| قسط وار کہانیاں |
سفید محل - اردو کہانی قسط نمبر 18
تھوڑی دیر میں کامران نے تین پرندوں کا بھنا ہوا گوشت سلارا کی خدمت میں پیش کیا جسے سلارا نے بڑے مزے لے لے کر کھایا۔ جب سلارا نے تینوں موٹے تازے پرندے بہ آسانی ہضم کر لیے تو قامران نے مزید پیش کش کی.....
"راجکمار اور“
”نہیں بس............اور یہ مجھے راجکمار نہ کہو سلارا کہو“
”سلارا اب کچھ دیر آرام کیوں نہ کرلیا جائے۔" قامران نے کہا۔
"خیال تو برا نہیں لیکن ذرا مجھے مسئلے کاحل تو بتاؤ"
”میں کہہ چکا ہوں کہ کچھ وقت لگے....ذرا صبر سے کام لو"
تب سلارا نے زمین پر صبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے لیٹ کر آنکھیں بند کر لیں۔
پهر کامران بھی گھاس کے نرم بستر پر دراز ہو گیا اور سونے کی کوشش کرنے لگا. اور جلد ہی نیند کی آغوش میں چلا گیا۔
سوتے سوتے اس نے گھنٹیوں کی آواز سنی جیسے کوئی اونٹنی سوار بڑی تیزی سے اس کی طرف آرہا ہو۔
گھنٹیوں کی اس مانوس آواز پر وہ چونک کر اٹھ بیٹھا اس نے خود کو کسی خوشنما باغ میں پایا۔ قامران کی نظریں چاروں طرف اس اونٹنی سوار کو ڈھونڈنے لگیں۔
جب اچانک ہی وہ درختوں کے پیچھے سے کالے لبادے میں لپٹی برآمد ہوئی اونٹنی پر سوار۔ چاندکا پہلی مرتبہ صحرا سرخ میں اسے اسی طرح ملی تھی۔
پھر اس نے نزدیک آکر اونٹنی کو ٹھہرایا اور اس کی پیٹھ سے اتر کر قامران کی طرف بڑھی۔
اب قامران کنوارے بدن کی خوشبو صاف محسوس کر رہا تھا۔
چاندکا نے اس کے نزدیک پہنچ کر اپنے جسم سے کالا لبادہ نوچ لیا۔ اب وہ زرق برق لباس میں اس کے سامنے موجود تھی۔ کامران اسے اپنے نزدیک دیکھ کر کھل اٹھا۔
”چاندکا......مجھے اس وقت تمہاری بڑی ضرورت تھی اچھا ہوا جو تم آ گئیں۔"
”خیریت ہے۔“ چاندکا نے مسکراتے ہوئے کہا۔
”ہاں میں تو خیریت سے ہوں لیکن وہ کورام کا راجکمار بڑی مشکل میں ہے۔ ذرا اس کی مدو تو کرو“
”بات بتاؤ"
”کورام کے کھنڈرات سے ایک مجسمہ برآمد ہوا اور اس مجسمے کے عقب سے ایک اور مجسمہ برآمد ہوا۔ ایک پتھر کا تھا اور دوسرا گوشت پوست کا۔ اس گوشت پوست کے مجسمے کو دیکھ کر ہمارا راجکمار دل ہار بیٹھا۔ تب وہ لڑکی اس کے لیے چھلاوا بن گئی۔ وہ اسے وقفے وقفے سے مختلف جگہوں پر دکھائی دی لیکن صرف اسی کو....اس کے بتانے کے باوجود کوئی اور اسے نہ دیکھ پایا۔ یہ ایک بے حد عجیب بات تھی۔ ہزاروں سال پرانے مجسمے والی لڑکی کس طرح زندہ جاوید ہوسکتی تھی ایک عام آدمی کی سمجھ میں یہ بات نہ آئی۔ پھر اس کے عيار چچا نے اس صورت حال سے زبردست فائدہ اٹھایا راج گدی کے جائز حق دار کو پاگل ٹھہرا کر............خود راجہ بن بیٹھا اور اسے جنگلوں میں بھٹکنے کے لیے چھوڑ دیا...یہی ہے اس راجکمار کی مختصر کہانی“
”کہانی تو میں نے سن لی اب تم چاہتے کیا ہو؟“
"معلوم کرنا کہ وہ مجسمے والی لڑکی کون تھی....کیا وہ کوئی روح تھی تمہاری طرح....؟“ کامران نے سنجیدگی سے سوال کیا۔
”چند لمحے انتظار کرو میں دیکھتی ہوں کہ کیا مسئلہ ہے۔“ یہ کہہ کر چاندکا نے آنکھیں بند کر لیں اور زیر لب کچھ بد بدانے لگی۔ تھوڑی دیر میں اس نے آنکھیں کھولیں تو اس کے ہونٹوں پر معنی خیز مسکراہٹ تھی۔
کامران نے ایسے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
”وہ روح نہیں تھی۔“ چاندکا نے غیر متوقع انکشاف کیا۔
”کیسے ہوسکتا ہے۔ اگر وہ روح نہیں تھی تو سب کو کیوں نظر نہیں آتی تھی....؟“
”یہ ایک زبردست چکر ہے۔“ چاندکا نے کہا۔
”یعنی کوئی سازش “
”ہاں انتہائی گہری سازش، کڑوچ بے حد عیار آدمی ہے۔ پہلے اس نے بڑی ہوشیاری سے سلارا کے باپ کوختم کیا اور پھر خود اس کو دام میں پھنسا لیا۔“
”لیکن سلارا کا باپ تو مچان ٹوٹ جانے کی وجہ سے مرا تھا اور خود کڑوچ بھی اسی مچان پر موجود تھا“
”وہ مچان اس نے اپنی نگرانی میں بنوائی تھی اور کسی کو شبہ نہ ہو اس لیے خود بھی اسی مچان پر چڑھ کر بیٹھ گیا تھا۔ وہ مچان کے کمزور حصوں سے واقف تھا لہذا جب مچان ٹوٹی تو وہ درخت کی شاخوں سے لٹک گیا اور سلارا کا باپ سیدھا زمین پر گر کر اپنی کمر کی ہڈی تڑوا بیٹھا۔“
”ارے تم تو تمام باتوں سے واقف ہو۔“ قامران خوش ہوتا ہوا بولا۔ " چلو یہاں تک تو یہ بات سمجھ میں آ جاتی ہے۔ لیکن مجسمے اور لڑکی والی بات گلے سے نہیں اترتی۔ تم کہتی ہو کہ وہ روح نہیں تھی اگر روح نہیں تھی تو کیا وہ انسان تھی۔“
”میرا جواب اثبات میں ہے......“ چاندکا اپنی زلفوں کو پیچھے جھٹکتے ہوئے کہا۔ پھر کامران کو گہری نظروں سے دیکھنے لگی۔
”اس دنیا میں کوئی بات ناممکن نہیں........ جب میں تمہیں پوری بات بتاوں گی تو تمہیں فوراً یقین آ جائے گا۔ اب تم کورام جانے کی تیاری کرو اور سلارا کو اس کی راج گدی واپس دلاؤ۔۔۔“
”کیا یہ ممکن ہے؟“ قامران نے سوال کیا۔
”ہاں کیوں نہیں اس دنیا میں سب کچھ ممکن ہے۔ بس تمہیں تھوڑی سی محنت کرنا ہوگی.......تمام بات میں تمہیں بتائے دیتی ہوں۔ میرے بتائے ہوئے راستوں پر چلو گے تو کامیابي تمہارے قدم چومے گی۔ اب میں تمہیں بتاتی ہوں کہ بے چارے سلارا کے ساتھ کیا ہوا۔"
یہ کہہ کر چاند کا نے اسے مجسمے والی لڑکی کی کہانی بیان کرنا شروع کی۔ صدیوں پرانے مجسمے کا راز، چچا کڑوچ کی عیاریاں....غرض چاندکا نے وہ سب کچھ بتا دیا جس کی قامران کو ضرورت تھی
کامران چچا کڑوچ کے شیطانی ذہن کی کرشمہ سازی سن کر دنگ رہ گیا۔
ابھی وہ حیران ہو ہی رہا تھا کہ اس کی آنکھ کھل گئی۔
وہ چونک کر چاروں طرف دیکھنے لگا۔ چاندکا کا دور تک پتہ نہ تھا۔ اوہ یہ تو خواب تھا........قامران نے سلارا کے چہرے پر نظریں گاڑتے ہوئے سوچا جو بڑے مزے کی نیند لے رہا تھا ۔
پھر اچانک اس کے نتھنوں میں کنوارے بدن کی خوشبو در آئی۔ تب تامران گہرے گہرے سانس لے کر دھیرے سے مسکرا دیا۔
چاندکا تیری ہر ادا نرالی ہے
تھوڑی دیر بعد سلارا کی آنکھ کھل گئی۔ اس نے کامران کو اپنے نزدیک ہی کچھ سوچتے ہوئے دیکھا تو وہ فورا اٹھ کر بیٹھ گیا۔
”کیا ہوا کامران؟‘‘
”ابھی تو کچھ بھی نہیں ہوا............ہاں چند دنوں تک ضرور کچھ نہ کچھ ہو جائے گا... میں نے طے کرلیا ہے کہ تمہیں کورام کا راج پاٹ واپس دلاؤں۔ "
”تم مجھے کورام کا راجہ بناؤ گے... قامران تم نے تو ابھی کورام بھی نہیں دیکھا...وہاں پہچنا بھی آسان نہیں، چچا کڑوچ کا تختہ الٹنا تو دور کی بات ہے...........دوست تم تو مجھ سے بھی دو ہاتھ آگے نکلے۔ کورام کے لوگ مجھے ہی پاگل کہتے ہیں کیا تم بھی اسی صف میں کھڑے ہونا چاہتے ہو۔“ سلارا راج گدی کی واپسی کا ذکر سن کر واقعی پریشان ہوگیا۔"
”سلارا....قامران جو سوچ لیتا ہے وہ کر گزرتا ہے۔ میں تمہیں تمہاری کھوئی حکومت واپس دلا کر رہوں گا اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ غارت گر جس نے تمہاری راتوں کی نیند حرام کر دی ہمیشہ کے لیے تمہاری ہو جائے۔“ کامران نے مسکراتے ہوئے کہا۔
سلارا کے لیے تو راج گدی کی واپسی بھی مسئلہ بنی ہوئی تھی کہ اس غارت گر کے متعلق مژده جانفزا نے اس کے ہوش اڑا دیئے... وہ اٹھ کر کھڑا ہوا اور پھر کامران کے قدموں میں گرتا ہوا بولا۔
”دیوتا کے لیے کامران مجھ سے اتنا سنگین مذاق نہ کرو میں پہلے ہی بہت دکھ اٹھائے ہوئے ہوں۔“
”ارے ارے۔“ کامران نے اسے فورأ اپنے قدموں سے اٹھا لیا اور سینے سے لگاتا ہوا بولا ”سلارا کسی کو دکھ دینا میری زندگی کا مسلک نہیں اور جھوٹ بولنا میرا شیوہ نہیں............میں نے تم سے جو کچھ کہا ہے اس کا لفظ لفظ سچ ہے آنے والا وقت اس بات کی گواہی دے گا۔
”لیکن یہ سب کس طرح ممکن ہوگا۔“
سلارا کو کسی طرح یقین نہ آتا تھا اور یقین آنے والی بات بھی نہ تھی۔
”اب تم مجھ پر چھوڑ دو اور کورام چلنے کی تیاری کرو‘‘ کامران اسے کچھ بتانے کے لیے تیار نہ تھا۔
”لیکن میں کورام کا راستہ نہیں جانتا مجھے نہیں معلوم کہ وہ لوگ مجھے کہاں چھوڑ گئے ہیں رات کے اندھیرے کی وجہ سے میں راستہ نہ دیکھ سکا۔ سلارا نے بتایا۔
”کوئی بات نہیں کورام کا راستہ میں جانتا ہوں۔“ کامران نے ہنستے ہوۓ کہا۔
اچانک ہی قامران کے چہرے کی رنگت بدل گئی۔ اس نے بہت تیزی سے کمان میں تیر چڑھایا اور سلارا کی طرف سیدھا کیا۔
”کیا کرتے ہو؟“ سلارا کہتا ہی رہ گیا لیکن تیرکمان سے نکل چکا تھا۔
وہ تیر سلارا پر نہیں چلایا گیا تھا کسی اور پر چلایا گیا تھا اور کامران کو اتنی مہلت بھی نہ ملی تھی کہ وہ سلارا کو ہوشیار کردیتا۔
اگر اسے ہوشیار کرتا تو اس بات کے واضح امکانات تھے کہ سلارا اپنى جان سے ہاتھ بیٹھتا۔ ایک اڑنے والا سانپ اس پر حملے کے لیے پر تول رہا تھا۔ اس سے پہلے کہ وہ انتہائی زہریلا کا سانپ اس کی گردن میں اپنے دانت گاڑھتا کامران نے اس کا بروقت علاج کر دیا۔
تیر سلارا کے بالکل کان کے نزدیک سے گزرا۔ جب سالارا نے پلٹ کر دیکھا اور اسے اڑنے والا سانپ تیر میں پرویا ہوا دکھائی دیا تو اس نے بڑے تشکر سے کامران کی طرف دیکھا۔
”تم سمجھتے تھے کہ میں نے تیر تم پر چلایا ہے؟“ کامران نے ہنستے ہوئے کہا۔
”ہاں میں تو یہی سمجھا تھا۔۔۔۔؟“ سلارا نے سادگی سے کہا۔
”واہ رے راجکمار“ تب قامران نے ادھر ادھر ابلا کو تلاش کیا۔ تھوڑی تگ و دو کے بعد وہ دونوں اس کے نزدیک پہنچ گئے۔
کامران نے ابلا کے منہ میں لگام دی اور سلارا کی طرف اشارہ کرتا ہوا بولا۔
”راجکمار سلارا اس پر سوار ہو جاؤ“
”اورتم....؟“ سلارا نے سوال کیا۔
”میں اس گھوڑی کے ساتھ ساتھ بھاگوں گا"
قامران نے بتايا۔ ”نہیں...........یہنہیں ہوسکتا۔ ہم دونوں پیدل چلیں گے“
”اس طرح تو کورام پہچنے میں تمہیں کافی دن لگ جائیں گے۔ تم میری فکر نہ کرق۔ میری ٹانگیں بہت مضبوط ہیں۔ آؤ سفر کا آغاز کریں۔" قامران نے کچھ اس انداز سے کہا کہ سلارا آگے سے کچھ نہ کہہ سکا۔
وہ مجبوراً سوار ہو گیا اور ابلا کی پیٹھ پہ بیٹھ کر اس نے ایڑ لگا لی لیکن ابلا نے سلارا کو قبول نہ کیا۔ آگے ہونے کے بجائے دو پاؤں پر کھڑی ہوئی اور تیزی سے پیچھے ہٹی اور اچھل کود مچانے لگی۔
قامران ابلا کے عزائم دیکھ کر کانپ اٹھا۔ اس کی نظر کے سامنے فوراً وہ منظر گھوم گیا جب وہ پہلی بار ابلا پر سوار ہوا تھا۔ اس گھوڑی کی تاریخ بڑی خونی تھی اور اس نے سلارا کو اسی کی پیٹھ پر بٹھا کر سختی غلطی کی تھی۔ اس کا اسے پورا احساس ہوگیا۔ اب وہ سلارا کو کسی قسم کا گزند پہچے بغیر اس کی پیٹھ سے اتار لیناچاہتا تھا۔
اس سے پہلے کہ ابلا سلارا کواپنی ٹاپوں تلے روندتی، کامران نے اچھل کر اس کی لگام پکڑ لی۔ سلارا کو کودنے کا اشارہ کیا اور خود بڑے پیار سے اس کی گردن تھپتھپانے لگا۔
آخرسلارا بخیرو خوبی اس کی پیٹھ سے اتر آیا، اس کے اترتے ہی ابلانے اچھل کود بند کردی اور سیدھی کھڑی ہوگئی۔
”کامران.....! شاید تمھارے علاوہ کسی اور کا بیٹھنا اس گھوڑی کو پسند نہیں۔“ سلارا جھینپا جھینپا سا تھا۔
"یہ بڑی ظالم گھوڑی ہے۔ میرے ذہن میں یہ بات نہ رہی ورنہ میں تمہیں ہرگز اس پر سوار نہ کرتا......اب میں سائری دیوتا کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھے شرمندگی سے بچالیا۔“ کامران نے ابلا کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔
”اب کیا کیا جائے۔“ کامران سوچنے لگا۔
اتنے میں کہیں دور سے گھوڑے کے ہنہنانے کی آواز سنائی دی۔ کامران نے چونک کر اس طرف دیکھا۔ دریا کے کنارے اسے ایک سفید گھوڑا بھاگتا ہوا دکھائی دیا۔ کامران اس گھوڑے کو اس طرح بھاگتے دیکھ کر ایک لمحے کو حیران تو ہوا لیکن پھر اسے چاندکا یاد آ گئی۔
اس گھوڑے کو دیکھ کر کامران فوراً ابلا کی پیٹھ پر سوار ہو گیا اور چند ہی لمحوں میں اس نے بھاگتے ہوئے گھوڑے کواپنی گرفت میں لے لیا۔ پھر وہ واپس پلٹا اور گھوڑے کو تیزی سے دوڑاتا ہوا سلارا کے سامنے لے آیا اور ہنستا ہوا بولا ”سلارا۔۔۔۔۔! دیوتا تم پر بہت مہربان معلوم ہوتے ہیں، دیکھو انہوں نے تمہارے لئے کیا شاندار سواری بھیجی ہے۔
”لیکن یہ گھوڑا ہے کس کا....؟ ضرور اپنے سوار کو کہیں پھینک کر آیا ہے۔“ سلارا نے فکر مند ہوتے ہوئے کہا۔
”شکل سے تو ایسا معلوم نہیں ہوتا۔ بہرحال تم اس پرسوار ہو کر دیکھو‘‘ کامران نے اس کے ہاتھ میں لگام دیتے ہوئے کہا۔
سلارا جست لگا کر اس کی پیٹھ پرسوار ہوگیا اور سیدھا ہوتے ہی اس نے ایڑھ لگائی....گھوڑا پوری فرماں برداری سے چل پڑا۔
سلارا ایک لمبا چکر لگا کر واپس پلٹا۔
”گھوڑا تو ٹھیک ہے۔ لیکن ہمیں اس کے سوارکا پتہ لگانا چاہیئے۔“
سلارا ابھی تک اس کے سوار کے غم میں گھل رہا تھا۔
"سلار اپنی فکر کرو‘‘ کامران نے ابلا کو ایڑھ لگاتے ہوئے کہا۔ "آؤ“
اب مزید کچھ کہنے کی گنجائش نہ رہی تھی،
سلارا نے اپنے گھوڑے کو ایڑھ لگائی اور کامران کے پیچھے چل دیا۔
کامران کی شخصیت اس کے لئے بڑی پراسرار بنتی جارہی تھی۔ وہ طے نہیں کر پا رہا تھا کہ اس کے ساتھ کیا سلوک روا رکھے۔ آخر اس نے خود کو دریا کے دھارے پر ڈال دیا اور اپنے ہاتھ پاؤں سمیٹ لئے۔
سورج ڈوبتے ڈوبتے وہ ایک جانے پہچانے علاقے میں جا پہنچے۔ سلارا کو یہ دیکھ کر حیرت کی انتہا نہ رہی کہ وہ کورام کی حدود میں داخل ہو چکا ہے۔ ایک اجنبی اسے اس کے علاقے میں اس طرح لے آیا تھا جیسے وہ کورام کے چپے چپے سے واقف ہو۔
”میرا خیال ہے کہ اب تو تم نے اس علاقے کو پہچان لیا ہو گا۔“ کامران نے پوچھا۔
”اپنی دھرتی تو میں نے پچھان لی لیکن تم مجھے یہ بتاؤ کہ یہاں آخر کس طرح پہنچے؟“
”جب آدمی کو کچھ پانے کی لگن لگ جائے تو پھر راستے خود بخود کھلتے جاتے ہیں۔“ کامران نے درویشانہ انداز میں کہا۔
”اچھا“ سلارا نے سمجھ لیا کہ کامران اس سلسلے میں مزید گفتگو کرنے کے لئے تیار نہیں، اس لئے اس نے موضوع بدلا۔ ”اب کیا تم مجھے راج محل لے جانا چاہتے ہو؟“
”نہیں......اب اندھیرا ہو چلا ہے، آج کی رات ہم جنگل میں گزاریں گے۔ کل صبح میں تمہیں کسی جگہ لے جاؤں گا، وہ جگہ بہر حال راج محل نہیں ہوگی“
"پھر وہ جگہ کیا ہوگی؟ کچھ بتاؤ گے۔"
”ہاں بتا تو سکتا ہوں لیکن مزا کرکرا ہو جائے گا۔ بہتر ہوگا کہ تم صبح ہونے کا انتظارکرو پھر اپنی پسند کی چیز دیکھو گے“
”اپنی پسند کی چیز، میری پسند کی چیز کیا ہوسکتی ہے؟‘‘ سلارا نے سوچتے ہوئے کہا۔
کامران پھر ایسا بن گیا جیسے اس نے سلارا کی بات سنی ہی نہیں۔ وہ ابلا سے اتر کر کسی موزوں جگہ کی تلاش کرنے لگا جہاں بسیرا کیا جا سکے۔
ابھی اندھیرا ہی تھا۔ صبح ہونے میں خاصا وقت باقی تھا کہ کامران نے سلارا کو بیدار کر دیا ”چلواٹھو“
سلارا خاموشی سے اٹھ گیا۔ پھر وہ دونوں گھوڑوں پر سوار ہو کر ایک سمت چل دیئے۔ چلتے چلتے اجالا پھیلنے لگا۔
”کیا تم اس طرف پہلے بھی آئے ہو؟‘‘ کامران نے خاصا آگے جانے کے بعد پوچھا۔
”نہیں کبھی نہیں۔“ سلارا نے فورا جواب دیا۔
”اس کا مطلب ہے آگے جو چشمہ ہے وہ بھی تم نے نہیں دیکھا ہوگا۔“
”نہیں“ راجکمار سلارا نے مختصر جواب دیا۔
جب وہ چشمے پر پہنچے تو اچھی خاصی روشنی ہو چکی تھی۔ کامران نے چشمے کے کنارے پہنچ کر اطراف کا جائزہ لیا۔ پھر وہ سلارا کا ہاتھ پکڑ کر ایک چھوٹی سی پہاڑی پر چڑھنے لگا۔ گھوڑے انہوں نے نیچے ایک درخت سے باندھ دیئے تھے۔
کامران راستہ پہنچانتا بڑے اعتماد سے اوپر چڑھا جارہا تھا۔ سلارا اگر چہ تذبذب کے عالم میں تھا لیکن اس کی رفتار کامران سے کسی طرح کم نہ تھی۔ آخر اوپر پہنچ کر ہی دونوں نے سانس لیا۔
”آگے بہت محتاط ہو کر چلنا ہے۔“ قامران نے سلارا کو تنبیہہ کیا۔
"ٹھیک ہے۔“ سلارا کے سامنے بے شمار درخت ہی درخت تھے۔ اس نے چاروں طرف دیکھتے ہوۓ کہا۔
پھر وہ دونوں بڑے محتاط انداز میں چلتے گئے۔ بالکل اسی طرح جیسے آگے کوئی شیر بیٹھا ہو اور یہ لوگ چھپ کر دیکھنا چاہتے ہوں۔
تب اچانک ہی کامران کی نظر ذرا فاصلے پر ایک لڑکی پر پڑی جو بڑی جھومتی جھامتی کمر پر مٹکا رکھے تیزی سے نیچے اترتی جارہی تھی۔
جب قامران نے سلارا کو اشارہ کیا تو وہ لڑکی گھوم چکی تھی۔ اب چہرے کے بجائے اس کی پیٹھ دکھائی دے رہی تھی۔
’’ہاں۔“ سلارا اس کے اشارے کا مطلب نہ سمجھا۔ اس نے سوالیہ نگاہوں سے اس کی دیکھا۔
”اس لڑکی کو دیکھا۔“ کامران نے پوچھا۔
”نہیں.............کیوں خیریت تو ہے؟“ سلارا بولا۔
”آؤ...اس کا پیچھا کریں۔“ کامران نے اس کا ہاتھ پکڑتے ہوۓ کہا۔
”قامران..............میں ابھی یہ بات نہیں بھولا ہوں کہ میں راجکمار ہوں۔"
”یعنی...........یہ کہنا چاہتے ہو کہ لڑکیوں کا پیچھا کرنا تمہارا شیوہ نہیں۔“
”ظاہر ہے‘‘ سلارا کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔
”اور اگر لڑکی وہی ہو جس نے تمہاری راتوں کی نیندیں حرام کردی تھیں تو....؟“ کامران نے نازک سوال کیا۔
”تو میں اسے چھوڑوں گا نہیں‘‘ سلارا نے ہونٹ چباتے ہوئے کہا۔
”دیکھو سلارا...اس وقت تم میرے ساتھ ہو اور میں جو کچھ جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے۔لڑکی کا پیچھا کرکے اس کا چہرہ دیکھیں گے۔ اگر مجسمے والی لڑکی نکلی تو وعدہ کرو کہ اس کے پیچھے بھاگو گے نہیں ورنہ بنا بنایا کھیل بگڑ جاۓ گا۔“
"میری سمجھ میں نہیں آرہا کہ تم میرے ساتھ کیا کرنے والے ہو“ سلارا واقعی بڑی بے یقنی میں تھا۔
”میں صرف اس لڑکی کی شناخت چاہتا ہوں اور کچھ نہیں۔“
”یہ وہ لڑکی ہرگز نہیں ہوسکتی وہ تو میرے سوا کسی اور کو دکھائی نہ دیتی تھی۔“
”پہلے اس لڑکی کا چہرہ دیکھ لیں پھر بعد میں کوئی اور بات کریں گے۔ کہیں وہ نظروں سے اوجھل نہ ہو جائے۔
”چلو بھاگو“ سلارا نے کہا۔
پھر وہ دونوں محتاط انداز میں اس لڑکی کی طرف بڑھنے لگے۔ آخر ایک موڑ ایسا آیا کہ اس اس لڑکی کا چہرہ ان دونوں کے مقابل آ گیا۔
صرف چند لمحوں کے لیے اس کے بعد وہ پھر گھوم گئی۔
لیکن یہ چند لمحے سلارا پر قیامت توڑ گئے۔
اسکا چهرہ شدت جذبات سے تمتما اٹھا۔
”وہی ہے۔“ وہ چیخا۔
پھر اس نے کامران سے درخواست کی۔ "مجھے جانے دو“
”اپنا وعدہ یاد رکھو“ کامران نے اس کی کلائی مضبوطی سے تھام لی۔ "اگر تم نے ضبط سے کام نہ لیا تو بہت برا ہوگا۔"
”قامران.....! کیا تمہیں یہ اب بھی دکھائی دے رہی ہے۔
”ہاں، کیوں نہیں“
”تم پہلے شخص ہو جس نے پہلی مرتبہ میری آنکھوں پر اعتبار کیا ہے۔“ سلارا نے۔ جوش سے اس کا بازو دباتے ہوئے کہا۔
”لیکن تم مجھ پر اعتبار نہیں کر رہے ہو؟" قامران نے ہنستے ہوئے کہا۔
”کون کہتا ہے؟‘‘ سلارا نے ہونٹ بھینچتے ہوئے کہا۔
”پھر وعدہ کرو کہ میرے کہے ہر عمل کرو گے جوش میں نہیں آؤ گے“
”وعدہ کرتا ہوں۔“ سلارا نے اس مجسمے والی لڑکی پر نظریں گاڑتے ہوئے کہا جو اب خاصا
نیچے اتر گئی تھی۔
”اب آؤ میرے ساتھ۔" قامران نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔
اب وہ دونوں پھر سے اوپر چڑھنے لگے۔
سلا را مڑ مڑ کر اس لڑکی کو دیکھتا رہا اس وقت تک جب تک وہ نظروں سے اوجھل نہ ہو گئی
قامران اس کی بے قراری دیکھ کر مسکرتا رہا۔ تھوڑا سا اوپر چڑھنے کے بعد کامران کو آ خر وہ جھونپڑی نظر آ ہی گئی جس کی اسے تلاش تھی
اس جھونپڑی سے کھٹ کھ
ٹ کی آوازیں آ رہی تھیں جیسے کوئی ہتھوڑا چلا رہا ہو.....وہ دونوں تیزی سے اوپر چڑھنے لگے۔
اوپر پہنچ کر ان کی نظر سب سے پہلے اس آدمی پر پڑی جو بڑے انہماک سے ہتھوڑا چھینی لیئے ایک پتھر تراش رہا تھا۔
وہ ایک جسیم آدمی تھا۔ بازو کی ابھری ہوئی مچھلیاں اس کی سخت جانی کا پتہ دیتی تھیں۔ اسکے کے بال اس کے کندھوں پر پڑے تھے اور یہی حال مونچھوں اور داڑھی کے بالوں کا تھا...
اس نے دونوں کو دیکھتے ہی ہتھوڑا روک لیا اور تیز نظروں سے جائزہ لینے لگا۔
یہ دونوں بھی اسے دیکھتے ہوئے آگے بڑھتے گئے۔ جب یہ اس کے انکل نزدیک پہنچ گئے تو چند لمحوں کو کوئی کچھ نہ بولا۔
آخر قامران نے لب کھولے۔ "ہم مسافر ہیں سنگ تراش۔“
”وہ مجھے نظر آرہے ہو یہاں آنے کا قصد بیان کرو“ اس سنگ تراش نے انتہائی رکھائی سے پوچھا۔
”ہم بھوکے ہیں۔“ کامران نے مسکین سی صورت بنا کر کہا۔
”اچھا........تم ریماں کا انتظار کرو۔“ سنگ تراش نے پھر ہتھوڑا اٹھا لیا۔
”کون ریماں؟“
”میری بیٹی۔“
"وہ جو ابھی نیچے گئی ہے۔ مٹکی لیئے"
”تم لوگ اس سے ملے ہو؟“
”نہیں ہم نے اسے بہت دور سے دیکھا تھا‘‘
”اچھا ٹھیک ہے تم لوگ بیٹھو" سنگ تراش نے اگرچہ انہیں بیٹھنے کو کہا تھا لیکن لہجہ ایسا تھا جیسے کہا ہو ”واپس جاؤ"
”سنگ تراش اسے پہچانتے ہو؟“ کامران نے راجکمار سلارا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
”میں تو تمہیں بھی نہیں پہچانتا“ سنگ تراش کے لہجے میں تلخی تھی۔
”کیا یہ کورام کا علاقہ نہیں؟" قامران نے پوچھا۔
"ہاں ہے۔" سنگ تراش نے کہا۔
"کورام کے موجودہ راجہ کو تو جانتے ہو گ“
"ہاں جانتا ہوں۔“ لہجے میں وہی اکھڑ پن تھا۔
”کبھی تم اس سے ملے ہو؟“ میں آج تک نہیں ملا۔
پھر جو مجسمہ تم بنا رہے ہو کس کا ہے؟“
”تم کون ہوتے ہو پوچھنے والے“ سنگ تراش نے تیز لہجے میں کہا۔
”کسی نے ٹھیک ہی کہا ہے کہ فنکار سر پھرے ہوتے ہیں۔“ کامران نے ہنستے ہوئے کہا
اور پھر سلارا کا ہاتھ پکڑ کر بھاگا۔ ”سلارا.............یہاں سے فورا نکل چلو“ سلارا نے خاموشی سے اس کی تقلید کی۔
اس مرتبہ کامران نے نیچے اترنے کا وہ راستہ اختیار نہ کیا جس سے ریماں نے واپس آنا تھا۔ وہ ایک اور ہی راستے سے اترتا چلا جا رہا تھا۔
جب وہ دونوں سنگ تراش کی جھونپڑی سے خاصا دور نکل آئے تو سلارا نے کامران سے پوچھا۔ "تم بھوکے تھے تو وہاں سے بھاگ کیوں آۓ"
"تمہارے خیال سے مجھے ریماں کا انتظار کرنا چاہیے تھا؟‘‘ کامران نے سوال کا جواب سوال سے دیا
”ظاہر ہے۔“ سلارا نے بڑے کھوئے ہوئے انداز میں کہا۔
”وہ آتے ہی تمہیں پہچان لیتی۔ اس طرح بازی الٹ جاتی۔ میں نہیں چاہتا کہ وه تمہاری موجودگی یہاں محسوس کرے۔
"پھر تم مجھے یہاں کیوں لائے تھے؟“
"میں تم سے اس لڑکی کی شناخت چاہتا تھا۔"
”اسے میں نے نیچے ہی پہچان لیا تھا پھر اوپر جانے کی کیا ضرورت تھی۔ میں اس سنگ تراش کی ذرا شکل دیکھنا چاہتا تھا۔“
”بس۔“ سلارا بولا۔
"ہاں۔“ کامران نے ہنستے ہوئے کہا۔
”اب تمہارا کام ختم ہو چکا ہے۔ اب ہم واپس اپنے ٹھکانے پر چلتے ہیں۔ وہاں چل کر تمہاری رہائش کا انتظام کرتا ہوں اور ساتھ ہی کھانے پینے کا بندوبست بھی۔ پھر میں کورام کا رخ کروں گا اور جب میں واپس آؤں گا تو تمہارے لیے ڈھیر ساری خوشیاں میرے ترکش میں ہوں گی“
”اس کا مطلب ہے مجھے اکیلا جنگل میں رہنا پڑے گا۔“
”ہاں چند روز ضرور جنگل میں رہنا پڑے گا. پھر پورا کورام تمہارا ہوگا۔“
”اور ریماں“ سلارا کی بے قراری قابل دید تھی۔
”شاید وہ بھی پکا وعدہ نہیں.......ویسے محبت میں بڑا اثر ہوتا ہے۔ اگر تم سچے دل سے اسے چاہتے ہو تو اس آگ سے وہ کسی طرح اپنا دامن نہ بچا سکے گی۔"
"کامران میں اسے روح کی گہرائیوں سے چاہتا ہوں۔ اس سے ملنے کی آس ٹوٹی تو میں نے زندگی سے ناطہ توڑ لیا تھا۔ آج میں نے اسے پھر اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے۔ امید کے دیئے پھر سے جل اٹھے ہیں۔ اب میں اس کے لیے زندہ رہنا چاہتا ہوں........... میرا پل پل اب اس کی یاد میں گزرے گا“ سلارا نے بڑے جذباتی انداز میں کہا۔
سلارا کی بات سن کر کامران چلتے چلتے اچانک رک گیا اور سر کھجاتے ہوئے کچھ سوچنے لگا۔
”کیا ہوا؟‘‘ سلارا جو چند قدم آگے جا چکا تھا لوٹ کر واپس آیا۔
”تم گھوڑوں کے پاس پہنچ کر میرا انتظار کرو میں تھوڑی دیر میں وہاں پہنچا ہوں۔“ کہہ کر کامران اوپر کی طرف چل دیا۔
”اب اور کیا کرنے جا رہے ہو؟" سلا را پریشان ہو گیا۔
”میں آ کر بتاتا ہوں۔ تم چلو‘‘ کامران نے ہنستے ہوئے کہا اور بڑی تیزی سے درختوں کے جھنڈ میں غائب ہوگیا۔
سلارا کے پاس اب اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ جلد از جلد گھوڑوں کے پاس پہنچ جائے...............سو اس نے ایسا ہی کیا۔
ابلا اور اس کا گھوڑا اپنی اپنی جگہ بڑے اطمینان سے کھڑے تھے۔ تب سلارا ایک درخت کے تنے سے پیٹھ لگا کر بیٹھ گیا۔ اس وقت وہ بالکل خالی الذہن تھا۔ کامران نے اسے چکرا کر رکھ دیا تھا۔ اب وہ اس کے ہاتھوں میں کٹھ پتلی کی طرح تھا..........بے جان اور بے بس۔ اس کی سمجھ میں نہیں آیا تھا کہ وہ کیا کر رہا ہے۔ اور کیوں کر رہا ہے لیکن جو کچھ ہو رہا تھا اس نے اس کی آنکھیں کھول کر رکھ دی تھی۔ کامران اسے اسکے علاقے میں اس طرح لے آیا تھا جیسے وہ یہاں کا باسی ہو۔ پھر ریماں کا نظر آنا.....اس غارت گر کو تو وہ بھول ہی چکا تھا لیکن کامران نے مایوسی کے اندھیروں میں امید کے دیئے جلا دیئے تھے۔
یہ ٹھیک ہے کہ کامران کا رویہ پر اسرار تھا لیلن یہ اسرار دھیرے دھیرے کھلتے جا رہے تھے۔
سلارا ابھی ان سوچوں میں غلطاں تھا کہ اسے اپنے عقب سے نسوانی آواز سنی۔
”چھوڑ دو.........مجھے چھوڑ دو.......تم مجھے کہاں لیئے جا رہے ہو“
سلارا نے جب گردن گھمائی عجیب منظر دیکھا۔
کامران کے کندھوں پر ایک لڑکی مچل رہی تھی جو یقینا ریماں تھی۔
کامران نے سلارا کے نزدیک جا کر ریماں کو اپنے کندھے سے اتارا پھر اس نے اس کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیے اور رخ سلادرا کی طرف کیا۔
”اسے پہچانتی ہو۔" کامران نے اچانک اس کی آنکھوں سے ہاتھ بٹاتے ہوئے کہا۔
دونوں کی آنکھیں چار ہوئیں۔
”راجکمار تم“ ریماں اسے دیکھ کر حیران رہ گئی۔
”دیوتا کا شکر ہے اور اس بندے کا احسان کہ میں تمہیں اتنے نزدیک سے دیکھ رہا ہوں ورنہ تو میرے لیے چھلاوا بنی ہوئی تھیں۔ ادھر نظر آئیں ادھر غائب............ میری تلاش کے باوجود کہیں دکھائی نہ دیتیں....ریماں تم ایسا کیوں کرتی تھیں؟“
”راج کمار تم نے اپنی یہ کیا حالت بنالی؟" ریماں کے لہجے میں دکھ تھا اور اس کی نظریں اس پھٹے پرانے لباس اور پژمردہ چہرے پر پڑی۔
ابھی سلارا کچھ جواب نہ دینے پایا تھا کہ کامران کی آواز سنائی دی ۔ ”سلارا ... ریماں کو اپنے گھوڑے پر بٹھا لو اور یہاں سے نکل چلو" سلارا تیزی سے آگے بڑھا۔ اس نے ریماں کو سہمی ہوئی فاختہ کی طرح اپنے ہاتھوں میں اٹھا لیا....وہ بری طرح لرز رہی تھی۔ سلارا نے ریماں کو گھوڑے کی پیٹھ پر سوار کر دیا اور خود بھی فورا ہی سوار ہوگیا۔
تب قامران ابلا پر سوار ہو کر اس کے نزدیک آیا اور سخت لہجے میں بولا۔ ”اے لڑکی اگر تم نے چیخنے چلانے کی کوشش کی تو زندگی سے ہاتھ دو بیٹھو گی تمہاری خیریت تمہاری خاموشی میں ہے۔“
یہ کہہ کر کامران نے ابلا کو ایڑ لگادی ۔ وہ حسب معمول اپنے دو پاؤں پر کھڑی ہوئی اور پھر سر پٹ دوڑنے لگی۔
ریماں نے کسی قسم کا احتجاج نہ کیا۔ وہ سلارا کے ساتھ خاموشی سے بیٹھی رہی..... سلارا کا گھوڑا بھی اب ہوا سے باتیں کرنے لگا تھا۔
کامران جو ارا سے آگے نکل آیا تھا واپس پلٹا اور سلارا کو آگے رہنے کا اشارہ کیا پھر وہ دونوں ایک دوسرے کے پیچھے سفر کرتے اس جگہ پہنچے جہاں انہوں نے کل بسیرا کیا تھا
کامران نے دو تین گھنٹے کے اندر ان دونوں کے قیام و طعام کا انتظام کیا اور پھر کورام کی طرف چل پڑا۔
سلارا سے اس نے کہا تھا کہ وہ جلد لوٹ آئے گا۔ ریماں کی حفاظت اب اس کی ذمہ داری ہے
ابلا کی برق رفتاری نے مسافت کی کٹھن اور منزلیں بڑی آسان کردی' وہ توقع سے کہیں پہلے کورام میں داخل ہوگیا۔ ابھی وہ آبادی کے اندر نہ گیا تھا کہ اس نے سامنے دھول اڑتی دیکھی۔ چند لمحوں بعد جب بادل چھٹے تو کامران نے ایک گھوڑا گاڑی بڑی تیزی سے اپنی طرف بڑھتے بھی۔ اس گاڑی میں گھوڑے جتے ہوئے تھے۔ پھر جلد ہی وہ گاڑی اس کے نزدیک سے گزر گئی۔ کامران سڑک سے ذرا ہٹ کر کھڑا ہوا تھا کے گاڑی آسانی سے نکل جائے۔ کامران نے ابلا کو ایڑ لگانے سے پہلے پیچھے مڑ کر دیکھا۔ وہ گاڑی آگے جا کر رک گئی تھی او اس میں سے ایک سپاہی کود کر کامران کی طرف بڑھ رہا تھا۔ کامران نے اپنا رخ اس آدمی کی طرف کر لیا جو چہرے مہرے سے سپاہی دکھائی دیتا تھا۔ وہ ہانپتا ہوا کامران کے نزدیک پہنچا اور اپنی سانسیں بمشکل قابو کرتا ہوا بولا۔
”اے تیرکمان والے نوجوان تمہیں سالار بلاتا ہے۔“
"سالار...کورام کا سالار؟" قامران نے پوچھا۔
"ہاں کورام کا سالار۔“ اس سپاہی نے جواب دیا۔
تب تامران نے ابلا کو ایڑ دی اور طوفانی انداز میں اس گھوڑا گاڑی کے پاس جا پہنچا۔ گھوڑا گاڑی میں بیٹھے اس بڑی بڑی مونچھوں والے شخص کو کامران نے، اور گھوڑی پر سوا اس سجیلے نوجوان کو سالار نے بغور دیکھا۔
”نو جوان! تم کون ہو؟ اور کہاں جارہے ہو؟“ آخر سالار نے گفتگو کا آغاز کیا۔
"میرا نام کامران ہے سالار.......... میں راجکمار سلارا کا دوست ہوں اور ان سے ملنے جا رہا"
"راجکمار سے ملنے تم غلط جگہ آ گئے ہو نوجوان.......... وہ کورام میں کہاں؟ اسے تو کسی جنگل میں تلاش کرو............دیوانوں کا ٹھکانہ تو جنگل ہی ہوتا ہے....‘‘ سالار نے بلا وجہ قہقہہ مارتے ہوئے کہا
”میں سمجھا نہیں سالار" کامران نے بڑے بھولپن سے کہا۔
"راجکمار پاگل ہو گیا تھا اسے جنگل میں چھڑوا دیا گیا ہے۔"
"اوہ بہت برا ہوا۔‘‘ کامران نے تاسف سے کہا۔
"نوجوان تمہاری راجکمار سے کہاں ملاقات ہوئی تھی؟" سالار نے کامران کو تیز نظروں دیکھتے ہوئے پوچھا۔
"میری ان سے ملاقات ایک شیر کے شکار کے موقع پر ہوئی تھی۔" قاصران نے فورا سفید جھوٹ بولا۔
"نوجوان....! اب تم کیا کرو گے؟"
"سمجھ میں نہیں آتا کیا کروں؟ میں اتنا طویل سفر طے کر کے آیا ہوں کہ واپسی کی ہمت نہیں لیکن اب واپس ہی جانا ہوگا۔" کامران نے بڑی مایوسی سے کہا۔
"نہیں نوجوان ہم تمہیں اتنی جلدی واپس نہیں جانے دیں گے۔ چند دن کو رام میں رہو سفر کی تھکن اتر جائے تو واپس چلے جانا‘‘ سالار نے بڑی نرمی سے کہا۔
یہ عنایت اگر چه قامران کے لیے خلاف توقع تھی لیکن اس نے اسے بہت غنیمت جانا۔ اگر سالار اسے کورام سے واپس جانے کو کہہ دیتا تو کامران کی راہیں بہت دشوار ہو جاتی۔
"میں آپ کا بے حد ممنون ہوں۔‘‘ کامران نے خوش ہوتے ہوئے کہا۔
"نوجوان.....! تم راج محل کے دروازے پر میرا انتظار کرو، میں جلد ہی وہاں پہنچ جاؤں گا۔"
"ٹھیک ہے۔‘‘ قامران نے کہا۔
پھر سالار کی گھوڑا گاڑی آگے چلی گئی جبکہ کامران نے مخالف سمت میں آگے بڑھنا شروع کیا۔
آبادی میں داخل ہوتے ہی اسے راج محل کی بلند و بالا عمارت نظر آئی۔ ابھی وہ راج محل کے سامنے پہنچ کر ابلا سے اترا ہی تھا کہ اسے چاروں طرف سے سپاہیوں نے گھیر لیا اور ان کا رویہ دوستانہ ہرگز نہ تھا۔
کامران کو گرفت میں لے کر الٹے سیدھے سوالوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ تم کون ہو....کہاں سے آئے ہو....اور کیوں آئے ہو؟ اسی طرح کی اور دوسری باتیں۔ ہر سپاہی کچھ نہ کچھ پوچھ رہا تھا اور قامران ان سب کے منہ تک رہا تھا کہ یہ لوگ اپنی زبان کو لگام دیں تو وہ کچھ بولے۔
کامران کی خاموشی نے آخر ان سب کو خاموش رہنے پر مجبور کردیا۔ تب قامران نے لب کھولے۔
"کورام کے سپاہیو........... مجھے تمہارے سالار نے یہاں بھیجا ہے۔"
"سالار نے؟‘‘ ہر کسی کے چہر ے حیرت زدہ رہ گئے۔
سپاہی اپنے رویے کی معافی مانگنے لگے۔
کامران ان احمقوں پر اندر ہی اندر ہنسا۔ پھر سنجیدگی کا لبادہ اوڑھ کر بولا "کورام کا راجہ اس وقت کہاں ہے؟“
ابھی وہ سپاہی کچھ جواب دینے ہی والا تھا کہ ایک گھوڑا گاڑی اس کے نزدیک آ کر رکی۔ اس گاڑی کو دیکھتے ہی سارے سپاہی ایک قطار میں کھڑے ہوگئے۔
گاڑی سے سالار نکلا۔ اس نے کامران کو دیکھ کر ہاتھ کے اشارے سے اپنے پاس بلایا ایک سپاہی سے تحکمانہ انداز میں بولا۔
"اس نوجوان کی گھوڑی کو اصطبل پہنچا دو"
سپاہی نے فورا ابلا کی لگام تھام لی اور اسے ایک طرف لے کر چل دیا۔
پھر سالار قامران کو اپنے ساتھ لیے آگے بڑھا اور راج محل کی سیڑھیاں چڑھتا ہوا بولا۔
"کیا یہ مکن ہے کہ تم ہمارے ساتھ شکار پر چلو۔“
"کیا کورام کے راجہ شکار کھیلنا چاہتے ہیں؟"
"ہمارے راجہ کو تو شکار سے کوئی خاص دلچسپی نہیں۔ میں اگر اسرار کروں تو ممکن ہے کہ جانے کے لیے تیار ہو جائیں...........اس وقت تو میں اپنی بات کر رہا تھا............مجھے شکار سے بہت دلچسپی ہے. اور وہ بھی شیر کے شکار سے تم مجھے ایک بہادر اور نڈر نشانے باز دکھائی دیتے ہو۔ اس لیے میں نے سوچا کہ تمہارے ساتھ شکار کا لطف کیوں نہ اٹھایا جائے۔"
”مجھے کوئی اعتراض نہیں......ویسے اگر وہ بھی ساتھ ہوں تو اور مزا آئے گا۔" کامران اس تازہ صورت حال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔
"ٹھیک ہے آج راجہ سے بات کر لیتے ہیں۔ رات کو ایک ناچ رنگ کی محفل ہوگی۔ وہاں راجہ بھی ہوں گے۔ میں تمہیں اس محفل میں شرکت کی دعوت دیتا ہوں۔ وہیں تمہاری راجہ سے ملاقات بھی ہو جائے گی اور شکار کے بارے میں راجہ کی مرضی بھی معلوم ہو جائے گی میں تمہیں ماہر شکاریات کی حیثیت سے پیش کروں گا اس طرح ان کے شکار پر چلنے کی امید ہو جائے گی...........تم ان کے سامنے راجکمار کا ذکر نہ کرنا۔" سالار نے کامران کا بازو دباتے ہوئے کہا
"کیوں؟‘‘ کامران نے وضاحت چاہی۔
"انہیں راجکمار کے نام ہی سے نفرت ہے۔“
اس دلچسپ بات پر کامران مسکرائے بنا نہ رہ سکا۔ جائز حقدار سے اس کا تخت و تاج چھین کر اسے پاگل قرار دے کر جنگل میں چھڑوا دیا پھر اس سے نفرت بھی۔ اس نفرت کا کیا جواب ہوسکتا تھا کامران نے اس مسئلے پر مزید گفتگو کرنا مناسب نہ سمجھا۔ ویسے بھی وہ اب راج محل میں داخل ہو چکےتھے
ایک طویل راهداری پار کرنے کے بعد سالار نے کامران کو راج محل کے ایک ملازم کے حوالے کردیا۔ اسے چند ہدایتیں دیں جس میں کامران کے آرام کا خیال رکھنا سرفہرست تھا۔ پھر وہ شام کی رخصت لے کر واپس پلٹ گیا۔
اس ملازم نے اس کے لیے مہمان خانے کا سب سے بہترین کمرہ کھول دیا۔ کامران نے دلچسپی سے کمرے کا جائزہ لیا۔ یہ بلاشبہ ایک عالیشان کمرہ تھا...اس کمرے کو دیکھ کر اسے ملکہ شاطو یاد آئی اور پھر یہ سلسلہ دراز ہوتے ہوتے جانے کہاں جا پہنچا۔
تب قامران نے سر کو جھٹکا اور نرم ملائم بستر پر نیم دراز ہوگیا۔ اسے یہ نرم و نازک بستر ایک عرصے کے بعد میسر آیا تھا۔ اس نے اپنی آنکھیں فورا بند کرلیں اور نرم بستر کا لطف لینے لگا۔
لیٹتے ہی اس پر نیند طاری ہوگئی اور وہ نیند کی پناہ میں چلا گیا۔ دوپہر کو اس کی اس وقت آنکھ کھلی جب ملازم نے کھانے کی تیاری کی اطلاع دی۔ کامران تیزی سے اٹھ کر بیٹھ گیا۔ پھر وہ نہایا، نہا کر نکلا تو کمرے میں کھانا موجود تھا۔ کھانا پرتکلف اور بے حد لذیز تھا.............کامران نے خوب سیر ہو کر کھایا۔
کھانے کے بعد اس پر پھر غنودگی طاری ہونے لگی۔ بستر پر دراز ہوتے ہی نیند نے اسے آ دبوچا۔ وہ شام تک پورے اطمینان سے سویا۔ نیند سے بیدار ہوتے ہی اسے شام کا مشروب پیش کیا گیا مشروب پینے کے بعد وہ کمرے سے نکلا اور باغ کا پتہ پوچھ کر اس طرف چل دیا۔
وہ باغ میں ایک خاص مقصد کے لیے آیا تھا۔ وہ اس مالی کا دیدار کرنا چاہتا تھا جس کے سامنے سے ریماں گزری تھی اور وہ اسے نہیں دیکھ پایا تھا۔
خاصا اندر جا کر آخر اسے ایک مالی کیاری درست کرتا ہوا نظر آیا۔ وہ اس کے نزدیک جا کر کھڑا ہوگیا....... بالکل خاموش۔
مالی نے جب اپنے نزدیک ایک خوبرو نوجوان کو کھڑا دیکھا تو وہ بھی احتراماً کھڑا ہو گیا اور
مود بانہ انداز میں بولا۔ ”مائی باپ...خادم آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہے۔“
" تم شاملو ہو؟‘‘ کامران نے اسے تیز نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔
"جی مائی باپ میں شاملو ہوں۔ راج محل کا سب سے پرانا مالی۔ شاملو نے کیاری سے باہر آتے ہوئے کہا۔"
"تم اندھے تو نہیں ہو"
"نہیں....مائی باپ دیوتا کا فضل ہے۔ اپنی عمر کے لوگوں کے مقابلے میں زیادہ دیکھ سکتا ہوں۔ شاملو نے اپنی چھوٹی چھوٹی آنکھوں کو پھیلا کر کہا۔
"پھر تمہیں وہ لڑکی کیوں نہیں دکھائی دی تھی؟“ قامران نے سوال کیا۔
"کون سی لڑکی مائی باپ!‘‘ شاملو نے اپنے اوپر حیرت طاری کرتے ہوۓ کہا۔
"وہ لڑکی جس کے تعاقب میں را جکمار سلارا آئے تھے اور وہ تمہارے سامنے سے بھاگتی ہوئی گزری تھی۔" کامران نے یاد دلایا۔
راجکمار کا سن کر شاملو نے زور دار قہقہا لگایا اور پھر اپنی ہنسی پر بمشکل قابو پاتے ہوئے بولا؟
"ارے اس پاگل کا کہاں ذکر کر بیٹھے مائی باپ اسے تو سوتے جاگتے ہر وقت کوئی لڑکی نظر آتی تھی۔"
اس نمک حرام اور سازشی مالی کی زبان سے راجکمار سلارا کے بارے میں ایسے بیہودہ کلمات سن کر قامران کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔ اگر اس میں فطری صبر تمحل نہ ہوتا تو اس بات کے امکانات تھے کہ وہ اب تک مالی کو ملک عدم کی راہ دکھا چکا ہوتا۔
کامران نے پھر مالی سے کوئی بات نہ کی۔ اس کے چہرے کی سرخی اور بھینچے ہوئے ہونٹ اس کے غصے کا پتہ دے رہتے تھے۔
مالی اس کے تیور بھانپ کر بھاگا بھاگا ایک طرف گیا اور تھوڑی دیر بعد کالے گلاب کا ایک بے حد حسین پھول لیے واپس آیا۔
’’مائی باپ غریب مالی کی طرف سے ایک حقیر سا تحفہ“ کامران نے وہ پھول اس کے ہاتھ سے لے لیا اور اسے سونگھتا ہوتا راج محل کی طرف چلا
وہ سوچ رہا تھا کہ راجہ کڑوچ نے اپنے بھتیجے کے خلاف شاطرانہ انداز ميں جال بنا ہے کہ ایک عام آدمی زندگی بھر اس کا تصور نہیں کرسکتا۔ وہ سوچ ہی نہیں سکتا تھا کہ ایسا بھی ہوسکتا ہے اور یہ سازش چند آدمیوں تک محدود ہے۔ ان چند آدمیوں کو بے نقاب کرنا اور عوام کو یہ باور کروانا کہ راجکمار کے ساتھ ظلم ہوا ہے کوئی آسان کام نہ تھا۔ لیکن کامران نے اس مشکل کام کو آسان کرنے کی ٹھان لی تھی۔
رات کے کھانے کے بعد کامران سوچ ہی رہا تھا کہ سالار کی ابھی تک شکل نہیں دکھائی دی۔ وہ آخر کدھر غائب ہوگیا کہ دروازے پر دستک ہوئی۔ کامران نے اٹھ کر دروازہ کھولا۔
"کورام کے سالار نے آپ کو یاد کیا ہے۔" آنے والے نے کہا۔
"ٹھیک ہے چلو میں خود ان کا منتظر تھا۔" قامران آنے والے کے ساتھ ہوگیا۔
کئی راہداریاں گھوم کر قاصد نے ایک دروازہ کھولا اور بولا۔
”اندر چلے جائیے۔"
قامران اندر داخل ہوا اسے سامنے ہی سالار بیٹھا دکھائی دیا جو شراب پینے میں مشغول تھا وہ کامران کو دیکھ کر مسکرایا اور خوشدلی سے بولا ۔
”آؤ نوجوان ! تمہارے لیے میرے پاس ایک چوشخبری ہے۔“
"وہ کیا؟"
"راجہ شکار پر جانے کے لیے تیار ہو گئے ہیں لیکن ایک ذرا سی بات ہے۔" سالار نے اس کی طرف جام بڑھاتے ہوئے کہا۔ "وہ تمہاری نشانے بازی کی آزمائش چاہتے ہیں۔"
"مجھے کیا اعتراض ہو سکتا ہے جب چاہیں آزمائش کرلیں۔" کامران نے جام واپس کرتے ہوئے جواب دیا۔
"اے نو جوان کیا تنلم شراب نہیں پیتے"
"نہیں.....سالار مجھے اس سے کوئی دلچسپی نہیں۔"
"اچھا پھر آزمائش کے لیے کل صبح کا وقت رکھ لیں؟"
ابھی تھوڑی دیر میں ناچ رنگ کی محفل شروع ہونے والی ہے آؤ بڑے کمرے میں چلتے ہیں"
بڑے کمرے میں ایک دو آدمی پہلے ہی موجود تھے۔ سالار کو دیکھ کر وہ کھڑے ہو گئے۔ سالار نے ان سے کامران کا تعارف کروایا۔ ان لوگوں کا شمار کورام کے امیروں میں ہوتا تھا۔
جلد ہی حاضرین کی نفری پوری ہوگئی۔ اب صرف راجہ کا انتظار تھا۔
ابھی راجہ کا انتظار ہو ہی رہا تھا کہ چند سازندے داخل ہوئے اور پہلے سے مخصوص کی گئی جگہ پر براجمان ہو گئے۔ ان سازندوں کے پیچھے رقاصہ داخل ہوئی۔ اس نے سرخ دوشالہ اوڑھ رکھا تھا۔ سر سے، پاؤں تک ڈھکی ہوئی تھی حتی کہ چہرہ بھی دوشالے کی اوٹ میں تھا۔ چھم چھم کرتی سازندوں کے نزدیک بیٹھ گئی۔
آخر وہ لمحے بھی آ پہنچے جب راجہ کڑوچ کی آمد کا اعلان ہوا۔ اعلان سن کر حاضرین محفل جو انگلیوں پر گنے جا سکتے تھے احتراماً کھڑے ہوگئے۔ راجہ کڑوچ کے مسند نشین ہوتے ہی سارے لوگ اپنی جگہ بیٹھ گئے۔
تب سالار آگے بڑھا۔ اس نے کامران کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بڑے مودبانہ انداز میں کہا۔
"کورام کے مالک یہ ہے وہ نوجوان جس کا ذکر میں نے کیا تھا یہ آزمائش کے لیئے تیار ہے"
"بہت خوب“ راجہ کڑوچ نے قامران پر بھر پور نگاہ ڈالی اور اسے ہاتھ کے اشارے سے بیٹھنے کو کہا۔
قامران اطمینان سے اپنی جگہ بیٹھ گیا تب راجہ کڑوچ نے تین بار تالی بجائی-تالی کی آواز سنتے ہی سرخ لبادے میں لپٹی رقا صہ اٹھی اور چھم چھم کرتی راجہ کے سامنے دوزانو ہو کر بیٹھ گئی۔ اس وقت کمرے کا دروازہ بھی بند ہوگیا۔
سازندوں نے اپنے اپنے ساز سنبھالے اور چوکس ہو کر بیٹھ گئے راجہ اور تمام حاضرین محفل کی نگاہیں اس سرخ دوشالے پر جمی ہوئی تھیں... دیکھیں اس لال گٹھڑی میں سے کیا برآمد ہوتا ہے۔
تب اچانک ہی دوشالا میں حرکت ہوئی دوشالے میں چھپی رقاصہ کھڑی ہوئی۔ ساز بج اٹھے گھنگرو چھنک اٹھے۔
پھر ایک دم کمرے میں بجلی سی چمکی دو شالہ اڑتا ہوا ایک سازندے پر جا گرا اور ایک سیمیں بدن حرکت میں آ گیا۔ کامران کے لیے اس سنہرے بدن پر نگاہیں جمانا مشکل ہو گیا۔ اس نے اپنی گردن موڑ لی۔ اگرچہ یہ بات خلاف آداب نہ ہوتی تو وہ اس شرمناک محفل سے اٹھ کر کب کا چلا گیا ہوتا۔ کوئی اور موقع ہوتا تو شاید وہ ان آداب محفل کا خیال بھی نہ رکھتا لیکن اس وقت محفل سے اٹھ کر جانے کی وجہ سے راجہ اور سالار دونوں ہی خفا ہوتے۔ وہ ان دونوں کو خفا کر کے کھیل بگاڑنا نہیں چاہتا؟
لہذا وہ دل پر جبر کرکے اس بے ہودہ رقص کو محسوس کرتا رہا۔ وہ نگاہیں اٹھا کر رقاصہ کو دیکھ کر اپنا خون نہیں کھولانا چاہتا تھا۔
آخر وہ وقت بھی آیا جب وہ بے لباس رقاصہ اپنے شانوں پر پھر سے دوشالہ ڈالتی ہوئی کمرے نکل گئی۔
را کڑوچ کے اٹھتے ہی محفل اپنے انجام کو پہنچی۔ کامران اور سالار کچھ دور تک ساتھ آئے۔ دونوں نے طے کیا تھا کہ نشانے بازی کا مظاہرہ کہاں ہوگا اور کیسے ہوگا۔ اس کے بعد کامران کو اس کے کمرے تک پہنچادیا گیا۔
صبح جب کامران اٹھا تیر کمان سنبھال کر آزمائش گاہ میں پہنچا تو سالار اسے ہونقوں کی طرح ادھر ادھر گھومتا نظر آیا۔
"کیا پریشانی ہے سالار؟‘‘ کامران نے اس کے نزدیک پہنچ کر پوچھا۔
”پریشانی یہ ہے نوجوان کے کوئی آدمی تختہ مشق بننے کے لیے تیار نہیں۔“
"پھر آزمائش کیسے ہوگی؟"
"کوئی اور طریقہ نکالو۔"
"گوشت پوست کا کوئی آدمی نہیں ملتا تو سیب کسی مجسمے پر رکھوا دو"
"مجسمہ کہاں ملے گا اس وقت؟“
"کھنڈرات میں کوئی ایسا مجسمہ نہیں ہے جو اغوا کر کے یہاں لایا جا سکے...؟" کامران نے گہری نظروں سے سالار کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔
"نہیں کوئی نہیں۔" سالار نے تیزی سے جواب دیا۔ ”اگر ہوگا بھی تو بہت بھاری... یہاں تک لانا ممکن نہ ہوگا۔"
"ہاں اگر وقت ہوتا تو ایک ہلکا پھلکا سا مجسمہ بنا لیا جاتا‘‘ کامران نے بڑی معصومیت سے رائے دی۔
"کیا بات کر تے ہو نوجوان........مجسمہ یہاں کون بنا سکتا ہے۔ اگر بانسوں کا ایک مصنوعی آدمی بنا لیا جائے تو کیسا رہے گا۔" سالار نے کامران کے جملے کی گہرائی پر غور نہ کیا۔
کامران کے "ہاں" کہنے پر جلدی جلدی بانس کا آدمی تیار کیا گیا۔ ایک بڑے سے تربوز کا چہرہ بتایا گیا اور ایک چھوٹے بانس کو کراس کی شکل میں باندھ دیا گیا۔ اس بانس کے ڈھانچے کو ایک ڈھیلا ڈھالا لبادہ ڈال دیا گیا اور اسے زمین میں گاڑ دیا گیا۔
پھر اس بانس کے ڈھانچے پر ایک سیب رکھا گیا۔ دوسیب اس کے بازوؤں پر سجائے گئے۔ راجہ کڑوچ کے مسند نشین ہونے کے بعد کامران اس سے اجازت لے کر مقررہ جگہ پر پہنچا۔ یہ جگہ اس بانس کے آدمی سے خاصی دورتھی۔
کامران نے سائری دیوتا کا نام لے کر کمان کندھے سے اتاری۔ پھر تین تیر ترکش سے نکالے۔ انہیں الٹ پلٹ کر دیکھا اور پھر ایک تیرکمان پر چڑھا کر نشانہ لیا۔
تب کو رام کی رعایا سالار اور راجہ کڑوچ نے ایک عجیب منظر دیکھا۔ بانس کے آدمی پر سجے ہوئے تین سیب تین لمحوں میں تین تیروں کی زد میں آگئے۔ کامران نے ان سیبوں کو اس صفائی اور بلا کی پھرتی سے اڑایا کہ لوگ عش عش کر اٹھے۔
راجہ کڑوچ نے اپنی مسند سے اٹھ کر کامران کو شاباش دی، پیٹھ تھپکی اور ہاتھ ملایا۔ سالار کی خوشی قابل دید تھی۔ اس نے آگے بڑھ کر اس کے ہاتھ چومے اور تعریفی کلمات سے نوازا۔ کورام کے عوام کیوں پیچھے رہتے۔ انہوں نے تالیاں بجا کر اور نعرے لگا کر کامران کی حوصلہ افزائی کی۔ کامران نے جواباً ہاتھ اٹھا کر ان کا شکریہ ادا کیا۔
شاید راجہ کڑوچ کی شامت آئی تھی کہ وہ دوسرے ہی دن شکار پر جانے کے لیے تیار ہو گیا اور وہ بھی شیر کے شکار پر۔
صبح دم راجہ کڑوچ کا لشکر شکار پرنکل کھڑا ہوا۔
جنگل پہنچتے پہنچتے رات ہوگئی۔ پڑاؤ ڈال دیا گیا اور کامران کی زیرنگرانی حفاظتی اقدامات کر لیئے گئے
کامران نے صبح اٹھ کر سنا کہ راجہ کڑوچ اور سالار رات گئے تک شراب اور شباب کی غليظ رنگ رلیوں میں بھٹکتے رہے۔ کامران نے چلتے وقت رقاصہ کو سوار ہوتے دیکھ لیا تھا۔ اس لیے وہ اپنے خیمے سے صبح سے پہلے باہر نہ نکلا۔
کچھ کھا پی کر کامران اور سالار نے جنگل کے اندرونی حصے میں جانے کا قصد کیا تا کہ مچانیں رکھنے کا کام جلد از جلد مکمل کیا جا سکے۔ کامران نے ایک مچان دریا کنارے ایک بلند اور مضبوط درخت پر باندھنے کا حکم دیا دوسری مچان کافی فاصلے سے جنگل کے اندرونی حصے میں تیار کرنے کو کہا۔ جب وہ دونوں مچانیں بندھوا کر پڑاؤ کی طرف واپس آرہے تھے تو سالار نے کہا
"نو جوان۔۔۔۔تمہاری صلاحتیں دیکھ کر میرا جی چاہتا ہے تم کورام میں مستقل رہائش اختیار کر لو اور سالا ر کا عہدہ قبول کرلو۔"
لیکن ابھی کامران نے لب کھولے ہی تھے کہ سالار نے اس کی بات پوری نہ ہونے دی
"نوجوان......! دراصل میں اس عہدے سے سبکدوش ہونا چاہتا ہوں۔" وہ بولا۔
"آخر کیوں؟‘‘ کامران نے سالار کو چونک کر دیکھا۔ "راجہ کے بعد تمہارا شمار ہوتا ہے سالار ہونا بڑے اعزاز کی بات ہے۔ آخر اس اعزاز سے کیوں سبکدوش ہونا چاہتے ہو؟"
سالار چلتے چلتے اچانک رک گیا۔ اس نے چاروں طرف بڑی گہری نگاہوں سے دیکھا دور دور تک کوئی نہ تھا۔ تب سالار کامران کی طرف کھسک آیا اور بڑی رازداری سے بولا:
”نوجوان میں تمہیں سالار بنا کر خود راجہ بننا چاہتا ہوں۔" کامران نے سالار کی بات سن کر اندر ہی اندر قہقہہ لگایا۔ اقتدار کی ہوس آدمی کو کہاں سے کہاں لے جاتی ہے۔ اس کے اس جملے سے کامران نے ساری بات سمجھ لی تھی کہ وہ کیا چاہتا ہے اور اب یہ بات بھی واضح طور پر سامنے آئی تھی کہ وہ راجہ کو شیر کا شکار کھلانے میں اتنی دلچسپی کیوں رکھتا ہے
سازشی راجہ کڑوچ کے لیے خود به خود گڑھا کھدنے لگا تھا۔
"لیکن راجہ کے ہوتے ہوئے تم راجہ کس طرح بن سکتے ہو؟“ کامران نے اس کی زبان سے منصوبہ اگلوانا چاہا۔
"راجہ کو راستے سے ہٹانے کا کام تم بڑی آسانی سے کر سکتے ہو...؟"
"وہ کیسے؟“ قامران نے مصنوئی حیرت سے کہا۔
"تم راجہ کے ساتھ مچان پر ہوگے. اسے تمہارے نشانے پر بڑا اعتماد ہے اور وہ شکار پر آیا ہی صرف تمہاری وجہ سے ہے ورنہ وہ انتہائی ڈر پوک آدمی ہے۔ تم جنگل کے اندرونی حصے والی مچان پر ہوگے اور میں دریا والی مچان پر۔ شیر کی آمد کے بعد راجہ کو مچان سے دھکا دینا تمہارے لیے کوئی خاص مشکل نہ ہوگا... باقی کام شیر اپنے آپ کر لے گا۔ کورام کے عوام اسے اتفاقی حادثہ سمجھ کر جلد بھول جائیں گے پھر میرے راجہ اور تمہارے سالار ہونے میں کوئی کسر باقی نہ رہے گی۔“ سالار نے پورا منصوبہ بڑی وضاحت سے سمجھایا......اور پھر رک کر کامران کے جواب کا بے چینی سے انتظار کرنے لگا۔
"بات تو سمجھ میں آتی ہے۔" کامران نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
"اس کا مطلب ہے کہ تم اس منصوبے پر کام کرنے کے لیے تیار ہو۔"
"ہاں بالکل‘‘ کامران نے مسکراتے ہوۓ کہا۔
تب سالار نے کامران کو گلے سے لگایا اور اسے سالار بننے کی پیشگی مبارکباد بھی دے ڈالی۔ راجہ کڑوچ اس خوني منصوبے سے بے خبر اپنے خیمے میں پڑا نے میں سوتا تھا اور موت اس کے خیمے میں بار بار آ کر جھانکتی تھی۔
آخر تمام کام منصوبے کے مطابق طے پا گئے۔ کامران راجہ کڑوچ کے ساتھ مچان پر موجود تھا نیچے ایک درخت سے موٹا بکرا بندھا "بھیں بھیں" کر رہا تھا۔ ادھر دریا والی مچان پر سالار اکیلا بیٹھا مستقبل کے سہانے خواب دیکھنے میں مشغول تھا۔
کافی دیر انتظار کے بعد آخر کچے تندرست گوشت کی بو سونگھتا شیر آ پہنچا۔
تمام اردو کہانیاں پڑھنے کے لیے کلک کریں
سفید محل - پارٹ 19
Urdu stories online, Urdu stories for kids, Short Urdu stories, Urdu Kahaniyan, Famous Urdu stories, Urdu stories with moral, Best Urdu stories collection, Urdu stories for students, Urdu love stories, Urdu horror stories, Urdu stories for reading, Urdu stories in Urdu text, Funny Urdu stories, Urdu stories for beginners, Urdu detective stories, Urdu motivational stories, Urdu stories for adults, Urdu moral stories, Urdu stories for children, Urdu true stories, Urdu suspense stories, Urdu emotional stories, Urdu adventure stories,