سفید محل - اردو کہانی قسط نمبر 17

 

سفید محل - اردو کہانی قسط نمبر 17

وہ بہادر تھیٹر کھا کر جھینپتا ہوا اٹھا۔ نوکا نے اس کے منہ پر پانچوں انگلیاں ابھرتی دیکھیں۔
"اب کوئی اور بھی اس کی موجودگی کا ثبوت چاہے گا؟‘‘ نوکا نے بقیہ بہادروں کی طرف رخ کرتے ہوئے کہا۔
"نہیں، ہرگز نہیں۔" وہ بیک وقت چیخے۔ ان کی آواز میں لرزش تھی جیسے وہ خوف زدہ ہو گئے ہوں۔
”جاؤ...یہاں سے نکل جاؤ.....جا کر باہر بیٹھو...اس میں تمہاری خیریت ہے۔“ نوکا نے کہا
وہ سب کے سب فورا ہی باہر نکل گئے۔ پھر نوکا نیلے مکان کے ایک کونے میں جا بیٹھی کامران بھی اس کے نزدیک بیٹھ گیا۔
"آج میں نے پورا دن مقدم بمن کے باغ میں گزارا۔‘‘ کامران نے آہستہ سے کہا۔
"مقدم یمن کے باغ میں"
نوکا کے لہجے میں بے پناہ حیرت تھی۰۰۰۰۰۰
"اتنی حیرت کیوں....؟“ قامران نے سنجیدگی سے پوچھا۔
"اس لیے کہ مقدم بمن کا کوئی باغ نہیں"
"یہ اصول ہے کہ اس بستی میں کوئی چیز کسی کی نہیں اور سب کی ہے صرف بستی والوں تک محدود ہے تمہارا سربراہ جسے تم لوگ اپنے جیسا سمجھتے ہو اس احمقانہ اصول سے مستثنی ہے۔ اس کے گھر میں ہے جو ہے وہ اس کا ہے۔ وہ انتہائی عیش و عشرت کی زندگی گزارتا ہے۔ وہ بستی والوں کو بھوسا کھلاتا ہے خود شاہی کھانے کھاتا ہے۔ پوری قوم کام کرتی ہے اور وہ اپنے مکان میں بنائے ہوئے باغ میں لیٹا آرام کر لیتا ہے۔ جوان لڑکیاں ہر وقت اس کی خدمت میں حاضر رہتی ہیں"
"یہ تم کیا کہہ رہے ہو... مقدم بمن ہرگز ایسا نہیں۔ یہ بات میں جانتی ہوں۔ میں کیا پوری بستی والے جانتے ہیں کہ مقدم بمن کے مکان میں کوئی باغ نہیں۔" اس نے بڑے یقین سے کہا۔
"مقدم بمن انتہائی شاطر آدمی ہے۔ اس نے پوری قوم کی آنکھوں میں دھول جھونکی ہوئی ہے۔ کاش...! میں تمہیں مقدم بمن کا گھر اندر سے دکھا سکتا۔ کاش....! پوری بستی اس کا گھر دیکھ سکتی۔ پھر سب کہتے اور تم بھی پکار پکار کر مقدم بمن کی برائیاں کرتیں اور اس کے قتل کے در پے ہو جاتی۔ میں کئی بار اسے قتل کرتے کرتے چھوڑ چکا ہوں۔" کامران نے اسے یقین دلانے کی کوشش کی۔
"کامران............فرض کرو اگر میں تمہاری بات سچ مان بھی لوں تو میرے ماننے سے کچھ نہ ہوگا میری زندگی چند گھنٹوں کی ہے۔ اگر یہ باتیں بستی والوں تک کسی ذریعے سے پہنچائی جائیں تو بھی کوئی یقین نہ کرے گا، مقدم بمن یہاں لوگوں کے دلوں پر راج کرتا ہے۔ اسے لوگ دیوانگی کی حد تک چاہتے ہیں۔“
"آخر کیوں؟“ قامران حیران تھا۔
"اس نے ہمارے لیے بہت کام کیا ہے۔ اس نے بستی کی کایا پلٹ کر رکھ دی ہے۔ آج ہم دنیا کی مہذب ترین قوم کہلاتے ہیں، کل ہم وحشی تھے جنگلی تھے پھر اس بستی میں انسانی جذبات کا بڑا احترام کیا جاتا ہے....“
"یہ باتیں تم کہہ رہی ہو جسے اس نے نیلی ٹکیہ کی سزا دے دی ہے اور جو دنیا میں صرف چند گھنٹوں کی مہمان ہے۔ ایسے اس کی مقبولیت کا اندازہ ہو جاتا ہے لیکن میرا خیال ہے کہ لوگ اسے اس لیے پسند کرتے ہیں کہ اس نے معاشرے میں جنسی بے راہ روی کی اجازت دے رکھی ہے۔ یہاں لوگ شاید کسی اور مقدم کا تصور کرنے سے ڈرتے ہیں کہ آینده آنے والا مقدم جانے کیسا ہو وہ ان سنہری رات کے جشن اور ان تمام بیہودگیوں کی اجازت دے نہ دے۔ اس مقدم نے تو لوگوں کا اس زمین سے رشتہ توڑ کر آسمان سے رشتہ جوڑ دیا ہے اور خود اس خطہ زمین کا دیوتا بن بیٹھا ہے۔
"ہم دیوتا کے تصور کو فرسوده مانتے ہیں۔"
"حالانکہ تم دیوتا کے وجود کا اظہار کر چکی ہو اور اسی کی پاداش میں تم سے زندگی چھینی جا رہی ہے۔"
"وہ محض ایک مذاق تھا۔ وہ میری بد قسمتی ہے کہ وہ مذاق انتہائی سنگین صورت اختیار کر گیا کہ اب ہر حال میں اس کی سزا بھگتنی ہوگی۔“ نوکا اپنا سر کھجاتے ہوئے بولی۔ "ویسے کیا تمہاری کسی دیوتا سے ملاقات ہوئی ہے؟"
”تم شاید میرا مذاق اڑانا چاہتی ہو“
"نہیں ایسا میں سوچ بھی نہیں سکتی تم نے کورا کو ٹھکانے لگا کر میرا دل جیتا ہے۔ میں تمہاری بے حدمنون ہوں اور تمہیں اپنا محسن سمجھتی ہوں۔"
”میں نے مقدم بمن کے باغ کا ذکر ایک خاص مقصد کے لیے کیا تھا لیکن بات اب بہت آگے بڑھ گئی۔"
"کیا کہنا چاہتے تھے تم؟
”میں نے وہاں بیٹھ کر تمہارے لیے ایک بے حد شاندار لباس تیار کیا تھا۔" اتنا کہہ کر کامران رک گیا
"لباس میرے لیے‘‘ نوکا نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔ "لیکن تم جانتے ہو لباس سے مجھے کوئی دلچسپی نہیں.............میں خود کو غیر مہذب کہلوانا پسند نہیں کرتی۔“
"اگر میں تم سے درخواست کروں کہ میرے لیے اپنا بر ہنہ جسم ڈھک لو۔۔تو کیا تم انکار کرو گی، اپنے محسن کا دل توڑ دوگی۔"
"اوہ تم نے مجھے عجیب آزمائش میں ڈال دیا کیا تم مجھ سے لباس پہننے کے علاه کوئی اور خواہش نہیں کرسکتے بھی اگرچہ میں سن بلوغ کو نہیں پہنچی ہوں اس کے باوجود میں اپنا جسم تمہارے حوالے کرنے کے لیے تیار ہوں....... میرا خیال ہے کہ یہ پیشکش تمہیں پرکشش لگے گی۔" نوکا نے ایک آنکھ دباتے ہوئے کہا۔
"نہیں بالکل نہیں.......... میں تمہیں لباس میں دیکھنا چاہتا ہوں۔“
"آخر کیوں؟“
"میں چاہتا ہوں کے مرنے سے پہلے تم لباس پہن کر لوگوں کو سیدھا راستہ دکھا جاؤ"
"سیدھا راستہ....!‘‘ اس کے لہجے میں سوال تھا۔ "میرے خیال میں تو یہ الٹا راستہ ہے...........میرا ضمیر اس کام کے لیے مطمئن نہیں، میں نہیں چاہتی کہ بستی والے مجھے مرنے کے بعد بزدل کہیں۔"
ابھی یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ اچانک قامران کے نتھنوں نے ایک مانوس سی خوشبو محسوس کی۔
کامران کھل اٹھا۔ اس نے دل ہی دل میں سوال کیا۔ "چاندکا تم؟"
"ہاں میں“ ادھر سے جواب آیا۔”قامران میں اس وقت ایک خاص اطلاع لے کر حاضر ہوئی ہوں۔ تم میری باتیں غور سے سنو"
"ہاں کہو میں سن رہا ہوں۔“
"آج کی رات اس بستی کے لیے بہت اہم ہے۔ رات کا آخری پہر" چاندکا دھیرے دھیرے اسرار کھولتی گئی اور وہ دم سادھے اس کی باتیں سنتا رہا۔ عجیب و غریب اور خوفناک باتیں۔
کامران کو اتنی دیر خاموش دیکھ کر نوکا پریشان ہوئی۔ اس نے اندازے سے ادھر ادھر ہاتھ مارے۰۰۰۰۰۰ لیکن اس کے ہاتھ کچھ نہ آیا۔ کامران چاندکا کے آتے ہی نوکا سے دور ہو کر بیٹھ گیا تھا۔
"اچھا میں چلتی ہوں۔" چاند کا اپنی بات ختم کرتے ہوئے بولی۔
"اچھا ٹھیک ہے۔“ قامران اٹھتا ہوا بولا۔
پھر وہ نوکا کے پاس آ بیٹھا۔ اس نے اس کے بازو پر ہاتھ رکھا
"کہاں چلے گئے تھے...؟" نوکا اس کا وجود محسوس کرتے ہوئے بے قراری سے بولی۔
"نوکا تمہارے لیے ایک خوشخبری ہے۔“
" کیا.....؟‘‘ نوکا نے چونک کر کہا۔
"مقدم بمن اب تمہیں موت کی سزا نہ دے سکے گا۔"
"کیا تم نے خود کو اس کے حوالے کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے‘‘ نوکا نے پوچھا۔
"نہیں‘‘ کامران نے جواب دیا۔
"پھر...؟"
"اس بستی کو دیوتاؤں نے تباہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور جب مقدم بمن اس بستی کےساتھ ھی تباہ ہو جائے گا تو تمہیں سزا کون دے گا؟"
"پھر تو میں بھی تباہ ہو جاؤں گی"
"نہیں تم تباہ نہیں ہوگی بشرطیکہ میرا کہا مان لو۔"
"یعنی لباس پہن لوں۔“
"ہاں........تم ہی نہیں اس بستی میں جو بھی اپنا تن ڈھانپ لے گا دیوتاؤں کے عذاب سے بچ جائے گا۔" کامران نے پوری سنجیدگی سے کہا۔ " تم لوگ دیوتا کے خیال کو فرسودہ جانتے ہو آج کی رات تمہیں بتائے گی کہ دیوتا کیا ہوتے ہیں اور ان کا عذاب کیسا ہوتا ہے۔"
"عذاب دیوتاؤں کا۔" نوکا یہ کہہ کر کھلکھلا کر ہنس پڑی اور بہت دیر تک ہنستی رہی۔ پھر بولی۔ "کامران مجھے دیوتاؤں کے عذاب سے نہ ڈراؤ۔ ہم جس چیز پر اعتقاد ہی نہیں رکھتے اس سے ڈریں گے کیسے۔ تم نے کیونکہ مجھ پر ایک احسان کیا ہے اس لیے میں تمہاری بات مان لیتی ہوں۔ اب لوگ جو چاہیں کہیں۔ کہاں ہے وہ لباس"
"لباس میں ابھی جا کر لے آتا ہوں لیکن..." قامران کچھ کہتے کہتے رک گیا۔
"لیکن کیا......؟" نوکا نے پوچھا۔
"کیا تم جشن میں شرکت کرو گی؟"
"میرا خیال ہے کہ مجھے وہاں ضرور لے جایا جائے گا۔" نوکا نے سوچتے ہوئے کہا۔
"پھر وہ لباس تم جانے سے پہلے پہننا ۔“قامران نے کہا۔
"تم مجھے پوری بستی کے سامنے شرمندہ کرنا چاہتے ہو خیر یہ بھی سہی۔ تمہاری خاطر یہ بھی برداشت کرلوں گی‘‘ نوکا نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا۔
کامران پھر وہاں ایک لمحہ نہ رکا۔ وہ چہرے پر خوشی سجائے مقدم بمن کے گھر کی طرف
آیا۔
باغ میں پہنچ کر اس نے اطمینان کا سانس لیا۔ اس کا محنت سے بنایا ہوا لباس جوں کا توں موجود تھا۔ کامران نے جھپٹ کر لباس اٹھا ليا اور اسے چومتا ہوا باہر نکل آیا۔ مقدم بمن اسے گھر میں کہیں نظر نہ آیا۔ ممکن ہے وہ کسی تہہ خانے میں چھپا بیٹھا ہو۔
آخر رات نے زلفیں کھولیں۔ چاند کھل کر باہر نکلا چودھویں کا پرشباب اور تابناک ہر طرف ٹھنڈی ٹھنڈی چاندنی پھیل گئی۔
نوکا نے پتوں والا لباس به شکل پہنا حسین جسم کی مالک نوکا لباس پہن کر اور بھی حسین لگنے لگی۔ کامران نے اس کے حسن کی دل کھول کر تعریف کی۔ اسے بے شمار اشعار سنا ڈالے۔ نوکا حسن کے قصیدے سن کر لجا گئی شرما گئی۔
پھر کامران نے کئی بہادروں کو نیلے مکان کی طرف بڑھتے دیکھا۔
"شاید تمہارا بلاوا آ گیا۔‘‘ کامران ان بہادروں کو بغور دیکھتا ہوا بولا۔
دروازے پر بیٹھے بہادروں سے آنے والے بہادروں نے کچھ کہا پھر ان میں ایک بہادر اٹھ کر اندر کی طرف بڑھا
"مقدم بمن نے تمہیں جشن میں شرکت کی اجازت دے دی ہے۔...آؤ چلیں"
”میں تو کب سے چلنے کی منتظر ہوں۔“ یہ کہہ کر وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔
قامران بھی اس کے ساتھ ساتھ چلا۔ پھر ان سب کی نظریں بیک وقت نوکا پر پڑی۔
"نوکا یہ کیا بیہودگی ہے۔ یہ لباس کہاں سے آیا۔ تمہیں کس نے پہنایا۔" ان میں سے ایک بہادر پولا۔
"پھر دو تین بهادر اس کی طرف غصے سے بڑھے اور چیخ کر بولے۔ "اتارو لباس“
اس سے پہلے کہ ان میں سے کوئی بہادر نوکا کا لباس اتارنے میں کامیاب ہوتا تامران ایک بہادر کا ہاتھ جھٹک کر نالی دار ہتھیار چھین لیا اور اسے نو کا کے ہاتھ میں دیتا ہوا بولا "یہ لو ہتھيار‘‘
اس بہادر کو نہتا اور نوکا کو مسلح رکھ کر پڑھتے ہوئے بہادروں کی سٹی گم ہوگئی۔ ان کے قدم وہیں کے وہیں رک گئے۔
"نہیں....... بڑھو آگے............ اتارو آکر میرا لباس۔“ نوکا نے نالى دار ہتھیار ان کی طرف تانتے ہوۓ کہا۔
وہ سب کے سب پیچھے ہٹ گئے۔ وہ چاہتے تو بہت آسانی سے نوکا پر قابو پا سکتے تھے۔ لیکن قامران کے اس پراسرار مظاہرے نے ان لوگوں کے ہوش اڑا دیئے تھے۔ وہ بڑی شرافت سے آگے آگے ہو لیئے تب نوکا بڑی تمکنت سے چلتی ہوئی آگے بڑھی۔ کامران کے سنائے ہوئے اشعار کا نشہ ابھی باقی تھا۔
خاصا چلنے کے بعد آخر وہ شیشے کی لمبی دیوار آہی گئی جس کے کے پار جشن منایا جا رہا تھا۔ کامران نے اس دیوار کے پیچھے دہشت ناچتی دیکھی درندگی کو پھلتے پھولتے دیکھا۔ مہذب بستی کے لوگ انتہائی غیر مہذبانہ حرکتوں میں مصروف تھے۔ آخر ایک جگہ لمبی دیوار اختتام کو پہنچی۔ ایک دروازہ دکھائی دیا۔
چند پہادر لپک کر اندر چلے گئے جبکہ کئی دروازے پر رک گئے اور نوکا کے آنے کا انتظار کرنے لگے اندر داخل ہونے والے بہادروں نے اپنے ہتھیار کمر سے بندھی پٹی میں اڑسے اور بھاگ کر اس کمرے تک پہنچے جہاں شراب تقسیم ہو رہی تھی۔شراب پی کر وہ قطار میں بیٹھی ہوئی عورتوں کی طرف گئی وہاں سے ایک ساتھی کا انتخاب کر کے میدان عمل میں داخل ہوگئے۔
جو بهادر دروازے پر رک گئے تھے انہوں نے بڑے مودبانہ انداز میں نوکا کے داخل ہونے کے لیئے جگہ چھوڑی۔ جب وہ اندر داخل ہوگئی تو انہوں نے جلدی جلدی اپنے ہتھیار پیٹیوں میں لگائے اور اپنے حصے کے جام چڑھانے لگے۔
نوکا کولباس پہن کر داخل ہوتے جس نے بھی دیکھا۔ پہلے تو اس نے ایک لمحے حیرت سے دیکھا پھر یہ حیرت کی نظر حقارت میں تبدیل ہوگئی۔ بستی کی کئی عورتوں اور مردوں نے اسے دیکھ کر تھوک دیا۔ نفرت اور غصے سے۔
نوکا کو بستی والوں کی طرف سے اس طرز عمل کی پوری توقع تھی لہذا اس نے خود کو سنبھالتے ہوئے بڑی بے نیازی سے اس حصے کی طرف جانے لگی جہاں اور دوسری کنواری لڑکیاں موجور تھیں۔
کامران نے اچانک نوکا کو پہلے پہلے اپنے کندھے پر بٹھا لیا۔ اس کے کان میں وہ سرخ موتی تھا اس لیے وہ کسی کو نہیں دکھائی دے رہا تھا لیکن لوگوں کو نوکا ہوا میں معلق دکھائی دے رہی تھی
نوکا کو اس طرح ہوا میں اڑتے دیکھ کر لوگوں کا نشہ ہرن ہونے لگا۔ وہ اپنی غیر مہذبانہ حرکتیں چھوڑ کر اسے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنے لگے۔ تب نوکا نے کامران کو کہنی ماری اور آہستہ سے کہا "مجھے نیچے اتاردو‘‘
"کیوں....؟ کیا پریشانی ہے؟“
"لوگوں کی شکلیں نہیں دیکھتے۔" نوکا نے ہنستے ہوئے کہا۔
"مقدم بمن کہاں ہے؟"
"اس کے آنے کا ابھی وقت نہیں ہوا۔"
"اوہ....! پھر تو اتر جاؤ ورنہ میرا ارادہ ٹھیک اس کے سامنے اتارنے کا تھا۔"
"کیوں شرارت کرنے پر تلے ہو....کیا مجھے وقت سے پہلے ہی مروا دینا چاہتے ہو“ نوکا نے سنجیدگی سے کہا۔
"تمہیں کوئی نہیں مار سکتا نوکا اور جیسا کہ میں تمہیں بتا چکا ہوں یہاں جو شخص بھی اپنا تن ڈھانپ لے گا وہ موت کے عذاب سے بچ جائے گا نوکا ایسا کرو کہ تم کسی اونچی جگہ کھڑے ہو کر کے عذاب کا ذکر کر دو اس بستی کی تباہی کا اعلان کردو اور لوگوں کو اس عذاب سے بچنے کا علاج بتا دو"
"لباس پہن کر ہی میں کافی احمق لگ رہی ہوں۔ اب مجھ سے مزید حماقتیں نہ کرواؤ۔ یہ سن کر لوگ ہنسنے کے سوا کچھ نہ کریں گے"
"ہنسنے دو تم میرے کہنے سے انہیں صرف تنبیہہ کردو۔ ماننا یا نہ ماننا یا سن کر مذاق اڑانا ان کے اختیار میں ہے۔“
”میں یہ کام کرنے کے لیے ہرگز تیار نہیں۔‘‘ نوکا نے فیصلہ کن انداز میں کہا۔
کامران نے اس سے زیادہ اصرار کرنا مناسب نہ سمجھا۔ اس نے نوکا کو اپنے کندھے سے اتار دیا اور تیزی سے آگے بڑھ گیا۔ نوکا جیسے ہی زمین پر اتری اسے بے شمار لوگوں نے گھیر لیا۔ وہ الٹے سیدھے جواب دیتی اس حصے کی طرف بڑھنے لگی جہاں دوسری دوشیزائیں موجود تھیں۔
ابھی کھلبلی مچی ہوئی تھی کہ مقدم بمن کی آمد کا غلغلہ اٹھا ۔ مقدم بمن بستی کا سب موٹا تازه سرخ سفید آدمی بڑی شان سے چلتا جشن کی حدود میں داخل ہوا اور ادھر ادھر دیکھتا سیڑھیوں کی طرف بڑھنے لگا۔ ابھی وہ سیڑھیاں عبور کر کے اس بڑے سے چبوترے پر بیٹھا ہی تھا کہ اس نے اپنے کان کے نزدیک کسی کو کچھ کہتے سنا۔
مقدم بمن نے اس کی پوری بات سننے سے پہلے پیچھے مڑ کر دیکھا۔ تب وہ حیران رہ گیا کیونکہ بات کہنے والے کا دور تک پتہ نہ تھا لیکن وہ بات اب بھی اس کے کانوں میں پڑ رہی تھی۔ اب کوئی بائیں کان میں بڑے پراسرار انداز میں کہہ رہا تھا۔
"بمن اب تمہارا وقت پورا ہو چکا ہے۔ تم نے اس زمین پر جو بیج بوئے ہیں انہیں کاٹنے کا وقت آ پہنچا۔ رات کے پچھلے پہر اس بستی پر دیوتاؤں کا عذاب نازل ہونے والا ہے۔ چاہو تو خود کو سنبھال لو نوکا کی طرح اگر تم بھی اپنا تن ڈھانک لو اور اپنی پوری قوم کو تن ڈھانکنے کا حکم دے دو تو دیوتاؤں کا عذاب رک سکتا ہے۔ اب بھی وقت ہے سنبھل جاؤ“ مقدم بمن نے بڑے غضبناک انداز میں اپنے دائیں جانب دیکھا اور کڑک کر بولا۔ ”وحشی دنیا کے شعبدے باز۔۔۔! میں تجھ سے مرعوب ہونے والا نہیں۔ تیرے لیے یہی بہتر ہے کہ تو خود کو میرے حوالے کردے ورنہ تیرا انجام اچھا نہ ہوگا۔"
کامران مقدم بمن کی بات سن کر ہنسے بنا نہ رہ سکا۔
"او ننگے آدمی تو میرا کیا بگاڑ سکتا ہے۔ کئی دن سے میں تیری بستی میں ہوں۔ تیرا کھانا کھا رہا ہوں۔ تیری بستی کے ایک فرد کو لباس پہنا چکا اب تک تو نے میرا کیا بگاڑ ليا ذرا بتا۔“
”میں تجھے کچا چبا جاؤں گا۔“ مقدم بمن دانت کچکچا کر بولا۔
"میں تیرے ہاتھ آؤں گا جب نا‘‘ کامران یہ کہہ کر چبوترے سے اتر آیا۔
مقدم بمن نے کچھ دیر انتظار کیا جب کامران کی طرف سے مزید کوئی سوال جواب نہ ہوا اسنے بلا ٹلنے کا دل ہی دل میں شکر ادا کیا اور بیک وقت دو لڑکیوں کا ہاتھ تھام لیا۔ کامران بستی کے ایک ایک بدمست فرد سے آنے والے عذاب کا ذکر کرتا رہا لیکن کسی نے اس کی آواز پر کان نہ دھرے۔ کسی نے اس کی غیبی آواز کو شعبدے سے زیادہ نہ گردانا۔
رات تیزی سے ڈھل رہی تھی۔ سنہری رات کا جشن اپنے شباب پر تھا۔ شیطانی کام اپنے عروج پر تھا۔ کسی کو کسی کی خبر نہ تھی۔ جو جس کی بانہوں میں آجاتا اس کا ہو جاتا۔ کسی کو کوئی اعتراض نہ تھا اور ہوتا بھی کیوں ہوتا۔ کامران کو ننگوں کے کرتوت دیکھ کر ایکائی آنے لگی۔ اس نے نفرت سے دیوار کی طرف منہ کرلیا۔ دیوار کے اس پار چاندنی میں شیشے کے خالی گھر چمک رہے تھے۔ پھر کامران نے آسمان کی طرف دیکھا اور اپنی آنکھوں میں آنسو بھر کر پکارا " بھیج بھیج انتظار نہ کر"
کامران کی التجا پر عذاب تو نہ آیا البته چاندکا ضرور آئی۔ وہ آتے ہی بولی۔ "قامران دیوار کے اس پار چلے جاؤ“
کامران نے فورا ہی چاندکا کا حکم مان لیا۔ وہ جیسے ہی دروازے سے باہر نکلا۔ گرم ہوا کے تیز جھکڑ چلنے لگے۔ چاروں طرف سے کالی گھٹا اٹھی اور تیزی سے آسمان پر چھا گئی۔ چودھویں کا چاند اندھیروں میں ڈوب گیا۔ ہوا تیز سے تیز تر ہوتی جارہی تھی۔ آخر اس نے طوفانی شکل اختیار کر لی اچانک کامران کو نو کا کا خیال آیا۔
اس نے کچھ سوچے بنا دروازے میں چھلانگ لگا دی او برق رفتاری سے اس حصے کی طرف جانے لگا جو کنواری لڑکیوں کیوں کے لیے مختص تھا۔ طوفانی ہوا نے سب کے ہوش اڑا دیئے تھے۔ لوگ اب اٹھ کھڑے ہوئے تھے اندھیرے میں باہر جانے کا راستہ تلاش کر رہے تھے۔
"نوکا، تم کہاں ہو؟" کامران نے چیخ کرکہا۔
"میں یہاں ہوں۔" آخر اسے کہیں دور سے نوکا کی خوفزدہ آواز سنائی دی۔
کامران اسے آوازیں دیتا بہت تیزی سے اس کے نزدیک گیا۔
"آؤ میرے ساتھ۔" اس نے نوکا کا ہاتھ پکڑا اور اسے گھسیٹتا ہوا دروازے کی طرف بڑھا۔
کامران کے ہوش بجا تھے۔ اس کی چھٹی حس تیزی سے کام کر رہی تھی۔ وہ لوگوں کو پھلانگتا بچتا بچاتا آخر دروازے پر آ ہی گیا ۔ دروازے سے قدم باہر نکالتے ہی ایک زور دار دھماکا ہوا لمحوں کے لیے پورا آسمان روشن ہو گیا۔ ہوا میں اور تیزی آگئی اتنی کہ لوگوں کے قدم زمین سے اکھڑنے لگے۔
چند لمحوں بعد آسمان سے ایک بلا اور نازل ہوئی۔ طوفانی ہوا کے ساتھ اوپر سے پتھر برسنے لگے۔ بار بار بجلی کڑکتی ایک انتہائی خوفناک دھماکا ہوتا۔ ہوا کے طوفانی جھکڑ کے ساتھ پتھروں کے بڑے بڑے ٹکڑے لوگوں کے سروں پر پڑتے۔
یہ سارا طوفان دیوار کے اندر تھا۔ دیوار کے باہر جہاں نوکا قامران سے چمٹی کھڑی تھی کچھ نہ تھا، نوکا بے حد سہمی ہوئی تھی۔ اسے اب کامران کی صداقت اور دیوتاؤں کے وجود کا یقین آگیا تھا۔ اگرچہ اس نے لباس بڑی بے دلی اور احسان اتارنے کی خاطر زیب تن کیا تھا لیکن اسے احساس ہوا تھا کہ اس لباس نے اسے پتھروں کی بارش سے محفوظ رکھا ہے۔ لوگوں کی چیخ و پکار، آہ و بکا سے پوری بستی گونج اٹھی۔ نوکا دل تھامے اس دلدوز منظر کو دیکھ رہی تھی۔
"کامران کیا ان لوگوں کو بچایا نہیں جاسکتا؟“ اس سے رہا نہ گیا۔
"نہیں۔" دوٹوک انداز میں کہا گیا۔ "انہیں بچانے کا وقت اب گزر چکا۔ میں نے بستی کے ہر شخص سے فرداً فرداً درخواست کی تھی، انہیں آنے والے طوفان کے بارے میں بتایا تھا پر انہوں نے میری بات پر کان نہ دھرے۔ الٹا مجھے شعبده باز کہا۔ اب میں ان کے لیے کچھ کرنا چاہوں بھی تو نہیں کرسکتا۔ موت ان کا مقدر بن چکی ہے۔ ویسے ان کا تباہ ہو جانا ہی بہتر ہے۔"
میری سمجھ میں یہ بات نہیں آرہی کہ یہ لوگ دروازے سے باہر کیوں نہیں نکل آتے یا اگر دروازہ نہیں مل رہا تو دیوار ہی توڑ دیں۔" نوکا نے پریشانی کے عالم میں کہا۔
"یہ ایسا ہرگز نہیں کر سکتے۔ دیوار توڑنا تو دور کی بات ہے۔ یہ دروازے کے سامنے ہونے باوجود اس سے باہر نہیں آ سکتے۔"
"آخر کیوں؟" ان کی عقلیں سلب کر لی گئی ہیں اور ان کے سروں پر پتھر مارے جارہے ہیں۔"
"ٹھہرو، میں انہیں بتاتی ہوں۔ دروازے کی راہ دکھاتی ہوں۔ دیوار توڑنے کا طریقہ سکھاتی ہوں." نوکا بے قرار ہو کر بھاگی۔
"نہیں۔" قامران نے بھاگتی ہوئی نوکا کا ہاتھ پکڑ لیا اور اسے اپنی طرف گھسیٹتا ہوا بولا۔ "پاگل مت ہ بنو نوکا اگر تم نے ایسا کیا تو تمہاری زندگی خود خطرے میں پڑ جائے گی۔"
"مجھے پروا نہیں۔" یہ کہہ کر نوکا نے جھٹکا دے کر ہاتھ چھڑانا چاہا لیکن قامران نے اسے مضبوطی سے پکڑ لیا
"چھوڑو مجھے" نوکا نے غصے سے کہا۔ "میں اپنے لوگوں کی طرف جا رہی ہوں میں بستی کے لوگوں کو اس طرح مرتا ہوا نہیں دیکھ سکتی۔" یہ کہہ کر نوکا بہت تیزی سے دروازے کی طرف بھاگی۔ جاتے جاتے اس نے اپنے جسم سے لباس نوچ پھینکا۔
کامران نے چند قدم آگے بڑھائے بھی کہ وہ نوکا کولباس اتارنے سے روکے تب ہی وہ کنوارے بدن کی خوشبو کے حصار میں آ گیا۔
"کامران اسے مت روکو، جانے دو یہ اپنے اصل کی طرف لوٹ گئی ہے۔ یہ کیا کم ہے کہ اس نے تمہارے کہنے سے اتنی دیر لباس پہن لیا۔ تمہارے لیے یہی کافی ہے۔ تمہارا کام تمہارے اعمال میں لکھا گیا۔ اب یہ جو چاہے کرے تمہیں پریشان ہونے کی بالکل ضرورت نہیں." چاندکا کہہ رہی تھی۔
تب اچانک بجلی کڑکی۔ کامران نے بجلی کی تیز روشنی میں نوکا کو دروازے میں داخل ہوتے دیکھا ابھی وہ ہاتھ اٹھاکر اپنے لوگوں سے کچھ کہنے ہی والی تھی کہ ایک کڑاکے کا دھماکا ہوا ۔ کامران پر سکتہ طاری ہوگیا۔ اس نے بڑے دکھ سے نو کا کے چیتھڑے اڑتے دیکھے۔ ایسے عبرت ناک انجام کے بارے میں تو وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔
پھر جانے کیا ہوا۔ بجلی گری که زمین ہلی یا زلزلہ آیا۔ کامران کے پاؤں زمین سے اکھڑنے لگے اسے ایسا محسوس ہوا کہ جسے زمین الٹی ہوگئی ہے اور وہ پیچھے کی طرف خلا میں گر رہا ہے۔ اس کے چاروں طرف گہرا اندھیرا تھا۔ اس کی آنکھیں خودبخود بند ہوگئی تھیں اور وہ اتھاہ گہرائی میں ڈوبتا جا رہا تھا۔ یہاں تک کہ اس کے حواس گم ہوگئے اس پر بے ہوشی طاری ہوگئی۔
جب کامران کی آنکھ کھلی اسے ہوش آیا اس کے حواس بحال ہوئے تو اس نے خود کو پہاڑوں کے دامن میں پایا۔ اس کے چاروں طرف پتھر ہی پتھر تھے۔ سورج خاصا چڑھ چکا تھا۔ اس نے سے چاروں طرف نظریں گھمائیں شیشے کی بستی کا دور تک پتہ نہیں تھا۔ اس کے دائیں بائیں، آگے پیچھے، فلک بوس پہاڑوں کے سوا کچھ نہ تھا۔
تب تامران کے ذہن کے پردے پر گزرے ہوئے واقعات نمودار ہونے لگے بے لباسوں کی بستی، مقدم بمن، ہتھیار بند بہادر، کورا اور نوکا۔ وہ صاف ستھری دنیا کی سب سے ترقی یافتہ بستی کہاں گئی؟... کدھرگئی؟ کیا اس نے کوئی دلچسپ خواب دیکھا تھا۔
تب ہی کامران کو ہنہنانے کی آواز سنائی دی۔ ایک بڑے سے پتھر کے پیچھے اسے ابلا دکھائی دی۔ وہ تڑپ کر اٹھا اور چھلانگ مار کر اپنی چہیتی گھوڑی کے پاس گیا۔ اس نے بڑے پیار سے اس کی گردن تھتھپائی اور اس کا منہ چوما۔
ابلا کے نزدیک ہی اس کی تیر کمان اور ترکش پڑا ہوا تھا۔ اس نے جھپٹ کر کمان اٹھا لی۔ کمان تو شیشے کی بستی کے لوگوں نے اس سے چھین لی تھی اور پھر با وجود تلاش کے اس کو نہیں ملی اب یہ یہاں کہاں سے آگئی؟ قامران نے کمان اٹھا کر اپنی گردن پر ڈالی اور ترکش کندھے سے لٹکا کر اس نے چھلانگ لگائی۔
ابلا کی پیٹھ پر بیٹھتے ہی اس کا جی چاہا کہ وہ زور سے ایڑ لگائے اور ہوا ہو جائے لیکن ایسا ممکن نہ تھا۔ راستہ بے حد دشوار تھا۔ ابلا پوری احتیاط سے قدم رکھتی ہوئی آگے بڑھنے لگی۔
کئی گھنٹے کی تگ و دو کے بعد اسے صاف ستھرا راستہ دکھائی دیا۔ قدم قدم احتیاط سے چلتے ہوئے دونوں ہی بدمزا ہوگئے تھے۔ اب جو صاف راستہ نظر آیا تو دونوں ہی مچل اٹھے۔ قامران نے بھی ہلکی سی ایڑ لگائی تھی کہ ابلا نے اسے ہی بہت جانا۔ وہ کامران کو لے اڑی ۔ کامران ابلا کی رفتاری سے لطف اٹھانے لگا۔
ابھی وہ تھوڑی ہی دور آگے گیا تھا کہ اسے راستے میں ایک آدمی دکھائی دیا۔ وہ سامنے سے چلا آرہا تھا۔ کامران نے ابلا کی رفتار فوراً کم کردی۔ دوسری صورت میں اس بات کے بہت امکان تھے کہ وہ ابلا کی لپیٹ میں آ جاتا۔
اس سے پہلے کہ قامران اس کے نزدیک رکتا اور اس کا احوال پوچھتا اس آدمی نے کامران کو رکنے کا اشارہ کیا۔ کامران نے تیزی سے ابلا کی لگام کھینچی اور اس کے سر پر جا پہنچا۔ پھر گھوڑی سے کود پڑا۔ اس آدمی کے سر اور چہرے پہ خاک جمی ہوئی تھی۔ داڑھی کے بال الجھے ہوئے اور بےترتیب نے جسم پر چند دھجیاں لٹکی ہوئی تھیں۔ کمر کے گرد ایک لوہے کی زنجیر بندھی ہوئی تھی جس اس کی کمر کے گرد سیاہ حلقے پڑ گئے تھے۔ وہ دن بھی خوبصورت رہا ہوگا لیکن اس کی جوانی گھل کر بوڑهاپے میں تبدیل ہوگئی تھی۔
"بابا کون ہوتم" قامران نے اس کی طرف ہمدردی سے دیکھتے ہوئے کہا۔
"بیٹا کبھی میں بھی تمہاری طرح کڑیل نوجوان تھا، بستی میں ہر طرف میرا ہی چرچا تھا لیکن میرے جنون نے مجھے کہیں کا نہ چھوڑا۔ میں اپنے جنون کی وجہ سے بستی سے نکل کھڑا ہوا مجھے بھٹکے ہوئے پورے پینتیس سال ہو گئے ہیں۔ منزل اب بھی مجھ سے دور ہے اپنا سب کچھ کھونے کے بعد میں آج بھی وہیں ہوں جہاں سے چلا تھا۔“
"بابا آخر تم کیوں بھٹکتے پھر رہے ہو کچھ بتاؤ تو" کامران نے پوچھا۔
”میں پارس پتھر کی تلاش میں گھر سے چلاتھا۔"
”پھر کیا ہوا....؟“
”اب میں کیا بتاؤں کہ کیا ہوا؟‘‘ وہ بڑی اداسی سے بولا۔ ”میں گھر سے نکل تو پڑا لیکن مجھے معلوم نہ تھا کہ پارس پتھر کہاں سے ملے گا۔ بس میری مہم جو طبیعت اور پارس حاصل کرنے کا جنون مجھے گھر سے نکال لایا۔ بستی سے نکلتے ہی سب سے پہلے میں نے ٹوٹی قبر کے بابا سے پارس پتھر کا پتہ معلوم کیا۔ ٹوٹی قبر کا بابا پارس پتھر کا نام سن کر بہت دیر تک ہنستا رہا۔ پھر وہ ہنستے ہنستے اچانک خاموش ہو گیا اور بڑے گھمبیر لہجے میں بولا۔
”پارس پتھر....پارس پتھر امید کے پہاڑوں پر ملے گا۔“
اور جب میں نے امید کے پہاڑوں کا پتہ دریافت کرنا چاہا تو ٹوٹی قبر کا بابا مجھے عجیب سی نظروں سے دیکھنے لگا جیسے میں نے امید کے پہاڑوں کا پتہ پوچھ کر کوئی سنگین جرم کر دیا ہو۔ شام ڈھلے میں ایک چھوٹی سی بستی میں داخل ہوا۔ وہاں مجھے ایک درخت کے نیچے سفید چادر اوڑھے ایک آدمی لیٹا دکھائی دیا۔ میں نے اس آدمی کے چہرے سے چادر ہٹائی۔ اسے ہلا کر جگایا اور اس سے پارس پتھر کا پتہ معلوم کیا۔
"پارس آرزوؤں کے جنگل میں ملے گا۔“
یہ کہہ کر اس شخص نے سفید چادر اوڑھ لی۔ اب اس شخص سے مزید سوال کرنے کی گنجائش نہ رہی تھی۔ پھر میں اس شخص کو سوتا چھوڑ کر آگے چل دیا۔
رات اس چھوٹی سی بستی میں بسر کی۔ صبح ہوتے ہی میں پھر پارس کی تلاش میں چل پڑا۔ چلتے چلتے مجھے دریا کے کنارے ایک نیم برہنه آدمی دریا میں پاؤں لٹکائے بڑے انہماک سے بہتے ہوئے پانی کو دیکھ رہا تھا۔ میں نے حسب معمول آدی کے سامنے اپنا سوال دہرایا۔ سوال سن کر وہ چند لمحوں تک خاموش رہا جیسے کسی طوفان کی آمد ہو پھر اس نے جھک کر پانی میں ہاتھ ڈالا اور پانی سے لفظوں کے موتی نکالتے ہوئے بولا۔
”پارس خواہشوں کے دریا میں ملے گا۔“
یہ کہہ کر اس نیم، برہنه آدمی نے دریا میں ڈبکی ماری اور خاصی دیر تک دریا سے نہ نکلا۔ میں دور ہو کر دریا کے کنارے کنارے آگے بڑھنے لگا۔ جب میں چلتے چلتے تھک گیا اور دھوپ میں خاصی تیزی آ گئی تو میں نے ایک سائے دار درخت کے نیچے کچھ دیر آرام کرنا مناسب سمجھا۔ درخت کے تنے سے ٹیک لگا کر میں نے آرام سے پاؤں پھیلا لیے اور گہرے گہرے سانس لینے لگا۔ ٹھنڈی ہوا کے جھونکے نے مجھے تھپک تھپک کر سلادیا۔
ابھی مجھے سوئے ہوئے زیادہ دیر نہ ہوئی تھی کہ ایک کمبل پوش آدمی نے مجھے جھنجھوڑ کر اٹھا دیا بولا۔
”تجھے پارس پتھر کی تلاش ہے؟‘‘
میں اس انکشاف پر حیرت زدہ رہ گیا۔ میں نے جلدی سے کہا۔ ” ہاں بابا۔"
تب اس کمبل پوش نے میرے منہ پر ایک تھپڑ رسید کیا اور غصے سے بولا۔ "بے وقوف پارس کو بھاڑ میں ڈال پہلے اپنی تلاش کر"
"اس وقت میں نے فیصلہ کیا کہ کسی کمبخت سے پارس پتھر کا پتہ نہیں معلوم کروں گا تھا...پارس کی تلاش میں دنیا کے ایک کونے سے اس کونے تک پر جاؤں گا۔ یہ سوچ کر میں نے ایک گائے کے گلے سے زنجیر کھول دی جو کھونٹے سمیت بھاگی جا رہی تھی۔ زنجیر کھول کر میں نے اپنی کمرمئں باندھ لی.....اور راہ کے پتھروں کو غور سے دیکھتا ہوا چلنے لگا۔ جس پتھر پر مجھے شبہ ہوتا کہ یہ پارس ہوسکتا ہے اسے اٹھاتا اور زنجیر پر رگڑ کر دیکھتا۔ زنجیر سونے کی نہ ہوتی تو مایسوی سے پتھر پھینک دیتا اور دوسرے پتھر کی تلاش میں آگے بڑھ جاتا۔
اب تک میں جانے کتنے دریا کتنے صحرا کتنے جنگل پار کر چکا ہوں۔ ہزاروں لاکھوں پتھر میرے ہاتھ سے گزر چکے ہیں مگر ان میں کوئی بھی پارس نہ تھا۔ اب مایوسی بڑھنے لگی ہے۔ تمہیں بیٹا میں نے اس لیے روکا کہ شاید تم میری مدد کر سکو ممکن ہے تمہیں پارس پتھر کا پتہ معلوم ہو" یہ کہہ کر اس شخص نے پرامید نگاہوں سے کامران کی طرف دیکھنا شروع کیا۔
کامران اس کی آنکھوں کا مفہوم سمجھ کر پریشان ہو گیا۔ اسے کسی پارس پتھر کا پتہ معلوم نہ تھا
تب اسے شدت سے چاندکا یاد آئی۔ ایسے آڑے وقتوں میں وہی ہمیشہ اس کی مدد کیا کرتی تھی۔ اس وقت بھی چاند کا اس کے نزدیک ہوتی تو وہ اس سے پارس پتھر کا پتہ پوچھ کر اس جنونی شخص کا مسئلہ حل کر دیتا۔
کامران کے پاس چاندکا کو بلانے کا کوئی ذریعہ نہ تھا۔ وہ سوچ میں پڑ گیا کیا کرے وہ بوڑھا شخص جس نے اپنی زندگی کے سنہرے پنتیس سال اپنے جنون کی نذر کردیئے امید بھری نگاہوں سے اب بھی کامران کو دیکھ رہا تھا۔
”بیٹا......! کیا تم پارس پتھر کا پتہ جانتے ہو؟ “ تب تامران نے چاند کا کو دل ہی دل میں پکارا ۔ "چاندکا آؤ"
دل سے نکلی ہوئی سچی پکار کوسوں میل دور بیٹھے محبوب کو تڑپا سکتی ہے۔ اس کا اندازه قامران کو اس وقت ہوا جب اس نے اچانک ہی کنوارے بدن کی خوشبو محسوس کی۔
"میں آگئی ہوں قامران.......کہو کیا بات ہے۔"
"میرے سامنے کھڑے اس بوڑھے شخص کو دیکھتی ہو۔ اس نے پارس پتھر کی خاطر اپنی زندگی تباہ کر لی۔ کیا تم پارس پتھر کا پتہ جانتی ہو تم ضرور جانتی ہوگی۔ مجھے بتا دو۔ میں جان پر کھیل کر اسے اس پتھر تک پہنچا دوں گا یہ پارس دیکھ کر جتنا خوش ہوگا شاید تم اس کا اندازہ نہ کرسکو۔" کامران نے دل ہی دل میں اس بوڑھے شخص کی پرزور سفارش کی۔
تب کامران کے کانوں میں چاند کا کی مترنم ہنسی سنائی دی۔ "اس احمق شخص کو بتا دو یہ خود پارس ہے۔ اپنے عمل کی قوت سے جس چیز کو ہاتھ لگاۓ گا سنہری ہو جائے گی۔ اس سے بولو ابھی بھی وقت ہے اب بھی سنبھل جائے۔ سراب کے پیچھے نہ بھاگے خواب دیکھنا چھوڑ دے خود کو پہچانے جس دن یہ خود کو پہچان لے گا، سونا اس کے چاروں طرف بکھرا ہوگا۔“ چاندکا اتنا کہہ کر روپوش ہوگئی۔
چاند کا کی باتوں نے کامران کو سخت الجھن میں ڈال دیا۔ اس کی سمجھ میں نہ آیا کہ وہ اس شخص کو کیسے بتائے کہ جس پتھر کے لیے اس نے اپنی زندگی کے پینتیس سال برباد کردیئے اس کا کوئی وجود نہیں۔
”بیٹا.....! تم خاموش کیوں کھڑے ہو کچھ تو کہو“ اس نے کامران کو ٹوکا۔
تب تامران نے دل پر پتھر رکھ کر اپنے لب کھولے کہ سچ کہے بغیر کوئی چارہ نہ تھا۔
"بابا اب بھی وقت ہے تم واپس لوٹ جاؤ اور بھر پور عملی زندگی گزارو کہ عمل ہی اصل پارس ہے اور یہ کہ....“ کامران کی بات ادھوری رہ گئی۔
وہ جنونی شخص اتنا سن کر غصے میں بے قابو ہوگیا۔ اس نے پاس پڑا ہوا بڑا سا پتھر اٹھایا اور کامران کے سر میں دے مارا اور چیخ کر بولا۔ " گھوڑی کے بچے.....مجھے عمل کی تلقین کرتا ہے.....؟“
وہ تو اچھا ہوا کہ کامران اس کے پتھر اٹھاتے ہی چوکنا ہو گیا تھا ورنہ اب تک اس کے سر کے دو حصے ہو چکے ہوتے۔ کامران نے اب زیادہ دیر وہاں ٹھہرنا مناسب نہ سمجھا۔ اس نے چھلانگ لگائی اور ابلا کی پیٹھ پر چڑھتے ہی ایڑھ لگا دی اشاره پاتے ہی ابلا ہوا ہوگئی۔ کامران کو کچھ دیر تک اس جنونی آدمی کی گالیاں سنائی دیتی رہیں لیکن اس نے ان گالیوں کی پروا نہ کی وہ تیزی سے آگے بڑھتا رہا۔
چلتے چلتے آخر دوپہر ہوگئی۔ اور سورج سر پر آگیا تھا۔ قامران کو اب دھوپ کے ساتھ بھوک بھی لگی تھی۔ اور ابلا بھی خاصا سفر کر چکی تھی اسے بھی آرام کی ضرورت تھی۔ تب کامران نے سائے اور پانی کی جستجو شروع کر دی۔ کچھ دير ادھر ادھر بھٹکنے کے بعد آخر اسے پانی کی روانی دکھائی دی۔ ایک بہتا در یا اس کے سامنے تھا۔ دریا کے کنارے ہی چند درختوں کا جھنڈ تھا۔ یہاں ابلا کے لیے پانی اور خوراک تھی۔ کامران نے ابلا کی پیٹھ سے اتر کر اس کے منہ سے لگام کھینچ لی۔ ابلا ہری ہری گھاس پر دشمن کی طرح ٹوٹ پڑی۔ ابلا کو خوراک مہیا کرنے کے بعد کامران کو اپنی فکر ہوئی۔ وہ کافی دیر سے نہایا نہیں تھا۔ پہلے اس نے سوچا کہ ذرا دریا میں غوطے لگا کر جسم ہلکا پھلکا کر لیا جائے پھر کھانے کی تلاش کی جائے گی۔ یہ سوچ کر اس نے دریا میں چھلانگ لگا دی۔ تیز دھوپ کے باوجود دریا کا پانی بے حد ٹھنڈا تھا۔ کامران کو دریا میں نہانے کا بڑا مزہ آرہا تھا۔ وہ لمبے لمبے غوطے لگاتا دور تک چلا جاتا۔ پھر وہ اس وقت دریا سے نکلا جب بھوک ناقابل برداشت ہونے لگی۔ اس نے جلدی جلدی کپڑے پہنے۔ اس دوران اس کی نظر آس پاس درختوں کا جائزہ لیتی رہی۔ تب ایک درخت پر اسے چند پرندے ادھر ادھر پھدکتے نظر آہی گئے۔
کامران نے ترکش کھینچ کر کمان پر تیر چڑھایا اور نشانہ لے کر شائیں سے چلایا۔ ایک پرندہ مع تیر زمین پر آرہا۔ باقی اس درخت سے اڑ کر دوسرے درخت پر جا بیٹھے۔ کامران نے جلد ہی تین پرندے شکار کر لیے۔ پھر انہیں بھوننے اور کھانے میں دیر نہ لگی۔
کامران نے شکم سیر ہو کر گوشت کھایا اور دریا کا ٹھنڈا پانی پیا۔ وہ ایک عدد انگڑائی لے کر سوچ ہی رہا تھا کہ کسی درخت کے نیچے آرام کرے کہ اس کی نگاہ پانی کی لہروں پر پڑی۔ اس نے دریا کی لہروں میں کوئی چیز ڈوبتے ابھرتے دیکھی۔ پھر اسے یہ اندازہ لگانے میں دیر نہ لگی کہ وہ چیز کیا ہوسکتی ہے۔ یہ اندازہ ہوتے ہی اس نے ایک لمحے کی بھی دیر نہ کی۔
وہ دریا کے کنارے دور تک بھاگا جب وہ چیز اس سے خاصی پیچھے رہ گئی تو اس نے دریا میں چھلانگ لگا دی اور تیزی سے تیرتا ہوا دریا کے درمیان پہنچ گیا۔ پھر اس انسانی لاش کو بہت آسانی سے نکال کنارے تک لایا۔ پھر اسے گھسیٹتا ہوا دریا کے کنارے لے آیا۔
کامران نے سب سے پہلے اس کے سینے پر ہاتھ رکھا۔ اس کا جسم گرم تھا اور دل ابھی بند نہ ہوا تھا۔ تب اس نے اسے فورا الٹا کر دیا اور اسے دبا دبا کر اس کے پیٹ سے پانی نکالنے لگا پانی نکالنے کے بعد اس نے اسے سیدھا لٹا دیا اور اس کے پاؤں کے انگوٹھے زور زور سے سہلانے لگا۔ اس پر ابھی تک غشی طاری تھی۔
ویسے پانی میں ڈوبے اسے زیادہ دیر نہ ہوئی تھی اسکی زندگی خطرے سے باہر تھی اور وہ کچھ ہی دیر میں حواسوں میں آنا چاہتا تھا۔
کامران نے اس کے چہرے پر نظر ڈالی۔ یہ عمر تو خودکشی کی نہ تھی۔ وہ ایک بھر پور نوجوان تھا۔ اس کے جسم پر جو لباس تھا وہ اگر چہ جگہ جگہ سے پھٹ گیا تھا لیکن اس کی امارت کا پتہ دیتا تھا۔ نوجوان کے جسم پر کسی قسم کے زخم یا چوٹ کا نشان موجود نہ تھا جس سے اس کے ساتھ کسی حادثے ہونے کا پتہ چلتا اگر اس نے خودکشی کی ہے تو آخر کیوں؟
قامران ابھی ان خیالات میں تھا کہ اس نوجوان نے آنکھ کھول دی اور اس طرح اٹھ کر بیٹھ گیا جیسے اسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
”نوجوان کون ہوتم؟‘‘ کامران نے اسے دلچسپی سے دیکھتے ہوئے کہا۔
”پاگل“ اس نے عجیب بیزاری سے کہا۔
کامران کو فورا ہی وہ جنونی یاد آ گیا جس نے اس کے سر پر پتھر دے مارا تھا۔ قامران نے سوچا کہ کیا آج کے دن پاگلوں ہی سے ٹکراؤ ہوگا۔
"دوست مجھے تو تم کہیں سے بھی پاگل نظر آتے۔“ قامران نے کہا۔
”پاگل کیسے ہوتے ہیں؟" اس نوجوان نے پوچھا۔
"پاگل تو دوسروں کو پتھر مارتے ہیں یا گالیاں دیتے ہیں یا اپنے کپڑے پھاڑ کر بستیوں میں مارے مارے پھرتے ہیں۔“ کامران نے ہنستے ہوئے کہا۔
”مسئلہ تو یہی ہے کہ میں نے آج تک کسی نے پتھر نہیں مارا کسی کو گالی نہیں دی۔ کپڑے تو میں تمہارے سامنے پہنے ہی بیٹھا ہوں۔ پھر بھی یہ دنیا والے مجھے پاگل کہتے ہیں۔“ نوجوان نے بڑی یاسیت سے کہا۔ ”آخر تنگ آ کر میں نے خودکشی کر لی تھی لیکن تم نے میری جان بچا کہ میرے کیئے دھرے پر پانی پھیر دیا۔ تم نے مجھے دریا سے کیوں نکالا بولو۔“
”نوجوان تمہارا نام کیا ہے؟“ کامران نے اس کی بات پر کان نہ دھرا۔ ”میرا نام سلارا ہے اور میں کورام کا راجکمار ہوں بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ تھا۔ دنیاوالوں نے مجھ سے میرا سب کچھ چھین لیا اور میں کسی سے کچھ نہ کہہ سکا۔ پھر جس کے لیے اتنے دکھ جھیلے وہ بھی نہ ملی۔ چند دن جھلک دکھا کر جانے کہاں روپوش ہوگئی۔“ سلارا کہہ رہا تھا۔
”کون تھی وہ‘‘ کامران نے پوچھا۔ ” اور تمہیں کہاں ملی تھی؟“
”کورام کے نزدیک بھت پرانی تہذیب کے آثار موجود ہیں۔ کہتے ہیں کہ یہ تمام کھنڈر کسی ترقی یافته بستی کے ہیں جو راتوں رات ملیا میٹ ہوگئی۔ انہی صدیوں پرانے کھنڈروں میں وہ مجھے ملی تھی۔ میں نہیں جانتا کہ وہ ان کھنڈروں میں کہاں سے آئی۔ یہ جاننے کی مجھے بھی ضرورت نہ پڑی۔ اسے دیکھتے ہی میرے ہوش جاتے رہے۔ ایسی حسین دوشیزه جو پتھر سے تراشی ہوئی تھی۔ میں نے کہاں دیکھی تھی بھلا۔ میں اپنا دل ہار بیٹھا۔ کچھ اس نے بھی لگاوٹ دکھائی اور اس دوران کھنڈر حسن و عشق کے قصیدوں سے گونجتا رہا۔ اور پھر دنیا والوں نے مجھے پاگل قرار دے دیا۔ پاگل کہنے میں میرا چچا پیش پیش ہوا میرے پاگل قرار دیئے جانے کے بعد وہ کورام کا راجہ بن بیٹھا اور میں در در کا بھکاری بن گیا......“ سلارا نے ایک سانس لی اور چند لمحوں کے لیے خاموش ہوگیا۔
”کسی کو چاہنا تو پاگل پن کی دلیل نہیں..... پھر تمہیں پاگل کس طرح قرار دیا گیا۔ وہ بھی ایسا پاگل کہ تمہیں راجہ بننے سے روک دیا گیا۔۔۔۔؟ قامران نے پوچھا۔
”وہ بات ہی ایسی ہے تم بھی سنو گے تو یہی کہو گے۔“ سلارا نے قامران کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا۔ "اپنے آپ کو پاگل سنتے سنتے میرے کان پک گئے ہیں۔ میں نہیں چاہتا تم مجھے پاگل کہو یا ایسی نظروں سے دیکھو کہ میں خود کو حواس باختہ سمجھنے لگوں۔ بہتر ہوگا کہ تم مجھے دریا میں ڈوب جانے دو۔" اتنا کہہ کر سلارا کھڑا ہوگیا اور دریا کی طرف دوڑنے لگا۔ اور اس سے پہلے کہ وہ دوباره دریا میں ڈوب مرنے کے لیے چھلانگ لگاتا، کامران نے تیزی سے اٹھ کر اسے اپنی گرفت میں لے لیا۔ سلارا نے ایک دو مرتبہ اس کی گرفت سے نکلنے کی کوشش کی لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکا۔ تب قامران نے اسے سمجھایا۔
”سلارا زندگی کی قدر کرنا سیکھو۔ تم ابھی بہت کم عمر ہو۔ تم نے دنیا میں ابھی دیکھا ہی کیا ہے۔ مایوس نہ ہو مجھے ساری باتیں ذرا تفصیل سے بتاؤ اور یہ بات اپنے دل سے نکال دو کہ میں تمہیں پاگل کہوں گا تمہاری بستی کے لوگ اگر تمہیں پاگل کہتے ہیں تو کہنے دو تم مجھے کہیں سے بھی پاگل نظر نہیں آ رہے۔ میں نے اگر چہ ابھی پوری بات نہیں سنی لیکن مجھے شبہ ہونے لگا ہے کہ یہ جال تمہارے چچا کا پھیلایا ہوا ہے۔“ قامران اس کا ہاتھ پکڑ کر دوبارہ درختوں کے جھنڈ میں لے آیا۔
”نہیں ایسا نہیں ہوسکتا۔‘‘ سلارا نے اسے بیٹھے ہوئے کہا ۔ "وہ بات ایسی ہے کہ اس میں سازش چل ہی نہیں سکتی۔ ہاں یہ ضرور ہوا کہ میرے چچا نے اس صورتحال سے پورا پورا فائده اٹھايا اور میرا حق مار کر کورام کا راجہ بن بیٹھا۔“
"اچھا اب اپنے پاگل قرار دیئے جانے کی وجہ بیان کردو“ کامران سلارا کو راہ راست پر لایا
”ٹھیک ہے سنو مجھ پر جو گزری ہے میں اس کا حرف حرف سنائے دیتا ہوں لیکن اس تک پہنچنے میں ذرا دیر لگے گی...تھوڑا صبر سے کام لینا۔‘‘ سلارا نے کہا۔
”میں کتنا صابر ہوں اس کا اندازہ تمہیں ابھی ہو جائے گا۔ تم ذرا اپنا قصہ چھیڑو تو۔" قامران نے ہنستے ہوئے اس کا بازو دبایا۔
"جیسا کہ میں تمہیں بتا چکا ہوں کہ میں کورام کا راجکمار ہوں۔ میرے والد کچھ عرصے پہلے کورام کے راجہ تھے۔ اب وہ اس دنیا میں نہیں رہے لیکن کورام کی رعایا آج بھی ان کے نام کی مالا جپتی ہے اور وہ تھے بھی اسی قابل۔ وہ اپنی رعایا سے بیٹوں کی طرح پیار کرتے تھے وہ اپنی رعیت کے کسی بھی فرد کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتے تھے۔ انہیں دنیا میں ایک ہی شوق تھا اور وہ بھی شیر کے شکار کا۔ انہوں نے اپنی زندگی میں کئی شیر مارے۔ وہ بنیادی طور پر ایک نڈر اور بہادر آدمی تھے اور چچا کڑوچ کو شیر کے شکار سے بڑا ڈر لگتا تھا۔ اگرچہ وہ کورام کے سالار تھے انہیں یقینی طور پر جی دار آ دمی ہونا چاہیئے تھا۔ میرے والد کورام کے راجہ شکار پر جاتے تو حکومت کڑوچ کے ہاتھ میں آ جاتی۔ راجہ کے کورام سے نکلتے ہي راجه محل میں ناچ رنگ کی محفلیں آراستہ ہونے لگتیں. اوباش قسم کے عہدے دار چچا کڑوچ کے گھر گھیرا ڈال لیتے۔ میرے باپ کو ناچ رنگ سے کوئی دلچسپی نہ تھی اس لیے ان کے ہوتے تو کسی کو کھل کر کھیلنے کا موقع نہ ملتا تھا۔ ان کے کورام چھوڑتے ہی تمام چوہے بلوں سے نکل آتے اور ماہ دو ماہ تک جب تک وہ شکار پر رہتے وہی تباہی مچاتے۔ میں خاموش تماشائی کی طرح رات میں ہونے والی رنگین محفلوں کو دیکھا کرتا۔ مجھ میں ہمت تھی۔ پھر میں کیا راج محل کے کسی آدمی میں ہمت نہیں کہ وہ کورام کے راجہ کو کورام کے سالار کی حرکتوں سے آگاہ کر دے۔ ایک آدھ بار کسی نے ڈھکے چھپے لفظوں میں راجہ کو بتانے کی کوشش بھی کی تو چچا کڑوچ نے اس کے ساتھ انتہائی سفاکانہ سلوک کیا۔ پھر اس کے بعد کسی کو ہمت نہ ہوئی کہ راجہ کو کچھ بتا دے۔ میرے باپ کو اپنے بھائی پر بہتان لگانا پسند نہ تھا اور وہ ان کے بارے میں کوئی الٹی سیدھی بات سننے کے لیے تیار نہ تھے اس لیے میں نے خود کو ان معالات سے الگ رکھا۔ ویسے بھی چچا کڑوچ کے متعلق میرے منہ سے نکلی ہوئی بات میرے باپ و اچھی نہ لگتی۔ ایک نو عمر لڑکا کورام کے سالار کے بارے میں کچھ کہتا تو وہ چھوٹا منہ بڑی بات والی بات ہوتی۔ میں نے سوچا کہ ایسی باتیں زیادہ چھپی نہیں رہ سکتیں ایک وقت آئے گا کہ سب راجہ کے سامنے عیاں ہو جائے گا۔ پھر میں خواہ مخواہ کیوں اپنے باپ کی نگاہ سے گروں۔ میں نے خود کو اس ماحول کی کثافت سے نکالنے کے لیے اپنے باپ کے ساتھ شکار پر جانا شروع کردیا۔ شکار میں میری دلچسپی دیکھ کر میرے والد بہت خوش ہوتے اور انہوں نے آہستہ آہستہ شیر کے شکار کی باریکیوں سے مجھے آگاہ کرنا شروع کیا۔ تب مجھے معلوم ہوا کہ وہ شیر کے شکار کے کس قدر ماہر تھے۔ ایک مرتبہ کڑوچ کو جانے کیا سوجھی کہ وہ راگ رنگ کی محفلوں کو چھوڑ کر ہمارے ساتھ شکار پر ہو لیا۔ انہیں اپنے ساتھ چلتا دیکھ کر کورام کے راجہ مسکرائے بنا نہ رہ سکے اور مجھے خاصی حیرت ہوئی کیونکہ راگ رنگ کی محفل آراستہ کرنا اور شیر کا شکار دو متضاد چیزیں ہیں۔ بظاہر میں نے خوشی کا اظہار کیا اگر نہ بھی کرتا چچا کڑوچ کا کچھ نہ بگڑتا............بس یہاں سے میری مصیبت کے دن شروع ہوئے۔“ اتنا کہہ کر سلارا خاموش ہوگیا۔ پھر وہ انگلی سے ریت پر نشان بنانے لگا۔ چند لمحوں بعد اس نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور گہرے سانس لے کر پھر یوں گویا ہوا۔
”چچا کڑوچ کا وہ پہلا اور آخری شکار تھا۔ اس دن میرے باپ کو حادثہ پیش آیا۔ انہوں نے شکار کھیلتے وقت چچا کڑوچ کو اپنی ہی مچان پر بٹھا لیا تھا جبکہ میں سامنے والی مچان پر تھا۔ میں نیچے چارہ پر نظر رکھے ہوئے تھا ہانکا جاری تھا۔ اور شیر کچھ ہی دیر میں برآمد ہونے والا تھا۔ پھر جانے کیا ہوا۔۔۔۔؟ وہ حادثہ کس طرح پیش آیا۔ بہر حال میں نے اپنے باپ کو گرتے دیکھا جبکہ چچا کڑوچ درخت کی چند موٹی ٹہنیوں سے لٹکے ہوئے تھے۔ شیر کا شکار کرنے والے خود ہی شکار ہو گئے تھے۔ مچان جانے کس طرح ٹوٹ گئی تھی۔ زمین پر گرتے ہی ان کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ میں تیزی سے نیچے اترا ہانکا رکوایا اپنے باپ کو اٹھا کر کاندھے پر لایا اور چند آدمیوں کی مدد سے چچا کڑوچ کو درخت سے اتارا۔
میرے والد اس دن زمین پر ایسے گرے کہ پھر کھڑے نہ ہو سکے۔ حکیم وید اپنا اپنا علاج کر کے تھک گئے میرے والد کی زندگی اب چھپر کھٹ تک محدود ہوگئی تھی اور چچا کڑوچ کے ہاتھ میں حکومت کی ڈور آ گئی تھی۔ میرے باپ اب خود سے مایوس ہو چکے تھے اور وہ چاہتے تھے کہ میں اب راج گدی سنبھال لوں۔ اس کا ذکر انہوں نے کڑوچ سے بھی کیا۔ چچا نے یہ تجویز بٹی خندہ پیشانی سے سنی اور انہوں نے مجھے راج سنگھاسن پر بٹھانے کے انتظامات کرانے کی حامی بھر لی۔ جب مجھے یہ معلوم ہوا کہ کی بہت جلد راج سنگھاسن پر بٹھایا جانے والا ہوں تو اس رات مجھے بالکل نیند نہ آئی۔ ایک طرف حکومت ملنے کی خوشی تھی تو دوسری طرف اپنی کم عمری اور ناتجربہ کاری کا غم.....پھر بھی میں نے طے کیا ہوا تھا کہ جو کچھ بھی ہوتا ہے ہو لیکن میں چچا کڑوچ کے ہاتھ میں حکومت نہیں رہنے دوں گا۔ جس رات مرے باپ نے مجھے راج گدی دینے کا ذکر چچا کڑوچ سے کیا۔ وہ رات میرے باپ کے لیے آخری ثابت ہوئی۔ جانے کیا ہوا بس مچان ہی کی طرح اچانک وہ اس دنیا سے کوچ کر گئے۔ حالانکہ اب تک ان کی طبیعت بالکل ٹھیک ٹھاک تھی۔ ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ جانے کی وجہ سے وہ اٹھ بیٹے نہیں پاتے تھے۔ بس یہی انہیں تکلیف تھی۔ ویسے وہ اچھے خاصے صحت مند تھے۔ کہتے ہیں کہ آدمی کو چند گھنٹے پہلے اپنی موت کا پتہ چل جاتا ہے۔ شاید اسی لیے انہوں نے چچا کڑوچ سے راج گدی میرے حوالے کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی لیکن ان کی زندگی نے وفا نہ کی اور وہ مجھے چچا کے رحم و کرم پر چھوڑ کر اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ کورام میں چالیس دن تک اپنے راجہ کا سوگ منایا گیا۔ ظاہر تھا کہ مجھے سوگ کے دوران راج سنگھاسن پر بٹھانے کی رسم ادا نہیں کی جاسکتی تھی۔ اس عبوری دور کے لیے کڑوچ نے حکومت سنبھال لی اور کورام میں ہر طرف ان کا سکہ چلنے لگا۔ پھر انہی دنوں ایک مجسمہ نکلنے کا شہرہ ہوا۔ ہوا یوں کہ کسی نے پرانے کھنڈرات کے نزدیک ایک گڑها دیکھا۔ یہ گڑھا سرنگ کی طرح کافی اندر چلا گیا تھا۔ گمان ہوا کہ کسی جنگلی جانور نے یہاں نقل مکانی نہ کر لی ہو آبادی نزدیک ہی تھی۔ لہذا سوچا گیا کہ اس گڑھے کو فوراً مسمار کر دیا جائے تا کہ وہ جنگلی جانور کہیں اور چلا جائے۔ کورام کے چند آدمیوں نے مل کر پہلے خوب شور شرابا کیا کہ اگر کوئی جانور کھوہ میں موجود ہو تو نکل کر آ جائے لیکن وہاں کوئی نہ تھا۔ تب لوگوں نے اسے مسمار کرنا شروع کر دیا جیسے جیسے گڑھا کھدتا وہ بجائے ختم ہونے کے بڑھتا جاتا۔ کچھ دور تک کھودنے کے بعد کھدائی بند کردی گئی اور ایک مضبوط دل گردے کے آدمی کو اس سرنگ میں بھیجا گیا جو اب چھوٹا سا گڑھا نہ رہی تھی۔
ابھی اس آدمی کو اندر گئے زیادہ دیر نہ ہوئی تھی کہ اس کی تین چیخوں کی آواز سنائی دی۔ باہر کھڑے سارے لوگ تو پریشان ہو گئے۔ وہ آدمی پسینے میں شرابور فوراً ہی سرنگ سے باہر نکلا اور باہر کھڑے ہو کر کانپنے لگا۔
”کیا ہوا؟“ کسی نے پوچھا۔
”اندر سیڑھیاں ہیں...“ وہ بمشکل بولا
"سیڑھیاں‘‘ وہاں کے تمام لوگ حیران رہ گئے۔
تب فوراً ہی چچا کڑوچ کو کھنڈرات میں سرنگ برآمد ہونے کی اطلاع دی گئی۔ انہوں نے
قائم مقام سالار کو تحقیق کے لیے روانہ کر دیا۔ کھنڈرات کے چاروں طرف پہرہ بٹھا دیا گیا۔ اب کوئی عام آدمی سرنگ میں جانا تو دور کی بات ہے سرنگ کے پاس سے گزر ہی نہیں سکتا تھا۔ رات میں مجھے بھی سرنگ بر آمد ہونے کی اطلاع مل گئی تھی لیکن مجھے ان ٹوٹی پھوٹی عمارتوں میں، گئے وقتوں کی یادگاروں سے بھی کوئی دلچسپی نہیں تھی اس لیے میں نے اس خبر کو ایک کان سے سنا دوسرے سے نکال دیا۔ یہ جاننے کی کوشش بھی نہ کی کہ سرنگ سے کیا برآمد ہوا۔
شام کو جب میں تیار ہو کر سیر کے لیے نکلنے والا تھا تو چچا کڑوچ کا بلاوا آ پہنچا۔ میں ان کے حضور دست بستہ حاضر ہوا۔ انہوں نے مجھے کیل کانٹے سے لیس دیکھ کر پوچھا۔
”کہیں جارہے تھے کیا؟“
”ہاں...سیر کو؟“ میں نے بڑے مودبانہ انداز میں جواب دیا۔
"آج کھنڈرات کے نزدیک جو سرنگ بر آمد ہوئی ہے اس کے بارے میں کچھ سنا؟" کڑوچ نے میری طرف گہرائی سے دیکھتے ہوئے کہا۔ "صرف اتنا سنا ہے کہ کوئی سرنگ بر آمد ہوئی ہے۔"
”اس سرنگ کے اندر کیا ہے یہ نہیں معلوم...؟‘‘
”نہیں“ میں نے نفی میں گردن ہلائی۔
”بہتر ہوگا کہ آپ اسے دیکھنے چلے جائیں سرنگ میں سے ایک حسین مجسمہ برآمد ہوا ہے۔ مجسمہ کسی نوعمر لڑکی کا ہے اور ایسا جیتا جاگتا ہے کہ اسے نظر بھر کر دیکھو تو اس میں حرکت پیدا ہوتی معلم ہوتی ہے‘‘ چچا کڑوچ نے میرے جذبہ تجسس کو ابھارنے کی کوشش کی۔
مجھے اگر چہ ان پتھروں کے مجسموں سے کوئی بھی دلچسپی نہ تھی جیسا کہ میں تمہیں ابھی بتا چکا ہوں لیکن میں نے یہ سوچ کر کہ چچا کڑوچ مجھے بدذوق نہ سمجھیں میں نے اس مجسمے کو دیکھنے کی حامی بھر لی۔ مجھے وہاں پہنچانے کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے۔ میں قائم مقام سالار کے ساتھ کھنڈرات کی طرف روانہ ہوا۔ جب ہماری سواری کھنڈرات میں پہنچی تو میں نے دور تک وہاں سناٹا پھیلا ہوا دیکھا سرنگ پر دو سپاہی تعینات تھے۔ انہوں نے ہمیں دیکھ کر جھک کر سلام کیا جس کا جواب میں نے گردن کے ایک خفيف اشارے سے دیا۔
”راجکمار میں باہر ہی ٹھہرتا ہوں آپ اطمینان سے اندر چلے جائیں“ سالار نے کہا
مجھے اکیلے جانے میں بھلا کیا اعتراض ہوسکتا تھا۔ میں فوراً ہی آگے بڑھا اور بے دھڑک سرنگ میں داخل ہوگیا۔ اب سوچتا ہوں تو پچھتاتا ہوں۔ کاش۔۔۔! میں نے اپنی بد ذوقی کا ثبوت دے دیا ہوتا۔ کاش....! میں نے مجسمہ نہ دیکھا ہوتا تو پھر دنیا کا کوئی شخص مجھے پاگل نہیں کہہ سکتا تھا۔ خیر تھوڑی دور آگے جا کر سیڑھیاں شروع ہوگئیں جو کہیں نیچے کی طرف چلی گئی تھیں مگر سیڑھیوں پر قدم رکھتے ہوئے میں نے اس سپاہی کو بھی واپس کردیا جو میرے پیچھے پیچھے چلا آیا تھا۔ پھر میں بے خوفی سے سیڑھیاں اترنے لگا۔ یہ بے خوفی مجھے اپنے باپ سے ورثے میں ملی تھی جوں جوں میں سیڑھیاں اتر رہا تھا روشنی بڑھتی جا رہی تھی۔ آخر وہ دروازه آ پہنچا جس دروازے سے گزر کر مجھے اس مجسمے کے دیدار کرنے تھے۔ دروازے میں داخل ہوتے ہی مجھے وہ مجسمہ نظر آ گیا۔
وہ ایک سفید پتھر کا بے حد حسین مجسمہ تھا۔ میں نے اس پر ایک نظر ڈالی تو دیکھتا ہی رہ گیا۔ میں نے چچا کڑوچ کا دل ہی دل میں شکریہ ادا کیا جنہوں نے مجھے یہاں بھیج کر زبردست احسان تھا۔ یہ مجسمہ واقعی اس قابل تھا کہ اسے دیکھا جائے۔ میں آہستہ آہستہ مجسمے کی طرف بڑھنے لگا۔ کچھ آگے جا کر میں رک گیا اور اس مجسمے کو غور سے دیکھنے لگا۔
مجسمہ جانے کتنا پرانا ہوگا۔ ممکن ہے صدیوں پرانا ہو۔ میں سوچنے لگا لیکن اس کی آب و تاب ابھی تک ماند نہ پڑی تھی۔ کہیں سے ٹوٹا پھوٹا بھی نہ تھا۔ یہ مجسمہ کسی نوخیز شعلہ بدن لڑکی کا تھا۔ جو اپنے لباس سے بڑی رقاصہ معلوم ہوتی تھی۔ اس کی آنکھیں اس کے ہونٹ اس کے رخسار ایسے تھے کہ ساری رات ان پر شعر کہے جاسکتے تھے۔ اس کے جسم کے نشانوں پر ہزار داستانیں گھڑی جاسکتی تھیں۔
چند لمحوں کے لیے مجھے اپنا ہوش نہ رہا۔ میں اس مجسمے کے حسن میں ڈوب گیا اور بے اختیار میرا جی چاہا کہ کاش۔۔۔! اس وقت لڑکی خود میرے سامنے ہوتی اس کا مجسمہ نہ ہوتا۔ یہ مجسمہ کسی طرح جی اٹھتا۔
ابھی میں اس خیال کی گرفت میں ہی تھا کہ کہیں سے "چھن" کی آواز آئی جیسے کہیں گھنگھرو بجا۔ میری نظر بے اختیار اس مبجسمے کے پاؤں پر گئی۔ اس کے پاؤں میں گھنگرو موجود تھے۔
کیا یہ آواز اس کے پاؤں سے آئی۔۔۔۔؟ میں اس احمقانہ خیال پر دل ہی دل میں ہنسا۔ یہ مجسمہ جیتا جاگتا تو تھا لیکن ایسا جیتا جاگتا بھی نہیں کہ اپنا پاؤں حرکت میں لے آئے۔
ایک مرتبہ پھر ”چھن“ کی آواز آئی۔
میری نظر اس کے پاؤں پر ہی تھی۔ اس کے پاؤں مجمند تھے۔
پھر کئی بار مسلسل ”چھن چھن چھن“ کی آوازیں آئیں اور خاموشی چھا گئی۔ اس مجسمے کے پاؤں پر میری مسلسل نظریں تھیں میں یقین سے کہہ سکتا ہوں اس میں ذرا بھی جبنش نہ ہوئی تھی لیکن گھنگرو کی آواز بھی اپنی جگہ حقیقت تھی میرے کانوں نے پورے وثوق سے ان آوازوں کو سنا تھا۔
عجب ماجرا تھا............ جب معما تھا۔
مسلسل چھنا چھن ہونے لگی جیسے کوئی رقاصہ ایک جگہ کھڑی تیزی سے اپنے پاؤں کو حرکت دے رہی ہو۔ اب میرے دل میں خوف پیدا ہو چلا تھا۔ گھنگھروں کی گھن گرج چند لمحوں تک آتی پھر ایک دم سناٹا چھا جاتا۔
اب جو میں نے مجسمے پرنظر ڈالی تو ششدر رہ گیا۔ مجسمے کے پیچھے سے ایک ہاتھ نکلا ہوا دکھائی دیا ہاتھ مجسمے جیسا تھا۔
ایک جھلک دکھا کر سیمیں ہاتھ اندر چلا گیا۔
پھر چھن کی آواز کے ساتھ دوسرا ہاتھ برآمد ہوا پھر تھوڑی دیر میں وہ بھی غائب ہوگیا۔
اس مرتبہ ایک ٹانگ باہر آئی۔ پھر وہ ٹانگ اندر ہوئی تو دوسری نکلی۔ اس کے بعد زور سے چھن چھنا چھن ہوئی اور اس مجسمے کے پیچھے سے ایک اور مجسمہ برآمد ہوا۰۰۰۰۰۰ جیتا جاگتا، گوشت پوست کا۔
اب میرے سامنے دومجسمے تھے برابر برابر کھڑے ہوئے ایک ہی انداز میں لیکن ایک میں زندگی تھی اور دوسرا زندگی سے عاری تھا۔
میں کبھی اس کو اور کبھی اس کو دیکھتا تھا۔
پھر میں بے قرار ہو کر آگے بڑھا۔
مجھے آگے بڑھتا دیکھ کر ایک مجسمے کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی پھر اس میں حرکت ہوئي گھنگھرو چھن چھن بج اٹھے۔
میں نے چاہا کہ اسے اپنی گرفت میں لے لوں لیکن وہ بلا کی تیز نکلی۔ مجھے اپنی طرف آتے دیکھ کر رقص کے انداز میں بڑی سرعت سے پیچھے ہٹی اور رقص کی طرح لہرائی سیڑھیوں کی طرف بڑھی
میں نے بھی برق رفتاری دکھائی اور تیزی سے سیڑھیاں چڑھتا ہوا اوپر پہنچا۔
جب میں سرنگ سے باہر نکلا تو سالار میری آمد کا منتظر تھا۔ مجھے آتا دیکھ کر وہ تیزی سے میری طرف بڑھا۔ میں نے اس کا چہرہ غور سے دیکھا...........اس کا چہرہ سپاٹ تھا۔ پھر میں نے سپاہیوں کو بھی غور سے دیکھا لیکن مجھے ان کے چہروں پر کوئی ایسی بات نظر نہ آئی جس سے یہ ظاہر ہو کہ انہوں نے کوئی غیرمعمولی بات رونما ہوتے ہوئے دیکھی ہے۔
میرے اندر طوفان آیا ہوا تھا۔ میں نے سالار کے قریب آتے ہی اس سے سوال کیا۔ "وہ لڑکی کہاں گئی"
”کون سی لڑکی راجکمار" سالار کے لہجے میں بے پناہ حیرت تھی۔
"وہ ابھی تو نیچے سے بھاگتی ہوئی اوپر آئی ہے۔“ میں نے ذرا تیز لہجے میں کہا۔
”لیکن راجکمار یہاں تو کوئی لڑکی نہیں آئی جب سے آپ اندر گئے ہیں میں مسلسل یہیں کھڑا ہوں....راجکمار کہیں آپ کو دھوکا تو نہیں ہوا۔“
”ایسا کیسے ہو سکتا ہے وہ لڑکی میرے سامنے سیڑھیوں تک آئی ہے۔ وہ بالکل ویسی تھی جیسا که مجسمہ“
میری اس بات نے ان دونوں سپاہیوں کے چہرے پر ہلدی مل دی۔ وہ خوف سے کانپنے لگے۔
”نہیں راجکمار“ سالار بھی خوفزدہ ہوئے بنا نہ رہ سکا۔ ”ذرا آیئے میرے ساتھ۔“
پھر ہم دونوں نے مل کر اوپر سے نیچے تک یہاں سے وہاں سے کوئی جگہ نہ چھوڑی لیکن اس لڑکی کا سراغ نہ مل سکا البتہ اس کا مجسمہ ویسے ہی اپنی جگہ کھڑا تھا۔
مجھے چکر سا آگیا۔ وہ تو سالار نے مجھے تھام لیا ورنہ میں زمین پر گر جاتا۔ پھر راستے بھر وہ مجھے سمجھاتا ہوا آیا۔ اس نے یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ میں نے جاگتی آنکھوں سے کوئی خواب دیکھا ہے مجسمے سے نکلنے والی لڑکی میرا واہمہ تھی۔
سالار کے سمجھانے پر میں "ہاں ہاں“ کرتا گیا لیکن میرا دل اسے واہمہ ماننے کو تیار نہ تها۔

تمام اردو کہانیاں پڑھنے کے لیے کلک کریں 

سفید محل - پارٹ 18

Urdu stories online, Urdu stories for kids, Short Urdu stories, Urdu Kahaniyan, Famous Urdu stories, Urdu stories with moral, Best Urdu stories collection, Urdu stories for students, Urdu love stories, Urdu horror stories, Urdu stories for reading, Urdu stories in Urdu text, Funny Urdu stories, Urdu stories for beginners, Urdu detective stories, Urdu motivational stories, Urdu stories for adults, Urdu moral stories, Urdu stories for children, Urdu true stories, Urdu suspense stories, Urdu emotional stories, Urdu adventure stories,
Reactions