| قسط وار کہانیاں |
سفید محل - اردو کہانی قسط نمبر 14
تھوڑی دیر میں سردار سمبا کا خیمہ نصب کر دیا گیا جبکہ باقی خیموں کو کسی نے ہاتھ لگانے کی کوشش نہ کی۔ ساتھ لائی ہوئی خوراک تمام قافلے میں تقسیم کردی گئی۔ لوگوں نے کھان کھاتے ہوئے قامران کو دعائیں دی جس نے عارضی پڑاؤ ڈلوا کر ان پر احسان عظیم کیا تھا۔ سب کے پیٹوں میں چوہے دوڑ رہے تھے۔ اگر بغیر کھائے پیئے دریا عبور کرنے کا حکم مل جاتا تو بھوک سے نڈھال لوگوں کی جان مشکل میں آ جاتی۔
کامران نے گوشت کے سوکھے ٹکڑوں کو جن پر کسی پھل کا رس لگا ہوا تھا بڑے مزے لے کر کھایا۔ جبکہ سردار سمبا کی توجہ اپنے بھاری حقے پر مرتکز رہی۔ اس نے لمبے لمبے کشوں کے دوران گوشت کے ایک دوٹکڑوں سے زیادہ نہ لیے۔
اتنے میں خیمے کا پردہ ہلا۔ سردار سمبا نے دروازے پر نظر کی۔ شوکی اندر داخل ہوا۔ اس کے ہاتھ میں پانی کا برتن تھا۔
”سردار سمبا دریا کا پانی پی کر دیکھو۔“ وہ بولا۔
”کوئی خاص بات“
”میں نے اپنی زندگی میں ایسا مزیدار پانی نہیں پیا۔“ شوکی نے کہا۔
”اچھا۔“ سردار سمبانے حقے کی نے چھوڑ دی۔
”لاؤ دکھاؤ“
پانی واقعی مزیدار تھا میٹھا اور ٹھنڈا۔
"كمال ہے۔“ کامران نے بھی پانی پی کر دیکھا اور ہنس کر بولا ”ایسے دریا کو پار کرنا کیا مشکل، پیتے جاؤ اور دریا پار کرتے جاؤ“
آخر وہ وقت بھی آیا جب ٹھگوں کا یہ قافلہ دریا میں اترا۔ سردار سمبا کو ایک کھوکھلے تنے پر بٹھا کے پہلے دریا عبور کروایا گیا۔ اس کے بعد کامران سے تنے پر بیٹھنے کو کہا گیا۔ لیکن اس نے تیر کر عبور کرنا زیادہ مناسب سمجھا۔
بہت دن سے اسے پانی میں اترنے کا موقع نہیں ملا تھا۔ اس نے سوچا تیر کر چلوں کامران کے دریا میں اترتے ہی دوسرے لوگوں نے بھی چھلانگیں لگادی۔
جب آدھے سے زیادہ آدمی دریا عبور کر چکے اور صرف وہ لوگ پیچھے رہ گئے جنہوں نے مال و اسباب اٹھانا تھا تو ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔
جیسے ہی وہ لوگ مال و اسهلباب اٹھانے کےلیئے دریا میں اترے تو اچانک چیخ و پکار کی آوازیں سنائی دی
دریا میں موجود لوگ دریا کی تہہ میں جانے لگے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے کوئی ان کی ٹانگیں دریا میں گھسیٹ رہا ہو۔ تب قامران کو ایک بڑا سا مگر کچھ دکھائی دیا جو ایک آدمی کی ٹانگ پکڑ کر گھسیٹتا ہوا لے جا رہا تھا۔ ایسے مگر مچھ جانے کتنے دریا میں موجود تھے اور لوگوں کو اپنے منہ کا نوالہ بنانے میں مشغول تھے۔
کامران نے فورا اپنا ہتھیار سنبھالا اور تیر کمان پر چڑھا کر مگر مچھ کا نشانہ لینے لگا۔تب دل کے نزدیک ایک سرگوشی سنائی دی۔
”کامران یہ تمہارے ساتھی ہیں۔ ان پر تیر نہ چلانا‘‘
" میرے ساتھی۔“ کامران کنوارے بدن کی خوشبو پاکر جھوم اٹھا۔ ”پھر وہ ہاتھی بھی میرے ساتھی ہوں گے جو رات کو اتنی بڑی تعداد میں اچانک کہیں سے آ نکلے“ کامران نے سوچا۔
”ہاں وہ بھی تمہارے ساتھی تھے۔“ جواب آیا ۔
یہ سن کر کامران نے کمان سے تیر اتار لیا اور مزے سے دریا کا نظارہ کرنے لگا۔
بیس پچیس آدمی پھر دیوتا کو پیارے ہوئے۔ ساتھ ہی زاد راہ بھی ڈوبا لیکن سردار سمبا کی پیشانی سلوٹوں سے خالی رہی۔ اس کے سپاٹ چہرے سے معلوم ہی نہ ہوتا تھا کہ اس نے کوئی بڑا نقصان اٹھایا ہے اس نے بڑی بے نیازی سے گھوڑا موڑ کر کالے دریا کی طرف پشت کی اور بھاری لہجے میں بولا ”قامران آگے بڑھو"
کامران نے جواباً اسے مسکرا کر دیکھا اور ابلا کو ایڑ لگائی۔ جلد ہی وہ لوگ کھنڈروں میں پہنچ گئے۔
سردار سمبا کی حالت قابل دید تھی۔ وہ کسی لالچی کی طرح کھنڈروں میں ادھر سے ادھر رال ٹپکاتا پھر رہا تھا۔
”نوجوان...! یہاں تو چاروں طرف پتھر ہی پتھر ہیں........... سونا کہاں ہے؟“ آخر سردار سے رہا نہ گیا۔
”اگر میں کہوں کہ یہاں سونا نام کی کوئی چیز نہیں تو“ کامران نے بڑی معصومیت سے کہا
تب سردار سب کی آنکھوں میں اچانک دہشت کی سرخی اتر آئی اس نے کامران کو خونخوار نظروں سے دیکھا اور تیز لہجے میں بولا ”نہیں نوجوان....! تم ہم سے ایسا سنگین مذاق نہیں کر سکتے"
”مذاق تو ہو چکا سردار“ قامران نے بڑی بے نیازی سے کہا۔
"تم اپنے بھیانک انجام کی فکر کرو...دھوکہ دینے کا حق صرف سردار سمبا کو ہے۔ تم جیسا نوجوان کیا کسی کو دھوکہ دے گا۔“ سردار سمبا نے اپنی بھاری مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے کامران کو گھورا۔
تب قامران اچانک ہی قہقہہ مار کر ہنس پڑا اور ہنستا ہی رہا۔ سردار سمبا نے کچھ دیر تو اس کی ہنسی رکنے کا انتظار کیا جب ہنسی نہ رکی تو اس نے شوکی کی طرف اشارہ کیا۔
شوکی کامران کی پشت سے آگے بڑھا۔ کامران شوکی کی پیش رفت سے بے خبر تھا۔ شوکی نے آگے بڑھتے ہوئے کامران کی ٹانگ پکڑ کر گھوڑی سے نیچے گھسیٹ لیا۔ وہ گھٹنوں کے بل پتھریلی زمین پر دھڑام سے گرا۔ تب اسے ماحول کی سنگینی کا علم ہوا۔ اس نے فورا سنجیدگی اختیار کر لی اور معذرت آمیز لہجے میں بولا " سردارسمبا۔۔۔۔! تم خواہ مخواہ ناراض ہو بیٹھے۔ میں نے تو تفریحاٰ یہ بات کہہ دی تھی۔ یہ بات صحیح ہے کہ دھوکا دینے کا حق صرف تم ہی کو ہے۔ میں تمہارے اس حق پر ڈاکہ نہیں ڈالنا چاہتا۔۔دھوکا دہی تمہیں مبارک ہو، میں ایک سچا آدمی ہوں۔ تمہیں جس وعدے پر یہاں تک لایا تھا اس پر میں قائم ہوں....سونا اسی کھنڈر میں موجود ہے۔ آؤ میرے ساتھ میں تمہیں دکھاتا ہوں“
سردار سمبا کی پیشانی سے سلوٹیں اچانک غائب ہو گئیں اور اس کے ہونٹوں پر باریک ہنسی آ گئی۔ اس نے جواب میں کچھ نہ کہا.....صرف شوکی کو اشارہ کیا۔ شوکی نے اشارہ پاتے ہی قامران کو احترام سے پتھریلی زمین سے اٹھایا اور پہلے کی طرح گھوڑی پر بٹھا دیا۔ کامران نے ابلا کی لگام کو ہلکا سا جھٹکا دیا۔ وہ آہستہ روی سے آگے بڑھی۔
وہ ان کھنڈروں گزرتا ہوا ان بتوں کو تلاش کرنے لگا جن میں سونا بھرا ہوا تھا۔ آخر ایک جگہ اس نے گھوڑی روک کر چھلانگ لگائی اور سیڑھیاں چڑھتا ہوا ایک دروازے میں داخل ہوگیا۔ دروانے میں سیڑھیاں موجود تھیں جو نیچے اترتی چلی گئی تھیں۔ قاصران اس تہہ خانے کی سیڑھیوں سے آرام سے نیچے جانے لگا۔ آگے جا کر یہ سیڑھیاں تاریک ہوگئی تھیں۔ وہ اندازے سے رک رک کر نیچے اترتا جا جارہا تھا۔ سیڑھیاں اترنے کے بعد پھر روشنی دکھائی دینے لگی۔ اور آخر ایک دروازہ آگیا۔ جب قامران دروازے سے باہر آیا تو اس نے وہی دیکھا جو چاندکا نے بتایا تھا۔
ایک بڑے سے چبوترے پر پانچ دیوقامت بت ایستادہ تھے اور اس چبوترے کے چاروں طرف دلدل پھیلی ہوئی تھی جس پر خوش نما پھول کھلے ہوئے تھے۔
" سردارسمبا....! ان بتوں کو دیکھ رہے ہو؟“
"ہاں....! دیکھ رہا ہوں۔“
"یہ سارے بت سونے کے ہیں۔“
"نہیں یہ بت سونے کے ہرگز نہیں ہوسکتے۔ مجھے پتھر صاف نظر آرہے ہیں۔" سردار نے اپنی بھاری مونچھوں کو مروڑ۔
”سردار ان بتوں کے اندر سونا ہے۔“ کامران نے اسے گھورتے ہوئے کہا۔
”ہاں یہ ہوسکتا ہے۔ لیکن ان بتوں کو توڑے گا کون؟"
”یه کام میں کروں گا۔ میں نے اپنی زندگی میں بڑے بڑے بتوں کو توڑا ہے۔ کامران نے ہنستے ہوئے کہا۔ "ویسے ان بتوں کو توڑنے کی نوبت نہیں آئے گی بابا نے یہی کہا تھا۔ اب میں جا کر دیکھتا ہوں کہ بابا کتنا سچا تھا۔“
پھر کامران وہ جگہ تلاش کرنے لگا جہاں سے وہ دلدل پار کر کے ان بتوں تک پہنچ سکے تھوڑی سی تلاش کے بعد کامران کو آخر وہ نشانی نظر آ ہی گئی۔اس نے ایک پاؤں دلدل میں ڈالا پاؤں ڈالتے ہی اس کا پاؤں کسی پتھریلی چیز پر ٹک گیا۔ یہ ایک بالشت بھر چوڑی پتھر کی دیوار تھی جو دلدل سے چبوترے تک چلی گئی تھی۔
کامران بہت احتیاط سے ایک ایک قدم جماتا چبوترے کی طرف بڑھنے لگا۔ اس کے انداز سے یہ ہرگز نہیں معلوم ہوتا تھا کہ وہ کسی پتھر کی دیوار پر چل رہا ہے۔ بلکہ یہ اندازہ ہوتا تھا یہ دلدل زیادہ گہری نہیں۔ وہ آرام سے زمین پر قدم جماتا ہوا آگے بڑھ رہا ہے۔
سردار سمبا اور اس کے آدمی اسے بڑی دلچسپی سے آگے بڑھتا دیکھ رہے تھے۔ پھر وہ بت آنے میں دیر نہ لگی جب بت اس کے دیادہ نزدیک آگئے تو اب وہ بڑے آرام سے چبوترے کی سیڑھیاں چڑھتا ہوا درمیان والے بت کی طرف بڑھ رہا تھا۔
اس بت کے چاروں طرف اس نے ایک چکر لگایا۔ زمین سے ایک پتھر اٹھا کر اس بت پر مارا۔ پھر پتھر پھینک کر بت پر چڑھنے لگا۔ وہ بت کی ٹانگوں پر چڑھتا ہوا اس کے ہاتھ پر آیا۔ پھر بازو پر سے گزرتا ہوتا ہوا اس بت کے کندھے پر جا بیٹھا۔ چاند کا کا پڑھایا ہوا سبق یہاں ختم ہو جاتا تھا۔ آگے اسے معلوم تھا کہ کیا کرنا ہے۔
قامران نے کھڑے ہوکر اس بت کے سر کو اچھی طرح دیکھا۔ اسے کہیں سے بھی بت کے کھوکھلے پن کا احساس نہیں ہوا۔
"قامران سونا نظر آیا؟“ سردار نے بڑی بے قراری سے پوچھا۔
"سردار....! ابھی تو یہاں سر ہی نظر آرہا ہے۔" کامران نے اس بت کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔
قامران اس بت کا کان پکڑ کر گھماؤ اور کان گھمانے سے پہلے بت کا بازو مضبوطی سے تھام لینا۔“ خوشبو میں بسی ہوئی آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی۔
”پھر کیا ہوگا؟‘‘ کامران نے زیر لب سوال کیا۔
لیکن اب وہاں جواب دینے والا کہاں تھا؟ چاندکا کنوارے بدن کی خوشبو سمیٹے جاچکی تھی قامران نے اس بت کا کان پکڑا اور بہت آہستہ سے تھوڑا سا گھمایا...........کان گھماتے ہی بت میں دراڑ پڑ گئی۔ اب قامران جیسے جیسے اس کا کان گھماتا جارہا تھا وہ بت درمیان سے پھٹتا جارہا تھا۔ پھر چمکتی ہوئی کوئی چیز ابل کر زمین پرگرنے لگی۔ یہ ریت تھی نہ مٹی، کنکر تھے نہ پتھر، یہ سونا تھا۔ سونا بڑی ڈلیوں کی صورت میں بت کے جسم سے نکل کر زمین پر گر رہا تھا۔ تاران دم سادھے گرتے سونے کو دیکھنے لگا۔
زمین پر گرتے ڈھیر سارے سونے کی چمک نے سردار کے دماغ میں ہلچل مچا دی۔ وہ خوشی چیختا ہوا چبوترے کی طرف بڑھا۔
"کامران....! میں آ رہا ہوں ۔ دوسرے بت ابھی مت کھولنا۔ میں خود اپنے ہاتھ سے کھولوں گا"
سردار سمبا کو آگے بڑھتا دیکھ کر اس کی قوم میں بے چینی پھیل گئی۔ سونے کا چمکتا ڈھیر ان ٹھگوں کی آزمائش بن گیا۔ صبر کا دامن ہاتھ سے چھوٹا اور ٹھگوں کا یہ قافلہ چاروں طرف سے سونے کے ڈھیر پر ٹوٹ پڑا۔ اب ہر شخص کی کوشش تھی کہ وہ دوسرے پر سبقت لے جائے۔ انہیں کیا معلوم تھا کہ دلدل پار کرنا کتنا مشکل ہے۔ سونے پر قبضہ کرنا تو دور کی بات تھی چبوترے تک پہنچنا ہی آسان نہ تھا۔ہر شخص گہری دلدل میں پھنستا جارہا تھا۔
قامران ابھی اس بت کے بازو پر بیٹھا تھا اور ظالموں کو اپنے انجام تک پہنچتا دیکھ رہا تھا سیانے کوے آخر ایک معصوم فاختہ کے جال میں پھنس گئے تھے اور راہ فرار کا دور دور تک سراغ نہ تھا۔
سردار نے اگرچہ کامران والی جگہ سے دلدل میں پاؤں رکھا تھا۔ اسے کیا معلوم تھا کہ کے نیچے کتنی موٹی دیوار ہے۔ ایک آدھ قدم تو وہ اس دیوار پر چلا۔ پھر عجلت میں جو قدم اٹھایا وہ گر پڑا۔ عجلت میں اٹھایا ہوا قدم ویسے بھی سیدھا کہاں پڑتا ہے۔ وہ لڑکھڑا کر دلدل میں گرا اور اندر دھنسنے لگا۔
تب سردار سمبا کو پہلی بار اپنے بے وقوف ہونے کا علم ہوا۔ وہ جانتا تھا کہ اسے اور اس کے جان نثاروں کو اس گہری دلدل سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ یہ بھولا بھالا نوجوان اسے ہاتھ دکھا گیا تھا۔
سردار سمبا کو یہ بات اچھی طرح معلوم تھی کہ دلدل میں ہاتھ پاؤں مارنا موت کو فوراً بلانا ہے وہ فورا نہیں مرنا چاہتا تھا اور اس نے اپنے ہاتھ پاؤں ڈھیلے چھوڑ دیے۔ اب وہ آہستہ آہستہ دلدل میں دھنستا جارہا تھا اور موت دبے پاؤں اس کی طرف بڑھ رہی تھی۔
سردار سمبا کو کامران پر بڑا غصہ تھا۔ اگر کسی طرح اسے اس دلدل سے نجات مل جاتی تو وہ اسے چبا ڈالتا اور کامران بت کے بازو پر بیٹھا بڑے مزے سے مسکرا رہا تھا۔
سردار سما نے اسے ایک موٹی سی گالی دے کر کہا۔ "تو نے مجھ سے کس چیز کا بدلہ لیا ہے آخر“
”سردار سمبا.....! میں نے تم سے کوئی بدلہ نہیں لیا۔ تم خود ہی اپنے گناہوں کی دلدل میں پھنس گئے ہو۔ اس میں میرا کوئی قصور نہیں۔ میں تمہیں سونا دلوانے آیا تھا۔ میں نے اپنا وعدہ پورا کر دیا سونے کا ڈھیر تمہارے سامنے موجود ہے۔ آ جاؤ اور جھولی بھرلو۔“
اس جواب نے اور آگ لگا دی۔ سردار سمبا کے منہ سے گالیوں کا فوارہ پھوٹ پڑا۔ دوسروں کو زندگی بھرلوٹنے والا آخری وقت تک خود کوحق بجانب سمجھتا رہا۔
کامران سردار سمبا کے ڈھیٹ پن پر مسرائے بنا نہ رہ سکا۔ وہ سوچنے لگا ظلم کسے کہتے ہیں؟ تب اسے خیال آیا ظلم کی تعریف صرف مظلوم بتا سکتا ہے۔ دنیا کے کسی ظالم نے آج تک خود کو قصور وار نہیں ٹھہرایا۔ پھر سردار سمبا جس کا پیشہ ہی دوسروں کو لوٹنا تھا وہ کیسے مان لیتا کہ وہ ظالم هے۔ اس کے ظلم ہی اسے لے ڈوبے۔ کامران کو اس بات کی خوشی تھی کہ وہ اس مرتبہ خون بهائے بغیر ظالموں کو ختم کرنے میں کامیاب ہوگیا تھا۔
گہری دلدل ٹھگوں کے پورے قافلے کو اپنے سینے میں اتار چکی تھی۔ اب چاروں طرف خاموشی تھی۔ گہرا سکوت چھایا ہوا تھا۔
کامران سونے کے بت سے اترنے لگا۔ نیچے آ کر اس نے سونے کے ڈھیر میں سے ایک بڑی سی ڈلی اٹھائی اور اسے الٹ پلٹ کر دیکھنے لگا۔
”کیا دیکھ رہے ہو؟“ چاند کا اچانک ہی اس کے سامنے ظہور پذیر ہوگئی۔
کامران نے ایک گہرا سانس لے کر اس کے کنوارے بدن کی خوشبو اپنے اندر اتار لی پھر مسکراتا ہوا بولا۔
”کیا یہ سونا اصلی ہے؟"
" بالکل اصلی‘‘ چاندکا نے جواب دیا۔
”باقی چار بتوں میں بھی سونا موجود ہے؟‘‘ کامران نے پوچھا
”ہاں ہے۔“
"یہاں کون رہتا تھا؟ سونا جمع کرنے کا خبط کس کو تھا؟“
”یہ ایک لمبی کہانی ہے۔ بس اتنا جان لو کہ جس شخص نے یہ سونا جمع کیا تھا۔ وہ اس سے فائده نہ اٹھا سکا۔“
”کوئی بات نہیں۔“ کامران نے کندھے اچکا کر کہا۔ "چلو اب ہم اس سے فائدہ اٹھائیں گے"
"اس کا کیا کرو گے؟“
”کیا سونے کے بارے میں اس طرح کا سوال بھی کیا جاسکتا ہے؟‘‘ کامران نے چاندکا کی طرف حیرت سے دیکھا۔ ”دولت سے دنیا کا ہر سکھ خریدا جاسکتا ہے۔ تم پچھتی ہو میں سونا کیا کروں گا؟“
”کیا محبت بھی خریدی جاسکتی ہے؟" چاندکا نے اسے گہری نظروں سے دیکھتے کہا
"محبت بےشک نہیں خریدی جاسکتی لیکن محبت کو برقرار رکھنے میں دولت کا بہت بڑا ہاتھ ہوتا ہے۔“ قامران نے کہا۔
"یہ تمہاری بھول ہے۔“ چاندکا نے نرمی سے کہا۔ ” محبت اپنے جواب میں صرف محبت چاہتی ہے سونے چاندی کے ٹکڑے نہیں۔ یہ دنیا کی سب سے سستی چیز ہے جسے حاصل کرنے کے لیئے ایک پائی کوڑی بھی خرچ نہیں کرنی پڑتی۔ اس کے باوجود اس دنیا میں محبت حاصل کرنا اتنا آسان نہیں ہوتا“
”تمہارا اپنے بارے میں کیا خیال ہے؟“ قامران نے اسے شرارت سے دیکھتے ہوۓ کہا۔
”میں اب صدیوں بعد خود کو خوش نصیب سمجھنے لگی ہوں۔“ چاندکا نے فورا جواب دیا۔
”گویا کسی کی محبت حاصل ہوگئی؟“
”ہاں...........بلاشبہ۔“
”کون ہے وہ خوش نصیب“
”تم...“ چاندکا نے اسے پیار سے دیکھتے ہوئے کہا۔” یہی سننا چاہتے تھے نا؟
کامران نے جواب میں کچھ نہ کہا صرف مسکرا کر رہ گیا۔
"قامران تمہیں واقعی سونا چاہیئے؟“
”نہیں میں تو مذاق کر رہا تھا۔ تمہارے ہوتے ہوئے مجھے کسی چیز کی ضرورت نہیں...تم ہی سونا ہو، تم ہی میری دولت میری دنیا ہو۔“ کامران جذباتی ہوگیا۔
کامران کے ان لفظوں میں بڑا جادو تھا۔ چاند کا کے چہرے پر بے شمار رنگ بکھر گئے۔ وہ خوشی سے جھوم اٹھی۔ تب تامران نے سوچا کہ عورت کو اظہار محبت کتنا پسند ہوتا ہے اور اظہار محبت ہی نہیں بلکہ وہ اپنی ہر ادا کا مرد سے خراج چاہتی ہے۔
”پھر اس سونے کو دوباره بت میں ڈال دوں؟“ چاندکا نے پوچھا۔
”جو مرضی آۓ کرو.... مجھے اس سے کوئی دلچسپی نہیں۔“
تب چاند کا نے اپنا دایاں ہاتھ فضا میں اٹھایا اور تحکمانہ انداز میں بولی ”تم جہاں تھے وہیں واپس چلے جاؤ“
اس حکم کے نشر ہوتے ہی سونے کے ڈھیر میں حرکت ہوئی اور سونے کی ڈلیاں خودبخور بت میں سمانے لگیں۔ جب سارا سونا بت کے اندر سما گیا تو وہ اپنی اسی حالت میں آ گیا۔ اب کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ اس بت کے اندر سونا ہے۔ اچانک کامران کی سماعت سے کوئی سریلی آواز ٹکرائی۔ وہ دل میں اتر جانے والی اس دھن کو غور سے سننے لگا۔
"ایسے ویرانے میں بانسری کون بجا رہا ہے؟‘‘ کامران نے پوچھا۔
لیکن پہ سوال جس سے پوچھا گیا تھا وہ تھی کہاں؟ وہ تو اس کی پیٹھ موڑتے ہی غائب ہوگئی کامران نے چاروں طرف نظریں گھمائیں بے قراری سے ہر طرف دیکھا اسے کئی بار آوازیں دیں۔ ”چاندکا چاندکا۔"
پر چاندکا تو اپنی مرضی کی مالک تھی۔ جب جی چاہتا آتی جب جی چاہتا چلی جاتی۔
بانسری کی آواز برابر اس کے دل کو چھو رہی تھی اور اپنی طرف کھینچ رہی تھی۔ کامران تیزی سے چبوترے کی سیڑھیاں اترتا ہوا نیچے آیا۔ دلدل میں چھپی اس دیوار کا اندازہ کیا اور پھر مضبوطی سے قدم رکھتا ہوا دلدل میں آگے بڑھنے لگا۔ یہ دلدل ٹھگوں کے پورے قافلے کو نگل گئی تھی۔ لیکن اس کی سطح پہلے کی طرح تھی۔ ہموار اور یکساں۔ کامران دلدل سے نکل کر اس دروازے کی طرف بڑھا، جس کی سیڑھیاں عبور کر کے ان کھنڈروں میں پہنچا جا سکتا تھا۔ تہہ خانہ پار کر کے جب وہ کھنڈروں میں پہنچا تو اسے اپنی گھوڑی کھڑی دکھائی دی۔ کھنڈروں میں جگہ جگہ ٹھگوں کے گھوڑے بھی موجود تھے اور بہت سی گٹھڑیاں بھی فرش پر پڑی تھیں جو کالے دریا میں ڈوبنے سے رہ گئی تھیں۔ کامران نے تمام گھوڑوں سے لگامیں نکال کر انہیں آزاد کردیا اور گٹھڑیوں میں جو بھی کام کی چیز ملی اسے اس نے اپنی ابلا کے ساتھ باندھ لیا اور گٹھڑیوں پر ایک الوداعی نظر ڈال کر ابلا کو ایڑ دی۔
بانسری کی دل موہ لینے والی آواز متواتر اس کے کانوں میں پڑ رہی تھی۔ اس کی سمت کا اندازہ کر کے گھوڑی دائیں طرف موڑی اور آہستہ روی سے چل پڑا۔ آگے جا کر بانسری کی آواز بند ہوگئی۔ گویا اس نے سمت کا اندازہ غلط کیا تھا۔ ایک بار پھر اسی نے ہوا کا رخ دیکھا اور سریلی آواز کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔ یہ بات اچھی طرح معلوم تھی کہ صحرا میں بانسری کی آواز کا تعین کرنا آسان نہیں۔ جہاں آواز نزدیک سے آتی ہوئی معلوم ہوتی ہے تعاقب کرنے پر کوسوں دور نکلتی ہے۔ آخر کامران اندازے لگاتا بانسری کی آواز کو اپنی گرفت میں لینے میں کامیاب ہوا اب انسری والا اس کے خیال کے مطابق سامنے درختوں کے جھنڈ میں موجود تھا۔ کامران نے ابلا کی پیٹھ سے چھلانگ لگائی اور اس کی لگام نکال کر اسے چرنے کے لیے آزاد چھوڑ دیا اور خود اس جھنڈ کی طرف بڑھا۔ وہ آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہا تھا تا کہ بانسری بجانے والے کی محویت نہ ٹوٹے وہ اسے پورے انہماک سے بانسری بجاتے ہوئے دیکھ سکے۔ قامران جب چھپتا چھپاتا وہاں پہنچا تو درختوں کی اوٹ سے ایک عجیب منظر دیکھا۔
ایک دوشیزه بال کھولے اس کے کندھے سے لگی آنکھیں موندے بانسری کی لے میں ڈوبی تھی اور وہ بانسری ہونٹوں سے لگائے آنکھیں بند کیئے چیزوں کو ساکت کردینے والا راگ چھیڑ رہی تھی۔ بانسری کی آواز سے ہر شے دم بخود سی تھی۔ خود کامران بھی سکتے میں آ گیا تھا۔
جب اچانک اس کی محویت ٹوٹی۔ وہ مسٹنڈے جانے کہاں سے نکل آئے ہاتھوں میں مضبوط لاٹھیاں تھیں۔ انہوں نے آتے ہی پہلے تو اس دوشیزہ کا ہاتھ پکڑ کر الگ کیا پھر لاٹھیاں اس کے سر پر برسائی جانے لگیں۔ بانسری کے سر بکھر گئے۔ اس سے پہلے کہ کامران سوچتا سمجھتا وہ لاٹھیوں سے اسے مار پیٹ کر اس لڑکی کو گھسیٹتے ہوئے جا چکے تھے۔ اب فضا میں لڑکی کی دلخراش آوازیں گونج رہی تھیں۔
”رنگا، رنگا"
رنگا تو اوندھے منہ بے ہوش پڑا تھا اس کے سر سے خون جاری تھا۔ وہ اس کی آواز سن کر درختوں کی اوٹ سے نکل کر تیزی سے چھلانگیں مارتا رنگا کے پاس پہنچا۔ اٹھا کر اسے سیدھا کیا۔ پھر ادھر ادھر کچھ پتے تلاش کرنے لگا۔
آخر اسے مطلو پتئے دکھائی دے ہی گئے۔ اس نے جلدی سے انہیں اٹھایا اور اپنے دونوں ہاتھوں کے درمیان رگڑتا رنگا کی طرف بڑھا۔ ان پتوں کو مسل کر اس نے زخموں پر عرق ٹپکایا اور مڑے تڑے پتوں کو پھاہے کی طرح زخم پر رکھ دیا۔ سرسے فوارے کی طرح ابلتا ہوا خون بند ہوگیا۔
جب قامران نے اس خوبصورت نوجوان کو اٹھا کر اپنے کندھے پر ڈال لیا۔ اس کی بانسری ترکش میں رکھی اور نیچے اترنے لگا۔ نیچے آیا تو اس نے ابلا کے پاس ایک گھوڑے کو دیکھا۔ یہ گھوڑا ضرور نوجوان کا ہوگا۔ کامران نے سوچا۔ اس گھوڑے نے اپنے مالک کو زخمی حالت میں دیکھا تو زور سے ہنہنانے لگا۔
اب قامران کو پکا یقین ہوگیا کہ یہ گھوڑا رنگا کا ہی ہے۔
رنگا ابھی تک بے ہوش تھا اور جلدی ہی اس کے ہوش میں آنے کے کوئی امکاات نہ تھے۔ اسکے سر سے خون کچھ زیادہ ہی بہہ گیا تھا۔ کامران نے رنگا کو اس کے گھوڑے کی پیٹھ پر لاد دیا اور اسے اس طرح لاد دیا کہ وہ گھوڑے سے گر نہ سکے۔ پھر کامران نے گھوڑے کے کولہے پر زور سے ہاتھ مارا۔ گھوڑا قامران کی توقع کے مطابق آہستہ روی سے چل پڑا۔ گھوڑے کو چلتا دیکھ کر کامران نے چھلانگ لگائی، ابلا کی پیٹھ پر سوار ہوگیا۔ اس نے اپنی ابلا کو اس گھوڑے کے پیچھے ڈال دیا۔ اس گھوڑے کی رفتار زیادہ تیز نہ تھی۔ شاید اسے معلوم تھا کہ اگر وہ زیادہ تیز چلا تو اس کا مالک زمین پر آرہے گا۔ ہلکی رفتار میں وہ جھاڑی جھنکاڑیوں سے بچتا گڑھوں اور ناہموار راستوں سے احتیاط کرتا چلا جارہا تھا۔
گھوڑے کی اس سمجھ داری پر کامران کو بڑی خوشی ہوئی۔ ایک طرف وہ انسان تھے جو اس بے رحمی سے اپنی ہی برادری کے آدمی کو زخمی کر کے چلے آئے تھے اور دوسری طرف یہ جانور تھا جو انسانیت کا ثبوت دے رہا تھا۔
ہر انسان کبھی کبھی جانور کیوں بن جاتا ہے۔۔۔؟ اس سوال کا جواب کسی کے پاس نہ تھا۔ کامران کے پاس بھی نہیں
مغرب تک وہ اسی طرح آگے پیچھے چلتے رہے یہاں تک کہ وہ گھوڑا ایک آبادی میں داخل ہوگیا
کامران نے لگام کو جھٹکا دے کر ابلا کی رفتار تیز کی اور گھوڑے کے برابر پہنچ گیا۔ پھر اس نے ہاتھ بڑھا کر اس گھوڑے کی لگام اپنے ہاتھ میں لے لی۔ سامنے سے آتے ہوئے ایک آدمی کو روک کر اس نے رنگا کی طرف اشارہ کیا اور پوچھا۔ ”کیا اس کا گھر اسی آبادی میں ہے؟“
اس آدمی نے گھوڑے کی پیٹھ پر اوندھے پڑے ہوئے آدمی کو جھک کر دیکھا اور پھر حیرت سے بولا۔ ”ارے یہ تو رنگا ہے۔“
پھر اس آدمی نے جلدی جلدی اسے گھوڑے کی پیٹھ سے کھولا اور کندھے پر ڈال کر ایک طرف بھاگا
رنگ کا گھر بستی کے شروع ہی میں تھا۔ وہ آدمی بھاگتا ہوا ایک مکان کے سامنے رک گیا۔ ادمی کے آواز دینے پر ایک ادھیڑ عر آدمی باہر نکلا جو صورت سے رنگا کا باپ نظر آتا تھا۔
رنگا کو اس کے کندھے پر پڑے دیکھ کر اس کی پیشانی پر بل پڑ گئے۔ وہ بھاگ کر رنگا بھاگ کر رنگا کے نزیک پہنچا اور بولا ”آج اس نے پھر ار کھائی ہے کیا؟“
"مجھے نہیں معلوم اس نوجوان سے پوچھو۔ وہی رنگا کو بستی میں لایا ہے۔" اس نے کامران کی طرف اشارہ کیا۔
تب وہ ادھیڑ عمر آدمی کامران کی طرف بڑھا اور اسے ممنونیت سے دیکھتے ہوئے بولا "تمہاری بڑی مہربانی کہ تم اسے یہاں تک لے آئے ہو۔ اسے کیا ہوا؟ میں اس کا باپ ہوں"
کامران ابلا سے کود پڑا اور بولا "رنگا کو کچھ آدمیوں نے مارا ہے۔"
"مجھے دیکھتے ہی سمجھ آ گئی تھی کہ آج پھر پت کر ایا ہے۔ کیا اس کے ساتھ کوئی لڑکی تھی ؟" رنگا کے باپ نے پوچھا۔
"ہاں تھی اس لڑکی کو گھسیٹ کر وہ اپنے ساتھ لے گئے۔“
"اوہ پتہ نہیں کیا ہونے والا ہے۔ اس رنگ کے بچے نے تو ہمیں عذاب میں مبتلا کر دیا" رنگا کا باپ جھنجھلا کر بولا۔
"رنگا بے ہوش ہے۔ پہلے ہمیں اس کی خبر لینی چاہئے ۔ یہ باتیں بعد میں ہوتی رہیں گی۔" کامران نے نرمی سے کہا۔
پھر رنگا کو زمین پر لٹا دیا گیا۔ رنگا کا باپ ایک مٹی کے پیالے میں کالا سامحلول لے کر آیا؟ اس نے رنگا کے نزدیک بیٹھ کر اس کے کھلے ہوئے منہ میں اپنی انگلی سے بوند بوند وہ محلول ٹپکایا چند قطرے اندر جاتے ہی اس کے جسم میں حرکت ہوئی۔ تب جلدی جلدی اس کے منہ پر پانی مارا گیا۔ تھوڑی دیر بعد اس نے آنکھیں کھول دیں۔ اپنے باپ کو اپنے سامنے پاکر رنگا خجل سا ہوا۔ اسے فورا ہی اپنے سر پر برستی وہ لاٹھیاں یاد آگئیں۔
پھر اس نے بائیں جانب دیکھا تو ایک اجنبی کو کھڑا پایا۔ رنگا نے اپنے دماغ پر بہت زور دیا لیکن وہ اس اجنبی کو شناخت نہ کر سکا۔ تب کامران نے اسے الجھن میں دیکھ کر کہا ” میں کامران ہوں میں ہی تمہیں اس حالت میں تمہارے گھر تک لایا ہوں۔"
"اوہ، بڑا کرم تمہارا۔“ رنگا نے بڑی نقاہت سے کہا۔
پھر کامران نے اپنے ترکش میں ہاتھ ڈال کر تیروں کے درمیان سے رنگا کی بانسری نکالی اور جھک کر اس کی خدمت میں پیش کرتا ہوا بولا ”تمہارا ساز جسی کی آواز سن کر میں تم تک پہنچا تھا تم بانسری خوب بجاتے ہو....اس کم عمری میں یہ سوز تم نے کہاں سے پایا؟‘‘
ابھی رنگا نے جواب دینے کے لیے لب کھولے ہی تھے کہ ایک آدمی باہر سے بھاگتا آیا اور گھبرائے ہوئے لہجے میں بولا ”سردار کاکڑ کے آدمی آئے ہیں“ سردار کاکڑ کا ذکر سن کی رنگا کاباپ فکر میں ڈوب گیا۔
رنگا کے چہرے پر بھی سوچ طاری ہوگئی۔ پھر رنگا کا باپ اٹھا اور زیر لب کچھ کہتا ہوا گھر کے باہر نکل گیا۔
دروازے کے باہر گلی میں دو گھڑ سوار موجود تھے اور بڑی خونخوار نظروں سے رنگا کے باپ کو آتا دیکھ رہے تھے۔
جب رنگا کا باپ ان کے نزدیک پہنچ گیا تو ان میں سے ایک سوار نے زبان کھولی ”سردار کاکڑ نے دو مرتبہ تمہارے بیٹے کو چھوڑ دیا ہے۔ اب تیسری مرتبہ بھی وہی غلطی دہرائی تو زندہ گاڑ دیا جائے گا سمجھے؟“
پھر انہوں نے رنگا کے باپ کے جواب کا بھی انتظار نہ کیا۔ اپنے گھوڑوں کو موڑا اور ہنستے ہوئے آنکھوں سے اوجھل ہو گئے۔
رنگا کا باپ بے نور آنکھوں سے اڑتی ہوئی دھول دیکھتا رہا
تب تامران نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور ہمدردی سے بولا" فکر مت کرو...........مجھے بتاؤ یہ سب کیا ہے“
”اس رنگا نے تو مجھے کہیں کا نہ چھوڑا۔ آج نوبت یہاں تک آ پہنچی کہ وہ لوگ مجھے میرے گھر آ کر دھمکی دے کر چلے گئے اور میں نے انہیں زندہ سلامت جانے دیا کچھ نہ کرسکا کچھ نہ کہہ سکا، کاش....! رنگا سے وہ گری ہوئی حرکت سرزد نہ ہوئی ہوتی۔“
"گری ہوئی حرکت کیا کیا ہے رنگا نے؟" "نوجوان! یہ اس سے پوچھو وہی بتائے گا کہ وہ کیا کھیل کھیل رہا ہے۔" رنگا کے باپ نے دکھ سے ہاتھ ملتے ہوئے کہا۔ "اس گدھے نے میری عزت خاک میں ملا دی ہے۔" کہہ کر رنگا کا باپ باہر چلا گیا۔
کامران کچھ دیر کھڑا سوچتا رہا پھر مکان میں داخل ہوا۔ رنگا بڑی بے تابی سے اس کا منتظر اسے دیکھ کر اٹھ کر بیٹھ چکا تھا۔ اسے دیکھتے ہی بولا ’’کیا ہوا؟ وہ کیا پیغام لائے تھے؟"
"وہ تمہیں زندہ دفن کر دینے کا پیغام لے کر آئے تھے۔" کامران نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
"اوہ....!" رنگا کے چہرے پر ایک دم دکھ کے سائے پھیلے۔ پھر فورا ہی اس کا چہرہ پر عزم ہوا اور مضبوط لہجے میں بولا "میں اس کے لیے زندہ دفن ہونا بھی منظور کرلوں گا۔“
"کس کے لیے...؟ جس کا باپ مجھے زندہ گاڑ دینے کی خواہش رکھتا ہے۔"
"اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ لڑکی جو تمہارے شانے پر بال بکھرائے بیٹھی تھی وہ سردار کاکڑ کی بیٹی ہے...ذرا اس کا نام بتاؤ‘‘ کامران نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
"رنگی" اس کا نام لیتے ہی رنگا کے چہرے پر رونق آ گئی۔
"رنگی اور "رنگا..........جوڑی تو خوب ہے۔" کامران ہنسا۔
"لیکن یہ دنیا والے کہاں مانتے ہیں۔"
”مان جائیں گے۔ یہ بتاؤ رنگی کہاں رہتی ہے؟
"علاقہ غیر میں“
"محبت بھی خوب ہوتی ہے ہمیشہ علاقہ غیر میں جنم لیتی ہے تاکہ آزمائشیں اور بڑھیں۔تمہارے اپنے علاقے میں کوئی ایسی لڑکی نہ تھی، جس سے تم محبت کر سکتے"
"محبت اگر علاقے نہیں دیکھتی تو پھر وہ ذات اور نسل بھی نہیں دیکھتی اور اتنی بے اختیار ہے کہ کچھ سوچنے کا موقع ہی نہیں ملتا" رنگا نے کھوئے ہوئےلہجے میں کہا۔ "کاش محبت میں مرضی کا دخل ہوتا"
"رنگی تمہیں کہاں ملی تھی؟‘‘ کامران نے براہ راست سوال کیا۔
"نیلی جھیل کے کنارے" رنگا نے بتانا شروع کیا۔ "میں وہ شام وہ پہلی ملاقات نہیں بھول سکتا۔ میں ایک درخت کے تنے سے ٹیک لگائے بانسری سے کھیل رہا تھا۔ میری نظریں نیلے پانی اور اس میں کھلے سفید کنول کے پھولوں کا طواف کر رہی تھیں۔ کچھ آبی پرندے غول کی شکل میں جھیل پر ادھر سے ادھر اڑ رہے تھے۔ میں اس منظر میں ڈوبا بانسری کے بدن پر اپنی انگلیاں پھیر رہاتھا۔ اس کے منہ سے مسحور کن آواز نکل رہی تھی......اس فطری منظر اور ساز کی مسحور کن آواز نے بے خود کر دیا تھا۔ تب اچانک ہی کوئی میرے سامنے کھڑا ہوا۔ جیسے اچانک چاند بادلوں کی اوٹ میں یا گھنگھور گھٹا میں مکمل چمکے یا اندھیری رات میں سورج نکل آئے۔ بس وہ ایسے ہی چھم سے سامنے آ گئی تھی۔ اسے دیکھ کر جیسے مجھے ہوش آ گیا۔ بانسری کے بدن پر میری انگلیاں تھم گئیں۔ فطری مناظر ایک ایک کرکے دھواں ہو گئے۔ سامنے کچھ نہ رہا۔ بس وہ رہ گئی رنگی۔ ساری کائنات کا حسن سمیٹے وہ میرے سامنے دوزانو ہوکر بیٹھ گئی۔ جیسے کوئی شاگرد اپنے استاد کے سامنے بیٹھ جائے۔ میں نے اسے حیرانی سے دیکھتے ہوئے بانسری لبوں سے ہٹائی تو اس نے یاقوتی لب کھولے اور بانسری کی طرح سریلی آواز میں بولی ” لبوں سے بانسری نہ ہٹاؤ، اس سے اپنی انگلیاں ناهٹاؤ بانسری بجاؤ“۔
تب میں نے چونک کر اس کی طرف دیکھا اور دیکھتے ہوئے بانسری بجائی انگلیاں حرکت میں آگئیں اور بانسری سے ایسی دهن نکلنے گی جس کے بارے میں مجھے پہلے معلوم نہ تھا۔ محبت کا پہلے سے کسے علم ہوتا ہے۔ کب اور کہاں ہو جائے؟ بانسری کے منہ سے نکلنے وال کوئی معمولی آواز نا تھی وہ تو محبت کا راگ تھا۔ شام ڈھلے جب وہ مجھ سے رخصت ہونے لگی تو میں نے اسے نیلی جھیل سے ایک کنول کا پھول توڑ کر دیا اور اس سے اگلی شام آنے کو کہا اس نے ہنستے ہوئے اثبات میں گردن ہلائی اور میرے دل کے گگن پر امید کے تارے چھوڑ کر کی درختوں کی اوٹ میں سورج کی طرح غروب ہوگئی۔ پھر ہر نئے دن کا سورج میرے لئے محبت لانے لگا۔
ہم روز روز ملنے لگے۔ عشق کے نغمے گائے جانے لگے حسن کے قصیدے پڑھے جانے لگے۔ محبت کا یہ سفر ایک طویل عرصے تک جاری رہا۔ جب پیار کی راہ پر بہت دور نکل گئے تب معلوم ہوا کہ ہم دونوں ایک دوسرے کے لیے علاقہ غیر کے ہیں۔ ہماری ذاتیں الگ ہیں ہماري نسلیں جدا ہیں۔ یہ جاننے کے باوجود ہم میں سے کسی نے واپس لوٹنے کی کوشش نہیں کی۔ ہم آگے ہی بڑھتے گئے ۔ پھر مشک کی طرح ہمارا عشق چھپ نہ سکا۔ اس کے باپ نے اس کے پاؤں میں زنجیر ڈالنے کی کوشش کی۔ لیکن وہ ہر بندش ہر قید توڑ کر مجھ سے ملنے آتی رہی۔ اس پر حربے کارگر نه ہوئے۔
پھر میری آزمائش شروع ہوئی۔ پہلے مجھے تنبیہیں کی گئیں دھمکیاں دی گئیں۔ میں نے انہیں ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیا۔ پھر ایک دن مجھ پر حملہ کیا گیا۔ وہ لوگ اپنے غصے کی بھڑاس نکال کر چلے گئے۔ تب ہم نے ملاقات کی جگہ ایک بار پھر بدل دی۔
وہ مجھ سے بانسری بجانے کی ضد کرتی۔ میں اسے بہانے بنا کر ٹال دیتا۔ آخر ایک دن مجھ سے ٹالا نہ گیا اور وہ دن آج کا دن تھا۔ میں نے کئی دنوں بعد بانسری ہونٹوں سے لگائی تھی۔ اسے ہونٹوں سے لگاتے ہی عحیب سرور حاصل ہوا۔ میں پہلے مدھم سروں میں راگ الاپتا رہا۔ رنگی کو بہلاتا میں بے خود ہوگیا اور بانسری کی آواز اور پھیلتی اور پھسلتی چلی گئی۔ پھر میری آنکھ اس وقت کھلی جب میرے سر پر لاٹھی کی ضرب لگی اور رنگی کو کسی نے میرے پہلو سے کھینچا۔ اس کے بعد پھر مجھے ہوش نہ رہا۔ جب ہوش آیا تو خود کو اپنے گھر میں پایا۔ بعد کے واقعات کا تمہیں علم ہی ہے۔ اگر کوئی بات رہ گئی ہو و بتاؤں۔“ رنگا نے سرد دیوار سے ٹکاتے ہوئے کہا۔
"نہیں اب کچھ بتانے کی ضرورت نہیں............میں نے ساری باتیں اچھی طرح سمجھ لی ہیں۔" قامران نے جواباً کہا۔ "اب تم نے کیا سوچا ہے۔۔۔؟"
"میں کیا سوچوں؟ سوچنے کا وقت تو نکل چکا" رنگا نے کہا۔
"اب رنگی سے تمہاری ملاقات کب ہوگی...؟“
"کل شام"
"تمہارا کیا خیال ہے اس سنگین صورت حال کے پیش نظر وہ تم سے ملنے آ سکے گی؟" قامران نے سوال اٹھایا۔ "جب تک اس میں سانس ہے اسے ملنے سے کوئی نہیں روک سکتا"
"اس قدر محبت ہے اےتم سے؟“
"اسے ہی نہیں مجھے بھی اس سے اتنی ہی محبت ہے۔ میری راہ بھی میری موت ہی روک سکتی ہے"
"اس کا مطلب ہے کہ زندہ گاڑ دینے کی دھمکی کے باوجو کل تم رنگی سے ملنے جاؤ گے؟"
"ہاں۔۔جاؤں گا ضرور جاؤں گا۔ مجھے زنده گاڑا جاسکتا ہے لیکن میری محبت کو نہیں۔" رنگا نے بڑے یقین سے کہا۔
"اگر کل تم دونوں کو ہی زندہ گاڑ دیا گیا تو پھر کیا فائدہ ہوگا؟"
"محبت میں فائده کون دیکھتا ہے۔ کامران یہ تو سراسر گھاٹے کا سودا ہے۔" رنگا نے ہنستے ہوئے کہا۔
"کون کہتا ہے کہ محبت گھاٹے کا سودا ہے۔ محبت تو بڑی عظیم شئے ہے میرے دوست ایک گھڑی ہزار سالہ زندگی کے برابر ہے۔ میری خواہش ہے کہ تم دونوں کی کیا صورت شادی ہو جائے۔" کامران نے سوچتے ہوئے کہا۔
"اس جنم میں تو ممکن نہیں۔" رنگا نے مایوسی سے کہا۔
”وجہ......؟"
"وہی غیر نسل غیر ذات کی با تیں میں کالا ہوں تو گورا ہے۔ میں ادنیٰ ہوں تو بڑے قبیلے کا ہے۔ میرے باپ دادا ریگستانوں سے آئے تھے تیرے باپ دادا پہاڑوں سے آئے تھے۔ پھر ہم آپس میں شادی کیوں کریں؟"
”ہاں۔۔۔۔! یہ شادی نہیں ہوسکتی۔" اچانک پشت سے آواز آئی۔ دونوں نے پلٹ کر دیکھا....دروازے میں رنگا کا باپ کھڑا تھا۔ "اگر تو اس لڑکی سے شادی کے خواب دیکھ رہا ہے تو خود کو نیند سے جگا انکھیں کھول لے............میں سردار کاکڑ کے قبیلے کی لڑکی لانے کو تیار نہیں............اور اب میں نے تجھے اس لڑکی سے ملتا دیکھ لیا تو سردار کاکڑ سے پہلے میں خود تجھے زندہ دفن کر دوں گا۔" یہ کہہ کر لال پیلا ہوتا رنگا کا باپ گھر کے اندر چلا گیا۔ "کمبخت نے میری عزت خاک میں ملا کر رکھ دی ہے"
"یہ بزرگ لوگ محبت کے اس قدر دشمن کیوں ہوتے ہیں؟" رنگا نے اپنے باپ کے جانے کے بعد آہستہ سے کہا۔
"اپنے بابا سے بلا کر پوچھ لو کہو تو آواز دوں؟‘‘ کامران نے آنکھ مارتے ہوئےکہا
"بس بس ان کی اتنی ہی گالیاں کافی ہیں۔ اچھا چھوڑو ان باتوں کو کچھ اپنے بارے میں بتاؤ کہ تم نے مجھے کب اور کیسے دیکھا۔۔۔؟" رنگا نے موضوع بدلا۔
"میں بانسری کی آواز سن کرتم تک پہنچا تھا۔ میں نے جب یہ آواز سنی تو بے قرا ہوا اور بے اختیار تمہاری طرف لپکنے لگا۔ رنگا تم بانسری خوب بجاتے ہو۔ اگر رنگی تمہاری بانسری سننا چاہتی ہے تو وہ حق بجانب ہے۔ تمہاری بانسری کی آواز دل میں ٹیسیں اٹھا دیتی ہے۔ آدمی دم بخود ہو جاتا ہے۔تم نے کہاں سے سیکھی یہ بانسری؟“
"کسی سے نہیں...بس خودبخور بجانی آ گئی اور جب سے رنگی ملی تب سے میرے ساز میں ایک کشش پیدا ہوگئی اس میں درد سمو گیا سوز اکٹھا ہوگیا۔ جب میں بانسری بجاتا ہوں تو مجھے اپنا ہوش نہیں رہتا، اردگرد کی خبر نہیں رہتی۔ بند آنکھوں میں رنگی بسی ہوتی ہے اور میری انگلیاں بانسری کے جسم پر رقص کرتی رہتی ہیں اور میرے ہونٹ اسے چومتے رہتے ہیں۔ میرے چاروں جانب رنگ ہی رنگ بکھرے ہوتے ہیں اور میں خود کو فضا میں تیرتا ہوا محسوس کرتا ہوں۔“ رنگا بڑی دارفتگی سے بولنے لگا
کامران بیٹھے بیٹھے کچھ اس طرح چونکا جیسے اڑتی چڑیا ہاتھ میں آ گئی ہو۔
"تمہیں کیا ہوا...؟" رنگا نے اسے چو نکتے دیکھ کر پوچھا۔
"ایک بات دماغ میں آئی ہے۔ اگر تم میرے کہنے پرعمل کرلو تو شاید کام بن جائے۔" کامران کچھ سوچتے ہوئے بولا۔
"کہو" رنگا ہمہ تن گوش ہوگیا۔
"کیا یہ نہیں ہوسکتا ہے کہ تم کل رنگی سے ملنے کا ارادہ ترک کردو؟“
" کیوں...........اس سے کیا فائدہ ہوگا؟“
"میرا خیال ہے کہ بات بڑھنے سے رک جائے گی...سردار کاکڑ تمہیں زنده دفن کی دھمکی دے ہی چکا ہے۔ اپنی دھمکی کو عملی جامہ پہنانے کے لیے وہ تمہیں پاتال میں سے نکال لے گا...میں چاہتا ہوں کہ اس کے مشتعل ہونے سے پہلے ہی اس سے ملاقات کی جائے" "ملاقات..........! یہ مسئلہ ملاقاتوں سے حل ہونے والا نہیں........اگر میں کل رنگی سے ملنے نہ گیا تو کہیں وہ مجھے بزدل نہ سمجھ لے۔“ رنگا نے فکر مند ہوتے ہوئے کہا۔
"آخر پورے مرد ہی نکلے؟"
"کیا مطلب...؟“
" مردوں کو اپنی مردانگی دکھانے کا بڑا شوق ہوتا ہے اور وہ بھی خاص طور سے عورتوں کو" قامران نے ہنستے ہوئے کہا۔
" نہیں، یہ بات نہیں۔"
"پھر کیا بات ہے؟"
"میں نہیں چاہتا کہ وہ تنہا رہ جائے۔“
وہ تنہا رہے گی نہ ہی غلط فہمی میں مبتلا ہوگی اس کا وعدہ میں کرتا ہوں...تم اگر ایک دن صبر سے کام لے جاؤ تو اس بات کے بہت امکانات ہیں کہ رنگی ہمیشہ کے لیے تمہاری ہو جائے گی۔" قامران نے یہ بات بڑے یقین سے کہی۔
رنگا یہ سن کر چونک اٹھا اور اسے حیرت سے دیکھتے ہوئے بولا: "یہ کیسے ممکن ہے کیوں مجھے خواب دکھا کر عذاب میں مبتلا کرنا چاہتے ہو“
"کیا تم اب عذاب میں مبتلا نہیں؟"
"ہاں ہوں لیکن جانتا ہوں کہ اندھیرے میرے مقدر میں لکھ دیئے گئے ہیں تم اجالوں کے خواب دکھا کر کر مجھے پھر سے اندھیروں میں دھکیل دینا چاہتے ہو" رنگا نے چھت کو گھورتے ہوئے کہا
"رنگا تم مجھے ایک دن کا موقع دینے کے لیے بھی تیار نہیں....بڑے افسوس کی بات ہے" قامران نے کسی قد ناراضگی سے کہا۔ "ایسی بھی کیا بے یقینی؟"
"تم کیا کرنا چاہتے ہو....؟ کچھ بتاؤ تو سہی۔‘‘ رنگا آخر راہ راست پر آنے لگا۔
"میں کچھ نہیں بتا سکتا کہ میں کیا کرنا چاہتا ہوں......في الحال اتنا ہی جان لو کہ میں کل سردار کاکڑ سے ملنا چاہتا ہوں۔"
"ٹھیک ہے مل لو لیکن اتنا جان لو کہ وہ کوئی اچھا آدمی نہیں ہے۔ یہ ملاقات تمہیں مشکلوں میں نہ ڈال دے"
"میں ہر مشکل سے گزرنے کی صلاحیت رکھتا ہوں تم میری بالکل فکر نہ کرو" قامران نے رنگا کے ہاتھ کو مضبوطی سے تھامتے ہوئے کہا۔
کچھ دیر بعد رنگا کا باپ اندر سے کھانے پینے کی چیزیں لے آیا اور وہ تینوں بیٹھ کر مزے سے کھانے لگے۔
رات گہری ہوتے ہی کامران نے اپنی ٹانگیں پھیلا دیں اور آنکھیں بند کرکے...تیاریاں کرنے لگا۔ صبح ہوتے ہي قامران نے سردار کاکڑ کی بستی کی طرف رخ کیا۔ اس نے چلتے ہوئے رنگا سے اس کی نشانی لے لی تھی اور پیغام بھی تاکہ وقت ضرورت کام آئے۔ رنگا قامران کا احسان مند تھا جو اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر بچھڑے ہوؤں کو ملانے کی کوشش میں نکل کھڑا ہوا تھا۔
رنگ کے بتائے ہوئے پتے پر چلتے چلتے آخر اسے آبادی کے آثار دکھائی دینے لگے رنگا نے آج تک رنگی کا گھر نہیں دیکھا تھا اور وہ دیکھ بھی نہیں سکتا تھا بس اس نے دور ہی سے اس کی بستی کے نشانات دیکھے تھے۔ اب یہ نشانات قامران کے سامنے تھے۔ وہ بے دھڑک گھوڑی بھگا کر سردار کاکڑ کی بستی میں داخل ہوگیا۔ بستی میں گھستے ہی اس پر مصیبت نازل ہوئی۔ کسی نے اچانک رسی کا پھندا پھینکا اور جھٹکا دے کر کھینچ لیا۔ کامران اس آفت ناگہانی کے لیے تیار نہ تھا۔ وہ سیدھا زمین پر آرہا۔ ابھی وہ سنبھلنے کی کوشش میں ہی تھا کہ کئی مسٹنڈے اس پر ٹوٹ پڑے۔ سنبھلنے کی رہی سہی کثر بھی جاتی رہی۔
"کون ہو تم...؟‘‘ ایک مشٹنڈے نے تحکمانہ لہجے میں پوچھا۔
"کیا یہ سردار کاکڑ کی بستی ہے؟‘‘ سوال کا جواب سوال۔
"ہاں۔“ اس مشٹنڈے نے تیوریاں چڑھاتے ہوئے کہا۔
"میں سردار کا کڑ سے ملنا چاہتا ہوں۔" کامران نے پوری سنجیدگی سے کہا۔
"تم اس سے کیوں ملنا چاہتے ہو؟“
"میں اس سے پوچھوں گا کہ تمہاری بستی میں مہمانوں کے ساتھ کیا یہ سلوک کیا جاتا ہے۔" کامران نے اپنے گرد رسی کو گھورتے ہوئے کہا۔
"اس بستی میں مہمان صرف وہی ہوتا ہے جسے ہم بلائیں کیا تم سردار کاکڑ یا بستی کے کسی فرد کے بلاوے پر یہاں آۓ ہو؟“
"نہیں............. میں تو مسافر ہوں۔“
"تو تم مہمان کیسے ہوئے۔۔؟ مسافر کبھی مہمان نہیں ہوسکتا"
"عجب دستور ہے تمہاری بستی کا۔‘‘ قامران حیران تھا۔" میں مان لیتا ہوں کہ میں بن بلایا مہمان ہوں مسافر ہوں.....پر یہ تو بتاؤ کہ مسافروں کے ساتھ بھی تم یہی سلوک روا رکھتے ہو"
"اس بستی میں مسافروں کے لیے کوئی جگہ نہیں...........کیونکہ اکثر ایسا ہوا ہے کہ مسافر چند دن کی پناہ مانگتا ہے پھر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہماری بستی میں رہ جاتا ہے۔ جو ہماری بستی میں ٹھہر جائے سردار کاکر اسے یہاں رہنے کی اجازت دے دے اسے پھر بستی سے کوئی نہیں نکال سکتا۔ خود جائے تو چلا جائے۔"
میں مسافر ضرور ہوں لیکن تمہاری بستی میں رہائش کے ارادے سے نہیں آیا ہوں۔"
"شروع شروع میں سب یہی کہتے ہیں۔ جب مفت کی خوراک ملنے لگتی ہے تو ہر مسافر اپنی خوراک بھول جاتا ہے اور ہماری خوراک میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ساجھے دار بن جاتا ہے۔"
"میں یہاں صرف تمہارے سردار سے ملنے آیا ہوں۔ میں اس بات کا تم سے وعدہ کرتا ہوں سردار سے ملاقات کر کے میں رات ہونے سے پہلے ہی یہاں سے چلا جاؤں گا اور جب تک یہاں ہوں اپنا کھانا کھاؤں گا۔ میرے پاس وافر مقدار میں خوراک موجود ہے۔“ قامران نے اسے یقین دلانے کی کوشش کی
"اس کا فیصلہ سردار کا کڑ ہی کرے گا تمہیں اسی طرح ہمارے ساتھ چلنا ہوگا۔" اس نے کہا۔
"مجھے تم جس طرح چاہو لے چلو" پھر ان مسٹنڈوں نے کامران کو اسی طرح بند ھے بندھے اٹھا لیا اور تیز تیز ایک طرف کو چلتے گئے۔ ایک مسٹنڈا ابلا کی لگام پکڑے لیے آ رہا تھا۔ کافی دیر چلنے کے بعد بھی سردار کاکڑ کی رہائش گاہ نہ آئی بلکہ آبادی ہی ختم ہوگئی اور وہ لوگ ایک چھوٹے سے میدان میں آ نکلے۔ اس میدان کے بیچ بڑا سا چبوترا تھا اور اس میں ایک مضبوطی بلی گڑی ہوئی تھی۔
"تم لوگ مجھے کہاں لے آئے ہو؟‘‘ کامران نے احتجاج کرتے ہوئے کہا۔
"خاموش رہو....اگر زیادہ بولو گے تو سردار کاکڑ کی ملاقات سے محروم ہو جاؤ گے۔"
"کامران نے پھر خاموشی اختیار کر لی اور خود کو حالات کے دھارے پر چھوڑ دیا۔ ان مشٹنڈوں نے اسے چبوترے پر چڑها کر بلی کے سہارے کھڑا کر کے رسیوں سے جکڑ دیا، پھر انہوں نے آپس میں کوئى بات کی اور اس مشاورت کے نتیجے میں دو مشٹنڈے بستی کی طرف روانہ ہو گئے۔ بقیہ آدمی چبوترے پر اس طرح بیٹھ گئے جیسے انہیں کسی چیز کا انتظار ہو۔ اپنے مالک کو بند ھے دیکھ کر ابلا زور زور سے ہنہنانے لگی۔ کامران نے اپنے منہ سے تیز تیز آوازیں نکال کر اسے دلاسہ دیا۔ تب وہ سر ڈال کر آرام سے کھڑی ہوگئی۔
تھوڑی دیر میں کامران کو سامنے سے ایک بہت لمبا مگر سوکھا سڑا سا آدمی آتا ہوا نظر آیا۔ اس کے آگے پیچھے وہ دونوں مشٹنڈے تھے اور اس کے کانوں میں چاندی کے بڑے بڑے بالے پڑے تھے۔ کامران کو سمجھنے میں دیر نہ لگی کہ وہ سردار کاکڑ کے سوا کوئی اور نہیں۔
سردار کاکڑ چھلانگ مار کر چبوترے پر چڑھا۔ اس نے پہلے بغور قامران کا معائنہ کیا اور اسے عجیب نظروں سے دیکھتے ہوئے مخاطب ہوا "اپنا ہاتھ لاؤ"
پھر اس کے ہاتھ رسی سے آزاد کر دیئے گئے۔ کامران نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا۔ خلاف توقع سردار کاکڑ نے اس سے ہاتھ ملانے کے بجائے اپنی انگلیاں اس کی نبض پر رکھ دیں اور چند لمحوں بعد بولا: "کون ہوتم؟"
"ایک مسافر“
"نام"
”قامران۔“
"یہاں کیوں آئے ہو؟“ سردار کاکڑ تم سے ملنے۔“
”مجھ سے ملنے۔" سردار کاکڑ نے پر اس کی نبض سے ہاتھ ہٹا لیا اور مسکراتا ہوا بولا۔ "بظاہر تو تم سچے دکھائی دیتے ہو" پھر اس نے اپنے ایک مسٹنڈے کو کامران کی رسیاں کھولنے کا حکم دیا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا جدھر سے آیا تھا ادھر ہی چلا گیا۔
"نو جوان...! تم بڑے خوش قسمت ہو کہ بچ نکلے ورنہ یہاں آنے والا مسافر مشکل سے یہاں سے بچتا ہے"
قامران جواب میں صرف مسکرا کر رہ گیا۔ ان مسٹنڈوں نے جلدی جلدی کامران کو کھولا اور احترام کے ساتھ گھوڑی پر بٹھا دیا۔
پھر ایک مسٹنڈے نے ابلا کی لگام پکڑی اور وہ بستی کی طرف چلے گئے۔ سردار کی رہائش گاہ پر پہنچ کر کامران ابلا سے کود پڑا۔ اسے اندر لے جایا گیا اور ایک جگہ بٹھا دیا گیا. اس کمرے میں کوئی نہ رہا۔ کچھ دیر انتظار کے بعد سردار کا کڑ اندرونی دروازے سے برآمد ہوا اور تیز تیز کامران کی طرف بڑھا۔ کامران اسے دیکھ کر احتراماً کھڑا ہوگیا۔ سردار کاکڑ نے نزدیک آ کر قامران سے ہاتھ ملایا اور تین بار زور سے جھٹک کر چھوڑ دیا۔ ان جھٹگوں نے کامران کو پورا ہلا دیا۔ تب قامران کو اندازہ ہوا کہ اس ہڈی کے ڈھانچے میں کتنی جان ہے۔
"بیٹھو نوجوان" سردار کا کڑ کے لہجے میں اب تحکم نہ تھا۔
قامران چاروں طرف نظریں دوڑاتا آرام نے بیٹھ گیا۔ اسے کسی کھڑکی کسی جھروکے سے کوئی من موہنی صورت دکھائی نہ دی۔
"اب کہو نوجوان..تم ہم سے کیوں ملنا چاہتے تھے؟“
ابھی کامران سوچ ہی رہا تھا کہ بات کہاں سے شروع کرے کہ اتنے میں ایک مسٹنڈا اندر داخل ہوا اور سردار کا کڑ کے نزدیک آ کر بولا: "سردار.......رنگا کے بارے میں کیا حکم ہے؟"
"وہی جو کل تھا۔" سردار کاکڑ نے اپنی پیشانی پر بل ڈال کر کہا۔ ”اپنے آدمی چپے چپے پر پھیلا دو۔ جہاں بھی رنگا دکھائی دے جائے اسے اٹھا لاؤ.... پھر میں دیکھوں گا کہ اسے کون موت کے منہ سے نکالتا ہے۔"
"ٹھیک ہے۔" یہ کہہ کر مشٹنڈا مڑا اور تیزی سے باہر نکل گیا۔
"پیدا ہوتے نہیں ہیں عشق کرنا شروع کر دیتے ہیں۔" سردار کاکڑ زيرلب بڑبڑایا۔
"کیا ہوا سردار۔۔۔ یه عشق کا کیا سلسلہ ہے؟" تامران نے بڑے بھولپن سے پوچھا۔
"غیر ذات کے ایک لڑکے نے پریشان کر رکھا ہے. و کمبخت میری بیٹی کے پیچھے پڑا ہے۔"
" اور تمہاری بیٹی"
"وہ معصوم اور بھولی بھالی ہے۔"
"میرا مطلب تھا اس لڑکے میں اسی کی دلچسپی کسی حد تک ہے؟"
"سچی بات تو یہ ہے کہ میری بیٹی رنگی اس لڑکے سے زیادہ اس کی دیوانی ہے۔" سردار کاکڑ نے کہا۔ "شام ہوتے ہی کسی نہ کسی طرح بستی سے نکل جاتی ہے۔"
"پھر قصور وار وہ اکیلا تو نہ ہوا۔ پکڑے جانے پر کیا سزا دونوں کو ملے گی؟“ قامران نے سیدھی مطلب کی بات پوچھی۔
"نہیں سزا صرف اسی لڑکے کو ملے گی...میری بیٹی بڑی نازک اور پھولوں کی طرح شاداب اور پیاری ہے۔ سردار کاکڑ نے سنجیدگی سے کہا۔
"وہ بھی تو کسی کو پیارا ہوگا؟" کامران نے سوچا لیکن زبان سے کچھ نہ کہا۔
وہ سردار کاکڑ سے الجھنا نہیں چاہتا تھا۔ کچھ دیر وہ دونوں خاموش بیٹھے رہے۔
"ہاں نوجوان تم اپنی کہو" سردار کاکڑ گویا ہوا۔
"سردار کاکڑ میں اپنے علاقے سے سونے کی تلاش میں نکلا تھا۔ دنیا کی خاک چھانتا آخر ان بتوں تک جا پہنچا ہوں جن میں بے شمار سونا بھرا ہوا ہے۔“
اتنا کہہ کر قامران قصداً رک گیا۔ وہ سردار کاکڑ کا ردعمل دیکھنا چاہتا تھا۔ دولت انسان کی سب سے بڑی کمزوری ہے ۔ اس کی بدولت جہاں انسان خود خوار ہوتا ہے وہاں دوسرے کو خوار بھی کرسکتا۔
سونے کا ذکر سن کر سردار کاکڑ کامران کے نزدیک کھسک آیا۔ اس کے چہرے سے خوشی ٹپکنے لگی اور وہ لمبے لمبے سانس لے کر بولا: ”تو جوان....! کہاں ہیں وہ بت جن میں سونا بھرا ہوا ہے۔ جلی سے بتاؤ“
"وہ بت یہاں سے زیادہ دور نہیں۔“ کامران نے مسکراتے ہوئے کہا۔
"سردار میں چاہتا تم سونا نکالنے میں میری مدد کرو"
"ضرور..........ضرور......نوجوان............یہ بتاؤ تم نے یہاں کسی اور سے تو سونے کا ذکر نہیں کیا"
"نہیں اب میں اتنا کچا بھی نہیں۔"
"خوب، خوب......قامران.......ہم کب سونا نکا لنے وہاں چلیں گے۔“
"سونا نکالنے سے پہلے میں وہ جگہ تمہیں دکھانا چاہتا ہوں صرف جگہ اتنا یاد رکھو کہ تم میرے بغیر وہاں سے سونا نہیں نکال سکو گے۔"
"مجھے نکالنے کی ضرورت بھی نہیں...........بتاؤ پھر ہم وہاں کب چلیں گے۔"
"کل صبح" قامران نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
"اوہ۔۔۔صبح تو بہت دور ہے۔۔۔۔نوجوان ابھی کیوں نہیں چلتے" سردار کاکڑ کی حالت قابل دید تھی
سردار کاکڑ کی حالت دیکھ کر اب کامران کو کام نے کی امید ہو چلی تھی۔
"صرف ایک رات درمیان میں ہے سردار صبر کرو صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے" کامران نے اس کی بے قراری سے لطف اندوز ہوتے ہوئے کہا۔
"صبر نہیں ہوتا کامران، مجھے ابھی وہاں لے چلو"
"چلو ٹھیک ہے تم بھی کیا یاد کرو گے ابھی چلو نکالو گھوڑا۔“ سردار کا کڑ یہ سن کر بے اختیار اچھل پڑا اور بڑے جوش سے کامران سے لپٹ گیا۔ قامتان نے بڑی مشکل سے اس کیکڑے سے اپنی جان بچائی۔
تھوڑی دیر بعد وہ دونوں کالے دریا کے کنارے کھنڈروں کی طرف بڑھتے چلے جا رہے تھے۔ دوپہر کو وہ ان کھنڈروں میں گئے۔ کامران نے سردار کاکڑ کو تہہ خانے کے باہر کھڑا کیا اور خود تیزی سے سیڑھیاں اترتا اندر چلا گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد جب وہ واپس آیا تو اس کے ہاتھ میں سونے کے بڑے بڑے ٹکڑے تھے۔ اس نے وہ چمکتے ٹکڑے سردار کا کڑ کے ہاتھ پر رکھ دیے اور بو لا "یہ دیکھو"
سونا دیکھ کر سردار کاکڑ پر نشہ سا سوار ہوگیا۔ وہ جھومتا ہوا بولا: ”تم کہاں سے لائے وہ بت کہاں ہیں؟“ "آؤ............میرے ساتھ تمہیں وہ بت بھی دکھا دوں“
پھر کامران نے اسے تہہ خانے سے گزار کر دلدل سے گھرے ان بتوں کا نظاره کرایا یہ تو بہت بڑے بڑے ہیں.............ان میں تو بے شمار سونا ہوگا۔
”ہاں بے شمار.......اور یہ سب سونا تمہارا ہوسکتا ہے لیکن ایک شرط پر"
شرط بتاؤ............میں سونا حاصل کرنے کے لیے تمہاری ہر شرط پوری کرنے کے لیئے تیار ہوں"
"بس پھر ٹھیک ہے۔ اب واپس چلو بستی میں وہیں بات ہوگی۔" سردار کا کڑ نہ چاہتے ہوئے بھی گھوڑے پر سوار ہو گیا اور بے دلی سے بستی کی طرف چلنے گا۔
وہ سورج چھپنے سے پہلے بستی میں پہنچ گئے۔ ابھی بستی میں داخل ہوئے ہی تھے کہ ایک بھاگتا ہوا نزدیک آیا اور بڑے فخر سے بولا۔
"سردار رنگا کو ہم نے پکڑ لیا ہے۔"
"کہاں ہے وہ خبیث"
"وہ ادھر میدان میں“ سردار کاکڑ نے اپنے گھوڑے کو زور سے ایڑ لگائی۔ نتیجے میں کامران نے بھی ابلا کو اشارہ کیا۔ جب وہ دونوں میدان میں پہنچ تو کامران نے جب منظر دیکھا۔
رنگا چبوترے پر بلی سے رسیوں سے جکڑا ہوا تھا اور چبوترے کے نیچے چند مسٹنڈے زمین کھودنے میں مصروف تھے۔
کامران نے بڑی حیرت سے رنگا کی طرف دیکھا۔ اسے اس سے وعدہ خلافی کی ہرگز امید نہ تھی رنگا نے ایسا آخر کیوں کیا۔۔۔؟ قامران نے سوچا۔
رنگا نے اپنا جھکا ہوا سر اٹھایا اسے خالی خالی نظروں سے دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں نہ شرم نہ ندامت نا الجھن۔
کامران نے سوچا آگے بڑھے اور اس سے پوچھے کہ اس نے وعدہ خلافی کیوں کی۔۔۔۔؟ وہ گھر سے کیوں نکلا تھا جبکہ اس نے رنگی سے آج نہ ملنے کا وعدہ کرلیا تھا۔ پھر وہ کچھ سوچ کر رک گیا۔ وہ ابھی رنگا سے اپنا تعلق ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا۔ تب قامران نے اس سے نظریں چرالی اجنبی بن گیا۔
پھر قامران کو خیال آیا کہ سردار کاکڑ کیونکہ بستی میں نہ تھا اس موقع سے رنگی نے فائدہ اٹھانے کی سوچی ہوگی اور وہ رنگا سے ملنے نکل کھڑی ہوئی۔ ادھر رنگا جس نے رنگی سے نہ ملنے کا وعدہ کر لیا تھا وقت مقررہ پر بے چین ہو اٹھا ہوگا۔ اس کے ہونٹ بانسری کو منہ سے لگانے اور اس کے بدن پر انگلیاں رقصاں کرنے کے لیے کھل اٹھے ہوں گے۔ اور وہ یوں ہی اپنی بستی سے نکل کر کسی درخت کے نیچے بانسری سے کھیلنے بیٹھ گیا ہوگا۔ آخر رنگی ڈھونڈتی ڈھانڈتی بانسری کی آواز پر اس کے پاس جاپہنچی ہوگی اور ابھی وہ دونوں کوئی بات بھی نہ کر پاۓ ہوں گے کہ سردار کا کڑ کے مشٹنڈے ان پر کود پڑے ہوں گے اور یوں کھیل ختم ہوگیا ہوگا...رنگا سے وعدہ خلافی ضرور رنگی نے کروائی ہوگی۔ کامران نے اپنا دل بہلایا۔
رنگا کو بلی سے بندھے دیکھ کر سردار کاکڑ اچانک غضب میں آ گیا۔ وہ اچھل کر چبوترے پر گیا اور رنگا کے نزدیک بپہنچ کر اس نے ایک زور دار ہاتھ مارا کہ درنگا کا چہرہ پھر گیا اور اس کے بائیں گال پر سردار کاکڑ کی پانچوں انگلیاں ابھر آئیں۔
"ذلیل...کتے تجھے آخر تیری موت یہاں تک لے ہی آئی۔“ سردار کاکڑ نے دانت پیستے ہوئے کہا۔
پھر وہ اپنے ایک مسٹنڈے سے مخاطب ہو کر بولا۔ "اس عاشق کے بچے کو زندہ زمین میں گاڑ کر اس پر کتے چھوڑ دو اور رنگی کو اس کا تماشا دکھاؤ" یہ کہہ کر سردار کاکڑ چبوترے سے اترا اپنے گھوڑے پر سوار ہوا اور کامران کی طرف اشارہ کے بولا: "آؤ قامران چلیں۔"
کامران نے چلتے ہوئے رنگا پر نظر ڈالی اور نظروں ہی نظروں میں اسے پریشان نہ ہونے کا حکم دیا۔ رنگا کچھ سمجھا، کچھ نہ سمجھا۔
تمام اردو کہانیاں پڑھنے کے لیے کلک کریں
سفید محل - پارٹ 15
Urdu stories online, Urdu stories for kids, Short Urdu stories, Urdu Kahaniyan, Famous Urdu stories, Urdu stories with moral, Best Urdu stories collection, Urdu stories for students, Urdu love stories, Urdu horror stories, Urdu stories for reading, Urdu stories in Urdu text, Funny Urdu stories, Urdu stories for beginners, Urdu detective stories, Urdu motivational stories, Urdu stories for adults, Urdu moral stories, Urdu stories for children, Urdu true stories, Urdu suspense stories, Urdu emotional stories, Urdu adventure stories,
hindi moral stories in urdu,سبق آموز کہانیاں, jin-ki-dushmni,good moral stories in urdu,Moral Stories,Urdu Stories,urdu kahani,اردو کہانی,قسط وار کہانیاں,