کالا جادو - ایم اے راحت - قسط نمبر 9

 

کالا جادو - اردو کہانی قسط نمبر 9

رائیٹر :ایم اے راحت

‎بابا صاحب خاموش ہوگئے۔ میں آنکھیں بند کئے بیٹھا رہا اور انتظار کرتا رہا کہ وہ کچھ بولیں، دس منٹ، پندرہ منٹ، بیس منٹ اور شاید آدھا گھنٹہ گزر گیا، پھر آنکھیں خودبخود کھل گئیں، پہلی نگاہ بابا صاحب پر ڈالی اور دَہل کر رہ گیا وہ کروٹ کے بل لیٹے ہوئے تھے۔ آنکھیں بے نور تھیں اور بدن ساکت… گھبرا کر نبضیں ٹٹولیں مگر جسم سے رُوح کا رشتہ منقطع ہو چکا تھا، وہ رُخصت ہوگئے تھے، یقین نہ آیا، نہ جانے کتنی آوازیں دیں، انہیں ہلایا، جلایا اور دَم بخود رہ گیا۔ آہ… بابا فضل حسین اب دُنیا میں نہیں تھے۔ یہ کیا ہوگیا، کیسے ہوگیا سب کچھ بھول گیا، سارا خوف دل سے نکل گیا نہ بھوریا چرن یاد رہا نہ بھوک پیاس… بابا فضل حسین کے بچھڑ جانے کا غم تھا اور دِل رو رہا تھا، بہت دیر اسی طرح گزر گئی، میں جانتا تھا کہ مجھے کیا کرنا ہے چنانچہ اُٹھا اس پتھروں سے چنی ایک کمرے کی عمارت کے بائیں سمت گیا، وہاں کدال پڑی ہوئی تھی، اُٹھائی اور پتھروں میں سوراخ کرنے لگا۔ میری کدال نے چٹانیں شق کر دیں اور میں نے رُکے بغیر ایک گہرا گڑھا تیار کرلیا، اس کے بعد بابا فضل حسین کے جسدِ خاکی کو اس میں اُتار کر میں نے اسے بند کر دیا۔ پتھروں سے اسے اچھی طرح ڈھکنے کے بعد میں نے ان کے لیے دُعائے مغفرت کی، انہوں نے کہا تھا۔

‎’’اب یہاں رُکنا مناسب نہیں ہے مسعود میاں۔ یہاں سے چل پڑو اور چلتے رہو۔‘‘ میں نے ایسا ہی کیا، اس جگہ پہنچا جہاں بھوریا چرن دھرنا مارے بیٹھا تھا، وہ وہاں موجود نہیں تھا۔ شاید اُکتا کر وہاں سے چلا گیا
‎تھا، کوئی خاص خیال نہ آیا چلتا رہا، ساری رات سر سے گزر گئی، صبح کی روشنی میں ایک بستی کے آثار نظر آئے، قدم اس کی طرف بڑھ گئے۔ آموں کے درخت جھول رہے تھے، پکے آموں کی خوشبو فضا میں رچی ہوئی تھی، کوئی باغ تھا، بستی کی کسی مسجد سے اذان کی آواز اُبھری اور قدم رُک گئے۔ مسجد کی تلاش میں نظریں دوڑائیں، دُور سے کچھ مینار نظر آئے اور قدم اس طرف اُٹھ گئے۔ آہستہ آہستہ چلتا مسجد کے نزدیک پہنچ گیا۔ مسجد کے عین سامنے ایک جھونپڑا نما ہوٹل تھا، جہاں دو آدمی صفائی ستھرائی میں مصروف تھے، میں ان کے سامنے سے گزرا اور میں نے انہیں سلام کیا، دونوں چونک کر مجھے دیکھنے لگے۔
‎’’مسلمان ہو؟‘‘ میں نے رُک کر پوچھا۔
‎’’جی… جی ہاں۔‘‘ دونوں بیک وقت بولے۔
‎’’سلام کا جواب نہیں دیا۔‘‘
‎’’غلطی ہوگئی وعلیکم السلام۔‘‘
‎’’کیا کر رہے ہو؟‘‘

‎’’تیاریاں… نمازی نماز سے فارغ ہو کر چائے پینے آتے ہیں، اس وقت تک ہم چائے تیار کر لیتے ہیں۔‘‘
‎’’اور نماز نہیں پڑھتے۔‘‘ میں نے کہا اور وہ دونوں جھینپے جھینپے نظر آنے لگے۔ ’’واہ دوستو، چراغ تلے اندھیرا۔ اللہ کے گھر کے سامنے رہتے ہو اور اللہ کے سامنے نہیں جاتے، بری بات ہے۔ آئو چلو نماز پڑھو۔‘‘ وہ دونوں سب کچھ چھوڑ کر میرے ساتھ چلتے ہوئے مسجد میں داخل ہوگئے، بہت سے بندگانِ خدا نماز پڑھنے آرہے تھے، میں وضو کرنے بیٹھ گیا، غذا اور پانی کو ترسا ہوا تھا مگر کسی چیز کی حاجت نہ ہو رہی تھی، وضو کرتے ہوئے کلی بھی کی تھی مگر پانی کا قطرہ حلق سے نہ اُتارا، وہ دونوں میری تقلید کر رہے تھے، قریب کھڑے ہو کر نماز پڑھی، نماز کے خاتمے کے بعد مؤذن صاحب نے کہا۔
‎’’شیخ رحمت اللہ صاحب کے بیٹے عظمت اللہ کی اہلیہ کا انتقال ہوگیا ہے، جنازہ گیارہ بجے پڑھایا جائے گا، آپ لوگوں میں سے جسے وقت ملے شرکت فرما لیجئے۔‘‘ میرے ساتھ نماز پڑھنے والے دونوں افراد میں سے ایک نے کہا۔
‎’’ارے عظمت اللہ کی بیوی کا انتقال ہوگیا، ابھی پچھلے سال ہی تو شادی ہوئی تھی اس کی۔‘‘
‎’’ہاں مجھے خود حیرت ہے۔‘‘ پھر ان میں سے ایک نے مجھ سے کہا۔
‎’’ہمارے ساتھ آیئے حضرت ایک پیالی چائے پی لیجئے ہمیں خوشی ہوگی۔‘‘
‎’’نہیں میاں ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں؟‘‘
‎’’شرمندہ نہ فرمایئے حضرت ہماری چھوٹی سی خواہش پوری ہو جائے گی ہم بہت غریب ہیں مگر یہ معمولی سی خدمت تو کر سکتے ہیں۔‘‘
‎’’اصرار کر رہے ہیں تو انکار نہیں کریں گے۔‘‘ میں نے کہا اور ان کے ساتھ مسجد سے باہر نکل آیا، ان میں سے ایک نے کہا۔
‎’’ہمارا یہ ہوٹل بھائیوں کا ہوٹل کہلاتا ہے، ہم دونوں سگے بھائی ہیں، میرا نام شعبان ہے اور میرے بھائی کا نام رمضان ہے۔ ہم شادی شدہ ہیں اور بیوی بچّے ہیں، ہماری گزر بسر مشکل سے ہوتی ہے، بس اللہ کا احسان ہے۔‘‘ میں ان کے ساتھ ہوٹل آ گیا، وہ جلدی جلدی تیاریاں کرنے لگے، لوگ آنا شروع ہوگئے اور بینچوں پر بیٹھ گئے۔
‎’’چلو بھئی رمضان چائے پلائو۔‘‘ آنے والوں میں سے ایک نے کہا۔
‎’’بس ابھی تیار ہوئی۔‘‘
‎’’شعبان میاں آج تو مسجد میں نظر آ رہے تھے، نماز شروع کر دی کیا۔‘‘ ایک بزرگ نے پوچھا۔

‎’’ہاں علیم چچا بس اللہ کا کرم ہے۔‘‘
‎’’میاں ہوگیا کرم، اور دلدّر دُور۔‘‘ علیم چچا نے کہا بہت سے لوگ آ کر بینچوں پر بیٹھ گئے تھے، ایک نے کہا۔
‎’’اَماں فضل بھائی یہ شیخ صاحب کی بہو کو کیا ہوگیا۔‘‘
‎’’کچھ پتہ نہیں پہلوان… تین چار دن سے بڑی بھاگ دوڑ دیکھ رہا تھا مگر بھائی بڑے آدمی ہیں، کون پوچھے، کون بتائے اپنے آپ میں مگن رہتے ہیں یہ لوگ، ویسے دِل دُکھا، شادی کو سال پورا ہوا ہوگا۔‘‘
‎’’بال بچّے کی خبر سنی تھی کچھ۔‘‘
‎’’ہو سکتا ہے؟‘‘
‎’’چکر تو لگانا چاہیے۔‘‘
‎’’ہاں ہاں بستی والے ہیں جائیں گے کیوں نہیں۔‘‘ رمضان اور شعبان چائے بنا رہے تھے اور لوگ آ آ کر بیٹھتے جا رہے تھے مگر چائے کی پہلی پیالی رمضان نے مجھے لا کر دی تھی۔
‎’’دُوسرے مہمان بھی تو ہیں رمضان بھائی۔‘‘
‎’’سب کو دے رہا ہوں میاں صاحب آپ لو۔‘‘ میں نے چائے لی، صبر و سکون سے ٹھنڈی ہونے کا انتظار کرتا رہا اور پھر شکر الحمد للہ کہہ کر چائے کا پہلا گھونٹ لیا، نہ جانے کتنے دِن کے بعد یہ دُودھ چینی کا سیال حلق سے اُترا تھا مگر کوئی خاص بات نہیں محسوس ہوئی، مالک نے سیری بخشی تھی خاموشی سے چائے پیتا رہا۔ رمضان اور شعبان کچھ حیران نظر آرہے تھے، دونوں خوب بھاگ دوڑ کررہے تھے، گاہک تھے کہ ٹوٹ نہ رہے تھے، سورج خوب چمک اُٹھا رمضان نے شعبان سے کہا۔
‎’’شعبان… سامان لائو… ابراہیم بھائی کی دُکان کھل گئی ہوگی، پتّی اور چینی لے لینا، پہلے دُودھ لے لینا کہیں ختم نہ ہو جائے۔‘‘
‎’’جاتا ہوں۔‘‘ شعبان نے کہا اور کچھ برتن لے کر چلا گیا۔
‎’’میاں صاحب لو اور چائے پیو۔‘‘ رمضان دو پیالی چائے لے کر میرے سامنے آ بیٹھا، اس نے شیشے کی برنی سے کچھ بسکٹ بھی ایک پلیٹ میں رکھ لیے تھے۔
‎’’بس میاں مہمان نوازی تو ہوگئی یہ سب ضروری نہیں ہے۔‘‘
‎’’آپ کو ہماری قسم میاں صاحب لے لو… ہماری خوشی پوری کرو۔‘‘ رمضان عاجزی سے بولا۔
‎’’افوہ… قسم بھی دے دی۔‘‘ میں نے تھوڑے سے تکلف سے چائے لے لی۔
‎’’پیٹ کے ہلکے ہیں میاں صاحب، جو دِل میں آ رہا ہے کہے بغیر نہ رہ سکیں گے۔‘‘ رمضان بولا۔
‎’’کہو رمضان میاں۔‘‘

‎’’میاں صاحب، پہنچے ہوئے لگتے ہو، ایک نگاہ دیکھا تو دل نے کہا کہ جو کہہ رہے ہیں مان لو رمضان میاں… اَماں اَبّا نے زندگی بھر کہا بچو نماز پڑھا کرو، ٹال دیتے تھے مگر تمہارے کہنے سے یوں لگا جیسے کسی نے گلے میں رَسّی ڈال دی ہو، بندھے ہوئے مسجد پہنچے تھے اور پھر نقد سودا ہوگیا، جتنے گاہک اتنی دیر میں آئے ہیں رات تک آتے ہیں، سودا بھی ختم ہوگیا اور منگوانا پڑا، یہی عالم رہا تو بھائیوں کا ہوٹل تو پکا بن جائے گا۔ کھانا بھی پکانے لگیں گے وارے نیارے ہو جائیں گے ہمارے تو۔‘‘
‎مجھے ہنسی آ گئی میں نے کہا۔ ’’جہاں تک پہنچا ہوا ہوں رمضان میاں خود جانتا ہوں۔ تم معصوم آدمی ہو اسی لیے ایسا سمجھ رہے ہو، میں خود بھی نماز کی نعمت سے محروم تھا۔ ایک اللہ والے نے کہا کہ نماز جاری کر دو بس اسی کی بات دِل میں بیٹھ گئی، اس آبادی میں داخل ہوا تو اذان ہو رہی تھی، تم سے نماز کے لیے کہہ کر اپنا فرض پورا کیا، تم نے میری بات مان لی، یہ اللہ کا حکم تھا۔‘‘
‎’’تم کچھ بھی کہو میاں صاحب اپنے دِل پر بڑا اثر ہوا ہے، بڑی غربت ہے ہمارے ہاں، بس یوں سمجھ لو پھٹے پرانے میں بسر ہو رہی ہے۔ ایک زمانہ تھا شدن خان شاہی باورچی کے نام کا ڈنکا بجتا تھا۔ ابا کا نام شدن خان تھا۔ باورچی کا کام کرتے تھے نہ صرف جمال گڑھی میں بلکہ آس پاس کی بستیوں میں دُھوم تھی۔ دُور دُور راجوں نوابوں کے ہاں کھانا پکانے جاتے تھے۔ ہمیں بھی کام سکھایا مگر پیاز کاٹنا اور دیگوں میں کرچھا ہلانا ہمیں اچھا نہیں لگتا تھا۔ ابا نے سختی کی تو گھر سے بھاگ گئے خوب خاک اُڑائی اور جب کہیں کچھ نہ ملا تو واپس آ گئے۔ ابا کو گٹھیا ہوگئی، کام دھندا ختم ہوگیا تھا، جمع پونجی چل رہی تھی، رشتے کی لڑکیوں سے شادی کر دی مگر کوئی دھندا نہیں جما۔ پہلے اماں مریں پھر ابا چل بسے۔ یہ ایک جگہ چھوڑ گئے تھے مسجد کنے، کام آگئی، گھر والیوں کے ہار بُندے بیچ کر چار برتن ڈالے اور چائے بیچنے بیٹھ گئے میاں صاحب کچھ نظر کر دو۔‘‘
‎’’ارے رمضان میاں تم غلط سمجھ رہے ہو، دُعا ضرور کر سکتا ہوں تمہارے لیے اور میرے بس میں کچھ نہیں۔‘‘
‎’’ایک بات کہی تھی تم نے ابھی میاں صاحب۔‘‘
‎’’کیا؟‘‘
‎’’تم کہہ رہے تھے کہ اس بستی میں داخل ہوا تو اذان ہو رہی تھی کہیں باہر سے آئے ہو؟‘‘

‎’’ہاں تمہاری اس بستی کا نام جمال گڑھی ہے؟‘‘
‎’’پکا، میاں کوئی رشتے دار رہتا ہے تمہارا؟‘‘
‎’’تم ہو تو سہی دیکھ لو سب سے پہلے تم ہی ملے۔‘‘ میں نے مسکرا کر کہا اور رمضان جذباتی ہوگیا، گاہک چلے گئے تھے، ہم دونوں ہی تھے اس وقت رمضان نے اپنی چائے کی پیالی رکھی اور نیچے بیٹھ کر میرے دونوں پائوں پکڑ لیے، وہ گلوگیر لہجے میں بولا۔
‎’’تین بچّے میرے ہیں دو میرے بھائی کے۔ تمہیں ہمارے بچوں کی قسم ہے میاں صاحب، ہمارے مہمان بن جائو، کچھ دن ہمارے ساتھ رہو، کچھ ملے یا نہ ملے ہمارا دل کہہ رہا ہے کہ تمہاری برکت ضرور ہوگی، پانچ معصوم بچوں کی قسم دی ہے انکار نہ کرنا دل ٹوٹ جائے گا۔‘‘
‎میں ہکا بکا رہ گیا، عجیب صورتِ حال تھی اب کیفیت یہ تھی کہ میں اس سے پائوں چھڑا رہا تھا اور وہ کیکڑے کی طرح میرے پائوں سے لپٹا جارہا تھا۔ ’’وعدہ کرلو میاں جی وعدہ کر لو تمہیں میرے بچوں کی قسم…‘‘
‎’’پائوں چھوڑو رمضان… اگر تم مجھے مہمان بنانا چاہتے ہو تو ٹھیک ہے، میں وعدہ کرتا ہوں کہ کچھ عرصے تمہارے ساتھ رہوں گا، وعدہ کرتا ہوں میں رمضان۔‘‘ تب کہیں جا کر رمضان نے میرے پائوں چھوڑے اور کرتے کے دامن سے آنسو خشک کرتا ہوا بولا۔
‎’’دِل بڑا دُکھا ہوا ہے میاں صاحب، زندگی کی ساری خوشیوں سے دُور ہوگئے ہیں، کوئی عزت نہیں رہی بستی میں، سب حقارت سے دیکھتے ہیں۔ تم سے دِل کی باتیں ہی کرلیں گے جی خوش ہو جائے گا، ہمارے ہاں کون مہمان آئے گا۔‘‘
‎’’کچھ باتیں ضرور سن لو رمضان۔‘‘
‎’’جی میاں صاحب…؟‘‘
‎’’میں خود اتنا گناہ گار انسان ہوں کہ میری نحوست سے بہت سوں کو نقصان پہنچا ہے۔ تم یہ بات کان کھول کر سن لو کہ میں ایک منحوس انسان ہوں، کل تم خود ہاتھ پکڑ کر مجھے گھر سے نکالنے پر مجبور ہو جائو گے… اپنے گناہوں سے توبہ کر رہا ہوں بس یہ سمجھ لو… کوئی پہنچا ہوا آدمی نہیں ہوں، کل اگر تمہیں کوئی نقصان پہنچے تو مجھے الزام نہ دینا۔‘‘
‎’’چلو وعدہ… آئی گئی خود ہمارے سر… اب وعدے سے نہ پھر جانا۔‘‘ وہ ایسے بولا کہ مجھے پھر ہنسی آ گئی۔
‎’’خوب ہو رمضان میاں، اچھا ایک بات تو مان لو گے ہماری، جب تک ہمیں اپنے پاس رکھو ہم سے ہوٹل کے کام لینا، میاں صفائی کریں گے، گاہکوں کو چائے تقسیم کریں گے اور جو بھی کام ہوا۔‘‘

‎’’بالکل نہیں، ایسا کیسے ہو سکتا ہے ہاں گلّے پر بیٹھ جانا، ہم منع نہیں کریں گے، بولو منظور۔‘‘ میں ہنستا رہا، شعبان سامان لے کر آ گیا تھا، اس نے چائے کا پانی چڑھا دیا اور گاہک آتے جاتے رہے، پتا نہیں یہ معمول تھا یا واقعی اتفاق ہو رہا تھا۔ رمضان اور شعبان کو فرصت نہیں مل رہی تھی۔ تقریباً گیارہ بجے شیخ رحمت اللہ کے ہاں سے جنازہ آ گیا، بے شمار افراد تھے، کلمے کا ورد کرتے ہوئے آرہے تھے، میں بھی تیار ہوگیا اور مسجد کی طرف چل پڑا، جنازہ صحن مسجد میں رکھ دیا گیا، لاتعداد غمزدہ چہرے نظر آ رہے تھے، کچھ لوگوں کی حالت بہت خراب نظر آ رہی تھی، دفعتاً میرے دل میں کلبلاہٹ ہونے لگی، یوں لگنے لگا جیسے کوئی میرے دِل کو اُنگلیوں سے ٹٹول رہا ہو، پھر ایک سرگوشی سی ذہن میں اُبھری اور میں اسے سننے لگا، آواز کس کی تھی سمجھ میں نہیں آئی لیکن الفاظ واضح تھے۔
‎’’مسعود میاں آنکھیں کھلی رکھا کرو۔‘‘ میں ششدر رہ گیا، کوئی آواز میرے منہ سے نہ نکل سکی، سرگوشی پھر اُبھری۔ ’’یہ کور بینا لوگ ہیں، یہ جس لڑکی کا جنازہ پڑھانے لائے ہیں وہ مری نہیں ہے زندہ ہے، تھوڑی سی کوشش سے اس کے دِل کی دھڑکنیں بحال ہو سکتی ہیں کسی سے رابطہ کرو اور اسے ترکیب بتائو…‘‘
‎مجھے جو کچھ بتایا گیا اسے سُن کر میرا سر چکرا کر رہ گیا، ہدایات اتنی واضح تھیں کہ کوئی وہم نہ رہ گیا تھا، بات اتنی عجیب تھی کہ عقل ساتھ چھوڑ رہی تھی، میں یہ کیسے کروں مگر وہ آواز… وہ الفاظ… آنکھیں بند کرلو، دل کے دروازے کھل جاتے ہیں، ایک عجیب سا اعتماد دل میں پیدا ہوگیا، آگے بڑھا نماز جنازہ کھڑی ہونے میں شاید کچھ دیر تھی، اس معمر شخص کو دیکھا جس کے چہرے پر حسرت و یاس تھی۔ آنکھیں متورّم تھیں، آنسو رُکنے کا نام نہ لیتے تھے۔ وہ کئی دُوسرے لوگوں کے درمیان تھا، لوگ اسے سنبھالے ہوئے تھے، میں پُراعتماد قدموں سے آگے بڑھا، اس کے قریب پہنچ گیا، میں نے مضبوطی سے اس کا ہاتھ پکڑا اور بولا۔
‎’’کچھ بات کرنی ہے آپ سے۔‘‘ سب چونکے مگر کسی نے کچھ نہ کہا، معمر شخص نے روتی آنکھوں سے مجھے دیکھا، سسکی بھری اور بولا۔
‎’’جی بھائی…؟‘‘
‎’’ذرا اِدھر آیئے۔‘‘ میں نے اسے گھسیٹا، یقیناً بڑا آدمی تھا لیکن مصیبتیں پڑتی ہیں تو آدمی صرف آدمی ہوتا ہے چھوٹا یا بڑا نہیں ہوتا۔
‎’’جی کہیئے۔‘‘ اس نے روتی آواز میں کہا اور دُوسرے لوگوں سے کچھ دُور ہٹ آیا۔
‎’’آپ لڑکی کے کون ہیں۔‘‘ میں نے پوچھا۔
‎’’باپ ہوں بدنصیب… اکلوتی بیٹی تھی میری ایک سال پہلے شادی کی تھی۔‘‘
‎’’خدا کا شکر ہے بڑے صحیح انسان سے ملاقات ہوئی، میں آپ سے کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ آپ کی لڑکی مری نہیں ہے زندہ ہے۔‘‘

‎’’ایں… کیا مطلب؟‘‘ وہ حیران ہو کر مجھے دیکھنے لگے۔
‎’’جی وہ زندہ ہے میرا حکم ہے جنازہ واپس لے چلیے، اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ اور آپ سب لڑکی کے قاتل قرار پائیں گے، میں اپنی زندگی میں اس کی تدفین نہ ہونے دوں گا۔ آپ اسے قبر میں اُتاریں گے تو میں اس قبر میں داخل ہو جائوں گا اور آپ کو مجھ پر بھی مٹی ڈالنی پڑے گی۔‘‘
‎اس شخص کا منہ حیرت سے کھل گیا، وہ دو قدم پیچھے ہٹ گیا۔ اس کی یہ کیفیت دیکھ کر دُوسرے لوگ بھی قریب آ گئے، ایک نے کہا۔ ’’کیا بات ہے چچا جان… کیا کہہ رہے ہیں یہ…؟‘‘
‎’’ان سے سے پوچھو، ان سے پوچھو۔ یہ کون ہیں۔ کوئی جانتا ہے۔‘‘ معمر شخص نے دِل پر ہاتھ رکھ لیا۔
‎’’کیا بات ہے۔ آپ کون ہیں؟‘‘
‎’’میں کوئی بھی ہوں لیکن آپ اس لڑکی کو زندہ دفنانے جا رہے ہیں، میری بات مان لیں لڑکی زندہ ہے، میں آپ کو ترکیب بتا سکتا ہوں کہ اس کی زندگی کیسے واپس لائی جا سکتی ہے۔‘‘
‎سب اچنبھے میں رہ گئے۔ بات پھیل گئی، کچھ اور افراد قریب آ گئے، ایک شخص نے نرم لہجے میں کہا۔ ’’آپ کوئی بری بات نہیں کہہ رہے خدا کرے ایسا ہو لیکن آپ کے دل میں یہ خیال کیسے آیا؟‘‘
‎’’آپ کون ہیں؟‘‘
‎’’میں ڈاکٹر ہوں۔ ڈاکٹر للت رام بھلّا میں شیخ صاحب کا فیملی ڈاکٹر۔‘‘
‎’’اگر آپ جنازے کو گھر لے چلیں تو میں وہ ترکیب بتا سکتا ہوں جس سے اس کی زندگی واپس لائی جا سکے۔‘‘
‎’’ایسا نہ ہو آپ؟‘‘
‎’’ہر سزا قبول کروں گا۔ مجھے رسیوں سے باندھ دیں تا کہ بھاگ نہ سکوں۔‘‘
‎’’کہرام مچ گیا سب میرے ہی گرد جمع ہوگئے۔‘‘
‎ایک نوجوان نے روتے ہوئے کہا۔ ’’میں جنازہ واپس لے جائوں گا۔‘‘
‎’’یہ گناہ ہوتا ہے عظمت اللہ، میّت کی بے حرمتی ہوتی ہے۔ یہ کوئی پاگل لگتا ہے۔‘‘ کچھ بزرگوں نے کہا۔
‎’’ایک منٹ، ایک منٹ محترم۔ آپ کا اس بارے میں کیا مؤقف ہے اور آپ ایسا کیوں کہہ رہے ہیں۔‘‘ ڈاکٹر بھلّا نے کہا۔ یہ مناسب وقت تھا کہ میں اپنے دل کی بات بتا دوں جو کچھ میرے دل میں اُبھرا تھا وہ میرے لیے ایمان کی طرح مستحکم تھا اور مجھے نتائج کا کوئی خوف نہیں تھا۔ چنانچہ میں نے جو کچھ مجھ سے کہا گیا تھا دُہرا دیا۔ ڈاکٹر بھلّا منہ کھول کر رہ گئے تھے۔ دُوسروں نے بھی میری بات سنی تھی ڈاکٹر بھلّا نے کہا۔
‎’’آپ لوگ خود فیصلہ کریں۔ یہ آپ کا مذہبی معاملہ ہے۔‘‘
‎’’میں لاش واپس لے جائوں گا۔‘‘ عظمت اللہ نے کہا اور چاروں طرف یہ آوازیں اُبھرنے لگیں۔

‎’’جنازہ واپس جائے گا، جنازہ واپس جائے گا۔‘‘ مجھے ایک طرح سے حراست میں لے لیا گیا تھا۔ لوگ میرا جائزہ لے رہے تھے، تمام لوگوں کو تو یہ معلوم نہیں تھا کہ میں نے کیا کہا ہے لیکن اس انہونی کو مجھ سے منسوب سمجھ لیا گیا تھا۔ وہ جن کے دل کو لگی تھی مجھے آس بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے، کچھ لوگ اسے دیوانگی قرار دے رہے تھے، ایک شخص نے ڈاکٹر بھلّا سے کہا۔
‎’’یہ کیا دیوانگی ہے؟‘‘
‎’’یہ دیوانگی ہی سہی لیکن اس شخص نے جو کچھ کہا ہے وہ قابل غور ہے اور طبّی نقطۂ نگاہ سے اسے ممکنات میں تصور کیا جا سکتا ہے۔ شیخ رحمت اللہ آپ نے کیا فیصلہ کیا؟‘‘ بھلّا صاحب بولے۔
‎’’بھئی اب میں مخالفت نہیں کروں گا۔ لڑکی کے والد ناظم حیات جنازہ واپس لے جانے پر متفق ہیں، اس کا شوہر آمادہ ہے تو میں مخالفت نہیں کروں گا۔ مگر یہ انوکھا انکشاف ہے اور اس نوجوان پر پوری ذمہ داری عائد ہوتی ہے، اس نے تو متوفیہ کو دیکھا بھی نہیں۔‘‘
‎’’بلا وجہ دیر کی جارہی ہے آپ لوگ واپس کیوں نہیں چلتے۔‘‘ عظمت اللہ نے بگڑ کر کہا۔
‎’’ہاں۔ چلو، جنازہ اُٹھوائو۔‘‘ رحمت اللہ بولے۔
‎’’میں کچھ دیر کے لیے اجازت چاہتا ہوں، کچھ ساتھی ڈاکٹروں کو لے کر ابھی پہنچ رہا ہوں۔‘‘ ڈاکٹر بھلّا نے کہا۔ جنازہ واپسی کے لیے اُٹھ گیا، لوگ طرح طرح کی باتیں کر رہے تھے اور میں سوچ میں ڈوبا ان کے ساتھ چل رہا تھا۔


‎بالآخر جنازہ گھر واپس پہنچ گیا، محشر کا سا سماں تھا۔ جوان موت تھی، اندر سے بین کرنے کی آوازیں اُبھر رہی تھیں۔ جنازہ واپس پہنچا تو عجیب سی سنسنی پھیل گئی۔ مردوں نے سمجھداری سے کام لیا عورتوں کو کچھ نہیں بتایا۔ سب کو سختی سے ہٹا کر لاش ایک کمرے میں پہنچا دی گئی۔ مجھے بھی اسی کمرے میں لے آیا گیا تھا۔ اسی وقت ڈاکٹر بھلّا ایک لیڈی ڈاکٹر اور تین ڈاکٹروں کے ساتھ اندر داخل ہوگئے۔
‎مجھے جو ہدایات ملی تھیں، اس کے مطابق تمام انتظامات کئے گئے، سارا کام آناً فاناً ہوگیا۔ پوری بستی ہی اُمنڈ آئی تھی۔ بات ہر طرف پھیلتی جا رہی تھی۔ لوگ شیخ رحمت اللہ کی کوٹھی کے سامنے جمع ہو رہے تھے۔ کمرہ خالی کرا لیا گیا تھا۔ ڈاکٹر بھلّا ڈاکٹروں کی ٹیم کے ساتھ موجود تھے۔ لیڈی ڈاکٹر مسز گھوش نے تیاریاں کر لی تھیں۔ میں عظمت اللہ، رحمت اللہ اور ناظم حیات کے ساتھ کھڑا ہوا تھا۔ وقت چیختا ہوا گزر رہا تھا۔ ایک ایک لمحہ سنسنی خیز تھا، پھر لیڈی ڈاکٹر کی آواز اُبھری۔
‎’’او مائی گاڈ۔ او مائی گاڈ!‘‘
‎’’کیا ہوا؟‘‘ بھلّا کی کپکپاتی آواز اُبھری۔
‎’’یہ زندہ ہے۔ ٹھیک ہے۔‘‘
‎’’دل کی مالش کرو۔‘‘i
‎’’میں کر رہی ہوں۔‘‘ لیڈی ڈاکٹر مسز گھوش نے کہا۔
‎’’کیا کہا ہے۔ کیا کہا ہے ڈاکٹر گھوش نے؟‘‘ عظمت اللہ کی گھٹی گھٹی چیخ نکلی۔
‎’’وہ زندہ ہے۔ وہ ٹھیک ہے۔ مگر براہ کرم خود پر قابو رکھیں۔ براہ کرم کوئی ہنگامہ نہ ہونے دیں۔‘‘ عظمت اللہ روتا ہوا اپنے باپ سے لپٹ گیا۔ ناظم صاحب بازو پھیلا کر مجھ پر جھپٹے اور پاگلوں کی طرح مجھ سے لپٹ کر مجھے چومنے لگے۔ پھر بے ہوش ہوگئے۔ ہنگامہ کہاں رُکتا۔ کوئی کمرے سے نکل گیا اور پھر تو وہ کہرام مچا کہ توبہ ڈاکٹر پریشان تھے۔ ناظم حیات کو باہر نہیں لے جایا جا سکا۔ عظمت اللہ نے بھی میری ہڈیاں کڑکڑائیں، عجیب جملے کہے جانے لگے میرے بارے میں، مجھے بھی خوشی تھی لڑکی کے بچ جانے کی بھی اور اپنے یقین کی پختگی کی بھی۔
‎پھر لڑکی ہوش میں آ گئی۔ عورتوں نے حملہ کر دیا۔ مردوں کو ہٹنا پڑا۔ ہم سب باہر نکل آئے۔ خاندان کے بے شمار لوگ تھے۔ انہوں نے سب کو گھیر لیا تھا اور مجھے موقع مل گیا مگر میں بڑے دروازے سے باہر نہیں نکل سکا تھا کیونکہ وہاں پوری جمال گڑھی کے لوگ جمع ہوگئے تھے۔ مجھے احاطہ کود کر بھاگنا پڑا اور کافی دُور آ کر میں نے اطمینان کی سانس لی۔ اس کے بعد بھائیوں کے ہوٹل کے سوا کہاں جا سکتا تھا مگر ہوٹل خالی پڑا تھا۔ سامان یونہی بکھرا ہوا تھا۔ دونوں بھائی غائب تھے۔ مجھے ہنسی آ گئی، یقیناً وہ دونوں بھی وہیں موجود ہوں گے۔ ایک طرف پڑی چارپائی پر لیٹ گیا اور ان واقعات پر غور کرنے لگا۔ دُھوپ تیز تھی۔ گرمی بھی خوب پڑ رہی تھی۔ مگر یہاں ٹھنڈک تھی۔ میرے بدن میں سنسنی ہورہی تھی۔ وہ آواز کس کی تھی، کون میرے اندر بولا تھا، کس نے مجھے یہ اعتماد دیا تھا۔ کیا ہوگا اب کیا ہوگا۔ آئندہ مجھے کیا کرنا ہوگا کچھ نہیں جانتا تھا، کچھ آہٹیں ہوئیں اور میں نے گردن اُٹھا کر دیکھا شعبان تھا۔

‎’’ارے شعبان تم آ گئے۔‘‘ میں نے شعبان سے کہا۔ اور اس کے ہاتھ سے دیگچی گر گئی۔ دُوسرے لمحے اس نے میری طرف چھلانگ لگائی، میرے پاس آیا اور میرے ہاتھ پکڑ کر چومنے لگا۔ ’’کیا ہو گیا تمہیں شعبان؟‘‘
‎’’آپ اللہ والے ہو میاں صاحب۔ قسم اللہ کی غلام بنا لو ہمیں اپنا! ہمیں بھی کچھ دے دو میاں صاحب۔‘‘
‎’’خدا سے ڈرو شعبان۔ کیا بچپنا ہے۔ کہاں چلے گئے تھے تم؟‘‘
‎’’ہم وہیں تھے جی شیخ صاحب کی حویلی پر، تمہارے ساتھ ہی گئے تھے۔ وہاں تمہاری ڈھونڈ مچی ہوئی ہے چاروں طرف۔ لوگ طرح طرح کی باتیں کررہے ہیں۔ کوئی کہتا ہے آسمان سے اُترے تھے۔ آسمان میں اُڑ گئے کوئی کچھ کہتا ہے رمضان کوپکڑ رکھا ہے انہوں نے۔‘‘
‎’’رمضان کو کیوں پکڑ رکھا ہے؟‘‘
‎’’بس میاں صاحب وہ اس سے تمہارے بارے میں پوچھ رہے ہیں۔ ہوا یوں تھا کہ جب مسجد میں تم نے شیخ صاحب کے سمدھی کو کچھ بتایا تھا تو لوگ ایک دُوسرے سے پوچھ رہے تھے کہ یہ آدمی کون ہے۔ کسی نے کہہ دیا کہ پاگل ہے، رمضان بگڑ گیا۔ اس نے کہہ دیا کہ پاگل نہیں درویش ہے۔ یہ بھی بتا دیا کہ تم ہمارے ہاں ٹھہرے ہوئے ہو۔ سب شیخ صاحب کی حویلی پر جمع تھے۔ سب کو پتہ چل گیا کہ شیخ صاحب کی بہو ٹھیک ہوگئی ہے اور اب سب تمہیں تلاش کر رہے ہیں۔ اس آدمی نے کسی کو بتا دیا کہ میاں صاحب رمضان کے مہمان ہیں، بس رمضان گھر گیا ان میں اور اس نے مجھے ادھر پُھٹا دیا کہ موقع سے فائدہ اٹھائوں۔‘‘
‎’’موقع سے کیا فائدہ اُٹھائو گے؟‘‘ میں نے مسکرا کر پوچھا۔
‎’’دس سیر دُودھ پکڑ لایا ہوں چینی بھی لے لی ہے، پتّی رمضان لیتا آئے گا، دیکھنا میاں صاحب آج سارا دُودھ لگ جائے گا بلکہ کم پڑ جائے گا کیونکہ اب ادھر مجمع لگے گا تمہاری وجہ سے! مگر میرے کو خطرہ تھا۔‘‘ شعبان بولا۔
‎’’کیا خطرہ تھا؟‘‘ میں نے بے اختیار ہنستے ہوئے پوچھا۔ ان معصوم لوگوں کی توقع شناسی پر مجھے بہت ہنسی آئی تھی۔
‎’’سوچ رہا تھا کہ کہیں گھبرا کر نکل نہ جائو، اِدھر سے اسی لیے تمہیں دیکھ کر حیران ہو گیا تھا۔ ویسے ایک بات کہوں میاں صاحب؟‘‘
‎’’ضرور کہو شعبان!‘‘ میں نے پیار سے کہا۔
‎’’گھر والی نے چھ روزے رکھے تھے بڑی منتیں مرادیں مانی تھیں، برکت کے لیے، ہاں، عید آئے، بقرعید آئے بچوں کے کپڑے بھی نہیں بنے کئی سال سے۔ تنگ آ گئے تھے ہم تو۔ سن لی اللہ نے برکت کے لیے تمہیں بھیج دیا۔ قسم اللہ کی مہینہ بھر رُک جائو تو عید من جائے گی اس بار۔‘‘ شعبان نے کہا۔ اور میرا دل دُکھنے لگا، کیا معصوم خواہش ہے! میں نے سوچا۔ دُور سے بہت سے لوگ اس طرف آتے نظر آئے تو شعبان جلدی سے بولا۔
‎’’لو سنبھالو آ گئے۔‘‘ اس کے ساتھ ہی اس نے چائے کے لیے پانی کا بڑا دیگچہ بھر کر چولہے پر چڑھا دیا چائے کے لیے۔
‎ایک لمحے کو میں شعبان کی بات نہیں سمجھ پایا تھا مگر پھر اس کے سمجھانے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ میں نے خود ان لوگوں کو دیکھ لیا جو کافی تعداد میں تھے اور اسی طرف آرہے تھے۔ بوکھلاہٹ تو سوار تھی مگر کیا کرتا، بھاگ کر کہاں جاتا۔ اس کے علاوہ بھاگنا بے معنی تھا۔ انہوں نے مجھے دیکھا اور مجھ پر ٹوٹ پڑے۔ کوئی میرے ہات چوم رہا تھا تو کوئی میرے پائوں پکڑ رہا تھا۔ میں نے خود کو ساکت چھوڑ دیا تھا۔ انہیں روکنا ممکن نہیں تھا۔ وہ ایک دوسرے کو دھکے دیتے رہے پھر ان کے سوال شروع ہوگئے۔
‎’’مرشد۔‘‘ حضور، قبلہ! میری بیوی بیمار ہے۔ میاں صاحب! میرا ایک بچہ گھر سے بھاگ گیا ہے۔ گھر والی لبِ دم ہے۔ سرکار! ایک بیٹے کا سوال ہے۔ مرشد! سال بھر سے بیکار ہوں خدا کے لیے…!

‎شعبان کی آواز ابھری۔ ’’کھاتے پیتے رہو بھائیو! میاں صاحب کی برکت والی چائے!‘‘ یہ جملے تیر بہدف ثابت ہوئے۔ لوگ چائے پر ٹوٹ پڑے۔ خوب دھکا مکی ہونے لگی۔ رمضان کھڑا ہوگیا۔
‎’’پیسے ادھر بھائیو! پیسے ادھر، خبردار کوئی بے ایمانی نہ کرے، بخشش نہیں ہوگی۔‘‘ رمضان کا گلہ بھر گیا۔ جب سب نے مجھے چوم چاٹ لیا اور مجھے کچھ کہنے کا موقع ملا تو میں نے زور سے کہا۔
‎’’آپ لوگوں کو جو کچھ میرے ساتھ کرنا تھا، کرلیا یا کچھ باقی رہ گیا ہے؟‘‘
‎’’مرشد! ہماری مراد پوری کردو۔‘‘
‎’’یہ کفر آپ بک رہے ہیں۔ اس میں میرا کوئی قصور نہیں۔‘‘
‎’’ہم سمجھے نہیں مرشد؟‘‘
‎’’جس عقیدت کا اظہار آپ کررہے ہیں، میں اس کے قابل نہیں ہوں کہ میں نے اس کا اظہار کیا۔‘‘
‎’’آپ اللہ والے ہیں مرشد!‘‘
‎’’آپ سب بھی اللہ والے ہیں۔ اللہ کے بندے ہیں۔ کوئی مراد پوری نہیں کرتا سوائے اللہ کے۔ کائنات کا ہر ذرہ اس کا محکوم ہے اور اس کی رضا کے بغیر کوئی جنبش نہیں کرسکتا۔ اس کے سوا کسی اور سے مانگنا شرک ہے اور شرک ناقابل بخشش ہے۔ آپ لوگ اس گناہ سے توبہ کریں۔ میں اس کا سب سے زیادہ گناہگار بندہ ہوں۔‘‘
‎’’مگر آپ نے رحمت اللہ کی بہو کی جان بچائی ہے۔‘‘ کسی نے کہا۔
‎’’صرف اللہ نے۔ صرف اللہ نے، میں نے بس ان کی ایک غلطی کی نشاندہی کردی تھی۔‘‘
‎’’یہ معمولی بات تو نہیں ہے۔‘‘
‎’’آپ لوگ واقعی اگر مجھ سے کچھ چاہتے ہیں تو میں اللہ کے حضور آپ کے لیے عاجزی سے دعا کرسکتا ہوں۔ اللہ آپ کی مشکلات دور کرے۔ جس کی جو جائز حاجت ہو، وہ پوری کرے۔ جس کی بیوی بیمار ہے وہ شفا پائے۔ جس کا بیٹا گھر سے چلا گیا ہے، وہ واپس آجائے۔ بس یہی میرے بس میں ہے۔ ایک وعدہ ضرور کریں مجھ سے، بولیں کریں گے؟‘‘
‎’’آپ حکم دیں میاں صاحب!‘‘
‎’’حکم نہیں درخواست کرتا ہوں۔‘‘
‎’’فرمایئے میاں صاحب!‘‘
‎’’یہ رمضان اور شعبان آپ کے بھائی ہیں۔ جمال گڑھی کے پرانے باشندے ہیں، ان کا خیال رکھیں۔ جس کے گھر کوئی تقریب ہو، ان سے کھانا پکوائے اور انہیں معقول معاوضہ ادا کرے اور کسی کی حاجت پوری ہو تو جو کچھ ان کے لیے کرسکتا ہے، کرے۔‘‘
‎’’ایسا ہی ہوگا میاں صاحب!‘‘
‎’’تو پھر جایئے اور یقین رکھئے کہ آپ کی ضرورتیں اللہ تعالیٰ پوری کرے گا۔ جایئے آرام کیجئے۔‘‘ لوگ منتشر ہونے لگے۔ سادہ دل لوگ تھے۔ اپنی عقیدت کا اظہار اسی طرح کرسکتے تھے، میں انہیں کیسے روکتا۔ کچھ دیر کے بعد مجمع صاف ہوگیا۔
‎’’میاں صاحب! چائے لیجئے۔‘‘ شعبان بولا۔ رمضان نوٹ اور ریزگاری جمع کررہا تھا۔
‎’’کیا کمایا میاں رمضان؟‘‘ میں نے پوچھا۔
‎’’حاضر ہے میاں صاحب!‘‘ رمضان نے ساری کمائی میرے قدموں میں ڈھیر کردی۔
‎’’مبارکباد! اچھی آمدنی ہوئی ہے۔‘‘
‎’’میاں صاحب! پورے مہینے کی کمائی ایک دن میں ہوگئی۔ اب تو سامان بھی نہیں ہے، کل خریدنا پڑے گا۔ میاں صاحب! اب کیا کہوں منہ سے آپ نے تو ہمارے دلدّر دور کردیئے۔‘‘ رمضان کی آواز بھرا گئی۔
‎’’تم نے بھی تو ہمیں سیر کیا تھا رمضان میاں! نہ جانے کتنے وقت کے بعد ہمیں چائے اور پانی نصیب ہوا تھا۔‘‘
‎’’میاں صاحب! گھر چلیں؟‘‘
‎’’ہوٹل بند کرو گے؟‘‘
‎’’کام بند کردیں گے۔ اس ہوٹل میں دروازے ہی کہاں ہیں۔‘‘
‎’’ہماری رائے ہے سامان منگوا لو۔ ہم گھر جاکر کیا کریں گے، یہیں ٹھیک ہیں۔‘‘
‎’’جیسا حکم!‘‘ رمضان نے کہا۔ پھر وہ شعبان سے بولا۔ ’’گھر جا شعبان! کھانا لے آ اور دودھ والے سے کہہ دیجیو زیادہ دودھ پہنچائے شام کے لیے!‘‘ شعبان چلا گیا۔ رمضان میرے پاس بیٹھ گیا۔
‎’’میاں صاحب! کمال کردیا آپ نے! وہ تو وہ بے چاری زندہ ہی دفن ہوجاتی۔‘‘
‎’’یہ سب اللہ کی مرضی ہے۔‘‘ میں نے آہستہ سے کہا۔ شعبان کھانا لے آیا۔ موٹی موٹی روٹیاں، چٹنی، دال، اللہ کا شکر ادا کرکے کھائی اور وہیں چارپائی پر لیٹ گیا۔ لوگ آتے رہے۔ شام ہوگئی پھر دو افراد ہوٹل پر آگئے۔ ملازم قسم کے لوگ تھے۔ انہوں نے میرے ہاتھ چومے اور پھر کہا۔
‎’’میاں صاحب! آپ کو زمیندار صاحب نے بلایا ہے، رات کا کھانا وہیں ہے۔‘‘
‎’’کون زمیندار صاحب…؟‘‘

‎’’یہ رحمت اللہ کے منشی ہیں میاں صاحب۔‘‘ رمضان بولا۔
‎’’رحمت اللہ نے بلایا ہے ہمیں۔‘‘ میں نے پوچھا۔
‎’’جی میاں صاحب!‘‘
‎’’ہماری طرف سے سلام کہنا اور شکریہ ادا کردینا ان کا۔ کہنا ہم رمضان اور شعبان کے مہمان ہیں اور یہاں خوش ہیں۔ وہاں اب ہمارا کوئی کام نہیں ہے اس لیے وہاں نہیں آئیں گے۔‘‘
‎ملازموں نے گھبرا کر مجھے پھر رمضان اور شعبان کو دیکھا۔ دونوں بیک وقت بولے۔ ’’میاں صاحب کی مرضی ہے، ہم نے منع نہیں کیا۔‘‘
‎’’وہ ناراض ہوں گے۔‘‘ ایک ملازم بولا۔
‎’’نہیں میاں ان سے کہہ دینا… یہ ہماری مرضی ہے۔ بس جائو۔‘‘ وہ چلے گئے تو رمضان نے کہا۔
‎’’سخت مزاج ہیں رحمت اللہ خان صاحب! برا مان جائیں گے۔‘‘
‎’’مان جانے دو۔ تمہیں فکر نہیں کرنی چاہیے۔‘‘
‎شام ڈھل گئی۔ رمضان اور شعبان نے میرے لیے یہیں آرام کا بندوبست کردیا تھا۔ چراغ جل گئے۔ پھر ناظم حیات جو رحمت اللہ کے سمدھی تھے اور لڑکی کے باپ تھے، کچھ لوگوں کے ساتھ میرے پاس آئے۔ انہوں نے بہت زیادہ عقیدت کا اظہار کیا اور کپڑے میں لپٹی کوئی چیز میرے حوالے کرتے ہوئے بولے۔
‎’’حضور! اسے قبول فرمایئے۔‘‘
‎’’کیا ہے؟‘‘
‎’’کچھ نذرانہ ہے۔ آپ نے جو کچھ کیا ہے، اس کا کوئی صلہ نہیں ہے۔ آپ یہ قبول کرلیں، مجھے خوشی ہوگی۔‘‘
‎’’آپ جب غم زدہ تھے تو مجھے معقول آدمی معلوم ہوئے تھے۔ کتنی رقم ہے اس میں؟‘‘ میں نے پوچھا۔
‎’’حضور! دس ہزار۔‘‘ ناظم حیات نے کہا۔
‎’’استغفراللہ…! اتنے بڑے آدمی کی بیٹی کی زندگی کی اتنی معمولی قیمت! بڑی سستی ہے آپ کی بیٹی تو…‘‘
‎’’آپ حکم کریں حضور! دراصل سفر میں ہوں، میرا گھر دوسرے شہر میں ہے۔‘‘
‎’’برا نہ مانئے حیات صاحب! یہ بڑا ظلم ہے ہم پر آپ ہمیں ہماری محبت کا معاوضہ دینے آئے ہیں۔ ہم نے تو صرف خلوص سے یہ کام کیا تھا۔ جایئے دعا کیجئے ہمارے لیے کہ اللہ نے جس طرح آپ کی بگڑی بنائی ہے، اسی طرح وہ ہماری بگڑی بنائے۔ یہی ہماری اجرت ہوگی۔ ہم نے کیا ہی کیا ہے بس ایک اندازہ پیش کردیا تھا۔ حاجت روا صرف وہی ہے۔ اپنے اندر خلوص پیدا کریں۔ کاغذ کے ٹکڑوں کے لین دین کو سب کچھ نہ سمجھ لیں۔‘‘ حیات صاحب شرمندہ نظر آنے لگے۔ ہاتھ جوڑ کر بولے۔
‎’’مجھے معاف کردیں میاں صاحب! سخت شرمندہ ہوں۔ یہ صرف اظہار عقیدت تھا، کوئی معاوضہ نہیں تھا۔‘‘
‎میں خاموش ہوگیا۔ حیات صاحب کچھ دیر بیٹھے پھر سلام کرکے چلے گئے۔ رات گئے تک رمضان اور شعبان ہوٹل میں رہے۔ انہوں نے یہاں میرے سونے کا بندوبست کردیا تھا۔ اس دوران لوگ آتے رہے تھے۔ پھر میں نے ہی کہا۔
‎’’تم لوگ اپنے گھر جائو، آرام کرو، صبح وقت پر ہوٹل کھولنا ہے۔‘‘ میرے کہنے سے وہ چلے گئے۔ بستی سنسان ہوگئی تھی۔ کتے بھونک رہے تھے۔کہیں سے چوکیدار کی آواز بھی آرہی تھی۔ میں پلنگ پر چت لیٹ گیا۔ آج کا دن برسوں کی کہانی معلوم ہوتا تھا۔ جتنے واقعات گزر گئے تھے، وہ بہت زیادہ تھے۔ دل میں خوشی تھی کہ وہ لڑکی زندہ دفن ہونے سے بچ گئی تھی لیکن اس آواز کا معمہ حل نہ ہورہا تھا۔ مجھے یہ اطلاع کس نے دی تھی، کیا فضل بابا نے…!
‎’’نہیں میاں مجھے گناہگار کیوں کرتے ہو، میں کہاں اور یہ منزل کہاں! تم مجھ سے سے افضل ہو بلکہ تمہاری وجہ سے مجھے منصب ملا اور پیغام رساں مقرر کیا گیا۔‘‘ بابا فضل کی آواز میرے ذہن میں گونجی اور میں اچھل کر پلنگ پر بیٹھ گیا۔
‎’’بابا فضل!‘‘ میرے منہ سے آواز نکلی۔
‎’’ایمان کی سلامتی بڑی قدر و قیمت رکھتی ہے۔ ہم جو بوتے ہیں، سو کاٹتے ہیں۔ جو بیچتے ہیں، اس کا منافع کماتے ہیں۔ تم نے زندگی میں جو کچھ کیا، وہ برا تھا لیکن ایک مقصد کو تم نے اپنے وجود کا حصہ بنا لیا اور وہ تھا حق کا سودا! منافع تو ملنا ہی تھا۔ تم نے پھل چکھے، اب کھائو مگر خود پر نازاں نہ ہوجانا۔ انکساری بلندیوں کا راستہ ہوتی ہے۔ اپنی طلب کو دشمن جاننا۔ نفس کی مانگ ہی کالا جادو ہے۔ اس گندے سحر کی گرفت میں نہ آنا، ضمیر بولتا ہے۔ اس کی آواز سچی ہوتی ہے، اس سے رابطہ رکھنا۔‘‘
‎’’بابا فضل… آپ کہاں ہیں؟‘‘

‎’’تمہارے ذہن میں ہماری جگہ اب ہوائوں میں فضائوں میں نہیں ہے۔ یہ آخری آواز تمہارے سوال کا جواب ہے۔ غور سے سن لو… شیطان کو اجازت ملی ہے کہ شر پیدا کرے اور اس نے شر کے لیے قوت مانگی ہے۔ اسے دی گئی لیکن یہ قوت حق کے سامنے کچھ بھی نہیں۔ شیطان حق کے سامنے شرمندہ ہوگا۔ یوں منصب تقسیم کردیئے گئے۔ خود کو درویش، ولی یا ابدال و قطب نہ جاننا کہ ان درجات کے لیے لاکھوں بار فنا ہونا پڑتا ہے۔ تم تو ایک رنگروٹ ہو، ایک ادنیٰ کارکن جسے کچھ کام دے دیئے گئے ہیں۔ صرف اپنے کام کرنا کہ تم صرف ذریعہ ہو اور جو ہدایت ملے گی، اس کی پرکھ دی جائے گی تمہیں بس! نہ کچھ اس سے آگے ہے، نہ پیچھے۔‘‘
‎میری آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے۔ نہ جانے کیوں پھوٹ پھوٹ کر رونے کو جی چاہ رہا تھا۔ سسکیاں ہچکیاں بن گئیں۔ تنہائی میں رونا کتنا سکون بخش تھا مگر شاید تنہائی نہیں تھی۔
‎’’میاں صاحب… میاں صاحب! خدا کے لیے خاموش ہوجایئے۔ خدا کے لیے مجھے بتایئے آپ کیوں رو رہے ہیں۔‘‘ ایک ہمدرد ہاتھ میرے شانے سے آلگا اور میں چونک پڑا۔ گردن موڑ کر دیکھا۔ پہچاننے کی کوشش کی اور پہچان لیا۔ عظمت اللہ تھا۔ متوحش نگاہوں سے اس کے آس پاس دیکھا۔ ایک عورت چادر اوڑھے قریب کھڑی ہوئی تھی۔
‎’’ارے… تت… تم! اور یہ…‘‘ میں جلدی سے چارپائی سے نیچے اتر آیا۔
‎’’ثمینہ ہے، میری بیوی! وہ جس کی تدفین کی جارہی تھی۔‘‘
‎’’خدا کی پناہ! کیوں آئے ہو تم دونوں۔ اور انہیں اس عالم میں۔‘‘
‎’’آپ نے میرا اجڑا ہوا گلزار بسا دیا ہے میاں صاحب… سب اہل دل ہیں مگر جو آگ میرے اردگرد پھیل گئی تھی، میں ہی جانتا ہوں۔ مجھ سے کیا چھن گیا تھا، وہ مجھے معلوم ہے۔‘‘
‎’’اللہ نے فضل کیا میاں! اس کا شکر ادا کرو۔‘‘
‎’’یہ اب ٹھیک ہیں۔ تنہائی ملی تو مچل گئیں کہ میں سلام کرنے ضرور جائوں گی۔ ہم چھپ کر چلے آئے۔‘‘
‎’’وعلیکم السلام۔ اب جائو بی بی! تمہیں یہاں نہیں آنا چاہیے تھا۔‘‘
‎’’میں اب ٹھیک ہوں جناب! آپ نے…‘‘

‎’’خدا کے لیے اس واقعہ کو مجھ سے منسوب نہ کرو، ہم نابینا ہیں، بینائی کا فقدان ہے ہمارے پاس۔ اوپر اوپر سے دیکھتے ہیں، اندر سے نہیں دیکھتے۔ جو تمہیں دنیا میں پہچانتا ہے، وہ جانتا ہے کہ تمہیں دنیا میں کیسے رہنا ہے، کیا کرنا ہے اور یہ سب کہانیاں ہوتی ہیں تمہیں سمجھانے کے لیے! بس انہیں سمجھ لو، سب ٹھیک ہے۔‘‘
‎’’وسیلہ تو آپ تھے میاں صاحب! فرشتۂ رحمت توآپ بنے میرے لیے، میری بیوی کی زندگی آپ نے بچائی، ورنہ ہم اسے زندہ قبر میں اتار دیتے۔‘‘
‎’’بچ گئی تمہاری بیوی! خدا تم دونوں کو خوش رکھے۔ میری طرف سے مبارکباد! اب جائو۔‘‘
‎’’میاں صاحب! ہم آپ کی کچھ خدمت کرنا چاہتے ہیں۔‘‘
‎’’کیسی خدمت۔ رقم لائے ہو میرے لیے۔‘‘
‎’’نہیں میاں صاحب! ابو بہت شرمندہ ہیں۔ انہوں نے بتایا تھا کہ انہوں نے آپ کو کچھ دینا چاہا، آپ نے اسے ٹھکرا دیا۔‘‘ ثمینہ نے کہا۔
‎’’اگر کچھ دن آپ ہمارے ساتھ گزاریں تو ہمیں بے حد خوشی ہوگی۔‘‘
‎’’نہیں میاں! تمہارے والد نے بھی ہمیں طلب کیا تھا۔ ہم سے گزر نہ ہوگی تمہاری اونچی حویلی میں، یہ دو غریب بھائی…‘‘ اچانک میں رک گیا۔ ایک خیال آیا میرے دل میں۔ میں نے کچھ سوچ کر کہا۔ ’’عظمت اللہ ہے تمہارا نام…؟‘‘
‎’’جی میاں صاحب…‘‘
‎’’عظمت اللہ! ہماری کچھ مالی مدد کرسکتے ہو؟‘‘
‎’’جی…!‘‘ وہ حیران ہوکر بولا۔
‎’’ہاں ہمیں کچھ رقم درکار ہے۔ دو گے ہمیں۔
‎’’آپ حکم کریں میاں صاحب! آپ حکم تو کریں۔‘‘
‎’’تو کل دن میں آجانا، ہم حساب کرکے بتا دیں گے۔ اب جائو، خوب رات ہوگئی ہے۔ اس سے زیادہ باہر رہنا اچھا نہیں ہے تمہاری بیوی کے لیے۔ جائو میاں! حجت نہیں کرتے۔‘‘
‎’’صبح کو آئوں گا میں۔‘‘ عظمت اللہ نے کہا۔
‎’’ہاں ضرور… ہم انتظار کریں گے۔‘‘ میں نے کہا اور وہ دونوں سلام کرکے واپس چلے گئے۔ جب وہ نگاہوں سے اوجھل ہوگئے تو میں دوبارہ چارپائی پر لیٹ گیا تھا۔
‎صبح ہوگئی۔ مسجد زیادہ دور نہیں تھی۔ اذان ہوتے ہی وہاں پہنچ گیا۔ نمازی دوڑتے آرہے تھے۔ یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ رمضان اور شعبان بھی آگئے تھے۔ نماز پڑھ کر ہم ساتھ باہر نکلے۔
‎’’ہمیں پتا تھا آپ یہیں ہوں گے۔ نیند آگئی تھی آرام سے۔‘‘ شعبان نے پوچھا۔
‎’’ہاں! خوب آرام سے سویا۔ نماز ہمیشہ پڑتے ہو؟‘‘
‎’’نہیں میاں صاحب! بس آج سے شروع کردی ہے۔ پہلے غلطی ہوگئی تھی۔‘‘ رمضان نے کہا۔

‎’’ایک اچھی بات ہے۔ تم نے آج سے نماز شروع کی ہے، آج ہی سے اس کی برکتیں بھی دیکھ لینا۔‘‘ میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔ ہوٹل آکر رمضان اور شعبان جلدی جلدی کام کرنے لگے۔ چائے کے دور شروع ہوگئے تھے۔ لوگ مجھ سے بڑے احترام سے مل رہے تھے، باتیں کررہے تھے۔ دس بجے رحمت اللہ، اس کا سمدھی ناظم حیات اور بیٹا عظمت اللہ ہوٹل پہنچ گئے۔ وہ تو جمال گڑھی کے سب سے دولت مند لوگ تھے۔ کبھی بھائیوں کے ہوٹل کے سائے سے گزرے بھی نہ ہوں گے۔ لوگ حیرانی سے انہیں دیکھ رہے تھے۔ تینوں نے مجھ سے مصافحہ کیا اور بنچ پر بیٹھ گئے۔ رمضان اور شعبان کے سانس پھول رہے تھے۔
‎’’سب سے پہلے تو میں آپ سے معافی مانگتا ہوں میاں صاحب! بلاشبہ مجھ سے غلطی ہوئی ہے۔ آپ سے جھوٹ نہیں بولوں گا۔ بڑی سادگی سے ملازموں کو بھیج دیا تھا آپ کو لینے کے لیے! آپ کی توہین مقصود نہیں تھی۔ بعد میں غلطی کا احساس ہوا مجھے خود آنا چاہیے تھا۔‘‘ رحمت اللہ نے کہا۔
‎’’ہم نے برا نہیں مانا رحمت اللہ صاحب! آپ بلاوجہ اس بات کو اہمیت دے رہے ہیں۔ جن دونوں بھائیوں نے اس وقت ہمیں خلوص سے اپنے پاس خوش آمدید کہا، جب ہم اس بستی میں داخل ہوئے، ہم نے سوچا کہ جو دوچار روز یہاں گزارنے ہیں، وہ انہی کے پاس گزاریں۔ بس اتنی سی بات ہے۔‘‘
‎’’ان لوگوں کا بھی احسان ہے مجھ پر!‘‘ رحمت اللہ کے پاس کھڑے رمضان اور شعبان نے کہا اور دونوں نے ہاتھ جوڑ دیئے۔
‎’’نہیں سرکار! نہیں بڑے سرکار…! ہم تو نمک کھاتے آپ کا، ہم تو رعیت ہیں آپ کی۔‘‘ دونوں بیک وقت بولے اور میں ہنس پڑا۔
‎’’واہ رحمت اللہ صاحب! آپ کی رعیت اس بے کسی کے عالم میں گزارہ کررہی ہے۔ تن ڈھکتے ہیں تو پیٹ خالی رہ جاتا ہے، پیٹ بھرتے ہیں تو بدن کھل جاتا ہے۔ ایسے تو آپ کی بادشاہت نہ چل سکے گی۔‘‘
‎’’نہیں میاں صاحب… میں کہاں کا بادشاہ! محبت ہے ان لوگوں کی جو اتنی عزت کرلیتے ہیں۔ آپ حکم دیں، میں ان کے لیے کیا کروں۔‘‘ رحمت اللہ بولے۔
‎’’قدیم باورچی خاندان ہے مگر حالات نے تباہ کردیا ہے۔ بڑی مشکل سے گزارہ کررہے ہیں۔ آپ دیکھ لیجئے کیا ہے یہاں! چائے بیچ کر جی رہے ہیں، کچھ کریں ان کے لیے۔‘‘
‎’’تم بتائو شعبان… کیا چاہیے تمہیں۔‘‘
‎’’حضور، سرکار… باپ، دادا سے حویلی کی خدمت کرتے آئے ہیں۔ سب کچھ پکانا آتا ہے ہمیں، سارے مصالحے ابا نے بتا دیئے ہیں مگر آپ شہر کے باورچی بلاتے ہیں۔ ہمیں کوئی کام نہیں ملتا۔‘‘
‎’’اب ملے گا۔‘‘ رحمت اللہ نے کہا۔ ’’اور کچھ بتائو۔‘‘
‎’’سرکار! دو چار بھانڈے مل جائیں، چمچہ، ڈوئی ہو تو کسی کے دوسرے کام بھی کرلیں۔‘‘ رمضان بولا۔
‎’’اور کچھ۔‘‘ رحمت اللہ مسکرا کر بولے۔
‎’’اوپر ٹین کی چادریں پڑ جائیں تو ہوٹل بن جائے پورا۔‘‘ شعبان خشک ہونٹوں پر زبان پھیر کر بولا۔

‎’’عظمت اللہ! یہ تمہاری ذمہ داری ہے۔ انہیں جو ضرورت ہے، پوری کردو۔‘‘ رحمت اللہ نے کہا۔
‎’’جی ابو ٹھیک ہے۔‘‘
‎’’اب آپ فرمایئے میاں صاحب! ہم آپ کی کیا خدمت کریں؟‘‘
‎’’بس رحمت اللہ صاحب! دعائے خیر کریں ہمارے لیے۔‘‘
‎’’میری آرزو ہے کہ آپ ایک وقت کا کھانا ہمارے ساتھ کھائیں۔‘‘
‎’’ایک شرط ہوگی اس کی۔‘
‎’’ارشاد فرمایئے۔‘‘
‎’’بہو کی زندگی بچ جانے کی خوشی کیجئے، شعبان اور رمضان سے کھانا پکوایئے، ہم بھی کھائیں گے۔‘‘
‎’’بہتر ہے۔‘‘ رحمت اللہ نے کہا اور پھر واپسی کے لیے اٹھ گیا۔ عظمت اللہ وہیں رک گیا تھا۔ جب وہ لوگ چلے گئے تو اس نے کہا۔
‎’’حضور نے مجھے بھی طلب کیا تھا، حکم فرمایئے؟‘‘
‎’’میاں عظمت اللہ! بس یہی درکار تھا ہمیں، ہماری مانگ پوری ہوگئی۔‘‘
‎’’میرا یہی خیال تھا۔ میں تعمیل حکم کروں گا۔‘‘ عظمت اللہ چلا گیا۔ دولت کے کھیل دلچسپ ہوتے ہیں۔ کوئی بارہ بجے لاتعداد مزدور، معمار، سیمنٹ اور اینٹوں کے ساتھ پہنچ گئے۔ عظمت اللہ ساتھ تھا۔ رمضان اور شعبان کے ہوٹل کا سارا سامان مزدوروں نے ہٹایا اور کام شروع ہوگیا۔ مزدور بے پناہ تعداد میں تھے۔ ہم ہوٹل کے سامان کے ڈھیر پر بیٹھے چراغ کے جنوں کو کام کرتے دیکھتے رہے۔ بھگدڑ مچی ہوئی تھی۔ احاطے کی نیو کھودی گئی، سیمنٹ گھولا گیا اور اینٹوں کی دیواریں کھڑی ہونے لگیں۔ شعبان اور رمضان سحر کے عالم میں تھے۔ سکتے میں بیٹھے ہوئے یہ سب دیکھ رہے تھے۔ عظمت اللہ نے ٹھیکیدار کو بتا دیا تھا کہ کیا بنانا ہے۔ سامان پر سامان چلا آرہا تھا۔ یہاں تک کہ تندور بھی لگایا گیا، مالک کے بیٹھنے
‎کا چبوترہ بھی بنایا گیا۔ ہر چیز قرینے سے کی جارہی تھی۔ آخرمیں چھت پر سیمنٹ کی چادریں بچھا دی گئیں اور اندر سے صفائی کی جانے لگی۔ عظمت اللہ خود ایک لمحے کے لیے وہاں سے نہ ہٹا تھا۔ وہ حقیقی معنوں میں مجھے خراج پیش کررہا تھا۔ پھر اس نے کہا۔
‎’’ملاحظہ فرما لیں میاں صاحب! کل یہاں ضروری فرنیچر اور برتن وغیرہ پہنچ جائیں گے۔ یہ چیزیں جمال گڑھی میں دستیاب نہیں تھیں۔ میرے آدمی خریداری کرنے گئے ہیں، صبح تک پہنچیں گے۔‘‘

‎’’تو پھر ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اس نعمت کے صلے میں اولاد نرینہ کی نعمت سے نوازے۔‘‘ میں نے مسرور لہجے میں کہا۔
‎’’اللہ آپ کی زبان مبارک کرے۔‘‘ میرے ساتھ شعبان اور رمضان بھی اپنے ہوٹل میں داخل ہوئے تھے۔ دونوں بری طرح کانپ رہے تھے۔ ان کے چہرے دھواں دھواں ہورہے تھے۔ مزدور کام مکمل کرکے چلے گئے۔
‎’’جو کمی ہو بتا دیں رمضان! پوری ہوجائے گی۔‘‘
‎رمضان نے کچھ بولنا چاہا مگر آواز نہیں نکل سکی تھی۔ بالآخر عظمت اللہ چلا گیا۔ میں نے چارپائی پر بیٹھ کر مسکراتے ہوئے کہا۔
‎’’چلو رمضان میاں! اب چائے ہوجائے۔ نیا ہوٹل مبارک ہو۔‘‘ دونوں سسک سسک کر رو پڑے تھے۔ مجھے دلی مسرت ہورہی تھی۔ اس حد تک میں نے بھی نہ سوچا تھا جو کچھ ہوا تھا، طلسم ہی لگتا تھا۔ مجھے اتنی خوشی ہورہی تھی تو ان دونوں کا کیا حال ہوگا جن کا مستقبل سنور گیا تھا۔ بعد کے کچھ روز بڑے سحر خیز تھے۔ عظمت اللہ نے قول نبھایا تھا اور سب کچھ مہیا کردیا تھا۔ یہ سب میری خوشی کے لیے ہورہا تھا۔ پورا ہوٹل بن گیا۔ لوگ طرح طرح کی باتیں کرتے تھے۔ سب یہی کہتے تھے کہ میری آمد نے ان دونوں کی خوش بختی کے دروازے کھول دیئے۔ چار دن تک تو ہوٹل کا کام نہ ہوسکا۔ پانچویں دن افتتاح ہوا اور ہوٹل میں خوب بکری ہوئی۔ اسی دوران رحمت اللہ نے اس تقریب کا اہتمام کرلیا۔ رمضان اور شعبان نے وہاں کھانا پکایا۔ میرا وہاں بہترین استقبال کیا گیا تھا۔ بے شمار پھول پہنائے گئے مجھے عورتوں اور مردوں نے، مجھے بہت عجیب لگا۔ بہرحال یہ ان کی خوشی تھی۔ خاموش ہوگیا۔ اس کے بعد بھی دو تین روز گزر گئے۔ پھر ایک دن میں نے ان دونوں سے کہا۔ ’’اب مجھے اجازت دو دوستو! بہت دن گزر گئے۔‘‘
‎’’آپ کہاں جائیں گے میاں صاحب؟‘‘
‎’’بس کہیں اور جانا ہے۔‘‘
‎’’ہرگز نہیں۔ آپ یہیں ہمارے پاس رہیں۔‘‘ رمضان بولا۔
‎’’نہیں میاں! یہ کیسے ممکن ہے۔ بس تمہارے ساتھ خوب گزری، اب آگے بڑھیں گے۔‘‘ وہ لوگ حجت کرنے لگے مگر ان کی گفتگو درمیان میں رہ گئی۔ ایک موٹر ہوٹل کے سامنے آکر رکی تھی۔ ہم سب ادھر دیکھنے لگے۔ موٹر سے ڈاکٹر بھلاّ اور دوسرے کچھ افراد نیچے اترے اور اندر داخل ہوگئے۔ وہ لوگ میرے سامنے آکر رکے تھے۔
‎’’یہ ہیں میاں صاحب!‘‘ بھلاّ صاحب نے میری طرف اشارہ کرکے کہا اور کھادی کے کرتے اور ململ کی دھوتی میں ملبوس ایک بھاری بدن کے شخص نے دونوں ہاتھ جوڑ کر کہا۔
‎’’نمسکار مہاراج۔‘‘ بھلاّ صاحب بولے۔
‎’’مجھے پہچانا میاں جی؟‘‘
‎’’کیوں نہیں، آپ ڈاکٹر بھلاّ ہیں۔‘‘

‎’’ہمیں کچھ وقت دیں گے میاں جی! کچھ کام ہے آپ سے!‘‘
‎’’بیٹھئے! کہئے کیا بات ہے۔‘‘ وہ سب بیٹھ گئے۔ بھلاّ نے کہا۔
‎’’ایک سوال ہے آپ سے مہاراج۔ آپ مسلمان ہیں۔ آپ کا دھرم تو کہتا ہے کہ انسان سب ایک جیسے ہیں۔ کوئی مشکل میں ہو تو دین دھرم سب بھول کر اس کی مدد کی جائے۔ کیا آپ دھرم کی یہ بات مانتے ہیں؟‘‘
‎’’سوفیصدی بھلاّ صاحب!‘‘
‎’’یہ سری رام جی ہیں۔ چندوسی کے رہنے والے ہیں۔ بڑی بپتا پڑی ہے ان پر۔ آپ کی سن کر آئے ہیں۔ اگر آپ انسانیت کے رشتے سے ان کی مدد کردیں تو آپ کو دعائیں دیں گے۔‘‘
‎’’اگر میں کسی قابل ہوں تو حاضر ہوں۔ کیا مشکل درپیش ہے انہیں۔‘‘
‎’’یہاں سب کچھ بتانا ممکن نہیں ہے۔ ہمارے ساتھ چلنا ہوگا آپ کو۔‘‘ بھلاّ صاحب نے کہا۔
‎’’ٹھیک ہے، چلتا ہوں۔‘‘ شعبان نے آگے بڑھ کر مجھے روکنا چاہا لیکن میں نے اسے سمجھا بجھا کر اس سے رخصت لی اور میں ان لوگوں کے ساتھ موٹر میں بیٹھ گیا اور موٹر چل پڑی۔ ڈاکٹر بھلاّکی کوٹھی بھی شاندار تھی۔ وہ لوگ میرا بڑا احترام کررہے تھے۔ مجھے ایک بیٹھک میں لے آیا گیا۔ سری رام جی میرے سامنے بیٹھ گئے۔ بھلاّ جی کپڑے بدل کر وہاں آگئے۔ انگور اور دوسرے بہت سے پھل لا کر میرے سامنے رکھ دیئے گئے۔ بھلاّ صاحب نے کہا۔
‎’’ہمارے ہاں کا پکا تو آپ نہ کھائیں گے میاں صاحب! پر یہ پھل پھول تو بھگوان پکے ہیں۔ ان میں کوئی کھوٹ نہیں ہوتی۔ کچھ لیجئے، ہمیں خوشی ہوگی۔‘‘ میں نے ایک سیب اٹھا لیا۔ بھلاّ صاحب نے کہا۔ ’’علم بھی بھگوان کی دین ہے۔ میرا اندازہ ہے میاں صاحب کہ آپ کی عمر بہت چھوٹی ہے۔ اتنی چھوٹی سی عمر میں آپ کو اتنا بڑا علم کیسے حاصل ہوگیا۔‘‘
‎’’میں نے کسی علم کا دعویٰ کبھی نہیں کیا بھلاّ صاحب! ایک چھوٹی سی بات تھی۔ میرا ایک اندازہ جو درست نکلا، رحمت اللہ صاحب کی لڑکی بچ گئی۔ نہ میں نے اس وقت درویش ہونے کا دعویٰ کیا تھا اور نہ اس کے بعد لوگوں کے سامنے جو اپنے سادہ لوحی سے یہ سمجھے تھے کہ میں کوئی فقیر یا بزرگ ہوں۔ اب لوگ ہی نہ مانیں تو میں کیا کروں؟‘‘
‎’’مانتا تو خیر میں بھی نہیں ہوں میاں صاحب! آپ نے جس اعتماد کے ساتھ وہ بات کہہ دی تھی، وہ بے مقصد نہیں تھی۔ صرف اندازے پر اتنا اعتماد نہیں کیا جاسکتا اور پھر وہ سب کچھ بالکل سچ نکلا۔ حقیقت یہ ہے کہ میں نے پوراچیک اَپ کیا تھا، نہ صرف میں نے بلکہ دوسروں نے بھی۔ آپ نے تو لڑکی کو دیکھا بھی نہیں تھا۔ اگر آپ طب سے متعلق ہوتے تو بھی میں آپ کو ایک درویش حکیم کہتا اور اسے صرف حکمت نہ مانتا۔ خیر چھوڑیئے! ہم دوسری باتوں کی طرف بھٹک گئے۔ میں سیٹھ سری رام کا بھی فیملی ڈاکٹر ہوں حالانکہ یہ چندوسی میں رہتے ہیں جو یہاں سے سو میل دور ہے۔ ان کے اہل خاندان کا علاج میں ہی کرتا ہوں۔ یہ کافی دنوں سے مشکل حالات کا شکار ہیں۔ اس بار میں خصوصی طور پر اتنا لمبا سفر طے کرکے ان کے پاس گیا اور انہیں آپ کے بارے میں بتایا۔ یہ فوراً ہی میرے پاس چلے آئے۔ میں نے دونوں کا سامنا کرا دیا ہے۔ اب یہ جانیں اور آپ…!‘‘
‎’’مگر ڈاکٹر صاحب! میاں جی تو کہتے ہیں کہ یہ پیر اور درویش نہیں ہیں اور صرف اندازے کی وجہ سے ایسا ہوگیا تھا۔‘‘ سری رام نے کہا اور بھلاّ صاحب ہنس پڑے۔ پھر مجھ سے بولے۔
‎’’آپ نے دیکھا کتنے سادہ انسان ہیں ہمارے سری رام جی! مہاشے جی ہم بے وقوف نہیں ہیں جو اتنی دور پہنچے تھے آپ کے پاس۔ درویش اپنے منہ سے خود کو کچھ نہیں کہتے۔ آپ اپنی مشکل بتائیں۔‘‘
‎’’معاف کردیں مہاراج! بدھی الٹ گئی ہے اپنی۔ ایسی ہی کٹھنا پڑی ہے ہم پر… بھگوان نے اتنا دیا ہے ہمیں کہ رکھنے کی جگہ کم پڑ گئی۔ پر سنتان میں کمی کردی۔ بڑی مان مرادوں سے ایک بیٹی پیدا ہوئی۔ وہ بھی بھگوان سورگ میں جگہ دے صالحہ اماں کو چلے میں بیٹھ گئی تھیں چالیس دن کے اور کہہ کر بیٹھی تھیں کہ سری رام تیرے لیے اولاد لے کر ہی اٹھوں گی اور ایسا ہی ہوا۔ ہمیں پاگل مت سمجھنا میاں جی۔ جو منہ میں آرہا ہے، بک رہے ہیں۔ تم صالحہ اماں کو کیا جانو۔ ہمارے بچپن کا دوست ہے سلامت علی۔ ساتھ اٹھے، ساتھ پلے بڑھے۔ ساتھ ساتھ پڑھے اور اب بھی آمنے سامنے رہتے ہیں۔ چندوسی میں ہماری محبت مشہور ہے۔ اس کے بال، بچے اپنے چاچا، تائو سے زیادہ ہمیں مانتے ہیں۔ صالحہ اماں اس کی ماں تھیں، اب سورگباش ہوگئی ہیں تو انہی کی دعا سے بھگوان نے بیٹی دی ہمیں۔ پالی پوسی جوان کی مگر…!‘‘ سری رام جی کی آواز کپکپا گئی۔
‎’’وہ خیریت سے تو ہے؟‘‘
‎’’بس میاں جی! کیا خیریت سے ہے، کیا بتائیں۔‘‘
‎’’سب کچھ بتائو سری رام جی! کوئی بات چھپانے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ بھلاّ صاحب نے کہا۔
‎’’جوانی آتے ہی مصیبت میں پھنس گئی ہماری اکلوتی بیٹی۔‘‘
‎’’کیا ہوا…؟‘‘ میں نے کہا۔
‎’’گووندا حرام خور چمار کی اولاد ہے۔ تیرہ سال کا تھا سو گھر سے بھاگ گیا۔ واپس آیا تو کالی موری پر اڈہ بنا لیا اپنا اور چندوسی والوں کو پریشان کرنے لگا۔‘‘
‎’’وہ کہیں سے سفلی علم سیکھ آیا ہے۔ کالی موری چندوسی کے کنارے پر ایک ویرانہ ہے جہاں زمانۂ قدیم میں کالی دیوی کا ایک مندر تھا جو ٹوٹ پھوٹ گیا۔ اس حرام خور نے وہیں اپنا ٹھکانہ بنایا اور گندے کام شروع کردیئے۔ کسی کی پگڑی اچھالی، کسی سے مال اینٹھا۔ سارے کے سارے پریشان ہیں اس سے۔ ہماری بٹیا بھی اس کی نظروں میں آگئی اور سسرا ہمارے پاس آکر بولا کہ پنڈت جی! ہمارا بیاہ کردو اپنی بٹیا سے۔ من جو لگی، وہ تو ہم ہی جانتے ہیں۔ بھری سبھا میں کیچڑ پھینکی اس نے ہم پر، مگر جانتے تھے کہ وہ نہیں بول رہا، اس کا کالا جادو بول رہا ہے۔ برداشت کرگئے حالانکہ ایک اشارہ کردیں تو سو پچاس مارے جائیں اس کی ذات کے۔ بہت سوں نے ہم سے کہا پر ہم نہ مانے۔ ہم نے انہیں سمجھاتے ہوئے کہا کہ بات اس نیچ ذات نے کہی ہے، دوسروں کا کیا دوش ہے۔ دنگا فساد نہ کرائو، بے گناہ مارے جائیں گے، گناہگار کا کچھ نہ بگڑے گا۔ بڑی مشکل سے لوگ مانے مگر وہ نہ مانا اور اپنی اڑ پر لگا رہا۔ ہمارے گھر پر جادو ٹونے ہونے لگے، تجوریوں میں بچھو بھر گئے، سونے کے زیور سانپ بن گئے اور نہ جانے کیا کیا ہونے لگا…‘‘
‎’’تجوریوں میں بچھو بھر گئے!‘‘ میرے بجائے بھلاّ صاحب بول پڑے۔
‎’’ارے ہاں بھلاّ جی۔ ایک ہو تو بتائیں۔ روپیہ رکھا رہتا ہے تجوریوں میں ایک دن کچھ ضرورت پڑی تجوری کھولی ہاتھ ڈالا تو بچھو نے کاٹ لیا۔ جھانک کر دیکھا تو کوئی دس بیس بچھو ڈنک اٹھائے بڑے مزے سے اندر گھومتے پھر رہے ہیں۔ ارے بھیا وہ بچھو چڑھا کہ نانی ہی یاد آگئی۔ دوسروں کو بتایا سب نے بچھو دیکھے گواہی دلوا دیں گے۔ دھرم پتنی زیور پہن کر شادی میں گئی عورتیں چیخیں مارنے لگیں، گردن میں سانپ لٹک رہا تھا۔ دھرم پتنی بے ہوش ہی ہوگئی ڈر کے مارے۔ بعد میں زیور پھر زیور بن گیا۔ ایسے بہت سے کھیل ہوئے۔

‎’’اصل واقعہ بتائو سری رام جی۔‘‘ بھلاّ صاحب بولے۔
‎’’وہی بتا رہے ہیں ڈاکٹر بھیا! تنگ آگئے ہیں ہم تو۔ بات بہت لمبی ہے، میاں جی پریشان تو نہیں ہوگئے؟‘‘
‎’’نہیں…!‘‘ میرے منہ سے بے اختیار نکلا۔
‎’’وہ پاجی ہم سے کہتا رہا کہ پوجا وتی اسے دے دی جائے ورنہ یہ گھر نرکھ بن جائے گا۔ اس بیچ کئی رشتے آئے ہوئے تھے ہماری پوجا کے، ہم نے سوچا اس کی شادی کردیں تاکہ ہمیں نجات مل جائے۔ اس لیے ہم نے سوچ بچار کرکے پنڈت اوم پرکاش کے بیٹے ست پرکاش کا رشتہ منظور کرلیا۔ اوم پرکاش جی خود بھی یہی چاہتے تھے کہ چٹ منگنی پٹ بیاہ ہوجائے۔ ہم نے بھی آمادگی کا اظہار کردیا۔ وہ بھی بہت بڑے آدمی ہیں۔ چندوسی کے قریب ہی ان کا اپنا گائوں ہے روپ نگر… بہرحال بھیا! ساری باتیں طے ہوگئیں۔ روپ نگر سے ست پرکاش کی بارات آگئی۔ ہم نے بھی دھوم دھام سے ساری تیاریاں کی تھیں اور آدمی لگا دیئے تھے اپنے کالی موری پر کہ پاپی گووندا کوئی گڑبڑ نہ کرے۔ کہہ دیا تھا ہم نے اپنے آدمیوں سے کہ اگر گووندا کالی موری کے علاقے سے باہر نکل کر ہماری طرف آنے کی کوشش کرے تو لاٹھیاں مار مار کر اس کا بھیجا نکال دیا جائے۔ ہمارے آدمی وہیں اس کی نگرانی پر لگ گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ گووندا ایک لکیر کاڑھ کر اس کے بیچ کھڑا ہوگیا تھا اور وہیں کھڑا رہا تھا۔ ادھر یہ ہوا بھیا کہ بارات آئی، سب ٹھیک ٹھاک تھا، مہمان خوش تھے۔ کچھ ایسے بھی تھے جنہیں گووندا کی بدمعاشی معلوم تھی۔ وہ یہ سوچ رہے تھے کہ کالے جادو کا ماہر کہیں کوئی جادو نہ کرے۔ بڑی پریشانی تھی ہمیں بھی اور ہماری دھرم پتنی کو بھی! سارے کے سارے ہی گووندا کی وجہ سے پریشان تھے اور یہ سوچ رہے تھے کہ بھگوان کرے کہ یہ شادی آرام سے ہوجائے۔ مگر کہاں میاں جی۔ ’’ہون کنڈ‘‘ تیار تھا۔ اگنی جل رہی تھی، پنڈت اشلوک پڑھ رہا تھا۔ پوجا کا پلو ست پرکاش کے دامن سے باندھ دیا گیا تھا۔ پہلا پھیرا ہوگیا۔ دوسرا جو ہونے لگا تو اچانک ہی پوجا کی بھیانک چیخ ابھری اور پھر چاروں طرف سے چیخیں ابھرنے لگیں۔ ہم نے بھی دیکھا ست پرکاش، ست پرکاش نہیں رہا تھا بلکہ ایک ڈھانچہ بن گیا تھا۔ سوکھی ہوئی ہڈیوں والا انسانی ڈھانچہ! جس کے ہاتھ، پائوں لٹک رہے تھے۔ وہ پوجا کا پلو اپنے ایک ہاتھ میں تھامے ’’ہون کنڈ‘‘ کے کنارے کنارے سے آگے بڑھ رہا تھا۔ ست پرکاش کے پتاجی کی چیخیں ابھرنے لگیں اور پوجا بے ہوش ہوکر نیچے گر پڑی۔ بڑی مشکل سے اس ڈھانچے کے ہاتھ سے پوجا کا پلّو چھینا گیا۔ پوجا کو اٹھا کر اندر لے جایا گیا۔

‎ادھر سارے کے سارے چیخ چلا رہے تھے اور ست پرکاش ایک ڈھانچے کی شکل میں ’’ہون کنڈ‘‘ کے کنارے کھڑا ہوا بھیانک انداز میں اپنی سوکھی ہوئی کھوپڑی ہلا رہا تھا۔ پھر کسی نہ کسی طرح پنڈت اوم پرکاش جی کو پتا چل گیا کہ معاملہ کیا ہے۔ بتانے والے بھلا کیوں زبان بند رکھتے، بس میاں جی عزت لٹنی تھی، سو لٹ گئی۔ گریبان پکڑ لیا پنڈت جی نے ہمارا، کہنے لگے کہ دھوکا کیا ہے ہم نے۔ اب بھلا بتائو ہم نے کیا دھوکا کیا۔ ایک گندے علم کا ماہر، ایک سفلی علم جاننے والا ہمارے پیچھے لگ گیا تھا تو اس میں ہمارا کیا قصور تھا۔ کہتے بھی تو کیا۔ یہ تو نہیں کہہ سکتے تھے کہ اس ڈھانچے کے ساتھ پوجا کے پھیرے کرا دو۔ جب سارے کام ہونے والے تھے تو یہ ہوگیا تھا۔ بھیا! عزت الگ لٹی، گالیاں الگ کھائیں، پنڈت اوم پرکاش اور ان کی پتنی دھاڑیں مار مار کر رو رہے تھے۔ پھر یہ طے کیا انہوں نے کہ جو کچھ بھی ہے، ست پرکاش کے ڈھانچے ہی کو ساتھ لے جائیں۔ سوکھا ہوا ڈھانچہ کسی کو نقصان نہیں پہنچا رہا تھا۔ ویسے ان کا کہنا بھی ٹھیک ہی تھا۔ ہماری ہی وجہ سے یہ سب کچھ ہوا تھا۔ بہرحال عجیب تماشا تھا۔ لوگ ڈھانچے کے قریب آنے سے ڈر رہے تھے۔ ماتا،پتا بھی دھاڑیں تو مار رہے تھے مگر قریب کوئی نہیں آرہا تھا۔ ست پرکاش کو ایسی ہی شکل میں واپس لے جایا گیا اور پھر جو کہانی سنی، وہ یہ تھی کہ جیسے ہی ست پرکاش چندوسی کی سرحد سے باہر نکلا، اس کی اصلی شکل واپس آگئی۔ وہ کھویا کھویا سا تھا۔ اسے اپنا بدن تو واپس مل گیا لیکن اس کا دماغ ٹھیک نہیں رہا۔ آج بھی سنا ہے کہ وہ باولا ہے اور ادھر سے ادھر مارا مارا پھرتا رہتا ہے۔ بے چارے اوم پرکاش جی جگہ جگہ اس کا علاج کراتے پھر رہے ہیں۔ ہم سے تو دشمنی پڑ گئی ہے ان کی، ہمارا نام سن کر تو کانوں کو ہاتھ لگاتے ہیں۔ یہ ہے ہماری بپتا میاں جی! اس کے بعد بھی کچھ کہانی ہے۔ وہ یہ ہے ساری باتیں تمہیں بتا دینا ضروری ہیں۔ اب جب اتنی باتیں بتائی ہیں تو اور کچھ چھپانے سے کیا فائدہ…
‎میں دلچسپی سے یہ سب کچھ سن رہا تھا اور میری آنکھیں حیرت سے پھیلی ہوئی تھیں۔
‎سری رام جی نے کچھ دیر کے بعد کہا۔ ’’جو ہونا تھا، وہ ہوچکا تھا۔ ہماری بربادی ہوگئی تھی، لوگ انگلیاں اٹھاتے ہیں مگر کسی کی زبان کون روکے۔ ہمارے ایک ماما جی رہتے ہیں گونا پور میں، شادی میں بھی آئے تھے، سب کچھ دیکھا اپنی آنکھوں سے، کوئی دو مہینے پہلے وہ ہمارے پاس آئے اور بولے کہ انہوں نے کالے جادو کے ایک ماہر سے بات کی ہے۔ اگر تم کہو تو اس سے پوجا کا علاج کرایا جائے، ہم تیار ہوگئے، اس مصیبت سے چھٹکارا تو ملے، بعد میں اس کی شادی بیاہ کا معاملہ دیکھا جائے گا۔ ماما جی، گنگولی پرشاد کو لے آئے۔ چالیس سال کا ایک لمبا تڑنگا آدمی ہے۔ آیا، پوجا کو دیکھا اور پاپی بدل گیا۔‘‘
‎’’بدل گیا…؟‘‘ میں نے چونک کر کہا۔
‎’’ہاں…!‘‘

‎’’وہ کیسے…؟‘‘ میں پوری طرح اس کہانی میں دلچسپی لے رہا تھا اور مجھے یہ بہت عجیب لگ رہی تھی۔
‎’’اس نے اس وقت تو کہا کہ وہ علاج کرے گا اور یہ علاج نہیں بلکہ گووندا سے جنگ ہوگی۔‘‘ ہم نے اس سے کہا کہ روپے پیسے کی فکر نہ کرے۔ جو مانگے گا، وہ دیں گے اور وہ ہنسنے لگا۔ پھر بولا۔ ’’روپیہ پیسہ بعد کی بات ہے، پہلے گووندا کو دیکھنا ہوگا۔ اسے بڑے پریم سے ہم نے حویلی میں ٹھہرایا۔ اس نے ماما جی سے ایک ایسی بات کہی کہ ہمارے ہوش اڑ گئے۔‘‘
‎’’کیا کہا…؟‘‘
‎’’اس نے کہا کہ پوجا کا ایک ہی علاج ہوسکتا ہے وہ یہ کہ اس کی شادی کردی جائے۔ ماما جی نے اسے بتایا کہ ایک بار یہ کوشش ہوچکی ہے اور نتیجہ یہ نکلا تھا۔ اس پر اس نے کہا کہ یہ شادی کسی ایسے سے کی جائے جو گووندا کا مقابلہ کرسکے۔ ماما جی نے اس سے پوچھا کہ ایسا کون ہوسکتا ہے تو وہ بولا کہ وہ خود…!‘‘
‎’’اوہ… وہ… وہ…‘‘ میں نے کہا۔
‎’’ہاں! پوجا بہت خوبصورت ہے میاں صاحب! بہت ہی سندر بچی ہے، وہ جو ایک بار دیکھتا ہے، وہ اسے دیکھتا رہ جاتا ہے۔ وہ کمبخت بھی اس کے چکر میں پڑ گیا۔ اس کا کہنا ہے کہ پوجا سے اس کی شادی کردی جائے، وہ گووندا کو سنبھال لے گا۔‘‘ اس بار ڈاکٹر بھلاّ نے کہا۔
‎’’گووندا کے بارے میں کچھ اور معلوم ہوا…؟‘‘ میں نے پوچھا۔
‎’’کیا…؟‘‘ سری رام بولے۔
‎’’اسے گنگولی کی آمد کے بارے میں معلوم ہے؟‘‘
‎’’ہاں… گنگولی کی یہ بات سن کر سری رام جی نے اسے فوراً گھر سے نکال دیا مگر وہ دو مہینے سے واپس نہیں گیا بلکہ اس نے بھی کالی موری سے کچھ فاصلے پر ایک پرانے برگد کے پاس اپنا استھان جما لیا ہے۔‘‘
‎’’ابھی تک وہیں ہے…؟‘‘
‎’’ہاں…!‘‘ سری رام ٹھنڈی سانس لے کر بولے۔ بھلاّ صاحب بے اختیار مسکرا پڑے۔ پھر بولے۔
‎’’معافی چاہتا ہوں میاں صاحب! گستاخی ضرور ہے مگر مجھے اندازہ ہوا تھا کہ سری رام جی آپ کو دیکھ کر چونکے تھے۔ شاید انہوں نے سوچا ہو کہ آپ بھی نوجوان ہیں مگر آپ مسلمان ہیں اور خیر …چھوڑیئے میری بات… تو یہ مسئلہ ہے۔‘‘
‎میں ہنسنے لگا۔ پھر میں نے کہا۔ ’’آپ نے اس گفتگو میں بے جا رخنہ اندازی کی ہے بھلاّ صاحب! کچھ سوالات آئے تھے میرے ذہن میں جو میں سری رام جی سے پوچھنا چاہتا ہوں۔‘‘
‎’’پوچھیں مہاراج!‘‘ سری رام بولے۔
‎’’آپ کی بیٹی کا کیا حال ہے؟‘‘
‎’’خاموش رہتی ہے، دیواریں تکتی رہتی ہے، کچھ نہیں بولتی اس بارے میں..!‘‘
‎’’دوسرا سوال …گووندا کے ماں، باپ اور دوسرے رشتے دار نہیں ہیں؟‘‘
‎’’سب ہیں مگر جب سے وہ واپس آیا، ان سے دور ہوگیا ہے۔

‎وہ خود بھی اس کے خلاف ہیں اور میرے آگے ہاتھ جوڑ کر روتے ہیں کہ ان کا کوئی دوش نہیں ہے۔‘‘
‎’’گنگولی دوبارہ آپ کے پاس آیا۔‘‘
‎’’آتا رہتا ہے۔ وہ بھی گندے علم کرتا ہے۔ شیطان ہے وہ پورا! ماما جی نے ایک اور مصیبت لا کھڑی کی ہے مگر کسی کو کیا کہیں۔‘‘
‎میں سوچ میں ڈوب گیا۔ میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کروں، کیا کہوں مگر اس وقت بابا فضل کے کچھ الفاظ یاد آئے۔ ’’جو ہے، اسے خرچ کرو۔ کسی تفریق کے بغیر کہ انسان یکساں ہے اور بے بس ہے۔‘‘ تب میں نے کہا۔
‎’’میں ایک بے وقعت آدمی ہوں۔ پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ نہ درویش ہوں، نہ عالم! لیکن کوشش کرنا چاہتا ہوں۔ اگر کچھ نہ کر پائوں تو مجھے ذمہ دار نہ سمجھیں…!‘‘
‎’’بالکل نہیں میاں صاحب! کوشش ہی کی جاسکتی ہے۔‘‘ بھلاّ صاحب بولے۔
‎’’تب ٹھیک ہے… میں آپ کے ساتھ چلنا چاہتا ہوں سری رام جی…!‘‘ میں نے فیصلہ کرلیا…!
‎اس فیصلے میں اس کہانی سے میری دلچسپی بھی شامل تھی جو کچھ میں نے سُنا تھا وہ انوکھا لگا تھا مجھے۔ کالے جادو کے دو ماہروں میں ٹھن گئی تھی، بقول سری رام جی کے گنگولی بھی دو ماہ سے وہاں مقیم ہے۔ مگر میں کروں گا کیا؟ مجھے ان دونوں سے کس طرح نمٹنا ہوگا زیادہ سوچنے کا موقع نہیں مل سکا۔ سری رام نے کہا۔
‎’’تو پھر مہاراج دیر کس بات کی ہے۔‘‘
‎’’ہاں دیر کرنا بیکار ہے، کام جتنی جلدی شروع ہو جائے اچھا ہے۔ اگر اجازت ہو تو میں ملازم کو بھیج کر ٹرین کا وقت معلوم کرا لوں۔‘‘ بھلّا صاحب بولے۔
‎’’ٹکٹ ہی منگوا لیں بھلّا جی۔ وقت معلوم کرانے سے کیا فائدہ۔‘‘ سری رام نے کہا۔
‎’’کیوں میاں صاحب؟‘‘

‎’’جی ہاں ٹھیک ہے مگر مجھے رمضان کے ہوٹل پہنچا دیں وہیں سے ساتھ لے لیں۔‘‘
‎’’جو حکم۔‘‘ بھلّا صاحب نے کہا۔ کچھ دیر کے بعد میں بھائیوں کے ہوٹل پہنچ گیا۔ رمضان شعبان کو بس اتنا بتایا تھا کہ میں جا رہا ہوں، دونوں منہ بسورنے لگے۔ بڑی مشکل سے انہیں سمجھایا کہ میرا جانا ضروری ہے۔ بہت کچھ کہا انہوں نے اور اس وقت تک کہتے رہے جب تک بھلّا صاحب کی کار مجھے لینے نہ پہنچ گئی۔
‎’’چندوسی کے لیے ریل آدھے گھنٹے کے بعد مل جائے گی، ٹکٹ آ گئے ہیں۔‘‘ سری رام نے کہا اور میں تیار ہو گیا۔ اسٹیشن پر بھلّا صاحب نے کہا۔
‎مجھے یقین ہے کہ سری رام کچھ نہ کچھ ہو جائے گا، مجھے خبریں ضرور بھیجتے رہنا۔ جوں ہی مجھے فرصت ملی میں خود بھی آئوں گا۔ ریل آ گئی اور ہم دونوں فرسٹ کلاس کے ڈبّے میں سوار ہوگئے۔ سری رام جی بڑے نیازمند نظر آ رہے تھے میرے سامنے، بچھے جا رہے تھے۔
‎’’ہماری عزت لٹ گئی ہے مہاراج، لوگ طرح طرح کی باتیں کرتے ہیں۔ کسی کا ہاتھ روکا جا سکتا ہے زبان نہیں۔ اگر ہمارا کام ہو جائے تو ہم آپ کے چرن دھو دھو کر پئیں گے۔‘‘
‎’’دیکھیں سری رام جی اللہ کی کیا مرضی ہے۔‘‘
‎’’میاں جی آپ کا کوئی نام تو ہوگا، کس نام سے پکاریں آپ کو۔‘‘ سری رام نے کہا اور میں ہنس پڑا۔
‎’’جمال گڑھی میں رہ کر تو میں اپنا نام خود بھول گیا۔‘‘
‎’’کیوں مہاراج؟‘‘
‎’’وہاں کبھی کسی نے میرا نام نہیں پوچھا۔ سب میاں صاحب اور میاں جی ہی کہتے رہے۔ میرا نام مسعود ہے۔‘‘
‎’’ہم آپ کو مسعود میاں کہیں۔ ویسے ایک بات ہے مہاراج بہت چھوٹی سی عمر میں بھگوان نے آپ کو اتنا بڑا گیان دے دیا۔ آپ کی عمر کچھ بھی نہیں لگتی، اگر یہ داڑھی صاف کرا دیں تو لڑکے لگیں۔‘‘ سری رام کے ان الفاظ پر پہلی بار مجھے اپنے اس حلیے کا خیال آیا، نہ جانے کیسی صورت ہو رہی ہے، غور کرنے کا موقع ہی نہیں ملا تھا۔ چہرے پر ہاتھ پھیر کر دیکھا دل میں خیال آیا کہ آئینہ تو دیکھوں، مسکرا کر خاموش ہوگیا۔ سری رام نے پھر کہا۔ ’’چندوسی میں ہم آپ کو سلامت علی کے گھر ٹھہرائیں گے، ہمارا بچپن کا یار ہے، ہر اچھے بُرے کا ساتھی۔ آپ کو بھی آسانی رہے گی، اس کا گھر ہمارے گھر کے بالکل سامنے ہے۔‘‘
‎’’ہاں یہ بہتر رہے گا۔‘‘
‎’’اس کے بچّے ہیں۔ فراست تو آپ کے برابر ہی ہوگا جو کچھ آپ چاہیں گے وہاں آپ کی خوشی کے مطابق ہو جائے گا۔‘‘ چندوسی آ گیا ایک تانگے میں بیٹھ کر، میں اور سری رام چل پڑے۔ تھوڑی دیر سفر جاری رہا اور پھر ہم ایک علاقے میں آ گئے۔ بڑی سی عمارت بنی ہوئی تھی جس کا طرز تعمیر ہندوانہ تھا۔ سامنے ہی دُوسری عمارت تھی اس کے بغلی دروازے پر ہم اُتر گئے، غالباً احتیاط کے پیش نگاہ سری رام جی سامنے والے دروازے پر نہیں گئے تھے۔ البتہ سلامت علی کے گھر میں ان کا دخل کافی معلوم ہوتا تھا، وہ مجھے اس دروازے سے اندر لائے۔ ایک شخص نظر آیا تو انہوں نے کہا۔
‎’’شریف۔ بغلی بیٹھک کھول دو۔‘‘
‎’’کھلی ہوئی ہے لالہ جی…‘‘ شریف نے کہا اور ہم اس طرف چل پڑے۔ شریف نے آگے بڑھ کر دروازہ کھولا تھا۔
‎’’سلامت کہاں ہے۔‘‘
‎’’اندر ہیں۔‘‘
‎’’بتا دو اور ہاں کسی اور کو میرے آنے کے بارے میں کچھ نہیں بتانا ہے، سمجھ گئے۔‘‘
‎’’جی لالہ…‘‘

‎’’چائے بھی تیار کرا لو…‘‘ ملازم شریف گردن ہلا کر چلا گیا۔ بیٹھک بڑی آرام دہ تھی، دیوان پڑے ہوئے تھے، ماحول خوب ٹھنڈا تھا۔ چند ہی منٹ کے بعد ایک شخص اندر داخل ہوگیا۔ گورا چٹّا رنگ، چھوٹی سی داڑھی، اچھی شخصیت تھی۔ اندر داخل ہو کر اس نے پہلے مجھے پھر سری رام کو دیکھا اور پھر مجھے سلام کیا، جس کا میں نے جواب دیا تھا۔
‎’’میرا نام سلامت علی ہے۔ اس نے بتایا۔‘‘
‎’’مجھے مسعود کہتے ہیں۔‘‘
‎’’بڑی خوشی ہوئی آپ سے مل کر۔ سری رام تم جس کام سے گئے تھے۔‘‘ وہ سوالیہ انداز میں بولا۔
‎’’بھلّا جی نے مسعود میاں جی کے بارے میں ہی بتایا تھا۔‘‘
‎’’اوہ… اچھا معاف کیجئے مسعود میاں… آپ تو بہت کم عمر ہیں لیکن میں خدا کی دَین کا قائل ہوں۔ اللہ تو کسی کو بھی کسی بھی عمر میں کچھ دے سکتا ہے۔‘‘
‎’’سلامت کو سب کچھ معلوم ہے میاں جی ان سے ساری باتیں کر کے گیا تھا، البتہ نئی بات اب کروں گا۔ سلامت میں نے میاں جی کو تمہارے ہاں ٹھہرانے کا فیصلہ کیا ہے ان کے بارے میں کسی کو کچھ نہیں بتانا ہے۔ پوجا سے بھی میں انہیں تمہارے مہمان کی حیثیت سے ملائوں گا، بعد میں مسعود میاں جی کے مشورے سے ہم کام کریں گے۔‘‘
‎’’بڑی خوشی سے، بلکہ یہ زیادہ بہتر ہے۔‘‘
‎’’چائے پلائو اس کے بعد گھر جائوں گا۔‘‘
‎’’شریف سے کہا ہے۔‘‘
‎’’ہاں…‘‘
‎’’بس تو آتی ہوگی۔‘‘ سلامت علی نے کہا اور کچھ دیر کے لیے خاموشی چھا گئی، اس دوران سلامت علی کئی بار مجھے چور نظروں سے دیکھ چکا تھا۔ بالآخر اس نے کہا وہ رحمت اللہ کی بیٹی کا کیا معاملہ نکلا جو بھلّا نے بتایا تھا۔
‎’’پوری جمال گڑھی میں چرچا ہے، دُھوم مچی ہوئی ہے میاں جی کی۔ بھگوان نے ایک زندگی کو موت کے منہ میں جانے سے بچا لیا۔‘‘
‎’’بڑی سنسنی خیز بات ہے۔ چائے آ گئی اور سری رام چائے پینے کے بعد مزید کچھ دیر رُکا پھر چلا گیا۔ سلامت علی البتہ میرے پاس بیٹھ گیا تھا کچھ دیر کے بعد اس نے کہا۔‘‘ آپ کا تعلق کہاں سے ہے مسعود میاں۔
‎’’اللہ کی بنائی ہوئی تمام انسانی آبادی سے…‘‘
‎’’وہ تو ٹھیک ہے مگر والدین، گھر بار، عزیز و اقارب…‘‘

‎’’حکم ہے کہ انہیں بھول جایا جائے، خلق اللہ کی خدمت کی جائے۔‘‘ میں نے کہا۔
‎’’سبحان اللہ… بہت بڑا کام ہے میں اسے اپنی خوش قسمتی سمجھتا ہوں کہ کچھ وقت آپ کی خدمت کی سعادت مجھے ملی، میرے بچّے بچیاں ہیں کچھ دُعائیں ان کے لیے بھی کر دیں۔ ایک بات اور پوچھنا چاہتا ہوں۔‘‘
‎’’جی ضرور…‘‘
‎’’سری رام نے اپنی مشکل آپ کو بتا دی ہوگی۔ اس کی ذات برادری کا معاملہ ہے، وہ ہندو ہے اور اس کا گھرانہ مذہبی طور پر بہت کٹّر ہے۔ غالباً لوگ اس بات پر اعتراض کریں گے کہ وہ ہندو ذات ہونے کے باوجود ایک مسلمان سے یہ کام کرا رہا ہے، یہ اس کی مشکل ہے، چنانچہ اس بات کو چھپانا پڑے گا کہ آپ یہاں کس مقصد سے آئے ہیں۔ آپ کو اس پر اعتراض تو نہیں ہوگا؟‘‘
‎’’سلامت علی صاحب… اچھا ہے آپ نے یہ بات کہہ دی، مجھے زبان کھولنے کا موقع مل گیا۔ میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ نہ تو میں کوئی عامل ہوں نہ درویش، نہ فقیر نہ پہنچا ہوا کوئی انسان۔ ہاں کسی بزرگ ہستی سے انسان کی مشکل میں کام آنے کا حکم ملا ہے اور رُوحانی رہنمائی کا وعدہ کیا گیا ہے۔ بس اسی کے سہارے کچھ کر لیتا ہوں۔ مجھ سے کہا گیا ہے کہ انسان اگر مشکل میں ہو تو اس کے دین دھرم پر غور نہ کروں بلکہ جو کچھ مجھ سے بن پڑے کروں۔‘‘
‎’’جو داستان میں نے سنی ہے اس کے بارے میں نہیں جانتا کہ میں اس کے لیے کیا کر سکتا ہوں، اگر رہنمائی ہوئی تو شاید کچھ ہو جائے ورنہ معذور ہوں۔ مجھے نام و نمود سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ اس لیے کسی بھی بات کو منظرعام پر لانا ضروری نہیں ہے۔ اس سے میری بھی بچت ہے۔ اگر کچھ نہ کر سکا تو خواہ مخواہ کی شرمندگی نہ اُٹھانی پڑے گی۔ آپ میری بات پر حیران نہ ہوں سلامت علی صاحب، درحقیقت میں نے جو کچھ عرض کیا ہے وہ سچائی پر مبنی ہے۔ میں کچھ بھی نہیں ہوں، بس کچھ بزرگوں کا فیض ہوگیا ہے۔ دُوسروں کی مشکلات حل کرنا چاہتا ہوں، بزرگوں کی رہنمائی میں اور اگر کچھ کرنے میں کامیاب ہوگیا تو پھر اپنی مشکلات کے لیے کچھ کر سکتا ہوں۔‘‘

تمام اردو کہانیاں پڑھنے کے لیے کلک کریں 

کالا جادو - پارٹ 10

Urdu stories online, Urdu stories for kids, Short Urdu stories, Urdu Kahaniyan, Famous Urdu stories, Urdu stories with moral, Best Urdu stories collection, Urdu stories for students, Urdu love stories, Urdu horror stories, Urdu stories for reading, Urdu stories in Urdu text, Funny Urdu stories, Urdu stories for beginners, Urdu detective stories, Urdu motivational stories, Urdu stories for adults, Urdu moral stories, Urdu stories for children, Urdu true stories, Urdu suspense stories, Urdu emotional stories, Urdu adventure stories,

hindi moral stories in urdu,سبق آموز کہانیاں, jin-ki-dushmni,good moral stories in urdu,Moral Stories,Urdu Stories,urdu kahani,اردو کہانی,قسط وار کہانیاں,
Reactions