کالا جادو - ایم اے راحت - قسط نمبر 25

 

قسط وار کہانیاں
کالا جادو - اردو کہانی قسط نمبر 25
رائیٹر :ایم اے راحت

آبادی اس کے اطراف میں بھی نہیں تھی بلکہ دور دور تک نہیں تھی لیکن یونہی قدم اس کھنڈر کی جانب اٹھ گئے۔ نجانے کون سی جگہ ہے۔ کبھی یہاں کچھ ہوگا، اب کچھ نہیں تھا۔ لال رنگ کی اینٹوں کے ڈھیر ادھر ادھر بکھرے ہوئے تھے۔ بہت سی جگہیں صاف بھی تھیں۔ قریب پہنچ کر اندازہ ہوا کہ مسجد جیسی کوئی جگہ ہے اور یقینی طور پر انسانوں کے استعمال میں رہتی ہے۔ درخت اگے ہوئے تھے اور ایک وسیع و عریض چبوترے پر درختوں کے بے شمار سوکھے پتے اڑتے پھر رہے تھے اور ان سے سرسراہٹیں ابھر رہی تھیں۔ سامنے ہی منبر بنا ہوا تھا۔ اس سے یہ احساس ہوتا تھا کہ کوئی قدیم مسجد ہے۔ پھر دوسرے لوازمات بھی نظر آگئے۔ ایک جانب گہرا کنواں تھا۔ اس کے کنارے چرخی لگی ہوئی تھی اور چرخی پر رسی لٹکی ہوئی نظر آرہی تھی۔ قریب ہی چمڑے کا ایک ڈول رکھا ہوا تھا۔ دیکھ کر تقویت ہوئی یقیناً آس پاس کوئی بستی موجود ہے۔

 رات کی تاریکی میں جب روشنیاں ہوں گی تو بستی نظر آجائے گی لیکن مجھے کسی بستی سے بھی کوئی غرض نہیں تھی۔ دل میں کچھ خیالات جاگے۔ کنویں کے نزدیک پہنچا اور جھک کر کنویں میں جھانکنے لگا۔ اندھیرے کے سوا کچھ نظر نہ آیا لیکن رسی کا ڈھیر بتاتا تھا کہ کنواں کافی گہرا ہے۔ بہرطور ڈول پانی میں ڈالا اور اس کے بعد تھوڑا سا پانی نکال لیا۔ سامنے ہی ایک ایسی جگی بنی ہوئی تھی جہاں نمازیوں کو پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ مٹی کے لوٹے قطار سے رکھے ہوئے تھے۔ بس جی میں سما گئی۔ بہت سا پانی نکالا اور اس جگہ کو بھر دیا۔ لوٹے دھو کر قرینے سے رکھے اور اس کے بعد صحن کی مسجد کی جانب متوجہ ہوگیا۔ جھاڑو موجود نہیں تھی۔ بڑے بڑے تنکے سمیٹے اور انہیں اپنی قمیض کے دامن سے ایک دھجی پھاڑ کر باندھا پھر صحن مسجد سے سوکھے ہوئے پتے صاف کرنے میں مصروف ہوگیا اور اس کام میں سورج بالکل چھپ گیا۔ مسجد کا فرش صاف ہوچکا تھا۔ پتے سمیٹ کر ایک جگہ جمع کردیئے تھے۔ کچھ ایسا سکون ملا اس کام میں کہ ذہن بھی بٹ گیا اور دل بھی مسرور رہا۔

پھر اچانک ہی مسجد کی چھت کی بلندیوں پر سے اللہ اکبر کی صدا ابھری اور پہلی ہی آواز پر میرا منہ حیرت سے کھل گیا۔ میں نے کسی کو مسجد کی جانب آتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔ یہاں ویسے بھی کئی گھنٹے گزر چکے تھے۔ اگر موذن مسجد ہی کے کسی حصے میں رہتا ہوگا تو کم ازکم مجھے اس کی آہٹیں تو سنائی دینی چاہئے تھیں۔
اذان کہی گئی لیکن اس کے بعد بھی میں دیر تک موذن کے بلندی سے اترنے کا انتظار کرتا رہا لیکن موذن کے قدموں کی چاپ نہ سنائی دی۔ وضو کیا اور ابھی وضو سے فراغت ہی ہوئی تھی کہ مجھے انسانوں کے بولنے کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔ پھر میں نے نمازیوں کو چبوترے پر چڑھ کر آتے ہوئے دیکھا اور اطمینان ہوگیا کہ جو کچھ میں نے کیا، وہ میرا مناسب فرض تھا۔ صفیں درست ہونے لگیں، لوگ بیٹھ گئے۔ وہ آپس میں مدھم مدھم گفتگو کررہے تھے۔ میں نے سوچا کہ نماز کے بعد کسی سے قریب کی بستی کے بارے میں پوچھوں گا اور اگر بستی زیادہ دور نہیں ہوئی تو وہیں چلا جائوں گا۔ کچھ دیر کے بعد نماز شروع ہوگئی اور امام صاحب منبر کے سامنے کھڑے ہوگئے، صفیں بندھ گئیں اور نماز شروع ہوگئی۔

 نماز سے فراغت ہوئی اور نمازی واپس جانے لگے۔ میں کسی ایسے شخص کو تلاش کرنے لگا جس سے بستی کے بارے میں معلوم کروں۔ اسی وقت عقب سے آواز ابھری۔
’’مسعود میاں…!‘‘ میرا دل اچھل کر حلق میں آگیا۔ یہاں کون ہے جو میرا شناسا ہے۔ سفید لباس میں ملبوس ایک نورانی شخصیت مجھے مخاطب کررہی تھی۔ اس نے اشارے سے مجھے قریب بلایا اور میں آگے بڑھ کر اس کے پاس پہنچ گیا۔ ’’انہیں متوجہ نہ کرو…!‘‘ بزرگ نے کہا۔
’’میں کسی سے…!‘‘ میں نے کہنا چاہا اور انہوں نے ہاتھ اٹھا کر مجھے روک دیا۔
’’ہاں… ہاں علم ہے… لیکن آبادی بہت دور ہے۔‘‘
’’جی!‘‘ میں ششدر رہ گیا۔ میں نے زبان سے پوری بات بھی نہیں ادا کی تھی اور وہ سمجھ گئے تھے۔
’’نمازیوں کو چلا جانے دو پھر بات کریں گے۔ آئو ادھر آجائو۔‘‘ اس ہستی نے اشارہ کیا اور میں ان کے پیچھے چلنے لگا۔ وہ مجھے مسجد کے مشرقی گوشے میں لے آئے۔ یہاں پتھر کی ایک صاف ستھری چوکی نظر آئی۔ انہوں نے مجھے بیٹھنے کا اشارہ کیا اور میں پتھر کی سل پر بیٹھ گیا۔ بزرگ میرے سامنے بیٹھ گئے۔ پھر بولے۔ ’’ہمارا نام جلال حسین ہے۔‘‘
’’آپ مجھے جانتے ہیں؟‘‘ میں نے کہا۔
’’ہاں! جانتے ہیں۔‘‘
’’مگر میں پہلے آپ سے نہیں ملا۔‘‘
’’بہت سے لوگ، بہت سے لوگوں سے نہیں ملتے۔‘‘
’’پھر آپ مجھے کیسے جانتے ہیں؟‘‘
’’میاں! یہ بات ہمارے سینے میں رہنے دو۔‘‘
’’بہتر ہے۔‘‘ میں نے ادب سے کہا۔ نمازی ایک ایک مسجد سے باہر نکل گئے۔ میں انہیں دیکھتا رہا پھر اچانک مجھے کچھ خیال آیا۔ میں نے کہا۔ ’’آپ نے فرمایا تھا کہ آبادی بہت دور ہے؟‘‘
’’انسانوں کی آبادی یہاں سے ساٹھ ستر کوس ہے۔‘‘
’’مگر یہ نمازی…؟‘‘
’’یہ دوسرے بندئہ خدا ہیں۔ چلو کھانا کھالو۔‘‘ کھانا آگیا۔ جلال حسین نے دو آدمیوں کو دیکھ کر کہا جو ہاتھوں میں سینیاں اٹھائے قریب آگئے تھے۔ ایک نے کپڑے کا دسترخوان بچھایا، دوسرے نے سینی اس پر رکھ دی۔ پانی کا کٹورہ اور صراحی بھی قریب رکھ دی گئی۔ سینی سے بھاپ اٹھ رہی تھی اور اس بھاپ کے ساتھ چاولوں کی خوشبو شامل تھی۔ موتی کی طرح بکھرے چاولوں کا انتہائی خوشبودار پلائو تھا۔ جلال حسین نے کہا۔ ’’چلو میاں! بسم اللہ کرو… اول طعام، بعد کلام!‘‘
کچھ کہنے کی گنجائش نہیں تھی۔ جلال حسین بھی میرے ساتھ اسی سینی میں شریک ہوگئے۔ کھانے کی لذت الفاظ میں بیان نہیں کی جاسکتی تاہم اعتدال سے کام لیا۔ ہاتھ روکا تو جلال صاحب مزید کھانے پر اصرار کرنے لگے۔ ’’مکمل شکم سیری بیشک غیر مناسب ہے لیکن تم بہت بھوکے ہو، کھائو…!‘‘ کچھ دیر کے بعد کھانے سے فراغت ہوگئی۔ جلال حسین نے کہا۔ ’’نماز عشاء سے فراغت ہوجائے اس کے بعد نشست رہے گی۔‘‘
’’آپ یہیں قیام فرماتے ہیں؟‘‘
’’ہاں…!‘‘
’’اذان آپ نے کہی تھی…؟‘‘
’’نہیں… امیر احمد نے۔‘‘
’’وہ بھی یہیں رہتے ہیں؟‘‘
’’ہاں…!‘‘
’’جب میں آیا تھا تب میں نے آپ کو نہیں دیکھا تھا۔‘‘
’’ہاں! نہ دیکھا ہوگا۔‘‘
’’آپ نے مجھے دیکھ لیا تھا…؟‘‘
’’کیوں نہیں…!‘‘ جلال حسین مسکرائے پھر بولے۔ ’’تم خانہ خدا کی خدمت میں مصروف تھے۔ ہم نے مداخلت نہیں کی۔ تھوڑی دیر چہل قدمی کرلو، ہم کچھ ضروری امور نمٹا لیں۔‘‘ وہ اٹھ گئے۔

’’بہتر ہے۔‘‘ میں نے کہا اور جلال حسین وہاں سے چلے گئے۔ کچھ دور تک نظر آتے رہے پھر اینٹوں کے ایک ڈھیر کے پیچھے روپوش ہوگئے۔ میں مسجد سے دور نکل آیا۔ تاریکی، حشرات الارض کی سرسراہٹ، کبھی کبھی پرندوں کے پروں کی پھڑپھڑاہٹ! بڑا پراسرار ماحول تھا۔ مجھے کچھ کچھ اندازہ ہوتا جارہا تھا۔ جلال حسین کی شخصیت اور ان کے الفاظ بھی یاد آرہے تھے۔ یہ دوسرے بندئہ خدا ہیں۔ انسانوں کی آبادی یہاں سے ساٹھ ستر کوس دور ہے۔ یہ لوگ انسان نہیں تھے۔ جنات تھے یقیناً…! بدن میں پھریریاں اٹھنے لگیں۔ ایک سرد احساس پورے وجود میں دوڑ گیا۔ کیا جلال الدین بھی… جن ہیں؟ یہی لگتا تھا لیکن مہربان تھے اور محبت سے پیش آرہے تھے۔ چہل قدمی ہی کررہا تھا کہ عشاء کی اذان سنائی دی اور واپسی کیلئے قدم اٹھا دیئے۔ عشاء کی نماز میں نمازیوں کی تعداد بہت زیادہ تھی اور پورا صحن بھر گیا تھا۔ بالآخر نماز سے فراغت ہوگئی۔ اس سرخ سل پر جا بیٹھا اور کچھ دیر کے بعد جلال حسین وہاں پہنچ گئے۔
’’میاں! کسی شے کی حاجت تو نہیں ہے؟‘‘
’’الحمدللہ…!‘‘
’’سنائو کیسی گزر رہی ہے؟‘‘
’’اللہ کا فضل ہے۔‘‘
’’کچھ باتیں گوش گزار کرنا چاہتا ہوں۔‘‘
’’ارشاد…!‘‘
’’اول اپنی شناخت سے گریز کرو۔‘‘
’’وضاحت کا طلبگار ہوں۔‘‘
’’اب تمہیں اس کمبل کی ضرورت نہیں ہے، رہنمائی کرنے والی ذات الہیٰ ہے۔ اللہ کا کلام سینے میں ہو تو سب کچھ مل جاتا ہے۔ اس کی رہنمائی طلب کرو۔ یہ کھیل شاخت بنے گا تو خودنمائی کے زمرے میں آجائو گے۔ اسے خود سے دور کرو تو اعتماد پیدا ہوگا۔‘‘
’’جی…!‘‘ میں نے آہستہ سے کہا۔
’’دل میں وسوسہ نہ لائو۔ اعتماد سے بڑی نعمت اور کوئی نہیں ہوتی۔‘‘
’’درست فرمایا…!‘‘
’’یہ چار روپے رکھ لو، ضروریات پوری کریں گے۔ تمہارا وظیفہ مقرر کردیا گیا ہے۔‘‘ جلال حسین نے چار روپے میرے ہاتھ پر رکھ دیئے۔
’’رزق حلال ہوگا؟‘‘
’’عطیہ ہے۔ اس وقت تک ملے گا جب تک ضرورت ہوگی۔‘‘
’’بسم اللہ…!‘‘
’’جمال گڑھی چلے جائو، ادھر سے بلاوا ہے۔‘‘
’’راستے کی نشاندہی کردیں۔‘‘
’’ہاں… بس سیدھے چلے جانا مگر صبح سفر کا آغاز کرنا۔ اب آرام سے سو جائو۔ اچھا اب ہم بھی چلتے ہیں۔ فی امان اللہ…!‘‘ جلال حسین نے کہا اور سلام کرکے وہاں سے چلے گئے۔ میں بہت دیر تک پتھر کی سل پر پالتی مارے بیٹھا رہا۔ جلال حسین کی باتوں پر غور کررہا تھا۔ بہت فرحت بخش ہوا چل رہی تھی۔ وہیں لیٹ گیا اور تاروں بھرے آسمان کو دیکھتا رہا۔ دل کی وادیوں میں بہت سے پھول کھلنے لگے، یادیں ذہن میں سرسرانے لگیں۔ کچھ لوگ یاد آئے اور سسکی بن گئے۔ ان یادوں پر پابندی تھی، وقت جب تک خود آواز نہ دے۔ نیند مہربان ہوگئی۔ رات کے آخری حصے میں خنکی ہوگئی تھی۔ کئی بار آنکھ کھلی۔

 نیم خوابی کی شکل میں ان تہجد گزاروں کو دیکھا جو عبادت میں مصروف تھے پھر سو گیا۔ فجر کے وقت آنکھ کھل گئی۔ اذان کے آخری بول سنائی دے رہے تھے لیکن اس وقت صحن میں بالکل سناٹا تھا۔ میں نے وضو کیا۔ انتظار کرتا رہا مگر کوئی نہیں آیا تھا۔ نماز کا وقت ہوچکا تھا، نیت باندھ کر کھڑا ہوگیا۔ نماز سے فراغت پائی اور رخ اس پتھر کی سل کی طرف کیا۔ وہاں سینی رکھی ہوئی تھی۔ اس میں دو پراٹھے، آلو کی ترکاری اور چائے کا پیالہ رکھا ہوا تھا جس سے بھاپ اٹھ رہی تھی اور میرا کمبل موجود نہیں تھا۔ ایک لمحے کیلئے بدن پر لرزہ طاری ہوگیا۔ پہلے یہ کمبل میری نادانی سے چھن گیا تھا اور اب واپس لے لیا گیا تھا مگر اس کے ساتھ ہدایات بھی دی گئی تھیں۔ میں نے ناشتے پر توجہ دی۔ تمام ناشتہ صاف کیا۔ اس کے بعد یہاں رکنا مناسب نہیں تھا۔ چنانچہ وہاں سے سیدھ اختیار کی اور چل پڑا۔ تین دن اور رات کے کئی گھنٹے کے سفر کے بعد ایک آبادی نظر آئی۔ اس وقت بھی صبح کے کوئی پانچ بجے تھے۔ میں رات کو ہی ادھر چل پڑا تھا اور جب رات کی سیاہیاں ختم ہوئیں تو مجھے درخت، کھیت اور ان سے پرے ٹمٹماتے چراغ نظر آئے تھے جن سے آبادی کے قریب آنے کا احساس ہوا تھا۔

آبادی کے پہلے درخت کے پاس رک گیا۔ کچھ فاصلے پر ایک ٹنڈمنڈ درخت پر کئی گدھ بیٹھے ہوئے تھے، مجھے دیکھ کر انہوں نے پر پھڑپھڑائے اور پھر ان میں سے ایک گدھ بھیانک آواز کے ساتھ پر پھڑپھڑاتا ہوا اڑ گیا جیسے کسی کو اس کی آمد کے بارے میں اطلاع دینے گیا ہو۔ نماز کا وقت نکلا جارہا تھا چنانچہ درخت کے تنے کی آڑ میں میں نے ایک صاف جگہ تلاش کرکے فجر کی نماز پڑھی اور درود شریف کا وظیفہ کرنے لگا۔ جب اس سے فراغت حاصل ہوئی تو اپنے دائیں بائیں بہت سے مردہ خوروں کو منتظر بیٹھے دیکھا۔ غالباً میرے بدن کے سکوت سے وہ غلط فہمی کا شکار ہوگئے تھے۔ میں اٹھ کر کھڑا ہوا تو وہ خوف زدہ ہوکر اپنے پتلے پتلے پیروں سے اچھل اچھل کر پیچھے ہٹنے لگے اور پھر مایوس ہوکر فضا میں بلند ہوگئے۔ یہ مردہ خور گدھ بعض اوقات زندہ انسانوں پر بھی حملے کردیا کرتے ہیں۔ چنانچہ یہاں سے آگے بڑھ جانا ضروری تھا۔ ذرا بستی پہنچ کر یہ معلوم کیا جائے کہ یہی بستی جمال گڑھی ہے۔ ایک سمت اختیار کرکے چل پڑا۔ دفعتاً کچھ فاصلے پر مجھے ایک انسانی جسم نظر آیا۔ کوئی پشت کئے ایک جھاڑی کے قریب بیٹھا ہوا تھا۔

 اس سمت قدم بڑھا دیئے اور اسے دیکھتا ہوا آگے بڑھنے لگا۔ ہوسکتا ہے یہی میری رہنمائی کردے۔ کچھ فاصلے پر پڑے ہوئے ایک پتھر سے ٹھوکر لگی تو بیٹھی ہوئی شخصیت اچھل کر کھڑی ہوگئی۔ تب میں نے سے دیکھا۔ ایک بھیانک صورت عورت تھی جس کی عمر پینتالیس سال کے قریب ہوگی۔ لمبے لمبے بال بکھرے ہوئے تھے، رنگ بھی مٹیالا تھا اور جگہ جگہ خون کے دھبے نظر آرہے تھے۔ جسم پر لباس بھی نہ ہونے کے برابر تھا۔ ہاتھ ضرورت سے زیادہ لمبے تھے۔ جب اس نے میری سمت نگاہیں اٹھائیں تو میرے قدم ٹھٹھک گئے۔ بہت خوفناک شکل تھی ساتھ ہی اس نے بھیانک چیخ ماری اور ایک لمبی چھلانگ لگا دی۔ میں ششدر کھڑا رہ گیا۔ وہ دوڑتی ہوئی کچھ فاصلے پر باجرے کے کھیتوں میں جاگھسی۔ چند لمحات اپنی جگہ ساکت رہا پھر غیر اختیاری طور پر اس سمت نگاہ اٹھ گئی جہاں وہ بیٹھی ہوئی تھی۔ دوسرے لمحے بری طرح چونک پڑا۔ ایک انسانی جسم وہاں بھی موجود تھا اور زمین پر بے سدھ پڑا ہوا تھا۔ دوڑتا ہوا وہاں پہنچا اور خوف سے اچھل پڑا۔ نو یا دس سالہ بچے کا جسم تھا جس کا پھٹا ہوا لباس اس سے چند قدم کے فاصلے پر پڑا ہوا تھا۔ اس کا سینہ چاک تھا اور جسم کی آلائش قرب و جوار میں بکھری ہوئی تھی۔ جگہ جگہ زمین پر خون نظر آرہا تھا۔ گردن مڑ کر دوسری سمت اختیار کرچکی تھی۔ اس کے سینے کی جو کیفیت نظر آئی، اسے دیکھ کر سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا کہ اس میں زندگی ہوسکتی ہے۔ میں بچے کے قریب بیٹھ گیا۔

 اس کی مڑی ہوئی گردن سیدھی کی۔ معصوم شکل کا بچہ تھا جسے اس وحشی عورت نے اپنی درندگی کا شکار بنایا تھا لیکن کیوں…؟ ایک اتنے معصوم بچے سے اس بدبخت کو کیا دشمنی تھی، سمجھ میں نہیں آیا کہ کیا کروں لیکن فرض تھا کہ بستی والوں کو فوراً ہی اس حادثے کی خبر دوں۔ یہ خدشہ بھی تھا کہ ابھی چند لمحات میں مردہ خور گدھ آجائیں گے اور اس کی لاش کو نوچنا شروع کردیں گے۔ کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔ لاش کی بکھری ہوئی آلائش کو جمع کرنا بھی ایک مشکل کام تھا۔ اس کے علاوہ اور کوئی تدبیر نہ بنی کہ بستی کی جانب دوڑوں۔ سو میں دوڑنے لگا۔ زیادہ فاصلے پر نہیں پہنچا تھا کہ پریشان حال انسان نظر آئے۔ ہاتھ میں لاٹھیاں تھیں اور چہروں پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔ میں نے زور زور سے انہیں پکارا۔ ’’سنو بھائیو…! ادھر آئو، میری بات سنو… سنو!‘‘ اور وہ جلدی سے میرے قریب آگئے۔
’’وہاں اس طرف جھاڑیوں میں ایک بچے کی لاش پڑی ہوئی ہے جس کا جسم ادھیڑ دیا گیا ہے۔‘‘

’’کیا…؟‘‘ ان میں سے ایک شخص نے پھٹی پھٹی آواز میں کہا اور شاید اسے غش آگیا۔ اس نے لاٹھی زمین پر ٹکا کر اپنا سر اس سے لگا دیا۔ دوسرے نے اس کا بازو تھام کر مجھ سے پوچھا۔ ’’کدھر… کہاں…؟‘‘
’’آئو میں تمہیں اس سمت لے چلوں۔‘‘
’’جنک رام! خود کو سنبھال بھائی، آ ذرا چلیں، ہمت کر۔‘‘ جس شخص کو جنک رام کے نام سے پکارا گیا تھا، اس کی آنکھوں سے آنسوئوں کی برسات ہورہی تھی۔ بھرائی ہوئی آواز میں بولا۔ ’’آہ! وہی ہوا، وہی ہوگیا جس کا اندیشہ تھا۔ میرا بھائی تو بے موت مر جائے گا۔ اجڑ گیا یہ گھر، اجڑ گیا۔ برباد ہوگیا۔ ہائے کیسے دیکھوں گا میں اپنے بھتیجے کی لاش…!‘‘
’’ہمت کر جنک رام! آچلیں تو سہی۔‘‘ دوسرے آدمی نے کہا پھر میری طرف دیکھ کر بولا۔ ’’چلو بھیا! ذرا بتائو ہمیں وہ جگہ…!‘‘
’’یہاں مردہ خور گدھ بھی ہیں۔ میں دوڑتا ہوا جاتا ہوں، تم میرے پیچھے پیچھے آجائو۔ کہیں مردہ خور بچے کی لاش کو خراب نہ کریں۔ ویسے بھی لاش بہت خراب ہوچکی ہے۔‘‘ میں نے کہا اور واپس دوڑ لگا دی۔ وہ دونوں بھی ہانپتے کانپتے میرے پیچھے آرہے تھے۔ میرا خیال درست تھا۔ گدھ بلندی پر منڈلانے لگے تھے۔ میں نے ایک سوکھی ٹہنی اٹھائی اور لاش کے پاس جاکھڑا ہوا۔ منڈلاتے ہوئے مردہ خوروں کو میں نے منہ سے آوازیں نکال کر ڈرایا اور لکڑی ہوا میں لہرانے لگا۔ چند لمحات کے بعد وہ دونوں بھی میرے پاس پہنچ گئے۔ جنک رام نے بچے کا چہرہ دیکھا اور دھاڑیں مارمار کر رونے لگا۔ دوسرا اسے سمجھا رہا تھا۔ اس نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا۔ ’’ہمت کر جنک رام…! تو سوچ رگھبیر بھیا کا کیا حال ہوگا۔ بھابی کیسے جئے گی۔ بڑی مصیبت آپڑی یہ تو…!‘‘
’’ارے لٹ گئے ہم تو ہیرا بھیا! ارے جیون برباد ہوگیا ہمارا، میرا پرکاش، میرا پرکاش!‘‘ جنک رام روتا ہوا لاش سے لپٹ گیا۔
’’تمہارا نام ہیرا ہے؟‘‘ میں نے دوسرے آدمی سے کہا۔
’’ہاں بھیا! ہیرا لال…!‘‘
’’ہیرا لال! لاش کو یہاں سے اٹھانے کا بندوبست کرو۔ تم بستی جاکر دوسرے لوگوں کو خبر کردو۔‘‘
’’جاتا ہوں بھیاجی…! بڑی بپتا پڑی ہے جمال گڑھی پر…! تم یہاں رکے رہو بھیا جی! ذرا سنبھالنا جنک رام کو۔‘‘ ہیرا نے کہا۔
’’تم جائو۔‘‘ میں نے کہا اور ہیرا لال جنک رام سے بولا۔ ’’جنک! سنبھال خود کو، ابھی تو تجھے بھیا، بھابی کو سنبھالنا ہے۔ میں بستی جارہا ہوں سنبھال جنک رام! خود کو‘‘
’’جا… بھیا…!‘‘ جنک رام نے روتے ہوئے کہا اور ہیرا اس کا شانہ تھپتھپاتا ہوا وہاں سے چلا گیا۔
’’جنک رام…! خود کو سنبھالو، یہ بچہ تمہارا کون ہے؟‘‘
’’بھتیجا ہے ہمارا… اکلوتا تھا اپنے ماتا، پتا کا۔ لاڈلا تھا ہمارا۔ بڑا انیائے ہوگیا بھیا…! بڑا انیائے ہوگیا۔‘‘
’’یہ یہاں کیسے آگیا؟‘‘
’’بھگوان جانے، رات کو کھیلنے نکل گیا تھا بچوں کے ساتھ۔ رات گئے تک واپس نہ آیا تو سب پریشان ہوگئے۔ سب کے سب ڈھونڈتے پھرے ہیں رات بھر۔ ساری رات تلاش کیا ہے بھیا! ملی تو اس کی لاش!‘‘
’’تمہارے خیال میں اسے کس نے مارا…؟‘‘
’’نہ معلوم بھیا! کوئی ڈائن لگے ہے۔ ہائے دیکھو اس کا بھی کلیجہ نکال کر کھا گئی ہے۔‘‘
’’ڈائن…!‘‘ میری سانس رکنے لگی۔
’’تم خود دیکھ لو بھیا! پہلے بھی چار کا یہی حال ہوا ہے۔‘‘
’’کیا…؟‘‘ میں اچھل پڑا۔ میں نے پریشان نظروں سے ان کھیتوں کی طرف دیکھا جہاں وہ خوفناک عورت جا گھسی تھی۔ کیا وہ ڈائن تھی، بچوں کا کلیجہ نکال کر کھا جانے والی…!
’’تم جمال گڑھی کے نہ ہو کیا بھیا…؟‘‘
’’نہیں… میں تو مسافر ہوں۔‘‘
’’تبھی تو…! جمال گڑھی میں کوئی ڈائن گھس آئی ہے بھیا! چار بچوں کو مار چکی ہے جان سے۔‘‘
’’خدا کی پناہ! تمہیں ایک بات بتائوں جنک رام!‘‘
’’بتائو بھیا!‘‘ اس نے انگوٹھے سے آنکھیں پونچھتے ہوئے کہا۔
’’میں صبح ہونے سے پہلے اس علاقے میں داخل ہوا تھا۔ بستی کے بارے میں کسی سے معلوم کرنا چاہتا تھا…!‘‘ میں نے جنک رام کو پوری کہانی سنائی اور وہ اچھل کر کھڑا ہوگیا۔
’’کونسے کھیتوں میں…؟‘‘ اس نے اپنی لاٹھی مضبوطی سے پکڑتے ہوئے کہا اور میں نے کھیتوں کی طرف اشارہ کردیا۔ جنک رام لاٹھی ہلاتا جوش کے عالم میں چیختا کھیتوں کی طرف دوڑا۔ میری نظریں اسی طرف لگی ہوئی تھیں۔ جنک رام کھیتوں میں گھس گیا تھا۔ پھر اس کی دھاڑ سنائی دی۔ ’’رک تو سسری! بھاگ کہاں رہی ہے؟ اری رک تیرا ستیاناس…!‘‘ پھر میں نے خوفناک عورت کو لمبی لمبی چھلانگیں لگاتے ہوئے دیکھا۔ جنک رام لاٹھی پکڑے اس کے پیچھے بھاگ رہا تھا پھر اس نے لاٹھی گھما کر پوری قوت سے عورت پر پھینکی۔ عورت بال بال بچی تھی۔ جنک رام جوش غضب سے دیوانہ ہورہا تھا۔ عورت اگر اس کے ہاتھ آجاتی تو وہ یقیناً اسے ریزہ ریزہ کردیتا۔ جنک رام اس کے پیچھے بھاگتا ہوا دور نکل گیا تھا۔ اتنا دور کہ اب مجھے نظر بھی نہیں آرہا تھا البتہ بستی کی طرف سے بے شمار لوگ دوڑتے آرہے تھے۔ ہیرا لال سب سے آگے آگے تھا۔ کچھ دیر کے بعد بستی والے قریب آگئے اور کہرام مچ گیا۔ مجھے پیچھے ہٹنا پڑا تھا۔ ایک آدمی جس کی حالت بہت خراب تھی، آگے بڑھا۔ لوگ اسے پکڑے ہوئے تھے۔ اس نے بچے کی لاش دیکھی اور غش کھا کر گر پڑا۔
’’جنک رام! کہاں گیا؟‘‘ ہیرا لال نے مجھ سے پوچھا مگر جواب دینے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ جنک رام جوش سے لاٹھی گھماتا واپس آرہا تھا۔ وہ دوڑتا ہوا قریب پہنچ گیا۔
’’پتا چل گیا آج، سب کچھ معلوم ہوگیا بھیا! آج ساری باتیں پتا چل گئیں۔ ارے کہاں ہے وہ سسرا تلسیا…! کہاں چھپا ہے رے سامنے آ…!‘‘
تلسیا نے کیا کردیا جنک رام…؟‘‘ کسی نے پوچھا۔
’’ڈائن پتا چل گئی رمبھا چاچا! ڈائن پتا چل گئی۔‘‘
’’کون ہے… کون ہے وہ…؟‘‘ بہت سی آوازیں ابھریں۔
’’بھاگ بھری ارے وہی سسری بھاگ بھری! خون سے رنگی ہوئی تھی کمینی! ارے آنکھوں سے دیکھ لیا اپنی!‘‘
’’بھاگ بھری … بائولی بھاگ بھری…؟‘‘
’’بنی ہوئی بائولی ہے بھیا! آج دیکھ لیا آنکھوں سے! ارے جائے گی کہاں، کئی دیئے بجھائے ہیں اس نے…! پوت کہاں چھپا ہوا ہے اس کا…؟ ارے دیکھ لئے اپنی میا کے کرتوت…!‘‘ جنک رام کا سانس پھول رہا تھا۔ پھر اس نے لاش کے پاس بے ہوش پڑے ہوئے شخص کو دیکھا اور ایک بار پھر دھاڑیں مارنے لگا۔
’’ارے بھیا! ہمارا چراغ بھاگ بھری نے بجھایا ہے۔ وہی ڈائن ہے بڑے بھیا…! ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔‘‘
’’کچھ بتائو تو سہی جنک رام…!‘‘
’’سب ڈھونڈ رہے تھے پرکاش کو، مسافر نے خبر دی۔ ہم نے لاش دیکھی، ہیرا خبر کرنے گیا۔ مسافر دوسری بستی کا ہے۔ اس نے بتایا کہ اس نے ڈائن کو کلیجہ چباتے ہوئے دیکھا ہے۔ وہ کھیتوں میں چھپی ہوئی ہے۔ ارے ہم دوڑے کھیتوں میں، وہاں چھپی ملی بھاگ بھری… ہمیں دیکھ کر نکل بھاگی۔ خون میں رنگی ہوئی تھی سسری! نکل گئی مگر جائے گی کہاں۔ ارے نہ جانے دیں گے سسری کو…!‘‘
’’سب سکتے کے عالم میں سن رہے تھے اور میرا دل عجیب سا ہورہا تھا۔ کیا ہے یہ سب کچھ… مگر کچھ تھا… ضرور کچھ تھا۔ مجھے یہاں بھیجا گیا تھا۔ یقیناً اس کا کوئی مقصد ہوگا۔ یقیناً!‘
میں نے اس عورت کو دیکھا تھا، صورت واقعی خوفناک تھی۔ میں نے خود اس کے چہرے پر خون کے دھبّے دیکھے تھے مگر وہ ڈائن تھی اور پہلے بھی یہ بھیانک عمل کر چکی تھی۔ بچپن میں جو باتیں کہانیوں کی شکل میں سنی تھیں، سب ہی تو سامنے آتی جا رہی تھیں۔ نہ جانے مستقبل اور کیا کیا دکھائے گا۔ چڑیل دیکھی تھی، پچھل پیری سے واسطہ پڑا تھا، کالی دیوی سے بھی خوب واقف ہوگیا تھا، ہندوئوں کے ساتھ رہن سہن کی وجہ سے ہولی دیوالی سے شناسائی ہوئی تھی۔ یہاں تو سارے قصّے کہانیاں یہی تھیں، بھوت، پریت، سرکٹے، چڑیلیں، ان کے علاوہ اور کیا تھا مگر یہ مزیدار کہانیاں جنہیں سن کر راتوں کو ڈر لگتا تھا اور ماں سے چمٹ کر سونے کو جی چاہتا تھا، آج آنکھوں کے سامنے تھیں۔ آج ڈائن سے بھی ملاقات ہوگئی تھی، ایسی ہوتی ہیں ڈائنیں۔
جنک رام رو رو کر ساری رام کہانی سنا رہا تھا اور میں یہ سوچ رہا تھا۔ ایک بار پھر میں نے اس مظلوم بچّے کی لاش کو بغور دیکھا، اب صحیح اندازہ ہو رہا تھا۔ لوگوں کا کہنا دُرست تھا۔ اس کا اُوپری جسم برہنہ تھا اور سینے کے مقام ہی سے کھلا ہوا تھا، دُوسری آلائشیں بکھری ہوئی تھیں لیکن کلیجہ موجود نہیں تھا۔ لوگ طرح طرح کی باتیں کر رہے تھے۔
’’پر وہ گئی کہاں جنک رام…؟‘‘
’’ارے بھیّا کیا بتائیں مسافر نے کہا کھیتوں میں چھپی ہے سسری۔ ہم لٹھیا لے کر لپکے تو ہمیں دیکھ کر نکل بھاگی اور بھیّا کیا تیز دوڑی مسافر سے پوچھ لو، پیروں میں پنکھے بندھے ہوئے تھے۔ ذرا سوچو ڈائن نہ ہوتی تو اتنی تیز بھاگتی۔ ہم تو پیچھا ہی نہ کر پائے اور وہ یہ جا وہ جا، کیسی بڑھیا بنی پھرتی تھی۔ ہرے رام ہرے رام ہمارے بھیّا کے پوت کو کھا گئی، ارے اب کچھ کرو بھیّا کو اُٹھا کر لے چلو۔ دیکھو تو سہی کہیں دل کی دھڑکن بند تو نہیں ہو گئی۔ ارے بھیّا، ہمارے بڑے بھیّا ارے رگھبیر بھیّا۔‘‘
’’ہاں ہاں چلو رے چادر بچھائو، پرکاش کو اس میں ڈالو۔ اب تو وہ اس سنسار سے چلا ہی گیا۔ ساری باتیں کر لو پرنت جسے جانا تھا وہ تو جا چکا۔‘‘
بہت سے لوگ مل کر لاش کی آلائش سمیٹنے لگے اور اس کے بعد بچّے کے جسم کو اٹھا کر چادر پر لٹا دیا گیا۔ وہ اپنے عقیدے کے مطابق مقدس اشلوک پڑھ رہے تھے۔ چند لوگوں نے رگھبیر رام کو سنبھال کر ہاتھوں پر اُٹھایا اور پھر یہ سارا قافلہ آبادی کی جانب چل پڑا۔ میں بھی ان کے پیچھے پیچھے چل رہا تھا اور ان کی باتیں سن رہا تھا لیکن بہت ہی کم باتیں سمجھ میں آ رہی تھیں۔ جمال گڑھی کا نام لیا جا چکا تھا، اس لیے اب اس میں بھی شبہ نہیںتھا کہ جس بستی کی جانب میں جا رہا ہوں، وہ جمال گڑھی ہی ہے جہاں جانے کی مجھے ہدایت کی گئی تھی۔ تھوڑا بہت اندازہ ہو رہا تھا کہ شاید یہی کام میرے سپرد کیا گیا ہے۔ وہ تمام باتیں ذہن میں محفوظ تھیں جو بتائی گئی تھیں۔ مجھ سے خود پر اعتماد کرنے کو کہا گیا تھا اور وہ عطیہ واپس لے لیا گیا تھا جو میرے لیے بڑی تقویت کا باعث تھا لیکن دل کو ایک اعتماد تھا کہ میری امداد سے گریز نہیں کیا جائے گا۔

 میں کونسا عالم تھا کہ ہر مرض کی دوا میرے پاس ہوتی، بس یہ ایک امتحانی منزل تھی جس سے بازو پکڑ کر گزارا جا رہا تھا دل میں یہی دُعا تھی کہ اللہ مجھے اس منزل تک پہنچا دے جومیرے لئے متعین کی گئی ہے۔ بڑی ہمت اور بڑے صبر سے اپنے فرض کی بجا آوری کر رہا تھا اور کہیں بھی سرکشی ذہن میں نہیں اُبھری تھی۔ اپنے یاد آتے تو زبان کو دانتوں میں دبا لیتا، اپنے جسم کو نوچنے لگتا کہ یادیں پیچھا چھوڑ دیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ بات ناگواری کی منزل میں پہنچ جائے اور ایک بار پھرمصائب کا شکار ہو جائوں۔ اپنے طور پر جس حد تک ممکن ہو رہا تھا ان ہدایات پرعمل کر رہا تھا۔
بستی کا سفر انہی خیالات میں کٹ گیا۔ میں بھی لوگوں کے ساتھ ساتھ ہی جنک رام کے گھر کے دروازے پر پہنچا تھا اور اس کے بعد وہاں جو کچھ ہونے لگا تھا وہاں رُکنا میرے لیے بے کار سی بات تھی۔ لوگ جنک رام کے گھر کے دروازے کے باہر جمع ہوگئے تھے، اندر سے رونے پیٹنے کی آوازیں بلند ہو رہی تھیں، ان آوازوں میں عورتوں کا شور بھی تھا، مردوں کی آوازیں بھی تھیں۔ میں وہاں سے واپس پلٹا، تقریباً ساری بستی والوں کو اس واقعہ کی خبر ہوگئی تھی۔ کوئی اپنے کام پر نہیں گیا تھا، سب کے سب جنک رام کے دروازے پر جمع ہوگئے تھے۔ میں نے ایک شخص کو روکا تو وہ فوراً ہی رُک کر مجھے دیکھنے لگا۔
’’تم مسافر ہو نا بھیّا…؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’ہاں بھائی یہ بستی جمال گڑھی ہی ہے نا…؟‘‘
’’ہاں بھیّا یہی ہے۔‘‘
’’یہاں کوئی ایسی جگہ مل سکتی ہے بھیّا جی جہاں میں کچھ وقت قیام کر سکوں۔‘‘
’’دھرم شالہ موجود ہے پنڈت رام نارائن کے پاس چلے جائو، ارے ہاں یہ تو بتائو ہندو ہو یا مسلمان…؟‘‘
’’مسلمان ہوں۔‘‘ میں نے جواب دیا۔
’’تو پھر مسجد میں چلے جائو۔ یا سنو وہ سیدھے ہاتھ جا کر جب اُلٹے ہاتھ کو مڑو گے تو تلسیا کا گھر نظر آئے گا تمہیں… اللہ دین بھٹیارے کی سرائے اسی کے سامنے ہے، وہاں تمہیں رہنے کی جگہ مل جائے گی۔ مسجد تو ابھی نامکمل ہے دوبارہ بن رہی ہے، سارا سامان پڑا ہوا ہے وہاں کہاں ٹھہرو گے۔‘‘
’’بہت بہت شکریہ۔‘‘ میں نے جواب دیا اور اس شخص کے بتائے ہوئے پتے پر چل پڑا، اللہ دین بھٹیارے کی سرائے شاید اس بستی کی واحد سرائے تھی۔ کچا احاطہ بنا ہوا تھا اور اس میں کچھ کمرے نظر آ رہے تھے۔ ایک سمت تندور لگا ہوا تھا جس کے کنارے بنی ہوئی بھٹیوں میں آگ سلگ رہی تھی مگر کوئی موجود نہیں تھا، البتہ زیادہ دیر نہ گزری کہ دس بارہ سال کے ایک لڑکے نے اندر سے گردن نکال کر جھانکا اور پھر واپس اندر گھس گیا۔ میں نے زور زور سے آوازیں دیں تو ایک درمیانی عمر کی عورت باہر نکل آئی۔ موٹی تازی تھی، شلوار قمیض پہنے دوپٹہ اوڑھے ہوئے مسلمان عورت معلوم ہوتی تھی۔ میں نے اسے سلام کیا تو وہ عجیب سی نظروں سے مجھے دیکھنے لگی پھر بولی۔ ’’کیا بات ہے؟‘‘
’’اللہ دین بھٹیارے کی سرائے یہی ہے نا؟‘‘
’’ہاں یہی ہے مگر تو کون ہے بھیّا؟‘‘
’’اللہ دین کہاں ہے؟‘‘
’’ارے بس نکل کھڑا ہے تماشا دیکھنے کیلئے، ساری ہنڈیا جلا کر خاک کر دی۔ پورا کا پورا تین سیر گوشت تھا… مگر تو کون ہے بھیّا؟‘‘
’’مسافر ہوں، بہن اس سرائے میں ٹھہرنا چاہتا ہوں۔‘‘
’’ارے کلو او… کلو تیرا ستیاناس کہاں مر گیا ارے باہر نکل۔‘‘
’’اماں تو نے ہی تو منع کر دیا تھا کہ باہر نہ نکلوں ڈائن کھا جائے گی۔‘‘ لڑکے نے کہا۔
’’ارے ڈائن کے بچے باہر آ، دیکھ مسافر آیا ہے۔‘‘ عورت نے کہا اور وہی لڑکا جو مجھے جھانک کر اندر گھس گیا تھا، باہر نکل آیا۔
’’جا ابا کو بلا کر لا، کہہ دے تماشا ختم ہوگیا۔ مسافر آیا ہے اور وہ باہر مستا رہا ہے۔ ارے بھیّا مجھ سے بات کرو میں اللہ دین کی گھر والی ہوں۔‘‘
’’مجھے یہاں رہنے کیلئے جگہ مل سکتی ہے؟‘‘
’’لو بھیّا پورے کے پورے چار کمرے خالی پڑے ہیں جس میں جی چاہے ٹھہر جائو مگر ڈیڑھ روپے روز ہوتا ہے کمرے میں ٹھہرنے کا اور کھانے پینے کے پیسے الگ، صبح کی چائے دو آنے کی۔ جب بھی چائے پیو گے دو آنے دینے پڑیں گے۔ دوپہر کو کھانا کھائو گے تو دس آنے الگ ہوں گے۔ رات کو کھائو گے تو بھی دس آنے ہوں گے۔ سوچ لو منظور ہو تو ٹھیک ہے۔‘‘
میری جیب میں چار روپے موجود تھے جو مجھے وظیفے کے طور پر عطا کئے گئے تھے۔ میں نے ایک بار پھر یہ پیسے دیکھے اور تین روپے نکال کر خاتون کو دے دیئے۔
’’یہ دو دن کا کرایہ رکھ لیجئے کھانا کھائوں گا تو اس کے پیسے الگ دوں گا۔‘‘
’’آئو بھیّا کوٹھا دکھا دیں تمہیں۔‘‘ عورت نے کہا۔ جو کوٹھا مجھے دکھایا گیا وہ بھی کچی مٹی کا ہی بنا ہوا تھا، اُوپر پھونس کا چھپڑ پڑا ہوا تھا۔ مٹی میں تین روشن دان نکالے گئے تھے جن سے کمرہ خوب روشن ہوگیا تھا۔ ایک طرف بانوں سے بنی ہوئی چارپائی پڑی تھی۔ دُوسری جانب ایک گھڑونچی جس پر مٹکا، پانی نکالنے کا ڈونگا اور گلاس رکھا ہوا تھا۔ یہ تھی کل کائنات اس کمرے کی… میرے لئے بھلا اعتراض کی کیا بات ہو سکتی تھی، میں نے فوراً ہی پسندیدگی کا اظہار کر دیا۔ عورت کہنے لگی۔ ’’ہم دردی بچھائے دے ہیں تکیہ اور کھیس بھی مل جائے گا ہمارے ہی ہاں سے۔ یہ کمرے کے کرائے میں ہوگا۔ اب بتائو ناشتہ کرو گے…؟‘‘
’’نہیں بہن… ہاں ایک پیالی چائے اگر مل جائے۔‘‘
’’چار پیالی پی لو لیکن اَٹھنّی نکال لو۔‘‘ عورت نے کھرے کاروباری لہجے میں کہا اور میں نے ہنستے ہوئے اسے مزید چار آنے دے دیئے اور بارہ آنے واپس لے لیے۔ اس میں رات کا کھانا کھایا جا سکتا تھا۔ غرض یہ کہ مجھے جمال گڑھی میں ایک عمدہ قیام گاہ مل گئی اور کچھ دیر کے بعد چائے بھی…
میں چائے پی رہا تھا کہ ایک دُبلے پتلے آدمی نے جو کرتا پاجامہ پہنے ہوئے تھا اور سر پر کپڑے کی ٹوپی لگائی ہوئی تھی، اندر جھانکا۔ سلام کیا تو میں نے اسے سلام کا جواب دیا اور وہ مسکراتا ہوا اندر آگیا۔
’’تم وہی مسافر ہو نا بھیّا جی جس نے ڈائن کو بے چارے پرکاش کا کلیجہ چباتے ہوئے دیکھا تھا۔‘‘
’’ہاں میں ہی وہ گناہگار ہوں۔‘‘ میں نے جواب دیا۔
’’بھیّا تم ہماری سرائے میں ٹھہرے ہو۔‘‘
’’تمہارا نام اللہ دین ہے۔‘‘
’’ہاں بھیّا… اپنی ہی سرائے ہے یہ۔ بڑا اچھا ہوا تم یہاں آ گئے۔ ہماری گھر والی نے ہمیں بتایا تو ہم سمجھ گئے کہ تم ہی ہو سکتے ہو اور بڑی اچھی بات ہے کہ مسلمان ہو۔ بھیّا ذرا ہمیں پورا واقعہ تو بتائو۔‘‘ وہ بڑے اطمینان سے زمین پر آلتی پالتی مار کر بیٹھ گیا۔
’’بہت افسوسناک واقعہ ہے اللہ دین اب کیا بتائوں میں تمہیں۔ جو کچھ تم نے باہر سے سنا، بس اتنا ہی ہے۔‘‘
’’اری زبیدہ او… زبیدہ اری اندر آ۔ میں نے کہا تھا نا تجھ سے وہی مسافر بھیّا ہیں جنہوں نے ڈائن کو دیکھا ہے۔‘‘ اللہ دین نے بیگم صاحبہ کو بھی طلب کر لیا اور بیگم صاحبہ دوڑتی ہوئی اندر آ گئیں۔
’’اری… اری… میرے اوپر نہ گر پڑیو۔‘‘ اللہ دین ایک طرف کھسکتا ہوا بولا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بیگم اللہ دین کے مقابلے میں وہ بہت کمزور تھا۔ بیگم صاحبہ ہانپتے ہوئے کہنے لگیں۔ ’’وہی ہیں… وہی ہیں…؟‘‘
’’تو اور کیا… میں نے کہا تھا نا تجھ سے کہ بستی میں ایک ہی مسافر داخل ہوا ہے، ہو سکتا ہے یہ وہی مسافر بھیّا ہوں۔‘‘ محترمہ بھی پھسکڑا مارکر بیٹھ گئیں اور بولیں۔ ’’بھیّا تم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا یقین نہ آوے ہے ہمیں۔‘‘
’’اری چھوڑ ، یقین نہ آوے ہے تجھے۔ بستی والے مار مار کر بھرکس نکال دیں گے تیرا۔ سب غصے میں بھرے ہوئے ہیں۔ اب بے چارے تلسیا کی شامت آگئی۔‘‘ بھٹیارے نے کہا۔
میں ان دونوں کو بغور دیکھ رہا تھا میں نے کہا۔
’’مگر یہ بھاگ بھری ہے کون…؟‘‘
’’ارے بھیّا پہلے تو ہمیں قصہ تو سنائو بعد میں بتا دیں گے بھاگ بھری کون ہے۔‘‘ اللہ دین نے کہا۔
’’قصہ بس یہ تھا بھائی اللہ دین کہ میں ایک دُوسری بستی سے آ رہا تھا۔ تمہاری جمال گڑھی میں کھیتوں کے کچھ فاصلے پر ایک درخت کے نیچے میں نے اس عورت کو بیٹھے ہوئے دیکھا۔ اس کی پشت میری جانب تھی اس لیے میں یہ نہیں دیکھ سکا کہ وہ کیا کر رہی ہے۔ میرے قدموں کی چاپ سن کر وہ اُٹھ کھڑی ہوئی۔ مجھے دیکھ کر زور سے چیخی اور بھاگ کر کھیتوں میں جا گھسی۔ اس کے بعد دُوسرے لوگ آ گئے۔ میں نے باقی واقعات ان لوگوں کو سنائے اور اللہ دین دونوں کانوں کو ہاتھوں کی قینچی بنا کر چھونے لگا اور گالوں پر درمیانی اُنگلیاں مارنے لگا جبکہ بیگم اللہ دین کا چہرہ خوف زدہ ہوگیا تھا۔
’’اللہ بچائے رکھے میرے کلو کو… ارے میں تو پہلے ہی کہتی تھی کہ ڈائن بستی ہی میں کوئی ہے۔ بھلا باہر سے کہاں سے آئے گی۔‘‘ مسز اللہ دین نے کہا۔ میں ان دونوں کی احمقانہ حرکتیں دیکھتا رہا۔ دونوں ہی سیدھے سادے معصوم دیہاتی معلوم ہوتے تھے۔
’’اب آپ لوگ مجھے اس ڈائن کے بارے میں بتائیں۔‘‘
’’ارے بھیّا اللہ جانے کیا ہوگیا وہ پگلی تو تھی، جانے ڈائن کیسے بن گئی۔ ہم تو سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ سارا جیون ہمارے سامنے گزرا ہے بھاگ بھری کا، میرے سامنے بیاہ کر آئی تھی رتن لال کے ہاں۔ سارے کام یہیں کے یہیں ہوگئے، ہے رے تقدیر۔‘‘

‎’’تمہارے سامنے بیاہ کر آئی تھی وہ یہاں؟‘‘میں نے پوچھا۔
‎’’ہاں مسافر بھیّا سامنے کا گھر ہی تو ہے رتن لال کا۔ بھرا پرا گھر تھا، ہم جی چھوٹے ہی سے تھے، رتن بھیّا سے بچپن ہی سے یاد اللہ تھی۔ بھلا آدمی تھا بے چارہ کام سے کام رکھنے والا، شادی ہوئی تھی اس کی گوناپور میں، بھاگ بھری بیچاری وہیں کی تھی۔ ایک بہت ہی غریب آدمی کی بیٹی جس نے پتہ نہیں کیسے کیسے کر کے اپنی بٹیا کی شادی کری تھی۔ بھاگ بھری رتن لال کے گھر آ گئی۔ رتن لال بے چارہ خود بھی غریب آدمی تھا، بس محنت مزدوری کرتا تھا اور زندگی گزارتا تھا پر ٹھیک ٹھاک زندگی چل رہی تھی۔ ان کے بیٹے ہوئے تھے ایک ایک کر کے تین اور پل بڑھ رہے تھے، بھاگ بھری کوسب ہی اچھا کہتے تھے۔ ہماری اماں تو اسے بہت ہی پسند کرتی تھیں۔ ہماری شادی میں بھی اس نے گھر کے سارے کام کاج کرے تھے بھیّا بہت اچھی تھی وہ۔ اللہ جانے کس کی نظر کھا گئی بے چاری کو۔ بڑا بیٹا کوئی آٹھ سال کا ہوگا، چھوٹا کوئی چار سال کا اور اس سے چھوٹا کوئی تین سال کا… رتن لال کام پر گیا ہوا تھا، تینوں بچّے نکل گئے پوکھر پر اور بھینس کی پیٹھ پر بیٹھ کر پوکھر میں گھس گئے، بس بھیّا وہیں سے کام خراب ہوگیا۔ بھینس پوکھر میں بیٹھ گئی اور بچّے جو اس کی پیٹھ پر بیٹھے ہوئے تھے، پوکھر ہی میں ڈوب مرے۔ وہ تو رمضان گھسیارے نے دُور سے بچوں کو بھینس کی پیٹھ پر بیٹھے دیکھ لیا تھا اور اسے پتہ چل گیا تھا مگر تیرنا وہ بھی نہیں جانتا تھا، دوڑا دوڑا بستی آیا۔ گھر میں خبر دی پھر رتن لال کو بتایا۔ پوری بستی ہی پہنچ گئی تھی پوکھر پر… رتن لال کے تینوں پوت پوکھر میں ڈوب گئے تھے۔ 

معمولی بات تونہیں تھی، رتن لال پاگل ہوگیا۔ کھٹ سے چھلانگ لگا دی پوکھر میں اور بھیّا پوکھر میں چھ کنویں ہیں، دیکھا تو کسی نے ناہیں البتہ پُرکھوں سے یہی سنتے چلے آئے ہیں کہ بارہ سال کے بعد بھینٹ لیتے ہیں یہ کنویں اور کوئی نہ کوئی ڈوب ہی جاتا ہے۔ بارہ سال پورے ہو چکے تھے، بھینٹ لے لی مگر اس بار تین بچوں کی بھینٹ لی تھی ان کنوئوں نے اور چوتھا رتن لال نیچے گیا تو واپس اُوپر نہ آیا۔ بھلا کس کی مجال تھی کہ پوکھر میں گھس کر رتن لال اور اس کے بچوں کی لاشوں کو تلاش کرتا۔ وہیں کے وہیں دفن ہو کر رہ گئے بے چارے، تین بیٹے اور ایک باپ۔ تم خود سوچ لو مسافر بھیّا، کیا بیتی ہوگی ماں پر؟ اس بیچ بے چارہ تلسی بھی آ چکا تھا۔ تلسی اصل میں بھاگ بھری کا چھوٹا بھیّا تھا۔ جب گوناپور میں اس کے پتا جی مر گئے تو رتن لال خود جا کر تلسیا کو اپنے ساتھ لے آیا اور اپنے بچوں ہی کی طرح پالنے پوسنے لگا اسے… تلسیا یہیں رہتا تھا اور بھاگ بھری کو بس اسی کا سہارا مل گیا تھا۔ تینوں بچّے اور پتی کے مر جانے کے بعد بھلا ہوش و حواس کیسے قائم رکھتی۔ سر پھوڑ لیا اپنا اور اس کے بعد پاگل ہوگئی۔ سر میں چوٹ لگ گئی تھی، بھیّا غریب غرباء کی بستی ہے کون کس کوسہارا دے سکے ہے۔ لوگوں نے کہا اس کا علاج ہو سکتا ہے دماغ ٹھیک ہو جائے گا مگر غریبوں کیلئے تو پیٹ بھرنا ہی مشکل ہو جاتا ہے، دوا دارو کہاں سے کریں۔ بے چارہ تلسیا محنت مزدوری کرتا ہے، بستی بھر کی چاکری کر کے جو چار روٹی کما لے ہے اس سے پاگل بہن کا اور اپنا پیٹ بھرتا تھا۔ سنسار میں اس کا بھی کوئی نہیں ہے، اپنی اس پگلی بہن کے سوا۔ بھاگ بھری پوری بستی میں بھاگتی پھرتی ہے۔

 کبھی بچّے اس کا پیچھا کریں تو انہیں پتھر مار دیتی تھی۔ بس اس سے زیادہ اس نے کسی کا کچھ نہیں بگاڑا مگر بھیّا پھر یہ ہوا کہ سب سے پہلا چھوکرا رام لال کا تھا جو بے چارہ ڈائن کا شکار ہوا۔ رات ہی کا وقت تھا۔ مغرب کی اذان ہوئی ہوگی، تیل لینے باہر نکلا تھا کہ غائب ہوگیا۔ بے چارہ رام لال ایک ایک سے پوچھتا پھرا کہ کسی نے اس کے چھورا کو تو نہیں دیکھا۔ کسی نے نہ بتایا۔ صبح کو بھیّا ہریا کے کھیت کی مینڈھ پر رام لال کے چھوکرے کی لاش ملی، ساری چھاتی اُدھیڑ کر رکھ دی تھی کسی نے۔ سب یہی سمجھے کہ بگھرا لگ گیا۔ کبھی کبھی بھیّا بستی کے آس پاس جنگلوں سے بگھرا نکل آوے ہے اور اگر انسانی خون کا لاگو ہو جاوے تو پھر گھروں سے بچّے اُٹھا لے جائے ہے۔ چرواہوں کی بکریوں کو مار ڈالے ہے، بچوں کو لے جا کر کھا پی کر برابر کر دیوے ہے۔ پہرہ دینا پڑے ہے ایسے دنوں میں، چار پانچ بگھرے مارے جا چکے ہیں اس طرح۔ سب لوگ یہی سمجھے کہ بگھرا لگ گیا۔ رام لال کا گھر تو لٹ ہی گیا تھا، راتوں کو پہرے ہونے لگے۔ لوگ لٹھیا لے کر رات بھر اپنے اپنے حساب سے بستی کے چاروں طرف پہرہ دیا کرتے تھے لیکن کوئی ڈیڑھ مہینے کے بعد ہی دُوسرا واقعہ بھی ہوگیا اور اس بار منشی امام دین کا بیٹا بگھرے کے ہاتھ لگا تھا۔ لوگوں نے دیکھا کہ اس کا بھی کلیجہ نکال لیا گیا تھا پھر دھنو نے یہ بتایا کہ یہ کام بگھرے کا نہیں ہے کیونکہ بگھرا کسی گھر میں نہیں گھسا تھا۔ چرواہوں کی بکریوں کو اس نے کوئی نقصان نہیں پہنچایا تھا، کہیں اس کے پنجوں کے نشان نہیں ملے تھے۔ کہیں نہ کہیں سے تو پتہ چلتا۔ جہاں لاشیں پڑی ہوئی تھیں وہاں پر بھی بگھرے کے پیروں کے نشان نہ ملتے تھے جبکہ پہلے کبھی ایسا ہوا تو جگہ جگہ بگھرے کے پیروں کے نشانات دیکھے گئے پھر جب تیسری لاش ملی تو دھنو نے آخری بات کہہ دی کہ یہ کام کسی ڈائن کا ہے جو بچوں کے کلیجے نکال کر چبا جاتی ہے۔

 بھیّا جمال گڑھی والوں کو پہلے کبھی کسی ڈائن کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا۔ خوف پھیل گیا، پوری بستی میں لوگ کام دھندے چھوڑ کر ڈائن کی تلاش میں لگ گئے۔ بھاگ بھری کی طرف تو کسی کا خیال بھی نہیں گیا تھا۔ کسی کو کیا پتہ تھا کہ وہ بھاگ بھری نہیں، بھاگ جلی ہے اور وہ ڈائن بن گئی ہے۔ بستی کی پگلی کہلاتی تھی، کسی نے روٹی دے دی تو کھا لی۔ کسی نے کپڑے پہنا دیئے تو پہن لئے ورنہ اسے اپنا ہوش کدھر تھا۔ بے چارہ تلسیا ہی تھا جو بہن کو سنبھالے سنبھالے پھرتا تھا۔ ادھر چاکری کرتا تھا اُدھر بہن کی تیمارداری۔ پر بھیّا یہ تو بڑی ہی غضب ہوگیا چوتھا بچہ بھی اس کا شکار ہوگیا… اور جمال گڑھی میں ان دنوں بھیّا بس یوں سمجھ لو شام ڈھلی اور سناٹا ہوگیا۔ لوگوں نے گھروں کے دروازے بند کئے، دن میں سونا شروع کر دیا گیا اور راتوں میں جاگنا مگر ڈائن نظر نہیں آئی۔ کیا پتہ تھا کسی کو کہ بھاگ بھری ڈائن ہوگی۔ بے چارے رگھبیر رام کا بیٹا پرکاش بھی رات ہی کو کھویا تھا اور چاروں طرف ڈھونڈ مچی ہوئی تھی۔ سب ڈھنڈیا کر رہے تھے۔ سارے بستی والے لاٹھیاں سنبھالے رات بھر ادھر سے اُدھر پھرتے رہے اور اب صبح کو اس کی لاش مل گئی مگر تم نے بتا دیا بستی والوں کو کہ ڈائن کون ہے۔ ارے بھیّا ہاتھ نہیں لگی وہ جنک رام کے… جنک رام بھی بڑا بکٹ ہے اگر مل جاتی کہیں بھاگ بھری تو لٹھیا مار مار کر جان نکال لیتا اس کی۔

 بڑا پریم کرتا تھا اپنے بھتیجے سے… اور رہتا بھی تو رگھبیر رام کے ساتھ ہی تھا۔ رگھبیر رام بے چارے کا بھی اکیلا ہی بیٹا تھا پرکاش، بڑا برا ہوا مگر اب… اب سمجھ میں نہ آوے آگے کیا ہوگا۔ یہ تو پتہ چل گیا کہ بھاگ بھری ڈائن ہوگئی ہے۔ پتہ نہیں کیوں ہم نے تو پہلے کچھ سنا بھی نہیں۔‘‘ میں خاموشی سے یہ کہانی سنتا رہا۔ بڑی دردناک کہانی تھی، ایک لمحے کیلئے یہ احساس بھی دل سے گزرا تھا کہ کہیں میرا یہ انکشاف غلط تو نہیں ہے اور ایک انسان بلکہ دو انسان میرے اس انکشاف کا شکار ہو جائیں گے۔ خدا نہ کرے ایسا ہو۔ خدا کرے جو کچھ میں نے دیکھا ہے وہی سچ نکلے۔ یہاں کسی خبیث رُوح کا معاملہ نہیں تھا بلکہ ایک انسان ہی کا معاملہ تھا، پتہ نہیں اب کیا ہوگا۔ بہرطور بھٹیارے اللہ دین نے یہ کہانی سنائی۔ مجھے خاص نگاہوں سے دیکھا جا رہا تھا۔ تھوڑی دیر کے بعد اللہ دین واپس آیا اور ایک روپیہ میرے حوالے کر گیا۔ کہنے لگا۔ ’’بھیّا ڈیڑھ روپے روز کا کوٹھا ملا ہے تمہیں، ہم نے اَٹھنّی کی رعایت کر دی ہے۔ اب ایک روپے روز پر تم یہاں رہ سکتے ہو۔ دیکھو بھیّا ہمارے ساتھ بھی تو پیٹ لگا ہوا ہے مجبوری ہے۔ ورنہ تم سے کچھ نہ لیتے۔‘‘
‎’’نہیں اللہ دین تمہارا شکریہ کہ تم نے رعایت کر دی میرے ساتھ، اب کھانا کھلوا دو۔‘‘
‎دوپہر کا کھانا جو دال روٹی پر مشتمل تھا، کھا کر فراغت حاصل کی تھی کہ شور شرابہ سنائی دیا۔ باہر نکل آیا دیکھا تو بہت سے لوگ سامنے کے گھر پر جمع تھے۔ یہ تو پتہ چل ہی گیا تھا کہ یہ گھر تلسی یا بستی والے جسے تلسیا کہتے تھے کا ہے۔ شاید بھاگ بھری گھر واپس آئی تھی اور پکڑی گئی تھی، اللہ دین اور زبیدہ بیگم بھی باہر نکل آئیں، پتہ یہ چلا کہ جنک رام اپنے آدمیوں کے ساتھ آیا تھا اور تلسی کو پکڑ کر لے گیا ہے۔

‎’’یہ تو ناانصافی ہے اللہ دین، جنک رام، تلسی کو کیوں پکڑ کر لے گیا؟‘‘
‎’’بھیّا خون سوار ہے جنک رام پر بھی، بھتیجا مر گیا ہے۔ کریا کرم کر کے لوٹے تھے کہ بے چارہ تلسیا گھر پر مل گیا، لے گئے اسے پکڑ کے…!‘‘
‎’’اب وہ کیا کریں گے اس کا…؟‘‘
‎’’اللہ جانے… تم بیٹھو میں معلوم کر کے آئوں۔‘‘
‎’’میں بھی چلوں؟‘‘
‎’’مرضی ہے تمہاری چلنا چاہو تو چلو۔‘‘
‎’’نا بھیّا مسافر تمہاری بڑی مہربانی ہوگی یہیں پر ٹک جائو۔ میری تو جان نکلی جاوے ہے، ارے کہیں بھاگ بھری میرے ہی گھر میں نہ گھس آئے۔ اللہ میرے کلو کو اپنی امان میں رکھے۔‘‘کلو، اللہ دین اور زبیدہ بیگم کی واحد اولاد تھی۔
‎وقت گزرتا رہا۔ میں سرائے کے کوٹھے میں آرام کرتے ہوئے یہ سوچتا رہا کہ مجھے جمال گڑھی آنے کی ہدایت کیا اسی سلسلے میں کی گئی ہے اور اگر یہی بات ہے تو میرا کیا عمل ہونا چاہیے۔ یہ تو بالکل ہی الگ سا واقعہ ہوگیا، ایک زندہ عورت انسانی خون کی لاگو ہوگئی تھی۔ میں اس کے خلاف کیا کر سکوں گا۔ کوئی بھوت پریت کا معاملہ تو تھا نہیں، شام کے تقریباً ساڑھے چار بجے ہوں گے کہ باہر سے باتیں کرنے کی آواز سنائی دی اور پھر کسی نے میرے اس کوٹھے یا کمرے کی کنڈی بجائی۔ باہر نکلا تو بیگم اللہ دین کھڑی ہوئی تھیں، چہرے پر خوف کے آثار تھے۔ کہنے لگیں۔ ’’مسافر بھیّا ٹھاکر جی کے آدمی آئے ہیں، تمہیں بلانے کیلئے۔ باہر کھڑے ہوئے ہیں۔‘‘
‎’’کون ٹھاکر جی…؟‘‘
‎’’ارے اپنی بستی کے مکھیا ہیں کوہلی رام مہاراج۔‘‘ زبیدہ بیگم نے بتایا۔ میں نے جلدی سے جوتے وغیرہ پہنے باہر نکل آیا۔ دو آدمی کھڑے ہوئے تھے۔ کہنے لگے۔ ’’بھائی صاحب آپ کو ٹھاکر جی نے بلایا ہے۔ بھاگ بھری کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کیلئے۔‘‘
‎’’اچھا اچھا چلو چل رہا ہوں…‘‘ اللہ دین ابھی تک واپس نہیں آیا تھا۔ واقعی مست مولا آدمی تھا۔ گھر کی کوئی پروا نہیں تھی اسے… زبیدہ بیگم نے میرے باہر نکلتے ہی دروازہ مضبوطی سے بند کر لیا، میں ان دونوں کے ساتھ آگے بڑھتا رہا اور جمال گڑھی کے چھوٹے چھوٹے گھروں کے درمیان سے گزرتا ہوا ایک بڑے سے گھر کے سامنے آ رُکا جو لال رنگ کی اینٹوں سے بنایا گیا تھا اور یقیناً یہی کوہلی رام جی کا گھر تھا۔ بڑے سے گھر کے سامنے جمال گڑھی کے سیکڑوں افراد جمع تھے، ہر ایک اپنی اپنی کہہ رہا تھا۔ دونوں آدمی میرے لیے ان کے درمیان راستہ بنانے لگے اور میں گھر کے سامنے پہنچ گیا، بڑی سی پتھر کی چوکی بنی ہوئی تھی جس پر مکھیا جی بیٹھے ہوئے تھے، صورت ہی سے مغرور آدمی نظر آتے تھے۔ دُوسرے تخت سے نیچے ہی کھڑے ہوئے تھے۔ بائیں طرف ایک مفلوک الحال نوجوان نظر آیا جسے رسّی سے کس دیا گیا تھا۔ اس کا رُخسار نیلا پڑا ہوا تھا، ایک آنکھ بھی نیلی ہو رہی تھی۔ ہونٹ سوجے ہوئے تھے، پیشانی پر خون جما ہوا تھا۔ کپڑے پھٹے ہوئے تھے۔ صاف لگتا تھا کہ اسے بہت مارا گیا ہے۔ میں نے فوراً اندازہ لگا لیا کہ یہ تلسی یا ان لوگوں کی زبان میں تلسیا تھا، قابل رحم اور شریف معلوم ہوتا تھا۔
‎’’سلام کرو ٹھاکر جی کو۔‘‘ مجھے لانے والوں نے کہا۔ میں نے سرد نظروں سے ان دونوں کو دیکھا پھر ٹھاکر کو جو مجھے دیکھتے ہوئے بائیں مونچھ پر ہاتھ پھیرنے لگا تھا۔
‎’’ٹھاکر جی… یہ مسافر ہیں۔‘‘ مجھے لانے والے دُوسرے آدمی نے کہا۔
‎’’کہاں سے آئے ہو…؟‘‘ ٹھاکر نے پوچھا۔
‎’’بہت دُور سے۔‘‘
‎’’جگہ کا نام تو ہوگا۔‘‘
‎’’ہاں ہے مگر بتانا ضروری نہیں ہے۔‘‘
‎’’ارے… ارے ٹھاکر جی پوچھ رہے ہیں بتائو۔‘‘ انہی دونوں میں سے ایک نے سرگوشی کی۔
‎’’تم بکواس بند نہیں رکھ سکتے۔‘‘ میں نے غرا کر کہا اور وہ شخص بغلیں جھانکنے لگا۔
‎’’داروغہ لگے ہو کہیں کے، کوئی نام تو ہوگا تمہارا…‘‘ ٹھاکر نے کہا۔
‎’’تم نے مجھے میرے بارے میں پوچھنے کیلئے بلایا تھا، ٹھاکر…؟‘‘
‎’’پوچھ لیا تو کیا برائی ہے۔‘‘
‎’’بس مسافر ہوں اتنا کافی ہے اصل بات کرو۔‘‘
‎’’کہاں ٹھہرا ہے یہ؟‘‘ ٹھاکر نے دُوسرے لوگوں سے پوچھا۔
‎’’اللہ دین کی سرائے میں۔‘‘
‎’’ہوں، مسلمان ہے۔‘‘ ٹھاکر نے دُوسری مونچھ پر ہاتھ پھیرا۔ ’’کیا دیکھا بھئی تو نے؟‘‘
‎’’ان لوگوں نے تمہیں بتا دیا ہوگا۔‘‘ مجھے اس شخص پر غصّہ آ گیا تھا۔
‎’’تو بتا۔‘‘
‎’’بس اتنا دیکھا تھا کہ وہ عورت لاش کے پاس بیٹھی تھی۔ مجھے دیکھ کر کھڑی ہوگئی اور چیخ مار کر بھاگی پھر کھیتوں میں جا گھسی بعد میں جنک رام نے اسے وہیں دیکھا تھا۔‘‘
‎’’وہ لڑکے کا کلیجہ چبا رہی تھی؟‘‘ ٹھاکر نے پوچھا۔
‎’’یہ میں نے نہیں دیکھا۔ اس کی پیٹھ میری طرف تھی۔‘‘
‎’’ٹھاکر جی اس کے ہاتھ خون سے رنگے ہوئے تھے۔ منہ پر بھی خون لگا ہوا تھا۔‘‘ جنک رام نے کہا تب میں نے اسے دیکھا۔ وہ بھی مجمع میں موجود تھا۔
‎’’چلو مان لیا میں نے، بھاگ بھری ڈائن بن گئی ہے مگر تلسی کا اس میں کیا دوش ہے؟‘‘
‎’’یہ اس کا بھائی ہے۔‘‘ ہیرا بولا۔
‎’’ارے تو یہ تو نہیں کہتا اس سے کچھ، اس بیچارے کو تم نے کیوں مارا۔‘‘ ٹھاکر بولا۔
‎’’اس سے کہو ٹھاکر کہ تلاش کر کے لائے اپنی بہن کو، اسے پکڑ کر لائے بستی والوں کے سامنے۔‘‘ جنک رام بولا۔
‎’’اور تم سب چوڑیاں پہن کر گھروں میں جا گھسو۔‘‘ ٹھاکر آنکھیں نکال کر بولا۔
‎’’ہمارے دل میں جو چتا سلگ رہی ہے ٹھاکر… تم اسے نہیں دیکھ رہے۔‘‘ جنک رام بولا۔
‎’’سب کچھ دیکھ رہا ہوں، بہت کچھ خبر ہے مجھے۔ دل کا حال بھی جانتا ہوں مگر یہ اس کی ذمہ داری نہیں ہے۔ تم سب مل کر ڈھونڈو اسے یہ بھی ڈھونڈے گا۔ تمہارے بیچ کچھ نہیں بولے گا، کھولو اسے اور خبردار اس کے بعد کسی نے اسے ہاتھ لگایا، ارے مادھو کھول دے اسے۔‘‘ ایک دُبلا پتلا آدمی تلسیا کے بدن سے رسّی کھولنے لگا۔ ’’اور تم جائو داروغہ جی بس پوچھ لیا ہم نے تم سے۔‘‘ اس بار ٹھاکر نے مجھے دیکھتے ہوئے کہا پھر اپنے نوکر مادھو سے بولا۔ ’’اسے اندر لے جا ہلدی چونا لگا دے، مار مار کر حلیہ بگاڑ دیا سسرے کا… ابے شکل کیا دیکھ رہا ہے میری لے جا اندر۔‘‘ آخر میں ٹھاکر جی نے کڑک کر مادھو سے کہا اور مادھو تلسی کا ہاتھ پکڑ کر اندر جانے کیلئے مڑ گیا۔ ٹھاکر صاحب دوسروں سے بولے۔
‎’’جائو بھائیو گھروں کو جائو۔ پہلے بھی برا ہوا تھا، اب بھی برا ہوا ہے مگر بات ایسے کیسے بنے گی۔ گدھے پر بس نہیں چلا گدھیا کے کان اینٹھے۔ اب تو ڈائن کا پتہ بھی چل گیا، بھاگ بھری کو پکڑ لو مگر سنو جو میں کہہ رہا ہوں، میں مکھیا ہوں جمال گڑھی کا، خود فیصلہ مت کر بیٹھنا پولیس بلوا لوں گا، بھاگ بھری مل جائے تو باندھ کر میرے پاس لے آنا سسری کو۔‘‘
‎لوگ منتشر ہونے لگے، میں بھی پلٹ پڑا۔ تھوڑی دُور چلا تھا کہ اللہ دین میرے قریب آ گیا۔ ’’خوب آئے بھیّا مسافر تم ہماری جمال گڑھی میں، کھیل ہی نیارے ہوگئے۔‘‘
‎’’ارے تم اللہ دین کہاں غائب ہوگئے تھے۔‘‘
‎’’ارے بس مسافر بھیّا بہتیرے کام تھے رگھبیر رام کے بیٹے کے کریا کرم میں شمشان گئے تھے پھر بے چارے تلسیا کی گھڑنت دیکھتے رہے، ٹھاکر کے آدمی نہ پہنچ جاتے تو جنک رام اس کا بھی کریا کرم کرا دیتا۔ بڑا لٹھیت ہے وہ۔‘‘
‎’’تلسی کو مارنا تو غلط تھا۔‘‘ میں نے اس کے ساتھ آگے بڑھتے ہوئے کہا۔
‎’’وہ تو ہے پر جنک رام پر تو خون سوار ہے۔‘‘
‎’’میرے خیال میں بری بات تھی۔ تمہارا یہ مکھیا عجیب نہیں ہے۔ میں تو سمجھ رہا تھا کہ اسی نے تلسی کو پٹوایا ہوگا۔‘‘
‎’’ارے مسافر بھیّا، تم نے تو اسے دو کوڑی کا کر کے رکھ دیا۔‘‘ اللہ دین نے قہقہہ لگایا۔ ’’منہ دیکھتا رہ گیا تمہارا۔‘‘
‎’’متعصب آدمی معلوم ہوتا ہے، عجیب سے انداز میں کہہ رہا تھا کہ میں مسلمان ہوں۔‘‘
‎’’نا مسافر بھیّا نا… آدمی برا نہیں ہے۔ اصل بات بتائوں؟‘‘
‎’’کیا۔‘‘
‎’’ذات کا ٹھاکر نہیں ہے، بنا ہوا ہے۔‘‘
‎’’کیا مطلب؟‘‘
‎’’اہیر ہے ہرنام پور کا، ٹھکرائن گیتا نندی کا من بھایا تھا۔ انہوں نے ماں باپ کی مرضی کے بغیر شادی کرلی ان سے… ہرنام پور کے ٹھاکر سدھا نندی نے دولت جائداد دے کر دُور جمال گڑھی میں پھنکوا دیا۔ یہاں ٹھاکر کہلایا، اپنے آپ مکھیا بن گیا۔ دولت کے آگے کون بولے، سب نے مکھیا مان لیا۔ سوچے ہے سب سلام کریں، سر جھکائیں اور کوئی بات نہیں ہے۔‘‘
‎’’اور کوئی سر نہیں جھکائے تو؟‘‘
‎’’خود جھک جائے ہے۔ سب کو پتہ چل گیا ہے کہ کیسا آدمی ہے، اس لیے لوگ اس کا مان رکھ لیں ہیں۔‘‘
‎’’دلچسپ بات ہے۔ اب ہوگا کیا؟‘‘
‎’’یہ تو مولا ہی جانے ہے مگر سمجھ میں کچھ نہیں آیا۔ بھاگ بھری پاگل تو ہے مگر… مولا جانے ایسی کیوں ہوگئی۔ چھوڑیں گے نا یہ لوگ اسے۔ سسری بستی سے بھاگ ہی جائے تو اچھا ہے۔‘‘ اللہ دین نے دُکھی لہجے میں کہا۔ سرائے آ گئی تھی۔
‎’’زبیدہ بہن کھانا پکایا ہے کیا؟‘‘
‎’’ہاں مونگ کی دال میں پالک ڈالاہے۔ مگر پیسے نہیں دیئے تھے تم نے۔‘‘
‎’’اری خدا کی بندی۔ اری خدا کی بندی۔ کچھ تو آنکھ کی شرم رکھا کر!‘‘
‎’’لو گھوڑا گھاس سے یاری کرے تو کھائے کیا۔‘‘
‎’’بہن ٹھیک کہہ رہی ہیں اللہ دین بھائی۔ آپ نے ویسے ہی میرے ساتھ رعایت کرا دی ہے۔ یہ پیسے بہن!‘‘ میں نے مطلوبہ پیسے دے دیئے بلکہ باقی پیسے بھی دے دیئے اور کہا کہ کل مزید پیسے دوں گا۔ ورنہ یہاں سے چلا جائوں گا۔
‎رات ہوگئی۔ چاروں طرف سناٹا پھیل گیا۔ باہر مٹی کے تیل کا اسٹریٹ لیمپ روشن تھا جس کی روشنی ایک کھڑکی کے شیشے سے چھن کر آ رہی تھی۔ میں بستر پر لیٹا سوچ رہا تھا کہ اب مجھے کیا کرنا چاہئے۔ حکم ملا تھا جمال گڑھی جائوں وہاں سے بلاوا ہے۔ آ گیا تھا۔ واقعہ بھی میرے ہمرکاب تھا۔ اس سلسلے میں مجھے کیا کرنا چاہیے۔ نہ جانے کتنا وقت انہی سوچوں میں گزر گیا پھر ذہن نے فیصلہ کیا اور اُٹھ گیا۔ مٹکے میں پانی موجود تھا، لوٹا بھی تھا۔ وضو کر کے فارغ ہی ہوا تھا کہ بری طرح اُچھل پڑا، ’’لینا پکڑنا۔ جانے نہ پائے، پکڑو۔‘‘ کی بھیانک آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔

‎بے اختیار باہر لپکا اور دروازہ کھول کر نکل آیا۔ دس پندرہ افراد پتھرائو کر رہے تھے، کوئی زمین پر پڑا ہوا تھا۔ غور سے دیکھا تو ایک دلدوز منظر نظر آیا۔ وہی عورت بھاگ بھری، تلسی کے نیچے دبی ہوئی تھی۔ تلسی شاید اسے بچانے کیلئے اس کے اُوپر گر پڑا تھا اور پتھر کھا رہا تھا۔ اس نے اپنا سر دونوں بازوئوں میں چھپا رکھا تھا اور پتھر اس کے بدن پر پڑ رہے تھے۔ پورا جسم تھرا کر رہ گیا۔ بے بسی سے دیکھتا رہا، کیا کرتا۔ اچانک تلسی اُچھل کر دُور جا گرا۔ بھاگ بھری نے اسے اُچھال دیا تھا۔ پھر اس نے بھیانک چیخ ماری، اس کا چہرہ اور سر کے بال خون سے رنگین ہو رہے تھے اور اتنی بھیانک لگ رہی تھی کہ بیان سے باہر ہے۔ اس نے ایک دُوسری منمناتی ہوئی چیخ ماری اور پتھرائو کرنے والوں کی طرف لپکی۔ سارے کے سارے سورما اس طرح پلٹ کر بھاگے کہ ہنسی آ جائے۔ دس بارہ تھے اور بڑھتے جارہے تھے، مگر سب جی چھوڑ بھاگے۔ بھاگ بھری نے دو تین لمبی لمبی چھلانگیں ماریں اور پھرایک طرف مڑ گئی۔ کچھ دیر کے لیے سناٹا چھا گیا۔ میرے پیچھے اللہ دین آ کھڑا ہوا تھا۔
‎’’کیا ہوگیا، کیا ہوا مسافر بھیّا؟‘‘
‎’’شاید بھاگ بھری آئی تھی۔‘‘
‎’’پھر…‘‘
‎’’لوگوں نے اسے پتھر مارے، جب وہ ان پر دوڑی تو وہ بھی بھاگ گئے اور بھاگ بھری بھی غائب ہوگئی۔‘‘
‎’’ارے، وہ تلسی ہے اسے کیا ہوگیا۔ تلسی ارے او تلسیا؟‘‘
‎’’ٹھور مار دئی بھیّا، جان نکال دی ہائے رام۔‘‘ تلسی رونے اور کراہنے لگا اور اللہ دین اس کے پاس پہنچ گیا۔
‎’’ارے ارے یہ پتھر، کیا انہوں نے پتھر مارے ہیں تجھے بھی؟‘‘ ابھی اللہ دین نے اتنا ہی کہا تھا کہ مارنے والے شور مچاتے ہوئے دوبارہ آ گئے۔ وہ سب غصّے سے پھنکار رہے تھے۔
‎’’کہاں گئی بھاگ بھری، کہاں چھپا دیا ہے۔‘‘
‎’’گھر میں گھسی ہے۔ نکال لائو، جائو۔ ہاں نہیں تو مار مار کر ہماری جان نکال دئی۔‘‘ تلسی نے روتے ہوئے کہا۔
‎’’تو نے اسے بھگایا ہے، تو نے اسے پتھروں سے بچایا ہے۔ نہیں تو آج وہ ماری جاتی۔‘‘ کسی نے کہا۔
‎’’تو رک کاہے گئے، مار مار پتھر ہماری چورن بنائے دیو، کون روکے ہے تمکا۔‘‘ تلسی بولا۔
‎’’تو نے مکھیا جی کے سامنے وعدہ کیا تھا کہ تو بھاگ بھری کو پکڑوائے گا۔ بستی کے دُوسرے لوگوں کی طرح مگر تو نے اس کی حفاظت کی۔‘‘ ایک اور شخص نے الزام لگایا۔
‎’’ارے توہار حفاجت۔ چلو جرا تم لوگ مکھیا کے پاس، ہم اسے بتائیں کہ ہم بھاگ بھری کو دبوچ لیئں کہ وہ لمبی نہ ہو جائے پر ای سب نے ہمکا پتھر مار مار کر ہٹا دین اور اوکا نکلوا دین۔‘‘ تلسی نے بدستور روتے ہوئے کہا۔
‎اس بات پر سب کو سانپ سونگھ گیا۔ پھر ان میں سے ایک نے آگے بڑھ کر تلسی سے ہمدردی سے کہا۔
‎’’تو نے اس لیے پکڑا تھا تلسی؟‘‘
‎’’ارے جائو بس جائو تم لوگ بڑے سورما ہو، مرے کو مارو ہو۔‘‘ لوگ ایک ایک کر کے کھسکنے لگے۔ پھر سناٹا ہوگیا۔ تلسی اب بھی رو رہا تھا، بچوں کی طرح ہیں ہیں کر کے اور نہ جانے کیوں میرا دل کٹ رہا تھا۔ اللہ دین آگے بڑھ کر اس کے پاس پہنچ گیا۔
‎’’اُٹھ تلسیا۔‘‘ اس نے تلسی کا بازو پکڑ کر اُٹھاتے ہوئے کہا اور وہ اُٹھ گیا۔
‎’’بڑا مارا ہے ہمکا سب نے دینو بھیّا، صبح سے مار رہے ہیں!‘‘ وہ بدستور روتا ہوا بولا۔
‎’’آ میرے ساتھ اندر آ جا۔‘‘ اللہ دین اسے سرائے میں لے آیا۔ اندر لا کر بٹھایا اور پھر آواز دی۔ زبیدہ اری کیا گھوڑے بیچ کر سوئی ہے، ایک پیالہ دُودھ لے آ…
‎’’ہم نا پی ہے دینو بھیّا، جی نہ چاہ رہا بھیّا۔‘‘ تلسی اب بھی اسی طرح رو رہا تھا۔
‎’’چپ تو ہو جا تلسی، کیا زیادہ چوٹ لگی ہے؟‘‘ اللہ دین نے ہمدردی سے کہا۔
‎’’ارے ہم چوٹ پر نا رو رہے۔ ہمار من تو بہنیا کے لیے رووے ہے، ماتا کی سوگند دیکھو بھیّا ہمار بہنیا ڈائن نہ ہے۔ ہم اسے جانیں ہیں۔ او سسری تو کھود بھاگ جلی ہے۔ اولاد کے دُکھ کی ماری۔ تم کھود دیکھت رہے ہو بچّے اسے پتھر ماریں ہیں۔ وہ ان سے کچھ کہے ہے کبھی۔‘‘
‎’’مگر تلسی صبح کو اسے مسافر بھیّا نے دیکھا تھا۔‘‘ اللہ دین بولا۔
‎’’ارے پگلیا تو ہے ہی، ڈولت ڈولت پھرے ہے۔ شریر پڑا دیکھا ہوگا رگھبیرا کے چھورا کا۔ بیٹھ گئی ہوگی۔ ٹٹولنے لگی ہوگی۔ کھون لگ گیا ہاتھ منہ پر، کسی نے اسے کلیجہ کھاتے ہوئے دیکھا؟
‎میرا دل دھک سے ہوگیا۔ ایسا ہو سکتا تھا، یہ ممکن تھا۔ یہ انکشاف میں نے کیا تھا۔ بستی والوں کو میرے ذریعہ یہ سب معلوم ہوا تھا، میں پتھرا گیا۔ تلسی کہہ رہا تھا۔ ’’اب اللہ دین بھیّا لاگو ہوگئے ہیں، مار ڈالیں گے ہمار بہنیا کو سب مل کر…‘‘
‎’’نہیں تلسی۔ ایسا نہیں ہوگا۔‘‘ میرے منہ سے نکلا۔
‎’’ایسا ہی ہوگا ہمکا پتہ ہے۔‘‘
‎’’اگر بھاگ بھری نے دیوانگی میں، ان بچوں کو مار کر ان کا کلیجہ نہیں کھا لیا ہے تلسی تو میں وعدہ کرتا ہوں جمال گڑھی والوں کی یہ غلط فہمی دُور کر دوں گا۔ اگر اس نے ایسا کیا ہے تو پھر مجبوری ہے۔‘‘
‎’’تو یہیں سو جا تلسی اپنے گھر مت جا۔‘‘
‎’’نا دینو بھیّا گھر جانے دو اگر وہ پھر آ گئی تو۔ دینو بھیّا ہم کوئی اسے پکڑ تھوڑی رہے تھے۔ ہم تو اسے بچا رہے تھے۔ اس پر پڑنے والے پتھر کھا رہے تھے۔ بہنیا ہے ہمار وہ۔ ارے ہم اسے نا مرنے دیں گے اسے۔ چلے بھیّا تمہاری مہربانی۔‘‘ وہ وہاں سے چلا گیا۔
‎بہت دیر خاموشی رہی۔ پھر میں نے کہا۔ ’’اللہ دین بھائی تمہارا کیا خیال ہے۔ کیا وہ ڈائن ہے۔‘‘
‎’’مولا جانے۔‘‘
‎اللہ دین گہری سانس لے کر بولا۔
‎’’ایک بات بتائو اللہ دین۔‘‘
‎’’ہوں۔‘‘
‎’’بستی والے مکھیا کی بات مانتے ہیں؟‘‘
‎’’بہت، کسی بات پر ٹیڑھا ہو جائے تو سب سیدھے ہو جاتے ہیں۔‘‘
‎’’میں مکھیا سے ملوں گا۔ اس سے کہوں گا کہ وہ بستی والوں کا جنون ختم کرے۔ ان سے کہے کہ وہ خود کھوج کر رہا ہے۔ پتہ چل گیا کہ بھاگ بھری ہی ڈائن ہے تو وہ خود اسے سزا دے گا۔ اس نے بستی والوں سے یہ بات کہی بھی تھی۔‘‘ میں نے یہ جملے کہے ہی تھے کہ اندر سے زبیدہ کی آواز سنائی دی۔
‎’’ارے اب اندر آئو گے یا باہر ہی رہو گے۔ میں کب سے بیٹھی ہوں۔‘‘
‎’’جاگ رہی ہے؟ اچھا مسافر بھیّا آرام کرو۔‘‘ اللہ دین اندر چلا گیا۔ میں اپنے کمرے میں آ گیا۔ باوضو تھا اور اس ہنگامے سے پہلے ایک ارادہ کر کے اُٹھا تھا چنانچہ اس پرعمل کا فیصلہ کرلیا۔ ایک صاف ستھری جگہ منتخب کی اور وہاں دو زانو بیٹھ کر آنکھیں بند کرلیں۔ مجھے درود شریف بخشا گیا تھا۔ یوں تو کلام الٰہی کا ہر زیر زبر پیش مد اور جزم اپنی جگہ آسمان ہے مگر مجھے رہنمائی کے لیے درود پاک عطا کیا گیا تھا، چنانچہ آنکھیں بند کر کے میں نے ورد شروع کر دیا۔ پڑھتا رہا ذہن سو سا گیا مگر ہونٹوں سے درود پاک جاری رہا۔ تب میرے ذہن میں کچھ خاکے اُبھرنے لگے۔ ایک بندر کی شکل اُبھری جو تاج پہنے ہوئے تھا پھر ایک عمارت کا خاکہ اُبھرنے لگا۔ بندر کے قدموں میں کوئی سیاہ سی شے پھڑک رہی تھی، سمجھ میں نہ آ سکا کیا ہے۔ عمارت کے محراب نما دروازے پھر ایک چہرہ۔ پہلے آنکھیں پھر ناک اور ہونٹ پھر پورا چہرہ۔ ایک مکمل چہرہ جو کسی عورت کا تھا۔

 اس کے بعد دماغ کو جھٹکا سا لگا اور میں جیسے جاگ گیا۔ میری پیشانی شکن آلود ہوگئی۔ کچھ سمجھ نہیں پا رہا تھا۔ وہ چہرہ یاد تھا، عمارت کے نقوش یاد تھے اور بس۔ دیر تک اس کے بارے میں سوچتا رہا اس کے بعد دوبارہ درود شریف پڑھنا شروع کیا۔ اور وضاحت چاہتا تھا لیکن شاید اس سے زیادہ کچھ نہیں بتایا جانا تھا اس لیے نیند آ گئی اور وہیں لڑھک کر سو گیا۔ نہ جانے کتنا وقت گزرا تھا سوتے ہوئے کہ اچانک ایک بھیانک چیخ سنائی دی اور پھر مسلسل چیخیں اُبھرنے لگیں۔ ایک لمحے تو دماغ سناٹے میں رہا پھر احساس ہوا کہ چیخوں کی آوازیں زبیدہ اور اللہ دین کی ہیں۔ اٹھا اور دوڑتا ہوا کمرے سے باہر نکل آیا۔ زبیدہ ہی تھی اور اس کے منہ سے آوازیں نکل رہی تھیں۔

‎’’ہو، ہو، ہو۔‘‘ اس کا حلیہ بگڑا ہوا تھا۔ چہرہ خوف کے مارے سرخ ہو رہا تھا۔ آنکھیں پھٹی ہوئی تھیں۔ اس کا ایک ہاتھ کمرے کے دروازے کی طرف اٹھا ہوا تھا اور وہ کچھ کہنا چاہ رہی تھی مگر دہشت نے زبان لڑکھڑا دی تھی۔ چیخوں کی آواز کے سوا کچھ منہ سے نہیں نکل پا رہا تھا۔ اللہ دین بھیّا کی حالت بھی اس سے مختلف نہیں تھی۔ ان دونوں کو سنبھالنا تو مشکل تھا مگر یہ اندازہ ہوگیا تھا کہ جو کچھ بھی ہے اس کمرے میں ہے جس میں یہ سوتے ہیں چنانچہ اللہ کا نام لے کر کمرے کے کھلے دروازے سے اندر داخل ہوگیا۔ اندر لالٹین ٹمٹما رہی تھی اور اس کی مدھم ملگجی روشنی کمرے کے ماحول کو اور خوفناک بنا رہی تھی۔ بستر پر کلو بے سُدھ پڑا ہوا تھا۔ اچانک میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ دل اُچھل کر حلق میں آ گیا۔ کلو… کلو… ساکت ہے! اتنے شور و شرابے کے باوجود اس کے بدن میں جنبش نہیں ہے۔ تو کیا وہ…؟ مگر یہ سوچ مکمل بھی نہیں ہوئی تھی کہ اچانک چوڑے پلنگ کے نیچے سے دو ہاتھ باہر نکلے اور انہوں نے برق رفتاری سے میرے دونوں پائوں پکڑ کر کھینچے۔ میں توازن نہ سنبھال سکا اور دھڑام سے نیچے آ رہا۔ میرے گرتے ہی ایک بھیانک وجود پلنگ کے نیچے سے نکل آیا۔ وہ وحشیانہ انداز میں میرے سینے پر آ چڑھا تھا اور میرے اعضاء بالکل ساکت ہوگئے تھے۔

‎خوفناک وجود ایک لمحے میرے سینے پر سوار رہا پھر اس نے ایک اور چیخ ماری اور میرے سینے سے اتر کر دروازے کی طرف لپکا اور جھپاک سے باہر نکل گیا۔ اللہ دین دوبارہ چیخا۔ زبیدہ دھڑام سے زمین پر گر پڑی۔ وہ شاید بے ہوش ہوگئی تھی۔ میں سنبھل کر کھڑا ہوگیا۔ اللہ دین خوف زدہ لہجے میں بولا۔ ’’نکل گئی، نکل گئی۔‘‘ میں نے کوئی جواب نہیں دیا اور پہلے اللہ دین کے بیٹے کلو کو دیکھا۔ بغور دیکھنے سے اندازہ ہوگیا کہ بچہ گہری نیند سو رہا ہے اور کوئی بات نہیں ہے۔ اندازے سے میں نے ایک خوفناک وجود کو بھی پہچان لیا تھا۔ وہ بھاگ بھری ہی ہوسکتی تھی۔ اللہ دین ایک طرف بیوی کو سنبھال رہا تھا اور دوسری طرف بیٹے کیلئے فکرمند تھا۔
‎’’تمہارا بیٹا سو رہا ہے اور بالکل ٹھیک ہے۔‘‘ میں نے اسے بتایا۔
‎’’ارے زبیدہ، ہوش میں آ…! کلو ٹھیک ہے، اسے کچھ نہیں ہوا۔‘‘ اللہ دین نے اسے اٹھا کر چارپائی پر لٹایا اور میرے پاس آکر کلو کو دیکھنے لگا۔ پھر ہاتھ جوڑ کر بولا۔ ’’مولا تیرا شکر ہے۔‘‘
‎’’وہ بھاگ بھری تھی…؟‘‘ میں نے پوچھا۔
‎’’ارے ہاں! اس سسری نے تو ناک میں دم ہی کردیا۔ لو یہاں بھی آگھسی۔ اب کیا ہوگا؟ مولا نہ کرے اگر ہم جاگ نہ جاتے تو…!‘‘
‎’’کیا ہوا تھا…؟‘‘
‎’بس مسافر بھیا! یہ دھماچوکڑی ہوئی تو دروازہ کھلا رہ گیا۔ ہم سو گئے تھے، کسی کھٹکے سے آنکھ کھلی تو اس بھیڑنی کو دیکھا، کلو پر جھکی ہوئی تھی۔ ہم سمجھے کہ مولا نہ کرے…! مولا تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے۔‘‘ اللہ دین سجدے کرنے لگا۔
‎کچھ دیر کے بعد زبیدہ بیگم ہوش میں آگئیں۔ چیخیں مار کر رونے لگیں۔ بڑی مشکل سے انہیں یقین آیا کہ کلو زندہ ہے۔ نہ جانے کیا کیا اول فول بکنے لگیں۔ میں واپس اپنے کمرے میں آگیا تھا۔ رات تقریباً پوری گزر چکی تھی۔ اس کے بعد نیند نہیں آئی۔ نماز سے فراغت پا کر باہر نکل آیا۔ بڑی خوشگوار صبح تھی۔ ننھے منے پرندے چہلیں کررہے تھے۔ اللہ دین بھی میرے پاس آگیا۔ میں نے مسکرا کر اسے دیکھا تو وہ فکرمندی سے بولا۔ ’’بڑی مشکل آگئی مسافر بھیا… اب ہوگا کیا؟‘‘
‎’’سب ٹھیک ہوجائے گا، فکر مت کرو۔‘‘
‎’’گھر والی تو بری طرح ڈر گئی ہے۔ بخار آگیا ہے بے چاری کو… ویسے اب تو کچھ گڑبڑ لگے ہی ہے مسافر بھیا!‘‘
‎’’کیا…؟‘‘
‎’’بھاگ بھری ڈائن بن ہی گئی۔ بال بال بچ گیا ہمارا کلو!‘‘ اللہ دین نے کہا۔ میرے پاس کہنے کیلئے کچھ نہیں تھا، کیا کہتا۔ کوئی فیصلہ کن بات کہنا مشکل ہی تھا۔
‎’’چائے بنا لیں، ناشتے میں کیا کھائو گے؟‘‘
‎’’جو بھی مل جائے۔‘‘ میں نے کہا اور اللہ دین چلا گیا۔ میں خیالات میں کھو گیا۔ وہ چہرہ اور وہ عمارت یاد تھی جسے مراقبے کے عالم میں دیکھا تھا۔ ہدایت کی گئی تھی کہ اب خود پر بھروسہ کروں۔ کمبل واپس لے لیا گیا تھا۔ امتحان تھا مگر دل کو یقین تھا کہ امتحان میں پورا اتارنے والی بھی وہی ذات باری ہے جس نے اس امتحان کا آغاز کیا ہے۔ خیالوں میں جیب میں ہاتھ چلا گیا۔ کوئی مانوس شے نظر آئی، نکال کر دیکھا تو چار روپے تھے ۔یہ تائید غیبی تھی۔ مجھے اس اعتماد پر یقین دلایا گیا تھا جو میرے دل میں تھا۔ میرا وظیفہ مجھے عطا کردیا گیا تھا۔ بڑی تقویت ملی۔ دل کو اور اطمینان ہوگیا کہ جو کچھ ہوگا، بہتر ہوگا۔ چائے پیتے ہوئے تین روپے اللہ دین کو دے دیئے۔ وہ بولا۔ ’’شرمندہ کررہے ہو مسافر بھیا! مگر اتنے کاہے کو…؟‘‘
‎’’بس حساب رکھنا، کل پھر دوں گا۔‘‘ اللہ دین نے شرمندگی سے سر جھکا لیا تھا۔ کوئی نو بجے ہوں گے کہ تلسی کراہتا ہوا آگیا۔
‎’’بخار چڑھ گیا ہے سسرا… بھیا دینو، ایک اٹھنی ادھار دے دو گے؟‘‘
‎’’ہاں… ہاں! کیوں نہیں، یہ لو۔‘‘ اللہ دین نے جیب سے اٹھنی نکال لی۔
‎’’یہ روپیہ بھی لے تو تلسی! فالتو پڑا ہے میری جیب میں۔‘‘ میں نے جیب سے روپیہ نکال کر تلسی کو دیا جو اس نے بڑی مشکل سے لیا تھا۔ گیارہ بجے کے قریب میں بستی گھومنے نکل گیا۔ آبادی بہت چھوٹی تھی۔ ایک مسجد بھی بنی ہوئی تھی مگر نہایت شکستہ حالت میں، کوئی دیکھ بھال کرنے والا بھی نہیں نظر آیا۔ اندر داخل ہوگیا، صفائی ستھرائی کی۔ اذان بھی نہیں ہوئی، میں نے خود اذان دی لیکن ایک بھی نمازی نہ آیا۔ نماز سے فارغ ہوکر گھومنے نکل گیا۔ کھیتوں اور جنگلوں کے سوا کچھ نہیں تھا۔ ہاں! کافی دور نکل آنے کے بعد ایک مٹھ نظر آیا۔ اس کے عقب میں ایک سیاہ رنگت عمارت بھی نظر آئی تھی۔ قدم اسی جانب اٹھ گئے۔ عمارت کے اطراف میں انسانی قد سے اونچی جھاڑیاں نظر آرہی تھیں۔ ان کے درمیان پیلی سی پگڈنڈی بھی پھیلی ہوئی تھی جو اسی عمارت تک جاتی تھی۔ میں اسی پگڈنڈی پر آگے بڑھتا رہا۔ راستے میں کئی جگہ سانپوں کی سرسراہٹ بھی سنائی دی تھی۔ یقیناً ان جھاڑیوں میں سانپ موجود تھے۔

 ویرانے میں بنی ہوئی یہ عمارت بڑی عجیب نظر آرہی تھی لیکن میرے لئے بہت دلچسپی کا باعث تھی۔ چنانچہ میں آگے بڑھتا ہوا اس کے دروازے پر پہنچ گیا اور پھر اچانک ہی میرے دماغ کو ایک جھٹکا سا لگا۔ عالم استغراق میں جو عمارت میں نے دیکھی تھی، اس وقت یقیناً وہی میری نگاہوں کے سامنے تھی۔ کم ازکم اس سلسلے میں مجھے اپنی یادداشت پر بھروسہ تھا۔ میرا دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔ اس کا مقصد ہے کہ جو نشاندہی کی گئی تھی، وہ بالکل مکمل تھی اور یقینی طور پر مجھے یہاں سے کوئی رہنمائی ملے گی۔ وہی محرابیں، وہی انداز… آگے بڑھتا ہوا اس بڑے سے ٹھنڈے ہال میں پہنچ گیا جو نیم تاریک تھا، روشن دانوں سے جھلکنے والی کچھ روشنی نے ماحول کو تھوڑا سا منور کردیا تھا ورنہ شاید نظر بھی نہ آتا۔ درمیان میں ہنومان کا بت استادہ تھا۔ ہاتھ میں گرز لئے، ہنومان کا بت بہت خوفناک نظر آرہا تھا اور اس سنسان ماحول میں یوں لگ رہا تھا جیسے ابھی بت اپنی جگہ سے آگے بڑھے گا اور مجھ پر حملہ کردے گا۔ میں نے اس کی آنکھوں میں غیر معمولی چمک دیکھی حالانکہ پتھر کا تراشا ہوا بت تھا لیکن آنکھیں جاندار معلوم ہوتی تھیں۔ میں ان آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھتا رہا لیکن بت میں کوئی جنبش نہیں ہوئی تھی۔ یہ صرف تنہائی اور ماحول کا دیا ہوا ایک تصور تھا البتہ یہ بات میں اچھی طرح جانتا تھا کہ میری رہنمائی بے مقصد نہ کی گئی ہوگی۔ آگے بڑھ کر بت کے بالکل قریب پہنچ گیا۔ ہلکی ہلکی سرسراہٹوں سے یوں محسوس ہوا تھا جیسے آس پاس کہیں کوئی موجود ہے لیکن نظر کوئی بھی نہیں آرہا تھا۔ میں نے بت کے قدموں میں دیکھا اور دوزانو بیٹھ کر دیکھنے لگا۔ (جاری ہے)

تمام اردو کہانیاں پڑھنے کے لیے کلک کریں 

کالا جادو - پارٹ 26

Urdu stories online, Urdu stories for kids, Short Urdu stories, Urdu Kahaniyan, Famous Urdu stories, Urdu stories with moral, Best Urdu stories collection, Urdu stories for students, Urdu love stories, Urdu horror stories, Urdu stories for reading, Urdu stories in Urdu text, Funny Urdu stories, Urdu stories for beginners, Urdu detective stories, Urdu motivational stories, Urdu stories for adults, Urdu moral stories, Urdu stories for children, Urdu true stories, Urdu suspense stories, Urdu emotional stories, Urdu adventure stories,

hindi moral stories in urdu,سبق آموز کہانیاں, jin-ki-dushmni,good moral stories in urdu,Moral Stories,Urdu Stories,urdu kahani,اردو کہانی,قسط وار کہانیاں,
Reactions