جوگی - مکمل کہانی

Sublimegate Urdu Stories

حسب معمول کرب میں ڈوبی ہوئی وہ اعصاب شکن آواز میرے وجود کے سناٹے میں گونجی اور میں ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا۔ میں نے خوفزدہ نظروں سے اطراف کا جائزہ لیا لیکن کمرے میں ہر سمت سوگوار خاموشی مسلط تھی۔ وہاں میرے سوا کوئی اور نہیں تھا صرف میرے دل کی بے ترتیب دھڑکنوں کی آواز میرے کانوں میں گونج رہی تھی۔ میرے ساتھ یہ پہلا اتفاق نہیں تھا اس سے پیشتر بھی متعدد بار یہی اذیتناک چیخوں کی دل ہلا دینے والی آواز میرے وجود کو جھنجھوڑ چکی تھی۔

کچھ دیر گم صم کھڑا میں اپنی بے چارگی کا ماتم کر رہا پھر میرے دل کی دھڑکنیں معمول پر آنے لگیں میرا حلق خشک ہو رہا تھا۔ یوں جیسے میں برسوں سے پانی کی ایک ایک بوند کو ترس رہا تھا۔ میں نے کچن میں جا کر پانی کا گلاس بھرا اور ایک ہی سانس میں حلق سے نیچے اتارتا چلا گیا مگر میری پیاس کی شدت کم نہ ہوئی، میرے اندر سلگتا ہوا آتش فشاں پھٹ پڑنے کو مچلنے لگا لیکن اچھا ہوا لاوے کی نکاسی کا کوئی راستہ نہیں تھا میں نے بے بسی کے احساس سے مٹھیاں بھینچ لیں، ہونٹ دانتوں تلے دبا لیا۔ میری رگوں میں دوڑتے ہوئے جوان خون کی گردش تیز ہونے لگی، میرے دل و دماغ میں گرم آندھی کے تیز جھکڑ چلنے لگے جس کی تپش میرے احساسات کو جھنجھوڑ رہی تھی، میری مردانگی کو للکار رہی تھی، میرے وجود میں نشتر چھو رہی تھی، میرے سینے میں سلگتی انتقام کی اس آگ کو ہوا دے کر بھڑکا رہی تھی جو ایک عرصے سے سرد نہیں ہوئی تھی۔ روز بروز شدت اختیار

کرتی جا رہی تھی۔ میں کسی چوٹ کھائے ہوئے زخمی شیر کی طرح کمرے میں ملنے لگا میں نے گھپ اندھیرے کو دور کرنے کی خاطر روشنی کا سہارا نہیں لیا، مجھے اس کی ضرورت بھی نہیں تھی۔ تاریکی کے باوجود میری نظریں اس بھیانک اور ہولناک حادثے کے ایک ایک منظر کو دیکھ سکتی تھیں جس کا ایک ایک لمحہ ایک ایک پل میرے دل و دماغ پر روز اول کی طرح آج بھی نقش ہے۔ کرب میں ڈوبی چیخ کی وہ از میتاک آواز میں متعدد بار میری قوت سماعت سے صدائے بازگشت بن کر ٹکرا چکی تھیں۔ زندگی اور موت کے درمیان ہونے والی بھیانک کشمکش ، چنگھاڑتی ہوئی گولیوں کی آواز میں اور تڑپتے جسم سے ابلنے والے خون کے فوارے وہ سب کچھ وہم نہیں تھا کسی ہارر (HORROR) فلم کے رونگٹے کھڑے کر دینے والے فرضی مناظر یا اس کے صوتی اثرات بھی نہیں تھے۔ وہ سب کچھ میری زندگی کی سب سے زیادہ بھیانک اور تلخ حقیقت تھی جو دس سال سے کسی سائے کی مانند میرا تعاقب کر رہی تھی۔ آج بھی وہ مناظر اور میرے ساتھ پیش آنے والے ہولناک ناقابل یقین واقعات اور حادثات مجھے یاد آتے ہیں تو میں سر تا پا لرز اٹھتا ہوں، برسوں کے
شب و روز سمٹ کر رہ جاتے ہیں، مجھے یوں لگتا ہے جیسے ابھی کل کی بات ہو۔ میں اپنی اس دل فگار داستان کو کلی پھندنے لگا کر رنگین بنانے کی خاطر دروغ گوئی کا سہارا نہیں لوں گا جو کچھ میرے اوپر بیتی، میرے ذہن نے جو محسوس کیا، میری گناہگار نظروں نے جو دیکھا حالات اور واقعات جس تسلسل اور ترتیب سے پیش آتے رہے

سب کچھ اسی انداز میں بیان کر دینا زیادہ مناسب سمجھوں گا۔ مجھے مطلق یاد نہیں کہ میری پیدائش پر میرے والدین نے کوئی جشن منایا تھا یا نہیں۔ ذہن پر دھندلا دھندلا سا یہ خیال طاری ہے کہ میری تیسری سالگرہ بھی خاموشی سے دبے پاؤں گزر گئی تھی لیکن اس کے بعد مجھے خوب یاد ہے کہ نویں سالگرہ تک کوئی تقریب ایسی منعقد نہیں ہوئی جس سے والدین کی خوشی کا اظہار ہوتا۔ شعور بیدار ہونے کے ساتھ ساتھ مجھے اس بات کا احساس بھی شدت سے ہونے لگا کہ میرے والدین میرے سلسلے میں ہمیشہ فکر مند رہتے تھے۔ کیوں؟ میں اس کی وجہ نہ جان سکا لیکن مجھے یاد ہے کہ جب میں نے دسویں سال میں قدم رکھا تو میرے والدین کے ہونٹوں پر تبسم جاگنے لگا ان کے چہرے سے تفکرات کے بادل بتدریج چھٹنے لگے تھے، وقت کے ساتھ ساتھ ان کی خوشوں میں اضافہ ہونے لگا پھر میری دسویں سالگرہ نہایت دھوم دھام سے منائی گئی۔ اس موقع پر میرے دادا مولوی فراست علی جو میری دادی کے انتقال کے بعد زیادہ تر الگ تھلگ رہنے کے عادی ہو گئے تھے۔ والد صاحب کے اصرار پر خاص طور سے شرکت کرنے کی خاطر رامپور سے تشریف لائے تھے۔ وہ بے حد نمازی، تہجد گزار پرہیز گار اور صوم و صلوٰۃ کے پابند تھے۔ دادی کے انتقال کے بعد انہوں نے سرکاری ملازمت ترک کر
کے رامپور ہی میں ایک اسلامی مدرسے میں درس و تدریس کے شعبے سے وابستگی اختیار کر لی تھی اور دن رات عبادت اور یاد الہی میں غرق رہتے تھے۔ خداوند کریم نے انہیں اپنے کرم سے اس درجہ نواز رکھا تھا کہ وہ مستقبل میں جھانکنے کی صلاحیت بھی رکھتے تھے۔ میرے علاوہ میرے والدین کو بھی دادا مرحوم کی ان مخفی صلاحیتوں کا علم اس وقت ہوا جب وہ اٹھتر سال کی عمر پا کر اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئے۔ میں جو داستان رقم کر رہا ہوں اس میں میرے دادا کی شخصیت کو بھی خاص عمل دخل رہا ہے جس کا ذکر درمیان
میں آتا رہے گا۔

میں یہاں بطور خاص اس بات کا ذکر ضروری سمجھتا ہوں کہ میری دسویں سالگرہ کا جشن شاید اس لئے بے حد جوش و خروش اور اہتمام سے منایا گیا تھا کہ مجھ سے قبل میری دو بہنیں اور ایک بھائی نو سال کی عمر تک پہنچنے سے پیشتر ہی یا تو طبعی موت مر گئے تھے یا کسی اتفاقیہ حادثے کا شکار ہو کر والدین کو داغ مفارقت دے گئے تھے۔ ممکن ہے میرے بھائی بہنوں کی موت محض اتفاقیہ ہو لیکن میرے والدین کے دل و دماغ میں، نو کا ہندسہ و ہم کی حد تک خوف کی علامت بن چکا تھا۔ میں اسے فی الحال ان کی ضعیف الاعتقادی کہوں گا اس لئے کہ ازل سے ابد تک کے جو واقعات لوحِ محفوظ پر رقم کر دیئے جاتے ہیں وہ قدرت کا منشا ہوتے ہیں جس میں زیر زبر یا پیش کی ترمیم کی بھی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ انسان کسی غیر معمولی یا خلاف توقع حادثے سے دوچار ہو کر ہوئی انہونی کو جو نام دیتا ہے وہ محض اس کے دماغ کی اختراع ہوتی ہے لیکن میں اس بحث کو طول دے کر اصل واقعات کو پس پشت ڈالنے سے گریز کروں گا۔

میری پیدائش پر میرے والدین نے بہت سوچ بچار کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی رعایت سے میرا نام آذر رکھا تھا۔ ان دنوں ہمارا قیام پٹنہ میں تھا، میرے والد حکومت کے ملازم تھے ، ان کی تنخواہ واجبی تھی اس لئے میں یہی کہوں گا کہ ہمارا تعلق درمیانہ طبقے سے تھا۔ میری والدہ چونکہ تلے اوپر تین اولادوں کا غم جھیل چکی تھیں اس لئے وقت سے پہلے بوڑھی نظر آنے لگی تھیں چنانچہ میرے والد ہمہ وقت ان کی دلجوئی کا خیال رکھتے تھے۔ میری پیدائش اور پھر دس سال کی مدت گزر جانے کے بعد میرے والدین کی خوشیاں واپس لوٹ آئی تھیں ، خاص طور پر میری والدہ کی گرتی ہوئی صحت پر بڑا خوشگوار شڑا تھا، انہوں نے نہ صرف یہ کہ شکرانے کی نمازیں ادا کیں بلکہ صدقہ اور خیرات کے معاملے میں بھی دل کھول کر حصہ لیا۔ میری دسویں سالگرہ کا دن میرے گھر والوں کے لئے روز عید سے کم نہ تھا۔ اس روز صبح ہی سے سالگرہ کا اہتمام شروع ہو گیا تھا، گھر کو دلہن کی طرح سجایا گیا، میرے لئے قیمتی لباس تیار کرایا گیا میرے ہم عمر ساتھیوں کے علاوہ محلے کے تمام بچوں کو نام بنام مدعو کیا گیا دادا جان کی امامت میں عصر کی نماز ادا کی گئی پھر کیک کاٹا گیا، بچوں میں مٹھائی تقسیم کی گئی۔ رات گئے تقریب ختم ہوئی تو میں اپنے والدین کے ہمراہ فرش پر بیٹھ کر تحائف کھولنے میں مصروف ہو گیا۔ ایک ایک پیکٹ کھولنے پر میرے ساتھ میرے والدین بھی خوشی سے تالی بجا رہے تھے، اپنی مسرت کا اظہار کر رہے تھے لیکن میرے دادا جان ایک آرام کرسی پر بیٹھے کسی گہری سوچ میں مستغرق تھے اور ٹکٹکی باندھے مجھے دیکھ رہے تھے۔
 
 وہ سنجیدہ اور مذہبی مزاج کے مالک تھے اس لئے ان کی خاموشی پر کسی نے زیادہ دھیان نہیں دیا لیکن اسی رات جب سونے سے پہلے میں والدہ کو تلاش کرتا ہوا دادا جان کے کمرے کے قریب گیا تو میرے قدم دروازے پر جم کر رہ گئے۔ دادا جان مرحوم کے وہ جملے روز اول کی طرح آج بھی میری یادداشت کے ذخیروں میں محفوظ ہیں جو انہوں نے نہایت سنجیدگی سے میرے والد سے کہے تھے۔ شوکت علی! غیب کا حال سوائے اس قادرِ مطلق کے اور کوئی نہیں جانتا، ہر شے اس کے دائرہ اختیار میں ہے، اس کے حکم کے بغیر کوئی سوکھا پتہ بھی اپنی جگہ سے جنبش نہیں کر سکتا لیکن کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جن کا خیال نہ رکھنا بھی اس کی ناراضگی کا سبب بن جاتا ہے۔ اسی لئے بزرگوں اور دانشوروں نے پھونک پھونک کر قدم اٹھانے کا مشورہ دیا ہے۔ ہماری مقدس کتاب میں بھی جگہ جگہ بنی نوع انسان کو عقل اور شعور سے کام لینے کی تاکید کی گئی ہے۔ جلد بازی میں بغیر سوچے سمجھے کوئی قدم اٹھانے سے منع کیا گیا ہے اس لئے کہ ایک ذرا سی بھول کبھی کبھی انسان کے سارے کئے کرائے پر پانی پھیر دیتی ہے۔ دادا جان نے تھوڑے توقف کے بعد دبی زبان میں کہا۔ ”انسان کچھ کھو کر کچھ پاتا ہے لیکن تم نے پا کر کھو دینے کی غلطی کی ہے۔" و میں سمجھا نہیں۔ والد صاحب نے چونک کر دریافت کیا۔ ”کیا ہم سے کوئی بھول ہو گئی ہے؟"
میں بڑے عرصے سے تمہیں ایک نیک مشورہ دینے پر غور کر رہا تھا لیکن ... دادا جان نے میری والدہ کی طرف دیکھ کر کہا۔ ”دلہن کی دل شکنی نہ ہو اور میری بات کو
غلط نہ سمجھا جائے اس لئے خاموش رہا۔"

آپ کیسی بات کر رہے ہیں ابا حضور ! میری والدہ نے کسمسا کر بڑے ادب سے کہا۔ ”بھلا آج تک میں نے آپ کی کسی بات کا بُرا مانا ہے؟"
میں تم سے شکایت نہیں کر رہا دلہن ! دادا جان نے بڑی شفقت بھری سنجیدگی سے جواب دیا۔ بس ایک خدشہ تھا جس نے لب کشائی سے روکے رکھا، شاید قدرت کو بھی یہی منظور تھا۔ لیکن اب وقت آگیا ہے کہ میں تم دونوں کو اس بات سے آگاہ

کر دوں۔" ایسی کیا بات ہے جسے کہتے ہوئے آپ اس قدر ہچکچا رہے ہیں؟" میرے والد نے
دریافت کیا۔ ” آپ جو مشورہ دیں گے وہ ہمارے لئے یقیناً مفید ہی ہو گا۔" ہو سکتا ہے تم میرے خیال سے اتفاق نہ کرو۔ دادا جان پہلو بدل کر بولے۔ کسی چیز کے بارے میں سعد یا نجس ہونے کا تصور کر لینا انسان کی ذاتی سوچ ہوتی ہے۔ کبھی کبھی قدرت اپنے بندوں کا امتحان بھی لیتی ہے، اکثر یہ امتحان بڑے کٹھن اور ناقابلِ برداشت ہوتے ہیں، جس پر گزرتی ہے وہی بہتر جانتا ہے۔ مجھے احساس ہے کہ تین جگر گوشوں کی جدائی کا تم دونوں کے دل و دماغ پر کیا اثر ہوا ہو گا۔ اس کی مصلحت کو سمجھنا انسان کے بس کی بات نہیں ہے، جو کچھ ہوتا ہے اس میں انسان کی کوئی نہ کوئی بہتری بھی ضرور ہوتی ہے " دادا جان پھر ایک لمحے کو خاموش ہو گئے، ان کی نگاہیں خلا میں کچھ تلاش کر رہی تھیں، میرے والدین انہیں وضاحت طلب نظروں سے دیکھ رہے تھے، کمرے میں چند ثانیے کو گہرا سکوت طاری رہا۔

تین بچوں کی موت کے تذکرے نے میرے والدین کو ملول کر دیا تھا، مجھے صرف یہ خیال پریشان کر رہا تھا کہ دادا جان نہ جانے کیا مشورہ دینا چاہتے تھے۔ بات اگر سیدھی سادی ہوتی تو انہیں اسے گھما پھرا کر کہنے کی کیا ضرورت پیش آگئی تھی؟ ہر چند کہ میری عمر اتنی زیادہ نہیں تھی کہ مجھے کسی قسم کی تشویش لاحق ہوتی لیکن میرے دل و دماغ میں نہ جانے کیوں ایک عجیب سی کھلبلی مچی تھی۔ میرے والدین کی نظریں بھی دادا جان کے چرنے پر مرکوز تھیں جب انہوں نے ایک طویل سانس لے کر بڑی گھمبیر آواز میں کہا۔ میں تم دونوں کو یہ مشورہ دینا چاہتا ہوں کہ جتنی جلدی ممکن ہو آذر کا نام تبدیل کر لو
میں سمجھا نہیں۔" والد صاحب نے قدرے پریشان لیجے میں پوچھا۔ " آذر کے نام
میں کیا خرابی ہے؟"

خدانخواستہ میرے آذر کے دشمنوں کی جان کو کوئی خطرہ تو نہیں ہے ؟“ میری والدہ
نے بھرائی ہوئی آواز میں دریافت کیا۔ "نہیں" دادا جان نے ہاتھ مسلتے ہوئے سپاٹ آواز میں کہا۔ "تمہارے بیٹے کی عمر خدا نے چاہا تو طویل ہو گی مگر بہتر ہے کہ اس کا نام بدل دیا جائے۔“ میں آپ کے علم، تجربات اور مشاہدات کا معترف ہوں لیکن دس سال بعد نام کی تبدیلی میں بڑی دشواریاں پیش آئیں گی۔“ میرے والد نے دبی زبان میں کہا۔ میں جانتا ہوں لیکن اس کے باوجود میں یہی بہتر سمجھتا ہوں کہ نام کی تبدیلی کا کام پہلی فرصت میں ہو جانا چاہئے۔ " دادا جان اپنے مشورے پر اٹل رہے تو میری والدہ نے بے چین ہو کر دریافت کیا۔
ابا حضورا میں محسوس کر رہی ہوں کہ آپ کوئی اہم بات کہنے سے گریز کر رہے ہیں۔ کیا آپ اپنے مشورے کا سبب بتانا پسند کریں گے؟" دادا جان نے نظر بھر کر میری والدہ کو دیکھا۔ ان کے چہرے پر جو تاثرات تھے اس
سے یہی ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ کسی ذہنی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ تم پریشان مت ہو۔ " انہوں نے میری والدہ کو دلاسہ دیتے ہوئے جواب دیا۔ "جب تک میں زندہ ہوں تمہارے آذر پر کوئی آنچ نہ آنے دوں گا مگر اس حقیقت سے انکار بھی نہیں کیا جا سکتا کہ ناموں کے اثرات انسان کی زندگی پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔
آپ کے خیال میں آذر کے علاوہ دوسرا کیا نام مناسب رہے گا؟" میرے والد نے
سنجیدگی سے پو چھا۔ رات کافی ہو چکی ہے، مجھ پر نیند کا غلبہ بھی طاری ہو رہا ہے، ایک دو روز میں غور کر کے تمہیں دوسرا نام تجویز کر دوں گا۔ " دادا جان نے جماہی لیتے ہوئے کہا پھر اٹھ کر پتے اپنے بستر پر چلے گئے، میرے والدین نے اصرار مناسب نہیں سمجھا اس لئے اٹھ کر باہر آ
گئے۔

میں محسوس کر رہا تھا کہ والدہ کو دادا جان کی باتوں سے تسلی نہیں ہوئی، والد صاحب
بھی شش و پنج میں گرفتار نظر آ رہے تھے۔ خود میرا ذاتی خیال بھی یہی تھا کہ دادا جان کسی خاص وجہ یا مصلحت کی بنا پر نام کی تبدیلی کے موضوع کو ٹالنا چاہتے تھے۔ اصل راز کیا تھا یہ ہم میں سے اس وقت کوئی بھی نہیں جان سکا۔ والدین کو دادا جان کے کمرے سے نکلتا دیکھ کر میں تیزی سے لپکتا ہوا اپنے کمرے میں آکر بستر پر لیٹ گیا اور اس طرح آنکھیں موند لیں جیسے سو رہا ہوں۔ میرا خیال تھا کہ اپنے کمرے میں واپس آکر میرے والدین دادا جان کے مشورے پر کچھ نہ کچھ تبادلہ خیال ضرور کریں گے۔ میرا اندازہ غلط نہیں ہوا۔ میں نے جان بوجھ کر دروازے کی سمت پشت کر لی تھی تاکہ میرے چہرے کے تاثرات سے بھی یہ اندازہ نہ لگایا جا سکے کہ میں سو رہا
ہوں یا جاگ رہا ہوں۔

میرے والد نے کمرے میں داخل ہو کر مجھے ایک دو آوازیں دیں پھر والدہ سے مخاطب ہو کر مدھم آواز میں بولے۔ میں محسوس کر رہا ہوں کہ تم نے والد صاحب کے مشورے کا کچھ زیادہ ہی اثر لیا ہے، ان کی عمر اٹھتر سال ہونے کو ہے، اس عمر کو پہنچنے کے بعد اکثر بزرگ ضرورت سے کچھ زیادہ ہی محتاط ہو جاتے ہیں، انہوں نے آذر کے نام کی تبدیلی والی بات یوں ہی کہہ دی ہو گی تم پریشان مت ہو، میں ان کے جانے سے پیشتر اس موضوع پر کھل کر بات کروں گا۔"

" آپ شاید مجھے بہلانے کی خاطر ایسا کہہ رہے ہیں۔" میری والدہ نے سنجیدگی سے کہا۔ ”ابا حضور کی عمر ضرور اٹھتر سال ہو گئی ہے لیکن یہ بات میرے علاوہ آپ بھی بخوبی جانتے ہیں کہ وہ کم سخن اور سنجیدہ طبیعت کے مالک ہیں، کبھی بلاوجہ کوئی بات زبان سے نہیں نکالتے، انہوں نے ضرور کوئی بات محسوس کی ہو گی جو خاص طور سے نام کی تبدیلی والی بات چھیڑی ہے۔" بلا وجہ وہم میں مت مبتلا ہو۔ والد صاحب نے سمجھاتے ہوئے جواب دیا۔ ”اگر ابا جان نے نام کی تبدیلی ضروری سمجھی تھی تو دس سال تک خاموشی کیوں اختیار رکھی؟ پہلے بھی وہ نام کی مخالفت کرے سکتے تھے۔"
جواز چونکہ معقول تھا اس لئے میری والدہ نے فوراً ہی کوئی جواب نہیں دیا تھوڑے توقف سے بولیں۔ ”خدا کرے آپ کا خیال درست ہو ہو لیکن میرے دل کو اس نہیں آئے گا جب تک ابا حضور کھل کر کچھ نہیں کہتے۔"
جاری ھےجوگی

تم دل پر بوجھ مت ڈالو میں صبح ہوتے ہی ان کو اس مسئلے پر دوبارہ کر دوں گا۔ " میرے والدین کے درمیان خاصی دیر تک اسی مسئلے پر تبادلہ خیال ہو تا رہا پھر وہ بھی سونے کے ارادے سے کمرے کی بتی بجھا کر لیٹ گئے، میں بھی کچھ دیر بعد خراٹے نشرکرنے لگا۔
دوسری صبح ناشتے کی میز پر میں بھی موجود تھا، دادا جان خلاف توقع کچھ زیادہ ہی کچھ خاموش نظر آ رہے تھے، میری والدہ کو چونکہ میرے نام کے سلسلے میں فکر لاحق ہو گئی تھی ان اس لئے وہ کچھ دیر تو انتظار کرتی رہیں پھر انہوں نے میرے والد کو اشارے سے اصل موضوع چھیڑنے کو اکسایا مگر اس سے پیشتر کہ والد صاحب بات شروع کرتے دادا جان نےمہر خاموشی توڑتے ہوئے کہا۔
"شوکت میاں! مجھے ایک اشد ضروری کام یاد آگیا ہے اس لئے میں آج دوپہر کی یہ
گاڑی سے واپس رامپور جانا پسند کروں گا۔" اتنی جلدی۔" والد صاحب نے کہا۔ "آپ تو اس مرتبہ ایک ہفتہ رہنے کےارادے سے آئے تھے۔

ارادہ تو یہی تھا لیکن " دادا جان کچھ کہتے کہتے خاموش ہو گئے۔ کیا بات ہے؟ آپ خاموش کیوں ہو گئے ؟" والد صاحب نے ان کی خاموشی کو ۔ محسوس کرتے ہوئے پوچھا۔ "کیا کوئی اہم مسئلہ در پیش ہے ؟". ہاں۔ دادا جان نے طویل سانس لے کر بڑے معنی خیز انداز میں یہ جواب دیا۔ ”کوئی مسئلہ غیر اہم نہیں ہوتا۔ ہم اس کی نزاکت اور موقع محل کو نہ سمجھ سکیں تو اور بات ہے۔"
کیا ایک دو روز بھی اور قیام نہیں کر سکتے ؟" زندگی نے مہلت دی تو پھر کبھی آرام سے آؤں گا۔ اس وقت جو کام یاد آ گیا ہے اسے ٹالا نہیں جا سکتا۔"

لیکن زیادہ اصرار مت کرو بیٹے ! ہر کام کا ایک وقت مقرر ہوتا ہے اور وقت پر کسی کا اختیار نہیں چلتا۔"
میں محسوس کر رہا تھا کہ دادا جان اندر سے بڑے مضطرب نظر آ رہے تھے، وہ ان کے فیصلے اٹل ہوتے تھے چنانچہ والد صاحب نے انہیں روکنے کے لئے زیادہ اصرار نہیں کیا۔ ناشتے سے فارغ ہونے کے بعد والد صاحب سیٹ مخصوص کرانے کے ارادے سے اسٹیشن چلے گئے۔ میری والدہ کے دل میں نام کی تبدیلی والی بات پھانس کی طرح چبھ رہی تھی چنانچہ والد صاحب کے جانے کے بعد وہ کچھ دیر صبر کرتی رہیں پھر صبر پر اختیار نہ رہا تو دادا جان کے کمرے میں چلی گئیں، میں ان کے ساتھ تھا اس لئے
انہوں نے بات کو گھما کر شروع کیا۔۔

ابا حضور! میں آپ سے وہ بات معلوم کرنے کی غرض سے آئی ہوں جس کا ذکر
میں سمجھ گیا کہ تم کیا دریافت کرنے کی خاطر بے چین ہو لیکن خدا پر بھروسہ رکھو۔ دادا جان نے بات کاٹ کر جواب دیا۔ وہ رحیم و کریم ہونے کے ساتھ ساتھ بڑا مسبب الاسباب بھی ہے، اس کی ذات سے مایوسی گناہ ہے۔"
آپ درست فرما رہے ہیں مگر جب تک آپ اپنے مشورے کی وضاحت نہ کر دیں گے میرے دل کو چین نہیں آئے گا۔ " میری والدہ نے بڑے مہذب لہجے میں اصرار کیا۔ مجھے بد نصیب کی ممتا پر جو چر کے لگ چکے ہیں آپ بھی اس سے بخوبی واقف ہیں۔" میں تمہارے دل کی کیفیت سمجھتا ہوں دلہن ! دادا جان نے مضطرب ہو کر خلا میں گھورتے ہوئے جواب دیا۔ ”میں نے کل رات جو مشورہ دیا تھا اب اس پر عمل کرنے کا وقت گزر چکا ہے مگر تم حوصلے سے کام لو، میں جلدی میں نہ ہوتا تو تم سے تفصیل سے
گفتگو کرتا۔" اگر کوئی مصلحت آڑے آ رہی ہے تو میں آپ کو مجبور نہیں کروں گی لیکن صرف
اتنا بتا دیں کہ میری ممتا کو پھر کوئی میری والدہ کی آواز کپکپانے لگی۔ ایسی برمی فال زبان سے مت نکالو۔ دادا جان نے بڑی شفقت سے میری والدہ کے سر پر ہاتھ پھیر کر کہا۔ ”میں نے کل رات بھی غالبا کہا تھا کہ تمہارے آذر کی عمر طویل ہو گی۔ میری بات پر یقین کرو جو کچھ پہلے ہو چکا اب نہیں ہو گا۔" پھر دادا جان نے اپنی تسبیح میرے گلے میں ڈال کر سنجیدگی سے ہدایت کی۔ کوشش کرنا کہ یہ تسبیح چالیس روز تک بچے کے جسم سے علیحدہ نہ ہو۔"

۔ " میری والدہ نے خود پر بمشکل قابو پاتے ہوئے سوال کی۔ کیا ہمارے آذر کو خدا نخواسته...
غیب کے حال وہی بہتر جانتا ہے لیکن تم کوئی تردد نہ کرو، میں وعدہ کرتا ہوں کہ آذر کو اپنی دعاؤں میں برابر شامل رکھوں گا۔ دادا جان نے مجھے اٹھا کر سینے سے لگاتے ہوئے بڑے پیار سے کہا۔ " تم یہ کیوں بھول رہی ہو کہ آذر میرے شوکت کی اولاد ہے۔“ ایک سوال کی گستاخی کر سکتی ہوں؟" میری والدہ نے کچھ توقف کے بعد مدھم
آواز میں کہا۔۔ پوچھو ۔ کیا معلوم کرنا چاہتی ہو؟" آپ نے کل رات دوسرا نام تجویز کرنے کی بات بھی کی تھی، کیا آپ کے ذہن میں کوئی مناسب نام ہے؟" میں نے ابھی کہا تھا کہ اب نام تبدیل کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ بہر حال اگر زندگی نے وفا کی تو رامپور پہنچنے کے بعد تمہاری تسلی کی خاطر کوئی مناسب نام سوچ کر
روانہ کر دوں گا۔" دادا جان نے دوسرا نام تجویز کرنے کا وعدہ کیا تو میری والدہ کو قرار آ گیا۔ وہ مطمئن انداز میں شکریہ ادا کر کے کمرے سے باہر چلی گئیں۔ میں خاصی دیر تک دادا جان کے پاس رہا وہ بار بار مجھے سینے سے لگا کر پیار کرتے رہے اور کچھ پڑھ پڑھ کر میرے اوپر دم کرتے رہے ۔ کاش اس روز میں دادا جان کی باتوں اور ان کی قلبی کیفیت کا صحیح اندازہ لگا سکتا۔

دوپہر کو کھانے کے بعد دادا جان واپس چلے گئے۔ جاتے جاتے انہوں نے ایک بار پھر مجھے بڑی گہری نظروں سے دیکھا پھر میری ماں کو تسبیح کا خیال رکھنے کی دوبارہ تاکید کی۔ ان کی نظریں بار بار آسمان کی جانب اٹھ رہی تھیں۔ ایسا لگتا تھا جیسے وہ کچھ کہنا چاہتے ہوں لیکن کہہ نہ پا رہے ہوں۔ میری والدہ انہیں دروازے تک رخصت کرنے گئیں، انہوں نے خاموشی سے میری ماں کے سر پر ہاتھ پھیرا اور تیزی سے پلٹ کر باہر چلے گئے۔ میں دادا جان کی ایک ایک حرکت کو محسوس کر رہا تھا۔ میں نے ایک دو بار سوچا تھا کہ اپنی ماں سے ان باتوں کے سلسلے میں دریافت کروں جس کی بنا پر گزشتہ رات سے گھر کی فضا پر ایک عجیب سوگوار سنجیدگی مسلط تھی لیکن ہر بار کوئی نا معلوم طاقت مجھے میرے ارادے سے روک دیتی۔
دادا جان کے جانے کے بعد میری والدہ کچھ دیر گم صم رہیں پھر مجھے پیار کرتے ہوئے
آذر بیٹے ! تمہارے دادا ابو نے تمہارے گلے میں جو تسبیح ڈالی ہے اس کا خاص
خیال رکھنا اس کی طرف سے ایک پل کو بھی غافل نہ ہوتا۔" ٹھیک ہے۔" میں نے معصومیت سے جواب دیا۔ ”میں اسکول جاتے وقت اسے سنبھال کر اپنی الماری میں رکھ دوں گا واپس آکر دوبارہ پہن لیا کروں گا۔"نہیں ... میری والدہ نے پیار سے سمجھایا۔ ” تمہیں چالیس روز تک اسے بدن سے علیحدہ نہیں کرنا۔
اور اسکول میں اگر میرے ساتھیوں نے میرا مذاق اڑایا تو؟؟ میں نے وضاحت

تم اسے قمیض کے نیچے کئے رہنا نہ کوئی دیکھے گا نہ مذاق اڑائے گا۔“ میرے ذہن میں اس تسبیح کے سلسلے میں بہت سارے سوالات کلبلا رہے تھے لیکن میں اپنی ماں سے بہت پیار کرتا تھا، میں نے ان سے کبھی اپنی بہنوں اور بھائی کی موت کے بارے میں بھی کوئی سوال نہیں کیا تھا۔ خود اپنی پیدائش کے بعد میں نے اپنے والدین کو نو سال تک جس کرب سے دو چار دیکھا تھا وہی میرے لئے بہت تھا۔ میں دبی ہوئی چنگاریوں کو کرید کر ماں کے دل کے زخموں کو ٹھیس نہیں پہنچانا چاہتا تھا خاص طور پر مجھے ماں کی دل شکنی منظور نہیں تھی اس لئے میں نے دادا جان کی دی ہوئی تسبیح کے بارے میں کوئی سوال نہیں کیا اور کھیل کود میں مصروف ہو گیا۔ والد صاحب دادا جان کو گاڑی پر بٹھا کر واپس آئے تو کچھ پریشان پریشان سے دکھائی دے رہے تھے۔ میں دالان میں تخت پر بیٹھا تفصیل سے ان تحفوں کو دیکھ رہا تھا جو مجھے سالگرہ کی خوشی میں دیئے گئے تھے۔ والد صاحب کی عادت تھی کہ جب بھی باہر سے آتے تھے مجھ سے پیار کی دو چار باتیں کئے بغیر کوئی دوسرا کام نہیں کرتے تھے لیکن اس روز انہوں نے میرے اوپر کوئی توجہ نہیں دی، خاموشی سے تھکے تھکے انداز میں قدم اٹھاتے کمرے میں چلے گئے۔ مجھے والد صاحب کی خلاف توقع عدم توجھی گراں گزری لیکن میںنے شکایت نہیں کی۔ میرے ذہن میں فوری طور پر یہی خیال ابھرا کہ شاید وہ دادا

جان کے اچانک جانے سے اداس ہوں گے۔ میں دوبارہ تحفوں کو دیکھنے میں مصروف ہو گیا لیکن اسی رات میں نے اپنے والدین کی کھسر پھسر کی آواز سنی تو میری نیند اچاٹ ہو گئی۔ وہ میرے بارے میں ہی گفتگو کر رہے تھے، میں اپنے بستر پر دم سادھے پڑا ان کی باتیں سننے لگا۔ میری والدہ کہہ رہی تھیں۔ " آپ کو میری جان کی قسم مجھے سچ سچ بتا دیں کہ آپ کے اور ابا حضور کے درمیان آذر کے سلسلے میں کیا گفتگو ہوئی ہے؟ آپ نے اگر چھپانے کی کوشش کی تو میری خلش اور
بڑھ جائے گی۔" میں تم سے غلط بیانی نہیں کر رہا۔ " والد صاحب نے سنجیدگی سے جواب دیا۔ ” ابا جان نے راستے میں آذر کا ذکر ضرور چھیڑا تھا وہ کوئی خاص بات کہنا چاہتے تھے لیکن نہ جانے کیوں اور کسی مصلحت سے بات درمیان سے گول کر گئے۔ میں نے اصرار کیا تو کہنے
لگے کہ ایک ہفتہ اور انتظار کر لو اس کے بعد میں کوئی بات پوشیدہ نہیں رکھوں گا۔" کوئی بات پوشیدہ نہ رکھنے سے اُن کی کیا مراد تھی؟" میری ماں کی تشویش قدرتی
امر تھا۔
یہی بات تو مجھے بھی رہ رہ کر کھٹک رہی ہے، جو بات ایک ہفتہ بعد کی جا سکتی ہے
وہ آج بھی بتائی جا سکتی تھی۔"
" آپ نے اُن کی باتوں سے کوئی اندازہ تو ضرور قائم کیا ہو گا؟" ”جب سے اسٹیشن سے واپس لوٹا ہوں اسی معمے کو حل کرنے کی کوشش کر رہا
" کیسا معمہ ؟"

یہی که ابا جان نے پہلے اصرار کیا کہ آذر کا نام پہلی فرصت میں تبدیل کر دیا جائے اور اب ان کا خیال ہے کہ نام کی تبدیلی سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔" کہیں ایسا تو نہیں کہ خدا نہ کرے میرے آذار و ...
پریشان مت ہو۔ والد صاحب نے والدہ کی بات کاٹ کر کہا۔ ”و ہم کرو گی تو
تمہاری صحت اور متاثر ہو گی۔" لیکن میرے دل کو چین جو نصیب نہیں ہو رہا۔ والدہ بھرائی ہوئی آواز سے بولیں۔ خدانخواستہ اگر آذر کو بھی کچھ ہو گیا تو
کچھ نہیں ہو گا ہمارے بیٹے کو۔" والد صاحب نے سمجھانے کی کوشش کی۔ ”ابا جان نے میرے اصرار پر اس بات کا یقین دلایا ہے کہ خدا نے چاہا تو آذر کو کچھ نہیں ہو گا؟ انہوں نے بڑے یقین سے کہا ہے کہ ہمارے بیٹے کی عمر طویل ہو گی۔" پھر وہ اصل بات بتانے سے کیوں کترا رہے ہیں؟؟
یہی ایک بات مجھے بھی پریشان کر رہی ہے کہ ابا جان فی الحال کچھ کہنے سے گریز
کیوں کر رہے ہیں۔" آپ میری ایک بات مانیں گے؟" میری والدہ نے بڑی عاجزی سے کہا۔ کو ...... کیا بات ہے؟"
آپ دو روز بعد خود رامپور چلے جائیں۔"
اس سے کیا فائدہ ہو گا؟"

ہو سکتا ہے کہ ابا حضور آپ کی پریشانی دیکھ کر اپنے دل کی بات زبان پر لے
میں ایک اور بات پر بھی غور کر رہا ہوں۔" والد صاحب نے کہا۔ ”ہم آذر کا نام ہی کیوں نہ تبدیل کر دیں، میرا مطلب ہے کہ سنت کے اصول سے کوئی دوسرا نام رکھ لیں لیکن اس کا ذکر کسی سے نہ کیا جائے، دلوں کے بھید تو نیلی چھتری والا جانتا ہے۔ ہو سکتا
ہے وہ ہمارے اس نیک قدم کو اپنے حبیب کے صدقے میں قبول کرلے۔" ”میرے ذہن میں بھی یہی خیال کلبلا رہا ہے مگر میرا خیال ہے کہ اگر آپ رامپور جا کر ابا حضور سے بھی کوئی مناسب نام دریافت کر لیں تو زیادہ بہتر ہو گا۔ " میری والدہ نے کہا۔ ”انہوں نے دبی زبان میں مجھے بھی یہ باور کرانے کی کوشش کی تھی کہ نام کے اچھے اور بُرے اثرات انسان کی زندگی کے نشیب و فراز پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔“
ٹھیک ہے۔ والد صاحب نے کچھ توقف سے کہا۔ ”اگر یہی تمہاری رائے ہے تو میں کل ہی دفتر جا کر رخصت حاصل کرنے کے لئے درخواست دیئے دیتا ہوں اور اگر خدا کو منظور ہوا تو دو روز بعد رامپور بھی چلا جاؤں گا۔“
آپ نے ابا حضور سے یہ تو ضرور دریافت کیا ہو گا کہ انہوں نے اپنی تسبیح آذر کے
گلے میں کیوں ڈالی ہے؟؟
ہاں والد صاحب نے چونک کر پوچھا۔ "وہ تسبیح اب کہاں ہے؟"
آذر کے گلے میں، میں نے اسے سمجھا دیا ہے، اسے گلے سے نہ اتارے اور خاص
طور پر خیال رکھے۔" " تم نے اچھا کیا۔ ابا جان نے روانہ ہونے تک دو تین بار سختی سے ہدایت کی تھی کہ ان کی دی ہوئی تسبیح چالیس روز تک آذر کے جسم سے دور نہ ہو۔" اس کی کوئی وجہ بھی بتائی تھی؟"
”ہاں .. ۔ انہوں نے کہا تھا کہ خدا کے حکم سے تسبیح کی موجودگی میں ہمارا بیٹا
آفت و بلایات سے محفوظ رہے گا۔" "خدا اُن کی زبان مبارک کرے۔"

میرے والدین کے درمیان اس موضوع پر خاصی دیر تک گفتگو کا سلسلہ جاری رہا لیکن میرے اوپر نیند کا ایسا غلبہ طاری ہوا کہ میں اس کے آگے کچھ نہ سن سکا۔ اگلی صبح میں حسب معمول بیدار ہوا اور روزمرہ کے کاموں سے فارغ ہو کر اسکول جانے کو تیار ہو گیا۔ والد صاحب مجھے اسکول چھوڑتے ہوئے دفتر جاتے تھے، اس روز بھی ایسا ہی ہوا دوپہر کو میں تین بجے اسکول بس سے واپس آگیا۔ دادا جان کی تسبیح کو میں نے اپنی ماں کی ہدایت کے مطابق بنیان کے اندر کر رکھا تھا اس لئے اسکول میں اس پر کسی کی نظر نہیں پڑی۔ اسی شام والد صاحب دفتر سے آئے تو سب سے پہلے میری والدہ کو یہ خوشخبری سنائی کہ انہوں نے ایک ہفتے کی اتفاقیہ رخصت حاصل کر لی ہے اور دفتر سے واپسی پر اگلے روز کے لئے رامپور جانے کی خاطر اپنی نشست بھی محفوظ کرالی ہے۔ اس وقت ہم سب ناشتے کی میز پر موجود تھے، ہر چند کہ مجھے والد صاحب کے دادا جان کے پاس جانے کی بھنک مل چکی تھی لیکن پھر بھی میں چپ نہ رہ سکا۔
آپ رامپور کیوں جا رہے ہیں؟" میں نے دبی زبان میں پوچھا۔ تمہارے دادا ابو سے ضروری کام پیش آگیا ہے۔" والد صاحب نے بات بناتے
ہوئے جواب دیا۔

" آپ کی غیر موجودگی میں میرے اسکول کا کیا بنے گا، میں کس کے ساتھ جایا کروں
تم چار روز کی چھٹی کر لیتا۔ " میری والدہ نے کہا۔ ”ابھی تو تمہارے امتحان بھی دور
میرے ذہن میں اس وقت بھی کئی سوال کلبلائے۔ میرا دل چاہا کہ اپنے والدین سے پوچھوں کہ انہیں اچانک میرے نام کی تبدیلی کی اتنی فکر کیوں لاحق ہو گئی ہے؟ جب دادا جان نے جاتے جاتے والد صاحب سے کہہ دیا تھا کہ ایک ہفتے کے اندر اندر انہیں ساری مصلحتوں کا علم ہو جائے گا تو پھر رامپور جانے کی کیا ضرورت ہے؟ خود دادا جان نے اپنے مشورے کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب نام کی تبدیلی بھی مؤثر ثابت نہیں ہو گی۔ اس بات کی بھی یقین دہانی کرائی تھی کہ میری عمر طویل ہو گی۔ مجھے کسی ممکنہ خطرے سے محفوظ رکھنے کی خاطر بطور خاص اپنی تسبیح بھی عنایت کر دی تھی تو پھر بھاگ دوڑ کی کیا حاجت پیش آرہی ہے؟ وہ خطرہ کیا تھا جس کی نشاندہی سے دادا جان نے پر ہیز کیا تھا؟ جب انہیں علم تھا کہ نام کی تبدیلی کا وقت گزر چکا ہے تو اس بات کا ذکر کیوں کیا گیا؟ ایسی کیا بات تھی جو ایک ہفتے پہلے نہیں بتائی جا سکتی تھی؟ اس کے علاوہ بھی کئی اور باتیں وضاحت طلب تھیں لیکن میں نے زبان کھولنی مناسب نہیں سمجھی مگر اس کے بعد جو حالات تیزی سے پے در پے پیش آئے انہوں نے میری عقل بھی ضبط کر دی۔

میرے والد صاحب نشست محفوظ کرانے کے باوجود دوسرے روز رامپور روانہ نہ ہو سکے، ان کی گھر سے روانگی سے ایک گھنٹہ قبل ہمارے پڑوسی حکیم احسان احمد کی بیگم جو کئی مہینوں سے دمے کے موذی مرض میں مبتلا تھیں ، انتقال کر گئیں۔ والد صاحب اور حکیم احسان احمد میں بڑی گاڑھی چھنتی تھی، دونوں ایک دوسرے کے آڑے وقتوں میں کام آیا کرتے تھے اس لئے والد صاحب کو اپنی رامپور کی روانگی مجبور ملتوی کرنی پڑی۔ اس کے بعد چوبیس گھنٹے بھی نہ گزرنے پائے تھے کہ دادا جان بھی اللہ کو پیارے ہو گئے۔ والد صاحب کو ان کی موت کی اطلاع ملی تو ان پر جیسے سکتہ طاری ہو گیا۔ میرے معصوم ذہن میں پھر بھونچال آگیا دادا جان کی باتیں یاد آنے لگیں۔ انہوں نے والد صاحب سے ایک ہفتہ انتظار کی بات کی تھی اور خود انہیں اپنے بارے میں علم نہیں تھا کہ چار دن کی چاندنی اور پھر اندھیری رات والی مثال ان پر صادق آنے والی تھی۔ یا تو انہوں نے محض والد صاحب کو ٹالنے کی خاطر ایک ہفتے والی بات کی تھی یا پھر شاید انہیں علم تھا کہ سات روز کے اندر اندر خود ان کا چراغ گل ہونے والا ہے۔ اگر دوسری بات درست تھی تو پھر انہوں نے ان خدشات کے اظہار سے گریز کیوں کیا جس کا تعلق میری ذات سے تھا؟ ان کی کیا مصلحت تھی ، کیا مجبوری لاحق تھی جو ان کے آڑے آ رہی تھی؟

دادا جان کی تسبیح میرے جسم پر موجود تھی اور میں سوچ رہا تھا کہ انسان اور پانی کے بلبلے میں کیا فرق ہے؟ دونوں ہی ناپائیدار ہوتے ہیں۔ ہوا کا ایک جھو نکا دونوں کو ناپید کر دیتا ہے۔ دادا جان نے اپنی تسبیح میرے گلے میں ڈال کر چالیس روز تک ہر قسم کی آفت اور خطرات سے محفوظ رہنے کی بات کی تھی لیکن خود انہیں اپنے بارے میں علم نہیں ہو سکا موت کا فرشتہ دبے قدموں ان کے قریب آ رہا تھا۔ میرے ذہن میں الٹے سیدھے سوالات کی یلغار ہوتی رہی۔ میں فی الحال ان کے بارے میں بھی کوئی حتمی بات کہنے سے معذرت خواہ ہوں لیکن اتنا ضرور عرض کروں گا کہ دادا جان نے یہ بات صد فیصد درست کی تھی کہ خدا کی مصلحتیں سمجھنا بندوں کے اختیار کی بات نہیں۔ میں بھی شاید اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مار رہا تھا۔ بہر حال دادا جان کی موت کی اطلاع نے میرے والد کو بے حال کر دیا میری والدہ نے انہیں مشورہ دیا کہ رامپور جا کر باپ کی قبر پر فاتحہ پڑھ آئیں لیکن غم کی شدت نے انہیں اس قدر نڈھال کر رکھا تھا کہ وہ کمرے میں پڑے اس سائے کی محرومی پر آنسو بہاتے رہے جو ان کے سر سے اٹھ چکا تھا، چار روز تک ہمارے گھر میں آہوں اور سسکیوں کی آواز میں گونجتی رہیں۔ یار دوست واقف کار اور پاس پڑوس میں رہنے والے افسوس کا اظہار کرنے آتے تو زخموں پر جمتی کھرنڈ پھر ٹھیس لگنے سے ہری ہو جاتی۔ میری والدہ ہمہ وقت والد صاحب کی دلجوئی میں لگی رہتیں، میں بھی والد صاحب کے دائیں بائیں منڈلاتا رہتا۔ میرے پاس غم کا اظہار کرنے والے الفاظ تو نہیں تھے لیکن میں والد صاحب کے قریب رہ کر انہیں اس بات کا احساس ضرور دلاتا رہتا تھا کہ میرے وجود کو ابھی ان کے سہارے کی ضرورت ہے لیکن کل کیا ہونے والا تھا اس کا علم شاید میرے فرشتوں کو بھی نہیں تھا۔ میرے والد صاحب کی چھٹیاں ختم ہو چکی تھیں، جس دن انہیں غم روزگار کو برقرار رکھنے کی خاطر ملازمت پر حاضر ہونا تھا اس سے ایک رات قبل والدہ انہیں بڑے پیار سے کہا کہ ہمت سے کام لیں۔

میرا دل نہیں لگے گا۔ " والد صاحب نے اداس لہجے میں کہا۔ ”سوچتا ہوں
چھ دنوں کی چھٹی اور لے لوں۔"
میں آپ کی اس بات سے اتفاق نہیں کروں گی۔ دفتر میں آپ کا ذہن ہٹ جائے گا۔ گھر میں پڑے رہے تو طبیعت پر مستقل ایک بوجھ طاری رہے گا۔" لیکن لوگ وہاں بھی ۔۔۔

ہمت سے کام لیں۔ " میری والدہ نے بڑی بردباری سے کہا۔ "ابھی آپ کو آذر کے لئے جینا ہے، موت اور زندگی تو خدا کے ہاتھ ہے، انسان کو حوصلہ نہیں ہارنا چاہئے۔ میری طرف دیکھئے میں تین جان لیوا صدموں سے دوچار ہونے کے باوجود زندہ ہوں۔" آپ نے آذر کے نام کے سلسلے میں کیا سوچا ہے؟" والد صاحب نے موضوع
بدلنے کی خاطر گفتگو کا رخ بدل دیا۔ میں آپ کی رائے سے متفق ہوں۔ والدہ صاحبہ نے جواب دیا۔ ”ہم خاموشی سے نام تبدیل کر لیتے ہیں، اس کا ڈھنڈورا نہیں پیٹیں گے۔ آگے جو قدرت کو منظور۔" اگر آپ متفق ہیں تو پھر ہمیں دیر نہیں کرنی چاہئے، میں کل ہی جامع مسجد کے پیش
امام سے بات کروں گا جو نام وہ تجویز کریں گے وہی رکھ لیا جائے گا۔" میں بھی یہی سوچ رہی تھی کہ خدا کے کسی نیک بندے سے مشورہ کر لیا جائے تو بہتر رہے گا۔"
میں بستر پر لیٹا والدین کی بات سن رہا تھا، اس وقت رات کے تقریباً سوا نو کا عمل تھا
جب دروازے پر کسی نے زور زور سے دستک دی، والد صاحب نے چونک کر کہا۔ اتنی رات گئے پُرسہ دینے کون آگیا؟ لوگ یہ بھی خیال نہیں کرتے کہ کوئی آرام

کر رہا ہو گا۔" آپ لیٹے رہنے میں دیکھتی ہوں۔" والدہ نے اٹھتے ہوئے کہا۔ "کوئی خاص واقف
واقف کار نہ ہوا تو آپ کے سونے کا بہانہ کر کے ٹال دوں گی۔“ " نام ضرور پوچھ لیجئے گا تاکہ میں بعد میں ان کا شکریہ ادا کر سکوں۔؟ والدہ اٹھ کر کمرے سے چلی گئیں تو میں نے کچھ سوچ کر پوچھ لیا۔ " ابا جان! دادا جان کی تسبیح اب اپنے رکھوں یا اسے اتار دوں؟" کیا مطلب" والد صاحب نے مجھے چونک کر دیکھا۔ "تم ابھی تک سوئے نہیں اور یہ دادا جان کی تسبیح اتارنے کا خیال تمہیں کیوں آیا؟ میرا خیال ہے کہ جب دادا ابو نہیں رہے تو ان کی تسبیح بھی سنبھال کر کہیں رکھ دینی چاہئے۔"
ایسی باتیں نہیں کرتے آذر بیٹے!" میرے والد نے مجھے پیار سے سمجھایا۔ بزرگوں کی دعائیں اور ان کی بخشی ہوئی چیزیں ہمیشہ انسان کے کام آتی ہیں ، ایسی چیزوں
کی قدر کرنا چاہئے۔" ایک بات پوچھوں ابو! میں نے سنبھل کر سوال کیا۔ دادا جان نے میرا نام
تبدیل کرنے کا مشورہ کیوں دیا تھا؟"
”میں نے ان سے پوچھا تھا لیکن اب جب کہ وہ اس دنیا میں ہی نہیں رہے تو اس کا جواب کون دے سکے گا۔ " میرے والد دادا جان کے تذکرے پر دوبارہ اداس ہونے لگے تو

میں نے جلدی سے باتوں کا رخ بدل کر کہا۔ کل سے تو میں بھی اسکول جانے لگوں گا؟؟
کیوں نہیں۔ والد صاحب نے بڑے لاڈ سے کہا۔ ” ابھی تو تم کو خوب جی لگا کر
پڑھنا ہے اور پڑھ لکھ کر بہت بڑا آدمی بننا ہے۔" ابھی میں بڑا آدمی بننے کے سلسلے میں کوئی سوال کرنے والا تھا کہ میں نے والد صاحب کو چونک کر بستر سے اٹھتے دیکھا ان کے چونکنے کا انداز ظاہر کر رہا تھا کہ وہ کسی بات سے خوفزدہ نظر آ رہے ہیں، میرا رخ والد صاحب کی سمت تھا اس لئے میں دروازے کی جانب نہ دیکھ سکا لیکن جب والد صاحب کے اضطراب کی وجہ جاننے کی خاطر میں نے دروازے کی سمت نظر گھمائی تو خوف اور دہشت کے مارے میں ساری جان سے لرز اٹھا۔ دروازے کے بیچ و بیچ میری والدہ سمی کھڑی تھیں اور ان کے دائیں بائیں دو ہٹے کٹے نوجوان منہ پر ڈھاٹا باندھے کھڑے تھے، ان کی سرخ سرخ خوفناک نظریں اس بات کی غمازی کر رہی تھیں کہ وہ بھلے آدمی نہیں تھے۔ کون ہو تم لوگ؟" والد صاحب نے اٹھتے ہوئے قدرے درشت لہجے میں پوچھا۔ زیادہ گرمی کھانے کی حماقت مت کرو میاں جی! اور اپنی آواز بھی ذرا مدھم رکھو ورنہ ہم سے بڑا کوئی نہیں ہو گا۔" ایک شخص نے بڑے سرد اور سفاک لہجے میں کہا۔ ایک بات اور غور سے سن لو۔ دوسرا تیور بدل کر بولا۔ ”جلادوں سے رحم کی اپیل نہیں
کی جاتی کیا سمجھے؟" تم لوگ کیا چاہتے ہو؟" والد صاحب نے بمشکل اپنے غصے پر قابو پاتے ہوئے
دریافت کیا۔

میں پھٹی پھٹی نظروں سے ان دونوں بد معاشوں کو دیکھ رہا تھا جو ملک الموت کی طرح میری ماں کے سر پر سوار تھے۔ ایک مردود نے اپنا ریوالور میری ماں کی کنپٹی پر رکھ رکھا تھا میری غریب ماں ان دونوں کے درمیان کھڑی اس طرح تھر تھرا رہی تھی جیسے اس کا جسم
ننگے تاروں میں لپیٹ کر اس میں کرنٹ دوڑا دیا گیا ہو۔ جو کچھ جمع پونجی سمیٹ کر رکھی ہے ہمارے قدموں میں لا کر ڈھیر کر دو ریوالور والا شخص اپنا جملہ نامکمل چھوڑ کر کمینگی سے مسکرانے لگا۔ تم غلط جگہ آگئے ہو میرے عزیز! میرے والد نے صاف گوئی سے کام لیا۔ دولت جمع کرنا تو دور کی بات ہے ہمارے لئے اپنی سفید پوشی برقرار رکھنا بھی دشوار"

ہمارا پورا گھر حاضر ہے۔ " میری والدہ نے کپکپاتی آواز اور خوفزدہ لہجے میں کہا۔
تم خود تلاشی لے لو جو تمہارے ہاتھ لگے بڑے شوق سے لے جاؤ۔"
اور تم کو زندہ چھوڑ جائیں تاکہ تم بعد میں تھانے میں شناخت پریڈ کرتی رہو۔" جواب میں اس بدماش نے بڑی کینہ تو ز مسکراہٹ ہونٹوں پر بکھیرتے ہوئے بازاری انداز میں کہا۔ "جوانی میں ضرور پٹاخہ رہی ہو گی لیکن اب ہم تمہاری چکنی چپڑی باتوں میں نہیں آئیں گے، جو کچھ ناز نخرے کر کے اور مسکرا مسکرا کر شوہر سے سمیٹا ہے سارا زیور شرافت سے لا کر ہمارے حوالے کر دو ورنہ تمہاری بچی کچھی بخیہ بھی ادھیڑ کر رکھ دیں گے۔"
بکواس بند کرو۔ والد صاحب زہر کا گھونٹ پی کر بولے۔ "تمہیں جو کہنا ہے مجھے سے کہو عورت کے ساتھ میں تمہاری کسی قسم کی بد تمیزی برداشت نہیں کروں گا۔ تم پورے گھر کا سامان سمیٹ کر لے جاؤ ہم تمہارا ہاتھ نہیں روکیں گے لیکن شرافت سے
تجاوز کرنا بھی برداشت نہیں کریں گے۔" کتنی رقم دبا کر رکھی ہے؟" ایک نے زہریلے انداز میں پوچھا۔ دو لاکھ
پانچ لاکھ ۔ دس لاکھ۔" تم خود تلاشی لے کر دیکھ لو جو ہاتھ آ جائے تمہارا ہو گا۔" والد صاحب نے کہا
اس سے زیادہ ہم اور کچھ نہیں کہہ سکتے۔ "

گویا تم سید ھالی انگلیوں سے راہ راست پر نہیں آؤ گے۔“ ریوالور والے کا لہجہ اور سفاک ہو گیا۔ ”ہم تمہیں دو تین منٹ سے زیادہ نہیں دیں گے، ایک بات اور سمجھ لو انسانی خون سے ہولی کھیلنا ہماری عادت بن گیا ہے۔“
تم اپنا وقت برباد کرنے کے سوا اور کچھ حاصل نہیں کر سکو گے۔ " میرے والد نے
جھلا کر جواب دیا۔ ہم تین تک گنیں گے۔ دوسرے نے اپنا جدید آتشیں اسلحہ ہوا میں لہرا کر دبنگ آواز میں کہا۔ ”اس کے بعد پہلی گولی تمہاری عورت کو ایک بازو سے محروم کر دے گی۔“ یہ سراسر ظلم ہے. زیادتی ہے۔" میرے والد نے احتجاج کیا۔ ایک اسلحہ لہرانے والے نے گنتی شروع کی۔
میں اپنے بستر پر سما بیٹھا تھا، ابھی تک ان دونوں ڈاکوؤں نے میری طرف توجہ نہیں دی تھی۔ میری بات کا یقین کرو میرے گھر میں اس وقت دو ڈھائی سو سے زیادہ کی رقم نہیں ہوگی، بیوی کے زیورات جو بھی ہیں وہ تم لے جا سکتے ہو۔" اس کے علاوہ بھی جو مرضی آئے گی چھاتی ٹھونک کر لے جائیں گے لیکن تم دونوں کو ٹھکانے لگانے کے بعد دوسرے نے اپنے غلیظ دانتوں کی نمائش کرتے ہوئے کہا۔ اس نے ریوالور کی نال بدستور میری ماں کی کنپٹی پر جمارکھی تھی جن کا چہرہ خوف سے سفید ہو رہا تھا۔
" دوسرے نے زیادہ سرد لہجے میں گنتی آگے بڑھائی۔
" میں کہتا ہوں اپنے ناپاک ارادوں سے باز آ جاؤ۔ والد صاحب نے بے بسی سے کتاب ”ہمارے مرنے کے بعد بھی تمہارے ہاتھ کوئی مال غنیمت نہیں آئے گا۔"
گولیوں کی آواز محلے والوں کو بھی چوکنا کر دے گی۔" میری والدہ نے ڈرتے ڈرتے کہا۔ " تم بھی پکڑے جاؤ گے۔"

ڈرانے کی کوشش کر رہی ہے سکھائی۔" ریوالور والا گر جا۔ باہر ہمارے دو ساتھ اور بھی موجود ہیں، جس نے سامنے آنے کی کوشش کی اسے بھی ڈھیر کر دیں
حاصل کیا ہو گا؟" میرے والد نے آخری بار انہیں سمجھانے کی کوشش کی لیکن
وہ درندہ صفت لوگ تھے۔
تین کی گنتی گننے کے بعد جدید اسلحہ والے نے پہلا فائر کیا۔ اس کا نشانہ خطا نہیں ہوا میری بے گناہ ماں کے الٹے بازو سے خون کا فوارہ اہل پڑا وہ بلبلاتی ہوئی زمین پر گر کر تڑپنے لگیں، والد صاحب جوش میں آگے بڑھے تو درندوں نے ان پر بھی گولیاں برسانی

شروع کر دیں۔ میں اپنے بستر پر تصویر حیرت بنا خاموش بیٹھا سب کچھ دیکھتا رہا گولیاں تڑ تڑاتی رہیں میرے والدین کے جسموں سے خون کی دھاریں ابلتی رہیں، وہ تڑپ تڑپ کر موت سے ہمکنار ہو گئے۔ مرنے والوں کی دل خراش چیخیں میرے کانوں میں صدائے بازگشت بن کر گونجتی رہیں۔ مجھے حیرت تھی کہ اگر وہ درندے سارے ثبوت مٹا دینا چاہتے تھے تو پھر مجھے کیوں زندہ چھوڑ دیا؟ دونوں نے ایک بار بھی میری طرف توجہ نہیں دی حالانکہ میں ان کی نظروں کے سامنے بیٹھا تھا۔ میرے والدین کے جسموں کو چھلنی کر دینے کے بعد وہ گھر کے تمام سامان، الماریوں اور صندوقوں کو الٹتے پلٹتے رہے۔ مجھے اس بات پر بھی تعجب تھا کہ گولیوں کی چنگھاڑ کی آواز سن کر بھی کوئی ہماری مدد کو نہیں آیا۔ میں ڈرتے ڈرتے اپنے بستر سے اتر کر ماں کے پاس گیا انکے جسم سے گرم گرم خون ابل رہا تھا۔ میرا کلیجہ پھٹنے لگا میں بے اختیار "امی جان" کہتا ہوا ماں کے خون سے لت پت جسم سے لپٹ گیا پھر میرے سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں مفقود ہو کر رہ گئیں۔ میرا ذہن تاریکی میں ڈوبتا چلا گیا۔ ماں اور باپ کا سایہ سر سے اٹھ جانے کے صدمے نے میرے دل و دماغ کو ہلا کر رکھ دیا تھا، میرے گھر کی خوشیاں اتنی جلدی ایک ایک کر کے روٹھ جائیں گی، مجھے اس کا وہم و گمان بھی نہیں تھا۔ دنیا میں تنہا رہ جانے کا احساس میرے کمزور اور ناپائیدار وجود کو کسی کو ناگ کی طرح ڈس رہا تھا۔ جب تک میرے ہوش و حواس قائم رہے میں ماں کی اکڑی ہوئی لاش سے کسی جونک کی طرح چیکا اپنی قیمی اور بیری کا ماتم کرتا رہا پھر مجھے کسی بات کا ہوش نہیں رہا۔

مجھے یاد نہیں کہ والدین کی موت نے کتنے دنوں تک میرے ذہن کو معطل رکھا، میں بے ہوشی اور دیوانگی کی کیفیتوں سے دوچار رہا، لوگوں کا کہنا ہے کہ میں جب ہوش میں آتا والدین کی موت کا ہولناک منظر یاد کر کے چیخیں مارنے لگتا ماہی آب کی مانند پچھاڑیں کھاتا، جنونی انداز میں والدین کو پکارتا پھر دوبارہ ہوش و حواس سے بیگانہ ہو جاتا۔ بہت دونوں تک یہ سلسلہ جاری رہا پھر میں ہار گیا، وقت آہستہ آستہ میرے زخموں کے لئے مرہم ثابت ہو تا گیا۔ کاتب تقدیر نے جو کچھ میری قسمت میں رقم کر دیا تھا
اس کے سامنے مجھے سر نگوں ہونا پڑا۔

جب میرے اوسان بحال ہوئے تو میں نے خود کو حکیم احسان احمد کے گھر میں پایا۔ وہ والد صاحب سے اپنی دوستی کا حق نباہنے میں کسی طرح پیچھے نہیں رہے۔ میرے کچھ دور پرے کے عزیز و رشتے دار ضرور تھے لیکن کوئی میری کفالت کا بوجھ اٹھانے پر آمادہ نہیں ہوا۔ انہیں اگر کوئی دلچسپی تھی تو اس مکان سے تھی جو میرے والد نے خون پسینے کی کمائی جمع کر کے سر چھپانے کو بنایا تھا۔ اگر احسان انکل نے اس آڑے وقت میں دور اندیشی سے کام نہ لیا ہوتا تو شاید میری زندگی کا وہ آخری سرمایہ بھی میرے ہاتھ سے نکل جاتا، مجھے مکمل ہوش آنے پر معلوم ہوا کہ میں تقریباً ایک ماہ تک اپنے حواسوں میں نہیں تھا۔ میرے عزیز داروں نے مکان پر اپنا حق جمانے کی مجرمانہ کوشش کی تھی مگر احسان انکل نے موقع کی نزاکت محسوس کرتے ہوئے پہلے تو فوری طور پر مکان کو تالا لگا دیا پھر دانشمندی سے کام لیتے ہوئے اسے اپنے ایک پرانے دوست اور واقف کار کو کرائے پر دے دیا۔ میرے عزیز دار مایوس ہو کر واپس لوٹ گئے۔ دانشوروں کا کہنا ہے کہ وقت اور حالات انسان کے سب سے بڑے معلم ہوتے ہیں۔ انسان ٹھوکریں کھانے کے بعد ہی کچھ سیکھتا ہے، وقت کی نزاکتیں اس کی تربیت کرتی ہیں پھر وہ دوسروں کی انگلی پکڑ کر چلنے کے بجائے آہستہ آہستہ خود اپنے پیروں پر کھڑا ہونا سیکھ جاتا ہے، میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ قسمت کے ہاتھوں میں جن شدید ذہنی جھٹکوں سے دوچار ہوا وہی میرے شعور کو بیدار کرنے کے لئے کافی تھے۔ تمام عمر میں احسان انکل پر بوجھ نہیں بن سکتا تھا۔ کیا ہو گا مجھے اپنا مستقبل سنوارنے کی خاطر کن دشوار گزار مرحلوں سے گزرتا ہو گا زندگی کے شب و روز کس طرح گزریں گے؟ میں ہر وقت ان ہی سوچوں میں گم رہتا۔ مجھے اس بات پر بھی حیرت تھی کہ میں ان سنگدل اس کے ہاتھ سے زندہ کس طرح بچ گیا ؟ میرے والدین نے انہیں اپنی زندگی بھر کی جمع پیشکش کی تھی لیکن وہ پیشہ ور ڈاکو تھے، وہ جس واردات کے ارادے سے آئے اں کا کوئی ثبوت چھوڑ دینا ان کے لئے خطرناک ہو سکتا تھا اسی لئے اپنی زندگی بچانے

کی خاطر میرے والدین کا جسم گولیوں سے چھلنی کر ڈالا تھا لیکن مجھے کیوں نظر انداز کیا گیا - کیا میری ذات سے انہیں کوئی خطرہ لاحق نہیں تھا، کیا دس سال کی عمر کا لڑکا اپنے والدین کے قاتلوں کو شناخت نہیں کر سکتا تھا؟ دانشمندی کا تقاضہ یہی تھا کہ وہ مجھے بھی اپنے راستے سے ہٹا دیتے ان کے لئے کوئی خدشہ کوئی اندیشہ کوئی خطرہ باقی نہ رہتا میں بھی آج اپنی زندگی کی المناک داستان قلم بند کرنے کو زندہ نہ رہتا' سارا قصہ پاک ہو جاتا لیکن مجھے خوب یاد ہے کہ انہوں نے مجھے یکسر نظر انداز کر دیا تھا میں ان کی نظروں کے سامنے تھا مگر ان دونوں شقی القلب قاتلوں نے ایک بار بھی میری سمت نظر اٹھا کر نہیں دیکھا۔ شاید وہ اندھے ہو گئے تھے یا کسی غیبی طاقت نے مجھ بد نصیب پر ترس کھا کر میرے اور ان کے درمیان کوئی پردہ تان دیا تھا۔ جس وقت وہ میرے گھر کی تمام خوشیاں اپنے ناپاک قدموں تلے روند کر، مال غنیمت لوٹ کر اپنی جیت اور میری بیچارگی پر قہقہہ لگاتے ہوئے واپس جا رہے تھے اس وقت بھی میں اپنی والدہ کے بے جان جسم کو پاگلوں کی طرح جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر دیوانہ وار آوازیں دے رہا تھا۔ کیا وہ بہرے تھے جو میری دلدوز چیخوں کی آواز میں ان کے کانوں تک نہیں پہنچی تھیں؟

واقعات کو کریدتے کریدتے میرے ذہن میں دادا جان کی دی ہوئی تسبیح کا خیال آیا انہوں نے کہا تھا کہ چالیس روز تک اس تسبیح کا میرے جسم پر رہنا ضروری تھا۔ تو کیا وہی تسبیح میرے اور قاتلوں کے درمیان دیوار بن گئی تھی؟ میں نے سوچا پھر میرا ذہن دوبارہ الجھنے لگا۔ اگر دادا جان کو پیش آنے والے حالات کا علم تھا تو انہوں نے خاموشی سے کیوں کام لیا؟ وہ اگر چاہتے تو قبل از وقت خطرے کی نشاندہی کر کے میرے سر پر والدین کا سایہ برقرار رکھ سکتے تھے لیکن انہوں نے میرے والدین کے بار بار اصرار کے باوجود زبان نہیں کھولی۔ آخر کیوں؟ کیا مصلحت تھی جو وہ میری سالگرہ کے دوسرے ہی دن کسی کام کا بہانہ کر کے رامپور واپس چلے گئے؟ میں ہوش آنے کے بعد بھی کئی دنوں تک خود اپنی سوچوں میں الجھتا رہا پھر ایک دن میں نے احسان انکل کو ٹولنے کی کوشش کی۔ "آپ نے میرے بارے میں کیا سوچا ہے؟" میں نے کرب میں ڈوبی آواز میں
پوچھا۔ ”میں کب تک آپ کے لئے بوجھ بنا رہوں گا؟"
ایسی باتیں مت کرو آذر بیٹے !" احسان انکل نے بڑی شفقت سے جواب دیا۔ ” تم میرے مرحوم دوست کی نشانی ہو، میں تمہیں کبھی اپنے لئے بوجھ سمجھوں
. یہ خیال تمہارے دل میں کیوں آیا؟

میں نے کوئی جواب نہیں دیا احسان انکل کا جواب سن کر میرا دل بھر آیا تھا۔ بس آذر میاں! بس انہوں نے میری پلکوں پر مچلتے آنسوؤں کو دیکھ کر تیزی سے کہا۔ "اگر تمہیں میری خوشی منظور ہے تو اب ایک آنسو بھی نہ بہانا۔ جو کچھ ہو گیا ہے اسے بھولنے کی کوشش کرو جو کچھ آئندہ کرنا ہے اس کے لئے سوچو اور بہادری کے ساتھ وقت کا مقابلہ کرنے کی خاطر خود کو آمادہ کرو وقت کا یہی تقاضہ ہے۔" احسان انکل مجھے حالات کی اونچ نیچ کے بارے میں سمجھاتے رہے پھر بڑی اپنائیت سے بولے۔

اس بات کو بھی دل و دماغ سے نکال دو کہ تم میرے اوپر بوجھ ہو' میں نے تمہارا مکان کرائے پر اٹھا دیا ہے، وہ تمہاری ملکیت ہے، اس کا جو کرایہ آئے گا وہی تمہاری کفالت کے لئے بہت ہو گا۔ میں چاہتا ہوں کہ تم دوبارہ اسکول جانا شروع کر دو خوب جی لگا کر پڑھو اور ایک اچھا انسان بننے کے لئے پوری طرح تن من سے جدو جہد کرو جب تک تم کسی قابل نہیں ہو جاتے میں تمہیں اپنے پاس رکھوں گا اس کے بعد تمہیں اپنی مرضی پر اختیار ہو گا۔" احسان انکل نے مجھے اپنا فیصلہ سنا دیا' میرے پاس اس پر عمل کرنے کے سوا کوئی دوسرا راستہ بھی نہیں تھا۔ میرے استفسار پر انہوں نے مختصراً بتایا کہ جن ڈاکوؤں نے میری خوشیوں کو تاراج کیا تھا وہ بھی فرار ہوتے وقت ایک حادثے سے دوچار ہو کر موت کی ابدی نیند سو چکے تھے، میرے گھر سے لوٹا ہوا سامان اور کچھ روپے جو بر آمد ہوئے وہ پولیس کی تحویل میں تھے اور قانونی کارروائی کے بعد مجھے واپس ملنے کی امید بھی تھی لیکن مجھے ان تمام چیزوں سے زیادہ اس تسبیح کا خیال پریشان کر رہا تھا۔ جس نے قاتلوں کو میرے سلسلے میں اندھا اور بہرا کر دیا تھا۔ میں نے دبی زبان میں اس کے بارے میں دریافت کیا تو احسان انکل نے کہا
”میرا خیال ہے کہ جائے وقوعہ سے کوئی تسبیح برآمد نہیں ہوئی، کیوں وہ کوئی قیمتی
چیز نہیں۔ " میں نے سرسری انداز میں جواب دیا۔ ” در اصل وہ تسبیح دادا جان نے مجھے سالگرہ پر بطور تحفہ عنایت کی تھی۔ اگر وہ تحفہ تمہیں مولوی فراست علی صاحب نے دیا تھا تو یقیناً بہت متبرک اور اہم و گا۔" احسان انکل نے سنجیدگی سے کہا۔ ”وہ اللہ کے برگزیدہ بندے تھے اور احسان انکل کچھ کہتے کہتے خاموش ہو گئے تو میں نے پوچھا۔
" آپ نے بات مکمل نہیں کی انکل!"

میں سوچ رہا تھا کہ جن ڈاکوؤں نے ثبوت مٹانے کے لئے تمہارے والدین کو راستے سے ہٹا دیا انہوں نے تمہاری جان کیوں بخش دی لیکن میرا دل گواہی دے رہا ہے کہ یہ تمہارے دادا کی تسبیح کی کرامت تھی کہ جو تم محفوظ رہے۔" احسان انکل نے کہا۔ ”میرے ایک عزیز رامپور میں رہتے ہیں اور تمہارے دادا کے مریدوں میں سے تھے، ان کا کہنا ہے کہ تمہارے دادا بہت پہنچے ہوئے بزرگ تھے اور مستقبل میں جھانکنے کی صلاحیت بھی رکھتے تھے۔ ایسے بزرگوں کو روشن ضمیر بھی کہا جاتا ہے۔" احسان انکل کی بات سن کر میرا تجسس بڑھنے لگا، میں نے دلچسپی لیتے ہوئے پوچھا۔ کیا جو لوگ روشن ضمیر ہوتے ہیں انہیں سب کچھ پہلے سے معلوم ہو جاتا ہے ؟" کیوں نہیں ۔ اللہ جس کو چاہے نواز دے مگر ایسے بزرگ حضرات صرف اشاروں کنایوں میں بات کرتے ہیں، کھل کر کچھ نہیں کہتے۔"
." اس میں کیا مصلحت ہوتی ہے؟"
”بس یہ سمجھ لو کہ انہیں اس کی اجازت نہیں ہوتی۔"
تو کیا دادا جان کو معلوم تھا کہ ہمارے اوپر کیا آفت نازل ہونے والی ہے؟" میں یقین سے نہیں کہہ سکتا لیکن اتنا ضرور کہوں گا انہی کی دی ہوئی کراماتی تسبیح تھی جس نے تمہیں معجزاتی طور پر بچا لیا لیکن تم ابھی بچے ہو یہ باتیں ابھی تمہاری سمجھ

میں نہیں آئیں گی۔" میں نے احسان انکل کی بات سن کر خاموشی اختیار کر لی لیکن مجھے اس بات کا ملال ضرور تھا کہ اگر دادا جان کو سب کچھ پہلے سے معلوم تھا تو وہ میرے والدین کو بھی بچا سکتے
تھے لیکن انہوں نے ایسا کیوں نہیں کیا؟ یہ بات میری سمجھ میں نہیں آسکی۔ آذر بیٹے ! تم اپنے ذہن پر کوئی بوجھ مت ڈالو۔“ احسان انکل نے میرے چہرے تاثرات کو محسوس کرتے ہوئے سنجیدگی سے کہا۔ ”جو کچھ ہوا اس میں اللہ کی کوی مصلحت بھی ہو گی، تم اب صرف یہ ٹھان لو کہ تمہیں اپنا مستقبل بنانے کے لیے سخت محنت کرنی ہے اور میرے لیے اک کامیاب انسان بننا ہے
جاری ہےجوگی
قسط نمبر 4
انور صدیقی صاحب
میں کوشش کروں گا کہ آپ کی توقعات پر پورا اتر سکوں۔" میں نے انہیں یقین دلانے کی کوشش کی۔
ایک بات کا اور وعدہ کرو۔"
”آپ حکم دیں، میں انکار نہیں کروں گا۔ میں نے بے حد انکساری سے کہا۔ " مجھ سے وعدہ کرو کہ جب تک تم میٹرک نہیں کر لیتے اس گھر کو اور مجھے اپنا ہی
۔سمجھو گے ، کسی قسم کا تکلف نہیں کرو گے۔"
احسان انکل کے لیجے میں ایسی مٹھاس ، ایسا پیار و خلوص تھا کہ میں نے سچے دل سے
ان سے وعدہ کر لیا۔

پندرہ سال کا طویل عرصہ میں نے حکیم احسان احمد کے ساتھ گزارا ان کے احسانات کا بوجھ مجھ پر روز بروز بڑھتا جا رہا تھا۔ ہر چند کہ میرے مکان کا کرایہ میرے اوپر خرچ ہو رہا تھا لیکن حکیم انکل کی محبت، ان کے خلوص کی کوئی قیمت ادا نہیں کی جا سکتی تھی۔ وہ جس طرح مجھے کندن بنانے کی خاطر اپنے علم اپنے تجربوں اپنی محبت اور اپنے مشوروں سے نوازتے رہتے ان کا کوئی مول نہیں ہو سکتا تھا۔ انہوں نے کچی عمر میں میرے سر پر ہاتھ نہ رکھا ہوتا تو شاید میں بھٹک جاتا وہ غیر ہونے کے باوجود اپنوں جیسا سلوک کر رہے تھے ، جو اپنے تھے وہ بیگانے بن گئے تھے۔ والدین کا سایہ سر سے اٹھنے کے بعد انہوں نے نظریں پھیر لی تھیں ، ان کی دلچسپی مجھ سے زیادہ میرے مکان میں تھی جو حکیم انکل کی دور اندیشی سے بچ گیا تھا۔ میں اپنے خونی رشتوں کے تذکرے سے گریز کروں گا جب انہوں نے سارے تعلقات ختم کر دیئے تھے تو میں کیوں ان کی طرف پلٹ کر دیکھتا، ان سے زیادہ قابل احترام تو ڈپٹی بشیر علی تھے جو پولیس کے محکمے میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کے عہدے پر فائز تھے۔ میرے مکان کو انہوں نے کرائے پر لے رکھا تھا، وہ بڑے رعب دار قسم کے اور اصول پرست انسان تھے، ۔ وہ بھی حکیم انکل کی وجہ سے دامے، درمے سخنے میرے کام آتے ان دونوں حضرات کا جس قدر شکریہ کروں کم ہو گا۔ ان کی مہربانیاں بے شمار
تھیں، وہ میرے اتالیق تھے، میرے رہبر تھے ، میرے بزرگ تھے، میرے محسن تھے ، میں ان کی محبتوں کا قرض کبھی نہیں اتار سکتا۔

پندرہ سال کے وہ ایک ایک لمحے ایک ایک پل آج بھی میرے ذہن پر نقش ہیں۔ میں ان کی تفصیل لکھنے بیٹھوں تو شاید وہ ایک علیحدہ داستان کی شکل اختیار کرلے لیکن میں ان باتوں کو رقم کر کے اپنی داستان کو طول دینے کی کوشش نہیں کروں گا۔ صرف اتنا ہی لکھ دینا کافی سمجھتا ہوں کہ ان کے احسانوں کا مجھ پر جو قرض ہے وہ شاید میں تمام عمر نہ اتار سکوں۔

میں نے انیس سال کی عمر میں میٹرک کا امتحان ممتاز نمبروں سے پاس کیا۔ میرے پاس وقت کی کوئی کمی نہیں تھی، میرے اوپر بس ایک ہی دھن سوار تھی کہ پڑھ کر بڑا آدمی بنوں اور اپنے والدین کے خواب کو شرمندہ تعبیر کر سکوں، میری محنت رائیگاں نہیں گئی، میں نے میٹرک کے چار سال بعد بی اے کی ڈگری بھی حاصل کر لی۔ حکیم انکل اور ڈپٹی بشیر علی کا مشورہ تھا کہ میں مقابلہ کے امتحان کی تیاری کروں اور سول سروس میں کوئی اعلیٰ عہدہ حاصل کر لوں لیکن ان دونوں حکیم انکل کی صحت خراب تھی، ان کے اپنوں نے بھی ان کے ساتھ اچھا برتاؤ نہیں کیا تھا اس لئے وہ دل برداشتہ رہنے لگے تھے۔ میں نے حالات کے پیش نظر ملازمت کرنی مناسب سمجھی۔ ڈپٹی بشیر علی نے اس موقع پر بھی میرا ساتھ دیا ان ہی کی کوششوں کا نتیجہ تھا کہ میں محکمہ آبکاری میں انسپکٹر کا عہدہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا ورنہ اس آسامی کے حصول کے لئے بڑے پاپڑ بیلنے پڑتے تھے۔ دو سال تک میں پٹنہ میں تعینات رہا، میری کار کردگی قابل ستائش تھی لیکن یہاں یہ بھی عرض کر دوں کہ میری بہتر کار کردگی کے سبب دفتر میں میرے دوستوں کی تعداد کم اور دشمنوں کی تعداد بڑھتی گئی۔ شاید میری ایمانداری ان کو پسند نہیں تھی، میری وجہ سے ان کی ناجائز کمائی کے راستے کھوٹے ہونے لگے تھے، میرے افسران اور میرے ساتھی میرے منہ پر میری تعریفیں کرتے لیکن وہ دل سے چاہتے تھے کہ میرا تبادلہ کہیں اور ہو جائے اور ان کے درمیان کا کانٹا نکل جائے۔ ان ہی دنوں حالات نے پلٹا کھایا، حکیم انکل عمر کی اس سرحد پر پہنچ گئے تھے جہاں کی بات بھی انسان کے دل پر گہرا اثر کرتی ہے، چنانچہ اپنوں کی بے رخی اور بے سبب عارضہ قلب میں مبتلا ہو کر کچھ ہی مہینوں میں دنیا سے منہ موڑ گئے۔ مجھ پر قیامت ٹوٹ پڑی، میں نے ان کی موت پر دل کھول کر آنسو بہائے پھر حالات نے میرا وہ بسیرا بھی اجاڑ دیا جہاں میں نے پندرہ سال تک بڑے سکون اور اطمینان سے زندگی کے دن گزارے تھے۔

حکیم احسان احمد کی وفات کے بعد ان کے عزیز داروں نے جو مجھے ایک آنکھ پسند نہیں کرتے تھے اور جائیداد کے بٹوارے کے خواہاں تھے، مجھے دودھ کی مکھی کی طرح نکال دیا۔ اس موقع پر ڈپٹی بشیر علی نے میرے ساتھ جو سلوک کیا وہ بھی میں تمام عمر فراموش نہیں کر سکتا۔ انہوں نے مجھے میرے ہی مکان کی بیٹھک میں قدم نکانے کی جگہ فراہم کر دی لیکن میرا دل اب پٹنہ سے اکتا گیا تھا، میں کسی پر مزید بوجھ نہیں بنا چاہتا تھا چنانچہ میں

نے ایک روز بشیر علی صاحب سے دبی زبان میں کہا۔ آپ کے احسانات مجھ پر بے شمار ہیں، ایک مہربانی اور کر دیں تو میں مرتے دم تک آپ کا شکر گزار رہوں گا۔ میرا اندازہ اگر غلط نہیں ہے تو تم کو میرے ساتھ رہنا پسند نہیں ہے۔“ انہوں نے سنجیدگی سے جواب دیا۔ ” خودداری اچھی چیز ہے لیکن ابھی تمہیں زندگی کے نشیب و فراز کا زیادہ تجربہ نہیں ہے۔ میرا مشورہ ہے کہ اگر تم دو تین سال اور یہاں گزار لو تو مناسب ہوگا۔
آپ بزرگ ہیں، میں آپ کے تجربے کے آگے کوئی حیثیت نہیں رکھتا لیکن پھر بھی میری درخواست ہے کہ آپ میرا تبادلہ کہیں اور کرا دیں تو زیادہ بہتر ہو گا۔ اب میں اپنے قدموں پر کھڑا ہونا چاہتا ہوں۔" ایک بات پوچھوں؟" انہوں نے مجھ کو بہت غور سے دیکھتے ہوئے کہا۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ تمہیں اپنے مکان میں میرے ساتھ رہنا۔ مجھے شرمندہ نہ کریں۔ میں نے ان کے جملے کا مفہوم سمجھ کر تیزی سے وضاحت کی۔ ”آپ جو سمجھ رہے ہیں میں اس کے بارے میں سوچنا بھی اپنی کم ظرفی سمجھتا
ہوں۔ تم اگر بضد ہو تو میں تمہارے تبادلے کے لئے کوشش کر دوں گا لیکن ایسا کرنے میں تم سے ایک دو ضروری باتیں کرنا مناسب سمجھوں گا بشرطیکہ تم برا نہ مانو۔" میں اور آپ کی کسی بات کا بُرا مناؤں گا یہ کیسے سوچ لیا آپ نے؟" میں نے

قدرے جذباتی انداز میں پوچھا تو بشیر احمد نے مجھے گہری نظروں سے دیکھا پھر تھوڑے دیر سے بولے۔
اپنے مکان کے سلسلے میں تم نے کیا غور کیا ہے؟" انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا۔ ”میرا مطلب یہ ہے کہ تم اسے بدستور کرائے پر رکھنا چاہتے ہو یا اسے فروخت کرنے کا ارادہ ہے؟"”جب اپنے ہی نہیں رہے تو مکان کے بارے میں کچھ سوچ کر کیا کروں گا۔" میں
نے بڑی حسرت سے جواب دیا۔

تم اب عملی زندگی میں قدم رکھ چکے ہو اور عملی زندگی میں جذباتی فیصلے کرنے سے انسان کو اکثر نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ " انہوں نے بزرگ کی حیثیت سے نصیحت کی۔ میں
تمہیں دور اندیشی سے نہایت سوچ سمجھ کر کوئی قدم اٹھانے کا مشورہ دوں گا۔" میں کوشش کروں گا کہ ہمیشہ آپ کے بتائے ہوئے راستوں پر ثابت قدم

رہوں۔ میں نے انکساری سے جواب دیا۔ یہ تمہاری سعادت مندی ہے جو مجھے کسی قابل سمجھتے ہو لیکن تم نے ابھی تک مکان کے سلسلے میں کوئی حتمی جواب نہیں دیا۔۔" کیا آپ اس ضمن میں میری کوئی رہنمائی نہیں کر سکتے؟“ میں دبی زبان میں بولا۔ میں مکان کا فیصلہ آپ پر چھوڑتا ہوں، آپ میرے محسن بھی ہیں اور بزرگ بھی، مجھے مکمل اعتماد ہے کہ آپ جو فیصلہ کریں گے وہ میرے حق میں بہتر اور مفید ہی ہو گا۔" "تم نے مجھے یہ اختیار سونپ کر بڑی مشکل میں ڈال دیا ہے۔" بشیر علی کچھ دیر کی غور و فکر میں مبتلا رہے پھر بولے۔ میں سمجھتا ہوں کہ تمہارے لئے اس مکان کو فروخت کر دینا زیادہ مناسب رہے گا ورنہ تمہارے عزیز دار اس کے حصول کی خاطر تمہیں پریشان کرتے رہیں گے۔ میں ایک ہفتے کے اندر اندر مکان خالی کر دوں گا اس کے بعد تمہیں مکمل اختیار ہو گا۔"

" آپ کہاں جائیں گے مکان چھوڑ کر ؟" میں نے کچھ سوچ کر پوچھا ارادہ ہے کہ اب اپنی رہائش کے لئے کوئی مکان خرید ہی لوں، بار بار سامان اٹھانے کی زحمت سے بچ جاؤں گا۔"یہ مکان آپ کو پسند نہیں ہے؟" میں نے برجستہ سوال کی میں نے اس کے سلسلے میں ایک بار دبی زبان میں مرحوم احسان احمد سے بات کی تھی لیکن ان کا مشورہ تھا کہ تمہارے بڑے ہونے تک میرا چپ رہنا زیادہ مناسب رہ گا

لیکن اب تو میں جوان ہو گیا ہوں۔ میں نے بڑی اپنائیت سے کہا۔ ”اگر یہ مکان آپ کے پاس رہے گا تو کبھی کبھار میں آنا جاتا رہوں گا۔ بڑی یادیں وابستہ ہیں اس مکان سے کسی اور کے ساتھ معاملہ طے کر کے میں اسے ایک نظر جھانک لینے کے حق سے بھی دستبردار ہو جاؤں گا۔" میں نے آخری جملے اتنے جذباتی انداز میں کہے کہ ڈپٹی بشیر علی بھی ایک لمحے کو آبدیدہ ہو گئے۔

میں تمہاری بات سمجھ رہا ہوں لیکن وہ کچھ کہتے کہتے رک گئے۔ میں آپ کی خاموشی کا سبب محسوس کر سکتا ہوں۔ میں نے ان کے چہرے کے تاثرات بھانپ کر کہا۔ "میری عاجزانہ درخواست ہے کہ آج سے اس مکان کو آپ اپنی ذاتی ملکیت سمجھیں، آپ اس کی جو بھی قیمت لگائیں گے مجھے خوشی سے منظور ہو گی۔ رقم کی ادائیگی کی بھی کوئی جلدی نہیں ہے۔ جب بھی آپ کو سہولت ہو ادا کر دیجئے گا۔" آذر بیٹے ! مجھے تم سے اسی جواب کی توقع تھی مگر میں نہیں چاہتا کہ کل کلاں کو تمہارے اپنوں کو میرے اوپر انگلیاں اٹھانے کا موقع ملے اس لئے بہتر ہو گا کہ جائیداد کی منتقلی تمہاری موجودگی میں ہی ہو جائے۔"

"جو آپ کا حکم۔" اور تمہیں ایک بات میری بھی ماننی پڑے گی۔ " انہوں نے بزرگانہ انداز میں حکم دیتے ہوئے کہا۔ ”میں مکان کے عوض جو معاوضہ بھی ادا کروں گا تمہیں اس میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ نہیں ہو گی۔" مجھے منظور ہے۔"میری رضامندی کے اظہار کے آٹھ روز کے اندر اندر بشیر علی نے ہر طرح سے قانونی لکھا پڑھی کر کے مکان اپنے نام کرا لیا۔ میں نے بیج نامہ کو پڑھے بغیر اس پر دستخط کر دئے۔ مجھے یقین تھا کہ وہ میرے ساتھ کوئی دھو کہ یا فریب نہیں کریں گے۔ مگر جب مکان کی قیمت چیک کی صورت میں میرے حوالے کی تو مجھے یوں محسوس ہوا جیسے مجھے پر ترس کھا کر وہ سودا کیا ہو۔ چیک پر جس رقم کا اندراج تھا وہ میری توقع اور شاید مکان کی اصل قیمت سے بھی کہیں زیادہ تھی۔ میں نے چیک جیب میں رکھنے کے بجائے ان کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا تو وہ بڑی شفقت سے مسکرا کر بولے۔ آذر میاں! تم اس رقم کو اپنے مکان کی قیمت سمجھ کر نہیں بلکہ اپنے بشیر انکل کی طرف سے ایک حقیر نذرانہ سمجھ کر قبول کر لو۔"
میں جواب میں کچھ نہ کہہ سکا جو کچھ کہتا وہ بات بڑی ہلکی پڑ جاتی۔ بشیر علی نے جس محبت کا سلوک کیا تھا اس کے لئے شکریے کے گھسے پٹے دو چار جملے بڑے حقیر ثابت ہوتے چنانچہ میں نے نظریں جھکا کر چیک جیب میں رکھ لیا اور اسی روز اسے اپنے نام بینک میں

جمع کرا دیا۔ مکان کی طرف سے بے فکر ہونے کے بعد میں تقریباً تین چار روز پٹنہ ہی میں رہا اس کے بعد ایک روز بشیر علی نے دفتر سے واپسی پر بتایا کہ ان کی کوششوں سے میرا تبادلہ ڈھا کہ کر دیا گیا ہے۔ مجھے خوشی تھی کہ اب ان لوگوں سے میرا پیچھا چھوٹ جائے گا جو محض میری ایمانداری اور بہتر کارکردگی کی وجہ سے مخالفت پر کمربستہ ہو گئے تھے لیکن یہ محض میرا خیال تھا۔ جس روز میں پٹنہ سے ڈھاکہ کے لئے روانہ ہونے والا تھا اس سے ایک رات قبل بشیر علی نے مجھے اپنے ایک واقف کار کمال بنرجی کے نام تعارفی خط دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایک ریٹائرڈ فوجی آفیسز ہیں اور حکومتی حلقوں میں خاصہ اثر و رسوخ بھی رکھتے ہیں اس لئے میں ڈھاکہ پہنچ کر ان ہی سے رابطہ قائم کروں، وہ میرے لئے رہائش کے علاوہ دوسرے تمام مسئلے بھی حل کر دیں گے اور آڑے وقتوں میں کام بھی آتے رہیں گے۔ خط میرے حوالے کرنے کے بعد بشیر علی نے پہلی بار کھل کر مجھ سے دفتری معاملات اور اس کی اونچ پہنچ پر بات کی۔ آذر میاں! میرا اور تمہارا تعلق جس محکمے سے ہے اس میں شرافت اور ایمانداری بھی انسان کی راہ میں بے شمار دشواریاں اور رکاوٹیں پیدا کر دیتی ہیں اس لئے میں تمہیں ایک مشورہ دینا ضروری سمجھتا ہوں، تم اسے میرے تجربات کا نچوڑ بھی کہہ سکتے ہو۔" انہوں نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے بے حد سنجیدگی سے کہا۔ ”خود ایمانداری کا دامن مضبوطی سے تھامے رہو لیکن دوسروں کو اس پر عمل کرنے کی تلقین کبھی نہ کرنا۔" سمجھا نہیں۔" میں نے کسمسا کر حیرت کا اظہار کیا تو وہ ایک تلخ مسکراھٹ سے بولے

رشوت ایک لعنت ہے، تم اس سے پر ہیز کرتے ہو یہ بڑی اچھی اور قابل تعریف ات ہے لیکن اپنے ماتحتوں کو بھی پیٹ پر پتھر باندھ کر جینے کا مشورہ دینے سے ہمیشہ گریز رنا۔ یہ اصول ہر چند کہ ایک ایماندار افسر کی شان کے منافی ہے مگر اس پر عمل کرنے
کے بعد تم اپنے دشمنوں اور مخالفوں کا دل ضرور جیت سکتے ہو۔" میں اب بھی آپ کی بات کا مقصد نہیں سمجھ سکا۔" میں نے بدستور تعجب کا اظہار

کیا۔ یوں سمجھ لو کہ ہمارے اور تمہارے محکمے میں راہ راست پر چلنے والے افسروں کے لئے ماتحتوں کی طرف سے چشم پوشی ہی ایک ایسا حربہ ہے جسے کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتا ہے۔ اس پر عمل نہیں کرو گے تو دیانت اور شرافت بھی تمہارے کسی کام نہیں آئے گی۔ نچلے عملے کے علاوہ اوپر والے بھی ہر لمحہ تمہاری ٹانگ پکڑ کر کھینچنے کی تاک میں لگے رہیں گے۔" بشیر علی نے صاف صاف لفظوں میں مجھے زندہ رہنے کے گر بتاتے ہوئے کہا۔ جہاں اکثریت دھاندلی کرنے والوں کی ہو وہاں ایک دو افراد کا گزر اسی شکل میں ممکن ہے کہ وہ اپنا دامن صاف رکھیں لیکن دوسروں کی قبروں میں جھانکنے کی غلطی بھول کر بھی

نہ کریں۔" میں بشیر علی کی بات کا مفہوم سمجھ گیا لیکن میں نے اس پر کسی رائے کا اظہار نہیں کیا۔
تمہارا تبادلہ جس شہر میں ہوا ہے وہاں قدم قدم پر تمہیں محتاط رہنا ہو گا۔ اپنی ذات کے سوا کسی پر اعتماد نہ کرنا میں نے جو مشورہ دیا ہے وہ اس وقت تمہیں ہضم نہیں ہو رہا لیکن ہو سکتا ہے کل تمہیں میری باتیں یاد آئیں۔"
میں نے اس بار بھی خاموشی سے کام لیا۔ ایک نصیحت اور کروں گا۔" وہ دبی زبان میں بولے۔ ”بنگال کا حسن اور بنگال کا جادو دونوں بڑے مہلک اور خطرناک ہوتے ہیں۔ سانپ ڈس لے تو اس کا علاج ممکن ہے لیکن ان کے کاٹے کا کوئی منتر نہیں ہو تا۔ تم ان دونوں سے دور رہنے کی کوشش کرنا۔“ بشیر علی مجھے اپنے تجربات اور بنگال سے متعلق معلومات سے بڑی دیر تک آگاہ پھر سونے کے ارادے سے اپنے کمرے میں چلے گئے۔ رات زیادہ بھیگ چکی تھی اس لئے میں بھی بیٹھک کی روشنی گل کر کے لیٹ گیا

دوسرے دن میں اللہ کا نام لے کر اپنی نئی منزل کی طرف روانہ ہو گیا۔ ڈھاکہ پہنچ نے عارضی طور پر اپنا سامان ایک ہوٹل میں رکھا اور سب سے پیشتر ریٹائرڈ کرنل بنر جی سے ملاقات کے ارادے سے نکل پڑا، تھوڑی سی دشواری کے بعد میں نے وہ مطلوبہ کو ٹھی تلاش کرلی جہاں کمال بنرجی کے نام کی پیتل کی نیم پلیٹ نے دور ہی سے میرا استقبال کیا، مجھے زیادہ زیر انتظار نہیں کرنا پڑا بنرجی کو شاید میرے آنے کی اطلاع فون پر مل چکی تھی اس لئے مجھے فورا ہی اندر طلب کر لیا گیا۔

ملازم نے مجھے اس خوبصورت ڈرائنگ روم تک پہنچا دیا جہاں بنرجی میرے منتظر تھے۔ وہ چھریرے بدن، دراز قد اور بھر پور شخصیت کے مالک تھے، نہایت ہنس مکھ اور خوش مزاج لیکن جب گفتگو کے دوران ان کی تیوری پر بل نمودار ہوتے تو تیور سے بظاہر یہ لگتا تھا جیسے وہ کسی کے کورٹ مارشل کا حکم صادر کرنے والے ہیں، ہونٹوں کے درمیان بغیر تمباکو کا پائپ دبائے رکھنا گویا ان کی شخصیت کا نمایاں ٹریڈ مارک تھا آواز میں ریٹائرمنٹ کے بعد بھی وہی گھن گرج اور تمکنت موجود تھی جو کسی فوجی افسر کے شایانِ شان ہوتی ہے۔ کچھ دیر تک ہمارے درمیان رسمی گفتگو ہوتی رہی پھر انہوں نے ایک خاص زاویے سے مجھے گھورتے ہوئے پوچھا۔

" تمہارے تبادلے میں بشیر علی کا کتنا ہاتھ ہے؟"
”سب کچھ ان ہی کی مہربانی کا نتیجہ ہے۔ میں نے صاف گوئی سے کام لیا۔ رشوت لیتے ہو؟" بنرجی کا دوسرا سوال کسی بم کی طرح میرے ذہن میں ایک
دھماکے سے پھٹا۔ "می" میں چونک کر بولا۔ "جی نہیں۔"
پھر ڈھاکہ آنے کی کیا ضرورت تھی، پٹنہ تمہارے لئے کیا برا تھا؟" میں جواب دینے کے لئے پر تول رہا تھا کہ انہوں نے بڑے تحکمانہ لہجے میں حکم صادر کیا۔

” جب تک ڈھاکہ میں رہنا مجھ سے رابطہ ضرور رکھنا۔"بشیر صاحب نے بھی یہی مشورہ دیا تھا۔" میں نے پہلو بدل کر کہ کہا آنے کی اطلاع مل چکی تھی اس لئے میں نے تمہاری رہائش کا انتظام کر دیا ہے۔" اس بار ان کے لیجھے میں پیار ہی پیار تھا۔ آج رات ہوٹل ہی میں قیام کر کے
سفر کی تھکان دور کر لو کل میرا ملازم تمہیں تمہاری رہائش گاہ تک پہنچا دے گا۔ میں تکلف کا عادی نہیں ہوں ، تمہیں جس وقت کسی کام کی حاجت ہو مجھے فون کر دیتا۔" بہتر ہے۔" میں نے کسی سعادت مند شاگرد کی طرح جواب دیا تمہیں تین روز بعد جس آفیسر کو ڈیوٹی رپورٹ دینی ہے میں اس کی خصلت سے بھی بخوبی واقف ہوں، بڑا نمبری اور حرفوں کا بنا ہوا شخص ہے، انتہائی کینہ پرور اور تعصب پرست واقع ہوا ہے، اوپر سے میٹھا اندر سے تلخ اس سے ہوشیار رہنا لیکن خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے، بس محاذ پر ڈٹے رہنا یہی ایک بہادر جوان کی خاصیت ہونی چاہئے۔"

میں کوشش کروں گا کہ کسی کو شکایت کا موقع نہ ملے۔"
بشیر علی نے مجھے تمہارے میں سب کچھ بہت تفصیل سے بتا دیا ہے۔" بنرجی نے کچھ توقف سے کہا۔ ”میرا ذاتی خیال ہے کہ تم حالات سے نپٹنے کی بھر پور صلاحیت رکھتے ہو گے۔ پھر بھی تمہیں رحیم الدین سے بہت محتاط رہنا ہو گا، وہ کسی آکٹوپس سے زیادہ

خطر ناک آدمی ہے۔" رحیم الدین ..... تمہارے اس آفیسر کا نام ہے جو کروڑوں کا مالک ہونے کے باوجود خود کو ہمیشہ کنگال ظاہر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ایک بات کا اور خیال رکھنا اس ڈیم فول پر خود سے یہ ظاہر کرنے سے گریز کرنا کہ تم مجھ سے کسی قسم کی واقفیت رکھتے ہو۔"
میں خیال رکھوں گا۔ " کرنل بنرجی رفتہ رفتہ مجھ سے دوستوں کی طرح گھلتے ملتے جا رہے تھے۔ ان کی عمر کا تخمینہ میں نے ساٹھ سے زیادہ ہی لگایا تھا لیکن اس عمر میں بھی وہ نوجوانوں کے انداز میں
ہسنے بولنے کے عادی تھے۔ "تمہاری شادی ہو چکی ہے؟" گفتگو کرتے کرتے انہوں نے موضوع سے ہٹ کر
اچانک سوال کیا تو میں سٹپٹا گیا۔
جی نہیں۔" میں نے سنبھل کر جواب دیا۔

کر لو دو تین سال کے اندر کوئی مناسب لڑکی تلاش کر کے اپنا گھر ضرور بسالینا۔ " وہ بولے۔ اٹھائیس تیس سال کی عمر شادی کے لئے بڑی آئیڈیل ہوتی ہے۔"

Reactions