Urdu Novels PDF - Urdu Novels Online
| قسط وار کہانیاں |
جوگی - قسط نمبر11
رائیٹر :انور صدیقی
وہاں دور دور تک کوئی آبادی نہیں تھی، مندر کی حالت دیکھ کر بھی ایسا ہی لگتا تھا جیسے بھولے بھٹکے ہی کوئی پنڈت پجاری ادھر کا رخ کرتا ہو گا۔ مندر کے اطراف خودرو جھاڑیاں نظر آ رہی تھیں، درمیان میں بمشکل اتنی جگہ تھی کہ ایک آدمی بچتا بچاتا مندر
تک پہنچ سکے۔مندر کے قریب پہنچ کر سیتا رام رک گیا اس کی آنکھیں مندر کے زنگ آلود کلس
پر جمی ہوئی تھیں۔
یہاں کیا لینے آئے ہو گرو! میں نے دبی زبان میں پوچھا۔ جواب میں سیتا رام نے مجھے اشارے سے چپ رہنے کی تاکید کی پھر وہ آہستہ سے جھک کر زمین پر اوندھا لیٹ گیا۔ میں حیرت سے اس کی ایک ایک حرکت کا جائزہ لیتا رہا۔ خاصی دیر تک وہ جھاڑیوں پر لیٹا کچھ سونگھتا رہا ایسا لگ رہا تھا جیسے اسے کسی خاص جڑی ہوٹی کی تلاش ہو۔ اس کے چہرے پر گہری سنجیدگی مسلط تھی، ہونٹ تیزی سے کسی منتر کا ورد کر رہے تھے پھر اچانک وہ تیزی سے اٹھ کھڑا ہوا اس کی نگاہوں میں ابھرنے والی چمک اس بات کی غمازی کر رہی تھی کہ اسے جس چیز کی تلاش تھی وہ اسے نظر آگئی تھی میری نظریں بھی اِدھر اُدھر بھٹکنے لگیں لیکن مجھے ایسی کوئی شے نظر نہیں آئی جس سے میں اس
کی کیفیت کا اندازہ لگا سکتا۔
سیتارام نے ایک ٹانگ زمین سے اٹھالی پھر کسی عجیب زبان میں کچھ بد بدانے لگا۔ " اس کے ساتھ ہی اس کا سیدھا ہاتھ بھی فضا میں بلند ہو کر دائرے کی شکل میں گردش کرنے لگا۔ وہ ایک ٹانگ پر کھڑا کسی جنتر کے بول بڑی روانی سے پڑھنے میں مصروف تھا اس کی نظریں مندر پر مرکوز تھیں۔
وقت کی رفتار جیسے تھم گئی تھی، مجھے ہول آنے لگا میرے ذہن میں کئی سوال ابھر رہے تھے لیکن میں نے سختی سے اپنی زبان بند کر رکھی تھی، میں سیتا رام کو گھورتا رہا پھر ۔ اس وقت میں خوف سے اچھل کر دو قدم پیچھے ہو گیا جب میں نے ایک گہرے سیاہ رنگ کے سانپ کو مندر سے نکل کر جھاڑیوں پر سرسراتے دیکھا اس کا رخ جوگی سیتارام ہی کی طرف تھا، وہ بار بار اپنا پھن اٹھا کر خطرناک انداز میں اپنی زبان پلپانے لگتا پھر دوبارہ غصے کیفیت میں بل کھاتا آگے بڑھنے لگتا، مجھے سانپ کی کوئی خاص پہچان نہیں ہے مگر میرا
اندازہ تھا کہ وہ کوئی خطرناک قسم کا کو برا تھا۔
↑
میرے دل کی دھڑکن تیز ہونے لگی لیکن جوگی کی کیفیت میں کوئی فرق نہیں آیا وہ بدستور ایک ٹانگ پر کھڑا اپنا عمل کر رہا تھا اس کی نظریں اب مندر کے بجائے سیاہ ناگ پر مرکوز تھیں، اس کی پلکوں نے جھپکنا بند کر دیا اس کی آواز بتدریج بلند ہو رہی تھی۔ میں دور کھڑا حالات کا جائزہ لیتا رہا پھر اس وقت میری حالت غیر ہونے لگی جب میں نے سانپ کو سیتارام کے قریب رک کر اپنا قد بلند کرتے دیکھا۔ ان دونوں کے درمیان بمشکل دو فٹ کا فاصلہ تھا۔ دھوپ میں سانپ کا رنگ چمک رہا تھا، زمین سے بلندی کے بعد وہ پھن کاڑھ کر فضا میں لہرانے لگا اس کی آنکھوں کی سرخی بڑھتی جا رہی تھی ، جوگی اپنی جگہ ڈٹا کھڑا منتر پڑھتا رہا۔ سیاہ ناگ کئی بار اسے ڈسنے کی خاطر پھن مار چکا تھا لیکن مجھے حیرت تھی کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکا۔ شاید جوگی کے منتر کے بیر درمیان میں حائل تھے، موت اور زندگی کا وہ بھیانک اور جسم کے رونگٹے کھڑا کر دینے والا خوفناک کھیل کئی منٹ جاری رہا۔ سانپ غضبناک ہوتا جا رہا تھا لیکن ابھی تک وہ جوگی کو ڈسنے کی کوشش میں ناکام ہی رہا تھا پھر جو منظر میری نظروں نے دیکھا آپ شاید اس پر مشکل ہی سے یقین
کریں گے۔ سیتارام نے منتر پڑھتے پڑھتے اچانک سیدھا ہاتھ بڑھا کر ناگ کے پھن کو پوری شدت سے دبوچ کر اپنی طرف کھینچا پھر منہ میں ڈال کر دانتوں سے کچلنے لگا۔ سانپ نے اپنا جسم سیتا رام کے جسم کے گرد لپیٹ دیا۔ دونوں کے درمیان خوفناک کشمکش جاری تھی سیتا رام نے سانپ کے سر کو چبا ڈالا اس کے منہ کی حرکت بتا رہی تھی جیسے وہ اسکی مرغوب اور من پسند غذا کھا رہا ہو، مجھے ابکائیاں آنی شروع ہو گئیں۔ سانپ کا جسم آہستہ آہستہ بل ڈھیلے کرنے لگا سیتا رام نے اس کا سر چبانے کے بعد کسی حقیر کیڑے کی طرح اس کے بے جان جسم کو جھاڑیوں پر اچھال دیا اور دیوانہ وار ناچنے لگا۔ اس کی خوشی قابل دید تھی، وہ دیوانوں کی طرح ناچ رہا تھا۔ میں سحرزدہ ہو کر اپنی جگہ بت بنا کھڑا رہا میں نے زندگی میں اتنا خطرناک اور ہولناک کھیل کبھی نہیں دیکھا تھا۔ میرے جسم کے سارے رونگٹے کھڑے تھے، موت اور زندگی کے اس بھیانک نانک نے مجھے گنگ کر دیا تھا میں سے پھٹی پھٹی نگاہوں سے جوگی سیتارام کو دیکھتا رہا جو پاگلوں کی طرح ناچ رہا تھا۔اب وہ اپنی کامیابی کا جشن اکیلے مناتا رہا پھر اس کی حالت معمول پر آنے لاب آیا تو مجھے یوں محسوس ہوا جیسے اس کی آنکھ کی دونوں پتلیوں میں وہی
سیاہ ناگ پھن کاڑھے لہرا رہا ہو۔
یہ یہ سب کیا تھا گرو! میں نے کپکپاتی آواز میں دریافت کیا۔ " آج جوگی کی ایک اور اچھا (خواہش پوری ہو گئی۔" اس نے خود کلامی کے انداز میں کہا۔ ” مجھے وشواس تھا کہ کالی مجھے نراش نہیں کرے گی۔"
لیکن میں نے کچھ کہنا چاہا سیتارام میری بات کاٹ کر بولا۔ تیرا گرو اور بلوان ہو گیا بالک! " سیتا رام خوشی میں نعرے بلند کرنے لگا" ” میری عقل خبط ہو گئی میں نے ہوش و حواس میں کھلی آنکھوں سے جو خوفناک منظر دیکھا تھا اگر آپ خواب میں بھی اسے دیکھتے تو شاید دہشت سے آپ کے دل کی دھڑکنیں رک جاتیں، وہ سب کچھ ناقابل یقین تھا لیکن میں اس کا چشم دید گواہ ہوں۔ گرو! میں نے خود پر قابو پاتے ہوئے حیرت سے پوچھا۔ ”کیا وہ سانپ زہریلا نہیں
་
ناگ کی شان میں ایسے شبد نکال رہا ہے مورکھ!" اس نے سنجیدگی سے جواب دیا۔ ”تو نہیں جانتا کہ میں نے آج دیوی کی کرپا سے کیا شکتی پالی ہے۔"
میں سمجھا نہیں۔"
ایک بات کا وچن دے . تو نے جو دیکھا ہے اس کا ذکر کبھی زبان پر نہیں میں وچن دیتا ہوں۔" میں نے سحر زدہ انداز میں اقرار کر لیا۔
میں نے جس کی مشکتی اپنے شریر میں اتار لی ہے وہ شیش ناگ تھا۔ " سیتا رام نے اپنے غلیظ ہونٹوں پر فاتحانہ مسکراہٹ بکھیرتے ہوئے کہا۔ ”بڑے بڑے سنیاسی اور پنڈت پجاری بھی جنگلوں میں بھٹک بھٹک کر جان دے دیتے ہیں لیکن شیش ناگ نہیں ملتا۔ مل بھی جاتا ہے تو وہ اسے قابو نہیں کر پاتے۔ ناگ کا زہر ان کے شریر کو گلا کر بھو سا کر دیتا ہے۔ سب دیوی کی کرپا ہے۔ اس کی دیا نہ ہو تو منش سپنوں میں بھی وہ نہیں سوچ سکتا جو میں نے کر دکھایا۔ “
کیا اب کوئی دوسری شکتی تم سے پنجہ نہیں لڑا سکتی؟" " سمے آنے دے بالک! پھر دیکھنا۔ پرنتو ابھی وشواس سے کچھ نہیں کہا جا سکتا، اس
دھرتی پر اپنے ایسے بلوان بھی موجود ہیں جو آنکھ اٹھا کر دیکھ لیں تو ہرا بھرا درخت بھی پل بھر میں جل کر راکھ ہو جائے، پھونک مار دیں تو پہاڑ رائی کی طرح اڑنے لگے پر تو تو ابھی ان باتوں کو نہیں سمجھ سکے گا۔ "
اب تمہارے کیا ارادے ہیں؟" میں نے دبی زبان میں پوچھا۔
اب جوگی سیتارام کی منو کامنا (دلی خواہش) اوش پوری ہو گی۔" وہ ٹھوس آواز میں بڑے اعتماد سے بولا۔ "کوئی شکتی اب میرا راستہ نہیں روک سکتی، میں اس انمول رتن کو پا لوں گا جس کا سپنا میں برسوں سے دیکھ رہا تھا۔"
اور اس شے کو پانے کی خاطر تم نے میرا انتخاب کیا تھا؟“ ہاں تیرے سوا اس دھرتی پر کوئی دوسرا اسے نہیں پاسکتا۔" بھی وہ چیز کس کے پاس ہے ؟" میں نے پوچھا۔
..
دھیرج رکھ جب سمے آئے گا تو تو بھی سب جان لے گا۔ " تمہاری گتھی میری سمجھ میں نہیں آتی گرو" میں قدرے الجھ گیا۔ کوئی نہ کوئی تو
ہو گا جو اس قیمتی شے کا مالک ہو گا۔"
اس کا مالک اس دنیا سے پرلوک سدھار گیا ہے۔ سیتا رام نے خلاء میں جھانکتے ہوئے کہا۔
گرو! میں نے اس کو وضاحت طلب نظروں سے دیکھا۔ اگر وہ رتن میرے قبضے تو تم اس کے مالک کیسے بن جاؤ گے ؟ تو اپنی مرضی سے اپنی خوشی سے وہ قیمتی چیز مجھے دان کر دے گا۔“ سیتارام کا لہجہ معنی خیز تھا اس کے ہونٹوں پر کھیلنے والی مسکراہٹ بے حد پر اسرار تھی۔ اور اگر میں نے انکار کر دیا تو ؟"
تو ایسا کچھ سوچ بھی نہیں سکتاکہ " وہ بڑے یقین سے بولا۔ ” وہی ہو گا جو جوگی
سیتارام نے سوچ رکھا ہے۔" وشواس گھاٹ (اعتماد) کو ٹھیس پہنچے تو منش کو کسی کل چین نہیں آتا۔ " میں نے دبی زبان میں قدرے ٹھوس لہجے میں جواب دیا تو سیتا رام نے مجھے تیز نظروں سے گھورا جسے وہ بات کی گہرائی تک پہنچا رہاہتا ہو کچھ دیر مجھے ٹکٹکی باندھے گھورتا رہا
↑
بالک! ایک منٹ کو آنکھ بند کر کے دوبارہ کھول لے پھر فیصلہ بعد میں کر لینا۔" میں نے اس کے کہنے کے بعد جب آنکھیں بند کرلیں، وشواس گھاٹ والی بات میں نے جان بوجھ کر کی تھی، میں اسے بتانا چاہتا تھا کہ وہ جس شدت سے مجھ پر اعتماد کر رہا تھا اس کے نتائج اس کی توقعات سے مختلف بھی ہو سکتے تھے۔ کل کیا ہونے والا تھا کوئی یقین سے نہیں کہہ سکتا تھا اس کے علاوہ بھی سیتا رام نے جس لب ولہجے میں مجھے اپنی طاقت کا احساس دلانے کی کوشش کی تھی وہ مجھے بھلا نہیں لگا تھا۔
میں ایک منٹ تک آنکھیں بند کئے خاموش کھڑا رہا پھر دوبارہ آنکھیں کھولیں تو حیرت سے اچھل پڑا سیتارام کا دور دور تک کوئی نام و نشان نہیں تھا۔ میں نے گھوم پھر کر دیکھا وہ کہیں نظر نہیں آیا، پھر میرے کانوں میں کسی کے تیز تیز سانسیں لینے کی آواز ابھری اور میں نے آواز کی سمت نظریں جھکا کر دیکھا تو حیرت سے اچھل پڑا۔ کچھ دیر پیشتر سیتارام نے جس سیاہ ناگ کا پھن چبانے کے بعد اس کے مردہ جسم کو جھاڑیوں پر پھینکا تھا وہی زندہ اور خطرناک انداز میں زمین پر تیزی سے بل کھا رہا تھا۔ میری نظر سانپ پر پڑی تو وہ پھن کاڑھ کر زمین سے ایک ڈیڑھ فٹ بلند ہو گیا۔ خوف کی سرد لہر میرے پورے وجود میں دوڑ گئی۔ میرے ذہن میں بزرگوں کی کمی ہوئی باتیں گونجنے لگیں۔ سانپ اگر سو سال کا ہو جائے تو اپنی جون بدل سکتا ہے۔ شاید سیاہ ناگ کا پھن چبا ڈالنے کے بعد سیتا رام نے بھی جون بدلنے کی ناقابل یقین قوت حاصل کر لی تھی۔ میں ابھی پھٹی پھٹی نظروں سے سانپ کو دیکھ رہا تھا جب سیتارام کی آواز میرے کانوں میں گونجی۔ اب آنکھیں پھاڑے کیا دیکھ رہا ہے؟ جو فیصلہ کرتا ہے ترنت (جلدی) کرلے۔ جس انمول رتن کو پانے کی خاطر میں نے برسوں انتظار کیا اس پر صرف میرا ادھیکار ہو گا تو جو سوچ رہا ہے اسے من سے نکال دے۔ جوگی سیتا رام نے تجھے چیلا بنایا ہے تو کچھ سوچ سمجھ کر ہی بنایا ہے۔ سیوک ہے تو سیوکوں جیسی باتیں بھی کر دور کی سوچے گا تو بڑے
خسارے میں رہے گا جیون سے ہاتھ بھی دھو سکتا ہے۔"
وہ شاید غلط نہیں کہہ رہا تھا۔ نظر آنے والے دشمن سے مقابلہ کرنا آسان ہے۔ دنیا کا کوئی قوی ہیکل پہلوان بھی ہواؤں سے مقابلہ نہیں کر سکتا۔ اس وقت بھی یہی صورت میرے پیش نظر تھی۔ جون بدلنے کے فوراً ہی بعد اگر سیتا رام نے سیاہ ناگ کی شکل میں تھے ڈس لیا ہوتا تو میں پلٹ کر پانی بھی نہ مانگ سکتا، پھر شاید میں بھی ایک لاش کی صورت میں مردہ سانپ کے ساتھ جھاڑیوں میں آڑا تر چھا پڑا ہوتا۔
کن وچاروں میں گم ہو گیا بالک! ابھی تو بڑے اونچے سروں میں راگ الاپ رہا تھا۔ " سیتارام کی آواز دوبارہ میرے کانوں میں گونجی وہ سانپ کی صورت میں سامنے فضا میں پھن پھیلائے لہرا رہا تھا۔ مجھے معلوم تھا کہ اس وقت وہ مجھے خوفزدہ کرنے کی کوشش کر رہا تھا، نئی قوت کا مظاہرہ کر کے آئندہ کے لئے اپنا غلام بنانا چاہتا تھا، میرے لئے وہ بڑا سنہری موقع تھا، میں تو نے وشنو مہاراج کا جاپ کر رکھا تھا، درگا نے مجھے اس کی طاقت کے استعمال کے کر بہت سارے طریقے اور جنتر منتر سے آگاہ کیا تھا۔ میں ایک منتر پڑھ کر پھونک مارتا تو سیاہ ناگ اور سیتا رام دونوں کا وجود جل کر راکھ ہو جاتا لیکن میں ایسا کرنے سے قاصر تھا، در گا نے سیتارام کے سلسلے میں مجھے محتاط روی کا مشورہ دیا تھا، میں خلاف ورزی کی کوشش کرتا تو اس کی شکتی میرے آڑے آ جاتی، میرے پاس مصلحت سے کام لینے کے سوا اور ا تو کوئی راستہ نہیں تھا، میں نے بڑی خوبصورتی سے بات نبھائی۔ ایک بات کہوں گرو! برا تو نہیں مناؤ گے۔"
"جو من میں ہے اگل دے، آج میں بہت خوش ہوں، تیری بھول چوک بھی معاف کردوں گا۔ " اس کے جواب میں تکبر تھا۔ میں نے تمہاری شکتی کا نیا روپ دیکھنے کے کارن جو چال چلی تھی اس میں کامیاب ہو گیا۔"
گرو کو چھل دینے کی کوشش کر رہا ہے؟“ سانپ نے لہرا کر کہا پھر زمین پر لوٹ پوٹ سیتا رام کے روپ میں کھڑا ہو گیا، سینہ تان کر بولا۔ " ابھی تو تو نے گرو کے ایک دو سوچ روپ ہی دیکھتے ہیں، ابھی سے چکرا گیا۔" میں اندر ہی اندر جھلس کر رہ گیا۔ ہم باتیں کرتے ہوئے دھرم شالہ آگئے۔ سیتارام ضرورت سے کچھ زیادہ خوش تھا، دھرم شالہ پہنچ کر اس نے بھنگ کے دو گلاس چڑھائے ۔ اور لمبی تان کر سو گیا۔ میں آنے والے کل کے بارے میں سوچنے لگا۔ جوگی نے جو کہا تھا اس کا مطلب بہت واضح تھا، اس نے صرف اپنا مقصد پورا کرنے کی خاطر مجھے راہ سے گمراہ کر کے اپنے جال میں پھانسا تھا۔ اسے یقین تھا کہ میں اس کی مطلوبہ شے حاصل کر کے خوشی خوشی اسے بطور تحفہ دے دوں گا پھر اس کے کہنے کے مطابق میں اگر
چاہتا تو اپنا راستہ بدل بھی سکتا تھا۔ گویا فی الحال میرا وجود میرے اپنے نہیں بلکہ جوگی سیتارام کے ہاتھ میں تھا، درگا کی عائد کردہ بندش نے مجھے اس کے ہاتھ میں کٹھ پتلی بنا دیا تھا۔
مجھے اس وقت جھرنا بڑی شدت سے یاد آئی' اس نے بھی سیتارام کے اشارے پر میرے ایمان کو متزلزل کر دیا تھا پھر وہ مجھے دل سے چاہنے لگی تھی۔ جب میں ڈھاکہ میں تھا تو اس نے کہا تھا کہ جب بھی مجھے اس کی کسی قربانی کی ضرورت پڑے گی وہ بے دریغ اپنی جان پر کھیل جائے گی۔ جیل سے گلو خلاصی حاصل کرنے کے بعد جب میرے رہنے کا ٹھکانا بھی چھن گیا اس وقت بھی وہی میرے کام آئی تھی۔ اس نے مجھے اپنی کمائی سے خریدے ہوئے بنگلے میں جگہ دی تھی، میری ہر طرح سے خاطر تواضع کی تھی۔ میں نے اس کے بدن سے کھیلنا چاہا اس نے خود کو میرے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔ شاید وہ مجھ سے پیار کرنے لگی تھی، میں ایک اشارہ کر دیتا تو وہ کرنل کو چھوڑ کر میرے ساتھ زندگی گزارنے پر بھی خوشی خوشی آمادہ ہو جاتی لیکن مجھے سیتارام کے کہنے پر اتنی جلدی میں ڈھا کہ چھوڑنا پڑا کہ میں اسے خدا حافظ بھی نہ کہہ سکا۔ ہو سکتا ہے اس نے میرے چلے آنے کے بعد مجھے بڑی شدت سے یاد کیا ہو؟ تنہائی میں کچھ دیر کے لئے میری یاد میں اس کی غزالی آنکھوں میں آنسو بھی چھلک آئے ہوں؟ یہ بھی ممکن ہے اس نے میری شان میں گستاخانہ جملے استعمال کئے ہوں؟ اس نے سوچا ہو کہ شاید دنیا کے سارے مرد کرنل ہی جیسے ہوتے ہوں گے، اس کے انتقام کے جذبوں میں اور طوفان آگیا ہو ؟ شاید میرے بعد اس نے طے کر لیا ہو کہ اب کسی اور مرد پر بھروسہ نہیں کرے گی؟
میں بڑی دیر تک جھرنا کے خوبصورت تصور سے کھیلتا رہا اس کے مخملی بالوں میں ہاتھ کی انگلیوں سے کنگھی کرتا رہا، اس کے رخساروں کو چومتا رہا، اس کے ہونٹوں کے گداز سے نشر کشید کرتا رہا، کبھی اسے اتنی شدت سے اپنے بازوؤں میں جکڑ لیتا کہ اس کی سانسیں گھٹنے لگتیں، وہ کسی پنچھی کی طرح پھڑ پھڑانے لگتی تو میں اپنی گرفت ڈھیلی کر دیتا۔ وہ مجھے شکایت بھری نظروں سے گھورتی پھر میرے سینے کی کشادگی میں پناہ حاصل کرنے کی
خاطر چھپ جاتی۔
میں جھرنا کے تصور سے کھیلتا کھیلتا کب نیند کی آغوش میں پہنچ گیا، مجھے کچھ یاد نہیں'تب ہی ایک جھونکا مجھے اپنے ریلے میں بہا کر لے گیا میں دنیا و مافیہا سے بے خبر ہو گی
پھر اس وقت چونکا جب سفید ریش بزرگ کی آواز میرے کانوں میں گونجی۔ کب تک بے خبری کی حالت سے دوچار رہے گا؟ کب تک گندی نالیوں میں چھپا چوپ کرنا پھرے گا؟ اپنے وجود کی پاکیزگی کو غلاظتوں سے آلودہ کرتا رہے گا؟ کبھی اس پنجرے سے باہر نکلنے کے بارے میں بھی غور کیا ہے جس کی تیلیوں کے درمیان بند ایک
کافر کے اشارے پر غٹرغوں غرغوں کر رہا ہے؟"
میں نے آنکھیں ملتے ہوئے بزرگ پر نظر ڈالی، اس کے چہرے پر جمال ہی جمال تھا پر پر لیکن آنکھوں میں نفرت اور حقارت کی چنگاریاں بیچ رہی تھیں۔ " مجھے احساس ہے کہ میں راستہ بھٹک گیا ہوں۔" میں نے اقرار کیا۔ "اپنی سطح سے بہت نیچے گر گیا ہوں۔" صرف احساس کے سہارے اپنے آپ کو کب تک فریب میں مبتلا رکھے گا۔
ملعون!"
میرے لئے فرار کے راستے مسدود کر دیئے گئے ہیں۔" میں نے عاجزی کا اظہار کیا۔ " آپ مجھے ہاتھ تھام کر صحیح راستے پر لگا دیں۔" میرا مشورہ مانے گا؟" پہلی بار بزرگ نے آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔
چوں چرا تو نہیں کرے گا؟"
آپ حکم دیں۔" میں نے تیزی سے کہا۔ ”میں انکار کی جرات نہیں کروں گا۔“ حالات کروٹ بدل رہے ہیں، اب بھی جتنی جلدی ممکن ہو اپنا نام بدل دے۔"بزرگ نے سنجیدگی سے کہا۔ ”مولوی فراست علی اور شوکت علی کی مناسبت سے برکت علی کا اسم مبارک اختیار کرلے، دو جانور بھی راہ حق میں قربان کر دے، اسی میں تیریبھلائی ہے۔"
میں آپ کے حکم کی تعمیل میں دیر نہیں کروں گا لیکن"
اس کافر جوگی سے نجات کا راستہ دریافت کرنا چاہتا ہے جس کے اشاروں پر گندگی کے دلدل میں اوندھے منہ گرا پڑا ہے۔ بزرگ نے میری بات کاٹ کر کہا۔ ”ہاں میرے عزیز! ہاں۔" میں نے گڑ گڑا کر کہا۔ ” آپ میرا ہاتھ تھام لیں تو ساری مشکل حل ہو سکتی ہیں۔
بزرگ نے کوئی جواب نہیں دیا، مجھے تیز نظروں سے گھورتے رہے ان کی انگلیاں
تسبیح کے دانوں پر چلتی رہیں۔
" آپ نے کوئی جواب نہیں دیا۔"
مشیت ایزدی کے سامنے جن و ملک سب بے بس ہیں۔" بزرگ نے گول مول انداز میں جواب دیا۔ ”جو اسے منظور ہے وہ ہو کر رہے گا، دنیا کی کوئی طاقت تقدیر کے لکھے کو بدل نہیں سکتی ، جوگی سیتا رام بھی خوش فہمی کا شکار ہے۔"
میں سمجھا نہیں ؟" میں نے وضاحت چاہی۔ آنے والا وقت بڑا کٹھن ہے۔ بزرگ نے تھوڑے توقف سے جواب دیا۔ ”نام کی تبدیلی کی بھنک کسی اور کو نہ ہو، جو قدم بھی اٹھانا سوچ سمجھ کر اٹھانا' اس کی رضا کو شامل حال رکھنا ورنہ پھر دوسرے امتحان میں بھی فیل ہو جائے گا۔" کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ کل کیا ہونے والا ہے ؟“ کفر کے کلمے زبان سے نکالنا چھوڑ دے مرد احمق!" بزرگ نے مجھے جلالی نظروں سے گھورا۔ "کل کیا ہونے والا ہے، صرف خدا کے کوئی نہیں جان سکتا، جو دعویٰ کرتے ہیں وہ کاذب ہیں، صرف اعمال پر نظر رکھ یہی آخرت میں کام آئیں گے۔"
"میرے محترم!" میں نے کچھ سوچ کر پوچھا۔ ”کیا آپ جانتے ہیں کہ جوگی سیتارام
کو کس شے کی تلاش ہے؟" سارے فساد کی جڑ رہی ہے لیکن میں زبان نہیں کھول سکتا ۔
اجازت نہیں ہے۔
” میری رہنمائی تو کر سکتے ہیں۔" میں نے پھر عاجزی کا اظہار کیا۔ مجھ سے مدد مانگ رہا ہے بد بخت!" بزرگ نے خفگی سے کہا۔ ”اس وقت تیری - عقل پر پردے کیوں پڑ گئے تھے جب قدرت تیرا امتحان لے رہی تھی۔ موت تو بر حق ہے تو نے موت سے ڈر کر ایک کافر کے ساتھ گٹھ جوڑ کر لیا۔ اب بھی خدا کے بجائے میرے آگے ہاتھ پھیلا رہا ہے؟" "شیطان نے مجھے صراط مستقیم سے بھٹکا دیا تھا۔" میں نے عذر پیش کیا۔ بکتا ہے۔ " بزرگ غصے سے تھر تھر کانپنے لگے۔ "کل تک گول دائرے کھینچ کھینچ کر دیوتاؤں کی چاپلوسی میں الم غلم خرافات بکتا رہا ان کے فریب میں الجھا رہا آج شیطان کی بات کر رہا ہے۔
میں اپنی ساری غلطیاں تسلیم کرتا ہوں لیکن میں نے کچھ کہنا چاہا بزرگ نے پھر میری بات کاٹ دی۔
"اگر مگر سے کام نہیں چلے گا ۔ وقت کا انتظار کر، تو نے مولوی فراست علی کی بھی قدر نہ کی اللہ کے اس برگزیدہ بندے نے تیرے ساتھ نیکی کی اور تو غفلت کا شکار ہو
گیا۔"
کیسی غفلت؟" میں نے حیرت سے پوچھا۔ "میں سمجھا نہیں۔"
بزرگ نے جواب میں کچھ کہنا چاہا لیکن اسی وقت سیتارام ہڑبڑا کر جاگ اٹھا۔ بزرگ نظروں سے اوجھل ہو گئے تو میری آنکھ بھی کھل گئی۔ سیتا رام مجھے بڑی معنی خیز نظروں سے گھور رہا تھا، ان نظروں میں تجس تھا
کس سے باتیں کر رہا تھا بالک!" اس نے سرسراتے لہجے میں دریافت کیا تو میرے دل کی دھڑکنیں تیز ہو گئیں۔ شاید اس نے میرے دل کا چور پکڑ لیا تھا۔ اس کا گہری نیند سے اچانک جاگنا بھی تعجب خیز تھا۔ جن نظروں سے وہ گھور رہا تھا اس سے بھی میں نے یہی اندازہ لگایا تھا کہ وہ میری طرف سے مشکوک ہو گیا ہے۔ ممکن ہے اس نے بزرگ سے نام گفتگو کرتے وقت میرے ایک دو جملے سن لئے ہوں۔ یہ بھی عین ممکن تھا کہ خود در گانے اسے بدلتے حالات سے آگاہ کر دیا ہو۔ اس نے کہا بھی تھا کہ جوگی سیتارام اس کا پرانا سیوک ہے۔ سیتارام کے مقابلے پر وہ مجھے کبھی ترجیح نہیں دے سکتی تھی۔ بزرگ کی آمد کی ضرور کھٹکی ہو گی۔ شیطانی قوتیں روز ازل سے رحمانی قوتوں کو نیچا دکھانے کی وسٹوں میں برسرپیکار ہیں۔ آج دنیا کی سیاست بھی اسی ڈگر پر چل رہی ہے۔ طاغوتی قوتیں سر جوڑے ایمان والوں کو تسخیر کرنے کی خاطر نت نئے نئے جال پھینک رہی ہیں۔ بہانے تراش تراش کر کمزور ممالک کو کفر کے جھنڈے تلے ہانکا جا رہا ہے۔ آپس میں گٹھ ے جوڑ ہو رہے ہیں، اپنی ہٹ دھرمی کو سچ ثابت کرنے کے لئے جھوٹ کے پلندوں سے کام لیا جا رہا ہے۔ بزرگ کو میری حمایت کرتا دیکھ کر در گانے بھی میری طرف سے نگاہیں پھیر
لی تھیں تو اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں تھی۔
خاموش کیوں ہے رتن کمار!" سیتا رام نے میری خاموشی محسوس کرتے ہوئے پوچھا، سوتے جاگتے کہاں گم ہو جاتا ہے، کن چکروں میں گھل رہا ہے؟"
جھرنا کو یاد کر رہا تھا۔ میں نے سنجیدگی سے جواب دیا
.." سیتا رام مسکرایا۔ "اس سندری کو ابھی تک نہیں بھولا جس نے "
تیرے دھرم کو بھرشٹ کر دیا تھا۔" گرو! کیا تم وشواس کرو گے کہ وہ اس دھرتی کی پہلی عورت تھی جس نے میرے
بدن کو چھوا تھا؟"
گرد کو چکر دینے کی کوشش کر رہا ہے۔" وہ پھر سنجیدگی سے مجھے گھورنے لگلہ "
سچ من کا بھید اگل دے ورنہ بہت پچھتائے گا۔ " مجھے تم سے جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت ہے؟" میں نے سنبھل کر قدرے سپاٹ جسے لہجے میں جواب دیا۔ سیتارام نے میرے لہجے کی تلخی محسوس کی تو بل کھانے لگا۔ اس کی آنکھ کی پتلیوں کے میں سیاہ ناگ پھر کنڈلی مارے بیٹھا نظر آ رہا تھا اس کے تیور خطرناک ہونے لگے۔ میں نے طے کر لیا تھا کہ اب اس کے مقابلے میں کم ہمتی اور بزدلی کا ثبوت نہیں دوں گا۔ بزرگ کر نے سچ کہا تھا کہ موت برحق ہے، اسے دنیا کی کوئی طاقت نہیں ٹال سکتی، تقدیر کا لکھا بھی ہر
ور
حال میں پورا ہوتا ہے ، پھر مجھے ڈرنے کی کیا ضرورت تھی؟ ہمارے درمیان خاصی دیر بڑی گھمبیر خاموشی طاری رہی، سیتارام کی تیز نظریں میرے وجود کا ایکسرے کرنے میں مصروف تھیں، میں خود کو لا پرواہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
" رتن کمار! میرے بچڑے بچے من سے آج جوگی کا ایک کہا مان لے۔ کہو۔"
ک
دھرم کرم اور سیاہ و سفید کے چکروں کو بھول کر میرا ہاتھ مضبوطی سے تھام لے پرنتو تیرے من میں کوئی کھوٹ نہیں ہونا چاہئے۔ میں وچن دیتا ہوں کہ تجھے ایسی ٹھوس - چٹان بنا دوں گا کہ دھرتی کی کوئی شکستی تجھے سے آنکھیں بھی نہیں ملا سکے گی۔ میرا سیوک بن جا سارا جیون عیش ہی عیش کرے گا۔ جھرنا تو چرنوں کی دھول بھی نہیں تھی، تو میری بھگتی کا وعدہ کر لے تو اندر کے سبھا کی اپسرائیں بھی تیرا من بہلانے کو آکاش سے زمین پر لگیں گی۔ منش ایک بار اپنے من کو مار کر مہان شکتی پراپت کر لے تو پھر اس کے کام آسان ہو جاتے ہیں۔"
تمہارا من بھی تو میری طرف سے صاف نہیں ہے؟" میں نے کچھ سوچ کر کہا
بار بار الجھنے لگتے ہو۔"
ہاں۔" وہ بے حد سنجیدگی سے بولا۔ ”میں تیری بات سے انکار نہیں کروں گا پرنتو
اس کا بھی کچھ کارن ہے۔"
"کیا کارن ہے ؟" میں نے جان بوجھ کر الجھنے کی کوشش کی۔
شانتی بالک! شانتی۔" وہ پہلو بدل کر بولا۔ ”میں تجھے بار بار بدکنے کا کارن بھی بتاتا ہوں۔" اس نے تھوڑے توقف سے اپنی بات جاری رکھی۔ پہلے میں تیرے من میں جھانک سکتا تھا تیرے دل کا بھید جان لیتا تھا لیکن اب درمیان میں اندھیرے پھیل جاتے ہیں، میں ان ہی اندھیروں کو کھوجنے کی کوشش کر رہا ہوں، جس دن یہ اندھیرے دور ہو
گئے ، میرا من تیری طرف سے اجلا ہو جائے گا۔" ہو سکتا ہے کالی کا جاپ کرنے کی وجہ سے... میں نے ایک معقول جواز پیش کرنا چاہا۔
نہیں رتن کمار! نہیں۔" وہ سنجیدگی سے بات کاٹ کر بولا۔ ”کالی کے جاپ کو درمیان میں مت گھیٹ، دیوی دیوتاؤں کے بارے میں تو مجھ سے زیادہ جانکاری نہیں
رکھتا۔ ہاں، اگر تو نے وشنو مہاراج کا جاپ کر لیا ہو تا تو اور بات تھی۔" میرا دل تیز تیز دھڑکنے لگا' در گانے بھی یہی کہا تھا کہ وشنو مہاراج کا جاپ پورا کرنے کے بعد سیتارام میرے دل کا بھید نہیں جان سکے گا اب سیتا رام بھی وہی بات دہرا شاید اسی وجہ سے وہ ابھی تک بار بار اکیس دنوں کے حساب کتاب میں الجھنے لگتا
"تمہارا کیا خیال ہے گرو! میں نے اسے بھٹکانے کی خاطر پوچھا۔ "کیا میں نے تم
سے چھپ کر وشنو کا جاپ کر لیا ہو گا؟" " نہیں۔" وہ بڑے اعتماد سے بولا۔ " تو ابھی اتنا بلوان نہیں ہوا ہے کہ میری نظروں سے چھپ کر کوئی کام کر سکے کوئی اور ہی بات ہو گی۔" اور کیا بات ہو سکتی ہے؟" میں نے معصومیت سے دریافت کیا۔
ابھی جلدی مت کر۔" وہ کسمسا کر بولا۔ ” سمے آنے دے، میں اپنے اور تیرے بیچ کو بھی دور کر دوں گا۔" میں نے کچھ سوچ کر کہا۔ "کبھی کبھی میرے من میں ایک عجیب خواہش پیدا ہوتی ہے کے میں کالی کے نام پر کچھ قربان کروں۔
میرا دل کرتا ہے کالی کے نام پر کچھ قربان کر دوں۔"کالی بھینٹ دینے والوں کو پسند کرتی ہے۔ سیتا رام نے میری آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا۔ " پر ابھی تیرا کالی کے مندر میں جانا ٹھیک نہیں ہے۔"کیوں؟
”میں ذرا پنڈت رام کشن سے دو دو ہاتھ کر لوں اس کے بعد میں تیرے ساتھ ایودھیا چل کر کالی کے چرنوں میں بھینٹ دوں گا۔" کیا بھینٹ دینے کا اور کوئی طریقہ نہیں ہے؟"
”اپنے من کی خوشی پوری کرنے کے لئے تو کالی کے نام پر دو بکرے کہیں اور بھی بھینٹ کر سکتا ہے۔وہ من کا بھید جانتی ہے، وہ تیری بھینٹ اوش سوئیکار کر لے گی۔" کیا دو بکرے ضروری ہیں؟“ میں نے خاص طور پر دو بکروں کے حوالے پر اپنا شبہ دور کرنے کی خاطر سیتارام کو ٹولنے کی کوشش کی، میں جاننا چاہتا تھا کہ کہیں وہ بزرگ کی آمد سے واقف تو نہیں ہو گیا تھا۔ تو نے نیند کی حالت میں دو بکروں کی ہی بات کی تھی اس لئے دو ہی کر ڈال۔“ اس نے مسکرا کر ایسے لہجے میں جواب دیا کہ میں اس کا بھید نہیں سمجھ سکا جس انداز میں وہ مسکرایا تھا وہ بھی مجھے کھٹکا تھا لیکن میں نے مزید کریدنے کی کوشش نہیں کی۔ میری خواہش پر دھرم شالہ کے مالک نے اسی وقت آدمی بھیج کر دو بکرے منگا دیئے ہیں میں نے انہیں اپنے ہاتھوں سے خدا کا نام لے کر قربان کیا اور بزرگ کی ہدایت پر اپنا نام برکت علی رکھ لیا۔ سیتارام بھی میری خوشی میں پیش پیش رہا۔ بکروں کی قربانی کے وقت وہ اپنے دھرم کے مطابق کچھ اشلوک پڑھتا رہا لیکن نہ جانے کیوں میرا دل اس کی طرف سے صاف نہیں ہوا۔ اس کا خاص طور پر دو بکروں کو قربان کرنے کا مشورہ رہ رہ کر مجھے الجھا رہا تھا۔ مجھے شبہ تھا کہ وہ بزرگ کا بھید جان چکا تھا لیکن کسی وجہ سے اس نے زبان نہیں کھولی تھی۔ شاید وہ اندھیرے میں رکھ کر کوئی چال چلنا چاہتا ہو گا۔ جو کچھ میں سوچ رہا تھا -وہ میرا وہم بھی ہو سکتا تھا۔ اس روز ہم نے دھرم شالہ میں ہی سارا وقت گزارا۔ کئی پنڈت پجاری سیتا رام سے ملنے کو آتے رہے، شاید پجاری پنا لال نے اس کے الہ آباد آنے کی خبر پھیلا دی تھی، یا کسی اور ذریعے سے لوگوں کو اس کے آنے کی بھنک مل گئی ہو۔ وہ رات بھی
سکون سے گزر گئی لیکن دوسری صبح ابھی ہم پوری طرح بیدار بھی نہیں ہوئے تھے کہ
دھرم شالہ کے مالک نے ہمیں جگا دیا۔ "مہاراج! اس نے ہاتھ باندھ کر کہا۔ ”میں تمہاری نیند خراب نہیں کرنا چاہتا تھا پر پنا لال کہہ رہا تھا کہ اسے جلدی ہے۔ وہ تمہارے لئے گنیش د کے مندر سے پنڈت کرم چندر مہاراج کا کوئی سندیس (پیغام) لایا ہے۔" پنڈت کرم چندر کا نام سن کر سیتارام کی نیند اچاٹ ہو گئی، وہ تیزی سے اٹھ بیٹھا۔ اس کی آنکھوں میں تجس جاگ رہا تھا۔ میں بھی کرم چندر کا نام سن کر چونکا۔ پنا لال نے پہلی ملاقات میں یہی اطلاع دی تھی کہ رام کشن گنیش کے مندر میں پنڈت کرم چندر کے ساتھ ٹھہرا ہے اور اب وہ کرم چندر کا پیغام لے کر سیتارام کے پاس آیا تھا، گویا رام کشن کو بھی سیتارام کی آمد کی اطلاع پہنچ چکی تھی۔ میں نے سیتارام کی طرف دیکھا، وہ کسی گہری سوچ میں مستغرق تھا اس کے تیور بتا رہے تھے کہ اس وقت اسے پنا لال کا آنا ناگوار گزرا تھا۔ تم کہو تو میں اسے ٹال دوں۔ دھرم شالہ کے مالک نے کہا۔ "کہہ دوں کہ دوپہر یا شام کو دوبارہ چکر لگا لے۔"
نہیں۔ سیتارام نے بڑے سرد لہجے میں کہا۔ ”بات اگر پجاری پنا لال کی ہوتی تو میں اس نیچ ذات سے ملنے کو انکار کر دیتا لیکن وہ پنڈت کرم چندر کا سندیس لے کر آیا ہے
اسے ضرور ملوں گا۔" گروا" میں نے سیتارام کے ساتھ اٹھتے ہوئے کہا۔ ”آج تو مجھے اپنے دل کی بھی حسرت پوری کر لینے دو کب تک ہاتھ باندھے تمہارے پیچھے پیچھے چلتا رہوں گا۔" چنا مت کر رتن کمار! میں تجھے شکتی آزمانے کا موقع ضرور دوں گا لیکن ابھی نہیں۔ سیتا رام نے بدستور سنجیدگی سے کہا۔ ”اس سے وہ کرم چندر کا سندیس لایا ہے اس لئے تیرا اس کا مچیٹا ( ٹکراؤ) ٹھیک نہیں ہو گا تو درمیان میں آگیا تو پھر کرم چندر کو بھی ایک بہانہ مل جائے گا، میں نہیں چاہتا کہ وہ میرے اور رام کشن کے بیچ آئے۔“ دھرم شالہ سے باہر آئے تو پجاری پنا لال ہمارا منتظر تھا، سیتارام کو دیکھ کر اس کے مسکراہٹ ابھری وہ بڑی معنی خیز تھی، اس نے جس انداز میں ہاتھ باندھا ہوا تھا وہ بھی چڑانے والا اور تضحیک آمیز تھا۔ سیتارام نے بڑے ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے دریافت کیا۔
اتنے سویرے کیسے آنا ہوا۔ کیا رات کو چین کی نیند نہیں آئی؟"میں تو ہمیشہ پاؤں پیار کر اور لمبی تان کر سونے کا عادی ہوں جو گی مہاراج!" پنالال نے بدستور الفاظ چباتے ہوئے جواب دیا۔ "تمہارے لئے پنڈت کرم چندر مہاراج کا ایک پیغام لایا ہوں، اسی بہانے صبح صبح تمہارے درشن بھی نصیب ہو گئے۔"کیا سندیس لایا ہے ؟" سیتا رام نے سپاٹ لہجے میں دریافت کیا۔
مہاراج نے تمہیں پر نام بھیجا ہے۔" پنا لال نے سنجیدگی سے کہنا شروع کیا۔ مہاراج کا کہنا ہے کہ وہ تمہارے اور رام کشن کے بیچ کوئی دنگا فساد پسند نہیں کریں گے۔ اگر تم اور رام کشن، مہاراج کی موجودگی میں بیٹھ کر آپس میں صلح صفائی کر لو تو زیادہ مناسب ہو گا۔".
میں پنڈت کرم چندر کو بڑا مانتا ہوں، اس کی عزت بھی کرتا ہوں لیکن رام سیتارام کی پیشانی شکن آلود ہونے لگی۔ ”میں اس گھمنڈی کے ساتھ صرف ایک ہی فیصلہ کر سکتا ہوں، وہ میری بات مان لے، میرا اس کا جھگڑا ختم ہو جائے
تھا۔اور اگر پنڈت نے تمہاری بات سے انکار کر دیا تو ؟"
” جب وہ انکار کرے گا تب دیکھا جائے گا۔ " سیتارام کی تیوری پر بل آنے لگے۔ میں محسوس کر رہا تھا کہ پجاری پنا لال جوگی سیتارام کو اشتعال دلانے کی کوشش کر رہا
ایک بار اور سوچ بچار کر لو جوگی مہاراج!" اس نے پھر مرچ مصالحہ لگا کر کہا۔ مجھے بھی جلدی نہیں ہے ، پنڈت مہاراج نے بھی رات تک تمہارا جواب مانگا ہے۔" تم مشورہ دینے والے کون ہوتے ہو ؟" میں چپ نہ رہ سکا۔ ”جو جوگی مہاراج نے کہا ہے وہی جا کر پنڈت کرم چند ر سے کہہ دو تمہاری چھٹی ہو جائے گی۔" تم کون ہو مہاشے!" پنا لال نے مجھے بڑی حقارت سے دیکھا۔ ”تمہارا شجھ نام نت کر سکتا ہوں؟" پنا لال" سیتا رام نے مٹھیاں بھینچ کر کرخت آواز میں کہا۔ " سوکھی لکڑیوں کو آنچ دکھانے کی بھول مت کر۔ خاموشی سے چلا جا اس میں تیری مکتی ہے۔"
↑
" تم جانو " پنا لال نے مجھے گھورتے ہوئے سیتارام سے کہا۔ "میں تمہارا سندیس پہنچا دوں گا لیکن ایک بنتی بھی کروں گا۔ اپنے جانوروں کے گلے میں پٹا ڈال کر رکھا کرو
اپنی اوقات میں رہ کر بات کر " سیتارام گرج کر بولا۔ ”دم دبا کر چلا جا نہیں
دو نہیں تو کیا کرو گے تم ؟ پنا لال نے بھی پھیلنے کی کوشش کی لیکن پھر جو کچھ ہوا
اس نے مجھے بھی چونکا دیا جوگی سیتا رام نے پنا لال کے منہ پر تھوک دیا، جس کے نتیجے میں پنا لال کا چہرہ جگہ جگہ سے سیاہ پڑنے لگا۔ ان سیاہ حلقوں پر بڑے بڑے آبلے بھی تیزی سے ابھرنے لگے۔ شاید شیش ناگ کے قاتل زہر کی تاثیر بھی سیتارام کے خون اور پسینے میں شامل ہو گئی تھی۔ اپنا یہ مکروہ چہرہ پنڈت رام کشن کو بھی ضرور دکھا دینا اسے بھی میرا سندیس پہنچ جائے گا۔ " سیتا رام نے سفاک لہجے میں کہا تو پنا لال چرہ ہاتھوں میں چھپا کر چیختا ہوا بھاگ گیا
دھرم شالہ کا مالک بھی بت بن گیا' اسے بھی جیسے سانپ سونگھ گیا تھا۔
بارود نے آگ پکڑ لی تھی۔ سیتا رام نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کر کے دشمن کو بھی مار کر دیا میں درمیان میں نہ بولتا، پجاری پنا لال مجھے لال پیلی نظروں سے نہ دیکھتا نازیبا جملہ استعمال نہ کرتا تو شاید بات بھی نہ بگڑتی۔ دوسری غلطی بھی پنا لال ہی کی تھی وہ سیتا سے بھی بھڑنے کی حماقت کر بیٹھا تھا۔ کچھ دیر تک سب ہی گم صم کھڑے رہے پھر دھرم شالہ کے مالک نے دبی زبان میں
کہا"سیتا رام! تم نے پنا کو کشٹ دے کر ٹھیک نہیں کیا، اس کا پولیس والوں کے ساتھ بڑا خاص یارانہ ہے، گنیش کے مندر جانے کے بجائے وہ سیدھا کو توالی ہے جائے گا۔" جو ہو گا دیکھا جائے گا۔ سیتارام نے بظاہر لا پرواہی سے جواب دیا مگر اس کے چہرے پر بھی تفکرات کے تاثرات پھیل کر گہرے
ہونے لگے تھے۔
پنا جو کچھ بھونک رہا تھا وہ سچ نہیں ہو گا۔" دھرم شالہ کے مالک نے اپنا خیال ظاہر کیا۔ " میں کئی بار پنڈت کرم چندر کے پر نام کی خاطر گنیش کے مندر جا چکا ہوں، دو بھلا مانس ہے، دوسروں کے جھگڑے میں کبھی ٹانگ نہیں پھنسا تا سب ہی اس کے گن گاتے ہیں۔"
" مجھے افسوس ہے گروا" میں نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے دبی زبان میں کہا۔
میں اگر درمیان میں نہ بولتا تو ... تو مجھے تجھ سے ہمیشہ شکایت رہتی۔ " سیتا رام بات کاٹ کر سنجیدگی سے بولا۔ اس بدذات نے تیرے گرو کا اپمان کیا تھا تو نے جو کچھ کیا غلط نہیں کیا جو ہوا اسے بھول جا.. اب جو ہو گا اس کی چنتا نہ کر۔" میں جا کر کھوج نکالتا ہوں، تم ادھر دھرم شالہ میں ہی نشچنت ہو کر آرام کرو۔"
دھرم شالہ کا مالک اپنا جملہ مکمل کر کے تیز تیز قدم اٹھاتا چلا گیا۔
..
سیتا رام واپس اپنے کمرے میں آگیا اس کے چہرے پر غور و فکر کے گہرے تاثرات مسلط تھے وہ ٹکٹکی باندھے خلاء میں گھور رہا تھا پھر اس نے اپنی آنکھ بند کر کے ٹھوڑی سینے سے لگا دی۔ اس کے ہونٹ تیزی سے حرکت کرنے لگے۔ میں خاموش بیٹھا اس کی ایک ایک حرکت کا جائزہ لیتا رہا۔ میرا ذاتی خیال تھا کہ سیتارام نے پنا لال کو جو سزا دی تھی وہ نامناسب تھی، خود سیتا رام نے اس بات کا اقرار کیا تھا کہ ادیتی کا جاپ کرنے والے کی شکتی ایرم پار ہوتی ہے۔ اسے علم تھا کہ پنڈت کرم چندر نے ادیتی جاپ کر رکھا تھا ایسی صورت میں اسے چھیڑ نا کسی طور مناسب نہیں تھا۔ رام کشن نے اگر اس کے ساتھ مندر میں پناہ لے رکھی تھی تو پھر کرم چندر اسے سیتارام کے ہاتھوں شکار ہوتا دیکھ کر خاموش بھی نہیں رہ سکتا تھا۔
میں ذہنی ورزش کر رہا تھا جب سیتا رام نے گردن اٹھا کر آنکھیں کھول دیں، بڑے اعتماد سے بولا۔
” میرا منتر ٹھیک ہی کہہ رہا تھا، پنا لال نے مجھے بھڑ کانے کے کارن الٹی سیدھی بات کہی تھی۔"
تم اتنے یقین سے کیسے کہہ سکتے ہو ؟" میں نے وضاحت چاہی۔↑
ه
میں ابھی پنڈت کرم چندر کے من میں جھانک رہا تھا۔ سیتا رام نے بڑے پرسکون لہجے میں جواب دیا۔ ”اس کے من میں میری طرف سے کوئی میل نہیں ہے۔ پنا نے جان بوجھ کر بات کا بتنگڑ بنا دیا بات کیول اتنی تھی کہ پنڈت کرم چندر نے مجھے بھوجن ساتھ کرنے کی دعوت دی تھی۔" تمہارا کیا خیال ہے کیا کرم چندر تمہارے اور رام کشن کے معاملے میں چپ بیٹھا رہے گا۔"
بیا کل کیوں ہو رہا ہے بالک! سمے آنے دے تجھے گرو کی شکتی کا اندازہ بھی ہو جائے گا، میں نے بھی کچی گولیاں نہیں کھیلی ہیں، جیون تیاگ کر دیوی دیوتاؤں کی بھگتی ہے اتنے جاپ کئے ہیں کہ اب یاد بھی نہیں رہا۔" گرو! میں نے کریدنے کی خاطر پوچھا۔ ”کیا تم نے بھی ادیتی کا جاپ کر رکھا سیتا رام نے فوراً ہی کوئی جواب نہیں دیا۔ مجھے دیکھ کر معنی خیز انداز میں مسکرانے لگا پھر اس سے پیشتر کہ ہمارے درمیان کوئی بات ہوتی ایک پولیس انسپکٹر چار مسلح اور باور دی سپاہیوں کے ساتھ تیزی سے اندر داخل ہوا۔ اس نے ریوالور پر اپنی گرفت مضبوط کر رکھی تھی، اس کے چاروں ماتحت بھی پوری طرح چوکس تھے۔" تم دونوں میں جوگی سیتارام کون ہے؟" انسپکٹر نے کرخت لہجے میں سوال کیا۔ سیتارام نے بڑے سکون سے جواب دیا۔ ”میں ہوں جوگی پنا لال سے واقف ہو ؟" انسپکٹر کے تیور اور بگڑنے لگے۔ "تم اپنے آنے کا کارن بیان کرو؟" سیتا رام نے اسے تیکھی نظروں سے دیکھا۔ آم کھانے سے مطلب رکھو، پیر گننے سے کچھ تمہارے ہاتھ نہیں آئے گا۔" میں تمہیں پجاری پنا لال پر قاتلانہ حملہ کرنے کے جرم میں گرفتار کرنے آیا ہوں۔“ انسپکٹر نے برہمی کا اظہار کیا۔
پنا لال سے میری بات خراب ہوئی تھی۔" میں درمیان میں بول اٹھا۔ گرو کا کوئی
روش نهیں" انسپکٹر نے مجھے تیز نظروں سے گھورا۔ تو تم بھی برابر کے شریک
↑
ه
جو کچھ کیا تھا میں نے کیا تھا۔ " میں اٹھتے ہوئے بولا۔ ”میں تمہارے ساتھ چلنے کو
تیار ہوں۔"
رتن کمار!" سیتارام نے مجھے حیرت سے گھورا۔ " یہ تو کیا اتاپ شناپ بکنے لگا؟" پولیس کی نظروں میں دھول جھونکنے کی کوشش مت کرو۔“ انسپکٹر نے گرج کر کہا۔ " تم دونوں کو میرے ساتھ کو توالی چلنا ہو گا، تمہیں جو کچھ کہنا ہے عدالت کے روبرو کہنا، سچ کیا ہے یہ پنالال کے بیان پر منحصر ہے۔" میرا خیال تھا کہ جوگی سیتارام گرفتاری دینے پر آمادہ نہیں ہو گا لیکن میرا اندازہ غلط کو ثابت ہوا۔ وہ انسپکٹر کی بات سن کر خاموشی سے اٹھ کھڑا ہوا اس کے ہونٹوں پر جو معنی خیر مسکراہٹ ابھری مجھے اس میں بھی کئی خطرناک طوفان مچلتے نظر آ رہے تھے۔ انسپکٹر نے اپنے ایک ماتحت کو اشارہ کیا وہ آگے بڑھا تو سیتا رام نے ہاتھ اٹھا کر بڑی نرمی سے کہا۔ تم بھی شانت رہو انسپکٹر ! اور جوگی سیتا رام کو بھی چھیڑنے کی غلطی مت کرو۔ ہم تمہارے ساتھ چلنے کو تیار ہیں لیکن ایک شرط پر۔ تم یا تمہارا کوئی کارندہ ہمارے شریر کو ہاتھ لگانے کی کوشش نہیں کرے گا۔"
”ورنہ کیا ہو گا؟" بات بگڑ جائے گی۔ " سیتا رام نے سرد آواز میں جواب دیا۔ ” تم نے عدالت کی بات کی ہے تو پھر سب کچھ عدالت پر ہی چھوڑ دو۔ زیادہ تیس مار خان بننے کی بھول مت کرو ہم لوہے کے کھلونوں سے نہیں ڈرتے سن رہے ہو میں کیا کہہ رہا ہوں؟" مجرم کو ہتھکڑی لگانا ہمارے فرائض میں شامل ہے۔ انسپکٹر نے سیتارام کے جواب پر تلملا کر کہا۔ ” تم نے مزاحمت کی کوشش کی تو ہمارے پاس اور بھی بہت سارے طریقے پانی موجود ہیں۔
کیا تمہیں ہماری زبان پر وشواس نہیں ہے؟ میں پھر بول پڑا۔ کر۔ تو چپ رہ بالک" سیتارام نے مجھے ٹوکا پھر انسپکٹر کو گھور کر بولا۔ "ہم پنڈت پجاریوں سے چھیڑ چھاڑ اچھی نہیں ہوتی، اپنے کھلونوں سے ہمیں ڈرانے کی کوشش مت کر کرو گے تو پھر ہمیں بھی ہاتھ پاؤں ہلانا پڑے گا۔"
پولیس کو دھمکی دے رہا ہے؟" ایک مسلح سپاہی نے کڑک کر کہا پھر اس نے تیزی سے را ئفل تان کر آگے بڑھنے کی کوشش کی تھی۔ سیتارام نے کچھ پڑھ کر اس کی طرف ہلکی سی پھونک ماری، سنتری ہوا میں قلابازی کھاتا ہوا دور جا کر گرا رائفل اس کے ہاتھ سے
نکل گئی۔انسپکٹر کے علاوہ دوسرے سنتری بھی ششدر رہ گئے۔ ہم نے کہا تھا نا انسپکٹر ! ہم سے چھیڑ چھاڑ اچھی نہیں ہو گی۔“ سیتارام نے انسپکٹر کو
سپاٹ لہجے میں مخاطب کیا۔ اب کیا وچار ہے؟" ٹھیک ہے۔" انسپکٹر نے ہونٹ چہاتے ہوئے کہا۔ ہم تم کو ہتھکڑی پہنانے کی کوشش نہیں کریں گے لیکن ایک بات تم بھی ذہن نشین کر لو اگر تم نے کوئی ڈرامہ کرنے کی غلطی کی تو پھر ہمیں بھی اینٹ کا جواب پتھر سے دینا پڑے گا۔
ہماری گرفتاری کا پروانہ ہے تیرے پاس؟" اچانک سیتارام نے ایک قانونی سوال کیا نہیں لیکن حالات کی سنگینی کے پیش نظر ہم بغیر وارنٹ بھی تمہیں گرفتار کر سکتے ہیں۔" انسپکٹر نے ایک معقول جواز پیش کیا۔ " پجاری پنا لال کا بیان' اس کے چہرے پر تشدد کے نشانات ہی تمہیں سزا دلوانے کے لئے بہت کافی ہوں گے۔" جاگتے میں سندر سندر سپنے دیکھ رہا ہے۔ شاید ابھی تک ہم جیسے بھگتوں سے . تیرا پالا نہیں پڑا۔ " سیتارام انسپکٹر کو گھورتے ہوئے بولا۔ ”اگر پڑا ہوتا تو اتنے بڑے بڑے شبد بولنے کی بھول کبھی نہ کرتا۔" ر فرش پر پڑا ہوا سنتری وردی جھاڑتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا اس نے رائفل اٹھا پوزیشن سنبھال لی تھی لیکن اب خوف اس کے چہرے سے عیاں تھا، دوسرے
سپاہی بھی خاموش کھڑے تھے۔
بول چکے اپنی زبان یا اور بھی کچھ کہتا ہے ؟" انسپکٹر نے لا پرواہی کا مظاہرہ کیا۔ ابھی تو نوجوان ہے بالک! قصور بھی تیرا نہیں، تیرے شریر میں دوڑتے ہوئے گرم گرم خون کا ہے لیکن جوگی کی ایک بات گانٹھ سے باندھ لے، دوبارہ کسی جوگی سے چھیٹر چھاڑ کرنے کی بھول کبھی مت کرنا کسی کی نظروں میں تیری طرف سے میل آگیا تو پھر بربادی ہونے میں دیر بھی نہیں لگے گی۔" میں نے بات ختم کرنے کی کوشش کی۔ اب جو بات ہو گی وہ عدالت میں ہو گی۔"
سیتا رام نے نظریں گھما کر میری طرف دیکھ پھر مسکراتا ہوا دھرم شالہ سے باہر آگیا جہاں جیپ کے ساتھ ایک وین بھی کھڑی تھی، دو مسلح سپاہی وین کے پاس بھی موجود تھے، ہمیں باہر نکلتا دیکھ کر وہ بھی چوکس ہو گئے۔ انسپکٹر نے ہمیں وین کے پچھلے حصے میں بیٹھنے کو کہا۔ سیتارام نے خاموشی سے اس کی بات مان لی۔ ہم وین میں سوار ہوئے تو دو مسلح سیاہی
ہمارے ساتھ پیچھے بیٹھ گئے، وین چل پڑی
۔سیتارام کسی گہری سوچ میں غرق تھا، اس کے چہرے سے کسی قسم کی پریشانی مترشح نہیں تھی، بڑا پُرسکون نظر آ رہا تھا لیکن میں محسوس کر رہا تھا کہ اس وقت بھی اس کا شیطانی ذہن حالات سے نبٹنے اور دشمنوں کو زیر کرنے کے منصوبے بنا رہا ہو گا۔ کوئی نہ کوئی گہری سازش ترتیب دے رہا ہو گا۔ میں اس کے ہتھکنڈوں سے خاصی حد تک واقف ہو کا تھا۔ وہ ٹھنڈی پالیسی پر عمل کر کے دور رس نتائج حاصل کرنے کا عادی تھا البتہ جہاں سیدھی انگلی سے نہ نکلے وہاں انگلی ٹیڑھی کرنے کے فن سے بخوبی واقف تھا۔ شکار کو اس طرح اپنے جال میں پھانستا تھا کہ وہ پھڑ پھڑانے کے سوا فرار کا کوئی راستہ تلاش نہ کر سکے میرے سلسلے میں بھی اس نے ایسی ہی حکمت عملی آزمائی تھی اور کامیاب رہا تھا۔ پنا لال کے منہ پر تھوکنے کے بعد اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا تھا لیکن کرم چندر کے من کا حال جانے کے بعد بڑا مطمئن ہو گیا تھا۔ اس وقت بھی اس کے چہرے پر پریشانی یا الجھن کے کوئی تاثرات نہیں تھے لیکن میں ضرور تلملا رہا تھا۔ جھرنا کے ساتھ کرنل کے اسٹوڈیو سے میرے گناہ کی جو داستان شروع ہوئی تھی اب کوتوالی تک پہنچنے والی تھی۔ پولیس مجرموں کو بدنام کرنے اور ان کی تشہیر کرنے سے کبھی دریغ نہیں کرتی پھر ایسے لوگوں کا معاشرے میں کوئی مقام باقی نہیں رہتا۔ میں بھی یہی غور کر رہا تھا کہ اگر بدنامی کا یہ داغ اج بھی میرے دامن پر آگیا تو میرا مستقبل بھی داؤ پر لگ جائے گا۔
اب چنتا کرنا چھوڑ دے شانت ہو جا رام بھلی کرے گا۔" میں سیتارام کی بات سن کر چونکا بہت عرصے بعد اس نے میرے دل کا چور پھر پکڑ لیا نا ممکن ہے کہ میرے چہرے کے تاثرات چغلی کھا رہے ہوں، میں نے سنبھل کر سیتارام کو غور سے دیکھا۔ پولیس والوں کے سامنے ایک بار خم ٹھونکنے کے بعد دوبارہ بزدلی یا گھبراہٹ کا اظہار مناسب نہیں تھا میں نے بڑی خوبصورتی سے بات بناتے ہوئے گھمبیر
لہجے میں کہا۔
چنتا کس بات کی کروا چنتا وہ کرے جس نے کوئی پاپ کیا ہو، دووشی ہو، ہم تو دیوی دیو تاؤں کی بھگتی کرنے والے ہیں۔"اچھا بولنے لگا ہے۔ سیتا رام مسکرا دیا۔ اسی طرح چپکا کر۔"راستے میں ہمارے درمیان اسی قسم کی بات ہوتی رہی، انسپکٹر ہمارے تیور بھی دیکھ کے چکا تھا اسے سیتارام کی شکتی کا بھی اندازہ ہو چکا تھا اس لئے اس نے سپاہیوں کو منع کردیا تھا کہ وہ راستے میں خاموش ہی رہیں۔ میں محسوس کر رہا تھا کہ ہماری باتیں سن کر دونوں پولیس والے بار بار کسمسا کر پہلو بدل رہے تھے لیکن انہوں نے گرمی دکھانے کی حماقت نہیں کی تھی۔ ہمیں اسی وقت ایک مجسٹریٹ کے سامنے پیش کر کے چار روز کا ریمانڈ حاصل کر لیا گیا۔ مجسٹریٹ ہندو تھا اس لئے اس نے پولیس کے اصرار کے باوجود ریمانڈ کی مدت بڑھانے کی بات نہیں مانی تھی۔ انسپکٹر تلملا کر رہ گیا۔ کوتوالی پہنچ کر وین رکی تو میں سیتا رام کا ہاتھ تھا کر نیچے اترا بہت سارے راہ گیروں کی نظریں ہماری سمت اٹھنے لگیں۔ میں لیے نے نظرس پھیر لیں۔ انسپکٹر کے حکم پر ہمیں سلاخوں کے کٹہرے کے پیچھے پہنچا دیا گیا۔ سیتا رام نے حوالات میں پہنچ کر اس طرح سکون کا لمبا سانس لیا جیسے اسے اپنی گمشدہ منزل مل گئی ہو پھر اس نے ایک لمحے کے لئے ماحول کا جائزہ لیا اور آلتی پالتی مار کر ننگے فرش پر
بیٹھ گیا۔
دو گھنٹے بعد ایک ڈی ایس پی سینہ تانے کوتوالی پہنچا تو سارا ما تحت عملہ چوکس نظر آنے لگا۔ ہمیں حوالات سے نکال کر اس کے سامنے ایک کمرے میں پیش کیا گیا۔ چار سنتری بندوق تانے ہماری پشت پر تعینات تھے لیکن سیتارام کے چہرے پر کسی قسم کی پریشانی کے تاثرات نہیں تھے۔ میں بھی خود کو نڈر ظاہر کرنے کی کوشش کرتا رہا۔ ڈی ایس پی صورت شکل سے ہی سخت گیر طبیعت کا مالک نظر آ رہا تھا۔ پولیس انسپکٹر بھی اس کے برابر ہاتھ باندھے کھڑا تھا، ڈی ایس پی بڑی دیر تک باری باری ہم دونوں کو گھورتا رہا، شاید ہمیں اپنی دہشت سے مرعوب کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ سیتارام نے گفتگو کی پہل کرنے کی غلطی نہیں کی لیکن اس کی نظریں بھی ڈی ایس پی کے ، پر ہی مرکوز تھیں۔
پجاری بنا لال کو جانتے ہو ؟" ڈی ایس پی نے جس کا نام کیلاش ناتھ تھا، گفتگو کا آغاز کیا
اس کا لہجہ دھمکی آمیز تھا۔
کیا۔
”ہاں وہ ہمارا پرانا سیوک ہے۔ " سیتا رام نے بڑے اطمینان سے جواب دیا۔ کوئی پرانی دشمنی تھی اس کے ساتھ ؟ کیلاش ناتھ نے تیور بدل کر دوسرا سوال
ہم پنڈت پجاریوں کے درمیان کوئی دشمنی نہیں ہوتی۔ " سیتا رام نے نرمی سے کہا۔ ”دشمنی وہاں جنم لیتی ہے جہاں من میں کوئی کھوٹ ہو ، منش کو کوئی لالچ ہو جو جیون
تیاگ دیتے ہیں انہیں دنیا والوں سے کیا لینا دیتا۔“
" تم نے پنا لال پر قاتلانہ حملہ کیوں کیا تھا؟" انسپکٹر بول چکا ہے اپنی زبان۔ " سیتارام نے انسپکٹر کو نفرت سے گھور کر جواب دیا۔
سچ کیا ہے اور جھوٹ کون بول رہا ہے اب اس کا فیصلہ عدالت ہی کرے گی۔" تم نے میرے سوال کا جواب نہیں دیا۔ کیلاش نے بید جھٹک کر قدرے سخت لجہ اختیار کیا۔ ڈاکٹری رپورٹ کے مطابق تم نے پجاری پنا لال کے چہرے پر تیزاب پھینکا تھا خود اس نے بھی یہی رپورٹ درج کرائی ہے۔"
”اس نے تیزاب پھینکنے کا کارن بھی ضرور بتایا ہو گا۔" سیتا رام مسکرا دیا پھر یکلخت اس کے لہجے میں کرختگی آگئی۔ "ہمارا سمے مت برباد کرو مہاشے! ہمیں جو کہنا ہے اب
عدالت ہی میں کہیں گے۔" تم دونوں عادی مجرم معلوم ہوتے ہو، شرافت سے زبان نہیں کھولو گے کیوں؟“ سیتارام نے کوئی جواب نہیں دیا غصے سے نچلا ہونٹ کاٹنے لگا۔ تم کچھ بھی کر لو جوگی مہاراج! مگر سزا سے نہیں بچ سکو گے۔“ کیلاش ناتھ الفاظ ہوئے طنزیہ انداز میں غصہ دلانے کی کوشش کی۔ سیتارام خاموش ہی رہا لیکن اس کی نظریں بدستور ڈی ایس پی کے چہرے پر جمی
رہیں۔تم بیان نہیں دو گے تو ہم اپنا من پسند بیان لکھ کر تمہارا انگوٹھا لگوانے کی شکتی بھی رکھتے ہیں۔ " کیلاش ناتھ نے بگڑے ہوئے تیور سے کہا۔ ”سنا تم نے، میں نے کیا کیا؟" شکتی کی باتیں مت کر مورکھ!" سیتا رام نے ترکی بہ ترکی جواب دیا۔ ”بات اگر شکتی کی شروع کی گئی تو پھر تیری لٹیا بھی ڈوب جائے گی۔،
جوگی - پارٹ 12
Urdu stories online, Urdu stories for kids, Short Urdu
stories, Urdu Kahaniyan, Famous Urdu stories, Urdu stories with moral,
Best Urdu stories collection, Urdu stories for students, Urdu love
stories, Urdu horror stories, Urdu stories for reading, Urdu stories in
Urdu text, Funny Urdu stories, Urdu stories for beginners, Urdu
detective stories, Urdu motivational stories, Urdu stories for kids,
Urdu moral stories, Urdu stories for children, Urdu true stories, Urdu
suspense stories, Urdu emotional stories, Urdu adventure stories, urdu
font stories,new stories in urdu, hindi moral stories in urdu,سبق آموز
کہانیاں, ,good moral stories in urdu,Moral Stories,Urdu Stories,urdu
kahani,اردو کہانی,قسط وار کہانیاں

