کالا جادو - ایم اے راحت - قسط نمبر 14

قسط وار کہانیاں
کالا جادو - اردو کہانی قسط نمبر 14
رائیٹر :ایم اے راحت


‎میں نے بے بسی سے درخت کی جانب نظر اُٹھائی تو ایک بار پھر ایک دہشت بھری کیفیت کا سامنا کرنا پڑا، ہاں وہ درخت تھا تو درخت ہی لیکن اس کی دو شاخیں جو سامنے کی سمت پھیلی ہوئی تھیں وہ انسانی بازوئوں کی شکل رکھتی تھیں اور اس کا تنا انسانی جسم کی کیفیت اختیار کرتا جا رہا تھا۔ تنے کے اس حصے پر جہاں سے بقیہ شاخیں مختلف سمتوں کو تقسیم ہو جاتی تھیں بھوریا چرن کا چہرہ نظر آ رہا تھا۔ بھوریا چرن جو مسکرا رہا تھا، ایک طنز بھری شیطانی مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر کھیل رہی تھی۔ یہ بھی نظر کا واہمہ نہیں تھا بلکہ ایک حقیقت تھی جو روشن دوپہر میں چلچلاتی دُھوپ میں میرے سامنے عیاں ہوگئی تھی۔ پھر مجھے بھوریا چرن کی وہی مخصوص مکروہ آواز سنائی دی۔
‎’’کیسے ہو میاں جی، کیا حال چال ہیں تمہارے؟‘‘ میں نے نفرت بھری نگاہوں سے بھوریا چرن کو دیکھا اور کوئی جواب نہیں دیا بلکہ شدید غصے کے عالم میں اس پر تھوک دیا۔ بھوریا چرن ہنسنے لگا پھر بولا۔

‎’’اب تو تمہارا۔ یہ تھوک بھی بڑا قیمتی ہوگیا ہے کبھی کسی پر تھوک کر دیکھ لینا مہاراج مگر بڑے بے ایمان ہو تم، بہت ہی ناشکرے اگر یہ سب کچھ کسی اور کو مل جاتا تو چرن دھو دھو کر پیتا بھوریا چرن کے، ہمارے کسی دھرم والے کو یہ شکتی مل جاتی مہاراج تو نجانے کیا کر ڈالتا وہ۔ گرو مان لیتا ہمیں اپنا۔ مگر تم تم ہو ہی برے خون والے گرو، پر تھوک رہے ہو۔ ارے سات پورن ماشیاں بنائی ہیں ہم نے تمہارے لیے۔ سات پورنیوں کو سترہ انسانوں کا خون دے کر جگایا ہے اور وہ ساری کی ساری اب تمہاری سیوک بن گئی ہیں۔ ایک سو اکہتّر بیر ان کے قبضے میں ہوتے ہیں اور یہ سارے کے سارے تمہارے اُوپر بلیدان ہونے کو تیار ہیں۔ دیکھ لیا تم نے، کس کی مجال ہے کہ تمہاری طرف اُنگلی اُٹھا جائے۔ لڑ مریں گے یہ سُسرے تمہارے لیے اور وہ سات پورنیاں جو اس بائولے جیوتشی کے گھر میں اُتری تھیں۔ سات اَپسرائیں ہیں کسی کو مل جائیں تو وہ آکاش پر قدم رکھنے کی کوشش کرے، آکاش باسی بن جائے، مگر تم تھوک رہے ہو ہمارے اُوپر، یہ ہے ہمارے دیئے کا انجام…‘‘
‎’’بھوریا چرن میں ان ساری چیزوں پر لعنت بھیجتا ہوں کمینے کتّے، لعنت بھیجتا ہوں میں تیرے اس دیئے پر۔‘‘ میں نے طیش کے عالم میں کہا۔

‎’’تو ہم نے کیا کس لیے ہے یہ سب کچھ میاں جی، من کی شانتی چھینی ہے ہم نے تمہاری سمجھے، من کی شانتی چھین لی ہے اب کیا کرو گے بڑی قوتوں کے مالک بن گئے ہو کسی بستی میں قدم رکھو گے تو لوگ پوجا کریں گے تمہاری، چرنوں میں آنکھیں رگڑیں گے مگر تمہارے من کی شانتی کہاں ہے، تم نے ہم سے ہمارا سب کچھ چھینا ہمیں کھنڈولا نہ بننے دیا تو ہم نے بھی تمہارے من کی شانتی چھین لی، بڑے دھرم داس بنے پھرتے تھے ایں۔‘‘ بھوریا چرن نفرت بھرے لہجے میں بولا۔
‎’’دیکھو بھوریا چرن دیکھو دیکھو۔‘‘
‎’’ارے کیا دیکھیں، دیکھ لیا سب کچھ، تم نے جو کچھ کیا اس کے نتیجے میں ہم نے تمہارا دھرم بھرشٹ کر دیا اب بھاگتے پھرو سارے سنسار میں، دھرم دھرم چیختے چلاتے… کچھ نہ ملے گا جب تک تمہارے بدن میں ہمارے پہنچائے ہوئے خون کا ایک ذرّہ بھی باقی ہے ذرا واپس آ کر دیکھ لو اپنے دھرم میں بھوریا چرن ہے ہمارا نام، شنکھا ہیں، کھنڈولا بنا دیتے تو کیا بگڑ جاتا مہاراج اس وقت بھی یہی شکتی دے دیتے ہم تمہیں سمجھے اور اس شکتی کے ذریعے گھوڑے تمہارے اشارے پر دوڑتے، جوا تمہارے اشارے پر ہوتا، نجانے کیا کیا مل جاتا تمہیں مگر مگر تقدیر کی بات ہے بھاگ کے پھیر ہیں۔ تم اس قابل ہی نہیں تھے، اس قابل ہی نہیں تھے۔‘‘
‎’’مگر بھوریا چرن اب میں کیا کروں؟‘‘

‎’’بھاگتے پھرو پاگلوں کی طرح اتنی بڑی طاقت ہے تمہارے پاس مگر تم اسے استعمال نہیں کر سکتے مہاراج سمجھے کیونکہ تم نے مانا ہی نہیں ہے من سے، انہیں۔ جب انہیں استعمال کرو گے تو بات دُوسری ہو جائے گی اور تم بڑے مہان بن جائو گے سمجھے مگر تم ایسا کبھی نہیں کر سکو گے کبھی نہیں۔ من کی شانتی نہیں ملے گی تمہیں یہی ہمارا فیصلہ ہے، یہی بھوریا چرن کا بدلہ ہے۔‘‘ بھوریا چرن نے اپنے شاخوں جیسے دونوں ہاتھ سینے پر باندھے اور اس کے بعد اس کے نقوش درخت میں معدوم ہوتے چلے گئے، وہ میری نگاہوں سے اوجھل ہوگیا تھا اس کے دیئے ہوئے بیر اور پورنیاں اب میری سمجھ میں آ رہی تھیں۔ پنڈت کاشی رام نے تو صرف اپنی بیوی کو ڈرانے کیلئے اور یہ سمجھانے کیلئے کہ میں بڑا مہان ہوں، سات پورن ماشیوں کا اور پورنیوں کا ذکر کیا تھا مگر کمبخت بھوریا چرن نے وہ ساری بلائیں میرے اُوپر نازل کر دی تھیں وہیں بیٹھ گیا اور گھٹنوں میں سر دے کر سوچنے میں مصروف ہوگیا، اب تو آنکھیں بھی آنسوئوں سے خشک ہوگئی تھیں اگر میرے دل کا طبّی تجزیہ کیا جاتا تو شاید وہ دُنیا کا طاقتور ترین دل نکلتا کیونکہ اتنا کچھ برداشت کر لینے کی اہلیت تھی اس میں ان تمام مصیبتوں کے باوجود اس کی دھڑکنیں قائم تھیں مگر کچھ سکون بھی ہوا تھا۔ پتہ چل گیا تھا کہ یہ سب کیا ہے بھوریا چرن انتقام کی آگ میں جل رہا تھا اس نے مجھ پر سخت محنت کی تھی اپنے کالے جاو کی ساری قوتیں صرف کر دی تھیں۔ وہ بالکل سچ کہہ رہا تھا کہ اگر وہ اپنے دھرم کے کسی شخص کیلئے یہ سب کچھ کر دیتا اور اسے سات پورنیوں اور ایک سو اکہتّر ناپاک غلاموں کی قوت مل جاتی تو وہ نہ جانے کیا کر ڈالتا مگر مجھ پر یہ سب کچھ حرام تھا، میرے لیے یہ بیکار تھا بلکہ ناقابل برداشت تھا۔ میں تو اسے سزا سمجھتا تھا اب تو اس سزا پر دل دُکھنے لگا تھا، مظلومیت کا احساس ہوتا تھا کیا میں اس کائنات کا سب سے بڑا گناہگار ہوں، دُوسرے لوگ بھی تو گناہ کرتے ہیں، میں نے تو اس کے بعد سے صرف کفارہ ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ ہمیشہ پچھتاتا رہا ہوں لیکن انسان ہوں کہاں تک برداشت کروں، بھوریا چرن نے یہ سب کچھ اس لیے کیا ہے کہ میں بے سکون ہو جائوں اندر کی کیفیت مجھے ان قوتوں سے فائدہ اُٹھانے سے باز رکھے اور بیرونی طور پر سب کچھ میرے قبضے میں ہو آہ… نہ جانے مستقبل میں اس ایمان کو قائم رکھ سکوں گا یا نہیں۔ بھاڑ میں جائیں پنڈت کاشی رام میں تو خود ایک مجبور انسان ہوں کیا کر سکتا ہوں میں نے نفرت بھری نظروں سے اس درخت کو دیکھا اور دفعتاً میرے دل میں ایک خیال آیا میں نے گردن ہلائی اور آواز دی۔
‎’’میرے بیرو کہاں ہو تم…؟‘‘

‎’’یہیں ہیں مہاراج ہم کہاں جائیں گے۔‘‘ سارا مجمع پھر نمودار ہوگیا اب انہیں دیکھ کر میرے دل میں خوف نہیں اُبھرا تھا۔
‎’’اس درخت کے ٹکڑے ٹکڑے کر دو۔‘‘ میں نے درخت کی طرف اشارہ کیا اور وہ سب بھرا مار کر درخت کی سمت لپکے سب نے مل کر درخت کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکا پھر اس کی شاخیں توڑنے لگے ایک ایک پتہ کچل ڈالا انہوں نے تنا اُدھیڑ پھینکا وہ کیڑوں کی طرح اس سے لپٹ گئے تھے، پھر وہ اسی وقت سیدھے ہوئے جب درخت ننھی ننھی لکڑیوں میں تبدیل ہو چکا تھا، اس درخت میں مجھے بھوریا چرن نظر آیا تھا مگر میں خود بھی جانتا تھا کہ اس طرح بھوریا چرن ہلاک نہیں ہو جائے گا وہ شنکھا ہے، ہزاروں رُوپ دھار سکتا ہے، بس ایک نفرت تھی اس کے خلاف جو دل میں اُبھری تھی اور یہ اندازہ بھی ہوگیا تھا کہ یہ بیر سچ مچ میرے اشارے پر سب کچھ کر سکتے ہیں۔ وہ سب اپنے کام سے فارغ ہو کر دوبارہ میرے گرد جمع ہوگئے، میں نے اس بیر کو دیکھا جو سب سے پیش پیش رہتا تھا۔
‎’’آگے آ…‘‘ میں نے کہا اور وہ آگے بڑھ آیا۔ ’’کیا نام ہے تیرا۔‘‘ ’’کھتوری مہاراج۔‘‘
‎’’میں کون ہوں؟‘‘
‎’’ہمارے مالک۔‘‘
‎’’کیا نام ہے میرا؟‘‘
‎’’پورن بھگت۔‘‘
‎’’غلط، میرا یہ نام نہیں ہے۔‘‘
‎’’ہمیں نام سے کیا لینا مہاراج… ہمیں تو کام بتائو۔‘‘
‎’’بھوریا چرن کہاں ہے۔‘‘ میں نے پوچھا اور بیر اِدھر اُدھر دیکھنے لگا۔ پھر بولا۔
‎’’چلے گئے یہاں سے۔‘‘
‎’’کیا تو بھوریا چرن کو مار سکتا ہے۔‘‘
‎’’وہ شنکھا ہے سوامی، شنکھا شریر کہاں ہوتا ہے وہ تو ہوا ہوتی ہے اور ہوائوں پر ہمارا بس نہیں ہے۔‘‘
‎’’اگر بھوریا چرن میرے سامنے ہو تو تم لوگ اس کی مانو گے یا میری۔‘‘
‎’’تمہاری مہاراج… ہم تمہارے داس ہیں۔‘‘
‎’’رتھ لائو میرے لیے۔‘‘ میں نے کہا اور کھتوری نے گردن ہلا دی ذرا سی دیر میں رتھ میرے سامنے آ گیا، میں رتھ میں جا بیٹھا اور کھتوری نے رتھ سنبھال لیا۔ ’’چلو۔‘‘ میں نے کہا اور اس نے بیل ہانکنے شروع کر دیئے، پیچھے وہ سب ٹیڑھے میڑھے چل رہے تھے، دل میں ایک لمحے کیلئے خیال آیا کہ اس طاقت سے تہلکہ مچا سکتا ہوں سب کچھ حاصل ہو سکتا ہے مجھے جو چاہوں سامنے لا سکتا ہوں، بہت بڑی طاقت حاصل ہوگئی ہے مجھے مگر نہ جانے کیوں آنکھوں میں نمی آ گئی۔ بے اختیار آنسو نکل پڑے، آنکھوں نے دل کو احساس دلایا تھا کہ یہ سب کیا ہے کالا جادو ہے یہ جسے کرنے والے کافر ہوتے ہیں ان کی بخشش کبھی نہیں ہوسکتی۔ یہ سب کچھ کھونے کے مترادف ہے اور جو کھو گیا اسے دوبارہ نہیں حاصل کیا جا سکتا دل میں گرم گرم لہریں دوڑنے لگیں اعضا میں تنائو پیدا ہوگیا اور میں نے رتھ سے باہر چھلانگ لگا دی لیکن میرے بیروں نے مجھے زمین پر نہیں گرنے دیا تھا وہ زمین پر لیٹ گئے تھے اور میں ان کے اُوپر گرا تھا لیکن میں پھرتی سے اُٹھ کھڑا ہوا، میں نے دیوانوں کی طرح ان پر لاتیں برسانی شروع کر دیں اور وہ اِدھر سے اُدھر لڑھکنے لگے، رونے اور چیخنے لگے مگر کسی نے احتجاج نہیں کیا تھا۔ میں نے کھتوری کے ہاتھ سے سانٹا لیا اور بیلوں پر پل پڑا، بیل ڈکرا کر بھاگے اور کھتوری اُچھل کر سر کے بل نیچے گرا پھر اُٹھ کھڑا ہوا۔

‎’’بھاگ جائو تم سب بھاگ جائو یہاں سے ورنہ۔‘‘ میں سانٹا لے کر ان پر پل پڑا اور وہ سب بھاگنے لگے کچھ دیر میں وہ بہت دُور نکل گئے اور میری نظروں سے اوجھل ہوگئے۔
‎’’بھوریا چرن … بھوریا چرن کتّے تو نے میرے خون میں گندگی گھول دی ہے مجھ سے میرا دین چھین لیا ہے مگر میرا دین میرے دل میں ہے کبھی نہیں چھوڑوں گا اسے۔ کر لے جو تجھ سے کیا جا سکے، میں مسلمان پیدا ہوا ہوں مسلمان مروں گا بھوریا چرن… کتّے۔‘‘ میری آواز ویرانوں میں گونجتی رہی، حلق پھاڑ پھاڑ کر چیخ رہا تھا آواز پھٹ رہی تھی گلا دُکھ رہا تھا چیختا رہا پھر تھک کر خاموش ہوگیا وہاں سے چل پڑا اب میرے گرد سرسراہٹیں نہیں تھیں میرے بیر بھاگ گئے تھے میں نے جو ان سے کہا تھا۔
‎چلتا رہا، چلتا رہا پھر ایک بستی آئی لوگ نظر آئے مگر میں نہ رُکا اور چلتا رہا، گھاس، پھونس، پتّے جو ملتا کھا لیتا پھر کچھ کھنڈرات نظر آئے ایک ویرانہ تھا اور یہاں کالی کیچڑ اور جوہڑ بھی تھا کچھ جانی پہچانی جگہ محسوس ہوئی پھر یاد آیا یہ تو نیاز اللہ کی بستی تھی عزیزہ رہتی تھی یہاں اور یہ جگہ کیا نام تھا اس کا ہاں شاید رامانندی یہی نام تھا اس کا بھوریا چرن نے اسے ہلاک کر دیا تھا۔ وہ بے چارہ رامانندی اچھا انسان تھا۔
‎چاروں طرف بھیانک سناٹا چھایا ہوا تھا کھنڈرات پر خوفناک خاموشی طاری تھی، سناٹا چیختا محسوس ہو رہا تھا اچانک میرے ذہن میں ایک خیال آیا، میری نظریں جوہڑ کی طرف اُٹھ گئیں، کیچڑ جگہ جگہ سوکھ گئی تھی اور اس پر حشرات الارض رینگ رہے تھے میرے منہ سے آواز نکلی۔
‎’’کھتوری…؟‘‘
‎’’بھگت پورن۔‘‘ کھتوری میرے نزدیک ظاہر ہوا۔
‎’’دُوسرے کہاں ہیں؟‘‘
‎’’تم سے دُور نہیں مہاراج۔‘‘
‎’’بلائو سب کو۔‘‘
‎’’ہم تو یہیں ہیں بھگت۔‘‘ ان کا پورا ریوڑ نمودار ہوگیا۔
‎’’اس جوہڑ میں ایک شیشے کی بوتل ہے جس میں رامانندی کی لاش ہے اسے تلاش کر کے لائو۔‘‘ میں نے کہا اور وہ سب جوہڑ کی طرف دوڑ پڑے پورے جوہڑ میں بھونچال آ گیا مکھیوں اور مچھروں کے غول کالے بادلوں کی طرح اُٹھے اور چاروں طرف پھیل گئے سخت تعفن پیدا ہوگیا تھا کچھ دیر جوہڑ میں ہلچل رہی پھر ایک بیر وہ بوتل نکال لایا۔
‎’’یہ رہی بھگت۔‘‘

‎’’کھول اسے۔‘‘ میں نے بوتل کو ہاتھ لگائے بغیر کہا اور اس نے بوتل کھول دی، بوتل سے دُھواں نکلنے لگا پھر یہ دُھواں زمین پر جم گیا اور کچھ دیر کے بعد وہ رامانندی کی شکل اختیار کرگیا۔ رامانندی کھڑے کھڑے جھول رہا تھا اس کی آنکھیں بند تھیں پھر وہ گرتے گرتے سنبھلا اور آنکھیں کھول کر چاروں طرف دیکھنے لگا۔
‎’’چلا گیا۔‘‘ اس نے سرگوشی کے عالم میں پوچھا۔
‎’’کون؟‘‘
‎’’نظر نہیں آ رہا۔‘‘
‎’’کسے کہہ رہے ہو۔‘‘
‎’’شنکھا… شنکھا… وہی بھوریا چرن۔‘‘
‎’’تم ٹھیک ہو رامانندی۔‘‘ میں نے پوچھا مگر رامانندی نے اب ان بیروں کو دیکھا جو آہستہ آہستہ جوہڑ سے نکل کر جمع ہو رہے تھے۔
‎’’یہ کون ہیں…؟ تم کون ہو؟‘‘ پہلے اس نے مجھ سے اور پھر ان سے پوچھا۔
‎’’سیوک ہیں پورن بھگت کے۔‘‘ کھتوری بولا۔
‎’’پورن بھگت… ایں… ارے… اوں… اوہ… جے بھگوتی جے پورن مہاراج۔‘‘ رامانندی نے میرے سامنے ہاتھ جوڑ دیئے مگر اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئی تھیں اس نے آنکھیں مسل مسل کر کئی بار مجھے دیکھا پھر حیران لہجے میں بولا۔
‎’’تم… مہا بھگت، تم وہی ہو نا… مسعود احمد… وہ نیازاللہ… معاف کرنا مجھے نہ جانے کیوں میری بات کا برا مت ماننا وہ دراصل تمہاری صورت کا…‘‘ وہ بار بار ہاتھ جوڑ کر مجھ سے معافی مانگنے لگا۔
‎’’راما نندی میں مسعود ہی ہوں آئو اندر چلو آئو پریشان نہ ہو۔‘‘ میں نے اس کا بازو پکڑ کر کھنڈرات کی طرف بڑھتے ہوئے کہا۔
‎’’ارے وہ مگر تم… پورن بھگت… یہ…۔‘‘ اس نے بیروں کی طرف اشارہ کر کے کہا وہ سارے کے سارے پھر میرے پیچھے لگ گئے تھے۔
‎’’تم کہاں آ رہے ہو چلو بھاگ جائو اور جب تک میں نہ بلائوں میرے قریب مت آنا جائو۔‘‘ میں گرجا اور وہ خوف زدہ ہوکر ایک دُوسرے کو دھکیلتے ہوئے بھاگنے لگے۔ راما نندی سخت پریشان تھا میں اسے لیے ہوئے کھنڈرات میں آگیا رامانندی سخت اُلجھا ہوا نظر آ رہا تھا کھنڈرات میں جہاں وہ رہتا تھا وہاں کی حالت دیکھ کر وہ ششدر رہ گیا اس نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے مجھے دیکھا۔
‎’’یہ سب تمہارا کالاجادو ہے، رامانندی… تم شاید صورت حال کو سمجھ نہیں پائے تمہیں اندازہ نہیں ہے کہ تم کئی ماہ سے اس شیشی میں بند جوہڑ میں پڑے ہوئے تھے طویل عرصے کے بعد تم اس سے نکلے ہو۔‘‘
‎’’کئی ماہ سے۔‘‘ رامانندی گھٹے گھٹے لہجے میں بولا۔

‎’’ہاں کئی ماہ سے بیٹھ جائو میں تمہیں پوری تفصیل بتاتا ہوں، بیٹھ جائو پریشان مت ہو۔‘‘ وہ بیٹھ گیا تب میں نے اسے شروع سے اب تک کی ساری کہانی سنائی اور وہ میرا منہ دیکھتا رہ گیا۔ آخر تک کی کہانی سننے کے بعد بھی وہ دیر تک کچھ نہیں بولا تھا۔
‎’’اس کے بعد رامانندی تم مجھے بتائو گے کہ اب میں کیا کروں…؟‘‘ میں نے پوچھا لیکن وہ اس کے بعد بھی دیر تک کچھ نہ بولا اور سوچتا رہا پھرکئی گہری گہری سانسیں لے کر اس نے خود کو سنبھالا اور بولا۔
‎’’کالے جادو کے سولہ درجے ہیں ابتداء نرٹھ سے ہوتی ہے نرٹھ پہلا جاپ ہے اس میں گندی اور غلیظ چیزوں سے شریر کو بھنگ کیا جاتا ہے اور اس طرح کالا علم سیکھنے والا خود کو کالی قوتوں کے حوالے کر دیتا ہے، دُوسرا درجہ سگنت کہلاتا ہے اس میں کمال حاصل کرنے کے بعد کیڑے مکوڑوں کا کاٹا اُتارا جاتا ہے اسی طرح جاپ ہوتے رہتے ہی۔ آٹھویں گنتھ میں لونا چماری اور نویں میں کالی دیوی سے واسطہ پڑتا ہے پورنیاں گیارہویں درجے میں آتی ہیں اور جسے پورنیوں کا اختیار حاصل ہو جائے وہ کالے جادو کا گیارہواں ماہر ہوتا ہے۔ سات پورنیوں کے ایک سو اکہتّر بیر ہوتے ہیں جو پورن بھگت کے غلام ہوتے ہیں بارہواں درجہ بھیروں ستوترن ہوتا ہے وہاں سے شنکھا کا سفر شروع ہوتا ہے اور پھر شنکھا یاٹ ہوتے ہیں ایک شنکھا ہی پورن جاپ کر کے اپنا جاپ کسی اور کو دے سکتا ہے کوئی دُوسرا ایسا نہیں کر سکتا مگر تمہیں جو قوت حاصل ہوگئی ہے وہ بہت بڑی ہے تم اس سے نچلے درجے کے سارے دیر داسیوں کو نیچا دکھا سکتے ہو مگر تمہارا معاملہ دُوسرا ہے۔‘‘
‎’’اس نے دھوکے سے میرے ساتھ یہ کیا۔‘‘
‎’’ہاں مگر بہت بڑا کام کیا ہے اسے سترہ انسانوں کی بلی دینا پڑی ہوگی۔‘‘
‎’’تم اب ٹھیک ہو رامانندی۔‘‘
‎’’ہاں میں ٹھیک ہوں مگر اب میں یہاں نہیں رہوں گا۔‘‘
‎’’وہ مجھے نہیں چھوڑے گا۔‘‘ رامانندی نے کہا اور میں سوچ میں ڈُوب گیا۔ پھر میں نے کہا۔
‎’’ایک بات بتائو رامانندی کیا ان بیروں سے میں اپنے ماں باپ اور بہن کا سراغ لگا سکتا ہوں، کیا یہ مجھے بتا سکتے ہیں کہ وہ کہاں اور کس حال میں ہیں۔‘‘
‎’’بھول کر بھی ایسا مت کرنا۔‘‘
‎’’کیوں؟‘‘

‎’’ان سے تم کالے کام لے سکتے ہو صرف کالے کام۔ اگر کوئی ایسا کام لیا ان سے جو کسی طور کالے علم سے تعلق نہ رکھتا ہو تو یوں سمجھ لو وہ شے باقی نہیں رہے گی۔ تمہارے ماتا پتا کا پتہ لگا کر یہ تمہیں خبر دیں گے مگر بعد میں انہیں مار دیں گے۔ ریت ہے کالے جادو کی یہ برائی کیلئے استعمال کیا جاتا ہے کسی نیک اور ضرورت کے کام کیلئے نہیں۔ مثال کے طور پر تم ان سے اپنے کسی دُشمن کو مروا تو سکتے ہو کسی بیمار دوست کیلئے دوا نہیں منگوا سکتے ہو۔‘‘
‎’’لعنت ہے اس علم پر… اپنے لیے میں کیا کر سکتا ہوں؟‘‘
‎’’راجہ بن جائو، محل بنوا لو، دولت کے ڈھیر لگا لو، سندر ناریاں اُٹھوا لو یہ سب خوشی سے سارے کام کریں گے۔‘‘
‎’’ایک بار پھر لعنت ہے اب بتائو میں اس مصیبت سے چھٹکارا کیسے حاصل کروں؟‘‘ میں نے کہا اور رامانندی سوچ میں ڈُوب گیا پھر بولا۔
‎’’بہت مشکل ہے ایک طرح ناممکن ہے۔‘‘
‎’’رامانندی دل چاہتا ہے رامانندی یہ سب قبول کر لوں دل چاہتا ہے وہی بن جائوں جو بنا دیا گیا ہوں۔‘‘ میں نے دانت پیستے ہوئے کہا اور رامانندی چونک کر مجھے دیکھنے لگا پھر وہ آہستہ سے بولا۔
‎’’مسعود جی من کیا چاہتا ہے۔‘‘
‎’’کیا بتائوں میں کیا بتائوں۔‘‘
‎’’میں ایک مشورہ دوں۔‘‘
‎’’بولو۔‘‘
‎’’بڑے کشٹ اُٹھائے ہیں تم نے اپنا دھرم بنائے رکھنے کیلئے اب اسے کھونا اچھا نہیں ہوگا مگر تمہاری اس بات کو میں مانتا ہوں وہی بن جائو جو بنا دیئے گئے ہو۔‘‘ میں اُلجھی ہوئی نظروں سے رامانندی کو دیکھنے لگا۔
‎’’نہ جانے کیا کہہ رہے ہو۔‘‘
‎’’بڑے کانٹے کی بات کہہ رہا ہوں بھوریا چرن نے تمہیں اتنا بڑا جاپ دے کر تم سے من کی شانتی چھینی ہے نا۔‘‘
‎’’ہاں یہی اس کتّے کا مقصد ہے۔‘‘ میں نے نفرت سے کہا۔
‎’’اور تمہارے من کی شانتی چھن گئی ہے اگر تم اپنا من شانت کر لو تو پھر اس کے من کی شانتی چھن جائے گی وہ سوچے گا کہ یہ تو بات اُلٹی ہوگئی اور پھر وہی کچھ اپائے کرے گا۔‘‘
‎’’تمہارا مطلب ہے کہ…‘‘

‎’’سنسار چرنوں میں جھکا لو، ہنسو، بولو، خوش رہو تمہاری خوشی اسے بھسم کر دے گی وہ تمہیں خوش ہی تو نہیں دیکھنا چاہتا۔‘‘
‎’’مگر کالے جادو سے کام لے کر میں اپنے لیے جو کچھ کروں گا رامانندی وہ مجھے میرے دین سے دُور سے دُور تر کر دے گا۔‘‘
‎’’اپنے لیے کچھ نہ کرنا یہ تو اسے جلانے کیلئے ہوگا۔ کسی کنواری کو پریشان نہ کرنا، کسی کو نقصان نہ پہنچانا بس ایسے کام کر لینا جس سے اسے پتہ چلے کہ تم خوش ہو من کے بھید تو کوئی اور ہی جانتا ہے باقی سب عمل کے بھید ہوتے ہیں اور تمہارے عمل کے بھید ہی سامنے آئیں گے۔‘‘ میں رامانندی کی بات پر غور کرنے لگا کچھ سمجھ میں آ رہی تھی کچھ نہیں آ رہی تھی وہ بے چارہ میرے دین کی نزاکتوں کو کیا جانے بس ایک معمولی سی لغزش اور… کوئی راستہ بھی تو نہیں ہے میرے پاس آخر کروں بھی تو کیا کس سے رہنمائی حاصل کروں اور بھوریا چرن وہ تو میرے سلسلے میں ہمیشہ ہی کامیاب رہا تھا، بڑا عجیب سا دل ہو رہا تھا۔ میں نے رامانندی سے کہا۔
‎’’تمہارا کیا ارادہ ہے رامانندی۔‘‘
‎’’مجھے کہیں منہ چھپانا ہے مسعود جی ہاں اگر تم اپنے ساتھ رکھنا چاہو تو مگر میں مجبور نہیں کروں گا۔‘‘
‎’’میرے ساتھ مگر بھوریا چرن تمہیں دیکھ لے گا۔‘‘
‎’’کچھ بگاڑ نہ پائے گا تمہارے ساتھ میرا جیون محفوظ رہے گا ورنہ مجھے خطرہ ہے۔‘‘
‎’’ٹھیک ہے رامانندی مگر تمہیں میرے ساتھ تکلیفیں رہیں گی۔‘‘
‎’’اُٹھالوں گا جیون تو بچا رہے گا۔‘‘ میں نے گہری سانس لے کر گردن ہلا دی تھی رامانندی نے کہا۔ ’’اب یہاں سے نکل چلو مہاراج مجھے اندیشہ ہے کہ وہ یہاں نہ آ جائے۔‘‘
‎’’چلو۔‘‘ میں نے ٹھنڈی سانس لی اور ہم دونوں کھنڈرات سے باہر نکل آئے جوہڑ کے پاس سے گزر کر ہم دُور نکل آئے میں نے رامانندی سے نیازاللہ صاحب کے بارے میں کہا۔
‎’’چلو گے ان کے پاس۔‘‘
‎’’دل تو چاہتا ہے مگر…؟‘‘
‎’’میرا بھی یہی خیال ہے بھوریا چرن کو ان کی طرف متوجہ مت کرو کہیں نقصان نہ اُٹھا جائیں ویسے اگر تم چاہو تو خاموشی سے انہیں کچھ بتائے بغیر ان سے ملے بغیر ان کی کچھ مدد کر دو۔‘‘
‎’’اوہ… نہیں رامانندی نیازاللہ صاحب ایسے لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے فقر و فاقے کی زندگی گزار کر اپنا ایمان قائم رکھا ہے۔ یہ غلط دولت ان پر مسلط کر کے میں ان کی ایماندارانہ زندگی کو داغدار نہیں کروں گا۔‘‘
‎’’ٹھیک کہتے ہو یہ بات مجھ سے بہتر کون جانتا ہے پھر یوں کرتے ہیں کہ بستی کا رُخ ہی نہیں کرتے کوئی دُوسری سمت اختیار کرتے ہیں، آئو اس طرف چلیں۔‘‘ راستے میں میں نے رامانندی سے کہا۔
‎’’ہمیں اب کرنا کیا چاہئے رامانندی۔‘‘
‎’’وقت اور حالات کے ساتھ دیکھنا ہوگا شنکھا تمہیں افسردہ، ملول اور پریشان دیکھنا چاہتا ہوگا تمہیں اس کے برعکس کرنا ہے تا کہ اسے احساس ہو کہ اس نے جو محنت کی وہ بیکار گئی اور پھر کیا سمجھے۔‘‘
‎’’ہاں سمجھ رہا ہوں۔‘‘
‎’’بیروں کو بلائو سواری کیلئے کچھ منگوا لو دُور جانا ہوگا ہمیں۔‘‘ رامانندی نے کہا اور مجھے ہنسی آ گئی۔
‎’’واہ رامانندی دو قدم چل کر ہی بھول گئے میرے ساتھ رہ کر تمہیں کافی پریشانی اُٹھانی پڑے گی میں اس علم کی قوت سے اپنے لیے کوئی آسائش کبھی حاصل نہیں کروں گا سوچ لو۔‘‘

‎’’اوہ ہاں سچ مچ بھول گیا تھا کوئی بات نہیں چلو رامانندی تم سے پیچھے نہیں ہے۔‘‘ رامانندی نے کہا اور ہم چل پڑے کوئی منزل ذہن میں نہیں تھی بس قدم اُٹھ رہے تھے نہ جانے کس طرف…!
‎رامانندی کا ساتھ بڑا سکون بخش تھا تنہائی سے نجات مل گئی تھی اس سے باتیں کرکے دل کی بھڑاس نکال سکتا تھا۔ کسی بھی قدم کے بارے میں کوئی فیصلہ کرسکتا تھا۔ ہم نے آبادی کا رخ نہیںکیا تھا۔ جان بوجھ کر ویرانوں کی سمت چل پڑے تھے۔ رامانندی نے کہا۔
‎’’بھوریاچرن سے کہیں بھی ملاقات ہوسکتی ہے اس کے بیروں نے اسے میرے بارے میں بتا تو دیا ہوگا۔‘‘
‎’’کیا یہ ممکن ہے؟‘‘
‎’’ہاں بالکل بیراسے سب کچھ بتاتے رہتے ہیں ان کی حیثیت رپورٹروں جیسی ہوتی ہے پھر وہ تو شتکھا ہے۔‘‘
‎’’تمہارے خیال میں وہ زیادہ سے زیادہ کیا کرسکتا ہے۔؟‘‘ میں نے پوچھا اور رامانندی سوچ میں ڈوب گیا۔ پھر اس نے کہا۔
‎’’تمہارا تو وہ کچھ نہیں بگاڑے گا ویسے یقین کرو مسعود جی تم تقدیر کے دھنی ہو تمہارے بارے میں کچھ باتیں میری سمجھ میں آج تک نہیں آئیں۔‘‘
‎’’کیا؟‘‘
‎’’پوری کہانی مجھے معلوم ہے تم عام جوانوں کی طرح زندگی کی آسائشیں چاہتے تھے اور اس کے لیے تم نے دین دھرم کے سارے رشتے توڑ کر ہر ناجائز طریقے سے طاقت حاصل کرنا چاہی۔ بھوریا کو ایک کچے دماغ والے مسلمان لڑکے کی ضرورت تھی جو ایک مقدس مزار کو ناپاک کرکے اس کے غلیظ وجود کو پاک قدموں میں پہنچادے۔ تم نے ایسا نہ کیا اور کھنڈولا بننے سے رہ گیا۔ چلو اس سمے اس نے سوچا تھا کہ تمہیں خوب پریشان کرکے اپنے کام کے لیے مجبور کرلے گا مگر تم اس کے جال میں نہیں آئے۔ بجائے اس کے کہ وہ تمہیں ختم کردیتا اس نے دوسرے کام شروع کردیئے اس نے تمہیں پورنا بنادیا۔ آدھا جیون لگ جاتا ہے کسی کو پورنا بھگتی کرتے ہوئے۔ تب پورنیوں کا حصول ہوتا ہے مگر اس نے تمہیں کالی شکتی دیدی۔‘‘
‎’’اس طرح وہ میرے دل کا سکون چھیننا چاہتا تھا۔‘‘
‎’’نہیں مہاراج ایسا کرنے کے لیے وہ تمہیں بلی کتے کا روپ بھی دے سکتا تھا۔ اس نے یہ کیوں نہ کیا؟‘‘
‎’’تمہارا کیا خیال ہے رامانندی؟‘‘
‎’’میرا جیون بھر کا تجربہ کہتا ہے مسعود جی پورے جیون کا تجربہ
‎کہتا ہے کہ کوئی مہمان شکتی تمہارے پیچھے ہے۔ کوئی ایسی قوت جو اس کا دماغ پلٹے ہوئے ہے۔ وہ تمہارے لیے برے کام کررہا ہے مگر الٹے … سیدھے کام وہ نہیں سوچ پارہا۔‘‘
‎’’ایسی کوئی قوت ہوسکتی ہے۔ میں نے ایک مقدس مزار کی بے حرمتی کرنے سے گریز کیا تھا کیا مجھے وہاں سے فیض مل رہا ہے۔ اگر ایسا ہے تو وہ بزرگ مجھے اس گندی گرفت سے کیوں نہیں بچاتے۔‘‘
‎’’میرا کچھ اور خیال ہے مسعود میاں۔‘‘
‎’’کیا…؟‘‘

‎’’ماں ہے نا تمہاری…؟‘‘ رامانندی نے سوال کیا اور میرے قدم رک گئے اعصاب پر جیسے بجلی سی گر پڑی میں نے رامانندی کو دیکھتے ہوئے کہا۔
‎’’ہاں…!‘‘ میرے حلق سے گھٹی گھٹی آواز بھری۔
‎’’تو پھر عیش کرو، تمہارا کچھ نہیں بگڑے گا۔‘‘ بات سمجھ میں آگئی ہے۔ اس کے علاوہ کچھ اور ہو ہی نہیں سکتا۔ ’’اتنے عرصہ سے اس سے دور ہو اس کے دعا کے لیے اٹھے ہوئے ہاتھ کبھی خالی نہیں رہ سکتے۔ وہ کچھ نہیں جانتی ہوگی تمہارے بارے میں مگر کہتی ہوگی کہ بھگوان تمہیں زندہ سلامت رکھے۔ اور بھگوان تمہیں زندہ سلامت رکھے گا۔ تمہارے دشمن کے دماغ الٹے کرتا رہے گا۔‘‘
‎دل ڈوب گیا۔ آنکھوں سے آنسوئوں کی دھاریں بہنے لگیں حسرت ویاس کلیجہ کاٹنے لگی۔ بالکل سچ تھا ایک لفظ جھوٹ نہیں تھا ماں کی دعائیں آفات سے بچائے ہوئے تھیں باقی جو کچھ تھا وہ کیے کی سزا تھی مگر زندگی ماں کے پھیلے ہوئے ہاتھوں کی مرہون منت تھی۔
‎’’ارے ارے۔ مسعود جی سنبھالو خود کو ارے نہیں بھائی روتے نہیں ہیں ملیں گے۔ سب ملیں گے تمہیں بھگوان کے ہاں اندھیر نہیں ہے اور پھر تم تو… تم تو اپنی معصومیت کے شکار ہورہے ہو۔ تم اتنے شکتی مان ہونے کے باوجود اس شکتی کو کالی شکتی سمجھ کر قبول نہیں کررہے۔ کچھ ہوگا ضرور کچھ ہوگا تمہارے لیے… مگر ارے… ارے… ارے…‘‘ دفعتاً راما نندی کا حلق بند ہوگیا۔ اس کی آنکھیں خوف سے پھیل گئیں۔ چہرہ سرخ ہوگیا رگیں ابھر آئیں۔ وہ دونوں ہاتھوں سے سر پکڑ کر بیٹھ گیا میں پریشان ہوگیا۔ اپنی کیفیت بھول کر حیرانی سے اسے دیکھنے لگا نہ جانے اسے کیا ہوگیا تھا میں اس کے قریب بیٹھ گیا پھر میں نے اسے آواز دی۔
‎’’رامانندی، رامانندی کیا بات ہے بتائو تو سہی کیا بات ہے کیا ہو گیا رامانندی…؟‘‘
‎رامانندی نے آنکھیں بھینچ کر گہری گہری سانسیں لیں اور بولا۔ ’’کچھ نہیں مسعود جی کچھ نہیں، یار عجیب سی بات ہوگئی ہے پتہ نہیں پتہ نہیں میرا کیا بننے والا ہے، پتہ نہیں، بیٹھو یار تم بھی جذباتی ہوگئے اور میں بھی نہ بچ سکا، کچھ ایسی بات ہوگئی، جو بڑی عجیب ہوسکتی ہے۔‘‘
‎’’آخر کیا۔‘‘ میں نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے کہا، بھوریا چرن کا خوف بہر طور دل پرسوار تھا اس کم بخت کے تصور سے کب جان چھوٹ سکتی تھی اور کچھ نہیں تو رامانندی کی زندگی ہی اس کے لیے تکلیف دہ ہوسکتی تھی رامانندی اس کا اظہار بھی کرچکا تھا کہ بھوریا چرن اسے نہیں چھوڑے گا لیکن اطراف پُرسکون نظر آرہے تھے اور بظاہر بھوریا چرن کہیں قرب و جوار میں محسوس نہیں ہوتا تھا۔ رامانندی نے آنکھیں بند کرکے گردن جھٹکی اور کہنے لگا۔
‎’’کالا جادو سیکھنے کے لیے سب سے پہلا کام دھرم کو کھونا ہوتا ہے۔ دھرم کو ناس کرنا ہوتا ہے اور اس کے لیے گندے گندے کام شروع کئے جاتے ہیں اور دھرم دیوتا کا نام کبھی زبان پر آنے نہیںدیا جاتا یہاں تک کہ عادت پڑجاتی ہے کالا جادو بھگوان کے بنائے ہوئے اصولوں کے خلاف ہی تو ایک گندی کوشش ہے جو طاقت شیطان کو مل گئی ہے اسی طاقت کا ساتھی تو بننا ہوتا ہے اور جب انسان شیطان کا ساتھی بن جائے تو پھر اللہ کا نام یا بھگوان کا نام اس کی زبان پر کبھی نہیں آتا یہاں تک کہ اس کا دل پتھر کی مانند سخت ہوجاتا ہے بھگوان اسے یاد ہی نہیں رہتا میں نے بھی تو یہی سب کچھ کیا تھا، بھگوان کے نام سے اپنا من ہٹالیا تھا اور نجانے کتنا عرصہ ہوگیا کہ میں نے بھگوان کا نام نہیں لیا ہمارے کالے جادو کے دھرم میں اگر اس کا کوئی پاپی دھرم ہے تو بھگوان کا نام لینا سخت منع ہے بلکہ کالے جادو کا تھوڑا بہت علم اس وقت آتا ہے جب بھگوان کے نام سے دوری اختیار کرلی جائے۔ آج تمہاری ماں کاذکر کرتے ہوئے میرے منہ سے بار بار بھگوان کا نام نکل گیا۔ یقین کرو یہ نام میں نے نجانے کتنے عرصے سے نہیں لیا۔ یہ تو مجھ ایسے بھول گیا تھا جیسے… جیسے بس کیا بتائو تمہیں… 

لیکن تذکرہ ایک ماں کا تھا اور بھگوان کی سوگند ماں بھگوان ہی کا دوسرا روپ ہوتی ہے۔ اس کا مقصد ہے کہ بھگوان پھر سے میرے من میں آگیا۔ بار بار میرے منہ سے اس کا نام نکل رہا ہے۔ آہ اس طرح تو میں بھی تمہارا ساتھی ہی بن گیا۔ مسعود بھیا میں بھی تمہارا ساتھی ہی بن گیا کالے جادو کا گیان تو اب ٹوٹ ہی جائے میرا میں خود بھی اس پر لعنت بھیجتا ہوں۔ کیا پاپا میں نے اس سے۔ ابھی تو مکمل بھی نہیں ہوا تھا چھوٹے موٹے کام کرلیتا تھا اور اس کے بعد جوہڑ میں جاپڑا۔ نجانے کب تک پڑا رہتا۔ اگر تمہارے ہاتھوں نہ نکلتا، کیا ملا مجھے اس کالے جادو سے۔ آج بھگوان میرے من میں پھر سے زندہ ہوا ہے تو اب میں اس کا ساتھ نہیں چھوڑوں گا۔ مسعود میں کبھی بھگوان کا ساتھ نہیں چھوڑوں گا۔ میں بھی اپنے گناہوں سے توبہ کروں گا میں بھی اپنے پاپوں کا پرائشچت کروں گا۔ لو بھیا ایک نہیں دو کھیل شروع ہوگئے، اور یہ کھیل خود بخود نہیں شروع ہوا۔ ماں بیچ میں آگئی ہے، میری ماں نہیں ہے مگر میں تمہیں بھیا کہتا ہوں۔ ماں اپنے اس دوسرے بیٹے کو بھی اپنی دعائوں میں شامل کرلے، ماں صرف مسعود تیرا بیٹا نہیں ہے ایک بیٹا رامانندی بھی ہے اس کے لیے بھی ہاتھ اٹھالے ماں، اس کے لیے بھی ہاتھ اٹھالے۔‘‘ رامانندی ایسا بلک بلک کے رویا کہ میرا دل پانی پانی ہوگیا، میں خود بھی ماں کو یاد کرکے رونے لگا تھا لیکن رامانندی نے کچھ ایسی آہ و زاری کی کہ اپنا سارا دکھ بھول گیا اور اسے دلاسے دیتا رہا۔ ہم دونوں بہت دیر تک روتے رہے تھے۔ رامانندی نے گلوگیر آواز میں کہا۔
‎’’میری ماں اس سنسار میں نہیں ہے میں نے تیری ماں کا سہارا طلب کرلیا ہے مسعود بھیا… بھیا ہے تو میرا جیون واردوں گا تجھ پر بس اور کیا کہوں، میں ہوں ہی کس قابل۔‘‘ بہت دیر تک ہم جذبات میں ڈوبے رہے رامانندی نے کہا۔
‎’’چلو چلیں آگے بڑھیں بھوک لگ رہی ہوگی تمہیں بھی میں بھی بھوکا ہوں۔ بھگوان کا دیا کھائیں گے۔ لعنت ہے اس کالی شکتی پر جس کے ذریعے ہمیں سب کچھ مل سکتا ہے مگر ایسا نہیں کریں گے ہم۔ چلو چلتے رہو، چلتے رہو۔‘‘ اور ہم وہاں سے چل پڑے۔ دن گزر گیا شام ہوگئی۔ 

کچھ فاصلے پر ایک بستی کے آثار نظر آئے تھے اور شام کے جھٹپٹے کے بعد جب سورج ڈوبا تو بستی کے کسی گوشے سے آواز بھری۔ ’’اللہ اکبر اللہ اکبر، اللہ اکبر۔‘‘ مغرب کا وقت ہوگیا تھا۔ اذان ہورہی تھی۔ قدم رک گئے رامانندی بھی اس آواز کو سننے لگا، میرے دل میں بھی عجیب سی کیفیت پیدا ہوگئی۔ میں پھر آگے بڑھنے لگا، دور سے مسجد کے مینار نظر آرہے تھے۔ اس پر لائوڈ اسپیکر لگا ہوا تھا اور غالباً روشنی بھی کردی گئی تھی مگر صرف مینار پر باقی مسجد بھی قدرتی روشنی میں نہائی ہوئی تھی۔ بے خودی طاری ہوگئی قدم تیزی سے اٹھنے لگے۔ مسجد کے قریب پہنچا تو رامانندی نے شانے پر ہاتھ رکھ کر روک دیا۔
‎’’اندر مت جا مسعود… تو گندا ہے۔‘‘
‎’’ایں…‘‘ میں چونک پڑا۔ رامانندی کو دیکھا اور پھر ٹھنڈی سانس لے کر رک گیا۔ گردن ہلائی اور کچھ فاصلے پر ایک درخت کے نیچے پہنچ گیا پھر حسد بھری نظروں سے نمازیوں کو دیکھنے لگا۔ چند ہی لوگ آئے تھے ممکن ہے اس بستی میں مسلمانوں کی آبادی کم ہو۔ اندر نماز شروع ہوئی تو بے اختیار کھڑا ہوگیا۔ نیت بندھی تو میں نے بھی نیت باندھ لی ایک بار پھر ذہن پر زور ڈالا اندر قرأت ہورہی تھی مگر میرا منہ بند تھا۔ ذہن بند تھا پاک کلام گندے ذہن میں نہیں آرہا تھا۔ ہر کوشش ناکام ہورہی تھی۔ سجدے میں پڑگیا بس اسی میں سکون مل رہا تھا۔ نماز ختم ہوگئی نمازی شاید باہر نکل گئے تھے کوئی آواز نہیں آرہی تھی۔ سجدے سے سر ابھارا تو دو تین افراد کو قریب کھڑے دیکھا۔ ان میں سے ایک نے سلام کیا تو اسے جواب دیا۔
‎’’مسجد میں تو بہت جگہ ہے آپ لوگ باہر نمازکیوں پڑھ رہے تھے۔‘‘ اس شخص نے سوال کیا۔

‎مسعود کی پرورش نیک والدین کے سائے میں ہوئی تھی لیکن بری صحبت نے اسے جوئے اور سٹے تک پہنچا دیا اور وہ دولت کے آسان حصول کی طرف مائل ہوگیا۔ یہی لالچ اتفاقاً اسے کالے جادو کے ماہر بھوریا چرن تک لے گیا۔ بھوریا چرن نے اسے اپنا آلۂ کار بننے کی پیشکش کی لیکن مسعود کو بروقت عقل آگئی اور اس نے کسی بھی شیطانی عمل کا حصہ بننے سے انکار کردیا۔ مسعود کے انکار پر بھوریا چرن اس کا بدترین دشمن بن گیا۔ اس نے مسعود کو در در بھٹکنے پر مجبور کردیا۔ یہی نہیں بلکہ وہ ذہنی اور جسمانی صحت سے بھی محروم ہوگیا۔ اسے کہیں بھی جائے پناہ میسر نہیں تھی۔ نت نئی مشکلات سے نبرد آزما ہوتے ہوئے اس کی ملاقات ایک بزرگ بابا فضل سے ہوئی، انہوں نے نہ صرف بھوریا چرن کے شر سے اس کی حفاظت کی بلکہ اسے روحانی طاقت سے بھی نوازا۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے مسعود کو خلق خدا کے کام آنے کی ہدایت کی تھی۔ مسعود نے ان کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے کئی لوگوں کی مشکلات حل کرنے میں ان کی مدد کی۔ اسی دوران اسے اپنے ماموں ریاض سے ملاقات کی امید نظر آئی تو وہ ان کی تلاش میں لگ گیا۔ اسے اپنے والدین، بہن بھائی اور ماموں کی بہت یاد آتی تھی لہٰذا وہ ہر صورت ان سے ملنا چاہتا تھا۔ اسی جستجو میں وہ ایک ویران حویلی تک جا پہنچا۔ یہ دراصل بھوریا چرن کا بچھایا ہوا جال تھا جس میں وہ گرفتار ہوگیا تھا۔ یہاں اس نے پانی کے دھوکے میں غلیظ خون پی کر اپنے وجود میں نجاست اتار لی۔ اس نے دریا میں چھلانگ لگا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کرنا چاہا لیکن کچھ لوگوں نے اس کی جان بچالی۔ بھوریا چرن مسلسل اس کے تعاقب میں تھا۔

 وہ مسعود کو پریشان کرنے کیلئے کبھی اپسرائوں کے روپ میں حسین عورتوں کو اس کے پاس بھیجتا تو کبھی عجیب الخلقت لوگوں کا ایک ہجوم اس کے پیچھے لگادیتا جو دراصل اس کے بیر تھے۔ مسعود کو ان بیروں سے گلوخلاصی کی کوئی صورت نظر نہیں آتی تھی جو اپنے آپ کو اس کا خادم کہتے تھے۔ وہ بے مقصد ادھر ادھر بھٹکتا پھر رہا تھا کہ ایک جوہڑ کے کنارے پہنچ کر اسے یاد آیا کہ بھوریا چرن نے ایک بار اس کی مدد کرنے والے سفلی علم کے ایک ماہر رامانندی کو بوتل میں بند کرکے اسی جوہڑ میں پھینک دیا تھا۔ مسعود نے انہی بیروں کی مدد سے وہ بوتل نکلوائی اور رامانندی کو آزاد کردیا۔ راما نندی مسعود کا بے حد شکرگزار ہوا، دونوں میں بہت سی باتیں ہوئیں اور پھر وہ چلتے چلتے ایک بستی تک جا پہنچے۔ یہاں ایک مسجد دیکھ کر مسعود نماز ادا کرنے کیلئے اندر جانا چاہتا تھا کہ رامانندی نے اسے روک لیا کہ چونکہ اب وہ پاک صاف نہیں اس لئے اندر نہ جائے۔ مسعود نے ناچار اس کی بات مان لی اور ایک باہر درخت کے سائے میں سجدے میں گرگیا۔ راہ گیر اسے دیکھ کر حیران تھے، بالآخر ایک شخص نے تعجب سے سوال کر ہی دیا کہ وہ مسجد کو چھوڑ کر باہر نماز کیوں پڑھ رہا تھا۔
‎(اب آپ آگے پڑھیے)
‎میں نے تھوک نگل کر ادھر ادھر دیکھا کیا جواب دیتا اس بات کا لیکن گردن گھمائی تو ایک انوکھا منظر دیکھا۔ رامانندی بھی سجدے میں پڑا ہوا تھا۔ میں ششدر رہ گیا۔ تب ایک لزرتی ہوئی بوڑھی آواز بھری۔
‎’’آپ لوگ چلیں ہم پوچھ لیں گے۔‘‘
‎’’مسافر معلوم ہوتے ہیں امام صاحب ہوسکتا ہے لباس صاف نہ ہوں اس لیے اندر نہ آئے ہوں۔‘‘

‎’’اگر ایسا ہے تو اس کے گھر کے اس احترام کا جذبہ وہ قبول کرے۔ میاں انہیں اٹھائو، سجدے اتنے طویل مناسب نہیں ہوتے۔‘‘ میں نے حکم دینے والے کو دیکھا تقریباً اسی سال کی عمر کے سفید ریش انسان تھے۔ بھنوئوں کے بال بھی سفید تھے ڈھیلے سفید چغے اور عمامے میں ملبوس تھے۔ میں رامانندی کے قریب پہنچا اور اسے جھنجھوڑنے لگا۔ وہ اٹھ کر بیٹھ گیا۔ حالانکہ اچھا خاصا اندھیرا پھیل گیا تھا۔ مگر رامانندی کی سجدہ گاہ بھیگی ہوئی نظر آرہی تھی اس کی آنکھیں آنسوئوں سے بھری ہوئی تھیں۔
‎میری عقل چکرا گئی۔ رامانندی کو کیا ہوگیا۔ اسی وقت نمازیوں میں سے کسی کی آواز سنائی دی۔ ’’مسافروں کے لیے کھانا لے آئوں امام صاحب…؟‘‘
‎’’نہیں میاں خانہ خدا کے مہمان ہیں۔ اس کے ہاں کیا کمی ہے۔ آپ کا بے حد شکریہ۔ گھر میں جو پکا ہے ان کے سامنے رکھ دوں گا۔‘‘ لوگ معلوم کرکے چلے گئے۔ امام صاحب ہمارے قریب ہی زمین پر بیٹھ گئے۔ وہ بغور ہمارا جائزہ لے رہے تھے پھر انہوں نے کہا۔ جو کچھ پوچھوں گا تفسیر احوال کیلئے پوچھوں گا۔ جس بات کا جواب دینا ناپسند ہو نہ دینا برا نہیں مانوں گامگر جھوٹ نہ بولنا۔ خانہ خدا کے سامنے ہو۔
‎’’نہیں امام صاحب آپ کچھ نہ پوچھیں جواب نہ دے سکیں گے۔‘‘
‎’’خدائے قدوس کی قسم بغرض تجسس نہیں انسان سے محبت مجبور کررہی ہے۔ کہ تم سے احوال دریافت کروں۔ عمر میں تم سے کہیں زیادہ ہوں۔ بزرگوں کا کہنا ہے کہ کسی مشکل میں مشورہ کرلینا ضروری ہے حل نکل آتا ہے۔ مجھے بتائو بچو… حلیے سے مشکل کا شکار معلوم ہوتے ہو کیا بات ہے؟‘‘
‎’’ہماری داستان طویل ہے۔‘‘

‎’’عشاء تک فراغت ہے مجھے بتائو کیا پریشانی ہے تمہارے نام کیا ہیں۔‘‘
‎’’میرا نام مسعود احمد ہے اور ان کا رامانندی ہے۔‘‘
‎’’رامانندی…‘‘ امام صاحب نے سرگوشی کے انداز میں کہا اور پھر گہری نظروں سے رامانندی کو دیکھا پھر بولے۔ ’’جیل سے فرار ہوئے ہو؟‘‘
‎’’نہیں…‘‘ رامانندی نے جلدی سے کہا۔
‎’’کسی قانونی مشکل میں ہو…؟‘‘
‎’’نہیں۔‘‘ رامانندی ہی بولا۔
‎’’الحمدللہ پھر احوال کہو۔ تم بتائو میاں خاموش کیوں ہو…؟ پہلے تم اپنے بارے میں بتائو۔‘‘ زبان کھل گئی۔ میں نے اول سے آخر تک داستان امام صاحب کو سنادی اس میں رامانندی کا پورا ذکر بھی آگیا تھا۔ امام صاحب خاموشی سے سنتے رہے تھے۔ میرے خاموش ہونے کے بعد بھی وہ دیر تک خاموش رہے تھے۔ پھر وہ رامانندی سے مخاطب ہوکر بولے۔
‎’’عزیزی تمہاری داستان تو معلوم ہوگئی۔ مگر تم سجدے میں کیوں پڑے ہوئے تھے۔ تم کسے سجدہ کررہے تھے؟‘‘
‎’’ارے جس کی آواز مجھے سنائی دے رہی تھی۔ وہ جس کا کہا آپ بول رہے تھے۔ میں اسے سجدہ کررہا تھا۔ میرے گناہوں نے بھگوان سے تو میرا رشتہ توڑ دیا امام جی… مگر میں اس کی پناہ میں آنا چاہتا ہوں جس کی باتیں آپ لوگوں کو سنا رہے تھے۔ میں کالے دھرم سے نکل کر اس کے سائے میں آنا چاہتا ہو۔‘‘ رامانندی نے روتے ہوئے کہا۔ اور امام صاحب اٹھ کھڑے ہوئے۔

‎’’آئو…‘‘ انہوں نے کہا… رامانندی سہما سہما کھڑا ہوگیا تھا میں بھی اٹھ کھڑا ہوا تو امام صاحب نے مڑ کر کہا۔ ’’نہیں تم یہاں رکو… تمہیں یہیں رکنا ہوگا۔ مسعود میاں جانا نہیں یہاں سے بہت سی باتیں کرنی ہیں تم سے تاکید کرتا ہوں۔ یہ ناآشنا ہے کہتا ہے بھگوان سے اس کا رشتہ ٹوٹ گیا ہے ارے بائولے نام بدل لینے سے کچھ نہیں ہوتا افکار نہیں بدلنے چاہئیں وہیں سے کفر کی سرحدیں شروع ہوتی ہیں افکار بدل کر نام بدلو تو بری بات ہے سچ کو کچھ بھی کہہ لو سچ رہتا ہے آئو۔‘‘ انہوں نے رامانندی کا ہاتھ پکڑا اور اسے مسجد میں لے گئے۔
‎میں ڈبڈبائی آنکھوں سے ان دونوں کو دیکھتا رہا اندازہ ہورہا تھا اپنے بارے میں اندازہ ہورہا تھا وہ لامذہب مجھ سے بہتر ہے وہ اندر جاسکتا ہے اور میں… وہیں سر جھکائے بیٹھا رہا۔ بہت دیر گزر گئی۔ رات ہوگئی پھر وہ واپس آگئے۔ میں نے مسجد سے آنے والی مدھم روشنی میں دیکھا رامانندی کا لباس بدل گیا تھا۔ اس نے شاید امام صاحب کے کپڑے پہنے ہوئے تھے اس کے ہاتھوں میں کھانے کے برتن تھے۔
‎’’کھانا کھالو مسعود میاں۔‘‘ امام صاحب بولے اور میں نے رامانندی کو بغور دیکھا۔ امام صاحب مسکراکر بولے… ’’ہم نے ان کا نام سرفراز رکھا ہے خدا کے فضل سے یہ مشرف بہ اسلام ہوگئے ہیں۔‘‘
‎’’اوہ اور میں…؟‘‘
‎’’کھانا کھالو۔‘‘
‎’’میرا کیا تعین ہے امام صاحب…‘‘
‎’’کھانے کے بعد پوچھ لینا…‘‘
‎’’نہیں میں آپ کا یہ حکم نہیں مان سکوں گا۔‘‘ میں نے قطعی لہجے میں کہا۔
‎’’سنو، ناآگہی کی معافی ہے اور جو آشنا ہوتے ہیں ان پر امانتوں کا بوجھ ہوتا ہے اس نے ہندو گھرانے میں جنم لیا اور وہی سیکھا جو دیکھاتھا!‘‘
‎’’ تم نے بھی وہی سیکھا جو دیکھا تھا اور تمہارا دیکھا وہ تھا جو مکمل تھا۔ تمہارا سنا وہ تھا جو حقیقت تھا۔ فرق صرف آشنا نا آشنا کا ہوا۔ مساجد میں عالم دین کتابوں میں وہ بتاتے ہیں جو نجات کی سمت تعین کرتا ہے اور جان کر بھٹکنا بدترین ہے۔ تم نے ملے سے منہ موڑا، بار بار ایک بار نہیں جب تم اس پر بھروسہ کرتے تھے تو خود قدم کیوں بڑھائے تمہیں تو سمت دی گئی تھی اور وہی سمت تمہیں آگے لے جارہی تھی رخ بدل لیا تم نے کوئی کیا کرے۔ بار بار رخ بدلتے ہو۔ اب انتظار کرو اپنی طرف چلنے والی ہوائوں کا۔ ہوا کے صحیح رخ کا اندازہ ہوجائے تو اس سمت چل پڑنا۔‘‘

‎’’گویا اب میں تنہا ہوں…‘‘ میں نے پوچھا۔
‎’’نہیں تمہارے ساتھ توبہ ہے۔ سانسوں کی آخری حد تک۔ موت کے ہوش چھین لینے سے پہلے تک۔ اور میں صرف اتنا کہتا ہوں کہ تمہیں مایوسی نہیں ہوگی۔ ہاں قبولیت تک انتظار کرنا ہوگا۔‘‘
‎میں سکوت کے عالم میں کھڑا رہا۔ پھر میں نے آہستہ سے کہا۔ ’’شکریہ میں چلتا ہوں۔‘‘
‎’’کہاں…؟‘‘
‎’’پتہ نہیں…‘‘
‎’’کھانا نہیں کھائو گے؟‘‘
‎’’نہیں۔‘‘
‎’’کیوں؟‘‘
‎’’یہ برتن گندے ہوجائیں گے۔‘‘
‎’’ہم انہیں دوبارہ استعمال نہیں کریں گے۔‘‘
‎’’میں یہ نقصان نہیں کرنا چاہتا…‘‘ میں نے کہا اور امام صاحب خاموش ہوگئے میں پلٹا تو رامانندی بے قرار ہوکر بولا۔
‎’’ایک منٹ مسعود ایک منٹ، میں امام صاحب سے اجازت لے لوں۔ امام صاحب میرے لیے کیا حکم ہے؟‘‘
‎’’اللہ کے احکامات کی تعمیل کرنا بس اس کے سوا کچھ نہیں۔‘‘ امام صاحب نے کہا اور کھانے کے برتن واپس لے کر اندر چلے گئے۔ میں نے رامانندی سے کہا۔
‎’’راما…! وہ معاف کرنا سرفراز تمہارا میرے ساتھ چلنا اب مناسب نہیں ہوگا ہم اسے عطیہ الٰہی کہتے ہیں تمہیں جو عطا ہوا وہ بہت قیمتی ہے۔ بہتر ہے کہ امام صاحب کے ساتھ کچھ عرصہ قیام کرکے دینی معلومات حاصل کرو وہ گریز نہیں کریں گے۔‘‘
‎’’آئو…‘‘ رامانندی نے کہا اور میرا بازو پکڑ کر وہاں سے آگے بڑھ گیا۔ میں ہچکچایا تو اس نے میرے بازو پر گرفت مضبوط کرلی اور پھر مجھے ساتھ لے کر چل پڑا۔ رخ بستی کی طرف تھا۔ کافی دور چلنے کے بعد اس نے کہا تمہیں چھوڑ دوں گا میں۔ ابھی تو میرے اور تمہارے درمیان نیا رشتہ قائم ہوئے دیر بھی نہیں ہوئی۔
‎’’نہیں رامانندی بڑا دلچسپ واقعہ ہوگیا ہے۔‘‘ میں نے بے اختیار مسکراتے ہوئے کہا۔
‎’’کیا…؟‘‘
‎ایک مصرع ہے کہیں سنا تھا۔ اس وقت بالکل فٹ بیٹھتا ہے۔
‎’’میں ہوا کافر تو وہ کافر مسلماں ہوگیا۔‘‘
‎’’خدا نہ کرے تم کافر کیسے ہوگئے۔‘‘

‎’’اب بھی یہ سوال کررہے ہو۔ امام صاحب نے مجھے مسجد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی۔ وہ برتن جن میں میں کھانا کھائوں گا ناقابل استعمال ہوجائیں گے۔‘‘
‎’’سب ٹھیک ہوجائے گا مسعود… سب ٹھیک ہوجائے گا۔‘‘
‎’’پتہ نہیں کیسے ٹھیک ہوجائے گا۔‘‘
‎’’دین کی بات ہے میں نہیں بول سکتا مگر دماغ کچھ الجھتا ہے میں نے تو وہ سارے کرم کیے تھے جن سے کالا جادو آتا ہے گندے اور غلیظ عمل… صحیح معنوں میں تو پاک میں ہوں جبکہ تم نے نہ کالا جادو کیا اور نہ اس کی خواہش کی۔ میں کیسے پاک ہوگیا…؟‘‘
‎’’نہیں میں امام صاحب کی بات سے متفق ہوں۔ گناہ کبیرہ، اور گناہ صغیرہ کا فرق ہے باریک نکتے ہیں کوئی عالم ہی سمجھا سکتا ہے مجھے جگہ جگہ اپنی غلطیوں کی گواہی ملتی ہے بابافضل نے مجھے کچھ نصیحتیں کی تھیں انہوں نے کہا تھا کہ عمل کا ایک راستہ ہوتا ہے۔ تمہارے نفس کی خواہش تحریک شیطانی ہوتی ہے اس سے بچنا۔ محبتوں کے جال میں پھنس کر فرض کو نہ بھولنا۔ مجھے ایک کراماتی کمبل ملا تھا جسے مجھے ہر وقت ساتھ رکھنا تھا مگر رشتوں کے جال میں پھنس کر ہی اسے چھوڑ کر چلا گیا اور کمبل گم ہوگیا۔ میں نے اپنی طاقت کے زعم میں کچھ ایسے عمل بھی کئے جن کے بارے میں یہ اندازہ نہیں کرسکا کہ وہ شیطان کے بچھائے ہوئے جال ہیں۔ مجھ سے ایسی غلطیاں بار بار ہوئی ہیں۔‘‘
‎’’امام صاحب نے تمہیں توبہ کرنے کے لیے کہا ہے۔‘‘
‎’’ہاں کروں گا مگر قبولیت کا وقت نہ جانے کونسا ہوگا تم جس رشتے کی بات کررہے ہو افسوس وہ قائم نہیں ہوسکا۔‘‘
‎’’کیوں؟‘‘ اس نے پوچھا۔
‎’’اب اور کیسے سمجھائوں۔ بتا تو چکا…‘‘ میں نے کہا۔
‎’’یعنی دین کا رشتہ…؟‘‘
‎’’ہاں۔‘‘

‎’’میں اس رشتے کی بات کہاں کررہا ہوں۔‘‘
‎’’تو پھر…؟‘‘ میں نے اسے تعجب سے دیکھا۔
‎’’اوہ نہیں میرے بھیا… ماں کا رشتہ قائم ہوا ہے میرے اور تیرے درمیان میں نے ماں سے کہا تھا کہ اپنے دوسرے بیٹے کے لیے بھی ہاتھ اٹھالے اس نے ضرور میرے لیے دعا کی ہوگی اور دیکھ لے مسعود مجھے ماں کی دعا سے کیا مل گیا۔ کل ماں نے مجھ سے بھیا کے بارے میں پوچھا تو کیا جواب دوں اسے۔‘‘
‎میں خاموش ہوگیا ہم بستی میں داخل ہوگئے۔ بازار کھلے ہوئے تھے ایک نانبائی کی دکان پر بیٹھ کر اس نے کھانا طلب کیا اور سرگوشی میں مجھ سے بولا۔ ’’تمہیں میری قسم مسعود خاموش رہنا۔‘‘
‎میں نے خاموشی سے کھانا کھالیا تھا اپنی کیفیت کا خود اندازہ نہیں کرپارہا تھا کیا ہورہا ہے مجھے شکایت ہے بغاوت ہے صدمہ ہے نہ جانے کیا ہے نہ جانے اس وقت میری سوچ کیا ہے۔
‎’’اب بستی چھوڑ دیں کیا خیال ہے…؟ رامانندی بولا۔ نہ جانے کون سی بستی ہے۔‘‘
‎’’کوئی بھی ہو کیا فرق پڑتا ہے ریلوے اسٹیشن کا پتہ پوچھے لیتے ہیں کہیں بھی نکل چلیں گے۔‘‘
‎’’تھکن ہوگئی ہے۔ رات گزار لیں کل چلیں گے۔‘‘
‎’’ضرور ٹھیک ہے وہ سامنے پیپل کا درخت ہے اس کے نیچے چبوترہ بنا ہوا ہے رات گزارنے کے لیے بہترین جگہ ہے۔‘‘ ہم دونوں چبوترے پر جا لیٹے پیپل کی جڑ میں ایک مجسمہ رکھا ہوا تھا جس کے پاس مٹھائی کے دونے پڑے ہوئے تھے رامانندی نے مجھے بتایا… ’’یہ گوبر دھن پوجا کا سامان ہے صبح جلدی اٹھ جائیں گے یہاں سے ہوسکتا ہے ہندوئوں کو اعتراض ہو۔‘‘ میں نے کوئی جواب نہیں دیا تھا۔ تم اب تک الجھے ہوئے ہو…؟
‎’’ٹھیک ہوجائوں گا…‘‘
‎’’کوشش کرکے سوجائو نیند سکون دے گی۔‘‘
‎’’ہاں‘‘ میں نے کہا سر کے نیچے ایک اینٹ رکھی اور کروٹ بدل لی۔ کافی دیر خاموش رہنے کے بعد میں نے کہا۔ ’’سوگئے نندی…؟‘‘
‎’’یار مجھے سرفراز کہو…؟‘‘
‎’’سوگئے سرفراز…‘‘
‎’’کیا بھوریا چرن کو ان حالات کے بارے میں معلوم ہوگا…؟‘‘
‎’’ہوسکتا ہے…‘‘
‎’’اس پر کیا اثر ہوگا؟‘‘

‎’’اللہ جانتا ہے مجھے اب بالکل پروا نہیں ہے بڑا سکون ملا ہے مجھے مسعود بیان نہیں کرسکتا بھوریاچرن کا پدم معلوم ہے تمہیں؟‘‘
‎’’یہ کیا ہوتا ہے؟‘‘
‎’’شناختی نشان…‘‘
‎’’مکڑی…؟‘‘ میں نے پوچھا۔
‎’’ہاں جہاں مکڑی دیکھ لو ہوشیار رہنا۔ اس کے بیراسی شکل میں ہوتے ہیں۔‘‘
‎’’ہاں میرا واسطہ پڑچکا ہے۔‘‘ میں نے ٹھنڈی سانس لے کر کہا اور پھر خاموش ہوگیا۔ آنکھوں میں غنودگی تیرنے لگی تھی۔ میں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر نیند بھگانے لگا۔ سوگیا تو اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکوں گا رامانندی کی گہری گہری سانسیں سنائی دے رہی تھیں۔ کچھ دیر کے بعد میں اٹھا رامانندی کو ایک نگاہ دیکھا اور پھر بلی کی طرح دبے قدموں وہاں سے آگے بڑھ گیا۔ بستی کے بارے میں مجھے کچھ نہیں معلوم تھا۔ بس منہ اٹھا کر چل پڑا تھا اور رفتار تیز رکھی تھی تاکہ رامانندی مجھے تلاش نہ کرے۔ میں اس کے ساتھ نہیں رہ سکتا تھا۔
‎سڑکوں اور گلیوں میں کتے بھونک رہے تھے۔ بستی کے آخری سرے پر پہنچا تھا کہ سیاہ رنگ کا ایک قد آور کتا مجھ پر جھپٹ پڑا۔ بہت خونخوار کتا تھا اور بہت غصہ ور معلوم ہوتا تھا اچانک ہی غراکر حملہ آور ہوا تھا میں بوکھلا گیا۔ قریب تھا کہ کتا میری ٹانگ پکڑلے لیکن اچانک ہی کسی نے اسے پیچھے سے پکڑ کر گھسیٹ لیا۔ اور پھر اس کی بھیانک چیخیں ابھرنے لگیں۔ میں نے اسے درمیان سے دو ٹکڑے ہوتے ہوئے دیکھا۔ اس کی دونوں ٹانگیں چیر دی گئی تھیں پھر اس کے جسم کی چندھیاں چندھیاں کرکے پھینک دی گئیں۔ اور مجھے سمجھنے میں دیر نہیں لگی کہ وہ میرے بیر تھے… میرے محافظ…
‎بڑا شاک لگا تھا… یہ کالی قوتیں مسلسل میرا ساتھ دے رہی تھیں اور دوسری طرف کچھ نہیں تھا۔ ادھر میں صرف ملعون و مطعون تھا۔ اچانک سارے بیر ظاہر ہوگئے۔
‎’’پورنا کی جے… کوئی حکم…؟‘‘ ایک نے آگے بڑھ کر کہا میری رگیں کھینچنے لگیں۔ دماغ میں خون کی گردش تیز ہوگئی اعصاب چٹخنے لگے۔ بمشکل تمام میرے منہ سے نکلا۔
‎’’نہیں۔‘‘
‎’’سواری کورتھ لادیں؟‘‘

‎’’نہیں… تم جائو… روپوش ہوجائو۔‘‘
‎’’جے پورنا…‘‘ وہ سب غائب ہوگئے۔ میں کچھ دیر کھڑا حواس درست کرتا رہا پھر کیفیت کچھ تیز ہوئی تو برق رفتاری سے چلتا وہاں سے آگے بڑھ گیا۔ رفتار ہیجان کے عالم میں پہلے سے زیادہ تیز ہوگئی تھی بستی پیچھے رہ گئی آگے جنگل کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔ میں تاریکی میں ٹھوکریں کھاتا آگے بڑھتا رہا۔ راستے کا کوئی علم نہیں تھا۔ بس قدم اٹھ رہے تھے جنگل ختم ہوگیا میدان نظر آنے لگے اکا دکا خودرد درخت آجاتے تھے۔ چلتا رہا بہت دیر کے بعد کہیں دور سے گڑگڑاہٹ سنائی دی اور پھر ایک تیز روشنی جس کے عقب میں ننھی ننھی روشنیاں ٹمٹماتی گزر رہی تھیں ریل تھی جو کچھ دیر کے بعد آنکھوں سے اوجھل ہوگئی۔ چلتے چلتے تھک گیا تھا رات ابھی خاصی باقی تھی۔ جگہ کیا تلاش کرتا جہاں تھا وہیں بیٹھ گیا تھکن کے مارے برا حال ہورہا تھا نیند کے جھونکے بھی آرہے تھے چنانچہ لیٹ کر آنکھیں بند کرلیں اور سونے کی کوشش کرنے لگا۔ دماغ کو آزاد چھوڑ دیا تھا اس لیے نیند آنے میں دقت نہ ہوئی اور سکون کی وادیوں میں پہنچ گیا۔ صبح کو پرندوں کی چہچہاہٹ اور جنگلی خرگوشوں کی بھاگ دوڑ سے آنکھ کھل گئی۔ جاگنے کے بعد آس پاس کے مناظر دیکھے بس وہی ویرانہ جو میری تقدیر کی مانند تھا۔ تاحد نگاہ کچھ نظر نہیں آتا تھا سوائے ٹیلی فون کے تاروں کے ان کھمبوں کے جو فاصلے فاصلے سے لگے ہوئے تھے اور ان کے بیچ تاروں کا رابطہ تھا۔ پتہ نہیں آبادی کتنے فاصلے پر ہے لیکن یہ کھمبے کسی آبادی کی جانب میری رہنمائی کرسکتے ہیں اٹھا تو چکر سا آگیا۔ احساس ہوا کہ بھوک اور پیاس نے نڈھال کر رکھا ہے خشک ہونٹوں پر زبان پھیر کر سرد آہ بھر کے رہ گیا۔ بھلا اس بے آب و گیاہ ویرانے میں کھانے کا کیا تصور ہوسکتا ہے قدرتی طور پر بھی یہاں کچھ نہیں تھا۔ بس جگہ جگہ بدنما جھاڑیاں اگی نظر آرہی تھیں کہیں کہیں بڑے بڑے جھاڑ تھے جو بعض جگہ خاصے علاقے میں پھیلے ہوئے تھے یہی فیصلہ کیا میں نے کہ ان تاروں کو دیکھتا ہوا آگے بڑھتا رہوں۔ پیٹ میں چوہے دوڑ رہے تھے حلق خشک ہونے لگا لیکن بے کار تھا سب کچھ بے کار تقریباً سو گز کے فاصلے پر ایک جھاڑ اگا ہوا تھا اس کے پیچھے سے گزر کر دوسری سمت پہنچا تو آنکھیں شدت حیرت سے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔

 ایک دری بچھی ہوئی تھی جس پر سفید چادر بچھی تھی چادر کے کونے وزنی پتھروں سے دبے ہوئے تھے۔ درمیان میں پھل خشک میوے اور گوشت کے بھنے ہوئے ٹکڑے رکھے ہوئے تھے میں ساکت رہ گیا دور دور تک نظریں دواڑئیں لیکن کیا مجال کہ کسی انسانی وجود کا احساس بھی ہوجائے۔ ساری چیزیں تروتازہ تھی اور اعضاء چیخ رہے تھے کہ لپک اور شکم سیر ہوجا لیکن یہ سب آیا کہاں سے دوسرے لمحے اندر سے مایوسی کی ایک گھٹی سانس نکلی اور یاد کرنے پر یاد آیا کہ یہ سب کہاں سے آسکتا ہے بھوکا پیاسا تھا میری خواہش کو میرے بیروں سے زیادہ اور کون جان سکتا تھا ذرا سی دیر کے لئے ذہن کی کیفیت ڈانوں ڈول ہوئی اور دل نے کہا کہ پیٹ جو طلب کررہا ہے اسے نظرانداز مت کر ساری باتیں اس کے بعد شروع ہوتی ہیں چنانچہ پہلے اس مسئلے سے نمٹاجائے اور اس کے بعد سوچا جائے کہ آگے کیا کرنا ہے دو قدم آگے بڑھا تو کانوں میں آواز ابھری کہ توبہ تیرے ساتھ ہے تو تنہا نہیں ہے۔ توبہ کے دروازے اس لمحے تک کھلے رہیں گے جس لمحے تک تیری سانس تیرے بدن میں ہوگی۔ آگے بڑھتے ہوئے قدم رک گئے۔ میں نے آنکھیں بند کرلیں اور اس کے بعد رخ تبدیل کرلیا تیز رفتاری سے وہاں سے دور نکل آیا۔ کافی دور جانے کے بعد جب ایک پتھر سے ٹھوکر لگی تو ایک دم سے آنکھیں کھول کر دیکھا وہ پتھر نہیں تھا بلکہ ایک بڑا سا برتن تھا جس میں کھانے پینے کی اشیاء رکھی ہوئی تھیں۔ میں نے پلٹ کر حیرانی سے اسی جھاڑ کو دیکھا اتنا فاصلہ طے کرنے کے بعد بھی میں وہاں سے دور نہیں نکلا لیکن یہاں تو جھاڑ کا نام و نشان نہیں تھا وہ جھاڑ تو بہت پیچھے نظر آرہا تھا مگر پھر یہ برتن میں نے دانت پیسے اور ایک زوردار لات سامنے رکھے ہوئے برتن پر دے ماری۔ اس میں رکھی ہوئی اشیاء زمین پر لڑھک گئیں اور میں وہاں سے آگے دوڑنے لگا۔

‎لیکن اس بار میں نے آنکھیں بند نہیں کی تھیں سینہ دھونکنی بنا ہوا تھا۔ سانس چڑھ رہی تھی بہت دور نکلنے کے بعد جنون میں کسی حد تک کمی واقعی ہوئی تو میں نے ایک اور جھاڑی کو دیکھا جو خاصی سرسبز تھی اور اس میں لیموں جیسے گول گول پھل لگے ہوئے تھے۔ قدم خود بخود رک گئے ایک لمحے کے لئے ذہن نے کچھ سوچا دوسرے لمحے میں اس جھاڑی کے پاس بیٹھ گیا۔ انگلی اور انگوٹھے کی مدد سے پھلوں کو دباکر دیکھا رسیلے تھے اندر سے کیسے ہوں اللہ بہتر جانتا ہے دو پھل توڑے یہ سوچے سمجھے بغیر کہ ان کی خاصیت کیا ہے۔ وہ کیسے پھل ہیں انسانی صحت کے لئے مضر تو نہیں ہیں یہ سب کچھ سوچھے سمجھے بغیر میں نے ایک پھل کو دانتوں سے کاٹا زیادہ سخت نہیں تھا اندر کسی قدر کھٹاس اور کڑواہٹ تھی لیکن لیموں نہیں تھے تاہم ان میں بڑے ریشے موجود تھے میں نے پورا پھل چبالیا پھر دوسرا اور اس کے بعد جھاڑی سے پھل توڑ توڑ کر کھاتا رہا یہ بھی اپنے آپ کو سزا دینے کے مترادف تھا اگر کچھ ہوجاتا ہے ان پھلوں کے کھانے سے تو ہوجائے کیا فرق پڑتا ہے لیکن معدہ پوری طرح پُر ہوگیا تھا۔ بھوک اور پیاس دونوں کی شدت مٹ گئی تھی۔ بدن کو توانائی کا احساس بھی ہورہا تھا آگے بڑھنے کی ہمت بھی پیدا ہوگئی تھی چنانچہ آگے بڑھنے لگا۔ دوپہر تک کے سفر کے دوران دوبارہ ریل گزرتے دیکھی اس کا مطلب ہے کہ فاصلے پر ہی آگے آبادی ضرور مل جائے گی۔ مناظر بدل رہے تھے زمینوں پر کچھ متعدد نشان نظر آئے جو چونے سے بنائے گئے تھے۔ پھر ٹائروں کے نشان بھی نظر آئے اور اس کے بعد ایک باقاعدہ پگڈنڈی مزید کچھ دور چل کر اس پگڈنڈی پر ایک جیپ دیکھی۔

 گزرگاہ وہی تھی چنانچہ ادھر سے ہی گزرا… مگر یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ جیپ خالی تھی اس کے آس پاس کوئی موجود نہیں تھا۔ حیران کن بات تھی یہاں اس ویرانے میں یہ جیپ کون چھوڑ گیا۔ پھر ایک دم ہنسی آگئی یہ بھی شاید میرے بیروں کا احسان تھا ان کارتھ جدید ہوگیا تھا ابھی یہی سوچ رہا تھا کہ قدموں کی چاپ سنائی دی اور میں نے پلٹ کر دیکھا مضبوط جسم کا مالک کوئی تینتیس چونتیس سالہ شخص تھا جو ہاتھ میں موبل آئل کا ڈبہ سنبھالے آرہا تھا۔ اس نے بھی مجھے دیکھ لیا تھا اور رفتار تیز کردی تھی۔ شاید سوچ رہا تھا کہ کہیں جیپ لے کر نہ بھاگ جائوں قریب پہنچ کر اس نے مشکوک نظروں سے مجھے دیکھا۔
‎’’کیا بات ہے؟‘‘ اس نے پوچھا۔

‎’’کچھ نہیں بھائی ادھر سے گزر رہا تھا کہ یہ جیپ کھڑی ہوئی دیکھی حیران ہورہا تھا کہ اس کا مالک کہاں گیا۔‘‘
‎’’ریڈی ایٹر خشک ہوگیا تھا یار مصیبت بن گئی۔ دور دور تک پانی کا پتہ نہیں تھا بہت دور جاکر ایک نالی سے پانی ملا… لعنت ہے‘‘ اس نے گردن جھٹکی اور جیپ کا بانٹ کھولنے لگا۔ میں نے آگے بڑھ کر اس کی مدد کی تھی وہ بولا ’’بعض اوقات ایک چھوٹی سی حماقت اتنی بڑی مصیبت بن جاتی ہے کہ بس مزا آجاتا ہے۔ حالانکہ پانی کا گیلن ساتھ رہتا ہے مگر حماقت ہوگئی۔ جانتے ہو کیا؟‘‘ اس نے ریڈی ایٹر میں پانی انڈیلتے ہوئے کہا۔
‎’’کیا ہوا…؟‘‘ میں نے پوچھا۔
‎سائٹ سے چلتے ہوئے میں نے گیلن نکال کر شمسو کو دیا اور کہا کہ پانی بھر لائے وہ گیلن لے کر ادھر گیا اور میں جیپ اسٹارٹ کرکے چل پڑا۔ یاد ہی نہ رہا کہ شمسو کو
‎پانی لانے کے لئے بھیجا ہے۔ وہ تو شکر ہے کہ موبل آئل کا یہ خالی ڈبہ گاڑی میں پڑا مل گیا ورنہ گئے تھے اس نے ریڈی ایٹر فل کیا۔ اور اس کا ڈھکن لگاکر بانٹ گرادیا پھر چونک کر بولا مگر تم کہاں گھوم رہے ہو کیا تلیری سے آرہے ہو۔ میں نے کوئی جواب نہیں دیا تو وہ خود ہی بولا ریل میں بیٹھ گئے ہوتے سوا روپیہ لگتا ہے سانسی کا، سانسی ہی جارہے ہوتا؟
‎’’ہاں‘‘ میرے منہ نے نکلا۔

‎’’چلو میں چھوڑ دوں گا آئو بہت دیر ہوگئی۔‘‘ میں اس کے ساتھ بیٹھ گیا۔ ’’کہاں رہتے ہو، سانسی میں…‘‘
‎’’نہیں‘‘
‎’’اچھا تلیری میں رہتے ہو گے سانسی میں کہاں جانا تھا؟‘‘
‎’’پہلی بار جارہا ہوں۔‘‘
‎’’سانسی پہلی بار جارہے ہو؟‘‘
‎’’ہاں!‘‘
‎’’کیوں جارہے ہو؟‘‘ اس کے انداز میں تمسخر تھا۔
‎’’کسی نوکری کی تلاش میں۔‘‘ نہیں ایک خیال کے تحت جلدی سے کہا۔
‎’’سانسی۔ اور نوکری کی تلاش میں۔ کسی نے مشورہ دیا تھا؟‘‘
‎’’کسی نے نہیں۔‘‘
‎’’اچھا خود ہی چار روٹیاں پکواکر چل پڑے ہوگے۔ چاروں کھاگئے یا کوئی بچی ہے۔ بھلے آدمی سانسی میں نوکری کہاں ملے گی تمہیں۔ کسی سے بات ہوئی ہے؟‘‘
‎’’نہیں!‘‘
‎’’کمال کے آدمی ہو۔ کسی سے پوچھ تو لیا ہوتا۔ کیا نام ہے۔‘‘
‎’’مسعود احمد‘‘
‎’’میرا نام شاہد علی ہے۔ کنسٹرکشن کا کام کرتا ہوں۔ ایک مصیبت میں پھنس گیا ہوں یار۔‘‘ بے تکلف آدمی تھا میں نے اس سے اس کی مصیبت کے بارے میں کچھ نہیں پوچھا تھا۔ اماں کچھ منہ سے تو بولو۔ یہی بات سن کر پریشان ہوگئے ہو گے وہ خود ہی بولا۔
‎’’ہاں ایسا ہی ہے۔‘‘
‎’’چلو ٹھیک ہے دنیا کے کام ایسے ہی چلتے ہیں۔ کیا کام جانتے ہو؟‘‘
‎’’کچھ نہیں!‘‘
‎’’سبحان اللہ۔ سبحان اللہ اماں کیا آدمی ہو۔ کوئی کل سیدھی نہیں لگ رہی کچھ پڑھے لکھے ہو۔‘‘
‎’’ہاں۔‘‘
‎’’شکر ہے۔ شکر ہے۔ کتنی تنخواہ میں کام چل جائے گا کوئی آگے پیچھے ہے یا۔‘‘
‎’’اکیلا ہوں۔‘‘
‎’’مبارک ہو۔ مبارک ہو۔ تمہیں نہیں انہیں جو تمہارے کوئی بھی نہیں ہیں۔ ورنہ بھوکے مرتے بے چارے۔ بار برا مت ماننا میری بات کا۔ مگر تم تو بہت ہی سیدھے آدھی ہو مجھے وہ شیخ چلی یاد آرے ہیں جو چار روٹیاں باندھ کر نوکری تلاش کرنے چل پڑے تھے۔ ان کا کام ہوا ہو یا نہ ہوا ہو تمہارا کام ہوگیا۔ بس یوں سمجھ لو تمہیں نوکری مل گئی اب پیسوں ویسوں کی بات مت کرنا۔ ذرا اطمینان سے بیٹھیں گے تو یہ مسئلہ بھی حل کرلیں گے ان دنوں تو میں ایک مصیبت میں گرفتار ہوں فی الحال تم یوں کرو کہ میری مصیبت میں شریک ہوجائو، دونوں مل کر مصیبتیں بھگتیں گے، ساتھ کھائیں گے ساتھ پیئیں گے، یار یقین کرو، میں ہنس بول رہا ہوں تمہارے ساتھ، مگر جو مجھ پر بیت رہی ہے میرا دل ہی جانتا ہے۔‘‘

‎یہ آدمی واقعی اچھا معلوم ہوتا تھا، فوراً ہی میں نے اپنے خیالات میں ذراسی تبدیلی پیدا کی تھی نوکری کا تذکرہ یہی سوچ کر کیا تھا کہ جو کچھ گزر رہی ہے وہ تو گزر ہی رہی ہے کم از کم کچھ حلال کی کھائوں، بیچارے پنڈت جی کے ہاں گھر کے کام کاج کی نوکری کی تھی تو وہ گھر ہی چھوڑ بھاگے تھے اب مجھے کیا معلوم تھا کہ ان پر اور مجھ پر کیا مصیبت پڑنے والی ہے لیکن یہ دوسری نوکری جو مجھے مل رہی تھی وہ پہلے سے کسی مصیبت زدہ کے ہاں کی نوکری تھی، دل تو چاہ رہا تھا کہ اس سے اس کی مصیبت کے بارے میں پوچھوں لیکن ہمت نہیں پڑرہی تھی پھر اس نے خود ہی کہا۔

‎’’یار کچھ منہ سے تو پھوٹو، سانسی ابھی یہاں سے کافی دور ہے اور میں بہت زیادہ تیز گاڑی نہیں چلا سکتا کچھ گڑبڑ ہے اس کے انجن میں۔‘‘
‎’’آپ نے اپنی کسی پریشانی کا تذکرہ کیا تھا۔ کیا بات ہے؟‘‘
‎’’ہاں ہاں اس وقت یہی مسئلہ میری زندگی کا سب سے اہم مسئلہ ہے۔ بس یار ایک انوکھی مشکل میں مبتلا ہوگیا ہوں، اللہ سے دعا کرو کہ مجھے اس مصیبت سے گزارے، ہوا یہ ہے کہ تمہیں بتاچکا ہوں کہ کنسٹرکشن کا کام کرتا ہوں اور عمارتیں وغیرہ بنواتا ہوں، ہمارے ایک جاننے والے ہیں بڑی پرانی شناسائی ہے بس یوں سمجھو کہ اللہ نے پیٹ بھی بھردیا ہے اور تجوریاں بھی، ایک باغ خریدا تھا انہوں نے اسی علاقے میں جدھر سے ہم لوگ گزر رہے تھے، بڑا پرانا باغ پڑا ہوا تھا، موصوف کو وہاں فارم ہائوس بنانے کی سوجھی، ایک عمارت، ٹیوب ویل اور ایک طویل رقبے میں احاطہ بنوانے کا ارادہ کیا اور اس کا ٹھیکہ مجھے دے دیا، پیسے بھی لے لیے میں نے ان سے اور اس کے بعد سارے کام ختم کراکے اس طرف چل پڑا مجھے کیا معلوم تھا کہ وہ باغ آسیب زدہ ہے۔‘‘ شاہد علی بولتے ہوئے رک گیا۔ میں خاموشی سے اس کے آگے بولنے کا انتظار کرنے لگا۔ کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد اس نے کہا۔

‎’’باغ کا کٹوانا ضروری تھا اور ایسے بھی پرانا باغ تھا سارے درخت سوکھے پڑے ہوئے تھے، کوئی دیکھ بھال کرنے والا موجود نہیں تھا یہاں تک کہ مالی بھی نہیں اور اس کی وجہ یہی تھی کہ باغ آسیب زدہ مشہور تھا درختوں پر پھل نہیں آتے تھے اور اس کا مالک بھی اس سے جان چھڑانا چاہتا تھا۔ کسی ہندو کا باغ تھا۔ بہر طور میں نے کام شروع کرادیا۔ درخت کٹوانے میں بھی دو ڈھائی مہینے لگ گئے۔ اور پھر مصیبت آگئی، مصیبت ایسے آئی کہ بس کیا بتائوں یار۔ پتہ نہیں تم میری باتوں کو مذاق سمجھو یا سچ۔ ایک بہت پرانا درخت تھا وہاں بستی کے آس پاس کے لوگوں کا کہنا تھا کہ اصل میں یہی درخت آسیب زدہ ہے۔ میں نے اس سے پہلے کبھی آسیب وغیرہ دیکھے نہیں تھے۔ مگر کچھ ایسے آثار نمودار ہوئے جس سے مجھے بھی شبہ ہونے لگا کہ لوگوں کا کہنا غلط نہیں ہے، میں نے درخت کی کٹائی شروع کرادی اور اس دن دوپہر کا وقت تھا۔ مزدور جڑیں کھود رہے تھے کہ درخت کی جڑ میں انہیں ایک عجیب و غریب صندوق جیساملا، پتھر کا صندوق تھا مزدوروں نے اس پر کدالیں مارنا شروع کردیں اور اس صندوق کا ڈھکن کھول دیا مجھے اطلاع ملی تو میں فوراً ہی متوجہ ہوگیا بے شمار بار ایسی کھدائیاں کراتے ہوئے دل میں یہ خیال آیا تھا کہ کہیں کوئی خزانہ وزانہ مل جائے۔ اس وقت بھی جب مجھے پتہ چلا کہ درخت کی جڑ میں ایک صندوق برآمد ہوا ہے تو میں نے لگائی دوڑ اور پہنچ گیا وہاں… مزدروں کو ہٹاکر میں نے اس چوکور گڑھے میں جھانکا۔ گڑھے میں کسی خاص درخت کے پتے بچھے ہوئے تھے جن میں خاص بات یہ تھی کہ وہ تروتازہ تھے حالانکہ درخت پرانا اور سوکھا ہوا تھا مگر وہ پتے بالکل ہرے تھے اور ان پتوں پر پتھر کی ایک مورتی لیٹی ہوئی تھی۔ میں نے اس مورتی کو غور سے دیکھا ہندوئوں کے دیوی دیوتائوں کے بہت سے بت دیکھے ہیں میں نے مگر وہ مورتی ان میں سے کسی کی نہیں تھی۔ ایک عجیب سی شکل کی تھی وہ میں نے وہ مورتی نکال لی اور مزدوروں سے پورا کنواں کھدوادیا۔ اس لالچ میں کہ شاید یہ کوئی نشانی ہو خزانے کی۔ مگر کچھ نہیں ملا وہاں بڑی مایوسی ہوئی مزدوروں نے وہ درخت بھی گرادیا کوئی ایسی خاص بات نہیں تھی۔ کئی بار کھدائی کراتے ہوئے بہت سی چیزیں ملی تھیں مجھے۔ کمبخت کام کی کوئی چیز آج تک نہیں ملی لیکن اس بار جو مصیبت گلے پڑی ہے اللہ ہی اس سے نکالے۔‘‘

‎وہ جیسے خود ہی اپنی کہانی میں کھوگیا۔ میں خاموشی سے اس کے آگے بولنے کا انتظار کرنے لگا وہ سوچ میں ڈوب کر خاموش ہوگیا تھا پھر کچھ دیر کے بعد اس نے کہا۔ ’’ہاں تو میں کہہ رہا تھا کیا کہہ رہا تھا؟‘‘
‎’’وہ درخت گرادیا گیا۔‘‘ میں نے بتایا۔
‎’’کونسا درخت؟‘‘
‎’’جس کے نیچے سے مورتی نکالی گئی تھی۔‘‘
‎’’معاف کرنا۔ زیب النساء کا خیال آگیا تھا۔ ہاں تو وہ مورتی جو اس پتھر کے صندوق سے نکلی تھی میرے پاس ہی تھی۔ میں نے اسے بس یونہی جیپ میں رکھوالیا تھا۔ پھر میں دوسرے کاموں میں مصروف ہوگیا۔ شام کو گھر چل پڑا درخت کا واقعہ دوسرے کاموں کی وجہ سے بھول ہی گیا تھا۔ گاڑی سے اترا تو مورتی نظر آگئی۔ اسے اٹھا لایا اور اپنی خواب گاہ کے کارنس پر رکھ دیا۔ زیب النساء کے ساتھ کھانا کھایا بچوں سے باتیں کیں دو بچے ہیں میرے بیٹی بڑی ہے بیٹا چھوٹا دونوں دوسرے کمرے میں سوتے ہیں۔ رات کو ہم میاں بیوی اپنے کمرے میں معمول کے مطابق سوگئے۔ کوئی پونے ایک بجے سوئے تھے اور اس وقت ڈھائی بجے تھے جب ایک دھماکہ سا ہوا اور اس کے ساتھ ہی میری بیوی زیب النساء کی خوف ناک چیخ سنائی دی۔ میں اچھل پڑا۔ کمرے میں مدھم روشنی چل رہی تھی اور زیب النساء فرش پر پڑی ہوئی تھی۔ میں نے مسہری سے چھلانگ لگائی اور اس کے قریب پہنچ گیا۔ زیب النساء پسینے میں ڈوبی ہوئی تھی اس کی آنکھیں دہشت سے پھٹی ہوئی تھیں لیکن وہ ہوش میں تھی اور بار بار انگلی سے کارنس کی طرف اشارہ کررہی تھی میری سمجھ میں کچھ نہیں آیا تھا بڑی مشکل سے میں اسے اٹھا کر مسہری پر لایا۔ پانی پلایا دلاسے دیئے تو اس کی کیفیت بحال ہوئی۔ اس نے بتایا کہ وہ واش روم گئی تھی باہر نکلی تو مدھم روشنی میں اس نے کارنس پر کوئی تحریک دیکھی۔ 

وہ سمجھی کوئی چوہا کسی طرح اوپر چڑھ گیا مگر پھر اس نے غور سے دیکھا تو وہ مورتی ہل رہی تھی جسے میں لایا تھا۔ اس کے دیکھتے ہی دیکھتے مورتی اٹھ کر بیٹھ گئی پھر اس کے باریک پائوں نیچے لٹکے اور اتنے لمبے ہوئے کہ زمین تک پہنچ گئے اس کے بعد اس نے گھور کر زیب النساء کو دیکھا اور پھر آہستہ آہستہ آگے بڑھ کر دروازے کے پاس پہنچ گئی۔ پھر اس نے دروازہ کھول اور باہر نکل گئی زیب النساء دہشت سے چیخ کر میری طرف بھاگی اور لباس میں الجھ کر گرپڑی۔ یار میں اسے اس کا وہم سمجھ سکتا تھا مگر دونوں باتیں اس کے بیان کی تصدیق کرتی تھیں۔ مورتی کارنس سے غائب تھی اور دروازہ کھلا ہوا تھا…!‘‘ (جاری ہے)

تمام اردو کہانیاں پڑھنے کے لیے کلک کریں 

کالا جادو - پارٹ 15

Urdu stories online, Urdu stories for kids, Short Urdu stories, Urdu Kahaniyan, Famous Urdu stories, Urdu stories with moral, Best Urdu stories collection, Urdu stories for students, Urdu love stories, Urdu horror stories, Urdu stories for reading, Urdu stories in Urdu text, Funny Urdu stories, Urdu stories for beginners, Urdu detective stories, Urdu motivational stories, Urdu stories for adults, Urdu moral stories, Urdu stories for children, Urdu true stories, Urdu suspense stories, Urdu emotional stories, Urdu adventure stories,

hindi moral stories in urdu,سبق آموز کہانیاں, jin-ki-dushmni,good moral stories in urdu,Moral Stories,Urdu Stories,urdu kahani,اردو کہانی,قسط وار کہانیاں,
Reactions