کالا جادو - ایم اے راحت - قسط نمبر 22

 

قسط وار کہانیاں
کالا جادو - اردو کہانی قسط نمبر 22
رائیٹر :ایم اے راحت

رخ مزار شریف کی طرف تھا۔ فاصلہ محسوس ہی نہ ہوا۔ کچھ دیر کے بعد وہاں پہنچ گیا۔ گو قرب و جوار میں باقاعدہ کوئی شہر یا بستی آباد نہیں تھی لیکن خود یہ بستی بھی کم نہیں تھی۔ زائرین کے لئے قیام گاہیں بنی ہوئی تھیں۔ دکانیں لگی ہوئی تھیں۔ لوگ ادھر سے ادھر جا رہے تھے۔ ایک بزرگ کو دیکھا۔ سفید کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ دو بڑے تھیلے دونوں ہاتھوں میں لٹکائے ہوئے تھے۔ میری طرح نڈھال نظر آ رہے تھے۔ مجھے امداد طلب نظروں سے دیکھا پھر اشارہ کیا تو میں قریب پہنچ گیا۔
‎’’میاں مزدوری کرو گے؟‘‘ وہ بولے۔
‎’’ضرور کریں گے۔‘‘
‎’’یہ تھیلے وہاں پہنچانے ہیں۔ انہوں نے کافی فاصلے پر اشارہ کیا۔
‎’’بسم اللہ۔‘‘ میں نے جلدی سے تھیلے اٹھائے۔
‎’’پہلے پیسے بتا دو۔‘‘
‎’’جو عنایت فرمائیں گے، لے لیں گے۔‘‘
‎’’بعد میں جھگڑا نہ کرنا۔‘‘
‎’’نہیں کریں گے، آیئے۔‘‘ میں تھیلے سنبھال کر آگے چل پڑا۔ بزرگ میرے پیچھے پیچھے آ رہے تھے۔ وزنی تھیلے مطلوبہ جگہ پہنچا کر میں سیدھا ہوا تو بزرگ نے دو روپے نکال کر میرے ہاتھ پر رکھ دیئے۔
‎’’بے حد شکریہ۔‘‘
‎’’کم تو نہیں ہیں۔‘‘
‎’’نہیں ہیں اگر آپ نے خوشی سے دیئے ہیں۔’’
‎’’ناشتہ کرو گے؟‘‘
‎’’نہیں عنایت ہے۔ ناشتے کے لئے اللہ نے بندوبست کرا دیا ہے۔‘‘ میں نے دونوں روپے مٹھی میں دبا کر کہا۔ اسی وقت ریسٹ ہائوس کے ایک کمرے سے کوئی گیارہ سالہ لڑکا بھاگتا ہوا باہر نکلا۔ اس کے پیچھے ایک عورت، ایک لڑکی اور ایک30، 32سالہ شخص دوڑتے ہوئے باہر آئے۔ لڑکے نے چیخ کر کہا۔
‎’’دادا میاں پکڑیئے۔‘‘ میرے ساتھ آنے والے معمر بزرگ چونک پڑے۔ ان کے حلق سے لایعنی سی آواز نکلی۔ میں نے بھی چونک کر لڑکے کو دیکھا اور اچانک لڑکا ٹھٹھک گیا۔ اس نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے مجھے دیکھا پھر بری طرح چیختا ہوا واپس اندر گھس گیا۔ اس کے پیچھے دوڑنے والے رک گئے، جیسے کچھ نہ سمجھ پائے ہوں۔ میرے وہاں رکنے کا جواز نہیں تھا اس لئے میں پلٹ کر واپس چل پڑا۔ جہاں دکانیں لگی ہوئی تھیں، وہاں پہنچا۔ ڈیڑھ روپے کی دو پوریاں اور ترکاری ملی۔ کاغذ پر رکھے ایک گوشے میں آ بیٹھا۔ پُڑا کھول کر سامنے رکھا تو ایک بوڑھا فقیر نزدیک آ بیٹھا۔ اس نے کہا۔
‎’’ارے واہ چپڑی اور دو، دو۔ حصہ کر لو۔ مل بانٹ کر کھانا اچھا ہوتا ہے۔‘‘
‎’’ٹھیک ہے۔ ایک تم لے لو۔‘‘ میں نے ایک پوری پر آدھی ترکاری رکھ کر اس کے حوالے کر دی۔ اس نے خوشی سے پوری لے لی اور میرے ساتھ بیٹھ کر کھانے لگا۔ کچھ دیر کے بعد ہم فارغ ہو گئے۔
‎’’پانی پیو گے۔‘‘
‎’’ایں۔ ہاں آئو تلاش کریں۔‘‘
‎’’نہیں۔ میں دیتا ہوں۔‘‘ اس نے کہا اور اپنی گدڑی سے ایک ٹوٹا پھوٹا سلور کا گلاس نکالا۔ گلاس خالی تھا۔ اس نے اسے میرے سامنے کرتے ہوئے کہا۔ لو پہلے تم پی لو۔‘‘
‎’’ایں۔‘‘ میں حیرت سے بولا۔ پانی کہاں ہے؟‘‘
‎وہ ایک دم ہنس پڑا پھر بولا۔
‎’’دیکھو تو پانی، دیکھنا تو ضروری ہوتا ہے نا۔‘‘ بات میری سمجھ میں نہیں آئی۔ لیکن اچانک ہی ہاتھ میں تھما ہوا گلاس وزنی محسوس ہوا اور اس سے پانی چھلکنے لگا۔ میری آنکھیں حیرت سے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ وہ جلدی سے بولا۔ ’’تم پیو بھائی پھر مجھے دو۔‘‘

‎مگر میں پانی پینا بھول گیا تھا۔ اس نے اپنی گدڑی سے خالی گلاس نکالا تھا اور جب یہ گلاس میرے ہاتھ میں آیا تھا تو بالکل ہلکا تھا لیکن اب وہ پانی سے لبالب بھرا ہوا تھا۔ اس نے پھر ایک قلقاری ماری اور کہنے لگا۔ ’’پوری تمہاری، پانی ہمارا، حساب برابر۔ دیکھو تو ملے، سوچو تو پائو، ارے جلدی کرو ہمیں پیاس لگ رہی ہے، مرچیں لگ رہی ہیں مرچیں۔‘‘ وہ اپنے دونوں گال پیٹتا ہوا بولا اور میں نے بادل نخواستہ پانی کا گلاس منہ سے لگایا۔ طبیعت سیر ہو گئی اور پھر جب گلاس پیچھے ہٹایا تو وہ کناروں تک لبالب بھرا ہوا تھا۔ اس نے جلدی سے گلاس میرے ہاتھ سے چھین لیا۔
‎’’نہ گلاس تمہارا، نہ کمبل ہمارا، اپنا راستہ ناپو، ہم بھی چلے۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے گلاس گدڑی میں ڈالا اور تیز تیز قدموں سے وہاں سے آگے بڑھ گیا۔ میں شدت حیرت سے گنگ رہ گیا تھا۔ عجیب سا شخص تھا، پھٹے پرانے چیتھڑے لگے ہوئے لباس میں ملبوس، کاندھے سے جھولی لٹکائے ہوئے، ایک اونچی سی قبر کے کتبے کے پیچھے پہنچ کر وہ میری نگاہوں سے اوجھل ہو گیا اور میں سوچتا ہی رہ گیا۔ کوئی بات سمجھ میں نہیں آئی تھی۔ گردن جھٹکی اور پھر سوچنے لگا کہ اب کیا کرنا چاہئے۔ دن خوب چڑھ گیا تھا اور رات کی نسبت دھوپ میں تیزی پیدا ہونے لگی تھی جگہ جگہ بوسیدہ قبریں، ٹوٹے پھوٹے لکھوری اینٹوں سے بنے مقبرے نظر آ رہے تھے۔ بہت سی جگہ چھائوں تھی۔ کسی بھی جگہ کا انتخاب کیا جا سکتا تھا۔ کچھ ایسا شکم سیر ہو گیا تھا اس ایک پوری سے کہ بدن بوجھل محسوس ہونے لگا تھا بہرحال وہاں سے ہٹا، کمبل کاندھے پر ڈالا اور اس کے بعد قبروں کے درمیان مارا مارا پھرتا رہا۔ دوپہر کو بڑے مزار پر جانا نصیب ہو گیا۔ 

بڑی ٹھنڈک تھی وہاں، بے شمار افراد گنبد کے نیچے آرام کر رہے تھے۔ میں بھی وہیں پہنچ گیا۔ دل چاہا کہ فاتحہ خوانی کروں چنانچہ مزار کے قدموں میں پہنچ کر فاتحہ خوانی کرنے لگا۔ دھوپ تیز ہو گئی تھی۔ وہاں سے واپس نکل آیا۔ اسی جگہ پائوں پسار کر لیٹنا اچھا نہ لگا، یوں محسوس ہوا جیسے مزار اقدس کی بے حرمتی ہوگی اگر میں وہاں لیٹ جائوں، بہت سی جگہیں پڑی ہوئی تھیں۔ گھنے درختوں کے سائے دور دور تک پھیلے ہوئے تھے۔ باہر نکلا اور ایک گھنے درخت کے نیچے آ کر لیٹ گیا۔ کمبل کو تہہ کر کے تکیہ بنا کر سر کے نیچے رکھا اور درختوں کے پتوں کو گھورنے لگا۔ ننھے ننھے پرندے چہچہا رہے تھے۔ جگہیں تبدیل کر رہے تھے۔ ان کے پروں کی پھڑپھڑاہٹ بڑی خوشنما لگ رہی تھی۔ طبیعت میں ایک عجیب سی فرحت تھی جسے الفاظ نہیں دے سکتا تھا۔ بہت دیر اسی طرح گزر گئی۔ آنکھوں میں کچھ بوجھ سا پیدا ہو گیا تھا۔ بھوک تو نام و نشان کو نہیں تھی۔ لگتا تھا ایک پوری نے دن بھر کی کسر پوری کر دی ہے۔ پھر وہ شخص یاد آیا۔ ایسی جگہوں پر اللہ کے نیک بندوں سے ملاقاتیں ہو ہی جاتی ہیں۔ کیا کہہ گیا تھا۔ دیکھو تو پائو، سوچو تو جانو۔ غور کرنے لگا اور یہی غور کرتے کرتے اچانک پچھلے دنوں کی باتیں یاد آ گئیں اور اچھل پڑا۔ ماموں ریاض تھانے میں ملے تھے اور وہ لوگ انہیں لے گئے تھے لیکن اس کے بعد جو کچھ علم میں آیا تھا وہ کیا حیثیت رکھتا تھا۔ بالکل یوں لگتا تھا جیسے تمام واقعات میری نگاہوں کے سامنے سے گزر رہے ہوں۔ میں خود بھی ان میں شریک ہوں۔ یہ کیسے ہوا تھا، یہ کیا بات تھی کچھ سمجھ میں نہیں آیا۔ بہت دیر تک غور کرتا رہا اور پھر گردن ہلا کر کروٹ بدل لی۔ ماموں ریاض بیچارے۔ اگر جو کچھ میرے ذہن میں آیا، سچ ہے تو اس کا مطلب ہے کہ مصیبت سے نکل گئے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ ذہن میں کیسے آیا۔ ٹھنڈی ہوائوں نے آنکھوں کے پپوٹے بوجھل کر دیئے تھے اور ہلکا سا سرور ذہن پر طاری ہو گیا تھا لیکن سوچوں کے دائرے محدود نہیں ہوئے تھے۔

‎سوچوں کا عظیم سرمایہ محفوظ تھا۔ دماغ بوجھل ضرور ہو گیا تھا لیکن حاضر تھا۔ ماموں ریاض کے دل میں ضرور ہو گا کہ میرے لئے کچھ کریں۔ ہرچند کہ میں نے انہیں اپنے بارے میں کچھ نہیں بتایا تھا لیکن اتنا جانتا تھا کہ وہ بھی دیوانے ہو گئے ہوں گے۔ اگر بڑے افسر نہ آ جاتے تو… ہو سکتا ہے جو کچھ میرے ذہن میں آیا اس کے بعد بھی انہوں نے کچھ کیا ہو۔ ہو سکتا ہے انہوں نے گھر جا کر میرے بارے میں امی اور ابو کو بتایا ہو۔ کیا گزری ہو گی ان پر، ماموں ریاض…
‎ٹوٹا پھوٹا سا گھر تھا۔ بوسیدہ کواڑ جس پر ٹاٹ کا پردہ پڑا تھا۔ پلاستر کی دیواریں تھیں۔ دروازے کے دوسری طرف چھوٹا سا صحن، ایک برآمدہ جس میں تخت پڑا ہوا تھا۔ ایک کمرہ جس میں بائیں سمت غسل خانہ اور بیت الخلاء، دوسری طرف باورچی خانہ۔ ابو اور امی تخت پر بیٹھے ہوئے تھے۔ امی کے سر کے سارے بال سفید ہو گئے تھے۔ چہرے پر جھریاں پڑی ہوئی تھیں۔ آنکھیں بے نور تھیں اور وہ بار بار پلکیں جھپکا رہی تھیں۔ ابو اچھل پڑے۔ انہوں نے سرگوشی کے عالم میں کہا۔
‎’’ریاض آ گیا۔‘‘
‎’’آ گیا؟‘‘ امی اچھل پڑیں۔
‎’’ہاں۔‘‘

‎’’ریاض، ریاض بیٹے!‘‘ امی کی لرزتی آواز ابھری۔
‎’’ہاں باجی… میں آ گیا۔‘‘
‎’’کہاں ہے، کہاں ہے۔ میرے پاس آ۔ ریاض میرے پاس آ۔‘‘ ماموں ریاض امی کے سینے سے جا لگے تھے۔ کیا ہوا تھا۔ مارا تو نہیں تجھے۔ انہوں نے تجھے مارا تو نہیں۔‘‘ امی ماموں ریاض کو ٹٹولتی ہوئی بولیں۔
‎’’ارے نہیں باجی، کوئی میں ڈاکو تھا، چور تھا، مارتے کیسے؟‘‘ ماموں نے ہنستے ہوئے کہا۔
‎’’اللہ تیرا شکر ہے۔ اللہ تیرا احسان ہے۔ کچھ کھایا ہے تو نے۔‘‘
‎’’پیٹ بھر کر کھایا ہے باجی۔ اطمینان سے بیٹھو۔‘‘
‎’’جھوٹ بول رہا ہے۔ جھوٹ بول رہا ہے۔ سنئے روٹیاں لے آیئے بازار سے، میں چائے بنا لیتی ہوں، روٹیاں لے آیئے۔‘‘
‎’’باجی۔ میں نے کھانا کھا لیا ہے۔‘‘
‎’’اور کھائیں گے۔ ریاض ہم نے نہیں کھایا، کل سے نہیں کھایا۔‘‘
‎’’اوہ، میں لاتا ہوں۔ آپ بیٹھئے بھائی جان۔ میں لاتا ہوں۔‘‘ ماموں ریاض بولے۔
‎’’نہیں ریاض، تو نہ جا بیٹے کہیں پولیس دوبارہ نہ پکڑ لے، تو نہ جا ریاض۔‘‘
‎’’باجی پولیس کیوں پکڑ لے گی مجھے آخر۔ اسے دھوکا ہوا تھا۔ بعد میں سب نے معافی مانگی ہے۔ یہ دیکھئے نجم الحسن صاحب نے مجھے پانچ سو روپے بھی دیئے ہیں ہرجانے کے طور پر۔‘‘
‎’’تجھ پر اب الزام تو نہیں ہے؟‘‘
‎’’نہیں باجی، فیض الحسن بری صحبتوں میں ضرور پڑ گیا ہے مگر وہ برا لڑکا نہیں ہے۔ جب اسے معلوم ہوا کہ اس نے جو رقمیں غائب کی ہیں ان کے الزام میں اس کے باپ نے مجھے گرفتار کرا دیا ہے تو وہ باپ کے پاس پہنچ گیا اور اس نے ساری بات بتا دی۔ نجم الحسن خود تھانے گئے، ان کی بیوی اور فیض بھی ساتھ تھا۔ انہوں نے مجھے چھڑا لیا، بڑی معافیاں مانگی ہیں۔ انہوں نے دو سو روپے تنخواہ میں اضافہ بھی کر دیا ہے۔‘‘
‎’’اللہ تیرا شکر ہے۔‘‘
‎’’بھائی جان میں کھانا لے آتا ہوں۔‘‘
‎’’روٹیاں لے آ… میں چائے بنا لیتی ہوں۔‘‘

‎’’نہیں باجی مرغی کا سالن لائوں گا۔ محنت کے پیسے ملے ہیں اور یہ آپ کو چائے بنانے کی کیا سوجھی۔ کیا آپ پھر چولہا جلانے لگی ہیں۔‘‘
‎’’نہیں مانتیں۔ مجھے بتائو کیا کروں…؟‘‘ ابو بولے۔
‎’’خدا کے لئے باجی چولہے کے پاس نہ جایا کریں۔ پورا دوپٹہ جلا لیا تھا۔ اللہ نے بچایا۔‘‘
‎’’اب بار بار ایسا تھوڑی ہو گا۔ جا کھانا لے آ۔‘‘ امی نے مسکراتے ہوئے کہا۔ ماموں دروازے سے نکل گئے تھے۔ پھر میں نے ان سب کو دسترخوان پر دیکھا۔ امی ہاتھ والے پنکھے سے پنکھا جھل رہی تھیں۔
‎’’اب یہ پنکھا رکھ دیں اور کھانا کھائیں۔‘‘ ابو بولے۔
‎’’افوہ کھائو تم لوگ مکھیاں بیٹھیں گی کھانے پر۔‘‘
‎’’ایک بھی مکھی نہیں ہے۔ رکھئے پنکھا، کھانا کھایئے۔‘‘ ماموں بولے۔ ’’ذرا دیکھئے بھنی ہوئی مرغی کیا مزا دے رہی ہے۔‘‘
‎’’کھا لوں گی نا۔ تم لوگ کھائو۔‘‘ امی بے اختیار رو پڑیں۔ ابو اور ماموں کے ہاتھ رک گئے۔ ماموں نے کہا۔
‎’’باجی۔‘‘
‎’’کھا لوں گی میں۔ میرے پیچھے مت پڑو۔ مت پڑو میرے پیچھے۔ پتہ نہیں میرے بچے… میرے بچے۔‘‘ امی بلک بلک کر رو پڑیں۔ ابو بھی سسکنے لگے۔ ماموں عجیب سی کیفیت کا شکار ہو گئے تھے۔ وہ ان دونوں کو دیکھنے لگے۔ رک گئے تم لوگ، نہ کھائو تو مجھے مردہ دیکھو، کھائو، میں کہتی ہوں کھائو۔‘‘ امی ان کے ہاتھ ٹٹولنے لگیں۔ ماموں ریاض نے کہا۔
‎’’آپ سے تنہائی میں کچھ کہنا چاہتا تھا بھائی جان۔‘‘ ابو نے آنکھوں میں آنسو بھر کے انہیں دیکھا۔ آپ کے اور باجی کے سوا دنیا میں میرا اور کوئی ہے۔ آپ دونوں کی قسم کھا کر ایک بات کہہ رہا ہوں۔ یہ رزق ہے میرے ہاتھ میں، جھوٹ نہیں بول رہا۔ مگر اب سوچ رہا ہوں کہ جو کچھ کہنا ہے باجی کے سامنے ہی کہہ دوں۔‘‘
‎’’بات کیا ہے؟‘‘ ابو نے آنکھیں خشک کر کے ماموں ریاض کو دیکھا۔
‎’’مسعود زندہ ہے۔ خیریت سے ہے۔ بس ذرا کمزور ہو گیا ہے۔ حلیہ بدل رکھا ہے۔ داڑھی چھوڑ دی ہے۔ کہتا ہے کہ کچھ مشکلات ہیں جن پر قابو پا لیا تو واپس گھر آ جائے گا، اس کی فکر نہ کی جائے۔‘‘
‎’’کیا…‘‘ ابو اچھل کر کھڑے ہو گئے۔
‎’’آپ کی اور باجی کی قسم جھوٹ نہیں بول رہا۔ وہ زندہ سلامت ہے اور اسے محمود کے بارے میں بھی معلوم ہے، ہمارا محمود بھی خدا کے فضل سے خیریت سے ہے اور ملک سے باہر چلا گیا ہے، اگر اسے ہمارا پتہ معلوم ہوتا تو یقیناً وہ اب تک ہم سے رابطہ کر چکا ہوتا۔‘‘
‎’’ریاض… ریاض تجھے اللہ کا واسطہ۔ کلیجہ نکال لیا ہے تو نے۔ ہائے تو نے کلیجہ نکال لیا ہے۔ ارے تجھے اللہ کا واسطہ بتا تو دے بتا دے کہ دل رکھ رہا ہے یا سچ بول رہا ہے۔‘‘ امی نے جھک کر ماموں ریاض کے پائوں پکڑ لئے۔
‎’’میں نے آپ دونوں کی قسمیں کھائی ہیں باجی۔ اور بھی کچھ کر سکتا ہوں تو مجھے بتائیں۔‘‘
‎’’کہاں ملا وہ، تیرے ساتھ گھر نہیں آیا؟‘‘
‎’’تھانے کے لاک اَپ میں ملا تھا۔‘‘
‎’’ایں…‘‘ابو کے حلق سے رندھی ہوئی آواز نکلی۔
‎’’اللہ نے چاہا تو واپس آ جائے گا۔ نجم الحسن کل اپنے تھانیدار دوست سے مل کر اسے رہا کرا لیں گے۔‘‘

‎’’مجھے لے چل، مجھے لے چل ریاض، مجھے لے چل۔ اپنے، اپنے بچے کو چھونا چاہتی ہوں میں، آہ میں اسے چھونا چاہتی ہوں۔‘‘ امی نے زار و قطار روتے ہوئے کہا۔
‎’’آپ نے اس طرح دل دکھا دیا باجی ورنہ میں yابھی آپ کو کچھ نہ بتاتا۔ مجھے اپنی یہ خاموشی جرم محسوس ہوتی تھی۔ ہر قیمت پر آپ کو انتظار کرنا ہو گا بھائی جان آپ غور کریں۔ اس پر قتل کا الزام ہے کہ جانے کس طرح اس نے خود کو چھپایا ہوا ہے۔ پولیس کی یادداشت اتنی خراب نہیں ہوتی، سب یکجا ہو گئے تو کہیں تھانیدار کو ماضی یاد نہ آ جائے۔ پھر ہم کچھ نہیں کر سکیں گے۔‘‘
‎’’ہیں…‘‘ امی کے منہ سے نکلا۔
‎’’ہاں۔ باجی صبر کرنا ہو گا آپ کو۔ اللہ نے آپ کو ان دونوں کی زندگی کی خبر دی ہے، ایک دن ہم سے آ بھی ملیں گے۔‘‘
‎’’کل نہیں…‘‘ امی نے حسرت سے پوچھا۔
‎’’سب کچھ اللہ جانتا ہے وہی سب کچھ…‘‘
‎ایک دم سلسلہ ٹوٹ گیا۔ کوئی پائوں پکڑ کر چلایا تھا۔ پھر ایک آواز سنائی دی تھی۔
‎’’بابا جی… بابا صاحب…‘‘ میں چونک پڑا۔ چند افراد کھڑے ہوئے تھے۔ شکلیں جانی پہچانی سی تھیں۔ ان بزرگ کو میں نے فوراً پہچان لیا جن کا سامان اٹھانے کے دو روپے ملے تھے مجھے۔ میں جلدی سے اٹھ گیا اور آنکھیں پھاڑ کر انہیں دیکھنے لگا۔
‎’’بابا صاحب اٹھیے۔ اٹھیے بابا صاحب۔‘‘

‎’’کوئی غلطی ہو گئی مجھ سے۔‘‘ میں نے سہمے ہوئے لہجے میں پوچھا۔
‎’’غلطی ہم سے ہو گئی ہے بابا صاحب۔ آپ کو پہچان نہ سکے۔‘‘
‎کوئی غلطی ہو گئی ہو تو معاف کر دیں۔
‎’’اللہ کے نام پر آپ ہماری مدد کریں بابا صاحب۔ اللہ آپ کو اس کا اجر دے گا۔‘‘
‎’’آپ لوگ یقین کریں۔ میری سمجھ میں کچھ نہیں آیا۔ میں اٹھ کر بیٹھ گیا۔ وہی خاندان تھا جو ریسٹ ہائوس میں ٹھہرا ہوا تھا۔ اب میں نے سب کو پہچان لیا تھا۔‘‘ وہ سب بھی میرے اردگرد بیٹھ گئے۔ بزرگ نے کہا۔
‎’’عامر میرا پوتا ہے۔ میرے بیٹے کا ایک ہی بیٹا، دوسری بیٹی ہے۔ یہ ہے نسیمہ۔ عامر اسکول میں پڑھتا تھا۔ شوخ کھلاڑی مگر ذہین تھا، کبھی کبھی بچوں کے ساتھ اسکول سے آوارہ گردی کرنے نکل جاتا تھا۔ اس دن بھی ایسا ہی ہوا تھا۔ اس کے اسکول سے کافی فاصلے پر ایک جگہ کربلا کے نام سے مشہور ہے وہاں تعزیئے دفن کئے جاتے ہیں۔ نزدیک ہی قبرستان بھی ہے۔ آس پاس کھیت بکھرے ہوئے ہیں۔ وہیں کھیلنے چلا گیا تھا۔ واپس آیا تو چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔ آنکھیں چمک رہی تھیں۔ رات کو بخار آ گیا۔ وہ ہذیان بکتا رہا۔ اس کے بعد میاں صاحب ہم زیرعتاب ہیں۔ سیکڑوں ایسے واقعات ہو چکے ہیں جن کی تفصیل طویل ہے، اس پر سایہ ہو گیا ہے بابا صاحب۔ نہ جانے کیا کیا کر چکے ہیں ہم مگر کچھ نہیں ہو سکا۔ بابا صاحب اس وقت بھی اس پر جنون طاری تھا جب وہ بھاگ کر باہر آیا تھا۔ آپ کو دیکھ کر سہم گیا۔ اس وقت سے اندر گھسا ہوا ہے جب کہ اندر رہتا ہی نہیں تھا، اب کہتا ہے باہر نہیں جائوں گا، باہر وہ ہے… وہ!‘‘
‎’’کون؟‘‘ میں نے پوچھا۔
‎’’آپ سے ڈر رہا ہے۔‘‘
‎’’مجھ سے؟‘‘
‎’’ہاں۔‘‘
‎’’مجھ سے کیوں؟‘‘
‎’’اللہ جانتا ہے۔‘‘

‎میں ہنسنے لگا۔ عجیب ہیں آپ لوگ۔ آپ کو پتہ ہے کہ میں خود ایک غریب آدمی ہوں۔ محنت مزدوری کر کے پیٹ بھرتا ہوں۔ چچا میاں آپ کو خود علم ہے کہ میں نے آپ کا سامان اٹھا کر صبح کا ناشتہ کیا تھا!‘‘
‎’’اللہ کے نیک بندے ایسے ہی ہوتے ہیں۔ دیکھئے بابا صاحب۔ ہم بھلا آپ سے کچھ کہنے کی کہاں اہلیت رکھتے ہیں۔ اتنا ضرور کہیں گے کہ اگر اللہ نے اپنی کوئی امانت آپ کو سونپی ہے تو اسے دوسروں کی بھلائی کے لئے ضرور استعمال کریں۔ آپ کی سربلندی میں اضافہ ہی ہوگا۔ ہم پریشان حال لوگ ہیں نہ جانے کہاں کہاں مارے مارے پھر رہے ہیں۔ وہ معصوم بچہ ہے، کل گیارہ سال عمر ہے اس کی۔ پوری زندگی تباہ ہو جائے گی اس کی۔ ماں رو رو کر مر جائے گی اس کی۔ سولی پر لٹکے ہوئے ہیں ہم لوگ، اللہ کے نام پر ہماری مدد کریں۔ بزرگ رونے لگے۔
‎مگر محترم… میں… میں ایک عام آدمی ہوں۔ میں خود زندگی کا ستایا ہوا ہوں۔ آپ کو ضرور میرے بارے میں غلط فہمی ہوئی ہے۔‘‘
‎’’وہ صرف آپ سے خوفزدہ ہے۔ کہتا ہے باہر نہیں جائے گا۔ باہر کمبل والے بابا ہیں اور کمبل آپ ہی کے پاس ہے۔‘‘
‎’’کمبل!‘‘ میرے پورے وجود میں بم سا پھٹا۔ کمبل… کمبل۔ میں نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے اس کمبل کو دیکھا جسے ابھی سرہانے رکھے سو رہا تھا۔ یہ عطیہ انہیں دو۔ بزرگوں میں سے ایک نے مجھے دیا تھا مگر اس وقت میری اندھی آنکھوں نے اسے نہیں پہچانا تھا، اب تک نہیں پہچانا تھا۔ یہ تو وہی کمبل تھا جو ایک بار پہلے بھی مجھے مل چکا تھا۔

‎میں بھلا اس کمبل کو بھول سکتا تھا جب یہ ملا تھا تو مجھے عروج ملا تھا اور پھر میں نے اسے کھو دیا تھا۔ آہ یہ وہی کمبل تھا، سو فیصد وہی تھا، دماغ میں شیشے ٹوٹنے لگے۔ چھناکے ہونے لگے، وہ دونوں بزرگ یاد آئے جن میں سے ایک نے مجھے کمبل دیا تھا۔ شکلیں یاد نہیں تھیں لیکن… باقی سب کچھ یاد تھا کمبل اوڑھا تھا اور اس کے بعد امی اور ابو کو دیکھا تھا۔ ماموں ریاض کے بارے میں آگے کا سارا حال دیکھا تھا۔ کوئی تصور اتنی جامع شکل نہیں اختیار کرسکتا۔ میں نے تو وہ سب کچھ دیکھا تھا جس کا تصور بھی نہیں کیا تھا۔
‎’’بابا صاحب…‘‘ بزرگ کی آواز نے مجھے چونکا دیا۔
‎جی… میں … وہ۔
‎’’خدا کے لیے بابا صاحب، خدا کے لیے اللہ نے آپ کو کچھ دیا ہے تو اسے اللہ کی راہ میں خرچ کریں خدا کے لیے بابا صاحب۔‘‘
‎بزرگ نے دونوں ہاتھ جوڑ دیئے اور میں تڑپ اٹھا۔
‎’’ایسا نہ کریں محترم، خدا کے لیے ایسا کرکے مجھے گناہ گار نہ کریں۔‘‘
‎’’ہماری مدد کریں۔‘‘
‎’’آپ مجھے وقت دیجئے کچھ کرسکا تو ضرور کروں گا۔ آپ سے وعدہ کرتا ہوں میں خود حاضری دوں گا۔‘‘
‎’’بہت بہتر، ہم انتظار کریں گے۔‘‘
‎’’آپ جائیے میں آپ کے پاس ضرور آئوں گا۔ اگر آپ کا کام نہ کرسکا تو معذرت کرنے آئوں گا۔‘‘ میں نے کہا اور وہ سب امید بھری نظروں سے مجھے دیکھتے ہوئے واپس چلے گئے۔ میں نے دیوانہ وار آگے بڑھ کر کمبل اٹھالیا اسے سینے سے لگالیا، سکون کا ایک سمندر سینے میں اتر گیا تھا دیر تک اس سکون سے بہرہ وَر ہوتا رہا۔
‎شام کے سائے جھلک رہے تھے۔ عصر کی نماز کا وقت ہوگیا۔ پانی تلاش کرکے وضو کیا نماز پڑھی۔ اسی درخت کے نیچے بسیرا کرلیا تھا۔ رات ہوگئی عشاء کی نماز سے فارغ ہوا تھا کہ کھانا آگیا۔
‎’’بابا صاحب لنگر لے لیجئے۔ صاحب مزار کے نام کا ہے۔‘‘ انکارنہ کرسکا تھوڑا بہت
‎کھانا کھایا اس کے بعد کمبل اوڑھ لیا، دل میں کہا۔
‎’’مجھے اس نعمت سے سرفراز کرنے والو! مجھ سے زیادہ تم میرے بارے میں جانتے ہو میں کوربینا ہوں، میری نظر محدود ہے۔ میری عقل محدود ہے جو منصب مجھے عطا کیا گیا ہے اس سے عہدہ برآ ہونے کے لئے رہنمائی درکار ہے۔ میری عقل ناقص صحیح فیصلے کرنے سے قاصر ہے مجھے رہنمائی عطا ہو۔ مجھے رہنمائی عطا ہو، مجھے رہنمائی درکار ہے، مجھے رہنمائی چاہئے۔‘‘ آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے کسی نے زور سے دھکیل کر کہا۔
‎’’بڑا پھیل کر سورہا ہے سرک جگہ دے۔‘‘ میں لڑھک گیا تھا، جلدی سے اٹھ کر بیٹھ گیا۔ یہ بھی پھٹے پرانے کپڑوں میں ملبوس ایک بوڑھا آدمی تھا۔ ’’زمین اللہ کی ہے اس پر سب کا حق ہے۔‘‘
‎’’کیوں نہیں آپ آرام سے لیٹ جائیں۔‘‘ میں جلدی سے اٹھ کر بیٹھ گیا۔ بوڑھا آدمی اطمینان سے لیٹ گیا کچھ دیر خاموشی سے گزر گئی پھر اس نے گردن اٹھا کر مجھے دیکھا اور بولا۔

‎’’پیروں میں بڑا درد ہورہا ہے ذرا دبا دے۔‘‘
‎’’جی…!‘‘ میں نے اس کا پائوں اٹھاکر گود میں رکھ لیا اور اسے دبانے لگا۔
‎دفعتاً اس نے بڑی زور سے دوسرا پائوں میرے سینے پر مارا اور میں بے اختیار لڑھک کر دور جاگرا۔
‎’’ہاتھوں میں کانٹے اگے ہوئے ہیں۔ آہستہ نہیں دبا سکتا طاقت آزما رہا ہے میرے پیروں پر۔‘‘
‎’’اوہ نہیں بابا صاحب معاف کردیجئے اب آہستہ دبائوں گا۔‘‘ میں اپنی جگہ سے اٹھ کر دوبارہ اس کے پاس آبیٹھا۔ احترام سے دوبارہ اس کا پائوں لے کر گود میں رکھا اور اسے آہستہ آہستہ دبانے لگا۔
‎’’ہاں اب ٹھیک ہے۔‘‘ اس نے آنکھیں بند کرلیں، کوئی ایک گھنٹہ گزر گیا تو اس نے کروٹ بدل کر دوسرا پائوں میری گود میں رکھ دیا۔ میں دوسرا پائوں دبانے لگا۔ کافی دیر گزر گئی اچانک وہ بولا۔ ’’قاتل بہت ہیں کچھ زیادہ خطرناک کچھ کم۔ دشمن کے وار کرنے سے پہلے اس پر وار کردو۔ اسے مار ڈالو۔ دشمن نمبر ایک غرور ہے، خودپسندی ہے، تمہارے بدن کا لباس، تمہاری بینائی، تمہاری سوچ اور سب سے بڑھ کر تمہاری زندگی اپنی نہیں ہے پھر کس چیز پر حق جتاتے ہو۔ بیوقوفی ہے نا… کیوں ہے نا…؟‘‘
‎’’ہاں…‘‘ میں نے آہستہ سے کہا۔
‎’’سب کچھ قرض ہے ادھار ہے ادائیگی ضرور ہوتی ہے، بچا کھچا اپنا ہوتا ہے دوسرے کے مال پر کیا اترانا کیوں ہے کہ نہیں؟‘‘
‎’’ٹھیک کہتے ہیں بابا صاحب۔‘‘
‎’’پوچھ لینا اچھا ہوتا ہے سمجھ میں نہ آئے تو پوچھ لو۔‘‘
‎’’کس سے بابا صاحب؟‘‘
‎’’بتانے والا اندر ہوتا ہے پوچھو گے جواب ملے گا، بھٹکنے کی ضرورت ہی کیا ہے مگر کرنے سے پہلے پوچھو۔‘‘
‎’’جی بابا صاحب۔‘‘
‎’’خود غرضی ہمیشہ نقصان دیتی ہے پہلے دوسروں کے بارے میں سوچو پھر اپنے بارے میں۔ جذبات سنبھالنے پڑتے ہیں ورنہ کھیل بگڑ جاتا ہے کیا سمجھے۔ اور کچھ پوچھنا ہے۔‘‘
‎’’آپ نے جتنا بتایا ہے اتنا تو سمجھ لیا بابا صاحب۔‘‘
‎’’میں نابینا ہوں بابا صاحب کچھ نہیں جانتا۔ سچائی سے سب کچھ کرنا چاہتا ہوں مگر ناواقفیت کا شکار ہوجاتا ہوں۔‘‘
‎میں نے رندھی ہوئی آواز میں کہا۔
‎’’چہرہ ڈھک لینا، دل و دماغ روشن ہوجائیں گے بس کافی ہے۔‘‘
‎بوڑھے شخص نے پائوں سمیٹ لیے۔
‎’’اور دبائوں بابا صاحب؟‘‘
‎’’نہیں… چلتا ہوں۔‘‘ بوڑھے نے کہا اور پھر تیزی سے آگے بڑھ گیا میں اسے دیکھتا رہا اس نے چند قدم آگے بڑھائے اور پھر ایک اور درخت کی آڑ میں گم ہوگیا۔ دل بری طرح کانپ رہا تھا، رہنمائی ملی تھی، انعام عطا ہوا تھا، ہدایت کی گئی تھی۔ درخت کے نیچے بیٹھ کر سوچ میں ڈوب گیا۔ ساری باتوں کو یاد کرکے دل میں اتار رہا تھا پھر وہ لوگ یاد آگئے جن سے وعدہ کیا تھا۔ کیا کروں، کیا کرنا چاہئے لیٹ کر کمبل چہرے پر ڈال لیا۔ ذہن میں ان کا تصور کیا تو چاروں طرف روشنی پھیل گئی۔ وہ سب نگاہوں کے سامنے آگئے بزرگ، ان کا بیٹا، بہو، لڑکی اور وہ بچہ۔ زبان باہر لٹکی ہوئی تھی۔ آنکھوں میں دہشت رقصاں تھی۔ نوجوان لڑکی نے آنکھیں بند کی ہوئی تھیں اور خوف سے کانپ رہی تھی، بچے کی ماں کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے اور وہ حسرت بھری نظروں سے بچے کو دیکھ رہی تھی۔ اس کا شوہر سر پکڑے بیٹھا ہوا تھا اور وہی بزرگ تسبیح ہاتھوں میں لیے کچھ پڑھ رہے تھے۔
‎دفعتاً لڑکے کی زبان لمبی ہونے لگی۔ سرخ زبان کسی سانپ کی طرح بل کھاتی ہوئی آگے بڑھ رہی تھی۔ اس کی لمبائی کوئی چار گز ہوگئی اور پھر اچانک اس نے ان بزرگ کے ہاتھوں میں دبی تسبیح کو لپک لیا، نوجوان لڑکی نے دہشت بھری چیخ ماری اور گر کر بے ہوش ہوگئی۔
‎’’بات کرلو… چلے جائو… حال معلوم ہوجائے گا… چلے جائو کام ہوجائے گا۔‘‘ مجھے اپنی آواز سنائی دی، میں بول رہا تھا، میں سن رہا تھا۔ مستعدی سے اٹھ کھڑا ہوا۔ کمبل تہہ کرکے شانے پر رکھا اور تیز تیز قدموں سے اس طرف چل پڑا، کچھ دیر کے بعد وہاں پہنچ گیا سب لوگ ریسٹ ہائوس میں تھے۔ میں نے دروازہ بجایا انہی بزرگ نے دروازہ کھولا تھا۔
‎’’آپ… آئیے، دیکھئے اندر کیا ہورہا ہے۔‘‘
‎انہوں نے رندھے ہوئے لہجے میں کہا۔
‎’’آسکتا ہوں؟‘‘

‎’’آجائیے۔‘‘ بزرگ دروازے سے ہٹ گئے میں اندر داخل ہوگیا۔ بچہ اچھل پڑا تھا اس کی زبان فوراً اندر چلی گئی اور اٹھ کر دیوار سے جالگا۔ وہ مجھے خوفزدہ نظروں سے دیکھ رہا تھا اور شاید بھاگنے کے لیے جگہ تلاش کررہا تھا، اس نے غرائی ہوئی آواز میں کہا۔
‎’’میرا تمہارا کوئی جھگڑا نہیں ہے، اپنا کام کرو ورنہ اچھا نہ ہوگا۔‘‘
‎’’ایک گلاس پانی دیجئے۔‘‘ میں نے بزرگ سے کہا اور وہ جلدی سے ایک طرف رکھی صراحی کی طرف بڑھ گئے۔
‎’’تم سن نہیں رہے، میرا تمہارا کوئی جھگڑا نہیں ہے۔‘‘
‎لڑکے نے بھاری آواز میں کہا۔
‎’’یہاں تم سے جھگڑا کون کررہا ہے۔ اللہ کے بندے ہو، اللہ کا نام لے کر بات کرو۔‘‘ میں نے بزرگ کے ہاتھ سے پانی کا گلاس لے کر اس پر بسم اللہ پڑھ کر پھونکی اور اس کے بعد پانی کا گلاس لڑکے کی طرف بڑھاکر بولا۔
‎’’لو میاں پانی پیئو، محبت سے کوئی چیز پیش کی جائے تو اسے محبت سے ہی قبول کرنا چاہئے۔‘‘
‎’’دیکھو آخری بار سمجھا رہا ہوں، ہمارے بیچ میں مت آئو تمہیں کوئی فائدہ نہ ہوگا سوائے نقصان کے۔‘‘
‎’’اللہ کے بندے ہوکے، اللہ کے بندوں کو نقصان پہنچائو گے تو تمہارے ساتھ بھی تو بہتری نہیں ہوگی جواب دو، ورنہ یہ پانی میں تمہارے جسم پر پھینک دوں گا اور تم سمجھتے ہو کہ یہ گناہ صرف تمہارے سر ہوگا۔‘‘
‎’’ارے واہ جھگڑا ہمارا ہے، بیچ میں کود رہے ہو تم۔ ذرا اس سے پوچھو کیا کیا ہے اس نے، بچے کھیل رہے تھے اسے کوئی نقصان بھی نہیں پہنچایا تھا، شرارت اپنی جگہ ہوتی ہے، پتھر مارنے شروع کردیئے اور اچھا خاصا زخمی کردیا میرے بچے کو، میں بھلا چھوڑ دوں گا اسے، اتنے ہی زخم نہ لگادوں اسے تو میرا بھی نام نہیں۔‘‘
‎’’درگزر بھی تو ایک پسندیدہ فعل قرار دیا گیا ہے۔ بچپن ہے، بے شک تمہیں نقصان پہنچا ہوگا لیکن اس کی زندگی لے کر تمہیں کیا مل جائے گا۔‘‘
‎’’اور اگر میرا بچہ مرجاتا تو…‘‘
‎’’اللہ نے اسے زندگی عطا فرمائی تم اس کے صدقے اس کی زندگی بھی قائم رہنے دو… یہ ضروری ہے۔‘‘
‎’’کیا ضروری ہے اور کیا غیرضروری، میں سمجھتا ہوں تم اپنی یہ ولایت لے کر یہاں سے چلے جائو ورنہ میرا تمہارا جھگڑا ہوجائے گا اور ہاں پہچانتا ہوں تمہیں اچھی طرح، جانتا بھی ہوں ایک بار دیکھ بھی چکا ہوں مگر وہ معاملہ ذرا دوسرا تھا ہر ایک کے بیچ میں پہنچ جاتے ہو۔ تمہارا بھی کچھ کرنا ہی پڑے گا۔‘‘
‎’’اگر میرے سر میں پتھر مارکر تمہارا دل ٹھنڈا ہوسکتا ہے تو میں حاضر ہوں کچھ نہ کہوں گا تمہیں، لیکن بچوں کے باپ ہو، معاف کردو اسے۔ میں اس کی طرف سے اور اس کے تمام اہل خانہ کی طرف سے تم سے معافی چاہتا ہوں۔ اگر کوئی جرمانہ کرنا چاہو تو جرمانہ کردو ادائیگی ہوگی۔ مگر اب اسے معاف ہی کردو تو بہتر ہے۔‘‘
‎’’اور اگر نہ کروں تو…؟‘‘
‎’’تو پھر بات دوسری شکل اختیار کرجائے گی۔‘‘ میں نے گلاس سیدھا کرلیا اور لڑکا دیوار کے سہارے ادھر سے ادھر کھسکنے لگا پھر بولا۔ ’’یہ طریقہ ہوتا ہے دوستی کرانے کا، ان لوگوں سے کہو کہ آئندہ اگر یہ بچہ اس طرف دیکھا گیا تو پھر میں اسے نہیں چھوڑوں گا اور تم، ٹھیک ہے میں نہ سہی کوئی دوسرا تمہیں ٹھیک کردے گا۔ ہر ایک کے بیچ میں ایسے ہی مت آجایا کرو۔‘‘


’’بہرحال فی الحال تو تم یہ بتائو کہ سچے دل سے اسے معاف کررہے ہو یا یونہی عارضی طور پر مجھے ٹال رہے ہو؟‘‘
’’اور اگر یہ بچہ دوبارہ ادھر دیکھا گیا تو…؟‘‘
’’اس کا وعدہ اس کے والدین کریں گے۔‘‘
عورت جلدی سے بولی۔ ’’نہیں جائے گا ہم وہ شہر ہی چھوڑ دیں گے، وہ جگہ چھوڑ دیں گے ہم، کبھی نہیں جائیں گے اس طرف، کبھی نہیں جائیں گے۔‘‘
’’دیکھو میاں جی مشورہ دے رہے ہیں تمہیں ہم ایسے معاملات میں ٹانگیں مت اڑایا کرو، ورنہ کسی وقت نقصان بھی اٹھا جائوگے۔ ارے ہاں پہنچ گئے ولی بن کر۔‘‘ لڑکے نے کہا اور اس کے بعد اس نے آنکھیں بند کرلیں، رفتہ رفتہ اس کا جسم ڈھیلا پڑتا جارہا تھا اور پھر وہ دیوار کے ساتھ نیچے کھسکتا ہوا زمین پر گرپڑا۔ وہ بھی بے ہوش ہوگیا تھا بزرگ جلدی سے آگے بڑھے ان کا بیٹا بھی آگے بڑھا اور باپ نے بیٹے کو گود میں اٹھالیا۔ لڑکا گہری گہری سانسیں لے رہا تھا۔ عورت کی سسکیاں بلند ہورہی تھیں میں نے آہستہ سے کہا۔ ’’خدا نے اپنا کرم کردیا میرے خیال میں اب سب ٹھیک ہے۔ آپ لوگ اطمینان سے اس کے ہوش میں آنے کا انتظار کریں۔ اب خدا نے چاہا تو سب بہتر ہوجائے گا۔‘‘

بزرگ جلدی سے میرے قریب پہنچے اور انہوں نے جھک کر میرے پائوں پکڑنا چاہے تو میں دو قدم پیچھے ہٹ گیا۔
’’نہیں محترم، خدا کے لیے نہیں یہ آپ کیا کررہے ہیں۔ یہ میرے ساتھ دشمنی ہے، محبت کے جواب میں دشمنی۔‘‘
بزرگ ایک دم سیدھے ہوگئے تھے۔
’’میرا دل کہہ رہا ہے، میرا بچہ ٹھیک ہوگیا۔ آہ ہم سب کو نئی زندگی ملی ہے اپنے جذبات کا اظہار میں کیسے کروں۔‘‘ وہ بولے۔
’’بس ایک ہی التجا ہے۔‘‘
’’حکم کیجئے بابا صاحب۔‘‘
’’میرے حق میں دعائے خیر کیجئے۔‘‘
’’سنیئے بابا صاحب سنیئے، کچھ خدمت کا موقع دیجئے ہمیں۔‘‘
’’اللہ نے آپ کو اپنی رحمت سے نوازا ہے۔ ایسی باتیں نہ کیجئے خدا حافظ۔‘‘ میں نے کہا اور وہاں سے نکل آیا اس کے بعد رکنے کو دل نہیں چاہا تھا چنانچہ کسی سمت کا تعین کئے بغیر چلتا رہا۔
مزار شریف سے بہت دور آبادی تھی وہاں سے بھی گزر گیا۔ لق ودق میدان شروع ہوگئے، چاند نکل آیا تھا، ایک پرسکوت ماحول تھا اسی طرح چلتے رہنے میں لطف آرہا تھا، چلتا رہا اور نہ جانے رات کا کونسا پہر گزر گیا، پائوں کچھ وزنی محسوس ہوئے تو رک گیا، جھاڑیاں، پتھر مٹی کے تودے گڑھے جن میں پانی بھرا ہوا تھا جھینگر بے وقت کی راگنی الاپ رہے تھے۔ کسی قدر صاف ستھری جگہ دیکھ کر بیٹھ گیا اور تھکن محسوس کرکے وہیں آرام کرنے کی ٹھانی۔ ایک پتھر سے سر ٹکایا اور آنکھیں بند کرلیں۔ نہ جانے کتنی دیر گزر گئی۔ قدموں کی چاپ سنائی دی اور آنکھیں کھل گئیں، چار انسان نظر آئے۔ چاندنی میں انہیں صاف دیکھا جاسکتا تھا۔ دیہاتی تھے لاٹھیاں اٹھائی ہوئی تھیں، لمبے تڑنگے تھے۔ سہمے سہمے قدم اٹھاتے آگے بڑھ رہے تھے۔ میں انہیں دیکھتا رہا اور جب وہ میرے قریب سے گزرے تو میں اٹھ کر بیٹھ گیا۔
’’سنو… بات سنو۔‘‘ میں نے کہا اور وہ چاروں رک گئے۔ انہوں نے شاید مجھے دیکھا تھا اس لیے وہ چاروں طرف دیکھنے لگے۔ پھر سب ہی دہشت سے چیخنے لگے۔ انہوں نے بھاگنے کی کوشش کی مگر ایک دوسرے میں الجھ کر گر پڑے۔
’’ارے دیّا رے دیّا۔ ارے شردھانند تیرا ستیاناس۔ ہے پربھو… ہے بھگون… ارے بھاگو… ارے بھاگو۔‘‘ ان میں سے کسی نے چیخ کر کہا مگر ان کی ہمت پست ہوگئی تھی۔
’’ڈرو نہیں بھائی، میں بھی تمہارا جیسا انسان ہوں، ڈرو نہیں۔‘‘ میں کھڑا ہوگیا۔
’’ہرے ماردیو، رام دیال۔ ہرے بھاگو بھیا۔‘‘ کوئی اور چیخا اس دوران میں ان کے بالکل قریب پہنچ گیا تھا۔
’’دیکھو میں پھر کہہ رہا ہوں تم سے ڈرو نہیں میں کوئی بھوت پریت نہیں تمہارے جیسا انسان ہوں۔‘‘
’’ہرے بھیا بھوت ناہیں ہو تو کا یہاں کھیت رکھا رہے ہو؟‘‘ ایک نے ہمت کرکے کہا۔
’’مسافر ہوں سفر کررہا تھا۔ تھک کر یہاں لیٹ گیا تھا۔‘‘
’’ایں۔‘‘ ان کی کچھ ہمت بندھی ایک ایک کرکے اٹھ کر بیٹھ گئے۔ سب نے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر مجھے دیکھا اور پھر ڈرے ڈرے انداز میں ہنسنے لگے۔
’’ارے تو ڈر کون رہا تھا۔ ہم تو پہلے ہی کہہ رہے تھے ہاں… واہ رہے رام دیال تو بھی بڑا بکٹ ہے بھائی۔‘‘
’’بس بس چپ ہوجا شرم کر جان تو تیری نکل رہی تھی مگر بھائی مسافر لگو تو تم بھوت ہی رہو۔ ارے بھیا اکیلے یہاں پڑے ہوئے تھے۔‘‘
’’تم لوگ کون ہو اور اس وقت کہاں جارہے تھے۔‘‘
’’ارے بس کیا بتائیں یہ شردھانند ہے بس ہریالی بستی گئے تھے کام سے صبح کو چلتے مگر یہ گھر والی سے کہہ آیا تھا کہ رات کو واپس آجائے گا۔ بس بھیا ہمیں کھینچ کر چل پڑا حالانکہ راستے میں لال تلیا پڑے ہے مگر بھیا بیاہ کو چار مہینے ہوئے ہیں وعدہ کیسے نہ پورا کرتا ارے ہے نا شردھانند…‘‘
’’اب چلو یا یہیں پڑے رہو گے۔‘‘ شردھانند نے کہا۔
’’بھائی مسافر، تم کدھر جارہے تھے۔‘‘
’’بس سیدھا ہی جارہا تھا۔‘‘
’’کہیں دور سے آرہے ہو کا؟‘‘
’’ہاں۔‘‘
’’چلو گے ہمارے ساتھ یا یہیں جنگل میں مزے کروگے؟‘‘
’’تم لوگ کہاں رہتے ہو؟‘‘
’’دھونی پور کے رہنے والے ہیں ہم۔‘‘
’’چلو، میں بھی تمہارے ساتھ چلتا ہوں۔‘‘ میں نے کہا تھکن تھی مگر پھر بھی ان سادہ دل دیہاتیوں کے ساتھ جانے کو دل چاہا۔ وہ سب آگے بڑھ گئے تھے۔
’’تمہارا نام کیا ہے؟‘‘ شردھانند نے پوچھا۔
’’مسعود۔‘‘ میں نے جواب دیا۔
’’میاں بھائی ہو؟‘‘
’’ہاں۔‘‘
’’پہلے کبھی دھونی پور نا گئے؟‘‘
’’کبھی نہیں۔‘‘
’’بڑھیا جگہ ہے۔ مگر…‘‘
’’مگر کیا؟‘‘
’’ارے نابھائی نا۔ رات کا وقت ہے کچھ نا بولیں گے ہم۔ ویسے ہی اس سسرے شردھانند نے مروادیا ہے ہمیں۔‘‘ رام دیال نے خوفزدہ لہجے میں کہا۔ اس کے بعد دیر تک خاموشی طاری رہی تھی پھر ان لوگوں کے قدم رکنے لگے سب ڈرے ڈرے سے لگ رہے تھے میں پوچھے بغیر نہ رہ سکا۔
’’کیا بات ہے؟‘‘
’’لال… لال تلیا۔‘‘
’’تم لوگ پہلے بھی اس کا نام لے چکے ہو۔ یہ لال تلیا کیا ہے۔‘‘
’’ارے بھیا یہاں سے نکل چلو، بعد میں بتادیں گے۔‘‘
’’نہیں ابھی بتائو۔‘‘
’’جمناداس…‘‘ شردھانند نے خوفزدہ لہجے میں کہا اور سب رک گئے۔ شردھانند خوفزدہ انداز میں ایک طرف اشارہ کررہا تھا، میں نے اس سمت دیکھا آگ روشن تھی اور کوئی شخص بیٹھا اس جلتی آگ میں لکڑیاں ڈال رہا تھا۔ جس سے آگ اور بھڑک اٹھتی تھی۔
’’کیا بات ہے آگے نہیں چلو گے۔‘‘ میں نے پوچھا مگر کسی نے کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ سب وحشت زدہ نظروں سے ادھر ہی دیکھ رہے تھے۔ میں کچھ دیر ان کے ساتھ کھڑا رہا پھر میں نے آگے قدم بڑھاتے ہوئے کہا۔ ’’ٹھیک ہے میں چلتا ہوں تم یہاں آرام کرو۔‘‘
’’ارے کوئی دماغ خراب ہوا ہے تمہارا۔ آگے نہ بڑھنا بے موت مارے جائوں گے، گردن مروڑ کر رکھے دے گا تمہاری۔‘‘
’’کون؟‘‘
’’سر کٹا… ہرے رام غلطی سے منہ سے نام نکل گیا۔‘‘ رام دیال نے دانتوں تلے زبان دبالی۔
’’سر کٹا کہاں ہے وہ۔‘‘
’’تلیا کنارے آگ کون جلارہا ہے۔‘‘
’’وہ سر کٹا ہے۔‘‘
’’ارے تو کیا چاچا ہے ہمارا۔‘‘ سب کے سب دہشت زدہ نظر آرہے تھے۔
’’مجھے اس کے بارے میں کچھ اور بتائو۔‘‘
’’تمہاری تو گھوم گئی ہے کھوپڑی۔ ہمیں کاہے کو مروائو ہو بھائی۔ ارے واپس چلو بھیا آج کی تو رات ہی مصیبت کی ہے۔ کہہ رہے تھے شردھانند سے آج گھر پہنچ جائیں تو جانو۔‘‘
’’ٹھیک ہے۔ تم یہاں رکو میں دیکھتا ہوں۔‘‘ میں آگے بڑھنے لگا تو چاروں نے لپک کر مجھے پکڑلیا۔
’’ساری شیخی نکل جائے گی میاں جی رک جائو، آئو واپس چلتے ہیں۔ دن نکل آئے گا تو آگے بڑھیں گے۔ تمہیں اس کے قصے نہیں معلوم۔‘‘
’’بتائوگے تو پتہ چلیں گے نا۔‘‘
’’کوئی ایک ہو تو بتائیں جمناداس کے سارے کٹم کو کھا گیا ہے یہ۔ ہری داس کو اس نے مارا۔ سلیم چاچا کا جوان بیٹا اس کے ہاتھوں مارا گیا، کلو سنگھاڑی کی لاش تال میں گل گئی۔ راتوں کو مستی میں نکل آتا ہے اور آوازیں لگاتا ہے۔ سنگھاڑے لے لو سنگھاڑے۔ کسی نے جھانک لیا تو سمجھو گیا۔ ہماری بستی تو بھوت بستی ہوگئی ہے آج کل۔ بے چارے بنسی لعل پر تو مصیبت آئی ہوئی ہے۔‘‘
’’آئو۔ بیٹھو، مجھے اس کے بارے میں مزید بتائو۔‘‘ میں نے کہا۔ بات دلچسپ تھی خلق خدا کو تنگ کیا جارہا تھا تو ذمہ داری تو آتی تھی، ان لوگوں نے معصومیت سے مکمل کہانی سنائی۔ جمناداس دھونی پور کا بنیا تھا۔ دو بیٹے ایک بیٹی تھی۔ ایک بیٹا دکان کے کچھ پیسے جوئے میں ہار گیا۔ باپ کے خوف سے لال تلیا پر آچھپا، صبح کو اس کی اکڑی ہوئی لاش ملی تھی۔ جمناداس نے ایک منتر پڑھنے والے کو بلاکر تلیا کنارے جاپ کرایا بس غضب ہوگیا۔ منتر پڑھنے والا تو خیر بھاگ گیا مگر جمناداس کی مصیبت آگئی۔ بیوی مری، بیٹی آگ سے جل کر مرگئی پھر دوسرا بیٹا پاگل ہوگیا اور سب کے غم میں جمناداس نے دھتورہ کھاکر خودکشی کرلی۔ ہری داس اہیر بھی تلیا کنارے مارا گیا۔ سلیم چاچا کا بیٹا پہلوانی کرتا تھا۔ مسلمان تھا۔ سر کٹے کو تسلیم نہ کیا۔ تلیا کنارے آکر سرکٹے کو للکار دیا۔ بہت سے لوگوں نے بے سرکے پہلوان کو اس سے کشتی لڑتے دیکھا اور پھر نوجوان لڑکا خون تھوک تھوک کر مرگیا یہی ساری کہانیاں تھیں میں نے بنسی لعل کے بارے میں پوچھا۔ ’’وہ دوسری بات ہے۔‘‘
’’کیا؟‘‘
’’ارے وہ اور واقعہ ہے بنسی لعل مہاراج بھی تو کسی سے کم نہیں ہیں۔‘‘
’’وہ اس سرکٹے کا قصہ نہیں ہے؟‘‘
’’نہیں وہ ان کے کرموں کا پھل ہے۔‘‘
’’چلو تم لوگ یہاں بیٹھو میں ذرا اس سے ملاقات کرلوں۔‘‘ میں نے کہا اس بار میں ان کے رو کے سے نہ رکا تھا آگ کو نشان بناکر ہی آگے بڑھا اور تالاب کے کنارے پہنچ گیا۔ خاصا وسیع قدرتی تالاب تھا جس میں سنگھاڑوں کی بیلیں تیر رہی تھیں، میں نے جلتی آگ کے پاس اسے بیٹھے ہوئے دیکھا لباس سے بیگانہ ایک لمبا تڑنگا شخص تھا اور درحقیقت اس کے شانوں پر سر موجود نہیں تھا۔ میری آہٹ پاکر وہ کھڑا ہوگیا میں خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا۔
’’کون ہے رے تو۔‘‘ ایک منمناتی آواز سنائی دی۔
’’مسعود ہے میرا نام۔ تمہارا بھی کوئی نام ہے؟‘‘
’’سورما بن کر آیا ہے؟‘‘
’’نہیں تمہیں سمجھانے آیا ہوں؟‘‘
’’کیا سمجھائے گا؟‘‘
’’تمہارا اصل ٹھکانہ کہاں ہے؟‘‘
’’تو کون ہوتا ہے پوچھنے والا۔‘‘
’’تم خلق اللہ کو پریشان کرتے ہو تمہیں یہ جگہ چھوڑنا ہوگی یہاں سے چلے جائو ورنہ نقصان اٹھائو گے۔‘‘
’’لڑے گا؟‘‘ اس نے ران پر ہاتھ مارکر اچھلتے ہوئے کہا۔
’’مجبور کروگے تو لڑنا پڑے گا، میں چاہتا ہوں ایسا نہ ہو۔‘‘ میں نے کہا۔ دل کہہ رہا تھا کہ جو کچھ کررہا ہوں درست ہے وہ گندی روح ہے اور انسان کو نقصان پہنچاتی ہے اسے روکنا ضروری ہے وہ کئی بار ران پر ہاتھ مارکر اچھلا اور پھر اس نے اپنے بائیں شانے سے میرے سینے پر ٹکر ماری۔ لڑکھڑا گیا، ہاتھ بڑھاکر اسے پکڑنے کی کوشش کی لیکن ہاتھ اس کے بدن کے درمیان سے نکل گئے۔ اس نے عقب میں آکر پھر ایک ٹکر ماری اور میں پھر لڑکھڑا گیا مگر گرا نہیں تھا۔ ایک منمناتا بھیانک قہقہہ اس کے حلق سے نکلا اور وہ اچھل کود کرنے لگا۔ کبھی سو گز دور نظر آتا کبھی بالکل قریب، اسے چھونے کی کوشش ناکام ہوگئی۔ میں نے بسم اللہ پڑھی اور تیار ہوگیا۔ اس نے قریب آکر میرے سینے پر لات ماری تو میں نے فوراً کمبل اس پر اچھال دیا اور کمبل پوری طرح پھیل کر اس پر چھاگیا، ایک بھیانک چیخ سنائی دی اور وہ زمین پر گرپڑا۔ کمبل کے نیچے وہ بری طرح جدوجہد کررہا تھا اور اس کی چیخیں بھیانک سے بھیانک تر ہوتی جارہی تھیں۔ وہ کئی کئی فٹ اچھل رہا تھا پھر اس کی آواز مدھم ہوتی چلی گئی اور کچھ دیر کے بعد کمبل بالکل زمین پر پھیل گیا جیسے اس کے نیچے کچھ نہ ہو، میں نے آگے بڑھ کر اسے اٹھالیا اور نیچے کا منظر دیکھ کر خود بھی حیران رہ گیا۔ زمین پر ایک بے سرکے انسانی جسم کا پورا سیاہ نشان بنا ہوا تھا جس سے ہلکا ہلکا دھواں اٹھ رہا تھا۔ میں نے کمبل لپیٹ کر کندھے پر ڈال لیا نہ جانے کس طرح ان چاروں کی ہمت پڑی کہ وہ میرے قریب آگئے اور پھٹی پھٹی آنکھوں سے اس منظر کو دیکھنے لگے۔
’’بھسم ہوگیا۔‘‘ رام دیال نے کہا پھر سب نے مجھے دیکھا اور اچانک چاروں ہاتھ جوڑ کر میرے پیروں سے لپٹ گئے۔ ’’جے ہو مہاراج کی۔‘‘
’’مہاراج میاں ہیں۔‘‘ دوسرا بولا۔
’’ہم سمجھے نہ تھے مہاراج۔‘‘ بمشکل تمام میں پیچھے ہٹا اور میں نے ان سے اپنے پائوں چھڑاتے ہوئے کہا۔ ’’یہ کیا کررہے ہیں آپ لوگ؟‘‘
’’آپ نے سر کٹا مار دیا مہاراج، سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے ہم نے۔ آپ دھرماتما ہیں۔ ہم سمجھے نہیں تھے آپ کو مہاراج۔ آپ نے سر کٹا مار دیا، ارے دیا رے دیا، یہ بات تھی اور ہم اندھے ہیں پہچان نہیں پائے آپ کو مہاراج۔ کوئی بری بات منہ سے نکل گئی ہو تو معاف کردیں، ان سب کی حالت خراب ہورہی تھی، میں نے انہیں تسلی دے کر مسکراتے ہوئے کہا۔ چلئے آپ لوگوں کو ایک گندی روح سے تو نجات مل گئی۔‘‘

’’ارے مہاراج بستی والے سنیں گے تو چرنوں میں آپڑیں گے آپ کے۔ سب کا ناک میں دم کر رکھا تھا اس سر کٹے نے اور مہاراج یہ تو بھسم ہوگیا
دھرتی میں سماگیا، ہرے رام۔ ہرے رام۔‘‘ ان کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کہیں، میں نے کہا۔ ’’چلو ٹھیک ہے یہ کام تو ہوگیا اب تو بستی چلوگے۔‘‘
’’اب بھی نہ چلیں گے مہاراج۔‘‘ وہ چاروں بڑی عقیدت سے میرے پیچھے پیچھے چلنے لگے راستے میں، میں نے ان سے بستی میں رہنے والوں کے بارے میں پوچھا۔
’’بڑی اچھی ہے ہماری بستی مہاراج۔ ہندو، مسلمان کا کوئی جھگڑا نہیں ہے۔ ہم اس بستی میں پیدا ہوئے، جوان ہوگئے، کبھی کوئی خرابی نہیں ہوئی۔ سنسار میں ادھر ادھر لوگ لڑتے بھڑتے رہتے ہیں اور ہم بڑے پریم سے رہتے ہیں۔ جہاں ہم مولوی حمیداللہ کی باتیں سنتے ہیں وہیں پنڈت کرشن مراری کی کتھائیں بھی سنتے ہیں، بھگوان کا نام سب اپنے اپنے طور پر لیتے ہیں مہاراج۔ کیا ہندو کیا مسلم۔‘‘
’’مولوی حمیداللہ کون ہیں؟‘‘
’’دھونی پور کی مسجد کے مولوی صاحب ہیں، بڑے اچھے آدمی ہیں بیچارے۔‘‘
’’مسلمان یہاں کتنے آباد ہیں؟‘‘
’’ہمیں ٹھیک سے نہیں معلوم مہاراج پر بہت ہیں اور سب اپنے اپنے کام کرتے ہیں۔‘‘ راستے بھر ہم لوگ باتیں کرتے آئے اور پھر دھونی مسجد پہنچ گئے۔ صبح ہونے میں دیر ہی کتنی رہ گئی تھی۔ پھر بستی کے سرے میں قدم رکھا تو مسجد سے اذان کی آواز سنائی دی اور میرے قدم رک گئے۔ میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔ ’’ذرا مسجد کا راستہ اور بتادو مجھے۔‘‘
’’وہ ہے، سیدھے ہاتھ کی سیدھ میں وہ جو روشنی جل رہی ہے۔‘‘ شردھانند نے کہا۔ میں نے مسکراتے ہوئے انہیں دیکھا اور پھر کہا۔ ’’اچھا تو بھائیو! میری منزل وہ ہے۔‘‘
’’دھونی پور میں رہیں گے تو مہاراج؟‘‘
’’دیکھو جو اللہ کا حکم۔‘‘
’’ہم آپ کی سیوا کرنا چاہتے ہیں۔‘‘
’’نہیں بھائی تمہارا بے حد شکریہ مجھے کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے۔ اچھا اب تم لوگ اپنے گھروں کو جائو میں بھی اپنے اللہ کے گھر کی جانب قدم بڑھاتا ہوں۔‘‘ میں نے کہا، انہوں نے ہاتھ جوڑ کر میرے سامنے گردنیں جھکادیں اور عقیدت سے واپس چل پڑے۔ میرا رخ مسجد کی جانب ہوگیا تھا۔
مسجد زیادہ فاصلے پر نہیں تھی۔ تھوڑی دیر کے بعد میں وہاں پہنچ گیا۔ چھوٹی چھوٹی تقریباً پانچ فٹ اونچی دیواریں چاروں طرف بنی ہوئی تھیں۔ احاطہ وسیع تھا اور مسجد کی اصل عمارت بہت چھوٹی۔ احاطے میں تھوڑے فاصلے پر ایک چبوترہ بلند ہوگیا تھا۔ بائیں طرف ہاتھ سے چلنے والا نلکا لگا ہوا تھا اور اس کے بعد ایک سمت گھروں کا سا منظر تھا۔ یقینی طور پر مسجد کا حجرہ ہوگا۔ مولوی صاحب ابھی تک بلندی پر اذان دے رہے تھے غالباً یہ مسجد کی چھت کا حصہ تھا جہاں وہ موجود تھے۔ ایک سمت سے سیڑھیاں نیچے اتر رہی تھیں۔ میں نے کمبل ایک سمت رکھا جوتے اتارے، ہاتھ سے نلکا چلایا اور وضو کرنے بیٹھ گیا۔ اذان ختم ہوچکی تھی، غالباً مولوی صاحب نیچے اتر رہے تھے، میں نے وضو سے فراغت حاصل کرکے کمبل سنبھال کر بغل میں دبایا اور اس کے بعد ایک سمت بڑھ گیا۔ مولوی صاحب میری ہی طرف آگئے تھے۔ میں ان کے احترام میں کھڑا ہوگیا۔ چوڑا چکلا جسم اور معمر آدمی تھے، بڑی سی داڑھی سینے پر بکھری ہوئی تھی اور آنکھوں میں چمک تھی، مجھ سے بولے۔
’’مسافر معلوم ہوتے ہیں حضرت۔‘‘
’’جی مولوی صاحب۔‘‘
’’ابھی ابھی بستی میں داخل ہوئے ہیں؟‘‘
’’جی ہاں بس یوں سمجھ لیجئے… کہ آپ کے منہ سے اذان کی آواز نکلی اور میں نے آپ کی بستی میں پہلا قدم رکھا۔‘‘
’’خوش آمدید… میرا نام حمیداللہ ہے۔‘‘
’’خاکسار کو مسعود احمد کہتے ہیں۔‘‘
’’نمازی آنے والے ہیں ذرا انتظامات کرلوں اس کے بعد آپ سے گفتگو رہے گی۔ نماز کے بعد چلے نہ جائیے گا۔ صبح کا ناشتہ میرے ساتھ کیجئے گا۔‘‘
’’بہتر۔‘‘ میں نے جواب دیا اور ایک گوشے میں جابیٹھا۔ آنکھیں بند کیں اور درود شریف کا ورد شروع کردیا۔ مولوی صاحب مجھ سے ملنے کے بعد کہیں چلے گئے تھے۔ کچھ دیر کے بعد مسجد کے دروازے سے نمازیوں کا داخلہ شروع ہوگیا۔ نلکا چلنے کی آوازیں ابھرتی رہیں۔ کوئی بیس بائیس افراد جمع ہوگئے۔ مولوی صاحب بھی تیار ہوکر واپس آگئے اور پھر میں نے نماز باجماعت ادا کی۔ نماز سے فراغت کے بعد نمازی تو ایک ایک کرکے چلے گئے، بہتر جگہ اور کون سی ہوسکتی تھی چنانچہ میں وہیں بیٹھا رہا اور درود شریف کا ورد کرتا رہا۔ مولوی صاحب میرے قریب آگئے تھے کہنے لگے۔ ’’آئیے مسعود صاحب تشریف لائیے، چائے تیار ہوگئی ہے ناشتہ کچھ دیر کے بعد پیش کیا جائے گا۔‘‘
’’زحمت ہوگی آپ کو…‘‘

’’نہیں۔ مہمان رحمت خداوندی ہوتے ہیں اور پھر اتنی صبح ہماری بستی میں داخل ہونے والا مہمان تو ہمارے لئے بڑا باعث رحمت و برکت ہوسکتا ہے۔ آئیے تکلف نہ کیجئے، مجھے میزبانی کا شرف بخشیئے۔‘‘
میں مولوی صاحب کے پیچھے چل پڑا۔ مسجد کا وہ بغلی حصہ جسے میں گھروں کا سلسلہ سمجھا تھا ایک سرے سے دوسرے سرے تک مولوی صاحب ہی کے پاس تھا۔ اندرونی حصے میں شاید ان کے اہل خانہ کی رہائش تھی، تھوڑا سا برآمدہ تھا، اس کے بعد وسیع و عریض صحن، جس میں املی کے بڑے بڑے درخت لگے ہوئے تھے اور ان کی چھائوں بہت بھلی معلوم ہورہی تھی۔ سورج ابھی پوری طرح بلند نہیں ہوا تھا لیکن اجالا تیزی سے پھیل رہا تھا۔ مولوی صاحب نے کچی مٹی کے پیالے میں چائے پیش کی اور میں نے اسے قبول کرلیا۔ مولوی حمیداللہ میرے سامنے بیٹھ گئے تھے، بغور مجھے دیکھتے رہے پھر بولے۔ ’’میاں برا نہ مانئے گا ہماری اور آپ کی عمروں میں جتنا فرق ہے اس کے تحت اگر کہیںکوئی تھوڑی سی بے تکلفی کی گفتگو ہوجائے تو برا نہ محسوس کریں۔‘‘
’’نہیں مولوی صاحب۔ بزرگ ہیں آپ میرے۔‘‘
’’کہنا یہ چاہتے تھے کہ ویسے تو آپ ایک عام سے نوجوان ہیں، لیکن نجانے کیوں آپ کے چہرے میں ایک خاص بات محسوس ہوتی ہے ہمیں…‘‘
’’کیا عرض کرسکتا ہوں؟‘‘ میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’مزید تعارف نہ ہوگا…؟‘‘
’’کوئی ایسی شخصیت نہیں ہے میری جو قابل تعارف ہو، بس یوں سمجھ لیجئے کہ صحرا نورد ہوں، نجانے کہاں کہاں گھومتا رہتا ہوں۔ میں اچانک اس بستی کی جانب نکل آیا۔ علم بھی نہیں تھا کہ کون سی بستی ہے یہ اور پھر آپ نے اذان دے دی…‘‘
’’کہیں نہ کہیں تو رہائش ہوگی آپ کی۔ کوئی نہ کوئی تو مشغلہ ہوگا…!‘‘
’’بس یہی مشغلہ ہے۔ اس سے زیادہ کیا کہوں۔‘‘
مولوی حمیداللہ صاحب گہری نگاہوں سے مجھے دیکھتے رہے، چائے کے گھونٹ لیتے رہے۔ پھر انہوں نے کہا۔ ’’میاں ایک گزارش کرنا چاہتا ہوں۔‘‘
’’جی جی، کہئے…‘‘
’’اب اس بستی میں تشریف لائے ہیں آپ تو کچھ وقت ضرور میرے ساتھ اس بستی میں قیام کیجئے گا، مجھے خوشی ہوگی۔‘‘
’’اور مجھے ندامت…‘‘ میں نے کہا۔
’’کیوں…؟‘‘
’’اس لیے کہ آپ کو زحمت ہوگی۔‘‘
’’اب ان تکلّفات کی گنجائش نہیں ہے۔ مسعود صاحب میری درخواست ہے، جب تک بھی ممکن ہوسکا، آپ یہاں قیام فرمائیے گا۔ دیکھئے یہاں املی کے درخت کے نیچے چارپائی ڈلوادوں گا آپ کی۔ آرام سے قیام کریں اور پھر ہمارا کیا جاتا ہے۔ اللہ کی سمت سے رزق حاصل ہوتا ہے اور ہم سب کھاتے ہیں، آپ کا اضافہ ہوگا تو یقینی طور پر رزق میں بھی اضافہ ہوجائے گا۔‘‘ میں نے مسکراکر گردن ہلادی۔
تقریباً ساڑھے آٹھ بجے حمیداللہ کے گھر سے پراٹھے اور ترکاری آگئی ساتھ میں چائے بھی تھی۔ میں نے ان کے ساتھ ناشتہ کیا۔ حمیداللہ صاحب کہنے لگے… ’’اور اگر صبح کے اس حصے میں آپ یہاں پہنچے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ رات بھر سفر کیا ہوگا۔ اب مناسب یہ ہے کہ ظہر کے وقت تک آرام فرمائیے گا اگر نیند گہری ہوگئی تو میں نماز کے وقت جگادوں گا۔‘‘

میں نے قبول کرلیا تھا۔ املی کے درخت کے نیچے پڑی ہوئی چارپائی پر لیٹ گیا۔ کمبل سرہانے رکھ لیا اور آنکھیں بند کرکے یہ تصور کرنے لگا کہ اب مجھے کیا کرنا چاہئے۔
ذہن میں خیالات بیدار ہونے لگے۔ حکم ملا کہ ابھی یہاں قیام کرنا ہے۔ بڑی حیرانی ہوئی تھی یہ میری اپنی آواز تھی جو میرے کانوں میں گونجی تھی۔ ایسا کیوں ہے۔ مجھے اپنی ہی آواز خود سے دور کیوں محسوس ہوتی ہے۔
’’یہ سب کچھ جاننا ضروری نہیں ہے۔ کچھ باتوں کو جاننے کے لیے وقت متعین ہوتا ہے۔ سوجائو۔‘‘ مجھے پھر اپنی آواز سنائی دی اور میں نے آنکھیں بند کرلیں۔ اب کسی انحراف کا تصور بھی ممکن نہیں تھا۔ دوپہر کو مولوی حمیداللہ نے جگایا اور میں اٹھ گیا۔ مولوی صاحب بولے۔
’’مسعود میاں۔ ساڑھے بارہ بجے ہیں۔ خوب سوئے اب جاگ جائیے۔‘‘
میں اٹھ کر بیٹھ گیا۔ ’’ساڑھے بارہ بج گئے؟‘‘ میں نے حیرانی سے پوچھا۔
’’ہاں۔ غسل کریں گے…؟‘‘
’’اگر زحمت نہ ہو تو۔‘‘
’’نہیں۔ گرم حمام موجود ہے۔ زحمت کیسی۔ یہ اور بتادیں کہ کھانا نماز کے بعد کھائیں گے یا پہلے۔‘‘
’’بعد میں ہی مناسب رہے گا ورنہ جو حکم ہو۔‘‘
’’میں خود بھی نماز کے بعد کھاتا ہوں۔ آئیے حمام بتادوں۔‘‘
غسل سے فارغ ہوکر باہر نکلا۔ مسجد کے دروازے کے باہر سے کچھ آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ میں نے غور نہیں کیا۔ اپنی جگہ جا بیٹھا۔ کچھ دیر کے بعد مولوی حمیداللہ صاحب مسکراتے ہوئے آگئے۔
’’کہیئے نیند پوری ہوگئی۔‘‘
’’اللہ کا احسان ہے۔‘‘
کچھ پوچھ سکتا ہوں۔‘‘
’’جی فرمائیے…؟‘‘
’’یہ سر کٹے کا کیا قصہ ہے۔‘‘
’’خیریت۔ کیا ہوگیا…؟‘‘
’’صبح دس بجے سے لوگوں کا تانتا لگا ہوا ہے۔‘‘
’’کیوں…؟‘‘
’’آپ کو علم نہیں ہے۔ کسی سر کٹے کو جلاکر راکھ کردیا ہے آپ نے۔‘‘
’’اوہو… وہ… جی ہاں۔ بس وہ اللہ کے کلام سے ٹکرانے آگیا تھا۔ ویسے بھی خلق اللہ سے دشمنی کررہا تھا۔‘‘
’’میں ایک جاہل دیہاتی ہوں مسعود احمد صاحب۔ میرا کوئی امتحان نہ لے ڈالیے گا۔ اللہ کے واسطے۔‘‘
’’کوئی گستاخی ہوگئی محترم…؟‘‘ میں نے پریشانی سے پوچھا۔
’’شرمندہ نہ کریں مسعود احمد صاحب، اپنے بارے میں عرض کررہا ہوں مجھ سے گستاخی ہوجائے تو درگزر فرمائیے۔‘‘
’’آپ کیسی باتیں کررہے ہیں۔ آپ بزرگ ہیں اور پھر آپ نے بڑی خاطر داری کی ہے میری۔ ویسے یہ سرکٹا۔‘‘

’’جی ہاں۔ خبیث روح تھی۔ لال تالاب پر کوئی بیس سال سے قبضہ جما رکھا تھا۔ ذات کا دھوبی تھا مگر بڑا سرکش اور کمینہ انسان تھا۔ اس نے مشتعل ہوکر اپنے باپ کو قتل کردیا تھا۔ ماں اس واقعے سے متاثر ہوکر کنویں میں کود کر مرگئی۔ بستی والوں نے بستی سے نکال دیا تو تالاب کے پاس جاکر رہنے لگا۔ یہاں اسے سانپ نے ڈس لیا اور کوئی بارہ پندرہ دن کے بعد اس کی سڑی ہوئی تعفن زدہ لاش کا پتہ چلا۔ لوگوں نے اسے ہاتھ بھی نہ لگایا اور وہ وہیں مٹی ہوگئی مگر پھر راتوں کو اور دوپہر کی چلچلاتی دھوپ میں اسے تالاب کے کنارے چھورام چھورام کرتے دیکھا جانے
لگا۔ ادھر سے گزرنے والے بے شمار افراد کو اس نے اپنی خباثت کا شکار بنایا۔ کافی خوف و ہراس چھایا رہتا ہے اس کی وجہ سے۔ مجبوری یہ ہے کہ بستی سے باہر کا راستہ ایک ہی ہے۔ دھونی پور کے لوگ اس سے بہت خوفزدہ رہتے ہیں۔ دوپہر کو بارہ بجے سے تین بجے تک کوئی ادھر سے نہیں گزرتا اور شام کو سورج چھپنے کے بعد سے صبح سورج نکلے ادھر سے سفر نہیں کیا جاتا۔ کوئی بھولا بھٹکا گزر گیا تو بس اس کا شکار ہوگیا۔‘‘
’’خدا کا شکر ہے۔ موذی سے نجات ملی۔‘‘ میں نے کہا۔
’’لوگ صبح سے آرہے ہیں۔ آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔‘‘
’’اوہ۔ یہ ایک تکلیف دہ پہلو ہے۔‘‘
’’ٹالتا رہا ہوں کہ آپ سو رہے ہیں۔ مگر ملنا پڑجائے گا آپ کو… بڑی عقیدت سے آرہے ہیں۔ کچھ مقامی لوگ آپ کے ساتھ تھے۔ انہوں نے پورا واقعہ بتایا بستی والوں کو۔ یوں سمجھ لیں پوری بستی میں کاروبار بند ہے لوگ جوق در جوق لال تالاب جارہے ہیں۔ وہاں اس کے زمین میں زندہ جل جانے کا نشان موجود ہے…!‘‘
’’اللہ کا یہی حکم تھا اس کے لیے، مگر اب میں کیا کروں…؟‘‘ میں نے پریشانی سے کہا۔
’’بس ایک بار مل لیں ان سے۔ ویسے بھی کسی کا دل رکھنا عبادت ہے۔‘‘
’’چلیے…!‘‘
’’ابھی مناسب نہ ہوگا۔ میں اعلان کیے دیتا ہوں کہ نماز کے بعد آپ باہر آئیں گے۔‘‘
’’نہیں۔ اس میں رعونت کا پہلو جھلکتا ہے۔ آئیے ان سے ملاقات کرلیں۔‘‘
’’سبحان اللہ۔ آئیے۔‘‘ حمیداللہ صاحب بولے اور میں ان کے ساتھ باہر نکل آیا، بیس بائیس افراد تھے، زیادہ تر ہندو تھے چند مسلمان۔ مولوی حمیداللہ نے کہا۔ ’’لیجئے ٹھاکر جیون کمار جی۔ مل لیجئے مسعود میاں سے۔‘‘
’’ہیں… یہ ہیں وہ مہان پرش۔ چرن چھوئیں گے ہم ان کے۔‘‘ ٹھاکر صاحب نے کہا اور آگے بڑھے۔ میں نے پیچھے ہٹتے ہوئے کہا۔
’’آپ مجھ سے ہاتھ ملائیں ٹھاکر صاحب میرے گلے لگیں۔ میں اتنا بڑا انسان نہیں ہوں کہ آپ میرے پائوں چھوئیں۔‘‘

’’آپ نے جتنا بڑا کام کیا ہے میاں جی وہ تو ایسا ہے کہ ہم آپ کو سر پر بٹھائیں۔ دھونی بستی کو نیا جیون دیا ہے آپ نے۔‘‘
’’اس کے لیے آپ اپنے بھگوان کا اور مسلمان اللہ کا شکر ادا کریں۔ میں تو بس ایک ذریعہ بنا ہوں۔ مجھے تو اس خبیث کا علم بھی نہیں تھا۔ آپ کی بستی کے چار جوان مجھے اس کے سامنے لے آئے۔‘‘
’’وہ پھر تو نہ جی جائے گا مہاراج۔‘‘
’’ان شاء اللہ اب ایسا نہ ہوگا…!‘‘
’’ہم بستی والے آپ کی کیا سیوا کریں مہاراج۔ آپ نے ہم پر بڑا احسان کیا ہے۔‘‘
’’مجھے صرف آ پ کی دعائیں درکار ہیں۔‘‘
’’آپ ابھی جائیں گے تو نہیں مہاراج۔‘‘
’’نہیں۔ مولوی حمیداللہ صاحب کے حکم کے بغیر میں یہاں سے نہیں جائوں گا…!‘‘
’’ہم آپ کے چرنوں میں کچھ بھینٹ کریں گے۔‘‘
’’مجھے آپ کی دعائوں کے سوا کچھ نہیں چاہئے۔‘‘
’’ہم آپ سے پھر مل سکتے ہیں مہاراج…؟‘‘
’’جہاں حکم دیں گے حاضری دوں گا!‘‘
’’نماز کا وقت ہونے والا ہے ٹھاکر صاحب! اب اجازت دیجئے…!‘‘ حمیداللہ صاحب نے کہا اور سب مجھے سلام کرکے واپس چلے گئے۔ نماز پڑھی۔ کھانا کھایا اور اس کے بعد حمیداللہ صاحب املی کی چھائوں میں میرے پاس آبیٹھے…
’’چراغ تلے اندھیرا ہے مسعود احمد صاحب۔ میں نے خود تو آپ کو خراج عقیدت پیش ہی نہیں کیا۔ اپنے بارے میں مختصر بتادوں۔ اسی بستی میں پیدا ہوا۔ یہیں پروان چڑھا والد صاحب کا منصب سنبھالا، دو جوان بیٹیوں کا باپ ہوں۔ اہلیہ ہیں اور میں ہوں۔ بس اللہ کا نام جانتا ہوں اس سے زیادہ کچھ نہیں…!‘‘
’’اس سے زیادہ کچھ ہے بھی نہیں حمیداللہ صاحب۔ اللہ آپ کی مشکلات دور کرے۔‘‘
یہاں آکر خوشی ہوئی تھی جھگیوں کی بستی تھی۔ لوگوں نے بڑا احترام کیا تھا جوق در جوق ملنے آتے رہے تھے۔ بہت کچھ چاہتے تھے مجھ سے۔ میں خود شرمندہ ہوگیا تھا۔ نماز وغیرہ سے فراغت کرکے رات کا کھانا کھایا بہت دیر تک لوگوں کے درمیان بیٹھا رہا۔ پھر زیادہ رات ہوئی تو آرام کرنے لیٹ گیا۔ نہ جانے کیا کیا سوچتا رہا تھا… پھر غنودگی طاری ہوگئی۔ دفعتاً ہی کچھ آہٹیں ابھریں اور آنکھیں کھل گئیں۔ نظر سامنے اٹھ گئی۔ احاطے کی دیوار پر دو پائوں لٹکے ہوئے تھے۔ صرف دو پائوں جو عجیب سے انداز میں جنبش کررہے تھے باقی جسم کا وجود نہیں تھا۔

آنکھیں پوری طرح کھل گئیں… پھر کوئی آ گیا… پھر کچھ کرنا ہے… غور سے دیکھنے لگا پھر کچھ تصوّر بدلا، خالی پائوں نہیں تھے باقی بدن بھی تھا جس جگہ سے احاطے کی دیوار نظر آ رہی تھی، وہاں اِملی کے درخت کی گھنی شاخیں جھکی ہوئی تھیں اور جو کوئی دیوار پر تھا اس کا باقی جسم پتوں کی آڑ میں چھپا ہوا تھا یہ اس وقت پتا چلا جب وہ نیچے کودا، شاید کمزور بدن کا مالک تھا چونکہ زیادہ بلندی نہ ہونے کے باوجود وہ نیچے گر پڑا تھا، میں خاموش لیٹا یہ کھیل دیکھتا رہا۔ وہ اُٹھ کر میری طرف بڑھنے لگا اور پھر میرے قریب آ گیا۔ آنکھوں میں جھری کر کے میں اسے دیکھنے لگا۔ دھوتی کرتا پہنے ہوئے ایک سفید بالوں والا شخص تھا۔ مونچھیں بڑی اور سفید تھیں، کچھ سمجھ میں نہیں آیا کون ہے وہ، میرے پلنگ کے پاس کھڑا مجھے دیکھتا رہا پھر اس نے لرزتے ہاتھ سے میرے پائوں کا انگوٹھا پکڑ کر ہلایا اور اس کی آواز اُبھری۔
’’مہاراج… جاگیے مہاراج… سوالی آیا ہے اور آپ سو رہے ہیں جاگیے مہاراج۔‘‘
اب اُٹھنا ضروری تھا میں اُٹھ کر بیٹھ گیا۔ اس نے دونوں ہاتھ جوڑے اور زمین پر بیٹھ گیا، تب میں جلدی سے اپنی جگہ سے اُترا اور میں نے اسے بازو سے پکڑ کر اُٹھاتے ہوئے کہا۔ ’’ارے… ارے… یہ کیا کر رہے ہیں آپ یہاں بیٹھئے مجھے گناہ گار کر رہے ہیں۔‘‘
’’بھگوان سکھی رکھے جسے بھگوان عزت دیتا ہے وہ دُوسروں کو عزت دیتا ہے مگر میں آپ کے چرنوں میں بیٹھنا چاہتا ہوں۔ سوالی ہوں، مجبور ہوں، دُکھی ہوں، آپ کے سائے میں سر جھکا کر آپ سے مدد مانگنے آیا ہوں۔‘‘
’’آپ آرام سے یہاں بیٹھیں اور مجھے بتائیں کیا بات ہے۔‘‘ میں نے اسے اُٹھا کر پلنگ پر بٹھا دیا۔
’’اَنا کا مارا ہوا ہوں مہاراج… پر دوش اکیلے میرا نہیں ہے، پرکھے ہی سکھا کر گئے تھے، وہ تو ایک معیار بتا کر چلے گئے نقصان مجھے ہوا اور اب سچ بھی بولوں گا تو لوگ مذاق اُڑائیں گے میرا، کوئی سچ نہ مانے گا سب یہی کہیں گے کہ ٹھاکر پر بپتا پڑی تو سیدھا ہوگیا ہے بھگوان… میرا کوئی ہمدرد نہیں رہا سنسار میں…‘‘

‎آنے والے نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا۔ ’’اسی لیے مہاراج رات کی تاریکی میں آیا ہوں آپ کو دُکھ دیا معاف کر دیں۔‘‘ اس کی آواز آنسوئوں میں گندھی ہوئی تھی۔
‎’’تمہارا معاملہ قدرت کے ہاتھ ہے خدا کا یہ گناہ گار بندہ اگر تمہاری کچھ مدد کر سکتا ہے تو اس سے گریز نہیں کرے گا۔‘‘
‎’’بپتا سنو گے میری؟‘‘ وہ بولا۔
‎’’ضرور سنوں گا۔‘‘ میں نے کہا۔
‎’’بنسی راج بہادر ہے میرا نام… کھرا برہمن ہوں ، بیس باغ کا مالک ہوں اور ہزاروں بیگھے زمین چھوڑی ہے پرکھوں نے، ساتھ میں یہ نصیحت بھی کہ اپنے علاوہ سب کو نیچ سمجھو، دولت سنسار کی سب سے بڑی بڑائی ہے۔‘‘
‎’’کیسا پایا اس نصیحت کو۔‘‘
‎’’مار دیا سسروں نے مجھے یہ سوچ دے کر… سنسار میں سب سے نیچا کر دیا مجھے۔‘‘
‎’’اب تم کیا ہو۔‘‘
‎’’ایک بے بس اَپرادھی… جو کسی مدد کرنے والے کو آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر تلاش کر رہا ہے بیس باغ اور ہزاروں بیگھے زمین بھی اس کا ساتھ نہیں دے رہی۔‘‘
‎اس کی سسکیاں جاری ہوگئیں، میرے دل میں اس کے لیے ہمدردی کا جذبہ بیدار ہوگیا۔ میں نے اس کے شانے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔ ’’تمہارے دھرم کے بارے میں، میں کچھ نہیں کہتا لیکن میرا دین کہتا ہے کہ اگر کسی نے گناہ کیا ہے تو اس کی سزا دینے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ اگر تم کسی کے کام آ سکتے ہو تو اس سے گریز نہ کرو۔ پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ تمہارا معاملہ تمہارے اور خدا کے درمیان ہے۔ میری ذات سے اگر تمہیں کوئی فائدہ ہو سکتا ہے تو میں ضرور تمہارے لیے جو کچھ بھی مجھ سے بن پڑے گا کروں گا۔ اب وقت ضائع نہ کرو اپنے بارے میں جو کچھ بھی بتانا چاہتے ہو بتا دو۔‘‘
‎’’تھوڑا بہت تو بتا چکا ہوں مہاراج اس سوچ نے مجھے سنسار سے دُور کر دیا تھا۔ ہر ایک کو نیچ سمجھنا میرا کام بن گیا تھا۔ کسی کو اپنے خلاف پایا پکڑوایا۔ جوتے لگا دیئے، کسی نے زیادہ سرکشی کی تو ہاتھ پائوں تڑوا دیئے، بڑے بڑے عزت داروں کی عزت اُچھال دی میں نے، پانچ بیٹے تھے میرے دو بیٹیاں اور یہ سب میری نگاہوں میں دھونی پور کے سب سے اُونچے لوگ تھے کیونکہ میری اولادوں میں سے تھے۔ ایک بہن بھی ہے میری۔ ہرناوتی نام ہے اس کا، میری بیٹیوں سے دو چار سال ہی بڑی تھی، کہانی لمبی نہیں سنائوں گا مہاراج، ہرناوتی بہک گئی جوانی کے جوش میں، اس نے پرکھوں کے ریت رواج بھلا دیئے اور ایک نیچ ذات سے پریم کر بیٹھی۔ ہیرا تھا اس کا نام، لاکھو کا بیٹا تھا۔ دھونی پور کے ایک مشرقی گوشے میں گھر بنا کر رہتا تھا، نوکر تھا ہمارا مہاراج، ہماری زمینوں پر کام کرتا تھا، باپ بیٹے ہمارا دیا کھاتے تھے۔ پھر بھلا ٹھاکر بنسی راج بہادر یہ کیسے برداشت کر سکتے تھے کہ ہیرا پوری آنکھیں کھول کر ہرناوتی کو دیکھے، پر ایسا ہوا نہ جانے کب اور کہاں ملے تھے وہ لوگ، ہرناوتی، ہیرا کے پریم میں گرفتار ہوگئی اور چھپ چھپ کر اس سے ملنے لگی، بستی والوں نے دیکھا کسی کی مجال تو نہیں تھی کہ کوئی ہم سے آ کر یہ بات کہہ سکے لیکن آپس میں کانا پھوسیاں کرتے تھے، ہمیں اس سمے تک کچھ نہیں معلوم تھا لیکن پھر میری دھرم پتنی نے ایک رات ہرناوتی کو گھر سے چوری چوری نکلتے ہوئے دیکھا تو چونک گئی، دن بھر اور رات بھر سوچتی رہی اور مجھے بتا دیا، میرے تو تن بدن میں آگ لگ گئی تھی۔ مہاراج دُوسری رات میں نے ہرناوتی کا پیچھا کیا اور دیکھا کہ چاندنی رات میں میرے ہی باغ کے ایک گوشے میں وہ لاکھو کے بیٹے ہیرا کے پاس بیٹھی ہوئی ہے۔ 

دونوں باتیں کر رہے ہیں اور سنسار سے بے خبر ہوگئے ہیں۔ خون اُتر آیا تھا میری آنکھوں میں۔ سوچتا رہا کہ کیا کروں اور جب برداشت نہ کر سکا تو ان کے سامنے پہنچ گیا، میں نے ان کے پاس پہنچ کر کڑک دار آواز میں دونوں کو مخاطب کیا تو دونوں تھر تھر کانپنے لگے۔ ہیرا میرے قدموں میں گر گیا اور میں نے زوردار ٹھوکر مار کر اس کا سر پھوڑ دیا۔

تمام اردو کہانیاں پڑھنے کے لیے کلک کریں 

کالا جادو - پارٹ 23

Urdu stories online, Urdu stories for kids, Short Urdu stories, Urdu Kahaniyan, Famous Urdu stories, Urdu stories with moral, Best Urdu stories collection, Urdu stories for students, Urdu love stories, Urdu horror stories, Urdu stories for reading, Urdu stories in Urdu text, Funny Urdu stories, Urdu stories for beginners, Urdu detective stories, Urdu motivational stories, Urdu stories for adults, Urdu moral stories, Urdu stories for children, Urdu true stories, Urdu suspense stories, Urdu emotional stories, Urdu adventure stories,

hindi moral stories in urdu,سبق آموز کہانیاں, jin-ki-dushmni,good moral stories in urdu,Moral Stories,Urdu Stories,urdu kahani,اردو کہانی,قسط وار کہانیاں,
Reactions