سفید محل - اردو کہانی قسط نمبر 3

 

سفید محل - اردو کہانی قسط نمبر 3

قامران نے کھڑے ہو کر اپنے کپڑوں کا جائزہ لیا۔ اس گتھم گتھا میں سینے پر سے اس کا لباس پھٹ گیا تھا اور اس کے سینے پر ہلکی ہلکی خراشیں آگئی تھیں۔
قامران اپنی خراشوں کا جائزہ لے رہا تھا کہ پانچوں باندیاں ایک ساتھ جلوہ گر ہوئیں
"ہم معافی چاہتے ہیں۔" ایک باندی نے معافی مانگی۔
” آپ کو چلاکو کی وجہ سے زحمت اٹھانی پڑی۔" "اس ریچھ کے بچے نے تو مجھے مار ھی دیا تھا۔" قامران نے ہسنتے ہوئے کہا۔
کمبخت خوابگاہ میں کہاں سے آ نکلا۔
"وہ آپ کو جو کچھ نظر آ رہا تھا...وہ نہ تھا۔" ایک باندی گویا ہوئی۔
”وہ ریچھے نہیں تھا تو پھر کیا تھا؟" قامران نے حیرت سے کہا۔
"اس سے زیادہ جاننے کی ہمیں اجازت نہیں۔" باندی نے بڑے مودبانہ لہجے میں کہا۔
"مقدس چاندکا ہی اس پر روشنی ڈال سکتی ہیں۔“
" یہ محترمہ اس وقت ہیں کہاں؟"
"ہم نہیں جانتے۔“
"پھر آپ جانتی کیا ہیں؟"

"ہم یہ جانتے ہیں کہ چالاکو کی وجہ سے آپ کے سینے پر جو خراشیں آئی ہیں اس کی مرہم پٹی کی جائے۔ اگر غسل کی خواہش ہوتو غسل کا اہتمام کیا جائے آپ کا لباس تبدیل ہو اور آپ کو ناشتے کے لیے لے جایا جائے اور ہر طرح سے آپ کے آرام کا خیال رکھا جائے۔" ایک باندی نے اپنے اختیارات کی حدود بیان کیں۔
پھر شروع ہو جائیں انتظار کس بات کا؟“ ایک باندی فورا ہی ایک تسلے میں پیلے رنگ کا پانی سا لے آئی۔ دوسری نے کامران کی قمیص اتار دی تیسری نے اس پانی میں روئی بھگوئی اور نچوڑ کر چوتھی کو دی۔ پانچویں نے اسے چھپر کھٹ پر لٹایا اور پیچھے ہٹ گئی۔
چھوتی باندی نے جس کے ہاتھ میں روئی کا پاہا تھا کامران کے سینے پر پھیرنے لگی۔
سینے پر پانی لگنے سے خراشوں کی جلن ختم ہوگئی اور اسے بے حد سکون محسوس ہوا۔ یہ عمل تین بار دہرایا گیا۔
"اب دیکھئے۔" ایک باندی نے کہا۔ کامران نے جب اپنے سینے پر نظر ڈالی تو حیران رہ گیا۔ سینے پر سرے سے کوئی خراش کا نشان نہ تھا
"کمال کیا بھئی۔“
"غسل کے لیے تشریف لے چلیے۔" باندی کے اشارے پر قامران اٹھ گیا۔
حمام کی دیوار کی چھت اور فرش اتنے چمکدار تھے کہ اس میں اپناعکس آسانی سے دیکھا جا سکتا تھا۔ قامران نے جدھر بھی نظر ڈالی خود کو کھڑا پایا۔ چند لمحوں میں حمام خوشگوار دھند سے بھر گیا۔ یہ بھاپ چھت کے سوراخ سے نکل کر دھار کی صورت میں قامران کے سر پر گر رہی تھی اور وہاں سے پھیل رہی تھی۔ باندیوں کے نرم ملائم ہاتھ اس کے جسم پر ادھر ادھر ہر جگہ ہل رہے تھے اور اس کے جسم سے تھکن دور ہوتی جا رہی تھی۔ جب اسے بھاپ کے غسل سے باہر نکالا گیا تو اس کا جی باہر نکلنے کو نہ چاہا۔
اس غسل نے اس کے جسم کو پھولوں کی طرح کا ہلکا پھلکا کر دیا تھا۔
غسل کے بعد اس کی بھوک اچانک چمک اٹھی تھی باندیاں ابھی اس کے بناؤ سنگھار میں ہی لگی ہوئی تھیں اور بھوک نے اسے بے حال کر دیا تھا۔
اب کچھ کھانے پینے کی بات کیوں نہ ہو جائے۔آخر اس سے رہا نہ گیا۔ "ضرور‘ ایک باندی نے مسکراتے ہوئے کہا۔
چلیے۔“ ناشتے کے بعد باندیاں ساتھ احترام کے اس کو خوابگاه میں چھوڑ گئیں۔ ناشتہ بڑا پر تکلف تھا۔ دسترخوان پر ہر قسم کی چیز میں موجود تھی اور ایسی لذیز کہ چھوڑنے کو دل نہ چاہتا تھا۔ وہ بادل نخواسته آیا اور چھپر کھٹ کی پشت پر کئی نرم ملائم تکیے لگا کر آرام سے بیٹھ گیا۔ خوابگاہ کے پرکشش ماحول سے اس کا ذہن تپتے ریگزاروں کی طرف منتقل ہو گیا۔
اے صحرا سرخ یاد آیا جہاں ملکہ شاطو کے سواروں نے اسے ریت کی صلیب پر چڑھا دیا تھا۔

ملکہ شاطو سوچتی ہوگی کہ اس نے اسے صحراۓ سرخ کے حوالے کر کے اذیت ناک موت سے دوچار کر دیا ہے۔ اسے کیا معلوم کہ وہ اس وقت صحراۓ سرخ کے گِدھوں سے محفوظ کسی شاہی خوابگاہ میں آرام فرما ہے اور بہت جلد غربان پہنچ کر اس سے دو دو ہاتھ کرنے کی سوچ رہا ہے۔ ملکہ شاطو نے اگر چہ اسے اپنے سواروں کی صف میں شامل کرنے کی پیشکش کر دی تھی۔ اس پیشکش پر نیلا ہو اور اس کا باپ بہت خوش تھا مگر قامران نے ملکہ شاطو کی ملازمت کو اپنے تیر کی نوک پر رکھ دیا تھا۔ ایک تو ملکہ شاطو اور اس کے سواروں کی شہرت اچھی نہیں آئے دن وہ ان کے ظلم کے قصے سنا کرتا تھا۔ بستی کے لوگ ان کی شکلیں دیکھ کر نفرت اور خوف سے اپنی گردنیں موڑ لیا کرتے تھے۔ دوسرے یہ ملازمت ہمہ وقتی تھی۔
چوبیس گھنٹے ملکہ شاطو کی خدمت میں حاضر رہنا تھا۔
قامران ایک آزاد منشی نوجوان تھا۔ چوبیس گھنٹے کی پابندی اس سے کسی طرح ممکن تھی۔ پھر ظالموں میں شامل ہو کر وہ خود بھی ظلم کی صورت نہیں بننا چاہتا تھا لہذا اس نے ملکہ شاطو کی ملازمت کو قابل توجہ نہ سمجھا لیکن عقلمندی یہ کی کہ انکار بھی نہ کیا۔ ادھر کے شاطو بھی جیسے پیشکش کر کے بھول گئی۔ اس طرح تین چار سال بیت گئے۔
ایک دن قامران صبح تڑکے ہی ابلا کی پیٹھ پر سوار ہو کر مغرب کی طرف نکل گیا۔
بہت دن سے وہ بھی سیر کو نہیں نکلا تھا۔ آج اس کا ارادہ سورج چڑھنے سے پہلے ٹھنڈی ہوا کھانے کا تھا۔ اگر راستے میں کوئی شکار ہاتھ لگ گیا تو اس پر بھی ہاتھ صاف کرتا چلے گا۔

دو قاتل گھوڑی جس نے غربان قبیلے کے کئی نوجوانوں کو موت کی گھاٹ اتار دیا تھا اور جس کی منہ زوری کے قصے غربان میں پھیلے ہوئے تھے قامران کی ایسی مطیع ہوئی تھی کہ لوگ اسے دیکھ کر حیران رہ جاتے تھے کہ یہ وہی ابلا ہے جس کے پٹھے پر ہاتھ رکھنا بھی جان جوکھوں کا کام تھا۔
ابلا قامران کے ہر اشارے کی تعمیل کرتی اڑی چلی جارہی تھی۔ قامران بستی سے بہت دور نکل آیا تھا۔ اسے اب پیاس محسوس ہونے لگی تھی۔ وہ چشمے کی تلاش میں ادھر ادھر بھٹک رہا تھا کہ دور سے اس نے ایک جگہ کچھ پرندوں کو اڑتے دیکھا۔ ابلا کو ایڑ لگا کر جب وہ وہاں پہنچا تو گوہر مقصود اس کے سامنے تھا۔ چشمہ بھی اور پرندوں کا شکار بھی۔ اس نے اپنے تیروں سے کئی پرندے گھائل کیے۔ گھاس پھوس اکٹھا کر کے پتھر پر پتھر رگڑ کر آگ جلائی اور انہیں بھوننے لگا۔ دو پرندے ہضم کر کے اس نے چشمے کا ٹھنڈا پانی پیا اور لمبی ڈکار لیتا ہوا ابلا کی طرف بڑھا۔ اسے پانی پلا کر اس کے جانے کا انتظام کیا اور اپنے قریب ہی ابلا کو ایک درخت سے باندھ کر خود لیٹ گیا تاکہ تھوڑا سا ستانے۔
لیٹتے ہوئے اس نے تیر کمان داہنے ہاتھ کے نیچے رکھ لی۔ یہ خطرناک علاقہ تھا درندوں پر کسی بھی وقت تیر چلانے کی ضرورت پڑسکتی تھی۔ اور پھر وہی ہوا اس کی احتیاط کام آ گئی۔ اسے لیٹے ہوئے ابھی چند لمحے ہی گزرے تھے کہ اس کی چھٹی حس نے کسی درندے کی آمد کی اطلاع دی۔ دیکھتے ہی دیکھتے ایک چیتے نے سامنے سر ابھارا اور اس پر چھلانگ لگا دی۔ کامران نے بھی برق رفتاری سے تیر کمان سنبھالی خود کو بچا کر چیتے پر تیر چلایا جو سیدھا اس کے پیٹ میں اتر گیا۔ کامران نے ایک تیر اور چلایا جو اس کی پچھلی ٹانگوں میں پیوست ہو گیا۔ تیروں کی بوچھاڑ نے چیتے کو بوکھلا دیا۔ اسے اپنی جان کے لالے پڑ گئے۔ وہ تیزی سے چھلانگیں لگاتا سیدھا نکل گیا۔
کامران کو اس بات کا پکا یقین تھا کہ کیا اسکے دونوں تیروں کی تاب نہ لا سکے گا اور ہوا اور بھی یہی۔ جب وہ ابلا کی پیٹھ پر سوار ہو کر چیتے کا پیچھا کرنے نکلا تو اسے زیادہ دور نہیں جانا پڑا۔ ایک بڑے سے پتھر پراسے چیتا پڑا ہوا مل گیا۔ وہ دم توڑ چکا تھا۔ کامران نے جلدی جلدی اس کے جسم سے اپنے تیر کھینچے۔ اس کی پیٹھ پر قامران کے تیروں کے علاوہ ایک سنہرا تیر بھی پوست تھا اور یہ سنہرا تیرا اسے مشکل میں پھنسا سکتا تھا۔ اس لیے اس نے سوچا کہ جتنی جلدی ممکن ہو سکے یہاں سے نکل جائے۔

یہ سوچ کر کامران اٹھا اور وہ ابھی ابلا پر سوار ہونے ہی والا تھا کہ کسی نے للکارا۔ "ٹھہرو" ایک کرخت آواز پورے علاقے میں گونج کر رہ گئی۔ وہ رک گیا ۔ رکنے کے علاوہ اب کوئی چارہ بھی نہ تھا۔ ملکہ شاطو کے سواروں نے اسے گھیرے میں لے لیا تھا۔ ملکہ شاطو کے سواروں کو دیکھ کر ابلا بڑے زور سے ہنہنائی اور اپنے اگلے پاؤں پر کھڑی ہو گئی
قامران نے اس کی گردن پہ تھپکی دی تو ذرا قابو میں آئی اور آرام سے کھڑی ہو گئ
"گھوڑی تمہاری ہے؟ ایک سوار نے پوچھا۔
” ہاں میری ہے ملکہ شاطو کی بخشش۔" کامران نے نرمی سے کہا۔ "پھر تم کامران ہو؟" اسے پہچاننے کی کوشش کی گئی۔
"تم نے ٹھیک پہچانا" کامران نے ابلا پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔
"اس گھوڑی نے فی الحال تمہاری جان بچالی ہے۔ اگر یہ تمہارے پاس نہ ہوتی تو اب تک تمہارے جسم میں کئی تیر پار ہو چکے ہوتے۔ کیا تم جانتے ہو کیوں؟" "میں نے ملکہ شاطو کے شکار پر تیر چلایا ہے۔" کامران نے فورا اپنا قصور مان لیا۔
"لیکن ملکہ شاطو کی قسم ! ایسا نادانستہ طور پر ہوا ہے۔ اس چیتے نے مجھ پر اچانک حملہ کر دیا تھا۔ میں اس کی پیٹھ میں اٹکے ملکہ کے سنہرے تیر کو نہیں دیکھ ورن میں اپنی جان پر کھیل جاتا لیکن ملکہ شاطو کے شکار پر ہاتھ نہیں ڈالتا"
"اس کا فیصلہ ملکہ شاطو خود کرے گی تمہیں ہمارے ساتھ چلنا ہوگا۔ فیصلہ سنایا گیا۔ "میں تیار ہوں۔" کامران نے کہا۔
"کیا میں گھوڑی پر سوار ہو سکتا ہوں؟" "نہیں تم قیدی ہو اور قیدی پیدل چلا کرتے ہیں۔" سختی سے کہا گیا۔
"اور یہ اپنی تیر کمان بھی ہمارے حوالے کر دو"
کامران نے بغیر حیل و حجت کے تیر کمان اور ترکش ان کے سپرد کر دیئے۔
پڑاؤ پر پہنچتے پہنچتے دوپہر ہو گئی۔
ملکہ شاطو کو ایک سوار نے پہلے پہنچ کر ساری صورتحال سے آگاہ کر دیا تھا۔ وہ اپنے خیمے میں کامران کی منتظر تھی۔
کچھ ہی دیر میں اس کے سامنے ایک ایسا نوجوان پیش ہونے والا تھا جس نے اس کی منہ زور گھوڑی کو زیر کیا تھا اور اس کی ملازمت کی پیشکش کو قابل توجہ نہ سمجھا تھا اور اب اس کے شکار پر ہاتھ ڈال دیا تھا۔
وہ اپنے ہاتھوں کی مٹھیاں بھینچے خیمے میں ٹہل رہی تھی۔ تھوڑی دیر بعد خیمے کا پردہ ہٹا دو سوار اندر داخل ہوئے اور بڑے موہانہ انداز میں کھڑے ہوئے ملکہ شاطو نے انہیں سوالیہ نگاہوں سے دیکھا زبان سے کچھ نہ بولی۔
"ملکہ شاطو تیرا قیدی حاضر ہے۔ ایک سوار نے عرض کی۔
"بھیجواسے۔" ملکہ شاطو نے حکم صادر کیا۔
دونوں سوار الٹے قدموں واپس ہوئے۔ چند لمحوں بعد پردہ پھر ہٹا۔ کامران اور دو سوار اندر داخل ہوئے۔ ملکہ شاطو نے نظریں اٹھائیں تو اس کے دل میں ہلچل سی مچ گئی۔

نیلی آنکھیں سرخ سفید چہرہ کسا ہوا جسم طویل قامت، سنہرے بالوں والا نوجوان اس کے سامنے نظریں جھکائے کھڑا تھا۔
تو یہ تھا وہ نوجوان جس نے ابلا جیسی منہ زور گھوڑی کو زیر کر دیا تھا....واقعی یہ اسی قابل ہے۔ خوبصورت اور طاقتور ابلا تو پھر گھوڑی تھی عقل و خرد سے بیگانہ وہ زیر ہوگئی تو کوئی تعجب کی بات نہیں
اس نے ملکہ شاطو جیسی جابر حکمران کے دل کو فتح کردیا ہے۔ ملکہ نے سوچا۔
کیا تمہیں معلوم نہ تھا کہ جس شکار پر تم تیر چلا رہے ہو اسے ملکہ شاطو پہلے بی شکار کر چکی ہے
" ملکہ تیری قسم مجھے معلوم نہ تھا وہ سب نادانستہ ہوا۔"
"کیا تمہیں یہ بھی معلوم نہ تھا کہ ملکہ شاطو شکار پر نکلی ہوئی ہے؟"
"یہ مجھے معلوم تھا۔" "پھر تیر چلانے سے پہلے تم نے آنکھیں بند کیوں رکھیں"
"یہ بات میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھی کہ تو اس وقت اس علاقے میں شکار کھیل رہی"
"اوہ... مجھے معلوم نہ تھا کہ اس علاقے میں میرے علاوہ بھی کوئی حکمران ہے اور مجھے اسے بتائے بنا کسی جگہ کا انتخاب نہیں کرنا چاہیے۔ “ ملکه شاطو کے کہ لہجے میں بلا کا طنز تھا۔
ملکہ تیری قسم میرا ہرگز یہ مطلب نہ تھا۔" کامران نے گھبرا کر پہلی بار نظریں اٹھائیں۔ اس نے اب تک ملکہ شاطو کے جبر کے افسانے سنے تھے اسے دیکھا نہ تھا۔ اب وہ غارتگر اس کے سامنے بیٹھی تھی۔
وہ تیس پنتیس سال کی بھر پور عورت تھی۔ بڑی بڑی جگمگاتی آنکھیں شانوں پر بکھرے ہوئے ریشمی سیاه بال خوبصورت اور پرکشش جسم.....وہ واقعی غر بان کی ملکہ لگتی تھی۔ ملکہ نے ہاتھ کے اشارے سے ان دونوں سواروں کو جانے کی ہدایت کی جو قامران کے پیچھے کھڑے تھے۔ وہ الٹے قدموں خیمے سے نکل گئے۔
ملکہ اپنی جگہ سے اٹھی اور بڑی تمکنت سے چلتی ہوئی کامران کے نزدیک پہنچی۔
"ابلا کیسی ہے؟‘
عجیب سوال تھا۔
"ٹھیک ٹھاک......چاق و چوبند۔" بہر حال جواب تو دینا تھا۔"
"ہمارا تحفہ پسند آیا؟‘ پو چھا گیا۔
"بهت میں تیرا اب تک شکرگزار ہوں۔‘ قامران نے سر جھکا دیا۔
"تم ہمارے سواروں میں شامل کیوں نہ ہوئے؟" جانے یہ شکوہ تھا یا تنبیہہ۔
"سچ کہہ دوں؟‘‘ کامران نے گردن اٹھائی۔
”ہاں کہو گستاخی کی اجازت دی گئی۔

"میں آزاد طبع آدمی ہوں۔ چوبیس گھنٹے ملازمت کا اہل نہیں" "اچھا اور اب ہم تمہیں زندگی بھر کے لیے قید میں ڈال دیں تو..." ملکہ شاطو نے اس کے چہرے پر نظریں گاڑتے ہوۓ کہا۔
"ملک شاطو....میں تیرا قیدی ہوں تو جو چاہے کر“
"اب تم اتنے فرمانبردار کیسے ہو گئے؟ جب میں نے تمہیں اپنے سواروں میں شامل کرنے کے لیے کہا تھا اس وقت تیری فرمانبرداری کو کیا ہوا تھا" سوال پر سوال، جرح پر جرح
وہ تیرا حکم نہ تھا....تو نے کہلوایا تھا کہ میں چاہوں تو تیرے سواروں میں شامل ہوسکتا ہوں۔ تو نے مجھے میری مرضی پر چھوڑ دیا تھا اور میں نے وہ کیا جو میرے دل نے چاہا"
"بہت خوب تم خاصے ذہین بھی واقع ہوئے ہو۔ بہادر اور اچھے نشانے باز تو تھے ہی“
"ذرہ نوازی ہے تیری۔“ تامران سراپا عجز و انکسار بن گیا۔
تمہارا یہ جرم صرف ایک صورت میں ماف کر سکتے ہیں۔
"شرط بتا"
"تمہیں معلوم ہے ہم سال میں ایک بار شکار کے لیے نکلتے ہیں۔"
"ملکہ شاطو.......میں تیرا خادم ہوں۔" یہ کام اتنا مشکل نہ تھا۔ اس نے فورا قبول کر لیا۔
"پھر ہم اپنے قریب ہی تمہارے لیے خیمہ نصب کروا دیتے ہیں۔ تم ابھی سے خود کو ہمارا خادم تصور کرو" یہ کہہ کر اس نے مسکراتے ہوئے دیکھا۔
"کامران یہ سن کر تذبذب کا شکار ہوگیا لیکن منہ سے کچھ نہ بولا۔
"تم کس الجھن میں پڑ گئے؟“ ملکہ شاطو نے چہرہ شناسی کا ثبوت دیا۔
"مجھے تیری خدمت سے انکار نہیں لیکن اتنی مہلت تو دے کہ میں نیلابو کے باپ کو صورتحال سے آگاہ کر سکوں وہ میری اچانک غیر حاضری کی وجہ سے وہ پریشان ہوجائے گا۔“ قامران نے لجاجت سے کہا
"ہم ابھی ایک سوار روانہ کر دیئے ہیں۔ وہ نیلابو کے باپ کو ہی نہیں نیلابو کو بھی ہمارے حکم سے آگاہ کردے گا‘‘
"جیسی تیری مرضی۔" آخر کامران نے ہتھیار ڈال دیئے۔
ملکہ شاطو کی مہم جوطبیت نے اسے دوپہر کو آرام نہ کرنے دیا۔ کوچ کا نقارہ بجا۔ تیس پچیس سواروں جن میں کامران بھی شامل تھا کے جلوس میں ملکہ شاطو نے شمال کا رخ کیا۔ شمال کا علاقہ خونخوار بھیٹریوں سے بھرا پڑا تھا اور بھیڑیئے بھی اتنے لحیم شحیم تھے کہ ان پر گدھوں کا گمان ہوتا تھا۔ چلنے سے پہلے ملکه شاطو کے قریبی سواروں نے دبی دبی زبان سے ملکه شاطو کو اس خوفناک مہم سے باز رکھنے کا مشورہ دیا تھا جسے سن کر وہ مسکرا دی تھی اور اس نے بلند آواز میں کہا۔

"جسے ڈر لگتا ہے وہ دستبردار ہو میں جاؤں گی۔"
کسی بھی سوار میں خود کو ڈر پوک کہلوانے کی ہمت نہ تھی۔
اس لیے سب سائری دیوتا کی پناہ مانگ کے ساتھ ہو لیے۔
دو گھنٹے کی مسافت کے بعد بھیڑیوں کا علاقہ شروع ہو گیا تھا۔ ہر سوار کو چوکس رہنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ سارے سوار اپنے تیر کمان سنبھالے سائری دیوتا کی پناہ مانگے ادھر ادھر دیکھتے آئے پڑھ رہے تھے۔ اچھے نشانہ باز پانچ سوار سب سے آگے تھے کامران اور ملکہ شاطؤ اس کے بعد تھوڑے
تھوڑے فاصلہ پی پانچ پانچ سوار چل رہے تھے۔ بھیڑیوں کا شکار شیر کے شکار سے لا کھ درجے خطرناک تھا۔ شیر کی آمد کا کسی نہ کسی طرح علم رہتا تھا لیکن بھیڑ ئیے اس قدر استاد واقع ہوئے تھے کہ آخری لمحوں تک اپنی موجودگی کا احساس نہ نے دیتے تھے۔ بس اچانک ہی قیامت ٹوٹتی تھی اور حساب کتاب شروع ہو جاتا تھا۔ یہ بھیٹر یئے پچاس پچاس ساٹھ ساٹھ کی تعداد میں حملہ آور ہوتے اور انسانوں کو چٹنی کی طرح چٹ کر جاتے۔
ملکہ شاطو اس ساری صورتحال سے واقف تھی لیکن اسے تو خطرات مول لینے کی عادت تھی۔
ملکہ شاطو کو جنگل میں گھومتے ہوئے کافی دیر ہوگئی تھی لیکن ابھی تک بھیٹریا تو بھیڑیا بھیڑیے کا بچہ بھی دکھائی نہیں دیا تھا۔ بھیڑیئے جانے کہاں غائب ہو گئے تھے۔ شاید انہوں نے انسانوں کی بو سونگھ لی تھی۔ اس لیے وہ در پرده حملے کی تیاریوں میں مصروف تھے یا پھر بھیڑیوں نے یہ علاقہ ہی چھوڑ دیا تھا۔ اچانک کامران نے اوپر ٹیلے پر نگاہ کی تو پتوں میں چھپی ہوئی دو انگارہ آنکھیں اور سرخ زبان دکھائی دی۔ صرف ایک لمحہ کے لیے۔ اب وہاں کچھ نہ تھا صرف پتے ہی پتے تھے۔
"ملکه شاطر...........وہ اوپر۔“ یہ کہہ کر کامران نے ابلا کر ایڑ لگائی۔ ملکہ نے اپنے پیچھے آنے والے سواروں کو اشارہ کیا۔ آگے جانے والے سوارتو آگے جا ہی چکے تھے۔ پیچھے آنے والے سواروں نے ملکہ کو اوپر جاتے دیکھا تو انہوں نے بھی اپنے گھوڑوں کو ایڑ لگائیں۔
کامران بہت تیزی سے اوپر جا رہا تھا۔ اس کے پیچھے ملکہ شاطو تھی اور اس سے پیچھے ملکہ کے سوار
ابھی کامران ٹیلے پر نہ پہنچ پایا تھا کہ اس نے اپنے پیچھے بھیڑیوں کے غرانے کی آوازیں سنی۔ اس نے پلٹ کر دیکھا تو ملکہ شاطو کو بھیڑیوں کے نرغے میں پایا۔ اس نے کمان سیدھی کی۔
پھر ایک بھیڑیئے نے ملکہ پر جست لگا لی۔ ادھر سے تیر چلا۔
اس کی جست ادھوری رہ گئی۔ وہ درمیان میں ہی تیورا کر گر پڑا۔
ملکہ اب سنبھل چکی تھی۔ اس نے کمان سیدھی کر لی تھی لیکن اسے تیر چلانے کا موقع نہیں ملا ۔ شائیں شائیں تیر چل رہے تھے اور بھیڑیے تعداد میں کم ہوتے جا رہے تھے۔

چھ لمحوں میں چھ تیر چلے اور چھ بھیڑیئے زمین بوس ہو گئے۔
دو تین بھیڑیوں نے راہ فرار اختیار کی۔ ملکہ جواب تک اپنے فن کا مظاہرہ نہ کر سکی تھی آخر اس نے ایک تیر چلایا۔ ایک بھیڑیا اور فرش راہ ہو گیا۔ پیچھے آنے والے سوار اب نزدیک پہنچ چکے تھے اور بھیڑیوں کی لاشیں گن رہے تھے۔ ملکه اپنے گھوڑے کو ایڑ لگا کر کامران کے نزد یک پہنچی۔ اس کی آنکھیں چمک رہی تھیں اور ہونٹوں پر ہلکی سی لرزش تھی۔ وہو قامران کے نزدیک پہنچ کر گھوڑے سے اتر گئی۔ ملکہ کو گھوڑے سے اترتے دیکھ کر کامران نے فورا ابلا کی پیٹھ سے چھلانگ لگا دی۔ یہ عمل دوسرے سواروں نے بھی دہرایا۔
ملکہ نے اپنا ہاتھ کامران کی طرف بڑھایا۔ سواروں نے جب ملکہ کا ہاتھ کامران کی طرف بڑھا دیکھا تو انہوں نے اس کی خوش پر رشک کیا اور کئی نے حسد۔ بہر حال یہ بہت بڑا اعزاز تھا جس سے قامران کو نوازا جا رہا تھا۔ کامران نے ملکہ کا ہاتھ دھیرے سے اپنے ہاتھ میں لیا اور بڑے ادب سے چوما۔ ملکہ کے ہاتھ بہت سخت اور کرخت تھے۔ وہ اپنے ہاتھوں سے صنف نازک نہیں لگتی تھی۔
تب ہی ایک ہاتھ اس کی آنکھوں کے سامنے لہرایا یہ ہاتھ ملکه شاطو کا نہ تھا۔ وہ چونک اٹھا۔ تب ہی کئی نقرئی قہقہے فضا میں بلند ہوئے۔ اس کے سامنے پانچوں باندیاں کھڑی تھیں۔
"ہم اتنی دیر سے یہاں کھڑے ہیں آپ نے دیکھا ہی نہیں۔ جانے کہاں تھے مجبور ہو کے ہمیں آپ کو جگانا پڑا" ۔ ایک باندی نے بتایا "یہ رس پی لیجیئے"
"میں ذرا بھیڑیوں کا شکار کر رہا تھا۔" کامران نے آنکھیں ملتے ہوۓ کہا۔ سامنے تھال میں پانچ کٹورے رکھے ہوئے تھے۔ کٹورے سونے کے تھے اور ان میں سرخ رنگ شربت تھا۔
ایک ایک باندی آتی گئی اور اسے اپنے اپنے کٹورے سے دو دو گھونٹ دیتی جاتی
جب پانچوں پلا چکیں تو ایک نے کہا۔ "اب آپ آرام کریں۔" اور پھر وہ ہنستی گاتی رخصت ہو گئیں۔
رس پی کر اسے بڑی فرحت کا احساس ہوا۔ وہ چھپر کھٹ پر نیم دراز سا ہو گیا۔
اس پر غنودگی طاری ہونے لگی۔ ابھی وہ پوری طرح سو بھی نہ پایا تھا کہ ایک بھیانک چیخ سنائی دی۔ وہ تڑپ کر اٹھ بیٹا اور بھو نچکا سا چاروں طرف دیکھنے لگا۔
خوابگاہ کا دروازہ بند تھا اور ایسا پہلی بار ہوا تھا۔ اس سے پہلے یہ دروازہ کھلا رہتا تھا۔ انہوں نے احتياد بند کر دیا تھا کہ کوئی ریچھ جیسی بلا قامران تک نہ پہنچ سکے۔
بلا نہیں تو چیخ کی آواز بہرحال اس تک پہنچ گئی تھی اور وہ سوچ رہا تھا کہ یہ چیخ کی آواز آئی کدھر سے۔ کہیں یہ کچی نیند کا خواب تو نہ تھا؟
کیا واقعی اس نے چیخ کی آواز سنی تھی یا صرف اس کا وہم تھا۔ وہ دروازے کی طرف بڑھا۔ ابھی وہ دروازے تک پہنچ بھی نہ پایا تھا کہ وہ دلدوز چیخ دوبارہ سنائی دی۔
یہ چیخ کہیں دور سے آئی تھی اور کسی عورت کی تھی۔ اس نے تیزی سے دروازہ کھولنے کوشش کی مگر وہ باہر سے بند تھا۔ دروازہ چھوڑ کر اس نے بھاری پردوں کے پیچھے جھانکنا شروع کیا۔ شاید کوئی دروازه یا کھڑکی نظر آئے۔
جھانکتے جھانکتے درواز کھڑکی تو کوئی نظر نہ آیا۔ البتہ ایک پردے کے پیچھے سیڑھیاں ضرور دکھائی دیں۔ وہ جلدی جلدی میں سیڑھیاں طے کرنے لگا۔ شروع شروع میں تو کوئی دقت پیش نہ آئی کیونکہ خوابگاہ سے روشنی آرہی تھی پھر اندھیرا ہونے لگا۔ یہاں تگ کے ہاتھ کو ہاتھ سجائی دینا بند ہو گیا۔
یہ سیٹرھیاں کسی مینار کی تھیں اور وہ دونوں ہاتھ پھیلائے انداز سے اوپر چڑھ رہا تھا۔ کوئی پچاس ساٹھ سیڑھیاں چڑھ لینے کے بعد اسے اوپر سے ہلکی ہلکی روشنی آتی محسوس ہوئی۔ جوں جوں وہ سیڑھیاں چڑھتا گیا روشنی بڑھتی گئی۔ یہاں تک کہ اسے ایک ایک سیڑھی صاف دکھائی دینے کی۔ وہ دو دو سیڑھیاں پھلانگتا ہوا تیزی سے اوپر پہنچا۔
اب وہ چھ دروں کے ایک برج میں کھڑا تھا۔ کھڑے ہوتے ہی اس کی نظر یں میدان پر گئی جہاں بہت سارے لوگ جمع تھے۔ کامران فورا نیچے بیٹھ گیا تاکہ کوئی اسے دیکھ نہ لے۔ اس نے آگے بڑھ کر در میں لگی جالی سے اپنی آنکھ لگا دی۔ اس کے سامنے بڑا ہولناک منظر تھا............؟
یہ ایک بہت بڑا میدان تھا اور اس میدان میں بہت سارے لوگ جن میں عورتیں بھی شامل میں ایک دائرے کی عمل میں کھڑے تھے اور ان کے درمیان میں چار طاقتور گھوڑے تھے۔ ہر گھوڑے کی گردن میں رسی بندھی ہوئی تھی اور رسی کے سرے اس عورت کے ہاتھ پاؤں میں بندھے ہوئے تھے جو میدان کے بیچوں بیچ لیٹی تھی۔ اس عورت کے پاس ہی ایک قد آور آدمی ہاتھ میں کوڑا لیے کھڑا تھا۔ یہ بغیر ناک کان والا تھا۔ یہ آدمی کیا یہاں جتنی بھی مخلوق اس وقت میدان میں تھی بغیر ناک کان والی تھی۔

وہ دیو قامت آدمی کوڑوں سے اسے مار رہا تھا۔ ہر کوڑے پر اس عورت کے منہ سے دلدوز چیخ نکل رہی تھی تیرہ کوڑے مارنے کے بعد اس نے کوڑا ہوا میں لہرایا تو چاروں گھوڑے ہوشیار ہو گئے بھاگنے کے لیے تیار۔
لوگوں کے سانس رک گئے وہ لوگ جو ہر کوڑہ لگنے پر ہائے کر رہے تھے۔ گھوڑوں کے تیار ہوتے ہی پتھر کے بن گئے۔ کوڑے والے نے اچانک ہاتھ پیچھے کر کے کوڑا بجایا۔ کوڑے کی آواز سنتے ہی گھوڑے حرکت میں آ گئے۔
قامران باوجود کوشش کے دہشت ناک منظر نہیں دیکھ پایا۔ چاروں گھوڑے بیک وقت مخالف سمت میں بھاگے۔ گھوڑوں سے بندھی عورت ایک لمحے کو ہوا میں اڑی اور پھر چار حصوں میں تقسیم ہو گئی۔ اب وہ چاروں گھوڑے عورت کا ایک ایک حصہ لیئے مجمع کے گرد چکر لگا رہے تھے
تین پر مکمل ہونے کے بعد گھوڑوں کو روک لیا گیا۔ عورت کے خون آلور اعضاء کو ایک ایک بہت بڑی دیگ میں ڈال دیا گیا اور گھوڑوں کو ایک کونے میں باندھ دیا گیا۔ اب ایک مرد کو میدان میں لایا گیا۔ اسے ریت پر بٹھا کر اس کے ہاتھ پاؤں باندھ دیئے گئے۔ پھر دو آدمی ایک بہت بڑا آراء اٹھا کر لائے اور اس بندھے آدمی کے سر پر کھڑے گئے۔ کوڑے والے آدی نے مجمع کی طرف رخ کر کے کچھ کہا۔ غالبًا مجرم کی فرد جرم بتائی گئی۔
کوڑے والے آدمی کے خاموش ہوتے ہی مجمع نے فلک شگاف نعرے لگائے جنہیں کامران نہ سجھ سکا۔ اب کوڑے والے آدمی نے اپنا ہاتھ اوپر کر رکھا تھا۔ وہ کسی بھی لمحے ہاتھ نیچے کر کے آرے والوں کو کارروائی کرنے کا اشارہ کرسکتا تھا۔ پھر اشارہ ہوا۔
جب آراء اس بندھے ہوئے آدمی کے سر پر چلا تو وہ پوری قوت سے چلایا۔
پھراسے چیخنے کا زیادہ موقعہ نہ ملا۔ تیز آرے نے لمحوں میں اس کے وجود کو دو حصوں میں تقسیم کر کے رکھ دیا۔
ایک حیرت انگیز بات بھی کہ اس مرد کے جسم سے نکلنے والا خون لال رنگ کا نہ تھا نیلے رنگ کا تھا....ایسا ہی خون عورت کے جسم سے بھی نکلا تھا۔
اس آدی کی دو حصوں میں تقسیم لاش کو اٹھا کر دیگ میں ڈال دیا گیا۔
دیگ کو چار آدمیوں نے اٹھا کر گھوڑا گاڑی پر رکھ دیا۔ پھر کوڑے والے آدمی نے تین بار نیچے اوپر کوڑا لہرایا۔ کوڑا لہراتے ہی پورا مجمع شور مچاتا تتر بتر ہو گیا۔ سارے لوگ شور مچاتے ہوئے ایک طرف بھاگ رہے تھے۔ ریت اڑ رہی تھی اور وہ سارے لوگ ریت کے بادل میں غائب ہوتے جارہے تھے۔ چند لمحوں بعد وہاں کچھ نہ رہا کچھ نہ بچا۔
قامران کو یوں لگا جیسے سارے لوگ ریت کے ذرات بن کر ہوا میں تحلیل ہو گئے ہوں۔

ابھی اڑتی ہوئی ریت اچھی طرح بیٹھ نہ پائی تھی کہ ریت کے پردے سے چاندکا برآمد ہوئی۔ اونٹنی پر سوار اسی سیاہ لبادے میں سر سے پاؤں تک ڈھکی ہوئی۔ وہ بڑی برق رفتاری سے مینار کی طرف بڑھ رہی تھی۔ چاند کا کو دیکھ کر کامران کے چہرے پر خوشی انگڑائیاں لینے لگی۔ اس نے بڑی تیزی سے مینار کی سیڑھیاں طے کرنی شروع کیں۔ کئی جگہ وہ اترتے ہوئے لڑکھڑایا بھی لیکن اس نے اپنی رفتار میں کمی نہ آنے دی۔ اندھیرا اس کا کچھ نہ بگاڑ سکا۔ وہ آندھی طوفان کی طرح نیچے اتر رہا تھا تا کہ چاندکا سے ملاقات کر سکے۔ اس کے ذہن میں ان گنت سوالات چل رہے تھے۔ جب اس نے آخری سیڑھی پر قدم رکھا تو یہاں کا منظرہی بدلا ہوا تھا۔
وہ چھپر کھٹ وہ سرسراتے پردے وہ حسین فانوس وہ خوشبوئیں سب غائب تھیں۔"

شاید وہ کسی اور جگہ اتر گیا تھا۔ اس کے سامنے ایک سرخ رنگ کا خیمہ تھا۔ جس کے باہر ایک اونٹنی بیٹھی ہوئی تھی جس کے گلے میں پڑی گھنٹی بار بار بج رہی تھی اور کنوارے بدن کی خوشبو ہر طرف پھیلی ہوئی تھی۔
خیمے پر پردہ پڑا ہوا تھا۔ وہ پردہ ہٹا کر اندر داخل ہوا۔ سائری دیوتا کا نام لے کر۔
خیمه خالی تھا۔ البتہ ایک سفید خوبصورت سی بلی قالین پر ضرور بیٹھی ہوئی تھی۔ "چاندکا تم کہاں ہو؟‘‘ کامران نے بلند آواز میں کہا لیکن جواب کہیں سے نہ آیا۔ اس خیمے میں بلی کے سوا کوئی اور نہ تھا تو جواب کون دیتا۔ خیمے میں کامران کی آمد کے باوجود سفید بلی بڑے آرام سے بیٹھی رہی۔ اس نے اس کی طرف نگاہ اٹھا کر بھی نہ دیکھا۔ پھر جب کامران نے چاندکا کی موجودگی کے بارے میں سوال فضا میں اچھالا تو بلی نے اپنا پنجہ اٹھا کر خیمے کی کھڑکی کی طرف کیا اور پھر گردن ڈال کر بیٹھ گئی پتہ نہیں اس نے ہاتھ کے اشارے سے چاندکا کا پتہ بتایا تھا یا انگڑائی لی تھی
قامران نے کھڑکی میں سے باہر دیکھا تو اسے ایک بڑا سا درواذہ نظرآیا۔ وہ کھڑکی سے کود کر اس دروازے کی طرف بڑھ گیا
یہ دروازہ اسے محل کے کسی کمرے کا لگا اور جانا پہچانا سا لگا
اندر گیا تو یہ بات بھی واضح ہو گئی کی یہ کمرہ اسے جانا پہچانا کیوں لگ رہا تھا قامران اب تصویر والے کمرے میں کھڑا تھا
اس کمرے میں اور کچھ نہ تھا بس یہ تصویر تھی جو پوری دیوار پر آویزاں تھی اس کمرے میں وہ مانوس سی خوشبو پھیلی ہوئ تھی جیسے ابھی یہاں سے چاندکا گزری ہو
تصویر تقریباً پہلے جیسی تھی اور اس نے اس کے نقاب سے ڈھکے چہرے پر نظریں جما دی
چند ہی لمحوں میں تصویر متحرک ہو گئی
چاندکا ریت اڑاتی ہوئی دور ہوتی جا رہی تھی اور اڑتی ریت سے ایک اور منظر ابھر رہا تھا
منظر صاف ہوا تو اسنے دیکھا کہ وہ اور ملکہ شاطو گھوڑے پر سوار کہیں جا رہے ہیں اور پیچھے تیر کمانوں سے لیس اسکے سوار ساتھ ہیں
یہ منظر دوسرے دن کا تھا جب قامران نے بھیڑیوں کا صفایا کیا تھا اور ملکہ نے اسے ہاتھ چومنے کا شرف بخشا تھا مضبوط اور کرخت ہاتھ
دوسرے دن ملکہ نے شمال کے بجائے جنوب کا راستہ اختیار کیا تھا جہاں پرندوں کا شکار با افراط ملتا تھا

ملکہ نے زمین پر بیٹھے پرندوں کا شکار کیا تھا جبکہ قامران نے اڑتے پرندوں پر تیر چلا کر ملکہ سے بھی زیادہ پرندوں کو مار گرایا تھا
اور خلاف توقع ملکہ اپنے شکار کئیے پرندوں کی نسبت قامران کے شکار کیئے گئے پرندوں کی تعداد دیکھ کر مسکرا دی تھی
حلانکہ غربان کی سر زمین پر کسی کی جرأت نہ تھی کی وہ ملکہ کو پیچھے چھوڑ جائے
ملکہ ایک ماہر شکاری تھی اور اپنی زندگی میں ہر طرح کے شکار کر چکی تھی انسان تو اس کے سامنے کچھ بھی نہ تھا وہ دھیرے دھیرے غیر محسوس طریقے پر قامران کی طرف بڑھتی جا رہی تھی اور اسے خبر تک نہ تھی
اچانک ملکہ نے سواروں کو رکنے کا اشارہ کیا سارے سوار رک گئے اور ملکہ نے انہیں واپس جانے کا اشارہ کیا
حکم ملتے ہی سارے سواروں نے اپنا رخ پیچھے کی طرف کر لیا جن میں قامران بھی شامل تھا
"تم نہیں" ملکہ شاطو نے کامران سے کہا۔ کامران رک گیا۔
"تم ہمارے ساتھ رہو گے۔" ملکہ شاطو کے لبوں پر مسکراہٹ تھی۔ "ملکہ جیسے تیری مرضی" ملکہ نے اپنے گھوڑے کو ایڑ لگائی۔ کامران نے اس کا ساتھ دیا۔ ابلا اشاره پاتے ہی ہوا ہو گئی۔ کچھ دور جا کر ملکہ شاطو نے گھوڑا روکا اور کامران سے مخاطب ہوئی۔ "جھرنے کی طرف چلیں؟"
"وہاں کیا ہے؟‘‘ کامران نے اس سے پوچھا
"اس وقت تو وہاں کوئی پرندہ نہ ہوگا۔
” بس۔ اس وقت ایسی ہی جگہ چلنے کو جی چاہتا ہے جہاں کوئی نہ ہو" ملکہ شاطو اس کے نزدیک آتے ہوۓ بولی۔
”شکار تو آج بہت کیا..... اب جھرنے پر نہانے کو جی چاہتا ہے۔
"تو چل۔" کامران نے ابلا کو اپنے گھٹنوں میں دبایا
"اپنے گھوڑے کو ایڑ لگا۔" دونوں چل پڑے۔
کامران نے ملکہ اور اپنی گھوڑی کے درمیان تھوڑا سا فاصلہ رکھا تا کہ ملکہ کا احترام قائم رہے۔
"ساتھ رہو" ملکہ نے اسے اشارہ کیا۔ آج وہ فاصلے کم کرنے پر تلی ہوئی تھی۔ جھرنے پہنچ کر دونوں اپنی سواریوں سے اتر گئے۔ کامران نے جھرنے پر نظر ڈالی تو مسحور ہو کر رہ گیا۔ دور پہاڑ سے گرتا ہوا آبشار عجیب سماں باندھ رہا تھا۔ صاف شفاف پانی آئینے کی طرح چمک رہا تھا۔ اوپر سے گرا ہوا آبشار یوں دکھائی دیا تھا جیسے اوپر سے چاندی بہہ کر نیچے آرہی ہو۔ جھرنے نے آگے جا کر ایک نہر کی صورت اختیار تھی اور اس نہر میں بڑے بڑے پتھر پڑے تھے۔
اس جھرنے کی "خصوصیت جانتے ہو"
" نہیں، میں نے یہ جگہ پہلی بار دیکھی ہے۔" قامران نے کہا
"اس جھرنے میں نہا کر جو بھی دعا کرو سائری دوتا پوری کر دیتا ہے۔" ملکہ جھرنے کی طرف بڑھتے ہوئی بولی
"ملکہ ... تو تو غربان کی حکمران ہے کیا تو بھی سائری دیوتا کی محتاج ہے؟ تجھے دعا کی کیا ضرورت ہے؟‘‘ قامران نے حیرت سے اسے دیکھا۔
کچھ معاملے ایسے ہیں جہاں ملکہ کو اختیار نہیں وہ سائری دیوتا کی محتاج ہے آج مجبور ہو کر اس جھرنے تک آگئی ہے تا کہ سائری دیوتا سے مخاطب ہو سکے "
"ٹھیک ہے آج میں بھی سائری دیوتا سے کچھ مانگوں گا"
"ضرور مانگو۔ شاید وہ ہم دونوں کی سن لے" کہہ کر شاطو نے ایک ایسا گوشہ تلاش کیا جہاں سے کسی ذی روح کا گزر ممکن نہ تھا اور بڑے بڑے پتھروں سے ڈھکا ہوا تھا۔

ملکہ شاطو نے اپنے کپڑے اتار پھینکے اور پانی میں چھلانگ لگا دی۔ کامران نے ملکہ کے مقابلے میں کھلا علاقہ اور گہرا پانی پسند کیا۔ اس نے بھی کپڑوں سے بے نیازی اختیار کی اور جھرنے کے ٹھنڈے پانی میں اتر گیا۔
نہاتے نہاتے کامران نے سائری دیوتا کا تصور کیا اور دعا مانگنے لگا۔ "سائری دیوتا...تیری قسم میں تیرا ایک عاجز بندہ ہوں تیرا محتاج تجھ سے دعا مانگتا ہوں میری نیلابو کو اچھا کر دے۔ اسے اس قابل کر دے کہ وہ جسمانی طور پر میرا ساتھ نبھانے کے قابل ہو میں تیرے نام کی قربانی دوں گا۔“ کامران ابھی دعا مانگ کر فارغ نہ ہوا تھا کہ ملکہ شاطو کی چیخ سنائی دی۔
مجھے بچاؤ............قامران........مجھے بچاؤ"
ملکہ شاطو اگر چه اوٹ میں نہا رہی تھی لیکن دونوں کے درمیان فاصله زیادہ نہ تھا۔ کامران نے نظریں اٹھا کر دیکھا تو اسے تیز دھارے پر بہتا پایا۔ وہ ابھرتی ڈوبتی کامران کو آواز دے رہی تھی۔
کامران نے تیر کی طرح تیرنا شروع کیا اور جلد ہی ملکہ کو جا لیا۔ ملکہ بے ہوش ہو چکی تھی اس نے اسے ہاتھوں پر لا دکر کنارے پر ڈالا۔
تو اسے احساس ہوا اور اس نے ملکہ کے کپڑے کنارے سے اٹھائے اور اس پر ڈال دیے
اس کے پیٹ پر دباؤ ڈال کر اس کے منہ سے پانی نکالا۔
یہ بھی اچھا ہی ہوا کہ اس کے پیٹ میں زیادہ پانی نہ جا سکا تھا۔ پیٹ سے پانی نکالنے کے بعد اس نے اسے آرام سے سیدھا لٹا دیا۔
جب وہ اپنے کپڑے پہن کر ملکہ کے پاس آیا تو وہ ںھی کپڑے پہن چکی تھی اور سر جھکائے ایک پتھر پر بیٹھی تھی۔
قامران کو قریب آتا دیکھ کر ہلکی سی ہنسی اور تیور بدل کر بولی۔ " تم اتنے بدھو ہو مجھے معلوم نہ تھا۔“
کامران اسے دیکھتا ہی رہ گیا اس کی سمجھ میں نہ آیا کہ اس سے کیا قصور ہوا۔ ملکہ سے وہ کچھ پوچھتا لیکن وہ رکی ہی نہیں۔ گھوڑے کو ایڑ لگائی اور یہ جا وہ جا۔ جب وہ پڑاؤ پر پہنچا تو کچھ سواروں نے رشک اور کچھ سواروں نے حسد سے اس کا استقبال۔ ایک سوار نے جو کامران سے کچھ بے تکلف ہو گیا تھا پوچھا ” کہاں سے آرہے ہو؟“ سائری دیوتا کے جھرنے سے‘‘ کامران نے بتایا۔ ”سائری دیوتا کا جھرنا سوار نے حیرت سے کہا ”یہاں تو دور تک کوئی ایسا جھرنا نہیں۔ ایک جھرنا ضرور ہے جہاں ملکہ شاطو کبھی کبھی جا کر نہاتی ہے اور اس جھرنے کا سائری دیوتا سے کوئی تعلق نہیں۔ آخر تم سے یہ بات کس نے کہی؟"
"کسی نے بھی نہیں۔ کامران نے مصلحت پسندی سے کام لیتے ہوئے ملکہ کا نام چھپا لیا
میرا خیال تھا کہ ایسا حسین جھرنا تو صرف دیوتاؤں کا ہی ہوسکتا ہے۔
"بہت خوب۔“ اس سوار نے بے اختیار قہقہہ لگایا اور دور تک ہنستا چلا گیا۔
"یہ ملکہ بی عجیب چیز ہے۔" اس کے منہ سے بے اختیار نکل گیا
قامران نے ادھر ادھر دیکھا کہ کہیں کسی نے یہ گستاخانہ جملہ سن تو نہیں لیا۔ وہاں آس پاس کوئی نہ تھا۔
اسی رات کے کھانے تک ملکہ شاطو نے کامران کو جھلک تک نہ دکھائی۔ کامران ملکه کی بے رخی سے پریشان تھا۔ وہ آنے والے وقت سے خوفزدہ تھا
ملکہ کی ناراضگی بھی خطرناک تھی۔ ویسے اس کی دوستی بھی کم خطرناک نہیں۔ وہ الجھ گیا تھا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ ملکہ جھرنے پر اس سے کیوں ناراض ہوگئی تھی ۔ اس نے اسے "بدھو" کیوں کہا تھا۔ "کیا کسی کی جان بچانا بدھو پن ہے اور ملکہ شاطو نے غلط بیانی سے کیوں کام لیا تھا۔ وہ دعا مانگنے کا چکر کیا تھا؟
سوچتے سوچتے اس کا دماغ شل ہونے لگا۔ وہ گھبرا کر خیمے سے باہر نکل آیا۔ اندھیرا پھیل چکا تھا۔ جگہ جگہ الاؤ روشن تھے۔
وہ بڑی دیر ادھر ادھر گھومتا رہا۔ آخر تھک ہار کر اپنے خیمے میں پلٹ آیا۔
رات کے پچھلے پر اسے بمشكل نیند آئی۔ اسے سوتے ہوئے ابھی زیادہ دیر نہ ہوئی تھی کہ کامران نے اپنے سینے پر ہاتھ محسوس کیا۔ کامران نے اپنی آنکھیں بند کیے اس ہاتھ کو اپنی گرفت میں لے لیا۔ ہاتھوں کی سختی نے اس کی نیند کو کوسوں دور بھگا دیا تھا۔
"ملکہ۔۔شاطو۔۔" وہ گھبرا کر اٹھ بیٹھا۔
"ہاں میں ہوں....تم اٹھ کیوں گئے لیٹے رہو...کیا ناراض ہو؟ ملکہ نے نرم لہجے میں کہا۔

"نہیں میں تو ناراض نہیں مجھے تو تیری ناراضگی کی فکر تھی" قامران نے دوزانوں بیٹھتے ہوئے کہا
"مجھے نیند نہیں آرہی تھی۔ میں نے سوچا تمہارے پاس چلوں۔ شاید دل بہل جائے۔" "میں ہر خدمت کے لیے حاضر ہوں۔ “
"سچ" ملکہ پھول کی طرح کھل گئی۔
"تو حکم تو کر"
بعض کام ایسے ہوتے ہیں جہاں حکم کرنے کو جی نہیں چاہتا۔ ایسے کام خود بخود ہو جا نے میں مزا آتا ہے۔“
"کام بتا۔“
"ایسے کام بتائے بھی نہیں جاتے"
"پھر میری سمجھ میں کیسے آئے گا؟"
"تمہاری سمجھ میں کچھ نہیں آئے گا تم بدھو ہو‘‘ ملکہ اس پر گری
قامران کو لیٹ جانا پڑا۔ ملکہ بولی ۔تمہیں کچھ شعر یاد ہیں؟"
"ہاں بہت"
"کچھ سناؤ“ کامران اٹھ کر بیٹھنے لگا تو ملکہ نے اسے روک دیا۔
"ایسے ہی سناؤ۔"
"یوں تو بہت مشکل ہے۔" عذر پیش کیا گیا۔
"عجیب ہو‘
ملکہ شاطر کو آخر اس کے اوپر سے ہٹنا پڑا۔ کامران کو باچو بابا کا پورا دیوان ازبر تھا اس نے اشعار سنانے شروع کیے۔
ان حسن وتخت کے قصوں لب و رخسار کی باتوں اور شراب اور شباب کے تذکروں میں آخر اجالا سحر نمودار ہوگیا۔
ملکہ خمار آلود جسم لیئے تشنه تشنہ اپنے خیمے میں واپس چلی گئی۔
اس کے جانے کے بعد قامران جو سویا تو دوپہر کو اٹھا۔ اٹھا کیا بلکہ اٹھایا گیا۔ باہر کوچ کا نقارہ بج رہا تھا اور ایک سوار اس کے سر پر کھڑا تھا۔
"کامران اٹھو چلنے کی تیاری کرو۔ ملکہ جلد از جلد غربان پہچنا چاہتی ہے۔ مزید شکار کا ارادہ ملتوی کر دیا گیا ہے“
"اس کی کوئی خاص وجہ؟“
کوئی خاص وجہ نہیں ۔ ویسے ملکہ کے لیے کسی وجہ کا ہونا ضروری بھی نہیں۔“
کامران فورا اٹھ کر باہر آیا تو دیکھا کہ کوچ کی تیاری زوروں شوروں پر ہے۔ جلدی جلدی خیمے اکھاڑے جا رہے تھے۔ لوگوں کے چہروں پر ایک خوشی سی تھی۔ شاید اپنے گھر واپس جانے کی خوشی۔ اک دو ماہ سے ملکہ کے ساتھ شکار پر نکلے ہوئے تھے۔ کامران بھی خوش تھا نیلابو سے ملنے کی خوشی...........حالانکہ اسے ملکہ شاطو کے ساتھ دو تین دن زیادہ نہ ہوئے تھے۔ وہ جب دھول اڑاتا ہوا اپنی بستی میں پہنچا تو نیلابو اسے ٹیلے پر کھڑی ملی، مضطرب اور کامران کو دیکھتے ہیں وہ بے تحاشہ دوڑتی ہوئی نیچے اتری
"میرے کامران تم کہاں چلے گئے"
"کیا ملکہ کے سواروں نے تمہیں کا نہیں بتایا؟" قامران نے پوچھا
"نہیں تو"
"کیا واقعی؟"
"تیری قسم کامران یہاں تو کوئی نہیں آیا۔"
"جھوٹوں کی ملکہ" کامران نے نفرت سے کہا اور پھر نیلابو کو اپنے ساتھ گھوڑی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
"گھر جا کر میں تمہیں ساری بات بتاتا ہوں۔“ میں بہت پریشان ہو گئی تھی تیری راہ دیکھتے دیکھتے اب تو تھک چلی تھی۔ وہ گھوڑی پر بیٹھتے ہوئے بولی
کامران نے ابلا کو ایڑ لگائی اور خاموش رہا۔ گھر پہنچے تو نیلابو کے باپ نے کامران کو دیکھ کر سائری دیوتا کا شکر ادا کیا۔

بستی میں آئے ہوئے ابھی کامران کو چار پانچ دن ہی ہوئے تھے کہ ایک شام ملکہ کے سوار اس کے گھر آپہنچے ۔ قامران کے باہر نکلتے ہی پانچوں سواروں نے اپنی تیر کمانیں سنبھال لیں۔ کامران ٹھٹھک کر اپنے دروازے پر رک گیا۔ نیلابو کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔ ان سواروں کی کمانوں کا رخ کامران طرف تھا۔ قمران نے ایک قدم آگے بڑھایا۔ ایک تیر سنسناتا ہوا آیا اور اس کے پاؤں کے قریب ریت می دھنس گیا۔ کامران نے دوسرا قدم بڑھایا پھر ایک تیر چلا اور اس کے دوسرے پاؤں کے قریب ریت میں گھس گیا۔ کامران قدم بڑھاتا گیا اور تیر چلتے گئے۔
ان سواروں نے پانچ تیر چلائے اور پانچوں ریت میں اس کے قدموں کے پاس دب گئے۔
تب ایک سوار جو ان کا سالار تھا آگے ہوا ۔ کامران کے نزدیک پہنچ کر گھوڑے سے اترا اور پورے اعزاز کے ساتھ اس کا ہاتھ چوما اور بولا
”ملکہ شاطو کی نشانی تمہارے لیے"
یہ کہہ کر اس نے مور کا پر اس کی طرف بڑھایا۔ الٹے قدموں واپس ہوا۔ گھوڑے پر سوار ہو کر دوسرے سواروں تک پہنچا۔ پھر پانچوں سواروں نے مل کر ملکہ شاطو کی قسم کھائی اور اس کی نشانی کامران تک پہنچانے کا اعلان کیا اور ہوا ہو گئے۔ سواروں کے جاتے ہی نیلابو باہر نکلی اور حیرت سے ان پانچ تیروں اور مور کے پر کودیکھنے لگی۔
"یہ سب کیا ہے قامران؟"
"مجھے خود نہیں معلوم"
"ٹھہرو میں بابا کو بلاتی ہوں۔" نیلابو بھاگتی ہوئی ایک طرف چلی گئی۔ کامران نے الٹ پلٹ کر مور کے پر کو غور سے دیکھا۔ اسے اس میں کوئی خاص بات نظر نہ آئی۔ وہ مور کا ایک عام سا پر تھا۔ ملکہ شاطو نے اس پر کو جس انداز سے پیش کیا تھا اس سے اس اہمیت ظاہر ہوتی تھی۔ کامران شاہی آداب سے ناواقف تھا۔ اس لیے اس نے تذبذب کا شکار ہونے کے بجائے نیلابو کے باپ کا انتظار کرنا مناسب سمجھا۔
نیلا بو کے باپ نے اسے دور سے ہی دیکھ کر خوشی کا نعرہ لگایا۔ اس کے ساتھ نیلابو کے علاوہ بستی کے کچھ اور لوگ بھی تھے۔ قامران........تم بہت خوش قسمت ہو۔ فوراً ملکه شاطو کے محل میں جانے کی تیاری کرو۔ آج رات تم ملکه شاطو کے مہمان ہوگے۔ یہ مور کا پر دراصل شاہی دعوت نامہ ہے اور یہ پانچ تیر تمهارے قدموں میں نچھاور کر کے تمہارا رتبہ بڑھایا گیا ہے۔ چلو جلدی کرو ملکہ شاطو تمہاری منتظر ہوگی“

قبیلے کے لوگوں نے یہ سن کر خوشی سے نعرے لگائے۔ نیلابو بھی بے حد خوش تھی لیکن کامران کہیں گم ہو گیا تھا۔ بہر حال اسے آج محل پہنچنا تھا اور وقت کم تھا۔ اس لیے اس نے مزید سوچوں میں الجھنے کے بجائے ملکہ شاطو کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے جلد جلد تیاری کی۔ وہ جیسے ہی ابلا پر بیٹھ کر بستی سے نکلا تو اس نے دیکھا کہ قبیلے کے بہت سے لوگ بستی کے باہر جمع ہیں۔ بستی کے لوگوں نے کامران کو دیکھ کر خوشی سے نعرے لگائے اس منظر کو دیکھ کر نیلابو کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو بھر آئے۔ اس نے کامران کو اپنی جھلملاتی آنکھوں سے بڑے فخر سے الوداع کہا قامران نے شاہی مہمان بن کر آج پورے قبیلے کا وقار بلند کر دیا تھا۔ کامران ریت اڑاتا قبیلے کے لوگوں کی دعائیں لیتا ملکہ شاطو کے محل کی طرف چل دیا۔ اس کے دل میں ہلچل سی مچی تھی۔ ایک طرف وہ خوش تھا اس اعزاز پر جو ملکہ شاطو نے اے مور کا یہ پر دیا دوسری طرف وہ مضطرب سا تھا کیونکہ ملکہ کا رویہ اس کے ساتھ کچھ عجیب سا تھا۔ وہ اب تک سمجھ نہ پایا تھا کہ ملکہ اس سے کیا چاہتی ہے؟
انہی سوچوں میں الجھا ہوا وہ مغرب کے بعد ملکہ کے محل کے دروازے پر پہنچا اور کامران کو روک لیا گیا۔ اس سے اس کی شناخت مانگی گئی۔ کامران نے جواب میں مور کا پر دکھایا۔
مور کے پر نے "کھل جاسم سم" کا کام دکھایا۔
شاہی محل کے تمام دروازے ایک کے بعد ایک کھلتے چلے گئے۔ محل کے اندر داخل ہوتے ہی اسے گھوڑی سے اترنے کے لیے کہا گیا۔ گھوڑی سے اترتے ہی اسے دو سواروں نے محل کے اندر پہنچانے کی ذمہ داری سنبھال لی۔ کچھ راہداریاں پار کر کے یہ سوار رک گئے۔ یہاں سے تین کنیزیں اسے آگے لے چلیں۔ اندر جا کر ان کنیزوں کے بھی پر جلنے لگے تو انہوں نے کنیز خاص کے حوالے کر دیا۔ اس خاص کنیز نے بھی زیادہ دور ساتھ نہ نبھایا۔ اس نے تھوڑی دور چل کر ایک بھاری دروازے کو دھیرے سے کھولا اور کامران سے مخاطب ہوئی۔ "ملکہ آپ کی منتظر ہے“ یہ کہہ کر وہ پیچھے پلٹی اور تیزی سے واپسی ہوگئی۔ کامران نے ایک گہری سانس لے کر دروازے میں قدم رکھا۔ دروازے میں داخل ہوتے ہی سامنے ایک بہت خوبصورت تخت پر ملکہ شاطو جلوہ افروز تھی اور یہ ملکہ شکارگاہ کی ملکہ سے مختلف تھی۔ کامران نے نگاہ اٹھا کر دیکھا تو اس کا جی چاہا کہ وہ ملکہ شاطو کو دیکھتا ہی رہے لیکن ایسا کرنا ادب کے خلاف تھا۔ دوسروں کو تو نگاه اٹھانے کی بھی اجازت نہ تھی۔ وہ کم از کم اسے نگاہ بھر کر دیکھ سکتا تھا۔ کامران نے اس کے نزد یک پہنچ کر قدم بوسی کرنی چاہی۔
تب ہی حکم ہوا "نہیں۔"

کامران جو قدم چومنے کے لیے لیٹا تھا رک گیا۔ اس کے چہرے پر ایک پریشانی کے آثار نمایاں ہوئے۔ شاید کہیں غلطی ہوگئی لیکن نیلابو کے باپ نے اسے اسی طرح چومنے کو کہا تھا۔ یہ شاہی آداب کے عین مطابق تھا۔
"قامران تم قدم چومنے کے لیے نہیں بنائے گئے یہ ہاتھ تمہارا منتظر ہے" شاطو نے اپنا سخت اور کرخت ہاتھ آگے بڑھایا۔ "ملکہ اڈ اعزاز کے لیے میں ایک بار پھر تیرا شکرگزار ہوں۔" قامران نے کھڑے ل ہو کر بڑی عقیدت سے اس کے سخت ہاتھ کو بوسہ دیا۔
"نہیں یہ کوئی اعزاز نہیں آؤ بیٹھو"
ملکه شاطو نے اسے اپنے ساتھ ہی تخت پر بٹھایا اور قریب لگی ایک نازک ڈوری کو دو بار جھٹکا۔ چند لمحوں میں وہی خاص کنیز حاضر ہوئی۔
"ملکه حکم کر" وہ اس کے سامنے آ کر جھک گئی۔
"کچھ پینے کا انتظام کر" تھوڑی ہی دیر میں چاندی کے نازک برتنوں میں پینے کے لیے مشروب حاضر کر دیا گیا۔
"کوئی اور کام" کنیز نے پوچھا۔
"تم جاسکتی ہو" کنیز کے جانے کے بعد ملکہ نے دو پیالوں میں مشروب ڈالا۔ ایک پیالہ اسکے آگے کردیا ۔"پی۔" کامران نے پینے سے پہلے شاہی آداب کے مطابق پیالہ اس کی طرف بڑھایا تاکہ ملکہ پہلے ایک گھونٹ مشروب پی لے۔
"نہیں تم پیو اور ایک گھونٹ پی کر مجھے دے دو" حکم ہوا۔
کامران کو ایسا ہی کرنا پڑا۔ یہ اس کے لیے ایک اور اعزاز تھا۔ کامران ابھی مزے لے لے کر مشروب پی ہی رہا تھا کہ ایک آفت نازل ہوگئی۔ ملکہ جو پاؤں لٹكاۓ تخت پہ بیٹھی تھی اس نے فورا اپنے پاؤں اوپر اٹھا لیے اور کامران سے لپٹتے ہوئے خوفزدہ لہجے میں بولی۔ "وہ۔۔۔وہ"
کامران نے جب ملکہ شاطو کے ہاتھ کے اشارے کی طرف دیکھا تو ایک لمحے کو وہ بھی سناٹے میں آگیا
اس سے چند قدم کے فاصلے پر ایک کالا ناگ پھن پھیلائے کھڑا تھا۔ یہ بڑا زہریلا سانپ تھا۔ اس کی پھنکاروں سے سرخ قالین بھی سیاہ ہوتا جارہا تھا۔ کامران نے ایک لمحہ بھی ضائع نہ کیا۔ اس نے ملکہ شاطو کر آہستہ سے دھکیل کر تیر کمان سیدھی کی اور پلک جھپکتے ہی تیزی سے تیر نکال کر چلے پر چڑھا لیا۔ اب وہ کالا ناگ اس کی زد میں تھا اور موت ان کے قریب کھڑی ہنس رہی تھی۔
"نہیں....اسے مت مارنا" قامران کے تیر چلانے سے پہلے ہی ملکه شاطو چیخی
"کامران؟ فوراً کمان نیچی کردو ورنہ تباہی پھیل جائے گی۔"
کامران نے ملکہ شاطو کو حیرت سے دیکھا ۔ "میں ٹھیک کہہ رہی ہوں کامران اس پر تیر ہرگز نہ چلانا"
پھر ملکہ شاطو نے ایک خالی پیالے میں مشروب بھرا اور ڈرتے ڈرتے اس ناگ کے قریب پہنچی کامران تیر گمان بدستور سنبھالے ہوئے تھا۔
" تمہارے لیے ہے۔“ ملکہ شاطو نے اس ناگ کے سامنے پیالہ رکھتے ہوئے کہا۔ ناگ نے پیالہ دیکھتے ہی پھنکارنا بند کر دیا اور بڑی سعادت مندی سے پیالے میں منہ ڈال کر مشروب پینے لگا۔ کامران اب بھی اسے نشانے پر لیے ہوئے تھا۔ شراب پینے کے بعد سانپ نے لہرانا شروع کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ تیزی سے سرسراتا دروازے سے نکل گیا۔
کامران نے تیر کمان سے نکال لیا۔ ملکہ شاطو نے گہری سانس لے کر قامران کو دیکھا۔ "سائری دیوتا کا شکر ہے۔“
پھر ملکہ شاطو نے دوبارہ ریشمی ڈوری کھینچی اورتخت پرہ تن کر بیٹھ گئی۔ ملکہ کی خاص کنیز دوبارہ حاضر ہوئی ملکہ شاطو حکم کر
"یہ دیکھو" ملکہ شاطو کے لہجے میں سانپ کی سی پھنکار تھی۔ اس نے خالی پیالے اور قالین کی طرف اشارہ کیا۔
کنیز خاص نے جب قالین پر پڑے سیاہ دھبوں اور خالی پیالے پر نظر ڈالی تو خوف سے اس پر لرزہ طاری ہو گیا۔
وہ بے دم ہو کر کہ شاطو کے قدموں میں گر پڑی اور آکر بولی۔ "ملکہ شاطو تیری قسم میں بے قصور ہوں۔ “
"اس وقت وہ کہاں ہے؟" ملکه شاطو نے رحم کی اپیل پر کان نہ دھرے
"وہ اپنے ٹھکانے پہنچ چکا ہے۔ کنیز خاص نے اطلاع دی۔
"جاؤ اور اس بات کا خیال رکھو کہ اب وہ اپنے ٹھکانے سے باہر نہ نکلے" کنیز خام نے یہ حکم سنا تو فورا اٹھ کر کھڑی ہو گئی۔ اس کی جان بخشی گئی تھی۔ اس پر جتنا خوش ہوتی کم تھا۔ اس نے جلد جلد برتن سمیٹے اور الٹے قدموں واپس ہوگئی۔ پرتکلف کھانے کے بعد مشروب کا دور چلا۔ کامران نے مشروب نوش کرنے کے ساتھ ساتھ کمان پر بھی گرفت کی لیکن وہ زہریلا ناگ پھر نمودار نہ ہوا۔
ملکہ کے ریشمی ڈوری ہلانے پر کنیز خاص انداز داخل ہوئی اور مودبانہ کھڑی ہوگئی ۔
"رقص‘‘ملکہ نے حکم دیا
تھوڑی دیر میں پانچ سازندے اور ایک رقاصہ اندر داخل ہوئی۔ پانچوں سازندوں کو باہر پردے کے پیچھے بٹھا دیا گیا۔ شاہی رقاصہ نے ملکہ شاطو کی قدم بوسی کی اور معزز مہمان کامران کا ہاتھ چوما پھر وہ الٹے قدموں دور ہوتی چلی گئی۔
تب ہی پردے کے پیچھے سے تیز تیز موسیقی کی لہر آئی اور شاہی رقاصہ اس لہر پر خود کو لہرانے لگی۔
کامران یہ سب دلچسپی سے دیکھنے لگا۔
رقاصہ بڑی دیر تک قامران پر بجلیاں گراتی رہی اور کامران پوری محویت سے قدم قدم بھرتے جلووں سے محظوظ ہوتا رہا۔
یہاں تک کہ تالی بجا کر کے شاطو نے رقص ختم کرنے کا اعلان کیا۔
قامران کی مہویت ٹوٹی تو اس کے منہ سے بے اختیار ” واہ واہ" نکلی۔
"رقص اچھا لگا؟''
"بہت خوب ملکہ شاطو بہت خوب"
"یہ مانا کہ تم نشانچی بہت اچھے ہو لیکن اس طرح کسے کسائے کب تک بیٹھے رہو گے یہ تیر کمان اور ترکش مجھے دے دو" ملکہ مسکراتی ہوئی اس کی طرف بڑھی۔
"میں بغیر تیر کمان کے خود کو ادھورا سمجھتا ہوں۔" کامران اپنی کمان پر ہاتھ پھیرتا ہوا بولا۔ "میں تمہیں ادھورا نہیں رہنے دوں گی۔" میں خود تمہاری کمان بن جاؤں گی۔“

اس جملے میں بہت سے معنی پنہاں تھے۔
ایک عورت اس سے زیادہ اور کیا کہہ سکتی تھی۔
”وہ کیسے؟‘‘ کامران واقعی بدھو تھا اس کی سمجھ میں کچھ نہ آیا۔
"سب سمجھ جاؤ گے آؤ میرے ساتھ............لو میری انگلی پکڑ لو کامران اب عمر کے اس حصے میں تو نہ تھا کہ وہ انگلی پکڑ کر پ چلتا۔
اس نے مکہ کا ہاتھ تھام لیا اور اس کے ساتھ ہولیا
ملکہ شاطو اسے اپنی خوابگاہ میں لے کر داخل ہوئی۔ یہ خوابگاہ تقریباً ویسی ھی تھی جیسی خوابگاہ میں وہ چاندکا کے توسط سے آرام کر چکا تھا

تمام اردو کہانیاں پڑھنے کے لیے کلک کریں 

سفید محل - پارٹ 4

Urdu stories online, Urdu stories for kids, Short Urdu stories, Urdu Kahaniyan, Famous Urdu stories, Urdu stories with moral, Best Urdu stories collection, Urdu stories for students, Urdu love stories, Urdu horror stories, Urdu stories for reading, Urdu stories in Urdu text, Funny Urdu stories, Urdu stories for beginners, Urdu detective stories, Urdu motivational stories, Urdu stories for adults, Urdu moral stories, Urdu stories for children, Urdu true stories, Urdu suspense stories, Urdu emotional stories, Urdu adventure stories,

hindi moral stories in urdu,سبق آموز کہانیاں, jin-ki-dushmni,good moral stories in urdu,Moral Stories,Urdu Stories,urdu kahani,اردو کہانی,قسط وار کہانیاں,
Reactions