| قسط وار کہانیاں |
کالا جادو - اردو کہانی قسط نمبر 2
رائیٹر :ایم اے راحت
میں تو اب ان لوگوں میں سے تھا جن سے دنیا چھین لی جاتی ہے، اور اب تو مجھے ساری باتیں بے کار لگتی تھیں۔ میں رات کو زمین پر لیٹ گیا۔ دوسرے دن پھانسی کی سزا دی جانی تھی مجھے، غورکرتا رہا، سنتری مجھے عبادت کی تلقین کر تے رہے۔ آج پہلی بار میں نے ان کی آنکھوں میں ہمدردی کے آثار دیکھے تھے۔ ایک سنتری نے مجھ سے کہا۔ ’’بابو عبادت کرو، اللہ کے حضور جارہے ہو، جو کچھ کرکے جارہے ہو، وہ اچھا نہیں تھا لیکن توبہ قبول ہوجاتی ہے۔‘‘ میں نے اسے کرخت نگاہوں سے دیکھا اوردوسری طرف رخ کر لیا۔ صبح قریب آ رہی تھی اور اس کے ساتھ ہی اعصاب میں ایک کھنچائو پیدا ہوتا جا رہا تھا، ذہن میں تنائو پیدا ہوگیا تھا۔ سنتری آئے، انہوں نے مجھے کوٹھری سے نکالا۔ دونوںہاتھ پشت پر باندھے اور مجھے شانوں سے پکڑ کر لے چلے۔ ایک ایک قدم منوں وزنی لگ رہا تھا۔ ہر قدم پر یہ محسوس ہوتا تھا جیسے کوئی گہرا گڑھا ہے جس میں، میں جاگروں گا، شانوں پر شدید دبائو محسوس ہو رہا تھا۔ پھر دفعتاً کسی نے میری گردن پر گدگدی کی اور میں چونک پڑا۔ سنتری مجھ سے دور تھے، پھر یہ کون ہے، عجیب سی کیفیت محسوس ہو رہی تھی، پھر یوں لگا جیسے سر پر کوئی چیزچل رہی ہے لیکن بندھے ہوئے ہاتھوں کی وجہ سے اسے ٹٹول نہ سکا، تب ہی میرے کانوں میںآواز ابھری۔
’’میں ہوںمیاں جی، پہچانا۔‘‘ اور میں نے اسے پہچان لیا۔ بھلا اسے نہ پہچانتا، وہی منحوس آواز۔ میرے ساتھ چلنے والے سنتری اگر غورکرتے تو میرے سر پر بیٹھی مکڑی کو دیکھ سکتے تھے۔ ’’نہیں میاں جی، یہ سسرے ہمیں ناہیں دیکھ سکتے۔‘‘
’’اب کیا ہے؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’مجا آرہا ہے میاں جی کہ نا۔‘‘ اس کی آواز سنائی دی اور پھر باریک سا ٹمٹماتا ہوا قہقہہ… میں بھلا اس بات کا کیا جواب دیتا۔ ’’پھانسی ہو جائے گی اب تمہیں، ٹھور مر جائوگے۔ دیکھا تم نے کہا تھا نا ہم نے…‘‘ میں خاموشی سے قدم بڑھاتا گیا۔ ’’جندگی بڑھیا ہے یا موت میاں جی۔ بولو جینا چاہو ہو یا مرنا؟‘‘
’’میرے ذہن میں چھناکا سا ہوا تھا۔ میں بولے بغیر نہ رہ سکا۔ ’’اب بھی زندہ رہنے کا کوئی امکان ہے؟‘‘
’’کیوں نا ہے، ہم جو ہیں۔‘‘
’’اب تو کیا کر لے گا، اب میری موت کتنی دور ہے؟‘‘ میں نے کہا اور وہ پھر اپنی مکروہ آواز میں ہنسا۔
’’تم بات توکرو میاں جی۔ ہم کا کر لیں گے، یہ تو بعد میں ہی معلوم ہو گا۔‘‘ اس نے کہا۔
’’ کیابات کروں؟‘‘
’’ہمارا کام کروگے؟ دیکھو میاں جی تمہارا راستہ کوئی نا روکے گا، تم وہاں جا سکو ہو جہاں ہمیں جانا ہے۔ آنکھیں بند کر کے چڑھتے چلے جانا پھاگن دوار اور پھر ہمیں وہاں رکھ دینا، اس کے بعد دیکھنا مجا جندگی کا۔‘‘
’’مگر وہ پاک مزار ہے اور تو گندا عامل۔‘‘
’’ہے رہے۔ اب بھی پاک ناپاک کے چکر میں پڑے ہو، مرجی ہے تمہاری۔‘‘
’’سن کمینے غلیظ سادھو، میرے ساتھ جو کچھ ہوچکا ہے وہی اتنا ہے کہ میں دنیا سے بیزار ہوگیا ہوں، یقینا میرے گناہ اتنے ہوں گے کہ میری یہ انتہا ہوتی اب اس آخری وقت میں، میں تیرے سامنے یہ ناپاک اقرار کر کے اپنا ایمان نہیں کھونا چاہتا۔ موت میرے سامنے ہے، اب مجھے کسی اور چیز سے دلچسپی نہیں ہے، میں تھوکتا ہوں تجھ پر۔‘‘ وہ کچھ دیر خاموش رہا، پھربولا۔
’’ جندہ تو تمہیں رہنا ہے میاں جی۔ میں سمجھا تھا کہ کس بل نکل گئے ہوںگے، موت سامنے دیکھ کر ہوش آگیا ہو گا مگر کوئی بات نہیں میرے پاس بھی وقت ہے اور تمہارے پاس بھی۔ یہ کام تمہیں کرنا ہوگا۔ آج نہیں کل، کل نہیں پرسوں، ایسے نہیں چھوڑوں گا میاں جی۔ ایک دفعہ میں مر گئے تو کا فائدہ، مجا تو جب ہے کہ باربار مرو۔ اس وقت تک مرتے رہو جب تک ہمارا کام کرنے کے لئے تیار نہ ہو جائو۔‘‘
’’سنتری چونک چونک کر مجھے دیکھ رہے تھے۔ وہ سمجھ رہے تھے کہ شاید میں کچھ کہہ رہا ہوں لیکن میں ان سے مخاطب نہیں تھا۔ آخری الفاظ کے بعد میں خاموش ہوگیا مگر میری سمجھ میں کچھ نہیں آیاتھا۔ بالآخر میں جیل کے پھانسی گھر پہنچ گیا، عجیب سی جگہ بنی ہوئی تھی، مجھے سیڑھیاں چڑھائی گئیں، پھرمیری آنکھوں پر کپڑا چڑھایا گیا۔ مجسٹریٹ، جیلر اور ڈاکٹر وغیرہ موجود تھے، عجیب پُراسرار ماحول تھا، مجھ پرسکوت طاری تھا، پھر میری گردن میں پھانسی کا پھندا فٹ کیا گیا، مجھے اپنے پیروں تلے زمین نکلتی محسوس ہوئی، پھر یوں لگا جیسے کوئی نرم چیز میرے پیروں کے نیچے آگئی ہو، کسی نے مجھے نیچے گرنے سے روک لیا ہو۔ پھر ایک دھواں سا میرا اوپر چھا گیا اور دو ہاتھوں نے میری گردن سے پھندا نکال لیا۔ عجیب سا شور سنائی دیا، بھاگ دوڑ ہونے لگی، کسی نادیدہ ہاتھ نے میری کلائی پکڑی اور دوڑنے لگا۔ میں بے اختیار قدم اٹھا رہا تھا بلکہ یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہو گا کہ میںگھسٹ رہا تھا، پھر جیل کا دروازہ نظرآیا اور پھر دروازے پر کھڑے سنتری اِدھر اُدھر لڑھک گئے۔ ان کے ہاتھوں سے بندوقیں گرگئی تھیں۔ کسی نے ذیلی دروازہ کھولا اور مجھے باہر نکال لایا۔ جیل کے دروازے سے کچھ فاصلے پر املی کا ایک درخت نظر آرہا تھا جو بہت گھنا تھا اور اس کی موٹی موٹی شاخیں دور تک پھیلی ہوئی تھیں ۔ مجھے یوں لگا جیسے کسی نے مجھے اٹھا کر ایک موٹی شاخ پر بٹھا دیا ہو۔ میرا سانس پھول رہا تھا، حالت خراب ہو رہی تھی ۔ پھراچانک میرے سر سے کوئی چیز لگی۔ دو پائوں تھے جو لمبے ہوتے جا رہے تھے، پھر وہ اسی شاخ سے آٹکے جس پر میں بیٹھا ہوا تھا اوراس کے بعد ایک جسم بھی اس شاخ پر آگیا۔ یہ کہنا بیکار ہے کہ میں اسے پہچانتا تھا، وہی منحوس چہرہ میرے سامنے تھا اور وہی شیطانی مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر تھی۔
’’کیسی رہی میاں جی، بچ گئے پھانسی سے تم …‘‘ میری قوت گویائی ختم ہوگئی تھی، پورا جسم لرز رہا تھا۔ آہ! یہ سب کچھ خواب نہیں تھا۔ زندگی ختم ہو گئی تھی میری، سب کچھ ہوگیا تھا، پورے حواس کے عالم میں ہوا تھا مگر بچ گیا تھا۔ میں زندہ ہوں، میں زندہ ہوں۔ اس نے کہا ’’ اور اب آگے تمہیں بچنا ہے میاں جی۔ پھانسی دینے والے مصیبت میں پڑ گئے ہیں، ساری جیل میں تمہیں ڈھونڈتے پھر رہے ہیں۔ جائو گے ان کے پاس؟‘‘ میں خشک ہونٹوں پر زبان پھیر کر رہ گیا۔ اس نے ایک طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ ادھر دیکھو، تمہارے گھر والے تمہاری لاش لینے آئے ہیں۔ سارے کریا کرم کا بندوبست کرلیا ہے انہوں نے۔ سنو میاں جی اور کچھ نہیں کہیںگے تم سے، ہمیں اتنا کہنا ہے کہ ایک دن تمہیں ہمارا یہ کام کرنا پڑے گا۔ خود آئو گے چل کر ہمارے پاس، ہم سے رو رو کر کہو گے مہاراج ہم تمہیں پیر پھاگن کے دوارے لے چلنے کیلئے تیار ہیں۔ آئو ہمارے ساتھ چلو۔ جب تک تم ہمارا یہ کام نا کرو گے، ایسے ہی دربدر پھرتے رہو گے۔ جہاں جائو گے مصیبت تمہارے ساتھ ہوگی، جہاں ٹکو گے وہاں والے بھی مصیبت میں پھنس جائیں گے۔ کوئی تمہیں ساتھ رکھنے کو تیار نہ ہو گا، سب تم سے پناہ مانگیں گے اور پناہ تمہیں کہاں ملے گی، ہمارے پاس آکر، ہمارا کام کرکے… کا سمجھے۔ ہمارا کام ای تھا کہ ہم تمہاری جان بچا کر یہاں تک لے آئے، روشنی میں نیچے اترے تو دھر لئے جائو گے، رات کو اترنا اور گھر چلے جانا اور پھر سوچنا… کا سمجھے۔‘‘
وہ اچانک میرے سامنے سے غائب ہوگیا۔ میں پتھرایا ہوا تھا، ہاتھ پائوں سن تھے، اپنا بدن اپنا لگتا ہی نہیں تھا اور اب اپنا وجود اپنا تھا بھی کہاں، مجھے تو سزائے موت ہوچکی تھی۔ جیل کی دنیا میں بھی یہ اپنی نوعیت کا پہلاہی واقعہ ہو گا۔ اس سے پہلے بھلا ایساکہاں ہوا ہوگا مگر کچھ احساس تو دوسرے لوگوں کو بھی ہو گا۔ اب تو سوچا جائے گا کہ میں بے گناہ تھا، کسی پُراسرار جال میں پھنسا ہوا تھا، اگرایسا نہ ہوتا تو یہ کیسے ہوتا۔ ضمیر الدین صاحب نے یہ حوالے دیئے تھے مگر وکیل سرکار نے ان باتوں کا خواب مذاق اُڑایا تھا۔ ضمیرالدین صاحب کے بار ے میں نازیبا جملے ادا کئے تھے۔ اس نے کہا تھا۔ ’’دوسرا قتل صرف اس لئے کیا گیا ہے جناب والا کہ ملزم خود کو دماغی مریض ظاہر کرنا چاہتا ہے، اس نے صرف اس بات کا یقین دلانے کیلئے ایک انسان کی جان لے لی۔ وہ بے رحم اورسفاک ہے، اسے صرف اور صرف موت کی سزا دی جائے۔
ٹھیک ہے وکیل صاحب اس کایقین آپ کو ضرور دلائوں گا۔ میں نے سوچا۔ دل و دماغ عجیب کیفیت کا شکار تھے، بڑی مضحکہ خیز کیفیت پیدا ہوگئی تھی، خوف تھا کہ نیچے اترا تو نہ جانے کیا ہو، زندگی کسے پیاری نہیں ہوتی۔ ٹھنڈی سانس لے کر ادھر دیکھا جہاں بے چارے ماموں ریاض میرے چھوٹے بھائی اور پڑوس کی مسجد کے پیش امام مزید دو افراد کے ساتھ کھڑے ہوئے تھے۔ ایک لمحے کیلئے دل چاہا کہ درخت سے نیچے کودوں، دوڑتا ہوا ان کے پاس پہنچ جائوں، انہیں بتائوں کہ میں زندہ ہوں۔ مگر ہمت نہ ہوسکی تھی۔ پھر کچھ سپاہی باہرآئے، ماموں صاحب کو بلا کر اندر لے گئے، کوئی آدھے گھنٹے کے بعد ماموں صاحب واپس آئے، عجیب شکل ہو رہی تھی۔ سب واپس چلے گئے، مجھے تو یہ پورا دن یہاں گزارنا تھا۔ حیران پریشان درخت پر بیٹھا رہا۔ دن کو بارہ بجے کے قریب ایک بار پھر میں نے ماموں ریاض کو دیکھا، اس وقت والد صاحب، والدہ صاحبہ، بھائی اور بہن بھی ساتھ تھے۔ والدہ کو بہت دن کے بعد دیکھا تھا، آنکھوں سے آنسو بہنے لگے مگر جذبات سے کام نہیں لیا جاسکتا تھا۔ صبر کیا۔ وہ لوگ اندر گئے، کافی دیر کے بعد باہر آئے اور پھر چلے گئے۔ میرا تمام دن بھوکے پیاسے گزرا تھا، پھر جب خوب تاریکی پھیل گئی تو میں نیچے اترا اور تیزی سے ایک طرف چل پڑا۔ گھرکا رخ بھول کر بھی نہیں کر سکتا تھا کہ قانون آسانی سے پیچھا نہیں چھوڑے گا اور پھرسادھو کے الفاظ بھی یاد تھے۔ گھر والے تو صبر کر ہی لیں گے مگر میں انہیں اپنی نحوستوں کا شکار نہیں کرنا چاہتا تھا۔ آہ! اب کیاکروں، کہاں جائوں، کہاں ٹھکانہ ہے میرا…؟
دل و دماغ خوف کے زیر اثر تھے، قوت فیصلہ ساتھ چھوڑ چکی تھی۔ شہر اتنا اجنبی نہیں تھا لیکن اس وقت یوں لگ رہا تھا جیسے پوری کائنات میں کوئی شناسا نہ ہو۔ انسانی شکل میں نظر آنے والا ہر وجود دشمن ہو۔ آہ… موت میری تاک میں اور زندگی ایک کمزور، بے بس چڑیا کی مانند جو پرواز کے ناقابل ہو اور جینے کی آرزو میں پر پھڑپھڑا رہی ہو۔ کون سی جگہ ہے جو میری پناہ گاہ بن جائے۔ میری نگاہ ہر سائے میں پناہ ڈھونڈ رہی تھی، مگر ہر سایہ خوف کا سایہ تھا۔ قدم کس طرف لے جا رہے ہیں اندازہ بھی نہیں ہو رہا تھا، پھر شاید غیب سے رہنمائی ہوئی۔ ریل کی سیٹی کی آواز رات کے سناٹے کو چیرتی ہوئی کانوں سے ٹکرائی تھی اور میرے قدم رک گئے تھے۔ ریل… ہاں ایک راستہ یہ بھی ہے۔ کچھ فاصلے پر ریلوے اسٹیشن ہے، کیوں نہ یہاں سے نکل جایا جائے، کیوں نہ یہ شہر چھوڑ دیا جائے۔ ہوسکتا ہے یہاں سے دور جا کر زندگی کی آس بندھے۔ قدم پھر آگے بڑھے، رفتار تیز ہوگئی، دماغ پر نیند جیسی کیفیت طاری تھی۔ اسی عالم میں اسٹیشن پہنچا، بہت سی چیزوں کا احساس بھی نہ ہوسکا۔ بس ریل کے آگے بڑھنے کے جھٹکے سے جیسے آنکھ کھل گئی۔ میں نے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر اردگرد کے مناظر دیکھے۔ کھڑکی سے روشنیاں رینگ رہی تھیں، اندر ملگجے بلب ان مسافروں کو نمایاں کر رہے تھے جو کہیں دور سے آ رہے تھے اور دور جا رہے تھے۔ سب کے سب میری طرح نیند کے سحر میں ڈوبے ہوئے، نہ جانے میں کیسے ان کے درمیان آیا تھا اور انہوں نے کیسی نگاہوں سے مجھے دیکھا تھا۔
روشنیوں کے دوڑنے کی رفتار تیز ہوگئی، یوں لگتا تھا جیسے انہیں اندھیرے کا خوف ہو اور وہ اس سے جان بچانے کے لئے بھاگ رہی ہوں۔ کہیں پھر اندھیرا تمام روشنیوں کو کھا گیا اور کھڑکی سے باہر گھور تاریکی کے سوا کچھ نہ رہا۔ میں نے اس اندھیرے سے خوف زدہ ہو کر آنکھیں بند کرلیں، لیکن جونہی پلکیں جڑیں، میرے اختیار سے باہر ہو گئیں۔ کوشش کے باوجود آنکھیں نہ کھلیں۔ ذہن سے سوچوں کی گرفت سے آزادی کی جدوجہد کی اور اس کے حصول میں کامیاب ہوگیا۔ سارا بدن خوشگوار احساس کے ساتھ سوگیا اور نیند کی یہ عنایت اس وقت تک قائم رہی جب تک اجالے کے شہنشاہ نے تاریکیوں کو ملیامیٹ نہ کردیا۔ باہر روشنی دوڑ رہی تھی اور ٹرین پٹریاں بدل رہی تھی۔ آبادی کے آثار نظر آ رہے تھے، غالباً ٹرین کسی اسٹیشن سے گزری تھی۔ لوگ جاگ گئے اور میں سنبھل کر بیٹھ گیا۔ آہ، رات بھر کا سفر طے ہو چکا تھا اور میں نہ جانے کتنی دور نکل آیا تھا، بہت کچھ پیچھے رہ گیا تھا۔ کیا میری مشکلات کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔ کیا مجھے ایک پرسکون زندگی دوبارہ مل سکتی ہے۔ دل نے خود ہی جواب دے دیا، ناممکن ہے… میں اپنے گناہوں کا پھل پا رہا ہوں۔ میں فطرت سے انحراف کا مجرم ہوں۔ وہ منحوس سادھو میرا پیچھا کہاں چھوڑے گا۔ اس نے مجھے سکون کی دنیا سے بہت دور لا پھینکا ہے، میں ایک ایسا مجرم ہوں جو پھانسی کے تختے سے اتر بھاگا ہے۔ نہ جانے قانون کے رکھوالوں نے میرے فرار کا کیا جواز پیدا کیا ہوگا لیکن یہ ایک سچ ہے کہ قانون چپے چپے پر مجھے تلاش کر رہا ہوگا۔ اپنے گھر واپس نہ جا کر میں نے بہترین فیصلہ کیا تھا، وہ لوگ میری وجہ سے بدترین مصیبتوں کا شکار ہوسکتے تھے۔ اب ایک یہی غم رہے گا انہیں کہ میں ان کے درمیان نہیں ہوں۔ دفعتاً مجھے ایک اور خیال آیا اور میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے، میں ریل میں سفر کر رہا ہوں، بغیر ٹکٹ ہوں۔ رات تو گزر گئی، صبح کو ٹکٹ چیکر ضرور آئے گا، میرے پاس ٹکٹ بنوانے کے لئے پیسے بھی نہیں ہیں، نتیجے میں مجھے پولیس کے حوالے کردیا جائے گا اور وہاں یہ بھی انکشاف ہوسکتا ہے کہ میں دراصل ایک مفرور مجرم ہوں۔ آہ، پہلے اس انداز میں نہیں سوچا تھا، مگر اب اس خیال سے دل بیٹھنے لگا تھا، اس کا کیا حل ہوسکتا ہے۔ صرف ایک اور وہ یہ کہ میں خود ٹرین چھوڑ دوں، مگر کیسے، چلتی ٹرین سے تو نہیں اترا جا سکتا۔ آہ جلدی کوئی اسٹیشن آجائے۔ ابھی صحیح طور پر صبح نہیں ہوئی ہے۔ اسٹیشن سے باہر نکلنے کا موقع مل جائے گا، جگہ کوئی بھی ہو مجھے کیا لینا ہے۔ سر چھپانے کا ٹھکانہ چاہئے، امید بھری نگاہوں سے باہر دیکھنے لگا۔ شاید قبولیت کا وقت تھا، دعا فوراً قبول ہوگئی۔ باہر عمارتوں کے آثار نظر آ رہے تھے، کچھ دیر کے بعد ٹرین کی رفتار سست ہوتی محسوس ہوئی۔ اسٹیشن آگیا تھا۔ میں اٹھ کھڑا ہوا، بے صبری سے ٹرین رکنے کا انتظار کرنے لگا، پھر عامل پور کا بورڈ نظر آیا۔ مجھے اس جگہ کے بارے میں کچھ نہیں معلوم تھا، مگر میرے لئے کیا برا تھا۔ جونہی ٹرین رکی میں جلدی سے نیچے اتر گیا۔ ابھی پلیٹ فارم پر قدم رکھے ہی تھے کہ عقب سے کوئی میرے پاس آگیا۔ مجھے اپنے شانے پر ایک ہاتھ محسوس ہوا اور میرا رنگ پیلا ہوگیا، تبھی ایک سرگوشی ابھری۔
’’سرفراز۔‘‘ نہ جانے کس طرح گردن گھومی تھی، لیکن حالت بے حد خراب ہوگئی تھی۔ آنکھوں کے سامنے ایک چہرہ ابھرا، پروقار نسوانی چہرہ، خاتون کی عمر پینتالیس سال کے قریب ہوگی۔ آنکھیں گہری سیاہ اور بڑی بڑی تھیں۔ رنگ سفید، ایک عجیب سا چہرہ تھا، جسے میں دیکھتا رہ گیا، میری قوت گویائی تو ختم ہی ہوگئی تھی۔ خاتون نے آگے بڑھ کر میری کلائی پکڑ لی اور بولیں۔
’’صرف میں تھی سرفراز جسے پورا یقین تھا کہ ایک دن تم ضرور واپس آ جائو گے میرے بچے، غلطیاں معاف بھی کردی جاتی ہیں! ابا جان آ رہے تھے، ہم لوگ انہیں اسٹیشن لینے آئے تھے۔ دیکھو وہ سارے لوگ اباجان کو اتار رہے ہیں۔‘‘ خاتون نے انگلی سے ایک فرسٹ کلاس کمپارٹمنٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، پھر بولیں۔ ان میں سے کسی کو بھی پتا نہیں ہے کہ ہمیں دہری خوشیاں مل رہی ہیں۔ خاتون کی آواز رندھ گئی، مجھ کم بخت نے ایک بار پھر اپنے بارے میں کچھ بتانا چاہا لیکن آواز نجانے کہاں گم ہوگئی، خاتون پھر بولیں۔ ’’آئو سرفراز آئو، براہ کرم آئو، ابا جان بہت ضعیف ہوگئے ہیں، بہت دن کے بعد آئے ہیں، وہ سب تمہیں دیکھیں تو حیران رہ جائیں گے۔‘‘ کچھ ایسا انداز تھا ان کا کہ میرے قدم خودبخود ان کے ساتھ ساتھ آگے بڑھ گئے۔ انہوں نے اس طرح میری کلائی پکڑی ہوئی تھی، جیسے میں بھاگ جائوں گا اور پھر وہ مجھے لئے ہوئے اس جگہ پہنچ گئیں جہاں سب ایک بزرگ کو گھیرے ہوئے تھے اور معمر بزرگ ایک ایک کو گلے سے لپٹا رہے تھے، پھر انہوں نے کہا۔
’’ریحانہ ریحانہ کہاں ہے، کیا وہ نہیں آئی؟‘‘
جواب میں معمر خاتون آگے بڑھیں اور اس وقت وہ سب میری جانب متوجہ ہوئے، پھر ایک نوجوان لڑکی کی چیختی ہوئی آواز ابھری۔
’’ارے سرفراز بھائی، سرفراز بھائی۔‘‘ اور اس کے بعد وہ سارے کے سارے مجھ پر حملہ آور ہوگئے۔ میں بھلا ان سب سے مقابلہ کیسے کرسکتا تھا، میرا چہرہ ان کی غلط فہمی کو رفع کرنے کی کوشش کر رہا تھا، اب بھلا کون سننے والا تھا، ایک عجیب ہنگامہ بپا ہوگیا۔ معمر بزرگ بھی آگے بڑھے۔ انہوں نے میرے سامنے کھڑے ہوکر میرا چہرہ غور سے دیکھا، پھر دونوں ہاتھ پھیلا کر مجھے سینے سے لگا لیا۔
’’تو سرفراز میاں تم، تم آخر آ ہی گئے، بہت ہی اچھا فیصلہ کیا بیٹے، بہت ہی اچھا فیصلہ کیا۔‘‘ عقل کھوپڑی سے دو فٹ اونچی اٹھ چکی تھی۔ کسی کی کوئی بات جو سمجھ میں آ رہی ہو، سارے کے سارے ایک ہی سُر میں بول رہے تھے۔ معمر خاتون نے ان سب کو روکا وہ بولیں۔
’’یہ اسٹیشن پر ہنگامہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے، آئو گھر چلیں، چلوگھر چلیں۔‘‘
’’مگر یہ سرفراز… یہ… یہ…‘‘
’’اسی ٹرین سے اترے ہیں چلو۔‘‘ معمر خاتون نے اس دوسری لڑکی کے سوال کے جواب میں کہا۔ جن صاحب کو نانا جان کہا جا رہا تھا انہیں تو سب بھول گئے، میرے ہی گرد جمگھٹا لگ گیا تھا، عجیب عجیب باتیں کی جا رہی تھیں میرے بارے میں۔ سارے کے سارے مجھے سرفراز سمجھ رہے تھے۔
نجانے کیوں انہیں اس قدر شدید غلط فہمی ہوئی تھی۔ لیکن میرے حق میں فی الوقت یہ بہتر تھا کیونکہ اس غول میں، میں بآسانی اسٹیشن کے گیٹ سے باہر نکل آیا تھا، ٹکٹ چیکر بھی لاپروا سا آدمی تھا، اس نے گنتی بھی نہیں کی تھی۔ بہرحال ایک طرح سے مجھے عارضی طور پر یہ سہارا مل گیا تھا۔ باہر آ کر میں نے معمر خاتون کو اپنے بارے میں بتانا چاہا، لیکن معمر خاتون نے اب میرا ہاتھ چھوڑ دیا تھا اور ان بزرگ سے باتیں کرنے لگی تھیں جو کہیں سے آئے تھے۔ بعد میں، میں نے ان لڑکیوں اور ان کے ساتھ موجود لڑکوں کو سمجھانا چاہا۔
’’سُنئے بھائی، سنئے بھائی صاحب۔‘‘ میں نے ایک نوجوان کو مخاطب کیا اور وہ مسکرا کر مجھے دیکھنے لگا پھر بولا۔
’’آپ سے تو ایسی کشتیاں ہوں گی کہ پٹخنیوں پر پٹخنیاں دی جائیں گی۔ سرفراز بھائی، آپ نے ہم سب کو زندہ درگور کردیا تھا۔ آپ سوچ بھی نہیں سکتے کہ ہم لوگوں پر کیا گزر چکی ہے۔‘‘
’’میں کچھ کہنا چاہتا ہوں۔‘‘
’’ار ے تو کیا یہیں کہیں گے، گھر نہیں چلنا ہے؟‘‘
’’سنئے آپ کو… آپ کو… غلط فہمی ہو رہی ہے، میں سرفراز نہیں ہوں۔ آپ کو بہت بڑی غلط فہمی ہو رہی ہے، بعد میں آپ مجھے مورد الزام ٹھہرائیں گے۔‘‘
’’سنا نادیہ، سن لیا، یہ سرفراز نہیں ہیں۔‘‘
’’ان کی تو ایسی تیسی۔ انہیں تو دس بار سرفراز بننا پڑے گا، چلئے جلدی سے، شرافت سے، ورنہ میں لڑکی بہت بری ہوں۔‘‘ اس خوبصورت سی لڑکی نے بے تکلفی سے کہا اور آستین چڑھانے لگی، سب لوگ ہنسنے لگے تھے۔ میں ٹھنڈی سانس لے کر خاموش ہوگیا، واقعی سر بازار اپنے آپ کی اس شدت سے تردید کرنا نقصان دہ بھی ہوسکتا تھا۔ بڑی قیمتی گاڑیاں آئی ہوئی تھیں۔ غول بیابانی ان گاڑیوں میں بھرنے لگا۔ اسی لڑکی نے جس کا نام نادیہ لیا گیا تھا، ایک نوجوان سے کہا۔
’’آپ نے ان کے الفاظ سن لئے شاکر بھائی ذرا ہوشیار رہیں، خطرہ ہے۔‘‘
’’فکر ہی نہ کریں، چار سو میٹر تک تو میں انہیں آگے نکلنے نہیں دوں گا، اس کے بعد بھی اگر یہ دوڑتے رہے تو پھر دیکھا جائے گا؟‘‘ جس شخص کو شاکر کے نام سے پکارا گیا تھا، اس نے کہا اور ایک بار پھر سب ہنسنے لگے۔
کوئی میری بات سننے کے لئے تیار نہیں تھا، ایسی شدید غلط فہمی ہوئی تھی مجھے کہ میں خود بھی حیران تھا لیکن اس غلط فہمی سے مجھے کوئی خوشی نہیں تھی، اب میں اتنا گیا گزرا بھی نہیں تھا کہ اس غلط فہمی سے لطف اندوز ہوتا لیکن مجھ پر تو زندگی ہی کٹھن ہوگئی تھی، میں تو مصیبتوں کا مارا تھا، بھلا اس ماحول سے ان الفاظ سے کیا لطف اندوز ہوتا۔ بس دل تھا کہ مارے درد کے پھٹا جا رہا تھا اور ذہن طرح طرح کے خیالات کا شکار ہو رہا تھا۔ گاڑیاں جس عمارت میں داخل ہوئیں اسے دیکھ کر مجھے یہ اندازہ ہوگیا کہ نہایت خوشحال لوگ ہیں اور بڑی اچھی حیثیت کے مالک، آہ کاش ان لوگوں سے واقعی میرا کوئی تعلق ہوتا، چاہتا تو جھوٹ بول کر ان کے درمیان اپنے لئے جگہ بنا سکتا تھا۔ لیکن… لیکن دل یہ بھی گوارہ نہیں کر رہا تھا اور میں جھوٹ بول کر ایک اور گناہ نہیں کرنا چاہتا تھا، ویسے ہی زندگی بری طرح گناہوں کے بوجھ سے دبی ہوئی تھی اور اس کا پورا پورا صلہ میں بھگت رہا تھا۔
یہاں پہنچنے کے بعد تمام لوگ نیچے اتر گئے۔ معمر خاتون، معمر بزرگ کے ساتھ نیچے اتری تھیں لیکن ان کی توجہ ان بزرگ سے زیادہ مجھ پر تھی۔ رکیں اور میرے قریب آنے کا انتظار کرنے لگیں۔ لڑکے لڑکیوں کا غول مجھے ان کے پاس لے گیا۔ معمر خاتون نے میرا بازو پکڑتے ہوئے کہا۔
’’کیا حلیہ بنا لیا ہے تم نے اپنا سرفراز، زندگی کھونے پر تلے ہوئے تھے، میں جانتی تھی مجھے یقین تھا کہ تم واپس آ جائو گے، بیٹے بڑائی اسی میں ہے اور پھر اور پھر شاید تمہیں علم ہو کہ وہ نہ رہے جن سے تمہیں اختلاف پیدا ہوگیا تھا، کیا تمہیں علم ہے کہ رحمان صاحب کا انتقال ہوگیا، میری گردن بلاوجہ ہی نفی میں ہل گئی تھی۔
’’ہاں ہم بے سہارا ہوگئے ہیں سرفراز، ہم بے سہارا ہوگئے ہیں، ہمارے سر سے سائبان سرک گیا ہے اور اب…‘‘ معمر خاتون کی آواز گلوگیر ہوگئی۔ معمر بزرگ نے بھی میرے قریب پہنچ کر کہا۔
’’چلو سرفراز میاں، تم بے شک بڑے ہو اور اب۔ اب تو تمہیں اس خاندان کی سرپرستی کرنی ہے، بڑی ذمہ داریاں عائد ہوگئی ہیں تم پر، نجانے کہاں کہاں مارے پھرتے رہے ہو۔‘‘ ہم سب لوگ اندر داخل ہوگئے، خاتون نے ایک لڑکی کو حکم دیا کہ میرا لباس وغیرہ تیار کرے اور مجھے غسل خانے میں پہنچا دے، میں اس افتاد پر سخت حیران پریشان تھا لیکن کیا کرتا عارضی طور پر حالات سے سمجھوتا کرنا پڑا تھا، البتہ میں ان معصوم لوگوں کو مناسب موقع پر صورت حال سے آگاہ کردینے کا فیصلہ کر چکا تھا، جو شدید غلط فہمی کا شکار ہوگئے تھے۔
لڑکی مجھے ساتھ لئے ہوئے ایک وسیع کمرے میں پہنچی جو ایسی ایسی آرائشی چیزوں سے آراستہ تھا جو میں نے عالم ہوش میں کبھی نہیں دیکھی تھیں۔ غسل خانے کی طرف رخ کرتے ہوئے اس نے کہا۔
’’جایئے اور اب اپنا حلیہ درست کیجئے، آپ کا لباس میں ابھی تیار کئے دیتی ہوں۔ یہاں باہر اسٹینڈ پر مل جائے گا، جاتے ہوئے میں دروازہ باہر سے بند کردوں گی، تاکہ آپ فرار ہونے کی کوشش نہ کریں۔‘‘ میں نے ایک ٹھنڈی سانس لے کر اسے د یکھا، بڑی بڑی روشن آنکھوں والی خوبصورت لڑکی تھی، جس کے چہرے پر شوخی اور معصومیت سجی ہوئی تھی، پھر میں باتھ روم میں داخل ہوگیا، سفید ٹائلوں سے مرصع باتھ روم تھا، جس میں نہانے کے نئے نئے سامان موجود تھے۔ مجھے ان تمام چیزوں سے لطف اندوز ہونے کا حق نہیں تھا لیکن یہاں بھی تقدیر کے اس فیصلے پر شاکر ہوگیا، جو عارضی طورپر میرے لئے کیا گیا تھا۔ دل یہ سوچ کر کم از کم مطمئن تھا کہ میں ان لوگوں کو دھوکا دینے کا ارادہ نہیں رکھتا، بلکہ میں نے جس حد تک بھی ممکن ہوسکا اس بات کی تردید کی تھی کہ میں سرفراز ہوں۔
غسل کیا، شیو کا سامان بھی موجود تھا۔ دل چاہا کہ شیو کرلوں، چنانچہ یہ بھی کرلیا میں نے اور جب باہر نکلا تو میرا لباس رکھا ہوا تھا۔ یہ حیران کن بات تھی کہ یہ لباس بھی میرے جسم پر بالکل درست تھا۔ سلک کا کرتا اور سلک کا ہی پاجامہ، یہاں تک کہ جو سلیم شاہی جوتے میرے لئے رکھے گئے تھے وہ بھی میرے پیروں پر فٹ آئے تھے۔ اس حیران کن اتفاق پر ہنسی بھی آ رہی تھی۔ ہوسکتا ہے سرفراز بالکل میرے جیسا ہو، ورنہ اس قدر شدید غلط فہمی اوروہ بھی اتنے بہت سے افراد کو، ممکن نہیں ہوسکتی تھی، لیکن دل کے گوشوں میں ایک اور خوف کا تصور بھی ابھر رہا تھا۔ کہیں یہ بھی اسی کم بخت منحوس شیطان کی چال نہ ہو جس نے مجھے اطلاع دے دی تھی کہ میں کہیں بھی سکھ کا سانس نہیں لے سکوں گا، بلکہ جہاں بھی جائوں گا اس کی نحوست میرا تعاقب کرتی رہے گی۔ دل کو یہ سوچ کر سمجھایا کہ جو کچھ ہونا ہے، وہ تو ہوگا ہی، میں اپنے طور پر مدافعت نہیں کرسکتا اور نہ ہی میرے اندر اتنی قوتیں چھپی ہوئی ہیں۔ چنانچہ اب خوف کے عالم میں مرنے سے کیا فائدہ… ہاں اپنے طور پر میں کوئی ایسا کام نہیں کروں گا جس سے میرا گناہ شدید سے شدید تر ہو جائے۔ جو کچھ کیا تھا اس کے صلے میں جو کچھ بھگت رہا تھا، بس اس سے زیادہ کی میرے اندر ہمت نہیں تھی۔ اب تو میں کمرہ امتحان میں تھا اور اپنی تقدیر پر شاکر۔
تھوڑی ہی دیر کے بعد دروازہ کھلا اور باہر اچھے خاصے لوگ موجود تھے جو مجھے لے کر ڈائننگ روم کی طرف چل پڑے ۔ ٹیبل پر ناشتے کا سامان موجود تھا اور کمرے میں تقریباً تمام ہی اہل خانہ موجود تھے۔ معمر خاتون مسلسل میری خاطرداری کر رہی تھیں اور معمربزرگ بھی۔ لڑکے لڑکیاں میرے اوپر ایک آدھ فقرہ چست کردیتے تھے اور کمرے کا ماحول خوشگوار ہو جاتا تھا۔ خاتون نے کئی لڑکیوں اور لڑکوں کو ڈانٹ بھی پلائی کہ بہت زیادہ باتیں نہ کریں اور میرے مزاج کا خیال رکھیں، میں دل ہی دل میں ہنس رہا تھا کہ واہ میں اور میرا مزاج ابھی جب انہیں اس حقیقت کا یقین آ جائے گا کہ میں وہ نہیں ہوں، جسے سمجھ کر وہ مجھے یہاں لائی ہیں تو مجھے دھکے دے کر یہاں سے نکال دیا جائے گا۔ دنیا کا یہی انداز ہے اور دنیا اسی انداز میں جیتی ہے۔ ناشتے کے بعد معمر خاتون نے کہا۔
’’ابا میاں مجھے اجازت دیں تو میں تھوڑی دیر سرفراز سے باتیں کرلوں؟‘‘
’’ہاں ہاں کیوں نہیں، اور میں بھی اب سونا چاہتا ہوں، سفر سے تھک گیا ہوں تم اطمینان سے باتیں کرلو۔‘‘
’’آئو سرفراز میرے کمرے میں چلو۔‘‘ معمر خاتون نے کہا اور میں خاموشی اور سعادت مندی سے ان کے ساتھ چل پڑا، وہ مجھے ایک خوبصورت کمرے میں لے آئیں۔ اندر پہنچ کر انہوں نے دروازہ بند کر لیا اور پھر ایک کونے کی طرف اشارہ کر کے بولیں۔
’’بیٹھو، بیٹھ جائو۔‘‘ میں خاموشی سے بیٹھ گیا تھا، وہ خود بھی میرے سامنے والے صوفے پر بیٹھ گئیں، پھر انہوں نے کہا۔
’’سرفراز بیٹے زندگی میں نجانے کیا کیا اونچ نیچ ہوتی رہتی ہے، ہم یہ نہیں کہتے کہ غلطی ہماری نہیں ہے لیکن لیکن بیٹے، تمہیں اس طرح سب کچھ چھوڑ کر نہیں چلے جانا چاہئے تھا، ٹھیک ہے مرحوم رحمان صاحب کا رویہ تمہارے ساتھ سخت ہوگیا تھا، لیکن بزرگ غلطیاں بھی تو کرلیتے ہیں لیکن کیا ان غلطیوں کی اتنی بڑی سزا دی جاتی ہے انہیں، یقین کرو رحمان صاحب کے دل پر تمہاری جدائی کا شدید زخم تھا۔ وہ فریحہ کو اس عالم میں نہیں دیکھ سکتے تھے، تمہیں اس بات کا بھی علم ہے کہ فریحہ کو وہ سب سے زیادہ چاہتے تھے، فریحہ کی جو کیفیت تمہارے پیچھے ہوئی، میں اگر بتائوں گی تو یہی سوچو گے کہ ماں ہوں، اپنی بیٹی کی وکالت کر رہی ہوں۔ مگر بیٹے تم نے زیادتی کی ہمارے ساتھ، کچھ انتظار تو کرلیتے کوئی صحیح فیصلہ بھی ہوسکتا تھا۔‘‘
’’میں آپ کو کس نام سے مخاطب کروں خاتون۔‘‘ میں نے کہا اور معمر خاتون چونک کر مجھے دیکھنے لگیں۔
’’کیوں کیا تم یہ بھی بھول گئے، تم مجھے چچی جان کہتے ہو؟‘‘
’’جی کچھ ایسے ہی حالات ہیں کہ میں اپنی مجبوریاں آپ کو بتا نہیں سکتا لیکن اس بات سے آپ کو آگاہ کردینا بے حد ضروری سمجھتا ہوں کہ حقیقتاً میں سرفراز نہیں ہوں، میں زمانے کا ستایا ہوا ایک انسان ہوں اور میں آپ کو دھوکا دے کر یہاں اپنے لئے کوئی مقام بنانے کا خواہشمند بھی نہیں ہوں۔‘‘ معمر خاتون بے اعتباری کے انداز میں سنجیدگی سے مجھے دیکھتی رہیں پھر بولیں۔
’’اس کا مطلب ہے کہ تمہارا دل ابھی صاف نہیں ہوا۔ رحمان صاحب کی موت نے بھی تمہارے دل میں ہمارے لئے نرمی پیدا نہیں کی۔ خیر جو کچھ تم کہہ رہے ہو کہتے رہو۔ تمہاری سنگدلی کا تھوڑا تھوڑا اندازہ تو مجھے تھا… لیکن… لیکن… اچھا ٹھیک ہے فریحہ سے مل تو لو۔ ایک بار اسے بھی یہ بتا دو کہ تم سرفراز نہیں ہو اور اس کے بعد ہم اپنی تقدیر پر شاکر ہو جائیں گے، جو کچھ بھی فیصلہ تم کرو گے ہمیں منظور ہوگا۔ میری بچی تمہارے جانے کے بعد کبھی مسکرائی نہیں ہے۔ کاش تمہیں ان حقیقتوں کا بھی احساس ہوتا۔‘‘
’’ٹھیک ہے خاتون بالکل ٹھیک ہے آپ میری بات بالکل نہیں مان رہیں لیکن میں آپ سے صرف چند الفاظ کہنا چاہتا ہوں کہ بعد میں آپ کو اگر حقیقتوں پر یقین آ جائے تو مجھے مجرم نہ سمجھئے گا، اس تمام کہانی میں میرا کوئی قصور نہیں ہے۔‘‘
خاتون کے چہرے پر ناگواری کے آثار ابھرے، انہوں نے گردن ہلائی اور آہستہ سے بولیں۔
’’تمہاری انتہاپسندی کے بارے میں سب ہی جانتے ہیں سرفراز۔ کیا تم اتنا تعاون کرسکتے ہو ہم سے کہ صرف چند روز یہاں گزار لو، فریحہ سے ملاقات کر لو۔ اگر تم ایسا کر لو گے تو یہ ہم سب پر احسان ہی ہوگا، اسے سمجھا دو اس کے بعد تمہارا جو دل چاہے وہ کرو۔‘‘ وہ اٹھیں اور انہوں نے دروازہ کھول دیا، باہر سارا غول بیابانی جمع تھا، ایک لڑکی نے کہا۔
’’جی امی جان کیا ہوا، یہ شرافت سے مان گئے یا پھر ہماری باری آگئی۔‘‘
’’تم لوگ کوئی بدتمیزی نہ کرو، سمجھیں، چلو اپنے اپنے کمرے میں جائو۔‘‘
’’ایسے نہیں جائیں گے، اگر یہ شرافت سے مان گئے تو ٹھیک ہے ورنہ ہم انہیں اٹھا کر لے جا رہے ہیں۔‘‘ ایک لڑکی نے کہا اور وہ سب مجھ پر جھپٹ پڑیں۔
’’نہیں نہیں، سنیے، سنیے میں چل رہا ہوں، میں چل رہا ہوں۔‘‘ میں نے بوکھلا کر کہا اور ہنستے قہقہے لگاتے ہوئے یہ لوگ مجھے ایک طرف لے چلے۔
دل ہی دل میں دکھ بھی ہو رہا تھا۔ کاش میں اس گھرانے کا ایک فرد ہوتا، کیا خوب صورت زندگی ہوتی، لیکن میری نحوست بالآخر ان لوگوں کو بھی لپیٹ میں لے لے گی۔ لڑکیاں مجھے لئے ہوئے ایک دروازے پر پہنچ گئیں، انہوں نے دروازہ کھول کر مجھے اندر دھکا دے دیا اور اس کے فوراً بعد دروازہ باہر سے بند بھی کردیا گیا تھا، عجیب سی صورتحال تھی، دل میں ایک میٹھا میٹھا سا احساس بھی جاگ رہا تھا لیکن اس کا اختتام خوف کے دبائو پر ہوتا تھا۔
گھبرائی ہوئی نگاہوں سے میں نے کمرے کا جائزہ لیا، اعلیٰ درجے کے قالین بچھے ہوئے، دروازے کھڑکیوں اور دیواروں کی مناسبت سے پردے پڑے ہوئے تھے۔ کمرے کے ایک جانب ایک مسہری تھی، جس پر دو تکیے رکھے ہوئے تھے، مسہری کی بائیں جانب پھولوں کا ایک بہت بڑا خوبصورت گلدستہ نظر آ رہا تھا، جس میں تازہ پھول لگے ہوئے تھے اور اس کے اطراف میں بھینی بھینی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔ کمرے کے انتہائی سرے پر بنی ہوئی کھڑکی کے سامنے ایک نسوانی پیکر موجود تھا، جس کی پشت دروازے کی جانب تھی۔ گہرے نیلے لباس میں ملبوس سیاہ چوٹی کمر سے نیچے تک لٹکی ہوئی تھی۔ میں سکتے کی سی حالت میں کھڑا دیکھتا رہا اور پھر بمشکل تمام میری آواز ابھری۔
’’سنیے!‘‘ نسوانی جسم میں ہلکی سی تھرتھراہٹ ہوئی اور پھر اس نے اپنا رخ تبدیل کرلیا اور آنسوئوں سے لبریز ایک حسین چہرہ میری نگاہوں کے سامنے آگیا، وہ بے حد حسین تھی، اس کے چہرے پر عجیب سی یاسیت چھائی ہوئی تھی، میں سکتے کے سے عالم میں اسے دیکھتا رہ گیا، میں زندگی کے اس شعبے سے پوری طرح روشناس نہیں تھا لیکن یہ سلگتا ہوا حسن میری آنکھوں کے راستے دل میں اترتا چلا گیا تھا۔ ان حسین اور بڑی بڑی آنکھوں سے جن کے چہرے کے نقوش ان معمر خاتون سے کافی ملتے ہوئے تھے، آنسوئوں کی جھڑی لگی ہوئی تھی، میں چند قدم آگے بڑھا اور میں نے لرزتی ہوئی آواز میں کہا۔
’’سنیے، شاید آپ کا نام فریحہ ہے۔ یہاں سب لوگ اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ میں سرفراز ہوں۔ ان لوگوں نے مجھے ریلوے اسٹیشن پر دیکھا تھا لیکن میں آپ کو یہ بتا دینا چاہتا ہوں خاتون کہ میرا نام سرفراز نہیں ہے، ہوسکتا ہے میرا چہرہ ان سے اتنا ملتا جلتا ہو کہ سب دھوکہ کھا رہے ہیں لیکن آپ کو دھوکا نہیں کھانا چاہئے۔ یہ غلط فہمی آپ کے لئے سب سے زیادہ بھیانک ہوسکتی ہے۔‘‘ وہ آنسو بھری نگاہوں سے مجھے دیکھتی رہی پھر اس نے کہا۔
’’عامل پور کیوں آگئے۔‘‘
’’تقدیر کا پھیر ہے۔ آپ سمجھدار ہیں، اچھا برا سوچ سکتی ہیںاور۔‘‘ اور ابھی میں نے اتنا ہی کہا تھا کہ خاتون فریحہ بے اختیار ہوگئیں، دوڑ کر آگے بڑھیں اور میرے سینے سے سر ٹکا دیا۔
’’معاف کرو فرازی، مجھے معاف کردو، میں اپنا تجزیہ نہیں کرپائی تھی۔ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ تم سے دور رہ کر میں زندہ درگور ہو جائوں گی۔ فرازی اب مجھے معاف کردو۔‘‘ وہ سسک سسک کر رونے لگی۔ میرے حواس معطل ہوئے جا رہے تھے، کچھ کر بھی نہیں سکتا تھا، سکتے کے عالم میں کھڑا رہا۔ فریحہ کے دل کی بھڑاس نکل گئی تو اس نے گردن اٹھا کر مجھے دیکھا۔ پھر بولی۔ ’’مجھے معاف نہیں کرو گے؟‘‘
’’اس کے کچھ امکانات ہیں کہ آپ میں سے کوئی سمجھداری سے کام لے لے؟‘‘ میں نے گہری سانس لے کر کہا۔ ’’تم یہ کہنا چاہتے ہو کہ تم سرفراز نہیں ہو۔‘‘
’’ہاں میں سرفراز نہیں ہوں۔‘‘
’’پھر تم کون ہو؟‘‘
’’ایک تقدیر کا مارا۔‘‘
’’تم ہمارے ساتھ نہیں رہنا چاہتے؟‘‘
کاش رہ سکتا۔‘‘ میں نے کہا اور وہ مجھے دیکھتی رہی، اس کے چہرے سے میں نے یہ اندازہ لگا لیا تھا کہ وہ میری بات پر یقین نہیں کر رہی، پھر اس نے ٹھنڈی سانس لے کر کہا۔ ’’ایک درخواست قبول کرلو گے۔‘‘
’’حکم دیجئے؟‘‘
’’اگر میرے لئے تمہارے دل میں کوئی گنجائش باقی نہیں رہی تو ٹھیک ہے، میں تمہیں مجبور نہیں کروں گی مگر تمہارے آنے سے یہ سب کھل اٹھے ہیں، امی بھی خوش نظر آ رہی ہیں، صرف انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ان کے ساتھ کچھ وقت گزار لو۔ ابو کی موت نے ان سب کو نیم مردہ کردیا ہے۔ تمہاری وجہ سے کچھ خوشیاں مل جائیں گی۔ بات صرف میری رہ جاتی ہے تو میں اپنی تقدیر سے سمجھوتہ کرلوں گی، دوسروں پر کچھ ظاہر نہ کرو، صرف میری سزا قائم رکھو صرف میری۔‘‘
میں پھر ہونٹ دانتوں میں دبا کر اسے دیکھتا رہا، پھر میں نے کہا۔ ’’میری دعا ہے فریحہ خاتون کہ اس گھر کو کائنات کی ساری خوشیاں مل جائیں۔ میں ایک منحوس انسان ہوں، صرف اس بات سے خوفزدہ ہوں کہ میری نحوست اس گھرانے کو لپیٹ میں نہ لے لے۔‘‘
’’ہاں میں نے یہ الفاظ کہے تھے، میں نے تمہیں منحوس کہا تھا کہ تمہاری نحوست نے ہمارا جینا حرام کردیاہے۔ میں ان الفاظ پر شرمندہ ہوں، بس غصے میں منہ سے نکل گئے تھے۔‘‘ فریحہ بولی۔
’’جی؟‘‘ میری آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
’’اور تم کہتے ہو کہ تم سرفراز نہیں ہو۔‘‘ اس نے افسردگی سے مسکرا کرکہا۔
’’خدا کا یہی حکم ہے تو یہی سہی، میں سر خم کرتا ہوں لیکن خاتون فریحہ آپ کو ایک وارننگ دینا چاہتا ہوں۔‘‘
’’کیا؟‘‘
’’بہتر ہے کہ دنیا کے سامنے بھی یہی ظاہر کریں کہ میرے اور آپ کے درمیان فاصلے ہیں تاکہ جب سچائی سامنے آئے تو آپ کی زندگی تباہ نہ ہو جائے، اس کے بعد بات بنائے نہیں بنے گی۔ کوئی ذریعہ نہیں ہوگا آپ کے پاس۔‘‘
’’ہاں تمہارے ان الفاظ کی وجہ جانتی ہوں، مجھ سے دور رہنا چاہتے ہو، مجھے سزا دینا چاہتے ہو، فرازی مجھ سے زیادہ تمہیں اس دنیا میں کون جانتا ہے۔ خیر اپنے لئے مجھے ہر سزا قبول ہے۔ شاید وقت میری مشکل حل کردے مجھے منظور ہے۔‘‘
میں نے بے چارگی سے گردن ہلا دی تھی۔ اس نے اداس نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہا۔
’’اور ہوسکے تو دوسروں کے سامنے میری توہین نہ کرنا۔‘‘
’’ہمیں کوئی درمیانی راہ نکالنی ہوگی فریحہ صاحبہ۔‘‘ میں نے کہا، وہ خاموش رہی تھی۔ بحالت مجبوری اس انوکھے ڈرامے کے لئے تیار ہوگیا تھا، موت کے جبڑوں سے نکلا تھا اور کوئی اور گناہ نہیں کرنا چاہتا تھا، ورنہ اس موقع سے پورا فائدہ اٹھاتا۔ اب اسی روشنی میں عمل کرنا تھا۔ میں نے کہا۔ ’’آیئے فریحہ باہر چلیں، آپ دوسرے لوگوں کو جو کچھ بتانا چاہیں بتائیں۔‘‘
’’جی!‘‘ اس نے گردن ہلادی۔ ہم باہر آگئے۔ شریر لڑکے اور لڑکیوں کا غول جیسے منتظر ہی تھا۔ انہوں نے مختصر وقت میں انتظام کر لیا تھا، چنانچہ ہم دونوں کو پھولوں سے لاد دیا گیا۔ سب میری آمد کی خوشیاں منا رہے تھے، مگر میرا دل رو رہا تھا۔ وہ میں نہیں تھا جس کے لئے خوشیاں منائی جا رہی تھیں۔ فریحہ بھی بجھی بجھی تھی۔ خوب ہنگامہ رہا تھا، البتہ ریحانہ بیگم ہم دونوں کا جائزہ لے رہی تھیں۔ رات کے کھانے کے بعد انہوں نے مجھ سے تنہائی میں کہا۔
’’لگتا ہے سرفراز میاں، تمہارے درمیان اختلاف دور ہوگیا ہے۔‘‘ مجھے موقع مل گیا۔ میں نے کہا۔
’’یہ بات نہیں ہے چچی جان، ہم دونوں کے درمیان ایک سمجھوتہ ہوا ہے۔‘‘
’’کیا؟‘‘
’’ہم ایک ماہ تک اپنا تجزیہ کریں گے، الگ الگ رہ کر، یہ فیصلہ کریں گے کہ مستقبل میں ہمیں ایک دوسرے کے جذبات کا کس طرح خیال رکھنا ہوگا۔‘‘
’’بات کچھ سمجھ میں نہیں آئی۔‘‘ ریحانہ بیگم نے کہا۔
’’اگر آپ اسے ہم دونوں کے درمیان رہنے دیں تو زیادہ اچھا نہیں ہوگا چچی جانٖ!‘‘ میں نے عاجزی سے کہا۔
’’الگ الگ رہنے سے تمہاری کیا مراد ہے؟‘‘
’’میرا مطلب ہے ہمارے درمیان تعاون اور مفاہمت رہے گی۔ بس قربت نہیں ہوگی۔‘‘
’’تم دونوں ہی سرپھرے ہو۔ مگر اب تم یہاں سے جائو گے نہیں۔‘‘
’’جی چچی جان۔‘‘ میں نے ٹھنڈی سانس لے کرکہا۔
’’ذاتی طور پر مجھے تم سے بے حد شکایت ہے۔‘‘
’’کیوں چچی جان؟‘‘
’’یہ معلوم ہونے کے باوجود کہ رحمان اس طرح ہمارے درمیان سے چلے گئے، تمہارا دل نہ پسیجا اور تم نے عادت کے مطابق ڈراما رچایا کہ تم سرفراز نہیں ہو، حالانکہ اس وقت تمہیں ساری رنجشیں بھول کر ہم سے افسوس کرنا چاہئے تھا، ہمارا سہارا بننا چاہئے تھا۔ تمہیں اندازہ نہیں کہ ہم کیسی زندگی گزار رہے ہیں، بچے مرجھا کر رہ گئے ہیں، اگر تمہیں اب بھی ضد تھی تو عامل پور کیوں اترے تھے۔‘‘
’’کاش میں آپ کو ساری حقیقت بتا سکتا چچی جان۔‘‘
’’میں نے بڑی دعائیں کی ہیں تمہاری واپسی کے لئے۔ فریحہ اپنے رویے پر کتنا افسوس کرتی رہی ہے تمہیں اس کا اندازہ نہیں ہوسکتا۔ بہرحال کوئی کسی کے دل میں نہیں داخل ہوسکتا۔‘‘
’’سونے کا انتظام میں نے دوسرے کمرے میں کیا تھا۔ فریحہ کو بھی بتانا ضروری سمجھا تھا…محسوس نہ کرنا فریحہ یہ ضروری ہے۔‘‘
’’تم نے وعدہ کیا تھا کہ مجھے دوسروں کے سامنے رسوا نہیں کرو گے۔‘‘
’’ہاں فریحہ، میں آپ کو رسوا نہیں کرنا چاہتا۔‘‘ میں نے آہستہ سے کہا۔
’’جیسی تمہاری مرضی۔‘‘ اس نے رندھی ہوئی آواز میں کہا۔
دوسرا اور پھر تیسرا دن گزر گیا۔ حالات کسی قدر قابو میں آگئے تھے۔ بڑی کوششوں سے مجھے یہاں کے حالات معلوم ہوئے تھے۔ یہ رحمان صاحب کا گھرانہ تھا جن کا وسیع کاروبار وغیرہ تھا۔ دو بیٹے شاکر اور عامر تھے۔ چار بیٹیاں تھیں جن میں فریحہ سب سے بڑی تھی۔ اس کی شادی سرفراز سے ہوئی تھی جو دنیا میں تنہا تھا، چنانچہ اسے گھر داماد بنا لیا گیا۔ خودسر اور سرکش مزاج نوجوان تھا، کسی کو خاطر میں نہیں لاتا تھا۔ فطرتاً انتہاپسند تھا، فریحہ بھی خود پسندی کا شکار تھی، چنانچہ دونوں میں اختلاف تھا۔ پھر ایک دن رحمان صاحب نے طلب کر کے فریحہ کی شکایت پر برا بھلا کہا۔ فریحہ بھی باپ کے ساتھ تھی۔ سرفراز خاموشی سے گھر چھوڑ کر چلا گیا اور پھر واپس نہیں آیا۔ بعد میں فریحہ کو اپنی زیادتی کا احساس ہوا۔ رحمان صاحب بھی پشیمان تھے کہ بیٹی کا گھر بگڑ گیا۔ پھر اچانک رحمان صاحب پر دل کا دورہ پڑا اور وہ جانبر نہ ہوسکے، یہ کہانی تھی سرفراز کی۔
میں نے اس کی تصویریں دیکھیں اور ششدر رہ گیا۔ ایسا انوکھا ہم شکل شاید ہی کبھی دیکھا ہو۔ وہ لوگ کافی حد تک اس سلسلے میں بے قصور تھے۔ اصولی طور پر مجھے یہاں سے خاموشی سے نکل جانا چاہئے تھا، مگر یہاں میری بزدلی مجھے روک رہی تھی۔ اول تو میرے پاس ایک پیسہ بھی نہیں تھا، لباس بھی ان لوگوں کا دیا ہوا تھا۔ لباس تک سلامت نہیں تھا، اس عالم میں کیا فیصلہ کرتا، پھر باہر کا ہولناک ماحول! جس دن سے اس گھر میں داخل ہوا تھا، باہر قدم نہیں رکھا تھا۔ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کیا کروں، کئی بار نیت میں خرابی آئی تھی، مگر ضمیر زندہ تھا میں اپنے لئے اس خاندان کو فنا نہیں کرنا چاہتا تھا۔ البتہ اس الجھن میں تھا کہ اس ڈرامے کو کتنا طویل کیا جاسکتا ہے۔ فریحہ نے مجھے طرح طرح سے رجھانے کی کوشش کی تھی، مگر میں نے خود کو سنبھالے رکھا تھا۔ پھر ایک ڈراپ سین ہوگیا۔ شام کے پانچ بجے تھے، باہر لان پر چائے کا بندوبست ہو رہا تھا کہ ایک کار اور اس کے پیچھے ایک پولیس جیپ اندر داخل ہوگئی۔ سب چونک کر ادھر دیکھنے لگے تھے، اس وقت سب ہی باہر موجود تھے۔ جیپ سے جس شخص کو ہتھکڑیوں سمیت اتارا گیا اسے دیکھ کر میرا دل اچھل پڑا تھا۔ نہایت خراب حلیے میں وہ سرفراز تھا۔ سب دم بخود رہ گئے تھے میں بھی اپنی جگہ ساکت تھا۔ کار سے ایک عمر رسیدہ صاحب نیچے اترے اور نانا جان کے قریب پہنچ گئے۔
’’اخاہ… حامد حسین صاحب، آپ بھی یہاں موجود ہیں۔‘‘
’’ہاں بچی کا اصرار تھا کچھ دن کے لئے آیا ہوں مگر… یہ سب، یہ سب۔‘‘
نانا جان بولے۔
’’بڑا پریشان کن مرحلہ ہے۔ ذرا انہیں دیکھئے یہ کون ہیں۔‘‘ اتنی دیر میں تمام لوگ اس سرفراز کے گرد جمع ہوگئے تھے۔ میرے قدم اپنی جگہ جمے ہوئے تھے، دل اندر سے چیخ رہا تھا، بھاگ جا قیامت آگئی ہے۔ بھاگ… فوراً بھاگ… مگر میں نہ بھاگ سکا۔
’’چچی جان، میں سرفراز ہوں۔‘‘ سرفراز مظلوم لہجے میں بولا۔ ساتھ کھڑے پولیس افسر نے اس کے منہ پر الٹا ہاتھ رسید کردیا۔
’’تم سے بولنے کے لئے منع کیا گیا تھا۔‘‘
’’آپ بھی یہاں آ جایئے شاہ صاحب۔‘‘ نووارد نے کار کی طرف رخ کر کے کہا اور اس میں سے ایک اور صاحب نیچے اتر آئے۔ سادہ لباس میں تھے مگر حلیے سے پولیس افسر معلوم ہو رہے تھے۔ نووارد نے کہا۔ ’’یہ محکمۂ پولیس کے بہت بڑے افسر ہیں، میرے پرانے ساتھی۔ محکمۂ پولیس نے اس شخص کو گرفتار کیا ہے اور پولیس کا خیال ہے کہ یہ ایک خطرناک قاتل ہے، جسے سزائے موت ہوگئی تھی لیکن یہ تختہ دار سے فرار ہوگیا۔ پولیس کے پاس اس کا مکمل ریکارڈ موجود ہے جبکہ اس شخص نے یہ بات تسلیم نہیں کی اور اعلیٰ پولیس افسران سے کہا کہ انہیں غلط فہمی ہوئی ہے، وہ رحمان عظیم کا داماد ہے جو عامل پور کے رئیس ہیں۔ بات شاہ صاحب کے علم میں آئی اور چونکہ شاہ صاحب یہ بات جانتے ہیں کہ میں عامل پور کا رہنے والا ہوں اور مرحوم رحمان میرے دوست تھے، چنانچہ انہوں نے مجھ سے رابطہ کیا۔ میں بٹیا کی شادی کے وقت میں موجود نہیں تھا، اس لئے اسے پہچانتا نہیں تھا۔ مرحوم رحمان کا حوالہ ایسا نہیں تھا کہ میں اس بات کو نظرانداز کردیتا، چنانچہ میں نے شاہ صاحب سے درخواست کی کہ وہ میری مدد کریں اور وہ اپنے رسک پر صرف میری وجہ سے اس خطرناک مجرم کو لے کر یہاں آئے ہیں۔ اب آپ فیصلہ کریں۔‘‘
سب پر سکتہ طاری تھا اور میں خود بھی بت بنا کھڑا تھا۔ میرے اندر شدید کشمکش جاری تھی۔
’’چچی جان اس وقت پرانی رنجشوں کو ذہن میں نہ لائیں۔ میں موت کے دہانے پر ہوں۔ میری زندگی بچا لیں فریحہ… فریحہ مجھے معاف کردو، مجھے بچائو۔‘‘
اچانک ہی میرے ذہن میں شیشہ سا ٹوٹ گیا۔ ایک عجب سا جذبہ دل میں ابھرا اور اندر ہی اندر سارے فیصلے ہوگئے۔ میں ایک دم آگے بڑھ آیا، تب پہلی بار مجھے دیکھا گیا اور اب ان لوگوں پر حیرت کے دورے پڑے۔ شاہ صاحب اور رحمان صاحب کے دوست بھی دنگ رہ گئے تھے اور اصل سرفراز بھی، سب پھٹی پھٹی آنکھوں سے مجھے دیکھ رہے تھے۔ میں نے کہا۔
’’وہ سچ کہتا ہے شاہ صاحب، جس کے دھوکے میں اسے پکڑا گیا ہے وہ میں ہوں۔ قدرت نے نہ جانے کیوں ہم دونوں کو ایک ہی شکل دے دی ہے۔ اسے چھوڑ دیں، تختہ دار سے مفرور قاتل میں ہوں۔‘‘ شدید سنسنی پھیل گئی تھی سرفراز کا چہرہ کھل اٹھا تھا۔ شاہ صاحب بہرحال پولیس والے تھے فوراً سنبھل گئے۔ انہوں نے ساتھ آئے ہوئے پولیس والوں کو اشارہ کیا اور وہ میرے گرد آکھڑے ہوئے۔ شاہ صاحب نے کہا۔
’’تم پورے ہوش و حواس کے ساتھ یہ اعتراف کر رہے ہو؟‘‘ میں نے ہنستے ہوئے کہا۔
’’جی شاہ صاحب بے ہوشی کے عالم میں تو اور ہی باتیں کی جاتی ہیں، اس بے چارے کو چھوڑ دیجئے۔ یہ خوش نصیب ہے، اپنے ساتھ بہت سے ہمدرد رکھتا ہے۔ میرا کیا ہے، مجھے تو موت نے گھیرا ہی ہوا ہے اور میں اس سے کہیں بھی فرار حاصل نہیں کرسکتا۔ کیوں اس بے چارے کے ہاتھوں میں آپ نے ہتھکڑیاں ڈال رکھی ہیں، یہ سرفراز ہے، جس مجرم کی آپ کو تلاش ہے وہ میں ہوں… اور میرا نام مسعود ہے۔‘‘
شاہ صاحب کے ساتھ جو صاحب آئے ہوئے تھے اور جن کے بارے میں بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ وہ سول جج ہیں، حیرت سے مجھے دیکھ رہے تھے، انہوں نے بڑبڑاتے ہوئے چچی جان سے کہا۔
’’یہ کیا قصہ ہے بھابی صاحبہ…‘‘ لیکن چچی جان کے منہ سے کوئی آواز نہ نکل سکی تھی۔ فریحہ دم بخود تھی، تمام ہی لوگ ابھی تک برے احوال میں تھے، شاہ صاحب نے کہا۔
’’عجیب بات ہے، عجیب بات ہے، دونوں ایک ہی شکل کے مالک ہیں اور یہ کہتا ہے کہ اصل مجرم یہی ہے اور درحقیقت ہمیں مسعود ہی کی تلاش تھی، اگر آپ لوگ مناسب سمجھیں تو تھوڑی دیر کے لئے اندر چلیں، ذرا تفصیلی گفتگو ہو جائے۔ آیئے مسعود صاحب۔‘‘ شاہ صاحب نے خاصے مہذب لہجے میں کہا اور میں نے شانے ہلا دیئے۔ پولیس والے مجھے گھیرے میں لئے ہوئے تھے لیکن میں تو خود ہی گھیرے میں آگیا تھا، انہیں خود بھی اس کا احساس تھا۔ اگر میں چاہتا تو اس وقت بآسانی اپنے ہم شکل کو پھنسا سکتا تھا، کیونکہ اس وقت میں ایک مہذب گھرانے کی پناہ میں تھا لیکن بس ضمیر کے کھیل ایسے ہی ہوتے ہیں، میری کچلی ہوئی شخصیت کسی اور گھرانے کو برباد نہیں کرنا چاہتی تھی۔ میری آرزو تھی کہ سب آباد رہیں۔ میں برباد ہوگیا ہوں تو اپنی بربادی کے اثرات دوسروں پر نہ پڑنے دوں۔ ہم سب اندر آگئے۔ شاہ صاحب نے ایک جگہ بیٹھنے کے بعد مجھ سے پوچھا۔
’’مگر مسعود صاحب، اگر آپ درحقیقت وہی ہیں، میرا مطلب ہے تختہ دار سے فرار ہونے والے قاتل ہیں، تو آپ نے اس گھر میں پناہ کیسے لی، آپ کو سرفراز کے بارے میں علم کیسے ہوگیا۔ میں نے بیگم صاحبہ اور فریحہ کی طرف دیکھا، عامر اور شاکر بھی تھے اور نانا جان بھی، پھر میں نے آہستہ سے کہا۔
’’بس اسے لالچ سمجھ لیجئے، میں اس گھر میں پناہ لینے اور اس گھر کی دولت بٹورنے آیا تھا لیکن حق حق ہی ہوتا ہے۔ سرفراز یہ ہیں اور میرا نام مسعود ہی ہے۔‘‘ شاہ صاحب نے کچھ پوائنٹ نوٹ کئے۔ سرفراز کے ہاتھوں کی ہتھکڑیاں کھول دی گئیں اور یہ ہتھکڑیاں میرے ہاتھوں میں منتقل کردی گئیں۔ سب ہی میرے سلسلے میں متاثر نظر آ رہے تھے، شاہ صاحب نے فوراً پوچھ لیا۔
’’مگر مسعود صاحب آپ کو تو ایک بہترین پناہ گاہ حاصل ہوئی تھی، اگر آپ یہ تسلیم کرلیتے کہ آپ مسعود نہیں ہیں اور یہ شخص بہروپیا، تو میرا خیال ہے فیصلہ کرنے میں بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا، آپ نے رضاکارانہ طور پر اپنے آپ کو کیوں گرفتاری کے لئے پیش کردیا؟‘‘
’’چھوڑیئے شاہ صاحب، یہ کہانیاں مختلف ہیں، اب آپ صرف وہ قانونی فرائض انجام دیجئے جو آپ کو انجام دینے ہیں۔‘‘
’’جی ہاں بے شک بہرحال آپ نے ایک اچھا تاثر چھوڑا ہے ہم پر، اس لئے بدترین مجرم ہونے کے باوجود ہم آپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے پر مجبور ہیں۔ براہ کرم کوئی ایسی کوشش نہ کیجئے جس سے ہمارے ہاتھ آپ کو نقصان پہنچ جائے، ٹھیک ہے اب ہمیں اجازت دیجئے، آپ اگر چلنا پسند فرمائیں تو چلیں ورنہ آپ یہاں رکئے، ہم انہیں لے کر چلتے ہیں۔ شاہ صاحب نے جج صاحب سے کہا اور جج صاحب بولے۔
’’ہاں مجھے تو ابھی کچھ وقت رکنا ہوگا، آپ بھی شاہ صاحب اگر…‘‘
’’نہیں جناب، کسی خاطر مدارات کی گنجائش نہیں ہے۔ میں اپنی ڈیوٹی پر ہوں۔‘‘ شاہ صاحب مجھے وہاں سے لے چلنے کے لئے تیار ہوگئے۔ میں نے بیگم صاحبہ سے کہا۔
’’چچی جان آپ کو بخوبی یہ اندازہ ہے کہ میں نے یہ وقت یہاں کیسے گزارا ہے، فریحہ صاحبہ اس وقت کی گواہی دیں گی کہ میں نے یہاں جو نمک کھایا ہے وہ حرام نہیں کیا اور ہر چیز کا احترام کیا ہے۔ سرفراز صاحب آپ کو نئی زندگی مبارک ہو، چند الفاظ میں آپ سے بھی کہنا چاہتا ہوں، بے شک میں آپ کا ہم شکل ہوں اور چند روز میں نے بھی یہاں گزارے ہیں، لیکن فریحہ صاحبہ کو میں نے ان کی غلط فہمی کے باوجود اپنے دل میں ایک سگی بہن کا درجہ دیا ہے اور خدا کا شکر ہے اس تصور کو نبھایا ہے۔ میری ایک چھوٹی بہن ہے اور آپ سے دعائوں کا طالب ہوں کہ خدا اسے آبرومند رکھے۔ چچی جان میرا پرانا لباس مل سکتا ہے؟ چچی جان بری طرح رو پڑی تھیں۔ یہاں موجود ہر شخص جانتا تھا کہ میں نے یہاں کیسے وقت گزارا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ میں نے ایک لمحہ ان کی اس غلط فہمی سے فائدہ نہیں اٹھایا۔ شاہ صاحب نے رسمی کارروائیاں کیں اور مجھے لے کر چل پڑے۔ میں بہت بڑا مجرم تھا جو کچھ میں نے کیا تھا معمولی بات نہیں تھی۔ کھلبلی مچ گئی تھی، بہت سے لوگوں کو تو صورت حال بھی معلوم نہیں تھی۔ مجھے لاک اپ میں ہی رکھا گیا، مگر میرے لئے سخت پہرہ لگایا گیا تھا۔ البتہ شاہ صاحب مجھ سے بہت متاثر تھے، میرا کیس بے حد انوکھا تھا، میں سزائے موت کا مجرم تھا، تختہ دار سے پھانسی دینے والوں کی آنکھوں میں دھول جھونک کر نکل آیا تھا۔ قانون کے لئے بھی بے شمار الجھنیں تھیں۔ مجھے فوری پھانسی نہیں دی جا سکتی تھی، کیونکہ اس سزا کا وقت ختم ہوگیا تھا۔ ہاں مجھ پر ازسر نو مقدمہ ضرور چلایا جاسکتا تھا، یہ تحقیق کرنی تھی کہ میرے فرار کے عوامل کیا تھے۔ اس سازش میں کون شریک تھا۔ سازش کیسے ہوئی۔ وغیرہ وغیرہ اور اس کے لئے تیاریاں ہونے لگیں۔ پولیس ہیڈکوارٹر کے لاک اپ میں مجھے بالکل الگ تھلگ رکھا گیا تھا۔ ایک ایس آئی اور دو کانسٹیبلوں کی مجھ پر مسلسل ڈیوٹی لگائی گئی تھی اور شاید انہیں ہدایت کی گئی تھی کہ میرا ہر طرح خیال رکھیں۔ مجھے ہر سہولت دی جائے اور وہ لوگ عمل کر رہے تھے، عمدہ کھانا ضرورت کی ہر چیز۔ شاہ صاحب خود مجھ سے ملے۔
’’کہو مسعود کیا حال ہے؟‘‘ انہوں نے کہا۔
’’ٹھیک ہوں شاہ صاحب۔‘‘
’’جیل کی نسبت یہاں تمہیں آرام ہوگا لیکن یہ عارضی ہے، اس کے بعد جیل جانا ہوگا۔‘‘
’’کیا فرق پڑتا ہے شاہ صاحب۔‘‘
’’میرے لئے کوئی خدمت بتائو۔ کوئی ضرورت، کوئی بات۔‘‘
’’آپ کا بے حد شکریہ۔ ایک خیال دل میں ہے۔ پتہ نہیں آپ میری یہ مشکل حل کر پائیں گے یا نہیں۔‘‘
’’کہو کیا بات ہے۔‘‘
’’جب مجھے پھانسی دی گئی تھی شاہ صاحب تو میرے اہل خاندان میری لاش لینے آئے تھے۔ ظاہر ہے انہیں وہ لاش نہیں ملی ہوگی۔ میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ ان سے کیا کہا گیا۔ اس کے علاوہ میری خواہش ہے کہ اب انہیں میرے بارے میں کوئی اطلاع نہ دی جائے۔ انہیں دوبارہ اس کیس میں گھسیٹنے کی کوشش نہ کی جائے۔ اگر آپ یہ کام کردیں تو میں آپ کا بڑا احسان مانوں گا۔‘‘ شاہ صاحب سوچ میں پڑ گئے پھر بولے۔
’’بہت مشکل کام ہے، میں ایک دو دن میں تمہیں اس بارے میں بتائوں گا۔ ویسے اطمینان رکھو اس بارے میں پوری رپورٹ تمہیں دے دوں گا۔‘‘
’’بے حد شکریہ شاہ صاحب۔‘‘ وہ چلے گئے اور میں ٹھنڈی سانس لے کر لاک اپ کے ایک گوشے میں جا بیٹھا۔ کیا سوچتا، کیا کرتا۔ سب کچھ بیکار تھا۔ ہاں ایک خوشی ضرور تھی کہ کم از کم اس خاندان کو میں نے کسی المیے سے دوچار نہیں کیا، اس احساس سے دل کو سکون ملتا تھا۔
اس رات مجھے کھانا پیش کیا گیا۔ عمدہ قسم کی بریانی تھی۔ بھوک لگ رہی تھی، میں نے ہاتھ دھو کر کھانے کا آغاز کیا۔ بریانی کی پلیٹ میں چاولوں کے ساتھ مرغ کا گوشت نظر آ رہا تھا۔ میں نے ایک بڑا ٹکڑا باہر نکالا، عجیب سی ساخت تھی اس کی، لیکن جونہی وہ چاولوں سے برآمد ہوا اچانک میں نے اسے کلبلاتے ہوئے دیکھا۔ پھر وہ میری انگلیوں کی گرفت سے نکل کر میری کلائی پر چڑھ گیا۔ تب میں ٰنے اسے دہشت بھری نظروں سے دیکھا۔ وہ گوشت کا ٹکڑا نہیں تھا بلکہ، بلکہ ربر جیسا انسانی مجسمہ تھا۔ چلتا پھرتا متحرک مجسمہ۔ اس نے میری کلائی پر دوڑ لگائی اور کندھے پر آگیا۔
دہشت سے رونگٹے کھڑے ہوگئے تھے۔ میں بیشک بدترین حالات کا شکار تھا۔ لیکن انسان تو تھا۔ بدروحوں کے درمیان تو نہیں رہا تھا۔ یہ سب کچھ ہمیشہ تو نہیں دیکھا تھا۔ بدن میں سرد لہریں دوڑ رہی تھیں۔ حواس معطل ہوئے جارہے تھے۔ میرے حلق سے چیخیں نکل گئیں۔ میں نے پھریری لے کر اسے شانے سے جھٹکنے کی کوشش کی لیکن اس نے میرا کان پکڑ لیا اور اس طرح گرنے سے محفوظ رہا۔ اس کی انگلیاں ننھے ننھے کانٹوں کی طرح میرے کان میں چبھ رہی تھیں پھر اس کی منحوس آواز ابھری۔
’’مرے کیوں جارہے ہو میاں جی…! ہماری تمہاری تو پکی دوستی ہے۔ اب ہم سے گھبرایا نہ کرو۔‘‘
’’نیچے اتر مردود! میں تجھے مار ڈالوں گا۔‘‘ میں نے دہشت سے بھنچی ہوئی آواز میں کہا۔
’’ارے… رے… رے! اچھل کود کرو گے تو سنتری تمہیں پاگل سمجھیں گے اور پاگلوں کو پاگل خانے میں رکھ کر مار لگائی جائے ہے۔ بات کرنے آئے ہیں تم سے… آرام سے بیٹھو، بات کرو…! سمجھ میں آیا یا نہیں۔‘‘ اس نے کہا۔ اس کا کہنا درست تھا۔ میری چیخوں کی آواز سن کر باہر پہرہ دینے والا سنتری سلاخوں کے سامنے آکھڑا ہوا اور مجھے گھورنے لگا۔ پھر بولا۔
’’کیا بات ہے؟‘‘ کیا بتاتا میں اسے اور بتاتا بھی تو وہ کیا کر پاتا۔ میں خاموش رہا۔ ’’کھانا کھا لو، کچھ اور تو نہیں چاہیے۔‘‘
’’نہیں۔‘‘ میں نے آہستہ سے کہا اور وہ آگے بڑھ گیا۔ میرے کان میں قہقہہ ابھرا تھا۔ پھر اس نے میرا کان چھوڑ دیا اور اچھل کر میرے سر پر چڑھ گیا۔ وہاں سے زمین پر کود گیا اور آہستہ آہستہ چلتا ہوا میرے سامنے آگیا۔ آپ تصور کریں ایک مختصر ترین انسان میرے سامنے تھا۔ مجھ سے باتیں کررہا تھا اور میں اس کی حقیقت جانتا تھا۔
’’ہاں میاں جی! عقل ٹھکانے آئی؟‘‘
’’کیوں میرے پیچھے پڑ گیا ہے شیطان! میں نے تیرا کیا بگاڑا ہے۔‘‘ میں نے رندھے ہوئے لہجے میں کہا۔
’’ارے سب کچھ تو تلپٹ کرکے رکھ دیا ہے، سارے کام ادھورے رہ گئے ہیں ہمارے۔ تو اگر ہمارا کام کردے تو ہمیں بہت بڑی شکتی حاصل ہوجائے گی۔ سنسار میں سب کچھ کرنے کے قابل ہوجائیں گے ہم! ہمارے سارے دشمن پانی بھریں گے ہمارے سامنے، تو نے ہمیں باندھ کر رکھ دیا ہے۔‘‘
’’تم کسی اور سے بھی تو یہ کام لے سکتے ہو۔‘‘
’’یہ بات تیری سمجھ میں نہیں آئے گی۔ ہمارے لیے بھی تو ایک ہی ہے، دوسرا کوئی ہوتا تو کچھ سوچتے۔‘‘
’’مگر کیوں؟‘‘
’’کہا نا تجھ سے، بات تیری سمجھ میں نہیں آئے گی۔ تو خود ہمارے پاس آیا تھا، ہم تو تیرے پاس نا پہنچے تھے۔ جاپ کیا تھا ہم نے سو دن کا اور سوویں دن ہمارے پاس جسے آنا تھا، وہی ہمارے کام کا تھا۔ جیون میں ایک ہی جاپ کیا جاوے ہے، دوسرا نہیں! ہم بھی تجھ سے بندھے ہوئے ہیں پاپی!‘‘
’’مگر میں تمہارا یہ کام نہیں کرسکتا…‘‘
’’کرنا تو تجھے ہوگا للو! کام ہی تیرا ہے۔ آج نہیں تو کل کرے گا، کل نہیں پرسوں اور ہم تجھے سمجھائے دیتے ہیں، بیکار ضد کر رہا ہے۔ ہماری تیری دوستی پکی ہوجائے گی۔ ہمیں مہان شکتیاں حاصل ہوجائیں گی اور وہ تیرے کام بھی آئیں گی۔ سنسار میں جو تو چاہے گا۔ ہم کریں گے تیرے ! تو یہی چاہتا تھا ناکہ دولت تیرے قدموں میں ڈھیر ہوجائے، تو جو چاہے سو کرسکے۔ ریس کورس میں… گھوڑے تیرے اشارے پر دوڑیں، تو جسے دیکھے وہ تیرا ہوجائے۔ ایسا ہی ہوگا للو! سوچ لے۔ محل بنا دیں گے تیرے۔ سونے، چاندی کے ڈھیر لگا دیں گے تیرے سامنے۔ بیکار کی ضد کررہا ہے۔ پورے سنسار میں تو اکیلا دھرماتما ہے کیا، لوگوں کو دیکھ، چار پیسے کے لیے دوسرے کا گلا آسانی سے کاٹ دیتے ہیں، وہ گناہ نہیں کرتے کیا؟ تو ہمارا کام نہیں کرتا نہ کر، سڑ سڑکر مر جائے گا۔ کچھ دن کے بعد تیرے اپنے بھی تجھے بھول جائیں گے۔ کوئی نام لیوا نہ ہوگا تیرا۔ کیا ملے گا تجھے، بول کیا ملے گا؟‘‘
میرے پاس اس کی بات کا کوئی جواب نہیں تھا۔ وہ خاموشی سے مجھے دیکھتا رہا۔ پھر بولا۔ ’’یہ نہیں سوچا تو نے۔‘‘
’’تیرا کوئی نام ہے؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’بھوریا چرن ہے ہمارا نام۔ پر تجھے نام سے کیا؟‘‘
’’مجھے سوچنے کے لیے وقت دے بھوریا چرن۔ کچھ وقت چاہیے مجھے۔‘‘
’’ٹھیک ہے، وقت لے لے۔ سوچیو اور ہمیں آواز دے لیجیو۔ جب بھی آواز دے گا، ہم آجائیں گے۔‘‘
’’ٹھیک ہے بھوریا چرن! مجھے موقع دے، میں سوچنا چاہتا ہوں۔‘‘ میں نے کہا اور اس نے گردن ہلا دی۔
دنیا کا عجیب ترین انسان میرے سامنے تھا۔ کچھ دیر وہ وہاں رکا اور پھر اس نے میری طرف ہاتھ ہلایا اور سلاخوں دار دروازے کی جانب بڑھ گیا۔ یہ سلاخیں کسی عام انسان کا راستہ روک سکتی تھیں، شیطان کا نہیں۔ وہ ان کے درمیان سے آرام سے نکلتا ہوا آگے بڑھا اور پھر میری نگاہوں سے اوجھل ہوگیا۔ میرا دل چاہا کہ بھاگ کر اسے دیکھوں۔ کاش وہ کسی کی نگاہوں میں آجائے اور اسے پکڑ لیا جائے، کچھ ہوجائے اس کے ساتھ! لیکن خود ہی اپنے خیال پر ہنسی آگئی۔ اگر کسی نے اسے دیکھ ہی لیا تو دہشت سے چیخیں مارتا ہوا بھاگ جائے گا۔ اس کا کوئی کیا بگاڑ سکتا ہے۔ وہ جب بالکل دور چلا گیا تو میں نے ایک ٹھنڈی سانس لی۔ بدن بری طرح نڈھال ہوگیا تھا… میں زمین پر لیٹ گیا۔ سامنے ہی بریانی کی پلیٹ رکھی ہوئی تھی، لیکن اب وہ میرے لیے ناپاک ترین تھی۔ وہ کم بخت پلیٹ میں گوشت کی جگہ چھپا ہوا تھا۔ سارے چاول غلیظ کر دیے تھے اس نے! بھلا اب ان چاولوں کا ایک دانہ بھی کھایا جاسکتا تھا، کراہت آرہی تھی مجھے اس پلیٹ سے۔ سنتری تھوڑی دیر کے بعد پھر میرے سامنے آکر رکا اور کہنے لگا۔
’’کیا بات ہے، کھانا نہیں کھایا تم نے…؟‘‘
’’کچھ طبیعت خراب ہے بھائی! کسی سے کہہ کر یہ چاول یہاں سے اٹھوا لو۔‘‘ میں نے عاجزی سے کہا اور میری یہ عاجزی سنتری کو نرم کرنے کا باعث بن گئی۔ وہ میرے قریب رکا اور بولا۔ ’’کیا بات ہے، کیسی طبیعت ہے؟‘‘
’’بدن ٹوٹ رہا ہے…‘‘
سنتری چند لمحات کے بعد واپس چلا گیا پھر دو آدمی آئے اور چاول اٹھا کر لے گئے۔ اس سے زیادہ میرے جیسے کسی انسان کے ساتھ کوئی ہمدردی نہیں کی جاسکتی تھی۔ درحقیقت بھوریا چرن کے جانے کے بعد میں اپنا تجزیہ کرنے لگا۔ خود مجھے کیا ہوگیا ہے۔ میرے عقیدے میں کبھی بھی ایسی پختگی نہیں تھی۔ میں تو ایک بدکار انسان تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ خاندان اچھا تھا۔ ماں، باپ، بہن، بھائی نیک فطرت تسلیم کیے جاتے تھے۔ صرف میں ہی تھا جس نے اپنے خاندان کو بدنما بنا دیا تھا۔ لیکن میری یہ بدنمائی کہاں گم ہوگئی۔ میرے ذہن میں یہ عقیدہ کیوں جاگا ہے۔ پیر پھاگن کا مزار بے شک میرے بھی قابل احترام تھا۔ بہت بار گیا تھا ان کے مزار پر حاضری دینے، فاتحہ پڑھنے، لیکن یہ صرف روایت کے طور پر کیا تھا میں نے! عقیدت اور احترام کا کوئی ایسا جذبہ نہیں پل رہا تھا میرے سینے میں جس کی بنا پر میں اپنا مستقبل یا زندگی دائو پر لگا دیتا۔ یہ جذبہ میرے سینے میں پہلے سے نہیں تھا بلکہ اب پیدا ہوگیا تھا۔ نجانے کیوں… نجانے کیوں میں اس سے اتنی ضد کررہا تھا۔ اگر اس سے تعاون کرکے اس کے کہنے کے مطابق پیر پھاگن کے مزار پر حاضری کی کوشش جاری رکھی جاتی تو ہوسکتا ہے کامیابی ہی حاصل ہوجاتی… اور اگر یہ کوشش ناکام ہی ہوجاتی تو پھر وہ شیطان اسے میرا قصور نہیں قرار دے سکتا تھا۔ میں بھی تو اس سے یہ کہہ سکتا تھا کہ اس کی شکتی، اس کی قوت پیر پھاگن کے مقابلے میں ناکام رہی ہے۔ بھلا میں کیا کرسکتا ہوں اور یہ خیال نجانے کیوں میرے ذہن میں جڑ پکڑنے لگا تھا کہ اگر ایسی ہی کوئی بات ہے اور میں اس شیطان کے پتلے کو وہاں لے جانے میں ناکام رہتا ہوں تو پھر وہ مجھ سے کیا کہہ سکے گا، لیکن دوسرے ہی لمحے میرے ذہن میں ایک اور خیال ابھرا… اگر اس میں کامیاب ہوگیا تو کیا میں ایک گناہ عظیم کا مرتکب نہیں ہوں گا، ایک ناپاک روح کو ایک مقدس جگہ پہنچانے کا باعث نہیں بن جائوں گا؟ ٹھیک ہے مجھے گندی قوتیں حاصل ہو بھی گئیں تو کیا وہ میرے لیے کار آمد ہوسکیں گی۔ کیا مجھ سے میرا دین، میرا ایمان نہیں چھن جائے گا۔‘‘ نجانے کیوں دل و دماغ میں شدید کشمکش ہونے لگی اور مجھے ایک خوشگوار سا احساس ہوا۔ گویا مجھ جیسے بدطینت انسان کے سینے میں ایمان کا جذبہ موجود ہے اور یہ خوشی بڑھتی چلی گئی۔ مجھے اپنا وجود ہلکا ہلکا محسوس ہونے لگا۔ یوں لگا جیسے اس تصور نے میرے اندر ایک نئی روح پھونک دی ہو۔ اس سے پہلے تو کبھی ایسی نیک باتوں پر غور بھی نہیں کیا تھا… لیکن آج نجانے کہاں سے بہت سے اقوال یاد آرہے تھے۔ ’’نیکیوں کے راستے مصیبتوں اور پریشانیوں سے گزرتے ہیں لیکن ان کا اختتام خوشگوار ہوتا ہے جبکہ بدی کے راستے بہت خوبصورت ہوتے ہیں لیکن تباہی کے گہرے غاروں پر جاکر ختم ہوتے ہیں۔ اگر مجھے اپنی بدنما زندگی میں کوئی نیک کام کرنے کا موقع ملا ہے تو میں اسے ہاتھ سے کیوں گنوائوں۔ اپنے آپ کو امتحان میں کیوں نہ ڈال دوں۔ شاید یہی میری برائیوں کا کفارہ ہوجائے۔‘‘ ہرگز نہیں، مردودشیطان بھوریا چرن! تیرا کام تو میں کبھی نہیں کروں گا چاہے اس کے لیے مجھے کیسی ہی مشکلات سے کیوں نہ گزرنا پڑے… دل میں یہ عزم جاگا تو نجانے کہاں سے نئی نئی قوتیں بیدار ہوگئیں۔ دل و دماغ سے وہ بوجھل پن ختم ہوگیا اور میں اپنے آپ کو خاصا خوشگوار کیفیت میں محسوس کرنے لگا۔ عجیب عجیب سے خیالات ذہن میں آرہے تھے۔ ماں، باپ، ماموں ریاض، بہن، بھائی…! بڑا خوبصورت خاندان تھا۔ ہر طرح کی خوشیوں کے گہوارے ہلکورے لیتا ہوا۔ صرف اور صرف میں ہی تھا جس نے اس خاندان کی بہتری کی جانب کوئی توجہ نہیں دی تھی، لیکن… لیکن اب… اب نجانے وہ بے چارے کس حال میں ہوں۔ جانتا تھا کہ ماں غموں سے چُور ہوگی، باپ کی کمر دہری ہوگئی ہوگی۔ بہن، بھائی سہمے ہوئے ہوں گے۔ ماموں ریاض کو تو میں بارہا دیکھ ہی چکا تھا۔ بے چارے ڈھل کر رہ گئے تھے، حالانکہ کتنے خوش مزاج تھے۔ یہ سوچیں دل و دماغ سے گزرتی رہیں اور پھر ذہن پر ایک آہنی تہہ آپڑی۔ غالباً یہ نیند تھی جس نے مجھے تمام احساسات سے بے نیاز کردیا تھا۔�دوسرا دن حسب معمول تھا۔ صبح کا ناشتہ میں نے رغبت سے کرلیا تھا۔ کسی اور نے مجھ سے کوئی ملاقات نہیں کی تھی، لیکن دوپہر کو ساڑھے بارہ بجے کے قریب میری ملاقات آئی اور مجھے کچھ لوگوں کے سامنے پہنچا دیا گیا۔ فریحہ، ریحانہ بیگم اور سرفراز تھے… ان سب کی آنکھوں میں میرے لیے رحم اور ہمدردی کے آثار تھے۔ ریحانہ بیگم کی آنکھیں تو آنسوئوں سے بھیگ رہی تھیں، فریحہ مجھے عجیب سی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی اور اور سرفراز صاحب بھی متاثر نظر آرہے تھے۔ وہ میرے قریب آگئے اور میرا ہاتھ پکڑتے ہوئے بولے۔�’’تمہارا نام مسعود ہے نا…؟‘‘�’’جی سرفراز صاحب۔‘‘�’’مسعود صاحب! بات بڑی عجیب سی ہے۔ کسی سے کہا جائے تو لوگ ہنسنے اور مسکرانے کے علاوہ کچھ نہیں کریں گے لیکن میرے دل میں آپ کا احترام فرشتوں جیسا ہے۔ بلاشبہ زمین پر نیک لوگ ہی امتحانات سے گزرتے ہیں۔ پتا نہیں کیوں آپ پر یہ برا وقت آپڑا ہے، لیکن آپ نے اس برے وقت میں بھی مجھ پر جو احسان کیا ہے، میں اسے مرتے وقت تک نہیں بھول سکوں گا۔ آپ نے ہم دونوں میاں، بیوی کا مستقبل بچایا ہے اور اس سلسلے میں آپ نے جو اقدامات کیے ہیں، بلاشبہ کسی انسان کے لیے وہ ممکن نہیں ہوسکتے تھے۔ آپ نے میری بیوی کی عزت محفوظ رکھی اس کے لیے تو میں آپ کو صرف دعائیں ہی دے سکتا ہوں کہ خداوند عالم آپ کے خاندان کے ایک ایک فرد کی عزت کا تحفظ کرے۔ دوسری بات یہ ہے مسعود صاحب کہ آپ بالکل بے فکر رہیں۔ ہم لوگ آپ کے لیے مصروف عمل ہوگئے ہیں اور ہم نے آپ کے لیے جو فیصلے کیے ہیں، ان سے آپ کو آگاہ کردینا ضروری ہے تاکہ آپ مایوسی کا شکار نہ ہوں۔ یوں سمجھ لیں کہ ہم آپ کو تنہا نہیں چھوڑیں گے بلکہ انتہائی حد تک آپ کے لیے آزادی حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔ ہم روپیہ پانی کی طرح بہا دیں گے اور ہر قیمت پر آپ کو آزاد کرا کر دم لیں گے۔‘‘�فریحہ نے گردن خم کرتے ہوئے کہا۔ ’’میں نے آپ کو اپنے دل میں اپنا بھائی تسلیم کیا ہے مسعود صاحب! آپ میری عزت کے محافظ ہیں۔ میں اتنی ناشکری نہیں ہوں کہ آپ کو بھول جائوں۔ ہم سب آپ کیلئے کوششیں کریں گے۔‘‘ ریحانہ بیگم کہنے لگیں۔�’’مسعود بیٹے! اپنے اہل خاندان کا پتا بتائو، ہم ان سے مل کر ان کی مشکلات کا حل بھی تلاش کریں گے۔‘‘ میں نے ریحانہ بیگم سے کہا۔�’’نہیں آنٹی! آپ یہ سب نہ کریں۔ میرے بارے میں مناسب سمجھیں تو آپ شاہ صاحب سے ساری تفصیلات معلوم کریں۔ آپ کو علم ہوجائے گا کہ میرے خاندان کا مجھ سے دور رہنا کس قدر ضروری ہے۔ وہ لوگ بہرطور مجھے صبر کرلیں گے لیکن میری وجہ سے اگر وہ مشکلات کا شکار ہوئے تو میں خود کو معاف نہیں کرسکوں گا۔‘‘�’’ہم جان کی بازی لگا دیں گے، تم فکر مت کرو۔ ٹھیک ہے، کوئی بات نہیں۔ شاہ صاحب سے بات کرلیں گے ہم اور ہاں یہ بتائو، تمہارے لیے اور کیا کیا جاسکتا ہے۔ کسی چیز کی ضرورت ہو تو فوراً بتا دو…؟‘‘�’’میری دعائیں ہیں کہ آپ سب لوگ خوش رہیں۔ میں جس عذاب کا شکار ہوا ہوں، اس سے مجھے نکالنا آپ کے بس کی بات نہیں ہے۔ بس ہوسکے تو میرے لیے دعائیں کردیں۔‘‘�’’خیر! یہ تمہارا اپنا خیال ہے۔ ہم کچھ کرنے کے بعد ہی تمہارے پاس واپس آئیں گے۔ آرام سے رہو اور اگر ہوسکے تو اللہ کے بعد ہم پر اعتبار کرلو، ہم تمہارے لیے یقینی طور پر سب کچھ کریں گے جو ہمارے بس میں ہوگا۔‘‘�وہ لوگ چلے گئے اور میں ان اچھے لوگوں کے بارے میں سوچنے لگا۔ بھلا میں نے کیا کیا تھا۔ میں تو اپنے ہی عذاب میں گرفتار تھا اور کیا ضروری تھا کہ وہاں اگر میں سرفراز کی حیثیت قبول کر بھی لیتا تو ان ساری مصیبتوں سے محفوظ رہ جاتا۔ ناممکن ہی تھا، ایک طرح سے ناممکن ہی تھا کیونکہ بھوریا چرن مجھے ضرور تلاش کرلیتا۔�’’پتا نہیں وہ کم بخت تھا کیا چیز…! کالے جادو کا ماہر یا کوئی گندی اور خبیث روح! اس کی قوتیں تو بے پناہ تھیں۔ جو شکلیں وہ اختیار کرلیتا تھا، وہ عام قوتوں والے لوگ تو نہیں اختیار کرسکتے تھے پھر وہ کون سی ایسی طاقت حاصل کرنا چاہتا تھا جو اسے امر کردے۔ پیر پھاگن کے مزار پر پہنچنے کی آرزو اسے کیوں تھی۔ ویسے اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ دو مختلف چیزیں تھیں۔ ایک طرف ایک نیک اور مقدس انسان کا مزار اور دوسری طرف یہ غلیظ سادھو، جو کالا علم جانتا تھا۔ اپنے بارے میں تو میں پہلے ہی فیصلہ کرچکا تھا کہ دنیا ادھر سے ادھر ہوجائے، مجھے کم ازکم یہ گندا کام نہیں کرنا ہے۔ زندگی ایک بار ختم ہونی ہے اور اس کے لیے کوئی بھی وقت متعین ہوسکتا ہے۔ پھر ایسی موت کیوں مرا جائے جس سے مرنے کے بعد روح بھی بے سکون رہے۔ زندگی بے سکونی میں گزر جائے تو کوئی بات نہیں، روح کا سکون تو ابدی حیثیت رکھتا ہے۔ اپنے اس فیصلے سے میں کافی حد تک مطمئن تھا۔ چند روز مزید یہاں رہنا پڑا اور پھر ایک دن جیل کی گاڑی آئی اور مجھے اس میں بٹھا کر جیل پہنچا دیا گیا۔ گویا جیل دوسرے شہر کی تھی لیکن جیلوں سے مختلف نہیں تھی۔ یہاں بھی غالباً میرے بارے میں رپورٹ دے دی گئی تھی کہ میں نے جیل میں بھی ایک قیدی کو قتل کردیا تھا چنانچہ جیلر صاحب نے جو بہت سخت انسان معلوم ہوتے تھے، پہلے تو مجھے کچھ نصیحتیں کیں اور کہا کہ وہ ذرا مختلف قسم کے آدمی ہیں۔ میرے ہاتھ پائوں بآسانی توڑ دیں گے اور مجھے اس قابل نہیں چھوڑیں گے کہ میں کسی کو نقصان پہنچا سکوں لیکن بہتر طریقہ یہی ہے کہ میں انسانوں کی مانند یہاں رہ کر اپنی قسمت کے فیصلے کا انتظار کروں۔ میں نے گردن جھکا کر جیلر صاحب سے کہا تھا کہ انہیں مجھ سے کوئی شکایت نہیں ہوگی…�ان دنوں میرے دل میں ایک شدید آرزو بیدار ہورہی تھی وہ یہ کہ کالے جادو کا توڑ بھی تو ہوتا ہے۔ قرآنی آیات، اللہ کا کلام ہر قسم کے جادو کو ختم کرنے کی قوتیں رکھتا ہے۔ اگر مجھے کوئی ایسا علم آجائے کہ میں بھوریا چرن کو خود سے دور رکھ سکوں تو یہ میرے لیے بہت بہتر ہوگا۔ خود تو زندگی میں کچھ نہیں کیا تھا حالانکہ والدین نے بہت کچھ پڑھانے کی کوشش کی تھی اور دین سے واقف کرانے کے لیے بھی کارروائیاں کی تھیں مگر مجھ پر بچپن ہی سے شیطان سوار تھا اور میں نے ان کے کہے کو کبھی نہیں مانا تھا۔ آج اس بات کا شدید افسوس تھا۔ اپنے طور پر ہی کچھ نہ کچھ تو کرتا ہی، چاہے باہر سے کسی کی مدد نہ ملتی لیکن اس سے محروم تھا۔ یہ محرومی بعض اوقات بڑا دل دکھاتی تھی۔ جیل آنے کے تیسرے دن شاہ صاحب میرے پاس پہنچے۔ پولیس کی وردی میں تھے۔ ویسے یہ اپنے طور پر ہی بہت اچھے انسان تھے اور غالباً دوسرے کردار سے بہت متاثر ہوگئے تھے۔ مجھ سے سلام، دعا کی اور کہنے لگے۔�’’جج صاحب بھی تم سے ملنا چاہتے تھے، کسی وقت آئیں گے تمہارے پاس، تمہارے بارے میں بہت سی باتیں ہوئی تھیں ان سے ویسے تم نے جو ذمہ داری میرے سپرد کی تھی، میں نے اسے پورا کیا ہے لیکن تمہارے لیے کچھ افسوسناک اطلاعات ہیں۔‘‘�میرا دل مچھلی کی طرح تڑپنے لگا۔ میں نے عجیب سی نگاہوں سے شاہ صاحب کو دیکھا اور بمشکل تمام کہا۔�’’کیا اطلاعات ہیں شاہ صاحب! جلدی بتایئے، خدارا جلدی بتایئے…‘‘�’’وہاں تمہارے اہل خاندان محفوظ نہیں رہے اور وہ بھی مصیبتوں کا شکار ہوگئے…‘‘�میں نے دونوں ہاتھ دل پر رکھ لیے اور دھڑکتے دل کے ساتھ پوچھا۔�’’کیا ہوا، کیا بات ہوگئی…؟‘‘�’’تمہارے سلسلے میں اہل محلہ تمہارے گھرانے سے کافی بددل ہوگئے تھے۔ وہ آوازے کسا کرتے تھے اور برا بھلا کہا کرتے تھے کیونکہ جو واقعات وہاں پیش آئے ہیں اور جن واقعات کے بارے میں مجھے معلومات حاصل ہوئی ہیں، وہ میرے لیے بھی عجیب ہیں۔ بہر طور میں تمہیں بتا رہا تھا کہ اہل محلہ سے تمہارے ماموں اور بھائی کا جھگڑا ہوا۔ تمہارے بھائی نے ایک نوجوان کو چاقو مار دیا اور وہ نوجوان ہلاک ہوگیا۔ تمہارا بھائی فرار ہوگیا اور تمہارے خاندان کو اہل محلہ نے وہاں سے نکال دیا اور تمہارے گھر میں آگ لگا دی۔‘‘�میرا دل جیسے کسی نے مٹھی میں جکڑ لیا ہو۔ میں نے مغموم لہجے میں کہا۔ ’’تو محمود بھی قاتل بن گیا۔ وہ معصوم سا بچہ جس نے زندگی میں ہنسنے کھیلنے کے علاوہ کچھ نہیں کیا تھا۔ کیا وہ قاتل کی حیثیت سے گرفتار ہوگیا…؟‘‘�’’نہیں! وہ مفرور ہے اور پولیس اسے تلاش کررہی ہے۔‘‘�’’اور میرے والدین، میری ماں، بہن، ماموں…‘‘�’’وہ لاپتا ہیں۔ انہوں نے کسی کو نہیں بتایا کہ وہ کہاں جارہے ہیں۔ پولیس نے بعد میں ان سے رابطے کی کوشش کی لیکن وہ پولیس کو دستیاب نہیں ہوسکے۔ اخبار میں بھی ان کے بارے میں اشتہار شائع کیا گیا کہ وہ پولیس سے رابطہ قائم کریں لیکن پولیس سے ان کا کوئی رابطہ قائم نہیں ہوسکا۔‘‘�میری آنکھوں سے آنسو بہنے لگے تھے۔ میں نے تو یہی سوچ کر ان لوگوں سے علیحدگی اختیار کی تھی کہ کہیں میری نحوست ان لوگوں کو بھی اپنی لپیٹ میں نہ لے لے لیکن… لیکن ایسا نہیں ہوا تھا۔ وہ…وہ براہ راست میری نحوست کا شکار ہوگئے تھے۔ آہ! میں کتنا بدنصیب ہوں، کتنا بدنصیب ہوں میں! اب نجانے کیا حال ہوگا ان کا… ایک بیٹے سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے لیکن… لیکن محمود… آہ میرا محمود! میں درحقیقت اپنے بھائی، بہن کو اپنی زندگی ہی کی طرح چاہتا تھا۔ کتنا بڑا مصیبتوں کا پہاڑ ٹوٹا ہے میرے گھر والوں پر میری وجہ سے… شاہ صاحب میرا چہرہ دیکھ رہے تھے، کہنے لگے۔�’’دیکھو میاں! بدقسمتی جب آتی ہے تو پوچھتی نہیں کہ آگے کیا ہوگا۔ لیکن بالآخر ایسی قوتیں بھی ہیں جو انسان کو اپنی پناہ میں لے لیتی ہیں تو سارے مشکل مسئلے حل ہوجاتے ہیں۔ تمہارا کیس میں خود دیکھ رہا ہوں اور بڑا عجیب محسوس ہورہا ہے مجھے۔ اس سلسلے میں صرف ایک بات کہنا چاہتا ہوں تم سے مسعود! بددل نہ ہونا، وقت کا انتظار کرنا، دیکھو! تقدیر نے تمہیں پھانسی سے بچا لیا ہے جبکہ دنیا تمہاری موت کا یقین کرچکی تھی۔
(جاری ہے)All r
تمام اردو کہانیاں پڑھنے کے لیے کلک کریں
کالا جادو - پارٹ 3
Urdu stories online, Urdu stories for kids, Short Urdu stories, Urdu Kahaniyan, Famous Urdu stories, Urdu stories with moral, Best Urdu stories collection, Urdu stories for students, Urdu love stories, Urdu horror stories, Urdu stories for reading, Urdu stories in Urdu text, Funny Urdu stories, Urdu stories for beginners, Urdu detective stories, Urdu motivational stories, Urdu stories for adults, Urdu moral stories, Urdu stories for children, Urdu true stories, Urdu suspense stories, Urdu emotional stories, Urdu adventure stories,
hindi moral stories in urdu,سبق آموز کہانیاں, jin-ki-dushmni,good moral stories in urdu,Moral Stories,Urdu Stories,urdu kahani,اردو کہانی,قسط وار کہانیاں,
