کالا جادو - ایم اے راحت - قسط نمبر 16

 

قسط وار کہانیاں
کالا جادو - اردو کہانی قسط نمبر 16
رائیٹر :ایم اے راحت

‎پنڈت اوم پرکاش جی کو اپنا ایمان بچانا مشکل ہورہا تھا۔ بال، بچوں کے ساتھ مقدس یاترا کو نکلے تھے اور یہاں پڑے جا رہے تھے دولت کے پھیر میں۔ مادھو لال نے آدھی دولت کی پیشکش کردی تھی اور یہ آدھی دولت اتنی تھی کہ اوم پرکاش جی نے ساری عمر نہیں کمائی تھی۔ انہیں پارس پتھر ملا تھا مگر یہ پتھر ان کے بجائے مادھو لال کو چھو گیا تھا۔ ان سے برداشت نہیں ہو رہا تھا۔ تقدیر کو انہیں اس مصیبت سے نکالنا تھا کہ ان کے بیٹے کو بنارس کے ٹکٹ مل گئے۔ بارہ بجے ریل روانہ ہونے والی تھی۔ مادھو لال تو واقعی دیوانہ ہوگیا تھا۔ کسی سے مل ہی نہیں رہا تھا۔ رخصت ہوتے ہوئے ہم مادھو لال کے اس کمرے کے دروازے پر پہنچے جسے وہ بند کئے بیٹھا تھا۔
‎’’پتا جی… دروازہ کھولیے۔‘‘ مادھولال کے بیٹے نے آواز لگائی۔
‎’’ابے کیوں بار بار آجاتا ہے؟ میں بالکل ٹھیک ہوں۔‘‘
‎’’اوم پرکاش چاچا جارہے ہیں۔‘‘
‎’’کہاں جارہے ہیں…؟‘‘
‎’’بنارس۔‘‘
‎’’کہاں ہیں؟‘‘
‎’’یہ کھڑے ہیں دروازے پر۔‘‘ مادھو لال کا بیٹا بولا۔
‎’’تو بھاگ جا یہاں سے، بات کروں گا میں ان سے۔‘‘ مادھو لال کا بیٹا تو نہ گیا مگر مادھو لال دروازے پر آگئے تھے۔ ان کی آواز ابھری۔ ’’اوم پرکاش! آدھی لے لو۔ تمہیں بھگوان کا واسطہ، آدھی لے لو۔‘‘
‎’’میں جارہا ہوں مادھو لال! جیتا رہا تو واپسی میں تم سے ملوں گا۔‘‘
‎’’میں الگ کرلوں گا۔ دھرم ایمان سے آدھی تمہاری…‘‘ مادھو لال بولا اور اوم پرکاش جی وہاں سے پلٹ آئے۔کچھ دیر کے بعد ہم لوگ اسٹیشن پہنچ گئے اور پھر ریل ہمیں لے کر چل پڑی۔ اوم پرکاش میرا بڑا احترام کررہے تھے۔ ویسے حالت ان کی بھی زیادہ بہتر نہیں تھی۔
‎’’مسعود جی۔ بھگوان نے یہ سونا چاندی بھی کیا چیز بنائی ہے۔ اس کے سارے کھیل نیارے ہیں مگر ساتھ ہی اس نے منش کو صبر بھی دیا ہے۔ ایک وہ ہے جو ہنسی ہنسی میں دھن دولت کے انبار لگا کر پھینک دیتا ہے اور ایک وہ جو ان پھینکی ہوئی چیزوں کو اٹھا کر پاگل ہوجاتا ہے۔‘‘
‎’’ہاں اوم جی۔ ملتا کسی کو کچھ نہیں ہے۔‘‘

‎’’وہ کونسی شکتی ہے مسعود جی جو انسان کو دھن دولت سے نفرت کرا دیتی ہے۔‘‘
‎’’ایمان… اللہ پر ایمان! جو کچھ اس کائنات میں ہے، اس کا ہے۔ اسے اپنا سمجھنا حماقت ہے۔ جو سامنے آجائے، اسے اس کا سمجھ کو دیکھو۔ اپنا سمجھ کر نہیں، تمہارا کچھ بھی نہیں ہے۔ جب تمہاری سانسیں تمہاری اپنی نہیں تو اور کیا چیز ہوگی۔ لالچ اور ہوس سے دوسروں سے چھین کر جو چاہو اکٹھا کرلو، اسے کہیں لے جائو تو مانیں۔ سب کچھ رہ جائے گا اور تم ہاتھ پسارے چلے جائو گے۔‘‘
‎’’ اوم پرکاش! سوچ میں ڈوب گئے۔ پھر میرے ہاتھ پکڑ کر بولے۔ ’’ایسے کچھ بول اور بول دو مہاراج…! میرا بھلا ہوجائے گا۔‘‘
‎’’کیوں اوم پرکاش جی۔‘‘ میں نے مسکرا کر پوچھا۔
‎’’نیک دلی سے تیرتھ یاترا کو نکلا تھا کہ یہ کھیل سامنے آگیا۔ غلطی میری بھی نہ تھی۔ مجھے معلوم نہ تھا اور اب من ادھر ہی اٹکا ہوا ہے۔ مادھو لال تو کروڑ پتی بن گیا اور… چولہے میں جائے سب کچھ! ارے کیا کروں گا میں سونے چاندی کا، سب دوسروں کے کام ہی آئے گا۔‘‘ اوم جی خود کو سمجھا رہے تھے۔ سفر جاری رہا۔ ان پر کیا بیت رہی ہے، میں نہیں جانتا تھا میرے اپنے ہی تفکرات کیا کم تھے۔ اب تو درد حد سے گزر چکا تھا، دوا کی حاجت ہی ختم ہوتی جارہی تھی۔ دل چاہ رہا تھا کہ خود کو حالات کے دھارے پر چھوڑ دوں۔ خود کچھ نہ کروں۔ کوئی کچھ کرتا ہے تو کرنے دوں۔ آنکھیں بند کرکے سو جانے کو جی چاہتا تھا۔
‎بنارس آگیا۔ مندروں کی دنیا! ہندو، مسلمان کی ملی جلی آبادی، یاتریوں کے ہجوم۔ عقیدت مندوں کے ڈیروں کے درمیان اوم پرکاش جی نے بھی ڈیرہ جما لیا۔ دولت مند انسان تھے۔ جیسا چاہتے، بندوبست کرسکتے تھے مگر بڑی عقیدت سے آئے تھے اس لئے سارے عمل وہی کرنا چاہتے تھے جو ان کے دھرم کے مطابق ہوں۔ مجھے ساتھ تو لے آئے تھے مگر اب شاید سوچ رہے تھے کہ میرا کیا کریں۔ وہ خود اپنے مخصوص انداز میں پوجا پاٹ کرنا چاہتے تھے۔ ایسے میں میرا ساتھ چھوڑنا ضروری تھا۔ بولے۔ ’’مسعود میاں! تمہارا جہاں جی چاہے سیر کرو، ہم پوجا کریں گے۔ ڈیرہ تمہارا ہے۔ جیسے من چاہے رہو، شام یہاں بتا لیا کرو۔‘‘
‎’’آپ بالکل بے فکر رہیں اوم پرکاش جی! میں اپنی جگہ تلاش کرلوں گا۔‘‘ میں نے انہیں اطمینان دلا دیا۔ پھر میں ڈیرے سے چل پڑا۔ کاشی واقعی ہندو دھرم کی بڑی مقدس جگہ ہے۔ ہندوستان کے ہر گوشے سے لوگ آئے ہوئے تھے بلکہ شاید نیپال، سری لنکا اور بھوٹان کے یاتری بھی تھے۔ طرح طرح کے چہرے، طرح طرح کے نقوش! عورتیں، مرد، بچے، بوڑھے، نوجوان لڑکیاں، طرح طرح کے سوانگ اور روپ!

‎رات کے کوئی دس بجے تھے۔ ایک پرانے مندر کے قریب بیٹھا میں آنے جانے والے یاتریوں کو دیکھ رہا تھا۔ چار آدمی ایک لمبے تڑنگے شخص کے پیچھے بڑی عقیدت سے چلتے ہوئے میرے قریب سے گزرے۔ لمبے تڑنگے شخص کے سر کے بال کمر تک لٹکے ہوئے تھے۔ اس نے سر سے پائوں تک دھوتی جیسا لباس لپیٹا ہوا تھا، بازو کھلے ہوئے تھے، سینے تک داڑھی تھی، آنکھوں پر چشمہ لگا ہوا تھا۔ مجھ سے چند قدم آگے بڑھ کر وہ رک گیا۔ ادھر ادھر دیکھا اور پھر اس کی نظریں مجھ پر جم گئیں۔ وہ چاروں آدمی بھی میری طرف متوجہ ہوگئے تھے۔ وہ شخص پلٹ کر میرے قریب آکھڑا ہوا اور میں بھی کسی قدر گھبرائے ہوئے انداز میں کھڑا ہوگیا۔ اس نے میرے سامنے ہاتھ جوڑ دیئے تھے۔
‎’’آپ یہاں مہاراج… آپ یہاں کب آئے؟‘‘
‎’’آج…‘‘ میں نے بدستور گھبرائے ہوئے انداز میں کہا۔ میں اسے بالکل نہیں پہچان سکا تھا۔ اس نے اپنے ساتھیوں کو دیکھ کر کہا۔
‎’’مجھے میرے بہت پرانے دوست ملے ہیں، کچھ دیر ان سے بات کروں گا۔ آپ لوگ اپنے استھان پر جائیں اور آرام کریں، کل پھر ملیں گے۔‘‘ وہ چاروں ہاتھ جوڑ کر جھکے اور واپس چلے گئے۔ جب وہ دور نکل گئے تو اس نے مجھے گھورتے ہوئے کہا۔ ’’کالی شکتی والے! یہ بھگوان دوار ہے، یہاں تیرا کیا کام…؟‘‘
‎’’تم کون ہو، میں نے تمہیں نہیں پہچانا۔‘‘
‎’’ساگر سروپ ہے ہمارا نام! تو ہمیں کیا پہچانے گا۔ ہم نے تجھے اوش پہچان لیا ہے۔‘‘

‎’’کیا جانتے ہو میرے بارے میں۔‘‘
‎’’تیرے شریر سے کالی بساندھ اٹھ رہی ہے۔ تیری پہچان کے لیے یہ کافی ہے۔‘‘
‎’’اوہ! میں سمجھا کچھ اور جانتے ہو تم میرے بارے میں۔‘‘ میں نے گہری سانس لے کر طنزیہ لہجے میں کہا۔
‎’’کیا کررہا ہے یہاں…؟‘‘
‎’’یاترا!‘‘ میں نے کہا اور ہنس پڑا۔
‎’’بھسم ہوجائے گا۔‘‘
‎’’کیوں…؟‘‘

‎’’کالی گندگی لے کر تو بھگوان کے چرنوں میں جائے گا۔‘‘
‎’’تم بڑے گیانی معلوم ہوتے ہو۔ فوراً کالی شکتی کو پہچان لیا۔ اس سے آگے بھی کچھ جانتے ہو یا اتنا ہی…؟‘‘ وہ مجھے غور سے دیکھنے لگا۔ پھر اس نے کہا۔
‎’’اپنے دونوں ہاتھ سامنے کرو۔‘‘ اس نے کہا اور میرے پاس بیٹھ گیا۔ میں نے اس کی ہدایت پر عمل کیا تھا۔ تھوڑی بہت روشنی ہر جگہ سے چھن رہی تھی۔ وہ میرے پھیلے ہوئے ہاتھوں کو دیکھ رہا تھا۔ دیر تک وہ میرے ہاتھوں پر نظریں جمائے رہا۔ پھر اس کے منہ سے ایک چونکی ہوئی آواز سنائی دی۔ ’’ارے اوہ… اوہ…‘‘ اس نے غور سے میرا چہرہ دیکھا اور پھر ہاتھ آگے بڑھا کر میرے دونوں ہاتھ پکڑ لیے پھر آہستہ سے بولا۔
‎’’جیوتش ودیا پر وشواس رکھتے ہو؟‘‘
‎’’خود بولتے رہو ساگر سروپ جی! ہم سے کچھ نہ پوچھو۔‘‘
‎’’ہم نے تھوڑا سا جیوتش کا علم سیکھا ہے۔ تمہاری ریکھائوں میں جو نظر آرہا ہے، وہ عجیب ہے۔ کچھ کہہ سکو گے؟ کچھ پوچھیں بتائو گے؟‘‘
‎’’اگر بتانے کی بات ہوئی تو!‘‘
‎’’ہندو دھرم سے نہیں ہو۔‘‘وہ میرے ہاتھوں پر نظریں جما کر بولا۔
‎’’آگے چلو!‘‘
‎’’وقت کے مارے ہو، مگر شکتی مان ہو۔ بڑا دل رکھتے ہو مگر دکھوں سے بھرا…! کالا جادو جانتے ہو مگر… مگر…! کرتے نہیں ہو۔‘‘
‎’’اورٖٖ!‘‘
‎’’حیرانی کی بات ہے۔ سمجھ میں نہ آنے والی تمہاری ریکھائیں عجیب ہیں۔ ریکھائوں میں سارے جیون کی کہانی نہیں ہوتی۔ ستاروں کی چال بدلتی رہتی ہے، ریکھائیں بنتی بگڑتی رہتی ہیں مگر سب سے زیادہ ایک بات حیران کررہی ہے۔‘‘
‎’’کیا…؟‘‘
‎’’تمہارا دھرم کیا ہے…؟‘‘
‎’’کیا کالا جادو صرف ہندو جانتے ہیں؟‘‘
‎’’نہیں جو بھی شیطان سے قریب ہوجائے، جو اسے دیوتا مان لے، دھرم کی قید نہیں ہوتی لیکن شیطان کا ایک ہی دھرم ہوتا ہے یعنی شیطنت! نہ پھر ہندو، ہندو ہوتا ہے نہ مسلمان، مسلمان! وہ سب شیطان کے چیلے ہوتے ہیں۔‘‘
‎’’تم خود کیا ہو؟‘‘
‎’’صرف انسان! بچپن سے گیان دھیان سے دلچسپی تھی۔ سب کچھ چھوڑ کر اس کی کھوج میں لگ گیا۔‘‘
‎’’کیا پایا…؟‘‘
‎’’شانتی… صرف شانتی!‘‘
‎’’جیوتش سیکھی؟‘‘
‎’’ہاں! ایک مہان آتما مل گئی تھی، اس نے اپنا گیان دے دیا۔‘‘
‎’’اور…!‘‘ میں نے کہا اور وہ مسکرا دیا۔
‎’’میری ایک بات پوری نہیں کی۔ اپنی پوچھے جارہے ہو۔‘‘
‎’’میں کچھ بھی نہیں ہوں، دو کوڑی کا انسان ہوں، کالا جادو نہیں جانتا۔ بس اس کے جال میں پھنس گیا ہوں۔ راستے کی تلاش میں بھٹک رہا ہوں۔ تلاش کرتا رہوں گا اس وقت تک جب تک موت نہ آجائے۔‘‘
‎’’اتنا انتظار کیوں کرتے ہو؟‘‘
‎’’پھر کیا کروں…؟‘‘
‎’’سورج کا سفر! دوڑنا پڑے گا۔ کرنوں کے ساتھ دوڑنا پڑے گا۔ رک گئے تو کبھی منزل نہ پائو گے اور پہنچ گئے تو فیصلہ ہوجائے گا۔ منزل کتنی دور ہے، کوئی نہیں جانتا مگر چلنا پڑتا ہے، دوڑنا پڑتا ہے، وہیں فیصلہ ہوجائے گا۔‘‘
‎’’سورج کا سفر…؟‘‘
‎’’ہاں!‘‘
‎’’کیسے…؟‘‘
‎’’میں بتا سکتا ہوں۔‘‘
‎’’بتائو!‘‘
‎’’ایسے نہیں۔ گرو ماننا پڑے گا، گرودچھنا دینا پڑے گی۔‘‘ اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔
‎’’کیا…‘‘ میں نے پوچھا۔
‎’’محنت سے کمائی کرکے چار لڈو۔ جب ہوجائیں، اسی جگہ آجانا۔ انتظار کروں گا۔‘‘ اس نے کہا اور آگے بڑھ گیا۔ میں اے دیکھتا رہ گیا۔ عجیب سا آدمی تھا۔ مجھے یوں لگا جیسے وہ بہت بڑا ہو مگر چھوٹا بنتا ہو۔ سورج کا سفر، گرودچھنا، محنت کی کمائی سے، محنت کی کمائی سے۔ کہاں سے کمائوں؟‘‘
‎رات ہوگئی۔ بہت دور نکل آیا تھا۔ اوم پرکاش کا ڈیرہ کہاں ہے، یاد ہی نہیں رہا تھا۔ ساگر سروپ یاد تھا۔ وہ جو کچھ کہہ گیا تھا، جی کو لگ رہا تھا۔ ایک سنسان گوشہ دیکھ کر وہیں پڑ رہا۔ وہاں صبح ہوگئی۔ کوئی دس بجے تھے۔ میں نے ایک ادھیڑ عمر مرد کو دیکھا ٹین کا صندوق
‎سر پر رکھے، اس پر بستر رکھ ہوا تھا ساتھ میں اسی کی عمر کی عورت تھی جو دو وزنی تھیلے لٹکائے ہوئے تھی۔ ڈگمگاتے قدموں سے آگے بڑھ رہا تھا۔ میرے قریب سے گزرا تو گردن گھما کر مجھے دیکھا اور صندوق سے بستر گر پڑا۔ اس نے صندوق بھی بستر پر پھینک دیا اور وہیں بیٹھ گیا۔ عورت نے تھیلے زمین پر پٹخ دیئے۔
‎’’اب آگے ناہیں بڑھو گے کا؟‘‘ عورت غصے سے بولی۔
‎’’ارے چپ! آگے کی بچی… کھپڑیا پچک کر سڑا ہوا خربوزہ بن گئی اور تے کہے ہے آگے بڑھو۔‘‘ مرد جھلائے ہوئے لہجے میں بولا۔
‎’’اور پکڑو پائی پائی داتن سے۔ یاترا کو آویں کی کا جرورت تھی؟ گھر کو ہی کاسی جی بنا لیتے۔‘‘
‎’’اور ریل کا کرایہ تے جیسے تیرے میکے سے آیا تھا۔ وہ سسر پندرہ روپے مانگ رہا تھا۔ ہم نے آٹھ لگا دیئے تب بھی نہ مانا۔‘‘ مرد نے کہا اور پھر اس کی نگاہ مجھ پر پڑی۔ وہ جلدی سے کھڑا ہوگیا۔ ’’ارے بھائی اورے بھائی! ارے ذرا ادھر آنا میرے بھائی! ارے مزدوری کرے گا کیا رے۔ یہ سامان اٹھا کے ذرا تلسی نواس پہنچا دے بھیا! ایک بکس اور ایک بسترا ہے رے بھائی!‘‘
‎’’ارے ارے تمہاری کھوپڑیا تے سچی مچی کھربوجا بن گئی ہے۔ وہ مجدور لاگے ہے تمہیں کا۔‘‘ عورت نے مرد کو گھورتے ہوئے کہا۔
‎’’ایں؟‘‘ مرد مجھے دیکھنے لگا مگر میرے ذہن میں چھناکا ہوا تھا۔ مزدوری، محنت کی کمائی۔ یہ محنت کی کمائی ہی ہوگی۔ چنانچہ میں نے آگے بڑھ کے کہا۔
‎’’کتنے پیسے دو گے؟‘‘
‎’’ارے چار روپئے دیں گے پورے!‘‘

‎’’ٹھیک ہے۔‘‘ میں نے گردن ہلا دی اور پھر وزنی بکس بستر اٹھا کر سر پر رکھ دیئے۔ عورت نے دونوں تھیلے میرے بازوئوں میں لٹکا دیئے تھے۔ میں چل پڑا اور پھر انہیں تلسی نواس مندر پہنچا دیا۔ بہت سے یاتری یہاں موجود تھے۔ مرد نے سامان ایک جگہ رکھوا دیا اور پھر انٹی سے مڑے تڑے نوٹ نکالے اور گھگھیا کر بولا۔ ’’ارے تین روپے لے لے بھائی تیرا بھلا ہوگا۔‘‘
‎’’بھگوان تمہیں سیدھا کرے۔ نکالو پانچ روپے اور اسے دو۔‘‘ عورت جھلا کر بولی۔
‎’’اری او ساہوکارنی! پانچ روپے کاہے کے ری۔‘‘
‎’’یہ تھیلے جو اٹھائے ہیں اس نے!‘‘’’تے یہ سامان نہیں کیا… ارے لے بھائی! ایک روپیہ اور لے۔ تو جا اس ساہوکارنی کو تو ہم دیکھ لیں گے۔‘‘ مرد نے ایک روپیہ اور دے کر جان چھڑائی۔ میں چار روپے لے کر پلٹا تو اپنے عین سامنے اوم پرکاش جی کو کھڑے پایا۔ وہ تند نظروں سے مجھے دیکھ رہے تھے۔
‎’’یہ کیا ہورہا ہے؟‘‘ انہوں نے پوچھا۔
‎’’مزدوری…!‘‘ میں نے ہنس کر کہا۔
‎’’کیوں…؟‘‘
‎’’میری بھی ضرورتیں ہیں اوم پرکاش جی! آیئے یہاں کہاں؟‘‘
‎’’مجھے دکھ ہوا ہے مسعود میاں! میرے دل میں تمہارا کیا مقام ہے، بتا نہیں سکتا اور تم…!‘‘
‎’’دوسرے لوگ کہاں ہیں؟‘‘
‎’’وہ موجود ہیں۔ رات کو بھی ڈیرے پر واپس نہیں آئے؟‘‘
‎’’بس! آپ کی کاشی دیکھ رہا ہوں۔‘‘
‎’’ایسے…؟‘‘ وہ شکایتی انداز میں بولے۔
‎’’ہاں! اپنا اپنا انداز ہے۔‘‘ میں نے کہا۔ دوپہر ڈھلے تک اوم پرکاش کے ساتھ رہا پھر موقع پا کر دوبارہ نکل بھاگا۔ وہ لوگ پوجا پاٹ میں مصروف تھے، مجھے موقع مل گیا۔ تلاش کرکے میں نے ایک دکان سے لڈو خریدے۔ دو روپے کے مل گئے تھے۔ ایک فقیر نے ہاتھ پھیلایا تو بچے ہوئے دو روپے اس کے ہاتھ پر رکھ دیئے۔ پھر اس جگہ پہنچ گیا جہاں ساگر سروپ ملا تھا۔ بے شمار لوگ ادھر سے ادھر گھوم پھر رہے تھے۔ ایک شخص ٹاٹ کی بوری سر پر رکھے گھٹنوں میں سر دیئے بیٹھا تھا۔ متجسس نظروں سے ادھر ادھر دیکھنے لگا۔ تبھی مجھے ’’شی شی!‘‘ کی آواز سنائی دی اور میں چونک کر پلٹا۔ ساگر سروپ نے بوری اُتار کر بغل میں دبائی اور اُٹھ کھڑے ہوئے۔
‎’’تمہارا انتظار کررہا تھا۔ آئو چلیں یہاں سے!‘‘ ہم دونوں آگے بڑھ گئے۔ پھر وہ کافی دور جاکر ایک پتھر پر بیٹھ گئے اور مسکرا کر بولے۔ ’’لڈو لے آیا بیٹا…؟‘‘
‎’’ہاں… یہ ہیں۔‘‘
‎’’ٹھیک ہے۔ گرو بھگتی کر۔ ایک لڈو ہمارے منہ میں رکھ۔‘‘ انہوں نے کہا اور میں نے ان کی ہدایت پر عمل کیا۔ انہوں نے ایک لڈو اٹھا کر میرے منہ میں رکھا اور بولے۔ ’’اب ہمارے چرن چھو کر ماتھے سے لگا۔ ہاتھ جوڑ کر ہمارے سامنے دوزانو بیٹھ جا۔‘‘
‎’’کیا…؟‘‘ میں حیرت سے بولا۔
‎’’ہاں! یہ گرو کا احترام ہے۔‘‘
‎’’نہیں ساگر سروپ جی! یہ میرے لیے ممکن نہ ہوگا۔ کچھ ہو یا نہ ہو مگر یہ نہیں ہوگا۔‘‘ میں کئی قدم پیچھے ہٹ گیا اور ساگر سروپ مجھے غور سے دیکھنے لگے۔ پھر مسکرا کر بولے۔
‎’’مسلما ن ہے۔ مسلمان ہے تجھ سے تیرا دھرم کون چھین سکتا ہے بھلا۔ سب سسرے بے وقوف ہیں، پاگل ہیں۔ آ یہاں بیٹھ جا میں تجھے بتائوں سورج کا سفر کیا ہے۔ آ بیٹھ جا! تو فولاد ہے، تجھے کوئی آسانی سے نہیں توڑ سکتا۔‘‘ میں بیٹھ گیا۔ ’’میرے ساتھ چلنا ہوگا تجھے۔‘‘
‎’’کہاں…؟‘‘
‎’’زیادہ دور نہیں۔ بس کسی بھی ایسی جگہ جہاں رکاوٹیں نہ ہوں۔ جو بتائوں وہ کرنا ہوگا۔‘‘
‎’’میرے حکم نہ ماننے سے آپ ناراض تو نہیں ہوئے ساگر جی!‘‘
‎’’نہیں! تیرا دھرم پتا چل گیا۔ مسلمان کسی کو وہ تعظیم نہیں دیتے جو ان کے رب کے لیے مخصوص ہے۔ اس پر تو لاکھوں گردنیں کٹی ہیں، اتنا مجھے معلوم ہے۔ خیر ان باتوں کو چھوڑو۔ کیا کہتا ہے چلیں…؟‘‘
‎’’جیسا آپ پسند کریں۔‘‘
‎’’تو نے لڈو کھلایا ہے بھائی! اتنا تو کرنا ہی پڑے گا۔‘‘ ساگر سروپ ہنستے ہوئے اٹھ گئے اور پھر ہم وہاں سے چل پڑے۔ ساگر سروپ نے کہا تھا کہ کچھ دور جانا ہوگا مگر ایسا نہیں ہوا تھا۔ ہم آبادیوں کو پیچھے چھوڑ آئے۔ جنگل شروع ہوگئے۔ جھٹپٹا ہوا، چڑیوں کا شور، بندروں کی خوں خوں ابھرتی رہی۔ پھر رات ہوگئی۔ نہ وہ رکے نہ میں! نہ وہ تھکے نہ میں اور جب چاند نکلا تو ہم ایک ایسی جگہ پہنچ گئے جہاں ایک بدشکل ویرانہ پھیلا ہوا تھا۔ چاروں طرف ابھری ہوئی ناہموار زمین، سوکھے درخت، مکمل خاموشی اور سناٹا چھایا ہوا تھا۔
‎’’یہ جگہ ہے۔‘‘ ساگر سروپ نے کہا اور رک گیا۔ چاروں طرف دیکھتا رہا پھر بولا۔ ’’سورج وہاں سے بلند ہوگا۔‘‘ اس نے انگلی سے ایک طرف اشارہ کیا تھا۔
‎’’مجھے کیا کرنا ہوگا؟‘‘
‎’’راستہ چاہتا ہے نا…؟‘‘
‎’’ہاں! راستہ چاہتا ہوں۔‘‘
‎’’سورج تجھے راستہ بتائے گا۔ اجالا ہونے سے پہلے تیار ہوجانا، اپنے بدن کو ہوا کا بدن بنا لینا، کسی سے مدد نہ مانگنا پھر جب سورج سر ابھارے گا تو اس کی کرنیں زمین کی طرف لپکیں گی۔ جو کرن پہلے زمین کو چھوتی ہے، وہ سرتاج ہوتی ہے۔ اس کی پہچان یہ ہوتی ہے کہ اس میں ہزار رنگ تڑپ رہے ہوتے ہیں۔ وہ زمین پر دوڑتی ہے، دور تک سورج کا پیغام لے جانے کے لیے! اس دن کی بادشاہی اسے ملتی ہے۔ تجھے سرتاج کرن کے ساتھ ساتھ دوڑنا ہوگا۔ اس کی رفتار کے ساتھ۔ کرن کھو گئی تو تیرا مستقبل بھی کھو جائے گا اور تو نے اس کا ساتھ دے لیا تو منزل پر پہنچ جائے گا۔ وہاں تجھے تیرا مستقبل مل جائے گا۔ بس یہی بتانا تھا تجھے!‘‘
‎’’یہ سب کیا ہے؟‘‘
‎’’بھگوان ہی جانے!‘‘ ساگر سروپ نے ٹھنڈی سانس لے کر کہا۔
‎’’مجھے تو یہ کہانی لگتی ہے۔‘‘
‎’’یہ سچی کہانی ہے۔‘‘
‎’’پہلے میں نے یہ کرن کہانی نہیں سنی۔‘‘
‎’’بہت سوں نے نہ سنی ہوگی، تو ہی کیا لیکن یہ کرن سب کے لیے ہوتی ہے۔ سورج کی اس کرن کو پکڑ لیا جائے تو سارے کام بن جاتے ہیں۔ تو نہیں جانتا، بہت سے نہیں جانتے مگر پنکھ پکھیرو جانتے ہیں۔ وہ پرواز کرتے ہیں، اس کرن کے ساتھ…! تو کیا سمجھتا ہے پنکھ پکھیرو بھگوان کے داس نہیں ہوتے، سب اسے جانتے ہیں، سب اسے پہچانتے ہیں، اس کی پوجا کرتے ہیں، اس کی عبادت کرتے ہیں، اسے سانچی مانتے ہیں۔ صبح کو سورج نکلنے سے پہلے اسے یاد کرتے ہیں۔ کرن کے ساتھ دوڑنے میں کچھ رہ جاتے ہیں، کچھ پار لگ جاتے ہیں۔ جو رہ جاتے ہیں، وہ دوسری صبح پھر جاگ جاتے ہیں اور کرن کے پیچھے دوڑتے ہیں۔‘‘
‎’’کرن کہیں جاکر رکے گی؟‘‘
‎’’ہاں! کرنوں کا ملاپ ہوجائے گا، دھوپ پھیل جائے گی۔‘‘
‎’’وہاں میں کیا کروں گا؟‘

‎’’یہ میں نہیں جانتا۔ اب میں چلتا ہوں۔‘‘ ساگر سروپ نے کہا اور میں خشک ہونٹوں پر زبان پھیر کر رہ گیا۔ ساگر سروپ مجھ سے کچھ کہے بغیر واپسی کے لیے مڑ گیا تھا۔ میں اب اس سے کیا کہتا، خاموشی سے اسے جاتے دیکھتا رہا۔ اس وقت تک جب تک وہ چاندنی میں مدغم نہ ہوگیا۔ اس کے بعد میں نے چاروں طرف نگاہ دوڑائی۔ یقیناً آبادی سے بہت دور نکل آئے تھے۔ چاندنی کے سوا کہیں روشنی کی کوئی رمق نہیں تھی۔ میں نے ایک جگہ منتخب کی اور بیٹھ گیا۔ ایک بار پھر خود کو امتحان میں ڈالا تھا مگر یہ انوکھا امتحان تھا، انوکھی کہانی تھی۔ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ اس کا کیا مطلب ہے۔ ساگر سروپ بھی سمجھ میں نہیں آیا تھا۔ ایک دو بار یہ خیال بھی آیا تھا کہ کہیں یہ بھی بھوریا چرن کی کوئی چال نہ ہو۔ کیا یہ ہوسکتا ہے، نہ جانے دل کیوں نفی میں جواب دے رہا تھا۔ جو کچھ بھی ہے، یہ کھیل ضرور کھیلوں گا۔ ایک مناسب جگہ منتخب کرکے لیٹ گیا۔ دل میں بہت سے وسوسے تھے۔ اگر سو گیا تو سوتا نہ رہ جائوں۔ جاگتا رہا تو صبح تک نیند سے نڈھال ہوجائوں گا۔ پھر کیا کروں… بچپن کی ایک بات یاد آگئی۔ ماں نے بتائی تھی۔ امتحان دے رہا تھا، رات کو دیر تک پڑھتا تھا۔ ماں نے کہا۔
‎’’اتنی دیر پڑھنا کوئی فائدہ نہیں دیتا۔‘‘
‎’’اور امتحان…؟‘‘
‎’’سال بھر پڑھو تو آخری دنوں میں یہ مشکل نہ اٹھانی پڑے۔‘‘
‎’’اب تو پڑھنا ہی ہوگا۔‘‘
‎صبح کا سہانا وقت اس کے لیے بہت بہتر ہوتا ہے۔‘‘
‎’’صبح آنکھ نہیں کھلتی۔‘‘
‎’’ایک کام کیا کرو۔ رات کو جب سویا کرو تو اپنے ہمزاد کو ہدایت کردیا کرو کہ وہ تمہیں اس وقت جگا دے۔ دیکھ لینا اس وقت جاگ جائو گے۔‘‘
‎’’ہمزاد کیا ہوتا ہے؟‘‘
‎’’بس ہوتا ہے۔‘‘ ماں شاید خود بھی اس کی تشریح نہیں کرسکتی تھی۔ میں مسکرا کر خاموش ہوگیا مگر پھر تجربہ کر ہی ڈالا۔ میں نے ہمزاد کو حکم دیا کہ مجھے صبح پانچ بجے جگا دے اور پہلے ہی دن اس وقت آنکھ کھل گئی۔ جب گھنٹہ پانچ بجے کا اعلان کررہا تھا۔ اس کے بعد بارہا یہ تجربہ کیا اور کامیاب رہا۔ بہت عرصے کے بعد ہمزاد کا خیال آیا تھا۔ میں نے اسے ہدایت کی کہ مجھے ساڑھے چار بجے جگا دے اور پھر کھردری زمین پر لیٹ کر نیند کی خوشامدیں کرنے لگا۔ نیند چپکے سے آنکھوں میں آبسی تھی۔ یقیناً وہ ساڑھے چار بجے کا وقت ہی ہوگا، جب جاگ گیا تھا۔ سوتے ہوئے کروٹ بھی نہ بدلی تھی۔ اتنی گہری نیند آئی تھی مگر اس نیند نے تھکن اتار دی تھی۔ اٹھ گیا، آنکھیں مل کر صاف کیں۔ چاروں طرف ہو کا عالم طاری تھا۔ دل میں آج کے آنے والے وقت کا خیال آیا اور دل ہولنے لگا۔ میں یہ عمل کرسکوں گا یا نہیں! خود کو پرعزم کرنے لگا۔ اجالا آہستہ آہستہ اترنے لگا۔ ماحول روشن ہوگیا اور میں اس کھلاڑی کی طرح تیار ہوگیا جو اسٹارٹنگ پوائنٹ پر جاکھڑا ہوتا ہے۔ ساگر سروپ نے سورج کی سمت بتا دی تھی۔ میں نے اچھل اچھل کر پائوں کھولے اور ادھر نظریں جما دیں۔ سورج کا یہ کھیل زندگی میں دیکھنا تو کجا سوچا بھی نہیں تھا مگر کیا اہمیت تھی اس کھیل کی…!

‎سورج بلند ہوا۔ کرنوں کا سیلاب امنڈ آیا اور میری نظریں زمین کا طواف کرنے لگیں۔ سرتاج کرن زمین کو چھوتی ہوئی آگے بڑھی۔ میں نے چھلانگ لگا دی۔ اس کے رخ کا اندازہ ہوگیا تھا۔ دانت بھنچ گئے، مٹھیاں بند ہوگئیں اور میں دوڑنے لگا۔ تیز ہوا نے کان بند کردیئے، بدن کا رواں رواں دوڑ رہا تھا۔ اس وقت اسے انسانی قوت نہیں کہا جاسکتا تھا۔ سوچنے سمجھنے کی قوتیں گم ہوگئی تھیں بس بصارت زندہ تھی اور میں کرن پر جیسے سواری کئے ہوئے تھا۔ شاید اس رفتار سے کسی انسان کو دوڑتے ہوئے کبھی نہ دیکھا ہوگا کیونکہ دیکھنے والا اس جگہ کون تھا۔ کچھ لمحات کے بعد ہی اپنی خام خیالی کا احساس ہوا۔ میں تنہا نہیں تھا۔ یقیناً میں تنہا نہیں تھا، بہت سے پرندے میرے سر پر سفر کررہے تھے۔ بہت سے چوپائے بھاگ رہے تھے۔ یہ کائنات کی سب سے حیرتناک دوڑ تھی جو ہر صبح ہوتی ہے مگر انسانی آنکھ نہ اسے دیکھتی ہے، نہ سمجھتی ہے۔ پھیپھڑے پھٹ گئے تھے، بدن سڑ گیا تھا مگر ہمت ساتھ دے رہی تھی۔ اندازے ختم ہوگئے تھے۔ یہ تصور بھی نہیں کرسکا تھا کہ کتنا فاصلہ طے ہوا ہے۔ بس سرتاج کرن تھی اور میں…! ساری کائنات دوڑ رہی تھی۔
‎پھر اچانک سرتاج کرن گم ہوگئی۔ دوسری کرنوں نے اسے آلیا تھا اور اسے گود میں اٹھا کر گم ہوگئی تھیں۔ دھوپ پھیل گئی۔ سامنے ہی ایک تیز رفتار ندی کا شور سنائی دے رہا تھا۔ اس کے قریب درخت اور گھاس نظر آرہی تھی۔ سرتاج کرن کے گم ہوتے ہی میرے پیروں کی رفتار سست ہوگئی۔ اعصاب نے بریک لگائی، بدن کو کئی جھٹکے لگے اور میں چکرا کر گر پڑا… نیچے گھاس تھی۔ بدن کئی بار تڑپا اور پھر ساکت ہوگیا۔ یوں لگا جیسے بدن سے روح نکل گئی ہو اور میں بے جان ہوگیا۔ سکون ایک لامتناہی سکون! خاموشی سناٹا اور یہ سناٹا بڑا فرحت بخش تھا۔ آہ…! موت کتنی حسین ہے۔ شاید میں مر گیا… بس پھر میں مر گیا… مگر موت جیسی حسین شے اتنی آسانی سے حاصل نہیں ہوتی۔ مجھے جگا دیا گیا۔ بتایا گیا کہ میں زندہ ہوں، زیرامتحان ہوں اور امتحان اتنی آسانی سے ختم نہیں ہوتے۔

 ایک ننھا سا خوش رنگ پرندہ میرے سر پر بیٹھا آہستہ آہستہ میری پیشانی پر چونچ مار رہا تھا۔ میرے بدن کو جنبش ہوئی تو وہ پھر سے اڑ گیا۔ زندگی کے احساس نے پوری طرح بیدار کردیا۔ ایک کراہ کے ساتھ اٹھ کر بیٹھ گیا۔ ندی کا شور مسلسل اٹھ رہا تھا، سیبوں کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔ سخت بھوک لگ رہی تھی۔ درخت نظر آئے جن پر سیب جھول رہے تھے۔ آسانی سے اٹھ گیا۔ سیب توڑے اور انہیں چبانے لگا۔ خوب پیٹ بھر گیا پھر ندی سے پانی پیا۔ شام جھک رہی تھی۔ کچھ دیر کے بعد تاریکی نیچے اتر آئی۔ دل میں کوئی خیال نہیں تھا۔ پرندے نظر آرہے تھے کسی انسانی وجود کا نشان نہیں تھا لیکن کچھ دیر کے بعدکھنکارنے کی آواز ابھری اور میں سہم گیا۔
‎’’آئو!‘‘ کسی نے کہا اور میں آنکھیں پھاڑنے لگا۔ ’’رکتے کیوں ہو آگے بڑھو…‘‘ آواز نے کہا۔
‎’’ کون ہے… کہاں ہو تم…؟‘‘ میں ڈری ڈری آواز میں بولا۔ ’’جستجو… صرف جستجو! قدم آگے بڑھائو۔‘‘ لہجہ کرخت تھا۔ میری سمجھ میں نہیں آیا کہ کدھر قدم بڑھائوں۔ بہرحال! چند قدم آگے بڑھا اور رک گیا۔ ’’بڑھتے رہو، رکتے کیوں ہو۔‘‘ کہا گیا تب مجھے محسوس ہوا کہ کوئی میرے آگے آگے چل رہا ہے۔ میں نے قدموں کی چاپ سے قدم ملا دیئے اور مجھے ایک ایسے خطے میں لایا گیا جہاں درخت ایک دائرے کی شکل میں تھے یہاں انتہائی دلفریب خوشبو بکھری ہوئی تھی۔ کچھ نظر نہیں آرہا تھا لیکن احساس ہوتا تھا کہ بہت سے لوگ موجود ہیں۔ میں رک گیا۔
‎’’یہ ہے؟‘‘ کسی نے کہا۔
‎’’کیا نام ہے؟‘‘
‎’’مسعود احمد!‘
‎’’کیا جرم ہے؟‘‘
‎’’گیا شیطان مارا ایک سجدے کے نہ کرنے میں اگر لاکھوں برس سجدے میں سر مارا تو کیا مارا۔‘‘
‎ایک آواز ابھری۔
‎’’اعتراض ہے۔‘‘
‎’’کیا…؟‘‘
‎’’وہ ملعون جانتا تھا۔ سمجھتا تھا۔ توبہ کے دروازے کبھی بند نہیں ہوتے۔‘‘
‎’’یہ فیصلہ روز حشر کا ہے۔‘‘
‎’’اس فیصلے کا یہاں ذکر کہاں۔‘‘
‎’’تو یہ اجتماع یہاں کیوں ہے؟‘‘
‎’’ہمارا فرض ہے۔‘‘
‎’’کیسے؟‘‘
‎’’ایک مسلمان کو مدد درکار ہے، ارواح خبیثہ کے خلاف!‘‘
‎’’مسلمان؟ رگوں میں دوڑتی غلاظت کے باوجود۔‘‘
‎’’یہ غلاظت اسے دھوکے میں ملی ہے۔‘‘
‎’’اس کا عمل کیا رہا۔‘‘
‎’’چند غلطیاں…!‘‘
‎’’توازن کیا ہے؟‘‘
‎’’کفارے کا پلڑا زمین سے لگا ہوا ہے۔‘‘
‎’’میزان درست ہے۔‘‘
‎’’پوری جانچ پڑتال کے ساتھ!‘‘
‎’’اس کے ساتھ تعاون مشیت ایزدی سے انحراف کا گناہ تو نہ ہوگا۔‘‘
‎’’قاضی صاحب فیصلہ کریں گے۔‘‘
‎’’مختصر تفصیل!‘‘ نئی آواز نے کہا۔
‎’’ابتداء… نوجوانی کی سرکش عمر، رزق حرام کی طلب اور اس کی جستجو میں ایک سفلے کے پاس پہنچنا مگر پھر بے لوث خدمت اور ایک مزار پاک کو آلودہ نہ کرنے کا عزم جس کے نتیجے میں مصیبتوں کے پہاڑ اٹھائے پھرا ہے یہ!‘‘
‎’’مگر اسے موقع ملا۔‘‘
‎’’وہاں اس سے غلطی ہوئی۔ یہ دوسرا گناہ تھا۔‘‘
‎’’اس کے بعد…؟‘‘

‎’’خباثت سے مسلسل جنگ! اس کی قوتوں کے حصول کے باوجود ان سے مسلسل انحراف! صعوبتوں کی مسلسل برداشت، غیر دینی امور کو قبول نہ کرنا، بھٹکنا مگر سنبھلنا، کبھی زیر نہ ہونا، آپ کے لیے کچھ حاصل نہ کرنا۔ پلڑا بہت نیچے ہے۔‘‘
‎’’سزا مکمل ہے۔‘‘
‎’’اس کا فیصلہ کیسے ممکن ہے۔ ہاں! سفارش کی جاتی ہے، اس کی ایک اہم وجہ ہے۔‘‘
‎’’بتائی جائے۔‘‘
‎’’ہر خوف، ہر مصلحت سے بے نیاز ہوکر اس نے خود کو مسلمان کہلوایا ہے۔ کبھی کسی مصلحت یا زندگی کے خوف نے اسے نام بدلنے پر مجبور نہیں کیا۔ کوئی احساس اس سے اس کا دین نہیں چھین سکا۔‘‘
‎’’آہ… یہ قابل غور ہے۔‘‘
‎’’فرض بھی ہے۔ باطل قوتیں اسے مسلسل زیر کررہی ہیں لیکن یہ ثابت قدم رہا اور اس کی مدد ہم میں سے ہر صاحب دین پر فرض ہوگئی۔ ہمیں اس کے لیے دعا کرنی ہوگی کہ باطل قوتیں اس سے دور ہوجائیں۔ اپنی بساط کے مطابق اس کی رہنمائی ہم پر واجب ہے۔‘‘
‎’’دعا کرو! ہاتھ اٹھائو!‘‘ اور پھر مکمل خاموشی چھا گئی۔ میرا بدن ہولے ہولے لرز رہا تھا، دماغ ساکن تھا صرف سن رہا تھا۔ میں بس اس سے زیادہ اور کچھ نہیں تھا۔ پھر آمین کی گونج سنائی دی۔ پھر ایک آواز نے کہا۔
‎’’اے شخص! عمل افضل ہے اور سب کو ہدایت کی گئی۔ بے عمل پتھر ہوتے ہیں کہ ہل نہیں سکتے اور ہوا اور پانی کے محتاج ہوتے ہیں۔ ہر ذی روح کو عمل دیا گیا تو ہماری عدالت میں آیا اور فیصلہ حقائق کی بنیاد پر تیرے حق میں ہوا لیکن عمل صرف تجھے کرنا ہوگا۔ اس کے عوض ولایت نہ مانگنا، درویش نہ سمجھ بیٹھنا خود کو کہ یہ عمل صرف تیری ذات کی فلاح کے لیے ہے اور اس کا نتیجہ تیرے لئے بہتر ہوگا۔ سات جادو گرنیاں تجھ پر مسلط کردی گئی ہیں اور سترہ جادو تیرے وجود میں اتار دیئے گئے ہیں۔ ان سے چھٹکارا تیری ذمہ داری ہوگی۔ تجھے ان سات جادوگرنیوں کو ہلاک کرنا ہوگا اور صرف انسان رہ کر جب تک وہ عمل کریں گی اور تو ان کا شکار ہوگا، انسانوں کی مانند لیکن ہوش کے لمحات نہ کھونا، وہیں خود کو سنبھالنا اور حالات سے فرار حاصل نہ کرنا بلکہ ان میں شامل ہوجانا۔ تجھے ان کی صورتیں نہیں دکھائی جاسکتیں لیکن ایک رعایت ہوگی۔ ان کے ہاتھوں میں سات انگلیاں ہوں گی۔ بس! یہی ان کی پہچان ہے اور اس عمل کے لیے جو مشکلات تجھے پیش آئیں گی، ان میں تجھے مدد ملے گی۔ 

ان کا وعدہ ہے اور اس پر غور نہ کرنا نہ ہی اس کا تعاقب جو تیرا مددگار ہو۔ نہ ہی انحراف کرنا ان سے جو تیری قربت کے طالب ہوں اور یہ اس سفلے کا عمل ہی ہوگا جو اب شروع ہوگا لیکن وہ تیرے طلسم سے واقف نہ ہوگا کہ اس سے زیادہ تحفظ تیرے لئے ممکن نہیں۔ بس اب جا! رات گہری ہوگئی ہے۔‘‘
‎مکمل خاموشی طاری ہوگئی۔ میں مسلسل لرز رہا تھا، دماغ سائیں سائیں کررہا تھا، اعصاب چٹخ رہے تھے۔ خاموشی سے وہاں سے پلٹا اور واپس چل پڑا۔ جس سمت سے یہاں تک آیا تھا، وہ یاد تھی۔ سب کچھ ذہن میں گونج رہا تھا۔ ذہن اسے جذب کررہا تھا نہ جانے کب تک چلتا رہا۔ رات آدھی سے زیادہ ہوگئی تو تھک کر زمین پر بیٹھ گیا اور پھر لیٹ گیا، پھر سو گیا۔ پھر کسی نے جھنجھوڑ کر جگا دیا۔
‎’’ہم سے ناراض ہوگئے ہو مسعود میاں۔‘‘جھنجھوڑنے والے نے کہا اور میں آنکھیں پٹپٹاتے ہوئے اسے دیکھنے لگا۔ اوم پرکاش تھا۔ میں اٹھ کر بیٹھ گیا۔ سر پر ایک درخت کی چھائوں تھی۔ دن بکھرا ہوا تھا۔ آوازیں ابھر رہی تھیں۔ یاتری آتے جاتے نظر آرہے تھے۔ وہی جگہ تھی۔ ’’کہاں غائب ہوگئے تھے؟‘‘ اوم پرکاش نے پھر پوچھا۔
‎’’بس یہیں تھا۔‘‘
‎’’ڈیرے کا رخ بھی نہ کیا؟‘‘
‎’’بھول گیا تھا۔‘‘
‎’’ڈیرہ ہی بھول گئے تھے!‘‘
‎’’ہاں!‘‘
‎’’اور ہمیں۔‘‘
‎’’نہیں اوم پرکاش جی! آپ کو کیسے بھول سکتا ہوں۔‘‘
‎’’آئو چلو، سب یاد کررہے ہیں۔‘‘ میں اوم پرکاش کے ساتھ چل پڑا۔ کچھ دیر کے بعد ڈیرے پر پہنچ گیا۔
‎’’ارے یہ کیا حالت بنا لی ہے تم نے۔ کپڑے چیکٹ ہوگئے ہیں، بالوں میں دھول اٹکی ہوئی ہے۔ ست پرکاش! انہیں اشنان کرائو۔‘‘ اوم پرکاش کی دھرم پتنی نے کہا۔
‎’’رہنے دیں چاچی! ٹھیک ہوں۔‘‘
‎’’ارے واہ! کیسے ٹھیک ہے۔ میں نے کپڑے منگوائے ہیں تمہارے لئے، جائو ست پرکاش کے ساتھ چلے جائو۔‘‘ ست پرکاش نے میرے لئے لائے ہوئے کپڑے سنبھالے۔ پہلے ایک حجام کے پاس لے گیا، داڑھی بنوائی، بال بنوائے۔ یہاں سب کچھ تھا۔ ایک تالاب میں نہایا پھر کپڑے پہنے اور بال وغیرہ سنوار کر تیار ہوگیا۔ ست پرکاش مجھے دیکھ کر مسکرایا۔
‎’’بڑے سندر لگ رہے ہو مہاراج! مگر کیا کریں۔ عمر میں ہمارے جیسے ہو، پر دوست پتا جی کے ہو اس لئے بے تکلفی سے بات بھی نہیں کرسکتے۔‘‘ میں صرف مسکرا دیا۔ ہم واپس آگئے۔ اوم پرکاش جی نے بھی مجھے پسندیدگی کی نظروں سے دیکھا تھا۔ باقی دن ان کے ساتھ گزارا۔ شام کو سب مندر چلے گئے۔ اوم پرکاش نہیں گئے تھے۔ کہنے لگے۔
‎’’تمہاری وجہ سے رک گیا ہوں مسعود جی۔ سوچا ہے کہ تم سے کچھ باتیں کروں۔‘‘
‎’’کہئے اوم پرکاش جی۔‘‘
‎’’سوچتا ہوں تمہیں اپنے ساتھ آنے پر مجبور کرکے میں نے غلطی تو نہیں کی ہے۔ تم مسلمان ہو اور یہاں ہر جگہ مندر پھیلے ہوئے ہیں اور پھر تم مسلمان بھی عام نہیں ہو، گیان دھیان والے ہو۔ اپنے دھرم کے عالم ہوگے۔ مجھ سے زیادہ اور کون جانتا ہے اس بارے میں۔ پر من کی سچی بات بتائوں۔ یہ سب کچھ میں نے جان کر نہیں کیا۔‘‘
‎میں مسکراتی نظروں سے اوم پرکاش کو دیکھنے لگا۔ پھر میں نے کہا۔ ’’آگے کہیں اوم پرکاش جی!‘‘
‎’’جیسا کہ میں نے بتایا کہ وہاں میں نے تم سے ملنا چاہا تھا مگر تم کہیں اور چلے گئے تھے بعد میں نظر آئے تو بے اختیار میرا من چاہا کہ تمہیں ساتھ لے چلوں اور میں نے فوراً ہی بول دیا۔ میرا کوئی مطلب نہیں تھا۔‘‘
‎’’میں جانتا ہوں اوم پرکاش جی! آپ بھی یہ جان لیں کہ جو ہوتا ہے، اس کی ڈور کہیں اور سے ہلتی ہے۔ ہم سب تو کٹھ پتلیاں ہیں جو اس ڈور سے بندھے ناچتے ہیں۔ جسے جہاں سے جو ملنا ہوتا ہے، ملتا ہے۔ مادھو لال کو دولت کی ہوس کی سزا ملنا تھی، ملی۔ آپ کو یہاں یاترا کرکے سکون ملا اور مجھے بھی کچھ ملا ہی ہوگا۔‘‘
‎’’تم تو مہان ہو۔ سنسار باسیوں کو دھوان دینے والا خود بوجھ اٹھا کر چار روپے کمائے۔ یہ معمولی بات نہیں ہے۔‘‘
‎’’وہ چار روپے کتنے قیمتی ہیں، مجھ سے پوچھئے اوم پرکاش جی! اور پھر کس شکل میں کیا مل جاتا ہے۔ ہم چھوٹے دماغ والے کیا جانیں۔‘‘
‎’’میں یہ پوچھنا چاہتا تھا کہ آپ ان مندروں سے الجھتے تو نہیں ہیں؟‘‘
‎’’نہیں اوم جی! یہ کمزور لوگ اپنے عقیدوں سے اپنی تسکین کرتے ہیں۔ کسی کو بھلا کیا اعتراض! ویسے آپ کا خوب ساتھ رہا۔ بڑی محبت ملی آپ سے، بہت خیال رکھا آپ نے میرا…! کیا اب مجھے اجازت دیں گے؟‘‘
‎’’جانا چاہتے ہو؟‘‘
‎’’جانا تو ہوگا… آج نہیں کل، کل نہیں پرسوں…!‘‘
‎’’تمہارا ٹھکانہ کہاں ہے؟ دل کبھی تم سے ملنے کو چاہے تو کہاں تلاش کرسکتا ہوں۔‘‘

‎’’یہی سب سے مشکل جواب ہے۔‘‘
‎’’میں جانتا ہوں۔‘‘ اوم پرکاش نے اداسی سے کہا۔ پھر بولے۔ ’’کب جائو گے؟‘‘
‎’’کسی بھی دن، کسی بھی وقت!‘‘
‎’’سچ کہتا ہوں مسعود! مجھے تم سے محبت ہوگئی ہے۔ تم مہان ہو مگر مجھے تمہاری ذات سے پیار ہوگیا ہے۔ بھگوان تمہیں خوش رکھے۔‘‘ اوم پرکاش خاموش ہوگئے۔ پھر انہوں نے کچھ نہیں کہا۔ میں نے آرام کے لیے ایک جگہ تلاش کرلی اور سونے لیٹ گیا مگر سونے کہاں سوچنے، بہت بڑا سہارا ملا تھا۔ بہت سے خیالات دل میں آرہے تھے۔ محنت کی کمائی کے چار لڈوئوں نے کایا پلٹ کر رکھ دی تھی۔ راستہ ایک ہندو جوگی نے دکھایا تھا۔ کوئی بھی ہو جو نیکی کا سفر کرتا ہے، اسے روشنی ضرور ملتی ہے۔ میرا علم تو صفر تھا۔ میں کیا جانوں کہاں کیا چھپا ہے۔ بہرحال اب جو ہدایات ملی ہیں، انہیں سمجھنا ہے، ان پر عمل کرنا ہے۔ اب چوک نہیں ہونی چاہئے ورنہ کچھ باقی نہ رہے گا۔ ان ہدایات کو دل سے لگا لینا چاہئے۔
‎عمل افضل ہے۔
‎اس پر غور نہ کرنا نہ ہی اس کا تعاقب جو تیرا مددگار ہو۔ جو تیری قربت کے طالب ہوں، ان سے انحراف نہ کرنا۔ ایک ایک بات یاد آنے لگی۔ سات جادوگرنیوں کو ہلاک کرنا ہے۔ یہ سات پورنیوں کے علاوہ اور کون ہوسکتا تھا۔ آہ…! کوئی تدبیر بنے، کچھ ہو۔ کیا ہونا چاہئے۔ محنت کی کمائی، چار لڈو! اس سے گریز کرتا رہا ہوں۔ کتنا عرصہ گزر گیا کسی نہ کسی پر انحصار کرتا رہا ہوں۔ پہلے رزق حلال کی تلاش افضل ہے۔ خود کو ادھر سے ادھر کٹی پتنگ کی طرح دوڑاتے رہنا، کوئی اچھی بات نہیں ہے۔ یہ عمل بے شک طویل ہوگا لیکن کرنا ہے، مجھے عمل کرنا ہے۔ آغاز کہیں سے ہوجائے۔ ملازمت کسی مناسب جگہ، اس کا تذکرہ اوم پرکاش جی سے بھی ہوسکتا ہے مگر بات نہ بن سکے گی۔ وہ مجھے دوسری نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ کہیں دور یہ کوشش کرنا ہوگی۔ یہیں بنارس میں ہی سہی، کیا حرج ہے۔ یہ تو مندروں کی دنیا ہے، یہاں سے آگے تو پورا شہر پھیلا ہوا ہے۔

 ہاں زیادہ دور جانا کیا معنی رکھتا ہے۔ اس آخری احساس نے سکون بخشا تھا۔ پھر سو گیا تھا۔ صبح بہت جلدی آنکھ کھل گئی۔ صبح بنارس نگاہوں کے سامنے تھی۔ دل کو بہت خوشگوار کیفیت کا احساس ہوا تھا۔ کچھ سو رہے تھے، کچھ جاگ رہے تھے۔ میں اس خوشگوار صبح کا لطف لیتا وہاں سے آگے بڑھ گیا۔ آج سے نئی زندگی کا آغاز کرنا چاہتا تھا، اس شہر میں تقدیر آزمانا چاہتا تھا۔ ہر طرح کے لوگ یہاں نظر آتے تھے۔ اس وقت بھی یاتری زندگی کی مصروفیات میں لگے ہوئے تھے۔ انسانوں کی ایک چوپال کے پاس سے گزر رہا تھا کہ ایک نسوانی چیخ سنائی دی۔ لوگوں کے ساتھ میں بھی چونک پڑا۔ ایک لڑکی دوڑتی آرہی تھی۔ رخ اسی طرف تھا اور اس وقت میں بری طرح بوکھلا گیا جب وہ قریب آکر مجھ سے لپٹ گئی۔ اس کے منہ سے نکل رہا تھا۔
‎’’رتنا… رتنا جی… رتنا جی!‘‘ کچھ اور لوگ بھی میرے پاس آگئے۔ سفید ساڑھی میں لپٹی ایک معمر خاتون میرے پاس آگئیں۔ انہوں نے بھی میرا بازو پکڑ لیا اور روتے ہوئے دلدوز لہجے میں بولیں۔
‎’’ہمیں نہیں پہچانتے رتنا! جو کوئی بھی ہو۔ ہمارا ساتھ تو رہا ہے۔ اسے دیکھو کون ہے یہ! دیکھو اسے یہ کون ہے؟‘‘ میرا دماغ ایک دم جاگ اٹھا اور میرے منہ سے نکلا۔
‎’’رما رانی…‘‘
‎’’جب بھی ملتے ہو، مندروں کے پاس ملتے ہو۔ دیوتا ہو، کنیا ہو، کون ہو؟ مگر تم جیون دیتے نہیں لیتے ہو۔ اسے نہیں پہچانا تم نے…؟‘‘ اب میں نے چونک کر خود سے لپٹی نوجوان لڑکی کو دیکھا۔ کشنا تھی۔ سرخ و سفید، شوخیوں سے بھرپور! مگر اس وقت اجڑی ہوئی، چہرے پر وحشتیں بکھری ہوئیں، دبلی پتلی۔
‎’’ہمارے نہیں ہو، حکیم ہی بن جائو… مسیحائی کردو ہماری! اسے موت سے بچا لو۔‘‘ رما رانی کی آواز میں سسکیاں بھری ہوئی تھیں۔
‎’’یہ کشنا… کشنا ہے۔‘‘
‎’’میں رما ہوں جسے تم نے چند روز ماں کہا تھا۔ جس کی چھاتی سے لپٹ گئے تھے اور اس کے سینے میں تمہارا پیار جاگ اٹھا تھا۔‘‘
‎’’آپ لوگ یہاں کہاں…؟‘‘
‎’’کچھ وقت دے دو گے ہمیں! بھول کر بھی نہ سوچا تھا کہ تم یہاں مل جائو گے مگر یہ جانتی تھی۔ بار بار یہاں آجاتی تھی۔ اس کا یقین سچا تھا۔ انہیں تھوڑا سا وقت دے دو۔ اس پیار کی قیمت کے طور پر جو میں نے تمہیں دیا تھا۔ میری محبت تم پر ادھار ہے رتنا…‘‘ رما رانی سسکنے لگیں۔
‎’’کیسی باتیں کررہی ہیں رما رانی! میں نے نمک کھایا ہے، آپ کا مجھے بتایئے کیا کروں۔‘‘

‎’’کوئی اور ہے تمہارے ساتھ…؟‘‘
‎’’ایں… نہیں کوئی نہیں۔‘‘ میں نے بادل ناخواستہ کہا۔
‎’’تو آئو… یہاں سے چلو… آئو۔‘‘ رما رانی نے کہا۔ میں احمقوں کی طرح قدم بڑھانے لگا۔ کوئی بات جو سمجھ میں آرہی ہو، میرے پیچھے دو لڑکیاں آرہی تھیں۔ وہ رادھا اور لکشمی تھیں۔ کشنا مضبوطی سے میرا بازو پکڑے ہوئے تھی اور میری کھوپڑی ہوا میں معلق تھی۔
‎یہ احساس بھی تھا کہ لوگ مجھے دیکھ رہے ہیں۔ ایک نوجوان لڑکی مجھے اس طرح پکڑے ہوئے ہے جیسے اسے میرے بھاگ جانے کا خطرہ ہو۔ کچھ دور تو بوکھلاہٹ کے عالم میں چلتا رہا پھر کچھ سنبھل کر میں نے کشنا سے خود کو چھڑانے کی کوشش کی اور کہا۔ ’’کشنا…! خود کو سنبھالو۔ میں تمہارے ساتھ چل رہا ہوں، دیکھو لوگ کیسے ہمیں دیکھ رہے ہیں۔‘‘
‎’’چلے جائو گے۔ بھاگ جائو گے۔ کھو جائو گے۔ پھر نہیں ملو گے، مجھے پتا ہے۔ نہیں چھوڑوں گی میں …! نہیں چھوڑوں گی۔‘‘ اس کی آواز میں خوف تھا، تشویش تھی، دہشت تھی۔ میرا دل کٹنے لگا۔ وہاں شکتی پور میں بھی مجھے علم ہوگیا تھا کہ کشنا مجھے چاہتی ہے مگر کہانی ہی عجیب تھی۔ میں اس چاہت کی پذیرائی کا تصور بھی نہیں کرسکتا تھا۔ دماغی خرابی بتا کر انہوں نے مجھے جو چاہا سمجھ لیا یا بتا دیا مگر عالم ہوش میں تو یہ ممکن نہیں تھا۔ رما رانی نے بڑا پیار دیا تھا۔ سب محبت کرتے تھے مگر وہ ایسی جگہ تھی جہاں کوئی غیرت دار ایک لمحہ گزارنے کا تصور نہیں کرسکتا تھا۔ کشنا بہت شوخ، بہت معصوم تھی۔ عام لڑکیوں سے کسی طور مختلف نہیں تھی لیکن طوائف زادی…! ان ساری باتوں کو نظر انداز بھی کردیا جاتا تو بھی میں کیا کرتا… کوئی عقل میں آنے والی بات تھی؟
‎تانگوں کے اڈے پر آگئے۔ دو تانگے کئے گئے اور ہم چل پڑے۔ تانگے میں بیٹھ کر مجھے اس انوکھی گرفتاری پر ہنسی آگئی۔ رما رانی میرے پاس بیٹھی تھیں۔
‎’’اکیلے آئے ہو بنارس…؟‘‘
‎’’نہیں… کچھ لوگوں کے ساتھ!‘‘ میں نے جواب دیا۔
‎’’تمہارے اپنے ہیں؟‘‘ رما رانی نے سوال کیا۔
‎’’نہیں!‘‘ میں نے گردن ہلائی۔
‎’’تمہارے اپنے کہاں ہیں؟‘‘ پوچھا گیا۔
‎’’پتا نہیں!‘‘ میں نے گہری سانس لے کر کہا۔
‎’’طبیعت کیسی ہے؟‘‘ رما رانی نے پوچھا۔
‎’’ٹھیک ہوں۔‘‘ میں نے سپاٹ انداز میں جواب دیا۔
‎’’بھٹک ہی رہے ہو تو ہمارے پاس رہنا کیا برا تھا۔ کوئی تکلیف تھی وہاں؟‘‘
‎’’نہیں رما رانی!‘‘

‎’’پھر کیوں چلے آئے؟‘‘ رما رانی نے مجھے تیکھی نظروں سے دیکھا۔
‎’’اپنوں کی تلاش تھی۔‘‘ میں نے سادگی سے جواب دیا۔
‎’’نہیں ملے…؟‘‘ پوچھا گیا۔
‎’’نہیں!‘‘ میں نے سسکی لے کر جواب دیا۔
‎’’ہمیں اپنا سمجھ لو۔ کوئی کمی نہیں پائو گے۔ اب تو شکتی پور بھی چھوڑ دیا ہے ہم نے، یہیں بنارس میں رہتے ہیں۔ کوئی نہیں جانتا کون ہیں، کہاں سے آئے ہیں۔‘‘ رما رانی کا لہجہ اداس تھا۔
‎’’گھر کہاں ہے؟‘‘ میں نے پوچھا۔
‎’’وہ آگیا۔‘‘ رما رانی نے تانگے والے کو اشارہ کیا۔
‎اینٹوں کا وسیع و عریض مکان نظر آرہا تھا۔ اس کے آس پاس کوئی مکان نہیں تھا۔ ہاں ایک میدان نظر آرہا تھا اور اس کے دوسرے سرے پر باقاعدہ آبادی پھیلی ہوئی تھی۔ سب تانگے سے اتر گئے۔ دونوں تانگے والے پیسے لے کر چلے گئے۔ کشنا نے اسی طرح مجھے پکڑا ہوا تھا۔ اندر پہنچ کر رما رانی نے اسے پیار سے پکارا۔
‎’’کشنا…! رتنا مل گیا تیرا…؟‘‘
‎’’یہ… یہ پھر بھاگ جائے گا۔‘‘ وہ سہمی ہوئی آواز میں بولی۔
‎’’نہیں ری… یہ اب کہیں نہیں جائے گا۔‘‘
‎’’چلا گیا تو…؟‘‘ وہ اسی طرح بولی۔

‎’’کہا نا نہیں جائے گا مگر تجھے دیکھ کر یہ کیا سوچ رہا ہوگا کیا حلیہ بنا رکھا ہے تو نے… سر مٹی سے اٹا ہوا ہے، چہرے پر نشان پڑے ہوئے ہیں، چوٹی گوندھ، منہ ہاتھ دھو، کپڑے بدل! رتنا کے کپڑے نکال… یہ بھی خود کو سنوارے۔‘‘
‎کشنا کے چہرے پر تبدیلیاں نظر آئیں۔ وہ خجل سی محسوس ہوئی۔ پھر اس نے شرمندہ سے لہجے میں کہا۔ ’’میں ابھی آئی، چلے نہ جانا۔‘‘
‎’’نہیں کشنا۔ میں تو رما رانی کے پاس بیٹھا ہوں۔‘‘
‎’’ماں…! میں ابھی آئی۔‘‘ وہ مڑی اور اندر چلی گئی۔ رما رانی نے مجھے اندر آنے کا اشارہ کیا۔ ایک وسیع کمرے میں داخل ہوئیں۔ یہاں بید کی کرسیاں پڑی ہوئی تھیں۔ مجھے بیٹھنے کا اشارہ کیا اور خود بھی بیٹھ گئیں۔
‎’’تمہارا ایک ایک کپڑا سنبھال کر رکھا ہے اس نے، ہفتے پندرہ دن کے بعد اسے نکالتی ہے، دھوتی ہے، استری کرتی ہے اور اس کے بعد احتیاط سے صندوق میں رکھ دیتی
‎ہے۔ کہتی ہے رتنا آئے گا تو کیا پہنے گا، ہم تو برباد ہوگئے رتنا! سب کچھ ختم ہوگیا ہمارا، سب کچھ!‘‘
‎میں نے اب اپنے آپ کو پوری طرح سنبھال لیا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ رما رانی جس طبقے سے بھی تعلق رکھتی ہوں، ان کا مذہب کچھ بھی ہو لیکن انہوں نے مجھے بے حد متاثر کیا تھا۔ ان کے الفاظ میں آج تک نہیں بھول سکا تھا۔ ساری صورتحال تو اس وقت ہی میری سمجھ میں آگئی تھی جب میں نے دیوانگی سے فرزانگی میں قدم رکھا تھا۔ ریل کے حادثے نے دماغی توازن الٹ دیا تھا اور بھٹکتا ہوا رما رانی کو مل گیا تھا۔ نجانے کس جذبے کے تحت ہونٹوں سے ماں کا لفظ نکل گیا تھا اور رما رانی نے اپنا سینہ میرے لیے کھول دیا تھا۔ بہت اچھی خاتون تھیں وہ…! مگر بدقسمتی سے طوائف تھیں۔ سارے واقعات مجھے یاد آگئے۔ اب کیا کروں؟ رما رانی میرے احساسات سے بے خبر اپنی کہانی سنا رہی تھیں۔ کہنے لگیں۔
‎’’تمہارے آنے کے بعد تو یوں لگا جیسے ہمارے گھر پر جھاڑو پھر گئی ہو۔ کشنا تمہیں یاد کرکر کے کئی دن تک روتی رہی، کھانا پینا چھوڑ دیا اس نے! جس طبیعت کی مالک تھی، اس کا تو تمہیں اندازہ ہو ہی چکا ہوگا۔ کمرہ بند کرکے بیٹھ گئی اور جب کمرے سے باہر نکلی تو اپنا دماغی توازن کھو بیٹھی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ شکنتا نے تمہیں کہیں گم کردیا ہے۔ 

پھر ایک دن اس دیوانگی کے عالم میں شکنتا کے گھر پہنچ گئی۔ پیتل کا گلدان لے کر اس کا چہرہ لہولہان کردیا۔ جسم پر بھی بہت سے وار کئے اور شکنتا ان زخموں کی تاب نہ لا کر مر گئی۔ اسے اسپتال میں داخل کیا گیا تھا مگر تین دن کے بعد اس کی موت واقع ہوگئی۔ ہم پر مقدمہ چلا۔ اسے قتل کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا۔ یہ ثابت کرنے کے لیے کہ وہ دماغی مریضہ ہے، سارا دھن دولت ختم ہوگیا۔ برے حال ہوگئے ہمارے، ادھر دشمنی الگ پڑ گئی تھی۔ دماغی مریضہ کی حیثیت سے عدالت نے اسے بری تو کردیا لیکن ہمارے ساتھ جو کچھ ہوا تھا، وہ بہت برا تھا۔ کسی نے ہمیں ہمارے گھر میں نہ رہنے دیا۔ ہم وہاں سے چل پڑے۔ جو کچھ پیسے بچے تھے، انہیں سنبھال کر نجانے کہاں کہاں پھرتے رہے لیکن دشمنوں نے ہمارا پیچھا نہیں چھوڑا۔ انہوں نے کہہ دیا تھا کہ ہمیں کسی کوٹھے پر آباد نہیں ہونے دیں گے۔ تب میں نے سوچا کہ جان ہے تو جہان ہے۔ جو بھاگ میں لکھا ہے، وہ تو ہو ہی جائے گا۔ بنارس آگئے اور یہاں یہ ٹوٹا پھوٹا گھر خرید لیا لیکن وہ تمہیں تلاش کرتی رہی۔ مندروں میں، ویرانوں میں! اب یہی کیفیت ہے۔ کبھی کہیں سے پکڑ کر لاتے ہیں اسے، کبھی کہیں سے پکڑ کر لاتے ہیں مگر اس کی لگن سچی تھی، اس کے راستے پاک تھے، اس نے تمہیں پا لیا۔ جو سنے گا، حیران رہ جائے گا۔ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ تم اس طرح ہمیں یہاں مل جائو گے۔‘‘
‎رما رانی اپنی کہانی سنا رہی تھیں اور میں دنگ بیٹھا ہوا تھا۔ یہ سب کچھ میری وجہ سے ہوا، میری وجہ سے…! مگر میں انہیں کیا جواب دے سکتا ہوں، ان کی محبت کا! کشنا کو کیا سنبھال سکتا ہوں میں…! میں تو خود ہی غموں کا مارا تھا۔ کشنا تھوڑی دیر کے بعد دونوں ہاتھوں پر میرے کپڑے رکھے اندر داخل ہوئی۔ بڑے پیار، بڑے اہتمام سے اس نے ان کپڑوں کو استری کرکے اپنے بازوئوں پر رکھا ہوا تھا۔ کپڑے گرم گرم تھے۔ اس نے میرے سامنے رکھتے ہوئے کہا۔
‎’’جائو رتنا! نہا لو، کپڑے بدل لو۔ دیکھو تو سہی کیسے میلے بال ہورہے ہیں۔ میں استری کررہی تھی اس لیے دیر لگ گئی۔ تم نہا لو، میں بھی ابھی نہا کر آتی ہوں۔‘‘ وہ واپس چلی گئی۔ اس کے انداز میں وہی معصومیت، وہی شوخی تھی۔ رما رانی کہنے لگیں۔
‎’’فیصلہ کچھ بھی کرو رتنا! ابھی اس کا دل رکھ لینا۔ کم ازکم اس وقت تک جب تک اس کا دماغ ٹھیک نہ ہوجائے۔ اگر برا نہ مانو تو یہ بات کہوں کہ خود غرضی اچھی چیز نہیں ہوتی۔ ہم سے محبت نہ کرسکو لیکن کم ازکم ہمارا قرض ہی چکا دو۔‘‘ میں نے رما رانی کو دیکھا، خاموشی سے کپڑے اٹھائے اور اس طرف بڑھ گیا جہاں مجھے نہانا تھا۔ راستے میں مالتی ملی، مسکرائی اور بولی۔
‎’’آگئے رتنا جی! چلو تمہیں نہانے کی جگہ بتا دوں۔‘‘

‎سب ہی موجود تھے۔ غسل کیا، لباس پہنا اور اس دوران نجانے کیا کچھ سوچتا رہا۔ وہ سب کچھ کرنا ہے مجھے جو دل میں ٹھان لی ہے۔ ٹھیک ہے رما رانی اب کوٹھے پر نہیں ہیں اور یہ جگہ بہتر ہے۔ جیسے بھی گزار رہی ہوں، وہ جانیں اور ان کا کام، لیکن مجھے یہاں اب کوئی ایسا ٹھکانہ تلاش کرنا چاہئے جس سے رزق حلال ملنے کی امید بندھ جائے۔ رہائش کے لیے اگر رما رانی کا گھر ہو تو بھی کوئی ہرج نہیں ہے۔ جہاں تک معاملہ کشنا کا ہے تو بے شک رما رانی کا قرض ہے مجھ پر، اتاروں گا اسے۔ کشنا کو بہتر راستے پر لائوں گا اور کسی وقت بتا دوں گا کہ میں مسلمان ہوں۔ یہ سب کچھ ممکن نہیں ہوسکتا۔ کشنا کو میں احترام کا درجہ تو دے سکتا ہوں لیکن اس سے آگے تو میری کوئی حیثیت ہی نہیں ہے اور نہ ہی میں ان راستوں پر چلنے کے قابل ہوں۔ یہ فیصلہ کرلیا تھا دل میں اور یہ سوچا تھا کہ اب ثابت قدمی سے یہاں وقت گزاروں گا اور اپنے لیے کوئی مناسب جگہ تلاش کروں گا۔ بس! اب ماضی کی بہت سی باتیں دل میں رکھنے یا دماغ میں سوچنے سے کوئی فائدہ نہیں تھا۔ مجھے عمل کی دنیا میں آنا تھا اور یہی میرے حق میں بہتر تھا۔ چنانچہ رما رانی، لکشمی، رادھا، مالتی سب ہی سے گھل مل گیا۔ کشنا کے چہرے پر جیسے ایک دم سے نئی زندگی پھیل گئی تھی۔ لگتا ہی نہ تھا کہ کچھ وقت پہلے وہ بالکل بدلی ہوئی تھی۔ غسل خانے سے نکلی تھی تو جیسے نیا چہرہ چہرے پر سجا کر لے آئی تھی۔ رما رانی نے اسے دیکھا اور ماں کی آنکھوں میں آسودہ مسکراہٹیں کھلنے لگیں۔ مجھے اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
‎’’دیکھا تم نے…!‘‘ میں نے خاموشی سے آنکھیں بند کرتے ہوئے گردن ہلا دی تھی۔ میرے لیے درحقیقت بڑا مشکل مرحلہ تھا۔ ایک طرف رما رانی کی محبت اور ان کے کئے ہوئے احسانات تھے اور دوسری طرف اپنی انوکھی زندگی! فیصلہ کرنا بڑا مشکل کام تھا۔ سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا تھا۔ رات کو رما رانی مجھ سے میرے بارے میں پوچھنے لگیں۔ کشنا میری یہاں موجودگی سے مطمئن ہوگئی تھی اور بہت خوش نظر آرہی تھی۔ رادھا اور لکشمی کی مسکراہٹیں بھی جوں کی توں تھیں۔ رما رانی نے کہا۔

‎’’رتنا…! تمہیں یہ تو معلوم ہوچکا ہوگا کہ تم کون ہو، تمہارا گھر کہاں ہے، کیا واقعہ ہوا تھا تمہارے ساتھ جس کی بناء پر تمہارا ذہنی توازن الٹ گیا تھا۔‘‘
‎’’ریل کا حادثہ ہوا تھا رما جی! اور اس حادثے نے مجھے نجانے کس کس سے دور کردیا۔‘‘
‎’’اکیلے سفر کررہے تھے…؟‘‘
‎’’نہیں! کچھ عزیز بھی ساتھ تھے۔‘‘
‎’’تو ان کا کیا ہوا…؟‘‘
‎’’مر گئے۔‘‘ میں نے ٹھنڈی آہ بھر کر کہا۔
‎’’تو کیا اب تم اکیلے رہ گئے ہو؟‘‘
‎’’ایک طرح سے یہی سمجھ لیں رما جی۔‘‘ میں نے کہا۔
‎’’تو رتنا! ہمارے ساتھ رہو، کیا ہرج ہے۔ دیکھو بیٹا! انسان انسان ہی ہوتا ہے۔ سنسار میں اس کی حیثیت کچھ بھی ہو، روتا ہوا ہی آتا ہے اور ہاتھ، پائوں پسارے چلا جاتا ہے۔ کچھ بھی نام دے لو اسے لیکن ہوتا وہ انسان ہی ہے۔‘‘
‎’’ہاں رما جی! اس میں کوئی شک نہیں ہے مگر میں…! میں مسلمان ہوں۔‘‘
‎’’ہیں…!‘‘ رما رانی نے حیران نگاہوں سے مجھے دیکھتے ہوئے کہا۔
‎’’ہاں! میں مسلمان ہوں۔‘‘
‎رما رانی عجیب سے انداز میں مجھے دیکھتی رہیں۔ پھر بولیں۔ ’’ٹھیک ہے۔ میں یہ نہیں کہتی کہ اپنا دھرم بدل لو مگر… مگر انسانیت کا دھرم تو ایک ہی ہوتا ہے۔ تھوڑا سا سمے گزار لو ہمارے ساتھ! کشنا کو جیسے چاہو بہلا لینا اور پھر… اور پھر!‘‘ رما رانی کی آنکھوں سے آنسو ٹپکنے لگے۔ میں نے بے قرار ہوکر کہا۔
‎’’نہیں رما جی! آپ فکر نہ کریں۔ کشنا جب تک بالکل ٹھیک نہیں ہوجائے گی، میں یہاں سے نہیں جائوں گا۔‘‘

‎’’تو تمہیں یہاں سے جانے کی ضرورت بھی کیا ہے۔ ہم سے جو پرہیز کرنا چاہو، کرلینا۔ بھاجی، ترکاری تیار ہوتی ہے، وہ کھا پی لینا۔ دھرتی پر جو کچھ ہوتا ہے، وہ تو سب ہی کے لیے ہوتا ہے۔‘‘
‎’’کھا چکا ہوں رما رانی جی! اب کیا پرہیز کروں گا لیکن آپ کے حالات تو ویسے ہی بگڑے ہوئے ہیں۔ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر آئی ہیں۔ مجھے ایک اجازت ضرور دے دیجئے گا۔
‎’’میں کہیں نوکری کروں گا، اپنے لیے رزق کمائوں گا۔ آپ کی بھی جو سیوا ہوسکتی ہے، وہ کروں گا۔ مجھے اس سے آپ نہیں روکیں گی رما جی!‘‘
‎رما رانی نے گردن جھکالی۔ کہنے لگیں۔ ’’ٹھیک ہے مگر کشنا کو سمجھا لینا۔‘‘
‎’’ہاں کیوں نہیں!‘‘ ایک حد تک اطمینان ہوا تھا۔ یہ بھی بڑی بات ہے کہ سر چھپانے کا ٹھکانہ بھی مل گیا تھا۔ اوم پرکاش جی سے یہ سب کچھ کہنے کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ رزق حلال کا جو مزہ چکھا تھا، اسے کبھی نہیں بھول سکتا تھا لیکن اب راستے اور پرخطر ہوگئے تھے۔ احتیاط اور شدید ہوگئی تھی۔ کشنا کی محبتیں عروج پر تھیں۔ اب وہ مجھ سے باقاعدہ سمجھداری کی باتیں کرنے لگی تھی۔ اس نے ایک دفعہ پوچھا۔
‎’’کیوں چلے گئے تھے رتنا…؟‘‘
‎’’بس کشنا…! جی چاہا تھا۔‘‘
‎’’کیا شکنتا نے کہا تھا کہ یہ گھر چھوڑ دو؟‘‘
‎’’نہیں کشنا…! شکنتا سے مجھے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔‘‘
‎’’سچ…!‘‘ وہ خوش ہوکر بولی۔
‎’’ہاں!‘‘ میں نے مسکرا کر کہا۔
‎’’اور مجھ سے…؟‘‘

‎’’تم سے تو بڑا لگائو ہے مجھے کشنا! لیکن تم نے اپنی جو حالت بنا لی ہے، مجھے اچھی نہیں لگتی۔‘‘
‎’’تمہاری ہی وجہ سے تو ایسا ہوا۔ تم چلے گئے تو مجھے ایسا لگا جیسے سنسار میں سورج چھپ گیا ہو، ہمیشہ ہمیشہ کے لیے! کچھ نظر ہی نہیں آتا تھا۔ چاروں طرف گھور اندھیرا پھیلا ہوا تھا۔‘‘
‎’’اب خود کو سنبھالو، یہ ساری باتیں بری ہوتی ہیں۔‘‘
‎’’تم اگر میرے ساتھ رہو تو پھر سب ٹھیک ہوجائے گا۔‘‘
‎’’میں تمہارے ساتھ بہت زیادہ وقت تو نہیں گزار سکتا کشنا! دیکھو نا میں مرد ہوں اور مرد گھروں میں چوڑیاں پہن کر تو نہیں بیٹھتے۔‘‘
‎’’پھر کیا کرتے ہیں۔‘‘ وہ ہنس کر بولی۔
‎’’وہ باہر نکلتے ہیں، عورتوں کے لیے روزی کماتے ہیں اور پھر شام کو گھر واپس آتے ہیں اور اگر کوئی مرد ایسا نہیں کرتا تو پھر وہ مرد، مرد نہیں کہلاتا۔ تم نے کوٹھا چھوڑ دیا ہے، وہ جگہ بری تھی کشنا! وہاں مرد، مرد نہیں ہوتے تھے بلکہ وہ مرد جو کوٹھوں پر رہتے ہیں عورتوں کے غلام ہوتے تھے، یہ اچھی بات ہے کہ اب ہم یہاں بنارس میں ہیں۔ اگر تم اجازت دو تو میں نوکری کروں اور تم سب کے لیے روزی کمائوں؟‘‘
‎کشنا کچھ سوچنے لگی۔ پھر بولی۔ ’’نوکری کرنے کے لیے تو تمہیں شہر جانا پڑے گا۔‘‘
‎’’ اور اگر تم واپس نہ آئے تو؟‘‘
‎’’نہیں…! میں ہر شام اپنا کام کرکے اس طرح گھر واپس آئوں گا جس طرح پرندے اپنے گھونسلوں میں بسیرا کرنے کے لیے واپس پلٹتے ہیں۔‘‘
‎وہ متاثر نگاہوں سے مجھے دیکھنے لگی۔ پھر بولی۔ ’’اگر تم وعدہ کرتے ہو تو ٹھیک ہے۔‘‘
‎یہ مرحلہ بھی طے ہوگیا تھا۔ میں کسی کے لیے بھی اپنے مقصد کو قربان نہیں کرسکتا تھا۔ جو ہدایات دی گئی تھیں، ان میں پہلا مرحلہ یہی تھا کہ کم ازکم میں کسی کے شانوں پر نہ پڑا رہوں۔ اب تک تو ایسا ہی ہوتا آیا تھا۔ کبھی رمضان کے ہوٹل پر تو کبھی کسی کے گھر…! یہاں سے نکلا تو وہاں جا بیٹھا، وہاں سے نکلا تو دوسری جگہ جا بیٹھا۔ کئی بار ہاتھ، پائوں چلانے کی کوشش کی تھی لیکن راستے بند ہوگئے تھے۔ ایک دلچسپ بات جو اب تک میں نے محسوس کی تھی، وہ یہ تھی کہ اس وقت کے بعد جب مجھے سورج کے ساتھ سفر کرکے ایک منزل پر پہنچنا پڑا تھا اور وہاں میرے لیے عدالت لگی تھی، میرے بیروں کا کہیں پتا نہیں تھا۔ میں کہیں بھی ہوتا، ان کی چاپ سنتا رہتا، ان کی حرکتیں میرے ذہن تک پہنچتی رہتیں لیکن اس عدالت سے واپسی کے بعد یہ بیر میرے گرد نہیں چکراتے تھے۔ دل میں خیال تو آیا تھا کئی بار۔ لیکن انہیں آواز دینے کی جرأت نہیں ہوئی تھی۔ جو غلطیاں کرچکا تھا، انہی سے بمشکل تمام جان بچی تھی۔ اب کوئی اور حماقت کرکے اپنے لیے مزید مشکلات نہیں خریدنا چاہتا تھا۔ صبر کرنا تھا، انتظار کرنا تھا۔ صبر اور انتظار یہی دو چیزیں مجھے میری منزل تک پہنچا سکتی تھیں اور میں اپنی زندگی کے اس سفر میں لاتعداد مصیبتیں اٹھانے کے باوجود منزل کی طلب سے اپنے آپ کو دور نہیں کر پایا تھا۔ بہرحال کسی بھی شخصیت کو، کسی بھی واقعے کو اپنے آپ پر مسلط کرنے سے راستے رک جاتے ہیں۔ بے شک رما رانی مجھے یہاں تک لے آئی تھیں لیکن اگر وہ میرے راستے کی رکاوٹ بنتیں اور مجھے یہاں سے باہر نکلنے کا موقع نہ ملتا تو بحالت مجبوری ایک بار پھر دھوکا دے کر یہاں سے نکلنا پڑتا لیکن اب کشنا بھی تیار تھی اور رما رانی نے بھی مجھے نوکری تلاش کرنے کی اجازت دے دی تھی۔ غالباً اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کے حالات بھی بہتر نہیں تھے۔ چنانچہ میدان عبور کرکے اس آبادی میں اور اس آبادی سے بنارس کی سڑکوں پر پہنچ گیا۔ بنارس معمولی جگہ نہیں تھی۔ ہندوستان میں بہت بڑی حیثیت کا حامل ہے یہ شہر اور شاید تقدیر میری رہنمائی بھی کررہی تھی۔

‎شام کے تقریباً چار بجے تھے۔ میں نے ایک شخص کو آگے بڑھتے ہوئے دیکھا۔ قدم لڑکھڑا رہے تھے، ادھر ادھر ہاتھ مار کر سہارا حاصل کرنے کی کوشش کررہا تھا۔ آس پاس کوئی اور موجود نہیں تھا۔ سنسان سی جگہ تھی۔ جگہ جگہ درخت کھڑے ہوئے تھے۔ ایک لمحے میں، میں نے محسوس کیا کہ اگر یہ شخص کوئی سہارا پانے میں ناکام رہا تو یقینی طور پر زمین پر گر پڑے گا۔ لوگ اس کی جانب متوجہ نہیں تھے۔ میں تیزی سے آگے بڑھا اور میں نے اس شخص کو سنبھال لیا۔ پورا جسم پسینہ پسینہ ہورہا تھا۔ مسلمان لگتا تھا لباس سے، چہرے مہرے سے! ہاتھوں میں بید کی چھڑی تھی اور اس کی حالت غیر ہوتی جارہی تھی۔ اس نے مجھے ڈوبتی نگاہوں سے دیکھا اور بولا۔ ’’مم… میں…! میں دل کا مریض ہوں۔ میری شیروانی کی جیب میں میرے گھر کا پتہ رکھا ہوا ہے۔ اس وقت میری حالت بہت خراب ہے۔ خدا کے لیے میری مدد کرو…!‘‘
‎میں نے ادھر ادھر دیکھا۔ کچھ فاصلے پر تانگے آتے جاتے نظر آرہے تھے لیکن وہاں تک پہنچنا ناممکن تھا۔

تمام اردو کہانیاں پڑھنے کے لیے کلک کریں 

کالا جادو - پارٹ 17

Urdu stories online, Urdu stories for kids, Short Urdu stories, Urdu Kahaniyan, Famous Urdu stories, Urdu stories with moral, Best Urdu stories collection, Urdu stories for students, Urdu love stories, Urdu horror stories, Urdu stories for reading, Urdu stories in Urdu text, Funny Urdu stories, Urdu stories for beginners, Urdu detective stories, Urdu motivational stories, Urdu stories for adults, Urdu moral stories, Urdu stories for children, Urdu true stories, Urdu suspense stories, Urdu emotional stories, Urdu adventure stories,

hindi moral stories in urdu,سبق آموز کہانیاں, jin-ki-dushmni,good moral stories in urdu,Moral Stories,Urdu Stories,urdu kahani,اردو کہانی,قسط وار کہانیاں,
Reactions