درویش کامل - قسط 3

 


درویش کامل - قسط 3

یہ فقر کی اختیاری راہ تھی۔ فقر میں فقیری اور فقیری میں توکل موجود ہو تو سالک وصل الٰہی کی راہوں پر کامیابی سے چل پڑتا ہے۔ فقیری کی طلب و تڑپ کے متمنی سالکین بہت ہوتے ہیں لیکن استقامت قائم رہے تو اس میں معراج بھی حاصل ہوتی ہے۔ فقیر رضا کا طالب ہوتا ہے اور ظاہری دنیاوی اسباب میں اس کا سفینہ ہمیشہ طوفانوں سے ٹکراتارہتا ہے۔ پیر محمد رمضان نے اپنے مرشد حجتہ الاسلام حضرت شیخ پیر محمد عابد حسین سیفی کے حکم کی تعمیل کرکے اس گر کو پا لیا تھا۔
اک فقر سے کھلتے ہیں اسرار جہاں
اور جیسا کہ اقبالؒ نے فرمایا
فقر کا مقصود ہے عفت قلب و نگاہ
فقر میں قلب و نگاہ کی پاکیزگی ، شرم و حیا اور جاہ و حشم و نمود و نمائش سے اغراض مقصود ہوتا ہے۔ اپنے مرشد جیسے دانائے راہ طریقت کو فقر کی راہ پر ایثار و استقامت کا نمونہ بن کر دکھایا تو شیخ نے فرمایا ’’رمضان تم نے وہ راہ چُنی ہے جو انبیاء اولیاء کا طریق رہا ہے۔ تم نے مال و متاع سے رغبت چھوڑ کر لاہور میں ہجرت کی ہے تو یاد رکھو داتا کی نگری میں جس عظیم مقصد کی خاطر اپنے اسباب چھوڑ کر دین حق کی ترویج کے لیے آئے ہو تم یقیناً اللہ کی رضا سے کامیابی حاصل کرو گے۔‘‘

ابونعمان پیر محمد رمضان ہجرت کے ان لمحات کو یاد کرتے ہیں تو آنکھیں نم اور لہجہ گلوگیر ہو جاتا ہے۔ ’’سخت سردی تھی نہ چادر، کمبل، رضائی تھی، نہ بستر پر بچھونا ، کھانے کے لیے کچھ نہ تھا۔ چولہا کہاں جلتا، کچھ بھی ساتھ نہ لایا تھا ۔ صرف اپنے مرشد کے حکم پر سر گرا کر اختیاری فقر اپنایا تھا۔ اس وقت ہمارے ایک عقیدت مند تھے رانا محمد صفدر۔۔۔انہوں نے پانچ ہزار روپے کرایہ پر سٹریٹ نمبر16حسنین آباد میں گھر لے کر دیا۔ کچھ اور عقیدت مند تھے۔ وہ تندور سے روٹیاں لاتے، برتن تو تھے نہیں، روٹی ہاتھ میں پکڑتے اور بچوں میں بانٹ دیتے۔ سوکھی روٹیاں، پانی میں بھگو کر کھا لیتے یا نمک لگا کر کھا لیتے ۔۔۔ اس وقت مجھے یورک ایسڈ اور شوگر کی پرابلم تھی ۔۔۔اس فقر نے یہ بیماری ختم کر دی ۔ یہ فقر امتحان تھا اور مین نے جان و مال نثار کرکے رضا الٰہی پانے کی خواہش پا لی ہوئی تھی ۔۔۔ حسنین آباد میں قیام اختیار کرتے ہی میں نے اپنے مرشد کریم کے حضور پیش ہو کر اپنی آمد سے مطلع کر دیا اور آپ میرے کرایہ کے گھر تشریف لائے اور مجھے دعا دی ’’رمضان اللہ کریم تمہاری قربانی کو قبول فرمائے اور یہیں تمہیں اپنی مستقل رہائش عطا فرمائے۔‘‘ مرشد کریم نے مجھے کرایہ کے گھر میں ہی بچوں کو قرآن کریم کی تعلیم دینے کا حکم دیا ۔ یوں مدرسہ جامع جیلانیہ کا آغاز کر دیا گیا۔
اس وقت میرے پاس پانچ سو روپے تھے۔ میں نے اپنے مرشد کریم کی خدمت میں پیش کر دیئے۔ مرشد کریم نے یہ پیسے محبت سے مجھے واپس دے دیئے۔ ایک روز علامہ خواجہ محمد رفیق نوری میرے پاس تشریف لائے۔ ان سے دیرینہ تعلقات تھے۔وہ عمیق نگاہی سے میرے گھر اور معاملات کا جائزہ لیتے رہے اور پھر کہنے لگے ’’رمضان صاحب! آپ نے اپنے مرشد کے کہنے پر سارا کاروبار اور اچھا طرز زندگی چھوڑ کر لاہور میں نہایت عسرت زدہ زندگی اختیار کی ہے۔ میرا مشورہ ہے کہ آپ واپس گاؤں چلے جائیں۔ اللہ نے آپ کو وعظ کی خصوصیات عطا کی ہیں۔ آپ وہاں بھی آستانہ بنا سکتے ہیں لیکن یہ بات میری سمجھ سے بالاتر ہے کہ کہ آپ کا گزارہ کیسے ہوگا۔۔۔‘‘
میں نے انہیں قائل کرنے کی کوشش کی لیکن وہ کہتے رہے ’’آپ نے لنگر بھی شروع کر دیا ہے آپ یہ لنگر بند کر دیں تاکہ کچھ پس انداز ہو۔‘‘
اس وقت رات کے ساڑھے تین بجے تھے۔ میں نے عرض کی ’’حضور، اللہ نے مجھے دل بھی کھلا دیا ہے اور میں لنگر بھی کھلا رکھوں گا۔دعا کریں اللہ مجھے مزید استقامت عطا فرمائے۔‘‘
’’حضرت آپ کے مرشد نے آپ کی مالی مدد بھی فرمائی ہے کوئی؟‘‘ علامہ نوری نے سوال کیا۔
’’یہ سب ان کی دعا سے مل رہا ہے علامہ صاحب‘‘ میں نے عرض کی۔ ’’میں نے اپنے مرشد کو پانچ سوروپے خدمت کے طور پر دیئے تو آپ نے مجھے وہ واپس کر دیئے اور ڈھیروں دعائیں دیں۔‘‘
’’صرف دعا ئیں۔۔۔‘‘ علامہ نوری نے تعجب سے کہا ’’اس میں کیا کمال ہے ۔ آپ نے جو خدمت کی وہ انہوں نے واپس دے دی۔ کمال تو یہ تھا کہ وہ اپنے پاس سے پیسے دیتے، بیس تیس ہزار دیتے تو آپ کی بے سرو سامانی ختم ہوجاتی،عزت نفس بچ جاتی۔۔۔‘‘
’’حضور والا ۔۔۔‘‘ میں نے کہا’’سرکار مجھے بیٹا بیٹا کہہ کر پکارتے ہیں۔ مجھ جیسے گنہگار کو بیعت فرمایا ہے۔ سینے سے لگا رکھا ہے ۔۔۔یہ بہت بڑا کمال ہے۔‘‘
’’سبحان اللہ مرید ہو تو ایسا ۔۔۔‘‘ علامہ صاحب مسکرائے ۔۔۔ ’’دراصل میں چیک کر رہا تھا کہ آپ نے اختیاری فقر اختیار کیا ہے تو آپ کہیں کسی طمع یا دکھاوے کی لت میں مبتلا تو نہیں تھے۔ یقیناً آپ کا توکل بہت مضبوط ہے۔ آپ کی اپنے مرشد سے والہانہ محبت اور آپ کا یقین کامل ہے۔ میں دیکھ رہا ہوں آپ یہ بازی جیت جائیں گے۔‘‘
علامہ نوری صاحب کے علاوہ میرے گاؤں سے دوست احباب وغیرہ بھی میری حالت دیکھنے آتے اور الحمد اللہ مجھے صابر و شاکر دیکھتے تو دعائیں دے کر واپس چلے جاتے۔ ان دنوں عالم یہ ہوتا کہ گھر میں کھانے کے لیے کچھ نہ ہوتا۔ بچوں کے لیے دودھ کا بندوبست کرنا دوبھر تھا۔ قرآن پاک کی تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کے لیے لنگر کا بندوبست بھی کرنا مشکل ہوتا تھا۔ لیکن میرے لئے کھانے کے لیے بندوبست کرنے کے اسباب نہیں تھے۔ میرے مرشد فرماتے تھے ’’رمضان بیٹا ۔۔۔جو اللہ کے دین کا کام کرتا ہے اور اللہ کی مخلوق کی خدمت کرتا ہے اور توکل اللہ زندگی گزارتا ہے، اللہ کریم اس کو خزانہ غیب سے ایسا نوازتا ہے کہ بندہ اس کا گمان بھی نہیں کر سکتا۔ ‘‘ حقیقت بھی یہی ہے۔ اللہ کریم نے ایسے احباب کے ذریعہ اسباب پیدا کئے جو ہمارے وہم و گمان میں بھی نہیں تھے۔ سرکار فرماتے ہیں ’’اللہ کی راہ میں چلنے والوں کی اللہ اپنے خاص بندوں کے ذریعہ مدد فرماتا ہے۔‘‘ بندے کا اللہ پر جتنا توکل زیادہ ہوتا ہے اتنا ہی نوازتا ہے۔ وہ ایسے لوگوں کے دلوں میں باتیں ڈال دیتا ہے کہ جاؤ میرے فلاں بندے کی مدد کرو۔۔۔حدیث پاک ﷺ کا مفہوم ہے جو اللہ کے کام میں لگ جاتا ہے اللہ اس کے کام میں لگ جاتا ہے۔
ایک روز جامعہ میں پکانے کے لیے کچھ بھی نہیں تھا۔ رمضان المبارک کے دن تھے۔ میں مرشد حضور کی خدمت میں پیش ہوا اور عرض کی ’’حضور مدرسہ کے حالات بہت نازک ہیں۔ اخراجات کا دباؤ ہے۔ طلبہ طالبات کے لیے کھانے کا بندوبست نہیں ہے۔‘‘
آپ نے فرمایا ’’سرکار دو عالم ﷺ پہ سلام پیش کرو۔ اور یہ دعا پڑھا کرو۔‘‘ آپ نے جو دعا عطا کی اس کے بعد ہم پر رزق کی فراوانی ہونے لگی۔وہ دعایہ ہے۔
لا ملجاء ولا منجاء من اللہ الا الیہ
میرے مرشد نے فرمایا ’’جاؤ تم یہ دعا پڑھو۔ اور آج کے بعد تم جس کے لیے دعا کرو گے اسے شفا ہوگی، دوا دو گے شفا دے گی۔ قرآن کی آیات سے دم کرو گے ،تعویذات کرو گے۔ انشاء اللہ رب ذوالجلال میرے حضور نبی ﷺ کے واسطے تمہاری دعا قبول و منظور فرمائیں گے۔‘‘
سرکار اس وقت وجد کے عالم میں تھے۔آپ نے علم کا خزانہ مجھے عطا کردیا تھا۔ آپ کی دعا ختم ہوئی تھی کہ اس وقت ایک صاحب پکا پکایا کھانا لے کر آئے۔ ان صاحب کو ان سے پہلے کسی نے نہیں دیکھا تھا۔ سرکار نے وہ سارا کھانا ہمیں عطا کیا کہ جاؤ جا کر بچوں کو کھلاؤ ۔۔۔الحمد اللہ میں نے اپنے مرشد کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ کو پورا ہوتے دیکھا ہے۔میرے مرشد نہایت سادہ ،حق گوفقیر ہیں۔
اب یہ عالم ہے ہم 2007ء سے نماز عصر سے مغرب تک یہ دعا بطور وظیفہ پڑھ رہے ہیں، بچیاں الگ، بچے الگ کھجور کی گٹھلیوں پر یہ وظیفہ پڑھتے ہیں اور اللہ اپنے اس گناہگار فقیر کو بے حساب عطا کررہا ہے ۔ ہماری دعاؤں کی لاج رکھتا ہے۔

کسی پیر اور عملیات کے ماہر پر سحری اثرات کا الٹا اثر ہوتا ہے تو وہ بڑی تکلیف برداشت کرتا ہے۔ سحر وغیرہ سے بچنے کے لیے ہر عامل کے لیے اپنا تحفظ کرنا بھی ضروری ہوتا ہے ۔ یہ صدقات و شکرانے وغیرہ اسی مد میں لئے جاتے ہیں۔
پیر سائیں نواب دین کو جنات نے قابو کر لیا تھا۔ وہ خود لوگوں کے جنات اُتارتے تھے لیکن ایک روز وہ خود ان کی پکڑ میں آگئے۔ یہ سر پھرے جنات تھے اور دونوں غیر مسلم تھے۔ ایک کا نام گروارجن سنگھ اور دوسری ملکہ سبھراتی تھی۔

سائیں نواب دین کی حالت نہایت خراب ہو چکی تھی۔ دونوں جنات اس کی گردن کو پہیّے کی طرح گھماتے تھے۔ آپ خود سوچیں کیا انسان کی گردن چاروں جانب گھوم سکتی ہے؟ گردن کی ہڈیاں اور اعصاب نہایت حساس ہوتے ہیں مگر جب جنات انسان کو تکلیف دیتے ہیں تو وہ اس گوشت پوست کے انسان کو غیر معمولی بنا دیتے ہیں ۔ سائیں نواب کا سر گردن پر چاروں جانب لٹوکی طرح گھومتا تو اس کی آنکھوں اور منہ سے بے تحاشا پانی بہنے لگتا۔ چہرہ بگڑ جاتا۔ آنکھیں اُبل جاتیں۔ دیکھنے والے اسے دیکھتے اور توبہ توبہ کرنے لگتے۔
سائیں نواب دین ایک اچھے انسان تھے اور کبھی غلط کام نہیں کرتے تھے مگر جنات کے ہتھے چڑھ گئے تھے۔ ان کا کوئی علم ان کے کام نہیں آیاتھا۔ گھر والے انہیں لے کر کئی آستانوں پر گئے مگر کوئی ان پر ہاتھ نہ ڈال سکا اور پھر ایک روز سائیں نواب دین کی حالت قدرے سنبھلی تو انہوں نے اپنے بچوں سے کہا کہ مجھے پیر محمد رمضان سیفی کے پاس لے چلو۔ ایک وقت تھا جب وہ اہل سیفیہ کی بزرگی کو تسلیم نہیں کرتے تھے اور استہزاء کرتے کہ کیا کسی انسان کا قلب اور لطائف بھی ہوتے ہیں۔ یہ کیسا ذکر ہے جو انسان کو اپنے اللہ کے قریب کر دیتا ہے۔ اس طرح کے لوگ سیفی اہل اللہ کو کڑی آزمائشوں میں مبتلا کرتے ہیں۔ مگر یہ میرے دادا مرشد حضرت مبارکؒ کی برکات ہیں کہ انہوں نے ہمیں اللہ سے قربت کا سلیقہ سکھا دیا۔ اہل سیفیہ اپنی عبادات میں اور شیوخ کے ادب میں نہایت اخلاص کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ وہ دنیا داری بھی کرتے ہیں مگر ان کے رگ وپے میں اللہ کا ذکر جاری رہتاہے۔
سائیں نواب دین کو جب میرے پاس لایا گیا تو میں نے مناسب خیال کیااور انہیں اپنے مرشد حضرت پیر محمد عابد سیفی دامت برکاتھم کی خدمت میں پیش کیا اور ان کے علاج کے لیے درخواست کی۔ میرے مرشد سرکار نے پہلی نظر دیکھتے ہی فرمایا ’’رمضان اس کا علاج تم کرو۔‘‘
میں بتا دوں کہ ان دنوں ابھی میں مالی پورہ تلونڈی میں تھا اور ابھی لاہور ہجرت نہیں کی تھی۔ میں نے عرض کی ’’سرکار مجھے ڈر لگتا ہے۔‘‘
’’تجھے ڈر لگتا ہے ۔۔۔‘‘ میرے مرشد کریم نے تعجب سے کہا۔پھرمجھے توجہ فرمائی اور تین بار تھپکی دی۔ ’’سنو رمضان، جنات غیر مسلم ہوں یا پھر جتنے بھی طاقتور ہوں۔ وہ تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ اب تم ہی سائیں کا علاج کرو گے۔اور ایک صرف یہ سائیں تک نہیں تم بیمارجنات کا علاج بھی کرو گے‘‘
میں بڑا حیران ہوا’’سرکار مجھے تو حکمت اور طب کا علم نہیں آتا ،میں بیمار جنات کا علاج کیسے کروں ‘‘میرے سرکار خود ایک جید عالم اور عملیات کے شہنشاہ ہیں اور آپ نے طب و حکمت بھی کررکھی ہے۔ایک مستند معالج کے طور پر سرکار کا شہرہ ہے۔اس وقت دریائے فقیر جوبن پر تھا۔فرمایا ’’اللہ کا کرم ہوگا اور یاد رکھوں اللہ کے سچے فقیر جب کوئی بات کہہ دیں تو ربّ کریم ان کی حیا رکھتا ہے۔یہ جنات ونات کیا چیز ہیں ،میرے رب کی مخلوق ہیں اور جب تمہیں اللہ کے علم سے مسیحائی کا اذن ملے گا ،ربّ ذوالجلال کی رضا ہوگی، سوہنے سرکار آقائے دوجہاںﷺ سے تمہارا عشق اتباع سے منسوب ہوگا تو کرم ہوگا ،کرم ہوگا‘‘
سرکار کی باتیں سن کر مجھ پر رقعت طاری ہوگئی اور ایسی کیفیت بن گئی کہ یوں لگا جیسے میں اپنے آپ میں گھل گیا ہوں ،ایک لطافت اور نور نے مجھے گھیر لیا۔معاً میں حواس میں آگیا کیونکہ اس دوران سائیں نواب دین گڑگڑانے لگا۔وہ اٹھااور مرشد سرکار کے آستانے کی چوکھٹ پر بیٹھ گیا اور ان کی جوتیاں اپنے سر پر مارتے ہوئے گریہ کرنے لگا۔
’’حضور میرا علاج آپ کریں یا آپ کا یہ خادم ،اس عذاب سے میری جان چھڑوا دیں۔ میں امید لے کر آیا ہوں کہ سیفی پیر بڑے تگڑے ہوتے ہیں۔ آپ کے نام کا بہت چرچا ہے۔ اللہ رسولﷺ کا واسطہ ہے میرا کچھ کر دیں اور ان خبیثوں سے میری جان چھڑوا دیں۔‘‘ اس بات میں میرے مرشد کی حکمت تھی کہ آپ نے اسے تین روز آستانے میں پڑا رہنے دیاپھر میرے پاس بھیج دیا اور مجھے اس کا علاج بھی تجویز کر دیا۔ اس روز میں نے تایا سے پوچھا ’’آپ میرے مرشد کی جوتیاں سر پر کیوں مارتے تھے۔‘‘

وہ بولا’’اللہ کے ولی کی جوتیاں کھانے سے شیطان بھاگ جاتا تھا اور مجھے سکون ملتا تھا۔‘‘ اس وقت تک سائیں نواب دین کی حالت یہ تھی کہ وہ سیدھا چلنا چاہتا تھا مگر جنات اسے الٹا چلاتے اور بھگاتے تھے۔ درجنوں لوگوں نے اس کی یہ حالت دیکھی تھی۔ دن رات جاگتا رہتا تھا، نہ نیند، نہ کھانا پینا، حالت نہایت خراب تر ہو
چکی تھی۔

تمام اردو کہانیاں پڑھنے کے لیے کلک کریں 

درویش کامل اردو کہانی قسط نمبر 4

Urdu stories online, Urdu stories for kids, Short Urdu stories, Urdu Kahaniyan, Famous Urdu stories, Urdu stories with moral, Best Urdu stories collection, Urdu stories for students, Urdu love stories, Urdu horror stories, Urdu stories for reading, Urdu stories in Urdu text, Funny Urdu stories, Urdu stories for beginners, Urdu detective stories, Urdu motivational stories, Urdu stories for adults, Urdu moral stories, Urdu stories for children, Urdu true stories, Urdu suspense stories, Urdu emotional stories, Urdu adventure stories,


hindi moral stories in urdu,سبق آموز کہانیاں,ج, jin-ki-dushmni,good moral stories in urdu,Moral Stories,Urdu Stories,urdu kahani,اردو کہانی,قسط وار کہانیاں,


Reactions