کالا جادو

Sublimegate Urdu Stories 1

‎مسعود کا تعلق اچھے گھرانے سے تھا لیکن بری صحبت کے نتیجے میں وہ جوئے اور سٹے کی عادت میں مبتلا ہوگیا تھا۔ اسی چکر میں وہ اتفاق سے ایک سادھو کے پاس جاپہنچا جو کالے جادو کا ماہر اور پراسرار قوتوں کا مالک تھا۔ سادھو نے اسے لالچ دے کر اپنے ایک شیطانی عمل کیلئے آلۂ کار بنانا چاہا اور مسعود کے انکار پر اس کا دشمن ہوگیا۔ یہاں تک کہ اس نے مسعود کے ذہن پر قابو حاصل کرکے اس کے ہاتھوں دو افراد قتل کروا دئیے۔ پھر جب اسے پھانسی کی سزا ہوگئی تو سادھو نے عین وقت پر اسے بچا لیا کیونکہ وہ ہر قیمت پر اسے بطور آلۂ کار استعمال کرنا چاہتا تھا۔ مسعود بھٹکتا ہوا ایک گھر میں جاپہنچا جس کے مکینوں سے اسے اپنا داماد سرفراز سمجھ لیا کیونکہ وہ اس کا ہم شکل تھا۔ مسعود اپنی فطری شرافت کے سبب اس لڑکی سے دور رہا جسے سب اس کی بیوی قرار دے رہے تھے۔ بالآخر سرفراز واپس آگیا اور مسعود کو دوبارہ جیل میں آنا پڑا لیکن اس گھر کے افراد مسعود کی شرافت کے باعث اس کے گرویدہ ہوگئے تھے۔ گھر کے سربراہ شاہ صاحب مسعود سے ملنے جیل آئے تاکہ اس کی مدد کرسکیں۔
****‎
‎لیکن تم نے جو کچھ کہا ہے دوسرے لوگ اس پر یقین کریں یا نہ مجھے کچھ کچھ اس پر یقین آتا جارہا ہے خاص طور سے ان تحقیقات کے بعد… میں یہ نہیں کہتا کہ قانون میں تمہارے لیے کوئی لچک پیدا ہوسکتی ہے، تمہارا مقدمہ ازسرنو تیار ہورہا ہے اور سرکاری وکیل اس سلسلے میں فیصلے کررہے ہیں کہ اب تمہارے لیے کیا کیا جائے۔ لیکن میں ذاتی طور پر کوشش کروں گا کہ تمہیں جس حد تک رعایتیں مل سکتی ہیں، ملیں۔ اس کے علاوہ میرا تم سے ذاتی طور پر وعدہ بھی ہے کہ میں تمہارے والدین کو ذاتی طور پر تلاش کروں گا۔ اگر انہیں قانون کے ہاتھوں کوئی نقصان پہنچنے کا خطرہ ہوا تو کم ازکم میں اس کا ذریعہ نہیں بنوں گا…‘‘

‎’’شاہ صاحب! میں ابھی تو نہیں، اگر وقت ملا تو پھر کسی وقت آپ کو اپنی روداد غم سنائوں گا۔ آج تک میں نے اپنی یہ کہانی کبھی کسی کو اس لیے نہیں سنائی کہ لوگ مذاق اڑانے کے علاوہ کچھ نہیں کریں گے۔ یہ ایک ایسی کہانی ہے جس کا حقیقتوں سے دور کا واسطہ بھی نظر نہیں آئے گا لیکن… لیکن میرے ساتھ یہ سب کچھ ہوا ہے۔ شاہ صاحب! میں آپ سے یہ بھی مدد مانگوں گا کہ میری اس سلسلے میں روحانی رہنمائی کی جائے۔‘‘
‎’’میرے پاس بہت زیادہ وقت نہیں ہے لیکن تم اطمینان رکھو۔ میں تمہارے معاملے میں براہ راست ملوث ہوچکا ہوں اور تمہیں اکیلا نہیں چھوڑوں گا۔‘‘
‎’’شکریئے کے الفاظ کے علاوہ مجھ جیسے نادار شخص کے پاس اور کیا ہوسکتا ہے شاہ صاحب!‘‘

‎’’میرا نام امتیاز عالم شاہ ہے۔ اگر کبھی کسی مسئلے میں میری ضرورت پیش آئے تو کسی سے کہہ دینا۔ ویسے میں جیلر صاحب سے بھی تمہارے سلسلے میں کچھ سفارشیں کروں گا۔ کم ازکم تمہیں کوئی ایسی تکلیف نہیں پہنچائی جائے گی جس سے تم بددلی کا شکار ہو۔ اچھا! اب میں چلتا ہوں۔‘‘ شاہ صاحب چلے گئے۔ لیکن میرے لیے آنسوئوں اور آہوں کے سوا اور کچھ نہیں چھوڑ گئے تھے۔ میرا دل چاہ رہا تھا کہ پھوٹ پھوٹ کر روئوں۔ کیا ہورہا ہے یہ سب کچھ، کیا کیا ہوتا رہے گا، کوئی امید ہے بہتری کی۔ کچھ ہوسکتا ہے میرے لیے، کوئی کچھ کرسکتا ہے؟ اس شیطان کے ساتھ کوئی تعاون کیا جاسکتا ہے کیا؟ اس کی ناپاک خواہش کی تکمیل کیا مجھ سے ممکن ہے۔

‎مجھے عدالت میں پیش کیا گیا۔ کمرۂ عدالت کے باہر میں نے ریحانہ بیگم اور سرفراز کو دیکھا۔ ان کے ساتھ بیرسٹر اشتیاق اور فاضلی بھی تھے جنہوں نے مجھ سے وکالت نامے پر دستخط کرائے اور بولے۔
‎’’مجھ سے کچھ دیر سے رابطہ قائم کیا گیا۔ تم سے تمہارے کیس کے بارے میں بہت کچھ پوچھنا ہے مگر کوئی بات نہیں۔ آج مقدمے کی سماعت نہیں ہوگی، میں تاریخ لے لوں گا۔‘‘
‎میں نے شکرگزار نگاہوں سے ریحانہ بیگم کو دیکھا اور آنسو بھرے لہجے میں بولا۔
‎’’بیگم صاحبہ! آپ میرے لیے یہ زحمت کیوں کررہی ہیں؟‘‘
‎’’ایسی باتیں کیوں کرتے ہو مسعود…؟‘‘
‎’’ضروری ہے بیگم صاحبہ! خدا کے لیے یہ سب کچھ نہ کریں، مجھے میری تقدیر پر چھوڑ دیں۔ میرے سلسلے میں یہ سب کچھ آپ کے حق میں بہتر نہیں ہوگا۔ خدا نہ کرے آپ کسی مصیبت میں گرفتار ہوں۔‘‘
‎’’تمہاری شرافت نے ہمیں خرید لیا ہے مسعود، ہم تمہارے مقروض ہیں، ہمیں ادائیگی کرنے دو۔‘‘
‎’’بیگم صاحبہ! میری ایک اور مشکل ہے۔ وہ میری زندگی سے زیادہ اہم مسئلہ ہے۔ اگر آپ انسانیت کے رشتے کچھ کرنا چاہتی ہیں تو اس سلسلے میں کچھ کردیجئے۔‘‘
‎’’ہاں! بتائو۔‘‘
‎’’میرے والدین میری وجہ سے دربدر ہوئے ہیں۔ ڈی ایس پی امتیاز عالم شاہ صاحب کو اس بارے میں سب کچھ معلوم ہے۔ اگر ان کا پتا مل جائے تو انہیں سہارا دیں۔ میرے اوپر بہت بڑا احسان ہوگا۔‘‘ میری آنکھوں میں آنسو آگئے، آواز رندھ گئی۔
‎ریحانہ بیگم کی آنکھیں بھی نمناک ہوگئی تھیں پھر انہوں نے آہستہ سے کہا۔ ’’تم مجھے ان کے بارے میں تفصیل بتا دو مسعود! اطمینان رکھو، میں ان کا پورا پورا خیال رکھوں گی…‘‘

‎’’امتیاز عالم صاحب سب کچھ جانتے ہیں، آپ انہی سے معلومات کرلیجئے۔ ویسے بھی اس وقت سب کچھ بتانا ممکن نہیں ہے۔‘‘ سرفراز نے کہا۔
‎’’ٹھیک ہے، ٹھیک ہے۔ ہم خود یہ سب کام کرلیں گے، تم مطمئن رہو اور اپنی طرف سے بھی پریشان نہ ہونا۔ ہم انتہائی حد تک کوشش کریں گے۔ ہمت سے کام لینا، باقی جو خدا کا حکم ہوگا، وہی ہوگا۔‘‘

‎مجھے واپس جیل لے آیا گیا۔ دوسرے دن نئے بیرسٹر صاحب سرفراز کے ساتھ جیل پہنچے۔ مجھ سے کافی دیر تک باتیں کرتے رہے اور میں نے انہیں تمام تفصیلات بتا دیں۔ سرفراز بھی حیران تھا۔ غالباً اسے پہلی بار اس ساری کہانی کا علم ہوا تھا۔ وہ ناقابل یقین سی نگاہوں سے مجھے دیکھ رہا تھا لیکن اس نے میری باتوں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا تھا، بس خاموش رہا تھا۔ اشتیاق احمد صاحب نے تفصیلات مکمل کیں۔ ویسے بھی وہ میری فائل حاصل کرچکے تھے جو ان کے پاس موجود تھی۔ بڑے قانون دانوں میں شمار ہوتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے مجھے اطمینان دلایا اور کہا کہ وہ کوئی ترکیب نکالیں گے جس سے میری یہ مصیبت ٹل سکے۔

‎وہ لوگ چلے گئے۔ میرے لیے روشنی کی کوئی کرن نہیں تھی۔ یہ بے چارے اپنے طور پر کوششیں تو کرسکتے تھے، لیکن جس شیطان سے میرا واسطہ تھا، اس کی چالیں انسانی چالیں نہیں تھیں اور اس کے سفلی علوم کے مقابلے میں ان نیک لوگوں کی کوششیں بے اثر ہی تھیں… ہاں! ان لوگوں کے ذریعے اگر میرے اہل خاندان کو کچھ سہارا مل جائے تو میرے لیے یہی کافی تھا۔

‎اپنی طرف سے تو میں مایوس ہوچکا تھا لیکن کبھی کبھی دل و دماغ میں ایک عجیب سی کیفیت پیدا ہوجاتی تھی۔ بھوریا چرن کم بخت کہہ کر گیا تھا کہ جب بھی میں اسے آواز دوں گا، وہ میرے پاس آجائے گا اور آواز دینے کا مطلب یہ ہے کہ میں اس کے مکروہ فعل کے لیے آمادہ ہوچکا ہوں۔ سچی بات یہ ہے کہ اپنے اندر کا یہ جذبہ خود میری سمجھ سے باہر تھا۔ جن مشکل ترین حالات میں بسر کررہا تھا، ان سے گھبرا کر تو دنیا کا مکروہ سے مکروہ ترین کام بھی کیا جاسکتا تھا، لیکن نجانے کیوں بھوریا چرن کی بات ماننے کے لیے اندر سے آمادگی ہی نہیں پیدا ہوتی تھی۔ یہ بات خود میری اپنی سمجھ سے باہر تھی۔ آخر ان برے حالات میں جبکہ میں اپنے لیے نہ سہی ماں، باپ کے لیے بری طرح پریشان تھا، میں بھوریا چرن کی بات ماننے کے لیے کیوں نہیں تیار ہورہا تھا جبکہ میرے لیے اور کوئی سہارا بھی نہیں تھا۔
‎وقت گزرتا رہا اور میں اپنی عجیب و غریب کیفیات کا شکار رہا۔ پھر غالباً کچھ ہوا تھا شہر میں! بے شمار لوگ قیدیوں کی حیثیت سے جیل لائے جارہے تھے۔ غالباً کوئی سیاسی ہنگامہ تھا جس کی وجہ سے بڑی افراتفری نظر آرہی تھی اور جیلیں بھرتی جارہی تھیں۔

‎پھر ایک شام ہم لوگوں کو تیار کیا جانے لگا۔ قیدیوں کو ہتھکڑیوں کے علاوہ بیڑیاں بھی پہنا دی گئیں اور انہیں ایک جگہ جمع کیا جانے لگا۔ میں بھی ان لوگوں میں شامل تھا۔ بعد میں مجھے دوسروں سے پتا چلا کہ ہمیں کسی اور جیل میں منتقل کیا جارہا ہے اور یہ فیصلہ ان سیاسی ہنگاموں کی وجہ سے ہے جن سے جیلوں میں نفری بڑھتی جارہی ہے۔ کئی گاڑیاں ہمیں لے کر چل پڑی تھیں۔ کہاں جارہے ہیں، کہاں تک سفر کرنا ہے، کچھ معلوم نہیں تھا۔ دوسرے قیدیوں کی طرح میں بھی خاموشی سے سر جھکائے گاڑی میں بیٹھا ہوا تھا۔ جیلوں سے کیا فرق پڑتا ہے، صرف جگہ بدل جاتی ہے۔ قیدی تو قیدی ہی ہے۔ چنانچہ اس بارے میں کیا تردد ہوسکتا تھا۔ البتہ سفر کافی طویل تھا اور بری طرح بھری ہوئی گاڑی میں اتنے لمبے سفر سے جوڑ جوڑ دکھ گیا تھا۔ بالآخر منزل آگئی اور قیدی نیچے اترنے لگے۔

‎نئی جیل کسی گرم علاقے میں تھی اور صحیح معنوں میں جیل تھی۔ کوٹھریاں انتہائی بوسیدہ، دیواریں ٹوٹے پھوٹے پلستر سے آراستہ، فرش میں جگہ جگہ سوراخ جن میں حشرات الارض کا بسیرا تھا۔ اسی لحاظ سے یہاں کا عملہ تھا۔ سخت بدمزاج لوگ یقینی طور پر ایسے موسم کے ستائے ہوئے، کبھی سیدھے منہ بات نہیں کرتے تھے۔ باہر کا علاقہ سبزے سے خالی تھا۔ سیاہ ڈنٹھلوں والی بدنما جھاڑیاں البتہ وہاں نظر آتی تھیں۔ مچھروں اور دوسرے حشرات الارض نے زندگی حرام کردی۔

 نہ رات کو سکون کی نیند نصیب ہوتی تھی، نہ دن کو چین تھا۔ صبرآزما وقت گزرتا گیا۔ اس دوران کسی سے رابطہ نہیں ہوسکا تھا۔ ہفتہ، مہینہ اور پھر تقریباً تین ماہ گزر گئے۔ زندگی سب کچھ جھیل لیتی ہے۔ جہاں ایک دن زندہ رہنے کا تصور نہ کیا جاسکے، وہاں تین ماہ گزر چکے تھے اور زندہ تھا اور مجھ سے پہلے کے لوگ سالہاسال سے جی رہے تھے۔ ہاں! طبیعت میں چڑچڑا پن پیدا ہوگیا تھا۔ ہر چیز کو نفرت سے دیکھنے کی عادت ہوگئی تھی۔ جھلستے دن، جھلستی راتوں میں زندگی آگے بڑھتی رہی۔ وسیع و عریض جیل کے چپے چپے سے واقف ہوگیا تھا۔ اب نہ گھر والے یاد آتے تھے، نہ باہر کی رنگین دنیا سے کوئی دلچسپی تھی۔ بھوریا چرن بھی غائب تھا۔ کسی شکل میں وہ نہیں نظر آیا تھا۔ اس کے تصور کے ساتھ ہی منہ سے گالیاں ابل پڑتی تھیں۔ بڑی تبدیلی محسوس ہوتی تھی خود میں۔ پھر ایک دن جیل کے مغربی کونے میں کیاریاں سنبھال رہا تھا کہ بیرونی دروازے سے ایک بڑا ٹرک اندر داخل ہوا۔ اس ٹرک میں قیدی لائے اور لے جائے جاتے تھے۔ ہمیں ان باتوں سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی تھی۔ ٹرک سے قیدی اتارے جانے لگے۔ منظر چونکہ بالکل سامنے تھا، اس بے دھیانی کے انداز میں قیدیوں کو اترتے دیکھتا رہا۔ لیکن ایک قیدی کو دیکھ کر میں لرز گیا۔ وہ میرا چھوٹا بھائی محمود تھا جو ہتھکڑیوں میں جکڑا ہوا تھا۔ میرے ہاتھ، پائوں بے جان سے ہوگئے، آنکھوں میں اندھیرا سا چھا گیا۔ میں نے آنکھیں مل مل کر اسے دیکھا۔ آہ! بینائی دھوکا نہیں دے رہی تھی۔ یہ میرا بھائی ہی تھا۔ میرا چھوٹا بھائی! بھلا اپنے خون کو نہیں پہچان سکتا تھا۔ محمود کو نہیں پہچان سکتا تھا، اپنے محمود کو… میرا محمود! منہ سے آواز نہیں نکل رہی تھی مگر سارا وجود مجسم آواز بن گیا تھا۔ قیدیوں کو آگے لے جایا گیا اور میری نگاہیں ان کا تعاقب کرتی رہیں۔ وہ بیرک آٹھ کی طرف جارہے تھے۔ یہی میری بیرک تھی۔ سپاہی قریب آکر رک گیا اور اس نے تلخ لہجے میں کہا۔
‎’’آرام ہورہا ہے…؟‘‘

‎’’نہیں.. نہیں صاحب!‘‘ میں فوراً ہوش میں آگیا۔ کام کرنے لگا مگر اندر سے جو کیفیت ہورہی تھی، میرا دل جانتا تھا۔ محمود گرفتار ہوگیا۔ شاہ صاحب مجھے بتا چکے تھے کہ محمود کے ہاتھوں بھی قتل ہوگیا ہے، وہ بھی قاتل ہے اور نہ جانے اسے کیا سزا ملی ہے۔ دل سینہ توڑ کر نکلا آرہا تھا۔ نہ جانے دن کیسا گزرا، کچھ اندازہ نہیں ہوسکا تھا۔ رات کو بیرک میں آگیا۔ کھانا بھی نہ کھایا گیا۔ میرے ساتھی رئیس خان نے پوچھا۔
‎’’کیا بات ہے مسعود! طبیعت تو ٹھیک ہے؟‘‘
‎’’ہاں!‘‘
‎’’کھانا کیوں نہیں کھایا؟‘‘
‎’’دل نہیں چاہا رئیس صاحب!‘‘
‎’’دل…؟ یہاں بھی دل ساتھ لائے ہو بھیّے…!‘‘ اس نے مسکراتے ہوئے کہا اور میں بھی مسکرایا۔
‎’’نئے قیدی آئے ہیں۔‘‘ میں نے کہا۔
‎’’ہاں! آتے جاتے رہتے ہیں۔‘‘
‎’’کونسی کوٹھریوں میں رکھے گئے ہیں؟‘‘
‎’’تقسیم ہوگئے ہیں۔‘‘
‎’’کچھ ادھر بھی تو لائے گئے ہیں۔‘‘
‎’’ہاں! وہ تین کوٹھریاں بھری نظر آرہی ہیں۔‘‘ رئیس خان نے ایک طرف اشارہ کرکے کہا اور میری نظریں ادھر کا طواف کرنے لگیں۔ انہی میں سے کسی میں محمود موجود تھا۔ محمود جسے ساری کہانیاں معلوم ہوں گی۔ امی کے بارے میں، ابو کے بارے میں، میری بہن کے بارے میں..! دل تڑپ رہا تھا۔ بیرک میں خاموشی طاری ہوگئی بس کبھی کبھی سنتری کے بوٹوں کی آواز سنائی دیتی اور اس کے پائوں نظر آجاتے۔ اس کے سوا کوئی آواز نہیں تھی۔ دل میں خیال آیا۔ کیا محمود سزائے موت کا مجرم ہے۔ قتل کے نتیجے میں اس کی توقع تو کی جاسکتی تھی۔ اسے کیا سزا دی گئی ہے؟ کیا میں ہمیشہ کے لیے اپنے بھائی سے محروم ہوجائوں گا؟ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ دنیا کیوں نہیں سمجھتی کہ یہ مجرموں کا گھرانہ نہیں ہے۔ ہم مصیبت زدہ لوگ ہیں، ہمارے ساتھ یہ سلوک نہیں ہونا چاہیے۔ ہم پر رحم کیا جائے، ہمارے ساتھ انصاف کیا جائے۔ کیوں نہیں سمجھتی دنیا! کیا یہ کبھی نہ سمجھ پائیں گے کہ یہ سب کچھ ایک شیطان کا کیا دھرا ہے؟ ہمارا کوئی قصور نہیں ہے۔ وہ شیطان مجھے ایک گندے کام پر اکسانا چاہتا ہے۔

 وہ ایک مقدس مزار کی بے حرمتی کرانا چاہتا ہے میرے ہاتھوں! اپنے کالے جادو کو مکمل کرنے کے لیے وہ میرا سہارا طلب کررہا ہے اور میں اپنے عقیدے کے مطابق اس گندی کوشش میں اس کا ساتھ نہیں دے رہا۔ میرے ساتھ رحم کیوں نہیں کیا جاتا۔ یہ سب اس شیطان کے آلۂ کار کیوں بن گئے ہیں۔ یہ میرا ساتھ کیوں نہیں دیتے اور اگر میں شیطنیت پر اتر آئوں تو پھر یہ روتے، چیختے پھریں گے۔ کیوں نہیں سوچا جاتا میرے بارے میں، کیوں نہیں کرتے یہ کچھ میرے لیے … سب اس شیطان کا ساتھ دے رہے ہیں۔ آج اگر میں برائی کے راستے اپنا لوں، اپنے دین کے راستے چھوڑ کر اس شیطان بھوریا چرن کا ساتھی بن جائوں تو پھر یہ سب میرے تلوے چاٹیں گے۔ شیطنیت کا راج کیوں قائم ہونے دیا جارہا ہے، کیوں اکسایا جارہا ہے مجھے، اگر محمود کو پھانسی ہوگئی، اگر وہ سزا پا گیا تو میں اپنے آپ پر قابو نہیں رکھ پائوں گا۔ سن لو میری بات! اگر تم نے مجھ سے میرا بھائی چھین لیا تو میں تم سے تمہاری زندگی چھین لوں گا۔ آخر میں بھی انسان ہوں، میرے بھی جذبات ہیں۔ میں بھی غلط راستوں پر نکل سکتا ہوں۔ روکو مجھے غلط راستوں پر جانے سے… لیکن یہ دل کی خاموش چیخیں تھیں جنہیں سننے والا کوئی نہ تھا۔ اس روئے زمین پر کوئی نہیں سنے گا میری بات! مجھے اپنی بات سنانی پڑے گی۔ ان لوگوں کو عمل کرکے دکھانا پڑے گا۔ جذبات کے یہ بول ان کے کانوں تک نہیں پہنچیں گے، کبھی نہیں پہنچیں گے۔ عمل چاہیے عمل… آہ! ورنہ میں محمود کو ہمیشہ روتا رہ جائوں گا۔ اتنی بے بسی اچھی نہیں ہے۔ مجھے محمود کے لیے کچھ کرنا ہوگا، کچھ کرنا ہوگا۔
‎دل میں لہریں اٹھنے لگیں۔ ہاتھ، پائوں میں اکڑن سی پیدا ہوگئی۔ رئیس خان گہری نیند سو رہا تھا۔ کم بخت کو پتا نہیں یہ نعمت کہاں سے مل گئی تھی۔ وہ سو جاتا تھا تو اگر اس کے جسم کا کوئی حصہ بھی کاٹ دیا جاتا تو شاید اسے صبح ہی کو اس کا پتا چلتا۔ اتنی گہری نیند سوتا تھا وہ… آنکھوں کی نمی خشک ہوگئی تھی، ایک جلن سی پیدا ہوگئی تھی ان آنکھوں میں…

 دماغ میں بھی کچھ سیاہ سے دھبے ابھر آئے تھے جو محسوس ہورہے تھے۔ میں پوری سنجیدگی سے سوچ رہا تھا کہ اپنے لیے میں کچھ نہیں کرسکا لیکن بھائی کے لیے مجھے کچھ کرنا ہوگا۔ دماغ اس وقت عجیب سی کیفیت کا حامل ہوگیا تھا چنانچہ سازشیں جنم پانے لگیں اور جب صبح کی روشنی نمودار ہوئی تو میرے ذہن میں پورا پروگرام بن چکا تھا۔ اس وقت میرے وجود میں ایک نیا انسان جاگ اٹھا تھا اور میں کم ازکم اسے بھوریا چرن نہیں کہہ سکتا تھا۔ میں راستے متعین کرتا رہا، فیصلے کرتا رہا اور میں نے اپنے وجود کے بارے میں کسی کو پتا نہیں چلنے دیا۔ آج میں ایک زیادہ ذہین اور خودمختار انسان تھا۔ کسی قسم کی بے کسی اور بے بسی کا کوئی احساس میرے ذہن میں نہیں تھا۔ رات کو معمول کے مطابق بیرک میں آگیا، کھانا وغیرہ بھی کھا لیا تھا۔ رئیس خان نے تبصرہ بھی کیا تھا مجھ پر کہ کل کی نسبت آج میری کیفیت بالکل درست ہے اور میں نے قہقہہ لگا کر اس سے کہا تھا کہ بیماری روزانہ تو نہیں ہوتی۔ دن کی روشنی میں… میں نے محمود کو دیکھا تھا اور اس بیرک کو بھی جس میں اسے رکھا گیا تھا۔ ہر احساس، ہر خطرے سے بے نیاز ہوکر میں نے اپنے منصوبے پر عمل کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا۔
‎وقت آہستہ آہستہ گزرتا رہا، بیرکوں میں سناٹے پھیلتے چلے گئے، سنتری ڈیوٹی پر آگیا اور جیل کی دنیا خاموش ہوگئی۔ حالانکہ میں جانتا تھا کہ اس سناٹے میں ہزاروں آوازیں پوشیدہ ہیں، نجانے کتنے جاگ رہے ہوں گے، نہ جانے کتنے رو رہے ہوں گے لیکن یہ رونا بے آواز ہوتا تھا، ان کے صرف دل روتے تھے۔ جیل کا اندرونی حصہ تاریک تھا لیکن باہر روشنی تھی۔ رات کی ڈیوٹی والا سنتری بدستور بیرک میں گشت کررہا تھا اور میں اب اپنے کام کے لیے تیار تھا۔ سنتری کے قدموں کی آواز مجھے اپنی کوٹھری کی طرف آتی ہوئی محسوس ہوئی تو میں ڈراما کرنے کے لیے تیار ہوگیا۔ میں نے اپنے دانتوں سے اپنی کلائی کاٹ لی اور اس سے خون بہنے لگا۔ تب ہی میں اپنی جگہ سے کھسکتا ہوا سلاخوں والے دروازے کی نزدیک لیٹ گیا اور میرے حلق سے اذیت ناک کراہیں نکلنے لگیں۔ البتہ میں نے اتنا شور نہیں کیا کہ دوسرے قیدی بھی سن لیں۔ تدبیر کارگر ہوئی۔ سنتری میرے پاس آکر رک گیا۔
‎’’کیا ہوا؟ کیا بات ہے…؟‘‘ اس نے پوچھا۔

‎’’کسی جانور نے کاٹ لیا ہے۔ سانپ لگتا تھا، اسی سوراخ میں جاگھسا ہے۔‘‘ میں نے ایک سوراخ کی طرف اشارہ کیا اور کلائی اس کے سامنے کردی۔ کلائی سے بہتے ہوئے خون اور میری گھٹی گھٹی آواز نے اس کے دل میں ہمدردی جگا دی اور اس نے جلدی سے چابی نکال کر تالا کھول دیا۔ غلطی کی تھی اس نے، یہاں انسانیت کی بڑی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔ یہ قیمت اسے بھی ادا کرنی پڑی۔ جونہی اس نے میرے زخم کو چہرے کے قریب کیا، میں نے اس کی گردن دبوچ لی۔ وہ گھبرا گیا مگر بیکار تھا۔ میں نے پوری قوت صرف کردی اور اسے منہ سے آواز نکالنے کا موقع بھی نہیں دیا۔ پتا نہیں بے چارہ مر گیا تھا یا صرف بے ہوش تھا۔ میں نے اسے بے سدھ پا کر آہستہ سے اپنی جگہ لٹا دیا اور پھر اس کے پاس موجود چابیوں کا گچھا قبضے میں کرلیا۔ باہر نکل کر میں نے تالا بند کیا اور آگے بڑھ گیا۔
‎دوسرا سنتری اپنا چکر پورا کرکے اسی طرف آرہا تھا۔ میں نے بیرک کے موڑ پر اس کا استقبال کیا۔ جونہی وہ موڑ گھوما، میرا طاقتور گھونسہ اس کی ناک پر پڑا اور ناک کی چوٹ بہت سے مسئلے حل کردیتی ہے۔ میں نے اس سے پورا پورا فائدہ اٹھایا اور اسے گرنے نہ دیا۔ وہی گُر میں نے اس پر بھی آزمایا تھا جس سے پہلے سنتری کو سنبھالا تھا۔ جب مجھے اس کے بے حس و حرکت ہوجانے کا یقین ہوگیا تو میں نے اسے ایک تاریک جگہ لٹا دیا۔ تقدیر شاید اس وقت میری طرف سے بے نیاز تھی۔ کیونکہ میں اپنی اس پہلی کوشش میں کامیاب ہوگیا تھا۔ اس کے بعد مجھے محمود کی کوٹھری تلاش کرنے میں دقت نہیں ہوئی۔ میں چابیوں کے گچھے کی تمام چابیاں آزمانے لگا اور ایک چابی نے اس کوٹھری کا دروازہ کھول دیا۔ اندر چار قیدی تھے جن میں ایک محمود تھا۔ وہ زمین پر آرام سے سو رہا تھا۔ میں نے اسے دیکھا۔ دل میں پیار کے بہت سے پھول کھل اٹھے لیکن یہ عمل کا وقت تھا۔ ابھی بہت مشکل مراحل تھے۔ میں اس کے قریب بیٹھ گیا۔ پھر میں نے اس کے کان کے قریب ہونٹ لے جاکر سرگوشی کی۔ ’’محمود… جاگو… محمود… محمود…‘‘ اس کے بدن میں جنبش ہوئی تو میں نے پھر سرگوشی کی۔ محمود… جاگو… وہ اچھل پڑا۔ میں نے پھرتی سے اس کا منہ بھینچ لیا تھا۔ اس نے میری کلائی پر ہاتھ ڈال دیا۔ کافی مضبوط گرفت تھی۔ ایک مکمل مردانہ گرفت جو میرے ہاتھ کو منہ سے ہٹا سکتی تھی۔ میں نے اس کے کان کے پاس سرگوشی کی۔ میرے الفاظ اس کی سماعت نے محسوس کرلیے، اس نے انہیں سمجھ لیا جس کا اندازہ اس کی گرفت کے ڈھیلے پڑ جانے سے ہوا تھا۔ وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے مجھے دیکھ رہا تھا۔ میں نے پھر کہا۔

‎’’ہوشیار ہوجائو محمود! یہ نہ سوچو میں یہاں کیسے آگیا۔ یہ سب بعد میں معلوم ہوجائے گا تمہیں۔ خود کو سنبھالو، پوری طرح ہوشیار ہوجائو۔ ہمیں جیل سے فرار ہونا ہے۔ کیا تم جاگ گئے ہو۔‘‘
‎اس نے گردن ہلا دی اور میں نے اس کے منہ سے ہاتھ ہٹا لیا۔ وہ پھرتی سے اٹھ کر بیٹھ گیا۔ میں نے اسے ہاتھ کا سہارا دے کر کھڑا کیا۔ اس نے ایک نگاہ اپنے قریب سوئے ہوئے قیدیوں پر ڈالی اور دوسری کھلے دروازے پر! پھر وہ گردن جھٹکنے لگا۔
‎’’آئو…‘‘ میں نے اس کا ہاتھ پکڑکر دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے کہا اور وہ بے آواز چلتا ہوا کوٹھری سے باہر نکل آیا۔ اب وہ پوری طرح مستعد نظر آرہا تھا۔ باہر اس نے کچھ فاصلے پر پڑے ہوئے دوسرے سنتری کو دیکھا اور تیزی سے آگے بڑھ کر اس کی رائفل اٹھا لی، ساتھ ہی کارتوسوں کی پیٹی بھی۔ یہ میں نے نہ کیا تھا، نہ سوچا تھا، مگر اس سلسلے میں وہ مجھ سے آگے نظر آرہا تھا… پھر ہم دونوں بے آواز، قیدیوں کی کوٹھریوں کے سامنے سے گزرتے ہوئے بیرک کے دروازے کی طرف بڑھنے لگے جس کے دوسری طرف موت بھی تھی اور زندگی بھی…!
‎جیل سے فرار اتنا آسان نہیں ہوتا جتنا ہم نے سمجھا تھا، لیکن میرے لیے نہ زندگی اتنی دلکش تھی نہ موت، یہ بھی نہیں کہتا کہ جینا نہیں چاہتا تھا۔ کون نہیں جینا چاہتا۔ بس جو بیت رہی تھی اس نے زندگی کو عذاب بنا دیا تھا۔ ہاں اپنے بھائی کی زندگی کی خاطر میں ہزار بار مرنے کے لیے تیار تھا۔ اُس نے ابھی اس دُنیا میں دیکھا ہی کیا تھا، جو کچھ ہوا تھا میری وجہ سے ہوا تھا۔ میں زندگی سے محروم ہو جائوں مگر میرا محمود…!

‎’’لائو یہ رائفل مجھے دے دو۔‘‘ میں نے سرگوشی کی۔
‎’’نہیں بھائی جان، اسے میرے پاس رہنے دیں۔‘‘ اس نے فوراً جواب دیا۔ اس کے انداز میں بڑی پختگی تھی۔ جس پر مجھے حیرت ہوئی تھی۔ بیرک کے باہر بھی خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ ہم بیرک کی دیوار سے لگے آگے بڑھنے لگے۔ سرچ ٹاور پر سنتری مستعد تھے۔ سرچ لائٹ گھوم رہی تھی۔ کئی بار ہم اس کی زَد میں آتے آتے بچے۔ ایک جگہ دیوار تعمیر ہو رہی تھی۔ مجھے یہ بات یاد آگئی اور میں نے ادھر ہی کا رُخ کیا۔ میں نے تقدیر ہی کا سہارا لیا تھا۔ اگر محمود کو نہ دیکھتا تو شاید فرار کا تصور بھی نہ کر پاتا، لیکن اب صرف میری ایک ہی آرزو تھی کہ محمود کو لے کر جیل سے نکل جائوں۔ صحیح معنوں میں تو میں نے اب جرم کیا تھا یعنی دو سنتریوں کو زخمی کر کے اور یہ جرم اپنے بھائی کی محبت میں کیا تھا، ورنہ ایسا کبھی نہ کرتا۔ ٹوٹی دیوار کے قریب بھی ایک سنتری کی ڈیوٹی لگی ہوئی تھی مگر وہ سو گیا تھا۔ ہم نے اسے دیکھ لیا مگر اس سے پہلے کہ میں کوئی فیصلہ کروں محمود نے عمل بھی کر ڈالا۔ اس نے سوتے ہوئے سنتری کو دبوچ لیا تھا۔ کچھ دھینگا مشتی ہوئی اور پھر خاموشی چھا گئی۔ محمود نے دوسرے سنتری کی رائفل مجھے دے کر کہا۔
‎’’اسے سنبھالیے بھائی جان!‘‘ میں نے رائفل پکڑ لی۔ بس کچھ تقدیر ہی کا فیصلہ تھا کہ ہم اس ٹوٹی دیوار کے سہارے باہر نکل آئے، حالانکہ یہ سب کچھ ممکن نہیں تھا۔ لیکن وقت ہماری مدد کر رہا تھا۔ جیل سے باہر آ کر یقین نہیں آ رہا تھا۔ تاحدِ نگاہ گہرا سناٹا چھایا ہوا تھا۔ کچھ دُور تک ہمیں بہت محتاط ہو کر دوڑنا پڑا اور جب جیل کے ٹاور کی روشنی غائب ہوگئی تو ہم نے اطمینان کا سانس لیا، اب آبادی کی روشنیاں زیادہ دُور نہیں تھیں۔
‎میں نے محمود کو آواز دی تو وہ رُک گیا۔ ’’تھک گئے بھائی جان۔‘‘
‎’’بالکل نہیں۔ مگر شہر میں داخل ہونا خطرناک ہوگا، ہمارے جسم پر قیدیوں کا لباس ہے۔‘‘

‎’’شہر میں تو داخل ہونا پڑے گا۔ وہیں کچھ بندوبست ہو سکتا ہے۔‘‘ محمود نے کہا اور پھر بولا۔ ’’آیئے دیکھتے ہیں۔‘‘ میں آگے بڑھ گیا۔ وہ مجھ سے کہیں زیادہ مستعد
نظر آ رہا تھا۔ رائفل اس نے اس طرح سنبھالی ہوئی تھی جیسے ضرورت پڑنے پر اسے بے دریغ استعمال کرے گا۔ اس کی نگاہیں دُور دُور تک کا جائزہ لے رہی تھیں۔ ہم شہر میں داخل ہو گئے اور تاریک راستوں کا سہارا لیتے ہوئے بالآخر ایک ایسی جگہ پہنچ گئے جسے رہائشی علاقہ کہا جا سکتا تھا۔ ایک بنگلے کے سامنے محمود رُک گیا۔ اس نے چاروں طرف کا جائزہ لے کر کہا۔
’’آپ یہاں رُکیں بھائی جان! ہوشیار رہیں اوّل تو میں کسی ہنگامے کا موقع نہیں دوں گا مگر کچھ ہو جائے تو آپ خود سمجھ سکتے ہیں کہ کیا کرنا مناسب ہوگا۔‘‘
’’مگر محمود…؟‘‘
’’صرف لباس کے حصول کی کوشش کروں گا اور کچھ نہیں، آپ فکر نہ کریں۔‘‘ میں بنگلے کے سامنے ایک درخت کے پاس پہنچ گیا، تاریکی کے باوجود محمود کی حرکات کا جائزہ لے سکتا تھا۔ اس کے ہر کام میں بڑی مہارت کا احساس ہوتا تھا۔ اس مختصر وقت میں اسے سب کچھ کیسے آ گیا۔ وہ بنگلے میں داخل ہو کر نگاہوں سے اوجھل ہوگیا اور میں نے گردن اُٹھا کر درخت کو دیکھا۔ اس کی پھیلی ہوئی شاخوں تک پہنچنا مشکل نہیں تھا۔ وہاں سے میں بنگلے کے احاطے کے اندر دیکھ سکتا تھا، چنانچہ میں فوراً درخت پر چڑھ گیا۔ بنگلہ اندر سے تاریک تھا۔ مجھے کچھ نظر نہ آ سکا اور میں تاریکی میں آنکھیں پھاڑ رہا تھا۔ پھر میرے کانوں میں کچھ مدھم مدھم چیخوں کی آوازیں اُبھریں اور میں نے رائفل سنبھال لی لیکن چیخیں دوبارہ نہ سنائی دی تھیں۔ کوئی دو منٹ کے بعد بنگلے میں کچھ روشنی نظر آئی۔ یہ روشنی کسی کھڑکی کے شیشوں سے جھلکی تھی۔ میرا دل دھاڑ دھاڑ کر رہا تھا۔ جان آنکھوں میں سمٹی آ رہی تھی۔ بدن پر ہلکی ہلکی لرزش طاری تھی۔ نہ جانے اندر کیا ہو رہا ہے، نہ جانے محمود…

وقت کس طرح گزرا کوئی احساس نہ ہو سکا، مجھ پر لرزہ طاری رہا۔ پھر میں نے ایک سایہ بنگلے سے برآمد ہوتے دیکھا۔ کوئی صحیح اندازہ نہیں ہو سکا تھا۔ وہ باقاعدہ گیٹ کھول کر باہر آیا اور میں نے اسے پہچان لیا۔ وہ محمود ہی تھا مگر شلوار قمیض میں ملبوس، اب اس کے ہاتھ میں رائفل کے بجائے ایک سوٹ کیس تھا جسے سنبھالے وہ باہر آیا اور پریشانی سے اِدھر اُدھر دیکھنے لگا۔ میں پھرتی سے درخت سے نیچے کود آیا تھا۔ محمود نے مجھے دیکھ لیا اور تیزی سے میرے قریب آ گیا۔ اس نے بغل سے ایک بنڈل نکال کر مجھے دیتے ہوئے کہا۔ ’’درخت کی آڑ میں جا کر لباس تبدیل کرلیں یہ آپ کیلئے بالکل درست ہوگا۔‘‘
’’اوہ ،کیا بنگلے کے مکین…‘‘
’’نہیں، ان کا خطرہ نہیں ہے۔‘‘ باتوں کا وقت نہیں تھا۔ میں نے فوراً لباس تبدیل کرلیا۔ اس دوران محمود نے سوٹ کیس سے پشاوری چپل نکال لی تھیں۔ ’’انہیں پہن کر دیکھیے خدا کرے یہ آپ کے پیروں میں آ جائیں، بس کام چل جائے بعد میں بندوبست ہو جائے گا۔‘‘ میں نے چپلیں پہنیں بالکل ٹھیک آئی تھیں۔ محمود ہنس پڑا۔ ’’یوں لگتا ہے جیسے وہاں ہمارے ہی دو بھائی اور موجود ہیں۔ ان کے جسم اور پائوں ہمارے جیسے ہیں۔‘‘
’’چوری کرنی پڑی محمود؟‘‘ میں نے تاسف سے کہا اور محمود ہنس پڑا۔
’’نہیں۔ میں نے ان سے درخواست کی تھی۔‘‘
’’کسی کو نقصان تو نہیں پہنچا؟‘‘
’’صرف اتنا کہ انہیں صبح تک بندھے پڑے رہنا پڑے گا۔ منہ میں کپڑا ٹھنسا ہوا ہے مگر ناک سے سانس لیتے رہیں گے۔ صبح کوئی نہ کوئی انہیں کھول دے گا۔‘‘ محمود نے جواب دیا۔
’’تمہاری رائفل۔‘‘
’’وہیں چھوڑ دی۔ آپ بھی پھینک دیں، بیکار ہیں اب یہ ہمارے لیے، اب ہم شریف لوگ ہیں۔‘‘
’’یہ سوٹ کیس ساتھ رکھو گے۔‘‘

’’ضروری ہے۔ آئیے، ریلوے اسٹیشن تک پیدل ہی چلنا پڑے گا۔ خدا کرے ابھی جیل میں ہمارے فرار کا اندازہ نہ ہوا ہو اور ہمیں یہاں سے نکل جانے کا موقع مل جائے۔ ہم دونوں چل پڑے، ابھی تک تو تقدیر نے ساتھ دیا تھا اور مجھے حیرت ہو رہی تھی کیونکہ میں اپنی خوش بختی سے تو بالکل مایوس تھا۔ ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ ابھی محمود کے بخت بالکل تاریک نہ ہوئے ہوں اور اس کی تقدیر سے میرا بھی کام چل رہا ہو۔ ریلوے اسٹیشن پہنچے لیکن ہمیں ٹرین کوئی سوا پانچ بجے ملی تھی اور یہ وقت جیسے گزرا ہے اللہ جانتا تھا۔ آنکھیں وحشت زدہ تھیں۔ محمود نے ٹرین کے بارے میں معلومات حاصل کر کے دو ٹکٹ خرید لیے تھے۔ ٹرین صرف دو منٹ یہاں رُکی اور ہم اس میں سوار ہوگئے۔ پورے کمپارٹمنٹ میں ایک بھی شخص جاگتا نہیں ملا۔ ہمیں آسانی سے بیٹھنے کی جگہ بھی مل گئی تھی۔ طویل ترین جدوجہد کے بعد ان لمحات کو سکون کے لمحات کہا جا سکتا تھا۔ میں نے کہا۔
’’محمود بنگلے کے مکینوں نے تمہاری صورت دیکھ لی تھی؟‘‘
’’چھپانے کی ضرورت بھی نہیں تھی۔ بھائی جان! ہمارے بارے میں تحقیقات کرنے والوں کو ہمارے سارے پروگرام کی تفصیل تو پتا چل جائے گی۔ ان کے پاس ہمارے فنگر پرنٹس بھی موجود ہیں، اس لیے ہر احتیاط بیکار تھی۔ ہم جیل سے فرار ہوئے، شہر میں داخل ہوئے، بنگلے میں چوری کی اور فرار ہوگئے۔ ہاں اصل احتیاط اب شروع ہوگی۔ میں نے لمبے سفر کا ٹکٹ خریدا ہے مگر دن کو نو بجے کے قریب قریب جو اسٹیشن آئے گا ہم وہاں اُتر جائیں گے، اگر کوئی بہتر جگہ ہوئی تو کچھ قیام کریں گے ورنہ کسی اور ذریعہ سے آگے بڑھ جائیں گے۔‘‘ اس کا کہنا درست تھا، میں خاموش ہوگیا۔ کچھ دیر کے بعد وہ بولا۔
’’کچھ دیر کے لیے آنکھیں بند کر لیں بھائی جان۔‘‘
’’اوہ! نہیں میں راتوں کو جاگنے کا عادی ہوگیا ہوں۔ تم سو جائو محمود، اطمینان سے سو جائو میں جاگ رہا ہوں۔‘‘

’’تب میں سو رہا ہوں۔‘‘ اس نے کہا اور تھوڑا سا کھسک کر آنکھیں بند کرلیں۔ وہ چند لمحات میں سو گیا، یہ اس کی ہمیشہ کی عادت تھی، وہ اسی طرح سو جاتا تھا کہ بستر پر لیٹا اور سو گیا۔ بعض اوقات یقین نہیں آتا اور ہم اس کے سونے کو مکر سمجھتے تھے۔ میں محبت بھری نگاہوں سے اُسے دیکھنے لگا۔ ماضی میرے سامنے سے گزرنے لگا۔ اس کے چہرے کی معصومیت میں ذرہ برابر فرق نہیں آیا تھا۔ وہی نیند کے عالم میں کھل جانے والے ہونٹ اور ان سے جھانکتے ہوئے دو دانت۔ بالکل ایسا ہی دہانہ شمسہ کا تھا، شمسہ میری بہن… آنکھوں کی کوریں بھیگ گئیں، کیا ہوگیا تھا یہ سب کچھ۔ کیسے منتشر ہوگئے تھے ہم سب۔ کیسے بے کل ہوگئے تھے میری وجہ سے۔ سب کچھ میری وجہ سے ہوا تھا۔ میں تو مجرمانہ ذہنیت کا حامل تھا۔ ابتدا ہی سے میرے لچھن بگڑے ہوئے تھے۔ مگر محمود… اس نے اس مختصر وقت میں جس مہارت کا ثبوت دیا تھا وہ ناقابل یقین تھی۔ میں نے تو بس اتنا ہی کیا تھا کہ بیرک کے سنتریوں پر قابو پا لیا تھا۔ یہ سب کچھ بھی جوش محبت میں بیدار ہو جانے والے طوفانی جذبات کا نتیجہ تھا۔ عام حالات میں یہ سب کچھ نہیں کر سکتا تھا مگر محمود کا ہر قدم ٹھوس تھا، کہیں بھی وہ خوف کا شکار نہیں ہوا تھا۔ حالانکہ اس نے بھی جذبات میں آ کر جرم کیا تھا مگر اس کے بعد محمود کی کہانی تاریکی میں تھی۔ یہ مہارت اسے کیسے حاصل ہوئی۔ اسے ماں باپ کے بارے میں کیا معلوم ہے۔ دل میں لاکھوں سوالات مچل اُٹھے مگر وہ سو رہا تھا، اچھا ہے تھوڑی سی نیند لے لے۔ میں اسے دیکھتا رہا۔ پھر میں نے اپنے ہمسفروں کو دیکھا، ان میں بظاہر کوئی مشکوک شخصیت نظر نہیں آتی تھی جس سے خطرہ محسوس کیا جاتا۔ اُجالا پھوٹنے لگا لیکن وہ صرف اُجالا تھا، دن اور رات کا عمل، اس کا میری تقدیر سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ساڑھے سات بجے ہوں گے جب ٹرین ایک جانے پہچانے نام کے اسٹیشن پر رُکی۔ بڑا شہر تھا، میں نے بے اختیار محمود کو جگا دیا اور اسے اس اسٹیشن کے بارے میں بتایا۔
’’آیئے۔‘‘ اس نے کہا۔ غالباً اسے بھی اس جگہ کی افادیت کا احساس ہو گیا تھا۔ ہم اسٹیشن سے باہر نکل آئے۔
’’محمود۔‘‘ میں نے اسے آواز دی۔
’’پیسوں کا کیا کریں؟‘‘
’’پیسے کافی ہیں بھائی جان۔ کوئی پندرہ ہزار روپے۔‘‘
’’ایں۔‘‘ میں چونک پڑا۔

’’مجبوری تھی بھائی جان۔ یہ بندوبست بھی وہیں سے ہوا۔ میرا مطلب ہے اس بنگلے سے کرنا پڑا۔ آپ یقین کریں ان کے پاس کوئی ساٹھ ہزار روپے کی مالیت کے زیورات بھی تھے مگر میں نے وہ انہیں واپس کر دیے۔ پیسے مجبوری تھے ورنہ ٹرین کے ٹکٹ ہی کا مسئلہ کھڑا ہو جاتا۔‘‘ میں ایک ٹھنڈی آہ بھر کر خاموش ہوگیا۔ میرے قدموں میں لرزش تھی مگر محمود مجھ سے زیادہ خود اعتمادی کا مظاہرہ کر رہا تھا۔ ہم نے ٹیکسی کو اشارہ کیا اور اس میں بیٹھ گئے۔ محمود نے ڈرائیور کو کسی عمدہ سے ہوٹل میں چلنے کے لیے کہا تھا۔ہوٹل درمیانہ سا تھا مگر ہمارے لیے بے حد مناسب۔ کمرہ بھی کشادہ تھا۔ ڈبل بستر لگا ہوا تھا۔ ملحقہ غسلخانہ تھا، پہلے میں نے غسل کیا اور یوں لگا جیسے نئی زندگی حاصل ہوئی، اس کے بعد محمود غسل خانے میں داخل ہوگیا، اس دوران میں نے ویٹر سے ناشتہ لانے کے لیے کہہ دیا تھا۔ دل و دماغ بند بند سے تھے۔ ہر لمحہ یہ احساس ہو رہا تھا کہ ہمیں صرف چند لمحات کی مہلت ملی ہے۔ اس کے بعد پھر وہی تنگ و تاریک کوٹھریاں، عدالت اور آخری فیصلہ جسے ہماری موت پر ختم ہونا تھا۔ یہ عارضی لمحات ہمیں صرف دُنیا کو دیکھنے کے لیے حاصل ہوئے ہیں۔ محمود کو جیسے کوئی احساس ہی نہیں تھا۔ ناشتہ دیکھ کر بچوں کی طرح خوش ہوگیا۔
’’میری پسند کا آملیٹ، ہری مرچوں والا۔‘‘ اس نے آملیٹ پر جھپٹتے ہوئے کہا۔ میں خود بھی اس کے ساتھ شریک ہوگیا تھا۔ ہم نے خوب ڈٹ کر ناشتہ کیا۔ محمود کی نیت کا تو مجھے اندازہ نہیں، لیکن میرے دل میں ایک عجیب سی حسرت پیدا ہو رہی تھی، یوں لگ رہا تھا جیسے کوئی کچھ دیر کے بعد آ کر کہے گا۔
’’بس اُٹھو۔ وقت ختم…‘‘
’’اب آپ آرام سے سو جائیے۔‘‘ محمود نے کہا۔
’’نہیں محمود۔ مجھے نیند نہیں آ رہی۔‘‘
’’بیمار ہو جائیں گے رات بھر کے جاگے اور تھکے ہوئے ہیں۔‘‘
’’تمہیں نیند آ رہی ہے؟‘‘
’’آ تو نہیں رہی، بستر پر لیٹوں گا تو آ جائے گی!‘‘
’’ابھی بیٹھو محمود۔ میں تم سے باتیں کرنا چاہتا ہوں۔ پتا نہیں جاگنے کے بعد کیا ہو۔ پتا نہیں۔‘‘ محمود کے چہرے پر ایک دم غم آلود کیفیت طاری ہوگئی وہ مجھے دیکھنے لگا۔ پھر بولا۔
’’آپ خوفزدہ ہیں بھائی جان۔‘‘
’’ہاں محمود۔‘‘

’’مگر میرے خیال میں ہمیں ابھی کوئی خطرہ نہیں ہے۔ وہ جادوگر نہیں ہیں کہ جادو کے زور سے پتا لگا لیں گے۔‘‘
’’میرے لیے کچھ دیر جاگ محمود۔‘‘
’’زندگی بھر جاگنے کے لیے تیار ہوں بھائی جان۔ میں تو بس آپ کے دل سے خوف دُور کرنا چاہتا ہوں۔ آپ دیکھ لیجئے مجھے بالکل خوف نہیں ہے، حالانکہ میں بھی قتل کا مجرم ہوں۔ میرے لیے سزائے موت کی پیش گوئی کر دی گئی ہے۔‘‘
’’خدا نہ کرے۔‘‘ میں نے تڑپ کر کہا۔ محمود نے ایک ایک پیالی چائے اور بنائی اور پھر بولا۔ ’’آیئے باتیں کریں۔‘‘
’’مجھے تمام صورت حال بتائو۔‘‘
’’ٹھیک ہے اس وقت سے شروع کرتا ہوں جب آپ گرفتار ہوگئے تھے۔ سب پریشان تھے، میں نے پڑھنا چھوڑ دیا تھا۔ ہماری صرف ایک آرزو تھی آپ کی زندگی بچ جائے۔ ابو کا فیصلہ تھا کہ اپنے تن کے کپڑے تک فروخت کر دیں گے آپ کی زندگی بچانے کے لیے۔ پاس پڑوس کے لوگ ہم سے نفرت کرنے لگے تھے۔ وہ ہم پر آپ کا نام لے کر آواز کستے تھے۔ لیکن فیصلہ کرلیا گیا کہ کان بند کر لیے جائیں۔ ہم پر برا وقت ہے اس کے ٹلنے کا انتظار کیا جائے۔ چنانچہ ہم خاموش رہے۔ پھر وہ منحوس وقت آ گیا جب… محمود خاموش ہوگیا۔ ہم مرجھا گئے تھے، ہم زندگی سے دُور چلے گئے تھے۔ میں ان لمحات کے بارے میں اس سے زیادہ آپ کو کچھ نہیں بتا سکتا۔ آپ کی جدائی کا وقت آ گیا، ہم آپ کی لاش لینے پہنچے مگر ہم سے کہا گیا کہ لاش ابھی نہیں دی جا سکتی۔ خاصی بھاگ دوڑ کی ہم نے مگر وہاں کچھ عجیب انداز تھا۔ ماموں ریاض نے تو اسی وقت کہا تھا کہ کچھ ہوگیا ہے، کوئی ایسی ان ہونی ہوئی جس کو کوئی نام نہیں دیا جا سکتا۔ امی تو سجدے میں چلی گئی تھیں، رات کو تین بجے تصدیق ہوگئی۔ پولیس نے چاروں طرف سے ہمارے گھر کا محاصرہ کرلیا، تب بڑے بڑے پولیس افسر اندر داخل ہوئے، چپے چپے کی تلاشی لی گئی، بہت منت سماجت کرنے پر ایک بڑے افسر نے بتایا کہ آپ کو پھانسی نہیں دی جا سکی، عین وقت پر آپ فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ ہم لوگ ایک بار پھر زندہ ہوگئے تھے مگر اب نئی مصیبت کا آغاز ہوگیا تھا، پولیس ہمارے ملنے جلنے کی بھی نگرانی کرتی تھی۔ کوئی کہیں جاتا، اس کا پیچھا کیا جاتا۔ تقریباً ایک درجن چھاپے پڑے ہمارے گھر۔ آپ کو شکور خان یاد ہوگا؟‘‘
’’ہاں۔‘‘
’’وہ دکاندار لطیف کا بیٹا۔‘‘
’’ہاں مجھے یاد ہے۔‘‘
’’غنڈہ سمجھتا تھا اپنے آپ کو۔ اکثر آواز کستا رہتا تھا، اس دن ماموں ریاض بازار گئے تھے۔ اس نے ماموں ریاض پر آواز کسی تو وہ رُک گئے۔ انہوں نے نرمی ہی سے کہا تھا کہ بھائی کسی پر برا وقت آئے تو اس کا مذاق نہیں اُڑانا چاہیے۔ لطیف خان بھی بول پڑا۔ نہ جانے کیا کیا کہا ماموں سے۔ وہ گھر واپس آئے، ہاکی لے کر گئے اور لطیف خان کا سر کھول دیا۔ میں ماموں کے پیچھے دوڑا تھا۔ لطیف خان تو زخمی ہوگیا مگر شکور نے ماموں پر حملہ کر دیا۔ پاس ہی سبزی فروش کھڑا تھا، میں نے اس کے ٹھیلے سے چھری اُٹھائی اور شکور کے سینے میں اُتار دی، بھگدڑ مچ گئی۔ مجھے اندازہ ہوگیا تھا کہ صورت حال بگڑ گئی ہے میں نے ماموں کے کان میں کہا۔

’’ماموں میں ڈاک بنگلے میں ملوں گا۔ موقع ملے تو مجھے صورتحال بتائیے۔‘‘ اور اس کے بعد میں وہاں سے نکل لیا۔ پانچ دن میں ڈاک بنگلے میں چھپا رہا۔ چھٹی رات کو ماموں آ گئے۔ بڑی احتیاط سے آئے تھے اور کچھ خاص انتظامات کر کے آئے تھے۔ شکور مرگیا تھا، ماموں گرفتار ہوگئے تھے مگر ان کی ضمانت ہوگئی تھی۔ پولیس میری تلاش میں تھی۔ ماموں نے کہا ہم گھر چھوڑ رہے ہیں، پہلے ناظم پور جائیں گے اس کے بعد کہیں اور جانے کا فیصلہ کریں گے۔ ایک مہینے کے بعد میں ناظم پور میں شفیق خالو کے ہاں ان سے مل لوں اور اس وقت بس سے نکل جائوں، وہ میرے پیسوں وغیرہ کا انتظام کر کے آئے تھے۔ چند جوڑے کپڑے بھی لائے تھے، چنانچہ میں نے ان کی ہدایت پر عمل کیا اور بس میں بیٹھ کر وہاں سے چل پڑا۔ بس فریدپور جا رہی تھی مگر میں جیسے ہی فریدپور اُترا پولیس میرے پیچھے لگ گئی۔ شاید فریدپور اطلاع دے دی گئی تھی اور میری تصویریں بھی بھیج دی گئی تھیں۔ پولیس کو چکمہ دے کر میں وہاں سے بھاگا اور ریلوے اسٹیشن پہنچ کر ریل میں بیٹھ گیا۔ ریل میں مجھے چاند خان مل گئے۔‘‘
’’کون چاند خان!‘‘
’’کوئی شناسا نہیں تھے وہیں شناسائی ہوئی۔ بہت اچھے انسان تھے پورا گروہ تھا ان کا۔‘‘
’’گروہ!‘‘
’’ہاں جیب تراشوں کا گروہ۔‘‘
’’ انہیں مجھ پر شبہ ہو گیا مگر میں نے انہیں ایک جھوٹی کہانی سنا دی۔ وہ مجھے اپنے ساتھ لے گئے اور اپنے اڈّے پر میرے قیام کا بندوبست کر دیا۔ اس محبت سے پیش آئے وہ میرے ساتھ کہ پھر میں ان سے جھوٹ نہ بول سکا اور میں نے انہیں پوری کہانی سنا دی۔ وہ پولیس اسٹیشن گئے وہاں میری تصویر موجود تھی۔ چاند خان نے مجھے وہاں سے ہٹا کر ایک خفیہ جگہ رکھا اور پھر وہ میری تربیت کرنے لگے۔‘‘
’’تربیت۔‘‘ میں نے پھر درمیان میں دخل دیا۔
’’ہاں انہوں نے مجھے چاقو چلانا سکھایا، جیب تراشی سکھائی، پستول اور رائفل کا استعمال اور نشانہ بازی۔ زندگی بچانے کے سارے گُر سکھائے انہوں نے مجھے، تاکہ کہیں پھنس جائوں تو اپنا بچائو کر سکوں۔ اس دوران وہ میرے لیے کچھ اور بندوبست بھی کر رہے تھے۔ کسی خاص جہاز کے کپتان سے ان کی دوستی تھی۔ وہ اس کا انتظار کر رہے تھے اور ان کا ارادہ تھا کہ مجھے جہاز سے نکال دیں۔ سنا ہے بحری جہازوں پر خفیہ نوکریاں بھی مل جاتی ہیں۔ مجھے چاند خان کے ساتھ کئی ماہ گزر گئے تھے۔ وعدے کے مطابق میں ناظم پور بھی نہیں جا سکتا تھا۔ ان لوگوں کا خیال ستاتا تھا اور پھر میں نے چاند خان سے اجازت لے ہی لی۔‘‘
’’کیسی اجازت؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’ناظم پور جانے کی۔ اس سے پہلے بھی میں نے کئی بار ان سے کہا تھا، لیکن انہوں نے کہا تھا کہ حالات سازگار نہیں ہیں ابھی جانا بہتر نہیں رہے گا۔ وہ لوگ ابھی ناظم پور نہ بھی گئے تو جہاں جائیں گے وہاں کے بارے میں بتا جائیں گے چنانچہ میں جلد بازی نہ کروں، پولیس سرگرم ہے۔ بالآخر چاند خان نے اجازت دے دی اور اپنا ایک آدمی میرے ساتھ کر دیا۔ ہم چھپتے چھپاتے ناظم پور پہنچے، میں نے شفیق خالو کے مکان کے دروازے میں قدم رکھا ہی تھا کہ شفیق خالو نظر آئے، مجھے دیکھ کر آتش فشاں کی طرح پھٹ پڑے، آئو دیکھا نہ تائو میرا گریبان پکڑ لیا۔‘‘
’’بدمعاش، آوارہ، خونی تجھے میرے گھر میں داخل ہونے کی جرأت کیسے ہوئی۔‘‘ آپ کو معلوم ہے بھائی جان، میں نے ہمیشہ خالو کی عزت کی، وہ بھی مجھ سے اچھی طرح پیش آتے رہے تھے، میں حیران رہ گیا۔ فوراً نکل جا یہاں سے ورنہ پولیس کو بلا لوں گا۔‘‘خالو جان بولے۔
’’خالو جان، میں ان لوگوں کے بارے میں معلوم کرنے آیا تھا۔‘‘
’’اُلٹے قدموں نکل جا ورنہ…‘‘
’’کیا امی، ابو اور دُوسرے لوگ یہاں آئے تھے؟‘‘ میں نے خود پر قابو رکھتے ہوئے پوچھا۔
’’کسی سوال کا جواب نہیں ملے گا تو یہاں سے دفعان ہو جا۔‘‘
’’مجھے صرف ان لوگوں کے بارے میں بتا دیجیے۔ کیا وہ یہاں ہیں؟‘‘
’’دارالامان ہے نا یہ تو۔ تمہارے باپ کی جاگیر ہے۔ کوئی نہیں ہے یہاں۔‘‘
’’کہاں گئے ہیں وہ کچھ بتا کر گئے ہیں۔‘‘
’’جہنم میں گئے۔ چلو نکلو یہاں سے۔‘‘ خالو مجھے دھکے دینے لگے۔ سر گھوما تھا بھائی جان، لیکن خود پر قابو رکھا، اندازہ ہوگیا تھا کہ اس وقت خالو جان، خالہ سے بھی نہ ملنے دیں گے چنانچہ وہاں سے واپس نکل آیا، لیکن اسی رات گھر کی ایک کھڑکی سے اندر داخل ہو کر خالہ جان کے پاس پہنچ گیا۔ وہ مجھے سینے سے لگا کر زار و قطار روئیں، خالو دوستوں میں گئے تھے تب انہوں نے اپنی بپتا سنائی۔‘‘
’’کیا؟‘‘ میں نے بے اختیار پوچھا۔

’’خالو جان ویسے ہی تنک مزاج انسان ہیں، ناک پر مکھی نہیں بیٹھنے دیتے اور پھر ابو سے ان کی کبھی نہیں بنی، واقعات کی کچھ بھنک انہیں بھی مل گئی تھی مگر جب یہ لوگ ان کے پاس پہنچے تو وہ ہمدردی سے پیش آئے۔ البتہ انہوں نے اسی وقت کہہ دیا کہ وہ انہیں پناہ نہ دے سکیں گے اور یہ لوگ جلد یہاں سے چلے جائیں کیونکہ اس طرح وہ خطرے میں پڑ سکتے ہیں مگر پولیس تاک میں تھی۔ خالو جان کے ہاں چھاپہ پڑا اورپولیس نے انہیں بھی پکڑ لیا۔ تین دن تک لاک اَپ میں رہے شاید پولیس نے ان سے بھی ہمارے بارے میں پوچھا تھا۔ دس ہزار روپے دے کر جان چھڑائی اور امی ابو وغیرہ کو گھر سے نکال دیا، یہ تھی خالو شفیق کی کہانی۔‘‘
’’خالہ نے کچھ بتایا کہ امی ابو کہاں گئے۔‘‘ میں نے پوچھا۔
’’انہیں پتا نہیں تھا۔ کچھ موقع ہی نہیں ملا تھا۔‘‘
’’پھر کیا ہوا؟‘‘
’’بس بھائی جان، خالو شفیق نے کچھ زیادہ ہی زیادتی کر ڈالی۔ جب میں خالہ کے پاس تھا تو انہیں کسی طرح پتا چل گیا کہ میں اندر ہوں، پولیس کو اطلاع دے کر انہوں نے مجھے گرفتار کرا دیا۔‘‘
’’اوہ۔‘‘ میں نے ایک سرد آہ بھری۔
’’کھاتہ کھول لیا، انہوں نے اپنا بھائی جان۔ قرض تو وصول کرنا ہے ان سے۔‘‘ محمود نے سرد لہجے میں کہا۔
’’اوہ! نہیں محمود، نہیں بیٹے۔ ذہن ٹھنڈا رکھو۔ ہم تقدیر سے نہیں لڑ سکتے، ہاں چاند خان کے اس آدمی کا کیا ہوا جو تمہارے ساتھ تھا!‘‘
’’ظاہر ہے اسے بھاگ جانا تھا ورنہ چاند خان پر پورا کیس بن جاتا۔ مجھے گرفتار کرلیا گیا۔ عدالت میں پیش کیا گیا، بہت سی باتیں پوچھی گئیں اور ابھی میرا کیس چل رہا ہے مجھے ریمانڈ پر جیل بھیجا گیا تھا۔‘‘
میں خاموشی سے محمود کی صورت دیکھتا رہا۔ ماں باپ کا کوئی پتا نہیں چل سکا تھا! دماغ میں بہت سے سوالات پیدا ہو گئے تھے اب کیا ہو۔ نہ جانے وہ لوگ کہاں ہوں گے، کس حال میں گزارا کر رہے ہوں گے؟ اگر ان کا پتہ چل جائے تو ہم دونوں کر بھی کیا سکیں گے سوائے اس کے کہ ان کے لیے مصیبت بن جائیں اور اب تو جیل سے فرار اور سپاہیوں کو شدید زخمی کرنے کا جرم بھی عائد ہوگیا تھا۔ دیر تک خاموش رہنے کے بعد میں نے پوچھا۔
’’چاند خان سے اس دوران تم نے رابطہ کیا؟‘‘
’’بالکل نہیں، اور اُصولی طور پر درست بھی ہے۔ کوئی کتنا ایثار کرسکتا ہے۔ وہ جرائم کرتے ہیں مگر یہ تو گردن پھنسانے والی بات تھی۔‘‘
’’ہاں۔‘‘ میں نے گردن ہلائی کچھ دیر تک ہم دونوں خاموش رہے، محمود بھی سوچ میں ڈوبا ہوا تھا۔ پھر وہ بولا۔
’’مجھے آپ سے اس طرح ملاقات کی اُمید نہیں تھی بھائی جان۔ آپ اس جیل میں کب پہنچے اور یہ سب کچھ کیا ہوا ہے۔‘‘
’’بس محمود بیٹے، تقدیر ہمارے ساتھ یہ کھیل کھیل رہی ہے۔ کیا بتائوں کیا ہوا ہے، ہاں بس اتنا سمجھ لو کہ نہ مجھے جرم کی زندگی سے کوئی رغبت تھی نہ ہے، میں تقدیر کے شکنجے میں جکڑا ہوا ہوں۔ قدرت مجھے زندہ بھی رکھنا چاہتی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کب تک۔‘‘
’’پھانسی گھر میں کیا ہوا تھا؟‘‘
’’جو کچھ ہوا تھا اس میں نہ میرا ہاتھ تھا نہ کوشش۔‘‘ میں نے گول مول جواب دیا، محمود کو یہ احساس ہو گیا تھا کہ میں تفصیل میں نہیں جانا چاہتا، یہ اس کا پیار تھا کہ اس نے مجھے مجبور نہیں کیا۔ پھر اس نے کہا۔
’’آپ کے خیال میں یہ لوگ کہاں جا سکتے ہیں!‘‘
’’امی ابو وغیرہ؟ میں نے سوال کیا۔‘‘
’’ہاں۔‘‘
’’اللہ بہتر جانتا ہے۔ زندگی بہت پیاری ہوتی ہے، کچھ نہ کچھ بندوبست کرلیا ہوگا انہوں نے اپنے لیے اور یہ بہتر ہی ہے محمود، میری نحوست نے سب کو برباد کر دیا، محمود تو بھی میرے بیٹے ان حالات کا شکار ہو کر نہ جانے کیا سے کیا بن گیا، تیرا یہ حال بھی میری وجہ سے ہوا ہے۔ ہمارا ان سے دُور رہنا ہی مناسب ہے، کم از کم انہیں تو سکون ملے۔‘‘ میری آواز بھرّا گئی۔
’’کیسی باتیں کر رہے ہیں بھائی جان۔ ابھی آپ نے تقدیر کے بارے میں کہا تھا، تقدیر سب کی الگ الگ ہوتی ہے۔ میرے ساتھ جو کچھ ہوا وہ میری تقدیر کا معاملہ تھا۔ خیر اب آئندہ کے لیے مجھے بتائیں کیا کیا جائے۔‘‘
’’میری بات مان لو گے محمود۔‘‘
’’کیوں نہیں بھائی جان۔‘‘
’’وعدہ کر رہے ہو۔‘‘ میں نے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔
’’آپ کو مجھ پر اعتبار نہیں ہے بھائی جان۔‘‘ محمود نے بھرّائے ہوئے لہجے میں کہا۔
’’ہے۔ محمود جان ہے۔ چاند خان کس قسم کے آدمی ہیں، رواروی میں تمہارا ساتھ دینے پر آمادہ ہوگئے تھے یا خلوص دل سے۔‘‘
’’انہوں نے میرے ساتھ جو کچھ کیا بھائی جان، وہ بالکل بے لوث تھا۔ بے غرض تھا اور پھر خاصا وقت صرف کیا انہوں نے مجھ پر، بعد میں بھی میرے ساتھ مخلص رہے، میرے خیال میں اچھے آدمی ہیں، بلکہ خاصے اچھے انسان ہیں، آپ آگے کہیں۔‘‘
’’تو پھر تمہیں چاند خان کے پاس واپس جانا ہوگا، ہو سکتا ہے تقدیر ہمارا ساتھ دے جائے، اگر چاند خان تمہیں ملک سے باہر نکال سکتے ہیں تو اس وقت اس سے اچھی کوئی بات نہیں ہوگی، کم از کم تم اس جال سے بچ کر باہر نکل جائو، بعد میں جو کچھ ہوگا میں دیکھ لوں گا۔‘‘ محمود کا چہرہ ایک دم ست گیا، وہ خاموشی سے مجھے دیکھتا رہا، پھر بولا۔
’’آپ کا حکم نہ ماننے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا بھائی جان۔ آپ مجھے کنویں میں چھلانگ لگانے کے لیے کہیں گے تو لگا دوں گا۔ لیکن کچھ باتیں تو کرنے کی اجازت دیں…‘‘
’’کیا…‘‘

’’آپ کے خیال میں ان حالات میں اپنی جان بچا کر باہر نکل جانا ایک خوشگوار عمل ہوگا، کیا میں سکون پا سکوں گا، کیا مجھے یہ احساس نہ ہوگا کہ میں نے آپ سب کو چھوڑ کر خود غرضی کا ثبوت دیتے ہوئے صرف اپنی جان بچا لی ہے؟‘‘
میں محمود کا چہرہ دیکھتا رہا، پھر میں نے سرد لہجے میں کہا۔ ’’یہ ایک جذباتی احساس ہے محمود، اور یہ ہمیں کچھ نہیںدے گا، ہم الگ الگ رہ کر اگر زندگی پا سکتے ہیں تو اس میں جذباتیت کا دخل نہیں ہونا چاہیے۔ پہلے تم اپنے طور پر باہر نکل جائو۔ میں اس دوران امی اور ابو کو تلاش کروں گا اور جیسے ہی کوئی موقع ملا میں امی اور ابو کے ساتھ اپنی زندگی بچانے کی جدوجہد بھی کروں گا۔ کم از کم ایک طرف سے تو مطمئن ہو جائوں۔ ہاں اگر تم اس مصیبت کا شکار نہ ہوتے تو میں تم سے پوری پوری مدد لیتا لیکن بیٹے اگر پھنسے تو دونوں ہی پھنس جائیں گے، اس طرح کم از کم ایک تو محفوظ ہو جائے تاکہ زیادہ ہمت سے کام کرنے کا موقع مل جائے۔‘‘ محمود سوچتا رہا۔ پھر اس نے کہا۔
’’اور اگر آپ مصیبت میں گھر گئے تو…؟‘‘
’’میری صرف ایک بات سن لو محمود، میں کسی بھی مصیبت میں گھر جائوں، ابھی مر بھی نہیں پائوں گا، کیونکہ جو پُراسرار قوتیں مجھے اپنا آلۂ کار بنائے ہوئے ہیں۔ وہ میری موت نہیں، زندگی چاہتی ہیں۔ یہ سب کچھ جو ہو رہا ہے محمود، مجھے ایک مکروہ عمل کرنے کے لیے مجبور کرنے کا طریقہ ہے، اور میں وہ عمل کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں۔ پہلے میں ان ناپاک قوتوں کو شکست دوں گا اور اس کے بعد اپنا کام کروں گا۔‘‘ محمود نہ سمجھنے والے انداز میں مجھے دیکھتا رہا۔ مگر اس نے کچھ کہا نہیں تھا۔ پھر وہ بولا۔
’’بھائی جان، خدا کی قسم آپ کے ساتھ رہ کر زندگی کی ہر صعوبت جھیلنے کے لیے تیار ہوں۔ جان بچا کر نہیں بھاگنا چاہتا، لیکن اگر یہ آپ کا حکم ہے کہ میں نکل جائوں یہاں سے، تو کوشش کر کے دیکھ لیتے ہیں، چاند خان سے دوبارہ ملاقات کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پتا چل جائے گا کہ اب ان کا نظریہ کیا ہے۔ وہ اگر گھبرائے تو اللہ مالک ہے کچھ اور دیکھیں گے، سوچیں گے اور اگر آمادہ ہوگئے ہمارا کام کرنے پر، تو پھر میں آپ کے حکم کے مطابق ان سے فائدہ اُٹھائوں گا لیکن ہوشیار رہنا بے حد ضروری ہے۔‘‘

’’ہاں کیوں نہیں۔‘‘ میں نے جواب دیا۔ محمود اور میں اس پروگرام پر متفق ہوگئے تھے۔ اپنے بھائی سے مجھے بے پناہ محبت محسوس ہو رہی تھی۔ حالانکہ پہلے بھی ہم دونوں ایک دوسرے سے پیار کرتے تھے لیکن میں چونکہ اپنے مشاغل میں مصروف رہتا تھا اور محمود کو صرف پڑھنے لکھنے سے دلچسپی تھی، اس لیے بہت زیادہ قربت نہیں تھی لیکن اب یہ احساس ہو رہا تھا کہ محمود میرے لیے دُنیا کی سب سے قیمتی شے ہے۔ آنکھوں میں بار بار گزرا ہوا ماضی دَر آتا تھا، ایک پرسکون گھرانہ ہنستے مسکراتے لوگ، بے چارے ماموں ریاض، صرف نام کے ماموں تھے ورنہ ہمارے لیے تو وہ بڑے بھائیوں جیسے ہی تھے، رہن سہن کا وہی انداز، وہی سب کچھ۔ سب ہی مصیبتوں میں گرفتار ہوگئے تھے۔ ہوٹل میں کافی وقت گزرا، کمروں میں محصور ہوگئے تھے، اخبار وغیرہ منگوا لیا کرتے تھے لیکن کسی بھی اخبار میں ہم سے متعلق کوئی بھی خبر ہمیں نہ مل سکی۔ بالآخر جب کئی دن گزر گئے اور ہم نے اپنی تمام تھکن اُتار لی تو پھر تیاریاں کرنے لگے، چاند خان دوسرے شہر میں رہتے تھے اور یہاں سے ہمیں وہاں تک کا سفر کرنا تھا۔ ہر طرح کا سفر ہی کیا چاردیواری سے باہر نکلنا بھی عذاب ہی تھا، کسی بھی وقت مصیبت دوبارہ نازل ہو سکتی تھی لیکن کیا کرتے، البتہ حلیہ صرف تبدیل کیا تھا۔ پٹھانوں جیسے لباس پہنے تھے ہم دونوں نے، بازار سے کچھ خریداری بھی کی تھی اپنے لیے۔ جس سے کچھ حلیہ بدلنے میں مدد ملی تھی، اپنے طور پر جس قدر ممکن ہو سکتا تھا، کیا اور اس کے بعد ٹرین میں بیٹھ کر روانہ ہوگئے۔ مطلوبہ جگہ پہنچنے کے بعد میں محمود کے ساتھ چاند خان کے اڈے پر پہنچ گیا۔
بڑا سا مکان تھا، خاص قسم کا احاطہ، اندر بہت سے لوگ تھے۔ انہوں نے ہمیں اجنبی نگاہوں سے دیکھا لیکن پھر کسی نے محمود کو پہچان لیا اور دوڑ کر اس سے لپٹ گیا۔ وہ لوگ محمود سے بڑی محبت کا اظہار کر رہے تھے۔ چاند خان اندر موجود تھے۔ اطلاع ملی تو باہر نکل آئے۔
میں نے چاند خان کو دیکھا، وہ چہرے ہی سے پروقار اور کسی اچھے گھرانے کے فرد معلوم ہوتے تھے۔ محمود کو بڑے خلوص سے سینے سے لگایا ، پھر میری جانب دیکھا اور چونک کر بولے۔
’’اوہو، یہ مسعود ہیں، کیوں میں نے غلط تو نہیں کہا؟‘‘
’’نہیں خان صاحب، بھائی جان ہی ہیں۔‘‘ محمود بولا۔ چاند خان نے ہم دونوں کو بازوئوں کے حلقے میں لے لیا اور اندر داخل ہوگئے۔
’’شیروں کی جوڑی ہے پنجرے میں کیسے رہ سکتی تھی۔‘‘ وہ بولے۔ اندر ایک سجے ہوئے کمرے میں ہم دونوں کو بٹھایا گیا اور چاند خان نے باہر رُخ کر کے کہا۔
’’چلو شہزادوں کے کھانے پینے کے لیے کچھ لے آئو۔‘‘ پھر میری طرف متوجہ ہو کر بولے۔
’’ایک بات کہوں محمود یقین کر لینا میری بات پر، مجھے تمہاری واپسی کا یقین تھا۔ انتظار کر رہا تھا۔ کئی کام تھے آنے جانے کے مگر تین مہینے کے لیے سارے کام ملتوی کر دیے تھے سوچا تھا بس تم پرکام کروں گا۔ مگر یہ خیال بھی تھا کہ شاید مجھے ہاتھ ہلانے کی ضرورت نہ پڑے۔‘‘
’’وہ کیسے خان صاحب۔‘‘
’’بھئی تمہارے خالو نے غداری کی، پولیس سے مل کر تمہیں پکڑوا دیا، میرے آدمی نے مجھے اطلاع دی۔ کوئی طوفانی قدم تو اُٹھا نہیں سکتا تھا بس تیاریاں جاری رکھیں، بات جب آخری حد میں آ جاتی اور کوئی ذریعہ نہ رہتا تو کچھ کرتے۔ خبر مل گئی کہ تم جیل سے بھاگ گئے۔‘‘
’’کیسے خان صاحب۔‘‘ محمود بولا۔

’’تمہارا کیا خیال تھا تم پکڑے گئے اور ہم چپ ہو کر بیٹھ گئے، دیکھو چندا تم حیات پور لے جائے گئے۔ تھانے میں رہے پھر چار پیشیاں ہوئیں تمہاری۔ اس کے بعد نئی آبادی جیل میں گئے، وہاں سترہ دن رہے، اس کے بعد دُوسری جیل گئے اور منگل کی رات کو وہاں سے نکل گئے۔ ایک سنتری مار دیا تم نے اور ایک زخمی کر دیا!…‘‘ چاند خان نے کہا۔ نہ صرف میری بلکہ محمود کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
’’آپ کو سب معلوم ہے خان صاحب!‘‘
’’معلوم رکھنا تھا بیٹے۔ ورنہ تم خطرے میں نہ پڑ جاتے موقع کی تاک میں تھے بس۔ مگر مسعود میاں کی خبر نہ تھی۔‘‘
’’یہ اطلاعات آپ کو کہاں سے ملتی رہیں خان صاحب۔‘‘
’’میاں ہر جگہ آدمی رکھنے پڑتے ہیں اپنے۔‘‘ چاند خان بولے اتنی دیر میں چائے کے ساتھ کھانے پینے کی بہت سی چیزیں آ گئیں اور ہم نے بھی تکلف نہیں کیا مصروف ہوگئے۔ چاند خان مخلص تھے میں نے سب سے پہلا سوال ان سے یہی کیا۔
’’آپ نے اسے باہر بھجوانے کا فیصلہ کیا تھا خان صاحب۔‘‘
’’ہاں اور لیگون ہارڈو آیا ہوا ہے، نو تاریخ کو واپس جا رہا ہے۔‘‘
’’لیگون ہارڈو؟‘‘
’’جہاز کا نام ہے۔ یونانی کمپنی کا ہے۔ کپتان ہمارا دوست ہے۔‘‘
’’کیا محمود کو یہاں سے نکالاجا سکتا ہے؟‘‘
’’اُمید تو ہے۔‘‘
’’تو خان صاحب یہ کام کر دیجیے۔ یہ ہمارے خاندان پر احسان ہوگا، مجھ پر احسان ہوگا۔‘‘ میں نے عاجزی سے کہا۔ خان صاحب کچھ سوچتے رہے، پھر
بولے۔
’’تمہارے لیے بھی بات کروں مسعود میاں۔‘‘
’’نہیں خان صاحب، بس آپ اسے نکال دیں۔ یہی کافی ہے۔‘‘
’’دیکھو میاں۔ اس وقت موقع اچھا ہے ذرا اُوپر نیچے کر لیں گے ہم اپنے دوست کو۔ باقی کام بعد میں دیکھے جائیں گے۔ ہمیں اندازہ ہے کہ تم اپنے ماں باپ کی وجہ سے یہاں سے نہیں جانا چاہتے ہو، یہ ذمہ داری ہمیں سونپ دو، ہم ان کا خیال رکھیں گے، وعدہ کرتے ہیں تم سے۔‘‘
’’اس بے لوث محبت کا ہم کوئی جواب نہیں دے سکیں گے خان صاحب۔ ہاں دُعائیں ضرور دیں گے آپ کو، ابھی صرف محمود کو یہاں سے نکال دیں، میں یہ ملک نہیں چھوڑ سکتا۔‘‘میں نے ممنونیت سے کہا اور خان صاحب کچھ سوچنے لگے۔ پھر بولے۔
’’خود ملنا پڑے گا کپتان سے کیونکہ وقت کم رہ گیا ہے۔ کیوں بھئی محمود تیار ہو؟‘‘
’’ہاں خان صاحب، بھائی جان کا یہی کہنا ہے۔‘‘
کل صبح نکل چلیں گے۔ تیار رہنا، اللہ بڑا کارساز ہے، اُمید تو ہے کہ کام ہو جائے گا مگر مسعود میاں یہاں رُکنا، بھاگ مت جانا یہاں سے۔‘‘
’’جو حکم خان صاحب۔‘‘ میں نے گردن جھکا کر کہا۔
’’اب ہم زیادہ نہیں بیٹھیں گے تمہارے پاس۔ کام فوراً شروع کر دینا ہے، تم دونوں بھائی آرام کرو۔‘‘ خان صاحب اُٹھ گئے۔ ہم دونوں وہیں رہ گئے تھے۔ میں نے کہا۔
’’کونسی دُعا دوں خان صاحب کو محمود، اگر یہ کام ہو جائے تو عرصہ دراز کے بعد مجھے ایک خوشی نصیب ہوگی۔‘‘
’’مگر آپ کو تنہا چھوڑ کر مجھے خوشی نہ ہوگی بھائی جان۔‘‘ محمود بولا اور میں نے اسے لپٹا لیا۔
’’مجبوری ہے محمود بیٹے۔ مجبوری ہے مگر وقت کے فیصلوں کا انتظار کرنا ہوگا، ہو سکتا ہے ہماری دُنیا پھر سے آباد ہو جائے، ہو سکتا ہے میں اگر آزاد رہا تو چاند خان سے رابطہ قائم کرتا رہوں گا۔ تم جہاں کہیں بھی ہو کسی فرضی نام سے یہاں اپنی خیریت بھیجتے رہنا۔ میں بھی چاند خان سے تمہارے بارے میں پوچھ لیا کروں گا اور یہیں سے تمہیں حالات معلوم ہوتے رہیں گے۔‘‘
دُوسرے دن صبح صبح میں نے محمود اور چاند خان کو رُخصت کر دیا اور محمود کے لیے دُعائیں کرتا رہا۔ یہاں مجھے بڑی عزت دی گئی، ہر شخص میرا خیال رکھتا تھا۔ چاندخان کو گئے ہوئے کئی دن ہو چکے تھے، میں انتظار کرتا رہا، دس تاریخ کو وہ واپس پہنچے، تنہا تھے اور خوش نظر آ رہے تھے۔ میرا چہرہ بھی خوشی سے کھل گیا، چاند خان نے کہا۔
’’جہاز کو سمندر میں دھکیل کر ہی واپس آیا ہوں۔ مبارک ہو محمود نکل گیا۔‘‘ میری آنکھوں میں خوشی کے آنسو آ گئے تھے۔ محمود کی زندگی بھی موت سے ہم آغوش ہونے جا رہی تھی اور اگر ایسا ہو جاتا تو میں یہی محسوس کرتا کہ میں اس کا قاتل ہوں۔ لیکن خدا کا احسان ہوا تھا مجھ پر۔ میرے بھائی کی زندگی بچ گئی تھی۔ چاند خان نے مجھ سے کہا۔ ’’اور اب مسعود میاں! ذرا تم سے تفصیل سے باتیں ہوں گی۔ محمود سے مجھے جو حالات معلوم ہوئے ان سے میری تسلی نہیں ہو پائی تھی، مگر چونکہ بچہ مصیبت کا شکار ہوگیا تھا اور مجھے اس کی زندگی کا خطرہ تھا، اس لیے مجھ سے جو کچھ بن پڑا کرتا رہا۔ اب ذرا تم سے اطمینان سے بہت سی باتیں کرنی ہیں۔ تم یہ بتائو کوئی ایسی مصروفیت تو نہیں تمہاری جو میری وجہ سے رُک جائے۔‘‘
’’نہیں خان صاحب، میری مصروفیت ہی کیاہے، محمود سے مل کر ماں باپ کے بارے میں کچھ اطلاعات ملی تھیں، چھوٹی بہن بھی ہے میری۔ ماموں بھی ہیں، جو بھائیوں کی طرح ہیں مگر اب وہ سب نجانے کہاں گم ہوگئے ہیں؟‘‘

’’ویسے تمہارے خالو میاں نے بڑی زیادتی کی۔ ذرا بھی رشتے داری نہیں نبھائی۔ مانتا ہوں کہ حالات خراب تھے مگر رشتے دار ہی تو کام آتے ہیں، کسی سے کیا شکایت، جو کچھ ان سے بن پڑا، وہ انہوں نے کر ڈالا۔‘‘
’’ہاں خان صاحب، بس ہم گردش کا شکار تھے۔ بلکہ ہیں اور جب گردش کا شکار ہوتے ہیں یا مصیبت آتی ہے انسان پر تو لوگ کہتے ہیں کہ سایہ بھی جدا ہو جاتا ہے مگر آپ کے پاس آ کر اس حقیقت کو جھٹلانا پڑتا ہے۔‘‘
’’دیکھو میاں ہم اپنی تعریفیں نہیں سننا چاہتے گناہ گار بندے ہیں، برے لوگوں میں شمار ہوتے ہیں، اگر ایک آدھ کام غلطی سے اچھا ہو جائے تو تم کیا سمجھتے ہو، ہمیں خوشی نہیں ہوتی اس کی۔ مگر تمہارا کیا معاملہ تھا، یہ بتائو۔‘‘
’’بتا دوں گا خان صاحب، اطمینان سے بتا دوں گا آپ بھی تھکے ہوئے آئے ہیں آرام کر لیجیے۔‘‘
’’ہاں ہاں ٹھیک ہے، ذرا تم سے لمبی نشست رہے گی، ساری تفصیل پوچھیں گے اور بالکل پروا مت کرو، اکیلے نہیں ہو تم، ہم تمہارا پورا پورا ساتھ دیں گے۔‘‘
یہ الفاظ بڑی اہمیت رکھتے تھے، حالانکہ دل کے گوشوں میں چور تھا، کم بخت لعنتی بھوریا چرن مکمل طور سے غائب تھا لیکن جو کچھ اس نے کہا تھا وہ بھی ایک حقیقت تھی۔ میرا تعلق جس سے بھی قائم ہوتا، اس پر مصیبت نازل ہو جاتی تھی۔ چاند خان بے شک دُوسری لائن کے آدمی تھے، لیکن یہ بات میں اچھی طرح جانتا تھا کہ اگر یہاں زیادہ وقت رُک گیا تو چاند خان بھی مصیبت کا شکار ہو جائیں گے۔ عارضی طور پر بے شک ان کے ساتھ رہا جا سکتا ہے، مستقل نہیں۔ بہرحال اسی رات چاندخان میرے پاس آ گئے، ساتھ ساتھ ہی بستر لگوا دیے تھے انہوں نے… اور تمام ضروریات سے فارغ ہونے کے بعد حقہ لے کر میرے سامنے بیٹھ گئے اور بولے۔
’’ہاں مسعود میاں مجھے تمہاری داستان سننے سے بڑی دلچسپی ہے۔‘‘
’’خان صاحب کچھ غلطیاں میری اپنی ہیں اور کچھ مصیبتیں نازل ہوئی ہیں مجھ پر۔ میں نے خان صاحب کو ابتدا سے حالات بتانا شروع کر دیے۔ وہ حیرت و دلچسپی سے میری کہانی سن رہے تھے۔ یہ کہانی سناتے ہوئے میرا دل لرز رہا تھا۔ مجھے وہ لمحات یاد آ رہے تھے جب میں نے حکیم سعداللہ صاحب کو یہ کہانی سنائی تھی اور اس کے بعد سعداللہ زندہ نہیں رہے تھے۔ بھوریا چرن کو یہ بات سخت ناپسندتھی کہ اس کی کہانی کسی کو سنائی جائے، مگر اس وقت، اس وقت میں نے شروع سے لے کر آخر تک ساری داستان چاند خان کو سنا دی۔ ان کے چہرے پر سخت حیرت کے آثار تھے، میں خاموش ہوا تو وہ بھی بہت بہت دیر تک خاموش بیٹھے رہے۔ انہوں نے نچلا ہونٹ دانتوں میں دبا رکھا تھا۔‘‘ پھر وہ گہری سانس لے کر بولے۔
’’بڑی دردناک کہانی ہے۔ بڑی بات ہے کہ تم نے اپنا ایمان قائم رکھا، میں خود بہت بُرا انسان ہوں، پوری عمر ہیرا پھیری میں گزاری ہے میں نے۔ مگر اتنی ہمت سے میں بھی کام نہ لے پایا۔ تم نے ایک پاک بزرگ کے مزار پر ایک ناپاک وجود کو نہ پہنچا کر جو نیکی کی ہے میرا ایمان ہے کہ اس کے صلے سے محروم نہ رہو گے، یہ کالے جادو والے ایسے ٹونے ٹوٹکے کرتے رہتے ہیں اور اس طرح فائدے حاصل کرتے ہیں، اس سے اس ملعون کو کوئی بڑا ہی فائدہ حاصل ہوگا ورنہ وہ اس طرح تمہارے پیچھے نہ پڑتا۔ ویسے نہ تو تمہیں کسی نے مشورہ دیا ہوگا نہ ہی تمہیں اس کا موقع ملا ہوگا کہ اس سلسلے میں کچھ کرتے۔‘‘
’’کیا؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’کالے جادو کا توڑ بھی تو ہوتا ہے۔‘‘

‎’’مجھے ایسا کوئی موقع ہی نہیں ملا خان صاحب۔ نہ ہی میں نے اپنی یہ کہانی کسی کو سنائی۔ وہ منحوس سادھو یہ نہیں چاہتا کہ کسی کو اس کی کہانی معلوم ہو۔ خدا آپ کو محفوظ رکھے خان صاحب۔‘‘
‎’’میرا ایمان ہے کہ مجھے کچھ نہ ہوگا یہی تمہیں بتانا چاہتا تھا۔ یہ دیکھو۔‘‘ چاندخان صاحب نے اپنا سینہ کھول کر میرے سامنے کر دیا۔ ان کی گردن میں چاندی کی موٹی زنجیر میں چاندی کا ایک تعویذ نظر آ رہا تھا، سارے جادو اس سے ٹکرا کر پاش پاش ہو جاتے ہیں، ساری دُنیا کے جادو اس تعویذ کے سامنے بے اَثر ہیں۔ بہت پرانی بات ہے مجھ پر بھی میرے دشمنوں نے جادو کر دیا تھا۔ کوڑھی ہوگیا تھا میں۔ سڑکوں پر گھسٹتا پھرتا تھا، پاگل ہو چکا تھا، لوگ مجھ سے گھن کھانے لگے تھے۔ پھر ایک مرد حق کی نگاہ ہوگئی مجھ پر۔ علیم الدین خان تھا ان کا نام، رتولی نامی جگہ ہے، وہاں ایک پرانی مسجد ہے جس میں ایک نامعلوم بزرگ کا مزار ہے، وہ مجھے اس مزار پرلے گئے ایک مہینے تک مزار پر پڑا رہا، تب ایک صبح فجر کے وقت قبر کے کتبے پر ایک تعویذ رکھا ملا، علیم الدین خان صاحب میرے ساتھ تھے، خوش ہو کر بولے۔ ’’لو میاں چاند خان دلدر دُور ہوگئے تمہارے۔ مشکل حل ہوگئی، یہ تعویذ گلے میں ڈال لو۔‘‘
‎’’کوڑھ ٹھیک ہوا، دماغ درست ہوا اور اب مالک کا کرم ہے مگر میں یہ تعویذ کسی کو دے نہیں سکتا۔ حکم نہیں ہے تمہارے لیے یہ بیکار ہے، ورنہ دل چاہتا ہے کہ تمہاری ہر مشکل حل کر دوں۔ مگر فکر مت کرو، میں تمہیں رتولی لے جائوں گا، علیم الدین خان صاحب کی خدمت میں بھی بہت عرصہ سے حاضری نہیں دی، ان سے ملاقات ہو جائے گی۔ اللہ نے چاہا تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔‘‘
‎’’کیا خان صاحب۔ یہ میری ساری مشکلات کا حل ہوگا!‘‘ میں نے کہا۔
‎’’فکر مت کرو! یہ کام ضرور ہوگا۔‘‘ چاند خان نے کہا۔ میرے دل میں ایک نئی روشنی پیدا ہوگئی تھی۔ چاند خان کے ساتھ دیر تک بات چیت کرتا رہا، مجھے خود بھی یقین آ گیا کہ چاند خان کیوں محفوظ رہے۔ منحوس بھوریا چرن اس تعویذ کی وجہ سے ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکا تھا۔ خاصی رات گئے خان صاحب مجھے آرام کرنے کی ہدایت کر کے چلے گئے۔ میں بے حد خوش تھا کہ نہ جانے کیا کیا خیالات میرے ذہن میں آ رہے تھے۔ میری نگاہیں چھت پر جمی ہوئی تھیں، پھر اچانک میں نے چھت پر کچھ دیکھا، سفید چونے سے پُتی ہوئی چھت پر سیاہ دھبے رینگ رہے تھے، ان کی تعداد بڑھتی جا رہی تھی۔ وہ متحرک تھے، میں چونک پڑا، سیاہ دھبے اتنے ہو گئے کہ پوری چھت ان میں چھپ گئی اور پھر اور پھر وہ نیچے اُترنے لگے۔ وہ … وہ مکڑیاں تھیں۔ مکروہ شکل کی منحوس مکڑیاں۔ جو لاکھوں کی تعداد میں تھیں اپنے جسم کے لیس دار مادّے سے تار بناتی ہوئی وہ سب نیچے اُتر رہی تھیں۔ ان کا نشانہ میں ہی تھا۔
‎میرے دل کی دھڑکن اچانک بڑھ گئی۔ مجھ پر ایسے ایسے مشکل وقت آئے تھے کہ اب کوئی مشکل مشکل نہیںلگتی تھی بلکہ ہر لمحے کسی نئے حادثے کا منتظر رہتا تھا۔ حادثہ نہ ہوتا تو سوچتا تھا کہ اب کوئی زیادہ بڑا حادثہ ہوگا۔اعصاب میں پختگی بھی پیدا ہوگئی تھی اور خوف ذرا کم ہوگیا تھا لیکن انسان تو تھا۔ میری ساخت میں تو کوئی تبدیلی نہیں ہوئی تھی۔ خوف کے احساس کو ختم تو نہیں کرسکتا تھا۔ میں نے چاند خان کو بھوریا چرن کی کہانی سناتو دی تھی لیکن دل اس احساس سے دھڑکتا رہتا تھا کہ کہیں وہ کسی مشکل کا شکار نہ ہوجائے۔ بلکہ مجھے حیرت تھی کہ اب تک ایسا کیوں نہیں ہوا تھا۔ ہاں چاند خان نے مجھے وہ متبرک تعویذ دکھایا تھا اور میرے دل میں عقیدت پیدا ہوگئی تھی۔آرزو بھی بیدار ہوگئی تھی کہ کاش اس مزار پر مجھے بھی زندگی کی نوید مل جائے… مگر… یہ مکڑیاں شاید بھوریاچرن نے مجھے کوئی نئی سزا دینے کے لیے انہیں بھیجا تھا۔
‎میں دہشت بھری نظروں سے انہیں دیکھتا رہا، جوں جوں وہ نیچے آرہی تھی میرے دل و دماغ میں وحشت اترتی آرہی تھی۔ میں ان ننھی ننھی آنکھوں کو دیکھ رہا تھا۔ سرخ چمکتی ہوئی آنکھیں جو بھوریا چرن کی آنکھیں تھیں۔ان آنکھوں میں نفرت تھی، غصہ تھا، وہ لاکھوں آنکھوں سے مجھے گھور رہا تھا۔

‎مکڑیوں نے چھت سے رابطہ ختم کردیا، وہ کود کود کر زمین پر آگئیں، کیفیت یہ تھی کہ کمرے کی پوری زمین ان کے منحوس جسموں سے ڈھک گئی تھی۔ تل دھرنے کو جگہ باقی نہیں رہی تھی۔ یہی نہیں وہ دیواروں پر چڑھ گئی تھیں، کھڑکیوں اور دروازوں پر چڑھ گئی تھیں، پردوں پر نظر آرہی تھیں۔ ان کے ننھے ننھے منہ کھل رہے تھے بند ہورہے تھے۔ پردوں میں سوراخ ہونے لگے۔ دروازے کی لکڑیاں برادے کی شکل میں بکھرنے لگیں۔ آہ وہ ہر شے کو کھارہی تھیں۔ ہر چیز چاٹ رہی تھیں اور میں انہیں دیکھ رہا تھا۔ میری آواز بند ہوگئی تھی۔ میرا بدن ساکت تھا۔ ایک بار جی میں آئی کہ انہیں ماروں۔ بدن کو جنبش دی… لیکن جسم مجھ سے باغی ہوگیا۔ اپنے اعضاء پر میرا قابو نہ رہا۔ مجھے بس سانس لینے کی اجازت تھی، سوچنے کی اجازت تھی، میں بدن نہیں ہلاسکتا تھا۔ تعویذ سے چاند خان تو بھوریا چرن سے محفوظ تھا لیکن اس شیطان سادھو کو مجھ پر مکمل اختیار تھا۔ وہ چاہتا تو یہ مکڑیاں دیگر چیزوںکو چھوڑ کر مجھ پر پل پڑتیں۔ مجھے چاٹ جاتیں، میرے بدن میں سوراخ کرکے اندر داخل ہوجاتیں۔ میں انہیںنہیں روک سکتا تھا۔ بھوریا چرن یہ کام کسی بھی وقت کسی بھی شکل میں کرسکتا تھا مگر اسے میری ضرورت تھی۔ وہ مجھے کوئی جسمانی نقصان نہیں پہنچنے دیتا تھا۔ منظر بے حد بھیانک ہوچکا تھا۔ خونی مکڑیاں دروازے، کھڑکیوں کے فریم کھا چکی تھیں، پردے چٹ کرچکی تھیں۔ ڈیکوریشن کے لیے جو کچھ رکھا تھا وہ کھاچکی تھیں، دیواروں کا رنگ نگل چکی تھیں۔ یہ کام انہوں نے چند منٹ میں کر ڈالا تھا اور مجھے اپنی مسہری نیچے ڈھلکتی محسوس ہورہی تھی۔ آہ وہ اسے کھارہی تھیں، یہاں تک کہ میں فرش نشین ہوگیا۔ میرے پلنگ کا بستر، گدا، تکیہ سب ان منحوس مکڑیوں کے پیٹوں میں جاچکا تھا اور اب وہ میرے بدن پر رینگ رہی تھیں۔ مجھے ان کی سرسراہٹیں صاف سنائی دے رہی تھیں۔ وہ میرے پورے جسم پر چھا گئی تھیں۔ میری ناک، میرے منہ، میری پلکوں سے گزر رہی تھیں۔ آہ میں چیخ نہیں سکتا تھا، میں انہیںخود پر سے جھٹک نہیں سکتا تھا۔ میں بے بس تھا، مفلوج تھا۔ دہشت سے میرا وجود اینٹھ رہا تھا۔ مگر میں کچھ نہیں کرسکتا تھا۔ دماغی قوتیں اس سے زیادہ ساتھ کیا دے سکتی ہیں۔ میں پے در پے پیش آنے والے ناقابل یقین واقعات سے دوچار ہوکر کتنا ہی پختہ کیوں نہ ہوگیا تھا لیکن یہ دہشت ناک منظر میرے حواس چھیننے میں کامیاب ہوگیا اور بالآخر خوف کی انتہا نے مجھے اس کربناک ہوش سے نجات دلادی۔ بے ہوشی ہوش سے بدرجہا بہتر تھی۔ پھر نہ جانے کب سماعت نے ذہن کے پردوں پر دستک دی۔ ہوش واپس آنے لگے۔ پلکوں کے پپوٹوں نے روشنی کا احساس دلادیا۔ آوازیں الفاظ بن کر سمجھ میں آنے لگیں۔
‎’’ہوش آنے ہی والا ہے‘‘ یہ اجنبی آواز تھی۔
‎’’بہت بہت شکریہ حکیم صاحب۔‘‘
‎’’نسخہ مطب سے منگوالینا۔ ترکیب استعمال لکھی ہوگی۔‘‘
‎’’بہت بہتر…‘‘ دوسری آواز چاند خان کے علاوہ کسی کی نہیں تھی۔ جی چاہا کہ آنکھیں کھولوں لیکن ایک نشے کی سی کیفیت تھی۔ آنکھیں بند رکھنے میں زیادہ لطف آرہا تھا۔ مگر بات سمجھ میں آرہی تھی۔ صبح ہوچکی تھی اور میری کیفیت کا حال دوسروں کو معلوم ہوچکا تھا۔ چاند خان شاید حکیم صاحب کو باہر چھوڑنے گئے تھے۔ یہ شخص بہت اچھا انسان ہے۔ اس دور میں بے لوث اتنی مدد کون کرتا ہے۔ حالانکہ مجھے کچھ اچھے لوگ ملے تھے۔ ریحانہ بیگم اور سرفراز نے مقدور بھر میرے لیے کیا تھا۔ وہ بیچارے اس سے زیادہ کیا کرسکتے تھے۔ پھر بھی ان کا کیا بہت کچھ تھا مگر ان کے اس کرنے کا جواز تھا۔ وہ میری شرافت سے متاثر ہوئے تھے جس کے تحت ان کا گھرانہ ایک المیے سے بچ گیا تھا۔ مگر یہ بھی ان کی نیک دلی تھی۔ ورنہ اس دور میں لوگ کسی کا احسان بھی کہاں یاد رکھتے ہیں۔ وقتی اعتراف اور اس کے بعد اجتناب، کون کسی کے جنجال میں پھنسے۔ چاند خان واپس آگئے۔ رات کے بھیانک واقعات یاد آگئے تھے۔ پتا نہیں دوسرے لوگوں کو اس بارے میں کیا معلوم ہے، اسی دوران چاند خان کی آواز سنائی دی۔
‎’’چندا…آنکھیں کھولو‘‘ مسعود میاں۔ ’’اور میں نے آنکھیں کھول دیں۔ ’’کیسی طبیعت ہے اب؟‘‘
‎’’ٹھیک ہوں خان صاحب۔‘‘
‎’’چائے منگوالوں تمہارے لیے؟‘‘

‎’’منگوالیجئے۔‘‘ میں نے کہا اور چاند خان خود ہی اٹھ کر باہر دوڑ گئے۔ خلوص کا وہی عالم نظر آرہا تھا۔ پتہ نہیں رات کے واقعات ان لوگوںکے سامنے کس شکل میں آئے۔ چاند خان پھر میرے سامنے آبیٹھے۔ میں بھی اٹھ کر بیٹھ گیا، میں نے دھڑکتے دل سے پوچھا۔
‎’’میرے کمرے کا کیا حال ہے خان صاحب؟‘‘
‎’’اماں کیا ٹڈی دل گھس آیا تھا کمرے میں؟ کیا ہوا تھا؟‘‘
‎بچپن میں ایک بار ٹڈی دل دیکھا تھا۔ درخت ننگے کردیے تھے۔ گھاس، پھونس اور پودوں میں ڈنڈیاں رہ گئی تھیں۔ مگر یہ تو ٹڈی دل سے بھی بکٹ کوئی چیز تھی۔ اللہ نے تمہیں بچادیا۔ دروازے کھڑکیاں دیواروں کا چونا ہر چیز… سب کی عقل کھوپڑی سے باہر ہوگئی ہے، کسی کی سمجھ میں کچھ نہیںآرہا۔ ‘‘
‎’’آہ…گویا وہ صرف میرا خواب نہیں تھا؟‘‘میں نے گہری سانس لیکر کہا۔
‎’’فضل خان صبح پانچ بجے اٹھنے کے عادی ہیں، پورے گھر کا چکر لگانے کی عادت ہے۔ پڑھ کر پھونکتے ہیں، تمہارے کمرے کے سامنے سے گزرے تو دروازہ ہی غائب دیکھا۔ ناچ کر رہ گئے، اندر گھسے تو واپس نکل بھاگے اور پھر سب کو جگا دیا، تمہارا کمرہ ایسے لگ رہا ہے جیسے کوئی دو سو سال پرانا کھنڈر۔ تمہیں بیہوشی میں اٹھاکر لایا گیا تھا۔ وہ کونسی چیز تھی جس نے یہ کیا۔‘‘
‎’’کچھ نشان ملے خان صاحب۔‘‘
‎’’کچھ بھی نہیں۔‘‘
‎’’وہ مکڑیاںتھیں۔‘‘ میں نے آنکھیں بند کرکے کہا۔
‎’’مکڑیاں…؟‘‘خان صاحب حیرت سے بولے۔
‎’’لاکھوں مکڑیاںجو چھت پر نمودار ہوئی تھیں اور پھر وہ نیچے اترکر ہر چیز کھانے لگیں۔ بس انہوں نے مجھے چھوڑ دیا۔‘‘
‎’’باہر کیوں نہ بھاگ آئے چندا۔‘‘
‎’’میں مفلوج ہوگیا تھا۔ آواز تک بند ہوگئی تھی۔‘‘
‎’’ہوں…‘‘ خان صاحب نے گہری سانس لی۔ چائے آگئی پورا ناشتہ تھا۔خان صاحب بولے۔ ڈٹ کر ناشتہ کرو حکیم صاحب نے کسی چیز کا پرہیز نہیں بتایا۔ اس کے بعد دوا کھانی ہوگی۔‘‘
‎’’آپ جانتے ہیں خان صاحب مجھے دوا کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ میں نے افسردہ لہجے میں کہا۔
‎’’چلو چلو ناشتہ کرو! ارے لو بھئی کیا تکلف ہے۔‘‘
‎’’جی خان صاحب…‘‘ میں نے کہا اور ناشتہ کرنے لگا۔
‎خان صاحب خود بھی میرے ساتھ مصروف ہوگئے تھے۔ میں نے کہا۔
‎’’کچھ کہنا چاہتا ہوں خان صاحب!‘‘
‎’’ہاں کہو۔‘‘
‎’’میں یہاں سے جانا چاہتا ہوں۔‘‘
‎’’کہاں…؟‘‘

‎’’کہیں بھی خان صاحب ، جہاں خدا نے میرا ٹھکانہ بنایا ہوگا۔ آپ نے جو کچھ میرے لیے اور میرے بھائی کے لیے کیا ہے اس کا صلہ میں مرکر بھی نہیں دے سکتا مگر میں اپنے محسن کی زندگی، صحت اور خیریت کا خواہاں ہوں۔ میں نے بتایا تھا کہ حکیم سعداللہ صرف اس لیے شکار ہوئے کہ…‘‘
‎سمجھ گیا، سمجھ گیا کیا کہنا چاہتے ہو۔ دو باتیں ہیں میاں خان، پہلی بات تو یہ ہے کہ چاند خان برا دھندہ کرتے ہیں مگر لوگوںکا کہنا ہے کہ ہماری نسل بری نہیں تھی۔ رگوں میں کسی چمار کا خون نہیں ہے۔ باپ دادا آن بان پر مٹتے رہے ہیں۔ کچھ تو سرخی ہمارے خون میں بھی ہوگی۔ وہ منحوس اگر اتنا ہی دلاور تھا تو مکڑیاں ہمیں کھا جاتیں، ہم بھی تو دیکھتے۔ اس سے یہ پتا تو چل گیا کہ وہ ہمیں مالی نقصان پہنچا سکتا ہے جانی نہیں اور اس کی ہمیں پروا نہیں۔ ہم نے کونسا محنت سے کمایا ہے۔ دوسری بات یہ ہے چندا کہ ہمیں تمہارا نہیں ان ماں باپ کا خیال ہے جو لٹ گئے ہیں ویران ہوگئے ہیں۔ راج دلارے انسان بڑاکمینہ ہے۔ اسے جو کچھ مل جاتا ہے اسے وہ اپنی عقل کا نتیجہ سمجھتا ہے۔ حالانکہ دینے والا جانتا ہے کہ وہ کسے کیا اور کیوں دے رہا ہے۔ ہم نے تمہیں رتولی لے جانے کا وعدہ کیا ہے۔ یہ ہمارے لیے بھی ضروری ہے کیونکہ ہمارے ذریعے کسی کی بہتری ہونے والی ہے اگر ہم نے اس سے منہ موڑا تو ہمارا کیا بنے گا، یہ اللہ جانے۔ جو ہوا بھول جائو۔ ہم تو یہ تعویذ تمہارے گلے میں ڈال دیتے مگر منادی ہے اس لیے مجبور ہیں۔‘‘
‎’’خان صاحب میں۔‘‘
‎’’جو بات تھی تمہیں بتادی دلارے۔ ہماری حیثیت گھٹانا چاہو تو دوسری بات ہے۔‘‘
‎’’نہیں خان صاحب ۔ خدا نہ کرے۔‘‘
‎’’اور ہاں سنو، اب زیادہ انتظار نہیں کریں گے۔ پرسوں اٹھارہ ہے بس پرسوں نکل چلیں گے۔ میں خاموش ہوگیا۔
‎(جاری ہے)
Reactions