میں بھول کر بھی کوئی دھیان نہیں آیا تھا، تم ہی نے مجھے شکتی پراپت کرنے کا بھاشن دیا تھا اور اب تم اندھیرے میں بادل منڈلانے کی بات کرتے ہو۔" مجھے بروقت سوجھ گئی میں نے پہلو بدل کر اپنا سلسلہ کلام جاری رکھا۔ کیا یہ نہیں ہو سکتا کہ کالی کو میری بھگتی زیادہ پسند آی؟ اس نے تمہاری نظروں میں میری اہمیت بڑھانے کی خاطر مجھے کچھ دنوں کے لئے تمہاری نظروں سے اوجھل کر دیا ہو۔ اس میں میرا دوش کہاں سے آگیا؟"
میری اداکاری بے مثال تھی، سیتارام لاجواب ہو کر بغلیں جھانکنے پر مجبور ہو گیا لیکن اس کے چہرے اور نظروں کے تاثرات بتا رہے تھے کہ وہ پوری طرح سے مطمئن نہیں ہوا تھا۔ میں نے زیادہ زور دینے کی کوشش بھی نہیں کی۔ مجھے بہرحال اس بات کی خوشی تھی کہ وہ رام اوتار اور رگھو ویر کے سلسلے میں کوئی حتمی نتیجہ اخذ نہیں کر سکا۔ خود میں بھی اس ضمن میں کوئی آخری فیصلہ نہیں کر سکا تھا۔
اللہ آباد آنے تک ہمارے درمیان کوئی قابل ذکر بات نہیں ہوئی۔ میں نے ایک دو بار اس قیمتی شے کے بارے میں اسے کریدنے کی کوشش کی لیکن سیتارام بڑی خوبصورتی سے ہر بار بات کو ٹال گیا۔
الہ آباد میں سیتارام نے کسی مندر میں ٹھرنے کے بجائے ایک ایسی دھرم شالہ ک
انتخاب کیا جس کا مالک اس کا پرانا واقف کار تھا اور خاص مداحوں میں سے تھا۔ اس نے ہماری آؤ بھگت میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا، ہم نے صرف تین ساڑھے تین گھنٹے آرام کیا پھر شہر جانے کے لئے دھرم شالہ سے نکل رہے تھے کہ سامنے سے ایک لمبا پجاری آگیا، میں نے محسوس کیا کہ سیتارام اس پجاری کو دیکھ کر کسی خطرناک ناگ کی طرح بل کھانے لگا۔ اس کا نام پجاری پنا لال تھا۔ بہت دنوں بعد نظر آئے جوگی مہاراج! پنا لال کے لہجے میں ہلکے سے طنز کی آمیزش بھی تھی۔ کوئی خاص کام یاد آگیا یا پنڈت رام کشن کو کھوجنے آئے ہو؟" رام کشن کے حوالے نے جلتی پر تیل کا کام کیا، سیتا رام کا چہرہ غصے سے تمتمانے لگا۔ کیا رام کشن بھی آج کل الہ آباد ہی میں ہے ؟ اس نے بمشکل خود پر قابو پاتے
ہوئے سرسراتے لہجے میں دریافت کیا۔ ”ہاں۔" پتا لال نے معنی خیز مسکراہٹ سے جواب دیا۔ ”گئیش کے پرانے مندر میں پنڈت کرم چندر کے ساتھ ٹھرا ہے اور تم جانتے ہو گے کہ کرم چندر نے ادیتی کا کٹھن جاپ کرنے کے بعد جو مہان شکتی حاصل کرلی ہے وہ کسی اور پنڈت یا پجاری
کو حاصل نہیں ہے۔" تم ادھر کیا کرتے پھر رہے ہو ؟" سیتارام نے گفتگو کا رخ بدل دیا لیکن میں محسوس کر رہا تھا کہ پنڈت کرم چندر اور ادیتی کا نام سننے کے بعد اس کے چہرے پر کئی رنگ ابھر کر گڈمڈ ہونے لگے تھے، وہ کچھ بے چین سا ہو گیا تھا۔
ایک ضروری کام سے جا رہا تھا، دور سے تمہارے درشن ہوئے تو پر نام کرنے چلا ہے آیا۔" پنا لال نے حسب معمول معنی خیز انداز میں کہا۔ ”میرے لئے کوئی کام ہو تو حکم دو سیوک تمہاری سیوا کر کے خوش ہو گا۔"
”میں اس سمے جلدی میں ہوں، پھر کبھی ملاقات ہوئی تو تمہیں بھی سیوا کا موقع اوش دوں گا۔ " سیتا رام نے سینہ تان کر کہا پھر تیزی سے آگے بڑھ گیا۔ یہ پنا لال کون ہے؟" میں نے پوچھا۔ " مجھے اس کی باتیں کچھ بھلی نہیں لگیں۔" یہ بھی اسی حرام خور کا متر ہے۔ " سیتا رام نے جلے کٹے انداز میں جواب دیا۔ تمہاری اور رام کشن کی آن بن کا اصل کارن کیا ہے؟" میں نے اسے ٹولنے کی کوشش
ابھی کل کی بات ہے جب یہی پنا لال میرے چرنوں میں بیٹھا گرو گرو کی رٹ لگایا کرتا تھا۔ " سیتارام نے بڑی خوبصورتی سے میری بات ٹال دی۔ میں نے اس کی بھگتی سوئیکار کرنے کے بجائے دھتکار دیا تو اب جلی کٹی بولتا رہتا ہے۔" میں تمہاری وجہ سے خاموش تھا گرو ورنہ من میں آئی تھی کہ پنالال سے دو دو ہاتھ کرلوں۔" میں نے اسے سنانے کی خاطر منہ بنا کر کہا۔ ”جس انداز میں وہ تم سے باتیں کر رہا تھا وہ مجھے بھی اچھا نہیں لگا۔ " "بنا مجھ سے پوچھے کسی سے الجھنے کی بھول مت کرنا بالک!" سیتا رام نے مجھے سنجیدگی سے تاکید کی۔ ”ہمیں یہاں ایک ایک قدم پھونک پھونک کر اٹھانا ہو گا۔“ گروا" میں نے دبی زبان میں پوچھا۔ "کیا ادیتی کا جاپ وشنو مہاراج کے جاپ
سے زیادہ کٹھن ہوتا ہے؟" ہاں۔" اس نے خلاء میں گھورتے ہوئے جواب دیا۔ میں پنڈت کرم چندر کو بھی
جانتا ہوں، وہ دُھن کا بڑا پکا اور کٹر پنڈت ہے۔" ایک بات پوچھوں۔" میں نے کچھ سوچ کر دبی زبان میں سوال کیا۔ "رام کشن اور
تمہارے سلسلے میں کرم چندر تمہارا ساتھ دے گا یا .
میں پورے وشواس سے کچھ نہیں کہہ سکتا پر نتو میں نہیں سمجھتا کہ کرم چندر در میان آنے کی بھول کرے گا، ادیتی کا جاپ کرنے والے کو بہت سوچ بچار کے قدم اٹھانا پڑتا ہے ایک ذرا بھول ہو جائے تو سارے کئے دھرے پر پانی پھر جاتا ہے۔"
مجھے اس بات کا مطلق علم نہیں تھا کہ پنڈت سیتا رام کے بازوؤں میں کتنی قوت ہے اس نے دیوی دیوتاؤں کے لئے کون کون سے جاپ کر رکھے ہیں لیکن میں نے اس کی شیطانی قوتوں کے ، جو کھیل تماشے دیکھ رکھے تھے اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا۔ کہ اس نے عظیم طاقت کے حصول کی خاطر کچھ کم پاپڑ نہیں بیلے ہوں گے۔ ایک بار میرے ذہن میں یہ خیال ابھرا تھا کہ اس سے دریافت کر لوں لیکن میں نے اس ارادے کو ترک کر دیا۔ وہ میری طرف سے پہلے ہی مشکوک تھا، میرے کریدنے سے مزید بھڑک سکتا
وہاں سے نکل کر وہ کالی کے ایک پرانے مندر کی طرف گیا جو شہر سے خاصی دور واقع تھا۔

جوگی - پارٹ 11

Urdu stories online, Urdu stories for kids, Short Urdu stories, Urdu Kahaniyan, Famous Urdu stories, Urdu stories with moral, Best Urdu stories collection, Urdu stories for students, Urdu love stories, Urdu horror stories, Urdu stories for reading, Urdu stories in Urdu text, Funny Urdu stories, Urdu stories for beginners, Urdu detective stories, Urdu motivational stories, Urdu stories for kids, Urdu moral stories, Urdu stories for children, Urdu true stories, Urdu suspense stories, Urdu emotional stories, Urdu adventure stories, urdu font stories,new stories in urdu, hindi moral stories in urdu,سبق آموز کہانیاں, ,good moral stories in urdu,Moral Stories,Urdu Stories,urdu kahani,اردو کہانی,قسط وار کہانیاں,
Reactions