جوگی (انور صدیقی) - قسط نمبر9

Urdu Novel PDF Download

Urdu Novels PDF - Urdu Novels Online

قسط وار کہانیاں
جوگی - قسط نمبر9
رائیٹر :انور صدیقی

اب منڈل سے باہر آجا بالک! اس نے خوشی کا اظہار کیا۔ ”کالی کی کرپا سے تو نے اس کا جاپ مکمل کر لیا ہے۔"
یہ سب تمہاری مہربانی ہے سیتارام! میں نے منڈل سے باہر آتے ہوئے کہا۔ جوگی سیتا رام نے منڈل سے باہر نکلتے ہی مجھے گلے سے لگا لیا بہت دیر تک میری پشت پر تھپکیاں دیتا رہا' اس کی آنکھوں سے ملے جلے تاثرات کا اظہار ہو رہا تھا۔ " تجھے جاپ کے دوران کوئی تکلیف تو نہیں ہوئی ؟"
نہیں۔ میں نے اسے حیران کرنے کی خاطر لا پرواہی کا مظاہرہ کیا۔ ” مجھے بیر بلاؤں نے بھی ڈرانے کی کوشش نہیں کی، ایسا لگتا ہے جیسے ابھی کل کی بات ہو، چالیس دن کب پورے ہوئے مجھے اس کا احساس ہی نہیں ہوا۔"
سیتا رام مجھے حیرت سے دیکھتا اور میری کامیابی پر دل کھول کر اپنی خوشی کا اظہار بھی
کرتا رہا پھر اس نے دبی زبان میں کہا۔
بالک! کیا تجھے یاد ہے کہ میں یہاں کب آیا تھا؟"
سمجھا نہیں؟" میں نے معصومیت سے دریافت کیا۔
ی اچنبھا ( تعجب) ہو رہا ہے۔ " اس نے میری نظروں میں تجس سے جھانکتے ہو۔ بڑی سنجیدگی سے کہا۔ اس سے پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا۔ "
کیا نہیں ہوا؟" میں نے وضاحت چاہی۔
میں پورے چالیس دن بعد یہاں پہنچ گیا تھا پر نتو" وہ کچھ کہتے کہتے خاموش ہو گیا، میرا دل خوشی سے دھڑکنے لگا۔ سیتارام کی الجھن حق بجانب تھی، مجھے درگا کی آمد کا یقین آگیا، وشنو مہاراج کے جاپ کی خاطر وہ میرا ہاتھ تھام کر کہیں دوسری جگہ لے گئی تھی پھر کامیابی کے بعد شاید اسی خاطرہو میرا ہاتھ کر لے گئی تھی پھر شاید اس نے مجھے واپس اس جگہ پہنچا دیا تھا جہاں سیتارام چھوڑ گیا تھا۔
تم چپ کیوں ہو گئے ؟" میں نے اس کی الجھن سے محظوظ ہوتے ہوئے سادگی
سے پوچھا۔ "کس سوچ بچار میں گم ہو ؟" اس سے پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا۔ وہ چند یا کھاتے ہوئے بولا۔ "جوگی سیتارام کے سے پہلے ایسا ہوا۔ وہ چندیا جیون میں حساب کتاب کی بھول کبھی نہیں ہوئی۔" و تمہیں کس بات کی چنتا بیا کل کر رہی ہے؟"
"بالک" سیتا رام نے مجھے ہندی بولتے سنا تو تعجب کا اظہار کرنے لگا۔ تو بھی میری زبان بولنے لگا۔"
سب تمہاری کرپا ہے۔" میں نے اسے خوش کرنے کی خاطر کہا۔
جواب میں سیتا رام نے ایک بار پھر میری آنکھوں میں دور تک جھانکنے کی کوشش کی اکیس دنوں کے الٹ پھیر نے اسے پریشان کن کیفیتوں سے دوچار کر رکھا تھا۔ وہ میرے دل میں جھانک کر اصلیت معلوم کرنا چاہتا تھا لیکن مجھے معلوم تھا کہ وہ اپنی کوششوں میں کامیاب نہیں ہو گا۔ درگانے مجھے منع کیا تھا کہ سیتارام کو اس بات کا علم نہ ہو کہ میں وشنو مہاراج کا جاپ کر چکا ہوں، اس نے اس بات کا یقین بھی دلایا تھا کہ اب سیتارام میرے دل کے تمام بھید نہیں پا سکے گا۔ کچھ دیر تک سیتارام کسمساتا رہا پھر مجھے گھور کر بولا۔
ایک بات سچ سچ بتائے گا بالک!" میں محسوس کر رہا ہوں کہ تم کسی خاص الجھن میں مبتلا ہو؟" میں نے تجاہل سے کام لیا۔ ” مجھے بتاؤ گرو دیو! میں تمہاری کوئی سہائتا کروں؟"
بالک! ابھی وہ سمے نہیں آیا جب تو چیلا ہو کر گرو کی سانتا کرنے کے سپنے دیکھے ابھی تجھے بڑے پاپڑ بیلنے پڑیں گے، بڑے کٹھن راستوں سے ہو کر گزرنا ہو گا
↑تب کہیں جا کر کچھ حاصل کر سکے گا۔"
تم کسی حساب کتاب کی بات کر رہے تھے ؟ میں نے اسے پھر چھیڑا۔ ”ہاں“ میں غلط نہیں کہہ رہا تھا۔" وہ خلاء میں گھورنے لگا۔ "جوگی سیتا رام نےہمیشہ دھیان رکھا ہے، کہیں نہ کہیں کوئی گھوٹالا ضرور ہوا ہے لیکن میں اسے بھی کھوج لوں گا۔"
میں سیتارام کے ساتھ قدم ملانا پہاڑ کے دشوار گزار راستوں سے نیچے اترنے لگا۔ کالی اور وشنو کا جاپ مکمل کرنے کے بعد میں اپنے اندر ایک نئی قوت محسوس کر رہا تھا۔ مجھے مہاویر کی بات پھر یاد آگئی، اس نے کسی پنڈت رام کشن کا نام لے کر کہا تھا کہ میں اس سے پنجہ لڑانے کی کوشش نہ کروں۔ میرے دل میں آیا کہ میں سیتارام سے رام کشن کے بارے میں پوچھ لوں لیکن پھر میں نے اپنا ارادہ ترک کر دیا۔ مہاویر نے وہ باتیں
سیتارام سے چھپا کر کی تھیں تو اس میں اس کی کوئی مصلحت بھی ضرور رہی ہو گی۔ سیتارام مجھے کالی کا جاپ مکمل کرنے کے بارے میں بتاتا رہا، بار بار اس نے یہی کہا کہ اب میں جو چاہوں گا وہ پورا ہو گا لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی باور کراتا رہا کہ میں ۔ پھونک کر قدم اٹھانے کی کوشش کروں، میری کوئی معمولی سی غلطی بھی دیوی دیو تاؤں کو ناراض کر سکتی تھی، وہ ناراض ہو گئے تو ان کی بخشی ہوئی پراسرار قوتیں بھی مجھ
سے چھن جائیں گی۔ راستے میں ہماری ملاقات پنڈت پجاریوں سے بھی ہوتی رہی، ایک جگہ ہم سستانے کے لئے بیٹھے تو کچھ دیر بعد وہاں دو پجاری اور آگئے، وہ دونوں سیتارام کے واقف نکلے ان کے درمیان گفتگو کا سلسلہ شروع ہو گیا، میں درگا اور وشنو مہاراج کے بارے میں سوچ رہا تھا جب میرے کانوں میں رام کشن کا نام گونجا۔ میں نے چوکنا ہو کر سیتارام اور دونوں پجاریوں کے درمیان ہونے والی باتوں پر کان لگا دیئے۔ "سنا ہے آج کل پنڈت رام کشن بڑی اونچی ہواؤں میں اڑ رہا ہے۔" ایک پجاری نے کہا۔ "تمہاری اس کی ملاقات کب سے نہیں ہوئی؟" ابھی تک ہردوار میں ہے یا کہیں اور نکل گیا ہے؟" سیتا رام نے سنجیدگی سے کہ پیشتر میری اس کی مڈ بھیٹر بنارس میں ہوئی تھی۔ وہ الہ آباد جانے کی سوچ رہا تھا
آج کل کیا کرتا پھر رہا ہے؟" سیتا رام نے بظاہر لاپرواہی سے دریافت کیا لیکن میں محسوس کر رہا تھا رام کشن کا نام سننے کے بعد اس کی کشادہ پیشانی پر بار بار ناگواری کی سلوٹیں ابھر رہی تھیں۔ اس کے ہاتھ کوئی انوکھی چیز لگ گئی ہے شاید۔“ دوسرے پجاری نے کہا۔ کئی
.پنڈت پجاری اس کے آگے پیچھے ہاتھ باندھے پھرتے رہتے ہیں۔" اج چھا" سیتا رام نے اچھا کھینچ کر کہا تو رام کشن سے اس کی نفرت کا اظہار اور واضح ہو گیا۔ ” تم نے کچھ کھوج لگایا کہ اس نے کون سی گیدڑ سنگھی حاصل کرلی ہے جو اتراتا پھر رہا ہے؟" تمہارا اس کا تو برابر کا جوڑ ہے۔" پہلے پجاری نے مسکرا کر جواب دیا۔ ” پر نتو کوئی بھید ضرور ہے، اب تو وہ تمہارا شبھ نام سن کر بھی منہ بنانے لگتا ہے۔" چیونٹی کی جب موت آتی ہے تو اس کے پر نکل آتے ہیں۔" سیتارام بل کھا کر بولا۔ اس کے دن بھی پورے ہونے والے ہیں۔" ایک بات پوچھوں جو گی مہاراج! دوسرے پجاری نے سرسراتے لہجے میں کہا۔ ”تمہارے اور اس کے درمیان جو ان بن ہے اس کا کارن کیا ہے؟" یه آن بن والی بات تجھے کس نے کی؟" سیتا رام نے چونک کر پوچھا اس کا لجہ بے حد تلخ تھا۔
رام کشن کا ایک نوجوان چیلا ہتا رہا تھا کہ وہ اب تم سے ٹکر لینے سے بھی نہیں
ڈرے گا۔"سیتارام بل کھا کر رہ گیا، دونوں پجاری کچھ دیر بعد چلے گئے تو میں نے پوچھ ہی لیا۔ " یہ رام کشن کون ہے؟"" ہے ایک مورکھ دو چار منتر سیکھ کر بڑبولا بن گیا ہے۔ سیتا رام ہونٹ چباتے ہوئے بولا۔ " پر اب اس کے دن بھی قریب آ رہے ہیں۔ جوگی سیتارام سے بیر کرنا اسے
مہنگا پڑے گا۔" سیتا رام نے منہ ہی منہ میں کچھ بد بدانا شروع کر دیا تھا، میں نے اسے زیادہ کریدنا مناسب نہیں سمجھا اس نے غصے میں اپنی رفتار بڑھا دی میں بھی اس کے ساتھ قدم ملا کر
چلنے لگا۔ کالی اور وشنو مہاراج کا جاپ مکمل کر لینے کے بعد میں اس سے کسی طور پیچھے
نہیں رہنا چاہتا تھا۔
رام کشن کا نام درمیان میں آجانے سے جوگی سیتارام کی طبیعت مکدر ہو گئی تھی میرے کالی کا جاپ مکمل کر لینے کے بعد وہ بے حد خوش تھا اس کو اس بات کا احساس بھی ضرور ہو گا کہ اب میں اس کے لئے زیادہ کار آمد ثابت ہو گا۔ اکیس دنوں کا حساب اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا جس کی وجہ سے وہ بار بار الجھ رہا تھا۔ وہ یقیناً چالیس روز مکمل ہونے کی کے بعد پہاڑی گپھا میں واپس آیا ہو گا، منڈل کو خالی دیکھ کر مجھے نہ پا کر اس کا ماتھا ٹھنکا ہو. گا۔ ہو سکتا ہے اس نے مجھے آوازیں بھی دی ہوں، اِدھر اُدھر تلاش بھی کیا ہو؟ اپنی . ادرائی قوتوں کے ذریعے آنکھیں بند کر کے پوری دھرتی کا کونا کونا چھان مارا ہو لیکن اسے کی ہر طرف سے مایوسی ہوئی ہو۔ درگا کی شکتی اپرم پار تھی اس نے سیتارام کے ذہن سے ان اکیس دنوں کا حساب بھلا دیا ہو گا جو میں نے وشنو مہاراج کا جاپ مکمل کرنے میں گزارے تھے لیکن سیتارام بار بار دنوں کے شمار میں الجھ جاتا ہو گا، مجھے اچانک دوبارہ گفھا میں بیٹھا دیکھ کر وہ حیرت سے اچھل پڑا ہو گا۔ اس کے ذہن میں ہزاروں وسوسے اٹھے ہوں گے۔ اس نے اپنی پراسرار شیطانی قوتوں کا جال پھر چاروں طرف پھیلایا ہو گا لیکن در گا کی شکتی نے اسے دوبارہ گڑ بڑا دیا ہو گا' اس نے کہا تھا کہ کہیں نہ کہیں کوئی گھوٹالا ضرور ہے، جسے وہ جلد یا بدیر کھوج لے گا سیتارام نے خود کو مطمئن کر لیا تھا، در گا کے سامنے اس کی نہیں چل سکتی تھی اس لئے وہ حساب کتاب بھول کر میری کامیابی میں خوشی کا اظہار کرنے لگا لیکن رام کشن کے ذکر نے اسے پھر کسی گہری سوچ میں مبتلا کر دیا تھا۔ وہ بار بار آنکھیں موند کر خلا میں ادھر اُدھر دیکھنے لگتا۔ شاید وہ اسے تلاش کرنے کی فکر میں پریشان تھا اور اس کی پریشانی کی وجہ یقیناً وہی شے ہو گی جو مہاویر کے مطابق میرے سوا کوئی اور حاصل نہیں کر سکتا تھا۔ اسی شے کے حصول کی خاطر سیتا رام نے میرے گرد نہ جانے کب سے سازشوں کے جال بننے شروع کر دیئے تھے، میں بے خبر ہی رہا لیکن متحرا میں کالی کے بڑے مندر میں مہاویر سے کے بعد سے مجھے یقین آگیا تھا کہ میری بربادی میں، مجھے صراط مستقیم سے ہٹانے میں سیتارام کے علاوہ کسی اور کا ہاتھ نہیں تھا۔ ممکن ہے میرے والدین کی موت سے بھی اس کم ذات کا کوئی تعلق رہا ہو۔ اس نے مجھے پٹنہ سے دربدر کرنے کی خاطر کوئی لمبا جوا کھیلا ہو۔ بہر حال پجاریوں کی زبانی رام کشن کا تذکرہ سن لینے کے بعد سے سیتارام کسی گہری سوچ میں غرق ہو کر رہ گیا تھا۔ میں نے یہی نتیجہ اخذ کیا تھا کہ سیتارام کو جس شے کی تلاش تھی وہ رام کشن ہی کی تحویل میں تھی اور پجاریوں کے
بیان کے مطابق اس کے پیچھے بہت سارے پنڈت پجاری ہاتھ باندھے پھر رہے تھے۔ میں نے سیتارام کو رام کشن کے بارے میں کریدنے کی کوشش کی تھی لیکن وہ اس سے صرف اپنی نفرت کا اظہار کر کے بات ٹال گیا تھا۔ ہمارے درمیان ادھر اُدھر کی دوسری باتیں ہوتی رہیں، وہ مجھے کالی کے جاپ سے حاصل کی ہوئی شکتیوں اور اس کے جائز و ناجائز استعمال کے طریقوں سے آگاہ کرتا رہا اس کا رویہ اب مجھ سے پہلے کے مقابلے میں - مختلف تھا لیکن باتوں باتوں میں وہ اس بات کا اظہار بھی دبی زبان میں کر چکا تھا کہ میں کالی کا چاپ پورا کرنے کے باوجود اس کے مقابلے میں بہت کمزور ہوں۔ میں اس کی بات سن کر دل ہی دل میں مسکرا دیتا، اسے غلط فہمی میں مبتلا رکھنے کی خاطر ہی میں نے اسے گرو کہنا شروع کر دیا تھا۔
ہمالیہ سے واپسی کے بعد بنارس پہنچنے تک ہمارے درمیان کوئی ایسا اہم قابل ذکر واقعہ پیش نہیں آیا جو قلمبند کیا جائے۔ بنارس میں بھی سیتا روم نے کالی کے بڑے مندر میں قیام کیا وہاں کا بڑا پجاری بھی سیتارام کی آؤ بھگت میں لگ گیا لیکن گیر دھر نامی پروہت جو دھرم کرم کے کاموں کی دیکھ بھال کرتا تھا بڑا چلتا پرزہ اور عیاش قسم کا آدمی تھا۔ پجاریوں کی بڑی تعداد اس کی ہمنوا تھی اس لئے بڑا پجاری بھی اس کا لحاظ کرتا تھا۔ میں سمجھ رہا تھا کہ سیتا رام بنارس کس لئے آیا تھا وہ رام کشن کی سن گن لینے کے ارادے سے وہاں پہنچا تھا۔ پہلے کے مقابلے میں وہ مجھ سے محتاط رہنے لگا تھا شاید اسی لئے ۔ اس نے میری موجودگی میں بڑے پجاری یا گردھر کے ساتھ رام کشن کے سلسلے میں کوئی بات نہیں کی۔ اکیلے میں کوئی پوچھ گچھ کی ہو تو مجھے اس کا علم نہیں لیکن میں دیکھ رہا تھا کہ وہ روزانہ صبح اشنان اور حلوہ پوری سے فارغ ہو کر مجھے مندر میں رہنے کی تاکید کر کے چلا تا تھا اور رات گئے واپس آتا تھا۔ بنارس میں کالی کا مندر پنڈت پجاریوں کی توجہ کا خاص مرکز بنا رہا تھا۔ گردھرنے جاری کے ہونے کے باوجود سارے انتظامی امور اپنے ہاتھ میں لے رکھے تھے۔ اس نے مندر میں چھانٹ چھانٹ کر ایسی پجارنہیں اور دیوداسیاں بھر رکھی تھیں جو اس کے اشارے پر ناچتی تھیں۔ میں یہ سارے کھیل تماشے خاموشی سے دیکھ رہا تھا مگر خاموش تھا۔ سیتارام نے بڑے پجاری اور گردھر سے جس انداز میں میرا تعارف کرایا تھا وہ بھی کوئی خاص نہیں تھا۔ بڑا پجاری چونکہ جوگی سیتارام کا معتقد تھا اس لئے میرا بہت خیال رکھتا تھا لیکن گردھر کا میرے ساتھ بھی وہی سلوک تھا جو عام پجاریوں کے ساتھ تھا۔ مندر میں چار روز کے قیام کے دوران میری کئی پجاریوں کے ساتھ اچھی میل جول ہو گئی تھی، ان میں پجاری کنول کشور بھی تھا، وہ راج پور سے وہاں آیا تھا میں نے محسوس و کیا تھا کہ کنول کشور اور گنگا نام کی پجارن کے درمیان آنکھ مٹکا چل رہا ہے، میں نے اس میں کوئی خاص دلچسپی نہیں لی، مجھے اس کی ضرورت بھی نہیں تھی کہ کسی کے ذاتی کا معاملات میں ٹانگ پھنسا تا لیکن ایک دن خود کنول کشور نے مجھ سے دبی زبان میں کہا۔ رتن کمار! تمہارا پروہت گردھر کے بارے میں کیا خیال ہے کیسا منش ہے؟" جیسا بھی ہو گا اپنے لئے ہو گا۔" میں نے ٹالنے والا انداز اختیار کیا۔ ”میرا اس کا کیا سمبندھ میں گرو سیتارام کے ساتھ کچھ دنوں کے لئے یہاں آیا ہوں پھر کسی اور طرف نکل جاؤں گا۔ "
میں نے محسوس کیا ہے کہ بڑا پجاری جوگی مہاراج کا بڑا دھیان رکھتا ہے۔" بھی تم گردھر کی بات کر رہے تھے ؛ اب بڑے پجاری کی بات کرنے لگے، بات کیا ں ہے؟ میں نے اسے ٹولنے کی خاطر دوستانہ انداز اختیار کیا۔ جو کچھ من ہے کھل کر کہہ ڈالو ورنہ سینے پر بوجھ رہے گا۔" " مجھے گردھر کی نیت میں پجارن گنگا کی طرف سے کھوٹ نظر آ رہا ہے۔" اس نے دبی زبان میں کہا۔ کیا مطلب؟" میں نے انجان بنتے ہوئے پوچھا۔ ”پجارن گنگا کے ساتھ تمہارا کیا سمبندھ ہے؟"
میں اس سے پیار کرتا ہوں۔ کنول کشور نے بڑی معصومیت سے اقرار کر لیا پھر تفصیل بتاتے ہوئے بولا۔ گنگا نے مجھے بتایا تھا کہ گردھر ہر ہفتے ایک نئی پجارن کے ساتھ رہتا ھے، جو اس کا کہا مان لیتی ہے وہ سکھی رہتی ہے، جو انکار کرتی ہے گردھر اس کا سر گنجا کرا کے مندر سے باہر نکال دیتا ہے یا کالی کے چرنوں میں بیٹھا دیتا ہے۔ کسی مردار گدھ کی طرح خطرناک ہے، ایسی خطرناک چالیں
چلتا ہے کہ بڑا پجاری بھی اس کے دھوکے میں آجاتا ہے۔" کیا گردھر نے گنگا کے ساتھ بھی کوئی غلط بات کی ہے؟"
”ہاں، گنگا بتا رہی تھی کہ اس نے پورن ماشی کی رات اسے اپنے ساتھ بھوجن کرنے کی دعوت دی ہے۔ " کنول کشور نے ہونٹ کاٹتے ہوئے کہا۔ ”اسی بھوجن کے بہانے وہ بہت ساری معصوم پجارنوں کی مجبوریوں سے کھیل چکا ہے۔"
" تم کیا چاہتے ہو ؟"
"میرا خیال ہے کہ اگر تم جو گی مہاراج کے کانوں میں کسی طرح یہ بات ڈال دو تو گنگا اس پاپی کے جال سے بچ سکتی ہے۔" میرا کہا مانو تو تم گنگا سے کہو کہ وہ گردھر کے بھوجن کی دعوت والی بات مان لے۔" "کیا مطلب؟ کنول کشور نے چونک کر مجھے دیکھا۔ " تم نے اگر متر (دوست) سمجھ کر مجھے اپنے من کا حال بتایا ہے تو پھر میرے کہنے پر عمل کرو۔" میں نے سنجیدگی سے کہا۔ "پورن ماشی کی رات آنے میں ابھی دو دن باقی ہیں میں اس عرصے میں کوئی نہ کوئی ایسا راستہ ضرور نکال لوں گا کہ گردھر اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکے۔" لیکن اگر تم کچھ نہ کر سکے تو بیچاری گنگا " کوئی چنتا مت کرو۔" میں نے پورے اعتماد سے جواب دیا۔ ”نشچنت ہو جاؤ گردھر اگر پاپی ہے تو میں اسے اس کی سزا ضرور دوں گا۔" کنول کشور نے تھوڑی دیر ہچکچانے کے بعد میری بات مان لی کالی اور وشنو مہاراج کا جاپ مکمل کرنے کے بعد میں بھی کسی ایسے موقع کی تلاش میں تھا جب اپنی شکتیوں کا امتحان لے سکوں، مجھے خوشی تھی کہ اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لئے ایک مندر کا پروہت میرے کام آنے والا تھا۔ پورن ماشی کی رات کو میں سیتارام اور بڑے پجاری کے ساتھ بیٹھا باتوں میں مش تا جب بڑے پجاری کی زبان پر اتفاق سے رام کشن کا نام آگیا، شاید وہ ایک لمحے کو بھول کہ میں بھی ان کے درمیان موجود ہوں ، اس نے دبی زبان میں سیتارام سے کہا تھا۔ "جوگی مہاراج! میرا کہا مانو تو اب تم اپنے من سے رام کشن کا دھیان کھرچ کر نکال دو
کیوں؟" سیتا رام نے بل کھا کر پوچھا۔ ”کیا اب اس میں کوئی سرخاب کے پر لگ گئے ہیں ؟"
"میرا یہ مطلب نہیں تھا۔ " بڑے پجاری نے وضاحت کی۔ ”میں تو صرف اس کارن یہ کہہ رہا تھا کہ دو مہان شکتیوں کا ٹکراؤ دیوی دیوتاؤں کو بھی پسند نہیں آتا۔" ٹھیک ہے ... ٹھیک ہے۔ سیتا رام نے اچانک میری موجودگی محسوس کرتے ہوئے بات ٹالنے کی کوشش کی۔ کوئی اور بات کرو رام کشن کو نرکھ میں جھونکو، وہ جیسا . کرے گا ویسا ہی بھرے گا۔"بڑے پجاری کو بھی شاید اپنی غلطی کا احساس ہو گیا تھا، وہ بھی سیتارام کے جواب میں کچھ کہنا چاہتا تھا کہ کنول کشور بوکھلایا ہوا اندر داخل ہوا میں اس کے آنے کا مقصد سمجھ گیا تھا۔
تم کون ہو بالک!" بڑے پجاری نے اسے مخاطب کیا۔ ”اس سمے یہاں کیا لینے
آئے ہو؟
یہ میرا متر ہے۔" میں نے اٹھتے ہوئے کہا پھر سیتارام کی طرف دیکھ کر بولا۔ گرو
۔ ادھر مندر کے اندر ہی ہوں، کچھ دیر میں واپس آجاؤں گا۔" " نہیں۔ " سیتارام نے شاید کنول کشور کے من میں جھانک کر اس کے آنے کا مقصد بھانپ لیا تھا۔ ” تم ابھی ان جھمیلوں میں ٹانگ مت پھنساؤ۔" گرو میں نے پہلی بار سیتارام کی آنکھوں سے آنکھیں ملا کر سنجیدگی سے جواب دیا۔ "اگر تم جان گئے ہو کہ میں کہاں جا رہا ہوں تو یہ بھی سن لو کہ میں اپنے متر کو
کا دیا ہوا وچن اوش پورا کروں گا، دھرتی کی کوئی طاقت مجھے نہیں روک سکتی۔" سیتارام کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں ، شاید اسے مجھ سے اس لب و لہجے میں بات کرنے کی توقع نہیں تھی۔ مندر کے بڑے پجاری نے بھی میری کیفیت محسوس کر لی تھی۔ میں ان دونوں کو نظر انداز کر کے کنول کشور کے ساتھ باہر نکل گیا۔ مجھے گردھر کے کمرے تک پہنچنے میں دیر نہیں لگی۔ اس نے پجارنوں کے ساتھ رنگ رلیاں منانے اور پاپ کا خاطر مندر کے مشرقی گوشے میں ایک الگ تھلگ کمرہ منتخب کر رکھا تھا میں سینہ تانے وہاں پہنچ گیا' اندر سے گنگا پجارن کی سہمی سہمی آواز سنائی دے رہی تھی
مجھ پر دیا کرو پروہت مہاراج! تم دھرم کے نام لیوا ہو، میرے جیون میں پاپ کا زہر مت گھولو ورنہ میں کچھ کھا کر جان دے دوں گی۔" تجھ سے پہلے دوسری پجارنیں بھی مجھے مرنے کی دھمکیاں دے چکی ہیں لیکن میں نے آج تک کسی کی ارتھی (میت) اٹھتے نہیں دیکھی۔" پروہت گردھر کی نشے میں ڈوبی آواز ابھر۔ سوم رس پینے اور جیون کا اصلی سواد (مزہ) چکھ لینے کے بعد سب شانت ہو جاتی ہیں۔ یہ من کی بھڑکتی آگنی (آگ) ہے جو منش کو چیخنے چلانے پر مجبور کرتی ہے، تو بھی شانت ہو جائے گی میری سندر ہرنی !" بھگوان کے لئے مجھے برباد مت کرو۔ گنگا نے رحم کی بھیک مانگی۔ تم تو میرے پتا
سمان (باپ کے برابر ہو، تمہیں لاج نہیں آتی؟" رتن کمار! کچھ کرو ورنہ وہ راکھشس میری گنگا کے اجلے شریر کو میلا کر دے گا۔"کنول کشور جھلانے لگا۔
میں نے جواب میں دروازے پر ایک بھر پور لات ماری، مجھے خود بھی حیرت ہوئی دروازہ کے دونوں پٹ ٹوٹ کر کئی حصوں میں منقسم ہو گئے گر دھر جو گنگا کے ساتھ نوچ کھسوٹ کر رہا تھا وہ بھی دھماکے کی آواز سن کر اچھل پڑا پھر اس کی نظریں ہم پر پڑیں تو
تلملا کر بولا۔
تو کل کا چھو کرا۔" اس نے بڑی حقارت سے مجھے مخاطب کیا۔ "جوگی سیتارام کے کھونٹے پر اچھلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ جا چلا جا یہاں سے گردھر کے رنگ میں بھنگ ڈالنے کی بھول تو کبھی بڑے پجاری نے بھی نہیں کی تو کس کھیت کی مولی ہے؟"
گروھر نے مجھے دیکھتے ہی آنکھیں لال پہلی کرنی شروع کر دیں، گنگا تیزی سے اپنی اوڑھنی سنبھالتی ہوئی ایک کونے میں جا کر کھڑی ہو گئی کنول کشور کی نگاہیں شعلے اگل رہی تھیں لیکن وہ خاموش ہی رہا شاید اسے گردھر کے مرتبے کا خیال تھا اس لئے اس نے خود کو قابو میں رکھا تھا یا پھر شاید اسے گردھر کی قوت کا اندازہ تھا جو خون کے گھونٹ بیٹنے پر اکتفا
گر دھر مہاراج!" میں نے اسے جوش میں آتا دیکھ کر سرد لہجہ اختیار کیا۔ "مجھے تمارے کرتوتوں کی خبریں مل رہی تھیں مگر میں نے
تو کون ہوتا ہے دھرم کرم کے معاملے میں ٹانگ پھنسانے والا؟" اس نے گرج کر کہا۔ ”سیدھی طرح نظریں جھکا کر مجھ سے شما کی بھکشا مانگ لے ورنہ میں تجھے ایسا سراپ دوں گا کہ تیری آتما کو بھی کبھی چین نہیں ملے گا۔ "
مجھے ہنسی آگئی، میں نے کہا۔ کیا تم ابھی گنگا کو گیتا (ہندوؤں کی مذہبی کتاب) کا کوئی پاٹھ (سبق) یاد کرا رہے تھے جو دھرم کے معاملے میں تمہارا پارہ چڑھ رہا ہے۔" وہ اس مندر کی پجارن ہے۔ گردھر تلملا کر بولا۔ " میں پروہت ہوں ..یرتو
کون ہے ہمارے معاملات میں ٹانگ اڑانے والا ؟؟؟ میں بھی کالی کا سیوک ہوں گردھر مہاراج!" میں نے اس کا مضحکہ اڑاتے ہوئے جواب دیا۔ ”ساری پجارنیں میں تم ہڑپ کر جاؤ گے تو ہم بھگتوں کے لئے کیا بچے گا؟؟ تو شاید سیدھی طرح نہیں مانے گا۔ " اس نے پینترا بدل کر کہا پھر کوئی منتر پڑھ کر پھونکا تو میں خود کو سنبھال نہ سکا لڑکھڑا کر گرتے گرتے بچا گردھر کو شاید یہی احساس ہوا ہو گا کہ میں اس کے مقابلے میں کمزور ہوں، اس نے پھر سرسراتے لہجے میں مجھے وہاں سے جانے کا حکم دیا۔
میں نے خود کو سنبھالنے میں دیر نہیں کی، میں کوئی مناسب جواب دینا چاہتا تھا کہ سیتارام دروازے پر نمودار ہوا مندر کا بڑا پجاری اس کے ہمراہ نہیں تھا وہ شاید پنڈت پجاریوں کو اس طرف آنے سے روکنے کی خاطر چلا گیا تھا۔
سیتارام! گردھر سیتا رام کو دیکھتے ہی بڑے سرد لہجے میں بولا۔ ”اپنے چھو کرے کو باندھ کر رکھو اسے سمجھانے کی کوشش کرو کہ مندر کے پروہت کی شکتی کیا ہوتی ہے۔" بات کیا ہے؟" سیتا رام نے حالات کو سنبھالنے کی خاطر بات بتانے کی کوشش کی شاید اسے بھی مندر کے تقدس کا خیال آگیا تھا ورنہ میں اس کی ماورائی قوتوں کے ناٹک
دیکھ چکا تھا۔بات کچھ بھی ہو، تم اپنے بچھڑے کے گلے میں پٹہ ڈال کر پالو ورنہ کسی
گرد هر جی! یہ بات ٹھیک نہیں۔" میں نے سیتارام کو درمیان میں آنے سے گردھر کو مخاطب کیا۔ ”بات ہمارے تمہارے بیچ ہے، گرو کو درمیان میں مت لاؤ۔ آپس میں کچھ لے دے کر فیصلہ کر لو اسی میں تمہاری مکتی ہے۔تو چاہتا کیا ہے؟ گردھر آپے سے باہر ہونے لگا کنول کشور کھڑا دانت پیس رہا تھا ایک چھوٹی سی بنتی ہے پروہت مہاراج!" میں زہر خند سے بولا۔ "تم پجارن گنگا کے چرن چھو کر معافی مانگ لو میں بھی تمہیں شما کر دوں گا۔" رتن کمار! تو باہر جا میں گردھر سے بات کرتا ہوں۔" سیتا رام نے کسی مصلحت
کے پیش نظر مجھے وہاں سے ہٹانا چاہا مگر میں کچھ اور ٹھان چکا تھا۔
گر و تم اس معاملے سے دور ہی رہو تو تمہاری بڑی کرپا ہو گی۔" میں نے فیصلہ کن
انداز اختیار کیا۔ سیتارام میری بات سن کر کسمسانے لگا۔ رام رام . رام رام گر دھر نے بڑا سا منہ بنا کر کہا۔ "میں پروہت ہو کر کسی پجارن کے چرنوں کو ہاتھ لگاؤں۔ سیتارام! اپنے سیوک کو سمجھانے کی کوشش کرو
............
ورنہ بات بگڑ بھی سکتی ہے۔" گر و اب درمیان میں نہیں بولے گا۔" میں نے براہ راست گردھر سے کہا۔ ”میں تمہیں کیول دو منٹ کی مہلت اور دے رہا ہوں، میری آگیا کا پالن کر لو تو تمہارے دھرم بچ جائے گا ورنہ گردھر پھر بھڑک اٹھا اس نے تیزی سے دوسرا وار کیا آگ کے شعلے بھڑکتے ہوئے میری جانب لیکے لیکن میرے جسم سے ٹکرا کر ٹھنڈے پڑ گئے، مجھے تعجب ہوا میں نے ابھی تک اپنے گرد منڈل نہیں کھینچا تھا۔ پھر آگ کے شعلے بے اثر کیوں ہو گئے؟ کیا جوگی سیتارام نے میرے منع کرنے کے باوجود کوئی مداخلت کی تھی؟ میرے ذہن میں یہ خیال ابھرا تو میرے تیور خطرناک ہونے لگے، اسی لمحے درگا کی مانوس آواز میرے کانوں
-میں رس گھول گئی۔ رتن کمار! تم نے وشنو مہاراج کے لئے جو جاپ کیا ہے آج اس کی پریکشا ( امتحان) کا دن ہے، میرا آشیر باد تمہارے ساتھ ہے، پروہت کو ایسا سراپ دو کہ سارا جیون اپنے کئے پر پچھتاتا رہے۔" میں نے بڑے خلوص سے کہا۔ ”میں اپنے امتحان میں اوش کامیاب ہوں گا مینے من ہی من میں کہا۔ گر دھر کو اپاہج کرکے سڑکوں پر بھیک مانگنے پر مجبور کر دو تاکہ دوسروں کو بھی اس کے انجام سے عبرت حاصل ہو۔"

جوش میں آکر ہوش مت کھو بیٹھنا۔ " اس کی مترنم آواز دوبارہ ابھری۔ ” یہ بات بھی دھیان میں رکھنا کہ مندر کے پجاریوں کی بڑی تعداد پروہت کے گن گاتی ہے۔ کوئی ایسا راستہ اختیار کرو کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔"
پھر تو ہی مجھے بتا کہ میں اس پاپی کے ساتھ کیا برتاؤ کروں؟" میں نے پوچھا۔ ” میری بات دھیان سے سنو رتن کمار! بھگوان نے تمہیں دس انگلیاں دی ہیں، ہم نے ان انگلیوں میں اپنی شکستی بھر دی ہے۔ تم وشنو مہاراج کا نام لے کر جو انگلی بھی اٹھاؤ گے وہ تمہارے من کی آشا پوری کر دے گی۔" میں درگا کی بات سمجھ گیا وہ مجھے میری لازوال طاقت کا احساس دلا رہی تھی، میری رہنمائی کر رہی تھی، اس کا آشیر باد میرے ساتھ تھا میں نے سیتارام پر ایک نظر ڈالی پر گردھر کو گھور کر بولا۔ گر دھر! تم اپنے ایک دو منتر کا انجام دیکھ چکے ہو ، من چاہے تو تھوڑی اچھل کود اور کرلو لیکن آج ہو گا وہی جو میں نے سوچ رکھا ہے، آج کے بعد تم کسی کو منہ دکھانے کے
قابل نہیں رہو گے سن رہے ہو؟ گرو کا یہ بچھڑا تم سے کیا کہہ رہا ہے؟" لڑکی ایک کونے میں سمی کھڑی تھی کنول کشور بھی پیچ و تاب کھا رہا تھا، سیتارام سوچ میں غرق تھا، شاید وہ پھر اکیس دنوں کے الٹ پھیر کا حساب لگا رہا تھا، ممکن ہے اس کی شیطانی آنکھوں نے میری قوت کا اندازہ لگا لیا ہو۔ گردھر کی کیفیت آپے سے باہر ہو رہی تھی، ایک خوبصورت ہرنی اس کے جال میں پھننے کے بعد نکلی جارہی تھی، میں نے اس کے منہ سے تر نوالہ چھین لیا تھا، میرا جملہ سن کر وہ پاگل ہو گیا۔ وہ منہ سے جھاگ اڑاتے ہوئے بولا۔ ”کل کے چھو کرے تو گردھر
سے پنجہ لڑائے گا؟
گر دھر نے اپنے جملے کے اختتام کے ساتھ ہی ایک اور بھر پور وار کیا، چاروں طرف بجلیاں کڑ کڑاتی ہوئی میری طرف لپکیں، سیتارام بھی اس حملے سے بوکھلا کر اچھل کر ایک قدم پیچھے ہو گیا تھا میں نے درگا کی بات آزمانے کی خاطر الٹے ہاتھ کی ایک انگلی فضا میں کی بجلیاں پلٹ کر گردھر پر واپس لوٹنے لگیں، وہ اچھل کر خود کو بچا گیا پھر اس نے حیرت انگیز پھرتی کا مظاہرہ کیا۔ الٹا پاؤں اٹھا کر فرش پر مارا میرے پاؤں کے نیچے سے زمین سرک گئی، جس جگہ میں کھڑا تھا
وہاں خاصہ بڑا گڑھا بن گیا تھا۔ مجھے اس میں گر جانا چاہئے تھا مگر میں بدستور ہوا میں معلق بات اپنی جگہ جما کھڑا رہا۔ سیتارام کی آنکھیں پھٹنے لگیں گر دھر کے چہرے پر بھی ہوائیاں اڑنے لگیں، شاید وہ بھی اپنے ترکش کا سب سے موثر تیر استعمال کر چکا تھا۔
گر دھر مہاراج! میں نے درگا کا نام لے کر کہا۔ ”من میں کوئی اور اچھا (خواہش) باقی رہ گئی ہو تو وہ بھی پوری کر لو اس کے بعد جو کچھ ہو گا وہ تمہارے پرکھوں کی آتماؤں
کی سمجھ میں نہیں آسکے گا۔ " دیر مت کرو رتن کمار!" درگا کی آواز پھر میرے کانوں میں گونجی۔ "سمے بیت رہا
ہے، جو کچھ کرنا ہے ترنت (جلدی) کر ڈالو۔" گردھر مجھے پھٹی پھٹی نظروں سے گھور رہا تھا، میں نے درگا کی بات سن کر ایک آخری فیصلہ کر لیا۔
میں تم جیسے پاپی کو مار کر اپنے ہاتھ گندے نہیں کروں گا۔" میں نے وشنو مہاراج کا نام لے کر دل کی بات زبان سے ادا کرنی شروع۔ ”آج تم خود اپنی گندی زبان سے مندر کے چبوترے پر کھڑے ہو کر چیخ کر اپنے کرتوتوں کا اقرار کرو گے۔ پجارنہیں اور داسیاں تمہارے اوپر تھوکیں گی، تمہارے سارے نام لیوا پنڈت پجاری بھی آج تمہارے دشمن بن جائیں گے ، ان ہی کے ہاتھوں تمہارا کریا کرم ہو گا۔ گھبراؤ نہیں تم مرکز شمشان جا گھاٹ نہیں جاؤ گے ، تمہاری چتا کو آگ بھی نہیں دکھائی جائے گی۔ تمہارے چیلے تمہاری ایسی درگت بنائیں گے کہ تم اپنے چرنوں پر خود اپنا بوجھ بھی نہیں سہار سکو گے۔ سارا جیون سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر ایڑیاں رگڑتے پھرو گے۔ ایک ایک کے آگے ہاتھ پھیلاؤ گے لیکن کوئی تمہیں بھیک بھی نہیں دے گا۔ " میری آواز تیز ہوتی گئی۔ میں نے میں سیدھے ہاتھ کی ساری انگلیاں گردھر کی طرف کر کے اسے حکم دیا۔ ”میری آگیا کا پالن
کرو مندر کے چبوترے پر جا کر چلا چلا کر اپنے سارے کالے کرتوتوں کا اقرار کرد. یہ رتن کمار کا حکم ہے۔" بھر وہی ہوا جو میں نے کہا تھا۔ گردھر دیوانوں کی طرح چیختا چلاتا باہر کی طرف بھاگا کے تمام پنڈت اور پجاری بھاگ اٹھے، پجار نیں اور دیوداسیاں بھی مندر کے اوپر جمع ہونے لگیں، جہاں گردھر بلند آواز میں پاگلوں کی طرح حلق پھاڑ پھاڑ کر اپنے گناہوں کا اعتراف کر رہا تھا۔ جو پجارنیں اس کے ہاتھوں لٹ چکی تھیں وہ آپے
باہر ہو کر اس پر ٹوٹ پڑیں، پجارنوں کی دیکھا دیکھی نوجوان پجاریوں کی ایک ٹولی بھی گردھر پر لاٹھیاں برسانے لگی۔ مندر کا بڑا پجاری اور دوسرے پنڈت پجاری دور کھڑے پر وہت کے انجام پر حیرت کا اظہار کر رہے تھے۔ سب کے چہرے دھواں ہو رہے تھے۔ کنول کشور اور گنگا موقع پا کر اپنے اپنے ٹھکانوں پر جا کر دبک گئے تھے ، میں ایک طرف خاموش کھڑا درگا کے تصور میں گم تھا جب جوگی سیتارام نے قریب آکر میرا ہاتھ
تھام کر مدھم مگر ٹھوس لہجے میں کہا۔
بالک! جو کچھ ہو رہا ہے اس پر مجھے وشواس نہیں آرہا تو نے یہ کھیل تماشے کب اور کہاں سے سیکھ لئے ؟" سب تمہاری کرپا کا نتیجہ ہے گرو دیو!" میں نے انکساری نے جواب دیا۔ میری بات سن کر جوگی سیتارام کا سینہ فخر سے تن گیا تھا۔
======
پروہت کا انجام بھیانک ہی ہوا۔ مشتعل نوجوان پجاریوں نے اس کی ہڈی پسلی توڑ کر مندر سے باہر پھینک دیا، پجارنوں اور دیوداسیوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی لیکن بڑی عمر کے پنڈت اس حادثے پر خوش نہیں تھے، وہ مجھے کینہ تو ز نظروں سے در رہے تھے۔ شاید وہ اس بات کو پسند نہیں کرتے تھے مندر کا تقدس اس طرح پامال کیا
جاتا۔جوگی سیتارام کی نظریں بھی میرے وجود پر مچل رہی تھیں، وہ بھی میری قوت کا تماشہ دیکھ کر ششدر رہ گیا تھا۔ میں نے جب کہا تھا کہ وہ کسی ایسی شے کو حاصل کرنے کے چکر میں ہے جو میرے سوا کوئی اور نہیں حاصل کر سکا، اس مقصد کے پیش نظر سیتارام نے مجھے اپنے چنگل میں پھانسا تھا، کالی کا جاپ کرنے کا مشورہ بھی اسی نے دیا تھا لیکن اب میری جنونی حالت اور گردھر کا انجام دیکھ کر وہ بھی سوچ میں پڑ گیا تھا۔ اس کے چہرے پر حیرت اور تشویش کی ملی جلی کیفیت رنگ بدل رہی تھی۔ اس کی جگہ میں ہوتا تو میری بھی وہی کیفیت ہوتی۔ وہ مجھ پر اپنا تسلط قائم رکھنا چاہتا تھا۔ مجھے ہاتھوں سے نکلتا دیکھ کر اسے یقیناً تھی، اس نے یہ بھی سوچا ہو گا کہ اگر میں تحکمانہ لہجے میں اسے اپنے اور پروہت کے درمیان آنے سے روک سکتا تھا تو کل کسی موقع پر اس کا حکم ماننے سے انکار بھی کر سکتا تھا
مندر کا بڑا پجاری بار بار پہلو بدل رہا تھا، مندر کے نظم و ضبط اور وقار کو قائم رکھنا اس کی ذمہ داری تھی۔ گردھر کا انجام دیکھ کر اس کے اندر بھی کھد بد ہونی لازمی تھی۔ رات کسی نہ کسی طرح گزر گئی سب ہی اپنی اپنی جگہ غور و فکر میں مبتلا تھے لیکن مجھے کسی بات کی فکر نہیں تھی، میں نے جو کچھ کیا تھا اس میں درگا کی مرضی کو بھی دخل تھا۔ وہ اس حقیقت سے ناواقف تھے اس لئے تفکرات کا شکار ہو رہے تھے۔ میں لمبی تان کر سو گیا۔ دوسری صبح میں اپنے کمرے میں سویا ہوا تھا جب سب سے پہلے کنول کشور مجھ سے ملنے آیا وہ کچھ پریشان لگ رہا تھا۔ میں نے سبب دریافت کرنے کی کوشش کی تو وہ دبی زبان میں بولا۔ بڑے پجاری نے حکم دیا ہے کہ میں دو گھنٹے کے اندر اپنا بوریا بستر باندھ کر
مندر کی حدود سے باہر چلا جاؤں۔"
کوئی وجہ ؟" میں نے پوچھا۔ اس کا خیال ہے کہ تمام حالات کا ذمہ دار میں ہوں۔ کنول کشور نے ادھر اُدھر دیکھ کر کہا۔ ”کچھ بڑی عمر کے پنڈتوں نے پجارن گنگا کو بھی سخت سست کہا ہے اور آئندہ زبان بند رکھنے کی تاکید کی ہے، وہ بھی پریشان ہے۔"
پھر تم نے کیا سوچا ہے؟" مجھے بسر حال بڑے پجاری کا حکم ماننا پڑے گا لیکن شاید گنگا میرے ساتھ نہ جا
کیوں؟" میں نے تعجب کا اظہار کیا۔
اسے مندر سے باہر قدم نکالنے کو بڑی سختی سے منع کیا گیا ہے۔ " کنول کشور نے بجھی ہوئی آواز میں جواب دیا۔ ”مندر کی انتظامیہ کا خیال ہے کہ اگر گنگا نے باہر جا کر اندر کا حال سنایا تو مندر کی بدنامی ہوگی۔"
مجھے ہنسی آگئی، پروہت گردھر اور اس کے جالی موالی جو کچھ کر رہے تھے اس میں مندر کے کرتا دھرتاؤں کو کوئی اعتراض نہیں تھا، وہ گنگا کی زبان پر تالے ڈالنا چاہتے تھے۔ عجیب مضحکہ خیز بات تھی۔ رتن کمار کنول کشور نے ایک لمحہ خاموشی کے بعد بڑے انکسار سے کہا۔ "تم نے کر میری خاطر جو کچھ کیا میں اس کا احسان تمام جیون یاد رکھوں گا، اب ایک آخری اپکار اور کر دو کسی طرح گنگا کو میرے ساتھ جانے کی اجازت دلوا دو۔"
کیا گنگا اپنی مرضی سے تمہارے ساتھ جانے کو آمادہ نہیں ہے؟"وہ تو تیار ہے لیکن بڑے پجاری کے حکم سے اس پر پہرہ لگا دیا گیا ہے۔ کنول کشور نے رندھی ہوئی آواز میں کہا۔ ”مجھے اس سے ملنے کی اجازت بھی نہیں ہے۔" تم اپنا سامان سمیٹ کر مندر کے باہر جا کر گنگا کا انتظار کرو۔" میں نے کچھ سوچ کر
کہا۔ ”میں اسے نکالنے کا بھی کوئی راستہ تلاش کرتا ہوں۔"
کنول کشور نے مجھے تشکرانہ نظروں سے دیکھا پھر نظریں جھکا کر باہر نکل گیا۔ شیر کو ایک بار خون کا مزہ آجائے تو پھر وہ خون کی خوشبو سونگھ کر ہی دیوانہ ہونے لگتا ہے۔ میری بھی کچھ ایسی ہی کیفیت تھی۔ میں نے طے کر لیا کہ پجارن گنگا کی مدد بھی ضرور کروں گا میں جانتا تھا کہ مندر کے اندر جو کھیل کھیلا جا رہا تھا وہ وقتی طور پر بند ہو گیا لیکن یہ سلسلہ ختم نہیں ہو سکتا تھا۔ میرے چلے جانے کے بعد حالات پھر پرانی ڈگر اختیار کر لیتے۔ گنگا میری وجہ سے گردھر کے ہاتھوں بچ گئی تھی لیکن اور بھی کئی گھاگ قسم کے پجاری اور پنڈت اپنے دانت تیز کر رہے ہوں گے۔ میرے جاتے ہی کوئی اسے بھی بھنبھوڑ ڈالتا میں ان ہی خیالوں میں گم تھا جب جوگی سیتا رام میرے کمرے میں داخل ہوا۔ اس کے چہرے مر ناگواری کے تاثرات مسلط تھے۔ رتن کمار! تم چل کر ناشتہ پانی کر لو اس کے بعد ہمیں بنارس چھوڑ کر کسی اور طرف نکلنا ہے۔" گرو تم مجھ سے ناراض ہو ؟ میں نے اسے ٹٹولنے کی خاطر دبی زبان میں پوچھا۔ " تم نے گردھر کے سلسلے میں جو کچھ کیا وہ اچھا نہیں کیا۔ وہ کسمسا کر بولا۔ دوسرے پنڈت پجاری میری وجہ سے زبان بند کئے ہیں لیکن پروہت کے ساتھ جو ہوا ہو اس پر خوش نہیں ہیں۔" اگر یہ بات تھی تو وہ اپنی شکتی کے زور سے اسے بچا لیتے۔ " میں نے سپاٹ لیجے
میں جواب دیا۔ ”انہیں کس نے روک رکھا تھا؟" تم ابھی جوان ہو رتن کمار ! سیتارام بل کھا کر بولا۔ ”یہ باتیں ابھی تمہاری سمجھ میں نہیں آئیں گی۔"
تم سمجھا دو۔ " میں نے زہر خند سے جواب دیا۔کیچڑ میں پتھر اچھالانے سے وہ ختم نہیں ہو جاتی' اس کے چھینٹے اور پھیل جاتے ہیں۔ سیتا رام نے کہا۔ ”میں نے تمہیں سمجھایا بھی تھا کہ دھرم کرم اور پاپ پین کی گتھیوں میں الجھنے کی بھول کبھی نہ کرنا۔ اب بھی یہی کہوں گا کہ کیوں اپنے کام سے کام رکھا کرو دوسروں کے معاملات میں ٹانگ پھیلانے کی کیا ضرورت ہے ؟"”ایک بات پوچھوں گرو!پوچھو۔"
تم نے میرے جیون کے معاملات میں ٹانگ پھنسانے کی ضرورت کیوں محسوس
سیتارام نے چونک کر مجھے تیز نظروں سے گھورا اس کے چہرے پر ایک رنگ آکر
گزر گیا، جواب بن نہ پڑا تو تلملا کر بولا۔ رتن کمارا کل رات میں کچھ سوچ بچار کر کے تمہارے راستے میں نہیں آیا تھا پر نتو ایک بات کان کھول کر سن لو۔ گرو ہمیشہ گرو ہمیشہ گرو ہی رہتا تم ابھی بالک ہو، بالک ہی رہو۔ زیادہ بڑا بننے کی کوش کرو گے تو نقصان بھی اٹھا سکتے ہو۔" اس کے لہجے میں دھمکی
تھی۔کالی کا جاپ کرنے کا مشورہ تم ہی نے دیا تھا گرو دیو! میں نے لاپرواہی سے جواب دیا میں تو سیدھے راستے پر چل رہا تھا۔" بات کالی کی نہیں، پجارن گنگا کی ہو رہی ہے۔" جوگی جھلا گیا۔ "تمہیں اس کے
اور پروہت کے چکروں میں الجھنے کی کیا ضرورت تھی؟"
"سنا ہے پنڈت پجاریوں کے اکسانے پر بڑے پجاری نے کنول کشور کو مندر سے نکل جانے کا حکم دیا ہے؟"
”ہاں یہ ان کا ذاتی معاملہ ہے۔ سیتارام نے تیز آواز میں کہا۔ گنگا کا بھی ایک ذاتی معاملہ ہے۔" میں مطلب کی بات زبان پر لے آیا۔ وہ بھی اب مندر سے جانا چاہتی ہے، اسے خطرہ ہے کہ یہاں رہی تو گردھر کے ساتھی اس کے سندر شریر کو روندتے رہیں گے۔“ کمار!" سیتارام کی پیشانی شکن آلود ہونے لگی۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ تم پنکھ پھیلانے کی کوشش کر رہے ہو۔"
گنگا کے ساتھ جو کچھ ہو رہا تھا، جو ہو رہا ہے کیا تم اسے انیائے (ناانصافی) نہیں کہو کے؟" میں نے سنجیدگی سے سوال کیا۔
نیائے کرنے کے لئے یہاں بڑے پجاری کے علاوہ دوسرے پنڈت پجاری بھی موجود ہیں۔ تم ایک پجارن کے لئے اتنے بیاکل کیوں ہو رہے؟"
میں چاہتا ہوں گرد دیو کہ اسے بھی کنول کشور کے ساتھ جانے کی اجازت مل جائے۔ میں نے دبی زبان میں کہا۔
نہیں ۔ گنگا کو جانے کی اجازت نہیں ملے گی۔" کیا تمہاری بھی یہی مرضی ہے؟" میں نے سنجیدگی سے پوچھا۔ ”ہاں بڑے پجاری نے جو فیصلہ کیا ہے اس میں میری رائے بھی شامل ہے۔" جوگی سیتارام نے قدرے سرد لہجے میں کہا۔ میں نے سیتا رام کو ایک نظر غور سے دیکھا پھر خاموشی سے اس کے ساتھ ہو لیا لیکن میں نے دل ہی دل میں وشنو مہاراج کا نام لے کر گنگا کے فرار کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا تھا۔
بڑے پجاری کے کمرے میں کئی اور موٹے تازے پنڈت بھی آسن جمائے بیٹھے میں سیتارام کے ساتھ اندر داخل ہوا تو سب ہی نظریں میری جانب اٹھ گئیں۔ ان مانگاہوں میں میرے خلاف نفرت کے جذبے مچل رہے تھے۔ میں نے کسی پر توجہ نہیں دی، سیتارام کے ساتھ آلتی پالتی مار کر دستر خوان پر بیٹھ گیا۔ بڑے پجاری نے اشارہ کیا تو ناشتہ شروع ہو گیا۔ میں نے لمبے لمبے ہاتھ چلانے شروع کر دیئے۔ رات پروہت کے ساتھ جو کچھ ہو چکا تھا اس کے اثرات ابھی تک سب کے چہروں پر کپکپا رہے تھے، میں اطمینان سے حلوہ پوری کھانے میں مشغول تھا جب ایک پجاری بو کھلایا ہوا اندر داخل ہوا۔ مہاراج! اس نے بڑے پجاری کو مخاطب کیا۔ ”میں پجارن گنگا کے بارے میں ایک خبر لایا ہوں۔" کیا ہوا گنگا کو؟" بڑے پجاری نے چونک کر پوچھا اس کے انداز میں نفرت زیادہ تھی۔
وہ اب اپنے کمرے میں نہیں ہے۔“ پجاری نے مردہ آواز میں جواب دیا۔ کیا مطلب؟" ہم چار پجاری اس کے کمرے کی نگرانی کر رہے تھے مہاراج!" پجاری نے بدستور

سنجیدگی سے کہا۔ ”ہم نے اپنے اپنے ہاتھوں سے کمرے میں بند کیا تھا یا ہ سے کنڈا بھی لگا دیا تھا لیکن وہ کچھ کہتے کہتے رک گیا
لیکن کیا ؟" ایک بوڑھے پنڈت نے تیزی سے پوچھا۔
کمرے کا دروازہ ایک جھٹکے سے کھل گیا۔ " پجاری نے ہونٹ چہاتے ہوئے کہا۔ سبھی کو اچنبھا ہوا پھر ہم نے اندر جا کر دیکھا تو گنگا کہیں بھی نہیں تھی۔" کیا اسے دھرتی نکل گئی یا آکاش کھا گیا۔ " پنڈت نے اتنا گر جدار لہجہ اختیار کیا کہ خبر لانے والا پجاری خوف سے تھر تھرانے لگا، باقی سب کی نظریں بھی پجاری کے بیان کی
تصدیق کی خاطر اس کے چہرے پر جم گئیں۔ جوگی سیتا رام نے مجھے کنکھیوں سے دیکھا میں نظریں جھکا ئے ناشتے میں مشغول رہا مجھے خوشی تھی کہ وہی ہوا جو میں نے دل میں سوچا تھا۔ ”جو بھی ہو رہا ہے وہ اچھا نہیں ہو رہا۔ " بڑے پجاری نے پہلو بدل کر معنی خیز لہجے میں کہا۔ اس کا اشارہ میری ہی طرف تھا۔ کل رات کو گردھر کی کھاٹ کھڑی ہو گئی اور آج گنگا بند کمرے سے غائب ہو گئی ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔"
ہمیں کچھ نہ کچھ کرنا ہو گا۔" ایک ادھیڑ عمر کے پجاری نے دبی زبان میں کہااس طرح تو مندر کی پوتر تا کا بھرم خاک میں مل جائے گا۔" ہاں جس پنڈت نے گنگا کی گمشدگی کی خبر لانے والے پجاری کو گرجدار آواز میں مخاطب کیا تھا، میری طرف قدرے ناگوار انداز میں دیکھ کر بولا۔ "ہم کالی کے سیوک ہیں، اس طرح ہاتھ پر ہاتھ دھرے خاموش تو نہیں بیٹھ سکتے۔"
"تمہارا کیا خیال ہے جو گی مہاراج!" بڑے پجاری نے براہ راست سیتارام سے دریافت کیا۔ کیا ہماری خاموشی کالی کی ناراضگی کا کارن بن جائے گی؟ اس نے کوئی سراپ دیا تو ہم سب کو بھوگنا ہو گا جبکہ غلطی ہم سب کی نہیں ہے۔ "
دیوی کا سراپ جس کو ملنا تھا مل چکا۔ " سیتارام کے کچھ کہنے سے پیشتر میں بول پڑا۔ گر دھر کے پاپ کی سزا اسے دی جا چکی ہے۔ اس شجھہ کام کو بھی کالی کے سیوکوں ہ کے بارے میں کیا کہو گے؟" بوڑھے پنڈت نے مجھے خشمگیں نظروں سے کر وہ بند کمرے سے کس طرح چھو منتر ہو گئی ؟
یہ بھی دیوی کا چمتکار ہو گا۔" میں نے پنڈت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ٹھرے ہوئے لہجے میں جواب دیا۔ ”شاید اس کی مہان شکتی نے محسوس کر لیا ہو کہ گردھر کے بچے کھچے ساتھی اس کی پوترتا کو پامال کرنے کے سپنے دیکھ رہے ہوں گے، اسی کارن کالی نے اسے اپنی شرن میں لے لیا ہو۔"سیتارام نے درمیان میں بول کر مجھے خاموش کرانے کی کوشش کی تھی لیکن اسی وقت سیوکوں نے آکر چائے کے برتن پروسنے شروع کر دیئے اس لئے بات آئی گئی ہو گئی۔ میں بدستور لا پرواہی سے جما بیٹھا رہا لیکن سیتارام کسی گہری سوچ میں مستغرق نظر آ رہا تھا۔
ناشتے کے بعد ہم کالی کے مندر سے رخصت ہوئے تو سیتا رام بظا ہر خوش نظر آ رہا تھا لیکن وہ اندر ہی اندر جھلس رہا تھا۔ بڑے پجاری اور دوسرے پنڈت پجاریوں نے بھی ہمیں روکنے کی کوشش نہیں کی، میں سمجھ رہا تھا کہ ہمارے جانے سے انہوں نے سکون کا سانس لیا ہو گا۔ گردھر کا عبرتناک انجام ان کے لئے قابل قبول نہیں تھا پھر گنگا کے غائب ہو جانے کی اطلاع نے جلتی پر تیل کا کام کیا تھا، وہ بھی اندر ہی اندر تلملا رہے تھے۔ مجھے خبر تھی کہ میں دونوں معاملات میں کامیاب ہوا تھا۔ درگا کا آشیر باد میرے ساتھ تھا، وشنو راج کے جاپ نے مجھے وہ طاقت بخش دی تھی جو بڑے بڑے پنڈت پجاریوں کو بھی مشکل سے نصیب ہوتی تھی۔ درگا نے مجھے احساس دلایا دیا تھا کہ میرے ہاتھ کی دسوں انگلیاں دیوی دیو ناؤں کی مہان شکتیوں سے لیس ہیں، وہ میری ہر خواہش کی تکمیل کر سکتی
تھیں۔ میں اپنی طاقت کا امتحان لے چکا تھا، مجھے صد فیصد کامیابی ہوئی تھی۔ گردھر کی جو درگت بنی تھی آپ اسے اس کے پایوں اور کالے کرتوتوں کی سزا بھی کہہ سکتے ہیں۔ کسی دھرم کے نام لیوا کا ایک نوجوان پجارن کے ساتھ مندر کے ایک کمرے میں تنہا پکڑا جانا کوئی معمولی بات نہیں تھی۔ گردھر کے اپنے ساتھی بھی اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ اس میں بہت سارے عوامل شامل ہو سکتے تھے، کئی وجوہات تھیں لیکن پجارن گنگا کا چار چار پجاریوں کی نگرانی کے باوجود غائب ہو جانا کوئی شعبدے بازی نہیں ے فرار میں کسی دیوی یا دیوتا کی مہان شکتی کا دخل ضرور ہو گا۔ میں نے وشنو مہاراج کے لئے اکیس دنوں کا جو جاپ کیا تھا اس میں درگا کی مرضی بھی شامل تھی۔ یہ
بھی ہو سکتا تھا کہ میرے جنتر منتر کے بیروں نے دروازہ کھول دیا۔ نگرانی پر معمور پجاریوں کے سامنے پردہ تان دیا ہو اور گنگا ان کے سامنے سے کولھے مٹکاتی نکل گئی ہو۔ شیطانی قوتیں کچھ بھی کر سکتی تھیں، میں جوگی سیتارام کی ماورائی طاقتوں کا مشاہدہ بھی کر چکا تھا۔ میں نے صرف پھریری لی تھی اور لوہے کی ہتھکڑی اور بیڑی کڑکڑا کر ٹوٹ گئی تھیں۔ سب ششدر رہ گئے تھے ، پولیس کی نفری نے میرے سامنے ہتھیار ڈال دیئے تھے ، گنگا کے فرار کے سلسلے میں بھی کچھ ایسی ہی نادیدہ قوتوں کا عمل دخل رہا ہو گا۔ جوگی سیتا رام کو بھی یہی تشویش لاحق ہو گی کہ اب میں اس کے ہاتھ سے نکلا جا رہا تھا اس نے میرے اوپر جو جال ڈالے تھے ان کی گرہیں ٹوٹنے لگی تھیں، میں نے ابھی تک کھل کر اس کے مقابلے پر آنے کی کوشش نہیں کی تھی لیکن وہ بچہ نہیں تھا جو حالات کی روشنی میں کوئی نتیجہ نہ اخذ کر سکتا۔ مہاویر کے کہنے کے مطابق وہ میرے ذریعے کوئی ایسی قیمتی شے حاصل کرنے کے چکر میں تھا جو میرے سوا کوئی حاصل نہیں کر سکتا تھا۔ میں سیتارام کے ہاتھ سے نکل جاتا تو اس کے سارے خواب ادھورے رہ جاتے، سب محنت اکارت ہو جاتی، اس کے کئے کرائے پر پانی پھر جاتا۔ وہ بڑا پرانا پاپی تھا اس نے بھی دیوی کے لئے یقیناً بہت سارے جاپ کر رکھے ہوں گے ، بڑے بڑے پجاری محض یوں ہی اس کی آؤ بھگت نہیں کرتے ہوں گے۔ اس نے بہت سوچ بچار کے بعد میرا انتخاب کیا ہو گا، سازشوں کے جال بچھائے ہوں گے۔ کچھ باتیں میرے علم میں آچکی تھیں، کچھ ابھی تک اندھیرے میں ہوں گی۔ اس نے کسی عیار اور مکار مکڑی کی طرح میرے چاروں طرف جالا بنا تھا پھر جب میری ساری قوت مدافعت کمزور پڑ گئی تو اس نے زہریلے پنجے میرے جسم میں گاڑ دیئے تھے، میں اس کے اشاروں پر چلنے کو مجبور ہو گیا تھا۔ سب سے پہلے اس نے مجھ پر جھرنا کے حسین جسم کا سنہری جال پھینکا تھا میں نے بچنے کی کوشش کی لیکن حالات نے گناہ کے راستے پر چلنے پر مجبور کر دیا۔ پھر میری ملازمت ہاتھ سے نکل گئی، مجھے جیل کی سزا بھگتنی پڑی، مجھے پر مظالم کے پہاڑ توڑے گئے۔ میں بے گناہ تھا اور گنگار مجھے سزا دے رہے تھے۔ رحیم الدین نے بھی وقت سے فائدہ اٹھا کر دو راستے سے نکال دیئے، تحمل بخاری کو اس کے اعمال کی سزا ملی، وہ حادثاتی موت مرا میں گیہوں کے ساتھ گھن کی طرح ظلم کی چکی میں پستا رہا۔ جو گی سیتارام پس پردہ بیٹھا ڈوریاں ہلا رہا تھا، اس کی شیطانی قوتیں ہمیں کٹھ پتلیوں کی طرح نچاتی رہیں پھر وہ
سامنے آگیا۔ میرا اعتماد حاصل کرنے کی خاطر اس نے رحیم الدین کو ٹھکانے لگوا دیا اس کی بے گناہ بیٹی کو میری ہوس کا نشانہ بنوا دیا۔ اس کی ماورائی قوتوں نے مجھے کسی خطرناک آکٹوپس کی طرح بیچ منجدھار میں جکڑ رکھا تھا، میں اس کے اشاروں پر چلتا رہا۔ مہاویر سے متھرا میں ملاقات نہ ہوتی تو شاید میں آخری وقت تک جوگی سیتارام کے خطر ناک کھیل کا مقصد نہ سمجھ پاتا، اندھیروں میں بھٹکتا رہتا لیکن اب حالات مختلف تھے۔ مجھے اس بات کا یقین نہیں تھا کہ میں ستیا رام کے مقابلے میں زیادہ قوتوں کا مالک بن جاؤں گا لیکن کالی کا جاپ کرتے وقت وہ درگا کی شکل میں میرے اوپر مہربان ہو گئی، اس نے مجھے وشنو مہاراج کا اکیس دن والا جاپ کرنے کا مشورہ دیا تھا یہ بھی کہا تھا کہ اس جاپ کا علم سیتارام کو نہ ہونے پائے اور اس بات کی تاکید بھی تھی کہ میں اپنی طاقت کو اس انداز میں سیتارام کے خلاف کبھی استعمال نہیں کروں گا کہ وہ موت سے ہمکنار ہو جائے۔ اس نےکھلے الفاظ میں مجھے باور کرایا تھا کہ سیتارام اس کے پرانے سیوکوں میں سے ہے۔ اس وقت وہی پر اسرار جوگی سیتارام اپنے خیالوں میں مستغرق تھا۔ اس کے ذہن میں متعدد پریشان کن خیال گڈمڈ ہو رہے ہوں گے۔ ہمالیہ کی برفانی پہاڑیوں کی گپھا میں اکیس دندا کا حساب اسے الجھا رہا ہو گا۔ در گانے میری مدد نہ کی ہوتی تو شاید وہ اصلیت کی تہہ جان لیتا اس نے بنارس کے مندر میں گردھر کی عبرتناک حالت دیکھ کر بھی میرے بارے میں ضرور غور کیا ہو گا۔ گنگا پجارن کے غائب ہو جانے کے پراسرار واقعہ کو بھی میری ذات سے نتھی کرنے میں اسے کوئی مشکل در پیش نہیں آئی ہو گی۔ سب ایک ہی زنجیر کی مختلف کڑیاں تھیں اس کے علاوہ میں نے واشگاف لفظوں میں جوگی سیتارام کو گردھر کے معاملے میں درمیان میں نہ آنے کی جو تاکید کی تھی اس نے بھی مہان جوگی کے کان ضرور کھڑے کئے ہوں گے۔ اس نے کئی موقعوں پر مجھے سمجھانے کی کوشش کی تھی لیکن میرا رد عمل جارحانہ دیکھ کر خاموش ہو گیا تھا۔ میں یہ بھی جانتا تھا کہ ہاتھی کی قیمت مرنے کے بعد بھی سوا لاکھ ہوتی ہے۔ سیتارام میرا گرو تھا اس نے مجھے ایک دو گر سکھائے تھے تو اس کے دوچار توڑ پہلے ہی سے ضرور سوچ لئے ہوں گے۔ وہ گھاگ آدمی تھا اس نے کچی گولیاں نہیں کھیلی ہوں گی۔ استادوں ضرور چھپا کر رکھا ہو گا جو آخری موقع پر استعمال کیا جاتا ہے۔ تجربہ کار تین چار گنا زیادہ طاقتور مچھلیوں کو بے بس کرنے کی خاطر شروع میں ڈھیل دیتے ہیں اور جب مچھلی تھک جاتی تو زور سے ڈوری کھینچ لیتے.

سیتا رام بھی خاموش تھا تو اس کے شیطانی ذہن میں مختلف خطرناک جال اور شکنج تشکیل پا رہے ہوں گے ، وہ یقیناً غور کر رہا ہو گا کہ کس وقت کون سا جال میرے لئے زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا تھا۔ اس نے بڑے پاپڑ بیلنے کے بعد مجھے تلاش کیا ہو گا، پرانا پاپی تھا تجربے کار کھلاڑی تھا، ہواؤں کا رخ پہچانتا تھا۔ اتنی آسانی سے میرے مقابلے میں اپنی ہار نہیں تسلیم کر سکتا تھا، خاص طور سے ایسی صورت میں جب در گانے مجھ پر یہ پابندی بھی
عائد کر دی تھی کہ میں اسے کوئی خطرناک سزا دینے کی کوشش کبھی نہیں کروں گا۔ ہم دونوں ہی اپنے اپنے خیالوں میں محو تھے۔ میں پنڈت رام کشن اور اس شے کے بارے الجھ رہا تھا جس کے حصول کی خاطر سیتارام نے میرے گرد نہ جانے کب سے سازشوں کے جال بننے شروع کر دیئے تھے اور سیتارام کی قوتیں بار بار میرے دل کا حال جاننے کی کوشش کر رہی ہوں گی، اسے ہر بار ناکافی کا سامنا کرنا پڑتا ہو گا۔ یہی مایوسی اس کے عزم کو اندر ہی اندر اور پختہ کر رہی ہو گی، وہ تنگ آکر یقیناً کوئی ایسا مضبوط جال پھینکنے کی کوشش کرے گا جس کی رسیاں میں نہ تڑا سکوں۔

جوگی - پارٹ 10

Urdu stories online, Urdu stories for kids, Short Urdu stories, Urdu Kahaniyan, Famous Urdu stories, Urdu stories with moral, Best Urdu stories collection, Urdu stories for students, Urdu love stories, Urdu horror stories, Urdu stories for reading, Urdu stories in Urdu text, Funny Urdu stories, Urdu stories for beginners, Urdu detective stories, Urdu motivational stories, Urdu stories for kids, Urdu moral stories, Urdu stories for children, Urdu true stories, Urdu suspense stories, Urdu emotional stories, Urdu adventure stories, urdu font stories,new stories in urdu, hindi moral stories in urdu,سبق آموز کہانیاں, ,good moral stories in urdu,Moral Stories,Urdu Stories,urdu kahani,اردو کہانی,قسط وار کہانیاں,
Reactions