کالا جادو - ایم اے راحت - قسط نمبر 21

 

قسط وار کہانیاں
کالا جادو - اردو کہانی قسط نمبر 21
رائیٹر :ایم اے راحت

‎’’سندری… سندری!‘‘ میں نے سندری کو پکارا مگر وہ کسی اور ہی جہان کی سیر کررہی تھی۔ عقب سے آواز آئی تو میں ایک دم گھوم کر پیچھے دیکھنے لگا۔ کالی داس کا منحوس چہرہ نظر آیا تھا۔
‎’’جے پورنا… جے بھگت۔‘‘ اس نے ہاتھ جوڑ کر گردن جھکاتے ہوئے کہا۔
‎’’دیوان کالی داس!‘‘
‎’’آپ کے چرنوں کی دھول بھگت۔‘‘
‎’’کہو… کیا بات ہے۔‘‘
‎’’آپ کو میرے ساتھ چلنا ہے مہاراج!‘‘
‎’’کہاں…؟‘‘
‎’’کالی نواس!‘‘
‎’’یہ کہاں ہے؟‘‘
‎’’زیادہ دور نہیں ہے مہاراج!‘‘
‎’’کیا کرنا ہے مجھے وہاں جاکر۔‘‘
‎’’ساری باتوں کے فیصلے ہوجائیں گے مہاراج! اس کے بعد کوئی راز، راز نہیں رہے گا پورنا! آخری باتیں کرنا چاہتی ہیں مہا دیوی آپ سے!‘‘ کالی داس نے ادب سے کہا۔
‎’’کیا باتیں کرنا چاہتی ہیں، آخر مجھے بتائو۔‘‘
‎’’دھول ہوں آپ کے چرنوں کی مہاراج! آپ سورج سمان ہیں، میں ذرہ۔ میں ایسی باتیں کیا جان سکتا ہوں۔ سولہ سو ستر منتروں کی سوگند مجھے اس بارے میں کچھ نہیں معلوم۔‘‘

‎’’چلو۔‘‘ میں نے گردن ہلا دی اور اٹھ کر اس کے ساتھ چل پڑا۔ باغ کے دوردراز گوشے میں جہاں میں آج تک نہیں آیا تھا، ایک مصنوعی پہاڑی ٹیلا بنا ہوا تھا جس پر جگہ جگہ پھولوں کے جھاڑ اُگے ہوئے تھے۔ نیچے ایک قد آدم چوکور دروازہ نظر آرہا تھا۔ کالی داس مجھے اس دروازے سے اندر لے گیا۔ باہر سے کچھ محسوس نہیں ہوتا تھا اور تاریکی نظر آتی تھی لیکن اندر ایک چوڑی سرنگ سی تھی جہاں خوب روشنیاں جگمگا رہی تھیں اور یہ روشنیاں دیواروں میں لگے ہوئے پتھروں سے ابھر رہی تھیں۔ یقینا یہ قیمتی ہیرے تھے جو کرنیں بکھیر رہے تھے۔ کالی داس نے کہا۔ ’’چلتے رہیے مہاراج! سرنگ لمبی ہے۔‘‘
‎’’کہاں تک گئی ہے یہ؟‘‘
‎’’کالی نواس تک مہاراج!‘‘
‎’’کیا کالی نواس اسی محل میں ہے؟‘‘
‎’’نہیں مہاراج…!‘‘
‎’’پھر…؟‘‘
‎’’وہ کالنکا بھنڈار میں ہے۔‘‘
‎’’تم تو کہہ رہے تھے کہ وہ زیادہ دور نہیں ہے۔‘‘
‎’’بس مہاراج، یہ سرنگ طے کرنی پڑے گی۔‘‘ کالی داس نے کہا۔ وہ بڑا باادب نظر آرہا تھا۔ وہ مجھ سے کئی قدم پیچھے چل رہا تھا۔ لمبی سرنگ میں سیکڑوں مشعلوں سے روشنی کی گئی تھی۔ بالآخر اس کا اختتام ایک روشن دروازے پر ہوا اور میں نے اس دروازے کے دوسری طرف قدم رکھ لیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دوسری طرف قدم رکھ کر مجھ پر ہیبت طاری ہوگئی۔ ایک عظیم الشان غار تھا جس کی بلندی ناقابل یقین تھی۔ پوری گردن پیچھے کرکے اوپر دیکھا جاتا تو چند چھوٹے چھوٹے سوراخ نظر آتے تھے جن کے اوپر چاند چمک رہا تھا۔ غار ٹھنڈا اور پرسکون تھا۔ اس میں پتھر کے ستون تھے اور ہر ستون پر انسانی کھوپڑیاں سجی ہوئی تھیں۔ ان کھوپڑیوں کے جبڑے ہل رہے تھے اور آنکھوں سے تیز روشنیاں خارج ہورہی تھیں۔ غار کے عین درمیان سنگ موسیٰ سے بنا ہوا ایک کالا چبوترہ تھا اور اس چبوترے پر کالی دیوی کا عظیم الشان مجسمہ استادہ تھا۔ سیاہ رنگ کا مجسمہ! جس کے بے شمار ہاتھ تھے۔ ان ہاتھوں میں قدیم ہتھیاراور دو انسانی کھوپڑیاں تھیں جنہیں بالوں سے پکڑ کر لٹکایا گیا تھا۔ ان کی کٹی ہوئی گردنوں سے تازہ تازہ لہو کے قطرے ٹپک رہے تھے جو نیچے سنگی چبوترے پر جمع ہورہے تھے۔ 

اصلی خون تھا اور شاید یہ کٹی ہوئی گردنیں بھی تازہ تھیں۔ نہ جانے کون بدنصیب تھے۔ مجسمے کی گردن میں تقریباً بیس انسانی کھوپڑیوں کو پرو کر ہار ڈالا گیا تھا۔ اس کی کئی فٹ لمبی زبان لہو سے لتھڑی ہوئی باہر لٹک رہی تھی اور بڑی بڑی آنکھوں سے وحشت نمایاں تھی۔ اس ہیبت کے ساتھ یہ بت اس سنگی چبوترے پر آویزاں تھا۔ سنگی بت کے عقب میں ایک عجیب سی جگہ بنی ہوئی تھی۔ کوئی پچاس سیڑھیاں تھیں جو ایک پلیٹ فارم پر جاکر ختم ہوگئی تھیں۔ پلیٹ فارم پر ایک عجیب سا شکنجہ لگا ہوا تھا جس کے اوپری حصے میں زنجیریں اور حلقے نظر آتے تھے۔ الغرض ایک تھرا دینے والی جگہ تھی اور میں اسے دیکھ کر ایک انوکھے خوف کا شکار ہوگیا تھا۔
‎’’یہ کالی نواس ہے مہاراج!‘‘ کالی داس کی آواز نے مجھے چونکا دیا۔ میں نے اسے بغور دیکھا پھر کہا۔ ’’مجھے کیا کرنا ہے؟‘‘
‎’’مہا دیوی!‘‘ کالی داس نے ایک سمت اشارہ کرکے مودبانہ انداز میں کہا۔ میں نے مہا دیوی کو ایک نئے روپ میں دیکھا۔ بے حد چست لباس پہنے ہوئے تھی جو جھلملا رہا تھا۔ سر پر ہیروں کا ہار پہنا ہوا تھا، چہرہ انگاروں کی طرح چمک رہا تھا اور ہونٹوں پر مسکراہٹ بڑی شان سے آرہی تھی۔ اس کے پیچھے شمبھو آرہا تھا جس کی گردن میں ناگ لپٹا ہوا تھا جس نے اپنا چوڑا پھن اس کے سر پر پھیلا رکھا تھا۔ دونوں اسی سمت آرہے تھے۔ چند لمحات کے بعد وہ میرے سامنے پہنچ گئے۔
‎’’جے پورن بھگت…!‘‘ مہاوتی نے دونوں ہاتھ جوڑ دیئے۔ میں اسے دیکھتا رہا۔ اس نے دونوں ہاتھ لہراتے ہوئے پھر کہا۔ ’’پدھاریئے مہاراج…! آج میں آپ کے شایان شان سواگت کروں گی۔ پدھاریئے!‘‘ کالی داس نے اس دوران نہ جانے کہاں سے ایک کرسی لا کر رکھ دی تھی مگر میں نے اس طرف توجہ نہیں دی۔
‎’’اب کیا چاہتی ہو مہاوتی…؟‘‘ میں نے کہا۔
‎’’آپ سے کچھ باتیں کرنا چاہتی ہوں مہاراج!‘‘
‎’’کہو…!‘‘

‎’’آپ بیٹھ جایئے۔‘‘
‎’’نہیں! تم بیٹھو۔‘‘
‎’’ہم کالی کے چرنوں کے سوا کہیں نہیں بیٹھتے۔ آپ کیوں نہیں بیٹھ رہے؟‘‘ اس نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
‎’’تمہارا کیا خیال ہے؟‘‘
‎’’پورن! کالی کو تو مانتا ہوگا۔‘‘ وہ معنی خیز لہجے میں بولی۔
‎میں اس کا مطلب سمجھ گیا۔ کرسی کو ایک ٹھوکر مارکر میں نے اس جگہ سے ہٹایا اور بیٹھ گیا۔ مہاوتی، شمبھو اور کالی داس کے چہرے پر ایک لمحے کے لیے ناگواری کے آثار نظر آئے مگر مہاوتی نے فوراً خود کو سنبھال لیا۔ ’’شمبھو مہاراج کا کہا ٹھیک نکلا۔ پورن! کیا تم مجھ سے سچ بولو گے؟‘‘ وہ سوالیہ نظروں سے مجھے دیکھتی رہی مگر میں نے اس کی بات کا جواب نہیں دیا۔ ’’کیا تم مسلمان ہو؟‘‘ کمبخت نے ایسا سوال کیا کہ مجھے بولنا پڑا۔
‎’’الحمدللہ۔‘‘ وہ تینوں گھبرا کر ایک قدم پیچھے ہٹ گئے۔ مہاوتی نے پھر کہا۔ ’’یہ پورنیاں تمہیں کہاں سے مل گئیں؟‘‘
‎’’تمہارا کیا خیال ہے؟‘‘
‎’’بڑے پریشان تھے ہم۔ ایک نظر میں ہمیں معلوم ہوگیا تھا کہ تم پورنا ہو مگر مسلمان بنے ہوئے تھے تم۔ یہ راز معلوم کرنے کی کوشش کی جاتی رہی مگر کسی طرح بھید نہ کھلا، ہر جتن کرلیا اور پھر پورن ماشی میں ہم نے پورنیاں دیکھیں۔ کوئی شک نہیں رہا اور یہ بھی شک نہیں رہا کہ تم مسلمان ہو۔ مگر تمہارا دھرم اب تمہارا نہیں رہا۔ پورنیاں اس سے ملتی ہیں جب کالا دھرم اپنا لیا جائے۔ ایک پوتر دھرم جو ہر گندگی سے پاک ہے۔ اس کالے دھرم کے ساتھ کیسے چل رہا ہے۔‘‘
‎میں چونک پڑا۔ مہاوتی کے یہ الفاظ میرے کانوں میں شہد گھول گئے تھے۔ میں نے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔ ’’دوبارہ اپنے الفاظ کہو۔‘‘
‎’’تمہارا دھرم پاک ہے۔ جس دھرم میں پانچ مرتبہ وضو کیا جاتا ہے، گندے پانی کی ایک چھینٹ جسے ناپاک کردیتی ہے، اس میں پورنیوں کے جاپ کی کیا گنجائش ہے، کالی شکتی تو ایک دور کی چیز ہے۔‘‘
‎’’تیرا کیا خیال ہے مہاوتی، میں کون ہوں؟‘‘
‎’’من سے مسلمان ضرور ہو۔ نہ ہوتے تو اتنے کشٹ نہ اٹھاتے۔ پورنیوں کے بیر تمہارے لیے سب کچھ کرسکتے تھے مگر تم نے کبھی ان سے بات نہ کی۔ ہم نے تمہیں بہت قریب سے دیکھا، تم سمجھ میں نہیں آئے۔‘‘
‎’’تیرے لیے میرے دل میں بہت کچھ ہے مہاوتی! مگر میرے دین کے لیے اتنے اچھے الفاظ کہہ کر تو نے میرا دل نرم کردیا ہے۔ اگر میرے پاس کچھ ہوتا تو اس وقت میں تجھے انعام دے دیتا۔‘‘ مہاوتی یہ سن کر اچھل پڑی۔ اس نے کہا۔ ’’مسلمان ہو تو زبان کے پکے بھی ہوگے؟‘‘
‎’’ہاں! ہوں۔‘‘

‎’’ساری باتیں بیکار ہوگئیں۔ تم نے کہا ہے کہ تمہارے پاس کچھ ہوتا تو اپنے دھرم کے نام پر مجھے دے دیتے۔‘‘
‎’’ ہاں اپنے ایمان کے علاوہ۔‘‘
‎’’تو مجھے انعام دو۔ تمہارے پاس ایک ایسی چیز ہے جو مجھے دے سکتے ہو، تمہارے دھرم کے علاوہ۔‘‘
‎’’کیا…؟‘‘ میں نے سوال کیا۔ میں کچھ حیران ہوگیا۔ عجیب سا لگ رہا تھا مجھے۔ کیا مانگنا چاہتی ہے وہ۔ ایسی کیا چیز ہے میرے پاس۔ ادھر اس کے انداز سے لگ رہا تھا جیسے کوئی بہت بڑی چیز مانگنا چاہتی ہو۔
‎مہاوتی کا انداز ایک دَم بدل گیا۔ وہ کسی ایسے خیال میں ڈوب گئی جس نے اس کی سانسیں تیز کردیں۔ وہ خشک ہونٹوں پر زبان پھیرنے لگی۔ پھر اس نے لرزتی آواز میں کہا۔
‎’’پورنیاں مجھے دے دو، یہ چھ پورنیاں مجھے دے دو۔ مسلمان ہو، پورنیاں تمہارے دھرم میں ناپاک ہیں۔ یہ بوجھ کیوں اٹھائے پھر رہے ہو؟ دے دو یہ پورنیاں مجھے، انعام میں دے دو۔‘‘ اب میرے حیران ہونے کی باری تھی۔ میں اس کے جملوں پر غور کرنے لگا۔ پورنیاں اس طرح کسی کو دی جاسکتی ہیں؟ میں تو خود انہیں ہلاک کرنا چاہتا تھا، میں تو خود ان سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتا تھا۔ یہ تو میری روح پر بوجھ تھیں۔ بڑی مشکل سے ان میں سے ایک سے چھٹکارا حاصل ہوسکا تھا۔ کیا ان سے پیچھا چھڑایا جاسکتا ہے؟ مہاوتی سوالیہ نگاہوں سے مجھے دیکھ رہی تھی۔ میرا فیصلہ سننے کی منتظر تھی۔ میں نے بہت دیر غور نہیں کیا اور گہری سانس لے کر بولا۔

‎’’ٹھیک ہے مہاوتی! مسلمان ہوں، اپنا وعدہ پورا کررہا ہوں۔ یہ چھ پورنیاں میں نے تیرے حوالے کیں مگر میں نہیں جانتا کہ مجھے اس کے لیے کیا عمل کرنا ہوگا؟ یہ تیری ذمہ داری ہے، میں اپنا وعدہ خوشی سے پورا کرتا ہوں۔‘‘
‎مہاوتی کے پورے جسم پر کپکپاہٹ طاری ہوگئی۔ وہ خوشی سے دیوانی ہوگئی۔ شمبھو اور کالی داس ایک دوسرے سے لپٹ گئے اور خوشیاں منانے لگے۔ مہاوتی آگے بڑھی، گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھی، دونوں ہاتھ سیدھے کئے اور سر جھکا کر سجدے کی سی کیفیت میں آگئی۔ میں نے فوراً ہی رخ بدل لیا تھا۔ وہ نہ جانے کیا کیا بڑبڑاتی رہی پھر سیدھی ہوئی اور اس نے مجھے پکارا۔
‎’’پورنا… پورنیاں ہمیں دے کر تو اپنے بوجھ سے آزاد ہوجائے گا۔ تو سچ مچ مسلمان لگتا ہے مگر میرا گیان مجھے یہ نہیں بتا پاتا کہ پورنیاں ایک مسلمان کی غلام کیسے ہوگئیں۔ چلو ہوگا۔ تیری یہ بھینٹ ہم سوئیکار کرتے ہیں اور تیرا احسان مانتے ہیں لیکن یہ کام جلدی ہوجانا چاہئے۔ ارے کالی داس… شمبھو مہاراج! دیر کیوں کررہے ہیں۔ آپ جلدی کریں، جلدی کریں۔ کام پورا کرلیں، اسے مہان کنڈ لے جائیں۔ شمبھو مہاراج… کالی داس جلدی کریں۔ میں پورنا بننے جارہی ہوں۔ جلدی کریں۔‘‘ وہ اِدھر سے اُدھر بھاگنے دوڑنے لگی۔

‎شمبھو اور کالی داس میرے قریب پہنچ گئے۔ انہوں نے گردن جھکا کر کہا۔ ’’ہمارے ساتھ آئیں مہاراج۔‘‘ میں نے آمادگی کا اظہار کردیا۔ اب نتیجہ کچھ بھی ہو، یہ پورنیاں مجھ سے منتقل ہوجائیں تو کم ازکم میرے وجود کی غلاظت دھل جائے۔ وہ مجھے اس طرف لے گئے جہاں سیڑھیاں اوپر کو جاتی تھیں اور پھر انہوں نے بڑے احترام سے مجھے اوپر چڑھنے کا اشارہ کیا۔ کچھ سمجھ نہیں پایا تھا اور صرف ان کی ہدایت پر عمل کررہا تھا۔ سیڑھیاں چڑھ کر میں اس پلیٹ فارم پر پہنچ گیا جو کالی کے ہیبت ناک مجسمے کے عین سر پر بنا ہوا تھا۔ بڑی عجیب سی جگہ تھی۔ ایک عجیب سی بدبو وہاں پھیلی ہوئی تھی، زمین پر خون کی تہیں کی تہیں جمی ہوئی تھیں۔ نہ جانے یہاں کیا ہوتا ہوگا۔ دیکھنے سے اندازہ ہوتا تھا کہ یہ انسانی خون ہے اور ہوسکتا ہے یہاں انسانی جسم ذبح کرکے ان کا خون کالی کے بت پر گرایا جاتا ہو۔ گویا قربانی کی وہ بھیانک رسم جس کے بارے میں قصے کہانیوں میں ہی پڑھا تھا لیکن اچانک ہی ذہن میں چھناکا سا ہوا۔ پورنیاں اسے دینے کا کیا مقصد ہے۔ کیا یہاں میری بھی گردن کاٹ دی جائے گی؟ شمبھو اور کالی داس کچھ فاصلے پر رک گئے تھے اور میں پلیٹ فارم کے بالکل آخری سرے پر تھا۔ کچھ سوچنے بھی نہیں پایا تھا کہ اچانک ہی میرے پیروں میں دونوں طرف سے زنجیروں کے دو کڑے آپڑے۔ ان سے زنجیریں بھی منسلک تھیں مگر کچھ ایسے انداز سے کہ اوپر سے نظر نہیں آتی تھیں۔ 

پھر اچانک سر چکرا سا گیا۔ پلیٹ فارم کو جنبش ہوئی۔ ایک چوڑی سل اچانک ہی آگے بڑھی۔ میں اس پر کھڑا ہوا تھا۔ بدن کو جھٹکا لگا تو اوندھے منہ گر پڑا لیکن سل برق رفتاری سے پیچھے ہٹ کر واپس اپنی جگہ پہنچ گئی اور پورا پلیٹ فارم اتنی تیزی سے پیچھے ہٹا کہ میں اوندھا لٹک گیا۔ زنجیریں پلیٹ فارم کے اوپری حصے پر بنے ہوئے ایک کرین نما راڈ میں پڑی ہوئی تھیں۔ یوں میرا چہرہ پلیٹ فارم سے ٹکرانے سے بچ گیا لیکن اب کیفیت یہ تھی کہ میں ان زنجیروں میں اوندھا لٹکا ہوا تھا اور کالی کے بت کے بالکل اوپر تھا۔ میرے جسم کا سارا خون سمٹ کر چہرے میں جمع ہوگیا تھا۔ ٹانگوں میں سخت تکلیف ہورہی تھی کیونکہ فولادی کڑے میری ہڈیوں کو دبا رہے تھے ۔میرے حلق سے کراہیں نکلنے لگیں۔ پہلے تو بدن کو کئی جنبشیں دیں لیکن جب اس عمل سے تکلیف کے علاوہ کچھ نہیں ملا تو ساکت ہوگیا۔ آنکھوں میں آنسو آگئے تھے۔ تکلیف ناقابل برداشت ہوگئی تھی۔ ہاتھ نیچے لٹکے ہوئے تھے اور اس وقت کی کیفیت کو میں الفاظ میں بیان کرنے کے قابل نہیں تھا۔ دماغ شدید ہیجان کا شکار تھا۔ کچھ سوچنے سمجھنے کی اہلیت نہیں رہی تھی۔

‎شمبھو، کالی داس اور مہاوتی اب ساتھ ساتھ کھڑے ہوئے اوپر دیکھ رہے تھے۔ میں سخت پریشان تھا۔ چیخ کر انہیں اپنی تکلیف کے بارے میں بتانا چاہتا تھا لیکن آواز نہیں نکل رہی تھی۔ پھر نہ جانے کہاں سے مہاوتی نے ایک تیر کمان اٹھا لیا۔ چوڑے پھل کی چمکدار اَنّی والا تیر تھا جسے وہ کمان میں جوڑ رہی تھی۔ میری آنکھیں دہشت سے پھٹ گئیں اور میں اپنی موت کا انتظار کرنے لگا۔ بارہا موت کو پکارا تھا، زندگی کو بے حقیقت جانا تھا لیکن اب جبکہ موت نگاہوں کے سامنے پہنچ گئی تھی تو زندگی مچل رہی تھی۔ جینا چاہتا تھا اور اس آفت سے چھٹکارا پانے کا خواہشمند تھا۔ مہاوتی کا چھوڑا ہوا تیر میری گردن کے پاس شانے میں پیوست ہوگیا۔ حلق سے دلخراش چیخ نکلی، آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔ اس قدر شدید تکلیف ہوئی تھی کہ جو ناقابل بیان تھی۔ میں اچھل کر تیر کو اپنے شانے سے نکالنے کی کوشش کرنے لگا لیکن توازن نہیں بن پا رہا تھا اور مہاوتی دوسرا تیر کمان میں جوڑ رہی تھی۔ میں نے آنکھیں بند کیں اور موت کو یاد کرنے لگا۔ چلو ٹھیک ہے، زندگی کا یہ اختتام برا تو نہیں ہے۔ ٹھیک ہے مسعود احمد! موت قبول کرلو۔ جو کیا، سو پایا۔ اس میں کسی کا کیا قصور! کسی کو الزام دے کر سب کو مزید تباہ کرنا مناسب نہیں ہے۔ نہ جانے کس طرح یہ سوچیں ذہن تک پہنچیں۔ 

کرب کا دوسرا دور شروع ہوا۔ دونوں شانے خون اگل رہے تھے اور پھر تیسرا تیر، پھر چوتھا! اب ذہن صحیح طور پر کام نہیں کررہا تھا۔ آنکھوں سے بینائی رخصت ہوگئی تھی۔ بس دھندلے دھندلے نقوش تھے۔ ایک بڑا سا چمکدار پیالہ کالی کے بت کے قدموں میں رکھ دیا گیا تھا۔ مہاوتی کا جسم پھر ویسا ہی سیاہ ہوگیا تھا جیسا میں نے اسے اس پہاڑی غار میں دیکھا تھا۔ مدھم مدھم شور کی آوازیں بلند ہورہی تھیں۔ قہقہے ابل رہے تھے اور مہاوتی رقص کررہی تھی، ایک جنونی رقص…! وہ پورے ہال میں برق کی طرح کوندتی پھر رہی تھی۔ شمبھو اور کالی داس نظر نہیں آرہے تھے۔ مہاوتی بار بار کالی کے قدموں میں آتی اور میرے جسم سے بہنے والا خون چاٹتی پھر رقص کرتی ہوئی دور نکل جاتی۔ کالی کا ہیبت ناک مجسمہ میرے خون سے سرخ ہوگیا تھا۔ اس پر سیاہی کے بہت کم دھبے نظر آرہے تھے۔ بس مجھے نظر نہیں آرہا تھا لیکن یہ دھندلا دھندلا سا احساس تھا جو میرے ذہن پر سے گزر رہا تھا۔ نہ جانے کتنا وقت اس طرح گزر گیا۔ پھر کچھ سکون سا خودبخود محسوس ہوا۔ یوں لگا جیسے میرا بدن بے خون ہوگیا ہو۔

 ٹانگوں میں پڑے ہوئے کڑے بھی اب ہڈیوں کو وہ دکھ نہیں دے رہے تھے جو پہلے محسوس کررہا تھا۔ بس کوئی احساس ہی باقی نہیں رہا تھا۔ اگر یہ منظر نگاہوں کے سامنے نہ ہوتا، مہاوتی کے جسم کی جنبشیں نظر نہ آتیں تو یہ سمجھتا کہ روح جسم سے نکل گئی ہے اور جسم خالی ہونے کے بعد بے وزن ہوگیا ہے۔ نگاہوں کے سامنے جو کچھ تھا، وہ ذہن تک بھی پہنچ رہا تھا۔ مہاوتی کے ہاتھ میں ایک چمکدار پیالہ تھا جس کے دونوں سمت کنڈے لگے ہوئے تھے، وہ کالی کے سامنے دوزانو بیٹھی تھی۔ میرے جسم کا بہا ہوا خون جو ایک دھار کی شکل میں اس پیالے تک پہنچا تھا، ہونٹوں سے لگا کر بدن میں اتارنے لگی۔ گاڑھا گاڑھا گہرا سیاہ خون اس کے جسم میں اترتا چلا گیا اور اس نے پیالے کو اپنی لمبی زبان سے چاٹنا شروع کردیا۔ پھر وہ اپنی جگہ سے اٹھی اور کالی کے بت سے چمٹ کر اس پر پڑا ہوا خون چاٹنے لگی۔ پھر اس نے چند بوندیں انگلی میں ڈبو کر کالی داس اور شمبھو کی طرف اچھالیں اور وہ کتوں کی طرح زمین پر گرنے والی بوندوں کو چاٹنے لگے۔ مہاوتی کے قہقہے اس ہال میں بری طرح گونج رہے تھے اور اس کی آواز میرے کانوں تک پہنچ رہی تھی۔

‎’’میں پورنی ہوں… میں پورن واس ہوں، میں پورن واس ہوں۔ شمبھو مہاراج… کالی داس! جھک جائو میرے چرنوں میں، میں چھ پورنیوں کی مالک ہوں۔ میں نے مہان شکتی حاصل کرلی ہے۔ جھک جائو میرے چرنوں میں، جھک جائو۔ اب میں صرف مہاوتی نہیں بلکہ مہان وتی ہوں۔ جھک جائو… جھک جائو۔‘‘
‎کالی داس اور شمبھو ناتھ اس کے سامنے اوندھے گر پڑے تھے اور مہاوتی کے خوفناک قہقہے غار کے درودیوار ہلائے دے رہے تھے۔ بہت خوش تھی وہ… میری طرف کسی کی کوئی توجہ نہیں تھی۔ میرے جسم میں اب بھی تیر چبھے ہوئے تھے لیکن اب کوئی تکلیف نہیں تھی بلکہ ایک عجیب سی ٹھنڈک رگ و پے میں دوڑ رہی تھی۔ پھر کچھ تبدیلیاں ہوئیں۔ اچانک ہی تیز ہوائوں کے جھکڑ چلنے لگے اور ہر چیز اڑنے لگی۔ مہاوتی سیدھی کھڑی ہوگئی۔ شمبھو اور کالی داس بھی اس کے پیچھے آکر کھڑے ہوگئے تھے۔ چمکدار ذرات کا ایک غبار غار کے اندر داخل ہوا اور پورے غار میں پھیل گیا۔ پھر اس نے سمٹ کر ایک شکل اختیار کرنا شروع کردی اور کچھ دیر کے بعد وہاں بھوریا چرن نظر آیا۔ وہی بدنما اور بدہیئت شکل لیے۔ وہ خونخوار نگاہوں سے مہاوتی کو دیکھ رہا تھا۔ اس کے چہرے پر شدید نفرت کے آثار نظر آرہے تھے۔ مہاوتی اور اس کے دونوں ساتھیوں نے بھوریا چرن کو دیکھا اور بھوریا چرن کی نگاہیں ادھر ادھر بھٹکنے لگیں۔ پھر اوپر مجھ تک پہنچ گئیں اور اس کا چہرہ بگڑ گیا۔

‎’’مہاوتی… مہاوتی کالی کی پجارن! یہ ادھار کی شکتی اچھی تو نہیں ہے۔ تو نے اپنے گیان سے یہ بھی نہ معلوم کیا کہ اس مسلمان کو یہ شکتی کہاں سے مل گئی؟‘‘
‎’’جے شنکھا مہاراج! کیسے پدھارے، کیسے آنا ہوا؟‘‘
‎’’تجھے بتانے آیا ہوں مہاوتی کہ تو نے چور دروازے سے پورن شکتی حاصل تو کرلی مگر چھ پورنیوں کی! ساتویں پورنی کہاں ہے، بتائے گی؟‘‘
‎’’یہ بات تو شاید شنکھا بھی نہ بتا سکے شنکھا مہاراج…!‘‘
‎’’پاگل مہاوتی! پورن شکتی میں نے ہی اسے دی تھی۔ میں نے پورن جاپ کیا تھا اور پورنیاں اس کے شریر میں اتار دی تھیں اور تو نے میری کمائی ہوئی چیز اس سے چھین لی۔ ساتویں پورنی کو اس نے مار ڈالا ہے اور تو یہ بات اگر نہیں جانتی تو مجھ سے سن لے کہ اگر پورنیاں سات نہ ہوں تو پورن پورا نہیں ہوتا، ادھورا رہتا ہے اور ایسے جاپ، ایسے منتر، ایسے گیان ہیں جو لنگڑے پورن کو بڑا نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ میرا تیرا کوئی جھگڑا نہیں ہے مہاوتی…! لیکن اس بات پر جھگڑا ہوسکتا ہے کیونکہ تو نہیں جانتی کہ اس سے پورن شکتی چھین کر تو نے ایک بہت بڑا خطرہ پیدا کردیا ہے۔ اسے پورن بنا کر میں نے جو بڑا کام کیا تھا، وہ تو نہیں جانتی کہ وہ تیرے اور میرے اور ہمارے جیسے ہزاروں کے لیے کتنا بڑا کام تھا۔ عورت ہے نا بائولی! عورت ہے نا…! اگر عقل ہوتی تو آگے پیچھے دیکھ لیتی۔‘‘
‎’’جے شنکھا… جے مہاراج…! شنکھا مہاراج میرے گھر پدھارے۔ میرا بڑا مان ہوا لیکن اس سمے میں خوشی سے پاگل ہورہی ہوں۔ نہ کچھ سمجھ میں آرہا ہے، نہ سمجھ پائوں گی۔ آپ جو کچھ بھی کہہ رہے ہیں مہاراج! سچ کہہ رہے ہوں گے لیکن اگر آپ نے یہ شکتی اسے دے دی تھی تو دے کر آپ پیچھے ہٹ گئے تھے اور اس نے اپنی خوشی سے وہی چیز مجھے دے دی۔ بہرحال اس کا برا نہ مانیں۔‘‘
‎’’وہی تریاہٹ وہی عورت والا کھیل! چل ٹھیک ہے۔ میں تو اپنا بچائو کرلوں گا، تجھے بھی پورن شکتی کا مزہ آئے گا۔ ٹھیک ہے… ٹھیک ہے۔ اس کا کیا کرے گی اب؟‘‘

‎’’کس کا مہاراج؟‘‘
‎’’یہی پاگل کتا جو نجانے کیا کیا کرتا رہا جیون بھر، جس نے اپنی ذات کو کشٹ دیئے ہیں ہمیشہ۔ کیا نہیں ملا اسے اور کیا لیا اس نے اس سے، یہ کتا مجھے دے دے مہاوتی! اس کتے کو میں اپنے ساتھ لے جائوں گا۔ بڑا مہان بنتا ہے۔ سات پورنیوں کا پورن تھا۔ کبھی کسی سے کوئی کام نہیں لیا، کشٹ میں پڑا رہا، تکلیفیں اٹھاتا رہا، بھوکا پڑا رہا، بیمار پڑا رہا لیکن بیروں کو نہ پکارا۔ ارے دے دے اسے اس پاپی کو میں ہی ٹھیک کروں گا۔ بہت کچھ دکھانا ہے اسے سنسار میں ابھی، ایسے تھوڑی مرنے دوں گا۔ سارا خون دے دیا بدن کا۔ سترہ آدمی مارے تھے میں نے اس کے لیے، نکال دیا سارا خون بدن سے اور اب پڑا ہے بلی کا کھایا چھیچھڑا…! دھت تیرے کی۔ لا اتار اسے… اتار دے اسے!‘‘
‎’’بیرو… بیرو…‘‘ مہاوتی نے آواز دی اور پورا غار ان ٹیڑھے میڑھے ناپاکوں سے بھر گیا۔ جو پہلے میرے تھے اور اب مہاوتی کے غلام تھے۔ وہ سب مہاوتی کے سامنے جھک گئے۔ مہاوتی کی آنکھوں میں فخر اتر آیا اور اس نے فاتحانہ نگاہوں سے بھوریا چرن اور اس کے بعد شمبھو اور کالی داس کو دیکھا۔ پھر بولی۔
‎’’بیرو…! شنکھا یہ شریر مانگتا ہے۔ دے دو اسے، اتار دو یہ شریر اوپر سے!‘‘ سارے بیر اوپر کی جانب دوڑے اور انہوں نے مجھے احتیاط سے نیچے اتار کر زمین پر ڈال دیا۔ میرا جسم تو اب جسم تھا ہی نہیں بس ایک بے جان گوشت کا لوتھڑا تھا۔ پتا نہیں شکل و صورت کیسی ہوگئی تھی۔ دیکھ رہا تھا، سوچ رہا تھا، سمجھ رہا تھا۔ بول نہیں پا رہا تھا۔ اپنے چیخنے کی آواز بھی بلکہ کراہ تک منہ سے نہیں نکل پا رہی تھی۔ بھوریا چرن شدید غصے
میں تھا۔ اس نے ایک ہاتھ اوپر کیا۔ چمڑے کا ایک پٹا اور زنجیر اس کے ہاتھ میں آگئی۔ اس نے پٹا میری گردن میں ڈالا، زنجیر اپنی مٹھی میں پکڑی اور مجھے گھورتا ہوا بولا۔

’’ہاتھ، پیروں کے بل چلتا میرے ساتھ آجا۔ چل اٹھ۔‘‘ اس نے آگے بڑھ کر ایک لات میرے جسم پر رسید کی اور میں اپنے بدن کو سنبھال کر اٹھنے کی کوشش کرنے لگا۔ شاید اس میں کامیاب بھی ہوگیا تھا لیکن کتے کی طرح نہیں چل سکا بلکہ اپنے پیروں پر ہی کھڑا ہوگیا۔ بھوریا چرن نے غرائی ہوئی آواز میں کہا۔
’’اگر تو چاروں ہاتھ، پیروں کے بل نہیں چلا تو میں تجھے آگ میں جلا دوں گا۔ کتا بن جا کتے! کتا بن جا…!‘‘ اس کی آواز میرے حواس پر مسلط ہونے لگی اور اس کے بعد میں دونوں ہاتھ اور دونوں پائوں زمین پر ٹکائے ہوئے اس کے پیچھے پیچھے چلنے لگا۔ غار سے باہر آگیا اور بھوریا چرن نے ایک عجیب سی سمت کا رخ کیا۔ آنکھوں میں دھندلاہٹیں تھیں اور بدن میں لرزشیں۔ نظر بھی نہیں آرہا تھا۔ کنکر، پتھر ہاتھوں اور پیروں میں چبھ رہے تھے لیکن انہی کے بل چلنا تھا۔ پھر شاید بدن کے نیچے گھاس آئی اور میں جانوروں ہی کی طرح اوندھا اس گھاس پر لیٹ گیا۔ بھوریا چرن نے زنجیر ایک طرف ڈال دی اور خود ایک پتھر پر جا بیٹھا۔ نجانے پرانی حویلی سے کس طرح باہر نکل آیا تھا۔ نجانے کتنا فاصلہ طے کرکے کہاں پہنچ گیا تھا۔ اب کوئی بات سمجھ میں نہیں آرہی تھی۔ بھوریا چرن سامنے موجود بھی ہے یا نہیں یا زنجیر ڈال کر کہیں چلا گیا تھا، کسی بات کی تصدیق نہیں ہوسکتی تھی۔ نجانے کب تک اسی طرح پڑا رہا اور نجانے کیا کیا کیفیات مجھ پر بیتتی رہیں۔ میرے بدن سے خون کا ایک ایک قطرہ نکل گیا تھا یا پھر کچھ خون باقی تھا۔ یقیناً باقی تھا۔ نہ ہوتا تو اعضاء کو جنبش کیسے دیتا۔ گردن اٹھائی تو یوں لگا جیسے سر کا وزن منوں بڑھ گیا ہو۔ بمشکل تمام آنکھیں کھولنے کی کوشش کی تو محسوس ہوا جیسے پپوٹے ایک دوسرے سے جدا ہونے کے لیے تیار نہ ہوں۔ آہ کاش! کچھ ہوجائے، اس عالم میں ہی کچھ ہوجائے۔ دم نکل جائے میرا…! بہتر یہی ہوگا۔

 بے جان جسم، بند آنکھیں، بھاری دماغ یہ بھی کوئی زندگی ہے اور اس طرح بھی کیا زندہ رہنے میں مزہ آتا ہے۔ سوچیں، سوچیں صرف سوچیں…! اور وہ بھی اس طرح کہ کوئی سوچ ترتیب سے نہیں تھی۔ بس نجانے کیا کیا خیالات ذہن سے گزر رہے تھے۔ ایک بار یہ بھی سوچا کہ مہاوتی کی بات مان کر میں نے غلط تو نہیں کیا۔ مجھ سے تو پورنیوں کو قتل کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔ یہ تو نہیں کہا گیا تھا کہ میں انہیں دان کردوں۔ کیا پھر مجھ سے غلطی ہوگئی؟ پورنیوں سے چھٹکارا ہی حاصل کرنے کے لیے کہا گیا تھا نا مجھ سے، کرلیا۔ جہاں تک کوشش ہوسکی، ان سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا۔ رعایت ملنی چاہئے، ملنی چاہئے۔ بھوریا چرن کی آواز نے خیالات کا طلسم توڑ دیا۔ پکار رہا تھا مجھے، کہنے لگا۔

’’ارے او مہان پرش! ذرا گردن تو اٹھا رے۔ بہت بڑا انسان ہے تو… بڑا دھرماتما ہے۔ اب بول کیا بیت رہی ہے۔‘‘ میں نے گردن اٹھا کر اسے دیکھا۔ بھوریا چرن کا چہرہ بگڑا ہوا تھا۔ میرے ہونٹ مسکراہٹ کے انداز میں کھنچ گئے۔ اس مسکراہٹ کو دیکھ کر بھوریا چرن اور آگ بگولہ ہوگیا۔ ’’بڑا بے غیرت ہے بھئی! نہ دیکھے تیرے جیسے، نہ دیکھے۔ حالت بکٹ ہے اور دانت نکل رہے ہیں۔‘‘
’’میرے دین میں اسے صبر کہتے ہیں بھوریا چرن!‘‘
’’چنتا مت کر بچہ سارا جیون صبر ہی کرنا پڑے گا۔‘‘
’’مجھ سے زیادہ تیری حالت خراب ہے بھوریا!‘‘
’’لات دوں گا جبڑا ٹوٹ جائے گا۔ زیادہ بک بک مت کر! کوئی نہ بچا سکے گا اب۔ نہ تیرا دھرم، نہ بیر، سب کچھ دے دیا اسے باپ کا مال سمجھ کر۔‘‘
اس بار مجھے زور کی ہنسی آگئی۔ بھوریا چرن کا انداز ہی کچھ ایسا تھا کہ اپنی تمام تر تکلیفوں کے باوجود میں ہنسے بغیر نہ رہ سکا اور اس بات سے وہ بالکل ہی دیوانہ ہوگیا۔ دانت پیس کر آگے بڑھا۔ میرے قریب پہنچ کر رک گیا۔ پھر بولا۔
’’مرے ہوئے کو کیا ماروں۔ ایسا مرے گا، ایسا مرے گا کہ دیکھنے والے کان پکڑیں گے تجھے دیکھ کر۔ ایسا بدلہ لوں گا تجھ سے کہ سنسار میں کسی نے کسی سے ایسا بدلہ نہ لیا ہوگا۔ تو نے میرا تو ستیاناس کیا ہی ہے مگر بیٹا! اپنا بھی ستیاناس دیکھنا۔ ابھی کیا دیکھا ہے تو نے۔ بدلہ لوں گا تجھ سے! بدلہ لوں گا۔ ایسا بدلہ لوں گا کہ یاد کرے گا۔ ایسے گھائو لگائوں گا تیرے دل میں کہ میرے من کے سارے گھائو بھر جائیں گے۔ چل اٹھ اور اب تو بول کر دکھانا ذرا! دیکھوں گا کیسے تیری زبان چلتی ہے۔‘‘ اس نے جھک کر زمین پر سے تھوڑی سی مٹی اٹھائی۔ میرے قریب پہنچا اور یہ مٹی میرے منہ میں بھر دی۔ عجیب غلیظ سی مٹی تھی۔ بدبودار! میں تھو تھو کرنے لگا۔ مجھے ابکائیاں آنے لگیں مگر جسم اس طرح بے جان تھا کہ کچھ بھی نہیں کرسکتا تھا۔ غالباً ہاتھوں اور پیروں کے بل چل کر یہاں تک جو آیا تھا تو وہ بھی بھوریا چرن ہی کی دی ہوئی قوت تھی ورنہ جس شخص کے جسم سے سارا خون بہہ جائے، وہ جنبش کیسے کرسکتا ہے۔
بمشکل تمام منہ کی مٹی صاف کی اور اس کے بعد بھوریا چرن کو دیکھنے لگا۔ وہ بولا۔

’’اب ذرا ایک لفظ بھی بول کر دکھا دے اپنے منہ سے! بول دکھا اپنے منہ سے ایک لفظ بول کر مان لیں گے تیرے کو، کہ بہت دھر ماتما ہے۔‘‘ میں نے ٹھنڈی سانس لے کر آنکھیں بند کرلیں۔
’’ارے او نواب کے جنے! ذرا چل آگے بڑھ۔‘‘ اس نے زنجیر پکڑی اور مجھے گھسیٹنے لگا۔ گھسیٹتا ہی رہا تھا۔ نجانے کتنی دور تک گھسیٹتا رہا تھا۔ پھر شاید کوئی آبادی آگئی تھی۔ دماغ تو ساتھ دے نہیں رہا تھا۔ کتوں کے بھونکنے کی آواز تھی جس نے یہ احساس دلایا تھا کہ اس وقت کسی آبادی کے قریب سے گزر رہا ہوں میں۔ نیچے چھوٹے چھوٹے پتھر کے ٹکڑے اور کچی زمین تھی۔ پتا نہیں بدن کی کیا حالت ہورہی تھی۔ پتا نہیں میرا جسم گھسٹ رہا تھا یا شاید مردہ حالت میں مجھے گھسیٹے لے جارہا تھا۔ پھر اس نے میری زنجیر چھوڑ دی، پٹا گلے سے نکال دیا اور مجھے وہیں ڈال کر کہیں چلا گیا۔ میں آسمان کو دیکھتا رہا، چت پڑا رہا۔ نجانے کیا کیفیت ہورہی تھی۔ میں اس کیفیت کو کوئی نام نہیں دے سکتا۔ بہت دیر کے بعد بھوریا چرن واپس آیا۔ خوش نظر آرہا تھا۔ مجھے آواز دی تو میں نے نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھا۔
’’کہو تیاگی جی مہاراج! کیسے حال ہیں تمہارے…؟‘‘ میں نے بولنے کی کوشش کی۔ منہ کھلا لیکن آواز غائب ہوچکی تھی۔ بہت ہی زور لگایا۔ پتا نہیں جسمانی کمزوری تھی یا پھر بھوریا چرن نے جو حرکت کی تھی، اس کا نتیجہ۔ بولنے کی ہر کوشش ناکام ہوگئی تو وہ قہقہے لگانے لگا۔ خوب ہنسا پھر بولا۔

’’بھوک لگ رہی ہوگی ایں! لگ رہی ہے نا بھوک… کھانا کھلائیں تمہیں۔ لو یہ کھا لو۔‘‘ اس نے ایک برتن سامنے کیا۔ ایک عجیب سی تعفن زدہ چیز تھی۔ وہ اس نے میرے چہرے کے بالکل قریب کردی۔ ایک بار پھر حالت بگڑنے لگی تھی۔
’’ڈرو نہیں مہاراج! بہت اچھا بھوجن ہے۔ گائے کا گوبر ہے۔ یہ کھا لو… کھا لو۔ بہت اچھا ہوتا ہے اور پھر ہے بھی گائے کا، لو!‘‘ اس نے پلیٹ میرے منہ پر پھینک دی اور گوبر میرے چہرے پر جگہ جگہ تھپ گیا۔ ہاتھ اٹھا کر بمشکل تمام چہرہ صاف کیا اور آنکھیں بند کرلیں۔ بھوریا چرن کہنے لگا۔
’’چلو یہ بھوجن ناپسند ہے تو ادھر دیکھو، وہ کھا لو۔‘‘اس نے پائوں سے میرا رخ دوسری جانب کردیا۔ ایک گندی نالی تھی جس میں سفید رنگ کے کیڑے کلبلا رہے تھے۔ بھوریا چرن ہنستا ہوا آگے بڑھا۔ کیڑوں کو مٹھی میں بھرا اور میرے چہرے کے قریب کردیا۔
’’بڑے بڑھیا ہیں یہ، کھا کر دیکھو آتما کو شانتی ملے گی، پیٹ بھی بھر جائے گا۔‘‘ میں نے وحشت کے عالم میں رخ بدل لیا اور بھوریا چرن قہقہے لگانے لگا۔ ’’ستیاناس مار دوں گا تیرا ستیاناس مار دوں گا تیرا! چل اٹھ… اٹھ۔‘‘ اس نے جھک کر میرے بال پکڑے اور اس کے بعد مجھے سیدھا کھڑا کرنے کی کوشش کرنے لگا۔ پیروں میں بالکل جان نہیں تھی۔ کھڑا ہوا تو زمین پر گر گیا۔ پھر دوبارہ کھڑا ہوا اور دوبارہ زمین پر گر گیا۔ بھوریا چرن بدستور قہقہے لگا رہا تھا اور میں نے اپنا ذہن و دل ساکت کرلیا تھا۔ نہ غصہ آرہا تھا، نہ افسوس ہورہا تھا۔ بس دل میں ایک ٹھنڈک سی اتر رہی تھی اور شاید یہ ہی ٹھنڈک مجھے زندہ رکھنے کا باعث تھی۔ بھوریا چرن نے میرے منہ پر تھوکا اور اس کے بعد وہاں سے آگے بڑھ گیا۔ میں وہیں پڑا رہا۔ بدن میں تحریک ہی نہیں ہورہی تھی۔

 کئی بار اٹھنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا اور اس کے بعد وہیں رخسار زمین پر رکھ کر ساکت ہوگیا۔ موت کتنی بے رحم ہے۔ وہ جو جینا چاہتے ہیں، وہ جو زندگی کی تمام آسائشیں چاہتے ہیں، وہ جو تندرست و توانا ہیں، انہیں ایک لمحے میں لپیٹ لے جاتی ہے اور وہ جو اس کے آرزومند ہوتے ہیں، وہ جن پر زندگی عذاب جہنم ہوتی ہے، انہیں وہ دور سے دیکھ کر مسکراتی رہتی ہے۔ اس وقت موت بھی میرے قریب آنے سے گریز کررہی تھی۔ ٹھیک ہے، کیا ہرج ہے۔ ہر حالت میں شکر ہی کرنا ہوگا کیونکہ اور کچھ کر نہیں سکتا۔ پڑا رہا۔ دماغ بے جان ہوگیا، سوچنے سمجھنے کی قوتیں سلب ہوگئیں۔ پھر شاید کسی نے چہرے پر پانی ڈالا تھا۔ لوٹے کی دھار سے پانی ڈالتا رہا۔ ہوش تو آگیا تھا لیکن آنکھیں نہ کھل پا رہی تھیں۔ بدن میں توانائی سی محسوس ہوئی۔ آنکھیں کھولیں دیکھا تو کوئی موجود نہیں تھا۔ البتہ ایک سنسان سڑک نظر آرہی تھی اور میں اس سڑک کے کنارے زمین پر ایک درخت کے نیچے بیٹھا ہوا تھا۔ حیرانی سے ادھر ادھر دیکھا۔ کون یہاں لے آیا، منظر کیسے بدل گیا۔ رفتہ رفتہ رونق ہونے لگی۔ جوں جوں روشنی جاگنے لگی، لوگ آتے جاتے نظر آئے۔ کسی نے رک کر میرے سامنے کچھ ڈال دیا۔ دیکھا تو ایک روپے کا نوٹ تھا۔ میں نے پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ آنکھیں بند کرلیں پھر کوئی اور آیا اور میری گود میں کچھ رکھ گیا۔ ٹٹول کر دیکھا تو دو پوریاں اور ان پر رکھی ہوئی ترکاری تھی۔
یہ میری ضرورت تھی۔ چنانچہ میں نے اس من وسلویٰ کو احترام سے اٹھا لیا اور کانپتے ہاتھوں سے اپنے پیٹ کی آگ بجھانے لگا۔ اس نعمت کو کھا کر میں نے آنکھیں بند کرلیں۔ دل نے خدا کا شکر ادا کیا۔ پیاس لگنے لگی تھی۔ پانی تھوڑے فاصلے پر نظر آرہا تھا۔ غالباً میونسپلٹی کا نلکا تھا جس سے تھوڑا تھوڑا پانی بہہ رہا تھا۔ بدن کو جنبش دی۔ پیروں سے کھڑا تو نہ ہوا گیا، گھسٹتا ہوا نلکے تک پہنچا۔ پانی پیا اور جسم آسودہ ہوگیا۔ ایک بار پھر پھل چکھ رہا تھا۔ ایک بار پھر پھل چکھ رہا تھا۔ ٹھیک ہے، کوئی ہرج نہیں ہے۔

‎سزا پوری ہونی چاہئے تاکہ جزا ملے۔ میں خوش ہوں میرے معبود! میں خوش ہوں۔ مجھے کوئی شکوہ نہیں ہے۔ میں بالکل مطمئن ہوں۔ میں تیری رضا میں خوش ہوں۔ بہت شکر ہے تیرا کہ تو نے مجھے اپنی نعمتوں سے نوازا۔ مجھے کوئی شکایت نہیں ہے، میں مطمئن ہوں۔
‎واپس پلٹا۔ دل چاہا کہ اپنے پیروں سے چلوں، نہ چل پایا۔ درخت کا سایہ غنیمت تھا۔ پورا دن وہیں گزار دیا۔ دینے والے دیتے رہے۔ زبان ہلا کر یہ کہنے کی کوشش کی کہ یہ پیسے میرے لیے بیکار ہیں۔ اگر ہوسکتے تو روٹی دے دو لیکن گویائی تو بھوریا چرن لے گیا تھا۔ نہ سہی… دینے والے نے صبح کا ناشتہ دیا ہے تو ضرورت کے مطابق کھانا بھی دے گا اور بڑا اطمینان ہوا اس وقت مجھے جب دو تندوری روٹیاں اور ایک پلیٹ سالن جو مٹی کے ایک برتن میں تھا، لاکر میرے سامنے رکھ دیا گیا۔ میں نے بڑے اعتماد سے اسے کھایا۔ یہ جگہ بہت مناسب ہے۔ بقیہ زندگی یہاں بآسانی گزاری جاسکتی ہے۔ رزق دینے والا غافل نہیں ہے۔ کھانا مل جاتا ہے اور پانی قریب ہی موجود ہے۔ میں نے وہیں اپنا بسیرا کرلیا۔ نجانے کتنے دن گزر گئے لیکن دنوں کا حساب وہ رکھیں جنہیں دنوں سے دلچسپی ہو۔ مجھے دن گننے سے کیا ملتا۔ داڑھی بڑھ گئی، بال بڑھ گئے، وقت نے شکل بدل دی، ہڈیاں ابھر آئیں۔ آنکھوں میں حلقے پڑ گئے۔ صبر و سکون سے گزربسر کرتا رہا۔ پائوں بے جان تھے، قوت گویائی ختم ہوگئی تھی۔ گھسٹ گھسٹ کر چلتا تھا لیکن اس دن صبر کا پیمانہ پھر چھلکا جب میں نے ایک ایسا منظر دیکھا جس نے میرا دل سینے سے نکال لیا۔

‎ابا جان تھے۔ ہاں! بھلا انہیں بھول سکتا تھا۔ بینائی بھی ختم ہوجاتی تو تب بھی انہیں محسوس کرلیتا۔ لاغر ہوچکے تھے۔ خراماں خراماں چلے آرہے تھے۔ دیکھ کر دل بری طرح دھڑکنے لگا۔ ہاتھ اٹھا کر اشارہ کرنے کی کوشش کی، زبان سے انہیں پکارنا چاہا۔ رک گئے مجھے دیکھا، جیب سے ایک روپے کا نوٹ نکالا، میرے ہاتھ میں تھمایا اور وہاں سے آگے بڑھ گئے۔ میں اس نوٹ کو دیکھنے لگا۔ انہیں آوازیں دینا چاہیں۔ نہ پہچان سکے تھے مجھے وہ! نہ پہچان سکے تھے۔ یہ بھوریا چرن کا جادو نہیں تھا۔ یہاں دل کی گہرائیاں پکار رہی تھیں کہ وہ میرے باپ ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ نہیں ہیں۔ نوٹ کو چومتا رہا، سینے سے بھینچ کر روتا رہا۔ پتا نہیں آنکھوں سے آنسو نکل بھی رہے تھے یا نہیں۔ پیروں میں قوت ہوتی تو دوڑتا، ان کا پیچھا کرتا۔ کسی طرح انہیں بتا دیتا کہ میں آپ کا بیٹا ہوں، آپ کا مسعود ہوں۔ دل نجانے کب تک زخموں سے چور رہا۔ بدن کے زخم، دل کے اس زخم کے سامنے بے جان ہوگئے تھے۔ تب ہی ایک احساس دل میں ابھرا۔ کسی نے میرے کان میں کہا۔
‎’’اور اس کے باوجود تو شکر ادا نہیں کرتا۔ کم ازکم تجھے یہ اندازہ تو ہوگیا کہ تیرے باپ زندہ ہیں۔ وہ تیرے سامنے سے گزرے ہیں۔ بے شک وہ تجھے پہچان نہ سکے لیکن کیا شکر کے لیے یہ کافی نہیں ہے کہ تو نے اپنی آنکھوں سے انہیں دیکھ لیا۔ آنکھیں بند ہوگئیں اور دل اندر ہی اندر شکر کے کلمات ادا کرنے گا۔ آرزوئیں ہی تو اس جگہ تک لے آتی ہیں۔ یہ بھی ایک آرزو تھی لیکن اللہ کی طرف سے اسے یہیں تک رہنا تھا ورنہ باپ کا خون جوش مار سکتا تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ ابا جان یہاں، اس شہر میں موجود ہیں۔ نجانے کون سی جگہ ہے، نجانے کونسا شہر ہے۔ کسی سے پوچھنے کے لیے گویائی تو ساتھ ہی نہیں دے رہی تھی۔ صبر و سکون سے ٹھنڈی ٹھنڈی سانسیں بھر کے رہ گیا۔ وہ نوٹ میں نے سنبھال کر احتیاط سے اپنے سینے کے قریب رکھ لیا جس میں مجھے اپنے باپ کے ہاتھ کا لمس محسوس ہوا تھا اور سینے کے قریب اس نوٹ کی قربت نے بڑی ٹھنڈک بخشی تھی۔

 جلتی ہوئی روح کو پیاسے بدن کو نہ جانے کیا دے دیا تھا اس نوٹ کے لمس نے! آہستہ آہستہ آسمان سے رات اترتی آرہی تھی۔ بڑی بے چین رات گزری تھی، بڑا بے کل رہا تھا دن۔ تصورات نجانے کہاں کہاں پہنچ رہے تھے۔ ابا جی مجھے پہچان نہ سکے۔ سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا۔ پتا نہیں ان سب کے ذہنوں میں میرا کیا تصور رہ گیا ہے۔ اب اتنے عرصے کے بعد تو وہ مجھے بھول بھی چکے ہوں گے۔ سوچا تو ہوگا انہوں نے کہ کہیں سے میری کوئی خبر نہیں ملی تو اس کا ایک ہی مقصد ہوسکتا ہے کہ اب اس دنیا سے میرا کوئی واسطہ نہیں رہا ہے، میں یہاں سے جا چکا ہوں۔ اچھا ہے ایسا ہی ہوا ہو۔ کم ازکم انہیں تو صبر آگیا ہوگا۔ میں تو ابھی امتحان کی منزل سے گزر رہا ہوں۔ مجھے اگر صبر مل جائے تو بات ہی کیا ہے۔ آنسو نجانے کس طرح آنکھوں سے نکل آتے تھے۔ نجانے یہ ذخیرہ بدن کے کون سے گوشے میں پوشیدہ تھا۔ پھر نیند نے آغوش مادر کا کردار ادا کیا اور اپنے وجود میں سمیٹ لیا۔ دوسرا دن معمول کے مطابق تھا۔ چلتے پھرے انسان، انسانوں پر رحم کھاتے ہوئے۔ رزق عطا ہوجاتا تھا۔ ابھی تک اتنے دن گزر چکے تھے یہاں پڑے ہوئے، ایک رات بھی بھوکا نہیں سویا تھا۔ کبھی بے بسی سے بھوک سے ایڑیاں نہیں رگڑی تھیں۔ یہ معاملہ بھوریا چرن کا نہیں تھا بلکہ یہاں رزق عطا کرنے والے نے میرے لیے حکم صادر فرما دیا تھا کہ بھوکا نہ رہوں۔ دوپہر کا وقت تھا۔ میں نے کچھ فقیروں کو بھاگتے ہوئے دیکھا۔ ایک میرے قریب سے گزرا، رکا اور جھک کر بولا۔

‎’’ابے کیوں مررہا ہے یہاں …بھاگ جا، بھاگ جا! پولیس فقیروں کو پکڑ رہی ہے۔ اٹھا کر لے جائے گی بیٹا اور ہڈیاں توڑ دے گی۔ ابے پھوٹ وہ آرہی ہے۔‘‘ یہ کہہ کر وہ آگے دوڑ لیا۔ میں نے وحشت زدہ نظروں سے اس سمت دیکھا جدھر سے وہ آرہا تھا۔ درحقیقت تھوڑے فاصلے پر پولیس کے دو بڑے ٹرک کھڑے ہوئے تھے اور پولیس والے ڈنڈے لیے ادھر ادھر بھاگ رہے تھے۔ جو فقیر ان کے ہاتھ لگتا، اسے بازوئوں سے پکڑتے اور ٹرک میں ڈال دیتے۔ میں نے صبر و سکون کے ساتھ یہ منظر دیکھا۔ نہ تو بھاگ سکتا تھا نہ ان سے کچھ کہہ سکتا تھا۔ دو موٹے تازے پولیس والے ڈنڈے ہاتھ میں لیے میرے قریب پہنچے اور خونی نظروں سے مجھے دیکھ کر بولے۔

‎’’آپ یہاں براجمان ہیں مہاراج! آیئے اب ذرا سرکاری بھیک اور لے لیجئے۔ ابے اٹھ یا لگائوں ڈنڈا کمر پر۔‘‘
‎میں نے ہاتھوں کے بل آگے کھسکتے ہوئے انہیں اپنے پیروں کی جانب متوجہ کیا۔ دوسرا پولیس والا کہنے لگا۔ ’’معذور ہے سالا! چلو اٹھا کر لے چلو۔‘‘ انہوں نے بے دردی سے میری بغلوں میں ہاتھ ڈالے۔ میں نے پائوں سیدھے کرکے زمین سے ٹکائے اور ان کے ساتھ گھسٹنے لگا۔ ٹرک کے قریب پہنچ کر انہوں نے مجھے دو تین بار جھلایا اور پھر ٹرک پر پھینک دیا۔ دو فقیروں نے مجھے زور زور سے دھکے دیئے اور غراتے ہوئے بولے۔
‎’’اندھے کے بچے! دیکھتا نہیں ہے، ہم بیٹھے ہوئے ہیں۔‘‘ ابے سرک! انہوں نے لاتوں سے مجھے ایک طرف سرکا دیا اور میں سمٹ کر ایک کونے میں جا بیٹھا۔ کئی اور فقیر یہاں سے پکڑے گئے۔ گالیاں دے رہے تھے۔ پولیس والوں کو برا بھلا کہہ رہے تھے، خوفناک بد دعائیں دے رہے تھے اور پولیس والے ہنس رہے تھے۔
‎’’بیٹا! اگر ان بد دعائوں سے ہمارا یہ حال ہوجاتا تو تمہارا یہ حال کبھی نہ ہوتا۔ اب چپ بیٹھو ورنہ ڈنڈے مار مار کر سر پھاڑ دیں گے۔‘‘ دو پولیس والے ٹرک پر چڑھ آئے اور اس کے ایک گوشے میں خود بھی بیٹھ گئے۔ ٹرک اسٹارٹ ہوکر چل پڑا اور میں اس نئی منزل کا انتظار کرنے لگا جو میرے لیے مخصوص کی گئی تھی۔ یہاں اس درخت کے نیچے جیسی بھی گزر رہی تھی، بہتر تھی۔ پانی بھی موجود تھا، غذا بھی اللہ تعالیٰ فراہم کردیتا تھا۔ باقی سب کچھ اس کے اپنے اختیار میں تھا لیکن نجانے یہ نئی جگہ کیسی ہوگی۔ دل ہی دل میں توبہ کی۔ جس نے یہاں زندگی عطا کی اور رزق پہنچایا، وہی قادر مطلق ہر جگہ موجود ہے۔ بھلا فکر کیوں کی جائے۔ جب اس نے سانسیں بخشی ہیں تو ان سانسوں کے لیے یہ بھی متعین کردیا گیا ہوگا کہ وہ کیسے گزریں گی۔ آنکھیں بند کرکے گھٹنوں میں سر دے کر بیٹھ گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد ٹرک ایک بڑی سی عمارت کے احاطے میں داخل ہوکر رک گیا۔ اس کے تختے کھول دیئے گئے اور فقیروں کو نیچے کودنے کے لیے کہا گیا۔ جو معذور تھے، انہیں پولیس والے اتار اتار کر نیچے ڈال رہے تھے۔

 پھر نیچے اتارنے کے بعد انہیں بھیڑ، بکریوں کی طرح ایک سمت ہانکنے لگے اور سب کو ایک کونے میں جمع کردیا۔ ٹرک وہاں سے آگے بڑھ گیا۔ سب طرح طرح کی باتیں کررہے تھے۔ خدا کا خوف دلا رہے تھے۔ بھگوان، پرمیشور اور نجانے کیا کیا نام لے کر پولیس والوں کو ڈرا دھمکا رہے تھے۔ پھر پولیس کا افسر اعلیٰ قریب آیا۔ اس نے سب کو دیکھا اور کہا۔
‎’’تم لوگوں کو شرم نہیں آتی۔ تم میں سے تو بے شمار ایسے ہیں جو ہم سے بھی زیادہ تندرست و توانا ہیں۔ میں معذوروں کو نہیں کہتا لیکن جو تندرست ہیں، وہ تو اپنا کام محنت مزدوری کرکے چلا سکتے ہیں۔ یہ لعنت آخر تم لوگوں پر کیوں سوار ہے۔ ملک کو محنت کشوں کی ضرورت ہے اور تم ہو کہ حرام خوری کرتے ہو، بھیک مانگتے ہو۔‘‘ جو ہٹے کٹے مشٹنڈے تھے، وہ توبہ تلا کرنے لگے اور کہنے لگے کہ آئندہ وہ محنت مزوری کرکے وقت گزاریں گے۔ جو معذور تھے، وہ خاموشی اور بے بسی سے پولیس والوں کو دیکھتے رہے۔ پولیس کے افسر اعلیٰ نے کہا۔

‎’’تمہیں سزا ملے گی بھیک مانگنے کی۔ سرکار نے یہی حکم دیا ہے۔ ایک ہفتے کی سزا کاٹو گے یہاں! اور اس کے بعد جو معذور ہیں، انہیں ایسے اداروں کے سپرد کردیا جائے گا جہاں معذوروں کی دیکھ بھال ہوتی ہے لیکن انہیں وہاں کچھ کام دھندے کرنے ہوں گے۔ یہ فیصلہ ہے سرکار کا! چلو انہیں کوٹھریوں میں بند کردو۔‘‘
‎فقیروں کو ایک بار پھر ہانکا جانے لگا۔ مجھے معذور تسلیم کرلیا گیا تھا۔ بہرحال مجھے بھی سہارا دے کر ایک کوٹھری میں پہنچا دیا گیا۔ کوٹھری میں میرے علاوہ دو تین فقیر اور بھی تھے اور ایک دو ایسے ملزم تھے جنہیں پولیس نے گرفتار کیا تھا۔ ایک گوشے میں ہمیں بٹھا دیا گیا۔ ان لوگوں نے احتجاج کرنا شروع کردیا تھا۔ ایک ملزم نے پولیس افسر سے کہا۔ ’’حوالدار صاحب! ان کوڑھیوں کو یہاں لانے کی کیا ضرورت تھی، انہیں کہیں اور رکھا جائے ورنہ ہم سب ہڑتال کردیں گے۔‘‘
‎’’ابھی تیری ہڑتال کرائوں۔ نکالو بے نکالو اسے باہر نکالو، یہ لیڈر ہے، ہڑتال کرے گا۔‘‘ پولیس کانسٹیبل نے لاک اَپ کا دروازہ کھولا اور اس لیڈر کو باہر گھسیٹ لیا۔ پھر لاک اَپ کے سامنے ہی ڈنڈوں سے اس کی خوب پٹائی کی گئی، وہ چیخنے چلانے لگا۔ بعد میں اسے مار پیٹ کر دوبارہ لاک اَپ میں دھکیل دیا گیا تھا۔ میرے ساتھ بھی چار پانچ فقیر تھے جو بیٹھے ہوئے یہ تماشا دیکھ رہے تھے۔ میں خاموش تھا۔ فقیروں نے آپس میں بات چیت شروع کردی۔ ایک نے کہا۔

‎’’بات تو ایک ہی ہے سڑک پر زیادہ تکلیف ہوتی تھی۔ دھوپ، ٹھنڈک برداشت کرنا پڑتی تھی۔ یہ پولیس کی بھیک ہے، روٹی تو دیں گے نا سسرے! پھر رفاہی اداروں میں بھیج دیں گے، وہاں بھی روٹی ملے گی۔ ارے بھائی! بھیک مانگنا ہی کون چاہتا ہے۔ ہاتھ، پائوں ہی کام نہ کریں تو کیا کیا جائے۔ کیوں بھائی میاں…؟‘‘
‎’’ٹھیک ہے مگر یار! ہوتی بری ہے۔ دیکھیں گے سسرے کب تک کھلاتے ہیں۔ ہونہہ! باپ دادا کا دھندہ ہے، ہم بھلا کیسے چھوڑ سکتے ہیں۔‘‘

‎جتنے منہ اتنی باتیں، میں تو ان میں حصہ ہی نہیں لے سکتا تھا چنانچہ سکون سے بیٹھا انہیں دیکھتا رہا۔ عجیب دنیا تھی۔ ایک انوکھا تجربہ تھا میرے لیے۔ وہاں اس درخت کے نیچے تنہا ہی ہوتا تھا لیکن اب یہاں اس نئی برادری سے واسطہ پڑا تھا ، خوب مزے کے لوگ تھے یہ۔ رات ہوگئی سارے کے سارے ایک دوسرے سے اپنا تعارف کراتے رہے، اپنی اپنی کہانیاں سناتے رہے اور میں سن کر حیران رہ گیا۔ وہ معذور تھے، کسی کے ہاتھ نہیں تھے، کسی کے پائوں مفلوج تھے اور کسی کو کوئی اور بیماری تھی لیکن زندگی ان کے لیے کسی طرح ان لوگوں سے کم دلکش نہیں تھی جو دنیا میں عیش و آرام کی زندگی بسر کرتے ہیں۔ وہ اپنی اپنی کمائی کے بارے میں بتا رہے تھے اور اس کے بعد اپنے مشاغل کے بارے میں۔ ایک نے کہا۔
‎’’یار! میرے پاس تو بڑی شاندار جگہ تھی۔ وہاں بیٹھ کر تو ڈیڑھ دو سو روپے چٹکیوں میں آجاتے تھے اور کبھی کوئی صدقہ خیرات مل جائے یا زکوٰۃ دینے والا آجائے تو سمجھ لو مزے آگئے۔ پچھلے مہینے پانچ فلمیں دیکھیں اور بال، بچوں کے لیے بڑے کپڑے بنائے۔ کم بختوں نے وہ جگہ بھی چھنوا دی۔ مجھے خطرہ ہے کہ کہیں کوئی اور نہ وہاں جابیٹھے۔‘‘
‎’’ابے سارے شہر میں ہی فقیر پکڑے جارہے ہیں۔ کوئی اور وہاں کیسے جاسکتا ہے؟‘‘

‎’’تو فقیر چھوڑے بھی تو جائیں گے۔ ابے! ہم سب سمجھتے ہیں، کوئی نیا حکم آیا ہوگا۔ کسی نئے افسر کو سوجھی ہوگی۔ اس نے یہ حکم چلا دیا۔ بعد میں بھول جائے گا۔ وہ بھولے گا تو باقی لوگ بھی بھول جائیں گے۔‘‘ تمام فقیر ہنسنے لگے تھے۔
‎شام ہوگئی، جھٹپٹے رات کی سیاہی میں تبدیل ہونے لگے۔ میں خاموش بیٹھا ہوا تھا۔ ایک فقیر نے دوسرے سے کہا۔ ’’ابے پہلوان! بیڑی ہوگی تیرے پاس۔‘‘
‎’’ابے میں خود مررہا ہوں۔ پورا بنڈل پڑا ہوا تھا جیب میں، اٹھاپٹخ میں نکل گیا کہیں۔‘‘
‎’’مارے گئے۔ اب کیا ہوگا؟‘‘
‎’’کوئی جگاڑ لگانی پڑے گی پیارے! یہ پولیس والے بھی سارے کے سارے رام بھروسے ہوتے ہیں۔ چائے تک نہیں ملی، سارا دن نکل گیا۔‘‘
‎’’بیڑی کی طلب ہو رہی ہے یار! ابے کسی کے پاس بیڑی ہے۔‘‘
‎’’سگریٹ پیو تو لے لو بادشاہ! بیڑی نہیں ہے۔‘‘
‎’’لا دے دے۔‘‘

‎’’ہفتے بھر کی خوشخبری سنائی گئی ہے۔ مال احتیاط سے خرچ کرو۔‘‘ تیسرے فقیر نے باقی دو کو ہوشیار کیا اور سگریٹ کے کش بڑی ترتیب سے لگائے جانے لگے۔ پٹنے والا ملزم کراہ رہا تھا۔ دو پارٹیاں ہوگئی تھیں۔ ایک فقیروں کی تھی، دوسری جرائم پیشہ افراد کی، مگر کوئی کچھ نہیں بول رہا تھا کیونکہ ایک بولنے والے کی کراہیں اب تک سنی جارہی تھیں۔ رات کا کھانا دیا گیا۔ دو دو روٹیاں اور دال وغیرہ۔ سب کھانے میں مصروف ہوگئے۔ لاک اَپ کے سامنے راہداری میں ایک ملگجا بلب روشن تھا، جس سے لاک اَپ میں بھی روشنی پھیلی ہوئی تھی۔ کھانے سے فارغ ہوکر سب آرام کرنے زمین پر لیٹ گئے۔ میں بھی اپنی جگہ گھٹنوں میں سر دیئے بیٹھا ہوا تھا۔ لاک اَپ میں ایک اور ملزم کا اضافہ ہوا۔ دروازہ کھول کر اسے اندر دھکیل دیا گیا تھا۔ میں نے سر اٹھا کر اسے دیکھا اور پورا بدن کرب سے چیخ اٹھا۔ زخموں کے منہ کھل گئے اور وہ چیخ اٹھے۔ پورے بدن کو ایسا ہی جھٹکا لگا تھا۔ وہ ماموں ریاض تھے، ماموں ریاض! انہیں اندر پہنچا کر دروازہ بند کردیا گیا اور ماموں ریاض گھبرائے گھبرائے سے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے ایک خالی جگہ جا بیٹھے۔ دل ٹکڑے ٹکڑے ہونے لگا، کلیجہ منہ کو آگیا۔ پھر حواس نے کچھ یاد دلایا۔ پہلے بھی بھوریا چرن نے یہ کھیل کھیلا تھا۔ ماموں ریاض پہلے بھی میرے سامنے لائے گئے تھے۔ بعد میں کچھ اور نکلا تھا۔ پورنی، کشنا بن کر آئی تھی۔ اس شیطان کے لیے یہ سب کچھ کردینا مشکل نہیں تھا۔ وہ اس عالم میں پہنچانے کے بعد بھی میرے پیچھے لگا ہوا ہے۔ آنکھیں جلنے لگیں۔ میں جلتی آنکھوں سے انہیں دیکھتا رہا۔ وہ پریشان سر جھکائے بیٹھے تھے۔ رات گزرتی رہی اور پھر ہر طرف سناٹا چھا گیا۔ قیدی سو گئے۔ بھانت بھانت کے خراٹے ابھرنے لگے۔

 سنتری بھی گشت ختم کرکے کہیں جا بیٹھے تھے۔ میں مسلسل ماموں ریاض کو گھورتا رہا تھا۔ اس قدر ہیجان کا شکار ہوگیا تھا کہ اپنی حالت کا احساس بھی نہ رہا۔ زبان کو جنبش دی تو طویل عرصے کے بعد اپنی سرگوشی سنی۔ اس ہیجان نے میری گویائی واپس کردی تھی، میرے بدن میں زندگی دوڑا دی تھی۔ میں کھڑا ہوسکتا تھا، میں بول سکتا تھا مگر سب کچھ بھولے ہوئے تھا۔ ماموں ریاض پر نظریں جمی ہوئی تھیں۔ اپنی جگہ سے اٹھا، ادھر ادھر دیکھا۔ ماموں ریاض کی طرف بڑھا اور پھر ان پر گر پڑا۔ میرے مضبوط ہاتھ کے شکنجے نے ان کا حلقوم بھینچ لیا تھا۔ انہوں نے مداخلت شروع کردی۔ دونوں ہاتھوں سے میری کلائی پکڑی مگر میرا پنجہ حلق سے نہ ہٹا سکے۔

‎’’کلمہ پڑھو۔‘‘ میں نے غرا کر کہا۔ وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے مجھے دیکھنے لگے۔ ’’میں گرفت ڈھیلی کررہا ہوں، کلمہ پڑھو۔ ورنہ تمہاری زبان باہر نکال دوں گا۔‘‘ میں نے یہ کہہ کر گرفت ڈھیلی کردی۔ وہ دونوں ہاتھوں سے گردن مسلنے لگے۔ پھر انہوں نے خوف زدہ آواز نکالی تو میں نے جھپٹا مار کر دوبارہ ان کی گردن پکڑ لی۔ ’’اگر تم مسلمان ہو تو صرف کلمہ پڑھو۔ دوسرا ایک لفظ تمہارے منہ سے نکلا تو… تو…!‘‘ میں نے پھر دبائو ہلکا کردیا۔
‎ماموں ریاض نے پھنسی پھنسی آواز میں کلمہ پڑھا۔
‎’’دوبارہ۔‘‘ میں نے کہا اور انہوں نے دوبارہ، پھر میرے کہنے پر تیسری بار کلمہ پڑھا اور میری آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے۔ ماموں ریاض مجھے پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔

‎’’ریاض احمد ہے آپ کا نام؟‘‘ میں نے گلوگیر لہجے میں پوچھا۔
‎’’ہاں… ہاں!‘‘ وہ جانکنی کے سے انداز میں بولے اور میں ان سے لپٹ گیا۔ میں نے انہیں بھینچ لیا۔ وہ گھبرا گھبرا کر مجھ سے خود کو چھڑا رہے تھے۔ نہ جانے کیا سمجھ رہے تھے وہ، بمشکل تمام انہوں نے مجھے قدرے دور کیا۔ ’’کیا ہوگیا… کیا بات ہے بھائی۔‘‘ وہ سہمی سہمی آواز میں بولے۔
‎’’مجھے پہچانئے… مجھے پہچانئے ماموں ریاض!‘‘
‎’’مم۔ ماموں ریاض۔ کک کون ہو تم۔ میں… میں تمہیں نہیں جانتا۔‘‘ وہ اسی انداز میں بولے۔
‎’’میں مسعود ہوں ماموں ریاض! آپ کا بھانجا مسعود۔ ماموں، میں آپ کا بھانجا ہوں۔‘‘ میں نے روتے ہوئے کہا۔
‎’’مسعود… مسعود۔‘‘ وہ آنکھیں پھاڑ کر مجھے گھورنے لگے۔ بہت دیر تک گھورتے رہے پھر کھوئے کھوئے لہجے میں بولے۔ ’’مسعود۔‘‘
‎انداز ایسا تھا جیسے اس نام کو یاد کر رہے ہوں۔ مجھے گھورتے بھی جا رہے تھے۔ پھر نہ سمجھنے والے انداز میں بولے۔
‎’’مسعود احمد… محفوظ احمد کے بیٹے؟‘‘
‎’’ماموں آپ کا مسعود۔ آپ کا چہیتا مسعود…!‘‘
‎’’معاف کرنا بھائی کچھ عجیب سی بات ہے میرا بھانجا مسعود تھا تو سہی مگر وہ تو… وہ تو…‘‘

‎’’مر چکا ہے یہی نا؟‘‘ میں نے سسکی لے کر کہا۔
‎’’تم مسعود کیسے ہو سکتے ہو۔ مسعود، وہ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر مجھے دیکھتے رہے پھر آہستہ سے بولے۔ ’’تم واقعی مسعود ہو۔ معاف کرنا کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا۔ اگر تم مسعود ہو تو… تو۔‘‘ ان کا بدن تھرتھرانے لگا۔ بہت زور کی تھرتھری طاری ہو گئی تھی ان پر۔
‎’’ماموں، میں مسعود ہی ہوں۔‘‘ میں ان سے لپٹ کر سسکنے لگا اور ماموں کانپتے رہے۔ یکایک ان کے اندر تغیر پیدا ہوا اور پھر انہوں نے بے اختیار مجھے بھینچ لیا۔ ان کے حلق سے گھٹی گھٹی آوازیں نکلنے لگیں۔
‎’’مسعود… مسعود… آہ میرے بیٹے، میرے… میرے۔‘‘ وہ زار و قطار رونے لگے۔ ’’تم زندہ ہو مسعود، تم واقعی زندہ ہو۔‘‘
‎’’ہاں ماموں ریاض، جتنا زندہ ہوں آپ دیکھ رہے ہیں۔‘‘
‎’’یہ کیا حلیہ بنا رکھا ہے بیٹے۔ کیا کر ڈالا تم نے مسعود۔ ہڈیوں کا ڈھانچہ بنے ہوئے ہو۔ مسعود میرے بیٹے۔ یہاں ملنا تھا تمہیں، یہ زخم بھی لگنا تھا میرے کلیجے پر۔‘‘
‎’’سنبھالئے ماموں خود کو۔ خدا کے لئے سنبھالئے۔‘‘
‎’’آہ کیسے سنبھالوں؟ ہزاروں آنسو رکے ہوئے ہیں میری آنکھوں میں، لاکھوں دعائوں کا نتیجہ ہو تم۔ کیسے سنبھالوں۔‘‘
‎’’ضروری ہے ماموں۔ ضروری ہے۔ خدا کے لئے خود کو سنبھالئے۔‘‘
‎’’آہ مسعود کیا بیت گئی ہم پر۔ اب تو عرصہ ہو گیا، اب تو تمہاری یاد بھی کھو بیٹھے تھے ہم۔ مسعود کیا کہوں، کیسے بتائوں تمہیں، میرے بچے کیا کیا گزری ہے ہم پر۔ باجی پر کیا گزری ہے۔ سب پر کیا گزری ہے۔ ہم انسانوں کی طرح جینا بھول گئے بیٹے، ہم ایسے نہیں جی رہے جیسے دنیا والے جی رہے ہیں۔ ہم… ہم۔‘‘ میں نے اپنے لباس سے ماموں کے آنسو خشک کئے۔ ماموں بار بار میرا چہرہ سامنے کر لیتے تھے، مجھے دیکھتے تھے۔ پھر سینے سے بھینچ لیتے تھے۔ تمام فقیر اور قیدی مزے سے سو رہے تھے، کوئی ہم جیسا نہیں تھا۔ ماموں نے کہا۔
‎’’تم، مسعود، کوئی تمہاری زندگی پر یقین نہیں کرے گا۔ اگر میں کسی سے کہوں گا تو وہ مجھ پر ہنسے گا۔‘‘

‎’’ہاں ماموں، میں خود اپنی زندگی پر ہنستا ہوں تو دوسروں کا بھی یہی حال ہو گا۔‘‘
‎’’ہڈیوں کا ڈھانچہ بنے ہوئے ہو۔ کہاں تھے، کیسی زندگی گزار رہے تھے؟‘‘
‎’’مجھ سے کچھ نہ پوچھیں ماموں، مجھ سے کچھ نہ پوچھیں۔ رات مختصر ہے، صبح بہت جلد ہو جائے گی بعد میں نہ جانے کیا ہو، پہلے مجھے سب کچھ بتا دیں ماموں، مجھے یقین نہیں ہے کہ مجھے کچھ معلوم ہو سکے گا۔‘‘
‎’’کیا پوچھنا چاہتے ہو؟‘‘
‎’’امی؟‘‘
‎’’حیات ہیں۔ اندھی ہو چکی ہیں۔‘‘
‎’’اندھی…‘‘ میری رندھی ہوئی آواز ابھری۔
‎’’ہاں۔ رو رو کر بینائی کھو بیٹھی ہیں۔ اب تو طویل عرصہ ہو گیا ہے، ہم تو اسی وقت سے برباد ہیں جب سے تم نے…‘‘ ماموں خاموش ہو گئے۔
‎’’پھر کیا ہوا ماموں؟‘‘
‎’’پڑوسی خلاف ہو گئے۔ انہوں نے ہم پر گھنائونے الزامات لگائے، یہ کہا کہ ہم سفلی علم کرتے ہیں، غیر مسلم ہیں، مرتد ہیں۔ محمود جھگڑ پڑا اور اس کے ہاتھوں سے ایک قتل ہو گیا۔ ہماری کیا اوقات تھی کچھ کرتے۔ پولیس نے ہمارا پیچھا نہیں چھوڑا، عجیب عجیب سوالات کرتے تھے۔ مجھے سترہ دن تھانے میں رکھا۔ تمہارے اور محمود کے بارے میں پوچھتے رہے کہ تم کہاں چھپے ہوئے ہو۔ ہم نے گھر چھوڑ دیا۔ اپنوں نے رشتے دار ماننے سے انکار کر دیا، جہاں گئے وہاں سے نکال دیئے گئے، کئی شہروں میں جا کر رہے اور… اور…‘‘
‎’’اور ماموں…؟‘‘
‎’’ایک اور المناک واقعہ ہوا؟‘‘
‎’’کیا…؟‘‘

‎’’خورجے میں تھے ہم لوگ۔ گھر کے سامنے ایک اور خاندان رہتا تھا۔ انہوں نے شمسہ کا رشتہ مانگا۔ ہم قیامت زدہ بھلا کیا شادی بیاہ کر سکتے تھے۔ انکار کر دیا اور…‘‘ ماموں نے سسکی بھری۔
‎’’اور کیا؟‘‘
‎’’انہوں نے شمسہ کو اغوا کر لیا۔‘‘
‎’’پھر…؟‘‘
‎’’وہ پھر کبھی نہیں ملی۔‘‘
‎میں نے آنکھیں بند کر لیں۔ دل میں شدید ٹیسیں اٹھ رہی تھیں۔ ماموں بھی خاموش تھے۔ بہت دیر کے بعد میں نے کہا۔
‎’’ابو…؟‘‘
‎’’ٹھیک ہیں۔ ایک دکان پر نوکری کرتے ہیں۔‘‘
‎’’آپ…؟‘‘
‎’’میں بھی ایک اسٹور پر کام کرتا ہوں۔ اسٹور کے مالک کا بیٹا عیاش طبع ہے۔ مجھ سے رقمیں لے جاتا رہا ہے۔ حساب میں گڑبڑ ہوئی تو مالک نے مجھے غبن کے الزام میں گرفتار کرا دیا۔‘‘
‎’’آپ نے اسے اس کے بیٹے کے بارے میں نہیں بتایا۔‘‘
‎’’ہمیشہ بتاتا رہا ہوں مگر… لوگ کہاں مانتے ہیں، خدا ہی اس کے دل میں رحم ڈال دے تو میری گلوخلاصی ہو جائے ورنہ نہ جانے کیا ہوگا۔‘‘ میں خاموش ہو گیا۔ کچھ دیر کے بعد ماموں صاحب نے کہا۔ ’’اپنے بارے میں بھی تو کچھ بتا دو۔‘‘
‎’’اتنا کچھ سن چکے ہوں گے میرے بارے میں کہ اور کیا بتائوں، داستان اتنی لمبی ہے کہ… جی… ویسے ایک انکشاف کر دوں آپ کو خوشی ہو گی۔‘‘
‎’’کیا…؟‘‘
‎’’محمود کے بارے میں کوئی خبر ملی آپ کو۔‘‘
‎’’آج تک پتہ نہیں چل سکا۔‘‘
‎’’وہ بیرون ملک ہے، مجھے مل گیا تھا۔ ایک بھلے انسان کی مدد سے میں نے اسے بیرون ملک نکال دیا، یقیناً بعد میں اس نے آپ سے رابطے کی کوشش کی ہو گی لیکن آپ کا پتہ نہ پاسکا ہو گا۔‘‘

‎’’آہ… کیا سچ مچ ایسا ہے؟‘‘
‎’’ہاں امی اور ابو کو یہ بات ضرور بتا دیجئے، انہیں خوشی ہو گی۔‘‘
‎’’مسعود تم…؟ تم…‘‘
‎’’نہیں ماموں میں شاید ابھی ان کی قدم بوسی کے قابل نہیں ہوں، شاید ابھی یہ سعادت میرے مقدر میں نہیں ہے۔‘‘
‎’’تمہارے اوپر جو مقدمات تھے ان کا کیا ہوا؟‘‘
‎’’بہت سے مقدمات کے اضافے ہو چکے ہیں، فیصلے ہوں گے۔ سب کے فیصلے ہوں گے۔ اللہ مالک ہے۔‘‘
‎’’ان سے ملو گے نہیں۔‘‘
‎’’امی ابو سے؟‘‘
‎’’ہاں۔‘‘
‎’’ضرور ملوں گا۔ ان سے کہہ دیجئے زندہ رہیں، میرے لئے زندہ رہیں، میں ان سے ضرور ملوں گا۔‘‘
‎’’یہاں کس الزام میں آئے ہو۔‘‘
‎’’بس ماموں اور کچھ نہ پوچھیں، خدا کے لئے اور کچھ نہ پوچھیں۔ اللہ آپ کو اس مشکل سے نکالے۔‘‘ ہم دونوں ساری رات روتے رہے تھے، باتیںکرتے رہے تھے، اپنے بارے میں انہیں کیا بتاتا۔
‎صبح ہو گئی۔ دن کے دس بجے تھے کہ کچھ لوگ لاک اَپ کے دروازے پر آئے۔ ماموں ریاض انہیں دیکھ کر کھڑے ہو گئے۔ ایک خاتون بھی تھیں، ایک عمر رسیدہ شخص، ایک نوجوان اور پولیس

‎انسپکٹر۔ انسپکٹر نے کانسٹیبل سے دروازہ کھولنے کے لئے کہا اور کانسٹیبل نے دروازہ کھول دیا۔ انسپکٹر نے ماموں ریاض سے باہر آنے کے لئے کہا اور ماموں ریاض باہر نکل آئے۔ معمر شخص نے ماموں ریاض کے ہاتھوں کی انگلیوں میں انگلیاں پھنسائیں اور انہیں ساتھ لے کر وہاں سے آگے بڑھ گیا۔ کچھ سمجھ میں نہیں آیا تھا۔ پتہ نہیں کیا قصہ تھا۔ خاموشی سے وقت گزرتا رہا۔ ماموں ریاض کی واپسی کا انتظار کرتا رہا مگر وہ واپس نہیں آئے۔ دوپہر کو تمام فقیروں کو نکالا گیا اور احاطے میں کھڑے ہوئے ایک ٹرک میں بٹھایا گیا۔ ٹرک اسٹارٹ ہو کر چل پڑا۔ پھر اس نے کوئی چھ گھنٹے تک مسلسل سفر کیا اور پھر ایک جگہ رک گیا۔ پولیس والے نیچے اترے اور انہوں نے ٹرک کا پچھلا حصہ کھول کر فقیروں سے نیچے اترنے کے لئے کہا۔ سب نیچے اترنے لگے مگر کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا، ویران اور لق و دق جگہ تھی، دور دور تک ریتیلی زمین اور اس میں اُگی ہوئی تھوہر کی جھاڑیاں، پرندے اور دوسرے جانور بھی نظر نہیں آ رہے تھے۔ پتہ نہیں یہ لوگ یہاں لا کر ہمارے ساتھ کیا کرنا چاہتے تھے۔ فقیروں نے احتجاج شروع کر دیا اور چیخنے چلانے لگے۔ پولیس والوں نے ان میں سے چند کو ڈنڈوں سے مارا۔ ایک موٹا تازہ پولیس والا کہنے لگا۔
‎’’شہر کا بیڑہ غرق کر کے رکھ دیا ہے تم لوگوں نے، اب رہو یہاں بھوکے پیاسے اور جائو سیدھے جہنم میں، کم بختوں سے کام کاج ہوتا نہیں ہے، ہٹے کٹے مسٹنڈے اور بھیک مانگ کر ہماری حق تلفی کرتے ہو۔‘‘ پولیس والے ٹرک میں چڑھنے لگے۔
‎کچھ معذور فقیروں نے کہا۔
‎’’بابا اللہ تمہارا بیڑہ غرق کرے، واپس شہر پہنچنا نصیب نہ ہو تمہیں، ٹرک کا حادثہ ہو جائے، ارے ہم سے تو کچھ اور کہا تھا تم لوگوں نے، ارے یہاں کیا کریں گے ہم، تمہارا ستیاناس، تمہارا ستیاناس۔‘‘ پولیس والے ہنستے ہوئے ٹرک پر چڑھ گئے اور ٹرک اسٹارٹ ہو کر آگے بڑھ گیا۔ واقعی بڑا عجیب کام کیا تھا ان لوگوں نے، اس ویرانے میں تو بھوک اور موت کے سوا کچھ نہیں تھا۔ فقیر روتے پیٹتے رہے۔ پولیس والوں کو گالیوں سے نوازتے رہے۔ کچھ ادھر ادھر منتشر ہو گئے، ان میں سے کچھ فقیر اونچائی کی جانب بڑھنے لگے پھر دفعتاً ان میں سے ایک نے کہا۔
‎’’ادھر…ادھر آبادی ہے۔ ہم آبادی سے زیادہ دور نہیں ہیں، ارے چلو بھائیو! وہ تو کوئی مزار ہے، ذرا اوپر چڑھ کر دیکھو بڑا سا جھنڈا نظر آ رہا ہے اور مزار کا گنبد بھی۔‘‘ شوقین فقیر اس جانب دوڑے، بلندی تھی تھوڑی سی، وہ بھی اوپر چڑھے اور شاید اطلاع دینے والے فقیروں کی بات کی تصدیق ہو گئی۔ وہ سب ہنسنے مسکرانے لگے، قہقہے لگانے لگے۔ معذور فقیروں میں سے کچھ نے کہا۔
‎’’ارے بھائیو! اگر لمبا فاصلہ ہے تو ہمیں بھی اپنے ساتھ لے چلو، ہم وہاں تک کیسے پہنچیں گے؟‘‘

‎’’مزدوری کون دے گا‘‘ سودے طے ہونے لگے، کچھ نے کچھ کو اپنے کندھوں پر لاد لیا، جن کی مزدوری طے نہیں ہوئی تھی وہ خود ہی بلندی کی جانب گھسٹنے لگے۔ میں خاموش اپنی جگہ بیٹھا ہوا تھا۔ ایک فقیر نے جو سب سے آخر میں رہ گیا تھا، میری طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
‎’’ابے تو نہیں چلے گا کیا…؟ ادھر یقیناً لنگر مل جائے گا۔ یہاں تو بیٹا کھانے کے لئے گھاس بھی نہیں ہے۔‘‘
‎میں نے مسکرا کر اسے دیکھا اور کہا۔ ’’تمہارا شکریہ بھائی چلا جائوں گا، میر ے تو پائوں ٹھیک ہیں۔‘‘ فقیر نے شانے ہلائے اور بلندی کی جانب بڑھ گیا۔ میرے دل میں کوئی تجسس پیدا نہیں ہوا تھا۔ شام جھکتی چلی آ رہی تھی، ہوا میں خنکی پیدا ہونے لگی تھی۔ میں سوچنے لگا کہ اب مجھے کیا کرناچاہئے۔ بدن لاغر تھا، ہاتھ پائوں بے شک سلامت تھے لیکن اتنی جان نہیں تھی کہ کوئی طویل فاصلہ طے کرتا۔ بدن کا خون نکل جانے کے بعد سے اب تک ایسی ہی نقاہت بدن پر طا ری رہی تھی۔ بہرحال شام کے جھٹپٹے رات کی سیاہیوں میں تبدیل ہونے لگے۔ کچھ فاصلے پر دو عجیب سے کالے رنگ کے مڑے تڑے پھل سے پڑے ہوئے تھے، پتہ نہیں کیا شے تھی۔ آہستہ آہستہ آگے بڑھا، اٹھایا ٹٹول کر دیکھا۔ پھر ان میں سے ایک پھل توڑا تو کوئی صحیح اندازہ نہیں ہو سکا کہ کیا چیز تھی، پھینک دیا اور اس کے بعد ٹھنڈی سانس لے کر تھوڑا سا آگے بڑھ گیا۔ بلندی پر پہنچ کر میں نے بھی کافی فاصلے پر اندازے کے مطابق دو ڈھائی فرلانگ پر آبادیاں دیکھیں۔ غالباً کوئی مزار ہی تھا۔ قرب و جوار میں مکانات وغیرہ نظر نہیں آ رہے تھے لیکن روشنیاں تھیں، عمارت بنی ہوئی تھی اور اس کے اطراف میں اچھے خاصے لوگ موجود تھے۔ تھوڑے تھوڑے فاصلے پر کچی پکی قبریں بھی نظر آ رہی تھیں۔ پتہ نہیں کون سا علاقہ تھا غالباً بہت بڑا قبرستان تھا۔ زائرین کی گاڑیاں وغیرہ بھی کھڑی نظر آ رہی تھیں۔ وہ فقیر جو یہاں سے گئے تھے، شاید یہ فاصلہ طے کر کے مزار شریف تک پہنچ گئے تھے کیونکہ اس جگہ سے وہاں تک کے راستے میں اب کوئی نظر نہیں آ رہا تھا۔ میں نے ایک گہری سانس لی۔ اس علاقے کے بارے میں واقعی کوئی اندازہ نہیں ہو سکا۔ چلو ضرورت مندوں کا کام تو بن گیا۔ مجھے تو بھوک بھی نہیں لگ رہی تھی۔ وہیں ایک پتھر سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ دور جگمگاتی روشنیاں بھلی لگ رہی تھیں پھر ہوا کے دوش پر تیرتی اذان کی آواز سنائی دی۔ ’’اللہ اکبر… اللہ اکبر۔‘‘

‎’’جل شانہٗ‘‘ میرے منہ سے بے اختیار نکل گیا۔ دل میں ایک ہوک سی اٹھی۔ اذان کی تکرار کرنے لگا۔ روحانی سکون محسوس ہوا تھا۔ دنیا کی ہر نعمت سے زیادہ لذت انگیز تھا۔
‎اذان ختم ہو گئی۔ پتھر کا سہارا لے کر کھڑا ہو گیا۔ آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے۔ ہچکیاں بندھ گئیں۔ لرزتی آواز نکلی۔ لڑکھڑاتی ہوئی غیر یقینی آواز میں نماز کی نیت باندھی۔ ذہن ساتھ دینے لگا۔ سسکیاں، ہچکیاں بندھ گئی تھیں۔ برسوں کا چھنا ہوا سرمایہ واپس عطا ہو گیا تھا۔ سب کچھ یاد آ گیا تھا۔ روح کو طہارت عطا ہو گئی تھی۔ رکوع، سجدہ، رو، رو کر نماز پڑھتا رہا۔ سجدے سے سر اٹھانے کو جی نہیں چاہ رہا تھا مگر نماز پوری کرنی تھی۔ اعتماد بڑھتا گیا۔ نماز مکمل کر لی۔ بدن تھا کہ آگ کی طرح تپ اٹھا تھا۔ کسی کمزوری کا نام و نشان نہیں تھا۔ مسرت کی لہریں اٹھ رہی تھیں۔ آہ مجھے میرا سرمایہ واپس مل گیا۔ مجھے میرا سرمایہ واپس مل گیا اور کچھ نہیں چاہئے تھا، اور کچھ نہیں چاہئے تھا۔ اسی جگہ بیٹھا رہا۔ عشاء کی اذان سنائی دی پھر نماز کے لئے کھڑا ہو گیا۔ رات بھیگتی جا رہی تھی۔ پھر نہ جانے کیا وقت ہو گیا، پلکیں جڑنے لگیں۔ وہیں لیٹ گیا۔ آنکھیں بند کر لیں۔ سردی بہت بڑھ گئی تھی۔ بدن سکوڑ لیا، نیند آ گئی، غالباً نیم غنودگی کی کیفیت تھی کہ کچھ آہٹیں سنائی دیں۔ آنکھیں کھول کر دیکھا، دو سائے نظر آئے۔ اسی سمت آ رہے تھے۔ خاموش لیٹا رہا پھر ایک آواز سنائی دی۔
‎’’ارے… یہ کون ہے۔‘‘
‎’’کوئی سائل ہے۔‘‘
‎’’رکو…‘‘ کسی نے کہا اور وہ میرے پاس رک گئے۔
‎’’میاں صاحب…بھوکے ہو؟‘‘
‎’’شکر ہے۔‘‘ میرے منہ سے نکلا۔
‎’’روٹی کھائو گے؟‘‘
‎’’کھائیں گے۔‘‘

‎’’لو… یہ لو…‘‘ ان میں سے ایک نے جھک کر دو روٹیاں جن پر دال رکھی ہوئی تھی۔ میرے ہاتھوں پر رکھ دیں۔
‎’’شکر الحمدللہ۔‘‘ میں نے کہا اور احترام سے رزق لے لیا۔
‎’’یہ پانی ہے۔‘‘ دوسرے نے آبخورہ میرے حوالے کر دیا۔
‎’’سردی ہے، یہ کمبل اوڑھ لینا۔‘‘ پہلے نے کمبل اپنے شانے سے اتار کر میرے قریب رکھ دیا۔
‎’’اللہ اجر عطا فرمائے۔‘‘ میں نے کہا۔
‎’’آئو۔‘‘ پہلے نے دوسرے سے کہا اور دونوں آگے بڑھ گئے۔
‎شکم سیری ہو گئی۔ آبخورہ سے پانی پیا۔ سردی اور بڑھ گئی، خنک ہوائیں تیز ہو گئی تھیں اور معدے میں وزن بڑھا تو دوسرے احساسات بھی جاگ اٹھے۔ کمبل یاد آیا۔ جلدی سے اٹھا کر بدن کے گرد لپیٹ لیا۔ نہ جانے کون خدا کے نیک بندے تھے، بڑے کام آئے۔ دل سے دعا نکلی۔ وہیں لیٹ گیا۔ کمبل بدن کے گرد لپیٹ لیا۔ مزید سردی لگی تو چہرہ بھی ڈھک لیا اور چہرہ ڈھکتے ہی ایک عجیب سی روشنی کا احساس ہوا۔ آنکھیں بند کر لیں لیکن روشنی کم نہ ہوئی۔ دیر تک ساکت رہا پھر بدن گرم ہو گیا۔ کمبل نے سردی سے نجات دلا دی تھی۔ ماموں ریاض یاد آئے۔ نہ جانے وہ کون لوگ تھے اور ماموں کو کہاں لے گئے۔ منظر آنکھوں کے سامنے گھوم گیا۔ معمر شخص نے ماموں ریاض کی انگلیوں میں انگلیاں ڈالتے ہوئے کہا۔
‎’’آیئے…‘‘ ماموں ریاض خاموشی سے ان کے ساتھ آگے بڑھ گئے۔ وہ لوگ انہیں لئے انسپکٹر کے کمرے میں آئے۔
‎’’بیٹھئے۔‘‘ انسپکٹر نے کہا عورت اور لڑکا بیٹھ گئے۔ پھر معمر شخص بھی۔ انسپکٹر نے ماموں ریاض سے کہا۔ ’’آپ بھی بیٹھئے۔‘‘
‎’’جی… میں…‘‘
‎’’ہاں تشریف رکھئے۔‘‘ انسپکٹر نرمی سے بولا۔
‎’’شش… شکریہ…‘‘
‎’’نجم الحسن صاحب آپ سے سخت شرمندہ ہیں۔‘‘
‎’’جی…؟‘‘ ماموں ریاض حیرت سے بولے۔

‎’’جی ہاں انہوں نے غلط فہمی میں اور جذباتی ہو کر آپ کے خلاف رپورٹ درج کرا دی تھی اور اب انہوں نے یہ رپورٹ واپس لے لی ہے حالانکہ پولیس کے کام ذرا مشکل ہوتے ہیں لیکن نجم الحسن میرے دوست ہیں، میں نے ان کے لئے کچھ لچک پیدا کر لی ہے، میری رائے ہے ریاض صاحب آپ بھی انہیں معاف کر دیں۔‘‘
‎’’سر میں سمجھا نہیں۔‘‘
‎’’بھئی میں آپ کو یہاں لاک اپ سے رہا کرتا ہوں۔ باقی معاملات آپ خود نجم الحسن صاحب سے طے کر لیں۔‘‘ ماموں ریاض کے چہرے پر مسرت کے آثار پھیل گئے۔ انہوں نے آنسو بھری آنکھوں سے نجم الحسن کو دیکھا اور بولے۔ ’’بڑے صاحب آپ۔ آپ کو یہ معلوم ہو گیا کہ میں بے گناہ ہوں۔‘‘


‎’’انسپکٹر صاحب ہمیں اجازت دے دیجئے۔ کوئی ایسی آفیشل کارروائی تو نہیں کرنی ہے جس کی ضرورت ہو۔‘‘ نجم الحسن صاحب نے کہا۔
‎’’نہیں نجم جائو، عیش کرو اور ان صاحب کو ذرا مطمئن کر دینا۔‘‘ سب لوگ اٹھ گئے۔ معمر عورت نے ریاض ماموں کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا۔ ’’ریاض بھائی ہمارے ساتھ چلئے۔ آپ سے کچھ کام ہیں۔‘‘ فوراً ہی ریاض ماموں کے ذہن میں میرا خیال آیا اور انہوں نے کہا۔
‎’’انسپکٹر صاحب… وہ… وہ…‘‘ اسی وقت دو کانسٹیبل اندر داخل ہوئے اور انہوں نے سلیوٹ کر کے کہا۔ ’’سر ڈی ایس پی کی گاڑی آ کر رکی ہے۔‘‘
‎’’اوہو اچھا اچھا۔‘‘ انسپکٹر صاحب جلدی سے کھڑے ہو گئے اور انہوں نے نجم الحسن صاحب سے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا۔
‎’’ڈی ایس پی صاحب آ گئے ہیں۔ اچھا خدا حافظ۔‘‘ یہ کہہ کر انسپکٹر صاحب، نجم الحسن صاحب سے پہلے اپنے آفس کے کمرے سے باہر نکل آئے۔ نجم الحسن صاحب نے ماموں ریاض کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا۔

‎’’آیئے آیئے ریاض صاحب آئیں۔‘‘ ماموں ریاض غالباً میرے بارے میں پھر کچھ کہنا چاہتے تھے لیکن یہ موقع نہیں تھا چنانچہ وہ خاموشی سے نجم الحسن صاحب کے ساتھ باہر نکل آئے۔ باہر ایک کار کھڑی ہوئی تھی۔ نجم الحسن صاحب نے انہیں ڈرائیور کے ساتھ بٹھایا۔ پچھلے حصے میں وہ نوجوان لڑکا، معمر خاتون اور نجم الحسن صاحب بیٹھ گئے اور کار اسٹارٹ ہو کر تھانے کی عمارت کے احاطے سے باہر نکل آئی۔ اس کے بعد یہ لوگ ایک خوبصورت بنگلہ نما عمارت میں داخل ہوئے، کمرے میں پہنچے اور نجم الحسن صاحب نے نوجوان لڑکے کو دیکھتے ہوئے کہا۔
‎’’اگر تمہارے خون میں شرافت کا ایک ذرہ بھی باقی ہے تو ریاض احمد صاحب کے قدموں میں گر کر معافی مانگو، وہ اگر چاہتے تو تمہارا نام بھی لے سکتے تھے۔ کیا دھرا سب کچھ تمہارا تھا، ہم نے انہیں بے عزت کیا۔ تھانے بھی بھجوایا اور انہیں سزا بھی ہو سکتی تھی اس الزام میں، کچھ غیرت ہے تمہارے اندر۔‘‘ نوجوان لڑکا آگے بڑھا اور اس نے جھک کر ریاض ماموں کے ہاتھ پکڑنے چاہے۔ ریاض ماموں نے اسے بازوئوں سے پکڑ کر کھڑا کر دیا اور کہنے لگے۔

‎’’بیٹے میری مجبوریاں ہیں، میں نے تم سے کئی بار کہا کہ جو رقم تم مجھ سے لیتے ہو اس کا کسی نہ کسی شکل میں اندراج کرا دو۔ تمہارے ابو تمہیں تو معاف کر سکتے ہیں میرے لئے مشکل ہو جائے گی لیکن خیر تقدیر میں یہ بھی تھا اور پھر… اور پھر…‘‘ ماموں ریاض کے ذہن میں میرا تصور ابھرا لیکن ان کی سمجھ میں نہیں آیا کہ نجم الحسن صاحب سے وہ کیا کہیں تاہم انہوں نے اتنا ضرور کہا۔
‎’’بڑے صاحب جو کچھ ہوا وہ اللہ کی مرضی تھی اور اللہ کا کوئی کام مصلحت سے خالی نہیں ہوتا۔ وہاں تھانے کے لاک اپ میں میری ملاقات ایک ایسے نوجوان لڑکے سے ہوئی تھی جو وہاں بند تھا لیکن میرے اس سے ایسے رابطے ہیں کہ میں آپ کو بتا نہیں سکتا۔ آپ میرے اوپر اگر کوئی احسان کرنا چاہتے ہیں تو صرف ایک کام کر دیجئے میرا۔‘‘

‎’’ہاں ہاں کہئے، آپ نے وہیں کیوں نہ کہا ریاض صاحب۔ انسپکٹر میرا گہرا دوست ہے۔ آپ اسی وقت بتا دیتے تو میں اس لڑکے کو بھی چھڑا لیتا۔ کیا جرم کیا ہے اس نے؟‘‘
‎’’یہ تو مجھے نہیں معلوم، اس کا نام مسعود احمد ہے۔ حلیہ میں آپ کو تفصیل سے بتائے دیتا ہوں۔‘‘
‎ماموں ریاض میرا حلیہ دہرانے لگے۔
‎’’بالکل اطمینان رکھیں میں کل ہی اس کے لئے کچھ کروں گا۔ آپ خلوص دل سے اسے معاف کر دیں اور مجھے بھی، جو کچھ ہوا غلط فہمی میں ہوا، میں دل سے شرمندہ ہوں۔‘‘ نجم الحسن نے کہا۔
‎’’تقدیر میں جو کچھ لکھا ہوتا ہے وہ کسی نہ کسی شکل میں ضرور پورا ہوتا ہے۔ اللہ کا شکر ہے میری عزت بحال ہو گئی۔‘‘

‎دماغ پر غنودگی طاری ہو گئی اور پھر گہری نیند آ گئی۔ صبح اذان کی آواز نے جگایا تھا۔ ہڑبڑا کر کھڑا ہو گیا۔ وہی جگہ تھی۔ مدھم مدھم اجالا پھیلتا جا رہا تھا۔ ادھر ادھر دیکھا پانی دستیاب نہیں تھا۔ آب خورے کی شفاف مٹی سے تیمم کیا اور نیت باندھ کر کھڑا ہو گیا۔ بدن توانا تھا۔ خشوع و خضوع سے نماز پڑھی۔ دل و دماغ شاد ہو گئے۔ سورج کی پاکیزہ کرنیں انہیں چھونے لگی تھیں۔ ادھر ادھر دیکھا پھر مزار شریف کی طرف اور پھر کمبل اٹھا کر کاندھے پر ڈالا اور وہاں سے آگے بڑھ گیا۔


تمام اردو کہانیاں پڑھنے کے لیے کلک کریں 

کالا جادو - پارٹ 22

Urdu stories online, Urdu stories for kids, Short Urdu stories, Urdu Kahaniyan, Famous Urdu stories, Urdu stories with moral, Best Urdu stories collection, Urdu stories for students, Urdu love stories, Urdu horror stories, Urdu stories for reading, Urdu stories in Urdu text, Funny Urdu stories, Urdu stories for beginners, Urdu detective stories, Urdu motivational stories, Urdu stories for adults, Urdu moral stories, Urdu stories for children, Urdu true stories, Urdu suspense stories, Urdu emotional stories, Urdu adventure stories,

hindi moral stories in urdu,سبق آموز کہانیاں, jin-ki-dushmni,good moral stories in urdu,Moral Stories,Urdu Stories,urdu kahani,اردو کہانی,قسط وار کہانیاں,
Reactions