جوگی (انور صدیقی) - قسط نمبر 13

Urdu Novel PDF Download

Urdu Novels PDF - Urdu Novels Online

قسط وار کہانیاں
جوگی - قسط نمبر13
رائیٹر :انور صدیقی
 
بڑے پجاری نے اصرار نہیں کیا۔ میں اس کے چہرے پر بھی اضطراب کی کیفیتیں محسوس کر رہا تھا، شاید اسے بھی احساس ہو گیا تھا کہ سیتارام کے مندر آنے کا اصل سبب کیا تھا، وہ بھی اس بات کو کبھی پسند نہ کرتا کہ مندر - کے اندر اندر کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آئے۔ ہم باتیں کرتے مندر کے صحن میں آئے تو وہاں موجود پنڈت پجاریوں کی نظریں آ ایک ایک کر کے ہماری سمت اٹھنے لگیں۔ میں اور محتاط ہو گیا۔ سیتارام بدستور کسی ٹھرے ہوئے طوفان کی طرح مطمئن نظر آ رہا تھا۔ اس کے قدم سیڑھیوں کی جانب اٹھ لیے رہے تھے من موہن کہیں نظر نہیں آ رہا تھا۔ بڑا پجاری ہمیں سیڑھیوں تک چھوڑ کر واپس چلا گیا تو میں نے دبی زبان میں پوچھا۔ گر و! ہمارا یہاں آنا بے کار ہی ثابت ہو، جس کی تلاش تھی وہ سامنے نہیں آیا؟" کہیں منہ چھپائے بیٹھا ہو گا نامردوں کی طرح۔ " سیتا رام نے مسکرا کر اپنی برتری کا اظہار کیا۔ مرد ہوتا تو سامنے ضرور آتا۔" ہو سکتا ہے وہ سرے سے مندر میں موجود ہی نہ ہو۔" میں نے ایک ممکنہ خیال کا "اظہار کیا۔
وہ جہاں بھی ہو گا اسے جوگی سیتارام کے مندر آنے کی خبر ضرور مل گئی ہو گی۔" اس نے لا پرواہی کا اظہار کیا پھر کچھ سوچ کر بولا۔ ”کیا اس پجارن سے نہیں ملے گا جس نے تیرا راستہ روکا تھا کون تھی وہ ؟" وہ جو بھی تھی میں اسے پہچان گیا تھا۔" میں نے معنی خیز انداز میں جواب دیا۔ میں سمجھا نہیں۔" اس نے مجھے وضاحت طلب نظروں سے گھورا۔ ”کیا اسے پہلے سے جانتا ہے؟"
میں کوئی مناسب جواب دینے کے بارے میں غور کر رہا تھا جب میں نے جوگی سیتا رام کو چونکتے ہوئے دیکھا اس کی نظریں میری پشت پر کھڑے کسی پنڈت پجاری پر جم رک رہ گئی تھیں اس کے تیور میں کھچاؤ پیدا ہو رہا تھا اس کی آنکھوں میں شعلے بلند ہونے شروع ہو گئے۔ میں اس علامت کو دیکھ کر محتاط ہو گیا۔ ہم اس وقت سیڑھیوں کے درمیانی چبوترے پر کھڑے تھے۔ میرا دل گواہی دے رہا تھا کہ پنڈت رام کشن میری پشت "پر موجود ہے۔ سیتارام نے یہی کہا تھا کہ جب اس کی آنکھوں میں خون ابلنے لگے تو میں سمجھ لوں کہ اس کا شکار اس کے سامنے موجود ہے۔میرے دل کی دھڑکنیں تیز ہونے لگیں۔ میں نے پلٹ کر پشت کی جانب دیکھا، ہم سے دس قدم کے فاصلے پر ایک دوہرے بدن اور پستہ قد کا پجاری تنہا کھڑا ستیا رام کی طرف دیکھ رہا تھا، اس کے چہرے پر مجھے نفرت یا حقارت کے کوئی تاثرات نظر نہیں آئے۔ اس کا سکون اس بات کی غمازی کر رہا تھا کہ وہ سلجھی ہوئی طبیعت کا بردبار اور دور اندیش شخص ہے، مجھے اس کی آنکھوں میں سمندر سے زیادہ گہرائی نظر آ رہی تھی لیکن لہروں میں تلاطم کی کیفیت نہیں تھی۔ اگر وہ پنڈت رام کشن ہی تھا تو یقیناً بڑی خوبیوں کا مالک رہا ہو گا۔ اس کی شخصیت میں جو ٹھہراؤ نظر آ رہا تھا وہ اس کی بڑائی کی دلیل تھی۔ میں نے دوبارہ پلٹ کر سیتارام کی جانب دیکھا، اس کی آنکھوں میں بھڑکتے شعلوں کی شدت تیز ہوتی جارہی تھی، اس کے ہونٹ آہستہ آہستہ حرکت کر رہے تھے۔ کیا بات ہے گرو! میں نے مدھم لہجے میں پوچھا۔ ”کون ہے یہ ؟" وی جس کی ہمیں تلاش تھی۔ " اس نے سانپ کی طرح پھنکار کر جواب دیا۔ "پنڈت رام کشن۔" کیا خیال ہے؟" میں نے سنجیدگی سے کہا۔ ”اسے ہیں نہ گھیر لیں؟" نہیں تو درمیان میں آنے کی بھول مت کرنا۔ " سیتا رام نے پھر تاکید کی۔
یہ اوپر سے جتنا میٹھا نظر آ رہا ہے اندر سے اتنا ہی کڑوا بھی ہے۔" میں نے جواب میں کچھ کہنا چاہا لیکن اتنی دیر میں پنڈت رام کشن قدم بڑھا تا ہمارے
قریب آ گیا وہ بدستور بڑا مطمئن نظر آ رہا تھا۔ "سیتارام! اس نے قریب آکر براہ راست سیتارام کو مخاطب کیا۔ یہاں تک آ گئے ہو تو کیا مجھ سے ملاقات کئے بنا واپس چلے جاؤ گے؟؟ " کیسے ہو پنڈت رام کشن!" سیتارام نے اپنی نفرت کا اظہار بر ملا کیا۔ دیوی دیو تاؤں کی دیا سے ابھی تک زندہ ہوں۔“ رام کشن نے مسکرا کر جواب دیا مجھے کرم چندر کی موت کا غم ہے پنڈت!" سیتارام نے چھتے ہوئے لہجے میں کہا۔ وہ تیرا ایک بازو تھا۔ اب نہیں رہا۔"
ابھی تک تمہارے من کا کھوٹ دور نہیں ہوا جوگی!" رام کشن نے سنجیدگی اختیار کی اندر ہی اندر سلگتے رہو گے؟
اب سے آگیا ہے۔ " سیتارام بل کھا کر بولا۔ "من کی اتنی بھی ٹھنڈی کر لوں بھول کرو گے۔" رام کشن نے جواب دیا۔ ”تمہارے دل میں کوئی میل ہو تو ہو
لیکن میرا من شروع سے اجلا ہے۔"
”خالی باتیں کرے گا یا کوئی ثبوت بھی دے سکتا ہے؟“ سیتارام نچلا ہونٹ چہانے
"جو تم جو چاہتے ہو میں سمجھ رہا ہوں لیکن اپنے ارادے میں کامیاب نہیں ہو گے۔" رام کشن نے سپاٹ آواز میں کہا۔ ”وہ کسی اور کی امانت ہے جسے میں نے تم سے پہلے پالیا تھا، تمہارے ہاتھ لگ جاتی تو دھرتی کے بجائے آکاش پر اڑتے پھرتے، پر میں نے اسے سنبھال کر رکھا ہے، جب بھی اس کا مالک سامنے آیا اسے لوٹا دوں گا۔" سیتا رام تلملانے لگا، کوئی بات ایسی ضرور تھی کہ وہ جواب دینے کے بجائے کسی زخمی سانپ کی طرح بل کھانے لگا۔
اس شے کا دھیان من سے نکال دو جو گی۔ میرا تیرا کوئی بیر پہلے بھی نہیں تھا۔" ”میدان چھوڑ کر بھاگنے کی بات کر رہا ہے۔ " سیتارام سرسراتی آواز میں بولا۔ "تو کرم چندر مہاراج کے چرنوں کی دھول بھی نہیں ہے ... اس پر جو بیتی کیا تجھے اس کی خبر ابھی تک نہیں ملی ؟ سمجھ رہا ہے نا میری بات ؟" " مجھے دیر میں خبر ملی ورنہ ایسا کبھی نہ ہوتا۔ " رام کشن نے پہلی بار قدرے درشت لجہ اختیار کیا۔ میں چاہتا تو پجاری پنا لال کی زبان پر پڑے تالے بھی ٹوٹ جاتے اس کی زبان کھل جاتی تو میرا راستہ بھی صاف ہو جاتا لیکن مہاراج واپس نہیں آسکتے تھے، اسی
کارن میں نے زبان بند رکھی۔" ”دن کے اجالے میں سپنے دیکھ رہا ہے؟" سیتارام نے تکبر کا اظہار کیا۔ ابھی تک
جوگی سیتارام کو بھی نہیں پہچان سکا۔"
اونچے سُروں میں مت بول جو گی! میری خاموشی کا یہ مطلب بھی نہیں کہ تو سر چڑھنے لگے۔"
اب کس کے ھونے پر اکٹر رہا ہے مورکھ!" سیتا رام نے ذلت آمیز انداز میں زبان کو لگام دے سیتارام!" رام کشن کے لہجے میں بھی گرمی آگئی۔ دیوی دیوتاؤں نے میرے تیرے بیچ جو ریکھا کھینچ دی ہے اسے پھلانگنے کی بھول مت کر اسی میں تیری مکتی ہے۔" تو بھی اپنی کھال میں رہ کر بات کر " سیتا رام نے مٹھیاں بھینچ کر خطرناک انداز میں کہا۔ "جوگی سیتا رام سے پنجہ لڑانے کی کوشش کی تو پھر نرک (دوزخ) کی اگنی بھی تیراشریر سوئی کار کرنے سے انکار کر دے گی۔" میں خاموش کھڑا دونوں کی ترانیاں سنتا رہا اصولی طور پر مجھے سیتارام کی حمایت میں بولنا چاہئے تھا لیکن اس نے مجھے درمیان میں آنے سے سختی سے روک دیا تھا۔ پنڈت رام کشن کی باتوں سے مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ انمول رتن اسی کے پاس تھا جس کی جوگی سیتارام کو تلاش تھی لیکن ایک جملہ میرے ذہن میں کھٹک رہا تھا۔ رام کشن نے یہ بات کیوں کہی تھی کہ ۔ وہ شے اس کے پاس کسی کی امانت ہے جسے اس نے سیتارام سے پہلے حاصل کر لیا تھا۔ مجھے رام کشن کی شخصیت بھی سیتارام کے مقابلے میں زیادہ پراسرار نظر آرہی تھی۔ ابھی تک اس نے سیتارام کی طرح بل کھانے کی بھول نہیں کی تھی دو ہی باتیں ممکن تھیں۔ یا تو وہ سیتارام سے کترا رہا تھا یا پھر اپنے آپ کو سیتارام کے مقابلے میں اتنا بلند سمجھ رہا تھا کہ اسے ڈھیل دیئے جا رہا تھا لیکن سیتارام کا آخری جملہ سن کر اس کی پیشانی پر بھی آڑی ترچھی لکیریں ابھر آئیں۔ اس نے جواب میں سیتارام کو سفاک نظروں سے گھورا، کچھ توقف سے بولا۔ "تیرے من میں جو بھی گند بھرا ہے آج کھل کر اگل دے تو چاہتا کیا
ہے؟ کٹھی میرے حوالے کر دے میرا تیرا سارا جھگڑا ختم ہو جائے گا۔"میں انکار کر دوں تو ؟؟
تو سیتا رام تجھے بھی کرم چندر کی طرح اوپر بھیج دے گا۔ " سیتا رام نے سفاک لہجہ
اپنے اس سیوک کے بل پر اکٹڑ رہا ہے جس نے من موہن جیسے اناڑی پر وار کیا تھا اس نے پہلی بار مجھے دیکھا پھر دیکھتا ہی رہ گیا۔ نام کشن کی تیز نظریں اپنے وجود کی گہرائیوں میں نیزے کی طرح چھتی محسوس ہو رہی تھیں، وہ ٹکٹکی باندھے مجھے گھور رہا تھا' بولتے بولتے اس کا اچانک خاموش ہو جانا خالی از علت نہیں تھا۔ شاید اس کی نظروں نے بھانپ لیا تھا کہ درگا مجھ پر مہربان تھی۔ وشنو مہاراج کا جاپ کرنے کے بعد میں نے جو مہان شکتی حاصل کی تھی وہ اس راز سے بھی واقف ہو گیا تھا۔ لیکن کیوں کر؟ میرا ذہن الجھنے لگا میں نے سوچا۔ جس راز کو جوگی سیتارام قریب رہ کر بھی نہیں معلوم کر سکا تھا وہ پنڈت رام کشن نے پہلی ہی نظر میں کیسے بھانپ لیا؟ کیا وہ سیتا رام سے زیادہ شیطانی قوتوں کا مالک تھا؟ بهر حال مجھے اپنے بارے میں رام کشن کی وہ بات اچھی نہیں لگی چنانچہ میں چپ نہیں رہ سکا۔
تمہارا کوئی سیوک اناڑی کیسے ہو سکتا ہے؟" میں نے زہر خند سے کہا۔ "کیا تمہارے پاس بھی اسے سکھانے کے لئے کچھ نہیں تھا؟" رتن کمار !" سیتارام درمیان میں بول پڑا۔ تو اپنی زبان بند رکھ یہ تیرے .. گرو کی آگیا (حکم) ہے۔" رتن کمار پنڈت رام کشن کی آنکھیں پٹ پٹانے لگیں اس کی تیز نظریں میرے جسم پر پھیلنے لگیں، اس کی نگاہوں میں عجیب تجس مچل رہا تھا وہ اپنی زبان سے میرا نام دہرا کر اس طرح خاموش ہو گیا تھا جیسے اس کے ذہن کو کوئی شدید جھٹکا لگا ہو کوئی گتھی الجھ گئی ہو جسے سلجھانے کی خاطر وہ خود بھی الجھ رہا تھا۔بهرحال، مجھے سیتارام کی مداخلت پسند نہیں آئی، رام کشن نے میرے بارے میں زبان نہ کھولی ہوتی تو اور بات تھی۔ میں اندر ہی اندر جھلس کر رہ گیا شاید اسی لئے مجھے رام کشن کی نظریں بھی اپنے وجود پر ایک بوجھ لگ رہی تھیں چنانچہ میں نے اس کی نگاہوں کا مقصد سمجھنے کی کوشش بھی نہیں کی، حقارت سے اپنا منہ دوسری سمت پھیر لیا۔ کس سوچ بچار میں پڑ گیا پنڈت!" سیتا رام نے اس کی توجہ ہٹانے کی خاطر بڑے زہریلے انداز میں کہا۔ "کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ تو میرے سیوک پر اپنی شکتی کا رعب گانٹھ کر جوگی کو ٹالنے کی کوشش کر رہا ہے؟" نہیں۔" رام کشن نے سپاٹ آواز میں جواب دیا۔ ” گنیش کا سیوک ہو کر میں اسی
پوتر استھان پر کوئی گھٹیا قدم نہیں اٹھاؤں گا۔"
پھر تو کیوں ایک ہی راستہ باقی رہ جاتا ہے، میں جس رتن کی تلاش میں اتنا لمبا چکر کاٹ کر یہاں تک پہنچا ہوں تو اسے میرے حوالے کر دے اور لمبی تان کر سکون کی نیند سو جا میرا تیرا سارا جھگڑا بھی مک جائے گا۔" جھگڑا تو اب شروع ہوا ہے، تو بغیر کوئی داؤ پیچ کئے اسے مکانے کی بات کر رہا ہے۔" رام کشن نے کہا۔ ”کیا میرے ساتھ بھی ٹھٹھول بازی سے اپنا مطلب نکالنے کے سپنے دیکھ رہا ہے؟" سمجھا گھی سیدھی انگلیوں سے نہیں نکلے "
تم انگلی ٹیڑھی کر کے بھی اپنی شکتی آزمالو میں وچن دیتا ہوں کہ گنیش کے مندر کے اندر میرا ہاتھ نہیں اٹھے گا۔" اپنی کمزوری چھپانے کے کارن دیو تاؤں کو بیچ میں لا رہا ہے؟" سیتا رام نے اسے چڑانے کی کوشش کی۔ ”ر گھو ویر اور رام اوتار کو کہاں چھپا رکھا ہے؟ ان کو دوبارہ سامنے بلا کر اپنے ساتھ نتھی کرلے میں پھر بھی تجھ پر بھاری پڑوں گا۔" میں نہیں سمجھا کہ تو کس کی باتیں کر رہا ہے؟" ان ہی دونوں قربانی کے بکروں کی جنہیں تو نے میرا راستہ روکنے کے کارن بھیجا تھا۔ اتنی جلدی بھول گیا۔ " سیتارام نے ٹرین والے ٹکراؤ کی مختصر تفصیل دہرائی تو رام کشن پھر کسی سوچ میں گم ہو گیا' اس کی نظریں پھر میرے چہرے پر منڈلانے لگیں۔ کوئی جواب بن نہیں پڑ رہا تو بغلیں جھانک رہا ہے۔ سیتارام نے اسے مرعوب کرنے کی کوشش کی۔ اسی بل بوتے پر دیوتاؤں کی دیکھا کی بات کر کے مجھے مکمتی کا راستہ دکھا رہا تھا۔" سیتارام! میں دیکھ رہا ہوں کہ تم ابھی تک اندھیروں کے بیچ بھٹکتے پھر رہے ہو۔"اس نے ٹھوس لہجے میں کہا۔ ”میرا کہا مان تو کنٹھی کا دھیان من سے نکال دے ورنہ جال میں پھنس جائے گا، بھاگنے کا راستہ بھی نہیں ملے گا۔ جو میں سمجھ رہا ہوں وہ
تیری کھوپڑی میں نہیں آئے گا۔"
بس " سیتارام غصے سے ہاتھ اٹھا کر بولا۔ بس کر چپ ہو جا جوگی کو چکما دینے کی سوچ رہا ہے، ایک بات سن لے کان کھول کر تو اس کنٹھی کو ہڑپ نہیں کر سکتا
کیوں سمے برباد کر رہے ہو گرو! میں نے دونوں کی باتوں سے تنگ آکر کہا۔ ”جو

فیصلہ کرنا ہے ایک بار کر ڈالو۔“
تو پھر درمیان میں ٹانگ پھنسا رہا ہے۔" سیتا رام نے مجھے ترچھی نظروں سے گھورا۔ ”جو وچن دیا تھا اتنی جلدی بھول گیا۔"میں جھلا کر کچھ کہنا چاہتا تھا کہ رام کشن نے ایک بار پھر نظریں گھما کر میری طرف غور سے دیکھا اس کے بعد اس نے سیتا رام کو جو جواب دیا میرے لئے حیران کن ہی تھا۔ میں وہ پوتر کنٹھی تیرے حوالے کرنے کو تیار ہوں پرنتو میری دو شرطیں ہوں
گی۔“ اس نے بڑی سنجیدگی سے کہا۔
وہ بھی اگل دے۔" کل ہماری دوسری مڈ بھیڑ جمنا کنارے پرانے شمشان گھاٹ پر ہوگی ۔ ٹھیک
چار بجے۔
چتا کی سوکھی لکڑیاں بھی ساتھ لے آنا۔" سیتا رام نے فاتحانہ انداز میں مسکرا کر
دوسری شرط میں وہیں بتاؤں گا۔" رام کشن نے اس کو گھورتے ہوئے جواب دیا۔
اس کی سنجیدگی میں کوئی فرق نہیں پڑا تھا۔ مجھے منظور ہے لیکن تجھے بھی کالی اور وشنو کی سوگند (قسم) اٹھا کر سچے من سے و چن دینا ہو گا کہ تو مجھے ب
جل دے کر بھاگنے کی کوشش نہیں کرے جلہ " رام کشن کے چہرے پر ایک رنگ آکر گزر گیا۔ سیتارام کی بات اسے اچھی نہیں لگی تھی پھر بھی اس نے شرط مان کر قسم کھائی اور مجھے گھورتا ہوا الٹے قدموں مندر کے
اندر واپس چلا گیا۔ گرو! تم نے کیا بھول کی۔ ”میں نے تیزی سے کہا۔ ”اگر تمہارا شکار...
نہیں بالک! نہیں۔ " سیتا رام نے بڑے یقین سے میری بات کاٹ کر کہا۔ ”کالی اور وشنو کی قسم کھانے کے بعد ایک پنڈت اپنے دیئے ہوئے وچن سے کبھی نہیں پھرتا۔" تم نے اس سے دوسری شرط کیوں نہیں پوچھی ؟"
میں زیادہ کرید کرتا تو وہ بھڑک بھی سکتا تھا۔"
کیا تمہیں وشواس ہے کہ وہ اپنا وچن پورا کرے گا؟“ میں نے وضاحت کی۔ ”میرا مطلب اس شے کی طرف ہے جو اس کے قبضے میں ہے
تو چنتا مت کر بالک! جوگی سیتا رام نرک تک بھی اس کا پیچھا نہیں چھوڑے گا۔ میرے منتر کے بیر اس بار اسے بھاگنے نہیں دیں گے، میں نے چاروں طرف پہرے بٹھا
رکھتے ہیں۔"ایک بات اور میری سمجھ میں نہیں آسکی، وہ رتن کمار کی حیثیت سے میرا نام سن
کر چونکا کیوں تھا؟"سیتارام بھی میری بات سن کر کسی خیال میں مستغرق ہو گیا۔ شاید پہلے اس نے رام کشن کی بات پر غور میں کیا تھا۔ میرے ذہن میں بھی مختلف خیال گڈمٹ ہوے رام کشن کے بارے میں پہلی نظر میں میرے ذہن نے یہی فیصلہ کیا تھا کہ وہ سیتا رام کے مقابلے میں اگر زیادہ طاقتور نہیں تو کم بھی نہیں ہے، اس کی آنکھوں میں مجھے جو سنجیدگی اور گہرائی نظر آئی تھی وہ اس کی بڑائی کی دلالت کرتی تھی۔ خود سیتارام نے بھی اس سے بھڑنے میں جلدی کا مظاہرہ نہیں کیا تھا، قدم پھونک پھونک کر آگے بڑھاتا رہا تھا لیکن صورت حال نے ایک دم ہی جو پلٹا کھایا تھا وہ میری سمجھ میں نہیں آسکا۔ سیتارام گنیش کے مندر سے رخصت ہو رہا تھا جب وہ خود اس کے سامنے آگیا تھا چہرے بشرے سے بھی وہ زیادہ بھاری بھر کم نظر آتا تھا، ٹھوس اور دو ٹوک لہجے میں بات کر رہا تھا اس نے کسی موقع پر سیتا رام سے مرعوب ہونے کا تاثر نہیں چھوڑا تھا مگر پھر میرے چہرے پر نظر پڑتے ہی وہ کچھ گڑ بڑا گیا تھا اس کے بہت سارے مقصد اخذ کئے جاسکتے تھے۔ ممکن ہے اس نے میری قوت کا اندازہ لگا لیا ہو، یہ بات اس کے علم میں آگئی ہو کہ میں نے وشنو مہاراج کا جاپ بھی کر رکھا تھا۔ درگا مجھ پر مہربان ہو گئی تھی، گنیش د
کا وجود بھی درگا یا کالی کے جسم سے اترے ہوئے اس میل کا مرہون منت تھا اس نے اس کے شریر میں شکتی پھونک دی تھی۔ رام کشن نے میری عدازہ لگانے کے بعد ہی قلابازی کھائی ہو گی اسے سیتارام کی طاقت سے کوئی خطرہ لاحق نہیں ہو گا۔ ہو تا تو وہ کھل کر تنہا میدان میں اترنے کی بھول کبھی نہ کرتا لیکن میری وجہ سے اس نے دور اندیشی سے کام لینے پر غور کیا ہو گا۔ وہ تنہا پڑ گیا تھا ہم دو تھے۔ شاد اس نے اپنی قوت سے اس بات کا اندازہ بھی لگا لیا ہو کہ ہم ایک اور ایک مل گیارہ بھی بن سکتے تھے مگر کچھ باتیں وضاحت طلب تھیں۔ اگر رام کشن کو
اپنے سیوک من موہن کے بارے میں خبر مل گئی تھی تو پھر اپنی شکتی کے زور سے اسے میرے بارے میں پہلے ہی معلومات حاصل کر لینی چاہئے تھی۔ اس نے سامنے کی غلطی.کیوں تھی؟ میرا ذہن قلابازیاں کھاتا رہا پھر ایک خیال بڑی سرعت سے ابھرا۔ ” پنڈت رام کشن میرا چہرہ دیکھ کر کسی خیال میں گم ہو گیا تھا، اسے میرے چہرے میں ایسی کون سی بات نظر آ گئی تھی جس نے اس کے سارے کس بل نکال دیتے تھے؟ وہ تنہا سامنے آیا تھا تو یہ سوچ کر ہی آیا ہو گا کہ جوگی سیتارام سے اس کا ٹکراؤ ناگزیر بھی ہو سکتا تھا پھر اس نے میری شکل دیکھتے ہی ہتھیار کیوں ڈال دیئے تھے ؟ کیا اس نے محض وقت حاصل کرنے کی خاطر کوئی چال چلی تھی جسے سیتا رام بھی نہیں سمجھ پایا کوئی اور مصلحت آڑے آگئی تھی؟ اس نے اتنی جلدی کنٹھی سیتا رام کو دے دینے کا وعدہ کیوں کر لیا تھا؟ اگر حقیقت یہی تھی کہ اسے ہم دو کے مقابلے میں اپنی کمزوری کا احساس ہو گیا تھا تو وہ اسی وقت سیتارام سے جان چھڑانے کی خاطر اس کی مطلوبہ شے اس کے حوالے کر سکتا تھا۔ خطرہ اسی وقت ٹل جاتا۔ اس نے چوبیس گھنٹوں کی مہلت کیوں مانگی تھی؟ ملاقات کے لئے شمشان گھاٹ کا تعین کیا معنی رکھتا تھا؟ اس نے صرف ایک شرط بتائی تھی، دوسری گول کر گیا تھا۔ خود سیتارام نے بھی دوسری شرط معلوم کرنے کے لئے اصرار نہیں کیا، کیا وہ بھی کسی مصلحت پر عمل کر رہا تھا؟ اصل راز کیا تھا، وہ دونوں کس چکر میں تھے ؟ کیا دونوں ہی ایک دوسرے سے خائف تھے جو خم ٹھونک کر میدان میں برملا کو دنے سے پہلوتہی کر رہے تھے یا کوئی اور بات تھی؟ سیتا رام اور میں دونوں اپنے اپنے خیال میں گم تھے۔ دھرم شالہ پہنچنے کے بعد بھی اس نے مجھ سے کوئی بات نہیں کی۔ وہ بھی میری آخری بات سن کر کسی سوچ میں غرق ہو گیا تھا۔ کیا جوگی نے بھی میرا نام رتن کمار رکھ کر کوئی بھول کر دی تھی؟ رتن کمار کون تھا جو پنڈت رام کشن اور سیتارام دونوں کے لئے ایک معمہ بن گیا تھا؟ کیا اس نام سے ان دونوں کی زندگی کا کوئی گہرا تعلق رہ چکا تھا؟ اگر ایسا ہی تھا تو سیتارام نے میرا نام بدلتے وقت اس پر غور کیوں نہیں کیا تھا؟ میرے دماغ میں جھرنا کا بحیثیت پجارن گنیش کے مندر میں نظر آنا بھی حیرت کا باعث تھا۔ وہ میرے خیال کے مطابق سو فیصد جھرنا ہی تھی جس نے ماضی کی تمام باتوں کا حوالہ دے کر اپنی حقیقت تسلیم کرائی تھی۔ اگر بزرگ کی آواز نے مجھے محتاط رہنے
تلقین بروقت نہ کی ہوتی تو شاید میں پھر سیتا رام کی کسی سازش کا شکار ہو جاتا وہ جانتا تھا کہ جھرنا میری کمزوری بن چکی ہے اس لئے اس نے جھرنا کے روپ کو سامنے لا کر مجھے پھر کسی فریب میں مبتلا کر کے اپنا اُلّو سیدھا کرنے کی کوشش کی تھی۔ شاید اکیس دن کا حساب کتاب ابھی تک اس کے ذہن میں ڈنک مار رہا تھا، وہ جھرنا کے ذریعے معلوم کرنا چاہتا ہو گا کہ میں نے وہ اکیس دن کہاں صرف کئے تھے۔ کوئی اور چال بھی ہو سکتی تھی
لیکن بزرگ نے مجھے پہلے ہی قدم پر ٹوک کر محتاط کر دیا تھا۔ رات کا کھانا کھانے کے بعد میں اپنے کمرے میں جانے کی خاطر پر تول رہا تھا جب سیتارام نے میرا ہاتھ پکڑ کر بڑی سنجیدگی سے کہا۔ ”بالک! آج کی رات تو یہیں میرے ساتھ سو جا تیرا دوسرے کمرے میں لیٹنا ٹھیک
نہیں ہے۔"کیوں؟ میں نے اسے کریدنے کی خاطر دریافت کیا۔ ”آج رات میں کیا خاص بات ہے؟"
تو ابھی ان باتوں کی گہرائی تک نہیں پہنچ سکتا پرنتو میں جانتا ہوں کہ آج کی رات ہم دونوں کے لئے بھاری ہے۔" کوئی وجہ بھی ضرور ہو گی؟"
."ہاں کوئی کارن نہ ہوتا تو میں تجھے کبھی نہ ٹوکتا۔" سیتا رام نے ہونٹ چہاتے ہوئے سنجیدگی سے کہا۔ "دشمن کو خود سے کمزور سمجھنے کی بھول کبھی نہیں کرنی چاہئے، پنڈت رام کشن نے چوبیس گھنٹے کی شرط باندھی ہے تو اس میں بھی کوئی چال اوش ہوگی۔ تیری اطلاع کے لئے یہ بھی بتادوں کہ اگر وہ مہان شکتی کا مالک نہ ہوتا تو میں اسے اتنی ڈھیل بھی کبھی نہ دیتا۔ بڑا چتر اور چنڈال آدمی ہے، اس نے کچھ سوچ بچار کر کے ہی فیصلہ کیا ہو گا۔"
لیکن میرا دوسرے کمرے میں سونے سے...
"
داتو نہیں جانتا لیکن جوگی سیتارام جانتا ہے کہ آج کی رات وہ چین کی نیند نہیں سوئے گا۔ اس کی کھوپڑی کسی نہ کسی جوڑ توڑ میں لگی ہو گی۔“ اس نے میری بات کاٹ کر تے ہوئے کہا۔ ”تو یہاں میرے پاس رہے گا تو وہ اس منڈل کو نہیں توڑ سکے گا
ایک بات پوچھوں گردو! میں نے دبی زبان میں سوال کیا۔ "کیا رتن کمار کا نام رکھتے وقت تمہیں اس بات کا دھیان نہیں آیا تھا کہ پنڈت رام کشن کا بھی اس نام سے
کوئی گہرا تعلق ہے؟" رتن کمار کے نام سے اس خنزیر کا کوئی سمبندھ نہیں ہے۔" سیتارام تلملا کر بولا۔
تو جو سوچ رہا ہے ویسی کوئی بات نہیں ہے۔"
اور کیا بات ہے؟" میں نے اصرار کیا۔ وہ بار بار میری طرف کیوں دیکھ رہا تھا ۔
رتن کمار کا نام سن کر چونکنے کا کیا کارن تھا؟"
ابھی ان چکروں میں مت پڑ" سیتا رام نے بات ٹالنے کی خاطر کہا۔ ”کل کا دن اور گزر جانے دے، ساری بات تیری سمجھ میں آجائے گی۔؟ اور اگر کل بھی اس نے تمہاری بات نہ مانی تو ؟
تو کیا کہنا چاہ رہا ہے؟" سیتا رام نے مجھے بڑی گہری نظروں سے گھورا۔ کس پاتال میں
میں جھانکنے کی کوشش کر رہا ہے؟“ بات سمجھنے کی کوشش کرو گرو! میں نے ٹھوس آواز میں جواب دیا۔ ”
کشن نے دوسری شرط نہیں بتائی ہے۔"
پھر؟
وہ کوئی ایسی شرط بھی باندھ سکتا ہے جسے تم پورا نہ کر سکو۔" اب وہ ایسا نہیں کرے گا۔ " سیتارام نے بڑے اعتماد سے جواب دیا۔ ”اگر اسے مجھے
ٹالنا ہو تا تو کھل کر کنٹھی میرے حوالے کرنے کا وچن کبھی نہ دیتا۔" آخر اس کنٹھی میں ایسی کیا بات ہے جس نے تمہیں پاگل بنا رکھا ہے؟" میں نے سنجیدگی ۔ سے سوال کیا۔ تم اسے براہ راست کیوں نہیں حاصل کر سکتے۔ بلاوجہ میرے جیون کو درمیان میں گھسیٹنے سے تمہیں کیا ملا میں بھی اپنے راستے سے بھٹک گیا۔" لگی پھر پڑ گیا پاپ اور پین کے چکروں میں " سیتارام بل کھا کر بولا۔ میں بات کا دھنی سار ہوں بالک! میرا کام پورا ہو جائے تو تو اپنے پرانے راستے پر واپس لوٹ جانا۔ میں دوبارہ تیرا پیچھا نہیں کروں گا۔"میں جانتا ہوں گرو! تم اپنا مطلب نکل جانے کے بعد نگاہیں پھیر لو گے۔ " میرے لیجھے تلخیی آگئی۔ کنٹھی پالینے کے بعد تمہیں میری ضرورت بھی نہیں رہے گی لیکن تم نے میری زندگی میں جو گند گھول دیا ہے اسے کون دور کرے گا؟"
اپنے پرماتما کے سامنے زمین پر متھار گڑنا تمہارے من کی لگن بھی ہوئی تو وہ ضرور شما کر دے گا۔" سیتا رام نے لاپرواہی سے جواب دیا اس کے لہجے میں خود غرضی شامل
تھی، میں جھلا کر بولا۔ " تم اب بھی ایک بات بھول رہے ہو گرو! میں وہ قیمتی شے ہاتھ میں آجانے کے بعد
اسے تمہیں دان کرنے سے انکار بھی کر سکتا ہوں۔" تو انکار کرے گا۔جوگی سیتارام سے ؟ اس نے معنی خیز انداز میں
مسکرا کر کہا۔ کالی کا جاپ کرنے کے بعد اتنی جلدی اپنی اوقات بھول گیا مورکھ کہ گرو سے نظریں ملا کر بات کر رہا ہے۔" شیطانی قوتوں کی بات مت کرو۔" میں جھلس کر رہ گیلہ کچھ پوتر شکتیاں ایسی بھی
ہوتی ہیں جن کے جوڑ کا کوئی توڑ نہیں ہوتا۔“ کون ہے وہ شکتی ؟" سیتا رام یکلخت سنجیدہ ہو گیا۔ " آج تیری زبان پر دل کی بات آ گئی ہے تو اس کا نام بھی اگل دے۔ میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ جوگی کے حساب میں کوئی ہیر پھیر نہیں ہوتی، میں نے یہ بھی کہا تھا کہ کسی نہ کسی کا ہاتھ تیرے سر پر اوش چھایا گئے ہوئے ہے ۔ اگل دے اس کا نام ... کون ہے وہ؟؟
............
میں اس نیلے آسمان کے مالک کی بات کر رہا ہوں جو دونوں جہانوں کا مالک ہے۔" میں نے تلملا کر کہا۔ ” ایک مسلمان کی حیثیت سے میرا ایمان ہے کہ وہ جو چاہتا ہے وہ پورا ہو جاتا ہے اس کی طاقت لازوال ہے، اس کے سامنے کوئی پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا، سب کی زبانیں گنگ ہو کر رہ جاتی ہیں۔" دھرم کرم کی بات کر رہا ہے۔“ اس کے ہونٹوں پر شیطانی مسکراہٹ رقص کرنے لگی۔ اس سندری کے کومل شریر کی گرمی اور شکتی کو بھول گیا جس کے ایک اشارے پر تو کپڑے اتار کر الف ننگا ہو گیا تھا۔"
اس ناٹک میں بھی تمہارا ہاتھ شامل تھا۔" میں بے بسی سے ہونٹ کاٹنے لگا۔ پھر جھگڑا کس بات کا مورکھ!" اس نے زہر خند سے کہا۔ اب بھی جو گرو کہہ رہا ہے وہی مان لے .. . اسی میں تیری مکتی ہے۔" میں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ در گانے بندش نہ عائد کی ہوتی تو شاید میں الجھ پڑتا۔

لیکن میں جانتا تھا کہ وہ میرے مقابلے میں سیتارام کی زیادہ حمایت کرے گی۔ اس نے وشنو کا جاپ مکمل کرنے کے بعد مجھ سے کہہ بھی دیا تھا کہ میں سیتارام کے مقابلے میں کھڑا ہونے کی کوشش کبھی نہ کروں ورنہ وہ میری ساری شکتی واپس لے لے گی۔
ایک بات اور کان کھول کر سن لے۔ " سیتا رام نے کسی زخمی سانپ کی طرح پھنکارتے ہوئے کہا۔ ”کل اس پنڈت کے سامنے اپنی زبان بند ہی رکھنا۔ تیرا نام صرف رتن کمارہی ہے اس بات کو بھی گرہ سے باندھ لے۔ کل جوگی کے سپنے پورے ہونے کی شجھ گھڑی ہے۔ تو نے کوئی گڑبڑ گھوٹالا کرنے کی کوشش کی تو میں تجھے بھی شما نہیں
کروں گا۔ سن رہا ہے نا میری بات؟"
ہوں۔"
”ہاں۔" میں نے سپاٹ لہجے میں جواب دیا۔ ”سن بھی رہا ہوں اور سمجھ بھی رہا
چل .
اب چپ کر کے اسی کمرے میں ٹانگ پار کر سو جا۔“ سیتارام کے لیجے میں میری تضحیک کا پہلو نمایاں تھا، ایک لمحے کو میرے دل میں آئی کہ ساری مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ کر اس سے ایک آخری فیصلہ کر لوں لیکن پھر کچھ سوچ کر میں نے اپنا ارادہ ترک کر دیا۔
میں بظاہر آنکھیں بند کئے لیٹا تھا لیکن اندر ہی اندر اس ایک لمحے کو یاد کر کے دل مسوس رہا تھا جب میں نے موت سے گھبرا کر جوگی سیتارام کے ساتھ زندگی کا سودا کر دیا تھا۔ وہ میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی، میرے ایمان کی کمزوری تھی جس نے اس لمحے مجھے بزدل بنا دیا تھا، موت اور زندگی خدا کے اختیار کی بات ہے لیکن شاید جیل کی اذیتوں اور حالات کی پے در پے ستم ظریفیوں نے میرے اعتقاد کو متزلزل کر دیا تھا۔ میں اسی لغزش کی سزا بھگت رہا تھا۔ شاید در گانے بھی میرے ساتھ مذاق کیا تھا' وشنو کا جاپ کرنے کی تلقین اسی نے کی تھی، اس نے یقین دلایا تھا کہ میں ناقابل یقین قوتوں کا مالک بن جاؤں گا لیکن یہ بندش بھی لگا دی تھی کہ میں جوگی سیتارام کو کوئی نقصان پہنچانے کی غلطی نہ کروں جبکہ اس کے علاوہ میرا کوئی اور دشمن نہیں تھا۔
.
مجھے مہاویر کی بات بھی یاد آئی اس نے کہا تھا کہ میں کبھی رام کشن کے ساتھ پنچے لڑانے کی بھول نہ کروں۔ یہ بھی واضح الفاظ میں کہا تھا کہ سیتارام نے مجھے صرف اپنے ایک مقصد کے حصول کی خاطر اپنی شیطانی قوتوں کے ذریعہ تسخیر کر لیا ہے۔ اب سیتارام بھی صاف طور پر کہہ رہا تھا کہ میں اس کی خواہش کی تکمیل کے بعد اپنا راستہ الگ کر سکتاہوں۔
میرے ذہن میں خیالات کی یلغار ہو رہی تھی، صرف ایک رات اور ایک دن کی بات اور رہ گئی تھی اس کے بعد سیتارام پنڈت رام کشن سے اپنی مطلوبہ شے حاصل کرنے کے بعد مجھ سے علیحدگی اختیار کر لیتا۔ میں پھر تنہا رہ جاتا۔ میری زندگی کا وہ درمیانی وقفہ کس کھاتے میں لکھا جاتا جو میں نے سیتارام کے ساتھ گزارا تھا؟ میں نے ایمانداری اور راست گوئی کے راستوں کو چھوڑ کر جن غلاظتوں میں وقت گزارا تھا وہ میرے نامہ اعمال میں لکھے جاچکے تھے، مجھے اس کی سزا بہر حال بھگتی تھی۔
میں وقت کی گردش کے ہاتھوں شکار ہوا تھا، صرف یہ کہہ دینا کافی نہیں ہو گا۔ سفید ریش بزرگ نے کہا تھا کہ وہ میرا امتحان تھا، میری آزمائش تھی جس میں میں بُری طرح نا کامیاب ہو گیا تھا لیکن ابھی زندگی کے کچھ دن باقی تھے، میں اپنے گناہوں کا کفارہ ادا کر سکتا تھا، غلطیوں کی تلافی نا ممکن نہیں تھی، میں ندامت کا کھلے دل سے اقرار کر کے اس کے سامنے ہاتھ پھیلا کر گڑگڑاتا سچے دل سے توبہ کر لیتا تو شاید وہ میرے گناہ معاف کر
دیتا۔مہاویر نے مجھے یہ بھی باور کرانے کی کوشش کی تھی کہ پنڈت اگر سیتارام کے مقابلے میں زبر نہیں ہے تو زیر بھی نہیں ہے۔ اگر اس نے سچائی سے کام لیا تھا تو پھر پنڈت نے وہ شے سیتارام کے حوالے کر دینے کی بات ہی کیوں کی تھی؟ وہ کیا خاص بات تھی جس نے رام کشن کے قدم ڈگمگا دیئے تھے ؟ اس نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ شے اس کے پاس کسی کی امانت ہے۔ اس کا شارہ کس سمت تھا؟ اس نے اس امانت کی حفاظت کرنے کی استارام جیسے خبیث شیطان سے دشمنی مول لینے کی غلطی کیوں کی تھی؟ وہ اس شے کو دریا برد کر دیتا بات ختم ہو جاتی لیکن اس نے ایسا بھی نہیں کیا تھا۔ میں حالات کی گتھی کو جتنا سلجھانے کی کوشش کرتا اتنا ہی الجھ جاتا، میں کب تک ذہنی طور پر بیدار رہا مجھے یاد نہیں البتہ جب مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے کوئی میرا ہاتھ تھام کر مجھے جگانے کی کوشش کر رہا ہے میری غنودگی کی شدتوں میں کمی آنے لگی پھر مجھے بزرگ نے آواز دی تو میرا ذہن بیدار ہو گیا۔ میں نے اس نورانی چہرے کو سامنے دیکھا تو میرے دل کی دھڑکنیں تیز ہو گئیں۔
”میرے محترم!" میں نے اپنی بے بسی کا اظہار پوری عاجزی سے کیا۔ ”میرا دم گھٹ رہا ہے، میں آپ سے مدد کی درخواست کرتا ہوں۔"تو اب بھی کفر کے اندھیروں میں بھٹک رہا ہے۔" بزرگ نے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا۔ ”دینے والی ذات صرف اس کی ہے جس نے تیرے وجود کے لوتھڑے میں پوری صداقت اور دیانت سے جان ڈالی تھی، اگر مانگتا ہے تو اس کے سامنے دامن پھیلا مجھے
کیوں گنہگار کر رہا ہے۔"
شاید آپ کی سفارش میری ذات کے لئے نجات کا ذریعہ بن جائے۔“ میں نے
رقت سے گزارش کی۔ یہ بھی تیری بھول ہے، سچے دل سے اس کے سامنے سر بسجود ہو جا تیرا تعلق بھی براہ راست ہو جائے گا۔"
میری ہمت جواب دے گئی ہے۔" میں نے ندامت سے سر جھکا لیا۔ "سیتارام کی شیطانی قوتوں نے میرے گرد جو جال بنا ہے اسے کاٹنے کی طاقت کھو چکا ہوں۔" نہیں۔" بزرگ کے نورانی چہرے پر جلالی کیفیت نمودار ہوئی۔ ” ہر فرد خود اپنی شخصیت میں کسی شیطان سے کم نہیں، اپنی کو تاہیوں پر پردہ ڈالنے کی خاطر شیطان کو مورد الزام ٹھراتا ہے۔ تو نے بھی اس کے احکامات سے روگردانی کی زندگی کا لبادہ اوڑھ لیا موت کو یاد رکھتا اس سے تعلق قائم رکھتا تو شیطان بھی تجھے ورغلانے کی کوششوں میں نا کام ہو جاتا۔ اپنی غلطیوں کو دوسرے کے سر ڈال کر تو سزا سے نہیں بچ سکے گا۔" میں آپ کو دادا جان کی واقفیت کا واسطہ دیتا ہوں۔" میں نے آخری حربہ استعمال
کیا۔ ملعون . بد بخت" وہ جھلا کر بولے۔ "اگر اس نیک مرد سے تعلق نہ ہو تا تو میں تیری طرف نظریں اٹھانے کا خیال بھی دل میں نہ لاتا۔" میں نے زبان بند رکھی، بزرگ نے میرا ہاتھ تھام لیا میں لڑکھڑاتا ہوا اٹھا' اندھیرے میں گرتا پڑتا کمرے سے باہر نکالا تو بزرگ کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی۔ " میں جا رہا ہوں۔" ان کی آواز میرے کانوں میں گونجی۔ "ذہن اور عقل کے دروازے کھلے رکھنا،
میرا ہاتھ بزرگ کی گرفت سے آزاد ہو گیا۔ میرے وجود کے اندھیروں میں پھر سائیں سائیں کا شور بلند ہونے لگا ذہن پر پھر غنودگی نے حملہ کیا لیکن پھر ایک آواز مجھے
کہیں دور سے آتی سنائی دی۔ بالک! میں جانتا ہوں کہ تو نے درگا دیوی کے اشارے پر وشنو مہاراج کا جاپ کر کے مہمان شکتی پر اپت کرلی ہے، ایسا نہ ہو تا تو جوگی کے منڈل سے باہر کبھی نہ نکل پاتا " کون ہو تم؟ میں نے مدھم آواز میں پوچھا۔میں بھی اسی کا پجاری ہوں تجھے جس کا آشیر باد حاصل ہے۔"میں نہیں سمجھا کہ تم کس کی بات کر رہے ہو ؟“ درگا کو یاد کر بالک! اس نے سنجیدگی سے کہا۔ ”اس کی شکتی نے میری پکار سن لی
تم کون ہو ؟" میں نے پھر اپنا سوال دہرایا۔ " مجھے کیسے جانتے ہو ؟" جاننے کی کوشش کر رہا ہوں، اسی کارن تیرے پاس آیا ہوں ......... مجھے اپنا نام بتا
”میرا نام جان کر کیا کرو گے؟"
میری ایک گتھی سلجھ جائے گی۔ " اس نے اصرار کیا۔ "من میں جو دیدھا ہے وہ دور ہو جائے گی۔"
میں رتن کمار ہوں لیکن تم ..
"
نہیں۔" اس نے جھلا کر میری بات کاٹ دی۔ ” تم رتن کمار نہیں ہو سکتے میرے من میں جو کھٹکا پیدا ہوا ہے اس کا کوئی کارن اوش ہو گا، میری تپیسیا میں کبھی کوئی کھوٹ نہیں رہا میرا من کہتا ہے تو رتن کمار نہیں ہے۔"
اور کون ہوں میں؟" میں نے غنودگی کے عالم میں سوال کیا۔
یہی تو میں کھوجنے کی کوشش کر رہا ہوں۔" وہ الجھ کر بولا۔ "یہ سمے ہاتھ سے نکل گیا پھر یہ سارا کیا دھرا نشٹ ہو جائے گا۔ میری بات سمجھنے کی کوشش کر بالک! مجھے بتا دے کہ تیرا نام کیا ہے؟ تو اس پاپی جوگی کے ہاتھ کیسے لگ گیا؟"میرے ذہن میں پھر جوار بھاٹے کی کیفیت پیدا ہونے لگی۔ دل کی دھڑکنوں میں درد جاگ اٹھا ایک شدید گھٹن کا احساس تھا جو مجھے بے چین کر رہا تھا، میرے
:
دل میں یہ خیال ابھرا کہ میں اپنے ماضی کی داستان فرفر دہراتا چلا جاؤں لیکن اسی لمحے سیتارام کی شعلہ اقلتی نگاہیں میرے سامنے آگئیں۔
”بالک! اس کا لہجہ قہر آلود تھا۔ تیرا نام صرف رتن کمار ہے، اس بات کو بھی گرہ سے باندھ لے۔ کوئی گریڈ گھوٹالا کرنے کی کوشش کی تو میں تجھے کبھی شما نہیں کروں گا۔ سن
رہا ہے نا میری بات؟"
”ہاں ۔ سن بھی رہا ہوں اور سمجھ بھی رہا ہوں۔" میں نے کسی معمول کے انداز میں جواب دیا۔
نہیں بالک! نہیں۔ " دوسری آواز کی گھن گرج پھر میرے کانوں میں گونجی۔ "اس پاپی کی بات پر دھیان مت دے، یہ تجھے بہکانے کی کوشش کر رہا ہے، میرا کہا مان لے، مجھے بتا دے کہ تو کون ہے؟ اس دشٹ جوگی کے ہاتھ کیسے لگ گیا؟ تیرا اصل کیا ہے؟ سمے
گزر رہا ہے، سمے کی قدر کر اس بات کو مان لے کہ تو رتن کمار نہیں ہے۔"ہاں میں رتن کمار نہیں ہوں۔ میرے دل کی گہرائیوں سے ایک آواز ابھری۔
پھر
پھر تو کون ہے؟"
میں .
میں اپنا اصل نام زبان تک لانے کی جدوجہد میں
مصروف تھا جب درگا کی آواز میرے کانوں میں گونجی۔
تھا۔"سنبھلو رتن کمار! تم صرف رتن کمار ہو جوگی سیتا رام نے تم سے یہی کہا
درگا! میں بھٹک رہا ہوں۔" میں نے ہانپتے ہوئے کہا۔ "میری سمارا کر۔" میں نے کہا تھا کہ میرا آشیر باد تیرے ساتھ ہے۔" درگا کی آواز کا جادو میرے
کانوں میں نشہ گھولنے لگا۔ ”چنتا کیوں کرتا ہے؟ چین کی نیند سو جا۔"
"درگا!" دوسری آواز نے احتجاج کیا۔ " میں بھی تیرا سیوک ہوں ، تو جانتی ہے کہ میرے من میں کوئی چھل کپٹ نہیں ہے، میں نے تمام جیون دیوی دیوتاؤں کی کٹھن تپسیا کی ہے، دھرم کے معاملے میں. یہ بھی دھرم کرم کا معاملہ ہے۔ " دیوی کی خوبصورت پیشانی پر بل آگئے اس نے کسی کو ناگوار نظروں سے گھور کر جواب دیا۔ تو واپس چلا جا دھرم کا نام لیوا ہے تو پھر اپنے دھرم کی رکھشا (حفاظت) کر۔" دوسری طرف سے کوئی جواب نہیں آیا۔
رتن کمار" درگا نے دوبارہ مہربان نظروں سے مجھے دیکھا۔ ”تو چین کی نیند سو جا اور اس بات کو دھیان میں رکھنا کہ تو نے مجھے جوگی سیتارام کے سلسلے میں کیا وچن دیا تھا۔ تو نے اپنا چین تو ڑ دیا تو تیری ساری شکتی چھن جائے گی، میں بھی نظریں پھیر لوں گی۔" مجھے اپنا وچن یاد ہے " میں نے اس کی آنکھوں کی مستیوں میں ڈوب کر
کہا۔ ”تو نے جو کہا ہے میں اسے یاد رکھوں گا۔"
۔
وہ مسکراتی ہوئی نظروں سے اوجھل ہو گئی، میں نے غنودگی میں فرق ہونا چاہا تو سفید ریش بزرگ کی قہر آلود نظریں دیکھ کر ہڑ بڑا کر جاگ اٹھا کمرے میں میرے اور جوگی سیتارام کے سوا کوئی اور موجود نہیں تھا۔ میں ابھی اپنی بے چینی اور اضطراب میں مبتلا تھا کہ سیتارام بھی اس طرح ہڑبڑا کر اٹھا جیسے کسی بچھو نے اسے ڈنک مار دیا ہو، مجھے جاگتا
دیکھ کر بولا۔کیا بات ہے بالک! تو ابھی تک سویا نہیں ؟" " مجھے پیاس لگ رہی تھی اس لئے آنکھ کھل گئی۔ " میں نے دروغ گوئی کا سہارا لیا۔ سیتارام نے مجھے تیز نظروں سے گھورا پھر مٹکے سے پانی نکال کر میرے سامنے کر دیا
میں نے خاموشی سے پانی حلق کے نیچے اتارا پھر دوبارہ لیٹ کر آنکھیں بند کرلیں۔ صبح میری آنکھ دیر سے کھلی، سیتارام کسی پجاری کے ساتھ بیٹھا کھسر پھسر میں مصروف تھا، دھرم شالہ کا مالک بھی موجود تھا۔ مجھے جاگتا دیکھ کر ان کے درمیان ہونے والی کانا پھوسی بند ہو گئی۔ میں آنکھیں ملتا ہوا اٹھ بیٹھا پجاری مجھے بڑی شہری نظروں سے دیکھ رہا تھا، سیتا رام کے تیور بھی مجھے کچھ بدلے بدلے نظر آرہے تھے۔ ناشتہ پروس دوں مہاراج! دھرم شالہ کے مالک نے سیتارام سے پوچھا۔ ”اب تو رتن کمار بھی جاگ گیا۔" سیتارام نے اثبات میں گردن ہلائی تو وہ اٹھ کر کمرے سے باہر نکل گیا۔ پجاری بوڑھے برگد کی طرح بوسیدہ اور عمر رسیدہ نظر آ رہا تھا، بدستور مجھے ٹکٹکی باندھے دیکھ رہا تھا، میرے ذہن میں رات کی کہانی دوبارہ متحرک ہو گئی، سیتارام کی سنجیدگی اور بوڑھے پجاری کی آنکھوں کی چبھن مجھے بے چین کر رہی تھی، شاید سیتارام پھر میری طرف سے کسی شکوک و شبہات میں مبتلا ہو گیا تھا۔ کمرے میں گہری خاموشی مسلط تھی۔ کیا بات ہے گرو! میں نے اپنی جگہ کسمسا کر پوچھا۔ ” تم نے ابھی ناشتہ بھی نہیں
کیا؟""تیرے اٹھنے کی راہ دیکھ رہا تھا۔ " سیتارام نے سپاٹ آواز میں کہا۔ اجا کرمنہ پر چھینٹے مار کر آجا۔"
میں خاموشی سے اٹھ کر کمرے سے باہر نکل گیا۔ اس وقت صبح کے دس بج رہے۔ تھے۔ آج کا دن سیتا رام کی زندگی کا سب سے اہم دن تھا۔ اسے جس شے کی تلاش تھی جس کی خاطر اس نے میری زندگی میں زہر گھولا تھا، آج اس کے قبضے میں آنے والی تھی۔ کم از کم اس نے یہی سوچ رکھا تھا۔ بوڑھے پجاری کی موجودگی بھی اس بات کی نشاندہی کر رہی تھی کہ جوگی سیتا رام نے صبح ہی سے اپنی تیاری شروع کر دی تھی۔ میں نے اس بوڑھے پجاری کو پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ میں نے اس کے بارے میں سر کھپانے کی ضرورت بھی نہیں محسوس کی، میرے ذہن میں رات کی باتوں کے علاوہ ایک خیال اور بھی کلبلا رہا تھا۔ "سیتارام سے گلو خلاصی حاصل کرنے کے بعد میری منزل کیا ہو گی؟" میں منہ ہاتھ دھو کر تازہ دم ہو کر کمرے میں واپس آیا تو ناشتہ پروسا جا چکا تھا۔ بوڑھا پجاری پھر مجھے کسی آدم خور گدھ کی طرح گھورنے لگا مجھے اس کا انداز کھل رہا تھا، ناشتے کے دوران زیادہ تر خاموشی ہی رہی، سیتا رام نے دبی زبان میں بوڑھے پجاری کا تعارف کراتے ہوئے کہا تھا۔ یہ میرے بہت پرانے متر پنڈت امر ناتھ ہیں' آج ہی کافی سے واپس لوٹے ہیں اسی دھرم شالہ میں ٹھرے ہیں۔" مجھے رتن کمار کہتے ہیں۔" میں نے اپنا تعارف کرایا تو پنڈت امرناتھ کے ہونٹ سوکھے پتوں کی طرح کھڑکھڑا کر رہ گئے۔ اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اس کی خاموشی بھی
معنی خیز تھی۔ناشتے سے فارغ ہونے کے بعد دھرم شالہ کا مالک برتن سمیٹ کر چلا گیا تو سیتارام نے کھنکھار کر کہا۔
”بالک! امرناتھ مہاراج نے اپنا پورا جیون پہاڑی گھاؤں میں بیتایا ہے، دیوی کو راضی کرنے کے کارن بڑی کٹھن تپسیا کی ہے، میرے بڑے بھاگیہ (خوش
قسمتی جو آج ان کے درشن ہو گئے۔ مہاراج کی زبان سے جو بات نکل جائے وہ پتھر کی لکیر ہوتی ہے، تو بھی اپنے بھوش کے بارے میں کچھ معلوم کرنا چاہے تو مہاراج سے پوچھ لے ایسے گیانی دھیانی لوگ قسمت ہی سے ملتے ہیں۔" پھر تو آج کا دن تمہارے لئے بھی بڑا شہر (مبارک) ہو گا" میں نے سنجیدگی سے کہا۔
تو نے اپنے بارے میں کچھ جانکاری نہیں کی؟" بوڑھے پنڈت نے پہلی بار زبان کھولی۔ اس کے لیجے میں گہرائی تھی، اس کی عقابی نظری بدستور میرے چہرے پر منڈلا رہی تھیں۔ کیا تم قسمت کا حال بھی بتا سکتے ہو ؟" میرے لہجے میں ہلکا سا طنز تھا جسے سیتارام نے بھی محسوس کر لیا، اس کی پیشانی پر سلوٹیں ابھرنے لگیں، وہ اپنی خفگی کا اظہار کرنے کی خاطر الفاظ تول رہا تھا جب بوڑھے پنڈت نے ہاتھ اٹھا کر اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا مجھ پر
یر نظر جمائے بڑے ٹھوس انداز میں بولا۔ میں تیرے بھیتر کا سارا حال کھنگال چکا ہوں بالک! تیرا جیون کھلی کتاب کی طرح میری نظروں کے سامنے ہے۔ جو بیت گئی جو بیت رہی ہے اور جو بیتنے والی ہے، میں سب جانتا ہوں۔ تیرے من میں جو کھلیلی سر ابھار رہی ہے میں اسے بھی دیکھ رہا ہوں۔" گرو کا سایہ میرے سر پر کب تک باقی رہے گا؟" میں نے اسے ٹولتی نظروں سے دیکھا۔
تو جس بندھن کی بات پوچھ رہا ہے وہ کچے دھاگوں سے بندھا ہے، اس کے ٹوٹنے کا سمے آچکا ہے۔"
یہ تم کیا کہہ رہے ہو مہاراج!" سیتا رام چونکک وہی جو تو پہلے کہہ چکا ہے۔ " پڑت نے بڑی صاف گوئی سے جواب دیا۔ "تیرا سپنا پورا ہو گیا تو تیرا اور اس کا ناتا ٹوٹ جائے گا۔" میرا سپنا اوش پورا ہو گا۔ " سیتارم نے بل کھا کر کہا۔ "جوگی بھی من کے بھیتر "جھانکنے کی شکتی رکھتا ہے۔"
میری بات کا بُرا مان گیا مورکھ " امر ناتھ نے معنی خیز انداز میں سیتا رام کو گھورا۔ لیٹی کی بات نہیں کرتا جو بھوش میں لکھا ہے اسے بھی دھرتی کی کوئی شکتی نہیں
ٹال سکتی۔ تو جتنا من چاہے ہاتھ پیر مار لے لیکن ہو گا وہی جو"میری بات چھوڑو مہاراج!" سیتا رام نے اس کی بات کاٹ کر قدرے خشک لیجے میں کہا۔ میں تمہیں رتن کمار کے کارن اس کمرے میں لایا تھا۔" کیا جاننا چاہتا ہے تو؟" اس نے سیتارام کو ناگوار نظروں سے گھورا اسے سیتا رام کی دخل اندازی شاید اچھی نہیں لگی تھی۔ میں سنبھل کر بیٹھ گیا پنڈت امر ہاتھ کے تیور بتا رہے تھے کہ صاف گو اور کھرا آدمی ہے۔ شاید سیتا رام نے اسے کمرے میں لاکر غلطی کی تھی، میں نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پنڈت کو مخاطب کیا۔"پنڈت رام کشن نے گرو کو جو وچن دیا ہے کیا وہ اسے پورا کرے گا؟"وہ اپنی بات کا دھنی ہے، اس نے جو بات زبان سے نکال دی اس سے پیچھے نہیں ہے گا پرنتو میں چاروں اور گھپ اندھیرے بھی منڈلاتے دیکھ رہا ہوں۔" امر ناتھ نے بڑے گھمبیر لہجے میں کہا۔ "پنڈت کی آنکھیں دھوکا نہیں کھا سکتیں۔" تم کیا دیکھ رہے ہو مہاراج! میں نے پہلو بدل کر دلچسپی سے پوچھا۔ سیتارام خاموش بیٹھا گرگٹ کی طرح بار بار رنگ بدل رہا تھا۔ بجلی کی کڑک، گھنگھور گھٹاؤں کی گھن گرج اور شکتیوں کا ٹکراؤ ضرور ہو گا
پرنتو وجے کس کی ہوگی؟" سیتارام نے پھر بات کاٹ کر سوال کیا۔
جس کے من میں کوئی کھوٹ نہیں ہو گا۔ " پنڈت نے سرد آواز میں جواب دیا۔ گھپ اندھیروں کے کارن میں اسے ابھی تک پوری طرح نہیں دیکھ سکا لیکن میری ودیا (علم) غلط نہیں ہو سکتی، کوئی جہان شکتی ایسی ضرور ہے جو دور بیٹھی پیچ لڑا رہی ہے۔" ”میں نے بھی یہی کہا تھا۔" سیتا رام نے مجھے تیز نظروں سے گھورا۔ "جوگی کا حساب کتاب کبھی غلط نہیں ہوا میری نظریں ابھی تک اسے تلاش نہیں کر سکیں لیکن میں نے ہار نہیں مانی، میں اسے کھوجے بغیر چین سے نہیں بیٹھوں گا۔" ”میری ایک بات مانے گا۔" امرناتھ نے سیتارام کو گھورتے ہوئے کہا۔ ”اس کا دھیان من سے نکال دے۔"یہ تم کیا کہہ رہے ہو؟ سیتارام بل کھا کر بولا۔ ”میں اور اس کا دھیان من سے

نکال دوں جو میرے راستوں میں روڑے اٹکا رہا ہے۔ کوئی ایسا او پائے بتاؤ کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ تمہارا گیان دھیان ، تمہاری ودیا کس دن کام آئے گی؟" ہاں مہاراج! میں نے لقمہ دیا۔ " تم اگر گرو کی سہائتا نہ کرو گے تو اور کس کے کام آؤ گے؟"
"پنڈت سے ٹھٹھول کر رہا ہے مورکھ!" امرناتھ کا بوڑھا جسم کھڑکھڑانے لگا۔ دیوی کی کرپانے تجھے ڈھیل دے رکھی ہے جو اونچے سُروں میں بولنا سیکھ گیا پرنتو پنڈت کی ایک بات کان کھول کر سن لے۔ دیوی دھرم کے معاملے میں تیرا ساتھ نہیں دے گی۔ تو نے جو شکتی پراپت کی ہے وہ تیرے کسی کام نہیں آسکے گی ، اب تو انگلیوں کے کھیل
تماشے بھی نہیں دکھا سکے گا " میں پنڈت کی بات سن کر چونکا وہ یقیناً درگا کی بات کر رہا تھا اس نے میرا بھید پالیا تھا لیکن کھل کر میرا پردہ چاک نہیں کیا تھا کوئی مصلحت اس کے آڑے بھی آرہی تھی جو اس نے انگلیوں کے کھیل تماشے کی وضاحت سے گریز کیا تھا۔ میرے دل کی دھڑکنیں تیز ہو گئیں، سیتارام بھی بے چین نظر آنے لگا وہ کبھی میری طرف اور کبھی امر ناتھ کی سمت دیکھ رہا تھا۔ تم کیا کہہ رہے ہو مہاراج! میں نے دیدہ و دانستہ تجاہل عارفانہ سے کام لیا۔ تمہاری باتیں میرے سر سے گزر رہی ہیں۔" چپ ہو جا مورکھ! زبان کو لگام دے۔ " پنڈت نے غصے میں لرزتے ہوئے مجھے تنبیہہ کی۔ ”میری زبان کھل گئی تو تیرا سارا بھرم خاک میں مل جائے گا۔ تو نہیں جانتا کہ تو کس سے مکول کرنے کی بھول کر رہا ہے۔ مکتی چاہتا ہے تو نظریں جھکا لے امر ناتھ کے ساتھ کبڈی کھیلنے کی کوشش کرے گا تو نشٹ ہو جائے گا، دھرتی پر کہیں شرن نہیں ملے
گی۔"میں نے خاموشی اختیار کرلی، وقت کا تقاضہ بھی یہی تھا کہ میں درگزر سے کام لوں پنڈت یقیناً پہنچا ہوا تھا جس نے درگا کا بھید جان لیا تھا۔ ممکن ہے اس نے سفید ریش بزرگ کے بارے میں بھی کچھ دیکھ لیا ہو، اس نے کھل کر کوئی بات نہیں کی تھی لیکن اشاروں کنایوں میں اس بات کا اظہار کر دیا تھا کہ سیتارام کی شیطانی قوتیں بزرگ کے سامنے کام نہیں آئیں گی
پنڈت کی شعلہ بار نظریں میرے چہرے پر جمی ہوئی تھیں، غصے کی شدت سے اس کا جسم کپکپا رہا تھا، اس کا سانس بھی پھولنے لگا وہ کچھ اور بھی کہنا چاہتا تھا لیکن سیتا رام نے اس کا ہاتھ تھام کر کہا۔
"مہاراج! میرے ساتھ باہر چلو مجھے تم سے کچھ ضروری باتیں کرنی ہیں۔" سیتارام پنڈت امرناتھ کو لے کر تیزی سے کمرے سے باہر چلا گیا' اس نے بڑی عجلت کا مظاہرہ کیا تھا اس کے تیور بتا رہے تھے کہ کوئی بات اس کو کھٹک رہی ہے میں اپنی جگہ سنبھل کر بیٹھ گیا۔ پنڈت امر ناتھ کے اچانک درمیان میں آجانے سے صورت حال میں ایک کھچاؤ سا پیدا ہو گیا تھا اس نے درگا اور بزرگ کے بارے میں کچھ مخصوص باتیں اشاروں کنایوں میں کی تھیں لیکن سیتارام بچہ نہیں تھا جو ان اشاروں کا مطلب نہ سمجھتا وہ بھی دل کی گہرائیوں کا حال جاننے کی قوت رکھتا تھا، ممکن ہے اس نے امر ناتھ کا من ٹول کر اس کے دل کا بھید پا لیا ہو اور اس کی وضاحت کی خاطر سے ہاتھ پکڑ کر باہر لے گیا ہو۔ امر ناتھ کا ایک جملہ مجھے بھی پریشان کر رہا تھا اس نے صاف لفظوں میں کہا تھا کہ دھرم کے معاملے میں درگا میرا ساتھ نہیں دے گی۔ میں اب انگلیوں کے کھیل تماشے بھی نہیں دکھا سکوں گا۔ در گانے مجھ سے یہی وعدہ لیا تھا کہ میں وشنو مہارج کے جاپ کے منتروں سے کبھی کوئی ایسا عمل نہیں کروں گا جو سیتارام کے لئے جان لیوا ثابت ہو۔ میں نے ابھی تک جوگی کے خلاف کوئی ایسا اقدام نہیں کیا تھا البتہ اسے اپنی طاقت کا اندازہ دلانے کی من میں ٹھان رکھی تھی لیکن امر ناتھ کی باتوں کا مطلب کچھ اور نکلتا تھا۔ میرا ذہن قلابازیاں کھا رہا تھا، پنڈت امر ناتھ کے کہے ہوئے جملے میرے کانوں میں صدائے بازگشت بن کر گونج رہے تھے۔ اس نے رام کشن کے بارے میں کہا تھا کہ وہ اپنی بات کا دھنی ہے، اپنے دیئے ہوئے وچن کو توڑنے کی کوشش نہیں کرے گا۔ تو کیا وہ خاموشی سے کنٹھی سیتا رام کے حوالے کر دے گا جس کی خاطر ان دونوں کے درمیان ایک عرصے سے ٹھنی ہوئی تھی؟ میرے ذہن میں کئی سوالات ابھر رہے تھے ۔ اس کنٹھی کا راز کیا تھا ایسی کیا بات تھی کہ سیتا رام اسے براہ راست حاصل نہیں کر سکتا تھا؟ اس نے کیسے کہا تھا کہ میں وہ قیمتی شے ہاتھ آجانے کے بعد اسے خوشی خوشی اس کےکر دوں گا؟
میرے اندر لاوا ابلتا رہا، فیصلے کی گھڑی آنے کا وقت بتدریج گھٹ رہا تھا، سیتا رام کو امر ناتھ کے ساتھ باہر گئے دو گھنٹے گزر گئے، میں اندر بیٹھا پیچ و تاب کھانا رہا مجھے گھٹن کا احساس ستا رہا تھا، ایک دو بار میرے دل میں آئی کہ کمرے سے نکل کر صورت حال کا جائزہ لینے کی کوشش کروں مگر میں نے اپنے ارادے کو عملی جامہ پہنانے کی غلطی نہیں کی۔ آخری وقتوں میں سیتا رام کو چھیڑنا مناسب بھی نہیں تھا۔ مجھے رات کی باتوں کی کڑیاں ملانے میں دشواری ہو رہی تھی۔ بزرگ کی آمد اور میرا کمرے سے باہر نکلنا اس بات کی نشاندہی کرتا تھا کہ اس برگزیدہ بندے نے مجھے اس منڈل سے باہر نکلنے میں مدد کی تھی، جسے سیتارام نے قائم کر رکھا تھا۔ وہ آواز جو مجھ سے بار بار میرا نام دریافت کر رہی تھی میرے خیال کے مطابق پنڈت رام کشن ہی کی ہو سکتی تھی۔ لیکن وہ خود کھل کر سامنے کیوں نہیں آیا تھا؟ ایسی کیا مصلحت تھی جس نے میرے منڈل سے باہر نکلنے کے بعد بھی اسے پردوں کے پیچھے چھپے رہنے پر مجبور کر دیا تھا؟ ممکن ہے رام کشن نے خود سامنے آنے کے بجائے ایسے کسی خاص آدمی کو رتن کمار کی اصلیت معلوم کرنے کی خاطر بھیج دیا ہو؟ اس آواز نے بھی دیوی کا حوالہ دے کر کہا تھا کہ دیوی نے اس کی پکار سن لی ہے۔ تو کیا نیک دل بزرگ نے مجھے صرف اس اسی لئے سیتارام کے منڈل سے باہر نکالنے میں مدد کی تھی کہ میں رام کشن یا اس کے بھیجے ہوئے کسی آدمی کے سامنے اپنی اصلیت کا اظہار کر دوں؟ بزرگ اور رام کشن کے درمیان بھلا کیا تعلق ہو سکتا تھا؟ اور اگر در گا نے رام کشن کی پکار سن لی تھی تو پھر اس نے درمیان میں آکر مجھے میرا وعدہ یاد دلانے کی کوشش کیوں کی تھی؟ بات کچھ الجھے سی گئی تھی، میں اسے سلجھانے میں دماغ کی ساری قوتیں بروئے کار لانے کی کوشش کر رہا تھا جب جوگی سیتا رام نے دوبارہ کمرے میں قدم رکھا۔ وہ تین گھٹنے تک پنڈت امر ناتھ کے ساتھ کیا راز و نیاز کی باتیں کرتا رہا تھا؟سیتارام کا چہرہ سپاٹ نظر آ رہا تھا کوئی ایسی واضح علامت نہیں تھی جس سے میں اس کے دل کا راز معلوم کر سکتا۔ کیا بات ہے گرو" میں نے براہ راست جوگی کو کریدنے کی ٹھانی۔ "تم نے پنڈت کے ساتھ بڑی دیر لگا دی ؟"
تمہارے من میں کیا کھد بد ہو رہی ہے؟" سیتا رام نے مجھے تیز نظروں سے گھورا۔
"تو کیوں بیا کل ہو رہا ہے؟"
تم نے امرناتھ کا تعارف کراتے وقت کہا تھا کہ وہ تمہارا پرانا ساتھی ہے لیکن اس کی باتیں میں نے دیدہ و دانستہ اپنا جملہ نامکمل چھوڑ دیا۔
اس کی کون سی بات تیری سمجھ میں آئی؟ سیتارام نے سپاٹ لہجے میں پوچھا۔ وہ تم سے کس کا دھیان من سے نکال دینے کی باتیں کر رہا تھا؟" میں نے پہلو بدل
کر کہا۔ ”اس نے گھپ اندھیروں کی بات بھی کی تھی۔" جواب میں سیتارام کی پیشانی پر سلوٹیں ابھر آئیں، ایک لمحے کے لئے مجھے اس کی آنکھوں کے ڈھیلے سرخ ہوتے نظر آئے لیکن دوسرے ہی پل اس نے خود کو سنبھال لیا۔ "میرے خیال میں ایسی کوئی بات ضرور ہے جو تمہیں پریشان کر رہی ہے۔" میں نےہمدردی کا اظہار کیا۔ "کیا سیوک کو نہیں بتاؤ گے ؟" پنڈت نے کہا تھا کہ اب میرے اور تیرے درمیان سمبندھ ٹوٹنے کا سمے آگیا ہے۔ سیتارام نے معنی خیز لہجے میں کہا۔ ”پر اب ایسا ہو گا نہیں۔" کیا مطلب؟" میں چونکا۔ "میرا نام جوگی سیتارام ہے بالک!" وہ زہر خند سے بولا۔ اس پار یا اُس پار ... لیکن میں نے جیون میں کبھی ہارنا نہیں سیکھا۔ جب تک میں یہ نہ معلوم کرلوں کہ وہ کون سی شکتی ہے جس نے جوگی کے راستے میں آنے کی بھول کی ہے، میں چین سے نہیں بیٹھوں گا۔ بھلے جان چلی جائے لیکن میں میدان میں اترنے کے بعد گھٹنے نہیں ٹیکوں گا۔ " سیتارام کے لہجے میں اس کے ارادوں کی پختگی جھلک رہی تھی، وہ جو کچھ کہہ رہا تھا
اس پر عمل کرنے کی طاقت بھی رکھتا تھا۔ و تمہیں تمہاری کوششوں میں کامیابی ہو جائے وہ شے تمہارے ہاتھ آجائے جس کے کارن تم نے اتنے پاپڑ بیلے ہیں، اس کے سوا کسی اور جھگڑے میں کیوں پڑتے ہو؟" میں نے اسے ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی۔ " پنڈت امرناتھ نے بھی یہی کہا ہے کہ رام کشن اپنی زبان دے کر منہ موڑنے کی غلطی کبھی نہ کرے گا۔ "اس نے شکتیوں کے ٹکراؤ کی بات بھی کی تھی۔ انگلیوں کے کھیل تماشوں کابھی شوشا چھوڑا تھا۔ " سیتا رام نے ہونٹ کاٹتے ہوئے مجھے گھورا۔ ”تو ان باتوں کو کیوں
بھول رہا ہے؟"
نہیں بالک نہیں۔" اس نے تیزی سے سیدھا ہاتھ نفی میں بلند کر کے سرسراتے لہجے میں جواب دیا۔ ” زیادہ چتر اور چالاک بننے کی کوشش مت کر، میں نے تجھ سے پہلے بھی کہا تھا کہ میرے حساب کتاب میں کبھی غلطی نہیں ہوتی۔" تمہارا دل شاید ابھی تک میری طرف سے صاف نہیں ہوا؟“ میں نے سنجیدگی اختیار کرلی۔ دل بھی صاف ہو جائے گا مورکھ! سمے سر پر آگیا ہے کچھ دیر اور انتظار کرلے۔" میں جواب دینا چاہتا تھا کہ دھرم شالہ کے ملازم دوپہر کا کھانا لے کر آگئے ، کھانے کے دوران میری نظریں بار بار سیتارام کے چہرے کی جانب اٹھتی رہیں لیکن وہ اپنی کسی سوچ میں فرق تھا۔ کھانے کے بعد اس نے گھڑی پر نظر ڈالی اس وقت دوپہر کا ڈیڑھ بج رہا تھا۔ 

جوگی - پارٹ 14

Urdu stories online, Urdu stories for kids, Short Urdu stories, Urdu Kahaniyan, Famous Urdu stories, Urdu stories with moral, Best Urdu stories collection, Urdu stories for students, Urdu love stories, Urdu horror stories, Urdu stories for reading, Urdu stories in Urdu text, Funny Urdu stories, Urdu stories for beginners, Urdu detective stories, Urdu motivational stories, Urdu stories for kids, Urdu moral stories, Urdu stories for children, Urdu true stories, Urdu suspense stories, Urdu emotional stories, Urdu adventure stories, urdu font stories,new stories in urdu, hindi moral stories in urdu,سبق آموز کہانیاں, ,good moral stories in urdu,Moral Stories,Urdu Stories,urdu kahani,اردو کہانی,قسط وار کہانیاں
Reactions