Urdu Novels PDF - Urdu Novels Online
| قسط وار کہانیاں |
جوگی - قسط نمبر7
رائیٹر :انور صدیقی
وہ مجھے اپاہج کرنے کی خاطر میرا ہاتھ پیر کاٹنے کی بات کر رہے تھے۔ میری جگہ آپ ہوتے تو شاید زندگی پر موت کو ترجیح دینے کی جرات آپ میں بھی نہ ہوتی، صرف باتیں کرنا اور مذہب کے نام پر جان دینے کی قسمیں کھانا دیگر بات ہے عام حالات میں انسان دوسروں کے سامنے بڑی بڑی باتیں کرتا ہے، لمبے چوڑے دعوے کرنا ہے لیکن کتے جیسے جانور کے بھونکنے کی آواز سن کر خوفزدہ ہو جاتا ہے۔ ایک ذرا خراش آ جائے تو تڑپ اٹھتا ہے، بلبلانے لگتا ہے۔
میرے اوپر چار چار آدمیوں نے مل کر جو تشدد کئے اس کی تفصیل بڑی ہولناک اور ناقابل بیان ہے۔ میں آخری وقت تک ثابت قدم رہا لیکن جب ان ظالموں نے مجھے نشان عبرت بنانے کی خاطر میرے ہاتھ پاؤں کاٹنے کی بات کی تو میرے قدم لڑکھڑا گئے۔ میں نے سیتارام سے سمجھوتا کر لیا اور اب میرے نامہ اعمال میں تین انسانوں کا قتل لکھا جا چکا تھا میں نے جو کچھ کیا وہ بحالت مجبوری کیا۔ قدموں کے نیچے دبا ہوا کوئی حقیر کیڑا بھی زندگی بچانے کی خاطر اپنے سے ہزار گنا بڑے انسان کو کاٹ لیتا ہے۔ میں بھی ان کے جور و ستم برداشت نہ کر سکا سیتارام نے میرے جسم میں کوئی شیطانی روح پھونکی تو انتقام کے شعلے اچانک بھڑک اٹھے میں نے جوش میں ہوش سے کام نہیں لیا اور تین انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا، انسپکٹر واحد گواہ رہ گیا تھا میں اسے بھی اس کے کئے کی سزا دینا چاہتا تھا لیکن سیتارام درمیان میں آگیا۔ اس کا مشورہ شاید ٹھیک ہی تھا۔ انسپکٹر بھی جہنم رسید ہو جاتا تو میرا شمار بھی مفرور مجرموں کی فہرست میں کیا جاتا لیکن میں محفوظ تھا قانون کے جو محافظ مجھے حوالات سے نکال کر لے گئے تھے وہی واپس بھی لائے تھے۔ انہوں نے جو کچھ کیا تھا وہ بھی قانون کے خلاف تھا۔ وہ زبان نہیں کھول سکتے تھے، چپ رہنے پر مجبور تھے شاید یہی بات انسپکٹر کو الجھا رہی تھی۔ وہ غالباً اپنے اوپر والوں کو میری وحشت کی کہانی سنا رہا ہو گا۔ دوسری جانب سے اس کی کہانی کو جھٹلایا جا رہا ہو گا ایسا بھلا کیسے ممکن ہو سکتا تھا کہ ایک ایماندار مجرم جس پر مستقل جبر و تشدد کیا گیا ہو، جو ہتھکڑی بیٹی میں جکڑا ہوا ہو اس کے ایک اشارے پر لوہے کے پکے جوڑ اور موٹے موٹے تالے کڑ کڑا کر ٹوٹ گئے ہوں کے حکم سے تین جرائم پیشہ افراد نے خود اپنے ہاتھوں سے اپنی زندگی کے چراغ گل کر لیئے ہوں، اپنے گلے پر چھری پھیر لی اپنے آپ کو گولی مار کر ہلاک کر لیا ہو۔ وہ انسپکٹر کے بیان کو اس کے دماغ کا خلل قرار دے رہے ہوں گے لیکن جب تصدیق کے طور پر انہیں تین لاشوں کا بھیانک ثبوت ملے گا تو ان کے دماغ کی ساری پولیس بھی ہل کر رہ جائیں گی۔ ممکن ہے وہ ان تین لاشوں کو میرے بجائے انسپکٹر کے کھاتے میں ڈال کر اسے پھانسی پر لٹکا دیں، عملے کے دوسرے افراد بھی عمر قید کی سزا بھگتنے پر مجبور کر دیئے جاتے لیکن حقیقت وہی تھی جو انسپکٹر کی زبان اگل رہی تھی۔ میں بھی اپنے قاتل ہونے کا بذات خود چشم دید گواہ تھا، میرے ذہن میں طوفان اٹھ رہا تھا، میں ایمانداری کے دائرے سے نکل کر قاتلوں کی صف میں کھڑا ہو گیا تھا ان کے پاس کوئی ثبوت نہیں تھا لیکن میرا ضمیر مجھے ملامت کر رہا تھا، میرے کردار کی عدالت مجھے مجرم قرار دے رہی تھی، میں نے کوئی بے ایمانی نہیں کی تھی۔ جوگی سیتارام کی پر اسرار اور ناقابل یقین شیطانی قوتوں نے میرا ساتھ نہ دیا ہوتا تو میں ناکام ہو جاتا وہ کامیاب ہو جاتے۔ لڑائی کے میدان میں بھی ایک کی جیت اور دوسرے کی ہار ہوتی ہے۔ میرے ساتھ بھی ایسا ہوا۔ میں بازی ہارتے ہارتے جیت گیا تھا۔ تین انسانوں کے خون کے دھبے میرے دامن پر موجود تھے لیکن میں پولیس کی تحویل میں حوالات میں بند تھا۔ سنگین بردار پہرے دار ڈیوٹی پر تعینات تھے۔ مجھے انصاف کی عدالت میں قاتل قرار دینا ان کے لئے ناممکن ہی تھا ساری باتیں میرے حق میں تھیں۔
میں دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھا خود اپنا احتساب کر رہا تھا جب جوگی سیتارام کی آواز
پھر میرے کانوں میں گونجی۔
کن جھمیلوں میں الجھ رہا ہے مورکھ! جو کچھ ہوا وہی بھوش میں لکھا تھا اور منش
بھوش کے لکھے کو کبھی ٹال نہیں سکتا۔"
لیکن اب کیا ہو گا؟ میں نے بے چینی سے دریافت کیا۔
اب بھی وہی ہو گا جو بھوش لکھا جا چکا ہے۔" جوگی کی آواز میں اطمینان تھا۔ ”میں نے تجھ سے کہا تھا نا بالک! کہ یہ سنسار ایک گورکھ دھندا ہے، اس کی اونچ نیچ ابھی تیری بدھی (عقل) میں نہیں آئے گی، ابھی تو تجھے بڑے پاپڑ بیلنے ہوں گے۔" میری سزا کب پوری ہو گی؟" میں نے جھلا کر پوچھا۔ تو دھرم کرم کے چکروں میں الجھ کر ڈگمگانے لگا۔ سیتارام کی آواز نے کہا کس سزا کی بات کر رہا ہے؟ دوشی تو وہ ہیں جنہوں نے تجھے اس نرکھ میں جھونک دیا لیکن اب سمے پلٹ گیا ہے اب
↑
میں تیرے ساتھ ہوں۔ اب وجے (جیت) تیری ہو گی، انہیں اپنے کئے کی سزا بھو گنی پڑے گی۔ بس ایک رات اور بیتا لے اس کے بعد تیری ساری کٹھنائیاں دور ہو جائیں گی۔" جوگی سیتارام نے غلط نہیں کہا تھا۔ دوسرے دن مجھے عدالت میں پیش کیا گیا تو پولیس کے اپنے پیشہ ور گواہ سابقہ بیان سے منحرف ہو گئے۔ تحمل بخاری کی جگہ جو دوسرا آفیسر کیس بھگتا نے آیا تھا وہ بھی بو کھلا گیا۔ گواہوں کے منحرف ہونے کے بعد مجھے باعزت طور پر بری کر دیا گیا۔ مجھے فاضل مجسٹریٹ کی بے بسی پر ہنسی آگئی۔
میں بری ہونے کے بعد اپنے اپارٹمنٹ پر پہنچا تو وہاں کسی اور کا قبضہ تھا، لوگ مجھے نفرت بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے، مجھے جھوٹے مقدمے میں ملوث کیا گیا تھا لیکن میرے پاس پڑوس میں رہنے والوں کی نگاہوں کا زاویہ بدل چکا تھا، میں بے یار و مددگار رہ گیا تھا۔ میں بوجھل بوجھل قدموں سے نیچے آیا تو جھرنا سامنے گاڑی میں موجود تھی، میں نے کترا کر گزر جانا چاہا لیکن اس نے گاڑی سے نیچے اتر کر میرا راستہ روک لیا۔ میں ایک ضروری کام سے کچھ دنوں کے لئے ڈھاکہ سے باہر گئی ہوئی تھی، مجھے تمہارے حالات کا علم نہیں تھا۔ " اس نے میری آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا۔ "میں
یہاں ہوتی تو تمہاری مدد کو ضرور آتی۔" " تم نے مجھے اب بھی پہچان لیا یہ بھی میرے لئے کسی اعزاز سے کم نہیں۔ " میں نے زہر خند سے جواب دیا۔
مجھے خوشی ہوئی کہ تم نے آپ کہنا چھوڑ دیا۔" وہ میرے طنز کو نظر انداز کر کے مسکرائی پھر میرا ہاتھ تھام کر گاڑی میں بٹھا دیا۔ میں چاہتا تو انکار کر سکتا تھا لیکن میں نے ایسا نہیں کیا۔ مجھے کسی سہارے کی ضرورت تھی، قدم جما کر کہیں سکون سے بیٹھ کر میں اپنے مستقبل کے بارے میں غور کرنا چاہتا تھا۔ گاڑی چلنی شروع ہوئی تو میں نے سنجیدگی سے پوچھا۔
ہم کہاں جا رہے ہیں؟ ۔ میرا مطلب ہے کہ شاید اب کرنل مجھے تمہارے
ساتھ دیکھ کر کسی مسرت کا اظہار نہیں کرے گا۔" میں تمہیں اپنی کوٹھی پر نہیں لے جارہی۔" وہ معنی خیز انداز میں مسکرائی۔ "مجھے واپس آتے ہی تمہارے حالات کا علم ہو گیا تھا، میں آج صبح تھانے بھی گئی تھی مگر تمہیں عدالت میں لے جایا گیا تھا میں نے تمہارے اپارٹمنٹ پر آکر تمہارا انتظار کرنا چاہا لیکن یہاں بھی حالات تبدیل ہو چکے تھے۔"مجھے ملازمت سے معطل کیا جا چکا ہے۔" میں نے اسے حالات کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا۔ ”میرے ساتھ جو کچھ ہوا وہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ہوا لیکن میں اس حقیقت سے انکار نہیں کروں گا کہ غلطی کی ابتدا بخاری کی طرف سے ہوئی تھی، میں
بھی اس کی لپیٹ میں آگیا۔" میں تفصیل جان چکی ہوں۔" اس نے لاپرواہی سے کہا۔ ”بخاری کو اس کے کئے کی سزا بھی مل گئی۔" " تم نے شاید رحیم الدین سے ایک بار پہلے بھی میری سفارش کی تھی۔ " میں نے اسے یاد دلانے کی کوشش کی۔ عدالت سے باعزت بری ہونے کے بعد قانونی طور پر میری ملازمت ختم نہیں کی جا سکتی، تمہارا صرف ایک فون میں تمہارا مطلب سمجھ رہی ہوں مگر شاید اب وہ تمہارے وجود کو برداشت کرنے
پر آمادہ نہ ہو۔" وہ ایسا نہیں کر سکتاکہ " میں نے ٹھوس آواز میں بڑے یقین سے کہا۔ اب اسے میرے معاملے میں اپنے آپ کو بدلنا ہو گا۔" میرے لہجے میں اعتماد تھا اور اس اعتماد کی پشت پر جوگی سیتا رام کی مادر ائی قوتیں شامل تھیں میں جس کے ساتھ سمجھوتا کر چکا تھا۔ اب تمہیں ملازمت کرنے کی کیا ضرورت ہے؟؟؟ اس نے لا پرواہی سے جواب دیا۔میں سمجھا نہیں؟ میں نے جھرنا کو وضاحت طلب نظروں سے دیکھا اس کے گداز ہونٹوں پر لاپرواہ مسکراہٹ کھیل رہی تھی، اس مسکراہٹ میں ایسا سحر تھا کہ میں اس کے چہرے سے نظریں نہ ہٹا سکا۔ اس کے لباس سے پھوٹنے والی مسحور کن خوشبو میرے وجود کو گر گرانے لگی، وہ کل بھی سراپا قیامت تھی، آج بھی اس کے حسن کی دلکشی میں وہ مقناطیسی کشش موجود تھی جو جنس مخالف کو مدہوش کرنے کے لئے بڑا مؤثر کردار ادا کرتی میری نظریں اس کے لباس پر سرسرانے لگیں، اس کے جسمانی نشیب سے میرے جسم پر چیونٹیاں رینگنے لگیں، پہلی بار خود جھرنا نے میری طرف میں مجبوراً حالات کا شکار ہو گیا۔ آج وہ ایک شان بے نیازی سے
ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھی سڑک کی جانب متوجہ تھی اور میں اس کی طرف کھنچا چلا جا رہا تھا۔ اس کا قرب مجھے اکسا رہا تھا، میں اس کی آغوش میں گم ہو کر ان صعوبتوں کو بھول جانا چاہتا تھا جس نے میرے دل و دماغ پر کوئی اچھا اور خوشگوار اثر نہیں ڈالا تھا میں نے بے تکلفی سے اس کی جانب کھسک کر اس کی گردن میں بانہیں ڈال دیں، وہ کسمسا کر بولی۔ " یہ شاہراہ عام ہے آذر! کوئی دیکھ لے گا۔ تمہیں کس کا خوف ستا رہا ہے؟ میں نے چبھتے ہوئے لہجے میں سوال کیا۔ کرنل
کا یا کسی دوسرے واقف کار کا؟"
میں کسی سے نہیں ڈرتی۔" وہ میرے جملے کی ساخت پر تلملا اٹھی۔ پھر گاڑی میں کہیں فٹ پاتھ سے ملا کر کھڑی کر دو۔" میں نے اسے چھیڑنے کی خاطر کہا۔ " جو ہو گا دیکھا جائے گا۔" " مجھے خوشی ہے کہ اب تم زندگی کی طرف واپس لوٹ رہے ہو۔" اس نے ترکی بہ ترکی جواب دیا۔ ”اس روز کرنل کی کوٹھی کے مخصوص نگار خانے میں تم کو کیا ہو گیا تھا؟“ میں نے لاجواب ہو کر اسے بازوؤں میں سمیٹنے کی کوشش کی تو اس کے ہاتھ اسٹیئرنگ پر پھیلنے لگے، میں نے کسی حادثے کے خوف سے بڑی تیزی سے اپنے ہاتھ کھینچ لئے۔
”موت سے ڈرتے ہو؟" اس نے سنبھل کر کہا پھر بڑے تلخ لہجے میں بولی۔ " مجھے دیکھو میں نے تنہا ہونے کے باوجود کسی محاذ پر شکست تسلیم نہیں کی' صرف ایک بار پسپا ہوئی تھی لیکن اسی پسپائی نے مجھے جینے کا ڈھنگ سکھا دیا اب میں ایک شخص کی غلطی کا انتظام ہر اس شخص سے لے رہی ہوں جو عورت کو پاؤں کی جوتی سمجھتے ہیں۔" میں نے کیا قصور کیا تھا؟" میں نے آہستہ سے پوچھا۔ تمہاری بات اور ہے۔" اس نے شوخی اور بے باکی سے مسکرا کر کہا۔ "تم مجھے پہلی ملاقات میں ہی اچھے لگے تھے۔ "
کیا کرنل کو علم ہے کہ تم کن راستوں رچل رہی ہو؟“
ہو بھی سکتا ہے۔" وہ شانے اچکا کر بولی۔ لیکن مجھے اس کی پرواہ نہیں ہے، شاید کہ وہی میری بربادی کا ذمہ دار ہے۔" میں جھرنا سے چھیڑ چھاڑ کی باتیں کرتا رہا اس کی رفاقت نے میرے ذہن پر طاری
کسلمندی بڑی حد تک دور کر دی تھی۔ میں منٹ بعد اس نے اپنی گاڑی ایک چھوٹے سے خوبصورت مکان کے سامنے رو کی وہ غالباً کوئی کالونی تھی جہاں بے شمار مکانات ایک ہی ڈیزائن کے تعمیر کئے گئے تھے، ان کا رقبہ زیادہ نہیں تھا لیکن تعمیر کے اعتبار سے انہیں خوبصورت کہا جا سکتا تھا۔ جھرنا نے مختصر سے پور ٹیکو میں گاڑی کھڑی کی، میں بھی اس کے ساتھ نیچے اترا اس نے صدر دروازے پر پہنچ کر چابی سے تالا کھولا تو میں نے پوچھا۔ " کیا یہ خوبصورت مکان کسی نے بطور تحفہ دیا ہے؟"
نہیں۔" وہ بڑی سنجیدگی سے بولی۔ "یہ میرا ذاتی مکان ہے۔ جب میں ماڈلنگ کیا کرتی تھی اس وقت میں نے اسے اپنی کمائی سے خریدا تھا، کرنل سے شادی کرنے کے بعد
بھی، میں نے اسے فروخت نہیں کیا۔" میں مکان میں داخل ہوا تو اس کی خوبصورت سجاوٹ اور دیدہ زیب فرنیچر کو دیکھ کر دل باغ باغ ہو گیا۔ مختصر سے ڈرائنگ روم میں جتنی تصاویر موجود تھیں وہ جھرنا کی تھیں، مختلف انداز میں مختلف مصنوعات کے ساتھ وہ تصویریں اس وقت کی یادگار تھیں جب وہ ماڈل تھی، وہ مجھے گھر کا ایک ایک حصہ دکھاتی رہی۔ دو کمروں پر مشتمل وہ مکان ہر اعتبار سے اپنی مثال آپ تھا، وہاں ضرورت کی تمام چیزیں موجود تھیں، ایک کارنر میں فون بھی
رکھا تھا۔
کیا یہ مکان خالی پڑا رہتا ہے؟" میں نے اسے کریدنے کی خاطر پوچھا۔
”ہاں .. لیکن میں ہفتہ میں دو مرتبہ یہاں آکر خود اپنے ہاتھوں سے اس کی صفائی کرتی ہوں اور " وہ یکلخت جذباتی ہو گئی۔ " تم پہلے مرد ہو جس نے اسے اور ..... پوری طرح گھوم پھر کر تفصیل سے دیکھا ہے۔ یہاں آنے والے بزنس مین جو مجھے اپنی پروڈکٹس (Products) کے لئے بک کرتے تھے ، ڈرائنگ روم سے آگے کبھی نہ بڑھ
سکے۔ تمہاری فیملی کہاں رہتی ہے؟" میں نے اسے اندر سے ٹولنا چاہا۔ ”میرا اشارہ تمہارے والدین کی طرف ہے۔“
والد کا انتقال ہو چکا ہے، اسی لئے میں نے موڈلنگ کا پیشہ اختیار کیا تھا۔ " اس نے جواب دیا۔ ”امی زندہ ہے وہ کلکتہ میں رہتی ہے۔"
یہاں کیوں نہیں رہتی؟
اسے کرنل سے میری شادی کا پس منظر معلوم ہو گیا تھا وہ غیرت مند تھی اس لئے یہ دیس ہی چھوڑ کر چلی گئی۔" تم مجھے یہاں کیوں لائی ہو؟" میں نے اسے اداس ہوتا دیکھ کر موضوع بدل دیا۔ میں نے کہا تھا نا کہ تم پہلی ملاقات میں مجھے اچھے لگے تھے۔ " اس نے والہانہ نظروں سے میری طرف دیکھا، بڑی بے تکلفی سے بولی۔ "اگر تم کرنل سے پہلے میری زندگی میں آئے ہوتے تو میں تمہارے سوا کسی اور سے شادی نہ کرتی۔" یہ میرے سوال کا جواب تو نہیں ہے؟" میں نے اس کے چہرے پر پھوٹنے والی
شفق کو محسوس کرتے ہوئے کہا۔ حیرت ہے کہ تم میری بات نہیں سمجھ سکے۔“ اس نے وضاحت کی۔ ”یہ مکان میری ذاتی ملکیت ہے اور تم کو بھی میں غیر نہیں سمجھتی اس لئے جب تک تم ڈھا کہ میں ہو یہیں رہو گے۔"
اور اگر میں انکار کر دوں؟" میں نے سوالیہ نظروں سے گھورا۔
تو مجھے دکھ ہو گا۔ " اس کی آواز میں اس کی زندگی کی تلخیاں گھلی ہوئی تھیں۔ میں اٹھ کر اس کے قریب چلا گیا، میں نے جواب میں اس کے مرمریں ہاتھوں پر اپنی گرفت مضبوط کی تو اس کی آنکھوں میں آنسو جھلملانے لگے، وہ آنسو اس کی عقیدت اور محبت کا اظہار تھے، ان میں خلوص تھا محبت تھی، اپنائیت تھی، میں نے بے اختیار ہو کر اسے اپنی آغوش میں گھسیٹ لیا' اس نے کوئی مزاحمت نہیں کی' اس کی خود سپردگی کا انداز بھی
قیامت تھا۔ کیا کرنل کو اس مکان کا علم ہے؟" میں نے کچھ سوچ کر پوچھا تو وہ مسکرا دی۔ ڈرتے ہو کرنل سے ؟ اس نے بڑے پیار سے کہا، پھر ٹھوس لہجے میں بولی۔ ”ہاں اسے اس مکان کا علم ہے لیکن وہ ادھر کا رخ کبھی نہیں کرتا، یا یوں سمجھ لو کہ اس کی غیرت اس کے پیروں کی زنجیر بن گئی ہے۔ وہ صرف اپنی کو ٹھی یا دوچار بوڑھے کھوسٹ
دوستوں کی حد تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔"
میں تمہاری پیشکش فی الحال قبول کئے لیتا ہوں لیکن... یں تمہاری بات سمجھ گئی۔ " اس نے مجھے بڑی حسرت سے دیکھتے ہوئے کہا۔ تمہاری یہ شرط بھی منظور ہے، جب تمہیں اس سے بہتر کوئی ٹھکانہ ملے تو چلے جانا
وہ میرے ساتھ تین چار گھنٹے گزار کر چلی گئی۔ جاتے جاتے اس نے وعدہ لیا کہ مجھے کسی چیز کی بھی ضرورت پڑے تو اسے فون کرنے سے دریغ نہیں کروں گا اس نے اپنی گاڑی بھی چھوڑنی چاہی لیکن میں نے انکار دیا۔ وہ گلے مل کر دوبارہ آنے کا وعدہ کر کے چلی گئی لیکن اس کے بدن کی خوشبو بڑی دیر تک میرے وجود کو مہکاتی رہی۔
میں دس روز کا تھکا ہوا تھا غسل کر کے لیٹا تو گھوڑے بیچ کر سو گیا۔ مجھے کسی کی مداخلت کا اندیشہ بھی نہیں تھا میں کب تک دنیا و مافیہا سے بے خبر رہا مجھے اس کا اندازہ نہیں لیکن اتنا یاد ہے کہ دوسری بار مجھے اس وقت ہوش آیا جب کسی کے قہقہوں کی آواز میرے وجود کے سناٹے میں گونجتی سنائی دی، میں ہڑبڑا کر اٹھا، ہر طرف گھپ اندھیرا تھا نے تیزی سے اٹھ کر لائٹ آن کی روشنی کے باوجود وہاں کوئی نظر نہیں آیا لیکن وہ آواز بدستور سنائی دیتی رہی، وہ اسی دیوانے ملنگ کے بے ہنگم قہقہوں کی آواز تھی جسے میں پہلے بھی سن چکا تھا۔ میں نے پورا مکان چھان مارا کونے کھدروں میں جھانک کر دیکھا لیکن وہ جسمانی طور پر کہیں نظر نہیں آ رہا تھا، صرف اس کے قہقے در و دیوار سے ٹکراتے پھر رہے تھے۔ تم کہاں ہو؟ میں نے اسے سنجیدگی سے پکارا۔ ”میرے سامنے آؤ مجھے تمہاری رہنمائی کی ضرورت ہے۔" میری آواز ابھرتے ہی اس کے قہقہوں کی آواز بند ہو گئی، میں ابھی اس گتھی کو سلجھانے میں مصروف تھا کہ مجھے یہ احساس بڑی شدت سے ہوا کہ خواب گاہ میں میں تنہا نہیں ہوں، میری چھٹی حس گواہی دے رہی تھی کہ وہاں میرے سوا کوئی اور بھی موجود ہے۔ کون ہو سکتا ہے؟ میں نے سوچا میرے ذہن میں فوری طور پر اسی دیوانے مانگ کا تصور ابھرا۔ میں نے پلٹ کر دیکھا تو دل کی دھڑکنیں تیز ہو گئیں، وہ جوگی سیتارام تھا جو فرش پر آلتی پالتی مارے بیٹھا مجھے تیز نظروں سے گھور رہا تھا۔
"تم" میں نے حیرت کا اظہار کیا۔ " تم کب آئے؟"
کیوں؟" اس نے سنجیدگی سے پوچھا۔ ”کیا میرے آنے سے تجھے خوشی نہیں نہیں ہے۔" میں نے سنبھل کر جواب دیا۔ " مجھے عدالت کا فیصلہ سننے کے بعد تمہارا انتظار تھا
میں تیرے ساتھ ساتھ ہی تھا، پر تیری نظریں مجھے نہیں دیکھ سکیں۔" ”میرے دشمنوں نے میرا رہنے کا ٹھکانہ بھی چھین لیا ہے۔" میں نے بے چینی کا
اظہار کیا۔ " مجھےبتا رہا ہے جوگی سیتارام کو جو دھرتی کے نیچے پاتال میں بھی جھانکنے کی مهان شکتی رکھتا ہے۔" اس نے بدستور مجھے گھورتے ہوئے کہا۔ ”چنتا کس بات کی ہے؟ کیا اس سندری نے تو ابھی جس کے کومل شریر سے کھیل رہا تھا، تجھے اپنا سب کچھ نہیں سونپ دیا؟
" میں نے کچھ کہنا چاہا لیکن اس نے میری بات کاٹ دی۔ اس کے ہونٹوں پر بڑی پراسرار مسکراہٹ نمودار ہوئی، اس نے سرسراتے لہجے میں کہا۔ ”وہ جو کچھ کر رہی ہے میرے اشارے پر کر رہی ہے۔ میں نے تجھے رام کرنے کے کارن اس کے مندر شریر کا جال پھینکا تھا۔ اس کے من میں تیرا پریم جگایا تھا۔ یہ مندریاں کیوں ہوتی ہی. اس لئے ہیں کہ منش جات کا من بہلائیں، ابھی تو نے کچھ بھی نہیں دیکھا، جوگی کی آگیا کا پالن کرتا رہے گا تو تیرے پنکھ بھی اڑنا سیکھ لیں گے تو آکاش کی بلندیوں پر تیرتا پھرے گا اندر کے اکھاڑے کی سیر کرے گا جہاں اپسرائیں تیرا من بہلائیں گی۔" میں نے تم سے جو وعدہ کیا تھا وہ مجھے یاد ہے لیکن میں کب تک تمہارا ہاتھ پکڑ کر
چلتا رہوں گا؟ میں نے پہلو بدل کر سوال کیا۔ جب تک سیتارام کو تیری ضرورت ہے تو کہیں ادھر اُدھر نہیں جا سکے گا۔" وہ سرسراتے لہجے میں بولتا رہا۔ ایک بات گرہ سے باندھ لے اس سنسار میں کیول ان کو زندہ رہنے کا ادھیکار ہے جو مہان شکتی پراپت کر لیتے ہیں، منش کے بازو میں شکتی نہ ہو اس کی آنکھوں سے بھڑکتے ہوئے شعلے نہ نکلتے ہوں تو کوئی اس کے سامنے ڈنڈوت (سجدہ) نہیں کرتا، سب شکتی کا کھیل ہے بھولے ہاتھ ۔ سیتارام کے کے پر چلے گا تو کندن بن جائے گا۔ دو چار جاپ منتر کر لے گا تو تو بھی بلوان بن جائے گا،
سیتا رام اپنے دھرم اور دیوی دیوتاؤں کی بات کر رہا تھا، میں نے اس سے وعدہ نہ کیا ہوتا تواسے اٹھا کر گھر سے باہر پھینک دیتا اسے بتاتا کہ میں ایک کٹر مسلمان ہوں حالات
کی بھنور میں پھنس کر میرے قدم ڈگمگا ضرور گئے تھے، مجھے اپنے ناکردہ گناہوں کی بڑی سخت اور از متناک سزائیں بھی بھگتنی پڑی تھیں لیکن میں نے اپنے مذہب سے منہ نہیں پھیرا تھا۔
پھر الجھ گیا دھرم کرم کے چکروں میں؟" سیتارام نے مجھے تیز نظروں سے گھورا۔
" مجھے ابھی تک تیری نیت میں کھوٹ نظر آ رہا ہے، یاد رکھ مور کھ! اگر تو نے اپنا دیا ہوا و چن توڑنے کی بھول کی تو میں ایسا سراپ دوں گا کہ تیرے پرکھوں کی آتمائیں بھی بیاکل ہو جائیں گی، میں نے تجھ سے کہا تھا نا کہ میں من کا حال جاننے کی شکتی بھی رکھتا ہوں اور و تو مجھے گھر سے اٹھا کر باہر پھینکنے کا وچار کر رہا ہے. اپرادھی۔" میں نے خود کو تیزی سے سنبھالا میں اس کی ماورائی قوتوں کا کرشمہ دیکھ چکا تھا۔ تم مجھے غلط مت سمجھو۔" میں نے بات بنانے کی کوشش کی۔ " تم نے مجھ پر جو
احسان کیا ہے وہ میری ذات پر قرض ہے لیکن ...
لیکن ولیکن نہیں چلے گی سیتارام کے ساتھ ۔ " اس نے بگڑے ہوئے تیور سے کہا۔ تو نہیں جانتا، میں نے تجھے کھوجنے کے لئے کتنے جتن کئے ہیں۔ تو نے وچن نہ دیا ہو تا تو اور بات تھی پر نتو اب اگر تو نے چھل کپٹ سے کام لیا تو تیرے حق میں اچھا نہیں ہو گا۔" میں سیتارام کی قوت کا تماشہ دیکھ چکا تھا، میرے لئے اس سے بگاڑ کرنا مناسب نہیں تھا مجھے یہ بھی خیال تھا کہ جب میرے دشمنوں کی تین لاشیں برآمد ہوں گی تو چاروں طرف کہرام مچ جائے گا وہ خاموش نہیں بیٹھیں گے ، انسپکٹر اور تھانے کے آن ڈیوٹی عملے کو بھی ایک ایک کر کے کریدا جائے گا کسی نے زبان کھول دی تو وہ پھر بھو کے گدھ کی مانند مجھ پر ٹوٹ پڑیں گے۔ گواہ منحرف نہ ہوئے ہوتے تو میں اس وقت بھی کھلی فضا میں سانس نہ لے رہا ہوتا۔ جو کچھ ہوا تھا وہ ناقابل یقین ہی تھا۔ سیتارام کی قوت میرا ساتھ نہ دیتی تو میرا انجام بھیانک ہی ہوتا۔ میں تیرے من کی کھل بل دیکھ رہا ہوں۔" اس نے ٹھوس لہجے میں کہا۔ "میرا کہا مان لے مورکھ نہیں تو اس دھرتی پر تجھے کہیں ٹانگ پیارنے کی جگہ نہیں ملے گی، سارا حسن کانٹوں پر لوٹ لوٹ کر بیتا دے گا۔"
میرا دل گواہی دے رہا تھا کہ وہ جو کچھ کہہ رہا ہے غلط نہیں ہو گا، اگر وہ اپنی ماورائی کے ذریعے مجھے موت کے منہ سے نکال سکتا تھا، میرے جسم میں کوئی شیطانی روح
پھونک سکتا تھا تو اس کا ایک اشارہ مجھے دوبارہ پھانسی کے پھندے تک بھی پہنچا سکتا تھا۔ میرے پاس اس کی بات پر عمل کرنے کے سوا اور کوئی راستہ بھی نہیں تھا۔
"سیتارام" میں نے نرم لہجے میں اسے مخاطب کیا۔ ”میں اپنے وعدے سے پیچھے نہیں ہٹ رہا تم نے میرے ساتھ جو سلوک کیا میں اس کے لئے بھی تمہارا شکر گزار ہوں۔ میرے اوپر جو بیتی ہے وہ تم بھی جانتے ہو، مجھے ملازمت سے معطل کیا گیا، میرا سر چھپانے کا ٹھکانہ بھی چھن گیا، تمہاری وجہ سے جھرنا میرا ساتھ نہ دیتی تو میں اس وقت کسی فٹ پاتھ پر بھٹک رہا ہوتا۔ میری ملازمت کا بھی کوئی یقین نہیں ہے، رحیم الدین بڑا کیکر آدمی ہے، وہ مجھے آسانی ۔ سے" شانت ہو جا بالک!" جوگی سیتارام معنی خیز انداز میں مسکرا کر بولا۔ ”میں جان گیا تو کیا چاہتا ہے۔ بس اب کوئی چنتا مت کر اٹھ کر مہان جوگی کا ہاتھ تھام کر آنکھیں موند لے میں تیرے من کی ساری آشاؤں کو پورا کر دوں گا، دھن دولت تو ہاتھ کا میل ہے میں تجھے بتاؤں گا کہ جو مہان شکتی کے مالک ہوتے ہیں ان کے لئے کوئی کام کٹھن نہیں ہوتا، میں تجھے کندن بنا دوں گا۔ کندن تو بھی کیا یاد کرے گا کہ کسی گرو سے پالا پڑا تھا۔"
میں ایک بات اور جاننا چاہتا ہوں۔" میں نے غیر اختیاری طور پر پوچھ لیا۔ "کیا
ابھی کچھ دیر پہلے تم ہی قہقہہ لگا رہے تھے ؟" سیتا رام کے چہرے پر ایک رنگ آکر گزر گیا، تیوری چڑھا کر بڑے سرد لہجے میں بولا۔ "مجھ سے ٹھٹھول کر رہا ہے؟" میری بات کا یقین کرو۔" میں نے سنجیدگی سے کہا۔ "تمہارے آنے سے پیشتر میں کسی کے قہقہوں کی آواز سن رہا تھا، میں سمجھا کہ شاید تم ہی ہو گے۔" نہیں وہ میں نہیں تھا لیکن میں سمجھ رہا ہوں کہ وہ کون ہو گا۔ " اس نے
خلا میں گھورتے ہوئے بدستور سنجیدگی سے کہا۔
کون ہو گا؟" میں نے اسے ٹٹولنے کی کوشش کی۔
ان چکروں میں سمے برباد مت کر بالک! یہ ابھی تیرے بس کا روگ نہیں ہیں۔ چل
ہاتھ تھام کر آنکھیں موند لے۔" میرے دل میں ایک لمحے کو آیا کہ اس سے پوچھوں کہ مجھے کہاں لے جانا چاہتا
لیکن پھر میں نے اپنا ارادہ ترک کر دیا، خاموشی سے اٹھ کر سیتارام کا ہاتھ تھام لیا پھر جو کچھ ہوا وہ بہت حیرت انگیز تھا۔ سیتا رام کا ہاتھ تھامتے ہی مجھے ایسا لگا جیسے میرے پورے وجود پر لرزہ طاری ہو گیا ہو، میرے ذہن پر شدید غنودگی طاری ہونے لگی۔میں نے خود کو سنبھالنے کی کوشش کی لیکن میرا ذہن آہستہ آہستہ معطل ہو تا چلا گیا، سیتارام کی گرفت میرے ہاتھ پر مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جا رہی تھی۔
میں ہوش میں آیا تو رحیم الدین اپنی خواب گاہ میں بستر استراحت پر تھا میں نے مدھم روشنی میں دیوار گیر کلاک پر نظر ڈالی، اس وقت رات کے دو کا عمل تھا۔ مجھے حیرت ہوئی وہ اپنی خوابگاہ میں بالکل تنہا تھا، اس نے دروازہ بھی اندر سے بند کر رکھا تھا میرے کانوں میں جوگی سیتارام کی سرگوشی سنائی دی۔
”بالک! یہی ہے وہ دشت جس نے بخاری کو اور تجھے جھوٹے کیس میں الجھا کر تیرا پتا صاف کرنے کی گھناؤنی سازش کی تھی۔ بخاری نے تجھ کو جس مخبر کا نام نہیں بتایا وہ بھی اسی کا خاص آدمی تھا۔ اس نے ایک تیر سے دو شکار کھیلے ہیں۔ بخاری بھی اس کے جال میں پھنس کر پر لوک سدھار گیا اور تو بھی چکی کے دو پاٹوں کے بیچ آکر در بدر ہو گیا۔" پر اسرار جوگی کی آواز میرے دل و دماغ کو جھنجھوڑ رہی تھی۔ یہی وہ پاپی ہے جس نے اپنی تجوری میں مایا کا انبار اکٹھا کر رکھا ہے۔ اس کی ساری دھن دولت اسی کے کمرے میں ہے اسی کارن یہ اپنی استری (بیوی) کے ساتھ نہیں سوتا۔ کل اس نے تجھے راستے سے ہٹانے کی خاطر تیری موت کا جال بنا تھا آج یہ تیرے سامنے پڑا چین کی نیند سو رہا ہے۔ سمے اب تیری مٹھی میں ہے، ، تیرے شریر میں پھر وہی شکتی موجود ہے جس کے اشارے پر تو نے اپنے تین دشمنوں کو نرکھ میں جھونک دیا تھا۔ میری بات دھیان سے سن سانپ یا کسی ہتیارے کا سر کچلنا پاپ نہیں ہے، تو اس پاپی سے بھیانک انتقام لینے کے کارن یہاں آیا ہے، اس کے دھن میں سے اپنا حصہ سمیٹ لے، باقی کو آگ لگا دے۔ اس کی ایک سندر پتری (بیٹی) دوسرے کمرے میں سو رہی ہے، جاتے جاتے ایک نظر اسے بھی دیکھ لینا، جھرنا اس کے پاؤں کی دھول بھی نہیں ہے۔ سندر ناریاں منش کا من بہلانے کا کھلونا ہوتی ہیں، تو اس کھلونے سے من بہلا کر اسے بھی موت کی نیند سلا دے، تیرے من کو جبھی شانتی ملے گی جب تو دشمنوں سے اپنا انتقام لے گا۔ یہ سنسار اسی کا ساتھ دیتا ہے جو بلوان ہوتے ہیں۔ تیرے شریر میں دیوی دیوتاؤں کا آشیر باد دوڑ رہا ہے، جوگی سیتا رام کی مہان شکتی بھی تیرے ساتھ ہے کوئی چنتا مت کر، دھرم کرم کو بھول جا ۔ یہ شجھ گھڑی بیت گئی تو تو اپنے دشمنوں سے اپنا انتظام کبھی نہ لے سکے گا۔ اپنے قدم زمین پر گاڑ لے، آج کیول تیرا دانا ہے، اپنے من سے ساری دیدھا دور کر ے۔ یہاں جوگی کی آگیا کا پالن کر، جو تیرے سامنے ٹانگ پسارے پڑا ہے اس کی ٹانگیں پر دے اس کا دھن تیرے زخموں کا مرہم ہے، تیرے شریر میں جو اگنی (آگ) بھڑک رہی ہے اسے اس پاپی کے خون سے بجھائے، اس کی سندر چھو کرمی کے کومل بدن کو اسی طرح روند ڈال جس طرح اس کے کارن تجھے چکی کے دو پاٹوں کے پیچ روندا گیا تھا۔ باقی سب کچھ بھول جا۔ یہ سے بیت گیا تو سارا جیون دھرتی پر اپاہجوں کی طرح ایڑیاں رگڑتا پھرے گا۔ سن رہا ہے مورکھ! مہان جو گی تجھے کیا بھاشن دے رہا ہے کیا پاٹھ
دے رہا ہے؟"
سیتارام کی باتیں میرے پورے وجود میں گونج رہی تھیں۔ مجھے اپنے اندر پھر ای قوت کا احساس ہو رہا تھا جس کے بل بوتے پر میں اپنے تین دشمنوں کو موت کے گھاٹ اتار چکا تھا۔ میری نظریں رحیم الدین کے چہرے پر مرکوز تھیں جو شاندار مسہری پر بنا سکون کی نیند سو رہا تھا۔ میرے اندر لاوا ابلنے لگا، میری آنکھوں سے انتقام کے شعلے لپکنے لگے، میں نے آگے بڑھ کر رحیم الدین کے منہ پر ایک بھر پور تھپڑ مارا تو وہ بوکھلا کر اٹھ بیٹھا۔ مجھے اپنی خواب گاہ میں دیکھ کر اسے یقیناً حیرت ہی ہوئی ہو گی وہ ہاتھ کی انگلیوں سے آنکھیں ملنے لگا۔ شاید اپنے آپ کو یقین دلانا چاہتا تھا کہ وہ کوئی خواب دیکھ رہا ہے اس کی مقفل خواب گاہ میں کسی کا بغیر اجازت داخل ہونا ناممکن ہی تھا۔ تو جو کچھ دیکھ رہا ہے وہ خواب نہیں حقیقت ہے۔" میں نے زہریلے ناگ کی طرح پھنکارتے ہوئے کہا۔ " مجھے غور سے دیکھ لے میں وہی آذر ہوں جو اپنی ایمانداری کے سبب تیری نظروں میں اس وقت سے کھٹک رہا تھا جب سے تو نے میرے تبادلے کے آرڈر اور میری پرسنل فائل دیکھی تھی۔" "تم تم آذر نہیں ہو سکتے۔ " اس نے اپنے سر کو جھٹک کر غیر یقینی انداز میں کہا مسلح پہرے دار موجود ہیں، ان کی اجازت کے بغیر کوئی پرندہ بھی آ سکتا۔
میں وہ پرندہ ہوں رحیم الدین جس پر گولیاں کوئی اثر نہیں کرتیں۔ " لیکن تم ..
”ہاں، تم نے مجھے مروانے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا تھا۔" میں نے سرد آواز میں اسے یاد دلانے کی کوشش کی۔ " تم شاید تحمل بخاری سے بھی اکتا چکے تھے جو ایک سازش کے تحت اس کے کانٹے کو بھی درمیان سے نکلوا دیا اور مجھے بھی مروانے کی کوشش کی لیکن تم شاید یہ بھول گئے تھے کہ ایک دن موت کا فرشتہ تمہیں بھی دبوچ کر موت کی ابدی نیند سلا سکتا ہے۔" رحیم الدین میری باتیں سن کر چونکا وہ پوری طرح ہوش میں آچکا تھا اس کی آنکھوں سے خوف جھانکنے لگا۔ "کیا تم مجھے بتاؤ گے کہ میں نے تمہارا کیا بگاڑا تھا؟" میں نے تلملا کر پوچھا۔
"تم .
تم جو کچھ سوچ رہے ہو، سمجھ را رہے ہو وہ غلط ہے۔" اس نے مجھے بہلانے کی کوشش کی۔ بخاری میری کسی سازش کا نہیں اپنی حماقت اور ضرورت سے زیادہ خود اعتمادی کا شکار ہوا۔ ڈیفنس سیکرٹری کے سالے سے دولاکھ روپے کی رشوت اسے لے ڈوبی، اس کی موت میں میرا کوئی ہاتھ نہیں تھا۔ وہ وہ میرا سب سے قیمتی آدمی ..
تھا۔"اور میں پتھر تھا جسے تم ٹھوکر مار کر اپنے راستے سے ہٹانا چاہتے تھے۔" میں نے اسے تیز نظروں سے گھورتے ہوئے کہا۔ "تم نے میری مدد کرنے کے بجائے میری معطلی اس
کے آرڈر جاری کر دیئے تم اپنا دامن بچانا چاہتے تھے۔"
ایسا نہیں ہے۔“ اس نے پہلو بدل کر کہا۔ ”میں نے صرف قانون کا تقاضہ پورا کیا
تھا لیکن اب تم باعزت بری ہو چکے ہو، میں تمہیں دوبارہ ڈیوٹی پر لینے کو تیار ہوں، تم کل"صبح مجھ سے دفتر میں ملو میں تمہیں ... تم بہک رہے ہو میری جان! میں زہر خند سے بولا۔ ”میں ایماندار ضرور ہوں
لیکن اتنا احمق نہیں کہ تمہارے جھانسے میں آجاؤں۔"
اور اور تم مجھ سے کیا چاہتے ہو ؟" اس نے سپاٹ لہجے میں پوچھا۔ وہ تمام دھن دولت جو تم نے اپنے اس خوبصورت مقبرے میں جمع کر رکھا ہے۔" میں نے اس کی خواب گاہ پر نظر ڈالتے ہوئے سفاک لہجہ اختیار کیا۔ " شرافت سے میری مان لو گے تو شاید میں تمہارے ساتھ کوئی رعایت کر دوں، دوسری شکل میں تمہیں کوئی سے
کھیل کھیلنے کی خاطر زندہ نہیں چھوڑوں گا۔"
تم غلطی کرو گے۔ " اس نے سنبھالا لینے کی کوشش کی۔ " تم نے اگر مجھے مار دیا تو خود بھی زندہ نہ بچ سکو گے۔"
رحیم الدین مجھے ایک لمحے تک دیکھتا رہا پھر اس نے جس پھرتی سے تکیے کے نیچے ہاتھ ڈال کر اپنا ریوالور نکالا اسے دیکھ کر میں بھی ششدر رہ گیا لیکن خوف میرے ذہن سے کوسوں دور تھا اس کے ہاتھ میں دبا ہوا اعشاریہ تین آٹھ کا ریوالور بھی مجھے بچوں کے کھلونے کی طرح لگ رہا تھا۔ شاید وہ جوگی سیتا رام کی اُس شیطانی قوت کا کرشمہ تھا جو ایک بار پہلے بھی میرے کام آچکی تھی۔ اس وقت بھی سیتارام کی ماورائی قوتوں نے میرے دل و دماغ کو پوری طرح تسخیر کر رکھا تھا۔ میرا ذہن صرف ان ہی باتوں پر عمل کرنے کو سوچ رہا تھا جو سیتارام نے میرے ذہن میں بٹھا دی تھیں۔ اس کھلونے کو جیب میں رکھ لو رحیم الدین! میں نے مسکرا کر لا پرواہی سے کہا۔ فرار حاصل کرنے کی خاطر اگر تم تجوری کھول کر اس کی تمام پونجی میرے حوالے کر دو تو یہ سودا تمہارے لئے زیادہ مہنگا نہیں ہو گا میری بات پر ٹھنڈے دل سے غور کرنے کی کوشش کرو۔" باسٹرڈ ریوالور ہاتھ میں آجانے کے بعد اس کے حوصلے بلند ہو گئے تھے، اس نے بڑی حقارت سے کہا۔ اس وقت تو میرے رحم و کرم پر ہے، اگر تو نے ایک ذرا حماقت کی تو میں تیرا جسم گولیوں سے چھلنی کر دوں گا۔" تجوری کا سارا مال نکال کر میرے قدموں پر ڈال دو۔" میں نے لا پرواہی سے کہا۔ اس کے ساتھ تمہیں مجھے اپنی ایک تحریر بھی دینی ہو گی کہ تم" تو شاید پاگل ہو گیا ہے۔“ وہ میری بات کاٹ کر تیزی سے مسہری سے نیچے آگیا۔ مجھے بتاؤ کہ تمہیں میری خواب گاہ تک پہنچانے کی غلطی کس نے کی ہے؟" "جوگی سیتا رام نے۔ " میں نے سنجیدگی سے جواب دیا۔ ” وہ جو مہمان شکتی کا مالک
تم شرافت سے زبان نہیں کھولو گے شاید ؟" وہ غصے سے ہونٹ چبانے لگا۔ تم آزما کر دیکھ لو۔" میں نے اسے قہر آلود نظروں میری بات کا اندازہ بھی ہو جائے گا۔"
رحیم الدین کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا تھا، اس نے جھلا کر یکے بعد دیگرے دو فائر کئے لیکن پھر اس کی آنکھیں بھی حیرت سے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ اس کے ریوالور سے لکھے والی گولیاں میرے قدموں پر پڑی نظر آ رہی تھیں۔ مجھے کوئی تعجب نہیں ہوا میں پہلے بھی جوگی سیتارام کی شیطانی قوتوں کا تماشہ دیکھ چکا تھا۔ وہ حیرت انگیز اور ناقابل یقین قوتوں کا مالک تھا۔ تمہارے ریوالور کے چیمبر میں ابھی تین چار گولیاں اور بھی ہوں گی۔ " ۔ انہیں بھی آزما کر دیکھ لو دل میں کوئی حسرت نہ رہ جائے۔" جواب میں اس نے باقی گولیاں بھی داغ ڈالیں لیکن ان کا بھی وہی انجام ہوا ۔ رحیم الدین کی آنکھیں پٹ پٹانے لگیں۔ جو کچھ ہوا خود اسے بھی اس پر یقین نہیں آسکا تھا ایک بھی بت بنا کھڑا مجھے حیرت سے دیکھنے لگا۔ اب شرافت سے تجوری کھول کر ساری جمع پونجی کسی بیگ میں ڈال کر میرے حوالے کر دو۔" میں نے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا۔ اس نے معمول کی طرح ریوالور ہاتھ سے گرا دیا پھر بائیں جانب دیوار پر لگی ایک فریم شدہ تصویر بنے اتارا تو اس کی پشت پر وہ تجوری نظر آنے لگی جس کے اندر اس نے کروڑوں کی رقم - شد علاوہ زیورات اور سونے کی اینٹیں بھی چھپا رکھی تھیں۔ میں خاموش کھڑا اسے گھورتا رہ اس نے ایک بیگ میں تجوری کا سارا مال نکال کر ڈالا پھر میرے قدموں میں لا کر ڈال دیا دیکھا بالک! تو نے جوگی کی مہمان شکتی کا چنکار " سیتا رام کی آواز میرے کانوں میں گونجی۔ تو نے ایک جھٹکے میں اتنی دھن دولت حاصل کرلی کہ برسوں چین کی بنہ بجا سکتا ہے۔ اس دھن پر اب کیول تیرا ادھیکار ہے اسے سینت کر رکھنا اس کی شکتی؟
بڑی بڑی انمول چیزیں خرید سکتی ہے۔" میری نظریں بدستور رحیم الدین کے چہرے پر مرکوز تھیں جس کا چہرہ ہلدی کی طرح زرد ہو رہا تھا۔
میں نے تمہاری خواہش پوری کر دی۔ " اس نے رحم طلب لہجے میں درخواست اب تم مجھے جان سے تو نہیں مارو گے؟"نہیں۔" میں زہر خند سے بولا۔ یہ نیک کام بھی تم خود انجام دو گے۔" نہیں. نہیں۔" وہ دیوانوں کی طرح چلانے لگا۔ "تم ایسا نہیں کرو گے۔
رحیم الدین!؟" میں نے اس کی چیخ و پکار سے لطف اندوز ہوتے ہوئے کہا۔ مسہری کی چادر سے اپنے لئے پھانسی کا پھندا تیار کرو اس کو سیکھے میں باندھ کر دوسرا سرا اپنے گلے میں ڈال لو یہی تمہاری سزا ہے، یہی میرا حکم ہے۔"
پھر وہی ہوا جو میں نے چاہا تھا، رحیم الدین نے میری ہدایت کے مطابق خود کو سیکھے سے لٹکا کر خود کشی کر لی، اس کا جسم کچھ دیر تک ہوا میں پھڑ پھڑایا پھر اس کی گردن کا منکا ٹوٹ گیا اس کی آنکھیں بے نور ہو کر حلقے سے باہر ابل آئیں۔ میں بیگ اٹھا کر اس کی خواب گاہ سے فاتحانہ انداز میں نکلا۔ جوگی سیتارام کی لازوال طاقت مجھے کنٹرول کر رہی تھی، میں ایک دوسری خواب گاہ میں داخل ہوا جہاں زیر و پاور کا ایک نیلا بلب روشن تھا، میں دروازہ اندر سے بند کر کے آگے بڑھا تو میں نے ایک چاند سے چہرے کو نرم و گرم مسہری پر محو خواب پایا۔ اس کی کمسن جوانی کے بہیجان انگیز نشیب ان کو سفید ڈرینگ گاؤن سے جھلکتا دیکھ کر میرے جسم سے کن کھجورے لپٹ گئے اسنے غلط نہیں کہا تھا، جھرنا اس کے قدموں کی دھول بھی نہیں تھی۔ میرے جذبات میں آگ لگ گئی' میرے حلق میں کانٹے سے جینے لگے، مجھ پر جنونی کیفیت اتنی شدت سے طاری ہوئی کہ میں انسان سے درندہ بن گیا۔
میرے مقابلے میں وہ پالتو ہرنی کوئی مزاحمت نہ کر سکی' صرف ہاتھ جوڑ جوڑ کر مجھے دنیا جہان کے واسطے دیتی رہی، چیختی چلاتی رہی، تڑپتی رہی لیکن میں اندھا ہو گیا تھا، بہرا ہو گیا تھا۔ میں اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھا تھا۔ میں اپنے آپ میں تھا بھی کہاں جو کسی بات سینہ پر غور کر سکتا میری انسانی مشین کے تمام کل پرزے جوگی سیتارام کے قبضے میں تھے جو میں دور بیٹھا ریموٹ اپنے ہاتھ میں لئے مجھے کنٹرول کر رہا تھا۔ میں رحیم الدین کی عالیشان کوٹھی میں کب اور کس طرح داخل ہوا؟ اس کی خواب گاہ کے بند دروازے مجھ پر کس نے کھولے ؟ گیٹ پر موجود پہرے داروں نے مجھے دیکھ کر اپنی رائفلیں نیچے کیوں جھکا لیں؟ مجھے گولیوں سے چھلنی کیوں نہیں کیا؟ رحیم الدین نے اپنی زندگی بھر کی کمائی ہوئی حرام کی دولت میرے قدموں میں اتنی خاموشی سے کیوں ڈال دی؟ میں نے اس کی پھول جیسی نازک اور مخملی جسم والی لڑکی کو اپنی وحشت اور جنون کے اندر ، مسل دیا لیکن اس کی چیخ و پکار کی آوازیں کسی کے کانوں تک نہیں کے ساتھ ساتھ مکینوں کی نظروں پر بھی پٹی بندھی تھی؟ ان کی قوت
سماعت معطل ہو گئی تھی؟ کیا طلسم تھا جس نے ہر ناممکن کو میرے لئے ممکن بنا دیا تھا؟ میں دندناتا پھر رہا تھا۔ دوسرے معذور و بے بس ہو کر رہ گئے تھے۔ وہ کیا سحر تھا؟ کیا اسرار تھا؟ میں آج بھی کبھی سوچتا ہوں تو سب خواب کی باتیں معلوم ہوتی ہیں۔ لیکن و
خواب نہیں تھا، ایک ناقابل یقین حقیقت تھی۔
میں ایک عجیب نشے کی کیفیت سے دوچار تھا، میں اس کیفیت کو کوئی نام نہیں دے سکتا شاید مجھے خواب بیداری" کا مرض لاحق ہو گیا تھا، مجھے کسی بات کا مطلق ہوش نہیں تھا پھر میں نے تھکے ہوئے انداز میں خود کو بستر پر گرا دیا، میرا ذہن کیف و مستی کے عالم سے سرشار تھا، مجھ پر غنودگی طاری ہونے لگی، میری جنونی کیفیت کا شکار ہونے والی معصوم اور بے گناہ لڑکی آہستہ آہستہ سکیاں بھر رہی تھی پھر ان سسکیوں کی آوازیں بھی معدوم ہوتی چلی گئیں۔ میرے اعصاب کا تناؤ ٹوٹ چکا تھا، میں گھپ اندھیروں میں ڈوب کر سب کچھ فراموش کر چکا تھا جب کسی نے دروازے کی کال بیل بجائی شروع کی، بڑی دیر تک میرے وجود کے سناٹے میں گھنٹیوں کی آوازیں گونجتی رہیں پھر میں نے گھبرا کر آنکھیں کھول دیں۔ میری آنکھیں حیرت سے پٹ پٹانے لگیں، جھرنا نے مجھے جو مکان سر چھپانے کی خاطر عارضی طور پر دیا تھا میں اس وقت اسی کی خواب گاہ میں موجود تھا میں نے دیوار پر کلاک پر نظر ڈالی، صبح کے دس بج رہے تھے۔ گھنٹی کے بعد کسی نے دروازہ پیٹنا شروع کہ تو ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھا میں نے دروازہ کھولا تو سامنے جھرنا کھڑی تھی۔
تم کب آئیں؟" میں نے جماہی لیتے ہوئے سوال کیا۔
وہ میری بات کا جواب دینے کے بجائے تیزی سے قدم بڑھاتی اندر آگئی، اس نے دروازہ بند کر دیا، میں نے اسے غور سے دیکھا وہ کچھ پریشان اور الجھی الجھی نظر آرہی
تھی۔
کیا بات ہے؟" میں نے ایک ممکنہ خطرے کے پیش نظر سوال کیا۔ کیا کرنل کو علم
ہو گیا کہ میں یہاں موجود ہوں؟" جنم میں گیا کرنل !" وہ الجھ کر بولی پھر مجھے سر سے پاؤں تک گھورتے ہوئے "کل جب میں تمہیں یہاں چھوڑ کر گئی تھی اس کے بعد تم کہیں باہر گئے تھے ؟" نہیں۔" میں نے سپاٹ لہجے میں جواب دیا۔ جھرنا کو دیکھنے کے بعد مجھے ایک لمحے
کو یہی خیال ہوا کہ میں نے رحیم الدین کے سلسلے میں کوئی خواب ہی دیکھا تھا شاید وہ اس سے میری نفرت کا رد عمل تھا جو مجھے رات بھر پریشان کرتا رہا تھا۔ " تم نے کل سے اب تک کچھ کھایا پیا بھی نہیں ؟" جھرنا نے حیرت سے دریافت کیا
اس کی حیرت میں تجس بھی شامل تھا۔ نہیں۔" میں طویل انگڑائی لے کر لاپرواہی سے بولا۔ "میرا خیال ہے کہ تم نہ
آتیں تو شاید ابھی میں دو چار گھنٹے اور سوتا ہی رہتا۔" جھرنا کے چہرے پر الجھن اور پریشانی کی ملی جلی کیفیت طاری تھی، وہ کسی بات سے پریشان تھی لیکن مجھ سے چھپانے کی کوشش کر رہی تھی۔ کیا بات ہے؟" میں نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر بے تکلفی سے دریافت کیا۔
تم اس وقت موڈ میں نظر نہیں آ رہی ہو۔"
”ہاں کچھ ایسا ہی معاملہ ہے۔" ” مجھے نہیں بتاؤ گی؟" میں نے پیار سے اس کی آنکھوں میں جھانکا۔
”میں نے ابھی کچھ دیر پیشتر رحیم الدین کو اس کے آفس فون کیا تھا۔ " اس نے مجھے ٹولتی نظروں سے دیکھتے ہوئے قدرے سنجیدگی سے کہا۔ ”میں اس سے تمہارے سلسلے میں
بات کرنا چاہتی تھی۔" پھر کیا اس نے تمہارا حکم ماننے سے بھی انکار کر دیا؟" میں نے ہلکا سا طنز
کیا۔وہ آج سرے سے دفتر آیا ہی نہیں۔" جھرنا نے پریشان لیجے میں اپنی بات جاری نے رکھی۔ اس کے پی اے نے مجھے اطلاع دی ہے کہ رات اس نے پنکھے سے لٹک کر
خود کشی کرلی۔" میرے ذہن میں ایک دھماکہ ہوا، جھرنا کی زبان سے نکلا ہوا ایک ایک لفظ میرے زہن پر ہتھوڑے برسا رہا تھا۔ مجھے وہ منظر یاد آگیا جب میرے کہنے پر رحیم الدین نے اپنے بستر کی چادر کو گلے میں باندھ کر خود کو سیلنگ فین سے لٹکا دیا تھا، ۔ میری آنکھوں کے سامنے وہ تمام مناظر جو میں خواب سمجھ رہا تھا۔ میری پیشانی پر پسینا آگیا
تم کیا سوچنے لگے ؟" جھرنا نے میرے چہرے کے تاثرات کو بغور دیکھتے ہوئے کہا۔
اب اب شاید میرا کیس اور الجھ جائے گا۔ " میں نے گول مول جواب بھول جاؤ ملازمت کو ۔ " اس نے اپنائیت کا اظہار کیا۔ ” میری اپنی کمائی ہوئی دولت
بینک میں پڑی سڑ رہی ہے، وہ کس دن کام آئے گی؟"
جھرنا!" میں نے اس کی پیشکش نظر انداز کرتے ہوئے سنجیدگی سے پوچھا۔ "کیا تم
رحیم الدین کے گھر فون کر سکتی ہو؟"
ہاں لیکن تم اس کی خود کشی کی خبر سن کر اس قدر میں جاننا چاہتا ہوں کہ اس کی خود کشی کا سبب کیا ہے؟“ میں نے اس کی بات کاٹ کر اصرار کیا۔ پلیز تم میری خاطر معلوم کرنے کی کوشش کرو۔" تم کس نتیجے پر پہنچنے کی کوشش کر رہے ہو ؟" وہ پھر مجھے کریدنے لگی۔ تم فون نہیں کر سکتیں تو رہنے دو۔" میں نے الجھ کر کہا۔ ”میں کسی اور ذریعہ سے معلوم کرلوں گا۔" جھرنا نے میری کیفیت کو محسوس کرتے ہوئے کوئی جواب نہیں دیا، باہر آکر فون کا رسیور اٹھایا اور رحیم الدین کے گھر کے نمبر ڈائل کرنے لگی، میرے دل کی دھڑکنیں ہر لمحہ تیز سے تیز ہوتی جارہی تھیں۔ کچھ دیر تک جھرنا دوسری طرف سے فون اٹھانے والے سے بات کرتی رہی پھر رسیور رکھ کر بولی۔ گھر والے کسی ایک اہم بات کو چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں، پولیس کی تفتیشی ٹیم اپنا کام کر رہی ہے۔" جھرنا کا جملہ میرے ذہن میں کسی بچھو کی طرح ڈنک مارنے لگا میں سمجھ گیا کہ وہ اہم بات کیا ہو گی۔ انہوں نے وقتی طور پر دو اور دو چار کرنے کی کوشش کی ہو گی۔ رحیم الدین کی خود کشی کی واردات کو جوان بیٹی کی آبروریزی سے منسوب کر دیا ہو گا۔ پولیس والے بھی یہی سوچ رہے ہوں گے ، انہوں نے کوٹھی کے پہرے داروں کو حراست میں لے لیا ہو گا دوسرے ملازموں کو بھی کریدنے کی کوشش کی جا رہی ہو گی، یکے بعد دیگرے ہونے والے سنگین وارداتوں نے پولیس اور بااثر حلقوں میں کھلبلی مچا دی ہو گی، حکومت بھی حرکت میں آچکی ہو گی، سب سر جوڑے بیٹھے کسی آخری نتیجے پر پہنچنے کی
کوشش کر رہے ہوں گے۔ ممکن ہے کسی حوالے سے میرا نام بھی درمیان میں آیا ہو۔ جوگی سیتارام کے بارے میں کسی کو وہم و گمان بھی نہیں ہو گا لیکن مجھے گزشتہ رات کی ایک ایک بات یاد آرہی تھی، اس نے مجھے اپنا ہاتھ تھام کر آنکھ موندنے کو کہا تھا، پھر آنکھ کھلنے کے بعد میں نے خود کو رحیم الدین کی خواب گاہ میں پایا تھا اور اس کے بعد۔ میرا خیال ہے کہ تم رحیم الدین کی خود کشی کا کچھ زیادہ ہی اثر لے رہے ہو ؟" تم جھرنا نے میری خاموشی کو محسوس کرتے ہوئے کہا۔ "کم آن آذر! ریلیکس (Relax) رحیم الدین کی جگہ جو دوسرا آفیسر تعینات ہو گا اسے بھی تمہارے کیس پر ہمدردی سے غور کرنا ہو گا۔ تم یہ کیوں بھول رہے ہو کہ عدالت نے تمہیں باعزت طور پر رہا کر دیا ہے۔" جھرنا کی بات سن کر میں چونکا لیکن میرا ذہن بدستور حالات کے تانے بانوں میں الجھ رہا تھا، رحیم الدین کو پھانسی کے پھندے پر لٹکنے کا حکم دینے سے پیشتر میں نے ایک بیگ اس کی تمام جمع پونجی اکٹھا کرا لی تھی۔ وہ بیگ کہاں تھا؟ کیا میں اسے دوسری خواب گاہ میں بھول آیا تھا؟ اس پر میری انگلیوں کے نشانات بھی ضرور ہوں گے؟ تفتیش آگے بڑھے گی تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ میں نے سنجیدگی سے سوچا اس بار فنگر پرنٹس کے ٹھوس ثبوت کے بعد جوگی سیتارام کے فرشتے بھی مجھے پھانسی کے پھندے سے نجات نہیں دلا سکیں گے۔" . پھر من ہی من میں ہچکولے کھانے لگا، ڈگمگانے لگا۔" سیتارام کی مانوس آواز میرے کانوں میں گونجی۔ ابھی تو تو نے مہمان جوگی کو ٹھیک طرح سے پر کھا بھی نہیں اور
تیرے من میں میل آنے لگا۔" لیکن"
جو کچھ سوچ بچار کر رہا ہے اسے اپنی کھوپڑی سے نکال دے نشچنت ہو جا۔" سیتا رام نے کہا۔ "مہان جوگی نے دیوی دیوتاؤں کی بھگتی میں جیون تیاگ دیا ہے، برسوں منڈل میں بیٹھ کر باپ کیا ہے، تب کہیں جا کر مہان شکتیاں پراپت کی ہیں، میں نے کچی گولیاں نہیں کھیلی ہیں۔ مورکھ! تُو جس بیگ کے لئے پریشان ہو رہا ہے وہ الماری میں دھرا اس نے لا پرواہی سے اپنی بات جاری رکھی۔ "جو کھوج لگانے کی کوشش کر رہے
کرتے رہ جائیں گئے ان کے ہاتھ بھی کچھ نہیں آوے گا۔" رحیم الدین کی خود کشی کو کسی نہ کسی خانے میں تو فٹ کیا جائے گا؟" میں نے
دل ہی دل میں سیتا رام سے سوال کیا جو کہیں آس پاس ہی موجود تھا لیکن نظر نہیں آ رہا تھا۔
ڈاکو اور لٹیرے آئے تھے ، رحیم الدین کی حرام کی کمائی اور اکٹھا کی ہوئی ساری دھن دولت کو لے گئے۔ جاتے جاتے اس کی خوبصوت پتری کے شریر سے اپنے من کی پیاس بھی بجھالی۔ خاکی وردی والے اس کے سوا کوئی اور بات نہیں سوچ سکیں گے۔" " آذر!" جھرنا نے میری طویل خاموشی کو محسوس کرتے ہوئے کہا۔ ”کیوں بلاوجہ اپنے آپ کو ہلکان کر رہے ہو، میں تمہیں یقین دلاتی ہوں کہ تمہاری ملازمت پر کوئی آنچ نہیں آئے گی۔"
ہاں ۔" میں نے آہستہ سے جواب دیا۔ " تم شاید ٹھیک ہی کہہ رہی ۔
تم نے کل سے ابھی تک کچھ کھایا یا پیا بھی نہیں ہو گا۔“ اس نے چونک کر کہا پھر مسکرا کر بولی۔ "تم واش روم جا کر نہا دھو لو میں آج اپنے ہاتھوں سے تمہارے لئے ہاشتہ تیار کرتی ہوں۔ اس کے بعد تمہارے لئے شاپنگ کرنے چلیں گے۔" جھرنا کچن کی طرف چلی گئی تو جوگی سیتا مجھے ایک صوفے پر آلتی پالتی مارے بیٹھا نظر آیا۔ اس وقت بھی وہ اسی حلیے میں تھا جس میں میں پہلے بھی اسے دیکھ چکا تھا۔ بس اب شانت ہو جا۔ " اس نے مسکرا کر معنی خیز انداز میں کہا۔ " جو کچھ تو چاہتا
تھا وہ تو نے پا لیا اب چنتا کس بات کی کر رہا ہے؟"
"حالات میرے لئے سازگار نہیں ہیں۔" میں نے سپاٹ نظروں سے جوگی کو گھورتے ہوئے کہا۔ ”میں کب تک اس چھت کے نیچے چھپا بیٹھا رہوں گا؟
جھرنا کے ساتھ ایک دن اور کھیل کو د لئے، اس کے بعد یہاں سے تیرا دانہ پانی اٹھ جائے گا تجھے جوگی کے ساتھ متھرا چلنا ہو گا، ابھی مجھے تیری سکشا کرنی ہے، تجھے کندن
بنانا ہے۔" . میں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ تو نے سنا نہیں میں کیا کہہ رہا ہوں؟" اس نے مجھے تیز نظروں سے گھورتے ہوئے کہا۔ "تجھے میرے ساتھ کئے ہوئے وعدوں پر چلنا ہو گا کالی کے مندر ن کے چرنوں میں بیٹھ کر وچن دینا ہو گا کہ کہ تو جوگی سیتارام کے ساتھ کبھی دھوکہ نہیں دے گا.
میرے اوپر چار چار آدمیوں نے مل کر جو تشدد کئے اس کی تفصیل بڑی ہولناک اور ناقابل بیان ہے۔ میں آخری وقت تک ثابت قدم رہا لیکن جب ان ظالموں نے مجھے نشان عبرت بنانے کی خاطر میرے ہاتھ پاؤں کاٹنے کی بات کی تو میرے قدم لڑکھڑا گئے۔ میں نے سیتارام سے سمجھوتا کر لیا اور اب میرے نامہ اعمال میں تین انسانوں کا قتل لکھا جا چکا تھا میں نے جو کچھ کیا وہ بحالت مجبوری کیا۔ قدموں کے نیچے دبا ہوا کوئی حقیر کیڑا بھی زندگی بچانے کی خاطر اپنے سے ہزار گنا بڑے انسان کو کاٹ لیتا ہے۔ میں بھی ان کے جور و ستم برداشت نہ کر سکا سیتارام نے میرے جسم میں کوئی شیطانی روح پھونکی تو انتقام کے شعلے اچانک بھڑک اٹھے میں نے جوش میں ہوش سے کام نہیں لیا اور تین انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا، انسپکٹر واحد گواہ رہ گیا تھا میں اسے بھی اس کے کئے کی سزا دینا چاہتا تھا لیکن سیتارام درمیان میں آگیا۔ اس کا مشورہ شاید ٹھیک ہی تھا۔ انسپکٹر بھی جہنم رسید ہو جاتا تو میرا شمار بھی مفرور مجرموں کی فہرست میں کیا جاتا لیکن میں محفوظ تھا قانون کے جو محافظ مجھے حوالات سے نکال کر لے گئے تھے وہی واپس بھی لائے تھے۔ انہوں نے جو کچھ کیا تھا وہ بھی قانون کے خلاف تھا۔ وہ زبان نہیں کھول سکتے تھے، چپ رہنے پر مجبور تھے شاید یہی بات انسپکٹر کو الجھا رہی تھی۔ وہ غالباً اپنے اوپر والوں کو میری وحشت کی کہانی سنا رہا ہو گا۔ دوسری جانب سے اس کی کہانی کو جھٹلایا جا رہا ہو گا ایسا بھلا کیسے ممکن ہو سکتا تھا کہ ایک ایماندار مجرم جس پر مستقل جبر و تشدد کیا گیا ہو، جو ہتھکڑی بیٹی میں جکڑا ہوا ہو اس کے ایک اشارے پر لوہے کے پکے جوڑ اور موٹے موٹے تالے کڑ کڑا کر ٹوٹ گئے ہوں کے حکم سے تین جرائم پیشہ افراد نے خود اپنے ہاتھوں سے اپنی زندگی کے چراغ گل کر لیئے ہوں، اپنے گلے پر چھری پھیر لی اپنے آپ کو گولی مار کر ہلاک کر لیا ہو۔ وہ انسپکٹر کے بیان کو اس کے دماغ کا خلل قرار دے رہے ہوں گے لیکن جب تصدیق کے طور پر انہیں تین لاشوں کا بھیانک ثبوت ملے گا تو ان کے دماغ کی ساری پولیس بھی ہل کر رہ جائیں گی۔ ممکن ہے وہ ان تین لاشوں کو میرے بجائے انسپکٹر کے کھاتے میں ڈال کر اسے پھانسی پر لٹکا دیں، عملے کے دوسرے افراد بھی عمر قید کی سزا بھگتنے پر مجبور کر دیئے جاتے لیکن حقیقت وہی تھی جو انسپکٹر کی زبان اگل رہی تھی۔ میں بھی اپنے قاتل ہونے کا بذات خود چشم دید گواہ تھا، میرے ذہن میں طوفان اٹھ رہا تھا، میں ایمانداری کے دائرے سے نکل کر قاتلوں کی صف میں کھڑا ہو گیا تھا ان کے پاس کوئی ثبوت نہیں تھا لیکن میرا ضمیر مجھے ملامت کر رہا تھا، میرے کردار کی عدالت مجھے مجرم قرار دے رہی تھی، میں نے کوئی بے ایمانی نہیں کی تھی۔ جوگی سیتارام کی پر اسرار اور ناقابل یقین شیطانی قوتوں نے میرا ساتھ نہ دیا ہوتا تو میں ناکام ہو جاتا وہ کامیاب ہو جاتے۔ لڑائی کے میدان میں بھی ایک کی جیت اور دوسرے کی ہار ہوتی ہے۔ میرے ساتھ بھی ایسا ہوا۔ میں بازی ہارتے ہارتے جیت گیا تھا۔ تین انسانوں کے خون کے دھبے میرے دامن پر موجود تھے لیکن میں پولیس کی تحویل میں حوالات میں بند تھا۔ سنگین بردار پہرے دار ڈیوٹی پر تعینات تھے۔ مجھے انصاف کی عدالت میں قاتل قرار دینا ان کے لئے ناممکن ہی تھا ساری باتیں میرے حق میں تھیں۔
میں دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھا خود اپنا احتساب کر رہا تھا جب جوگی سیتارام کی آواز
پھر میرے کانوں میں گونجی۔
کن جھمیلوں میں الجھ رہا ہے مورکھ! جو کچھ ہوا وہی بھوش میں لکھا تھا اور منش
بھوش کے لکھے کو کبھی ٹال نہیں سکتا۔"
لیکن اب کیا ہو گا؟ میں نے بے چینی سے دریافت کیا۔
اب بھی وہی ہو گا جو بھوش لکھا جا چکا ہے۔" جوگی کی آواز میں اطمینان تھا۔ ”میں نے تجھ سے کہا تھا نا بالک! کہ یہ سنسار ایک گورکھ دھندا ہے، اس کی اونچ نیچ ابھی تیری بدھی (عقل) میں نہیں آئے گی، ابھی تو تجھے بڑے پاپڑ بیلنے ہوں گے۔" میری سزا کب پوری ہو گی؟" میں نے جھلا کر پوچھا۔ تو دھرم کرم کے چکروں میں الجھ کر ڈگمگانے لگا۔ سیتارام کی آواز نے کہا کس سزا کی بات کر رہا ہے؟ دوشی تو وہ ہیں جنہوں نے تجھے اس نرکھ میں جھونک دیا لیکن اب سمے پلٹ گیا ہے اب
↑
میں تیرے ساتھ ہوں۔ اب وجے (جیت) تیری ہو گی، انہیں اپنے کئے کی سزا بھو گنی پڑے گی۔ بس ایک رات اور بیتا لے اس کے بعد تیری ساری کٹھنائیاں دور ہو جائیں گی۔" جوگی سیتارام نے غلط نہیں کہا تھا۔ دوسرے دن مجھے عدالت میں پیش کیا گیا تو پولیس کے اپنے پیشہ ور گواہ سابقہ بیان سے منحرف ہو گئے۔ تحمل بخاری کی جگہ جو دوسرا آفیسر کیس بھگتا نے آیا تھا وہ بھی بو کھلا گیا۔ گواہوں کے منحرف ہونے کے بعد مجھے باعزت طور پر بری کر دیا گیا۔ مجھے فاضل مجسٹریٹ کی بے بسی پر ہنسی آگئی۔
میں بری ہونے کے بعد اپنے اپارٹمنٹ پر پہنچا تو وہاں کسی اور کا قبضہ تھا، لوگ مجھے نفرت بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے، مجھے جھوٹے مقدمے میں ملوث کیا گیا تھا لیکن میرے پاس پڑوس میں رہنے والوں کی نگاہوں کا زاویہ بدل چکا تھا، میں بے یار و مددگار رہ گیا تھا۔ میں بوجھل بوجھل قدموں سے نیچے آیا تو جھرنا سامنے گاڑی میں موجود تھی، میں نے کترا کر گزر جانا چاہا لیکن اس نے گاڑی سے نیچے اتر کر میرا راستہ روک لیا۔ میں ایک ضروری کام سے کچھ دنوں کے لئے ڈھاکہ سے باہر گئی ہوئی تھی، مجھے تمہارے حالات کا علم نہیں تھا۔ " اس نے میری آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا۔ "میں
یہاں ہوتی تو تمہاری مدد کو ضرور آتی۔" " تم نے مجھے اب بھی پہچان لیا یہ بھی میرے لئے کسی اعزاز سے کم نہیں۔ " میں نے زہر خند سے جواب دیا۔
مجھے خوشی ہوئی کہ تم نے آپ کہنا چھوڑ دیا۔" وہ میرے طنز کو نظر انداز کر کے مسکرائی پھر میرا ہاتھ تھام کر گاڑی میں بٹھا دیا۔ میں چاہتا تو انکار کر سکتا تھا لیکن میں نے ایسا نہیں کیا۔ مجھے کسی سہارے کی ضرورت تھی، قدم جما کر کہیں سکون سے بیٹھ کر میں اپنے مستقبل کے بارے میں غور کرنا چاہتا تھا۔ گاڑی چلنی شروع ہوئی تو میں نے سنجیدگی سے پوچھا۔
ہم کہاں جا رہے ہیں؟ ۔ میرا مطلب ہے کہ شاید اب کرنل مجھے تمہارے
ساتھ دیکھ کر کسی مسرت کا اظہار نہیں کرے گا۔" میں تمہیں اپنی کوٹھی پر نہیں لے جارہی۔" وہ معنی خیز انداز میں مسکرائی۔ "مجھے واپس آتے ہی تمہارے حالات کا علم ہو گیا تھا، میں آج صبح تھانے بھی گئی تھی مگر تمہیں عدالت میں لے جایا گیا تھا میں نے تمہارے اپارٹمنٹ پر آکر تمہارا انتظار کرنا چاہا لیکن یہاں بھی حالات تبدیل ہو چکے تھے۔"مجھے ملازمت سے معطل کیا جا چکا ہے۔" میں نے اسے حالات کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا۔ ”میرے ساتھ جو کچھ ہوا وہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ہوا لیکن میں اس حقیقت سے انکار نہیں کروں گا کہ غلطی کی ابتدا بخاری کی طرف سے ہوئی تھی، میں
بھی اس کی لپیٹ میں آگیا۔" میں تفصیل جان چکی ہوں۔" اس نے لاپرواہی سے کہا۔ ”بخاری کو اس کے کئے کی سزا بھی مل گئی۔" " تم نے شاید رحیم الدین سے ایک بار پہلے بھی میری سفارش کی تھی۔ " میں نے اسے یاد دلانے کی کوشش کی۔ عدالت سے باعزت بری ہونے کے بعد قانونی طور پر میری ملازمت ختم نہیں کی جا سکتی، تمہارا صرف ایک فون میں تمہارا مطلب سمجھ رہی ہوں مگر شاید اب وہ تمہارے وجود کو برداشت کرنے
پر آمادہ نہ ہو۔" وہ ایسا نہیں کر سکتاکہ " میں نے ٹھوس آواز میں بڑے یقین سے کہا۔ اب اسے میرے معاملے میں اپنے آپ کو بدلنا ہو گا۔" میرے لہجے میں اعتماد تھا اور اس اعتماد کی پشت پر جوگی سیتا رام کی مادر ائی قوتیں شامل تھیں میں جس کے ساتھ سمجھوتا کر چکا تھا۔ اب تمہیں ملازمت کرنے کی کیا ضرورت ہے؟؟؟ اس نے لا پرواہی سے جواب دیا۔میں سمجھا نہیں؟ میں نے جھرنا کو وضاحت طلب نظروں سے دیکھا اس کے گداز ہونٹوں پر لاپرواہ مسکراہٹ کھیل رہی تھی، اس مسکراہٹ میں ایسا سحر تھا کہ میں اس کے چہرے سے نظریں نہ ہٹا سکا۔ اس کے لباس سے پھوٹنے والی مسحور کن خوشبو میرے وجود کو گر گرانے لگی، وہ کل بھی سراپا قیامت تھی، آج بھی اس کے حسن کی دلکشی میں وہ مقناطیسی کشش موجود تھی جو جنس مخالف کو مدہوش کرنے کے لئے بڑا مؤثر کردار ادا کرتی میری نظریں اس کے لباس پر سرسرانے لگیں، اس کے جسمانی نشیب سے میرے جسم پر چیونٹیاں رینگنے لگیں، پہلی بار خود جھرنا نے میری طرف میں مجبوراً حالات کا شکار ہو گیا۔ آج وہ ایک شان بے نیازی سے
ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھی سڑک کی جانب متوجہ تھی اور میں اس کی طرف کھنچا چلا جا رہا تھا۔ اس کا قرب مجھے اکسا رہا تھا، میں اس کی آغوش میں گم ہو کر ان صعوبتوں کو بھول جانا چاہتا تھا جس نے میرے دل و دماغ پر کوئی اچھا اور خوشگوار اثر نہیں ڈالا تھا میں نے بے تکلفی سے اس کی جانب کھسک کر اس کی گردن میں بانہیں ڈال دیں، وہ کسمسا کر بولی۔ " یہ شاہراہ عام ہے آذر! کوئی دیکھ لے گا۔ تمہیں کس کا خوف ستا رہا ہے؟ میں نے چبھتے ہوئے لہجے میں سوال کیا۔ کرنل
کا یا کسی دوسرے واقف کار کا؟"
میں کسی سے نہیں ڈرتی۔" وہ میرے جملے کی ساخت پر تلملا اٹھی۔ پھر گاڑی میں کہیں فٹ پاتھ سے ملا کر کھڑی کر دو۔" میں نے اسے چھیڑنے کی خاطر کہا۔ " جو ہو گا دیکھا جائے گا۔" " مجھے خوشی ہے کہ اب تم زندگی کی طرف واپس لوٹ رہے ہو۔" اس نے ترکی بہ ترکی جواب دیا۔ ”اس روز کرنل کی کوٹھی کے مخصوص نگار خانے میں تم کو کیا ہو گیا تھا؟“ میں نے لاجواب ہو کر اسے بازوؤں میں سمیٹنے کی کوشش کی تو اس کے ہاتھ اسٹیئرنگ پر پھیلنے لگے، میں نے کسی حادثے کے خوف سے بڑی تیزی سے اپنے ہاتھ کھینچ لئے۔
”موت سے ڈرتے ہو؟" اس نے سنبھل کر کہا پھر بڑے تلخ لہجے میں بولی۔ " مجھے دیکھو میں نے تنہا ہونے کے باوجود کسی محاذ پر شکست تسلیم نہیں کی' صرف ایک بار پسپا ہوئی تھی لیکن اسی پسپائی نے مجھے جینے کا ڈھنگ سکھا دیا اب میں ایک شخص کی غلطی کا انتظام ہر اس شخص سے لے رہی ہوں جو عورت کو پاؤں کی جوتی سمجھتے ہیں۔" میں نے کیا قصور کیا تھا؟" میں نے آہستہ سے پوچھا۔ تمہاری بات اور ہے۔" اس نے شوخی اور بے باکی سے مسکرا کر کہا۔ "تم مجھے پہلی ملاقات میں ہی اچھے لگے تھے۔ "
کیا کرنل کو علم ہے کہ تم کن راستوں رچل رہی ہو؟“
ہو بھی سکتا ہے۔" وہ شانے اچکا کر بولی۔ لیکن مجھے اس کی پرواہ نہیں ہے، شاید کہ وہی میری بربادی کا ذمہ دار ہے۔" میں جھرنا سے چھیڑ چھاڑ کی باتیں کرتا رہا اس کی رفاقت نے میرے ذہن پر طاری
کسلمندی بڑی حد تک دور کر دی تھی۔ میں منٹ بعد اس نے اپنی گاڑی ایک چھوٹے سے خوبصورت مکان کے سامنے رو کی وہ غالباً کوئی کالونی تھی جہاں بے شمار مکانات ایک ہی ڈیزائن کے تعمیر کئے گئے تھے، ان کا رقبہ زیادہ نہیں تھا لیکن تعمیر کے اعتبار سے انہیں خوبصورت کہا جا سکتا تھا۔ جھرنا نے مختصر سے پور ٹیکو میں گاڑی کھڑی کی، میں بھی اس کے ساتھ نیچے اترا اس نے صدر دروازے پر پہنچ کر چابی سے تالا کھولا تو میں نے پوچھا۔ " کیا یہ خوبصورت مکان کسی نے بطور تحفہ دیا ہے؟"
نہیں۔" وہ بڑی سنجیدگی سے بولی۔ "یہ میرا ذاتی مکان ہے۔ جب میں ماڈلنگ کیا کرتی تھی اس وقت میں نے اسے اپنی کمائی سے خریدا تھا، کرنل سے شادی کرنے کے بعد
بھی، میں نے اسے فروخت نہیں کیا۔" میں مکان میں داخل ہوا تو اس کی خوبصورت سجاوٹ اور دیدہ زیب فرنیچر کو دیکھ کر دل باغ باغ ہو گیا۔ مختصر سے ڈرائنگ روم میں جتنی تصاویر موجود تھیں وہ جھرنا کی تھیں، مختلف انداز میں مختلف مصنوعات کے ساتھ وہ تصویریں اس وقت کی یادگار تھیں جب وہ ماڈل تھی، وہ مجھے گھر کا ایک ایک حصہ دکھاتی رہی۔ دو کمروں پر مشتمل وہ مکان ہر اعتبار سے اپنی مثال آپ تھا، وہاں ضرورت کی تمام چیزیں موجود تھیں، ایک کارنر میں فون بھی
رکھا تھا۔
کیا یہ مکان خالی پڑا رہتا ہے؟" میں نے اسے کریدنے کی خاطر پوچھا۔
”ہاں .. لیکن میں ہفتہ میں دو مرتبہ یہاں آکر خود اپنے ہاتھوں سے اس کی صفائی کرتی ہوں اور " وہ یکلخت جذباتی ہو گئی۔ " تم پہلے مرد ہو جس نے اسے اور ..... پوری طرح گھوم پھر کر تفصیل سے دیکھا ہے۔ یہاں آنے والے بزنس مین جو مجھے اپنی پروڈکٹس (Products) کے لئے بک کرتے تھے ، ڈرائنگ روم سے آگے کبھی نہ بڑھ
سکے۔ تمہاری فیملی کہاں رہتی ہے؟" میں نے اسے اندر سے ٹولنا چاہا۔ ”میرا اشارہ تمہارے والدین کی طرف ہے۔“
والد کا انتقال ہو چکا ہے، اسی لئے میں نے موڈلنگ کا پیشہ اختیار کیا تھا۔ " اس نے جواب دیا۔ ”امی زندہ ہے وہ کلکتہ میں رہتی ہے۔"
یہاں کیوں نہیں رہتی؟
اسے کرنل سے میری شادی کا پس منظر معلوم ہو گیا تھا وہ غیرت مند تھی اس لئے یہ دیس ہی چھوڑ کر چلی گئی۔" تم مجھے یہاں کیوں لائی ہو؟" میں نے اسے اداس ہوتا دیکھ کر موضوع بدل دیا۔ میں نے کہا تھا نا کہ تم پہلی ملاقات میں مجھے اچھے لگے تھے۔ " اس نے والہانہ نظروں سے میری طرف دیکھا، بڑی بے تکلفی سے بولی۔ "اگر تم کرنل سے پہلے میری زندگی میں آئے ہوتے تو میں تمہارے سوا کسی اور سے شادی نہ کرتی۔" یہ میرے سوال کا جواب تو نہیں ہے؟" میں نے اس کے چہرے پر پھوٹنے والی
شفق کو محسوس کرتے ہوئے کہا۔ حیرت ہے کہ تم میری بات نہیں سمجھ سکے۔“ اس نے وضاحت کی۔ ”یہ مکان میری ذاتی ملکیت ہے اور تم کو بھی میں غیر نہیں سمجھتی اس لئے جب تک تم ڈھا کہ میں ہو یہیں رہو گے۔"
اور اگر میں انکار کر دوں؟" میں نے سوالیہ نظروں سے گھورا۔
تو مجھے دکھ ہو گا۔ " اس کی آواز میں اس کی زندگی کی تلخیاں گھلی ہوئی تھیں۔ میں اٹھ کر اس کے قریب چلا گیا، میں نے جواب میں اس کے مرمریں ہاتھوں پر اپنی گرفت مضبوط کی تو اس کی آنکھوں میں آنسو جھلملانے لگے، وہ آنسو اس کی عقیدت اور محبت کا اظہار تھے، ان میں خلوص تھا محبت تھی، اپنائیت تھی، میں نے بے اختیار ہو کر اسے اپنی آغوش میں گھسیٹ لیا' اس نے کوئی مزاحمت نہیں کی' اس کی خود سپردگی کا انداز بھی
قیامت تھا۔ کیا کرنل کو اس مکان کا علم ہے؟" میں نے کچھ سوچ کر پوچھا تو وہ مسکرا دی۔ ڈرتے ہو کرنل سے ؟ اس نے بڑے پیار سے کہا، پھر ٹھوس لہجے میں بولی۔ ”ہاں اسے اس مکان کا علم ہے لیکن وہ ادھر کا رخ کبھی نہیں کرتا، یا یوں سمجھ لو کہ اس کی غیرت اس کے پیروں کی زنجیر بن گئی ہے۔ وہ صرف اپنی کو ٹھی یا دوچار بوڑھے کھوسٹ
دوستوں کی حد تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔"
میں تمہاری پیشکش فی الحال قبول کئے لیتا ہوں لیکن... یں تمہاری بات سمجھ گئی۔ " اس نے مجھے بڑی حسرت سے دیکھتے ہوئے کہا۔ تمہاری یہ شرط بھی منظور ہے، جب تمہیں اس سے بہتر کوئی ٹھکانہ ملے تو چلے جانا
وہ میرے ساتھ تین چار گھنٹے گزار کر چلی گئی۔ جاتے جاتے اس نے وعدہ لیا کہ مجھے کسی چیز کی بھی ضرورت پڑے تو اسے فون کرنے سے دریغ نہیں کروں گا اس نے اپنی گاڑی بھی چھوڑنی چاہی لیکن میں نے انکار دیا۔ وہ گلے مل کر دوبارہ آنے کا وعدہ کر کے چلی گئی لیکن اس کے بدن کی خوشبو بڑی دیر تک میرے وجود کو مہکاتی رہی۔
میں دس روز کا تھکا ہوا تھا غسل کر کے لیٹا تو گھوڑے بیچ کر سو گیا۔ مجھے کسی کی مداخلت کا اندیشہ بھی نہیں تھا میں کب تک دنیا و مافیہا سے بے خبر رہا مجھے اس کا اندازہ نہیں لیکن اتنا یاد ہے کہ دوسری بار مجھے اس وقت ہوش آیا جب کسی کے قہقہوں کی آواز میرے وجود کے سناٹے میں گونجتی سنائی دی، میں ہڑبڑا کر اٹھا، ہر طرف گھپ اندھیرا تھا نے تیزی سے اٹھ کر لائٹ آن کی روشنی کے باوجود وہاں کوئی نظر نہیں آیا لیکن وہ آواز بدستور سنائی دیتی رہی، وہ اسی دیوانے ملنگ کے بے ہنگم قہقہوں کی آواز تھی جسے میں پہلے بھی سن چکا تھا۔ میں نے پورا مکان چھان مارا کونے کھدروں میں جھانک کر دیکھا لیکن وہ جسمانی طور پر کہیں نظر نہیں آ رہا تھا، صرف اس کے قہقے در و دیوار سے ٹکراتے پھر رہے تھے۔ تم کہاں ہو؟ میں نے اسے سنجیدگی سے پکارا۔ ”میرے سامنے آؤ مجھے تمہاری رہنمائی کی ضرورت ہے۔" میری آواز ابھرتے ہی اس کے قہقہوں کی آواز بند ہو گئی، میں ابھی اس گتھی کو سلجھانے میں مصروف تھا کہ مجھے یہ احساس بڑی شدت سے ہوا کہ خواب گاہ میں میں تنہا نہیں ہوں، میری چھٹی حس گواہی دے رہی تھی کہ وہاں میرے سوا کوئی اور بھی موجود ہے۔ کون ہو سکتا ہے؟ میں نے سوچا میرے ذہن میں فوری طور پر اسی دیوانے مانگ کا تصور ابھرا۔ میں نے پلٹ کر دیکھا تو دل کی دھڑکنیں تیز ہو گئیں، وہ جوگی سیتارام تھا جو فرش پر آلتی پالتی مارے بیٹھا مجھے تیز نظروں سے گھور رہا تھا۔
"تم" میں نے حیرت کا اظہار کیا۔ " تم کب آئے؟"
کیوں؟" اس نے سنجیدگی سے پوچھا۔ ”کیا میرے آنے سے تجھے خوشی نہیں نہیں ہے۔" میں نے سنبھل کر جواب دیا۔ " مجھے عدالت کا فیصلہ سننے کے بعد تمہارا انتظار تھا
میں تیرے ساتھ ساتھ ہی تھا، پر تیری نظریں مجھے نہیں دیکھ سکیں۔" ”میرے دشمنوں نے میرا رہنے کا ٹھکانہ بھی چھین لیا ہے۔" میں نے بے چینی کا
اظہار کیا۔ " مجھےبتا رہا ہے جوگی سیتارام کو جو دھرتی کے نیچے پاتال میں بھی جھانکنے کی مهان شکتی رکھتا ہے۔" اس نے بدستور مجھے گھورتے ہوئے کہا۔ ”چنتا کس بات کی ہے؟ کیا اس سندری نے تو ابھی جس کے کومل شریر سے کھیل رہا تھا، تجھے اپنا سب کچھ نہیں سونپ دیا؟
" میں نے کچھ کہنا چاہا لیکن اس نے میری بات کاٹ دی۔ اس کے ہونٹوں پر بڑی پراسرار مسکراہٹ نمودار ہوئی، اس نے سرسراتے لہجے میں کہا۔ ”وہ جو کچھ کر رہی ہے میرے اشارے پر کر رہی ہے۔ میں نے تجھے رام کرنے کے کارن اس کے مندر شریر کا جال پھینکا تھا۔ اس کے من میں تیرا پریم جگایا تھا۔ یہ مندریاں کیوں ہوتی ہی. اس لئے ہیں کہ منش جات کا من بہلائیں، ابھی تو نے کچھ بھی نہیں دیکھا، جوگی کی آگیا کا پالن کرتا رہے گا تو تیرے پنکھ بھی اڑنا سیکھ لیں گے تو آکاش کی بلندیوں پر تیرتا پھرے گا اندر کے اکھاڑے کی سیر کرے گا جہاں اپسرائیں تیرا من بہلائیں گی۔" میں نے تم سے جو وعدہ کیا تھا وہ مجھے یاد ہے لیکن میں کب تک تمہارا ہاتھ پکڑ کر
چلتا رہوں گا؟ میں نے پہلو بدل کر سوال کیا۔ جب تک سیتارام کو تیری ضرورت ہے تو کہیں ادھر اُدھر نہیں جا سکے گا۔" وہ سرسراتے لہجے میں بولتا رہا۔ ایک بات گرہ سے باندھ لے اس سنسار میں کیول ان کو زندہ رہنے کا ادھیکار ہے جو مہان شکتی پراپت کر لیتے ہیں، منش کے بازو میں شکتی نہ ہو اس کی آنکھوں سے بھڑکتے ہوئے شعلے نہ نکلتے ہوں تو کوئی اس کے سامنے ڈنڈوت (سجدہ) نہیں کرتا، سب شکتی کا کھیل ہے بھولے ہاتھ ۔ سیتارام کے کے پر چلے گا تو کندن بن جائے گا۔ دو چار جاپ منتر کر لے گا تو تو بھی بلوان بن جائے گا،
سیتا رام اپنے دھرم اور دیوی دیوتاؤں کی بات کر رہا تھا، میں نے اس سے وعدہ نہ کیا ہوتا تواسے اٹھا کر گھر سے باہر پھینک دیتا اسے بتاتا کہ میں ایک کٹر مسلمان ہوں حالات
کی بھنور میں پھنس کر میرے قدم ڈگمگا ضرور گئے تھے، مجھے اپنے ناکردہ گناہوں کی بڑی سخت اور از متناک سزائیں بھی بھگتنی پڑی تھیں لیکن میں نے اپنے مذہب سے منہ نہیں پھیرا تھا۔
پھر الجھ گیا دھرم کرم کے چکروں میں؟" سیتارام نے مجھے تیز نظروں سے گھورا۔
" مجھے ابھی تک تیری نیت میں کھوٹ نظر آ رہا ہے، یاد رکھ مور کھ! اگر تو نے اپنا دیا ہوا و چن توڑنے کی بھول کی تو میں ایسا سراپ دوں گا کہ تیرے پرکھوں کی آتمائیں بھی بیاکل ہو جائیں گی، میں نے تجھ سے کہا تھا نا کہ میں من کا حال جاننے کی شکتی بھی رکھتا ہوں اور و تو مجھے گھر سے اٹھا کر باہر پھینکنے کا وچار کر رہا ہے. اپرادھی۔" میں نے خود کو تیزی سے سنبھالا میں اس کی ماورائی قوتوں کا کرشمہ دیکھ چکا تھا۔ تم مجھے غلط مت سمجھو۔" میں نے بات بنانے کی کوشش کی۔ " تم نے مجھ پر جو
احسان کیا ہے وہ میری ذات پر قرض ہے لیکن ...
لیکن ولیکن نہیں چلے گی سیتارام کے ساتھ ۔ " اس نے بگڑے ہوئے تیور سے کہا۔ تو نہیں جانتا، میں نے تجھے کھوجنے کے لئے کتنے جتن کئے ہیں۔ تو نے وچن نہ دیا ہو تا تو اور بات تھی پر نتو اب اگر تو نے چھل کپٹ سے کام لیا تو تیرے حق میں اچھا نہیں ہو گا۔" میں سیتارام کی قوت کا تماشہ دیکھ چکا تھا، میرے لئے اس سے بگاڑ کرنا مناسب نہیں تھا مجھے یہ بھی خیال تھا کہ جب میرے دشمنوں کی تین لاشیں برآمد ہوں گی تو چاروں طرف کہرام مچ جائے گا وہ خاموش نہیں بیٹھیں گے ، انسپکٹر اور تھانے کے آن ڈیوٹی عملے کو بھی ایک ایک کر کے کریدا جائے گا کسی نے زبان کھول دی تو وہ پھر بھو کے گدھ کی مانند مجھ پر ٹوٹ پڑیں گے۔ گواہ منحرف نہ ہوئے ہوتے تو میں اس وقت بھی کھلی فضا میں سانس نہ لے رہا ہوتا۔ جو کچھ ہوا تھا وہ ناقابل یقین ہی تھا۔ سیتارام کی قوت میرا ساتھ نہ دیتی تو میرا انجام بھیانک ہی ہوتا۔ میں تیرے من کی کھل بل دیکھ رہا ہوں۔" اس نے ٹھوس لہجے میں کہا۔ "میرا کہا مان لے مورکھ نہیں تو اس دھرتی پر تجھے کہیں ٹانگ پیارنے کی جگہ نہیں ملے گی، سارا حسن کانٹوں پر لوٹ لوٹ کر بیتا دے گا۔"
میرا دل گواہی دے رہا تھا کہ وہ جو کچھ کہہ رہا ہے غلط نہیں ہو گا، اگر وہ اپنی ماورائی کے ذریعے مجھے موت کے منہ سے نکال سکتا تھا، میرے جسم میں کوئی شیطانی روح
پھونک سکتا تھا تو اس کا ایک اشارہ مجھے دوبارہ پھانسی کے پھندے تک بھی پہنچا سکتا تھا۔ میرے پاس اس کی بات پر عمل کرنے کے سوا اور کوئی راستہ بھی نہیں تھا۔
"سیتارام" میں نے نرم لہجے میں اسے مخاطب کیا۔ ”میں اپنے وعدے سے پیچھے نہیں ہٹ رہا تم نے میرے ساتھ جو سلوک کیا میں اس کے لئے بھی تمہارا شکر گزار ہوں۔ میرے اوپر جو بیتی ہے وہ تم بھی جانتے ہو، مجھے ملازمت سے معطل کیا گیا، میرا سر چھپانے کا ٹھکانہ بھی چھن گیا، تمہاری وجہ سے جھرنا میرا ساتھ نہ دیتی تو میں اس وقت کسی فٹ پاتھ پر بھٹک رہا ہوتا۔ میری ملازمت کا بھی کوئی یقین نہیں ہے، رحیم الدین بڑا کیکر آدمی ہے، وہ مجھے آسانی ۔ سے" شانت ہو جا بالک!" جوگی سیتارام معنی خیز انداز میں مسکرا کر بولا۔ ”میں جان گیا تو کیا چاہتا ہے۔ بس اب کوئی چنتا مت کر اٹھ کر مہان جوگی کا ہاتھ تھام کر آنکھیں موند لے میں تیرے من کی ساری آشاؤں کو پورا کر دوں گا، دھن دولت تو ہاتھ کا میل ہے میں تجھے بتاؤں گا کہ جو مہان شکتی کے مالک ہوتے ہیں ان کے لئے کوئی کام کٹھن نہیں ہوتا، میں تجھے کندن بنا دوں گا۔ کندن تو بھی کیا یاد کرے گا کہ کسی گرو سے پالا پڑا تھا۔"
میں ایک بات اور جاننا چاہتا ہوں۔" میں نے غیر اختیاری طور پر پوچھ لیا۔ "کیا
ابھی کچھ دیر پہلے تم ہی قہقہہ لگا رہے تھے ؟" سیتا رام کے چہرے پر ایک رنگ آکر گزر گیا، تیوری چڑھا کر بڑے سرد لہجے میں بولا۔ "مجھ سے ٹھٹھول کر رہا ہے؟" میری بات کا یقین کرو۔" میں نے سنجیدگی سے کہا۔ "تمہارے آنے سے پیشتر میں کسی کے قہقہوں کی آواز سن رہا تھا، میں سمجھا کہ شاید تم ہی ہو گے۔" نہیں وہ میں نہیں تھا لیکن میں سمجھ رہا ہوں کہ وہ کون ہو گا۔ " اس نے
خلا میں گھورتے ہوئے بدستور سنجیدگی سے کہا۔
کون ہو گا؟" میں نے اسے ٹٹولنے کی کوشش کی۔
ان چکروں میں سمے برباد مت کر بالک! یہ ابھی تیرے بس کا روگ نہیں ہیں۔ چل
ہاتھ تھام کر آنکھیں موند لے۔" میرے دل میں ایک لمحے کو آیا کہ اس سے پوچھوں کہ مجھے کہاں لے جانا چاہتا
لیکن پھر میں نے اپنا ارادہ ترک کر دیا، خاموشی سے اٹھ کر سیتارام کا ہاتھ تھام لیا پھر جو کچھ ہوا وہ بہت حیرت انگیز تھا۔ سیتا رام کا ہاتھ تھامتے ہی مجھے ایسا لگا جیسے میرے پورے وجود پر لرزہ طاری ہو گیا ہو، میرے ذہن پر شدید غنودگی طاری ہونے لگی۔میں نے خود کو سنبھالنے کی کوشش کی لیکن میرا ذہن آہستہ آہستہ معطل ہو تا چلا گیا، سیتارام کی گرفت میرے ہاتھ پر مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جا رہی تھی۔
میں ہوش میں آیا تو رحیم الدین اپنی خواب گاہ میں بستر استراحت پر تھا میں نے مدھم روشنی میں دیوار گیر کلاک پر نظر ڈالی، اس وقت رات کے دو کا عمل تھا۔ مجھے حیرت ہوئی وہ اپنی خوابگاہ میں بالکل تنہا تھا، اس نے دروازہ بھی اندر سے بند کر رکھا تھا میرے کانوں میں جوگی سیتارام کی سرگوشی سنائی دی۔
”بالک! یہی ہے وہ دشت جس نے بخاری کو اور تجھے جھوٹے کیس میں الجھا کر تیرا پتا صاف کرنے کی گھناؤنی سازش کی تھی۔ بخاری نے تجھ کو جس مخبر کا نام نہیں بتایا وہ بھی اسی کا خاص آدمی تھا۔ اس نے ایک تیر سے دو شکار کھیلے ہیں۔ بخاری بھی اس کے جال میں پھنس کر پر لوک سدھار گیا اور تو بھی چکی کے دو پاٹوں کے بیچ آکر در بدر ہو گیا۔" پر اسرار جوگی کی آواز میرے دل و دماغ کو جھنجھوڑ رہی تھی۔ یہی وہ پاپی ہے جس نے اپنی تجوری میں مایا کا انبار اکٹھا کر رکھا ہے۔ اس کی ساری دھن دولت اسی کے کمرے میں ہے اسی کارن یہ اپنی استری (بیوی) کے ساتھ نہیں سوتا۔ کل اس نے تجھے راستے سے ہٹانے کی خاطر تیری موت کا جال بنا تھا آج یہ تیرے سامنے پڑا چین کی نیند سو رہا ہے۔ سمے اب تیری مٹھی میں ہے، ، تیرے شریر میں پھر وہی شکتی موجود ہے جس کے اشارے پر تو نے اپنے تین دشمنوں کو نرکھ میں جھونک دیا تھا۔ میری بات دھیان سے سن سانپ یا کسی ہتیارے کا سر کچلنا پاپ نہیں ہے، تو اس پاپی سے بھیانک انتقام لینے کے کارن یہاں آیا ہے، اس کے دھن میں سے اپنا حصہ سمیٹ لے، باقی کو آگ لگا دے۔ اس کی ایک سندر پتری (بیٹی) دوسرے کمرے میں سو رہی ہے، جاتے جاتے ایک نظر اسے بھی دیکھ لینا، جھرنا اس کے پاؤں کی دھول بھی نہیں ہے۔ سندر ناریاں منش کا من بہلانے کا کھلونا ہوتی ہیں، تو اس کھلونے سے من بہلا کر اسے بھی موت کی نیند سلا دے، تیرے من کو جبھی شانتی ملے گی جب تو دشمنوں سے اپنا انتقام لے گا۔ یہ سنسار اسی کا ساتھ دیتا ہے جو بلوان ہوتے ہیں۔ تیرے شریر میں دیوی دیوتاؤں کا آشیر باد دوڑ رہا ہے، جوگی سیتا رام کی مہان شکتی بھی تیرے ساتھ ہے کوئی چنتا مت کر، دھرم کرم کو بھول جا ۔ یہ شجھ گھڑی بیت گئی تو تو اپنے دشمنوں سے اپنا انتظام کبھی نہ لے سکے گا۔ اپنے قدم زمین پر گاڑ لے، آج کیول تیرا دانا ہے، اپنے من سے ساری دیدھا دور کر ے۔ یہاں جوگی کی آگیا کا پالن کر، جو تیرے سامنے ٹانگ پسارے پڑا ہے اس کی ٹانگیں پر دے اس کا دھن تیرے زخموں کا مرہم ہے، تیرے شریر میں جو اگنی (آگ) بھڑک رہی ہے اسے اس پاپی کے خون سے بجھائے، اس کی سندر چھو کرمی کے کومل بدن کو اسی طرح روند ڈال جس طرح اس کے کارن تجھے چکی کے دو پاٹوں کے پیچ روندا گیا تھا۔ باقی سب کچھ بھول جا۔ یہ سے بیت گیا تو سارا جیون دھرتی پر اپاہجوں کی طرح ایڑیاں رگڑتا پھرے گا۔ سن رہا ہے مورکھ! مہان جو گی تجھے کیا بھاشن دے رہا ہے کیا پاٹھ
دے رہا ہے؟"
سیتارام کی باتیں میرے پورے وجود میں گونج رہی تھیں۔ مجھے اپنے اندر پھر ای قوت کا احساس ہو رہا تھا جس کے بل بوتے پر میں اپنے تین دشمنوں کو موت کے گھاٹ اتار چکا تھا۔ میری نظریں رحیم الدین کے چہرے پر مرکوز تھیں جو شاندار مسہری پر بنا سکون کی نیند سو رہا تھا۔ میرے اندر لاوا ابلنے لگا، میری آنکھوں سے انتقام کے شعلے لپکنے لگے، میں نے آگے بڑھ کر رحیم الدین کے منہ پر ایک بھر پور تھپڑ مارا تو وہ بوکھلا کر اٹھ بیٹھا۔ مجھے اپنی خواب گاہ میں دیکھ کر اسے یقیناً حیرت ہی ہوئی ہو گی وہ ہاتھ کی انگلیوں سے آنکھیں ملنے لگا۔ شاید اپنے آپ کو یقین دلانا چاہتا تھا کہ وہ کوئی خواب دیکھ رہا ہے اس کی مقفل خواب گاہ میں کسی کا بغیر اجازت داخل ہونا ناممکن ہی تھا۔ تو جو کچھ دیکھ رہا ہے وہ خواب نہیں حقیقت ہے۔" میں نے زہریلے ناگ کی طرح پھنکارتے ہوئے کہا۔ " مجھے غور سے دیکھ لے میں وہی آذر ہوں جو اپنی ایمانداری کے سبب تیری نظروں میں اس وقت سے کھٹک رہا تھا جب سے تو نے میرے تبادلے کے آرڈر اور میری پرسنل فائل دیکھی تھی۔" "تم تم آذر نہیں ہو سکتے۔ " اس نے اپنے سر کو جھٹک کر غیر یقینی انداز میں کہا مسلح پہرے دار موجود ہیں، ان کی اجازت کے بغیر کوئی پرندہ بھی آ سکتا۔
میں وہ پرندہ ہوں رحیم الدین جس پر گولیاں کوئی اثر نہیں کرتیں۔ " لیکن تم ..
”ہاں، تم نے مجھے مروانے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا تھا۔" میں نے سرد آواز میں اسے یاد دلانے کی کوشش کی۔ " تم شاید تحمل بخاری سے بھی اکتا چکے تھے جو ایک سازش کے تحت اس کے کانٹے کو بھی درمیان سے نکلوا دیا اور مجھے بھی مروانے کی کوشش کی لیکن تم شاید یہ بھول گئے تھے کہ ایک دن موت کا فرشتہ تمہیں بھی دبوچ کر موت کی ابدی نیند سلا سکتا ہے۔" رحیم الدین میری باتیں سن کر چونکا وہ پوری طرح ہوش میں آچکا تھا اس کی آنکھوں سے خوف جھانکنے لگا۔ "کیا تم مجھے بتاؤ گے کہ میں نے تمہارا کیا بگاڑا تھا؟" میں نے تلملا کر پوچھا۔
"تم .
تم جو کچھ سوچ رہے ہو، سمجھ را رہے ہو وہ غلط ہے۔" اس نے مجھے بہلانے کی کوشش کی۔ بخاری میری کسی سازش کا نہیں اپنی حماقت اور ضرورت سے زیادہ خود اعتمادی کا شکار ہوا۔ ڈیفنس سیکرٹری کے سالے سے دولاکھ روپے کی رشوت اسے لے ڈوبی، اس کی موت میں میرا کوئی ہاتھ نہیں تھا۔ وہ وہ میرا سب سے قیمتی آدمی ..
تھا۔"اور میں پتھر تھا جسے تم ٹھوکر مار کر اپنے راستے سے ہٹانا چاہتے تھے۔" میں نے اسے تیز نظروں سے گھورتے ہوئے کہا۔ "تم نے میری مدد کرنے کے بجائے میری معطلی اس
کے آرڈر جاری کر دیئے تم اپنا دامن بچانا چاہتے تھے۔"
ایسا نہیں ہے۔“ اس نے پہلو بدل کر کہا۔ ”میں نے صرف قانون کا تقاضہ پورا کیا
تھا لیکن اب تم باعزت بری ہو چکے ہو، میں تمہیں دوبارہ ڈیوٹی پر لینے کو تیار ہوں، تم کل"صبح مجھ سے دفتر میں ملو میں تمہیں ... تم بہک رہے ہو میری جان! میں زہر خند سے بولا۔ ”میں ایماندار ضرور ہوں
لیکن اتنا احمق نہیں کہ تمہارے جھانسے میں آجاؤں۔"
اور اور تم مجھ سے کیا چاہتے ہو ؟" اس نے سپاٹ لہجے میں پوچھا۔ وہ تمام دھن دولت جو تم نے اپنے اس خوبصورت مقبرے میں جمع کر رکھا ہے۔" میں نے اس کی خواب گاہ پر نظر ڈالتے ہوئے سفاک لہجہ اختیار کیا۔ " شرافت سے میری مان لو گے تو شاید میں تمہارے ساتھ کوئی رعایت کر دوں، دوسری شکل میں تمہیں کوئی سے
کھیل کھیلنے کی خاطر زندہ نہیں چھوڑوں گا۔"
تم غلطی کرو گے۔ " اس نے سنبھالا لینے کی کوشش کی۔ " تم نے اگر مجھے مار دیا تو خود بھی زندہ نہ بچ سکو گے۔"
رحیم الدین مجھے ایک لمحے تک دیکھتا رہا پھر اس نے جس پھرتی سے تکیے کے نیچے ہاتھ ڈال کر اپنا ریوالور نکالا اسے دیکھ کر میں بھی ششدر رہ گیا لیکن خوف میرے ذہن سے کوسوں دور تھا اس کے ہاتھ میں دبا ہوا اعشاریہ تین آٹھ کا ریوالور بھی مجھے بچوں کے کھلونے کی طرح لگ رہا تھا۔ شاید وہ جوگی سیتا رام کی اُس شیطانی قوت کا کرشمہ تھا جو ایک بار پہلے بھی میرے کام آچکی تھی۔ اس وقت بھی سیتارام کی ماورائی قوتوں نے میرے دل و دماغ کو پوری طرح تسخیر کر رکھا تھا۔ میرا ذہن صرف ان ہی باتوں پر عمل کرنے کو سوچ رہا تھا جو سیتارام نے میرے ذہن میں بٹھا دی تھیں۔ اس کھلونے کو جیب میں رکھ لو رحیم الدین! میں نے مسکرا کر لا پرواہی سے کہا۔ فرار حاصل کرنے کی خاطر اگر تم تجوری کھول کر اس کی تمام پونجی میرے حوالے کر دو تو یہ سودا تمہارے لئے زیادہ مہنگا نہیں ہو گا میری بات پر ٹھنڈے دل سے غور کرنے کی کوشش کرو۔" باسٹرڈ ریوالور ہاتھ میں آجانے کے بعد اس کے حوصلے بلند ہو گئے تھے، اس نے بڑی حقارت سے کہا۔ اس وقت تو میرے رحم و کرم پر ہے، اگر تو نے ایک ذرا حماقت کی تو میں تیرا جسم گولیوں سے چھلنی کر دوں گا۔" تجوری کا سارا مال نکال کر میرے قدموں پر ڈال دو۔" میں نے لا پرواہی سے کہا۔ اس کے ساتھ تمہیں مجھے اپنی ایک تحریر بھی دینی ہو گی کہ تم" تو شاید پاگل ہو گیا ہے۔“ وہ میری بات کاٹ کر تیزی سے مسہری سے نیچے آگیا۔ مجھے بتاؤ کہ تمہیں میری خواب گاہ تک پہنچانے کی غلطی کس نے کی ہے؟" "جوگی سیتا رام نے۔ " میں نے سنجیدگی سے جواب دیا۔ ” وہ جو مہمان شکتی کا مالک
تم شرافت سے زبان نہیں کھولو گے شاید ؟" وہ غصے سے ہونٹ چبانے لگا۔ تم آزما کر دیکھ لو۔" میں نے اسے قہر آلود نظروں میری بات کا اندازہ بھی ہو جائے گا۔"
رحیم الدین کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا تھا، اس نے جھلا کر یکے بعد دیگرے دو فائر کئے لیکن پھر اس کی آنکھیں بھی حیرت سے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ اس کے ریوالور سے لکھے والی گولیاں میرے قدموں پر پڑی نظر آ رہی تھیں۔ مجھے کوئی تعجب نہیں ہوا میں پہلے بھی جوگی سیتارام کی شیطانی قوتوں کا تماشہ دیکھ چکا تھا۔ وہ حیرت انگیز اور ناقابل یقین قوتوں کا مالک تھا۔ تمہارے ریوالور کے چیمبر میں ابھی تین چار گولیاں اور بھی ہوں گی۔ " ۔ انہیں بھی آزما کر دیکھ لو دل میں کوئی حسرت نہ رہ جائے۔" جواب میں اس نے باقی گولیاں بھی داغ ڈالیں لیکن ان کا بھی وہی انجام ہوا ۔ رحیم الدین کی آنکھیں پٹ پٹانے لگیں۔ جو کچھ ہوا خود اسے بھی اس پر یقین نہیں آسکا تھا ایک بھی بت بنا کھڑا مجھے حیرت سے دیکھنے لگا۔ اب شرافت سے تجوری کھول کر ساری جمع پونجی کسی بیگ میں ڈال کر میرے حوالے کر دو۔" میں نے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا۔ اس نے معمول کی طرح ریوالور ہاتھ سے گرا دیا پھر بائیں جانب دیوار پر لگی ایک فریم شدہ تصویر بنے اتارا تو اس کی پشت پر وہ تجوری نظر آنے لگی جس کے اندر اس نے کروڑوں کی رقم - شد علاوہ زیورات اور سونے کی اینٹیں بھی چھپا رکھی تھیں۔ میں خاموش کھڑا اسے گھورتا رہ اس نے ایک بیگ میں تجوری کا سارا مال نکال کر ڈالا پھر میرے قدموں میں لا کر ڈال دیا دیکھا بالک! تو نے جوگی کی مہمان شکتی کا چنکار " سیتا رام کی آواز میرے کانوں میں گونجی۔ تو نے ایک جھٹکے میں اتنی دھن دولت حاصل کرلی کہ برسوں چین کی بنہ بجا سکتا ہے۔ اس دھن پر اب کیول تیرا ادھیکار ہے اسے سینت کر رکھنا اس کی شکتی؟
بڑی بڑی انمول چیزیں خرید سکتی ہے۔" میری نظریں بدستور رحیم الدین کے چہرے پر مرکوز تھیں جس کا چہرہ ہلدی کی طرح زرد ہو رہا تھا۔
میں نے تمہاری خواہش پوری کر دی۔ " اس نے رحم طلب لہجے میں درخواست اب تم مجھے جان سے تو نہیں مارو گے؟"نہیں۔" میں زہر خند سے بولا۔ یہ نیک کام بھی تم خود انجام دو گے۔" نہیں. نہیں۔" وہ دیوانوں کی طرح چلانے لگا۔ "تم ایسا نہیں کرو گے۔
رحیم الدین!؟" میں نے اس کی چیخ و پکار سے لطف اندوز ہوتے ہوئے کہا۔ مسہری کی چادر سے اپنے لئے پھانسی کا پھندا تیار کرو اس کو سیکھے میں باندھ کر دوسرا سرا اپنے گلے میں ڈال لو یہی تمہاری سزا ہے، یہی میرا حکم ہے۔"
پھر وہی ہوا جو میں نے چاہا تھا، رحیم الدین نے میری ہدایت کے مطابق خود کو سیکھے سے لٹکا کر خود کشی کر لی، اس کا جسم کچھ دیر تک ہوا میں پھڑ پھڑایا پھر اس کی گردن کا منکا ٹوٹ گیا اس کی آنکھیں بے نور ہو کر حلقے سے باہر ابل آئیں۔ میں بیگ اٹھا کر اس کی خواب گاہ سے فاتحانہ انداز میں نکلا۔ جوگی سیتارام کی لازوال طاقت مجھے کنٹرول کر رہی تھی، میں ایک دوسری خواب گاہ میں داخل ہوا جہاں زیر و پاور کا ایک نیلا بلب روشن تھا، میں دروازہ اندر سے بند کر کے آگے بڑھا تو میں نے ایک چاند سے چہرے کو نرم و گرم مسہری پر محو خواب پایا۔ اس کی کمسن جوانی کے بہیجان انگیز نشیب ان کو سفید ڈرینگ گاؤن سے جھلکتا دیکھ کر میرے جسم سے کن کھجورے لپٹ گئے اسنے غلط نہیں کہا تھا، جھرنا اس کے قدموں کی دھول بھی نہیں تھی۔ میرے جذبات میں آگ لگ گئی' میرے حلق میں کانٹے سے جینے لگے، مجھ پر جنونی کیفیت اتنی شدت سے طاری ہوئی کہ میں انسان سے درندہ بن گیا۔
میرے مقابلے میں وہ پالتو ہرنی کوئی مزاحمت نہ کر سکی' صرف ہاتھ جوڑ جوڑ کر مجھے دنیا جہان کے واسطے دیتی رہی، چیختی چلاتی رہی، تڑپتی رہی لیکن میں اندھا ہو گیا تھا، بہرا ہو گیا تھا۔ میں اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھا تھا۔ میں اپنے آپ میں تھا بھی کہاں جو کسی بات سینہ پر غور کر سکتا میری انسانی مشین کے تمام کل پرزے جوگی سیتارام کے قبضے میں تھے جو میں دور بیٹھا ریموٹ اپنے ہاتھ میں لئے مجھے کنٹرول کر رہا تھا۔ میں رحیم الدین کی عالیشان کوٹھی میں کب اور کس طرح داخل ہوا؟ اس کی خواب گاہ کے بند دروازے مجھ پر کس نے کھولے ؟ گیٹ پر موجود پہرے داروں نے مجھے دیکھ کر اپنی رائفلیں نیچے کیوں جھکا لیں؟ مجھے گولیوں سے چھلنی کیوں نہیں کیا؟ رحیم الدین نے اپنی زندگی بھر کی کمائی ہوئی حرام کی دولت میرے قدموں میں اتنی خاموشی سے کیوں ڈال دی؟ میں نے اس کی پھول جیسی نازک اور مخملی جسم والی لڑکی کو اپنی وحشت اور جنون کے اندر ، مسل دیا لیکن اس کی چیخ و پکار کی آوازیں کسی کے کانوں تک نہیں کے ساتھ ساتھ مکینوں کی نظروں پر بھی پٹی بندھی تھی؟ ان کی قوت
سماعت معطل ہو گئی تھی؟ کیا طلسم تھا جس نے ہر ناممکن کو میرے لئے ممکن بنا دیا تھا؟ میں دندناتا پھر رہا تھا۔ دوسرے معذور و بے بس ہو کر رہ گئے تھے۔ وہ کیا سحر تھا؟ کیا اسرار تھا؟ میں آج بھی کبھی سوچتا ہوں تو سب خواب کی باتیں معلوم ہوتی ہیں۔ لیکن و
خواب نہیں تھا، ایک ناقابل یقین حقیقت تھی۔
میں ایک عجیب نشے کی کیفیت سے دوچار تھا، میں اس کیفیت کو کوئی نام نہیں دے سکتا شاید مجھے خواب بیداری" کا مرض لاحق ہو گیا تھا، مجھے کسی بات کا مطلق ہوش نہیں تھا پھر میں نے تھکے ہوئے انداز میں خود کو بستر پر گرا دیا، میرا ذہن کیف و مستی کے عالم سے سرشار تھا، مجھ پر غنودگی طاری ہونے لگی، میری جنونی کیفیت کا شکار ہونے والی معصوم اور بے گناہ لڑکی آہستہ آہستہ سکیاں بھر رہی تھی پھر ان سسکیوں کی آوازیں بھی معدوم ہوتی چلی گئیں۔ میرے اعصاب کا تناؤ ٹوٹ چکا تھا، میں گھپ اندھیروں میں ڈوب کر سب کچھ فراموش کر چکا تھا جب کسی نے دروازے کی کال بیل بجائی شروع کی، بڑی دیر تک میرے وجود کے سناٹے میں گھنٹیوں کی آوازیں گونجتی رہیں پھر میں نے گھبرا کر آنکھیں کھول دیں۔ میری آنکھیں حیرت سے پٹ پٹانے لگیں، جھرنا نے مجھے جو مکان سر چھپانے کی خاطر عارضی طور پر دیا تھا میں اس وقت اسی کی خواب گاہ میں موجود تھا میں نے دیوار پر کلاک پر نظر ڈالی، صبح کے دس بج رہے تھے۔ گھنٹی کے بعد کسی نے دروازہ پیٹنا شروع کہ تو ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھا میں نے دروازہ کھولا تو سامنے جھرنا کھڑی تھی۔
تم کب آئیں؟" میں نے جماہی لیتے ہوئے سوال کیا۔
وہ میری بات کا جواب دینے کے بجائے تیزی سے قدم بڑھاتی اندر آگئی، اس نے دروازہ بند کر دیا، میں نے اسے غور سے دیکھا وہ کچھ پریشان اور الجھی الجھی نظر آرہی
تھی۔
کیا بات ہے؟" میں نے ایک ممکنہ خطرے کے پیش نظر سوال کیا۔ کیا کرنل کو علم
ہو گیا کہ میں یہاں موجود ہوں؟" جنم میں گیا کرنل !" وہ الجھ کر بولی پھر مجھے سر سے پاؤں تک گھورتے ہوئے "کل جب میں تمہیں یہاں چھوڑ کر گئی تھی اس کے بعد تم کہیں باہر گئے تھے ؟" نہیں۔" میں نے سپاٹ لہجے میں جواب دیا۔ جھرنا کو دیکھنے کے بعد مجھے ایک لمحے
کو یہی خیال ہوا کہ میں نے رحیم الدین کے سلسلے میں کوئی خواب ہی دیکھا تھا شاید وہ اس سے میری نفرت کا رد عمل تھا جو مجھے رات بھر پریشان کرتا رہا تھا۔ " تم نے کل سے اب تک کچھ کھایا پیا بھی نہیں ؟" جھرنا نے حیرت سے دریافت کیا
اس کی حیرت میں تجس بھی شامل تھا۔ نہیں۔" میں طویل انگڑائی لے کر لاپرواہی سے بولا۔ "میرا خیال ہے کہ تم نہ
آتیں تو شاید ابھی میں دو چار گھنٹے اور سوتا ہی رہتا۔" جھرنا کے چہرے پر الجھن اور پریشانی کی ملی جلی کیفیت طاری تھی، وہ کسی بات سے پریشان تھی لیکن مجھ سے چھپانے کی کوشش کر رہی تھی۔ کیا بات ہے؟" میں نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر بے تکلفی سے دریافت کیا۔
تم اس وقت موڈ میں نظر نہیں آ رہی ہو۔"
”ہاں کچھ ایسا ہی معاملہ ہے۔" ” مجھے نہیں بتاؤ گی؟" میں نے پیار سے اس کی آنکھوں میں جھانکا۔
”میں نے ابھی کچھ دیر پیشتر رحیم الدین کو اس کے آفس فون کیا تھا۔ " اس نے مجھے ٹولتی نظروں سے دیکھتے ہوئے قدرے سنجیدگی سے کہا۔ ”میں اس سے تمہارے سلسلے میں
بات کرنا چاہتی تھی۔" پھر کیا اس نے تمہارا حکم ماننے سے بھی انکار کر دیا؟" میں نے ہلکا سا طنز
کیا۔وہ آج سرے سے دفتر آیا ہی نہیں۔" جھرنا نے پریشان لیجے میں اپنی بات جاری نے رکھی۔ اس کے پی اے نے مجھے اطلاع دی ہے کہ رات اس نے پنکھے سے لٹک کر
خود کشی کرلی۔" میرے ذہن میں ایک دھماکہ ہوا، جھرنا کی زبان سے نکلا ہوا ایک ایک لفظ میرے زہن پر ہتھوڑے برسا رہا تھا۔ مجھے وہ منظر یاد آگیا جب میرے کہنے پر رحیم الدین نے اپنے بستر کی چادر کو گلے میں باندھ کر خود کو سیلنگ فین سے لٹکا دیا تھا، ۔ میری آنکھوں کے سامنے وہ تمام مناظر جو میں خواب سمجھ رہا تھا۔ میری پیشانی پر پسینا آگیا
تم کیا سوچنے لگے ؟" جھرنا نے میرے چہرے کے تاثرات کو بغور دیکھتے ہوئے کہا۔
اب اب شاید میرا کیس اور الجھ جائے گا۔ " میں نے گول مول جواب بھول جاؤ ملازمت کو ۔ " اس نے اپنائیت کا اظہار کیا۔ ” میری اپنی کمائی ہوئی دولت
بینک میں پڑی سڑ رہی ہے، وہ کس دن کام آئے گی؟"
جھرنا!" میں نے اس کی پیشکش نظر انداز کرتے ہوئے سنجیدگی سے پوچھا۔ "کیا تم
رحیم الدین کے گھر فون کر سکتی ہو؟"
ہاں لیکن تم اس کی خود کشی کی خبر سن کر اس قدر میں جاننا چاہتا ہوں کہ اس کی خود کشی کا سبب کیا ہے؟“ میں نے اس کی بات کاٹ کر اصرار کیا۔ پلیز تم میری خاطر معلوم کرنے کی کوشش کرو۔" تم کس نتیجے پر پہنچنے کی کوشش کر رہے ہو ؟" وہ پھر مجھے کریدنے لگی۔ تم فون نہیں کر سکتیں تو رہنے دو۔" میں نے الجھ کر کہا۔ ”میں کسی اور ذریعہ سے معلوم کرلوں گا۔" جھرنا نے میری کیفیت کو محسوس کرتے ہوئے کوئی جواب نہیں دیا، باہر آکر فون کا رسیور اٹھایا اور رحیم الدین کے گھر کے نمبر ڈائل کرنے لگی، میرے دل کی دھڑکنیں ہر لمحہ تیز سے تیز ہوتی جارہی تھیں۔ کچھ دیر تک جھرنا دوسری طرف سے فون اٹھانے والے سے بات کرتی رہی پھر رسیور رکھ کر بولی۔ گھر والے کسی ایک اہم بات کو چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں، پولیس کی تفتیشی ٹیم اپنا کام کر رہی ہے۔" جھرنا کا جملہ میرے ذہن میں کسی بچھو کی طرح ڈنک مارنے لگا میں سمجھ گیا کہ وہ اہم بات کیا ہو گی۔ انہوں نے وقتی طور پر دو اور دو چار کرنے کی کوشش کی ہو گی۔ رحیم الدین کی خود کشی کی واردات کو جوان بیٹی کی آبروریزی سے منسوب کر دیا ہو گا۔ پولیس والے بھی یہی سوچ رہے ہوں گے ، انہوں نے کوٹھی کے پہرے داروں کو حراست میں لے لیا ہو گا دوسرے ملازموں کو بھی کریدنے کی کوشش کی جا رہی ہو گی، یکے بعد دیگرے ہونے والے سنگین وارداتوں نے پولیس اور بااثر حلقوں میں کھلبلی مچا دی ہو گی، حکومت بھی حرکت میں آچکی ہو گی، سب سر جوڑے بیٹھے کسی آخری نتیجے پر پہنچنے کی
کوشش کر رہے ہوں گے۔ ممکن ہے کسی حوالے سے میرا نام بھی درمیان میں آیا ہو۔ جوگی سیتارام کے بارے میں کسی کو وہم و گمان بھی نہیں ہو گا لیکن مجھے گزشتہ رات کی ایک ایک بات یاد آرہی تھی، اس نے مجھے اپنا ہاتھ تھام کر آنکھ موندنے کو کہا تھا، پھر آنکھ کھلنے کے بعد میں نے خود کو رحیم الدین کی خواب گاہ میں پایا تھا اور اس کے بعد۔ میرا خیال ہے کہ تم رحیم الدین کی خود کشی کا کچھ زیادہ ہی اثر لے رہے ہو ؟" تم جھرنا نے میری خاموشی کو محسوس کرتے ہوئے کہا۔ "کم آن آذر! ریلیکس (Relax) رحیم الدین کی جگہ جو دوسرا آفیسر تعینات ہو گا اسے بھی تمہارے کیس پر ہمدردی سے غور کرنا ہو گا۔ تم یہ کیوں بھول رہے ہو کہ عدالت نے تمہیں باعزت طور پر رہا کر دیا ہے۔" جھرنا کی بات سن کر میں چونکا لیکن میرا ذہن بدستور حالات کے تانے بانوں میں الجھ رہا تھا، رحیم الدین کو پھانسی کے پھندے پر لٹکنے کا حکم دینے سے پیشتر میں نے ایک بیگ اس کی تمام جمع پونجی اکٹھا کرا لی تھی۔ وہ بیگ کہاں تھا؟ کیا میں اسے دوسری خواب گاہ میں بھول آیا تھا؟ اس پر میری انگلیوں کے نشانات بھی ضرور ہوں گے؟ تفتیش آگے بڑھے گی تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ میں نے سنجیدگی سے سوچا اس بار فنگر پرنٹس کے ٹھوس ثبوت کے بعد جوگی سیتارام کے فرشتے بھی مجھے پھانسی کے پھندے سے نجات نہیں دلا سکیں گے۔" . پھر من ہی من میں ہچکولے کھانے لگا، ڈگمگانے لگا۔" سیتارام کی مانوس آواز میرے کانوں میں گونجی۔ ابھی تو تو نے مہمان جوگی کو ٹھیک طرح سے پر کھا بھی نہیں اور
تیرے من میں میل آنے لگا۔" لیکن"
جو کچھ سوچ بچار کر رہا ہے اسے اپنی کھوپڑی سے نکال دے نشچنت ہو جا۔" سیتا رام نے کہا۔ "مہان جوگی نے دیوی دیوتاؤں کی بھگتی میں جیون تیاگ دیا ہے، برسوں منڈل میں بیٹھ کر باپ کیا ہے، تب کہیں جا کر مہان شکتیاں پراپت کی ہیں، میں نے کچی گولیاں نہیں کھیلی ہیں۔ مورکھ! تُو جس بیگ کے لئے پریشان ہو رہا ہے وہ الماری میں دھرا اس نے لا پرواہی سے اپنی بات جاری رکھی۔ "جو کھوج لگانے کی کوشش کر رہے
کرتے رہ جائیں گئے ان کے ہاتھ بھی کچھ نہیں آوے گا۔" رحیم الدین کی خود کشی کو کسی نہ کسی خانے میں تو فٹ کیا جائے گا؟" میں نے
دل ہی دل میں سیتا رام سے سوال کیا جو کہیں آس پاس ہی موجود تھا لیکن نظر نہیں آ رہا تھا۔
ڈاکو اور لٹیرے آئے تھے ، رحیم الدین کی حرام کی کمائی اور اکٹھا کی ہوئی ساری دھن دولت کو لے گئے۔ جاتے جاتے اس کی خوبصوت پتری کے شریر سے اپنے من کی پیاس بھی بجھالی۔ خاکی وردی والے اس کے سوا کوئی اور بات نہیں سوچ سکیں گے۔" " آذر!" جھرنا نے میری طویل خاموشی کو محسوس کرتے ہوئے کہا۔ ”کیوں بلاوجہ اپنے آپ کو ہلکان کر رہے ہو، میں تمہیں یقین دلاتی ہوں کہ تمہاری ملازمت پر کوئی آنچ نہیں آئے گی۔"
ہاں ۔" میں نے آہستہ سے جواب دیا۔ " تم شاید ٹھیک ہی کہہ رہی ۔
تم نے کل سے ابھی تک کچھ کھایا یا پیا بھی نہیں ہو گا۔“ اس نے چونک کر کہا پھر مسکرا کر بولی۔ "تم واش روم جا کر نہا دھو لو میں آج اپنے ہاتھوں سے تمہارے لئے ہاشتہ تیار کرتی ہوں۔ اس کے بعد تمہارے لئے شاپنگ کرنے چلیں گے۔" جھرنا کچن کی طرف چلی گئی تو جوگی سیتا مجھے ایک صوفے پر آلتی پالتی مارے بیٹھا نظر آیا۔ اس وقت بھی وہ اسی حلیے میں تھا جس میں میں پہلے بھی اسے دیکھ چکا تھا۔ بس اب شانت ہو جا۔ " اس نے مسکرا کر معنی خیز انداز میں کہا۔ " جو کچھ تو چاہتا
تھا وہ تو نے پا لیا اب چنتا کس بات کی کر رہا ہے؟"
"حالات میرے لئے سازگار نہیں ہیں۔" میں نے سپاٹ نظروں سے جوگی کو گھورتے ہوئے کہا۔ ”میں کب تک اس چھت کے نیچے چھپا بیٹھا رہوں گا؟
جھرنا کے ساتھ ایک دن اور کھیل کو د لئے، اس کے بعد یہاں سے تیرا دانہ پانی اٹھ جائے گا تجھے جوگی کے ساتھ متھرا چلنا ہو گا، ابھی مجھے تیری سکشا کرنی ہے، تجھے کندن
بنانا ہے۔" . میں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ تو نے سنا نہیں میں کیا کہہ رہا ہوں؟" اس نے مجھے تیز نظروں سے گھورتے ہوئے کہا۔ "تجھے میرے ساتھ کئے ہوئے وعدوں پر چلنا ہو گا کالی کے مندر ن کے چرنوں میں بیٹھ کر وچن دینا ہو گا کہ کہ تو جوگی سیتارام کے ساتھ کبھی دھوکہ نہیں دے گا.
جوگی - پارٹ 8
Urdu stories online, Urdu stories for kids, Short Urdu
stories, Urdu Kahaniyan, Famous Urdu stories, Urdu stories with moral,
Best Urdu stories collection, Urdu stories for students, Urdu love
stories, Urdu horror stories, Urdu stories for reading, Urdu stories in
Urdu text, Funny Urdu stories, Urdu stories for beginners, Urdu
detective stories, Urdu motivational stories, Urdu stories for kids,
Urdu moral stories, Urdu stories for children, Urdu true stories, Urdu
suspense stories, Urdu emotional stories, Urdu adventure stories, urdu
font stories,new stories in urdu, hindi moral stories in urdu,سبق آموز
کہانیاں, ,good moral stories in urdu,Moral Stories,Urdu Stories,urdu
kahani,اردو کہانی,قسط وار کہانیاں,

