صحرا پار کرتے ہی کامران کو احساس ہو گیا کہ اس کے ساتھ کیا ہونے والا ہے صحرائے سرخ شروع ہو چکا تھا۔ ابھرتے سورج کی لال کرنوں نے صحرا میں خون بکھیر دیا تھا ۔ صحرا کی ریت پہلے ہی کیا کم سرخ تھی کہ ابھرتے سورج کی لالی نے جلتی پر تیل کا کام کر دکھایا تھا۔ صحرا میں ہر طرف ایک آگ کی تھی۔ ایسی آگ جو ہنستے مسکراتے انسانوں کے کلیجے کاٹ لیا کرتی تھی۔ صحرائے سرخ دراصل موت کا دوسرا نام تھا اور موت بھی بڑی اذیت ناک۔ سب سے آگے چلنے والے اونٹ سوار نے اپنے ساتھیوں کو رکنے کا اشارہ کیا۔ اشاره ملتے ہی اس کے ساتھیوں نے جو تعداد میں تین تھے اپنے اپنے اونٹوں کی نکیلیں ڈھیلی چھوڑ دیں۔
سرخ غبار آہستہ آہستہ چھٹنے لگا۔ اب چاروں اونٹ سواروں نے اپنے اونٹوں کو بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ ان اونٹوں کے ساتھ پانچواں اونٹ بھی بیٹھ گیا جس پر کوئی سوار نہ تھا۔ کامران اس پانچویں اونٹ کے پاس چمڑے کے ایک بہت بڑے تھیلے میں بندھا اونٹ کے بائیں جانب لگا ہوا تھا ۔ دائیں جانب اتنے ہی بڑے چمڑے کے تھیلے میں کامران کے وزن کا ایک پتھر لٹکا ہوا تھا تا کہ اونٹ کو چلنے میں کوئی دشواری نہ ہو ۔ قامران کے ہاتھ اور پاؤں رسیوں سے جڑے ہوئے تھے اور وہ چمڑے کے تھیلے میں اس طرح بیٹھا تھا کہ جی چاہنے پر باہر کا منظر بآسانی دیکھ سکتا لیکن یہ رعایت صرف اس وقت حاصل ہوتی تھی جب ان کا چھوٹا سا قافلہ آبادیوں سے دور تپتے صحراؤں سے گزر رہا ہو ۔ آبادی سے گزرتے وقت اس تھیلے کا منہ بند کر دیا جاتا تھا اور تھیلے سے پہلے اس کا منہ بند کر کوئی نہیں بھولتا تھا۔ وہ سات دن کے سفر کے بعد صحرائے سرخ پہنچے تھے ۔ غربان کا علاقہ دور بہت دور افق کے پار جانے کہاں رہ گیا تھا ۔ کامران نے اپنے بزرگوں سے صحرائے سرخ کا نام سن رکھا تھا ۔ صحراۓ رخ کے بارے میں عجیب و غریب قصے مشہور تھے مشہور تھے ۔ کل کے قصے آج حقیقت کا روپ دھار گئے تھے ۔
سرخ صحرا لال زبان نکالے ان کے سامنے لیٹا تھا اور کہیں دور سے موت کے فرشتے کے پروں پھڑ پھڑاہٹ سنائی دے رہی تھی ۔ چمڑے کا تھیلا جس میں کامران کو بٹھایا گیا تھا اونٹ سے کھولا گیا اور دو آدمیوں نے اس تھیلے کو اٹھا کر اس طرح پلٹ دیا جیسے تھیلے میں آلو بھرے ہوں ۔ کامران سر کے بل ریت پر گرا ۔ اس کا سر پیشانی تک ریت میں دھنس گیا ۔ پھر وہ ایک طرف لڑھک گیا ۔ جہاں جہاں اس کے ننگے بدن پر ریت کے ذرات لگے اس کے جسم پر چیونٹیاں سی کاٹنے لگیں
صحرائے سرخ کی ریت میں مرچیں بھری تھیں
کر چنا ادھر آؤ ایک آدمی نے سخت لہجے میں پکارا ۔
آقا میں حاضر ہوں۔
کرچنا اس آدمی کے سامنے آیا اور مودبانہ کھڑا ہوگیا جس کے سر پر سرخ رومال بندها تها۔
"میخیں نکالو۔ جلدی کرو وقت کم ہے ۔ “ سرخ رومال والے نے حکم دیا۔ وقت کے پیش نظر کر چنا نے بڑی تیزی سے ڈیڑھ ڈیڑہ گزلمبے لکڑی کے مضبوط کھونٹے کھولے۔ چاروں کھونٹوں کو کندھے پر رکھے ہاتھ میں ایک بڑا سا لکڑی کا ہتھوڑا لے کر پھر سے سرخ رومال والے کے سامنے آ کھڑا ہوا۔ سرخ رومال والے نے چند قدم آگے جا کر زمین پر پاؤں مارا اور بولا۔
"یہاں گاڑو"
کرچنا نے اپنے دونوں ساتھیوں کو بھی بلا لیا اور یوں کام تیزی سے ختم ہونے لگا۔ جلد ہی چاروں کونوں کو مستطیل کی شکل میں گاڑ دیا گیا۔ سرخ رومال والے نے چاروں کھونٹوں کو جو اب دو دو بالشت اوپر تھے مضبوطی کا اندازہ لگایا اور پھر حکم ہوا۔
"رسیاں باندھ دو"
چاروں کھونٹوں میں بڑی مضبوط رسیاں باندھی گئیں
اتنی مضبوط جنہیں چار اونٹ بھی مل کرنہ توڑسکیں۔
پھر کامران کو ریت پر لٹا دیا گیا اور اس کے ہاتھ پاؤں کھونٹوں سے باندھ دیئے گئے ۔ اس طرح کہ وہ ریت کی صلیب پر چڑھا دکھائی دیتا تھا۔
جب وہ چاروں جلاد اسے ریت کی صلیب پر چڑھا رہے تھے تو کامران نے گڑ گڑا کر اس سرخ رومال والے سے جس کے ہاتھ میں تیر کمان تھا درخواست کی تھی
"تمہیں ملکہ شاطو کی قسم مجھے تیروں سے چھید دو مگر صحراۓ سرخ کے حوالے نہ کرو۔"
اس پر سرخ رومال والے نے فلک شگاف قہقا لگایا تھا اور اس کی رحم کی اپیل کے جواب میں مٹھی بھر ریت اس کی آنکھوں میں جھونک دی تھی۔
آنکھوں میں ریت پڑتے ہی کامران بلبلا اٹھا تھا۔ ریت اس کی آنکھوں میں سوئیاں چبھو رہی تھی اور وہ اپنی آنکھوں کو ملنے سے قاصر تھا۔
"ہائے بیچارگی۔"
ملکہ شاطو کی قسم ہم نے اپنا فرض پوری ایمانداری سے چکا دیا۔ اب ہم چلتے ہیں۔ "نقارہ کوچ بجا"
"ٹھہرو مجھے تھوڑا سا پانی تو دے جاؤ۔" کامران نے کہا۔
اسے یہ بھی خیال نہ رہا کہ فرض کرو وہ پانی کی چھاگل اس کے لیے چھوڑ بھی جائیں تو وہ پانی پیئے گا کیسے۔
اس کے ہاتھ پاؤں تو بندھے ہوئے ہیں۔ اتنے سخت کہ وہ اٹھ کر بیٹھ بھی نہیں سکتا۔
" پانی۔" سرخ رومال والے نے تمسخرانہ انداز میں کہا۔ " ہم تمہارے لیے ایک خیمہ کیوں نہ نصب کر جائیں۔
اچھا مجھے تھوڑا سا پانی ہی دیتے جاؤ ۔ " اس نے بمشکل اپنی آنکھیں کھولیں۔
کر چنا اسے پانی دو سرخ رومال والے نے مسکرا کر آنکھ ماری۔ اور جب کرچنا اس کی ٹانگوں کے درمیان آ کر کھڑا ہوا تو کامران اس کا ارادہ بھانپ چکا تھا۔
وہ چلایا مگر لاحاصل پانی کی موٹی دھار اس کے منہ پر گر رہی تھی اور وہ سخت کراہت محسوس کر رہا تھا۔
وہ چاروں خوشی میں اپنی بغلیں بجا بجا کر اس بات کا اظہار کر رہے تھے۔ سرخ رومال والے نے اپنی تیر کمان سنبھالی تیر چڑھایا اور تیز تیز چلنے لگا۔ کچھ دور جا کر رک گیا۔ کامران کی طرف رخ کیا اور نشانہ باندھ کر تیر چھوڑا۔ تیر سنسناتا ہوا آیا اور کامران کی ٹانگوں کے درمیان ریت میں دھنس گیا۔
سرخ رومال والے کو تیر کمان سنبھالتے دیکھ کر کامران نے اپنی جلتی آنکھوں میں ٹھنڈک میں کی تھی کہ چلو تیر کی نوک سے رشتۂ جاں ٹوٹا۔
ایک بار کی اذیت سسک سسک کر مرنے سے کہیں بہتر تھی لیکن سرخ رومال والے کا تیر نجات دہندہ ثابت نہ ہوا۔ نشانہ چوک گیا یا تیر انداز نے جان کر تیر کو سیدھا نہ رکھا۔ ایک اور تیر چلا "مجھے مار دو۔ میں مرنا چاہتا ہوں۔ "
“ قامران نے موت کو پکارا۔ سرخ رومال والے نے اس کی فرمائش پر ایک اور تیر چلایا جو اس کے کان کے پاس ریت میں دھنس گیا۔
موت کا فرشتہ اب بھی دور کھڑا مسکرا رہا تھا۔ سرخ رومال والے نے پہلے ٹانگوں کے درمیان سے تیر کھینچا پھر کان کے پاس سے تیر نکالتے ہوئے طنزاً مسکرایا اور پھنکارنے کے انداز میں بولا ۔
" ملکه شاطو کی قسم ! تمہاری موت میرے ہاتھوں نہیں لکھی ورنہ صحرائے سرخ کا سفر کرنے کی کیا ضرورت تھی۔
“ تیر ترکش میں رکھ کر سرخ رومال والے نے کوچ کا اشارہ کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ چاروں اونٹ سوار ریت کے بادل اڑاتے ہوئے انھی بادلوں میں گم ہو گئے۔ تھوڑی دیر میں جب ریت بیٹھی تو دائیں بائیں اور اوپر نیچے جہاں بھی اس نے نظر گھمائی ریت کے سوا کچھ نہ دکھائی دیا۔ کسی انسان کا تو سوال ہی نہ تھا
آسمان بھی پرندوں سے خالی تھا۔ گہرا نیلا - آسمان سرخ ریت۔ عجیب و غریب منظر تھا۔ اگر وہ ریت کی صلیب پر نہ چڑها ہوتا تو اس منظر سے ضرور لطف اندوز ہوتا۔ اب سورج سر پر آ گیا تھا۔ وہ آگ برسا رہا تھا۔ اتنی گرمی تھی۔ ریت بے انتہا گرم ہو چکی تھی۔ کامران خود کو آگ پر لیٹا ہوا محسوس کر رہا تھا۔ اس کا جسم دھوپ اور ریت کی گرمی سے جلنے لگا تھا۔ آنکھیں الگ جل رہی تھیں۔ کامران کو اس انداز سے باندھا گیا تھا کہ وہ ایک انچ بھی ادھر سے ادھر نہیں ہوسکتا تھا
اس کا جسم پسینے سے شرابور تھا
اور سرخ ریت جسم پر گر کر آگ لگا رہی تھی۔ اس کا حلق خشک ہو چکا تھا۔ اس نے کل شام پانی پیا تھا۔ پانی کیا پیا تو بس دو گھونٹ پانی بھی منت سماجت سے اسے ملا تھا۔ وہ بار بار تھوک نگل رہا تھا۔ اس عمل سے اسے چند سماعت کے لیے اطمینان سا ملتا تھا اور پھروہی حلق میں کانٹے پڑنے لگتے تھے۔
شام ہوتے ہوئے اس کے ہونٹوں پر پیڑیاں جم گئیں۔ زبان پر کانٹے پھوٹ پڑے۔ حلق خشک ہو گیا۔
ایک بار کامران نے خود کو آزاد کرانے کے لیے زور سے جھٹکے لگائے۔ ایسا وہ کئی بار کر چکا تھا مگر لا حاصل۔ جھٹکے لگنے سے اس کے ہاتھ اور پاؤں پر زخم پڑ گئے تھے کیونکہ رسی بے حد کھردری تھی بے حد مایوس ہو کر اس نے ہاتھ پاؤں ڈھیلے چھوڑ دیئے اور ڈوبتے سورج پر نظریں جما دیں۔ دھیرے دھیرے سورج اپنی تمازت کھورہا تھا۔
یہاں تک کہ وہ ریت کے سرخ سمندر میں اپنا وجود گم کر بیٹھا ہر ہر سو اندھیرا پھیل گیا۔ یہ اندھیرا اس کے دل میں پھیلے اندھیرے سے مختلف نہ تھا۔
آہستہ آہستہ رات اپنی زلف کھول رہی تھی۔ رات کا چہرہ چاند کی صورت میں نور بکھیرنے لگا تھا۔
صحراے سرخ کی حدت میں کمی آرہی تھی۔ ریت ٹھندی ہوتی جاری تھی۔
ہوا جو اب تک بڑے سلیقے اور شائستگی سے چل رہی تھی اچانک کسی منہ زور گھوڑی کی طرح بھڑک اٹھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے تیز ہوا کے جھکڑ چلنے لگے اور بھاری طوفان کا پتہ دینے لگے۔
کامران نے گھبرا کر چاروں طرف نظریں دوڑا ئیں۔
ہر سو ریت ہی ریت تھی۔ زمین سے آسمان تک
صحرا کے طوفان تو ویسے بھی خطرناک ہوتے تھے
چلتے ہوئے قافلے ریت کے سمندر میں دب کر اپنا وجود کھو بیٹھتے تھے۔
وہ تو جکڑا ہوا تھا ریت کا طوفان اسے بڑی آسانی سے دفن کرسکتا تھا۔
اور ہُوا بھی یہی۔ آناً فاناً ریت کا ایک ٹیلا اڑا اور بارش کی طرح اس پر برسنے لگا۔
تھوڑی ہی دیر لگی ہوگی کہ کامران سرتاپا ریت میں چھپ گیا۔ دھیرے دھیرے اس کے سینے پر ریت کا وزن بڑھتا جا رہا تھا۔
اب تو وہ سانس لینے سے قاصر تھا۔ اس پر غشی طاری ہونے لگی تھی۔
یہاں تک کہ وہ ہوش گنوا جب ہوش و حواس قائم ہوئے تو اس نے محسوس کیا کہ وہ آسانی سے سانس لے سکتا تھا۔
اس کے جسم پر ریت کا دباؤ بھی نہ تھا۔
پھر اس نے یہ بھی محسوس کیا کہ اس کا سر کسی کے ریشمی زانو پر رکھا ہے اور کوئی آہستہ اس کا سر دبا رہا ہے۔
اس نے گھبرا کر آنکھیں کھول دیں۔ وہاں کوئی نہ تھا لیکن کسی کنوارے جسم کی خوشبو ابھی تک پھیلی ہوئی تھی۔
چاند پوری آب و تاب سے اس کے سر پر چمک رہا تھا۔ ٹھنڈی ہوا بہہ رہی تھی۔ اس نے اپنے ہاتھ پاؤں ہلا کر اپنے اوپر پڑی ہوئی ریت نیچے گرا دی یہ معجزہ ہی تھا کہ وہ زندہ بچ گیا تھا۔
شدید ہوا کے کسی مہربان جھونکے نے اس پر پڑی ہوئی ریت بڑی صفائی سے صاف کر دی تھی
طوفان گزر چکا تھا اور ہر طرف چاندنی کے ساتھ سکون پھیلا ہوا تھا
نیلابو....!
اسے بڑی شدت سے نیلا بو یاد آ گئی۔ اس کی بیوی حسین اور معصوم۔
سات سال پہلے جب وہ دونوں ہاتھ میں ہاتھ ڈالے چاندنی راتوں کو پہاڑوں اور جھرنوں کی سیر کیا کرتے تھے تو کتنا لطف آتا تھا۔
ابھی تو ان کی شادی بھی نہیں ہوئی تھی۔ وہ ایک دوسرے کو دل و جان سے چا ہتے تھے لیکن یہ چاہت قبیلے کے رسم و رواج کو پامال کرنے کے مترادف تھی۔ یرکان قبیلے میں عشق ایک ہولناک مرض کی علامت تھا۔
یہاں لڑکی کے بالغ ہوتے ہی جب وہ بارہ سال کی ہو جاتی تھی سوئمبر کی رسم کا اعلان کر دیا جاتا تھا اور یوں اسے عشق میں مبتلا ہونے سے بچانے کی کوشش کی جاتی تھی۔
چاند کی تیرہویں کو پورے قبیلے میں منادی کر دی جاتی تھی کہ آج رات کو فلاں بنت فلاں کا سوئمبر رچایا جا رہا ہے لہٰذا شادی کے خواہش مند نوجوان سوئمبر میں شرکت کر کے ایک عدد خوبصورت لڑکی حاصل کریں۔
اب لڑکی کی خوبصورتی پر منحصر تھا کہ اس کے سوئمبر میں کتنے نوجوان اپنی جان جوکھوں میں ڈالنے کے لیے تیار ہیں۔
مشکل یہ تھی کے یرکان قبیلے کی لڑکیاں ایک سے ایک ہوتی تھیں اس لیے ہر لڑکی کے سوئمبر میں یہ لمبی قطار لگ جاتی تھی۔
ہر لڑکی کا سوئمبر مختلف انداز کا ہوتا تھا اور سوئمبر کی شرط لڑکی کا باپ مقرر کرتا تھا۔
سوئمبر کی آزمائش میں کامیاب ہونے والے لڑکے کی اسی رات شادی کر دی جاتی تھی اور قبلے کی رسم کے مطابق لڑکی کے بجائے لڑکا لڑکی کے گھر رخصت ہو کر چلا جاتا تھا۔
اس قبیلے میں ولدیت بھی باپ کی بجائے ماں کے نام سے چلتی تھی۔
نیلابو اور کامران کی محبت ابھی عشق میں تبدیل نہ ہو پائی تھی کہ اس کے باپ نے سوئمبر کی تاریخ مقرر کر دی۔
پورے قبیلے میں منادی کرا دی گئی۔ نیلابو پھولوں کی شہزادی تھی جس پر قبیلے کے کئی جوانوں نے نظریں جمائی ہوئی تھیں۔
وہ انگڑائیاں لے کر اٹھ بیٹھے اور خود کو مقابلے کے لیے تیار کرنے لگے
سوئمبر کی رات بارہ بجے نیلابو کو سجا بنا کر ایک گھوڑی پر بٹھا دیا گیا
اور دو آدمی گھوڑی کی لگام پکڑ کر کھڑے ہوگئے۔
تب ایک سفید گھوڑے پر نیلابو کا باپ نمودار ہوا اور اس نے سوئمبر کی شرط کا اعلان کر دیا۔
شرط کا اعلان سن کر نیلا بوکو سانپ سونگھ گیا۔
اس نے سہمی سہمی نظروں سے کامران کو دیکھا جو مقابلے میں شریک نوجوانوں کی قطار میں سب سے آگے کھڑا تھا۔
اس نے شرط سن کر اپنا سینہ تان لیا اور نیلاہو کی طرف دیکھ کر پر عزم انداز میں مسکرایا
یرکان قبیلے کی حکمران ملکه شاطو کے پاس ایک بدمزاج گھوڑی تھی جس پر آج تک کوئی سواری نہیں کر سکا تھا
ملکہ شاطو خود بہت اچھی گھڑ سوار تھی۔
اس کے پاس دنیا کے بہترین گھوڑے موجود تھے۔
وہ اس ابلا گھوڑی کو دل وجان سے چاہتی تھی اور اس کی خواہش تھی کہ چند لمحوں کے لیئے ہی سہی وہ اس پر سوار ہو سکے لیکن یہ خواہش آج تک شرمندہ تعبیر نہ ہو سکی۔ قبیلے کے کچھ لوگوں نے اسے سدھانے کی کوشش کی تھی، نتیجے میں وہ تو اسے نہ سدھا سکے ہاں ابلہ نے انہیں سیدھا کر دیا۔ وہ بیچارے اس عالم فانی سے سدھار گئے
تب سے ملکہ شاطو نے اعلان کر رکھا تھا کہ جو بھی ابلا پر سوار ہو کر دکھائے گا اسے زبردست انعام و اکرام سے نوازا جائے گا۔ اس اعلان کے باوجود اب تک کئی نوجوانوں نے ابلا پر سواری تو بہت دور کی بات ہے ٹیڑھی نظروں سے بھی دیکھنے کی کوشش نہ کی تھی۔
اب نیلا بو کے باپ نے ابلا کی سواری کو سوئمبر کی شرط قرار دے دیا تھا۔
ابلا کا ذکر سن کر مقابلے میں شریک کئی نوجوانوں پر لرزہ طاری ہو گیا اور وہ نیلا ہو کر بھول کر اپنی جان بچانے کے لیے چپکے سے قطار میں سے کھسک لیے۔
قبیلے کے لوگوں نے نوجوانوں کو کھسکتے دیکھ کر تالیاں بجائیں اور لعن طعن کی۔
آخر بھرپور بدن کی کَسی کَسی ابلا کو میدان میں اتارا گیا۔
ابا کے اتنے ہی لوگوں نے فلک شگاف نعرے لگائے اور ڈھول پیٹا جانے لگا۔ نیلا بو کے باپ نے کامران کو اشارہ کیا کہ وہ میدان میں آۓ۔
کامران مسکراتا ہوا آگے بڑھا۔
نیلابو نے دل ہی دل میں کامران کی کامیابی کی دعا مانگی۔
منہ زور گھوڑی کی لگام پکڑتے ہی اس نے ادائیں دکھائی شروع کر دیں۔
ابلا نے ٹانگوں کے بل کھڑے ہو کر اگلی ٹانگوں سے کامران کو کچلنا چاہا لیکن کامران طرح دے گیا۔
کامران کوشش میں تھا کہ کسی طرح اچھل کر ابلا پر سوار ہو جائے لیکن ابلا نے طے کر لیا تھا که اسے نزدیک بھی نہیں ہونے دے گی۔ کامران نزدیک آنے کی کوشش کرتا وہ دونوں پاؤں کے بل کھڑی ہو جاتی یا په چاروں ٹانگوں پر اس طرح اچھلتی کہ اس کی پیٹھ پر بیٹھنا ناممکن ہو جاتا۔
قبیلے کے لوگ نعرے بازی کر رہے تھے اور کامران کو جوش دلا رہے تھے کہ وہ جلد سے جلد اس پر قابو پا لے۔
ایک لمحے کے لیے کامران نے نیلا بو کو دیکھا جو بڑی حسرت سے اسے دیکھ رہی تھی۔
اس ایک لمحے کی بھول سے ابلا نے فائدہ اٹھا لیا۔ اس نے اپنی دونوں ٹاپیں کامران کو مارنا چاہیں۔
کامران نے نیلابو سے نظر ہٹا کر پھرتی سے بچاؤ کیا۔
پھر بھی اس کی ایک ٹاپ اس کے شانے پر لگی اور زخم ڈال گئی۔
ابلا چاروں ٹانگوں پر اچھلنے کودنے لگی نیلابو کے دل پرگھونسا سا لگا۔ اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھا گیا۔
قبیلے کے لوگوں نے فلک شگاف نعرے لگائے اور کامران کی ہمت بندھائی۔ اب سوئمبر خطرناک مرحلے میں داخل ہو گیا تھا اور کامران کو سمجھ نہیں آ رہا تھا وہ کیا کرے ؟
کس طرح ابلا پر قابو پائے؟
پھر اچانک ہی ایک بجلی سی کوندی۔ ایک خیال اس کے دل و دماغ کو روشن کر گیا۔ تھا۔ کچھ کر گزرنے کی گھڑی تھی۔ اس لیے اس نے بغیر ایک لمحہ کو ضائع کئے جست لگائی۔
ابلا تو ابلا لوگ بھی اندازہ نہ لگا سکے کہ وہ کیا کرنے والا ہے۔
جب لوگوں نے کامران کو ابلا کی گردن سے چمٹے دیکھا تو حیران رہ گئے۔
ابلا جان توڑ کر میدان میں بھاگ رہی تھی۔ وہ کامران کو زمین پر گرانے کی ہرممکن کوشش کر رہی تھی۔
کامران نے ابلا کے بال ایسے مضبوطی سے پکڑے ہوئے تھے کہ منہ زور گھوڑی کے بھر پور جھٹکوں کے باوجود وہ اپنی جگہ جما ہوا تھا۔ نیلابو نے خوف کے مارے آنکھیں بند کر لی تھیں۔ قبیلے کے لوگوں نے اپنے سانس روک لیے تھے اور سوئمبر کا کھیل اب اختتام پر تھا۔
آخر کامران نے پلٹا کھایا اور پلٹا کھا کر سیدھا اس کی پیٹھ پر۔
ابلا کی پیٹھ پر بیٹھتے ہی ایک زبردست شور بلند ہوا۔ نیلابو نے ڈرتے ڈرتے آنکھیں کھولیں تو کامران کو ابلا کی پیٹھ پر سوار دیکھ کر جھوم اٹھی۔ کامران کے سوار ہوتے ہی ابلا میں زبردست تبدیلی آ گئی۔ اب وہ منہ زور گھوڑی اس کی رانوں میں دبی بڑی فرمانبردار دکھائی دے رہی تھی۔ ابلا اس کے ذرا سے اشارے پر چل رہی تھی۔
ہر حکم مان رہی تھی۔ کامران نے بڑی تیزی سے میدان کے تین چکر لگائے اور پھر گھوم کر نیلا بو کے سامنے آ کھڑا ہوا۔ نیلاپو نے اسے بڑے پیار اور فخر سے دیکھا۔ پھر رواج کے مطایق قبلے کی سات شادی شدہ عورتوں نے اسے گھوڑے سے اتارا اور شادی کا گیت گاتی ہوئی قبیلے کی سب سے بزرگ خاتون کی طرف بڑھیں۔ نیلا بو کو قبیلے کے سات شادی شدہ مردوں نے گھوڑے سے اتارا اور انتہائی خاموشی سے قبیلے کی سب سے بزرگ خاتون کی طرف لے چلے۔ جب دونوں ہونے والے میاں بیوی اس بزرگ خاتون کے سامنے کھڑے ہو گئے تو اس نے دعائیہ کلمات کہہ کر انہیں سبزے کے بستر پر لیٹنے کو کہا۔ جب وہ دونوں لیٹ گئے تو مقدس رسی لانے کا حکم ہوا۔
اس مرتبہ پھر بزرگ خاتون نے کچھ دعائیہ کلمے کہے اور مقدس رسی کا ایک نیلابو کی کلائی پرر اور دوسرا کامران کی کلائی میں باندھ دیا۔
رسی بند ھتے ہی لوگوں نے خوشی سے نعرے لگائے اور دیوانہ وار ناچنے لگے۔
نیلابو اور کامران کو اٹھنے کا اشارہ کیا گیا۔ جب وہ ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہو ئے تو شادی کی آخری رسم ادا کی گئی۔ ان ساتوں شادی شدہ جوڑوں نے ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر دائرے کی شکل اختیار کر لی اور ڈھول کی تھاپ پر دھیرے دھیرے رقص شروع ہوگیا۔ رقص کے دوران نیلا ہو اور کامران درمیان میں ایک دوسرے کے مقابل کھڑے آنے والی گھڑیوں کا بہت شدت سے انتظا کر رہے تھے
رقص ختم ہوا اور ان دونوں کو ایک دوسرے کو چھونے کی اجازت دی گئی۔ اس رسم کے ادا ہوتے ہی محفل برخاست ہوگئی اور قبیلے کے لوگ ہنستے گاتے اپنے گھروں کو لوٹ گئے
نیلابو اور کامران نے بھی بستی کا رخ کیا۔ وہ دونوں ایک دوسرے کا ہاتھ تھاے ہونے آگے بڑھ رہے تھے کہ ایک غیر متوقع واقعہ پیش آیا بستی میں داخل ہونے سے پہلے کہیں سے ایک سنسناتا ہوا تیر آیا اور ان کے سروں پر سے گزر کر سامنے درخت میں پیوست ہو گیا۔ کامران نے نیلابو کو فورأ اپنے بازوؤں میں لے کر اس طرف غور سے دیکھا جہاں سے تیر آنے کی توقع تھی۔
اندھیرے میں سوائے درختوں کی سیاہی کے کچھ نظر نہ آیا۔ کامران پریشان تھا کہ یہ اندھیرے میں تیر کس نے چلایا اور کیوں چلایا ؟
اگر یہ تُکہ تیر ثابت ہو جاتا تو ان دونوں میں سے کوئی ایک زمین پر پڑا تڑپ رہا ہوتا۔
کامران نے چاہا بھی کہ مقدس رسی کھول کر تیر انداز کو تلاش کرے لیکن وہ ایسا نہیں کر سکتا تھا۔ مقدس رسی کو تین دن سے پہلے کھولنا سخت بدشگونی تھی۔ رسی کھولنے والے جوڑے میں سے ایک کی موت یقینی تھی لیکن شادی کے موقع پر تیر کے ذریعے ہلاکت کی کوشش بھی کسی بدشگونی سے کم نہ تھی اور یہ بدشگونی ظہور پذیر ہو چکی تھی۔
نیلا بو بھاگنا ہوگا ۔ کامران نے اسے بازو میں لے لیے کہا ۔ ” بھاگوں گی جہاں تک کہو گے جب تک کہو گے ۔ تمہاری ہم سفر جوٹھہری ۔ نیلا بونے پڑے پر عزم لہجے میں کہا۔
بہت تیز بھاگنا ہوگا ۔ کوئی ہماری گھات میں ہے ۔ " کامران اسے اپنے قریب کرتا ہوا اتنا تیز بھاگوں گی کہ تمہیں مجھ پر کھوڑی کا گمان ہونے لگے گا » نیلابو نے مسکراتے ہوئے کہا ۔ پھر بھا گو کہ اسی میں ہماری زندگی ہے ۔ “ انہوں نے چوڑے راستے کو چھوڑ کر ایک تنگ راستہ اختیار کیا۔ اس راستے پر درخت کی درخت تھے۔ یہاں سے ان کا نشانہ لینا مشکل تھا۔ یہ راستہ ان کا جانا ہوا تھا۔ اس لیے اندھیرا ہونے کے باوجود وہ بڑی بے تکلفی سے دوڑے جارہے تھے۔ کامران تیر چلانے والے کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ وہ کون تھا ؟ قبیلے میں ان کی کسی سے دشمنی نہ تھی۔ پر تیر چلانے کی وجہ کیا تھی ؟ کہیں نیلا بو سے شادی وجه رقابت تو نہیں بن گئی۔ وہ سوچ رہا تھا اور تیزی سے بھاگ رہا تھا۔ جب وہ مکان کے نزدیک پہنچا تو دروازے پر نیلا بو کا باپ منتظر کھڑا تھا ۔ تم لوگ کہاں رہ گئے تھے ؟ " نیلا بو کا باپ پریشان تھا ۔ بابا ... ہم تو جنگل کی طرف سے آئے ہیں ۔ “
"بے وقوف گھر چھوڑ کر جنگل کا رخ کرنے کی کیا ضرورت تھی ؟“ بابا نے ہنستے ہو ئےکہا
"آج ہم بچ گئے ۔ کسی نے راستے میں ہمیں مارنے کی کوشش کی تھی ۔
"شاطو کی قم کون تھا وو ؟ میں اس کا خون پی جاؤں گا ۔ "
کامران نے جب واقعہ کی تفصیل بتائی تو نیلا ہو کا باپ سوچ میں پڑ گیا ۔
وہ کس کا دشمن تھا ؟ نیلابوکا یا قامران کا اس کا جواب کسی کے پاس نہ تھا۔
تم لوگ فکر نہ کرو۔ میں یہ دیکھوں گا کہ وہ اونٹ کا بچہ کون تھا ؟ اب تم لوگ آرام گرو نیلابو کے باپ نے ہدایت کی۔ گھاس پتوں کے نزم بستر پر وہ دونوں نیم دراز ہو گئے۔ پاس ہی رکھے ہوئے لکڑی کے بڑے پیالے کو جن میں ایک طرح رس کا بھرا تھا نیلابو نے اٹھایا ۔ پہلے ایک گھونٹ خود پیا پھر ایک گھونٹ قامران کو پلایا۔ اس کے بعد دونوں نے پیالے سے بیک وقت منہ لگا لیا۔ پیالے سے بیک وقت با مشکل تھا لیکن رسم کے مطابق انہیں اسی طرح پینا تھا۔
وہ گھونٹ گھونٹ بڑی احتیاط سے اس رس کو جو بڑی دقیمتی جڑی بوٹیوں سے تیار کیا جاتا تھا پیتے رہے۔
اس رس کا خیال آتے ہی کامران نے اپنے ہونٹوں پر زبان پھیری تو مرچیں لگانے والی ریت اس کے منہ میں چلی گئی۔
تب اسے خیال آیا کہ وہ حجلہ عروسی میں نہیں صحرائے سرخ کی ریت پر لیٹا ہے۔ اس کے جاگتے ہی اس کی پیاس شدت اختیار کر گئی۔
رات ڈھل چکی تھی۔
چاند اپنی آب و تاب کھو بیٹھا تھا۔
مشرق لال ہو رہا تھا۔
سورج کی آمد آمد تھی۔
ایک بار پھر اسے تپتے صحرا اور جلتے سورج کے عذاب سے گزرنا تھا۔
اس عذاب کی ابتداء تو شادی کی رات ہی سے ہو گئی تھی اور انتہا ملکہ شاطو کے محل میں۔
اگر وہ ملکہ شاطو کی خواہش پوری کر دیتا تو آج ملکہ کے محل میں ریشمی میں زلفوں کی چھاؤں میں ہوتا۔
یہ عذاب اس نے جان بوجھ کر مول لیا تھا۔ وہ نیلا بو سے بے وفائی نہیں کر سکتا تھا۔
سورج نے اب آنکھیں دکھانی شروع کر دی تھیں صحراۓ سرغ دھوپ کی تپش سے بھبھک اٹھا تھا
لیٹے لیٹے اس کا جسم اکڑ گیا تھا۔ ہاتھ پاؤں بے حس ہوتے جا رہے تھے۔ سب سے زیادہ تکلیف پانی کی تھی۔
بھوک بھی اگر چہ لگ رہی تھی لیکن پیاس کی شدت بھوک پر غالب تھی۔
دوپہر ہوتے ہوتے اس پر بے ہوشی کی طاری ہونے لگی۔ وہ منہ پھاڑے آسمان کو تک رہا تھا۔ دھیرے دھیرے اس کی آنکھیں بند ہوتی جا رہی تھیں۔
پھر جانے کیا ہوا کہ اچانک سایہ سا ہو گیا۔
آسمان پر گہرے بادل چھا گئے۔ ریت برف کی طرح ٹھنڈی ہوگئی اور فضا میں خوشبوی پھیل گئی ۔ کنوارے جسم کی خوشبو مانوس مانوس سی_“
