کالا جادو - ایم اے راحت - قسط نمبر 12

کالا جادو - اردو کہانی قسط نمبر 12

رائیٹر :ایم اے راحت

‎دُوسرے دن صبح معمول کے مطابق جاگا۔ ناشتہ فتح محمد لایا تھا۔ آنکھیں جھکی ہوئی تھیں۔ زبان بند تھی۔ چہرے پر سرخی چھائی ہوئی تھی۔ میرے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ اس کا مقصد ہے کہ فتح محمد کا کام ہوگیا۔ اس نے ناشتہ میرے سامنے رکھا، حیرت انگیز طور پر خاموش تھا، میں نے ہی اسے مخاطب کیا۔
‎’’فتح محمد!‘‘ اور وہ اس طرح اُچھل پڑا جیسے بچھو نے ڈنگ مار دیا ہو۔
‎’’کتنی تھیں؟‘‘ میں نے سوال کیا۔
‎’’تیرہ۔‘‘ وہ بے اختیار بولا اور پھر چونک کر کہنے لگا۔ ’’کیا میاں صاحب کیا؟‘‘
‎’’کام ہو جائے گا تمہارا؟‘‘ میں نے پوچھا اور فتح محمد ادھر اُدھر دیکھنے لگا۔ چند لمحات سوچتا رہا پھر جلدی سے آگے بڑھا اور جھک کر میرے پائوں پکڑ لیے۔
‎’’قسم اللہ کی، زندگی بھر غلام رہوں گا آپ کا میاں صاحب، دن پھیر دیے آپ نے میرے، معاف کر دیجیے مجھے معاف کر دیجیے، رات کو یہ سوچ رہا تھا بلکہ ساری رات سوچتا رہا تھا کہ آپ سے قبول کر ہی نہیں دوں گا چپ لگا جائوں گا مم… مگر غلطی تھی گستاخی تھی میری، معاف کر دیجیے۔‘‘
‎’’ارے فتح محمد ہم سے چھپانے کی کیا ضرورت تھی۔ بھئی ہم بھلا کس سے کہنے جا رہے ہیں۔ ٹھیک ہے اب تم جانو اور تمہارا کام۔‘‘
‎’’میاں صاحب آپ نے، آپ نے…‘‘
‎’’بس بس بیکار باتوں سے گریز کرو۔ اچھا ہاں ذرا ہمیں یہ بتائو یہاں کون کون سے بزرگوں کے مزارات ہیں اور کہاں سے کہاں جانا ہوگا ہمیں…؟‘‘
‎’’مزارات! ابے لو یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے۔ دلی کی کسی بھی سڑک پر نکل جائو، کسی چلتے پھرتے سے پوچھ لو، وہ سارے کے سارے مزاروں کے پتے بتا دے گا۔ پہلے تو حضرت سلطان جی ہی ہیں ان کے دربار میں جائو، میاں صاحب مزا آ جائے گا۔ قسم اللہ کی کیا جگہ ہے۔ اس کے بعد فتح محمد تمام بزرگوں کے نام گنانے لگا اور میں نے انہیں ذہن نشین کرلیا۔ فتح محمد بولا…‘‘
‎’’جانے کا ارادہ ہے
‎کیا…؟‘‘
‎’’ہاں فتح محمد، جی چاہتا ہے۔‘‘
‎’’تو پھر موٹر نکلوا لو شیخ صاحب کی، ڈرائیور سارے میں گھما دے گا۔‘‘
‎’’نہیں فتح محمد ،میں پیدل ہی جائوں گا۔‘‘
‎’’تمہاری مرضی ہے میاں صاحب۔‘‘ فتح محمد بولا۔ آج اس نے ایک بھی فضول بات نہیں کی تھی اور میں جانتا تھا کہ اس کی وجہ کیا ہے۔ پھر ناشتے سے فراغت حاصل کرنے کے بعد میں وہاں سے باہر نکلا، فتح محمد سے کہہ دیا تھا کہ اگر شیخ صاحب پوچھیں تو بتا دے کہ میں سیر کرنے نکلا ہوں، شام تک واپس آ جائوں گا۔ دہلی کی سڑکوں پر آ گیا۔ پتے پوچھتا رہا، روایتوں کا شہر تھا، وقت کتنا ہی گزر جائے دلی کی قدیم روایتیں کبھی دم نہیں توڑیں گی۔ اس کی ادائوں میں فرق نہیں آئے گا۔ ایک جگہ رُک کر ایک شخص سے حضرت نظام الدین اولیاؒ کے مزار کا پتہ پوچھا اور اس نے حیرت سے منہ کھول دیا۔
‎’’اماں نئے لگتے ہو، دلی میں کہیں باہر سے آئے ہو۔‘‘
‎’’یہی بات ہے۔‘‘ میں نے جواب دیا اور وہ سر ہی پڑ گیا، مجھ سے پوچھے بغیر تانگہ روکا اور مجھے سوار ہونے کا اشارہ کیا۔
‎’’کیوں؟‘‘
‎’’اماں آ جائو تکلف نہ کرو، ہمارے سلطان جی کی زیارت کو آئے ہو، چلو ہم پہنچا دیں ان کے کنے۔‘‘ لاکھ منع کیا نہ مانا، تانگہ چل پڑا اور وہ مجھے راستوں کے بارے میں بتانے لگا۔ ’’یہ ببر کا تکیہ ہے، یہ مٹکوں والے پیر کا مزار ہے اور یہ نیلی چھتری۔ یہاں سے تانگہ دائیں ہاتھ کو مڑ گیا۔ یہ بائیں ہاتھ والی سڑک ہمایوں کے مقبرے کو جاتی ہے۔ میرے راہنما نے بتایا… بالآخر درگاہ شریف پہنچ گئے۔ وہ اسی تانگے میں واپس چلا گیا۔ اس کی محبت نے دل پربڑا اَثر کیا تھا، اندر داخل ہوگیا۔ زیارت سے دل شاد ہوگیا۔ فاتحہ خوانی کی اور بہت دیر تک یہاں رُکا رہا۔ اُٹھنے کو جی ہی نہیں چاہتا تھا۔ بہرحال آگے بڑھنا تھا۔ وہاں سے نکلا، کوٹلہ، پرانا قلعہ شیر منڈل پھر مہر ولی اور پھر قطب صاحب، دوپہر کا وقت تھا، تیز دُھوپ پڑ رہی تھی، ہوا کے جھکڑ چل رہے تھے۔ گرمی اور دُھوپ کی وجہ سے کوئی نظر نہیں آ رہا تھا۔ ہوائوں کے مرغولے ریت کو بلند کرتے اور بعض جگہ بھنور کی شکل میں بلند ہوتے اور چکراتے دُور نکل جاتے۔ بچپن کی کچھ باتیں یاد آ گئیں۔ اکثر دوپہر کو کھیلنے نکل جاتا تھا ایسے ہی جھکڑ چل رہے ہوتے، اماں دیکھ لیتیں تو کہتیں۔
‎’’ایسی دوپہر میں گھر سے نہ نکلا کرو چمر بائولے اُٹھا لے جاتے ہیں۔‘‘
‎’’یہ کیا ہوتا ہے۔‘‘ میں نے پوچھا تو ماں نے مجھے چمر بائولے دکھائے، ہوا کے بھنور جو ریت کو رول کرتے ہوئے انسانوں کی طرح چلتے نظر آتے تھے۔
‎’’ان میں کیا ہوتا ہے۔‘‘
‎’’جنوں کی سواری، جن اِن پر سوار ہو کر سیر کو نکلتے ہیں اور اگر کوئی ان کے راستے میں آ جائے تو انہی میں لپٹ کر چلا جاتا ہے اور جن اُسے اُٹھا کر لے جاتے ہیں۔ بچپن کی باتیں شاید عمر کے آخری حصے تک یاد رہتی ہیں اور انہیں بھلانا ناممکن ہوتا ہے۔ ان بگولوں کو دیکھ کر دل میں وہی خوف طاری ہوگیا جو بچپن میں ہو جایا کرتا تھا۔ اس خوف میں بھی ایک لذت کا احساس ہوا۔ ماں یاد آ گئی تھی اور یہ یاد تو اب ایک ایسی کیفیت اختیار کر چکی تھی جسے الفاظ میں منتقل کرنا ممکن نہیں۔ آگے بڑھتا رہا اور پھر ایک چمربائولے کی زد میں آ گیا۔ اچانک ہی ہوا کا ایک زوردار جھکڑ عقب میں نمودار ہوا، اِس جھکڑ نے ایک وسیع دائرے کی شکل اختیار کرلی۔ گہری اور گاڑھی مٹی کئی فٹ اُونچی بلند ہوئی اور چکراتی ہوئی اس برق رفتاری سے میری جانب بڑھی کہ میں اس کی لپیٹ سے نہ نکل سکا۔ یوں لگا جیسے زمین سے پائوں اُکھڑ گئے ہوں۔ بڑا شدید دبائو تھاہوا کا۔ میں نے دونوں ہاتھ آنکھوں پر رکھ لیے اور تیز ہوائوں کا یہ زوردار جھکڑ مجھے زمین سے بلند کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ تمام محسوسات جاگ رہے تھے اور کسی بھی قسم کے وہم کا گمان نہیں تھا بس میں یہی سوچ رہا تھا کہ اب زمین پر گرا تب گرا… سنبھلنے کی کوششیں ناکام ہوگئی تھیں۔ ہوا کا یہ جھکڑ پلک جھپکتے مجھے میری جگہ سے کافی دُور لے گیا اور اس کے بعد میں گر پڑا۔ گھٹنوں میں چوٹ لگی تھی۔ باریک باریک پتھروں کے ٹکڑے ہتھیلیوں میں چبھ گئے تھے اور میں گرد کی وجہ سے آنکھوں میں کڑواہٹ محسوس کر رہا تھا۔ ہوا کا یہ تیز جھکڑ مجھ پر سے گزر گیا۔ کئی فٹ دُور لا پھینکا تھا اور اب وہ مجھ سے آگے نکل گیا تھا۔ آنکھیں کھولیں تو مٹی چبھنے لگی۔ بمشکل تمام شانے سے کمبل اُتار کر ایک سمت رکھا اور قمیض کے دامن سے آنکھیں صاف کرنے لگا۔ بڑی مشکل سے آنکھیں اس قابل ہوگئی تھیں کہ زمین نظر آ سکے۔ مسکراہٹ آ گئی تھی چہرے پر اور بدستور ماں کی ہدایت یاد کر رہا تھا، پھر زمین پر ہاتھ ٹکا کر اپنے آپ کو سنبھالا اور سیدھا کھڑا ہوگیا، لیکن دماغ کو جو خوفناک جھٹکا لگا تھا اس نے آنکھیں تاریک کر دیں۔ جو منظر نظر کے سامنے آیا تھا اس پر یقین کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا، چند لمحات تک جھنجھناتے ہوئے دماغ کو قابو میں کرنے کی کوشش کرتا رہا۔ پھر پھٹی پھٹی آنکھوں سے اردگرد کا ماحول دیکھا۔ خدا کی پناہ یہ وہ جگہ ہی نہیں تھی جہاں اب سے چند لمحے پیشتر موجود تھا۔ یہ تو ماحول ہی بدلا ہوا تھا۔ لکھوری اینٹوں کی بنی ہوئی ایک انتہائی بوسیدہ اور وسیع عمارت، ٹوٹی پھوٹی دیواریں، بڑے بڑے جھروکے، عجیب سے فصیل نما ستون اور جگہ جگہ لکھوری اینٹوں کے ہیبت ناک ڈھیر، کہیں ٹوٹے ہوئے دروازے تو کہیں محرابیں۔ کہیں چبوترے جو صاف ستھرے اور کشادہ اور کہیں کچھ منبر نما جگہ، کوئی ایک بات جو سمجھ میں آئی ہو نگاہوں کا دھوکا تو ہو نہیں سکتا اور اگر دماغ کی کوئی خرابی ہے تو ان باتوں کو محسوس کرنے کی قوت ذہن میں کیسے موجود ہے۔ لیکن کچھ بھی نہیں تھا۔ جنوں کی سواری گزر رہی تھی اور میری ماں کے کہنے کے مطابق جن مجھے یہاں اُٹھا لائے تھے۔ بھلا اس کے علاوہ اور کیا سوچ سکتا تھا۔ بچپن کی حدود سے گزرا تھا اور ماں کی ہدایات پر غور کیا تھا تو یہی سوچا تھا کہ ماں دُھوپ سے بچانے کے لیے یہ الفاظ ادا کر کے خوف زدہ کرنا چاہتی ہے تا کہ دُھوپ مجھ پر اثرانداز نہ ہو، لیکن وہ کہانی اس وقت مجسم تھی۔ چمر بائولوں میں سفر کرنے والی جنوں کی سواری کے بیچ آ گیا تھا اور انہوں نے مجھے یہاں لا پٹخا تھا۔ کیا اسی بات پر یقین کر لوں مگر جگہ کونسی ہے اور جو کچھ ہوا ہے وہ کیا واقعی سچ ہے۔ ایک انوکھا سچ، اب کسی شبے کی گنجائش نہیں رہ گئی تھی۔ اُٹھا، کمبل احترام سے اُٹھا کر شانے پر ڈالا، اپنی جگہ سے کھڑا ہوگیا اور اِدھر اُدھر دیکھنے لگا۔ یہ ٹوٹی عمارت کہاں ہے کچھ اندازہ تو ہو۔ آس پاس ٹوٹی دیواریں، جھاڑیاں اور ویران اور ہیبت ناک مناظر کے علاوہ اور کچھ نہیں تھا۔ اینٹوں سے بنے ہوئے اس چبوترے کی جانب بڑھ گیا جس کی سیڑھیاں بھی ٹوٹی ہوئی تھیں۔ ہو سکتا ہے بلندی پر کھڑے ہو کر کچھ اندازہ ہو سکے۔ چبوترے پر پہنچا اور ادھر اُدھر دیکھنے لگا۔ دُور دُور تک ویران میدان بکھرے ہوئے نظر آ رہے تھے جن میں جگہ جگہ چھدرے درخت سنسان کھڑے ہوئے تھے۔ پتھریلے چبوترے کے ایک گوشے میں ایک کنواں نظر آیا جس کے کنارے اینٹوں سے بنے ہوئے تھے۔ وہاںپانی کا ایک ڈول رکھا ہوا تھا اور رسّی کا لچھا بہت بڑا نظر آ رہا تھا جس سے یہ اندازہ ہوتا تھا کہ کنواں بہت گہرا ہے، لیکن جگہ، یہ جگہ کونسی ہے، دفعتاً ہی قدموں کی آہٹیں سنائی دیں اور سمت کا اندازہ کر کے دہشت زدہ سا اس طرف مڑ گیا۔ تین در ایک ساتھ بنے ہوئے تھے اور ان کے دُوسری طرف اندھیرا سا چھایا ہوا تھا اس طرف کا حصہ سالم نظر آ رہا تھا۔
‎آنے والے انہی دروں سے برآمد ہوئے تھے۔ تینوں دروں سے ایک ایک فرد باہر نکلا تھا۔ شانوں سے لے کر ٹخنوں تک کے سفید لباس میں ملبوس چہروں پرداڑھیاں تھیں اور یہ چہرے عام انسانوں جیسے ہی تھے۔ میں ان کے مخصوص لباس سے یہ اندازہ لگانے کی کوشش کرنے لگا کہ یہ کون ہو سکتے ہیں۔ یوں محسوس ہوا تھا جیسے وہ میری یہاں موجودگی سے واقف ہیں اور میرے ہی لیے اندر سے نکل کر آئے ہیں۔ بہرطور انسان تھے، خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں تھی۔ میں انہیں دیکھنے لگا اور وہ تینوں قدم بڑھاتے ہوئے میرے نزدیک پہنچ گئے۔ پھر ان میں سے ایک نے ہاتھ کے اشارے سے مجھے آگے بڑھنے کے لیے کہا، لیکن میں نے فوراً ہی انہیں سلام کیا تھا۔ سلام کا جواب تینوں نے دیا اور اس کے بعد اس شخص نے جس نے ہاتھ کے اشارے سے مجھے آگے بڑھنے کے لیے کہا تھا مدھم لہجے میں کہا۔‘‘
‎’’اندر چلو تمہیں طلب کیا گیا ہے۔‘‘ میں کچھ اور سوال پوچھنا چاہتا تھا لیکن ان میں سے دو میرے عقب میں آ کھڑے ہوئے اور انہوں نے ہاتھ سے میرے شانوں کو ڈھکیلا، خاصا طاقتور دھکا تھا۔ میں کئی قدم آگے بڑھتا چلا گیا اور اس کے بعد یہی مناسب سمجھا کہ خاموشی سے ان کی ہدایت پر عمل کروں، ان کا انداز سخت تھا۔ وہ لوگ مجھے لیے ہوئے درمیان کے بڑے در سے اندر داخل ہوگئے۔ یہاں چھت تھی اور یہ جگہ خاصی وسیع تھی، اس کے دُوسری جانب ایک دروازہ نظر آ رہا تھا جس سے روشنی چھن رہی تھی اور یہ روشنی قدرتی تھی۔ اس کا مطلب ہے کہ دُوسری طرف بھی کوئی کھلی جگہ موجود ہے۔ وہ لوگ مجھے اسی دروازے کی سمت لے چلے اور پھر میں اس دروازے سے بھی دُوسری طرف نکل گیا۔ تب میں نے اس کھنڈر نما عمارت کا وہ صحیح و سالم حصہ دیکھا جو بہت خوبصورتی سے بنا ہوا تھا۔ غالباً عمارت کا بیرونی حصہ ٹوٹ پھوٹ کر تباہ و برباد ہو گیا تھا لیکن یہ اندرونی حصہ بالکل دُرست تھا اور یہاں بڑے بڑے دروازے نظر آ رہے تھے۔ کچی زمین تھی اور اس پر گھاس اُگی ہوئی تھی۔ اسی گھاس سے گزار کر مجھے ایک بڑے دروازے تک لایا گیا اور پھر وہاں دو آدمی رُک گئے۔ البتہ ان میں سے ایک مجھے اسی طرح لیے ہوئے دروازے سے اندر داخل ہوگیا۔ یہ ایک وسیع و عریض کمرہ تھا جس پر دری اور چاندنی بچھی ہوئی تھی۔ سامنے ہی بڑا سا گائو تکیہ لگائے ہوئے ایک عمر رسیدہ شخص بیٹھا ہوا تھا۔ سر پر صافہ بندھا ہوا تھا۔ شانوں پر خاص طریقے سے چادر ڈالی گئی تھی۔ ڈھیلے ڈھالے سفید لباس میں ملبوس تھا۔ براق داڑھی سینے تک پھیلی ہوئی تھی۔ سرخ و سفید چہرے کے ساتھ بڑی پُر رعب شخصیت کا مالک نظر آتا تھا۔ اس کے دونوں سمت نیم دائرے کی شکل میں دس بارہ افراد بیٹھے ہوئے تھے۔ کچھ لوگ کچھ فاصلے پر ہٹ کر بیٹھے ہوئے تھے۔ مجھے لانے والے نے بڑھنے کا اشارہ کیا اور اس شخص نے گردن اُٹھا کر مجھے دیکھا۔ پھر انگلی سے ایک سمت اشارہ کر دیا۔ مجھے ایک الگ گوشے میں بٹھا دیا گیا۔ لیکن معمر شخص سے میرا فاصلہ زیادہ نہیں تھا۔ اس وسیع و عریض کمرے میں اور بھی دروازے تھے۔ ایک دروازے سے چند افراد اندر داخل ہوئے اور پھر ایک اور دروازے سے جو شخص اندر آیا وہ میرے لیے بڑا حیران کن تھا۔ ایک خوبصورت سی شکل کا نوجوان جس کی پیشانی پر پٹی بندھی ہوئی تھی اور جس کی تیز نگاہیں مجھے گھور رہی تھیں۔ معمر شخص کے قریب آ کر وہ دوزانو بیٹھ گیا۔ اس کے برابر ہی ایک اور کالی داڑھی والا شخص آ کر بیٹھ گیا تھا۔ معمر شخص نے گردن اُٹھا کر گہری نگاہوں سے مجھے دیکھا پھر کالی داڑھی والے شخص کو اور اس کے بعد اس کی آواز اُبھری۔
‎’’ثابت جلال اپنے بیٹے غلام جلال سے پوچھو کہ کیا یہی وہ شخص ہے جس پر غلام جلال نے اپنے آپ کو زخمی کرنے کا الزام لگایا ہے۔‘‘ جس شخص کو ثابت جلال کہہ کر پکارا گیا تھا، اس نے خونی نگاہوں سے مجھے دیکھا اور پھر پاس بیٹھے ہوئے نوجوان کو لیکن غلام جلال کا نام سن کر میں خود چونکا تھا، میری جس قدر رہنمائی ہوئی تھی اس میں غلام جلال کا نام تو شامل تھا لیکن اس کی صورت سے آشنائی نہ ہو پائی تھی۔ ایک لمحے میں مجھے ساری حقیقت کا اندازہ ہو گیا تھا، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہی دل سے خوف بالکل ختم ہو گیا تھا۔ نوجوان لڑکے نے مجھے گھورتے ہوئے مؤدب انداز میں کہا۔
‎’’ہاں معزز قاضی صاحب، حقیقت یہی ہے کہ یہی وہ شخص ہے جس نے مجھے زخمی کیا۔‘‘
‎’’اے شخص تیرا نام کیا ہے…؟‘‘ جس شخص کو قاضی کہہ کر مخاطب کیا گیا تھا اور جس کی سفید داڑھی اس کے سینے پر لہرا رہی تھی اس نے کرخت لہجے میں مجھ سے پوچھا۔
‎’’میرا نام مسعود احمد ہے اور میرے والد کا نام محفوظ۔‘‘
‎’’ہم تجھ سے یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ غلام جلال سے تیرا کیا اختلاف تھا اور اس جھگڑے کی بنیاد کیا تھی۔ کیا تجھے اس بات کا علم تھا کہ غلام جلال ہمارے قبیلے سے ہے اور کیا تو یہ نہیں جانتا تھا کہ ہمارے قبیلے کے ایک نوجوان کو زخمی کرنے کا نتیجہ کیا نکل سکتا ہے۔‘‘
‎’’معزز قاضی صاحب نہایت احترام کے ساتھ تفصیل عرض کرنے کی اجازت چاہتا ہوں۔‘‘ میں نے بے خوفی سے کہا۔
‎’’ملاحظہ فرمایا آپ نے قاضی محترم یہ شخص کتنا سرکش ہے۔ اس کا انداز گفتگو ایسا ہے جیسے یہ ہمیں گردانتا ہی نہ ہو…‘‘ ثابت جلال نے کہا۔
‎’’تمہیں خاموش رہنے کا حکم دیا جاتا ہے ثابت جلال۔‘‘ باریش بزرگ نے کہا اور سیاہ داڑھی والا ثابت جلال خاموش ہوگیا۔ باریش بزرگ نے مجھے دیکھا تو میں نے کہا۔
‎’’غلام جلال نے ایک ایسی پاکباز لڑکی پر تسلط قائم کرلیا تھا جو بچپن سے ایک نوجوان سے منسوب تھی اور اسے چاہتی تھی۔ اس نے اس کے اہل خاندان کو خوفزدہ کر رکھا تھا اور وہ نیک مسلمان گھرانہ غمزدہ اور پریشان تھا۔ میں نے اس سے درخواست کی مگر اس نے مجھے ضرر پہنچانا چاہا اور میں نے اپنے دفاع کے لیے اسے جھٹک دیا۔ یہ سانپ کی شکل میں مجھے ڈسنا چاہتا تھا۔ یہ دیوار سے جا ٹکرایا اور زخمی ہو گیا۔ کیا یہ میرا قصور ہے۔‘‘
‎’’کیا یہ سچ ہے غلام جلال۔‘‘
‎’’ہاں قاضی محترم۔ وہ دوشیزہ میرے جی کو بھا گئی تھی۔‘‘
‎’’وہ تجھے کہاں ملی تھی؟‘‘
‎’’اسی بوسیدہ حویلی میں، یہ حویلی اس کے باپ کی ملکیت ہے۔ وہ چاندنی رات میں کلیلیں کر رہی تھی اور اچانک میرے سامنے آ گئی تھی۔‘‘
‎’’گویا وہ شیخ عبدالقدوس کی بیٹی ہے۔‘‘
‎’’دُرست ہے قاضی محترم۔‘‘
‎’’مگر یہ تو گناہ کبیرہ ہے۔ اوّل تو شیخ عبدالقدوس ایک دیندار اور خدا ترس انسان ہے۔ مسلمان ہے، سخی اور پابند احکامات الٰہی ہے۔ دوم وہ دوشیزہ نسبت رکھتی ہے۔ تجھے یہ لازم نہ تھا غلام جلال کہ اس پر فریفتہ ہوتا اور اسے گمراہ کرتا۔ پس یہ ثابت ہوا کہ یہ شخص بے قصور ہے اور جو کچھ ہوا اس میں غلام جلال کی نادانی تھی۔ چنانچہ ثابت جلال تجھ پر لازم ہے کہ اسے ہرجانہ ادا کرے اور وہیں پہنچائے جہاں سے اسے لایا گیا ہے۔‘‘
‎’’قاضی محترم میرا بیٹا غمزدہ ہو جائے گا۔‘‘ ثابت جلال نے کہا۔
‎’’تو کیا تو چاہتا ہے کہ کوئی غیر شرعی فیصلہ کیا جائے۔‘‘ دُوسرے احتجاج پر تو بھی سزا کا حق دار ہوگا۔ تیرا فرض ہے کہ تو اپنے سرکش بیٹے کی نگرانی کرے، اگر اسے نافرمانی کا مرتکب پایا گیا تو اس کے لیے سزائے موت تجویز کی جائے گی۔
‎’’قاضی کا فیصلہ سر آنکھوں پر۔‘‘ ثابت جلال نے کہا اور قاضی صاحب اپنی جگہ سے اُٹھ گئے۔ ان کے ساتھ بقیہ افراد بھی اُٹھ گئے تھے۔ ثابت جلال نے ایک تھیلی ہرجانے کے طور پر مجھے دی جو مجھے لینا پڑی۔ پھر وہ مجھے ساتھ آنے کا اشارہ کر کے چل پڑا۔ حویلی کے بیرونی صحن میں ایک گھوڑا کھڑا ہوا تھا۔
‎’’یہ جانتا ہے تجھے کہاں جانا ہے۔ اس پر سوار ہوجا۔‘‘ میں نے رکاب پر پائوں رکھا اور گھوڑے کی پشت پر بیٹھنا چاہا مگر دُوسری سمت جا گرا۔ بڑی خفت ہوئی تھی مگر معاملہ دُوسرا ہی تھا، جگہ ایک دم بدل گئی تھی۔ وہی دُھوپ، وہی ہوائیں، وہی ماحول جہاں سے میں ہوائوں کا قیدی بنا تھا۔ واپس چل پڑا اور شیخ صاحب کی حویلی پہنچ گیا۔ یہاں کے ماحول میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی تھی۔ اپنی آرام گاہ میں آکر میں اس پورے واقعے پر غور کرنے لگا۔ کیا کچھ عطا ہوگیا تھا مجھے۔ جنوں کی نگری پہنچ گیا تھا۔ ان کی عدالت میں حاضری ہوئی تھی اور مقدمہ جیت گیا تھا۔ جو کچھ ظہور پذیر ہوا تھا اس کے بعد مہرالنساء بالکل محفوظ ہوگئی تھی۔ چنانچہ اب شیخ صاحب کی حویلی میں قیام بے معنی تھا۔ یہ لوگ خدشے کے پیش نگاہ مجھے اجازت نہیں دیں گے اور میرے دل کو اب الٰہ آباد کی لگن لگی ہوئی تھی۔ ثابت جلال نے ہرجانے کی جو تھیلی دی تھی اس میں ضرورت کے لیے بہت کچھ تھا، چنانچہ حویلی کے مکینوں سے غائبانہ معذرت کرکے ایک بار پھر وہاں سے نکل آیا۔ کمبل شانے پر موجود تھا لیکن چند جوڑے لباس درکار تھے جو بازار سے خریدے انہیں یکجا کرکے ایک سوٹ کیس میں رکھا اور اسٹیشن پہنچ گیا۔ الٰہ آباد جانے والی ریل کے بارے میں معلوم کیا اور جب ریل آئی تو اس میں بیٹھ گیا۔ اب دل والدین میں اُلجھ گیا تھا۔ ایک عجیب ہوک اُٹھ رہی تھی۔ کانوں میں ان کی آواز اُبھر رہی تھی۔


کالا جادو ایک ایسا سفلی عمل ہے جو ارواحِ خبیثہ یا شیاطین کی استعانت اور ناجائز طریقے سے کسی کو نقصان پہنچانے کے لیئے استعمال کیا جائے۔ سحر برحق ہے اور اس کے عجیب و غریب اثرات سحر زدہ شخص میں ظاہر ہوتے ہیں۔
ایڈونچر سے بھرپور اور رونگٹے کھڑے کر دینے والے واقعات پر مشتمل سلسلہ یقیناً آپ کو اپنے سحر میں جکڑ لے گا۔
تینوں دروں سے ایک ایک فرد باہر نکلا تھا۔ شانوں سے لے کر ٹخنوں تک کے سفید لباس میں ملبوس چہروں پرداڑھیاں تھیں اور یہ چہرے عام انسانوں جیسے ہی تھے۔ میں ان کے مخصوص لباس سے یہ اندازہ لگانے کی کوشش کرنے لگا کہ یہ کون ہو سکتے ہیں۔ یوں محسوس ہوا تھا جیسے وہ میری یہاں موجودگی سے واقف ہیں اور میرے ہی لیے اندر سے نکل کر آئے ہیں۔ بہرطور انسان تھے، خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں تھی۔ میں انہیں دیکھنے لگا اور وہ تینوں قدم بڑھاتے ہوئے میرے نزدیک پہنچ گئے۔ پھر ان میں سے ایک نے ہاتھ کے اشارے سے مجھے آگے بڑھنے کے لیے کہا، لیکن میں نے فوراً ہی انہیں سلام کیا تھا۔ سلام کا جواب تینوں نے دیا اور اس کے بعد اس شخص نے جس نے ہاتھ کے اشارے سے مجھے آگے بڑھنے کے لیے کہا تھا مدھم لہجے میں کہا۔‘‘
’’اندر چلو تمہیں طلب کیا گیا ہے۔‘‘ میں کچھ اور سوال پوچھنا چاہتا تھا لیکن ان میں سے دو میرے عقب میں آ کھڑے ہوئے اور انہوں نے ہاتھ سے میرے شانوں کو ڈھکیلا، خاصا طاقتور دھکا تھا۔ میں کئی قدم آگے بڑھتا چلا گیا اور اس کے بعد یہی مناسب سمجھا کہ خاموشی سے ان کی ہدایت پر عمل کروں، ان کا انداز سخت تھا۔ وہ لوگ مجھے لیے ہوئے درمیان کے بڑے در سے اندر داخل ہوگئے۔ یہاں چھت تھی اور یہ جگہ خاصی وسیع تھی، اس کے دُوسری جانب ایک دروازہ نظر آ رہا تھا جس سے روشنی چھن رہی تھی اور یہ روشنی قدرتی تھی۔ اس کا مطلب ہے کہ دُوسری طرف بھی کوئی کھلی جگہ موجود ہے۔ وہ لوگ مجھے اسی دروازے کی سمت لے چلے اور پھر میں اس دروازے سے بھی دُوسری طرف نکل گیا۔ تب میں نے اس کھنڈر نما عمارت کا وہ صحیح و سالم حصہ دیکھا جو بہت خوبصورتی سے بنا ہوا تھا۔ غالباً عمارت کا بیرونی حصہ ٹوٹ پھوٹ کر تباہ و برباد ہو گیا تھا لیکن یہ اندرونی حصہ بالکل دُرست تھا اور یہاں بڑے بڑے دروازے نظر آ رہے تھے۔ کچی زمین تھی اور اس پر گھاس اُگی ہوئی تھی۔ اسی گھاس سے گزار کر مجھے ایک بڑے دروازے تک لایا گیا اور پھر وہاں دو آدمی رُک گئے۔ البتہ ان میں سے ایک مجھے اسی طرح لیے ہوئے دروازے سے اندر داخل ہوگیا۔ یہ ایک وسیع و عریض کمرہ تھا جس پر دری اور چاندنی بچھی ہوئی تھی۔ سامنے ہی بڑا سا گائو تکیہ لگائے ہوئے ایک عمر رسیدہ شخص بیٹھا ہوا تھا۔ سر پر صافہ بندھا ہوا تھا۔ شانوں پر خاص طریقے سے چادر ڈالی گئی تھی۔ ڈھیلے ڈھالے سفید لباس میں ملبوس تھا۔ براق داڑھی سینے تک پھیلی ہوئی تھی۔ سرخ و سفید چہرے کے ساتھ بڑی پُر رعب شخصیت کا مالک نظر آتا تھا۔ اس کے دونوں سمت نیم دائرے کی شکل میں دس بارہ افراد بیٹھے ہوئے تھے۔ کچھ لوگ کچھ فاصلے پر ہٹ کر بیٹھے ہوئے تھے۔ مجھے لانے والے نے بڑھنے کا اشارہ کیا اور اس شخص نے گردن اُٹھا کر مجھے دیکھا۔ پھر انگلی سے ایک سمت اشارہ کر دیا۔ مجھے ایک الگ گوشے میں بٹھا دیا گیا۔ لیکن معمر شخص سے میرا فاصلہ زیادہ نہیں تھا۔ اس وسیع و عریض کمرے میں اور بھی دروازے تھے۔ ایک دروازے سے چند افراد اندر داخل ہوئے اور پھر ایک اور دروازے سے جو شخص اندر آیا وہ میرے لیے بڑا حیران کن تھا۔ ایک خوبصورت سی شکل کا نوجوان جس کی پیشانی پر پٹی بندھی ہوئی تھی اور جس کی تیز نگاہیں مجھے گھور رہی تھیں۔ معمر شخص کے قریب آ کر وہ دوزانو بیٹھ گیا۔ اس کے برابر ہی ایک اور کالی داڑھی والا شخص آ کر بیٹھ گیا تھا۔ معمر شخص نے گردن اُٹھا کر گہری نگاہوں سے مجھے دیکھا پھر کالی داڑھی والے شخص کو اور اس کے بعد اس کی آواز اُبھری۔
’’ثابت جلال اپنے بیٹے غلام جلال سے پوچھو کہ کیا یہی وہ شخص ہے جس پر غلام جلال نے اپنے آپ کو زخمی کرنے کا الزام لگایا ہے۔‘‘ جس شخص کو ثابت جلال کہہ کر پکارا گیا تھا، اس نے خونی نگاہوں سے مجھے دیکھا اور پھر پاس بیٹھے ہوئے نوجوان کو لیکن غلام جلال کا نام سن کر میں خود چونکا تھا، میری جس قدر رہنمائی ہوئی تھی اس میں غلام جلال کا نام تو شامل تھا لیکن اس کی صورت سے آشنائی نہ ہو پائی تھی۔ ایک لمحے میں مجھے ساری حقیقت کا اندازہ ہو گیا تھا، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہی دل سے خوف بالکل ختم ہو گیا تھا۔ نوجوان لڑکے نے مجھے گھورتے ہوئے مؤدب انداز میں کہا۔
’’ہاں معزز قاضی صاحب، حقیقت یہی ہے کہ یہی وہ شخص ہے جس نے مجھے زخمی کیا۔‘‘
’’اے شخص تیرا نام کیا ہے…؟‘‘ جس شخص کو قاضی کہہ کر مخاطب کیا گیا تھا اور جس کی سفید داڑھی اس کے سینے پر لہرا رہی تھی اس نے کرخت لہجے میں مجھ سے پوچھا۔
’’میرا نام مسعود احمد ہے اور میرے والد کا نام محفوظ۔‘‘
’’ہم تجھ سے یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ غلام جلال سے تیرا کیا اختلاف تھا اور اس جھگڑے کی بنیاد کیا تھی۔ کیا تجھے اس بات کا علم تھا کہ غلام جلال ہمارے قبیلے سے ہے اور کیا تو یہ نہیں جانتا تھا کہ ہمارے قبیلے کے ایک نوجوان کو زخمی کرنے کا نتیجہ کیا نکل سکتا ہے۔‘‘
’’معزز قاضی صاحب نہایت احترام کے ساتھ تفصیل عرض کرنے کی اجازت چاہتا ہوں۔‘‘ میں نے بے خوفی سے کہا۔
’’ملاحظہ فرمایا آپ نے قاضی محترم یہ شخص کتنا سرکش ہے۔ اس کا انداز گفتگو ایسا ہے جیسے یہ ہمیں گردانتا ہی نہ ہو…‘‘ ثابت جلال نے کہا۔
’’تمہیں خاموش رہنے کا حکم دیا جاتا ہے ثابت جلال۔‘‘ باریش بزرگ نے کہا اور سیاہ داڑھی والا ثابت جلال خاموش ہوگیا۔ باریش بزرگ نے مجھے دیکھا تو میں نے کہا۔
’’غلام جلال نے ایک ایسی پاکباز لڑکی پر تسلط قائم کرلیا تھا جو بچپن سے ایک نوجوان سے منسوب تھی اور اسے چاہتی تھی۔ اس نے اس کے اہل خاندان کو خوفزدہ کر رکھا تھا اور وہ نیک مسلمان گھرانہ غمزدہ اور پریشان تھا۔ میں نے اس سے درخواست کی مگر اس نے مجھے ضرر پہنچانا چاہا اور میں نے اپنے دفاع کے لیے اسے جھٹک دیا۔ یہ سانپ کی شکل میں مجھے ڈسنا چاہتا تھا۔ یہ دیوار سے جا ٹکرایا اور زخمی ہو گیا۔ کیا یہ میرا قصور ہے۔‘‘
’’کیا یہ سچ ہے غلام جلال۔‘‘
’’ہاں قاضی محترم۔ وہ دوشیزہ میرے جی کو بھا گئی تھی۔‘‘
’’وہ تجھے کہاں ملی تھی؟‘‘
’’اسی بوسیدہ حویلی میں، یہ حویلی اس کے باپ کی ملکیت ہے۔ وہ چاندنی رات میں کلیلیں کر رہی تھی اور اچانک میرے سامنے آ گئی تھی۔‘‘
’’گویا وہ شیخ عبدالقدوس کی بیٹی ہے۔‘‘
’’دُرست ہے قاضی محترم۔‘‘
’’مگر یہ تو گناہ کبیرہ ہے۔ اوّل تو شیخ عبدالقدوس ایک دیندار اور خدا ترس انسان ہے۔ مسلمان ہے، سخی اور پابند احکامات الٰہی ہے۔ دوم وہ دوشیزہ نسبت رکھتی ہے۔ تجھے یہ لازم نہ تھا غلام جلال کہ اس پر فریفتہ ہوتا اور اسے گمراہ کرتا۔ پس یہ ثابت ہوا کہ یہ شخص بے قصور ہے اور جو کچھ ہوا اس میں غلام جلال کی نادانی تھی۔ چنانچہ ثابت جلال تجھ پر لازم ہے کہ اسے ہرجانہ ادا کرے اور وہیں پہنچائے جہاں سے اسے لایا گیا ہے۔‘‘
’’قاضی محترم میرا بیٹا غمزدہ ہو جائے گا۔‘‘ ثابت جلال نے کہا۔
’’تو کیا تو چاہتا ہے کہ کوئی غیر شرعی فیصلہ کیا جائے۔‘‘ دُوسرے احتجاج پر تو بھی سزا کا حق دار ہوگا۔ تیرا فرض ہے کہ تو اپنے سرکش بیٹے کی نگرانی کرے، اگر اسے نافرمانی کا مرتکب پایا گیا تو اس کے لیے سزائے موت تجویز کی جائے گی۔
’’قاضی کا فیصلہ سر آنکھوں پر۔‘‘ ثابت جلال نے کہا اور قاضی صاحب اپنی جگہ سے اُٹھ گئے۔ ان کے ساتھ بقیہ افراد بھی اُٹھ گئے تھے۔ ثابت جلال نے ایک تھیلی ہرجانے کے طور پر مجھے دی جو مجھے لینا پڑی۔ پھر وہ مجھے ساتھ آنے کا اشارہ کر کے چل پڑا۔ حویلی کے بیرونی صحن میں ایک گھوڑا کھڑا ہوا تھا۔
’’یہ جانتا ہے تجھے کہاں جانا ہے۔ اس پر سوار ہوجا۔‘‘ میں نے رکاب پر پائوں رکھا اور گھوڑے کی پشت پر بیٹھنا چاہا مگر دُوسری سمت جا گرا۔ بڑی خفت ہوئی تھی مگر معاملہ دُوسرا ہی تھا، جگہ ایک دم بدل گئی تھی۔ وہی دُھوپ، وہی ہوائیں، وہی ماحول جہاں سے میں ہوائوں کا قیدی بنا تھا۔ واپس چل پڑا اور شیخ صاحب کی حویلی پہنچ گیا۔ یہاں کے ماحول میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی تھی۔ اپنی آرام گاہ میں آکر میں اس پورے واقعے پر غور کرنے لگا۔ کیا کچھ عطا ہوگیا تھا مجھے۔ جنوں کی نگری پہنچ گیا تھا۔ ان کی عدالت میں حاضری ہوئی تھی اور مقدمہ جیت گیا تھا۔ جو کچھ ظہور پذیر ہوا تھا اس کے بعد مہرالنساء بالکل محفوظ ہوگئی تھی۔ چنانچہ اب شیخ صاحب کی حویلی میں قیام بے معنی تھا۔ یہ لوگ خدشے کے پیش نگاہ مجھے اجازت نہیں دیں گے اور میرے دل کو اب الٰہ آباد کی لگن لگی ہوئی تھی۔ ثابت جلال نے ہرجانے کی جو تھیلی دی تھی اس میں ضرورت کے لیے بہت کچھ تھا، چنانچہ حویلی کے مکینوں سے غائبانہ معذرت کرکے ایک بار پھر وہاں سے نکل آیا۔ کمبل شانے پر موجود تھا لیکن چند جوڑے لباس درکار تھے جو بازار سے خریدے انہیں یکجا کرکے ایک سوٹ کیس میں رکھا اور اسٹیشن پہنچ گیا۔ الٰہ آباد جانے والی ریل کے بارے میں معلوم کیا اور جب ریل آئی تو اس میں بیٹھ گیا۔ اب دل والدین میں اُلجھ گیا تھا۔ ایک عجیب ہوک اُٹھ رہی تھی۔ کانوں میں ان کی آواز اُبھر رہی تھی۔
’مجھے احساس ہے مسعود صاحب۔‘‘
’’اگر دل میں واقعی سچائیاں اُتر آئی ہیں تو کچھ کہنا چاہتا ہوں۔‘‘
’’فرمایئے۔‘‘
’’تم خودکشی کر لو۔ اس الیاس خان کو ختم کرو جو بُرا انسان تھا۔ اسے فنا کر دو ایک باپ کا سہارا بن جائو۔ ایک جوان بہن کے محافظ بن جائو۔ محنت مزدوری کر کے اس بُرے انسان کی برائیوں کا کفارہ ادا کرو۔ خود کو مٹا کر ایک اور گناہ نہ کرو۔ اس بوڑھے شخص کو جوان بیٹے کی موت کا داغ نہ دو، جو بے کس ہے بلکہ اس کے ناتواں بدن کو اپنے طاقتور جسم کا سہارا دو۔ ہو سکتا ہے اللہ تمہارے گناہ معاف کر دے۔‘‘
‎وہ گردن جھکائے آنسو بہاتا رہا، یہ آنسو
مکر کے آنسو نہیں تھے، میں نے کچھ سوچ کر کہا۔ ’’اب وہ لوگ کہاں ہیں؟‘‘
’’اسی عمارت میں گئے ہیں۔‘‘
’’تم اب تک انہی کے ساتھ تھے؟‘‘
’’ہاں ان سے قطع تعلق کر کے آیا ہوں۔‘‘
’’وہ یہ تو نہ سوچیں گے کہ تم نے مجھے وہاں سے نکالا ہے؟‘‘
’’نہیں میں تو اسی وقت سے ان کے ساتھ تھا مگر میں نے دعویٰ کیا تھا کہ آپ وہاں قید نہیں رہ سکیں گے، نواب دلبر ہنسنے لگا تھا۔ وہ مجھے بھی وہیں لے جا رہا تھا مگر میں واپس آ گیا۔‘‘
’’نواب دلبر تمہارے لیے خطرہ تو نہیں بن جائے گا؟‘‘
’’اس میں میرے مقابل آنے کی ہمت نہیں ہے مرشد۔‘‘
’’تو پھر میری ہدایت کے متعلق کیا خیال ہے۔‘‘
’’مرشد۔ میں آپ کا مجرم ہوں۔‘‘
’’تو اسے میری طرف سے سزا سمجھ کر قبول کر لو!‘‘
’’آپ کا دل صاف ہو جائے گا میری طرف سے؟‘‘
’’ہاں مگر بعد میں تم مجھ سے سٹّے کا نمبر مت مانگ بیٹھنا۔‘‘ میں نے کہا۔
’’نہیں مرشد۔ حرام کا پیسہ اب میرے لیے حرام ہے۔ میں محنت کی کمائی کر کے اپنے ماں باپ کو کھلائوں گا۔ آپ سے وعدہ کرتا ہوں مرشد جو کر چکا ہوں وہ اب نہیں کروں گا۔ مرشد میرے حق میں دُعا کریں۔ اللہ مجھے زندگی دے تو اب اسے میرے گناہوں کے کفارے کے لیے وقف کر دے پھر سے، گناہوں کی دلدل میں پھنسوں تو مجھے موت دے دے۔‘‘ اس کے الفاظ سچائی کا اظہار کر رہے تھے میں نے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔
’’اب کچھ اور پوچھوں تم سے الیاس خان۔‘‘
’’پوچھیں مرشد۔‘‘
’’منشی ریاض سے واقعی ملے تھے؟‘‘
’’ہاں۔ وہ میں نے جھوٹ نہیں کہا تھا۔‘‘
’’ان سے میرا تذکرہ کیا تھا۔‘‘
’’ہاں۔‘‘
’’اور ان پر وہی ردعمل ہوا تھا جو تم نے بتایا تھا۔‘‘
’’بالکل وہی۔‘‘
’’وہ فرید خاں کے پاس کام کرتے ہیں۔‘‘
’’بالکل یہی بات ہے۔‘‘
’’مجھے ان سے ملا سکتے ہو۔‘‘
’’آپ اسے میری ذمّہ داری پر چھوڑ دیں مسعود صاحب، میں کل ہی انہیں یہاں لے آئوں گا۔‘‘
’’وہ فرید خاں کے پاس رہتے ہیں؟‘‘
’’نہیں اس کے ساتھ نہیں رہتے۔‘‘
’’پھر؟‘‘
’’ان کا کوئی اور گھر ہے۔ شام کو چھٹی کر کے چلے جاتے ہیں۔‘‘
’’تم ان کا گھر جانتے ہو؟‘‘
’’نہیں۔‘‘
’’کل مجھے وہاں پہنچا سکتے ہو جہاں وہ کام کرتے ہیں۔‘‘
’’فرید خاں کے گھر پر رہتے ہیں وہ۔‘‘
’’وہیں سہی۔‘‘
’’مرشد۔ فرید خاں کے گھر پر ان سے ملنا دُرست نہیں ہوگا۔ ان لوگوں کو آپ کے نکل آنے کا پتا چل چکا ہوگا۔ وہ پاگلوں کی طرح آپ کو تلاش کریں گے اس بارے میں بات ہوئی تھی۔‘‘
’’کیا…؟‘‘ میں نے چونک کر پوچھا۔
’’مرشد، میں نے نواب دلبر کو سمجھانے کی کوشش کی تھی۔ میں نے کہا تھا کہ کچھ لینے کا طریقہ یہ نہیں ہوتا جو اس نے اختیار کیا ہے۔ اس کے لیے آپ کی خدمت کی جاتی۔ آپ کی محبت حاصل کی جاتی مگر اس نے کام ہی دُوسرا شروع کر دیا۔ میں نے یہ بھی کہا تھا اس سے کہ اس کا وہ قید خانہ مرشد کو نہ روک سکے گا اور وہ اپنی رُوحانی قوتوں سے کام لے کر وہاں سے نکل جائیں گے۔ اس پر فرید خان نے کہا تھا کہ ایسا ہوا تو نواب دلبر کی گردن میں پھانسی کا پھندہ فٹ ہو جائے گا کیونکہ وہ مرشد کو ان چار لاشوں کے بارے میں بتا چکے ہیں جو تہہ خانے میں دفن ہیں اور جنہیں نواب دلبر نے قتل کیا ہے۔‘‘
’’اوہ۔ ہاں۔‘‘ میں چونک پڑا۔
’’نواب دلبر اس بات پر پریشان ہوگیا تھا اسی وجہ سے وہ واپس پرانی گڑھی گیا تھا۔‘‘
’’پرانی گڑھی؟‘‘
’’اسی حویلی کا نام ہے وہ رہتا الگ ہے، پرانی گڑھی اس کے پرکھوں کی ملکیت ہے اور جائداد میں بس وہی باقی رہ گئی ہے، باقی سب وہ ختم کر چکا ہے۔ ان باتوں کے بعد وہ اُٹھ گیا اور اس نے سب سے کہا کہ پرانی گڑھی چلیں، کہیں کچھ ہو ہی نہ جائے، میں اس سے اختلاف کر کے چلا آیا تھا۔‘‘
’’تب تو اس وقت اس کی جان ہی نکلی ہوئی ہوگی۔‘‘
’’یقینا مرشد۔‘‘
’’ہوں تو پھر یوں کرنا الیاس خان کہ تم مجھے دُور سے فرید خاں کا گھر دکھا دینا۔ میں اس وقت منشی ریاض سے ملوں گا جب وہ فرید خاں کے گھر سے نکلیں گے اور اپنے گھر جائیں گے۔‘‘
’’جو حکم مرشد۔‘‘ مگر آپ خود کو محفوظ رکھیں۔
’’اطمینان رکھو۔‘‘ میں نے کہا اور الیاس خان نے گردن جھکا لی۔ میں نے خود ہی کہا۔ ’’اور اب تم جائو آرام کرو۔ اس نئی زندگی پر سب سے پہلی مبارک باد میں تمہیں پیش کرتا ہوں۔‘‘ وہ ایک بار پھر رو پڑا۔ میرے ہاتھ چومے اور باہر نکل گیا۔ مجھے خوشی ہو رہی تھی۔ جمال احمد خاں کا بڑھاپا سنور جائے اس سے زیادہ خوشی کی بات اور کیا ہوگی۔ دیر تک ان کی خوشیوں کا اندازہ لگاتا رہا۔ پھر آہستہ آہستہ اُداسیوں میں ڈوبتا چلا گیا، میری خوشیاں کہاں ہیں مجھے خوشیاں کب ملیں گی مجھ پر یہ نحوستیں کب تک طاری رہیں گی، وہ میری تقدیر کی صبح کب ہوگی۔ الیاس خان نے کہا تھا کہ منشی ریاض، فرید خاں کے ساتھ نہیں رہتے، ان کا کوئی گھر ہے۔ اسی گھر میں مجھے میرے ماں باپ اور بہن نظر آئیں گے۔ آہ! ماموں ریاض انہی کے لیے تو نوکری کر رہے ہوں گے آہ! صبح کب ہوگی کب صبح ہوگی۔
‎صبح ہوگئی دروازے سے الیاس خان اندر
داخل ہوگیا۔ اس کے ہاتھ میں ناشتے کی ٹرے تھی۔ آنکھیں سرخ اور مغموم تھیں۔ میں نے حیرت سے اسے دیکھا۔ ’’جلدی جاگ گئے الیاس خان۔‘‘
’’جی!‘‘ وہ آہستہ سے بولا۔
’’خیریت۔‘‘
’’جی ہاں ناشتہ کر لیجیے۔‘‘
’’آ جائو۔‘‘ میں نے کہا۔ ’’تم بھی ناشتہ کر لو۔‘‘
’’میں نے چائے پی لی ہے ابھی کچھ نہیں کھائوں گا۔‘‘
’’کب چلو گے۔‘‘
’’بتا دوں گا ابا آ رہے ہیں۔‘‘ وہ بولا۔ اسی وقت جمال خان صاحب اندر آ گئے تھے۔ انہوں نے سرد نگاہوں سے الیاس خان کو دیکھا اور وہ گردن جھکا کر باہر نکل گیا۔
’’ناشتہ کریں میاں۔‘‘ جمال خان صاحب بیٹھتے ہوئے بولے اور میں نے ٹرے سامنے سرکا لی۔ ’’آج یہ کوئی ناٹک کر رہا ہے، ضرور کوئی چکر ہے۔‘‘ وہ پُرخیال انداز میں بولے۔
’’کیا بات ہے؟‘‘
’’صبح میں جاگا تو یہ وضو کر چکا تھا۔ رات کو کسی وقت آیا اور کیسے اندر داخل ہوا پتا نہیں۔ وضو کے بعد باقاعدہ نماز پڑھی پھر ماں کے پاس جا بیٹھا اور انہیں دیکھتا رہا۔‘‘
’’خوب مگر یہ ناٹک کیسے ہوا؟‘‘
’’وہ اور نماز۔ میرے خیال میں تو اسے نماز آتی بھی نہیں، بھائی مجھے تو شبہ ہوگیا اور میں نے فوراً احتیاطی تدابیر کر ڈالیں۔‘‘
’’وہ کیا؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’تم نے جو عنایت کی ہے اس نے مجھے جینے کا حوصلہ دیاہے۔ سچ جانو بیٹے! ہمارے ٹوٹے ہوئے دل جڑ گئے ہیں۔ میری اہلیہ نے تو اتنے سجدے کئے ہیں کہ گنے نہ جا سکیں، بیٹی کے چند رشتے ہیں جن پر اس لیے غور نہیں کیا تھا کہ پاس پلے کچھ نہیں تھا، ہاں یا نا کرتے تو کس برتے پر۔ مگر اب اب مجھے شبہ ہوا کہ کہیں اسے پتا نہ چل گیا ہو اس لیے میں نے تمہارے عطیے کو محفوظ کر دیا۔‘‘
’’میرا ناقص علم کچھ اور کہتا ہے محترم بزرگ۔‘‘
’’کیا؟‘‘
’’صبح کا بھولا شام کو واپس آ گیا ہے، ایک گزارش بھی ہے آپ سے۔‘‘
’’کیا بیٹے؟‘‘
’’وہ اگر نیکیوں کی طرف واپس آئے تو اسے سہارا دیں ماضی کو بھول جائیں، اسے طعنہ نہ دیں۔‘‘
’’آہ! مجھے اگر بیٹے کا سہارا مل جائے تو، تو کاش ایسا ہو جائے۔‘‘ جمال احمد خان آبدیدہ ہوگئے۔ بہت دیر تک وہ میرے پاس بیٹھے رہے تھے۔ پھر جب اُٹھنے لگے تو مجھے اچانک کچھ یاد آ گیا۔
’’وہ جمال احمد صاحب یہاں ایک کمبل تھا کسی کی امانت ہے وہ نظر نہیں آیا۔ ذرا چچی جان اور بہن سے پوچھ لیں دُھوپ لگانے کو تو نہیں ڈالا۔‘‘
’’کمبل، اچھا پوچھے لیتا ہوں۔‘‘ کچھ دیر کے بعد وہ واپس آئے اور بولے۔ ’’نہیں میاں کمبل یہاں سے کسی نے نہیں اُٹھایا۔ کہاں گیا، کہاں جا سکتا ہے۔‘‘ وہ پریشانی سے بولے اور دل ہولنے لگا، نہ جانے کمبل کہاں گیا۔ جمال احمد پھر باہر نکل گئے نہ جانے کیسے تفتیش ہوئی مگر کمبل نہیں ملا، وہ پریشان اور شرمندہ تھے اور میں۔‘‘
‎الیاس خان نے دوپہر کے کھانے کے بعد
تیاری کر لی، اس بارے میں میری اس سے بات ہوگئی تھی اور طے ہوگیا تھا کہ ہمیں کیا کرنا ہے۔ پھر ہم تانگے میں بیٹھ کر چل پڑے۔ کافی فاصلہ طے ہوا تھا اور پھر فرید خان کا مکان آیا تھا، شاندار مکان تھا، فرید خان کھاتے پیتے گھر کا فرد تھا۔ منصوبے کے مطابق الیاس خان مجھے چھوڑ کر فریدخان کے مکان میں چلا گیا، یہاں اس کا آنا جانا تھا اور چونکہ اس کی ابھی ان لوگوں سے باقاعدہ نہیں ٹھنی تھی اس لیے کوئی مشکل بھی نہیں تھی، دس منٹ کے بعد وہ واپس آ گیا۔
’’وہ رات سے غائب ہے واپس نہیں آیا۔ یقیناً وہ پرانی گڑھی میں ہوں گے اور آپ کے نکل جانے سے خوفزدہ ہوں گے۔ خیر منشی ریاض اندر موجود ہیں۔ کام میں لگے ہوئے ہیں پانچ بجے چھٹی کر کے نکلیں گے۔‘‘
’’کچھ کہا تو نہیں تم نے اُن سے۔‘‘
’’بالکل نہیں آپ نے منع کیا تھا۔‘‘
’’ہاں یہ اچھا کیا۔‘‘
’’اب کیا حکم ہے مرشد؟‘‘
’’الیاس خان تم واپس جائو جس نئی زندگی کا تم نے آغاز کیا ہے اسی پر ثابت قدم رہنا ہی ذریعۂ نجات ہے۔ برائی بہت خوبصورت ہوتی ہے مگر اس کی انتہا بے حد بھیانک، اس کے برعکس نیکیوں کا سفر مشکل ترین لیکن منزل نہایت سکون بخش۔‘‘
’’میں آپ کے حکم کی تعمیل کروں گا لیکن مرشد ابھی میں آپ کے پاس رُکنا چاہتا ہوں۔‘‘
’’کیوں؟‘‘
’’مرشد ان سوؤروں کو میں اچھی طرح جانتا ہوں۔ انہوں نے آپ کی تلاش شروع کر دی ہوگی۔ ان کے بہت سے گرگے ہیں وہ انہیں بھی استعمال کریں گے۔‘‘
’’اور تم میری حفاظت کرو گے؟‘‘ میں نے مسکرا کر کہا۔
’’نہیں مرشد میں تو خود ایک کمزور انسان ہوں۔ لیکن میں ان لوگوں کو جانتا ہوں اگر کوئی نظر آیا تو آپ کو ہوشیار تو کر سکتا ہوں۔‘‘
‎تمہارا شکریہ الیاس خان میری نصیحت ہے
کہ ان لوگوں سے تصادم کی کیفیت نہ اختیار کرنا، اب تم ایک ذمّے دار شخص ہو، تمہارے شانوں پر جوان بہن اور بوڑھے ماں باپ کا بوجھ ہے۔ بہت مشکل ہے تمہارے ماں باپ کو اپنی خوش بختی پر یقین آئے مگر انہیں یقین دلانا تمہارا فرض ہے۔ جائو دوست خدا تمہاری حفاظت کرے
’’آپ مرشد؟‘‘
’’میں آ جائوں گا میری فکر مت کرو!‘‘ بمشکل تمام میں نے اسے روانہ کیا اور جب وہ نظروں سے اوجھل ہوگیا تو فرید خان کے گھر کے دروازے کو دیکھنے لگا، اندر ماموں ریاض موجود تھے۔ میرے ماموں ریاض جنہیں معلوم تھا کہ امی ابا کہاں ہیں۔ آہ! میں انہیں دیکھ سکوں گا ان سے مل سکوں گا۔ میری امی، میرے ابا ، میری بہن دل میں سرور اُتر آیا تھا، میں نے فیصلہ کرلیا تھا کہ ماموں ریاض کے سامنے نہیں آئوں گا۔ ان کے گھر تک ان کا پیچھا کروں گا اور پھر سب کے سامنے ایک دم جائوں گا، کیا کیفیت ہوگی ان کی۔ کیا ہوگا۔
‎بدن اینٹھ رہا تھا، اعصاب کشیدہ ہو رہے
تھے کہ جانے کتنے عرصے کے بعد پانچ بجے اور پھر، پھر میں نے فرید خان کے گھر کے دروازے سے ماموں ریاض کو نکلتے دیکھا۔ ہاں وہ ماموں ریاض ہی تھے!
‎کھوئے کھوئے سے، مضمحل مضمحل سے،
شیو بڑھا ہوا تھا، ہاتھ میں کپڑے کا بنا ہوا تھیلا تھا جس میں کوئی چیز محسوس ہوتی تھی، لباس بھی بہت معمولی تھا، ان کی پریشان حالی کا صاف احساس ہوتا تھا۔ آہ! نہ جانے کیسی زندگی گزار رہے ہیں یہ لوگ، ظاہر ہے ابو تو کچھ کرنے کے قابل نہ رہے ہوں گے، ان سب کی کفالت کا بوجھ ماموں پر ہو گا، دل بے اختیار ہو رہا تھا، جذبات مچل رہے تھے، خواہش ہو رہی تھی کہ سب کچھ بھول کر دوڑوں اور ان سے لپٹ جائوں، اتنا روئوں کہ عرصہ کے رکے ہوئے سارے آنسو بہہ جائیں لیکن خود کو سنبھالا، احتیاط ضروری ہے، مجھے ماضی کو نہیں بھولنا چاہیے۔
‎ماموں ریاض کافی دور نکل گئے تھے۔ میں
چل پڑا، خیالات کے ہجوم میں گھرا ہوا تھا، سونے کے چند سکے میرے پاس موجود تھے، یہ ان کے کام آئیں گے اس کے بعد، اس کے بعد جس طرح بھی بن پڑا میں ان کے حالات بدل دوں گا آہ… یہ تو میرا فرض ہے، میری تو ابتدا یہیں سے ہونی چاہیے تھی مگر یہ تقدیر میں نہیں تھا، اگر امی، ابو اور شمسہ وہاں موجود ہوئے جہاں ماموں جا رہے ہیں تو مجھے دیکھ کر ان پر کیا گزرے گی، کیا کیفیت ہو گی، کہیں یہ لوگ بھی مجھ سے بددل نہ ہوں، مجھے اپنی پریشانیوں کا ذمہ دار سمجھ کر مجھ سے نفرت نہ کرنے لگے ہوں۔ یہ احساس مجھے الیاس خان کے ان الفاظ سے ہوا تھا جن میں اس نے ماموں ریاض کے بارے میں بتایا تھا کہ میرے پیغام کا ان پر کوئی رد عمل نہیں ہوا تھا۔ خیر اگر ایسا ہوا بھی تو کیا بالآخر میں انہیں خود سے راضی کر لوں گا، اپنی کہانی انہیں سنا کر بتائوں گا کہ میں نے اپنے گناہوں کا کیا کفارہ ادا کیا ہے۔ ان سوچوں نے، ان احساسات نے اس سفر کی طوالت کا احساس ختم کر دیا تھا جو ماموں ریاض نے رکے بغیر طے کر لیا تھا۔


‎’مجھے احساس ہے مسعود صاحب۔‘‘
‎’’اگر دل میں واقعی سچائیاں اُتر آئی ہیں تو کچھ کہنا چاہتا ہوں۔‘‘
‎’’فرمایئے۔‘‘
‎’’تم خودکشی کر لو۔ اس الیاس خان کو ختم کرو جو بُرا انسان تھا۔ اسے فنا کر دو ایک باپ کا سہارا بن جائو۔ ایک جوان بہن کے محافظ بن جائو۔ محنت مزدوری کر کے اس بُرے انسان کی برائیوں کا کفارہ ادا کرو۔ خود کو مٹا کر ایک اور گناہ نہ کرو۔ اس بوڑھے شخص کو جوان بیٹے کی موت کا داغ نہ دو، جو بے کس ہے بلکہ اس کے ناتواں بدن کو اپنے طاقتور جسم کا سہارا دو۔ ہو سکتا ہے اللہ تمہارے گناہ معاف کر دے۔‘‘
‎وہ گردن جھکائے آنسو بہاتا رہا، یہ آنسو مکر کے آنسو نہیں تھے، میں نے کچھ سوچ کر کہا۔ ’’اب وہ لوگ کہاں ہیں؟‘‘
‎’’اسی عمارت میں گئے ہیں۔‘‘
‎’’تم اب تک انہی کے ساتھ تھے؟‘‘
‎’’ہاں ان سے قطع تعلق کر کے آیا ہوں۔‘‘
‎’’وہ یہ تو نہ سوچیں گے کہ تم نے مجھے وہاں سے نکالا ہے؟‘‘
‎’’نہیں میں تو اسی وقت سے ان کے ساتھ تھا مگر میں نے دعویٰ کیا تھا کہ آپ وہاں قید نہیں رہ سکیں گے، نواب دلبر ہنسنے لگا تھا۔ وہ مجھے بھی وہیں لے جا رہا تھا مگر میں واپس آ گیا۔‘‘
‎’’نواب دلبر تمہارے لیے خطرہ تو نہیں بن جائے گا؟‘‘
‎’’اس میں میرے مقابل آنے کی ہمت نہیں ہے مرشد۔‘‘
‎’’تو پھر میری ہدایت کے متعلق کیا خیال ہے۔‘‘
‎’’مرشد۔ میں آپ کا مجرم ہوں۔‘‘
‎’’تو اسے میری طرف سے سزا سمجھ کر قبول کر لو!‘‘
‎’’آپ کا دل صاف ہو جائے گا میری طرف سے؟‘‘
‎’’ہاں مگر بعد میں تم مجھ سے سٹّے کا نمبر مت مانگ بیٹھنا۔‘‘ میں نے کہا۔
‎’’نہیں مرشد۔ حرام کا پیسہ اب میرے لیے حرام ہے۔ میں محنت کی کمائی کر کے اپنے ماں باپ کو کھلائوں گا۔ آپ سے وعدہ کرتا ہوں مرشد جو کر چکا ہوں وہ اب نہیں کروں گا۔ مرشد میرے حق میں دُعا کریں۔ اللہ مجھے زندگی دے تو اب اسے میرے گناہوں کے کفارے کے لیے وقف کر دے پھر سے، گناہوں کی دلدل میں پھنسوں تو مجھے موت دے دے۔‘‘ اس کے الفاظ سچائی کا اظہار کر رہے تھے میں نے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔
‎’’اب کچھ اور پوچھوں تم سے الیاس خان۔‘‘
‎’’پوچھیں مرشد۔‘‘
‎’’منشی ریاض سے واقعی ملے تھے؟‘‘
‎’’ہاں۔ وہ میں نے جھوٹ نہیں کہا تھا۔‘‘
‎’’ان سے میرا تذکرہ کیا تھا۔‘‘
‎’’ہاں۔‘‘
‎’’اور ان پر وہی ردعمل ہوا تھا جو تم نے بتایا تھا۔‘‘
‎’’بالکل وہی۔‘‘
‎’’وہ فرید خاں کے پاس کام کرتے ہیں۔‘‘
‎’’بالکل یہی بات ہے۔‘‘
‎’’مجھے ان سے ملا سکتے ہو۔‘‘
‎’’آپ اسے میری ذمّہ داری پر چھوڑ دیں مسعود صاحب، میں کل ہی انہیں یہاں لے آئوں گا۔‘‘
‎’’وہ فرید خاں کے پاس رہتے ہیں؟‘‘
‎’’نہیں اس کے ساتھ نہیں رہتے۔‘‘
‎’’پھر؟‘‘
‎’’ان کا کوئی اور گھر ہے۔ شام کو چھٹی کر کے چلے جاتے ہیں۔‘‘
‎’’تم ان کا گھر جانتے ہو؟‘‘
‎’’نہیں۔‘‘
‎’’کل مجھے وہاں پہنچا سکتے ہو جہاں وہ کام کرتے ہیں۔‘‘
‎’’فرید خاں کے گھر پر رہتے ہیں وہ۔‘‘
‎’’وہیں سہی۔‘‘
‎’’مرشد۔ فرید خاں کے گھر پر ان سے ملنا دُرست نہیں ہوگا۔ ان لوگوں کو آپ کے نکل آنے کا پتا چل چکا ہوگا۔ وہ پاگلوں کی طرح آپ کو تلاش کریں گے اس بارے میں بات ہوئی تھی۔‘‘
‎’’کیا…؟‘‘ میں نے چونک کر پوچھا۔
‎’’مرشد، میں نے نواب دلبر کو سمجھانے کی کوشش کی تھی۔ میں نے کہا تھا کہ کچھ لینے کا طریقہ یہ نہیں ہوتا جو اس نے اختیار کیا ہے۔ اس کے لیے آپ کی خدمت کی جاتی۔ آپ کی محبت حاصل کی جاتی مگر اس نے کام ہی دُوسرا شروع کر دیا۔ میں نے یہ بھی کہا تھا اس سے کہ اس کا وہ قید خانہ مرشد کو نہ روک سکے گا اور وہ اپنی رُوحانی قوتوں سے کام لے کر وہاں سے نکل جائیں گے۔ اس پر فرید خان نے کہا تھا کہ ایسا ہوا تو نواب دلبر کی گردن میں پھانسی کا پھندہ فٹ ہو جائے گا کیونکہ وہ مرشد کو ان چار لاشوں کے بارے میں بتا چکے ہیں جو تہہ خانے میں دفن ہیں اور جنہیں نواب دلبر نے قتل کیا ہے۔‘‘
‎’’اوہ۔ ہاں۔‘‘ میں چونک پڑا۔
‎’’نواب دلبر اس بات پر پریشان ہوگیا تھا اسی وجہ سے وہ واپس پرانی گڑھی گیا تھا۔‘‘
‎’’پرانی گڑھی؟‘‘
‎’’اسی حویلی کا نام ہے وہ رہتا الگ ہے، پرانی گڑھی اس کے پرکھوں کی ملکیت ہے اور جائداد میں بس وہی باقی رہ گئی ہے، باقی سب وہ ختم کر چکا ہے۔ ان باتوں کے بعد وہ اُٹھ گیا اور اس نے سب سے کہا کہ پرانی گڑھی چلیں، کہیں کچھ ہو ہی نہ جائے، میں اس سے اختلاف کر کے چلا آیا تھا۔‘‘
‎’’تب تو اس وقت اس کی جان ہی نکلی ہوئی ہوگی۔‘‘
‎’’یقینا مرشد۔‘‘
‎’’ہوں تو پھر یوں کرنا الیاس خان کہ تم مجھے دُور سے فرید خاں کا گھر دکھا دینا۔ میں اس وقت منشی ریاض سے ملوں گا جب وہ فرید خاں کے گھر سے نکلیں گے اور اپنے گھر جائیں گے۔‘‘
‎’’جو حکم مرشد۔‘‘ مگر آپ خود کو محفوظ رکھیں۔
‎’’اطمینان رکھو۔‘‘ میں نے کہا اور الیاس خان نے گردن جھکا لی۔ میں نے خود ہی کہا۔ ’’اور اب تم جائو آرام کرو۔ اس نئی زندگی پر سب سے پہلی مبارک باد میں تمہیں پیش کرتا ہوں۔‘‘ وہ ایک بار پھر رو پڑا۔ میرے ہاتھ چومے اور باہر نکل گیا۔ مجھے خوشی ہو رہی تھی۔ جمال احمد خاں کا بڑھاپا سنور جائے اس سے زیادہ خوشی کی بات اور کیا ہوگی۔ دیر تک ان کی خوشیوں کا اندازہ لگاتا رہا۔ پھر آہستہ آہستہ اُداسیوں میں ڈوبتا چلا گیا، میری خوشیاں کہاں ہیں مجھے خوشیاں کب ملیں گی مجھ پر یہ نحوستیں کب تک طاری رہیں گی، وہ میری تقدیر کی صبح کب ہوگی۔ الیاس خان نے کہا تھا کہ منشی ریاض، فرید خاں کے ساتھ نہیں رہتے، ان کا کوئی گھر ہے۔ اسی گھر میں مجھے میرے ماں باپ اور بہن نظر آئیں گے۔ آہ! ماموں ریاض انہی کے لیے تو نوکری کر رہے ہوں گے آہ! صبح کب ہوگی کب صبح ہوگی۔
‎صبح ہوگئی دروازے سے الیاس خان اندر داخل ہوگیا۔ اس کے ہاتھ میں ناشتے کی ٹرے تھی۔ آنکھیں سرخ اور مغموم تھیں۔ میں نے حیرت سے اسے دیکھا۔ ’’جلدی جاگ گئے الیاس خان۔‘‘
‎’’جی!‘‘ وہ آہستہ سے بولا۔
‎’’خیریت۔‘‘
‎’’جی ہاں ناشتہ کر لیجیے۔‘‘
‎’’آ جائو۔‘‘ میں نے کہا۔ ’’تم بھی ناشتہ کر لو۔‘‘
‎’’میں نے چائے پی لی ہے ابھی کچھ نہیں کھائوں گا۔‘‘
‎’’کب چلو گے۔‘‘
‎’’بتا دوں گا ابا آ رہے ہیں۔‘‘ وہ بولا۔ اسی وقت جمال خان صاحب اندر آ گئے تھے۔ انہوں نے سرد نگاہوں سے الیاس خان کو دیکھا اور وہ گردن جھکا کر باہر نکل گیا۔
‎’’ناشتہ کریں میاں۔‘‘ جمال خان صاحب بیٹھتے ہوئے بولے اور میں نے ٹرے سامنے سرکا لی۔ ’’آج یہ کوئی ناٹک کر رہا ہے، ضرور کوئی چکر ہے۔‘‘ وہ پُرخیال انداز میں بولے۔
‎’’کیا بات ہے؟‘‘
‎’’صبح میں جاگا تو یہ وضو کر چکا تھا۔ رات کو کسی وقت آیا اور کیسے اندر داخل ہوا پتا نہیں۔ وضو کے بعد باقاعدہ نماز پڑھی پھر ماں کے پاس جا بیٹھا اور انہیں دیکھتا رہا۔‘‘
‎’’خوب مگر یہ ناٹک کیسے ہوا؟‘‘
‎’’وہ اور نماز۔ میرے خیال میں تو اسے نماز آتی بھی نہیں، بھائی مجھے تو شبہ ہوگیا اور میں نے فوراً احتیاطی تدابیر کر ڈالیں۔‘‘
‎’’وہ کیا؟‘‘ میں نے پوچھا۔
‎’’تم نے جو عنایت کی ہے اس نے مجھے جینے کا حوصلہ دیاہے۔ سچ جانو بیٹے! ہمارے ٹوٹے ہوئے دل جڑ گئے ہیں۔ میری اہلیہ نے تو اتنے سجدے کئے ہیں کہ گنے نہ جا سکیں، بیٹی کے چند رشتے ہیں جن پر اس لیے غور نہیں کیا تھا کہ پاس پلے کچھ نہیں تھا، ہاں یا نا کرتے تو کس برتے پر۔ مگر اب اب مجھے شبہ ہوا کہ کہیں اسے پتا نہ چل گیا ہو اس لیے میں نے تمہارے عطیے کو محفوظ کر دیا۔‘‘
‎’’میرا ناقص علم کچھ اور کہتا ہے محترم بزرگ۔‘‘
‎’’کیا؟‘‘
‎’’صبح کا بھولا شام کو واپس آ گیا ہے، ایک گزارش بھی ہے آپ سے۔‘‘
‎’’کیا بیٹے؟‘‘
‎’’وہ اگر نیکیوں کی طرف واپس آئے تو اسے سہارا دیں ماضی کو بھول جائیں، اسے طعنہ نہ دیں۔‘‘
‎’’آہ! مجھے اگر بیٹے کا سہارا مل جائے تو، تو کاش ایسا ہو جائے۔‘‘ جمال احمد خان آبدیدہ ہوگئے۔ بہت دیر تک وہ میرے پاس بیٹھے رہے تھے۔ پھر جب اُٹھنے لگے تو مجھے اچانک کچھ یاد آ گیا۔
‎’’وہ جمال احمد صاحب یہاں ایک کمبل تھا کسی کی امانت ہے وہ نظر نہیں آیا۔ ذرا چچی جان اور بہن سے پوچھ لیں دُھوپ لگانے کو تو نہیں ڈالا۔‘‘
‎’’کمبل، اچھا پوچھے لیتا ہوں۔‘‘ کچھ دیر کے بعد وہ واپس آئے اور بولے۔ ’’نہیں میاں کمبل یہاں سے کسی نے نہیں اُٹھایا۔ کہاں گیا، کہاں جا سکتا ہے۔‘‘ وہ پریشانی سے بولے اور دل ہولنے لگا، نہ جانے کمبل کہاں گیا۔ جمال احمد پھر باہر نکل گئے نہ جانے کیسے تفتیش ہوئی مگر کمبل نہیں ملا، وہ پریشان اور شرمندہ تھے اور میں۔‘‘
‎الیاس خان نے دوپہر کے کھانے کے بعد تیاری کر لی، اس بارے میں میری اس سے بات ہوگئی تھی اور طے ہوگیا تھا کہ ہمیں کیا کرنا ہے۔ پھر ہم تانگے میں بیٹھ کر چل پڑے۔ کافی فاصلہ طے ہوا تھا اور پھر فرید خان کا مکان آیا تھا، شاندار مکان تھا، فرید خان کھاتے پیتے گھر کا فرد تھا۔ منصوبے کے مطابق الیاس خان مجھے چھوڑ کر فریدخان کے مکان میں چلا گیا، یہاں اس کا آنا جانا تھا اور چونکہ اس کی ابھی ان لوگوں سے باقاعدہ نہیں ٹھنی تھی اس لیے کوئی مشکل بھی نہیں تھی، دس منٹ کے بعد وہ واپس آ گیا۔
‎’’وہ رات سے غائب ہے واپس نہیں آیا۔ یقیناً وہ پرانی گڑھی میں ہوں گے اور آپ کے نکل جانے سے خوفزدہ ہوں گے۔ خیر منشی ریاض اندر موجود ہیں۔ کام میں لگے ہوئے ہیں پانچ بجے چھٹی کر کے نکلیں گے۔‘‘
‎’’کچھ کہا تو نہیں تم نے اُن سے۔‘‘
‎’’بالکل نہیں آپ نے منع کیا تھا۔‘‘
‎’’ہاں یہ اچھا کیا۔‘‘
‎’’اب کیا حکم ہے مرشد؟‘‘
‎’’الیاس خان تم واپس جائو جس نئی زندگی کا تم نے آغاز کیا ہے اسی پر ثابت قدم رہنا ہی ذریعۂ نجات ہے۔ برائی بہت خوبصورت ہوتی ہے مگر اس کی انتہا بے حد بھیانک، اس کے برعکس نیکیوں کا سفر مشکل ترین لیکن منزل نہایت سکون بخش۔‘‘
‎’’میں آپ کے حکم کی تعمیل کروں گا لیکن مرشد ابھی میں آپ کے پاس رُکنا چاہتا ہوں۔‘‘
‎’’کیوں؟‘‘
‎’’مرشد ان سوؤروں کو میں اچھی طرح جانتا ہوں۔ انہوں نے آپ کی تلاش شروع کر دی ہوگی۔ ان کے بہت سے گرگے ہیں وہ انہیں بھی استعمال کریں گے۔‘‘
‎’’اور تم میری حفاظت کرو گے؟‘‘ میں نے مسکرا کر کہا۔
‎’’نہیں مرشد میں تو خود ایک کمزور انسان ہوں۔ لیکن میں ان لوگوں کو جانتا ہوں اگر کوئی نظر آیا تو آپ کو ہوشیار تو کر سکتا ہوں۔‘‘
‎تمہارا شکریہ الیاس خان میری نصیحت ہے کہ ان لوگوں سے تصادم کی کیفیت نہ اختیار کرنا، اب تم ایک ذمّے دار شخص ہو، تمہارے شانوں پر جوان بہن اور بوڑھے ماں باپ کا بوجھ ہے۔ بہت مشکل ہے تمہارے ماں باپ کو اپنی خوش بختی پر یقین آئے مگر انہیں یقین دلانا تمہارا فرض ہے۔ جائو دوست خدا تمہاری حفاظت کرے
‎’’آپ مرشد؟‘‘
‎’’میں آ جائوں گا میری فکر مت کرو!‘‘ بمشکل تمام میں نے اسے روانہ کیا اور جب وہ نظروں سے اوجھل ہوگیا تو فرید خان کے گھر کے دروازے کو دیکھنے لگا، اندر ماموں ریاض موجود تھے۔ میرے ماموں ریاض جنہیں معلوم تھا کہ امی ابا کہاں ہیں۔ آہ! میں انہیں دیکھ سکوں گا ان سے مل سکوں گا۔ میری امی، میرے ابا ، میری بہن دل میں سرور اُتر آیا تھا، میں نے فیصلہ کرلیا تھا کہ ماموں ریاض کے سامنے نہیں آئوں گا۔ ان کے گھر تک ان کا پیچھا کروں گا اور پھر سب کے سامنے ایک دم جائوں گا، کیا کیفیت ہوگی ان کی۔ کیا ہوگا۔
‎بدن اینٹھ رہا تھا، اعصاب کشیدہ ہو رہے تھے کہ جانے کتنے عرصے کے بعد پانچ بجے اور پھر، پھر میں نے فرید خان کے گھر کے دروازے سے ماموں ریاض کو نکلتے دیکھا۔ ہاں وہ ماموں ریاض ہی تھے!
‎کھوئے کھوئے سے، مضمحل مضمحل سے، شیو بڑھا ہوا تھا، ہاتھ میں کپڑے کا بنا ہوا تھیلا تھا جس میں کوئی چیز محسوس ہوتی تھی، لباس بھی بہت معمولی تھا، ان کی پریشان حالی کا صاف احساس ہوتا تھا۔ آہ! نہ جانے کیسی زندگی گزار رہے ہیں یہ لوگ، ظاہر ہے ابو تو کچھ کرنے کے قابل نہ رہے ہوں گے، ان سب کی کفالت کا بوجھ ماموں پر ہو گا، دل بے اختیار ہو رہا تھا، جذبات مچل رہے تھے، خواہش ہو رہی تھی کہ سب کچھ بھول کر دوڑوں اور ان سے لپٹ جائوں، اتنا روئوں کہ عرصہ کے رکے ہوئے سارے آنسو بہہ جائیں لیکن خود کو سنبھالا، احتیاط ضروری ہے، مجھے ماضی کو نہیں بھولنا چاہیے۔
‎ماموں ریاض کافی دور نکل گئے تھے۔ میں چل پڑا، خیالات کے ہجوم میں گھرا ہوا تھا، سونے کے چند سکے میرے پاس موجود تھے، یہ ان کے کام آئیں گے اس کے بعد، اس کے بعد جس طرح بھی بن پڑا میں ان کے حالات بدل دوں گا آہ… یہ تو میرا فرض ہے، میری تو ابتدا یہیں سے ہونی چاہیے تھی مگر یہ تقدیر میں نہیں تھا، اگر امی، ابو اور شمسہ وہاں موجود ہوئے جہاں ماموں جا رہے ہیں تو مجھے دیکھ کر ان پر کیا گزرے گی، کیا کیفیت ہو گی، کہیں یہ لوگ بھی مجھ سے بددل نہ ہوں، مجھے اپنی پریشانیوں کا ذمہ دار سمجھ کر مجھ سے نفرت نہ کرنے لگے ہوں۔ یہ احساس مجھے الیاس خان کے ان الفاظ سے ہوا تھا جن میں اس نے ماموں ریاض کے بارے میں بتایا تھا کہ میرے پیغام کا ان پر کوئی رد عمل نہیں ہوا تھا۔ خیر اگر ایسا ہوا بھی تو کیا بالآخر میں انہیں خود سے راضی کر لوں گا، اپنی کہانی انہیں سنا کر بتائوں گا کہ میں نے اپنے گناہوں کا کیا کفارہ ادا کیا ہے۔ ان سوچوں نے، ان احساسات نے اس سفر کی طوالت کا احساس ختم کر دیا تھا جو ماموں ریاض نے رکے بغیر طے کر لیا تھا۔ یہ بہت طویل سفر تھا، نہ جانے کتنی سڑکیں، گلیاں، بازار، محلے عبور کر آئے تھے وہ، آبادی خال خال رہ گئی تھی جس جگہ وہ پہنچ گئے تھے وہاں کھیت بکھرے ہوئے تھے اور ان کھیتوں کے دوسرے سرے پر کچھ بوسیدہ مکانات دور دور نظر آ رہے تھے غالباً یہاں بجلی نہیں تھی، کھمبے بھی نہیں لگے ہوئے تھے، ان ٹوٹے پھوٹے مکانوں میں سے چند میں ملگجی مدھم روشنیاں ٹمٹما رہی تھیں۔ میں چونک پڑا ان روشنیوں کو دیکھ کر مجھے احساس ہوا کہ کتنا فاصلہ پیدل طے کیا گیا ہے کہ چلتے چلتے رات ہو گئی اور پھر یہ آبادی عجیب سی تھی۔ یہاں رہتے ہیں یہ لوگ اتنی دور اور ایسی جگہ جو زندگی کی سہولتوں سے محروم ہے! اس کی وجہ بھی غربت ہی ہو سکتی تھی۔ دل رونے لگا، کتنی بے بسی کا شکار ہیں یہ لوگ، کیا بیت رہی ہے ان پر…
‎ماموں ریاض ایک دروازے پر رک گئے، ایک لمحے رکے رہے پھر اندر داخل ہو گئے۔ میرا دل بند بند سا ہو گیا۔ منزل آ گئی تھی وہ جگہ آ گئی جس کی مجھے صدیوں سے تلاش تھی۔ قدم من من بھر کے ہو گئے نہ جانے کتنی مشکل سے یہ بقیہ راستہ طے کیا تھا، ان مکانوں کو قریب سے دیکھا۔ زمانہ قدیم کے بنے ہوئے تھے، دیواروں میں ایک اینٹ سلامت نہیں تھی اس کے باوجود مضبوط تھے جس دروازے میں ماموں ریاض داخل ہوئے تھے، اس کی زنجیر بجائی اور دھڑکتے دل کے ساتھ انتظار کرنے لگا، دروازہ کون کھولے گا شمسہ، امی، ابو… یا ماموں ریاض… کس سے کیا کہوں گا، کیا وہ لوگ مجھے ایک نگاہ میں پہچان لیں گے، مشکل ہو جائے گا۔ کچھ دیر انتظار کے بعد زنجیر دوبارہ بجائی پھر تیسری بار بہت زور سے لیکن کوئی جواب نہیں ملا، جگہ شاید بہت بڑی ہے، یہ لوگ دروازے سے دور ہوتے ہوں گے یا کوئی اور یہاں آتا نہ ہو گا…؟ یا ماموں ریاض اکیلے… اس خیال سے دل لرز گیا اگر ماموں ریاض یہاں اکیلے ہیں تو امی، ابو… ایک دم بے چینی طاری ہو گئی، زور زور سے زنجیر بجانے لگا پھر دروازے کو زور سے اندر دھکیلا تو دروازہ کھل گیا، بے صبری سے اندر قدم رکھ دیا، گھپ اندھیرا چھایا ہوا تھا، جگہ بھی سمجھ میں نہیں آ رہی تھی۔
‎’’ماموں ریاض۔‘‘ میں نے آواز لگائی اور میری آواز گونج کر رہ گئی۔ دل پر وحشت چھانے لگی تھی۔ اس بار پہلے سے زیادہ زور سے چیخا مگر کوئی جواب نہ ملا۔ ’’یہاں کوئی ہے۔‘‘ میں نے پھر حلق پھاڑا اور اس بار روشنی کی ایک مدھم سی کرن ابھری۔ یہ کرن کسی دروازے کی جھری سے ابھری تھی۔ اسے دیکھ کر میں اندھوں کی طرح اس طرف لپکا بہت مدھم کرن تھی لیکن اس کی نشاندہی میں، میں دروازے تک پہنچ گیا۔ اس دروازے کو بھی دھکا دے کر میں نے کھول دیا اور دوسری طرف نکل آیا۔ یہاں زیادہ تاریکی نہیں تھی۔ گول سا بڑا صحن نظر آ رہا تھا جس کی زمین اینٹوں سے بنی ہوئی تھی لیکن وہی کیفیت یہاں بھی موجود تھی۔ ٹوٹی پھوٹی اینٹیں درمیان میں کیاریوں جیسی جگہ چھوڑ دی گئی تھی جن میں درخت اُگے ہوئے تھے۔ بہت اونچے اونچے چار درخت نظر آ رہے تھے جو اوپر جا کر آپس میں ایک دوسرے سے پیوست ہو گئے تھے اور انہوں نے اس صحن پر سایہ کر لیا تھا لیکن چونکہ آسمان پر ابھی تھوڑی بہت مدھم مدھم روشنی تھی اس لیے یہ صحن زیادہ تاریک نہیں ہوا تھا۔ روشنی کی وہ کرن جس نے دروازہ اجاگر کیا تھا، اس دروازے کے عین سامنے ایک اور دروازے سے ابھر رہی تھی اور ایک چھوٹی سی کھڑکی سے اس کی روشنی باہر چھن رہی تھی۔ خوف و دہشت کا ایک ہولناک احساس میرے وجود پر طاری ہو گیا، ہاتھ پائوں پھولنے لگے اور کانوں میں شائیں شائیں کی آوازیں گونجنے لگیں۔ شاید یہ خوف کا احساس تھا جو میرے ذہن پر مسلط ہو گیا تھا۔ ماموں ریاض کہاں گئے، کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔ میرے ہاتھ پائوں لرز رہے تھے اور دل چاہ رہا تھا کہ بیٹھ جائوں، سانس بے حد تیز ہو گیا تھا۔ اس حالت میں کئی منٹ یہاں کھڑے کھڑے گزر گئے، نہ جانے کس طرح میں نے ایک بار پھر اپنے حلق سے آواز نکالی اور ماموں ریاض کو پکارا لیکن جواب ندارد۔ دل کے کسی گوشے میں یہ احساس ابھر رہا تھا کہ جو کچھ ہوا ہے وہ غیرحقیقی ہے۔ کچھ ہو گیا ہے، کوئی ایسی بات جو آنے والے وقت میں میرے لیے خطرناک ہو سکتی ہے۔ آہ یہ کیا ہوا، سوچا تو کچھ تھا اور ہو کچھ رہا تھا، کیسے کیسے احساس لے کر یہ طویل اور تھکا دینے والا سفر کیا تھا۔ کیا کیا امیدیں باندھیں تھیں۔ کیا ہونے والا ہے۔ آخر کیا ہونے والا ہے۔
‎لرزتے قدموں سے اس دروازے کی جانب بڑھا جہاں سے روشنی آ رہی تھی۔ یہاں پہنچ کر دروازہ زور زور سے بجایا۔ میرے ہاتھوں سے پیدا ہونے والی آواز کئی گنا زیادہ ہو کر پھیل رہی تھی۔ اس میں ہوا کی شائیں بھی شامل تھی۔ درختوں کے پتے ایک دوسرے سے ٹکرا کر بج رہے تھے اور ماحول پر ایسا دہشت ناک سناٹا پھیلتا جا رہا تھا کہ دل کی دھڑکنیں چیخ اٹھیں۔ میرے زور زور سے دروازہ بجانے سے یہ دروازہ بھی اندر کو دب گیا اور میں نے کسی انوکھے جذبے کے تحت اندر قدم رکھا۔ اس بار میں ایک وسیع و عریض کمرے میں داخل ہوا تھا جس کی قدامت کا اندازہ اس میں موجود اشیاء سے ہوتا تھا۔ گرد کی ایک دبیز اور بدبودار تہہ اس کے فرش پر جمی ہوئی تھی۔ اونچی چھت کے درمیان میں ایک بہت بڑا جھاڑ لٹک رہا تھا۔ دیواروں پر چاروں طرف جالے لگے ہوئے تھے اور ایک طرف آتش دان میں مدھم مدھم سی زرد روشنی ہو رہی تھی۔ اسی آتش دان کے اوپر ایک شمع روشن تھی۔ میں نے اس کمرے کی فضا میں ہلکی ہلکی گرمی محسوس کی اور میرا بدن ایک بار پھر دہشت سے لرز اٹھا کیونکہ اچانک ہی کمرے کی روشنی میں اضافہ ہونے لگا تھا۔ میری آنکھوں کے سامنے کوئی سات فٹ کے فاصلے پر آتش دان کے اوپر رکھی چند شمعیں خود بخود روشن ہو گئی تھیں۔ یہ شمعیں پرانے قسم کے ایک شمع دان میں لگی ہوئی تھیں۔ سفید سفید لمبی لمبی خدا جانے ان شمعوں کو روشن کس نے کیا تھا، میں اب شدید دہشت کا شکار ہو چکا تھا۔ آہستہ آہستہ آگے بڑھ کر میں ان شمعوں کے قریب پہنچ گیا۔ میں یہ جاننا چاہتا تھا کہ پہلے تو صرف ایک ہی موم بتی جل رہی تھی لیکن اب یہ شمعیں کس نے روشن کیں۔ وہ نادیدہ ہاتھ مجھے نظر نہیں آ رہے تھے جنہوں نے یہ حرکت کی تھی۔ موم بتیوں کے شعلے بالکل سیدھے اوپر اٹھ رہے تھے جیسے ہوا سے محفوظ ہوں۔ میں غیر ارادی طور پر ان پر پھونکیں مارنے لگا اور ایک بار پھر میری آنکھوں میں خوف ابھر آیا۔ میری پھونکوں سے کسی نہ کسی شعلے کو بجھ تو جانا چاہیے تھا لیکن وہ جنبش بھی نہیں کر رہے تھے۔ دل بری طرح دھک دھک کرنے لگا۔ پورا بدن پسینے میں ڈوب گیا اور اب اس کے علاوہ اور کچھ نہیں سوچا جا سکتا تھا کہ جو کچھ ہوا وہ فریب نظر تھا۔ ماموں ریاض حقیقت نہیں تھے بلکہ کوئی خوفناک دھوکا تھے جس کا تعاقب کرتا ہوا میں اس ہولناک مکان میں پہنچ گیا ہوں لیکن اس دھوکے کی بنیاد کیا ہے، یہ سب کچھ، یہ سب کچھ کیوں ہوا ہے، بہت عرصے تک میں اس سے محفوظ رہا تھا بلکہ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ میری ایک حیثیت بن گئی تھی آہ … اس کے بعد اس کے بعد یہ سب کچھ، یہ سب کچھ، کیا کروں، کیا کرنا چاہیے مجھے، بے شک شدید ترین حالات کا شکار رہ چکا تھا، ان حالات میں رہنے کی عادت پڑ گئی تھی لیکن کچھ عرصے سے، صورتحال ذرا مختلف ہو گئی تھی اور اب یہ سب کچھ میرے لیے بڑا دہشت ناک تھا۔ میں نے پریشان نگاہوں سے چاروں طرف دیکھا۔ دروازہ در دروازہ، ایک کے اندر ایک۔ ایک اور دروازہ نظر آ رہا تھا۔ ماموں ریاض کا تصور تو اب دل سے نکلتا ہی جا رہا تھا۔ میری تقدیر میں بھلا یہ روشنی کہاں ہے، میں تو تاریک اندھیروں کا مسافر ہوں، مجھے انہی تاریکیوں میں زندگی بھر کا سفر کرنا ہے، ان خوشیوں سے بھلا میرا کیا واسطہ جو انسان کی زندگی میں آتی ہیں مگر اب یہ نیا جال، نیا فریب کیا معنی رکھتا ہے۔ آہ! پچاس بار غور کر چکا تھا اس بات پر کہ غلطی ہوئی ہے مجھ سے اور میری اس غلطی نے مجھ سے میرا سائبان چھین لیا ہے، وہ کمبل جو میرے لیے ایک بزرگ کا عطیہ تھا، مجھ سے واپس مانگا گیا تھا، صاف کہا گیا تھا کہ میں اس کی حفاظت کرنے میں ناکام رہا تھا، میں نے اسے چھوڑ دیا، ہاں اس میں کوئی شک نہیں کہ جو کچھ ہوا تھا اس میں میری غلطی نمایاں تھی لیکن اب اب کیا کرنا چاہیے۔ اپنی اس غلطی کو تسلیم کر کے کیا ایک بار پھر موت کی آرزو کرنے لگوں یا زندگی کی جانب رخ کیے رہوں جیسا بھی ہو جو کچھ بھی ہو گزاروں اسی میں گزاروں۔ زندگی کتنی قیمتی شے ہے کوئی جینے والوں سے پوچھے جو کسی بھی طور مرنا نہیں چاہتے۔ میں بھی مرنا نہیں چاہتا ہوں ہاں بے شمار بار دل اس دنیا سے اکتایا، اپنے آپ سے اکتایا لیکن جب موت کو گلے لگانے کی آرزو کروں گا تو نہ جانے کیا احساس ہو گا دل میں، کافی دیر تک میں اسی طرح اس پراسرار کمرے میں کھڑا سوچوں میں گم رہا اور اس کے بعد میں نے سوچا کہ کم از کم یہاں کا تھوڑا سا جائزہ اور لے لوں اور اس کے بعد اس گھر سے باہر نکل جائوں جہاں میں صرف ایک دھوکے کے تعاقب میں آیا تھا۔ سامنے ہی جو کمرہ نظر آ رہا تھا اس کے دروازے کے قریب پہنچ گیا۔ میں اس دروازے کے رنگ کو دیکھ رہا تھا۔ صاف محسوس ہو رہا تھا کہ اسے مدت سے نہیں کھولا گیا ہے۔ ہو سکتا ہے دوسری طرف تاریکی ہی تاریکی ہو کیونکہ روشنی نظر نہیں آ رہی تھی اس لیے میں واپس پلٹا۔ ایک شمع ہاتھ میں اٹھائی اور دوبارہ دروازے کے قریب پہنچ گیا۔ پھر میں نے دروازے کو آہستہ سے دھکیلا اور ایک لمحے میں دروازہ کھل گیا۔ شمع کی روشنی میں مجھے ایک اور بڑا اور وسیع کمرہ نظر آیا۔ یہاں بھی فرش بالکل ایسا لگ رہا تھا جیسے اس پر صدیوں سے انسانی قدموں کا گزر نہ ہوا ہو۔ دیواریں پلاسٹر کے بغیر تھیں اور ان سے ٹوٹی پھوٹی اینٹیں جھانک رہی تھیں۔ ایک سمت ایک زینہ سا بنا ہوا تھا جو اوپر جا کر چھت میں گم ہو گیا تھا۔ یہ کمرہ پہلے کمرے سے بھی زیادہ پراسرار تھا۔ ابھی میں یہیں کھڑا ہوا ادھر ادھر دیکھ رہا تھا کہ دفعتاً ہی مجھے اوپر قدموں کی سی آہٹ سنائی دی اور میرا دل دہشت سے اچھل پڑا۔ میرے حلق سے ڈری ڈری آواز نکلی۔
‎’’ماموں ریاض، ماموں ریاض کہاں ہیں آپ، ماموں ریاض کیا آپ یہاں اس گھر میں موجود ہیں۔‘‘ اپنی آواز کے کھوکھلے پن کا خود بھی احساس ہوا تھا، جسے پکار رہا تھا اب اس کی موجودگی سے مایوس ہو گیا تھا لیکن کوئی اوپر ہے ضرور۔ یہ مکان خالی نہیں ہے، یہاں یقینی طور پر زندگی ہے۔ آہ کوئی نظر تو آئے، کوئی دکھائی تو دے اس سے پوچھوں کہ مجھے اس طلسم خانے میں لانے کا مقصد کیا ہے۔ آخر میں یہاں کیوں آیا ہوں بس دماغ پر ایک دھند سی طاری ہو گئی اور میرے قدم ان سیڑھیوں کی جانب بڑھ گئے۔ گیارہ سیڑھیاں تھیں اور اس کے بعد لکڑی کی بنی ہوئی چھت۔ اوپر پہنچا شمع کی روشنی نے ایک اور دروازہ اجاگر کیا لیکن
‎اس دروازے کے دوسری جانب روشنی تھی، یقینی طور پر وہاں کوئی موجود تھا۔ کچھ سرسراہٹوں کی سی آوازیں بلند ہو رہی تھیں۔ میں نے دروازے کو دھکا دیا۔ یہ دلچسپ بات تھی کہ یہاں کوئی دروازہ اندر سے بند نہیں تھا۔ یہ دروازہ بھی میرے دھکا دینے سے کھل گیا اور وہاں مجھے تیز روشنی نظر آئی۔ یہ روشنی بالکل نیچے لگی ہوئی شمعوں کی جیسی روشنی تھی۔ یہاں بھی پانچ شمعیں جو بہت لمبی لمبی تھیں، روشن تھیں اور یوں لگتا تھا جیسے انہیں ابھی ابھی روشن کیا گیا ہو کیونکہ ان کا موم پگھلا نہیں تھا لیکن کمرے کے منظر میں کچھ ایسی انوکھی باتیں تھیں جنہیں دیکھ کر میرا دل اینٹھنے لگا، اعصاب میں عجیب سی کھنچاوٹ پیدا ہوئی۔ سامنے ہی ایک تابوت جیسی شے رکھی ہوئی تھی اور سرسراہٹوں کی آوازیں وہیں سے آ رہی تھیں۔ کمرہ روشن تھا لیکن میں نے اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی شمع پھینکی نہیں اور آہستہ آہستہ اس تابوت کے قریب پہنچ گیا۔ میرے خدا، میرے خدا میں نے جو کچھ دیکھا وہ ناقابل یقین تھا۔ تابوت خاص قسم کا بنا ہوا تھا۔ اس کے کنارے اونچے اونچے تھے اور اس کے اندر ایک لاش نظر آ رہی تھی۔ ایک انسانی لاش جس کی بے نور آنکھیں مجھے گھور رہی تھیں اور یہ چہرہ، یہ چہرہ ماموں ریاض کا چہرہ تھا۔ ہاں میں اس چہرے کو صاف پہچانتا تھا۔ ماموں ریاض ہی تھے لیکن جو چیز مجھے ایسی نظر آئی جو میرے حواس کو بالکل ہی بے قابو کر رہی تھی وہ ماموں ریاض کی لاش سے چمٹی ہوئی لاتعداد پیلی پیلی مکڑیاں تھیں جو ان کے جسم پر ادھر سے ادھر پھر رہی تھیں اور جگہ جگہ ان کے کھلے جسم میں اپنے پنجے جمائے ان کا خون چوس رہی تھیں۔ آہ ماموں ریاض… ماموں ریاض… میرے منہ سے بے اختیار چیخ نکل گئی۔ شمع میرے ہاتھ سے چھوٹ کر کھلے ہوئے تابوت میں جا گری۔ مکڑیاں ایک دم منتشر ہونے لگیں۔ ان کی تعداد بے پناہ تھی، ان کا سائز بھی مختلف تھا۔ شمع گرنے سے ان میں سے کچھ مکڑیاں جل بھی گئی تھیں۔ وہ ایسے انداز میں اوپر کی جانب لپکیں جو بے حد لرزہ خیز تھا۔ میں بدحواس ہو کر پیچھے ہٹا لیکن پائوں کسی چیز میں الجھ گیا اور میں چاروں شانے چت نیچے گر گیا۔ دفعتاً ہی مجھے ایک دھماکہ سا سنائی دیا اور اس کی وجہ بھی مجھے معلوم ہو گئی۔ وہ دروازہ جس سے میں اندر داخل ہوا تھا، زوردار آواز کے ساتھ بند ہو گیا تھا، ہوا بالکل نہیں چل رہی تھی اگر ہوا چلتی تو شمعوں کے شعلے بھڑکتے۔ اس کا مقصد ہے کہ کسی نادیدہ شیطانی قوت نے یہ دروازہ بند کیا ہے۔ میں ادھر ادھر ہاتھ مارنے لگا۔ سہارا لے کر اٹھنے کی کوشش کرنا چاہتا تھا لیکن جسم جیسے مفلوج ہو گیا تھا۔ آن واحد میں لاتعداد سفید اور پیلی مکڑیاں میرے جسم تک پہنچ گئیں اور میں اپنے جسم کے کھلے ہوئے حصوں پر ان کے نوکدار پیروں کی گردش محسوس کرنے لگا۔ وہ میرے جسم سے چمٹ رہی تھیں، جسم کے کھلے ہوئے حصوں میں باریک باریک سوئیاں سی چبھنے لگیں اور درد کی شدت سے میرے حلق سے بے اختیار چیخیں نکلنے لگیں، اعصاب اچانک ہی قابو میں آ گئے تھے۔ میں نے جوش وحشت میں ان مکڑیوں کو ہاتھ مار مار کر دور کرنا چاہا مگر بے سود ان کی نوکیلی ٹانگیں میری کھال میں پیوست ہو رہی تھیں اور وہ اپنے باریک باریک دانت میرے جسم میں چبھو رہی تھیں۔ آہستہ آہستہ وہ میری گردن تک پہنچ گئیں اور اس کے بعد انہوں نے میرے چہرے پر چڑھنے کی کوشش کی۔ ایک خوفناک دھاڑ میرے منہ سے نکلی اور میں نے ایک دم کروٹ بدل کر زمین پر ہاتھ ٹکائے اور اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔ جسم میں انتہائی خوف کے عالم میں قوتیں بیدار ہو گئی تھیں۔ میں نے بہت زور زور سے ہاتھ اور پائوں جھٹک جھٹک کر ان مکڑیوں کو نیچے گرایا اور اس کے بعد دروازے کی جانب دوڑ لگائی۔ پوری قوت سے میں نے دروازے کو پکڑ کر کھینچا۔ دروازہ کھل گیا لیکن میں باہر نکلتے نکلتے ایک بار پھر گر پڑا تھا۔ چند مکڑیاں جو میرے لباس پر چڑھ گئی تھیں، میرے ساتھ ہی باہر آ گئی تھیں۔ میں ماہی بے آب کی طرح تڑپنے لگا۔ مکڑیوں نے میرے جسم کے کھلے حصوں کی طرف دوڑنا شروع کر دیا اور وہاں پہنچ کر مجھے کاٹنے لگیں۔ میں بار بار چیخ رہا تھا اور ان مکڑیوں کو چٹکیوں سے پکڑ پکڑ کر نیچے پھینک رہا تھا، ساتھ ہی میں انہیں پائوں سے مسلتا بھی جا رہا تھا۔ یہ ایک بے حد گھنائونا کام تھا لیکن اس وقت زندگی بچانا سب سے زیادہ اہمیت رکھتا تھا۔ مکڑیاں اپنا کام کر رہی تھیں مگر میری کوششوں سے ان کی تعداد کم ہوتی جا رہی تھی۔ یہاں تک کہ آخری مکڑی بھی میرے پائوں کے نیچے آ کر مر گئی۔ اس مصیبت سے چھٹکارا پاتے ہی میں اس راستے کی طرف دوڑا جہاں سے اندر داخل ہوا تھا۔ سامنے ایک دروازہ کھلا نظر آیا اور میں اس میں گھس گیا مگر وہ ایک کمرہ تھا اور اس میں کوئی دروازہ نہیں تھا۔ وہاں سے نکل کر ایک راہداری میں بھاگا جو آگے جا کر دوسری طرف گھوم گئی تھی لیکن دوسری طرف مڑ ہی رہا تھا کہ سامنے بند دیوار آ گئی اور بمشکل دونوں ہاتھوں کا سہارا لے کر ٹکرانے سے بچا۔ آہ وہ راستہ کہاں گیا جہاں سے اندر آیا تھا، کہاں گیا وہ راستہ… وہاں سے پلٹا اور پھر جہاں تک بھاگ سکا، بھاگا لیکن جہاں پہنچتا راستہ بند ملتا۔ حلق میں کانٹے پڑ رہے تھے، آواز نہیں نکل رہی تھی۔ پھر ایک تاریک کمرے میں داخل ہو گیا۔ گہرا گھپ اندھیرا تھا، پانی گرنے کی آواز آ رہی تھی۔ غالباً غسل خانہ تھا، میں ٹٹول ٹٹول کر آگے بڑھنے لگا، ایک جگہ پانی کی دھار گر رہی تھی پانی ہلکا گرم تھا مگر پیاس اتنی شدت کی تھی کہ میں نے منہ کھول دیا۔ پانی کے کئی گھونٹ حلق سے اتارے مگر یہ پانی ہلکا نمکین تھا اور اس میں پانی جیسا پتلا پن نہیں تھا۔ اس کے علاوہ ایک عجیب سی بو ایک عجیب سی سڑاند… میں ایک دم پیچھے ہٹ گیا، دونوں ہاتھوں کا چلو بنایا، پانی اس میں لیا اور اسے انگلیوں سے مسل کر دیکھنے لگا، ایک عجیب سی چپکن تھی اس میں مگر تاریکی میں کچھ نظر نہیں آ رہا تھا، اس سڑاند سے الٹی آ رہی تھی، پیٹ اور سینے پر ایک دم بڑا بھاری پن پیدا ہو گیا تھا، میں کراہتا ہوا وہاں سے بھی نکل آیا، کوئی شیطانی جال تھا جس میں میں بری طرح جکڑ گیا تھا۔ آہ کیا ہے یہ سب کچھ۔ کہاں جائوں کئی جگہ روشنی نظر آئی، اس سے پہلے یہ روشنی نہیں تھی مگر اس طرف رخ کرتے ہوئے خوف محسوس ہو رہا تھا۔ ادھر کلیجہ تھا کہ حلق کے راستے باہر نکل آنا چاہتا تھا۔
‎’’راستہ کہاں ہے… کوئی ہے اس منحوس گھر میں۔ ارے کوئی ہے، ماموں ریاض، ابو، امی، شمسہ… کوئی ہے، کوئی ہے۔‘‘ میری آواز گھٹ گئی، متلی آ گئی تھی اور میری حالت خراب سے خراب تر ہوتی جا رہی تھی، سر چکرا رہا تھا، آنکھوں کے سامنے ستارے ناچ رہے تھے لگ رہا تھا یہی آخری وقت ہے، مر جائوں گا۔ آہ پھر وہی سب کچھ آہ… آگے بڑھا، رخ ایک روشنی کی طرف تھا نہ جانے وہاں کیا ہے، نہ جانے وہاں کیا ہے۔ کھلا ہوا دروازہ تھا، چوکور کمرہ تھا، کھردرا فرش دیواریں، کارنس پر روشن شمع، سامنے ایک اور دروازہ بھی تھا، نقشہ بدل گیا تھا اس گھر کا میرے داخل ہونے کے بعد۔ کیسے، آخر کیسے۔ روشنی میں ہاتھوں پر نظر پڑ گئی، ایک اور چیخ حلق سے بلند ہو گئی، دونوں ہاتھ سرخ ہو رہے تھے انگلیاں ایک دوسرے سے چپک گئی تھیں، خون، آہ خون، پورا جسم خون میں ڈوبا ہوا تھا، وہ دھار جو نہ جانے کہاں سے گر رہی تھی پانی کی نہیں خون کی دھار تھی اور … اور میں نے کئی گھونٹ خون پیا تھا۔ اس بار تو یوں لگا جیسے آنتیں حلق کے راستے باہر نکل رہی ہوں۔ بری طرح متلی ہورہی تھی اور مجھے بیٹھ جانا پڑا تھا۔ آنکھیں بند کر لی تھی تاکہ حلق سے نکلنے والی آلائش نظر نہ آئے۔ سر بالکل خالی ہو گیا تھا۔ جب حالت کچھ بہتر ہوئی تو اپنی جگہ سے اٹھا اور سامنے نظر آنے والے دروازے سے اندر داخل ہو گیا۔ بے نور سی آنکھوں سے کمرے کے ماحول کو دیکھا، وہی کمرہ تھا جہاں تابوت دیکھا تھا اور اس تابوت میں ماموں ریاض کی لاش نظر آئی تھی مگر اب وہاں مکڑیاں نہیں تھیں، فرش صاف پڑا تھا۔ مکڑیاں یقیناً دوبارہ تابوت میں جا گھسی تھیں۔ ماموں ریاض مر گئے۔ میں نے دل میں سوچا۔ بے اختیار قدم آگے بڑھے، تابوت میں جھانکا، لاش موجود تھی مگر مکڑیاں نہیں تھیں، ایک بھی مکڑی نہیں تھی، البتہ ماموں ریاض کی لاش خون سے عاری تھی بالکل زرد، بے رونق، سرد…! تابوت میں جھکا دونوں ہاتھ نیچے کئے ان کے شانوں کو مضبوطی سے پکڑا اور اوپر اٹھایا بالکل ہلکا جسم تھا مگر اچانک یوں محسوس ہوا جیسے ماموں ریاض نے پائوں اٹھایا ہو۔ یہ صرف احساس نہیں تھا ایسا ہوا تھا میرے ہاتھوں کے سہارے وہ تابوت سے باہر نکلنے کی جدوجہد کر رہے تھے۔ میں نے دہشت زدہ نظروں سے ان کا چہرہ دیکھا اور پھر جلدی سے انہیں چھوڑ دیا۔ یہ ماموں ریاض نہیں تھے بلکہ اب یہ چہرہ مکروہ صورت بھوریا چرن کا چہرہ بن چکا تھا۔ وہ سو فیصد بھوریا چرن تھا، اس کی شکل نامعلوم سے انداز میں کسی مکڑی کی شکل سے مشابہ تھی۔ ہاتھ پائوں بھی اسی طرح مڑے مڑے تھے۔ اب اسے میرے سہارے کی ضرورت نہیں تھی، وہ اچھل کر تابوت سے باہر نکل آیا۔
‎’’کیسے ہو میاں جی…؟‘‘ اس نے چہکتی آواز میں پوچھا۔
‎’’بھوریا چرن‘‘ میں نے آہستہ سے کہا۔
‎’’پہچان لیا نا…؟ ہاہا… چلو اچھا ہے ہم تو سمجھے بھول گئے ہو گے ہمیں، بہت سمے بیت گیا تھا۔‘‘
‎’’ماموں ریاض کہاں ہیں بھوریا چرن…؟‘‘
‎’’سب مل جائیں گے میاں جی… سب مل جائیں گے، اب کیا رہ گیا ہے مگر تم بھی دھن کے پکے نکلے۔‘‘
‎’’وہ کیسے بھوریا چرن…‘‘
‎’’ہمارا کام ہی کر کے نہ دیا۔‘‘
‎’’اب بھی نہیں کروں گا بھوریا چرن۔ اب بھی نہیں کروں گا۔‘‘
‎’’اب…؟‘‘ اس کے لہجے میں طنز تھا۔
‎’’ہاں تو کیا سمجھتا ہے ہار مان لی میں نے تجھ سے، تو پاگل ہے بھوریا چرن۔‘‘
‎’’ڈوب مرو میاں جی کہیں چلو بھر پانی میں… ڈوب ہی مرو تو اچھا ہے اب تم ہو کیا میاں جی ذرا اس پر تو غور کرلو۔‘‘
‎’’میں تو کبھی کچھ نہیں تھا بھوریا چرن مگر تو دیکھ لے آج تک تو اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکا۔‘‘
‎’’مقصد میں تو ہم ایسے کامیاب ہوئے ہیں میاں جی کہ جانو گے تو جی خوش ہو جائے گا تمہارا…‘‘
‎’’اچھا… کیا تو کھنڈولا بن گیا…؟‘‘
‎’’ہم تو کھنڈولے نہ بنے… پر تم بھی دھرماتما نہ بن سکے۔ یہ ہے تمہارا دھرم، جیون بھر کشٹ اٹھائے، پر ایک غلطی کری اور مارے گئے۔‘‘ اس نے مسرور لہجے میں کہا اور میں اسے گھورنے لگا۔ ’’اب تم ہم میں سے ہو میاں جی… نام اور بدل لو اپنا…! دھرم داس رکھ لو یا کالی چرن، مسعود احمد تو نہ رہے اب تم۔‘‘ وہ خوشی سے دیوانہ ہو رہا تھا اور میں اس کے الفاظ پر غور کر رہا تھا، کیا کہہ رہا ہے، یہ کیوں کہہ رہا تھا، اتنا عرصہ دور رہا تو دل میں یہ خیال پیدا ہو گیا تھا کہ اب اس سے جان چھوٹ گئی جو ذمہ داری مجھے دی گئی ہے اگر اسے پورا کر لوں تو شاید اس کرب کی زندگی سے نجات پا لوں مگر … اور اب اسے برا بھلا کہہ لوں تو کیا ملے گا۔ کم از کم معلومات ہی حاصل کروں، کچھ سمجھ میں ہی آئے۔
‎’’تم کس مقصد میں کامیاب ہوئے ہو بھوریا چرن۔‘‘
‎’’ہا…بھاگ ہوتے ہیں منش کے شنکھا بنے تو من میں آئی کہ کھنڈولے بنیں مگر بھاگ میں نہیں تھا، ملا بھی تو تم جیسا پاگل دھرم کے پیچھے بھاگنے والا، ارے پاپی تو دھرم داس بننے تو نہیں آیا تھا، ہمارے پاس برے کاموں کے لیے ہی تو آیا تھا ریس کے گھوڑے، سٹے کے نمبر، دولت کے انبار، ابلائوں کی قربت یہی سب مانگنے آیا تھا تو ہم سے، ہم نے کب منع کیا تھا تو ہمارا کام کر دیتا تو ہم تجھے وہ دیتے کہ جیون بھر مزے کرتا، دھرم ضرور بھرشٹ ہوتا تیرا مگر دھرم داس تو ہی بتا کیا تیرے ہی دھرم میں یہ سب جائز ہے ریس میں دوڑے ہوئے گھوڑوں کے کھیل سے جو دولت ملتی ہے وہ نیک کمائی ہے پھر تیرے من میں نیکیاں کیوں پھوٹ پڑیں… ہمارا ستیاناس مار دیا تو نے اور اس کے بعد جو کچھ تو کرتا رہا وہ مرے پر سو درے تھے، طرح طرح کے لوگوں سے دہائی دی تو نے اور ہمیں نقصان پہنچایا، تو کیا سمجھتا تھا چھوڑ دیتے ہم تجھے۔‘‘
‎’’تو تم میرے پیچھے لگے رہے۔‘‘ میں نے کہا۔
‎’’پہلے تو یہی سوچا تھا ہم نے کہ ایک دن راستے پر آ جائے گا مگر اس مُسلے نے کھیل بگاڑ دیا۔‘‘
‎’’کس نے…؟‘‘ میں نے پوچھا۔
‎’’ارے اسی فضل نے۔‘‘
‎’’بابا فضل کی بات کر رہے ہو۔‘‘
‎’’ہاں اس نے جیون دان دے کر تیری رکھشا کی نہ صرف رکھشا کی بلکہ بلکہ…!‘‘
‎’’بلکہ…؟‘‘ میں نے رندھی ہوئی آواز میں پوچھا۔
‎’’رستے کھول دیے تیرے تو نے جو گناہ کئے تھے اپنے دھرم کی نگاہ میں اس نے انہیں دھونے کے لیے اپنی قربانی دے دی اور تو بچ گیا، تیری گھٹنائیں دور ہونے لگیں مگر ہمارے لیے مشکل پیدا ہو گئی۔‘‘
‎میرے حلق میں گولا سا آ پھنسا۔ بڑا روح فرسا انکشاف تھا، بابا فضل نے میری مشکلات دور کرنے کے لیے جان کا نذرانہ دیا تھا، اتنا بڑا ایثار کیا تھا انہوں نے اتنا بڑا ایثار… بھوریا چرن میری کیفیت سے بے نیاز بولا۔
‎’’ہماری بھی کچھ مشکلیں ہوتی ہیں، کچھ بھید بھائو ہوتے ہیں اگر تو مہان بن جاتا اگر تیرے ہاتھوں کالے جادو والوں کو نقصان پہنچتا تو وہ ہمارے حساب میں لکھا جاتا۔ ہمیں جواب دینا ہوتا اس کا اور ہمارے درجے کم ہوتے جاتے۔ مصیبت گلے پڑ گئی تھی ہمارے تو، لینے کے دینے پڑ گئے تھے، اپنا کام بھولنا پڑا تیری تاک میں لگے رہے، تجھے دیکھتے رہے، تیرے راستے روکنے تھے ہمیں اور ہم کامیاب ہو گئے۔ چولہے میں جاگھسی تیری مہانتا۔‘‘ وہ پھر ہنس پڑا۔


‎وہ کیسے بھوریا چرن۔‘‘ میں نے خود کو سنبھال کر پوچھا۔
‎’’بتائیں گے سسر۔ سب کچھ بتائیں گے، تجھے بھی تو کچھ دکھ ہو، تو بھی تو ہماری طرح کلسے۔‘‘
‎’’بتائو بھوریا چرن۔‘‘
‎’’دیوتا بن رہے تھے مہاراج مہان پرش بن رہے تھے، سنسار کو دکھوں سے دور کرنے جا رہے تھے، اپنے دین دھرم کے بارے میں کچھ جانتے ہو۔‘‘
‎’’تم جانتے ہو…؟‘‘
‎’’کیوں نہیں ہمیں سب سے پہلے دشمنوں سے ہوشیار رہنے کی سکھشا دی جاتی ہے اس کے لیے دوسرے دھرموں کے بارے میں جاننا ہوتا ہے۔‘‘
‎’’میرے دین کے بارے میں تم کیا جانتے ہو؟‘‘
‎’’جتنا جانتے ہیں وہ تجھ سے زیادہ ہے۔ تیرے دھرم میں ایک نکتہ ہے، سب سے بڑی چیز ایک نکتہ ہے۔‘‘
‎’’وہ کیا…؟‘‘
‎’’ساری ہم سے پوچھ لے گا کیوں بتائیں تجھے۔‘‘
‎’’اس لیے کہ تم نے میرے دین کو جاننے کا دعویٰ کیا ہے۔‘‘ میں نے کہا۔
‎’’ہاں ہم جانتے ہیں نکتے کی بات بالکل ٹھیک کہی ہم نے، تیرے دھرم میں واسنائوں کی گنجائش نہیں، نفس کی موت کو پہلا درجہ حاصل ہے اور جو نفس کے جال میں پھنسا ڈوب گیا، تجھے ڈبونا ضروری ہو گیا تھا ہمارے لیے دھن کے چکر سے تو نکل گیا، سندر ناریاں تجھے متاثر نہیں کر سکتی تھیں اور ہمارا کام اس سمے تک نہیں بن سکتا تھا جب تک تو ایسے کسی پھیر میں نہ پڑے۔ سو ہم لگے رہے تیری تاک میں اور موقع مل گیا ہمیں، بڑا دین دیال بنا ہوا تھا تو اور لوگوں کے بڑے کام آ رہا تھا، ہم نے حساب کتاب لگایا اور کام میں مصروف ہو گئے، بائولے وہ مٹکا جو تجھے درخت کی جڑ میں نظر آیا تھا کسی کا دبایا ہوا خزانہ نہیں تھا وہ تو ہم نے سونے کی مہروں سے بھر کر وہاں گاڑ دیا تھا سو تجھے وہ نظر آ گیا، وہیں پر ہمارا کام بن گیا، تو وہ نکتہ بھول بیٹھا، تجھے بتایا گیا تھا یاد ہے نا تجھ سے کہا گیا تھا کہ پہلا کام انسانوں کے کام آنا ہے، دوسرا کام اپنے نفس کو مار کر اپنی منزل کی تلاش۔ اس کے بغیر مہانتا مکمل نہیں ہوتی، اگر تو اپنی خواہشوں کے جال میں پھنس گیا تو کچھ نہیں حاصل کر سکے گا اس سنسار میں۔ بول یہی بتایا گیا تھا ناں تجھے سو یوں ہوا کہ تو نے دیکھا اس آدمی الیاس خان کو اور تجھے یاد آ گئے اپنے ماماجی۔ ارے ہم نے سوچا کہ اس سے بڑھیا موقع ملنا تو ممکن ہی نہیں ہے۔ ماما جی کے پھیر میں تو لمبے سے لمبے پھیر میں پڑ سکتا ہے اور بات بن گئی بھیا ہماری۔ سونے کا وہ مٹکا تو نے الیاس خان کو دے دیا اس لیے کہ وہ تیرے ماما جی کا پتا تجھے بتا دے، بس کام تو وہیں سے ہو گیا تھا ہمارا۔ تو خود سوچ دھرتی تو بہت بڑی ہے نہ جانے کتنے خزانے بھرے ہوئے ہیں اس دھرتی میں اور سب کے سب آ جاتے تیری آنکھوں میں کیونکہ تجھے آہستہ آہستہ روشنی مل رہی تھی تو تو بہت بڑا بن جاتا بھائی مگر راستے روکنا ہی تھے سو تو نے وہی کیا جو ہم نے چاہا اور نکل گیا تو ان پابندیوں سے جو تجھ پر قائم کی گئی تھیں بس ایک کے بعد ایک، ہمارا کام بنتا رہا اور پھر بن گئے ہم تیرے ماما جی۔
‎’’تم!‘‘ میں خوف سے آنکھیں پھاڑ کر بولا۔
‎’’ہاں رے اس سمے تو یہی سب کچھ کرنا تھا، لگا لائے تجھے اپنے پیچھے ہم اور سب کچھ بھول گیا تو جو کچھ تجھے دیا گیا تھا اسے بھول کر تو پڑ گیا اپنے ماماجی کے پھیر میں، ماتا پتا کے جال میں اور یہی ہم چاہتے تھے اور یہ جگہ اب جہاں تو آیا ہے، کہلاتی ہے بیر منڈل۔ یہاں سارے کے سارے ہمارے بیر رہتے ہیں۔ وہ مکڑیاں جو تیرے ماما جی کی لاش سے چمٹی ہوئی تھیں، تیرا کیا خیال ہے مار دیں تو نے، ارے جا بائولے بیر کہیں مرتے ہیں وہ تو اپنا کام کر رہے تھے ہمارے کہنے سے اور پھر ہم نے وہ خون تیرے شریر میں اتار دیا جو ہم نے سات پورن ماشیاں منتر پڑھ پڑھ کر تیار کیا تھا۔ سترہ آدمیوں کا خون جنہیں ہم نے اپنے ہاتھوں سے مارا تھا اور جن پر سات پورن ماشیاں منتر پڑھا تھا ہم نے، کالے جادو کا وہ سب سے بڑا منتر جس سے بڑا منتر اور کوئی نہیں ہوتا اور جو ایک شنکھا ہی کو معلوم ہوتا ہے بس وہ خون پانی سمجھ کر پی لیا تو نے اور تیرے اندر سے سب کچھ صاف ہو گیا، کچھ نہیں ہے اب تیرے پاس، سمجھا، تو ایک کورے مٹکے کی طرح ہے جو اندر سے خالی ہے اور کورا ہے۔ یقین نہ آئے تو آزما لے اپنی کسی بھی بات کو۔ ارے پاگل تیری ساری تپسیا ایک لمحے میں ختم ہو گئی، اس طرح کم از کم ہمارا ایک کام تو بنا، ایک کام سے تو فارغ ہوئے ہم، نہ تو اپنے دھرم کا رہا اور نہ اس سنسار کا… اب جا بھاڑ چولہے میں ہمارا کام کر دیتا تو بہت کچھ مل جاتا، نہیں کیا تو ہمارا کیا بگاڑ لیا ہم شنکھا تو ہیں نا مگر تو کیا ہے، تو کیا رہ گیا اب اگر کہے تو کتا بنا کر باہر نکال دیں تجھے یہاں سے۔ بول کیا کریں تیرے ساتھ…؟‘‘ میں بھوریا چرن کو دیکھتا رہا جو کچھ اس نے بتایا تھا، دل میں اتر رہا تھا۔ کمبخت اپنے مقصد میں کامیاب ہو گیا تھا، نہ جانے کیا کیا جتن کئے اس نے اپنے کام کے لیے اور یہ ایک حقیقت ہے کہ اس کا کہنا بالکل درست تھا۔ ایک نکتہ صرف ایک نکتہ ہی تو اصل حیات ہوتا ہے۔ بڑے بڑے عالم دین، بڑے بڑے ولی، درویش، قلندر اپنے آپ کو تیاگ کر کچھ حاصل کرتے ہیں۔ اپنی خواہشوں کے آگے سر جھکا دیا، اپنی محبتوں کے ہاتھوں دیوانے ہو گئے تو پھر کیا باقی رہ گیا۔ عام انسان بھی تو یہی سب کچھ کرتا ہے۔ میرا تو آزمائشی دور تھا اور میں اس امتحان میں نامکمل رہ گیا۔ میں نے وہ نعمتیں ٹھکرا دیں جو مجھے دی گئی تھیں، اتنی ساری نعمتیں دے کر صرف ایک ہدایت کی گئی تھی مجھے کہ اپنی خواہشوں کا غلام نہ بنوں، وہ نہ مانگوں جن کا دینا ابھی آسمانوں میں منظور نہیں ہوا ہے لیکن کر ڈالا میں نے وہ سب کچھ ماموں ریاض کے چکر میں پڑ کر وہ کمبل بھی وہیں چھوڑ آیا جس نے میری آنکھوں کو روشن کر دیا تھا، جس نے میرے دل و دماغ کو منور کر دیا تھا۔ بھوریا چرن قہقہے لگانے لگا۔ پھر بولا۔
‎’’اور اب جا مر اس سنسار میں۔ جا دیکھوں آگے تو کیا کرتا ہے، چھوڑوں گا نہیں تجھے پاپی، ہتھیارے تو نے میرے راستے روکے ہیں، میں سنسار کے سارے راستے تجھ پر بند کر دوں گا، چل بھاگ رے یہاں سے اب تو مٹی کا ڈھیر ہے میرے لیے کچھ نہیں رہا۔‘‘
‎میں گردن جھکائے وہاں سے واپس پلٹ پڑا۔ اندر سے یہ احساس ہو رہا تھا کہ درحقیقت خالی ہو چکا ہوں اور اب کچھ نہیں ہے میرے پاس۔ ایک بار پھر یہ دنیا میرے لیے امتحان گاہ بن گئی تھی اور اس بار میں نے خود کو اس امتحان میں ڈالا تھا، بلاشبہ یہی ہوا تھا یہی سب کچھ ہوا تھا آہ… میں نے اپنے ہاتھوں اپنے منصب گنوا دیئے تھے، یہ میرا گناہ تھا صرف میرا گناہ اس میں کسی کا قصور نہیں تھا، مجھے تو جگہ جگہ سمجھایا گیا تھا، مجھ سے کہا گیا تھا کہ پہلے پھل چکھوں پھر کھانے کو ملے گا۔ بھوریا چرن نے بالکل درست کہا تھا میرا مذہب سچا ہے، انہیں چھوٹ ہے جو کچھ نہیں جانتے لیکن جو واقف ہوں ان پر ذمہ داری ہوتی ہے۔ مجھے بتایا گیا تھا مگر میں نے اپنی خواہشوں کو اوّل قرار دیا، اس بار سارے راستے کھلے ہوئے تھے۔ میں باہر نکل آیا۔

تمام اردو کہانیاں پڑھنے کے لیے کلک کریں 

کالا جادو - پارٹ 13

Urdu stories online, Urdu stories for kids, Short Urdu stories, Urdu Kahaniyan, Famous Urdu stories, Urdu stories with moral, Best Urdu stories collection, Urdu stories for students, Urdu love stories, Urdu horror stories, Urdu stories for reading, Urdu stories in Urdu text, Funny Urdu stories, Urdu stories for beginners, Urdu detective stories, Urdu motivational stories, Urdu stories for adults, Urdu moral stories, Urdu stories for children, Urdu true stories, Urdu suspense stories, Urdu emotional stories, Urdu adventure stories,

hindi moral stories in urdu,سبق آموز کہانیاں, jin-ki-dushmni,good moral stories in urdu,Moral Stories,Urdu Stories,urdu kahani,اردو کہانی,قسط وار کہانیاں,
Reactions