| قسط وار کہانیاں |
کالا جادو - اردو کہانی قسط نمبر 26
رائیٹر :ایم اے راحت
عالم استغراق میں مجھے ان قدموں کے نزدیک کوئی سیاہ شے پھڑکتی ہوئی نظر آئی تھی لیکن نظر کوئی بھی نہیں آرہا تھا۔ ہاں، خون کے چند دھبے نمایاں طور پر دیکھے جاسکتے تھے حالانکہ ان کا اندازہ لگانا بھی مشکل تھا۔ میں نے الٹے ہاتھ سے خون کو تھوڑا سا رگڑ کر دیکھا تو وہ اپنی جگہ سے چھٹ گیا اور اس کے چھوٹے چھوٹے ذرات میری انگلی میں لگے رہ گئے اس کے بعد میں نے اس ہال کے ایک ایک گوشے کا جائزہ لیا۔ اندرونی سمت ایک دروازہ بنا ہواتھا، ہمت کرکے میں اس دروازے سے اندر داخل ہوگیا۔ چھوٹا سا ایک کمرہ تھا لیکن بالکل خالی! کوئی شے وہاں موجود نہیں تھی۔ وہاں سے باہر نکل آیا اور یوں لگا جیسے کوئی بھاگ کر دروازے سے باہر نکل گیا ہو۔ تیزی سے دوڑتا ہوا باہر آیا اور دور دور تک نگاہیں دوڑائیں لیکن اگر کوئی تھا بھی تو اسے تلاش کرنا ناممکن تھا کیونکہ آس پاس بکھری ہوئی جھاڑیوں میں تو اگر سیکڑوں انسان بھی چھپ جاتے تو ان کا سراغ لگانا مشکل ہوتا۔ یہ جگہ یقینی طوز پر بہت پراسرار تھی۔
بھاگتے ہوئے قدموں کا تعاقب کرتا ہوا میں باہر نکلا تھا لیکن ابھی وہاں بہت سی چیزیں جائزہ لینے کیلئے موجود تھیں چنانچہ پھر اندر داخل ہوگیا اور ایک بار پھر ہال میں ادھر ادھر دیواروں، کونوں، کھدروں کو تلاش کرنے لگا۔ صاف ظاہر ہوگیا تھا کہ یہ جگہ انسانی پہنچ سے دور نہیں ہے۔ دیوار میں دو مشعلیں گڑھی ہوئی تھیں جن میں نجانے کیا چیز جلائی جاتی تھی۔ روئی سے بنی ہوئی بتیاں ان مشعلوں میں تراشے ہوئے دیوں میں پڑی ہوئی تھیں اور ایک عجیب سے رنگ کا موم جیسا مادہ بھی موجود تھا۔ یہ بتیاں یقیناً روشن کردی جاتی ہوں گی۔ ہوسکتا ہے یہاں پوجا ہوتی ہو۔ ظاہر ہے مذہب کے متوالے اپنے اپنے دھرم کے مطابق یہ عمل کرتے ہی ہیں لیکن جگہ بے حد بھیانک اور پراسرار تھی۔ میں نے اس کا پورا پورا جائزہ لیا اور اس کے بعد وہاں سے بھی باہر نکل آیا۔ جھاڑیوں کے درمیان سے گزرتا ہوا ایک بار پھر کھیتوں کے قریب پہنچا۔ چار پانچ افراد پر مشتمل ایک گروہ نظر آیا جو ہاتھوں میں لاٹھیاں لئے چوکنے انداز میں آگے بڑھ رہا تھا۔ یہ سب غیر مانوس شکلیں تھیں لیکن وہ شاید مجھے جانتے تھے۔ تیکھی نگاہوں سے مجھے دیکھنے لگے اور میری طرف اشارہ کرکے باتیں کرنے لگے۔ میں خود ہی ان کے قریب پہنچ گیا تھا۔ میں نے کہا۔ ’’کیا کررہے ہو بھائی…؟‘‘
’’اسی چڑیل کو تلاش کررہے ہیں۔ ڈائن بچ کر کہاں جائے گی ہمارے ہاتھوں سے! ارے بستی میں آگ لگا دی ہے اس نے، ہر گھر میں رونا پیٹنا مچا ہوا ہے اس کی وجہ سے…! بھگوان کی سوگند نظر آجائے، جیتا نہیں چھوڑوں گا۔‘‘ میں نے ایک ٹھنڈی سانس لی اور وہاں سے آگے بڑھ گیا۔ پھر مکانوں کے بیچ سے نکلا تھا کہ سامنے مکھیا کا گھر نظر آگیا۔ غالباً یہ عقبی راستہ تھا۔ یونہی ٹہلتا ہوا آگے بڑھا اور اس گھر کے قریب پہنچ گیا لیکن آج بھی وہاں تماشا ہورہا تھا۔ بیچارے تلسی کو دیکھا جسے دو آدمی پکڑے ہوئے لا رہے تھے اور چار پانچ اس کے پیچھے چل رہے تھے۔ چوپال کی جگہ ٹھاکر صاحب بدستور بیٹھے ہوئے تھے حالانکہ دوپہر کا وقت تھا لیکن ٹھاکر صاحب قصہ نمٹانے آگئے تھے۔ میں بھی تیز قدموں سے آگے بڑھتا ہوا ان کے قریب پہنچ گیا۔ ٹھاکر صاحب کسی قدر ناخوشگوار انداز میں ان لوگوں کو دیکھ رہے تھے۔ وہ بولے۔ ’’ارے تم اس بیچارے کے پیچھے کاہے پڑ گئے ہو۔ آخر مار دو سسرے کو، دو لٹھیاں مارو بھیجہ نکال باہر کرو، جان تو چھوٹے!‘‘
’’ٹھاکر جی! جھوٹ نہیں کہہ رہے ہم لوگ، سوگند لے لو ہم سے بھی اور اس سے بھی! اس سے پوچھو رات کو بھاگ بھری اس کے پاس آئی تھی یا نہیں…؟‘‘
’’کیوں رے بتا بھائی بتا! کیا کریں تیرا ہم، ارے بستی چھوڑ کر ہی چلا جا پاپی! کہیں مارا جائے گا ان لوگوں کے ہاتھوں۔ دھت تمہارے کی۔ ارے آئی تھی وہ کیا تیرے پاس…؟‘‘
’’آئی تھی ٹھاکر!‘‘
’’تو پھر تو نے پکڑا اسے…؟‘‘
’’پکڑا تھا مگر ان لوگوں نے پتھر مارمار کر ہمارا ستیاناس کردیا۔ وہ ہمیں دھکا دے کر نکل بھاگی۔‘‘
’’یہ جھوٹ بولتا ہے ٹھاکر! اس نے اسے پتھروں سے بچانے کیلئے اپنے بدن کے نیچے چھپا لیا تھا۔‘‘
’’تو پاپیو، بھیا توہے نا کیا کرتا۔ ارے تم لوگوں کا بھگوان کا خوف ہے کہ نہیں۔ ساری بستی پر تباہی لائو گے۔ تم مجھے بتائو، ٹھنڈے من سے بتائو، سوچ کر بتائو۔ تمہاری بہن پاگل ہوجاتی۔ کوئی اس پر الزام لگا دے کہ وہ ڈائن ہے اور تم نے اپنی آنکھوں سے نہ دیکھا ہو تو کیا مروا دو گے اسے بستی والوں کے ہاتھوں، پتھر مارمار کر سر کھلوا دو گے اس کا! ارے اس نے اگر ایسا کیا بھی ہے تو کونسا برا کام کیا کیا۔ تم یہ بات کہنا چاہتے ہو کہ یہ بھی اپنی بہن کے ساتھ بچوں کو مارتا ہے۔ بولو جواب دو؟ اگر ایسا نہیں ہے تو اس بیچارے کے پیچھے کیوں پڑ گئے ہو۔ جائو پکڑ لو کہیں سے بھاگ بھری کو، لے آئو سسری کو میرے پاس! میں خود تم سے کہوں گا کہ جان نکال لو اس کی۔ ارے کسی نے ٹھیک سے دیکھا تو ہے نہیں اور پڑ گئے پیچھے۔ دیکھو میں نے تم سے پہلے بھی کہا تھا اور اب جیسے کہہ رہا ہوں، اسے سمجھ لو۔ تلسی کو اس کے بعد اگر کسی نے ہاتھ لگایا تو مجھ سے برا اور کوئی نہیں ہوگا اور بھاگ بھری کے بارے میں بھی میں تم سے یہی کہتا ہوں۔ دیکھ لو، پکڑ لو تو جان سے مت مارنا۔ پہلے میرے سامنے لے آنا۔ وہ تم میں سے کسی کو نہیں کھا جائے گی۔ سمجھے سورمائو! اس بیچارے کو باربار پکڑ کر لے آتے ہو۔‘‘
’’یہ انصاف نہیں ہے ٹھاکر صاحب!‘‘ یہ آواز جنک رام کی تھی۔
’’ارے جنک رام! بھیا ہم جانیں ہیں تیرے من میں آگ لگی ہے پر ایسا تو نہ کر جیسا تو کررہا ہے۔ بھاگ بھری کو ایک بار بھی پکڑ کر لے آئے گا تو ہم تجھ سے کچھ نہیں کہیں گے۔ اس بیچارے کی جان کے پیچھے کیوں لگ گئے ہو تم لوگ، دیکھ تلسیا…! بھاگ بھری اگر تیرے پاس آجائے تو بھیا مت بنیو اس کا! پکڑ کر ہمارے پاس لے آنا۔ ارے ہم بھی تو دیکھیں ذرا ڈائن کو کھلی آنکھوں سے! پتا تو چل ہی جائے گا ،سسری کب تک چھپے گی۔ تم لوگوں نے تو بھیا مغز خراب کرکے رکھ دیا۔‘‘ ٹھاکر کوہلی رام دونوں ہاتھوں سے سر پیٹنے لگا۔
’’اسے کچھ نہیں کہو گے ٹھاکر…؟‘‘ جنک رام بولا۔
’’کیا کہیں اور کیا کہیں! بتائو اور کیا کہیں؟ ادھر آرے تلسیا! ادھر آ ہمارے پاس۔‘‘ تلسی آگے بڑھ کر اس کے پاس آگیا۔ ٹھاکر نے اس کا ہاتھ پکڑا اور چونک پڑا۔ ’’ارےتجھے تو تاپ چڑھا ہوا ہے۔‘‘
’’کل سے پٹ رہا ہوں ٹھاکر! دن بھر مارا، رات کو مارا، تاپ نہ چڑھے گا تو کیا ہوگا۔‘‘ تلسی مظلومیت سے بولا اور ٹھاکر کا چہرہ غصے سے سرخ ہوگیا۔
’’پاپیو…! جان لئے بنا نا چھوڑو گے اسے! ارے کچھ شرم کرو، کچھ شرم کرو۔ سنو رے! کان کھول کر سن لو سب کے سب، جنک رام! تو بھی سن لے بھیا۔ تیرا دکھ اپنی جگہ مگر تم سب نے مل کر ہمیں مکھیا بنایا ہے تو مکھیا کا مان بھی دے دو۔ اس کے بعد تلسی کو کوئی ہاتھ نہ لگائے ورنہ ہم پولیس کو بلائیں گے اور پھر دیکھ لیں گے ایک ایک کو۔‘‘
’’اس کا پاٹ لے رہے ہو ٹھاکر!‘‘ کسی نے کہا۔
’’چورسیا او چورسیا!‘‘ ٹھاکر نے کسی کو آواز دی اور ایک قوی ہیکل آدمی آگے بڑھ آیا۔ ’’دیکھ تو کون سورما بولا۔ پکڑ لے اسے اور بیس جوتے لگا دے اس کی کھوپڑی پر! کون بولا تھا پاٹ والی بات…؟‘‘ ٹھاکر نے آنکھیں نکال کر مجمع کو گھورتے ہوئے کہا لیکن دوبارہ کوئی نہ بولا۔ ٹھاکر نے اس وقت شاید مجھے دیکھا تھا۔ پھر اس نے کہا۔ ’’بات سمجھ میں آگئی ہو تو جائو، اپنے گھروں کو جائو۔ جو کہا ہے، اسے یاد رکھنا ورنہ ذمہ دار خود ہوگے۔ زبان چلائو ہو حرام خور ہم سے! جائو سب جائو۔‘‘ لوگ گردنیں جھکائے چل پڑے۔ میں بھی واپسی کیلئے مڑا تو ٹھاکر نے جلدی سے کہا۔ ’’ارے او داروغہ جی! تم کہاں چلے، ذرا ادھر آئو ہمارے پاس۔‘‘
میں جانتا تھا داروغہ کسے کہا گیا ہے، رک گیا۔ مڑ کر ٹھاکر کوہلی رام کے پاس پہنچ گیا۔ ’’جی ٹھاکر صاحب…؟‘‘
’’مہربانی تمہاری بھائی کہ عزت سے نام لے لیا۔ ہم تو سمجھ رہے تھے کہ بھنگی چمار کہو گے ہمیں!‘‘
’’آپ یہ کیوں سمجھ رہے تھے ٹھاکر صاحب!‘‘ میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’ایسا ہی لگے ہے ہمیں! بیٹھو… جمال گڑھی میں مہمان آئے ہو، ہم بھی یہیں کے رہنے والے ہیں۔‘‘
’’آپ حکم دے کر بلوا لیتے ٹھاکر صاحب! اللہ دین کی سرائے میں ٹھہرا ہوں۔‘‘
’’تم ہمارا حکم کاہے مانتے بھیا! دبیل میں بسو ہو ہماری کیا۔ دو پور سے سلام تو کیا نا تم نے!‘‘
’’سلام اپنی مرضی سے کیا جاتا ہے ٹھاکر! آپ کی بستی میں بھی مسلمان رہتے ہیں۔ آپ ضرور جانتے ہوں گے کہ مسلمان کسی کے حکم پر نہیں جھکتے۔‘‘
’’ارے بیٹھو تو، دوچار گھڑی کچھ جل پان کرو؟‘‘
’’شکریہ! میں بیٹھ جاتا ہوں۔‘‘
’’تم خوب پھنسے اس پھیر میں، بستی میں کسی سے ملنے آئے تھے یا ایسے ہی گزر رہے تھے؟‘‘
’’بس گزر رہا تھا ٹھاکر! پتا نہیں میری بدقسمتی تھی یا کسی اور کی کہ میں نے وہ منظر دیکھ لیا۔‘‘
’’بھگوان جانے کیا سچ ہے کیا جھوٹ! فیصلہ تو بھگوان ہی کرے گا۔ بھاگ بھری بائولی ہوگئی ہے۔ بچے مر گئے تھے اس کے، پتی بھی مر گیا بے چارہ…! مگر ایسا کیسے ہوگیا۔ ایسی عورت ڈائن کیسے بن گئی۔ وہ بائولی تو ہے۔ ہوسکتا ہے بچے کی لاش پڑی ہو اور وہ پاگل پن میں اس کے پاس بیٹھ کر اسے ٹٹولنے لگی ہو۔ تم نے غور سے اسے دیکھا تھا وہ بچے کو مار رہی تھی؟‘‘
’’پہلے بھی بتا چکا ہوں، اس کی پیٹھ تھی میری طرف!‘‘
’’بھگوان جو کرے، اچھا کرے۔ بستی والے اسے چھوڑیں گے نہیں۔ ہم تو کچھ اور سوچ رہے ہیں۔ پولیس لا کر بھاگ بھری کو پکڑوا دیں۔ پولیس جانے اور اس کا کام۔‘‘ ابھی ٹھاکر نے اتنا ہی کہا تھا کہ اندر سے ایک لمبی تڑنگی عورت نکل آئی اور کرخت لہجے میں بولی۔
’’تمہیں پنچایت لگانے کے علاوہ اور کوئی کام بھی ہے؟ جب دیکھو پنچایت لگائے بیٹھے ہو۔ کاکا بلا رہے ہیں اتی دیر سے۔‘‘ میں نے عورت پر نگاہ ڈالی اور دفعتاً دل دھک سے ہوگیا۔ یہ چہرہ اجنبی نہیں تھا۔ یہ وہی چہرہ تھا جسے میں نے مراقبہ کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ اچھے نقوش مگر کرختگی لئے ہوئے… ٹھاکر بوکھلا گیا۔ جلدی سے اٹھتا ہوا بولا۔
’’ہاں… ہاں! بس آہی رہے تھے۔ اچھا بھیا! پھر کبھی آئو، آدمی بھیجیں گے تمہارے پاس، کبھی جل پان کرو ہمارے ساتھ اچھا!‘‘ وہ اٹھ کر اندر چلا گیا لیکن میرا ذہن چکرایا ہوا تھا۔ وہی چہرہ تھا، سوفیصد وہی چہرہ…! مندر کی عمارت بھی نظر آگئی تھی اور وہ عورت بھی۔ اب کیا کروں، کیسے کروں، کچھ سمجھ میں نہیں آیا۔ سرائے واپس آکر بھی میں سوچتا رہا اور کئی دن سوچتا رہا۔ کچھ سمجھ میں نہیں آیا۔
جمال گڑھی میں قیام کی پانچویں رات تھی۔ میں پریشان تھا۔ بات کسی طور آگے نہیں بڑھ رہی تھی۔ تین دن سے خاموشی تھی۔ بھاگ بھری بھی شاید دور نکل گئی تھی۔ تین دن سے اسے بستی میں نہیں دیکھا گیا تھا۔ تلسی البتہ ملتا رہتا تھا۔ اداس اور ملول تھا۔ بات بات میں سسکنے لگتا تھا۔ مجھے اس پر بہت ترس آتا تھا لیکن میں کیا کرسکتا تھا بے چارے کیلئے۔ ٹھاکر کوہلی رام کے پاس بھی بہت سے چکر لگائے تھے۔ وہ اچھا آدمی تھا۔ ظاہری کیفیت سے بالکل برعکس… تلسی کیلئے خود بھی افسردہ تھا۔ ایک دن کہنے لگا۔
’’ہم اسے کسی دوسری بستی بھیج دیں گے۔ انتظام کررہے ہیں۔ یہاں رہا تو مارا جائے گا۔ بھگوان نہ کرے اور کوئی ایسا واقعہ ہوگیا تو پھر میں بھی شاید بستی والوں کو نہ روک سکوں۔‘‘
رات کے کوئی دس ہی بجے ہوں گے لیکن یوں لگتا تھا جیسے آدھی رات گزر چکی ہو۔ جمال گڑھی میں شام سات بجے ہی رات ہوجاتی تھی۔ پانچ چھ بجے تک سارے کاروبار بند ہوجاتے تھے اور لوگ اپنے گھروں میں جا گھستے تھے۔ بس بھولے بھٹکے مسافر آٹھ نو بجے تک نظر آجاتے تھے ورنہ خاموشی! سرشام ہی بادل گھر آئے تھے اور اس وقت بھی آسمان تاریک تھا۔ اللہ دین رات کے کھانے کے بعد مجھے خداحافظ کہہ کر اپنے کمرے میں جا گھسا تھا۔ وہ مضبوطی سے سارے دروازے بند کرکے سوتا تھا اور اس نے مجھ سے بھی کہہ دیا تھا کہ کچھ بھی ہوجائے، رات کو اس کا دروازہ نہ بجائوں۔ وہ دروازہ نہیں کھولے گا۔ یہ زبیدہ بیگم کی ہدایت تھی۔
مجھ پر اکتاہٹ کا دورہ پڑا تھا۔ اس وقت عجیب سی بے کلی محسوس ہورہی تھی۔ چارپائی کاٹنے کو دوڑ رہی تھی۔ خاموشی سے سرائے سے باہر نکل آیا۔ دروازہ باہر سے بند کردیا۔ تلسی کا گھر بھی تاریک پڑا تھا۔ یہاں سے چل پڑا۔ سوچا کہاں جائوں اور اس ویران مندر کا خیال آیا۔ کوئی کتنا ہی بہادر ہو، اس وقت اس مندر کی طرف رخ کرنے کے تصور ہی سے خوف زدہ ہوجاتا لیکن دل اس سمت جانے کو چاہ رہا تھا۔ میں چل پڑا۔ پوری بستی شہر خموشاں بنی ہوئی تھی، کتے تک نہیں بھونک رہے تھے۔ فاصلہ کم نہیں تھا۔ بس چلتا رہا۔ راستے میں کسی ذی روح کا نشان بھی نہیں نظر آیا تھا۔ گھنی اور خوفناک جھاڑیاں خاموش کھڑی ہوئی تھیں۔ ان کے درمیان سے احتیاط سے گزرا تھا کیونکہ وہاں سانپ موجود تھے۔ رات میں تو وہ نظر بھی نہ آتے لیکن اس خوف سے اپنا ارادہ ترک نہیں کرسکا۔ کوئی انجانی قوت مجھے وہاں لے جارہی تھی۔ تاریک مندر، تاریکی میں اور بھیانک نظر آرہا تھا لیکن اس کے دروازے سے اندر قدم رکھتے ہی بری طرح چونک پڑا۔ کسی بچے کے سسک سسک کر رونے کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ وہ روتے ہوئے کہہ رہا تھا۔
’’ماں… ماں! کھول دو، بھگوان کی سوگند اب باہر نہیں جائوں گا۔ ماں! بہت ڈر لگ رہا ہے۔ ماں! دیا جلا دو۔ تمہاری بات مانوں گا، باہر نہیں جائوں گا۔ ماں! رسی میرے پیر کاٹ رہی ہے۔ ماں! پیٹھ میں کھجلی ہورہی ہے، کھول دو ماں…!‘‘
دل دھاڑ دھاڑ کرنے لگا۔ اپنی جگہ ساکت ہوگیا۔ خون کی روانی طوفانی ہوگئی، کنپٹیاں آگ اگلنے لگیں۔ رکنا بہتر ہوا، اندر داخل ہوجاتا تو یقیناً وہ نہ ہوتا جو دوسرے لمحے ہوا۔ اندر یک بیک روشنی ہوگئی تھی۔ وہی دونوں مشعلیں روشن ہوئی تھیں جو اس دن دیکھی تھیں۔ میں فوراً ایک محراب کے ستون کی آڑ میں ہوگیا۔ روشنی نے اندر کا ماحول اجاگر کردیا تھا اور میں اس ماحول کو دیکھ سکتا تھا۔ ہنومان کا بت اسی طرح استادہ تھا۔ اس کے پیروں کے نزدیک ایک آٹھ نو سالہ بچہ رسی سے بندھا ہوا پڑا تھا۔ روشنی ہوتے ہی وہ سہم کر ساکت ہوگیا تھا۔ ہنومان کے بت سے کوئی پانچ قدم کے فاصلے پر کالے اور ڈھیلے ڈھالے لباس میں ملبوس ایک وجود سر نیہوڑاے بیٹھا ہوا تھا۔ کچھ فاصلے پر ایک مرد نظر آرہا تھا جس نے چہرے پر ڈھاٹا باندھا ہوا تھا۔ سیاہ لباس میں ملبوس وجود کا چہرہ بھی ڈھکا ہوا تھا۔ بے حد پراسرار اور خوفناک ماحول تھا۔ دم روک دینے والا سناٹا طاری تھا۔ بچے کی سہمی سفید آنکھیں گردش کررہی تھیں۔ وہ رونا بھول گیا تھا تب ایک آواز ابھری۔ ’’نندنا…!‘‘
’’جے دیوی…!‘‘ دوسری آواز ابھری۔ پہلی آواز نسوانی تھی اور میں نے اسے فوراً آشنا محسوس کیا تھا۔ دوسری بھاری مردانہ اور اجنبی آواز تھی۔
’’ہاتھ پائوں کھول دے اس کے!‘‘
’’ جے دیوی…!‘‘ مردانہ آواز نے کہا۔ روشنی میں ایک آبدار خنجر کی چمک ابھری اور ڈھاٹا باندھے ہوئے شخص آگے بڑھ کر بچے کے پاس پہنچ گیا۔ اس نے ایک لمحے میں بچے کے ہاتھوں اور پیروں میں بندھی رسیاں کاٹ دیں۔ بچہ تڑپ کر اٹھا تو مرد نے خوفناک آواز میں کہا۔
’’لیٹا رہ اپنی جگہ لیٹا۔ ہلا تو گردن کاٹ کر پھینک دوں گا۔‘‘ سہما ہوا بچہ جیسے بے جان ہوگیا تھا۔ وہ اپنی جگہ لڑھک گیا۔ سیاہ پوش عورت اٹھ کھڑی ہوئی۔ وہ لمبے قدو قامت کی مالک تھی۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر خنجر مرد کے ہاتھ سے لے لیا اور آہستہ آہستہ آگے بڑھ کر بچے اور ہنومان کے بت کے قریب پہنچ گئی۔ پھر اس کی بھیانک آواز ابھری۔
’’جے بجرنگا…! ساتویں بلی دے رہی ہوں، اسے سوئیکار کر بجرنگ بلی! میری بھینٹ سوئیکار کر، میری منوکامنا پوری کردے، تیرا وچن ہے آخری بلی کے بعد میری گود ہری کردے۔ مجھے بچہ دے دے بجرنگ بلی! مجھے بیٹا دے دے… بجرنگ بلی…!‘‘
صورتحال سمجھ میں آگئی۔ پتا چل گیا کہ اس کے بعد کیا ہونے والا ہے اور تو کچھ سمجھ میں نہیں آیا۔ جس قدر بھیانک آواز بنا سکتا تھا، بنا کر چیخا۔ ’’بھاگ بھری… وہ مندر میں گھسی ہے، نہیں پکڑنا۔ وہ رہی، وہ رہی۔‘‘ ایک چھوٹا سنگی مجسمہ رکھا تھا جو میری ٹکر سے زور سے اپنی جگہ سے گرا اور نیچے آکر چور چور ہوگیا۔ اس کے ٹکڑوں کے گر کر بکھرنے کا چھناکا مندر میں گونج اٹھا۔ مجھے خود یوں محسوس ہوا جیسے میرے ساتھ بے شمار لوگ چیخ رہے ہوں اور نتیجہ نکل آیا۔ عورت سے پہلے مرد، باہر بھاگا اور اس کے پیچھے عورت قلانچیں لگاتی ہوئی باہر نکل گئی۔ وہ مشعلیں جلی چھوڑ گئے تھے، اپنے عمل کو پختہ کرنے کیلئے میں نے اور زور زور سے چیخنا شروع کردیا، رات کے پرہول سناٹے میں میری چیخیں دور دور تک پھیل گئیں۔ بچے نے دہشت سے دوبارہ رونا شروع کردیا۔ میں جلدی سے اس کے پاس پہنچ گیا۔ میں نے اس کا ہاتھ پکڑا تو وہ چیخ پڑا۔
’’مت مارو، مجے مت مارو… مت مارو مجھے!‘‘
’’اٹھ بیٹے…! میں تجھے نہیں ماروں گا۔ اٹھ! میں تو تجھے بچانے آیا ہوں۔‘‘ کوئی بڑا ہوتا تو شاید زندہ ہی نہ رہ پاتا خوف کے مارے لیکن بچہ تھا، اٹھ کھڑا ہوا۔
’’اب باہر نہیں کھیلوں گا۔ مجھے مت مارو چاچا!‘‘
’’بالکل نہیں ماروں گا۔ آ میرے ساتھ چل…!‘‘ میں نے اس کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ کر دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے کہا۔ جانتا تھا کہ باہر خطرہ ہے کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ ہوسکتا ہے دونوں جھاڑیوں میں چھپے ہوں اور اکیلا پا کر حملہ کریں۔ مندر میں رکنے سے اور خطرہ تھا۔ آسانی سے گھیر لیا جائوں گا۔ کسی نے اگر خبر کردی اور مجھے اس بچے کے ساتھ دیکھ لیا گیا تو حالات بگڑ سکتے تھے۔ نکل جانا ہر طرح سے بہتر ہے۔ اللہ کا نام لے کر باہر نکل آیا۔ رات کے بیکراں سناٹے میں کوئی آواز نہیں تھی۔ اس وقت تک خاموش رہا جب تک جھاڑیوں کے کھیت سے باہر نہ نکل آیا پھر میں نے بچے سے پوچھا۔ ’’کیا نام ہے تیرا بیٹے…؟‘‘
’’للو…!‘‘
’’پتا کا نام کیا ہے؟‘‘
’’گنگو!‘‘
’’تیرا گھر کہاں ہے؟‘‘
’’پچھائی پلے!‘‘
’’راستہ جانتا ہے اپنے گھر کا؟‘‘
’’ہاں…!‘‘
’’یہاں تجھے کون لایا تھا؟‘‘ میں نے پوچھا۔ بچے نے کوئی جواب نہیں دیا تو میں نے دوبارہ وہی سوال کیا۔
’’معلوم نا ہے۔‘‘ اس نے جواب دیا۔
’’تو کھیل رہا تھا کہیں؟‘‘
’’سو رہا تھا۔‘‘
’’کہاں…؟‘‘
’’اپنے گھر میں۔ ماتا جی نے کہا تھا کہ ڈائن پھر رہی ہے باہر، کلیجہ نکال کر کھا جائے گی۔ باہر مت کھیلیو۔ ہم تو سو رہے تھے چاچا!‘‘
’’پھر تو یہاں کیسے آگیا؟‘‘
’’بھگوان کی سوگند ہمیں نامعلوم ہم تو سمجھے ماتا جی نےپائوں باندھ دیئے ہیں۔ اس نے یہی کہا تھا کہ کھیلنے باہر گئے تو وہ ہاتھ، پائوں باندھ کر ڈال دے گی۔‘‘
میں نے گہری سانس لی۔ سمجھ گیا تھا کہ بچے کو بے ہوش کرکے لایا گیا تھا اور یقیناً وہی کھیل ہونے والا تھا جو پہلے پانچ بچوں کے ساتھ ہوا پھر چھٹے بچے کے ساتھ اور اب یہ ساتواں بچہ! بستی میں داخل ہوکر بچے سے اس کے گھر کا پتہ پوچھا اور وہ بتانے لگا۔ گھر والوں کو ابھی تک اس کی گمشدگی کا علم نہیں ہوا تھا کیونکہ گھر خاموشی اور سناٹے میں ڈوبا ہوا تھا۔ دروازہ کھلا ہوا تھا۔ یہ یقیناً ان لوگوں نے کھولا ہوگا جنہوں نے بچے کو اغواء کیا تھا۔ میں نے للو سے کہا۔
’’تیرے گھر والوں کو ابھی کچھ نہیں معلوم، جا دروازہ اندر سے بند کرلینا۔ جا اندر جا…!‘‘ بچہ اندر چلا گیا اور میں فوراً وہاں سے واپس چل پڑا۔ میری آج کی بے کلی نے بہت اہم انکشاف کیا تھا۔ ایک بچے کی جان بچ گئی تھی۔ میں بہت خوش تھا۔ یہاں سرائے میں بھی وہی کیفیت تھی۔
کسی کو نہ میرے جانے کی خبر ہوئی تھی، نہ واپس آنے کی! اپنے کمرے میں آگیا پھر بستر پر لیٹ کر اس بارے میں سوچنے لگا۔ ڈائن کا معمہ حل ہوگیا تھا۔ بھاگ بھری بے قصور تھی۔ اس پر جھوٹا الزام لگ گیا تھا۔ بستی والے اس کے دشمن ہوگئے تھے۔ جو آواز میں نے سنی تھی، اسے پہچان لیا تھا۔ میری سماعت نے مجھے دھوکا نہیں دیا تھا۔ یہ سو فیصد کوہلی رام کی بیوی کی آواز تھی۔ دوسرا نام نندا کا تھا جو اس کا شریک کار تھا۔ اس کے الفاظ یاد آرہے تھے۔ ساتویں بلی دے رہی ہوں، میری گود ہری کردے۔ مجھے بچہ دے دے۔ مجھے بیٹا دے دے۔ ’’تو یہ قصہ ہے۔ وہی کالا جادو، وہی مکروہ علم! کمبخت عورت نے ایک اولاد کی خاطر چھ چراغ گل کردیئے تھے۔ اب سب کچھ علم ہوگیا تھا۔ میری رہنمائی کی گئی تھی۔ پہلے مجھے جمال گڑھی بھیجا گیا اور پھر ہنومان مندر اور اس عورت کی شکل دکھائی گئی اور اب…! سارے انکشافات ہوگئے تھے اور اب اس برائی کا خاتمہ کرنا تھا مگر اس کیلئے کوئی عمل درکار تھا۔
باقی رات سوچوں میں گزر گئی تھی۔
صبح کو اللہ دین کے ساتھ چائے پیتے ہوئے میں نے کہا۔ ’’تم نے ٹھاکر کوہلی رام کے بارے میں خوب کہانی سنائی تھی اللہ دین!‘‘
’’کونسی کہانی بھیا…؟‘‘
’’یہی کہ وہ کھرا ٹھاکر نہیں ہے۔‘‘
’’ہاں! وہ مگر کسی سے کہنا نہیں مسافر بھیا! دشمنی ہوجائے گی ٹھاکر سے۔‘‘
’’نہیں! مجھے کیا ضرورت ہے۔ ویسے کوئی بچہ نہیں ہے اس کا؟‘‘
’’نہیں! بچہ نہیں ہے۔‘‘
’’اسے آرزو تو ہوگی؟‘‘
’’ہاں ہوگی تو پوجا پاٹھ کراتا رہتا ہے۔ رشی منی آتے رہتے ہیں۔ ٹھکرائن گیتا نندی ٹونے ٹوٹکے کرتی رہتی ہیں۔‘‘
’’ہوں!‘‘ میں نے کہا اور خاموش ہوگیا۔ اس سے زیادہ کیا کہتا۔ اچانک میں نے کچھ یاد کرکے کہا۔ ’’یہ نندا کون ہے؟‘‘
’’نندا…!‘‘
’’کسی نندا کو جانتے ہو؟‘‘
’’نندا… ہاں تین نندا ہیں جمال گڑھی میں۔‘‘
’’کوہلی رام کے ہاں کوئی نندا ہے؟‘‘
’’جگت نندا…! ہاں نندا چمار نوکری کرتا ہے وہاں۔ کوئی کام ہے اس سے…؟‘‘
’’نہیں! بس ایسے ہی پوچھ لیا تھا۔ پتا نہیں بے چارے تلسی کا کیا حال ہے۔‘‘
’’بخار میں پڑا ہوا ہے۔ میں صبح منہ اندھیرے چائے، روٹی دے آیا تھا بیچارے کو۔‘‘
’’ارے اتنی صبح مجھے تو پتا ہی نہ چلا حالانکہ میں جاگ گیا تھا۔‘‘ اللہ دین مسکرانے لگا۔ پھر بولا۔ ’’کیا کریں مسافر بھیا! عورت چھوٹے دل کی ہووے ہے۔ بیوی کے ڈر کے مارے ایسے کام چھپ کر کرلیتے ہیں۔‘‘
’’اوہ اچھا! تم ڈرتے ہو اپنی بیوی سے؟‘‘
’’ارے کچھ تو ڈرنا ہی پڑے ہے۔‘‘ اللہ دین نے ہنستے ہوئے کہا۔ میں بھی ہنسنے لگا تھا۔
یہاں پڑے رہنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ ایسے ہی گھومنے نکل گیا۔ پھر کسی خیال کے تحت کوہلی رام کے گھر کا رخ کیا۔ سامنے سے گزر رہا تھا کہ کوہلی رام نے کہیں سے دیکھ لیا۔ ایک آدمی اندر سے دوڑا آیا تھا۔
’’ٹھاکر جی بلا رہے ہیں۔‘‘ میں اس کے ساتھ چل پڑا۔ کوہلی رام دروازے کے بعد بغلی سمت بنی ڈیوڑھی میں موجود تھا۔
’’آئو داروغہ جی! کہاں ڈولت گھومت ہو؟‘‘
’’بس آپ کی جاگیر میں گھوم رہے ہیں ٹھاکر!‘‘
’’بیٹھو… تم بھی ہمیں من موجی ہی لگو ہو کہاں کے رہنے والے ہو؟‘‘ میرے منہ سے بے اختیار اپنے شہر کا نام نکل گیا۔ طویل عرصے کے بعد یہ نام نہ جانے کیوں میری زبان پر آگیا تھا۔ کہہ تو دیا تھا مگر دل میں اینٹھن سی ہوئی تھی مگر ٹھاکر میرے ہر احساس سے بے نیاز تھا۔ کہنے لگا۔ ’’یہاں بستی میں کوئی جان پہچان ہے کیا؟ کیسے آنا ہوا؟‘‘
’’بس ٹھاکر صاحب! ایسے ہی سیر سپاٹے کیلئے نکل آیا تھا۔ ہوسکتا ہے جمال گڑھی سےآگے بڑھ جاتا مگر یہاں جو واقعات دیکھے، دلچسپ لگے سو یہاں رک گیا۔ میں نے کبھی کوئی ڈائن نہیں دیکھی تھی۔ بڑا عجیب سا لگا مجھے اور میں یہ دیکھنے کیلئے رک گیا کہ دیکھیں اس کا انجام کیا ہوتا ہے۔‘‘ ٹھاکر کے چہرے پر تشویش کے آثار پھیل گئے۔ اس نے کہا۔
’’بس داروغہ جی! کیا بتائیں۔ بستی پر آفت ہی آگئی ہے۔ ہماری تو کوئی اولاد ہی نہیں ہے۔ دل دکھتا ہے ان سب کیلئے جن کے بچے مارے گئے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ بھاگ بھری کو کیا ہوگیا۔ ارے انسان پاگل تو ہو ہی جاتا ہے۔ اس کے ساتھ تو بری بیتی تھی مگر اس کے بعد جو کچھ وہ کررہی ہے، وہ سمجھ میں نہیں آتا۔ ہم تو کہتے ہیں بھگوان اسے اپنی طرف سے موت دے دے۔ بستی والوں کے ہاتھ لگ گئی تو کچل کچل کر مار
دیں گے۔ بستی کی عورت ہے۔ اس کا پتی بھی برا آدمی نہیں تھا پر بیچاری کا گھر بگڑا تو ایسے کہ لوگوں کی آنکھوں میں آنسو نکل آتے ہیں، سوچ سوچ کر!‘‘
’’جی ٹھاکر صاحب! کیا کہا جاسکتا ہے۔ ویسے ٹھاکر صاحب! یہ بات تو آپ کو پتا ہی ہے کہ بھاگ بھری کو کسی نے یہ سارے کام کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ میں بھی بتاچکا ہوں کہ اس دن وہ پیٹھ کئے بیٹھی تھی میری طرف، پاگل ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ لاش دیکھ کر بیٹھ گئی ہو، دماغ میں کچھ نہ آیا ہو۔‘‘ ٹھاکر خاموشی سے سنتا رہا۔ پھر وہی ہوا جس کی مجھے اُمید تھی اور جس کا شاید انتظار بھی تھا۔ ٹھکرائن اندر داخل ہوگئی۔ مجھے دیکھ کر ٹھٹکی۔ دیکھتی رہی اور میں نے یہ محسوس کیا کہ اس کے چہرے پر سوچ کے آثار نمودار ہوگئے ہیں لیکن ٹھاکر صاحب کسی قدر حواس باختہ ہوگئے۔ جلدی سے بولے۔ ’’آئو …آئو ان سے ملو، بستی کے مہمان ہیں۔ یہاں آئے ہوئے ہیں سیر سپاٹے کیلئے اور داروغہ جی! یہ ہماری دھرم پتنی ہیں۔ بڑی مہان ہیں یہ…!‘‘ میں نے گردن خم کی۔ ٹھکرائن کے چہرے پر خشونت کے آثار بکھرے ہوئے تھے۔ مسکرانا تو جیسے جانتی ہی نہیں تھی۔ میں نے خود ہی کہا۔ ’’ابھی ابھی ٹھاکر جی سے باتیں ہورہی تھیں۔ آپ کا کوئی بچہ نہیں ہے۔‘‘ وہ پھر چونکی اور مجھے دیکھنے لگی۔ میری بات کا اس نے کوئی جواب نہیں دیا اور ٹھاکر سے بولی۔
’’آج لکشمی پوجا ہے۔ کچھ انتظام ونتظام بھی کیا تم نے…؟‘‘
’’ارے ہمیں کیا کرنا ہماری ٹھکرائن جیتی رہیں۔ بھلا گھر کے کام کاج میں ہم کبھی کوئی دخل دیتے ہیں۔‘‘
’’ہاں! بس بیٹھ کر باتیں بنانے لگتے ہو اس کے علاوہ اور کوئی کام کرنا آتا ہے تمہیں!‘‘ ٹھاکر عجیب سے انداز میں ہنسنے لگا۔ وہ پائوں پٹختی ہوئی واپس چلی گئی۔ میری طرف دیکھ کر بولا۔
’’دوش اس کا نہیں ہے۔ پہلے ایسی نہیں تھی مگر عورت جب تک ماں نہ بنے، اپنے آپ کو پورا نہیں سمجھتی۔ یہ بھی ادھوری ہے اور اپنے آپ کو ادھورا ہی سمجھتی ہے۔‘‘
’’ہاں !ہوسکتا ہے۔ میں اب چلوں۔‘‘
’’برا تو مان گئے ہوگے۔ یہ کہنا تو بیکار ہے کہ برا ہی نہ مانے ہوگے مگر معاف کردینا اسے! بس جو بھگوان کی مرضی۔ اچھا چلتے ہیں۔‘‘ ٹھاکر خود ہی اٹھ گیا۔ ٹھکرائن کے انداز سے یہ پتا چل گیا تھا کہ اس کے ذہن میں میرے لئے کوئی خاص بات ضرور گونجی ہے۔ میں خود بھی یہاں بے مقصد ہی آیا تھا لیکن اب دن کی روشنی میں ایک بار پھر اسے غور سے دیکھا تھا، اس کی آواز سنی تھی اور ہر طرح کا شبہ مٹ گیا تھا۔ ہنومان مندر میں اس کے علاوہ اور کوئی ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ میں وہاں سے باہر نکل آیا۔ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اب کیا کرنا چاہئے۔ گھومتا پھرتا کھیتوں کی سمت نکل آیا۔ باجرہ پک رہا تھا اور کھیتوں کے رکھوالے ’’ہاہو‘‘ کی آوازیں نکال رہے تھے۔ میں ایک جگہ سے گزر رہا تھا کہ کھیتوں کی مینڈھ کے پیچھے سے ایک لمبا چوڑا آدمی باہر نکل آیا اور اس طرح میرے سامنے کھڑا ہوگیا جیسے میرا راستہ روکنا چاہتا ہو۔ وہ کڑی نظروں سے مجھے گھور رہا تھا۔ میں دو قدم آگے بڑھ کر اس کے سامنے پہنچ گیا۔
’’کوئی بات ہے بھائی…؟‘‘ میں نے اس سے سوال کیا۔
’’تم اللہ دین کی سرائے میں ٹھہرے ہوئے ہو نا…؟‘‘ اس نے سوال کیا۔
’’ہاں…!‘‘
’’تلسی کا گھر تمہارے سامنے ہے؟‘‘
’’ہاں! اللہ دین نے یہ بتایا تھا۔‘‘
’’بھاگ بھری تو نہیں آئی وہاں…؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’نہیں، کیوں…؟‘‘
’’بس! اس لئے پوچھ رہا ہوں کہ تمہیں اس بات کا علم ہوگا ساری بستی بھاگ بھری کی تلاش میں لگی ہوئی ہے۔ وہ پاپی عورت ڈائن بن گئی ہے۔ میں بھی اس کی تلاش کرتا پھر رہا ہوں، سبھی کے بال بچے ہیں مسافر! تمہارا بستی میں رہنا اچھا نہیں ہے۔ کہیں کوئی نقصان نہ پہنچ جائے تمہیں!‘‘ میں ہنسنے لگا۔ میں نے کہا۔ ’’کیا بھاگ بھری میرا بھی کلیجہ نکال کر کھا جائے گی؟‘‘
’’نہیں اور کوئی بات ہوسکتی ہے۔ پچھلی رات تم ہنومان مندر کی طرف کیوں گئے تھے؟‘‘ ایک لمحے کیلئے میرے ذہن میں سنسناہٹ پیدا ہوگئی۔ میں نے اسے غور سے دیکھا اور بولا۔ ’’میں اور ہنومان مندر میں…! نہیں بھائی، میں مسلمان ہوں۔ تمہیں اسی سے اندازہ ہوگیا کہ میں اللہ دین کی سرائے میں ٹھہرا ہوں۔ میرا بھلا ہنومان مندر میں کیا کام اور یہ ہنومان مندر ہے کہاں…؟‘‘
’’ادھر سیدھے ہاتھ پر کھیتوں کے بیچ بیچ چلے جائو، کافی دور جاکر ہنومان مندر نظر آتا ہے۔ پرانا مندر ہے۔ بھوت پریت کا بسیرا ہے۔ کوئی نہیں جاتا اس طرف مگر میں نے تو رات کو تمہیں ادھر دیکھا تھا۔‘‘
’’بھول ہوئی ہوگی تم سے! میں تو آج تک اس طرف نہیں گیا لیکن کبھی دیکھوں گا ضرور جاکر یہ ہنومان مندر ہے کیسی جگہ!‘‘
’’بھول کر بھی نہ جانا۔ بھوت بہت سے لوگوں کو مار چکے ہیں۔‘‘
’’تمہارا شکریہ مگر تمہیں میرا مطلب ہے یہ خیال کیسے آیا کہ میں تمہیں بھاگ بھری کے بارے میں بتائوں گا؟‘‘
’’بس! ایسے ہی مجھے شبہ ہوا تھا کہ رات کو میں نے تمہیں ہنومان مندر کی طرف جاتے ہوئے دیکھا ہے۔‘‘ وہ چلا گیا۔ میرے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ گویاان لوگوں کو مجھ پر شبہ ہوگیا ہے البتہ اب مجھے پورا پورا یقین ہوگیا تھا کہ ان وارداتوں کے پیچھے ٹھکرائن ہی ہے۔ سرائے پہنچا تو اللہ دین کہنے لگا۔
’’گنگو اور جنک رام دو دفعہ آچکے ہیں تمہیں پوچھتے ہوئے، نہ جانے کیا بات ہے۔ کہہ گئے ہیں کہ جیسے ہی تم آئو، میں تمہیں گنگو کے گھر لے آئوں۔ مجھے یاد آگیا کہ بچے نے اپنے باپ کا نام گنگو ہی بتایا تھا۔ میں نے ایک لمحے میں فیصلہ کرلیا کہ اب مجھے یہ بات کھول دینی چاہئے۔ اس کے علاوہ چارہ نہیں تھا۔ گنگو اور جنک رام نے ہمارا پرتپاک خیرمقدم کیا تھا۔ گنگو نے سیدھے سیدھے بچے کو میرے سامنے لاکھڑا کیا اور بچے نے گردن ہلاتے ہوئے کہا۔
’’یہی تھے باپو!‘‘
’’تم نے میرے بچے کو بچایا ہے مسافر بھیا! یہ احسان تو مر کر بھی نہ بھولیں گے ہم مگر تمہیں یہ تو پتا چل گیا ہوگا کہ بھید کیا ہے؟‘‘ گنگو نے کہا۔ اللہ دین حیرت سے سب کچھ دیکھ رہا تھا۔ بولا۔ ’’ارے ہمیں تو کچھ نہیں پتا، کچھ ہمیں بھی تو بتائو۔‘‘ جواب میں گنگو نے اسے پوری تفصیل بتائی اور بولا۔ ’’یہ کام تو دیوتا ہی کریں ہیں۔ مسافر بھیا ہمارے لئے تو دیوتا ہی ہیں۔ نہیں تو ہم بھی گئے تھے کام سے…! چھورا نے انہیں پہلے بھی دیکھا تھا، پہچان لیا۔ اس نے ہمیں ساری کتھا سنائی۔ انہوں نے تو دیوتائوں ہی جیسا کام کرا تھا خاموشی سے، احسان تک نہ جتایا ہم پر!‘‘
’’دوستو…! تم نے مجھ پر اعتماد کر ہی لیا ہے تو مجھے زبان کھولنی پڑ رہی ہے۔ بے چاری پاگل بھاگ بھری کو بلاوجہ ہی ڈائن سمجھ لیا گیا ہے۔ اصل ڈائن کوہلی رام کی بیوی گیتا نندی ہے۔
مجھے اس کے ڈائن بننے کی وجہ بھی معلوم ہوگئی ہے۔ پچھلی رات میں بے چین ہورہا تھا اس لئے ٹہلتا ہوا ہنومان مندر جا نکلا اور وہاں میں نے یہ کھیل دیکھا۔ قصہ یہ ہے کہ گیتا نندی کے ہاں اولاد نہیں ہوتی جس کیلئے وہ جادو، ٹونوں کا سہارا لے رہی ہے۔ اپنی آرزو پوری کرنے کیلئے اس نے چھ بچوں کی قربانی دے دی ہے اور ساتویں قربانی آخری ہوگی۔ میں اکیلا تھا ورنہ اسے اس جگہ پکڑ لیتا اس لئے میں نے بچے کی جان بچانے کیلئے شور مچا دیا اور وہ بھاگ گئی پھر میرے لئے یہ ثابت کرنا بھی مشکل ہوجاتا البتہ تم لوگ ایک بات ضرور دماغ میں رکھو، وہ ساتویں قربانی کیلئے دوبارہ کوشش کرے گی۔‘‘ میرے انکشاف سے سنسنی پھیل گئی تھی۔ وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے مجھے دیکھ رہے تھے پھر جنک رام نے کہا۔
’’مسافر بھیا ٹھیک کہتے ہیں۔ بات سمجھ میں آگئی، بالکل سمجھ میں آگئی۔ ٹھکرائن بڑی ٹوٹکن ہے، یہ تو ہمیں پہلے ہی معلوم تھا مگر وہ ڈائن ایسا کرے گی، یہ نہیں سوچا تھا۔ ارے ہوگی ٹھکرائن اپنے گھر کی، ہم اس کا دیا کھاویں ہیں کیا؟ چلو گنگو! جمع کرو سب کو، لٹھیاں لے کر چلو، مارمار بھیجا نکال دیں گے اس کا، دیکھا جائے گا جو ہوگا۔ کوئی دبیل میں نہیں ہیں ہم۔ اٹھو ساروں کو بتا دیں جن کے کلیجے چھن گئے ہیں۔ دیکھ لیں گے سب کو…!‘‘
’’اگر تم میری بات سن لو تو اچھا ہے۔‘‘ میں نے کہا۔
’’بولو مسافر بھیا…!‘‘
’’دیکھو یہ بات میں نے تمہیں بتائی ہے۔ ٹھاکر کہہ دے گا مسافر جھوٹ بول رہا ہے، پھر کیا کرو گے؟‘‘
’’ارے ہمارا چھورا بتا دے گا۔ ہم اسے لے چلیں گے۔‘‘ گنگو نے کہا۔
’’میری کچھ اور رائے ہے۔ تم اسے ہنومان مندر میں پکڑو اس وقت جب وہ یہ عمل کررہی ہو۔ نندا چمار اس کیلئے بچوں کو اٹھاتا ہے۔ تمہیں کسی ایسے بچے کو چھوڑنا پڑے گا جسے نندا اٹھا لے۔ ہم سب ہوشیار ہوں گے، نندا پر نظر رکھیں گے۔ جیسے ہی نندا اس بچے کو اٹھائے گا، ہم اس کا پیچھا کریں گے اور عین اس وقت دونوں کو پکڑیں گے جب وہ اپنا کام کررہے ہوں گے۔‘‘
’’اور اگر چوک ہوگئی تو…؟‘‘ جنک رام بولا۔
’’چوک ہوگی کیسے؟ بڑا اچھا مشورہ دیا ہے یہ پھر کوئی کیا بولے گا۔‘‘ اللہ دین نے کہا۔
’’سو تو ٹھیک ہے مگر بچہ کونسا ہوگا؟‘‘
’’میرا بچہ ہوگا، میرا کلو ہوگا۔‘‘ اللہ دین سینہ ٹھونک کر بولا اور میں چونک کر اسے دیکھنے لگا۔ اللہ دین نے کہا۔ ’’ارے ہم مسلمان ہیں، اللہ پر بھروسہ ہے۔ ہمیں جو کچھ ہوتا ہے، مولا کی مرضی سے ہوتا ہے۔ پیچھا تو چھوٹے اس ڈائن سے! ساری بستی مصیبت میں پھنسی ہے۔ میں تیار ہوں مسافر بھیا!‘‘
’’ہم سب جان لڑا دیں گے کلو کیلئے فکر مت کر اللہ دین بھیا!‘‘ جنک رام نے کہا۔ اس آمادگی کے بعد اس منصوبے کی نوک پلک سنواری جانے لگی۔ بالآخر تمام باتیں طے ہوگئیں۔ اس سنسنی خیز عمل کا آغاز آج ہی رات ہونے والا تھا۔
گنگو اور جنک رام کے انداز سے یوں لگتا تھا جیسے وہ سارے کام آج ہی نمٹا لینا چاہتے ہوں لیکن مجھے یقین نہیں تھا کہ گیتا نندی آج ہی دوبارہ یہ کوشش کرے گی۔ اگر ہمارے اندازے بالکل درست تھے اور وہی ان وارداتوں کے پس پشت تھی تو اس نے اس عمل میں جلدبازی نہیں کی تھی۔ ہنومان دیوتا کے چرنوں میں اس نے چھ بچوں کی بلی دی تھی۔ ان لوگوں سے گفتگو کے دوران میں ان وارداتوں کے درمیانی وقفے معلوم کر چکا تھا۔ ان میں دنوں کی کوئی ترتیب نہیں تھی۔ اسے جب بھی موقع ملا تھا اس نے یہ کام سرانجام دے ڈالا تھا لیکن اب شاید پہلی بار اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس کے علاوہ وہ چالاک تھی۔ نہ جانے اسے مجھ پر شبہ کیسے ہوا تھا یا پھر ہو سکتا ہے کہ اس شخص نے اندھیرے میں تیر پھینکا ہو۔ وہ نندا ہی تھا۔ خود جتنا ٗچالاک تھا، اس کا اندازہ اس کی بات سے ہو گیا تھا۔ اس نے کہا تھا کہ اس نے مجھے ہنومان مندر کے پاس دیکھا تھا۔ اس سے پوچھا جا سکتا تھا کہ وہ خود وہاں کیا کر رہا تھا۔ اب یہ تو مجھے ہی معلوم تھا کہ وہ وہاں کیا کر رہا تھا۔ گنگو کے گھر سے واپسی پر اللہ دین نے کہا۔
’’واہ مسافر بھیا۔ اتنا بڑا کام کر لیا اور ہمیں خبر بھی نہ دی۔‘‘
’’کوئی اتنا بڑا کام بھی نہیں تھا اللہ دین۔‘‘
’’بے چارے گنگو کے بیٹے کو ڈائن کے منہ سے نکال لیا اور کہتے ہو بڑا کام ہی نہیں کیا۔‘‘
’’اللہ کو اس کی زندگی بچانی تھی، وہ بچ گئی۔ میں کیا اور میری اوقات کیا۔‘‘
’’مگر اتی رات گئے تم ادھر نکل کیسے گئے تھے۔‘‘
’’بس دل بے چین ہو رہا تھا۔ سوچا ذرا گھوم آئوں۔‘‘
’’اتی دور، ہنومان مندر کوئی یہاں دھرا ہے۔ بھیا بڑے دل گردے کا کام ہے۔ ہمت والے ہو اور پھر ہمیں تو کچھ اور ہی لگے ہے۔‘‘
’’پیر فقیر لگو ہو ہمیں تو۔ راتوں کو نماز پڑھتے دیکھا ہے تمہیں۔‘‘ اللہ دین سادگی سے بولا۔
’’توبہ کرو اللہ دین، توبہ کرو۔ میں ان کے قدموں کی خاک بھی نہیں ہوں!‘‘
’’ارے تم نے ہم سے نندا کا نام پوچھا تھا؟‘‘
’’ہاں، ہنومان مندر کا واقعہ تمہیں معلوم ہو چکا ہے۔ میں نے بلاوجہ ان دونوں کا نام نہیں لے دیا ہے۔‘‘ میں نے کہا اور اللہ دین سوچ میں ڈوب گیا۔ پھر بولا۔ ’’سو تو ہے۔ ایک کام تم نے گنگو کے بیٹے کو بچا کر کرا، دوسرا بڑا کام اور کر رہے ہو بھیا۔ بہت بڑا۔‘‘
’’وہ کیا؟‘‘
’’ارے تم نے بھاگ بھری کا جیون بچا لیا، تلسی بے چارے کو بچا لیا۔‘‘
’’یہ لوگ بھی عجیب ہیں۔ اپنی عقل سے کچھ نہیں سوچتے۔ بھاگ بھری اور تلسی کی جان کے دشمن ہو رہے تھے۔ ایک لمحے میں پلٹ گئے۔ اگر میں نہ روکتا تو شاید سوچے سمجھے بغیر لاٹھیاں لے کر چڑھ دوڑتے مکھیا کے گھر پر۔‘‘
’’برے نہیں ہیں مسافر بھیا۔ دن رات پریشان ہو رہے ہیں۔ بچوں کو چھپائے چھپائے پھر رہے ہیں۔ کیا کریں آخر اولاد سے بڑھ کر کون ہووے ہے۔ اس کے لئے پاگل ہو رہے ہیں۔‘‘
’’مجھے ایک خطرہ ہے۔‘‘
’’کیا؟‘‘
’’وقت سے پہلے زبان نہ کھول دیں۔ وہ ہوشیار نہ ہو جائے ورنہ پھر اسے پکڑنا مشکل ہو گا۔‘‘
’’سمجھا تو دیا ہے۔ اتنے بائولے نہیں ہیں۔ ساری بات سمجھا دی ہے انہیں۔‘‘
’’اس کے علاوہ اللہ دین، زبیدہ بہن تو کلو کو سینے میں چھپائے چھپائے پھرتی ہیں، تم اسے اس خطرے میں ڈال دو گے؟‘‘
’’اللہ پر بھروسہ کریں گے بھیا۔ کون تیار ہوتا۔ بستی کے بچے مر رہے ہیں، سب ہی اپنے ہیں، وہ بھی جو مارے گئے اپنے ہی تھے۔‘‘
’’زبیدہ بہن تیار ہو جائیں گی؟‘‘
’’وہ عورت ہے، ماں ہے۔ اس سے چار سو بیسی کرنی ہو گی کوئی۔ ہم یہی سوچ رہے تھے۔‘‘ اللہ دین کے جذبے کو میں نے سراہا تھا۔ خود بھی مستعد رہنے کا وعدہ کیا تھا۔ اس کے علاوہ اور کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا، معاملہ ہی ایسا تھا۔ سرشام اللہ دین کلو کو لے کر باہر نکل آیا۔ نہ جانے اس نے بیوی سے کیا کہا تھا۔ باہر نکلتے ہوئے اس نے مجھے آنکھ سے اشارہ کر دیا تھا، میں بھی احتیاط سے باہر نکل آیا اور سیدھے راستے پر چل پڑا۔ کافی فاصلے پر اللہ دین مجھے مل گیا، مسکرانے لگا۔
’’کیا کہا زبیدہ بہن سے؟‘‘ میں نے سوال کیا۔
’’ارے بھیا دیہاتی عورتیں دیہاتی ہی ہووے ہیں، بس میاں نے جو کچھ کہا، مان لیا، ہم نے بھی بڑی چار سو بیسی کری۔ کلو کو چلتے ہوئے دیکھا تو ہم نے آنکھیں پھاڑ دیں اور ایسا منہ بنا لیا جیسے ہماری جان نکل گئی ہو۔ وہ سامنے ہی موجود تھی، ہم سے پوچھنے لگی کیا ہوا، تو ہم نے اسے کان میں بتایا کہ کلو کے پیر لڑکھڑا رہے ہیں اور لگتا ہے لقوہ مار جائے گا، بھیا ڈر گئی۔ آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ ہم نے اس سے کہا کہ کوئی ایسی بات نہیں ہے، بچے اگر کھیلیں کودیں نہیں تو ایسا ہی ہو جاتا ہے۔ ایک ڈاکٹر صاحب آئے تھے ایک دفعہ ہماری بستی میں، پتہ نہیں کیا کہہ رہے تھے، وہ پولو پولو کا مرض، کوئی مرض ہووے ہے پولو کا…؟‘‘
’’پولیو کا…‘‘
’’ہاں ہاں بالکل وہی وہی… تو ڈاکٹر صاحب کہہ رہے تھے کہ بچوں کو یہ کرنا چاہئے، وہ کرنا چاہئے، ہم نے اسے وہی یاد دلا دیا، ڈر گئی۔ کہنے لگی کہ اب کیا کریں۔ باہر کھیلنے دینے کا مطلب یہ ہے کہ زندگی کو خطرہ ہو جائے۔ ہم نے کہا ہم کیا مر گئے ہیں، ہم خود ساتھ لے جائیں گے، کھیلنے کودنے کے لئے چھوڑ دیں گے… رو رو کر کہنے لگی۔ ذرا خیال رکھیو… ہم نے کہا بائولی وہ تیرا ہی بیٹا ہے کیا۔ ہمارا کچھ نہیں لگتا۔ یوں بہلا پھسلا کر نکال لائے۔‘‘ میں ہنسنے لگا۔ میں نے کہا۔
’’ویسے تم بہت ہمدرد انسان ہو اللہ دین، بہت بڑا خطرہ مول لے رہے ہو۔‘‘
’’بھیا سچی بات بتائیں تمہیں بستی کے رہنے والے ہندو ہوں یا مسلمان سارے کے سارے ایک دوسرے کا دکھ اپنا ہی دکھ سمجھے ہیں۔ ہم بھی کوئی ان سے الگ تھوڑی ہیں، ارے ستیاناس ہو اس ٹھکرائن کا، اپنے ہاں اولاد نہیں ہوئی، ایک بیٹا ہو گیا فرض کرو ٹونوں ٹوٹکوں سے تو سات مائوں کی گودیں اجاڑے گی وہ، ارے وہ انسان ہے۔ جی تو ہمارا بھی یہی چاہوے ہے بھیا کہ کچا چبا جاویں اس سسری کو دانتوں سے، نرکھنی کہیں کی، ایسی نہ ہوتی تو ماتا پتا گھر سے باہر نکال کر یوں جمال گڑھی میں کیوں پھنکوا دیتے، پتہ نہیں کہاں سے آ گئی ڈائن ہماری بستی میں، ہمارا تو جی چاہے ہے کہ ٹھاکر کو ساری باتیں بتا دیں اور اس سے کہیں اب بول، کیا کہہ وے ہے، مگر وہی تمہاری بات سچی ہے کہ وہ مکر جائے گی۔
بالکل ٹھیک کہا ہے تم نے سب کی سمجھ میں بات آ گئی۔ رنگے ہاتھوں پکڑیں تو پھر دیکھیں کہ کیسے مکرتی ہے ارے بھیجہ باہر نکال دیں گے اس کا، وہیں توڑ مروڑ کر پھینک دیں گے حرام خور کو۔‘‘ اللہ دین چلتا جا رہا تھا۔ میں نے اس سے کہا۔ ’’باقی لوگوں سے ملاقات تو نہیں ہوئی ہوگی؟‘‘
’’سب کے سب لگے ہوں گے بھیا۔ معلوم ہے ہمیں، پوری بستی کی مصیبت ہے، کسی ایک آدمی کی تو نہیں ہے اور اللہ دین کا کہنا سچ ہی نکلا تھا۔ جنک رام اور گنگو ساتھ ہی تھے۔ دو آدمی اور بھی ان کے ساتھ تھے۔ جنک رام نے ادھر ادھر دیکھا اور پھر قریب سے گزرتے ہوئے کہا۔
’’اللہ دین بھیا تمہاری یہ بات بستی والوں کو جیون بھر یاد رہے گی، لے آئے کلو کو…؟‘‘
’’ہاں بھیا، کوئی ایسی بات نہیں ہے، جو چھ بچھڑ گئے ہیں ہم سے، ہماری کیا مجال تھی کہ انہیں بچا لیتے، اللہ کی مرضی تھی مگر اب کسی اور کو نہ بچھڑنے دیں گے، اللہ کرے ہمارا کلو خیریت سے رہے مگر کام تو کرنا ہی تھا نا کسی کو، ہاں بس تم ایک بات بتا دو؟‘‘
’’پوچھو اللہ دین بھیا۔‘‘ گنگو بولا۔
’’سمجھا بجھا دیا ہے سب کو، ارے کہیں کوئی زبان نہ کھول دے، ٹھکرائن ہوشیار ہو جائے گی اور اس کے بعد الٹی گلے پڑ جائے گی، کون مانے گا؟‘‘
’’اس کی تو تم چنتا ہی مت کرو بھیا۔ دیکھو اصل بات بس ان لوگوں تک پہنچائی ہے جن کے سینوں میں آگ لگی ہوئی ہے۔ مطلب سمجھ گئے ہو گے اور ان سے کہہ دیا ہے کہ جب پہرے پر نکلیں تو سب سے یہی کہیں کہ بھاگ بھری کی تلاش ہو رہی ہے اور کوئی بات نہیں ہے۔ سب کو اچھی طرح بتا دیا ہے اور یہ بھی سمجھا دیا ہے انہیں کہ کہیں سے بے چاری بھاگ بھری مل جائے تو اسے کوئی نقصان نہ پہنچائیں۔ ارے ویسے ہی بڑے پاپ ہو چکے ہیں ہم سے، ایک بے زبان کو ستایا ہے ہم نے۔ بائولی تو تھی ہی بے چاری کیا کرتی، بول بھی تو نہیں سکتی اپنے بارے میں۔ ہرے رام ہرے رام۔ ویسے اب کدھر کا ارادہ ہے؟‘‘
’’میرا خیال ہے نجو کی بگیا ٹھیک رہے گی۔ ہنومان مندر کا راستہ بھی ادھر ہی سے پڑتا ہے۔‘‘ پھر اللہ دین نے آنکھ دبائی، کلو کو کچھ نہیں بتانا چاہتا تھا۔ پھر اس نے سرگوشی میں کہا۔ ’’اور نندا کا کیا کیا ہے تم لوگوں نے؟‘‘
’’اس کی تم بالکل چنتا نہ کرو۔ لچھمن اور شنکر اس پر نظر رکھ رہے ہیں۔ لچھمن کے بارے میں تو تمہیں پتہ ہے کہ نندا کا یار ہے مگر اس مسئلے میں اس نے ساری یاری ختم کر دی۔ لچھمن، شنکر کو اشارے دے گا۔ ظاہر ہے نندا جب اس طرف آئے گا تو لچھمن کو پتہ چل جائے گا۔ سارے کام پکے ہیں بھیا جو کچھ تم کر رہے ہو۔ ظاہر ہے ہم اس میں کسر تھوڑی چھوڑیں گے۔‘‘
بہرحال یہ لوگ اپنی اپنی جگہ مستعد تھے، میں اور اللہ دین آگے بڑھ گئے۔ جنک رام وغیرہ دوسری سمت مڑ گئے تھے۔ جس جگہ کو نجو کی بگیا کہا گیا تھا، وہ ایک چھوٹا سا باغ تھا، آموں کے درخت لگے ہوئے تھے۔ کلو تو آموں کے درختوں کو دیکھ کر ہی مچلنے لگا۔
’’ابا کیری کھالوں…؟‘‘
’’ارے ہاں ہاں جا مزے کر۔ گھوم پھر، کوئی بات نہیں ہے۔‘‘ بچہ تھا۔ خوشی خوشی آگے بڑھ گیا اور اس کے آگے بڑھتے ہی اللہ دین کے چہرے پر تشویش کے آثار نظر آنے لگے۔ اس نے کپکپاتی آواز میں کہا۔ ’’بھیا ذرا نظر رکھیو… اللہ کے حوالے کر دیا ہے پر کیا کریں باپ کا دل ہے، ڈرتا تو ہے ہی۔‘‘
’’جگہیں بدل لو اللہ دین۔ تم ایک طرف ہو جائو۔ میں ایک طرف ہوا جاتا ہوں۔‘‘ میں نے کہا۔ درحقیقت ہم لوگوں نے بڑی مہارت سے کلو کو نظر میں رکھا تھا۔
چھٹپٹے تاریکی میں بدل گئے۔ کلو مزے سے کیریاں توڑ توڑ کر کھا رہا تھا۔ بہت دن کے بعد باہر نکلنے کا موقع ملا تھا، کھیلنے سے جی ہی نہیں بھرتا تھا۔ پھر جب اچھی خاصی رات ہو گئی اور کوئی واقعہ نہیں ہوا تو اللہ دین نے سیٹی بجائی۔ میں جواب میں اس کے قریب پہنچ گیا۔ اللہ دین بولا۔ ’’کیا خیال ہے بھیا اور انتظار کریں…؟‘‘
’’میرا خیال ہے اب بیکار ہے مگر اب یہ کام سرشام ہی شروع ہو جانا چاہئے۔ رات کو تو خاص طور سے شبہ ہو سکتا ہے کہ آخر اتنی دیر تک ان حالات میں کلو باہر کیسے موجود ہے۔‘‘
’’ٹھیک کہتے ہو مسافر بھیا۔ تمہارا دماغ بہت تیز ہے۔‘‘ غرض یہ کہ ہم واپس چل پڑے۔ سرائے میں ایک ایک کر کے کئی آدمی آئے۔ مشورے ہوئے اور یہ سلسلہ جاری رکھنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ پھر دوسرے دن شام کے چار بجے ہی کلو کو باہر لے آیا گیا۔ شام تک انتظار کیا گیا۔ آج مزید احتیاط برتی گئی تھی۔ میرے دل میں مایوسی پیدا ہوتی جارہی تھی، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ ہوشیار ہو گئی ہو اور اب اپنا عمل بدل دے۔ ویسے جنک رام، گنگو اور دوسرے چند لوگوں کی زبانی مجھے یہ بھی معلوم ہوا تھا کہ کچھ لوگوں نے مستقل ہنومان مندر کے گرد ڈیرے ڈال رکھے ہیں اور ایسی جگہوں پر پوشیدہ ہو گئے ہیں جہاں سے آنے جانے والے پر نظر رکھیں اور ان کے بارے میں کسی کو پتہ نہ لگے۔ یہ اطلاع بھی تسلی بخش تھی اور تیسرے دن وہ ہو گیا جس کے لئے پچھلے دو دنوں سے تگ و دو کی جا رہی تھی۔
اس وقت کلو کیریاں توڑ توڑ کر کھا رہا تھا۔ یہ جگہ اسے بہت پسند تھی۔ آتے ہوئے اس نے کئی دوسرے بچوں کو بھی دعوت دی تھی مگر بچے اسے حیران نگاہوں سے دیکھتے ہوئے اپنے گھروں میں جا گھسے تھے۔ کسی نے کلو کا ساتھ دینے کا ارادہ ظاہر نہیں کیا تھا چنانچہ وہ خود ہی یہاں آ گیا تھا۔ میں اور اللہ دین ایک درخت پر چڑھے ہوئے تھے۔ کلو کو پتہ نہیں تھا کہ ہم درخت پر ہیں۔ وہ اس درخت سے صرف دو تین گز کے فاصلے پر کیریاں اکھٹی کر رہا تھا کہ دفعتاً ہی اللہ دین نے میرے کان میں سرگوشی کی۔
’’مسافر بھیا۔‘‘ اللہ دین کی آواز کانپ رہی تھی۔ میں نے اس طرف دیکھا جدھر اس نے اشارہ کیا تھا۔ ایک نظر میں پہچان لیا، نندا ہی تھا، وہ اسی سمت آ رہا تھا۔ کمبل اوڑھے ہوئے تھا لیکن صرف کاندھوں تک حالانکہ موسم کمبل کا نہیں تھا۔ میرے چہرے پر خون سمٹ آیا۔ نندا آہستہ آہستہ چلتا ہوا کلو کے پاس پہنچ گیا۔ ادھر ادھر نظریں دوڑائی تھیں اور کلو کے پاس جا کھڑا ہوا۔
’’ارے تو اللہ دین کا چھورا ہے نا؟‘‘
’’ہاں نندا چاچا مجھے نہیں پہچانتے؟‘‘
’’کیوں نہیں… مگر یہاں اکیلا کیا کر رہا ہے…؟‘‘
’’کیریاں چن رہا ہوں۔‘‘
’’اچھا اچھا… تجھے اکیلا چھوڑ دیا اللہ دین نے… تجھے پتہ ہے کہ بستی میں ڈائن پھرتی ہے۔‘‘
’’ڈائن کیا ہوتی ہے نندا چاچا؟‘‘
’’کتنی کیریاں جمع کر لیں تو نے…؟‘‘
’’بس یہ ہیں۔‘‘
’’اور جمع کرے گا؟‘‘
’’بس تھوڑی سی اور جمع کروں گا پھر تو رات ہونے ہی والی ہے۔‘‘
’’ہاں یہ تو ہے۔ چل ٹھیک ہے اور جمع کر لے۔ وہ دیکھ وہ درخت کے نیچے پڑی ہوئی ہیں۔‘‘
’’کدھر؟‘‘ کلو نے معصومیت سے پوچھا اور اس سمت دیکھنے لگا اور اسی وقت نندا نے شانوں پر پڑا کمبل کلو پر ڈال دیا اور اسے بھینچ لیا۔ اللہ دین کے حلق سے آواز نکلنے ہی والی تھی کہ میں نے اس کا منہ بھینچ لیا۔ اللہ دین کا بدن ٹھنڈا پڑ گیا تھا۔ نندا، کلو کو دبوچے ہوئے تھا اور کلو کمبل میں ہاتھ پائوں مار رہا تھا۔ اللہ دین نے سرگوشی میں کہا۔ ’’بب بھیا۔ کک کہیں دم ہی نہ نکل جائے میرے بچے کا۔‘‘
’’نہیں۔ وہ لوگ بچوں کو زندہ رکھتے ہیں۔‘‘ اللہ دین کی آواز بری طرح کپکپا رہی تھی۔ میں نے اس کے بدن میں تھرتھری محسوس کی اور میرا دل دکھنے لگا۔ بہرحال ساری باتوں کو بھول کر میں بھی مستعد ہو گیا تھا۔ نندا، کلو کو کندھے پر ڈال کر تیزی سے ہنومان مندر کے راستے کی جانب چل پڑا۔ میں اور اللہ دین نیچے اترے ہی تھے کہ لچھمن اور شنکر پہنچ گئے۔ انہوں نے آہستہ سے کہا۔
’’ساری خبر تھی ہمیں، کام ہو گیا نا مگر چنتا نہ کرنا اللہ دین بھیا، بیس آدمی ہیں مندر کے آس پاس۔ سارے کے سارے لمبے لمبے چکر کاٹ کر وہاں پہنچ چکے ہیں۔ ایک ایک جگہ پر نظر رکھی جا رہی ہے، اور تو اور دو تین تو مندر کے اندر موجود ہیں اور ستونوں کے بیچ چھپے ہوئے ہیں۔ جیسے ہی نندا اس طرف چلا، لچھمن نے مجھے خبر کر دی اور اس کا پیچھا کرنے لگا۔ میں نے ان سارے آدمیوں کو جو تاک میں لگے ہوئے ہیں، تو پروا مت کریو اللہ دین بھیا۔ بال بیکا نہیں ہو گا ہمارے کلو کا۔ پہلے ہماری جان جائے گی۔‘‘
’’ارے بھیا خدا کرے۔ ڈائن سے ہمارا پیچھا چھوٹ جائے۔ چلیں؟‘‘
’’ایک ایک کر کے ادھر ادھر گھوم کر۔ نندا بڑا چالاک ہے اور سنو بات ابھی یہیں ختم تھوڑی ہوئی ہے۔ چلو چلو ہم بھی چل رہے ہیں۔‘‘ جنک رام نے ساتھ چلتے ہوئے کہا۔ ہم لوگ بڑی احتیاط سے نندا کو نگاہوں میں رکھے ہوئے چل رہے تھے، وہ محتاط قدم اٹھاتا ہوا مندر کی طرف جا رہا تھا۔ جنک رام نے کہا۔
’’مکھیا جی کی حویلی پر بھی پہرہ لگا ہوا ہے اور سارے لوگ نگرانی کر رہے ہیں۔ جیسے ہی گیتا نندی باہر نکلے گی اس کی بھی خبر ہمیں مل جائے گی۔‘‘ ہم اس طرح باتیں کرتے ہوئے آگے بڑھتے رہے۔ جھٹپٹے تیزی سے رات میں تبدیل ہو گئے۔ نندا مندر میں داخل ہو گیا تھا۔ ہمارے دل دھک دھک کر رہے تھے۔ اللہ دین بے چارہ تو ابھی تک تھر تھر کانپ رہا تھا۔ اس کا چہرہ پیلا پڑ گیا تھا۔ یوں لگ رہا تھا جیسے اس کے بدن کا سارا خون نچوڑ لیا گیا ہو۔ آواز بھی اتنی مدھم ہو گئی تھی اس کی کہ مجھے حیرت تھی۔ غرض یہ کہ نندا تو مندر میں داخل ہو گیا۔ میں اور اللہ دین مندر کے بالکل قریب دیواروں کے ساتھ آگے بڑھ گئے۔ دفعتاً اللہ دین نے ایک سمت اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
’’ادھر ادھر… دیکھو۔‘‘ میں نے اللہ دین کا اشارہ سمجھ لیا۔ مندر کا اس سمت کا حصہ ٹوٹا ہوا تھا۔ اینٹیں ایک دوسرے پر ڈھیر کی شکل میں پڑی ہوئی تھیں اور ایک بڑا سا سوراخ تھا۔ میں خوشی سے اچھل پڑا۔ یہ تو مندر میں اندر جانے کا راستہ بھی ہو سکتا تھا۔ میں انتہائی محتاط قدموں سے آگے بڑھا۔ اللہ دین سے سرگوشی کر کے میں نے اسے بھی محتاط رہنے کے لئے کہا اور اللہ دین نے گردن ہلا دی۔ ہم لوگ ایک ایک انچ سرک رہے تھے کہ کہیں کوئی اینٹ اپنی جگہ سے سرک نہ جائے اور نندا ہوشیار نہ ہو جائے لیکن ایک بات اور بھی تھی کہ اگر نندا ہوشیار ہو گیا تو زیادہ سے زیادہ کیا ہو گا، وہ بھاگنے کی کوشش کرے گا لیکن جتنے افراد کی اطلاع ملی تھی کہ وہ مندر کے گرد چھپے ہوئے ہیں، وہ اسے بھاگنے کہاں دیں گے۔ کوئی اور طریقہ ایسا ہو نہیں سکتا کہ گیتا نندی کو یہاں کے بارے میں اطلاع مل جائے۔ بہرطور ٹوٹے ہوئے حصے سے ہم مندر کے ایک پتلے سے حصے میں داخل ہو گئے اور اس پتلی سی راہداری میں جہاں کوڑا کرکٹ کے انبار لگے ہوئے تھے اور چوہے ادھر ادھر دوڑ رہے تھے۔ آگے بڑھتے ہوئے ہم سامنے کے حصے میں پہنچ گئے جہاں سے تھوڑا سا فاصلہ طے کر کے اس علاقے میں داخل ہوا جا سکتا تھا جہاں ہنومان کا بت استادہ تھا۔ میں نے اللہ دین کے کان سے منہ جوڑ کر آہستہ سے کہا۔ ’’دیکھو اللہ دین بھیا ذرا سی بھی کمزوری دکھائی تو ساری قربانی بیکار جائے گی، سنبھل کر رہنا۔‘‘
’’ٹھیک ہے، ٹھیک ہے۔‘‘ اللہ دین نے کہا اور ہم ستونوں کی آڑ لیتے ہوئے ایک ایسی جگہ پہنچ گئے جہاں سے سامنے نظر ڈالی جا سکتی تھی لیکن ہمارے عقبی ستون میں بھی کچھ لوگ پوشیدہ تھے۔ تھوڑے فاصلے پر کچھ سرسراہٹیں سنائی دی تھیں۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ لوگ پوری طرح ہوشیار ہیں۔ نندا مزے سے بیٹھا بیڑی پی رہا تھا اور ہنومان کے بت کے قدموں میں کلو پڑا ہوا نظر آ رہا تھا۔ اس کے ہاتھ پائوں بندھے ہوئے تھے۔ آنکھیں کھلی ہوئی تھیں اور اس کی مدھم مدھم آواز سنائی دے رہی تھی۔ ہم نے اس آواز پر کان لگا دیئے۔ کہہ رہا تھا۔
’’نندا چاچا۔ نندا چاچا چھوڑ دو مجھے۔ کیوں لے آئے ہو یہاں۔ نندا چاچا یہ میرے ہاتھ پائوں، یہ میرے ہاتھ پائوں کیوں باندھ دیئے ہیں تم نے…؟‘‘
‘‘آواز بند کر۔ نہیں تو چھری پھیر دوں گا تیری گردن پر جیسے کہ رمضان بکرے کی گردن پر چھری پھیرتا ہے، بات سمجھ میں آئی۔‘‘
’’نہیں نہیں نندا چاچا چھوڑ دو مجھے، چھوڑ دو مجھے نندا چاچا۔‘‘
’’ارے چپ ہوتا ہے یا نہیں‘‘ نندا نے سچ مچ اپنے لباس سے وہ خنجر نکال لیا جس کا میں پہلے بھی دیدار کر چکا تھا۔ اللہ دین نے دونوں ہاتھ آنکھوں پر رکھ لئے تھے۔ میں نے اس کے شانے پر آہستہ آہستہ تھپکیاں دیں اور وہ ایسی نگاہوں سے مجھے دیکھنے لگا جن میں بے کسی اور بے بسی کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔ یہ آنکھیں کہہ رہی تھیں کہ وہ اپنے بچے کو اس حال میں نہیں دیکھ سکتا۔ کلو چیختا رہا۔ چیختے چیختے اس کا گلا بیٹھ گیا اور نندا مزے سے بیڑی پر بیڑی سلگاتا رہا۔ بڑا صبرآزما وقت تھا۔ ایسے لمحات گزارنا زندگی کا سب سے مشکل کام ہوتا ہے لیکن یہ بھی حقیقت تھی کہ جن لوگوں نے اس بات کا بیڑا اٹھایا تھا کہ ڈائن کو روشنی میں لا کر رہیں گے، وہ بھی بڑے صبر ہی سے وقت گزار رہے تھے۔ کیا مجال کہ کسی کو چھینک بھی آ جائے۔
پھر اچانک ہی سرسراہٹیں بلند ہوئیں۔ یوں لگا جیسے غیرمحسوس طریقے سے ایک نے دوسرے کو اور دوسرے نے تیسرے کو خبر دی ہو۔ لمحہ لمحہ سنسنی خیز تھا اور میرا یہ اندازہ درست ہی نکلا۔ یہ سرسراہٹیں درحقیقت ایک پیغام ہی تھیں اور اس کی تصدیق اس وقت ہو گئی جب گیتا نندی مندر کے احاطے میں داخل ہوئی۔ کالے رنگ کی ساڑھی باندھی ہوئے تھی۔ اوپر سے شال اوڑھی ہوئے تھی۔ اکیلی تھی اور بڑے پراعتماد قدموں سے اندر داخل ہو رہی تھی۔ نندا چونک کر سیدھا ہو گیا۔
’’جے دیوی۔‘‘ گیتا نندی نے کوئی جواب نہیں دیا۔ آہستہ آہستہ آگے بڑھی اور قریب پہنچ گئی۔ اس نے بھاری آواز میں کہا۔ ’’نندا اگر آج ہمیں کامیابی نہ ہوئی تو یوں سمجھ لے کہ میری ساری تپسیا بیکار چلی جائے گی۔‘‘
’’میں جانتا ہوں دیوی۔‘‘ نندا نے کہا۔
’’سوامی ادھیرنا چندو ساتویں دن درشن دیں گے اور بس پھر میرا کام بن جائے گا۔‘‘
’’ہاں دیوی سات دن رہ گئے ہیں۔‘‘
’’بستی والے الگ ہوشیار ہیں۔ خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔‘‘
’’میں جانتا ہوں۔‘‘ نندا نے کہا۔
’’چل ہاتھ پائوں کھول دے اس کے۔‘‘ گیتا نندی نے کہا اور نندا نے خنجر نکال لیا۔ اس نے کلو کے ہاتھ پائوں کی رسیاں کاٹ دیں۔ کلو نے بھی اسی طرح تڑپ کر اٹھنے کی کوشش کی مگر نندا نے اسے بالوں سے پکڑ کر نیچے گرا دیا۔ گیتا نندی نے خنجر ہاتھ میں لے لیا تھا۔
’’اللہ دین درحقیقت صابر تھا۔ اس کی جو حالت ہورہی تھی مجھے اندازہ تھا مگر ضبط کئے ہوئے تھا۔ گیتا نندی کی آواز ابھری۔
’’جے بجرنگا۔ ساتویں بلی دے رہی ہوں۔ اسے سوئیکار کر بجرنگ بلی۔ میرے گود ہری کر دے۔‘‘
’’ٹھکرائن، کمینی، کتیا، میں تیری بلی دے دوں گا۔ ڈائن شیطان۔‘‘ اللہ دین کی بھیانک آواز سے مندر گونج اٹھا اور اس نے دیوانوں کی طرح لمبی چھلانگ لگائی۔ گیتا نندی اچھل پڑی۔ اس نے خونی نظروں سے اللہ دین کو اور پھر کلو کو دیکھا۔ پھر وہ بھیانک آواز میں بولی۔
’’تو بھی مارا جائے گا بھٹیارے۔ پیچھے ہٹ جا۔ مارا جائے گا میرے ہاتھوں۔ نندا اسے سنبھال۔‘‘ لیکن صبر کرنے والوں سے کہاں صبر ہوتا، وہ سب بیک وقت نکل پڑے۔ نندا کو انہوں نے دبوچ لیا۔ ٹھکرائن نے اللہ دین پر وار کیا مگر اللہ دین کی تقدیر اچھی تھی، اس کے سینے پر بس ہلکی سی خراش لگی۔ مشتعل لوگوں نے ٹھکرائن کے لمبے بال پکڑ کر اسے پیچھے سے گھسیٹ لیا تھا ورنہ اللہ دین ضرور مارا جاتا۔ گیتا نندی نے کئی لوگوں کو زخمی کر دیا مگر کیونکہ بے شمار افراد تھے اس لئے وہ زیادہ دیر خنجر نہ گھما سکی۔ کسی نے اس کے ہاتھ پر لاٹھی مار کر خنجر گرا دیا اور جونہی خنجر اس کے ہاتھ سے نکلا لوگ اس پر ٹوٹ پڑے۔ وہ بھول گئے تھے کہ وہ ٹھکرائن ہے۔ اس کے بال نوچ ڈالے گئے۔ کپڑے تار تار کر دیئے گئے۔ نندا کی تو شکل ہی نہیں پہچانی جا رہی تھی۔ باہر سے بہت سی آوازیں ابھریں۔
’’ٹھاکر جی آ گئے۔ کوہلی رام جی آ گئے۔‘‘ ٹھاکر بہت سے لوگوں کے ساتھ اندر آ گیا تھا۔
’’کیا ہے، کیا ہو رہا ہے۔ ارے یہ کیا ہو رہا ہے۔ ارے یہ گیتا نندی، چھوڑو اسے۔ چھوڑو ورنہ میں گولی چلوا دوں گا۔‘‘ ٹھاکر کے دو آدمیوں کے پاس بندوقیں تھیں۔
’’انصاف سے کام لو ٹھاکر۔ کتنی گولیاں چلائو گے۔ آخر میں تمہارے پاس گولیاں ختم ہو جائیں گی۔ پھر کیا ہو گا۔ جانتے ہو؟‘‘ پیچھے سے کسی نے کہا۔
’’ہم تمہیں گولیاں چلانے کے لئے نہیں لائے ٹھاکر، اس لئے بلا کر لائے ہیں کہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ لو۔‘‘ دوسرے آدمی نے کہا۔
’’سب کچھ تو کر ڈالا تم نے۔ اب میں کیا دیکھوں۔’’ کوہلی رام بولا۔
’’اس بھول میں نہ رہنا ٹھاکر، یہ سب کچھ نہیں ہے۔ زندہ جلائیں گے ہم اس ڈائن کو اور اس چمار کو۔ بھگوان کی سوگند اسے زندہ نہ جلایا تو ماں کا دودھ حرام ہے ہم پر۔‘‘ رگھبیر نے کہا۔
’’دیکھو کتنوں کے گھائو لگائے ہیں اس نے۔ اپنی آنکھوں سے دیکھ لو۔ ارے تم دھن والے سمجھتے کیا ہو اپنے آپ کو۔ چلوائو گولی۔ چلوائو ٹھاکر…!‘‘ رام پال نے کہا۔ اس کا بیٹا بھی مارا گیا تھا۔
’’گیتانندی کیا ہے یہ سب کچھ…؟ یہ سب کیا ہے گیتا…!‘‘
’’جھوٹے ہیں پاپی سارے کے سارے۔ سب کچھ اس مسافر کا کیا دھرا ہے۔ یہ سب اس کی سازش ہے۔‘‘ ٹھکرائن نے میری طرف اشارہ کر کے کہا۔
’’نام مت لینا اس دیوتا کا ٹھکرائن۔ بھگوان کی سوگند زبان کاٹ لیں گے تمہاری۔‘‘ گنگو دھاڑا۔
’’تم یہاں کیا کر رہی تھیں ٹھکرائن…؟‘‘ کوہلی رام نے پوچھا۔
’’ہنومان پوجا کرنے آئی تھی۔ سپنے میں درشن دیئے تھے، انہوں نے بلایا تھا مجھے، سو نندا کو ساتھ لے کر چلی آئی۔‘‘ گیتا نندی بولی۔
’’تمہارا منہ ہے ٹھاکر جو رکے ہوئے ہیں، نہیں تو لاٹھیاں مار مار کر بھیجہ باہر کر دیتے اس کا۔‘‘ ایک پرجوش آدمی بولا۔
’’ارے تم منہ دیکھو ٹھاکر کا۔ ہم نہیں دیکھیں گے، مارو اس حرام خور کو، جان سے مار دو…!‘‘ لوگ ایک بار پھر بے قابو ہو گئے۔ چند افراد نے بندوق برداروں پر
حملہ کر کے بندوقیں چھین لیں۔ صورتحال بگڑتے دیکھ کر میں نے ایک اونچی جگہ کھڑے ہو کر چیخ کر کہا۔
’’سنو بھائیو! کلو کی جان بچ گئی ہے۔ اللہ نے گنگو کے بیٹے للو کو بھی بچا لیا ہے۔ گیتا نندی اور نندا کو پکڑ کر حویلی لے چلو۔ پوری بات ٹھاکر کو بتائو پھر دیکھو وہ کیا فیصلہ کرتے ہیں۔‘‘
’’فیصلہ ہم کریں گے، ٹھاکر نہیں۔‘‘
’’پھر بھی کوہلی رام کو تفصیل تو بتائو۔‘‘
’’ٹھیک ہے۔ لے چلو اس ڈائن کو۔ لے چلو۔‘‘ لوگوں نے میری اتنی بات مان لی۔
’’کپڑے پھاڑ دیئے ہیں تم نے اس کے۔ یہ چادر اوڑھا دوں میں اسے۔‘‘ ٹھاکر نے کہا۔
’’بندوقیں اب دوسروں کے ہاتھوں میں تھیں اس لئے کوہلی رام بھی بے بس ہو گیا تھا۔ گیتا نندی اور نندا چمار کو مندر سے باہر لایا گیا۔ کافی لوگ جمع ہو گئے تھے اور پھر پورا جلوس ہی واپس چل پڑا۔ جنک رام، گنگو اور اللہ دین میرے ساتھ تھے۔ راستے میں جنک رام نے کہا۔
’’ہم کسی پر بھروسہ نہیں کر سکتے۔ ٹھاکر پولیس کو بھی بلا سکتا ہے اور اگر پولیس آ گئی تو ٹھکرائن بچ جائے گی۔‘‘
’’سو تو ہے…‘‘
’’بستی میں گھستے ہی دس بیس آدمیوں کو دوڑا دو۔ پوری بستی جمع کر لو۔ سب کے سب ٹھاکر کی حویلی کو گھیر لیں، کسی کو بستی سے باہر نہ جانے دیا جائے۔ جس کے پاس جو ہتھیار ہے، لے کر آ جائے۔ ٹھاکر کوئی چال نہ چل جائے کہیں۔‘‘
’’بالکل ٹھیک کہا تو نے جنکیا۔ میں دوڑ کر بستی جاتا ہوں۔ ارے آئو رے آئو، دو چار میرے ساتھ…‘‘ گنگو نے کہا۔ فوراً چند لوگ اس کے ساتھ ہو لئے اور گنگو جلوس سے آگے دوڑ گیا۔ پھر جب بستی میں داخل ہوئے تو بستی کے تمام گھر روشن ہو چکے تھے۔ لوگ چیختے پھر رہے تھے۔ ’’ڈائن پکڑی گئی بھائیو۔ سب کے سب گھروں سے نکل آئو۔ ٹھاکر کی حویلی کے سامنے جمع ہو جائو۔ ڈائن پکڑی گئی۔‘‘ جلوس ٹھاکر کی حویلی پہنچا تو وہاں کا منظر ہی بدلا ہوا ملا۔ گنگو حویلی کے دروازے پر بندوق لئے جما ہوا تھا۔ بیس پچیس آدمی اس کے ساتھ تھے۔ جو لوگ حویلی میں تھے، انہیں نہتا کر کے باہر جمع کر لیا گیا تھا اور دو آدمی ان پر بندوقیں تانے ہوئے تھے…! ٹھاکر آگے بڑھا تو گنگو نے اس پر بندوق تان لی۔
’’تم اندر نہیں جائو گے ٹھاکر۔ جب تک فیصلہ نہیں ہو جائے گا اندر نہیں جائو گے۔‘‘ گنگو نے کہا۔
’’تم لوگوں نے میرے گھر پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔ جانتے ہو اس کے جواب میں پولیس کیا کرے گی۔‘‘
’’یہ کام اب پولیس نہیں کرے گی ٹھاکر، ہم کریں گے۔ بھول جائو پولیس کو، بچے ہمارے مارے گئے ہیں، پولیس کے نہیں۔‘‘ گنگو نے کہا۔
’’میں مکھیا ہوں تمہارا…!‘‘
’’یہیں پنچایت ہو گی۔ یہیں فیصلہ ہو گا۔ پھر اندر جائو گے تم…!‘‘
’’تو پھر فیصلہ تم ہی کر لو، میری کیا ضرورت ہے۔‘‘
’’فیصلہ تو ہو گیا ہے ٹھاکر۔ زندہ جلائیں گے ہم ان دونوں کو…!‘‘ کوہلی رام کو اندازہ ہو گیا کہ صورتحال بہت بگڑی ہوئی ہے۔ وہ پریشانی سے دوسروں کی صورت دیکھنے لگا۔ بستی کے لوگ چاروں طرف سے آ کر جمع ہو رہے تھے۔ کہرام مچا ہوا تھا۔ میں دل ہی دل میں اپنے آپ کو ٹٹول رہا تھا اور میرا دل جواب دے رہا تھا۔ کوئی شک نہیں ہے گیتا نندی کے مجرم ہونے میں۔ چھ معصوم بچوں کی جان لی ہے اس نے۔ اس کے ساتھ یہی سب ہونا چاہئے۔
’’اللہ دین۔ کلو کو گھر پہنچا دو۔‘‘ میں نے کہا۔
’’کلیجہ نکل گیا ہے مسافر بھیا۔ ہائے کیا حالت ہو رہی تھی میرے بچے کی، ارے میں تو چاہتا تھا وہیں مار ڈالتے ان دونوں کو۔ یہ ٹھاکر وہاں کیسے پہنچ گیا۔‘‘
’’یہ بات تو پہلے ہی طے کر لی گئی تھی کہ کچھ لوگ ٹھاکر کو بلا لائیں گے تاکہ وہ بھی دیکھ لے۔‘‘
’’اب کیسے رنگ بدل رہا ہے سسرا۔ گنگو نے ٹھیک کرا بھیا نہیں تو سسرا پولیس بلا لیتا اور پھر ہماری دال نہ گلتی، بچا لیتا وہ کسی نہ کسی طرح ٹھکرائن کو، ٹھیک ہے مسافر بھیا ہم کلو کو گھر پہنچا دیں۔ ابھی آتے ہیں۔‘‘ اور اللہ دین وہاں سے چلا گیا۔ مجھے صورتحال کا بخوبی اندازہ ہو رہا تھا۔ بستی والے ایک دوسرے سے باتیں کر رہے تھے۔ وہ حیران تھے اس بات پر کہ ڈائن بھاگ بھری نہیں تھی اور اس کی طرف شبہ ایسے ہی چلا گیا تھا۔ ٹھکرائن اصل ڈائن ہے، بات آہستہ آہستہ کھلتی جا رہی تھی، لوگ ایک دوسرے کو تفصیل بتا رہے تھے، وہ لوگ سب سے زیادہ مشتعل تھے جن کے بچے ٹھکرائن کے ہاتھوں مارے گئے تھے۔ ان کا بس نہیں چلتا تھا ورنہ سب کچھ وہیں کر ڈالتے لیکن جو تیاریاں ہو رہی تھیں ان سے اندازہ ہوتا تھا کہ کسی طرح ٹھکرائن اور نندا کو چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہوں گے۔ بہت سے لوگ جنگل اور کھیتوں کی طرف بھی نکل گئے تھے، ان کی آمد کے بعد ان کے ارادوں کا پتہ چلا۔ لکڑیاں کاٹ کر لائے تھے اور حویلی کے سامنے ہی ایک صاف ستھرے حصے میں انبار کرنے لگے تھے۔ ٹھکرائن کو حویلی میں نہیں جانے دیا گیا تھا بلکہ وہیں ایک جگہ بٹھا دیا گیا تھا۔ نندا بھی تھوڑے فاصلے پر موجود تھا۔ گیتا نندی جتنا شور مچا سکتی تھی، مچا چکی تھی اور اب اس کے چہرے پر خوف کے آثار نظر آنے لگے تھے۔ ٹھاکر کوہلی رام لوگوں سے صلاح و مشورے کر رہا تھا۔
تقریباً ساری بستی ہی امڈ آئی تھی بس عورتیں اور بچے ہی گھروں میں رہ گئے تھے۔ تلسی بھی موجود تھا مگر اتنے فاصلے پر کہ میں اس کے چہرے کا جائزہ نہیں لے سکتا تھا۔ بہرطور یہ ہنگامہ آرائیاں جاری رہیں۔ لوگوں کی زبانی ان فیصلوں کا پتہ چل رہا تھا جو کوہلی رام اور دوسرے لوگوں کے درمیان بات چیت کرنے سے ہوئے تھے۔ پتہ چلا کہ صبح کو پنچایت ہوگی اور ساری باتیں سننے کے بعد فیصلے کئے جائیں گے۔ بستی میں جیسے کوئی تہوار منایا جا رہا تھا۔ پوری بستی روشن تھی، لوگ آ جا رہے تھے۔ ٹھاکر کوہلی رام بھی ایک طرف بیٹھ گیا تھا تھک کر۔ غرض یہ کہ یہ ہنگامے ساری رات جاری رہے۔ اللہ دین میرے پاس واپس آ گیا تھا۔ اب وہ خاصی بہتر حالت میں نظر آ رہا تھا۔ جنک رام اور گنگو وغیرہ بھی میرے پاس ہی موجود تھے۔ ان دونوں کو مجھ سے بڑی عقیدت ہو گئی تھی خاص طور سے گنگو کو جس کا بچہ قربان ہوتے ہوتے بچ گیا تھا، اللہ دین کے لئے بھی بڑی عقیدت کے الفاظ ادا کئے جا رہے تھے کہ اس نے اپنے بیٹے کی زندگی خطرے میں ڈال دی تھی۔ اگر وہ ایسا نہ کرتا تو نہ تو ٹھاکر کوہلی رام یہ بات مانتا کہ اس کی دھرم پتنی ڈائن ہے اور نہ ہی ٹھکرائن رنگے ہاتھوں پکڑی جاتی۔ جن لوگوں نے اندر کا منظر دیکھا تھا وہ تو خیر کسی اور بات پر یقین کرنے کو تیار ہی نہیں تھے لیکن بعض لوگوں کے دلوں میں شک و شبہ بھی پایا جاتا تھا۔
رات آہستہ آہستہ گزرتی رہی۔ آخرکار صبح ہو گئی۔ ٹھاکر کا چہرہ اترا ہوا تھا۔ چاروں طرف سے بندھ کر رہ گیا تھا وہ۔ پتہ نہیں اس کے اپنے دل میں کیا تھا۔ ٹھکرائن بھی اب مضمحل نظر آرہی تھی غالباً اب اسے اپنی تقدیر کا فیصلہ معلوم ہو گیا تھا۔ صبح کو لوگ منتشر ہوئے اور کچھ دیر کے بعد پنچایت جم گئی۔ جمال گڑھی کے بڑے بوڑھے ایک جگہ بیٹھ گئے۔ ٹھاکر کو اس وقت مکھیا کا درجہ نہیں دیا گیا تھا لیکن پھر بھی بہت سے لوگ ایسے تھے جو اس کی عزت کرتے تھے۔ ٹھاکر کے ملازم اس بات پر حیران بھی تھے اور شرمندہ بھی کہ ٹھکرائن کی نوکری کرتے رہے تھے۔ اب ان کے خیالات بھی بدلے ہوئے نظر آ رہے تھے۔ بالاخر لوگوں سے خاموش ہونے کے لئے کہا گیا اور پھر میری پکار پڑی۔ اللہ دین نے کہا۔
’’میں جانتا تھا بھیا، پنچایت تمہیں ضرور بلائے گی۔ گنگو، جنک رام اور وہ بہت سے آدمی جن کے بچے مرے تھے، میرے ساتھ ہی آگے بڑھے تھے۔ پنچایت والوں نے مجھے بیٹھنے کے لئے کہا اور میں ان کے سامنے بیٹھ گیا۔ ٹھکرائن غضب ناک آنکھوں سے مجھے دیکھ رہی تھی۔ نندا کی حالت اب کافی خراب ہو گئی تھی۔ اس کی نظریں بار بار لکڑیوں کے اس ڈھیر کی جانب اٹھ جاتی تھیں، جسے اب چتا کی شکل دے دی گئی تھی۔ ایک راستہ رکھا گیا تھا ٹھکرائن اور نندا کو اندر پہنچانے کے لئے، باقی پوری چتا ایسے بنا دی گئی تھی جیسے مردوں کو جلانے کے لئے شمشان گھاٹ میں بنائی جاتی ہے۔ ایک بزرگ نے کہا۔
’’ٹھاکر کوہلی رام ساری باتیں ہمیں پتہ چل گئی ہیں اور اب فیصلہ کرنا ضروری ہو گیا ہے۔ تو اگر مکھیا کی حیثیت سے اس چوکی پر بیٹھنا چاہے تو اب بھی بیٹھ سکتا ہے لیکن فیصلہ انصاف سے کرنا ہو گا، کوئی ایسی بات نہیں مانی جائے گی جو جھوٹی ہو۔‘‘
’’تمہاری مرضی ہے دھرمو چاچا، جیسا من چاہے کرو۔‘‘ ٹھاکر کوہلی رام نے اداس لہجے میں کہا۔
’’مسافر بھیا تم کسی اور بستی سے ادھر آئے اور تم نے بھاگ بھری کو اس لاش کے پاس بیٹھے دیکھا۔ کیا یہ سچ ہے؟‘‘
’’ہاں بالکل سچ ہے اور یہ بھی سچ ہے کہ بھاگ بھری صرف بیٹھی ہوئی تھی جیسا کہ مجھے بعد میں معلوم ہوا کہ وہ پاگل ہے، ایک پاگل عورت لاش کو دیکھ کر اس طرح بیٹھ بھی سکتی ہے، اسے ٹٹول بھی سکتی ہے اور یہی بات میں نے دوسروں سے کہی تھی۔‘‘
’’اچھا بھیا اب تم لوگ ہمیں یہ بتائو کہ تمہیں کیسے پتہ چلا کہ ٹھکرائن گیتا نندی ہنومان مندر میں بچوں کی بلی دیتی ہے۔‘‘
’’میں بتاتا ہوں دھرمو چاچا۔ مسافر بھیا کو شبہ ہو گیا تھا کہ کوئی گڑبڑ ضرور ہے اور بھاگ بھری ڈائن نہیں ہے۔ سو وہ ایک رات ہنومان مندر کی طرف نکل گئے جہاں انہوں نے گیتانندی اور نندا کو دیکھا۔ وہ میرے بچے کو پکڑ کر لے گئے تھے۔ اس کے ہاتھ پائوں باندھ رکھے تھے انہوں نے اور وہی سب کچھ ہو رہا تھا جو آج میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ میرا بیٹا للو وہاں پڑا ہوا تھا، اس کے ہاتھ پائوں بندھے ہوئے تھے، مسافر بھیا اکیلا تھا اس لئے اس نے شور مچا دیا۔ گیتانندی اور نندا چمار بھاگ گئے وہاں سے اور میرا بچہ مسافر بھیا کی وجہ سے بچ گیا۔ وہی اسے لے کر آئے، اس سے گھر کا پتہ پوچھا اور چپ چاپ اسے گھر میں چھوڑ گئے۔
میرے گھر والوں کو اور مجھے تو اس کا پتہ بھی نہیں تھا لیکن صبح کو جب ہم نے للو کی حالت دیکھی تو وہ تیز بخار میں پھنک رہا تھا اور بار بار چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا کہ مجھے نہ مارو۔ مجھے گھر جانے دو۔ بری حالت ہو گئی ہماری۔ بڑی مشکل سے ہم بچے کو سمجھا بجھا کر اس کی زبان کھلوانے میں کامیاب ہوئے تو اس نے یہ کہانی سنائی۔ مسافر بھیا کے بارے میں بھی بتایا۔ ہم نے معلومات کیں تو مسافر بھیا نے ہمیں اصل بات بتا دی۔ وہ باہر کے آدمی ہیں لیکن ہمارے لئے تو دیوتا سمان ہیں۔ میرے بچے کا جیون بچایا ہے انہوں نے۔ میں تو ان پر ہزار جیون قربان کر سکتا ہوں سمجھے دھرمو چاچا۔ بعد میں ہم سب نے مل کر یہ طے کیا کہ ایسا کام کیا جائے جس سے سب کو اصل بات معلوم ہو جائے۔ (جاری ہے)
تمام اردو کہانیاں پڑھنے کے لیے کلک کریں
کالا جادو - پارٹ 27
Urdu stories online, Urdu stories for kids, Short Urdu stories, Urdu Kahaniyan, Famous Urdu stories, Urdu stories with moral, Best Urdu stories collection, Urdu stories for students, Urdu love stories, Urdu horror stories, Urdu stories for reading, Urdu stories in Urdu text, Funny Urdu stories, Urdu stories for beginners, Urdu detective stories, Urdu motivational stories, Urdu stories for adults, Urdu moral stories, Urdu stories for children, Urdu true stories, Urdu suspense stories, Urdu emotional stories, Urdu adventure stories,
hindi moral stories in urdu,سبق آموز کہانیاں, jin-ki-dushmni,good moral stories in urdu,Moral Stories,Urdu Stories,urdu kahani,اردو کہانی,قسط وار کہانیاں,
